Sahih Ibn Khuzaymah #1216
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، أَمْلَى بِالْكُوفَةِ، نَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَبُو شُعَيْبٍ الْعَدَنِيُّ وَهُوَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ: الْقَنْبَارِيُّ سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: أَصْلِي فَارِسِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: يَا عَبَّاسُ، يَا عَمَّاهُ، أَلا أُعْطِيكَ، أَلا أُجِيزُكَ، أَلا أَفْعَلُ لَكَ عَشْرَ خِصَالٍ، إِذَا أَنْتَ فَعَلْتَ ذَلِكَ غَفَرَ اللَّهُ ذَنْبَكَ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، قَدِيمَهُ وَحَدِيثَهُ، خَطَأَهُ وَعَمْدَهُ، صَغِيرَهُ وَكَبِيرَهُ، سِرَّهُ وَعَلانِيَتَهُ، عَشْرَ خِصَالٍ: أَنْ تُصَلِّيَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَسُورَةٍ، فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ الْقِرَاءَةِ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ، قُلْتَ وَأَنْتَ قَائِمٌ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً، ثُمَّ تَرْكَعُ وَتَقُولُ وَأَنْتَ رَاكِعٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ الرُّكُوعِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، فَذَلِكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ تَفْعَلُ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُصَلِّيَهَا فِي كُلِّ يَوْمٍ مَرَّةً فَافْعَلْ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي عُمُرِكَ مَرَّةً" . وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلا لَمْ يَقُلْ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ"
EnglishUnverified translation
Abd al-Rahman ibn Bishr ibn al-Hakam told us, he dictated in Kufa, Musa ibn Abd al-Aziz Abu Shuaib al-Adni told us, and he is the one who is said To him: I heard Al-Qanbari, saying: I am originally Persian. He said: Al-Hakam bin Aban narrated to me, Ikrimah narrated to me, on the authority of Ibn Abbas: The Messenger of God, may God bless him and grant him peace, said to Abbas bin Abdul Muttalib: O Abbas, O uncle, shall I not give you, shall I not reward you, shall I not do for you? Ten qualities. If you do that, God will forgive your sins, the first and the last, the old and the new, the mistake and the intentional, the small and the large. Its secret and its openness are ten characteristics: to pray four rak’ahs, reciting in each two rak’ahs the Fatihah of the Book, and a surah. If you have finished Reciting in the first rak’ah. While standing, you said: Glory be to God, and praise be to God, and there is no god but God, and God is the greatest fifteen times, then You kneel and say ten while you are bowing, then you raise your head from bowing and say ten, then you prostrate and say ten, then raise your head So you say it ten, then you prostrate and say it ten, then you raise your head and say it ten. That is seventy-five in every rak’ah that you perform in Four rak'ahs. If you are able to pray them once every day, then do so. If you cannot, then every Friday once. If you do not, then every Friday. “Once a month, and if you do not do that, then once in a year, and if you do not do that, then once in your lifetime.” It was narrated by Ibrahim bin Al-Hakam bin Aban, on the authority of his father, on the authority of Ikrimah, in a mursal form, but he did not say anything about it on the authority of Ibn Abbas. It was narrated to us by Muhammad bin Rafi’, to us by Ibrahim bin Al-Hakam.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے عباس، اے چچا جان، کیا میں آپ کو عطیہ نہ دوں، کیا میں آپ کو تحفہ اور انعام نہ دوں؟ کیا میں آپ کے لئے دس چیزیں نہ بیان کروں جب آپ وہ دس چیزوں کو کرلیں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کے پہلے اور پچھلے، پر انے اور نئے، غلطی سے کیے ہوئے اور عمداََ سر زد ہونے والے، چھوٹے اور بڑے، خفیہ اور علانیہ سارے گناہ معاف فرما دے گا۔ وہ دس چیزیں یہ ہیں۔ تم چار رکعات اس طرح پڑھو کہ ہر رکعت میں سوره الفاتحه کے ساتھ کوئی اور سورت بھی تلاوت کرو، پھر جب پہلی رکعت میں قراءت سے فارغ ہو جاؤ تو کھڑے کھڑے یہ کلمات پندرہ مرتبہ پڑھو، «سُبْحَانَ اللهِ، وَالحَمْدُ لِلَٰهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، وَاللَٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ پاک ہے، اور تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے۔“ پھر تم رکوع کرو تو رکوع کی حالت میں یہی کلمات دس مرتبہ پڑھو، پھر رکوع سے سر اُٹھا کر یہ کلمات دس بار پڑھو، پھر سجدہ کرو تو یہ کلمات دس دفعہ پڑھو، پھر سجدے سے سر اُٹھا کر یہ کلمات دس مرتبہ پڑھو، پھر سجدہ کرو تو یہ کلمات دس بار پڑھو، پھر سجدے سے سر اُٹھا کر دس بار پڑھو، اس طرح ہر رکعت میں یہ کلمات پچھتّر مرتبہ ہو جائے گا اس طرح چاروں رکعات میں پڑھو گے، اگر تمہیں استطاعت ہو تو ہر روز ایک بار یہ نماز پڑھ لیا کرو، اگر ہر روز ممکن نہ ہو تو ہفتے میں ایک بار پڑھ لیا کرو، اگر تم یہ بھی نہ کر سکو تو ہر مہینے میں ایک بار ادا کر لیا کرو، اگر تم سے یہ بھی ممکن نہ ہو تو سال میں ایک مرتبہ پڑھ لیا کرو، اگر تم یہ بھی نہ کر سکو تو پوری عمر میں ایک بار پڑھ لینا۔“ جناب ابراہیم بن حکم بن ابان نے اپنے باپ کے واسطے کے ساتھ حضرت عکرمہ سے یہ روایت مرسل بیان کی ہے، اس میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا نام ذکر نہیں کیا۔ ہمیں یہ روایت محمد بن رافع نے ابراہیم بن حکم سے بیان کی ہے۔