Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Khuzaymah · Book 15 · Chapter 17

Chapters 351–375

بَابُ صَلَاةِ التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيبِ

Chapter: The prayer of encouragement and deterrence

باب: امید اور خوف کی نماز

3 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1217

Sahih Ibn Khuzaymah #1217

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ وَهُوَ ابْنُ حَكِيمٍ ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنَ الْعَالِيَةِ حَتَّى إِذَا مَرَّ بِمَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ، دَخَلَ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، وَدَعَا رَبَّهُ طَوِيلا، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: سَأَلْتُ رَبِّي ثَلاثًا، فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ، وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً، سَأَلْتُ رَبِّي أَنْ لا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالسَّنَةِ فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالْغَرَقِ فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَمَنَعَنِيهَا"""

EnglishUnverified translation

Abdullah bin Hashim told us, Abdullah bin Numayr told us, Othman, who is Ibn Hakim, told us, Aamir bin Saad told me, about His father, that the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, came one day from Aliya and when he passed by the mosque of Banu Muawiyah, he entered and kneeled in it. We prayed two rak'ahs, and we prayed with him, and he prayed to his Lord for a long time, then he turned to us and said: “I asked my Lord for three things, and He gave me two, but withheld one from me. I asked my Lord not to destroy my nation with the Sunnah and He gave it to me, and I asked Him not to destroy my nation by drowning and He gave it to me, and I asked Him not to make Their violence among themselves, so He prevented it.”

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن علایہ سے واپس تشریف لائے حتیٰ کہ جب بنی معاویہ کی مسجد کے پاس سے گزرنے لگے تو اس میں داخل ہو گئے اور دو رکعت نماز ادا کی، اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رب سے بڑی لمبی دعا مانگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے طرف مڑے اور فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے تین دعائیں مانگیں تو اس نے میرے دو دعائیں قبول فرمائیں اور ایک قبول نہیں فرمائی۔ میں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی کہ میری اُمّت کو قحط سالی کے ساتھ ہلاک نہ کرنا، تو میری یہ دعا اللہ تعالیٰ نے قبول کرلی۔ اور میں نے یہ دعا کی کہ میری اُمّت کو غرق کرکے ہلاک نہ کرنا تو اُس نے یہ بھی قبول فرمالی۔ اور میں نے اس سے سوال کیا کہ ان کی باہمی جنگ نہ ہو تو یہ دعا قبول نہیں فرمائی۔“

1218

Sahih Ibn Khuzaymah #1218

Da'if

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، نَا الأَعْمَشُ ، عَنْ رَجَاءٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجْتُ مَعَهُ أَلْتَمِسُهُ، أَسْأَلُ كُلَّ مَنْ مَرَرْتُ بِهِ، فَيَقُولُ: مَرَّ قَبْلُ، حَتَّى مَرَرْتُ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي، فَانْتَظَرْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ، وَقَدْ أَطَالَ الصَّلاةَ، فَقُلْتُ: لَقَدْ رَأَيْتُكَ طَوَّلْتَ تَطْوِيلا مَا رَأَيْتُكَ صَلَّيْتَهَا هَكَذَا قَالَ: إِنِّي صَلَّيْتُ صَلاةَ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ، سَأَلْتُ اللَّهَ ثَلاثًا، فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً، سَأَلْتُهُ أَنْ لا يُهْلِكَ أُمَّتِي غَرَقًا فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لا يُسَلِّطَ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لا يُلْقِيَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَرَدَّ عَلَيَّ"""

EnglishUnverified translation

Saeed bin Yahya bin Saeed Al-Umayyad told us, my father told us, Al-Amash told us, on the authority of Raja Al-Ansari, on the authority of Abdullah bin Shaddad bin Al-Hahad On the authority of Muadh bin Jabal, he said: The Messenger of God, may God bless him and grant him peace, went out and I went out with him to seek him, asking everyone I passed by, and he said: He passed. Before, I passed by and found him praying, so I waited for him until he left, and he had prolonged the prayer, so I said: I have seen you for as long as I have seen you. I prayed it like this. He said: “I prayed a prayer of desire and awe. I asked God for three, and He gave me two and withheld one from me. I asked Him not to He will destroy my nation by drowning, so he gave it to me. I asked him not to overpower an enemy other than them, so he gave it to me. I asked him not to throw his share among them, so he responded. "Ali"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرتے ہوئے باہر نکلا، میں جس شخص کے پاس سے بھی گزرتا، اُس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پو چھتا تو وہ جواب دیتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر پہلے گزرے ہیں۔ حتیٰ کہ میں ایک جگہ سے گزرنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے پایا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کیا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمّل کرلی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طویل نماز ادا فرمائی۔ میں نے عرض کی کہ (اللہ کے رسول) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑی طویل نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (پہلے کبھی) اس طرح نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک میں نے ترغیب و ترہیب والی نماز ادا کی ہے۔ میں نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں مانگیں تو اُس نے میری دو دعائیں قبول کرلیں اور ایک قبول نہیں فرمائی۔ میں نے اُس سے دعا کی کہ وہ میری اُمّت کو غرق کرکے ہلاک نہ کرے تو میری یہ دعا قبول فرمالی، اور میں نے اُس سے سوال کیا کہ اُن پر اُن کے دشمن کو مسلط نہ کرنا تو اُس نے میری یہ دعا بھی قبول کرلی - اور میں نے یہ دعا مانگی کہ ان کی باہمی خانہ جنگی نہ ہو تو اُس نے میری یہ دعا رد کردی۔“

1219

Sahih Ibn Khuzaymah #1219

Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو مُوسَى ، قَالا: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْمَدَنِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ خُزَيْمَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ : أَنَّ رَجُلا ضَرِيرًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَنِي، قَالَ: إِنَّ شِئْتَ أَخَّرْتُ ذَلِكَ، وَهُوَ خَيْرٌ، وَإِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ" . قَالَ أَبُو مُوسَى، قَالَ: فَادْعُهُ، وَقَالا: فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ، قَالَ بُنْدَارٌ: فَيُحْسِنُ، وَقَالا: وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَيَدَعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ فَتَقْضِي لِي، اللَّهُمَّ شَفِّعْهُ فِيَّ"، زَادَ أَبُو مُوسَى: وَشَفِّعْنِي فِيهِ، قَالَ: ثُمَّ كَأَنَّهُ شَكَّ بَعْدُ فِي: وَشَفِّعْنِي فِيهِ"

EnglishUnverified translation

Muhammad bin Bashar and Abu Musa narrated to us, saying: Othman bin Omar, narrated to us Shu’bah, narrated to us, on the authority of Abu Ja’far Al-Madani, he said: I heard Amara Ibn Khuzaymah narrates, on the authority of Uthman Ibn Hunaif: A blind man came to the Prophet, may God bless him and grant him peace, and said: Pray to God to grant me health. He said: “Indeed If you wish, I may delay that, and it is better, and if you wish, I may pray.” Abu Musa said, he said: So call him, and they said: So he ordered him to perform ablution, Bundar said: And he should do well, and they said: And he should pray two rak’ahs and supplicate with this. Supplication: “O God, I ask You and I turn to You through Your Prophet Muhammad, the Prophet of Mercy. O Muhammad, I have turned to You to my Lord in this need of mine.” Then it will be decided for me. Oh God, grant him his intercession on my behalf.” Abu Musa added: And he made my intercession on his behalf. He said: Then, as if he had yet doubted me: And he made my intercession on his behalf.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک نابینا شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر کہنے لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے عافیت و سلامتی عطا فرما دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں دعا مؤخر کر دیتا ہوں (تم صبر کرنا) تو یہ (تمہارے حق میں) بہت بہتر ہے۔ اور اگر تم چاہو تو میں دعا کر دیتا ہوں۔“ جناب ابوموسیٰ کی روایت میں ہے کہ”اُس شخص نے عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرما دیں جناب ابوموسیٰ اور محمد بن بشار کی روایت میں یہ ہے کہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے وضو کرنے کا حُکم دیا۔ جناب بندار کی روایت میں ہے کہ ”اچھی طرح وضو کرنے کا حُکم دیا“ پھر دونوں راویوں نے کہا کہ اور دو رکعت نماز پڑھ کر یہ دعا مانگو۔ «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ لِتُقْضَى لِي اللَّهُمَّ فَشَفِّعْهُ فِيَّ» ”اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور میں تیری طرف تیرے نبی محمد نبی رحمت کے ذریعے سے متوجہ ہوتا ہوں، اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے اپنے رب کی طرف توجہ کی، اپنی اس ضرورت و حاجت کے پورا کرانے کے لئے، تاکہ وہ میری یہ حاجت پوری فرما دے۔ اے اللہ، (اپنے نبی کی) سفارش میرے لئے قبول فرما۔“ ابوموسٰی کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ اور اس نے میری سفارش اس کے بارے میں قبول فرمالی۔ فرماتے ہی گویا کہ بعد میں ان الفاظ میں شک ہو گیا ”وَشَفَّعَنِي فِيْهِ“ (اس لئے بعد میں بیان نہیں کرتے تھے۔)