Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 9 · Chapter 3

The Book of Purification

Hadith 976–1009

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

976

Sahih Ibn Hibban #976

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : لا يَزَالُ يُسْتَجَابُ لِلْعَبْدِ مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ ، أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ ، مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الاسْتِعْجَالُ ؟ قَالَ : " يَقُولُ : يَا رَبِّ قَدْ دَعَوْتُ ، وَقَدْ دَعَوْتُ ، فَمَا أَرَاكَ تَسْتَجِيبُ لِي ، فَيَدَعُ الدُّعَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بندے کی دعا مسلسل مستجاب ہوتی رہتی ہے، جب تک کہ وہ کسی گناہ یا قطع رحمی کے بارے میں دعا نہیں کرتا اور جب تک وہ جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرتا۔“ عرض کی گئی: یا رسول اللہ! جلد بازی کا مظاہرہ کرنے سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ یہ کہتا ہے: اے میرے پروردگار! میں نے دعا کی پھر میں نے دعا کی، لیکن میرا خیال ہے تو نے میری دعا قبول نہیں کی، پھر وہ شخص دعا کرنا ترک کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 976]

977

Sahih Ibn Hibban #977

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الأَنْمَاطِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يَقُلْ أَحَدُكُمُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ ، فَإِنَّهُ لا مُسْتَكْرِهَ لَهُ ، وَلَكِنْ لِيَعْزِمِ الْمَسْأَلَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی شخص یہ نہ کہے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ» ”اے اللہ! اگر تو چاہے، تو میری مدد کر!“ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو کوئی مجبور کرنے والا نہیں ہے۔ آدمی کو پورے اعتماد کے ساتھ مانگنا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 977]

978

Sahih Ibn Hibban #978

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي السَّائِبِ قَاصِّ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : قُصَّ فِي الْجُمُعَةِ مَرَّةً ، فَإِنْ أَبِيتَ فَمَرَّتَيْنِ ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَثَلاثًا ، وَلا أَلْفِيَنَّكَ تَأْتِي الْقَوْمَ وَهُمْ فِي حَدِيثِهِمْ فَتَقْطَعَهُ عَلَيْهِمْ ، وَلَكِنْ إِنِ اسْتَمَعُوا حَدِيثَكَ فَحَدِّثْهُمْ ، وَاجْتَنِبِ السَّجْعَ فِي الدُّعَاءِ ، فَإِنِّي عَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ يَكْرَهُونَ ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر شعبی، مدینہ منورہ کے واعظ ابن ابو سائب کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم ہفتے میں ایک مرتبہ وعظ کیا کرو اگر یہ بات نہیں مانتے، تو دو مرتبہ کر لیا کرو اور اگر یہ بھی نہیں مانتے، تو تین مرتبہ کر لیا کرو۔ میں تمہیں ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ تم لوگوں کے پاس آؤ اور وہ اپنی بات چیت میں مگن ہوں، اور پھر تم ان کی بات کو منقطع کر دو۔ ہونا یہ چاہیے کہ وہ لوگ غور سے تمہاری بات سنیں، تو تم ان کے ساتھ بات چیت کرو اور دعا مانگتے ہوئے «مُقَفّٰى» اور «مُسَجَّع» الفاظ استعمال کرنے سے اجتناب کرو کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم کو دیکھا ہے، وہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 978]

979

Sahih Ibn Hibban #979

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ دَوْسًا قَدْ عَصَتْ وَأَبَتْ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا ، وَائْتِ بِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! دوس قبیلے کے افراد نافرمانی کر رہے ہیں اور (اسلام قبول کرنے کی) بات نہیں مان رہے، آپ ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهِمْ» ”اے اللہ! تو دوس قبیلے کو ہدایت عطا کر اور انہیں اسلام کے دامن میں لے آ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 979]

980

Sahih Ibn Hibban #980

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ بُدَيْلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ دَوْسًا ، فَقَالَ : إِنَّهُمْ . . . فَذَكَرَ رِجَالَهُمْ وَنِسَاءَهُمْ ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، هَلَكَتْ دَوْسٌ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَقَالَ : اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے دوس قبیلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا: یہ لوگ، پھر اس نے ان کے مردوں اور خواتین کا ذکر کیا کہ (وہ مسلمان نہیں ہو رہے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کر دیے، تو وہ شخص بولا: ﴿إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾ [سورة البقرة: 156] ”بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور بے شک ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے“، ربِ کعبہ کی قسم! دوس ہلاکت کا شکار ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور دعا کی: «اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا» ”اے اللہ! دوس قبیلے کو ہدایت عطا کر۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 980]

981

Sahih Ibn Hibban #981

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الأَجْدَعِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا ، فَخَرَجْنَا مَعَهُ ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى الْمَقَابِرِ ، فَأَمَرَنَا فَجَلَسْنَا ، ثُمَّ تَخَطَّى الْقُبُورَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى قَبْرٍ مِنْهَا فَجَلَسَ إِلَيْهِ ، فَنَاجَاهُ طَوِيلا ، ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاكِيًا ، فَبَكَيْنَا لِبُكَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا ، فَتَلَقَّاهُ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : مَا الَّذِي أَبْكَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَدْ أَبْكَيْتَنَا وَأَفْزَعْتَنَا ؟ فَأَخَذَ بِيَدِ عُمَرَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : أَفْزَعَكُمْ بُكَائِي ؟ " قُلْنَا : نَعَمْ ، فَقَالَ : " إِنَّالْقَبْرَ الَّذِي رَأَيْتُمُونِي أُنَاجِي قَبْرُ آمِنَةَ بِنْتِ وَهْبٍ ، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي الاسْتِغْفَارَ لَهَا ، فَلَمْ يَأْذَنْ لِي ، فَنَزَلَ عَلَيَّ : مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ فَأَخَذَنِي مَا يَأْخُذُ الْوَلَدُ لِلْوَالِدِ مِنَ الرِّقَةِ ، فَذَلِكَ الَّذِي أَبْكَانِي . أَلا وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، فَزُورُوهَا ، فَإِنَّهَا تُزَهِّدُ فِي الدُّنْيَا وَتُرَغِّبُ فِي الآخِرَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، ہم بھی آپ کے ساتھ آئے، جب ہم قبرستان پہنچے تو آپ نے ہمیں حکم دیا تو ہم لوگ بیٹھ گئے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبروں کو پھلانگتے ہوئے ان میں سے ایک قبر پر تشریف لے گئے، آپ اس کے پاس بیٹھ گئے، وہاں آپ نے طویل مناجات کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو آپ رو رہے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رونے کی وجہ سے ہم بھی رونے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کے سامنے تھے، انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ آپ نے ہمیں بھی رلا دیا ہے اور ہمیں گریہ و زاری کا شکار کر دیا ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور دریافت فرمایا: ”کیا تم لوگ میرے رونے کی وجہ سے گھبرا گئے ہو؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ قبر جسے تم نے دیکھا ہے، میں وہاں مناجات کر رہا تھا، وہ (میری والدہ) آمنہ بنت وہب کی قبر تھی، میں نے اپنے پروردگار سے ان کے لیے استغفار کا سوال کیا تو مجھے اجازت نہیں دی گئی اور مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ﴾ [سورة التوبة: 113] ”نبی اور اہل ایمان کے لیے یہ بات مناسب نہیں ہے، وہ مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کریں۔“ تو مجھ پر وہی کیفیت طاری ہو گئی، جو کسی بچے کی اپنی ماں کے لیے رقت ہوتی ہے، اس بات نے مجھے رلا دیا۔ خبردار! میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا، اب تم ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ دنیا سے بے رغبت کرتی ہیں اور آخرت کی طرف راغب کرتی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 981]

982

Sahih Ibn Hibban #982

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَمَّا حَضَرَ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ ، جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَمِّ ،قُلْ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ أَشْهَدْ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ " . قَالَ أَبُو جَهْلٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ : يَا أَبَا طَالِبٍ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ؟ قَالَ : فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ وَيُعِيدُ لَهُ تِلْكَ الْمَقَالَةَ ، حَتَّى قَالَ أَبُو طَالِبٍ آخِرَ مَا كَلَّمَهُمْ هُوَ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَبَى أَنْ يَقُولَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ " فَأَنْزَلَ اللَّهُ : مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ وَأُنْزِلَتْ فِي أَبِي طَالِبٍ إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن مسیب رحمہ اللہ اپنے والد (مسیب بن حزن رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اس وقت ابوطالب کے پاس ابوجہل اور عبداللہ بن ابوامیہ بھی موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے چچا جان! آپ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ پڑھ لیجیے، اس کلمہ کی وجہ سے میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ کے لیے گواہی دوں گا۔“ ابوجہل اور عبداللہ بن ابوامیہ بولے: اے ابوطالب! کیا تم عبدالمطلب کے دین سے منہ موڑ رہے ہو؟ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سامنے مسلسل یہی پیشکش کرتے رہے اور یہی بات دہراتے رہے، یہاں تک کہ ابوطالب نے ان لوگوں کے ساتھ جو آخری بات کی وہ یہ تھی کہ وہ عبدالمطلب کے دین پر ہیں، اور انہوں نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ» پڑھنے سے انکار کر دیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں آپ کے لیے اس وقت تک دعائے مغفرت کرتا رہوں گا، جب تک مجھے اس سے منع نہیں کر دیا جاتا۔“ تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ﴾ [سورة التوبة: 113] ”نبی اور اہل ایمان کے لیے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کریں اگرچہ وہ ان کے قریبی عزیز ہی کیوں نہ ہوں، اس کے بعد کہ ان لوگوں کے سامنے یہ بات واضح ہو چکی ہو کہ وہ لوگ جہنمی ہیں۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) یہ آیت ابوطالب کے بارے میں نازل ہوئی تھی: ﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ ۚ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ﴾ [سورة القصص: 56] ”بے شک تم اسے ہدایت نہیں دیتے جسے تم پسند کرتے ہو، بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اسے ہدایت دیتا ہے، اور وہ ہدایت پانے والوں کے بارے میں زیادہ جانتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 982]

983

Sahih Ibn Hibban #983

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَمَا إِنَّأَحَدَكُمْ لَوْ أَنَّهُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ ، قَالَ : بِسْمِ اللَّهِ ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ ، وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا ، ثُمَّ رُزِقَا وَلَدًا لَمْ يَضُرَّهُ الشَّيْطَانُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس آنے کا ارادہ کرے، تو اسے یہ دعا پڑھنی چاہیے: «بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا» ”اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے، (میں یہ عمل کرنے لگا ہوں) اے اللہ! تو شیطان کو ہم سے دور رکھنا اور شیطان کو اس چیز سے بھی دور رکھنا، جو تو ہمیں رزق (یعنی اولاد عطا کرے گا)“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) ”پھر اگر انہیں اولاد عطا کر دی جائے، تو شیطان اسے نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 983]

984

Sahih Ibn Hibban #984

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعِينُهُ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أَبِي ، فَقَالَ : آتِيكُمْ " ، فَقُلْتُ لِلْمَرْأَةِ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا ، فَإِيَّاكِ أَنْ تُكَلِّمِيهِ أَوْ تُؤْذِيهِ ، قَالَ : فَأَتَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَبَحْتُ لَهُ دَاجِنًا كَانَ لَنَا ، قَالَ : " يَا جَابِرُ كَأَنَّكَ عَلِمْتَ حُبَّنَا اللَّحْمَ ؟ " فَلَمَّا خَرَجَ ، قَالَتْ لَهُ الْمَرْأَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ :صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي ، قَالَ : فَفَعَلَ ، فَقَالَ لَهَا : أَلَمْ أَقُلْ لَكِ ؟ فَقَالَتْ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْخُلُ بَيْتِي وَيَخْرُجُ وَلا يُصَلِّي عَلَيْنَا ؟ !"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں قرض کی ادائیگی کے سلسلے میں آپ سے مدد حاصل کرنا چاہتا تھا، وہ قرض جو میرے والد کے ذمے لازم تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے ہاں آؤں گا“، میں نے اپنی بیوی سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں آئیں گے، تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی بات چیت کرنے یا آپ کو کوئی اذیت پہنچانے سے بچنے کی کوشش کرنا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میں نے آپ کے لیے اپنے گھر میں موجود ایک بکری ذبح کر لی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جابر! لگتا ہے تمہیں پتا ہے، مجھے گوشت بہت پسند ہے“ پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے جانے لگے، تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ میرے لیے اور میرے شوہر کے لیے دعائے رحمت کیجیے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ پھر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے اس خاتون سے کہا: کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہ کہنا)؟ تو وہ عورت بولی: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائیں اور پھر ہمارے لیے دعائے رحمت کیے بغیر واپس چلے جائیں؟ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 984]

985

Sahih Ibn Hibban #985

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ السِّجِسْتَانِيُّ أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ ، وَهُوَ جَالِسٌ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِمُحَمَّدٍ وَلا تَغْفِرْ لأَحَدٍ مَعَنَا . قَالَ : فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : لَقَدِ احْتَظَرْتَ وَاسِعًا " ثُمَّ وَلَّى الأَعْرَابِيُّ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ ، فَحَّجَ لِيَبُولَ ، فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ بَعْدَ أَنْ فَقِهَ فِي الإِسْلامِ : فَقَامَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يُؤَنِّبْنِي ، وَلَمْ يَسُبَّنِي ، وَقَالَ : " إِنَّمَا بُنِيَ هَذَاالْمَسْجِدُ لِذِكْرِ اللَّهِ وَالصَّلاةِ ، وَإِنَّهُ لا يُبَالُ فِيهِ ، ثُمَّ دَعَا بِسَجْلٍ مِنْ مَاءٍ فَأَفْرَغَهُ عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی مسجد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تشریف فرما تھے، وہ بولا: اے اللہ! تو میری اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مغفرت کر دے اور تو ہمارے ساتھ کسی اور کی مغفرت نہ کرنا۔ راوی بیان کرتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کر دیا ہے۔“ پھر وہ دیہاتی مڑ کر واپس چلا گیا، وہ مسجد کے کنارے پر پہنچا، تو وہ پیشاب کرنے کے ارادے سے رکا۔ وہ دیہاتی مسلمان ہو جانے کے بعد یہ بات بیان کرتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر میرے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ڈانٹا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہ فرمایا: ”یہ مسجد اللہ کا ذکر کرنے کے لیے اور نماز ادا کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس میں پیشاب نہیں کرنا چاہیے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ڈول منگوایا اور وہ اس پر بہا دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 985]

986

Sahih Ibn Hibban #986

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلا ، قَالَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِمُحَمَّدٍ وَحْدَنَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ حَجَبْتَهَا عَنْ نَاسٍ كَثِيرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، ایک شخص نے کہا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِمُحَمَّدٍ» ”اے اللہ! تو صرف میری اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مغفرت کرنا،“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «لَقَدْ حَجَرْتَهَا عَلَى كَثِيرٍ» تم نے (اس مغفرت) کو بہت سے لوگوں سے محجوب کر دیا ہے۔“ (یعنی اس کو ان تک نہیں پہنچنے دیا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 986]

987

Sahih Ibn Hibban #987

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصَّلاةِ وَقُمْنَا مَعَهُ ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ فِي الصَّلاةِ : اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي ، وَارْحَمْ مُحَمَّدًا ، وَلا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا . فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِلأَعْرَابِيِّ : لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا ". يُرِيدُ رَحْمَةَ اللَّهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور آپ کے ساتھ ہم بھی کھڑے ہو گئے۔ ایک دیہاتی نے نماز کے دوران کہا: «اَللّٰهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا، وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا» ”اے اللہ! تو مجھ پر رحم کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم کر اور ہمارے ساتھ اور کسی پر رحم نہ کرنا۔“ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دیہاتی سے فرمایا: ”لَقَدْ حَجَّرْتَ وَاسِعًا“ ”تم نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کر دیا ہے۔“ (راوی کہتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اللہ تعالیٰ کی رحمت تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 987]

988

Sahih Ibn Hibban #988

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ أَحَدًا مِنَ الأَنْبِيَاءِ بَدَأَ بِنَفْسِهِ ، وَإِنَّهُ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ : رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى مُوسَى ، لَوْ صَبَرَ مَعَ صَاحِبِهِ ، لَرَأَى الْعَجَبَ الأَعَاجِيبَ ، وَلَكِنَّهُ قَالَ : إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلا تُصَاحِبْنِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سے پہلے جن بھی انبیاء کا ذکر کرتے تھے، تو پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ذکر کرتے تھے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْنَا وَعَلَى مُوسَى» ”اللہ تعالیٰ ہم پر اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر رحمت کرے“، اگر وہ اپنے ساتھی (یعنی سیدنا خضر علیہ السلام) کے ساتھ صبر سے کام لیتے، تو وہ خود بھی حیران کن چیزیں دیکھتے لیکن انہوں نے یہ کہا: ﴿قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي﴾ [سورة الكهف: 76] ”اگر میں نے آپ سے اس کے بعد کوئی سوال کیا، تو آپ میرے ساتھ نہ رہیے گا۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 988]

989

Sahih Ibn Hibban #989

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ ، بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو لأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ إِلا قَالَ الْمَلَكُ : وَلَكَ بِمِثْلٍ ، وَلَكَ بِمِثْلٍ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : كُلُّ مَا يَجِيءُ فِي الرِّوَايَاتِ فَهُوَ : كُرَيْزٌ ، إِلا هَذَا فَإِنَّهُ : كَرِيزٌ . وَأُمُّ الدَّرْدَاءِ اسْمُهَا : هُجَيْمَةُ بِنْتُ حُيَيٍّ الأَوْصَابِيَّةُ ، وَأَبُو الدَّرْدَاءِ : عُوَيْمِرُ بْنُ عَامِرٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو بھی مسلمان اپنے بھائی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں دعا کرتا ہے، تو فرشتہ یہ کہتا ہے، تمہیں بھی اسی کی مانند ملے، تمہیں بھی اسی کی مانند ملے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) تمام تر روایات میں راوی کے (دادا) کا نام «كُرَيْزٌ» ہے (یعنی ”ک“ پر پیش اور ”ر“ پر زبر ہے) جبکہ یہاں اس کا نام «كَرِيْزٌ» ہے (یعنی ک پر زبر اور ر پر زیر) نقل ہوا ہے، جبکہ سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کا نام ہجیمہ بنت حیی ہے، جبکہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کا نام عویمر بن عامر ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 989]

990

Sahih Ibn Hibban #990

أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ ، فَأَتَتْهُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ ، فَقَالَ : أَعِيدُوا سَمْنَكُمْ فِي سِقَائِهِ ، وَتَمْرَكُمْ فِي وِعَائِهِ ، فَإِنِّي صَائِمٌ " . فَصَلَّى صَلاةً غَيْرَ مَكْتُوبَةٍ ، وَصَلَّيْنَا مَعَهُ ، فَدَعَا لأُمِّ سُلَيْمٍ وَأَهْلِ بَيْتِهَا ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي خُوَيْصَةً ، قَالَ : " مَا هِيَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ؟ " ، قَالَتْ : خَادِمُكَ أَنَسٌ . فَدَعَا لِي بِخَيْرِ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ مَالا وَوَلَدًا ، وَبَارِكْ لَهُ ". قَالَ : فَإِنِّي مِنْ أَكْثَرِ النَّاسِ وَلَدًا ، قَالَ : وَأَخْبَرَتْنِي ابْنَتِي أُمَيْنَةُ أَنَّهَا دَفَنَتْ مِنْ صُلْبِي إِلَى مَقْدِمِ الْحَجَّاجِ الْبَصْرَةَ بِضْعًا وَعِشْرِينَ وَمِائَةً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے، وہ آپ کی خدمت میں کھجور اور گھی لے کر آئیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے گھی کو واپس اسی برتن میں ڈال دو اور اپنی کھجوروں کو واپس اسی برتن میں ڈال دو، کیونکہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نفل نماز ادا کی، آپ کی اقتداء میں ہم نے بھی نماز ادا کی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا اور ان کے گھر کے افراد کو بلایا، تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ! میری ایک درخواست ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام سلیم! وہ کیا؟“ انہوں نے عرض کی: آپ کا خادم انس (آپ اس کے لیے دعا کر دیں)۔ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے حق میں دنیا اور آخرت کی بھلائی کی دعا کی، (آپ نے دعا کی:) «اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ» ”اے اللہ! اسے مال اور اولاد عطا کر اور اس کے لیے ان میں برکت رکھ دے۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں لوگوں میں اولاد کے اعتبار سے کثرت والا ہوں، سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری بیٹی امینہ نے یہ بات بتائی ہے، حجاج کے بصرہ کا گورنر بننے تک میری اولاد اور (اولاد کی اولاد میں سے) ایک سو بیس لوگوں کا انتقال ہو چکا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 990]

991

Sahih Ibn Hibban #991

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا طَاهِرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ نِزَارٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الأَيْلِيِّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : شَكَا النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَحْطَ الْمَطَرِ ، فَأَمَرَ بِالْمِنْبَرِ ، فَوُضِعَ لَهُ فِي الْمُصَلَّى ، وَوَعَدَ النَّاسَ يَوْمًا يَخْرُجُونَ فِيهِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ ، فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّكُمْشَكَوْتُمْ جَدْبَ جِنَانِكُمْ ، وَاحْتِبَاسَ الْمَطَرِ عَنْ إِبَّانِ زَمَانِهِ عَنْكُمْ ، وَقَدْ أَمَرَكُمُ اللَّهُ أَنْ تَدَعُوهُ ، وَوَعَدَكُمْ أَنْ يَسْتَجِيبَ لَكُمْ " ، ثُمَّ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ تَفْعَلُ مَا تُرِيدُ . اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلاغًا إِلَى حِينٍ " . ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْنَا بَيَاضَ إِبْطَيْهِ ، ثُمَّ حَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ ، وَقَلَبَ أَوْ حَوَّلَ رِدَاءَهُ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ وَنَزَلَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فَأَنْشَأَ اللَّهُ سَحَابًا ، فَرَعَدَتْ ، وَأَبْرَقَتْ ، وَأَمْطَرَتْ بِإِذْنِ اللَّهِ ، فَلَمْ يَلْبَثْ فِي مَسْجِدِهِ حَتَّى سَالَتِ السُّيُولُ ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَثَقَ الثِّيَابِ عَلَى النَّاسِ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ وَقَالَ : " أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، وَأَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بارش نہ ہونے کی شکایت کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر کے بارے میں حکم دیا، اسے عید گاہ میں رکھ دیا گیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ ایک دن کا وعدہ کیا کہ وہ لوگ اس دن نکلیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سورج کی ٹکیہ ظاہر ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگوں نے اپنے باغات کے خشک ہو جانے کی اور طویل عرصے سے بارش نہ ہونے کی شکایت کی ہے، اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ حکم دیا ہے کہ تم اس سے دعا مانگو اور اس نے تم سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ تمہاری دعا کو قبول کرے گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ” «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۞ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۞ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» ”تمام حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے، قیامت کے دن کا مالک ہے،“ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ» ”اے اللہ! تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے،“ «اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلَى حِينٍ» ”اے اللہ! تو ہی اللہ ہے تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، تو بے نیاز ہے اور ہم غریب ہیں، تو ہم پر بارشیں نازل کر اور ہم پر جو چیز تو نازل کرے گا اسے مخصوص مدت کے لیے قوت اور بلاغ بنا دے۔““ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی بھی دیکھ لی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پشت لوگوں کی طرف کر لی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کو الٹا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ہوئے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور منبر سے نیچے اتر آئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات نماز ادا کی، تو اللہ تعالیٰ نے بادل پیدا کر دیا، وہ گرجا، بجلی چمکی اور اللہ کے حکم سے بارش نازل ہونا شروع ہو گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مسجد (یعنی عید گاہ) میں ہی تھے کہ نالیاں بہنے لگیں۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ملاحظہ کی کہ لوگوں نے اپنے اوپر کپڑے کر لیے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے اور بے شک میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 991]

992

Sahih Ibn Hibban #992

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ بَابٍ كَانَ رَجَاءَهُ الْمِنْبَرُ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، فَاسْتَقْبَلَهُ قَائِمًا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكَتِ الْمَوَاشِي وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ ، فَادْعُ اللَّهَ لِيُغِيثُنَا ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ ، يَقُولُ : اللَّهُمَّ اسْقِنَا ، اللَّهُمَّ اسْقِنَا " . قَالَ أَنَسٌ : وَاللَّهِ مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابَةً وَلا قَزَعَةً بَيْنَنَا وَبَيْنَ سَلْعٍ مِنْ بَيْتٍ وَلا دَارٍ ، فَطَلَعَتْ مِنْ وَرَائِهِ سَحَابَةٌ مِثْلُ تُرْسٍ ، فَلَمَّا تَوَسَّطَتِ السَّمَاءَ انْتَشَرَتْ ثُمَّ أَمْطَرَتْ ، فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا الشَّمْسَ سِتًّا . ثُمَّ دَخَلَ رَجُلٌ مِنَ الْبَابِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، فَاسْتَقْبَلَهُ قَائِمًا ، ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكَتِ الأَمْوَالُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَكُفَّهَا عَنَّا ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلا عَلَيْنَا ، اللَّهُمَّ عَلَى الآكَامِ وَالظِّرَابِ وَالأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ " . قَالَ : فَأَقْلَعَتْ وَخَرَجَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فِي الشَّمْسِ، فَسَأَلْتُ أَنَسًا أَهُوَ الرَّجُلُ الأَوَّلُ ؟ قَالَ : لا أَدْرِي"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں منبر کے سامنے والے دروازے سے داخل ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خطبہ دے رہے تھے، وہ شخص آپ کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا اور اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مویشی ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں اور راستے منقطع ہو رہے ہیں، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ہم پر بارش نازل کرے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ أَغِثْنَا، اللَّهُمَّ أَغِثْنَا» ”اے اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، اے اللہ! ہمیں بارش عطا فرما۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! ہمیں اس وقت آسمان میں بادل یا بادل کا کوئی ٹکڑا بھی نظر نہیں آ رہا تھا اور نہ ہی ہمارے اور سلع پہاڑ کے درمیان کسی گھر یا محلے کے اوپر بادل تھا، اسی دوران اس پہاڑ کے پیچھے سے ڈھال کی طرح کا بادل نمودار ہوا، جب وہ آسمان کے درمیان میں پہنچا تو پھیلنے لگا اور پھر بارش شروع ہو گئی، پھر اللہ کی قسم! ہم نے چھ دن تک سورج نہیں دیکھا۔ اگلے جمعے والے دن اسی دروازے سے ایک شخص اندر آیا، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، وہ آپ کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا اور اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مال و مویشی ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں اور راستے منقطع ہو رہے ہیں، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ہم سے بارش کو روک لے۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، اللَّهُمَّ عَلَى الْآكَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ» ”اے اللہ! ہمارے گرد و نواح میں (بارش) ہو ہم پر نہ ہو، اے اللہ! ٹیلوں، پہاڑوں، وادیوں اور درختوں کے اگنے کے مقامات پر (بارش) ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ بادل چھٹ گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو دھوپ میں چل رہے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا یہ وہی پہلے والا شخص تھا؟ انہوں نے جواب دیا: ”مجھے معلوم نہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 992]

993

Sahih Ibn Hibban #993

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ الأَنْطَاكِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ صَيِّبًا هَنِيًّا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش دیکھتے تھے، تو یہ دعا مانگتے تھے: «اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا» ”اے اللہ! یہ موسلا دھار ہو، اور نفع دینے والی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 993]

994

Sahih Ibn Hibban #994

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُنَيْسٍ الْغَزِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى الْغَيْثَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ صَيِّبًا أَوْ سَيِّبًا نَافِعًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مقدام بن شریح اپنے والد کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بادل دیکھتے تو یہ دعا مانگتے تھے: «اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا» ”اے اللہ! یہ موسلا دھار ہو، اور فائدہ دینے والی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 994]

995

Sahih Ibn Hibban #995

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَتِ السَّنَةُ بِأَنْ لا تُمْطَرُوا ، وَلَكِنِ السَّنَةُ أَنْ تُمْطَرُوا ، وَأَنْ تُمْطَرُوا ، وَلا تُنْبِتُ الأَرْضُ شَيْئًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”خشک سالی یہ نہیں ہے کہ تم پر بارش نہ ہو، خشک سالی یہ ہے کہ تم پر بارش ہو پھر بارش ہو لیکن زمین پر کوئی سبزہ پیدا نہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 995]

996

Sahih Ibn Hibban #996

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمِّي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ فِي الصَّلاةِ ، كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ ، وَيُعَلِّمُنَا مَا لَمْ يَكُنْ يُعَلِّمُنَا كَمَا يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ : اللَّهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا ، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا ، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلامِ ، وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ، وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهْرَ مِنْهَا وَمَا بَطْنَ ، اللَّهُمَّ احْفَظْنَا فِي أَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَأَزْوَاجِنَا ، وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِكَ ، مُثْنِينَ بِهَا عَلَيْكَ ، قَابِلِينَ بِهَا ، فَأَتْمِمْهَا عَلَيْنَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز کے دوران تشہد پڑھنے کے کلمات اسی طرح سکھایا کرتے تھے جس طرح آپ ہمیں قرآن کی کوئی سورت سکھایا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جس طرح تشہد کے کلمات سکھایا کرتے تھے اسی طرح آپ ہمیں یہ کلمات کہنا بھی سکھاتے تھے: «اللَّهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ، وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ، وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَبَارِكْ لَنَا فِي أَسْمَاعِنَا، وَأَبْصَارِنَا، وَأَزْوَاجِنَا، وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِكَ، مُثْنِينَ بِهَا، قَابِلِيهَا، وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا» ”اے اللہ! تو ہمارے دلوں کے درمیان الفت پیدا کر دے اور ہمارے درمیان اصلاح کر دے اور سلامتی کے راستوں کی طرف ہماری رہنمائی کر اور تاریکیوں سے ہمیں نجات دے کر ہمیں نور کی طرف لے جا اور ہمیں ظاہری اور باطنی فحاشیوں سے دور کر دے۔ اے اللہ! ہماری سماعت، ہماری بصارت اور ہماری بیویوں کی حفاظت کر اور ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر کرنے والا بنا دے اور ان پر اپنی تعریف کرنے والا بنا دے اور انہیں قبول کرنے والا بنا دے اور ان کو ہم پر مکمل کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 996]

997

Sahih Ibn Hibban #997

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّلِلشَّيْطَانِ لَمَّةً ، وَلِلْمَلَكِ لَمَّةً ، فَأَمَّا لَمَّةُ الشَّيْطَانِ فَإِيعَادٌ بِالشَّرِّ وَتَكْذِيبٌ بِالْحَقِّ ، وَأَمَّا لَمَّةُ الْمَلَكِ فَإِيعَادٌ بِالْخَيْرِ وَتَصْدِيقٌ بِالْحَقِّ ، فَمَنْ وَجَدَ ذَلِكَ فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ ، وَمَنْ وَجَدَ الأُخْرَى ، فَلْيَتَعَوَّذْ مِنَ الشَّيْطَانِ " ، ثُمَّ قَرَأَ : الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک شیطان کا ایک اثر ہوتا ہے اور فرشتے کا ایک اثر ہوتا ہے؛ شیطان کا اثر یہ ہوتا ہے، وہ برائی کی طرف واپس لے کر جاتا ہے اور حق کی تکذیب کرتا ہے اور فرشتے کا اثر یہ ہوتا ہے، وہ بھلائی کی طرف واپس لے کر جاتا ہے اور حق کی تصدیق کرتا ہے، تو جو شخص اس صورت حال کو پائے، تو وہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے اور جو شخص دوسری صورت حال کو پائے، تو وہ شیطان سے پناہ مانگے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ﴾ [سورة البقرة: 268] ”شیطان تمہارے ساتھ غربت کا وعدہ کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 997]

998

Sahih Ibn Hibban #998

وَنَهَانِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِالْقَسِّيِّ ، وَالْمِيثَرَةِ ، وَعَنِ الْخَاتَمِ فِي السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالسَّدَادَ» ”اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت اور سیدھا رہنا مانگتا ہوں۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ہیں، یا شاید سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:) ”تم ہدایت کے ہمراہ راستے کی ہدایت کو ذہن میں رکھو اور سیدھے رہنے کے ہمراہ تیر کے سیدھے رہنے کو ذہن میں رکھو۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قسی اور میثرہ استعمال کرنے اور شہادت کی انگلی اور درمیان والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 998]

999

Sahih Ibn Hibban #999

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، بِمَنْبَجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآن : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو اس دعا کی تعلیم اس طرح دیا کرتے تھے جس طرح انہیں قرآن کی کسی سورت کی تعلیم دیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ» ”اے اللہ! میں جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور زندگی اور موت کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور دجال کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 999]

1000

Sahih Ibn Hibban #1000

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ فِي حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ ، فَحَادَتْ بِهِ بَغْلَتُهُ ، فَإِذَا فِي الْحَائِطِ أَقْبُرٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يَعْرِفُ هَؤُلاءِ الأَقْبُرَ ؟ " فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " مَا هُمْ ؟ " قَالَ : مَاتُوا فِي الشِّرْكِ ، قَالَ : " لَوْلا أَنْ لا تَدَافَنُوا ، لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ ، إِنَّ هَذِهِ الأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا " . ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ :" تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ، تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بنو نجار کے ایک باغ میں موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک خچر پر سوار تھے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر چل رہا تھا اور باغ میں کچھ قبریں موجود تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”ان قبروں کے بارے میں کون جانتا ہے؟“ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کون تھے؟“ ان صاحب نے عرض کی: یہ شرک پر مرے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم ایک دوسرے کو (یعنی اپنے مردوں کو) دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا کہ وہ تمہیں قبر کے عذاب کے حوالے سے وہ (آوازیں) سنائے جو میں نے سنی ہیں، بے شک اس امت کی ان کی قبروں میں آزمائش ہو گی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا: ”جہنم کے عذاب اور قبر کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو، ظاہری اور باطنی فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو، دجال کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1000]

1001

Sahih Ibn Hibban #1001

سَمِعْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانَ بِالرَّقَّةِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ مُوسَى الأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ عُقْبَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أُمَّ خَالِدٍ بِنْتَ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، تَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَسْتَعِيذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ "، وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

موسیٰ بن عقبہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ ام خالد رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، (وہ بیان کرتی ہیں) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہوئے سنا ہے۔ (موسیٰ بن عقبہ کہتے ہیں) میں نے اس خاتون کے علاوہ اور کسی کو یہ بیان کرتے ہوئے نہیں سنا کہ ”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1001]

1002

Sahih Ibn Hibban #1002

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ أَبُو عَرُوبَةَ ، بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَبِي الْحَجَّاجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ :مَا صَلَّى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا أَوِ اثْنَتَيْنِ ، إِلا سَمِعْتُهُ يَدْعُو : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَمِنْ فِتْنَةِ الصَّدْرِ ، وَسُوءِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی چار یا دو رکعات ادا کیں تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا: ”اے اللہ! میں جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، سینے کی آزمائش، بری زندگی اور (بری) موت سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1002]

1003

Sahih Ibn Hibban #1003

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عِيَاضٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفَقْرِ وَالذِّلَّةِ ، وَأَنْ تَظْلِمَ أَوْ تُظْلَمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”فقر، ذلت، یہ کہ تم ظلم کرو یا تم پر ظلم کیا جائے، ان (سب سے) اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1003]

1004

Sahih Ibn Hibban #1004

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا هَؤُلاءِ الْكَلِمَاتِ كَمَا تُعَلَّمُ الْكِتَابَةُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ان کلمات کی اس طرح تعلیم دیا کرتے تھے، جس طرح کتابت کی تعلیم دی جاتی ہے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» ”اے اللہ! میں بخل سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ مجھے رذیل ترین عمر کی طرف لوٹایا جائے اور میں دنیا کی آزمائش اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1004]

1005

Sahih Ibn Hibban #1005

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الطَّاحِيُّ الْعَابِدُ ، بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا سَمِعْتُمْ أَصْوَاتَ الدِّيَكَةِ ، فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا ، فَاسْأَلُوا اللَّهَ ، وَارْغَبُوا إِلَيْهِ ، وَإِذَا سَمِعْتُمْ نُهَاقَ الْحَمِيرِ ، فَإِنَّهَا رَأَتْ شَيْطَانًا ، فَاسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ مَا رَأَتْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب تم مرغ کی بانگ سنو تو اس نے کسی فرشتے کو دیکھا ہوتا ہے (اس موقع پر) اللہ تعالیٰ سے مانگو، اس کی طرف رغبت کرو، اور جب تم گدھے کے رینکنے کی آواز سنو، تو اس نے کسی شیطان کو دیکھا ہوتا ہے۔ (اس موقع پر) تم اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو، جسے اس نے دیکھا ہے (یعنی شیطان)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1005]

1006

Sahih Ibn Hibban #1006

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ طَلْحَةَ الْيَرْبُوعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا رَأَى فِي السَّمَاءِ غُبَارًا أَوْ رِيحًا تَعَوَّذَ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهِ ، فَإِذَا أَمْطَرَتْ ، قَالَ : اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب آسمان میں غبار (یعنی آندھی) یا ہوا دیکھتے تھے، تو اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے (لیکن) جب بارش ہو جاتی تو آپ یہ کہتے: «اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا» ”اے اللہ! یہ موسلا دھار اور فائدہ دینے والی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1006]

1007

Sahih Ibn Hibban #1007

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، بِالرَّقَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ثَابِتٍ الزُّرَقِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : الرِّيحُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ ، وَتَأْتِي بِالْعَذَابِ ، فَلا تَسُبُّوهَا ، وَسَلُوا اللَّهَ خَيْرَهَا ، وَاسْتَعِيذُوا مِنْ شَرِّهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ہوا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے، یہ رحمت بھی لے کر آتی ہے اور عذاب بھی لے کر آتی ہے، تو تم اسے برا نہ کہو، تم اللہ تعالیٰ سے اس کی بھلائی کا سوال کرو اور اس کے شر سے (اللہ تعالیٰ کی) پناہ مانگو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1007]

1008

Sahih Ibn Hibban #1008

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الأَكْوَعِ ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كَانَإِذَا اشْتَدَّتِ الرِّيحُ ، يَقُولُ : اللَّهُمَّ لَقْحًا لا عَقِيمًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں کہ جب تیز ہوا چلتی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے تھے (یعنی یہ دعا کرتے تھے): «اللَّهُمَّ لَقِحًا لَا عَقِيمًا» ”اے اللہ! یہ (بارش یا بادلوں کے ہمراہ) بوجھل ہو، بانجھ نہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1008]

1009

Sahih Ibn Hibban #1009

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ ، وَالْهَرَمِ وَالْبُخْلِ ، وَالْجُبْنِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَشَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ» ”اے اللہ! میں عاجز ہو جانے، کاہلی، بڑھاپے، کنجوسی، بزدلی، قبر کے عذاب اور دجال کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1009]