Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 9 · Chapter 2

The Book of Purification

Hadith 936–975

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

936

Sahih Ibn Hibban #936

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الزُّرَقِيُّ بِطَرَسُوسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : عَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا قَدْ صَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ ، فَقَالَ : مَا كُنْتَ تَدْعُو بِشَيْءٍ أَوْ تَسْأَلُ ؟ " ، قَالَ : كُنْتُ أَقُولُ : اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبَنِي بِهِ فِي الآخِرَةِ ، فَعَجِّلْهُ فِي الدُّنْيَا ، فَقَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ، لا تَسْتَطِيعُهُ ، أَوْ لا تُطِيقُهُ . قُلِ :اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَا سَمِعَ حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ إِلا ثَمَانِيَةَ عَشَرَ حَدِيثًا ، وَالأُخَرُ سَمِعَهَا مِنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی عیادت کی، جو بیماری کی وجہ سے سکڑ کر پرندے کی مانند ہو گیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم کیا دعا مانگتے ہو، یا تم کیا مانگتے ہو؟“ اس نے عرض کی: میں یہ کہتا ہوں کہ اے اللہ! تو نے آخرت میں مجھ کو جو سزا دینی ہے وہ دنیا میں ہی دے دے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے“، تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تم اس کی طاقت نہیں رکھتے، تم یہ کہو: ﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ [سورة البقرة: 201] ”اے اللہ! تو دنیا میں بھی ہمیں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔““ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) حمید نامی راوی نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے صرف اٹھارہ احادیث سنی ہیں، باقی روایات انہوں نے ثابت کے حوالے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 936]

937

Sahih Ibn Hibban #937

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ". قَالَ شُعْبَةُ : فَذَكَرْتُهُ لِقَتَادَةَ ، فَقَالَ : كَانَ أَنَسٌ يَدْعُو بِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» ”اے اللہ! تو دنیا میں بھی ہمیں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔“ شعبہ نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے قتادہ کے سامنے اس روایت کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بھی یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 937]

938

Sahih Ibn Hibban #938

قَالَ أَنَسٌ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَ بِهَا :اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ثابت بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعا کیجیے، تو انہوں نے یہ دعا کی: «اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» ”اے اللہ! تو دنیا میں ہمیں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔“ لوگوں نے درخواست کی کہ آپ مزید دعا کیجیے، تو انہوں نے دوبارہ یہی دعا کی۔ لوگوں نے کہا: مزید کیجیے، تو انہوں نے پھر یہی دعا کی۔ لوگوں نے کہا: مزید کیجیے، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تم کیا چاہتے ہو؟ میں نے تمہارے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائی مانگ لی ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» ”اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 938]

939

Sahih Ibn Hibban #939

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ ، بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْكَرْمَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، قَالَ : قُلْتُ لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَخْبِرْنِي عَنْ دُعَاءٍ كَانَ يَدْعُو بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ". فَلَقِيتُ إِسْمَاعِيلَ فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : أَكْثَرُ دَعْوَةٍ يَدْعُو بِهَا : " رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالعزیز بن صہیب بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ایسی دعا کے بارے میں مجھے بتائیے، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مانگا کرتے تھے، انہوں نے بتایا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے): ﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ [سورة البقرة: 201] ”اے اللہ! تو دنیا میں ہمیں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھلائی عطا کر اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میری ملاقات اسماعیل سے ہوئی، میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا (روایت کے الفاظ یہ ہیں) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے: ﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ [سورة البقرة: 201] ”اے ہمارے پروردگار! تو دنیا میں ہمیں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 939]

940

Sahih Ibn Hibban #940

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، قَالَ : سَأَلَ قَتَادَةُ أَنَسًا : أَيُّ دَعْوَةٍ أَكْثَرُ مَا يَدْعُو بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : أَكْثَرُ دَعْوَةٍ يَدْعُو بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالعزیز بن صہیب بیان کرتے ہیں: قتادہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اوقات کون سی دعا مانگا کرتے تھے؟ تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» ”اے اللہ! اے ہمارے پروردگار! تو دنیا میں ہمیں بھلائی عطا کر آخرت میں بھی ہمیں بھلائی عطا کر اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔“ ﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ [سورة البقرة: 201] [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 940]

941

Sahih Ibn Hibban #941

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : عَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا قَدْ جَهِدَ حَتَّى صَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ كُنْتَ دَعَوْتَ اللَّهَ بِشَيْءٍ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، كُنْتُ أَقُولُ : اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الآخِرَةِ ، فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَسْتَطِيعُهُ ، أَوْ لا تُطِيقُهُ ، فَهَلا قُلْتَ :اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ؟ " ، قَالَ : فَدَعَا اللَّهُ فَشَفَاهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی عیادت کی جو (بیماری کی وجہ سے) پرندے کے بچے کی مانند کمزور ہو گیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیا اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کرتے ہو؟“ اس نے جواب دیا: جی ہاں! میں یہ کہتا ہوں: «اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الْآخِرَةِ، فَاجْعَلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا» ”اے اللہ! تو نے آخرت میں مجھے جو سزا دینی ہے وہ ابھی مجھے دنیا میں ہی دے دے۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تم اس کی طاقت نہیں رکھتے، تم یہ کیوں نہیں کہتے: ﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ [سورة البقرة: 201] ”اے اللہ! تو ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔““ راوی بیان کرتے ہیں: اس نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگی، تو اللہ تعالیٰ نے اسے شفا عطا کر دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 941]

942

Sahih Ibn Hibban #942

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْ لِي قَوْلا لا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ ، قَالَ : قُلْ :آمَنْتُ بِاللَّهِ ، ثُمَّ اسْتَقِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے کوئی ایسی بات بتائیے کہ میں آپ کے بعد اس بارے میں کسی اور سے دریافت نہ کروں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ کہو، میں اللہ پر ایمان لایا اور پھر اس پر استقامت اختیار کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 942]

943

Sahih Ibn Hibban #943

قَالَ : وَالْمِيزَانُ بِيَدِ الرَّحْمَنِ يَرْفَعُ قَوْمًا وَيَخْفِضُ آخَرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ہر (شخص کا) دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ہے، اگر وہ چاہتا ہے، تو اسے ثابت رکھتا ہے اور اگر چاہتا ہے، تو اسے ٹیڑھا کر دیتا ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: «يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلَى دِينِكَ» ”اے دلوں کو پھیرنے والے! تو ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت رکھنا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے: ”میزان رحمن کے ہاتھ میں ہے، وہ ایک قوم کو سربلندی عطا کرتا ہے اور دوسروں کو پست کر دیتا ہے، ایسا قیامت تک ہوتا رہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 943]

944

Sahih Ibn Hibban #944

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بِنَسَا ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِلْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : يَا ابْنَ آدَمَمَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي ؟ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، كَيْفَ أَعُودُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ فَيَقُولُ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي . وَيَقُولُ : يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تَسْقِنِي ؟ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، كَيْفَ أَسْقِيكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ فَيَقُولُ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلانًا اسْتَسْقَاكَ فَلَمْ تَسْقِهِ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ سَقَيْتَهُ لَوَجِدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي . يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمَنِي ؟ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، وَكَيْفَ أُطْعِمُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ فَيَقُولُ : أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ عَبْدِي فُلانًا اسْتَطْعَمَكَ فَلَمْ تُطْعِمْهُ ، أَمَا لَوْ أَنَّكَ أَطْعَمْتَهُ لَوَجِدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندے سے یہ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تھا لیکن تو نے میری عیادت نہیں کی، تو بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! میں کیسے تیری عیادت کر سکتا ہوں، تو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، تو اللہ تعالیٰ یہ فرمائے گا کہ کیا تمہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا، تو نے اس کی عیادت نہیں کی، تمہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ اگر تم اس کی عیادت کر لیتے، تو اس کا اجر میرے پاس پا لیتے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تجھ سے پینے کے لیے پانی مانگا تھا، تو نے مجھے پینے کے لیے پانی نہیں دیا، تو بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! میں تجھے کیسے پینے کے لیے کچھ دے سکتا ہوں، تو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تمہیں علم نہیں ہے، میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا، تو تم نے اسے پانی نہیں دیا تھا، کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ اگر تم اسے پانی پلا دیتے، تو اس کا اجر و ثواب میرے پاس پا لیتے۔ اے آدم کے بیٹے! میں نے تم سے کھانے کے لیے مانگا تھا، تو تم نے مجھے کھانے کے لیے نہیں دیا تھا۔ بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! میں تجھے کیسے کھلا سکتا ہوں جبکہ تو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ میرے فلاں بندے نے تم سے کھانا مانگا تھا، تو تم نے اسے کھانے کے لیے نہیں دیا تھا۔ اگر تم اسے کھانے کے لیے دے دیتے، تو اس کا اجر و ثواب میرے پاس پا لیتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 944]

945

Sahih Ibn Hibban #945

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ بُرَيْدَ بْنَ أَبِي مَرْيَمَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ : مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : أَذْكُرُ أَنِّي أَخَذْتُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ ، فَجَعَلْتُهَا فِي فِي ، فَانْتَزَعَهَا بِلُعَابِهَا ، فَطَرَحَهَا فِي التَّمْرِ ، وَكَانَ يُعَلِّمُنَا هَذَا الدُّعَاءَ : اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلا يُقْضَى عَلَيْكَ ، إِنَّهُ لا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ ". قَالَ شُعْبَةُ : وَأَظُنُّهُ قَالَ : " تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو الْحَوْرَاءِ رَبِيعَةُ بْنُ شَيْبَانَ السَّعْدِيُّ ، وَأَبُو الْجَوْزَاءِ اسْمُهُ : أَوْسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُمَا جَمِيعًا تَابِعِيَّانِ بَصْرِيَّانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوحوراء سعدی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کیا بات یاد ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: مجھے یہ بات یاد ہے، ایک مرتبہ میں نے صدقے کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لے لی تھی اور اسے اپنے منہ میں ڈال لیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کھجور کو لعاب سمیت باہر نکال دیا تھا اور اسے انہی کھجوروں میں رکھ دیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ دعا تعلیم دیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ» ”اے اللہ! جنہیں تو نے ہدایت عطا کی ہے ان میں مجھے بھی ہدایت عطا کر، اور جنہیں تو نے عافیت عطا کی ہے ان میں مجھے بھی عافیت عطا کر، اور جن کا تو نگران ہے ان میں سے میرا بھی نگران بن جا، تو نے جو کچھ عطا کیا ہے اس میں میرے لیے برکت رکھ دے، اور تو نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے شر سے مجھے بچا لے، بے شک تو ہی فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، اور یقیناً جس کا تو نگران ہو وہ ذلیل نہیں ہوتا۔“ شعبہ نامی راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: «تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ» ”تو برکت والا اور بلند و برتر ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوحوراء ربیعہ بن شیبان سعدی ہیں اور ابوالجوزاء کا نام اوس بن عبداللہ ہے، اور یہ دونوں حضرات تابعی ہیں اور دونوں بصرہ کے رہنے والے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 945]

946

Sahih Ibn Hibban #946

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُوسَى الْجُهَنِيُّ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي كَلامًا أَقُولُهُ ، قَالَ : قُلْ :لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ " . قَالَ : هَؤُلاءِ لِرَبِّي ، فَمَا لِي ؟ قَالَ : " قُلِ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، وَارْحَمْنِي ، وَاهْدِنِي ، وَارْزُقْنِي ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : كُلُّ مَا فِي هَذِهِ الأَخْبَارِ : اللَّهُمَّ اهْدِنِي ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى ، وَمَا يُشْبِهُهَا مِنَ الأَلْفَاظِ إِنَّمَا أُرِيدَ بِهَا الثَّبَاتُ عَلَى الْهُدَى وَالزِّيَادَةُ فِيهِ ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يُؤْمِنَ الْمُؤْمِنُ بِسُؤَالِ الزِّيَادَةِ وَقَدْ هَدَاهُ اللَّهُ قَبْلَ ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن سعد اپنے والد سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے ایسے کلام کی تعلیم دیجیے جسے میں پڑھا کروں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم یہ پڑھا کرو: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيرًا، سُبْحَانَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، بہت بڑا، اور تمام حمد اللہ تعالیٰ ہی کے لیے مخصوص ہے، بہت زیادہ، اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر (نیکی کرنے کی) کوئی طاقت نہیں ہے، وہ غالب اور حکمت والا ہے۔““ اس شخص نے عرض کی: یہ کلمات تو میرے پروردگار کے لیے ہیں، میرے لیے کیا ہوں گے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ کہو: «اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي» ”اے اللہ! تو میری مغفرت کر دے، تو مجھ پر رحم کر اور مجھے ہدایت پر ثابت قدم رکھ اور تو مجھے رزق عطا کر۔““ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں جو یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں: ”اے اللہ! تو مجھے ہدایت دے۔“ اور ”اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت کا سوال کرتا ہوں“ اور اس کی مانند جو دیگر الفاظ ہیں، ان سے مراد ہدایت پر ثابت قدم رہنا اور اس میں اضافہ ہونا ہے، کیونکہ یہ بات ناممکن ہے کہ کوئی مومن ہدایت کا سوال کرے جبکہ اللہ تعالیٰ اس سے پہلے اسے ہدایت دے چکا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 946]

947

Sahih Ibn Hibban #947

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ طَلِيقِ بْنِ قَيْسٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : رَبِّ أَعِنِّي وَلا تُعِنْ عَلَيَّ ، وَانْصُرْنِي وَلا تَنَصُرْ عَلَيَّ ، وَامْكُرْ لِي ، وَلا تَمْكُرْ عَلَيَّ ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرِ الْهُدَى لِي ، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ ، رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَاكِرًا ، لَكَ ذَاكِرًا ، لَكَ أَوَّاهًا ، لَكَ مِطْوَاعًا ، لَكَ مُخْبِتًا أَوَّاهًا مُنِيبًا ، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي ، وَاغْسِلْ حَوْبَتِي ، وَأَجِبْ دَعْوَتِي ، وَثَبِّتْ حُجَّتِي ، وَاهْدِ قَلْبِي ، وَسَدِّدْ لِسَانِي ، وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: «رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ، وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ، وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرِ الْهُدَى لِي، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ، رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا، لَكَ ذَكَّارًا، لَكَ رَهَّابًا، لَكَ مِطْوَاعًا، لَكَ مُخْبِتًا، إِلَيْكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي، وَاغْسِلْ حَوْبَتِي، وَأَجِبْ دَعْوَتِي، وَثَبِّتْ حُجَّتِي، وَاهْدِ قَلْبِي، وَسَدِّدْ لِسَانِي، وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ صَدْرِي» ”اے میرے پروردگار! تو میری اعانت کر، تو میرے خلاف اعانت نہ کر، تو میری مدد کر، تو میرے خلاف مدد نہ کر، تو میرے حق میں خفیہ تدبیر کر، تو میرے خلاف خفیہ تدبیر نہ کر، تو مجھے ہدایت پر ثابت قدم رکھ اور میرے لیے ہدایت پر ثابت قدم رہنا آسان کر دے اور جو شخص میرا مقابلہ کرتا ہے، تو اس کے خلاف میری مدد کر۔ اے میرے پروردگار! تو مجھے اپنا شکر گزار بنا دے اور اپنا ذکر کرنے والا بنا دے، اپنا فرمانبردار بنا دے، اپنا اطاعت کرنے والا بنا دے اور اپنی بارگاہ کی طرف رجوع کرنے والا اور تواضع و انکساری کرنے والا اور فرمانبردار بنا دے۔ اے میرے پروردگار! تو میری توبہ کو قبول کر لے، میری خطا کو دھو دے، میری دعا کو قبول کر لے۔ میری حجت کو ثابت کر دے، میرے دل کو ہدایت پر ثابت قدم رکھ، میری زبان کو ٹھیک رکھ اور مجھے دل کی خرابیوں سے محفوظ رکھ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 947]

948

Sahih Ibn Hibban #948

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمُعَلِّمُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي طَلِيقُ بْنُ قَيْسٍ الْحَنَفِيُّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو ، فَيَقُولُ : اللَّهُمَّ أَعِنِّي وَلا تُعِنْ عَلَيَّ ، وَانْصُرْنِي وَلا تَنَصُرْ عَلَيَّ ، وَامْكُرْ لِي وَلا تَمْكُرْ عَلَيَّ ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرْ لِيَ الْهُدَى ، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا ، لَكَ ذَكَّارًا ، لَكَ مِطْوَاعًا ، إِلَيْكَ مُخْبِتًا ، لَكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا . رَبِّ اقْبَلْ تَوْبَتِي ، وَاغْسِلْ حَوْبَتِي ، وَثَبِّتْ حُجَّتِي ، وَسَدِّدْ لِسَانِي ، وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَبُو صَالِحٍ مَا . حَدَّثَنَا عَنْهُ أَبُو يَعْلَى إِلا هَذَا الْحَدِيثَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگتے ہوئے یہ کہا کرتے تھے: ”اے اللہ! تو میری اعانت کر، تو میرے خلاف اعانت نہ کرنا، تو میری مدد کر، تو میرے خلاف مدد نہ کر، تو میرے حق میں خفیہ تدبیر کر، تو میرے خلاف تدبیر نہ کر، تو مجھے ہدایت عطا کر اور میرے لیے ہدایت کو آسان کر دے اور جو شخص میرے خلاف آتا ہے، تو اس کے خلاف میری مدد کر۔ اے اللہ! مجھے اپنا بہت زیادہ شکر کرنے والا، بہت زیادہ ذکر کرنے والا، اپنا بہت زیادہ فرمانبردار، اپنی طرف رجوع کرنے والا، اپنا مطیع و فرمانبردار بنا دے۔ اے میرے پروردگار! تو میری توبہ کو قبول کر لے اور میری خطاؤں کو دھو دے، میری حجت کو ثابت کر دے، میری زبان کو سیدھا رکھ اور میرے دل کی بیماریوں کو ختم کر دے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) محمد بن یحییٰ بن سعید ابوصالح کے حوالے سے امام ابویعلیٰ نے صرف یہی حدیث ہمیں سنائی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 948]

949

Sahih Ibn Hibban #949

سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عَمَّارٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَيُّوبَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ أَرْطَاةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : اللَّهُمَّ أَحْسِنْ عَافِيَتَنَا فِي الأُمُورِ كُلِّهَا ، وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الآخِرَةِ ". وَأَخْبَرَنَاهُ الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ مَيْسَرَةَ بِإِسْنَادِهِ وَقَالَ : " عَاقِبَتَنَا " بِالْقَافِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا بسر بن ارطاۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: «اللَّهُمَّ أَحْسِنْ عَافِيَتَنَا فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا، وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ» ”اے اللہ! تمام امور میں ہماری عافیت کو اچھا کر دے اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے بچا لے۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں لفظ ”عافیت“ کی بجائے لفظ ”عاقبت“ منقول ہے جو ”ق“ کے ساتھ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 949]

950

Sahih Ibn Hibban #950

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ الْحَارِثِ السَّهْمِيَّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ ، رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْيَوْمَ عَامَ أَوَّلٍ يَقُولُ ، ثُمَّ اسْتَعْبَرَ أَبُو بَكْرٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، فَبَكَى ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَنْ تُؤْتَوْا شَيْئًا بَعْدَ كَلِمَةِ الإِخْلاصِ مِثْلَ الْعَافِيَةِ ، فَسَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اس منبر پر یہ بیان کرتے ہوئے سنا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے آج سے ایک سال پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آج کے دن یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا، اس کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رونے لگے۔ پھر انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا: ”کلمہ اخلاص کے بعد تمہیں عافیت جیسی اور کوئی چیز نہیں دی گئی، تو تم لوگ اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 950]

951

Sahih Ibn Hibban #951

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو جَهْضَمٍ مُوسَى بْنُ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَسْأَلُ اللَّهَ ؟ قَالَ : سَلِ اللَّهَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ " . ثُمَّ قَالَ : مَا أَسْأَلُ اللَّهَ ؟ قَالَ : " سَلِ اللَّهَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں اللہ تعالیٰ سے کیا چیز مانگوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ تعالیٰ سے معافی اور عافیت مانگو۔“ انہوں نے پھر دریافت کیا: میں اللہ تعالیٰ سے کیا مانگوں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ تعالیٰ سے معافی اور عافیت مانگو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 951]

952

Sahih Ibn Hibban #952

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ الْكَلاعِيِّ ، عَنْ أَوْسَطَ بْنِ عَامِرٍ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ يَخْطُبُ النَّاسَ ، وَقَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ أَوَّلٍ فَخَنَقَتْهُ الْعَبْرَةُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ،سَلُوا اللَّهَ الْمُعَافَاةَ ، فَإِنَّهُ لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ مِثْلَ الْيَقِينِ بَعْدَ الْمُعَافَاةِ ، وَلا أَشَدَّ مِنَ الرِّيبَةِ بَعْدَ الْكُفْرِ ، وَعَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّهُ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ ، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ ، فَإِنَّهُ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَهُمَا فِي النَّارِ ". أَرَادَ بِهِ مُرْتَكِبَهُمَا لا نَفْسَهُمَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اوسط بن عامر بجلی یہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد مدینہ منورہ آیا، تو میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے پایا۔ انہوں نے فرمایا: گزشتہ سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے تھے۔ (یہ بات انہوں نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی) لیکن وہ ہر مرتبہ درمیان میں رونے لگ پڑتے تھے۔ پھر انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! تم اللہ تعالیٰ سے معافات مانگو کیونکہ کسی بھی شخص کو معافات کے بعد یقین جیسی (یہاں ہونا یہ چاہیے کہ یقین کے بعد معافات جیسی) کوئی چیز نہیں دی گئی اور کفر کے بعد شک سے زیادہ شدید اور کوئی چیز نہیں ہے اور تم پر سچائی کو اختیار کرنا لازم ہے۔ کیونکہ یہ نیکی کی طرف لے کر جاتی ہے اور یہ دونوں جنت میں ہوں گی اور تم پر جھوٹ سے بچنا لازم ہے کیونکہ یہ گناہ کی طرف لے کر جاتا ہے اور یہ دونوں جہنم میں ہوں گے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ان کا ارتکاب کرنے والا شخص ہے ان کا وجود مراد نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 952]

953

Sahih Ibn Hibban #953

أَخْبَرَنَا السَّخْتِيَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُنَادَةَ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّجِبْرِيلَ رَقَاهُ وَهُوَ يُوعَكُ ، فَقَالَ : بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ يُؤْذِيكَ ، مِنْ كُلِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ وَسَمٍّ ، وَاللَّهُ يَشْفِيكَ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں، ایک مرتبہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بخار تھا، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو دم کیا، انہوں نے یہ کلمات پڑھے: «بِسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ، مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، وَمِنْ حَسَدِ حَاسِدٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ وَسَمٍّ، اللهُ يَشْفِيكَ» ”میں اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے آپ کو ہر اس بیماری سے بچنے کا دم کر رہا ہوں، جو آپ کو اذیت دیتی ہے اور ہر حاسد کے حسد سے بچنے کے لیے اور (نقصان پہنچانے والی) نظر اور زہر سے بچاؤ کے لیے آپ کو دم کر رہا ہوں، اللہ تعالیٰ آپ کو شفا عطا کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 953]

954

Sahih Ibn Hibban #954

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جَدِّي ، وَهَزْلِي ، وَخَطَئِي ، وَعَمْدِي ، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جِدِّي وَهَزْلِي، وَخَطَئِي وَعَمْدِي، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي» ”اے اللہ! تو میری کوشش (یا سنجیدگی)، میرے مذاق، میری خطا، میرے جان بوجھ کر کرنے اور میری طرف سے ہونے والی ہر چیز کی مغفرت کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 954]

955

Sahih Ibn Hibban #955

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَقَبَةُ بْنُ مَصْقَلَةَ ، عَنْ مَجْزَأَةِ بْنِ زَاهِرٍ الأَسْلَمِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ كَمَا يُطَهَّرُ الثَّوْبُ مِنَ الدَّنَسِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ» ”اے اللہ! تو برف، اولوں اور ٹھنڈے پانی کے ذریعے مجھے ذنوب سے پاک کر دے۔ اے اللہ! تو مجھے ذنوب سے یوں پاک کر دے جس طرح میل سے کپڑے کو پاک کیا جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 955]

956

Sahih Ibn Hibban #956

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الأَرْضِ ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ . اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ . اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنْ ذُنُوبِي كَمَا يُطَهَّرُ الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ» ”اے اللہ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے، جو آسمانوں کو بھر دے اور جو زمین کو بھر دے اور اس کے بعد جس چیز کو تو چاہے بھر دے، تو مجھے برف، اولوں اور ٹھنڈے پانی کے ذریعے پاک کر دے، اے اللہ! تو مجھے گناہوں سے یوں پاک کر دے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے صاف کیا جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 956]

957

Sahih Ibn Hibban #957

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْمِسْمَعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ : رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي ، وَجَهْلِي ، وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَايَايَ ، وَعَمْدِي وَجَهْلِي ، وَجَدِّي وَهَزْلِي ، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي . اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ ، وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ ، وَمَا أَعْلَنْتُ ، إِنَّكَ أَنْتَ الْمُقَدِّمُ ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي، وَجَهْلِي، وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جِدِّي، وَهَزْلِي، وَخَطَئِي، وَعَمْدِي، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اے اللہ! میری خطاؤں، میرے جہل، میرے اپنے معاملے میں اسراف کے حوالے سے میری مغفرت کر دے اور ہر اس چیز کے بارے میں بھی جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ اے اللہ! میری خطاؤں، میرے جان بوجھ کر کیے گئے اعمال، میرے عمد، میرے جہل، میری سنجیدگی، میرے مذاق اور ہر وہ چیز جو میری طرف سے ہوئی ہے، اس کی مغفرت کر دے۔ اے اللہ! جو میں نے پہلے کیا ہے، جو بعد میں کروں گا، جو پوشیدہ طور پر کیا اور جو اعلانیہ کیا، اس کے حوالے سے میری مغفرت کر دے، بے شک تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 957]

958

Sahih Ibn Hibban #958

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أُمَّ حَارِثَةَ ، إِنَّهَا لَجِنَانٌ وَإِنَّ حَارِثَةَ فِي الْفِرْدَوْسِ الأَعْلَى ،فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ ، فَسَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے ام حارثہ! بے شک جنت کی کئی قسمیں ہیں اور حارثہ، فردوس اعلیٰ میں ہے، جب تم نے اللہ تعالیٰ سے مانگنا ہو، تو اس سے (جنت) فردوس مانگو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 958]

959

Sahih Ibn Hibban #959

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ عَوْسَجَةَ بْنِ الرَّمَّاحِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : اللَّهُمَّ حَسَّنْتَ خَلْقِي فَحَسِّنْ خُلُقِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي فَأَحْسِنْ خُلُقِي» ”اے اللہ! تو نے میری تخلیق کو خوبصورت کیا ہے، تو میرے اخلاق کو بھی خوبصورت کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 959]

960

Sahih Ibn Hibban #960

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، بِالْفُسْطَاطِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحْرِزٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي مُنْكَرَاتِ الأَخْلاقِ ، وَالأَهْوَاءِ ، وَالأَسْوَاءِ ، وَالأَدْوَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زیاد بن علاقہ اپنے چچا (سیدنا قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ مُنْكَرَاتِ الْأَخْلَاقِ وَالْأَعْمَالِ وَالْأَهْوَاءِ وَالْأَدْوَاءِ» ”اے اللہ! مجھ سے ناپسندیدہ اخلاق، نفسانی خواہشات، بری عادات اور بیماریوں کو دور کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 960]

961

Sahih Ibn Hibban #961

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ مُسْلِمٍ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَعُ هَؤُلاءِ الدَّعَوَاتِ حِينَ يُمْسِي وَحِينَ يُصْبِحُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ . اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي ، وَدُنْيَايَ ، وَأَهْلِي ، وَمَالِي . اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي ، وَآمِنْ رَوْعَاتِي ، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ ، وَمِنْ خَلْفِي ، وَعَنْ يَمِينِي ، وَعَنْ شِمَالِي ، وَمِنْ فَوْقِي ، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي "قَالَ وَكِيعٌ : يَعْنِي : الْخَسْفَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح اور شام کے وقت ان کلمات کو پڑھنا کبھی ترک نہیں کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي» ”اے اللہ! میں دنیا اور آخرت میں تجھ سے عافیت طلب کرتا ہوں۔ اے اللہ! میں اپنے دین، اپنی دنیا، اپنے اہل خانہ اور اپنے مال کے بارے میں تجھ سے معافی اور عافیت طلب کرتا ہوں۔ اے اللہ! میری پوشیدہ چیزوں پر پردہ رکھ اور میری پریشانیوں کو امن دے۔ اے اللہ! میرے سامنے، میرے پیچھے، میرے دائیں طرف، میرے بائیں طرف اور میرے اوپر سے میری حفاظت کر اور میں تیری عظمت کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ مجھے اپنے نیچے کی طرف سے کوئی دھوکا دیا جائے۔“ وکیع نامی راوی کہتے ہیں: اس سے مراد زمین میں دھنسنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 961]

962

Sahih Ibn Hibban #962

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَاصِمٍ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي مَا أَقُولُ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ ، قَالَ : قُلِ :اللَّهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي ، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ " ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُلْهُ إِذَا أَصْبَحْتَ وَإِذَا أَمْسَيْتَ وَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے ایسی چیز کے بارے میں بتائیے، جسے میں صبح و شام پڑھا کروں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ پڑھو: «اللَّهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ» ”اے اللہ! اے غیب اور شہادت کا علم رکھنے والے، آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے، ہر چیز کے پروردگار اور اس کے مالک! میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ میں اپنی ذات کے شر سے اور شیطان کے شر سے اور اس کے شرک سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ”صبح کے وقت، شام کے وقت اور جب تم بستر پر لیٹو، تو اس وقت یہ پڑھ لیا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 962]

963

Sahih Ibn Hibban #963

قَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ : وَحَدَّثَنِي زُبَيْدٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِيهِ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے: «أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذَا الْيَوْمِ وَخَيْرَ مَا فِيهِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَسُوءِ الْكِبَرِ وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ» ”ہم نے صبح کر لی ہے اور اللہ کی بادشاہی میں بھی صبح ہو گئی ہے، تمام حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے، (اے اللہ!) میں تجھ سے اس دن کی بھلائی اور اس میں موجود بھلائی اور اس کے بعد آنے والی بھلائی کا سوال کرتا ہوں، اور میں کاہلی، بڑھاپے، بری عمر، دجال کی آزمائش اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) جب شام ہو جاتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی کی مانند کلمات پڑھا کرتے تھے۔ حسن بن عبید اللہ نے اپنی سند کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دعا میں یہ بھی پڑھتے تھے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 963]

964

Sahih Ibn Hibban #964

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُإِذَا أَصْبَحَ : اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا ، وَبِكَ أَمْسَيْنَا ، وَبِكَ نَحْيَا ، وَبِكَ نَمُوتُ ، وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت یہ پڑھا کرتے تھے: «اَللّٰهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ» ”اے اللہ! تیری مدد سے ہم نے صبح کی ہے، تیری مدد سے ہم شام کرتے ہیں، تیری مدد سے ہم زندہ ہیں اور تیری مدد سے مریں گے اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 964]

965

Sahih Ibn Hibban #965

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُإِذَا أَصْبَحَ : اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا ، وَبِكَ أَمْسَيْنَا ، وَبِكَ نَحْيَا ، وَبِكَ نَمُوتُ ، وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت یہ کلمات پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ» ”اے اللہ! ہم تیری مدد سے صبح کرتے ہیں، تیری مدد سے شام کرتے ہیں، تیری مدد سے زندہ ہیں، تیری مدد سے مریں گے اور تیری طرف ہی لوٹنا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 965]

966

Sahih Ibn Hibban #966

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا ، فَقَالَ لَهَا : قُولِي :اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ ، أَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ ، أَنْتَ الأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الآخَرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ ، وَاغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تاکہ آپ سے خادم مانگیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم یہ پڑھا کرو: «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ» ”اے اللہ! اے سات آسمانوں کے پروردگار، اے عرشِ عظیم کے پروردگار، اے ہمارے پروردگار اور ہر چیز کے پروردگار! اے دانے اور گٹھلی کو چیرنے والے، اے تورات، انجیل اور فرقان (یعنی قرآن) کو نازل کرنے والے، میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کی پیشانی کو تو نے پکڑا ہوا ہے؛ تو ہی پہلا ہے تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں ہے، تو ہی بعد والا ہے تیرے بعد کوئی چیز نہیں ہوگی، تو ہی ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ہے، اور تو ہی باطن ہے تجھ سے نیچے کوئی چیز نہیں ہے، تو ہمارا قرض ادا کر دے اور ہمیں غربت سے بے نیاز کر دے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 966]

967

Sahih Ibn Hibban #967

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغْوَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ النَّحْوِيُّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ،أَنْشُدُكَ اللَّهَ وَالرَّحِمَ فَقَدْ أَكَلْنَا الْعِلْهِزَ ، يَعْنِي الْوَبَرَ وَالدَّمَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَلَقَدْ أَخَذْنَاهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ابوسفیان بن حرب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے عرض کی: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر اور اپنے ساتھ رشتے داری کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں کہ ہم لوگ قحط کی شدت کی وجہ سے «الْعِلْهِزَ» (یعنی بال اور خون کھا رہے ہیں) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿وَلَقَدْ أَخَذْنَاهُم بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ﴾ [سورة المؤمنون: 76] ”اور ہم نے عذاب کے ذریعے ان پر گرفت کی حالانکہ انہوں نے اپنے پروردگار کے سامنے عاجزی اختیار نہیں کی اور وہ گڑگڑائے نہیں تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 967]

968

Sahih Ibn Hibban #968

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : لا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ ، فَإِنْ كَانَ لا بُدَّ فَاعِلا فَلْيَقُلْ : أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي ، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی بھی شخص کسی پیش آنے والی تکلیف کی وجہ سے موت کی آرزو ہرگز نہ کرے، اگر اس نے ضرور ایسا کرنا ہو، تو پھر وہ یہ کہے: «اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي» ”اے اللہ! تو مجھے اس وقت تک زندہ رکھنا جب تک زندگی میرے حق میں بہتر ہو، اور مجھے اس وقت موت دے دینا جب موت میرے حق میں بہتر ہو۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 968]

969

Sahih Ibn Hibban #969

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ نَزَلَ بِهِ ، وَلَكِنْ لِيَقُلِ : اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي ، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کوئی بھی شخص کسی پیش آنے والی تکلیف کی وجہ سے موت کی آرزو ہرگز نہ کرے بلکہ اسے یہ کہنا چاہیے: «اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي» ”اے اللہ! تو مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک زندگی میرے حق میں بہتر ہو، اور مجھے اس وقت موت دے دینا جب موت میرے حق میں بہتر ہو۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 969]

970

Sahih Ibn Hibban #970

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَلِيلِ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : دَعَوَاتُ الْمَكْرُوبِ : اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو ، فَلا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ ، وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکرہ رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”پریشانی کا شکار شخص کی دعا یہ ہے: «اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! میں تیری رحمت سے اُمید رکھتا ہوں، اس لیے، تو پلک جھپکنے تک کے لیے بھی مجھے میرے نفس کے سپرد نہ کرنا اور میرے تمام معاملات کو ٹھیک کر دے، تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے۔“” [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 970]

971

Sahih Ibn Hibban #971

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَرَجَ ثَلاثَةٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يَرْتَادُونَ لأَهْلِهِمْ ، فَأَصَابَتْهُمُ السَّمَاءُ ، فَلَجَئُوا إِلَى جَبَلٍ ، فَوَقَعَتْ عَلَيْهِمْ صَخْرَةٌ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : عَفَا الأَثَرُ ، وَوَقَعَ الْحَجَرُ ، وَلا يَعْلَمُ مَكَانَكُمْ إِلا اللَّهُ ، ادْعُوا اللَّهَ بِأَوْثَقِ أَعْمَالِكُمْ . فَقَالَ أَحَدُهُمُ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَتِ امْرَأَةٌ تُعْجِبُنِي ، فَطَلَبْتُهَا ، فَأَبَتْ عَلَيَّ ، فَجَعَلْتُ لَهَا جُعْلا ، فَلَمَّا قَرَّبَتْ نَفْسَهَا ، تَرَكْتُهَا ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ ، وَخَشْيَةَ عَذَابِكَ ، فَافْرُجْ عَنَّا . فَزَالَ ثُلُثُ الْجَبَلِ . فَقَالَ الآخَرُ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ ، وَكُنْتُ أَحْلُبُ لَهُمَا فِي إِنَائِهِمَا ، فَإِذَا أَتَيْتُهَا ، وَهُمَا نَائِمَانِ ، قُمْتُ قَائِمًا حَتَّى يَسْتَيْقِظَا ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَا شَرِبَا ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَخَشْيَةَ عَذَابِكَ فَافْرُجْ عَنَّا ، فَزَالَ ثُلُثُ الْحَجَرِ . فَقَالَ الثَّالِثُ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا يَوْمًا فَعَمِلَ لِي نِصْفَ النَّهَارِ ، فَأَعْطَيْتُهُ أَجْرَهُ فَتَسَخَّطَهُ وَلَمْ يَأْخُذْهُ ، فَوَفَّرْتُهَا عَلَيْهِ حَتَّى صَارَ مِنْ كُلِّ الْمَالِ ، ثُمَّ جَاءَ يَطْلُبُ أَجْرَهُ فَقُلْتُ : خُذْ هَذَا كُلَّهُ ، وَلَوْ شِئْتَ لَمْ أُعْطِهِ إِلا أَجْرَهُ ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَخَشْيَةَ عَذَابِكَ فَافْرُجْ عَنَّا . قَالَ : فَزَالَ الْحَجَرُ وَخَرَجُوا يَتَمَاشَوْنَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ " فَوَفَّرْتُهَا عَلَيْهِ " بِمَعْنَى قَوْلِهِ : فَوَفَّرْتُهَا لَهُ ، وَالْعَرَبُ فِي لُغَتِهَا تُوقِعُ " عَلَيْهِ " بِمَعْنَى لَهُ . وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ سَمِعَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ بِالْمَدِينَةِ ، لأَنَّهُ بِهَا نَشَأَ ، وَالْحَسَنُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ لِخُرُوجِهِ عَنْهَا فِي يَفَاعَتِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم سے پہلے کے زمانے میں تین لوگ اپنے گھر کی طرف واپس جا رہے تھے کہ راستے میں بارش شروع ہو گئی، وہ پہاڑ کی پناہ میں آ گئے تو ان پر ایک پتھر آ کر گر گیا۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ہمارے قدموں کے نشانات ختم ہو گئے ہیں اور پتھر آ کر گر گیا ہے، اب تمہاری اس جگہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو کچھ علم نہیں ہے، لہٰذا تم اپنے سب سے زیادہ قابلِ اعتماد وسیلے کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ! تو یہ بات جانتا ہے کہ ایک عورت مجھے بہت پسند تھی، میں نے اس کے قرب کا مطالبہ کیا لیکن اس نے میری بات نہیں مانی، پھر میں نے اسے معاوضہ دیا، جب وہ میرے قریب آئی تو میں نے اسے چھوڑ دیا، اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رحمت کی امید کرتے ہوئے اور تیرے خوف سے ڈرتے ہوئے ایسا کیا تھا، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو ایک تہائی پہاڑ (یعنی پتھر) اپنی جگہ سے ہٹ گیا۔ دوسرے شخص نے کہا: اے اللہ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میرے ماں باپ تھے، میں ان کے لیے ان کے برتن میں دودھ دوہ لیا کرتا تھا، جب میں ان کے پاس آیا تو وہ دونوں سوئے ہوئے تھے، میں کھڑا ہو کر انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ جب وہ بیدار ہوئے تو انہوں نے اسے پی لیا، اے اللہ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے ایسا تیری رحمت کی امید رکھتے ہوئے اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے کیا تھا، تو ہم سے اس مشکل صورتحال کو دور کر دے۔ تو (مزید) ایک تہائی پتھر ہٹ گیا۔ تیسرے شخص نے کہا: اے اللہ! تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے ایک دن ایک شخص کو مزدور رکھا تھا، اس نے نصف دن تک میرے لیے کام کیا، میں نے اسے اس کا معاوضہ دیا تو اس نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا اور اسے وصول نہیں کیا، تو میں نے اس معاوضے کے ذریعے آگے کام شروع کر دیا یہاں تک کہ وہ بہت سا مال ہو گیا، وہ شخص اپنا معاوضہ وصول کرنے کے لیے آیا تو میں نے کہا: یہ ساری چیزیں تم لے لو، حالانکہ اگر میں چاہتا تو میں اس وقت اس کو صرف اس کا معاوضہ دے سکتا تھا، اے اللہ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رحمت کی امید رکھتے ہوئے اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے ایسا کیا تھا، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو وہ پتھر ہٹ گیا اور وہ لوگ چلتے ہوئے باہر آ گئے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ ”تو میں نے اس پر زیادہ کیے“ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے اس کے لیے زیادہ کیا، کیونکہ عرب اپنے محاورے میں لفظ «عَلَی» کو «لَہٗ» کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ سعید بن ابوالحسن نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مدینہ منورہ میں احادیث کا سماع کیا ہے، کیونکہ ان کی نشو و نما وہیں ہوئی تھی، اور حسن ان سے احادیث کا سماع اس لیے نہیں کر سکے کیونکہ وہ بچپن میں مدینہ منورہ سے چلے گئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 971]

972

Sahih Ibn Hibban #972

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْجُهَنِيُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا قَالَ عَبْدٌ قَطُّ ، إِذَا أَصَابَهُ هَمٌّ أَوْ حُزْنٌ : اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ ابْنُ عَبْدِكَ ابْنُ أَمَتِكَ ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ ، مَاضٍ فِي حُكْمُكَ ، عَدْلٌ فِي قَضَاؤُكَ ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي ، وَنُورَ بَصَرِي ، وَجِلاءَ حُزْنِي ، وَذَهَابَ هَمِّي ، إِلا أَذْهَبَ اللَّهُ هَمَّهُ وَأَبْدَلَهُ مَكَانَ حُزْنِهِ فَرَحًا " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَنْبَغِي لَنَا أَنْ نَتَعَلَّمَ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ ؟ قَالَ : " أَجَلْ ، يَنْبَغِي لِمَنْ سَمِعَهُنَّ أَنْ يَتَعَلَّمَهُنَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب بھی کسی بندے کو سخت غم یا پریشانی لاحق ہو، تو وہ یہ کلمات پڑھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، وَابْنُ عَبْدِكَ، وَابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِي، وَجَلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي» ”اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا ہوں، تیری کنیز کا بیٹا ہوں، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، میرے بارے میں تیرا حکم جاری ہے، میرے بارے میں تیرا فیصلہ بالکل عدل کے مطابق ہے۔ میں تیرے ہر اس نام کے وسیلے سے تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں، ہر وہ نام جو تو نے اپنی ذات کے لیے مقرر کیا ہے یا جسے تو نے اپنی کتاب میں نازل کیا ہے یا تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی ایک کو اس کا علم دیا ہے، یا جس کے بارے میں تو نے اپنے پاس موجود علمِ غیب میں اسے مختص کر لیا ہے (میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں) کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار، میرے سینے کا نور، میرے غم کی جلا اور میرے غم کی رخصتی کا ذریعہ بنا دے۔“ تو اللہ تعالیٰ اس کے غم کو ختم کر دیتا ہے اور اس کے غم کی جگہ خوشی عطا کر دیتا ہے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہمارے لیے یہ بات مناسب ہے کہ ہم ان کلمات کا علم حاصل کر لیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، ہر اس شخص کے لیے یہ بات مناسب ہے جو ان کو سنتا ہے کہ وہ ان کا علم حاصل کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 972]

973

Sahih Ibn Hibban #973

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لا يَعْلَمُونَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يَعْنِي هَذَا الدُّعَاءُ أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ لَمَّا شُجَّ وَجْهُهُ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي " ذَنْبَهُمْ بِي مِنَ الشَّجِّ لِوَجْهِي ، لا أَنَّهُ دُعَاءٌ لِلْكُفَّارِ بِالْمَغْفِرَةِ ، وَلَوْ دَعَا لَهُمْ بِالْمَغْفِرَةِ لأَسْلَمُوا فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ لا مَحَالَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي، فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ» ”اے اللہ! تو میری قوم کی مغفرت کر دے کیونکہ وہ لوگ علم نہیں رکھتے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس سے مراد یہ ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا غزوہِ احد کے دن مانگی تھی، جب آپ کا چہرہ زخمی ہو گیا تھا۔ آپ نے یہ فرمایا تھا: «رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي» ”اے پروردگار! تو میری قوم کی مغفرت کر دے۔“ یعنی ان کے اس گناہ کی مغفرت کر دے جو انہوں نے میرے چہرے کو زخمی کیا ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے، کفار کے لیے مغفرت کی دعا مانگی جا رہی ہے، کیونکہ اگر آپ اس وقت ان کے لیے مغفرت کی دعا مانگ لیتے تو وہ لازمی طور پر اسی وقت مسلمان ہو جاتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 973]

974

Sahih Ibn Hibban #974

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ لا سَهْلَ إِلا مَا جَعَلْتَهُ سَهْلا ، وَأَنْتَ تَجْعَلُ الْحَزْنَ سَهْلا إِذَا شِئْتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: «اللَّهُمَّ لَا سَهْلَ إِلَّا مَا جَعَلْتَهُ سَهْلًا، وَأَنْتَ تَجْعَلُ الْحَزْنَ إِذَا شِئْتَ سَهْلًا» ”اے اللہ! صرف وہی چیز آسان ہے جسے تو آسان کر دے اور اگر تو چاہے تو تو غم کو بھی آسان کر سکتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 974]

975

Sahih Ibn Hibban #975

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ ، مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يُسْتَجَابُ لأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعَجَلْ ، فَيَقُولُ : قَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم میں سے ہر شخص کی دعا مستجاب ہوتی رہتی ہے، جب تک وہ جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ نہیں کہتا کہ میں نے دعا مانگی تھی لیکن وہ قبول نہیں ہوئی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 975]