Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 9 · Chapter 1

The Book of Purification

Hadith 896–935

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

896

Sahih Ibn Hibban #896

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي خَالِي مَالِكٌ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلْيُعْظِمِ الرَّغْبَةَ ، فَإِنَّهُ لا يَتَعَاظَمُ عَلَى اللَّهِ شَيْءٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص دعا مانگتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی رغبت کو زیادہ کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز بھی بڑی (یعنی مشکل) نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 896]

897

Sahih Ibn Hibban #897

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : خَرَجَ ثَلاثَةٌ يَتَمَاشَوْنَ ، فَأَصَابَهُمْ مَطَرٌ ، فَدَخَلُوا كَهْفَ جَبَلٍ ، فَانْحَطَّ عَلَيْهِمْ حَجَرٌ فَسَدَّ عَلَيْهِمُ الطَّرِيقَ ، فَقَالُوا : ادْعُوا اللَّهَ بِأَوْثَقِ أَعْمَالِكُمْ . فَقَالَ وَاحِدٌ مِنْهُمُ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ ، وَأَنِّي رُحْتُ يَوْمًا ، فَحَلَبْتُ لَهُمَا ، فَأَتَيْتُهُمَا وَهُمَا نَائِمَانِ ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَهُمَا ، وَكَرِهْتُ أَنْ أَسْقِيَ وَلَدِي ، وَصِبْيَتِي عِنْدَ رِجْلَيَّ يَتَضَاغَوْنَ ، فَقُمْتُ قَائِمًا حَتَّى انْفَجَرَ الصُّبْحُ فَسَقَيْتُهُمَا ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ ، وَخَشْيَةَ عَذَابِكَ ، فَافْرُجْ عَنَّا وَأَرِنَا السَّمَاءَ . قَالَ : فَانْفَرَجَ فُرْجَةٌ ، فَرَأَوَا السَّمَاءَ . وَقَالَ الآخَرُ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَتْ لِي بِنْتُ عَمٍّ ، وَكُنْتُ أُحِبُّهَا كَأَشَدِّ مَا يُحِبُّ الرِّجَالُ النِّسَاءَ ، وَأَنِّي سَأَلْتُهَا نَفْسَهَا ، فَقَالَتْ : لا ، حَتَّى تَأْتِيَنِي بِمِائَةِ دِينَارٍ ، فَسَعَيْتُ فِيهَا حَتَّى جَمَعْتُهَا ، فَأَتَيْتُهَا ، فَلَمَّا قَعَدْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا ، قَالَتْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، اتَّقِ اللَّهَ ، وَلا تَفُضَّ الْخَاتَمَ إِلا بِحَقِّهِ ، فَتَرَكْتُهَا ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ ، وَخَشْيَةَ عَذَابِكَ ، فَافْرُجْ عَنَّا وَأَرِنَا السَّمَاءَ . قَالَ فَزَالَتْ قِطْعَةٌ مِنَ الْحَجَرِ وَرَأَوَا السَّمَاءَ . وَقَالَ الآخَرُ : اللَّهُمَّ إِنِّي اسْتَعْمَلْتُ أَجِيرًا بِفَرَقٍ مِنَ الأَرُزِّ ، فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ أَعْطَيْتُهُ فَلَمْ يَأْخُذْ أَجْرَهُ وَتَسَخَّطَهُ ، فَأَخَذْتُ الْفَرَقَ فَزَرَعْتُهُ حَتَّى صَارَ مِنْ ذَلِكَ بَقَرًا وَغَنَمًا ، فَأَتَانِي بَعْدَ ذَلِكَ ، قَالَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، اتَّقِ اللَّهَ وَلا تَظْلِمْنِي أَجْرِيَ ، فَقُلْتُ : خُذْ هَذِهِ الْبَقَرَ وَرَاعِيهَا ، فَقَالَ : اتَّقِ اللَّهَ وَلا تَهْزَأْ بِي ، قُلْتُ : مَا أَهْزَأُ بِكَ ، فَهُوَ لَكَ . وَلَوْ شِئْتُ لَمْ أُعْطِهِ إِلا الْفَرَقَ ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ ، وَخَشْيَةَ عَذَابِكَ ، فَافْرُجْ عَنَّا . فَزَالَ الْحَجَرُ وَخَرَجُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تین آدمی چلتے ہوئے جا رہے تھے انہیں بارش نے آ لیا وہ لوگ ایک پہاڑ کی غار میں داخل ہو گئے۔ ایک پتھر ان پر آ کر گرا اور اس نے راستے کو بند کر دیا، تو ان لوگوں نے کہا: تم لوگ اللہ تعالیٰ سے اپنے سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کے وسیلے سے دعا مانگو۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ! تو یہ بات جانتا ہے کہ میرے ماں باپ بوڑھے اور عمر رسیدہ تھے۔ ایک دن میں شام کے وقت گھر آیا۔ میں نے ان دونوں کے لیے دودھ دوہ لیا جب میں ان کے پاس آیا، تو وہ دونوں سو چکے تھے۔ مجھے انہیں بیدار کرنا اچھا نہیں لگا اور مجھے یہ بات بھی اچھی نہیں لگی کہ میں اپنے (ماں باپ سے پہلے) اپنے بچوں کو دودھ پلا دوں۔ میرے بچے میرے پاؤں میں بلبلاتے رہے، لیکن میں کھڑا رہا، یہاں تک کہ صبح ہوئی وہ (بیدار ہوئے)، تو میں نے ان دونوں کو پلایا۔ اے اللہ! اگر، تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رحمت کی امید میں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے یہ عمل کیا تھا، تو کشادگی نصیب کر اور ہمیں آسمان دکھا دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تھوڑی سی کشادگی ہو گئی اور انہیں آسمان نظر آنے لگا۔ دوسرے شخص نے کہا: اے اللہ! تو یہ بات جانتا ہے میری ایک چچازاد تھی جس سے میں شدید ترین محبت کرتا تھا جتنی محبت مرد عورتوں سے کرتے ہیں میں نے ایک مرتبہ اس کے قرب کا مطالبہ کیا، تو اس نے کہا: جی نہیں جب تک تم مجھے ایک سو دینار ادا نہیں کرو گے میں تمہارے (قریب نہیں آؤں گی) میں نے اس کے لیے کوشش کی اور وہ رقم اکٹھی کر کے اس کے پاس آیا جب میں اس کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا، تو اس نے کہا: اے اللہ کے بندے، تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ناحق طور پر مہر کو نہ توڑو، تو میں نے اس عورت کو چھوڑ دیا۔ اے اللہ! اگر، تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رحمت کی امید رکھتے ہوئے اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے یہ عمل کیا تھا، تو ہمیں کشادگی نصیب کر اور ہمیں آسمان دکھا دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تو پتھر کا ایک ٹکڑا ہٹ گیا اور انہوں نے آسمان کو دیکھ لیا۔ تیسرے شخص نے یہ کہا: اے اللہ! میں نے چاولوں کی مخصوص مقدار کے عوض میں ایک شخص کو ملازم رکھا جب رات کا وقت ہوا، تو میں نے اس کا معاوضہ ادا کیا، لیکن اس نے اپنا معاوضہ نہ لیا وہ اس سے ناراض ہو گیا۔ میں نے چاولوں کے پیمانے کو لیا اور میں نے اس کے ساتھ کھیتی باڑی شروع کی، یہاں تک کہ وہ گائے اور بکریوں میں تبدیل ہو گئے۔ کچھ عرصے کے بعد وہ شخص میرے پاس آیا اور بولا: اے اللہ کے بندے! تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میرے معاوضے میں زیادتی نہ کرو، تو میں نے اس سے کہا: یہ گائے اور ان کے چرواہے کو لے لو، تو اس نے کہا: تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میرے ساتھ مذاق نہ کرو۔ میں نے کہا: میں تمہارے ساتھ مذاق نہیں کر رہا۔ یہ تمہارے ہیں اگر میں چاہتا، تو اسے صرف چاولوں کا ایک پیمانہ دے سکتا تھا۔ اے اللہ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رحمت کی امید رکھتے ہوئے اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے ایسا کیا تھا، تو ہمیں کشادگی نصیب کر، تو وہ پتھر وہاں سے ہٹ گیا اور وہ لوگ باہر آ گئے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 897]

898

Sahih Ibn Hibban #898

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الْحُسَيْنِ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمُرَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ ، وَبِكَ خَاصَمْتُ ، أَعُوذُ بِكَ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ أَنَّ تُضِلَّنِي ، أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لا يَمُوتُ ، وَالْجِنُّ وَالإِنْسُ يَمُوتُونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْ تُضِلَّنِي، أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا يَمُوتُ، وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ» ”اے اللہ! میں نے تیرے لیے اسلام قبول کیا، میں تجھ پر ایمان لایا، میں نے تجھ پر توکل کیا، میں نے تیری طرف رجوع کیا، میں تیری مدد سے جھگڑا کرتا ہوں۔ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، میں تیری عزت کے ساتھ اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے گمراہ کر دے، تو وہ زندہ ہے جسے موت نہیں آئے گی جب کہ تمام جنات اور انسان مر جائیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 898]

899

Sahih Ibn Hibban #899

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْعَابِدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، عَبْدُ الْمُطَّلِبِ خَيْرٌ لِقَوْمِهِ مِنْكَ ، كَانَ يُطْعِمُهُمُ الْكَبِدَ وَالسَّنَامَ ، وَأَنْتَ تَنْحَرُهُمْ ، فَقَالَ لَهُ : مَا شَاءَ اللَّهُ ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ ، قَالَ : مَا أَقُولُ ؟ قَالَ : قُلِ : اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي ، وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ أَمْرِي " . فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ وَلَمْ يَكُنْ أَسْلَمَ ، وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَتَيْتُكَ فَقُلْتُ : عَلِّمْنِي ، فَقُلْتَ : " اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي ، وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ أَمْرِي " فَمَا أَقُولُ الآنَ حِينَ أَسْلَمْتُ ؟ قَالَ : " قُلِ : اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي ، وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ أَمْرِي ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ ، وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَمَا أَخْطَأْتُ ، وَمَا عَمَدْتُ ، وَمَا جَهِلْتُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے مقابلے میں جناب عبدالمطلب قوم کے حق میں زیادہ بہتر تھے، وہ انہیں کھانے کے لیے (اونٹوں کے) جگر اور کوہان دیا کرتے تھے جبکہ آپ انہیں ذبح کر رہے ہیں، اس کے علاوہ اور بھی جو اللہ کو منظور تھا وہ اس نے کہا، جب وہ واپس جانے لگا تو اس نے دریافت کیا: میں کیا پڑھا کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ پڑھا کرو: «اللَّهُمَّ أَلْهِمْنِي رُشْدِي، وَأَعِذْنِي مِنْ شَرِّ نَفْسِي» ”اے اللہ! تو مجھے میری ذات کے شر سے بچا لے اور مجھے سب سے زیادہ ہدایت یافتہ معاملے پر پختہ کر دے۔““ پھر وہ شخص چلا گیا، اس نے اسلام قبول نہیں کیا تھا، (کچھ عرصے بعد وہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا) اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کے پاس آیا تھا، میں نے یہ عرض کی تھی کہ آپ مجھے ایسی چیز کی تعلیم دیجیے تو آپ نے یہ کہا تھا: ” «اللَّهُمَّ أَلْهِمْنِي رُشْدِي، وَأَعِذْنِي مِنْ شَرِّ نَفْسِي» ”اے اللہ! تو مجھے میری ذات کے شر سے بچا لے اور مجھے سب سے زیادہ ہدایت والے معاملے پر پختہ کر دے۔““ اب جب میں نے اسلام قبول کر لیا، تو پھر میں کیا کہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ کہو: «اللَّهُمَّ أَلْهِمْنِي رُشْدِي، وَأَعِذْنِي مِنْ شَرِّ نَفْسِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَخْطَأْتُ وَمَا عَمَدْتُ وَمَا عَلِمْتُ وَمَا جَهِلْتُ» ”اے اللہ! تو مجھے میری ذات کے شر سے بچا لے اور مجھے سب سے زیادہ ہدایت والے معاملے پر پختہ کر دے، اے اللہ! جو کچھ میں نے پوشیدہ طور پر کیا یا اعلانیہ طور پر کیا، جو کچھ میں نے غلطی سے کیا، جو کچھ جان بوجھ کر کیا اور جو کچھ بھی لا علمی سے کیا، ان سب کی مغفرت کر دے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 899]

900

Sahih Ibn Hibban #900

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى ، وَالتُّقَى ، وَالْعَفَافَ ، وَالْغِنَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى» ”اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، پرہیزگاری، پاک دامنی اور خوش حالی کی دعا مانگتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 900]

901

Sahih Ibn Hibban #901

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، وامْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَخَطَايَايَ وَعَمْدِي "، وَقَالَ الآخَرُ : إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَهْدِيكَ لأَرْشَدِ أُمُورِي ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عثمان بن ابوالعاص اور قریش سے تعلق رکھنے والی خاتون رضی اللہ عنہما نے یہ بات بیان کی ہے کہ ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا ہے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَخَطَئِي وَعَمْدِي» ”اے اللہ! تو میرے ذنب، میری خطاؤں اور میری عمد کی مغفرت کر دے۔“ جبکہ دوسرے راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا ہے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَهْدِيكَ لِأَرْشَدِ أَمْرِي، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي» ”اے اللہ! میں اپنے معاملات میں تجھ سے سب سے زیادہ ہدایت یافتہ رہنمائی طلب کرتا ہوں اور میں اپنی ذات کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 901]

902

Sahih Ibn Hibban #902

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلانِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّقُلُوبَ ابْنِ آدَمَ مُلْقًى بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ كَقَلْبٍ وَاحِدٍ يَصْرِفُهُ كَيْفَ يَشَاءُ " . ثُمَّ يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اصْرِفْ قُلُوبَنَا إِلَى طَاعَتِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: «إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ كُلَّهَا بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ، كَقَلْبٍ وَاحِدٍ، يُصَرِّفُهُ حَيْثُ يَشَاءُ» ”بے شک اولادِ آدم کے تمام قلوب رحمان کی دو انگلیوں کے درمیان ایک قلب کی مانند ہیں، وہ جسے چاہتا ہے اسے پلٹ دیتا ہے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا مانگی: «اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ» ”اے اللہ! تو ہمارے دلوں کو اپنی فرمانبرداری کی طرف پھیر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 902]

903

Sahih Ibn Hibban #903

وَقَالَ : لا يَشْبَعُ الْمُؤْمِنُ خَيْرًا حَتَّى يَكُونَ مُنْتَهَاهُ الْجَنَّةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس بھی مسلمان شخص کے پاس صدقہ کرنے کے لیے کوئی چیز نہ ہو، تو وہ یہ دعا مانگے: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، وَصَلِّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ، وَالْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ» ”اے اللہ! تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو تیرے بندے اور رسول ہیں، ان پر درود نازل کر اور مومن مردوں اور مومن عورتوں اور مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں پر درود نازل کر“، تو یہ چیز زکوٰۃ ہو گی۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مومن کبھی بھی بھلائی کے حوالے سے سیر نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس کا ٹھکانہ جنت ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 903]

904

Sahih Ibn Hibban #904

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلاةً وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرَ صَلَوَاتٍ ، وَحَطَّ عَنْهُ عَشْرَ خَطِيئَاتٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا، اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمت نازل فرمائے گا اور اس کی دس خطاؤں کو ختم کر دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 904]

905

Sahih Ibn Hibban #905

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ صَلَّى عَلَيَّ مَرَّةً وَاحِدَةً ، كُتِبَ لَهُ بِهَا عَشْرُ حَسَنَاتٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا اس کے نامۂ اعمال میں دس نیکیاں لکھی جائیں گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 905]

906

Sahih Ibn Hibban #906

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 906]

907

Sahih Ibn Hibban #907

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَقَالَ : آمِينَ آمِينَ آمِينَ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ حِينَ صَعِدْتَ الْمِنْبَرَ قُلْتَ : آمِينَ آمِينَ آمِينَ . ، قَالَ : " إِنَّجِبْرِيلَ أَتَانِي ، فَقَالَ : مَنْ أَدْرَكَ شَهْرَ رَمَضَانَ وَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ فَدَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ . وَمَنْ أَدْرَكَ أَبَوَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَلَمْ يَبَرَّهُمَا ، فَمَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ . وَمَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ فَمَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آمین، آمین، آمین۔“ عرض کی گئی: یا رسول اللہ! جب آپ منبر پر چڑھے، تو آپ نے آمین، آمین، آمین کہا، اس کی وجہ کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جبرائیل میرے پاس آئے اور بولے: جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اور اس کی مغفرت نہ ہو، وہ جہنم میں چلا جائے، تو اللہ تعالیٰ (اسے اپنی رحمت سے) دور کرے، آپ آمین کہیے تو میں نے آمین کہا۔ جب کوئی اپنے ماں باپ کو پائے یا ان دونوں میں سے کسی ایک کو پائے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرے اور مرنے کے بعد جہنم میں جائے تو اللہ تعالیٰ (اسے اپنی رحمت سے دور کرے) آپ آمین کہیے تو میں نے آمین کہا۔ (پھر جبرائیل نے کہا:) جس شخص کے سامنے آپ کا تذکرہ ہو اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے، مرنے کے بعد جہنم میں چلا جائے تو اللہ تعالیٰ (اسے اپنی رحمت سے دور کرے) آپ آمین کہیے تو میں نے آمین کہا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 907]

908

Sahih Ibn Hibban #908

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ ، وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدْرَكَ أَبَوَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ ، فَلَمْ يُدْخِلاهُ الْجَنَّةَ ، وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَيْهِ شَهْرُ رَمَضَانَ ، ثُمَّ انْسَلَخَ قَبْلَ أَنْ يُغْفَرَ لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔ اس شخص کی ناک خاک آلود ہو، جو اپنے ماں باپ کو بڑھاپے میں پائے اور وہ دونوں اسے جنت میں داخل نہ کریں۔ اس شخص کی ناک خاک آلود ہو، جس کے سامنے رمضان کا مہینہ آ جائے اور پھر اس شخص کی مغفرت ہونے سے پہلے وہ مہینہ گزر جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 908]

909

Sahih Ibn Hibban #909

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ بِسَنْجَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّالْبَخِيلَ مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَا أَشْبَهُ شَيْءٍ رُوِيَ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، وَكَانَ الْحُسَيْنُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ حَيْثُ قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ابْنَ سَبْعِ سِنِينَ إِلا شَهْرًا ، وَذَلِكَ أَنَّهُ وُلِدَ لِلَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ شَعْبَانَ سَنَةَ أَرْبَعٍ ، وَابْنُ سِتِّ سِنِينَ وَأَشْهُرٍ إِذَا كَانَتْ لُغَتُهُ الْعَرَبِيَّةَ يَحْفَظُ الشَّيْءَ بَعْدَ الشَّيْءِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ عنہ اپنے والد (سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک بخیل وہ ہے جس کے سامنے کہ میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ وہ سب سے مستند روایت ہے جو سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، کیونکہ جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اس وقت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی عمر سات سال سے ایک ماہ کم تھی، وہ یوں کہ وہ سن 4 ہجری میں شعبان کے مہینے میں پیدا ہوئے تھے اور جب ان کی عمر چھ سال اور چند ماہ تھی اس وقت وہ عربی کی بہت ساری چیزیں یکے بعد دیگرے یاد کر رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 909]

910

Sahih Ibn Hibban #910

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فِيهِ خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ ، وَفِيهِ قُبِضَ ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلاةِ فِيهِ ، فَإِنَّ صَلاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ " . قَالُوا : وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرَمْتَ ؟ فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا حَرَّمَ عَلَى الأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَامَنَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تمہارے دنوں میں سب سے زیادہ فضیلت والا، جمعے کا دن ہے، اس دن اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، اسی دن ان کا انتقال ہوا، اسی دن پہلی مرتبہ پھونک ماری جائے گی، جب اسی دن قیامت آئے گی، تو تم اس دن میں مجھ پر بکثرت درود بھیجا کرو تمہارا درود میرے سامنے پیش کیا جائے گا۔“ انہوں نے عرض کی: ہمارا درود آپ کے سامنے کیسے پیش کیا جائے گا، جبکہ آپ بوسیدہ ہو چکے ہوں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین کے لیے یہ بات حرام قرار دی ہے کہ وہ ہمارے (یعنی انبیاء) کے جسم کو کھائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 910]

911

Sahih Ibn Hibban #911

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَيْسَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّأَوْلَى النَّاسِ بِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُهُمْ عَلَيَّ صَلاةً ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقِيَامَةِ يَكُونُ أَصْحَابُ الْحَدِيثِ ، إِذْ لَيْسَ مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ قَوْمٌ أَكْثَرَ صَلاةٍ عَلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”قیامت کے دن میرے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہو گا، جو (دنیا میں) مجھ پر زیادہ درود بھیجتا تھا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ قیامت کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے قریب علم حدیث کے ماہرین ہوں گے کیونکہ اس امت میں سے کوئی اور گروہ ان حضرات کے مقابلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر زیادہ درود نہیں بھیجتا ہو گا۔) [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 911]

912

Sahih Ibn Hibban #912

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : قَالَ لِي كَعَبُ بْنُ عَجْرَةَ : أَلا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً ؟ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ عَرَفْنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ ؟ قَالَ : قُولُوا :اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ . اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمیں یہ تو پتہ چل گیا ہے کہ ہم آپ پر سلام کیسے بھیجیں، تو ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ کہو: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» ”اے اللہ! تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر درود نازل کر جس طرح تو نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی آل پر درود نازل کیا۔ بے شک تو لائقِ حمد اور بزرگی کا مالک ہے، اے اللہ! تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر برکت نازل کر جس طرح تو نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی آل پر برکت نازل کی تھی۔ بے شک تو لائقِ حمد اور بزرگی کا مالک ہے۔“““ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 912]

913

Sahih Ibn Hibban #913

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ صَلَّى عَلَيَّ مَرَّةً وَاحِدَةً ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 913]

914

Sahih Ibn Hibban #914

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّلِلَّهِ مَلائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الأَرْضِ يُبَلِّغُونِي عَنْ أُمَّتِي السَّلامَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ مخصوص فرشتے گھومتے پھرتے رہتے ہیں، وہ میری امت کی طرف سے مجھے سلام پہنچاتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 914]

915

Sahih Ibn Hibban #915

أَخْبَرَنَا أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ ، غُلامُ طَالُوتَ بْنِ عَبَّادٍ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُوسَى الْحَادِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ مَسْرُورٌ ، فَقَالَ : إِنَّ الْمَلَكَ جَاءَنِي ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ :أَمَا تَرْضَى أَنْ لا يُصَلِّي عَلَيْكَ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِي صَلاةً ، إِلا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا ، وَلا يُسَلِّمُ عَلَيْكَ تَسْلِيمَةً ، إِلا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا ؟ قُلْتُ : بَلَى أَيْ رَبِّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن ابوطلحہ اپنے والد (سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ خوش تھے، آپ نے ارشاد فرمایا: ”ایک فرشتہ میرے پاس آیا اور بولا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ یہ فرما رہا ہے: کیا آپ اس بات سے راضی نہیں ہیں کہ میرے بندوں میں سے جو بھی ایک مرتبہ آپ پر درود بھیجے گا، تو میں اس کے بدلے میں اس پر دس مرتبہ رحمت نازل کروں گا اور جو بندہ ایک مرتبہ آپ پر سلام بھیجے گا، تو میں اس کے بدلے میں اس پر دس مرتبہ سلام نازل کروں گا؟ تو میں نے جواب دیا: جی ہاں! اے میرے پروردگار۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 915]

916

Sahih Ibn Hibban #916

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَادَتْهُ امْرَأَتِي ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي ، فَقَالَ : صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ وَعَلَى زَوْجِكِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، تو میری بیوی نے بلند آواز میں آپ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! آپ میرے اور میرے شوہر کے لیے دعائے رحمت کیجیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْكِ وَعَلَىٰ زَوْجِكِ» ”اللہ تم پر اور تمہارے شوہر پر رحمت نازل کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 916]

917

Sahih Ibn Hibban #917

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا تَصَدَّقَ إِلَيْهِ أَهْلُ بَيْتٍ بِصَدَقَةٍ ، صَلَّى عَلَيْهِمْ ، قَالَ : فَتَصَدَّقَ أَبِي إِلَيْهِ بِصَدَقَةٍ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب بھی کسی گھرانے کے لوگ اپنا صدقہ لے کر آتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے دعائے رحمت فرمایا کرتے تھے، میرے والد نے اپنا صدقہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ آلِ أَبِي أَوْفَىٰ» ”اے اللہ! ابواوفی کی آل پر رحمت نازل فرما۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 917]

918

Sahih Ibn Hibban #918

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ وَعَلَى زَوْجِكِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ میرے اور میرے شوہر کے لیے دعائے رحمت کیجیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْكِ وَعَلٰى زَوْجِكِ» ”اللہ تعالیٰ تم پر اور تمہارے شوہر پر رحمت نازل کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 918]

919

Sahih Ibn Hibban #919

أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي الْعِشْرِينَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا مَضَى شَطْرُ اللَّيْلِ أَوْ ثُلُثَاهُ ، يَنْزِلُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا ، فَيَقُولُ : مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي أَسْتَجِيبُ لَهُ ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَرْزِقُنِي أَرْزُقُهُ ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي أَغْفِرُ لَهُ ؟ حَتَّى يَنْفَجِرَ الصُّبْحُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب نصف رات (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) دو تہائی رات گزر جاتی ہے، تو اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور پکارتا ہے: کون شخص مجھ سے مانگتا ہے میں اسے عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے دعا مانگتا ہے میں اس کی دعا کو قبول کروں؟ کون ہے جو رزق مانگتا ہے میں اس کو رزق دوں؟ کون شخص ہے جو مغفرت مانگتا ہے میں اس کی مغفرت کروں؟ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) یہ صبح صادق تک ہوتا رہتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 919]

920

Sahih Ibn Hibban #920

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبَجَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرِّ ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَنْزِلُ رَبُّنَا جَلَّ وَعَلا كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ ، فَيَقُولُ : مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ ؟ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ؟ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي أَغْفِرُ لَهُ ؟ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : صِفَاتُ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا لا تُكَيَّفُ ، وَلا تُقَاسُ إِلَى صِفَاتِ الْمَخْلُوقِينَ ، فَكَمَا أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا مُتَكَلِّمٌ مِنْ غَيْرِ آلَةٍ بَأَسْنَانٍ وَلَهَوَاتٍ وَلِسَانٍ وَشَفَةٍ كَالْمَخْلُوقِينَ ، جَلَّ رَبُّنَا وَتَعَالَى عَنْ مِثْلِ هَذَا وَأَشْبَاهِهِ ، وَلَمْ يَجُزْ أَنْ يُقَاسَ كَلامُهُ إِلَى كَلامِنَا ، لأَنَّ كَلامَ الْمَخْلُوقِينَ لا يُوجَدُ إِلا بِآلاتٍ ، وَاللَّهُ جَلَّ وَعَلا يَتَكَلَّمُ كَمَا شَاءَ بِلا آلَةٍ ، كَذَلِكَ يَنْزِلُ بِلا آلَةٍ ، وَلا تَحَرُّكٍ ، وَلا انْتِقَالٍ مِنْ مَكَانٍ إِلَى مَكَانٍ ، وَكَذَلِكَ السَّمْعُ وَالْبَصَرُ ، فَكَمَا لَمْ يَجُزْ أَنْ يُقَالَ : اللَّهُ يُبْصِرُ كَبَصَرِنَا بِالأَشْفَارِ وَالْحَدَقِ وَالْبَيَاضِ ، بَلْ يُبْصِرُ كَيْفَ يَشَاءُ بِلا آلَةٍ ، وَيَسْمَعُ مِنْ غَيْرِ أُذُنَيْنِ ، وَسِمَاخَيْنِ ، وَالْتِوَاءٍ ، وَغَضَارِيفَ فِيهَا ، بَلْ يَسْمَعُ كَيْفَ يَشَاءُ بِلا آلَةٍ ، وَكَذَلِكَ يَنْزِلُ كَيْفَ يَشَاءُ بِلا آلَةٍ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُقَاسَ نُزُولُهُ إِلَى نُزُولِ الْمَخْلُوقِينَ ، كَمَا يُكَيَّفُ نُزُولُهُمْ ، جَلَّ رَبُّنَا وَتَقَدَّسَ مِنْ أَنْ تُشَبَّهَ صِفَاتُهُ بِشَيْءٍ مِنْ صِفَاتِ الْمَخْلُوقِينَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ہمارا پروردگار ہر رات آسمانِ دنیا کی طرف اس وقت نزول کرتا ہے، جب ایک تہائی آخری رات باقی رہ جاتی ہے، وہ فرماتا ہے: کون مجھ سے دعا مانگتا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون مجھ سے مانگتا ہے کہ میں اس کو عطا کروں؟ کون مجھ سے مغفرت طلب کرتا ہے کہ میں اس کی مغفرت کروں؟“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اللہ تعالیٰ کی صفات کی کیفیت بیان نہیں کی جا سکتی اور اسے مخلوق کی صفات پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، تو اس طرح اللہ تعالیٰ مخلوق کی طرح دانتوں، زبان، ہونٹوں کے کسی آلے کے بغیر کلام کرنے والا ہے۔ ویسے ہمارا پروردگار ان جیسی چیزوں سے بلند و بالاتر ہے، تو یہ بات بھی جائز نہیں ہے کہ اس کے کلام کو ہمارے کلام پر قیاس کیا جائے، کیونکہ مخلوق کا کلام صرف آلات کی مدد سے پایا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی آلے کے بغیر جیسے چاہے کلام کرتا ہے۔ اسی طرح وہ کسی آلے کے بغیر نزول کرتا ہے، وہ حرکت نہیں کرتا، ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں ہوتا ہے۔ اس کی سماعت اور بصارت کی بھی یہی کیفیت ہے، تو اس طرح یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اسی طرح دیکھتا ہے، جس طرح ہم آنکھ کی پتلی، اس کی سیاہی اور سفیدی کی مدد سے دیکھتے ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کسی آلے کے بغیر جیسے چاہتا ہے ویسے دیکھتا ہے اور وہ کانوں، سوراخوں اور پردوں کے بغیر سنتا ہے، بلکہ وہ کسی آلے کے بغیر جیسے چاہے سنتا ہے اور اسی طرح وہ کسی آلے کے بغیر جیسے چاہے نزول کرتا ہے۔ اس کے نزول کو مخلوق کے نیچے آنے پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، جس طرح لوگوں کے نیچے کی طرف آنے کی کیفیت بیان کی جا سکتی ہے۔ ہمارا پروردگار اس چیز سے پاک اور بلند و برتر ہے کہ اس کی صفات کو مخلوق کی صفات میں سے کسی چیز کے مشابہ قرار دیا جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 920]

921

Sahih Ibn Hibban #921

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ يُمْهِلُ حَتَّىإِذَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الأَوَّلُ ، نَزَلَ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَيَقُولُ جَلَّ وَعَلا : هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ ؟ هَلْ مِنْ تَائِبٍ ؟ هَلْ مِنْ سَائِلٍ ؟ هَلْ مِنْ دَاعٍ ؟ حَتَّى يَنْفَجِرَ الصُّبْحُ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي خَبَرِ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ ، أَنَّ اللَّهَ يَنْزِلُ حَتَّى يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ ، وَفِي خَبَرِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَغَرِّ أَنَّهُ يَنْزِلُ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الأَوَّلِ ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ نُزُولُهُ فِي بَعْضِ اللَّيَالِي حَتَّى يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ ، وَفِي بَعْضِهَا حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الأَوَّلُ ، حَتَّى لا يَكُونَ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ تَهَاتُرٌ وَلا تَضَادٌّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ انتظار کرتا ہے، یہاں تک کہ جب ایک تہائی رات گزر جاتی ہے، تو ہمارا پروردگار آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے، ہمارا پروردگار فرماتا ہے: کیا کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے؟ کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے؟ کیا کوئی مانگنے والا ہے؟ کیا کوئی دعا کرنے والا ہے؟“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”ایسا صبحِ صادق تک ہوتا رہتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) امام مالک نے زہری کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے، جیسے ہم نے ذکر کیا ہے، جب ایک تہائی رات باقی رہ جاتی ہے، تو اللہ تعالیٰ نزول فرماتا ہے، اور ابواسحاق کی الاغر کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ وہ نزول فرماتا ہے، یہاں تک کہ رات کا ایک تہائی حصہ گزر جاتا ہے، تو اس میں اس بات کا احتمال موجود ہے کہ کچھ راتوں میں وہ اس وقت نزول فرماتا ہو جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہو اور بعض راتوں میں اس وقت نزول فرماتا ہو جب رات کا ایک تہائی ابتدائی حصہ رخصت ہو جاتا ہو۔ اس طرح دونوں روایات میں اختلاف اور تضاد نہیں رہے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 921]

922

Sahih Ibn Hibban #922

حَدَّثَنَا ابْنُ سَلْمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّاللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَدْعُوَ بِهَؤُلاءِ الْكَلِمَاتِ ، فَإِنِّي مُعْطِيكَ إِحْدَاهُنَّ ، قَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَعْجِيلَ عَافِيَتِكَ ، أَوْ صَبْرًا عَلَى بَلِيَّتِكَ ، أَوْ خُرُوجًا مِنَ الدُّنْيَا إِلَى رَحْمَتِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: بے شک اللہ تعالیٰ آپ کو یہ حکم دیتا ہے کہ آپ ان کلمات کے ذریعے دعا مانگیں، میں آپ کو ان میں سے کوئی ایک چیز عطا کروں گا۔ «اللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ تَعْجِيْلَ عَافِيَتِكَ، أَوْ صَبْرًا عَلٰی بَلِيَّتِكَ، أَوْ خُرُوجًا مِنَ الدُّنْيَا إِلٰی رَحْمَتِكَ» ”اے اللہ! میں تجھ سے تیری جلدی عافیت یا تیری آزمائش پر صبر کرنے یا دنیا سے نکل کر تیری رحمت کی طرف جانے کا سوال کرتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 922]

923

Sahih Ibn Hibban #923

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُعْجِبُهُ أَنْ يَدْعُوَ ثَلاثًا ، وَيَسْتَغْفِرَ ثَلاثًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین مرتبہ دعا مانگنا اور تین مرتبہ مغفرت طلب کرنا پسند تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 923]

924

Sahih Ibn Hibban #924

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّيلأَتُوبُ فِي الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں ایک دن میں ستر مرتبہ توبہ کرتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 924]

925

Sahih Ibn Hibban #925

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّيلأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور میں ایک دن میں ستر سے زیادہ مرتبہ اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 925]

926

Sahih Ibn Hibban #926

أَخْبَرَنَا أبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كُنْتُ رَجُلا ذَرِبَ اللِّسَانِ عَلَى أَهْلِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يُدْخِلَنِي لِسَانِي النَّارَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَأَيْنَ أَنْتَ عَنِ الاسْتِغْفَارِ ؟ إِنِّيلأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ ". قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : فَذَكَرْتُهُ لأَبِي بُرْدَةَ ، فَقَالَ : " وَأَتُوبُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایک ایسا شخص تھا کہ میں اپنی بیوی کے ساتھ بد زبانی کیا کرتا تھا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میری زبان مجھے جہنم میں داخل کر دے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم استغفار سے کیوں غافل ہو؟ میں روزانہ ایک سو مرتبہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔“ ابواسحاق کہتے ہیں: میں نے ابوبردہ کے سامنے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا: (روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں) ”میں توبہ کرتا ہوں“ (یعنی روزانہ سو مرتبہ توبہ اور استغفار کرتا ہوں)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 926]

927

Sahih Ibn Hibban #927

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رُبَّمَا أَعُدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَجْلِسِ الْوَاحِدِ مِائَةَ مَرَّةٍ : رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے بعض اوقات یہ بات نوٹ کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک محفل میں ایک سو مرتبہ یہ پڑھتے تھے: «رَبِّ اغْفِرْ لِي، وَتُبْ عَلَيَّ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ» ”اے اللہ! تو میری مغفرت کر دے، تو میری توبہ قبول کر لے، بے شک تو، توبہ قبول کرنے والا ہے رحم کرنے والا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 927]

928

Sahih Ibn Hibban #928

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ أَنْ يَقُولَ :أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : كَانَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَغْفِرُ رَبَّهُ جَلَّ وَعَلا فِي الأَحْوَالِ عَلَى حَسَبِ مَا وَصَفْنَاهُ ، وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ ، وَلاسْتِغْفَارِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعْنَيَانِ : أَحَدُهُمَا أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا بَعَثَهُ مُعَلِّمًا لِخَلْقِهِ قَوْلا وَفِعْلا ، فَكَانَ يُعَلِّمُ أُمَّتَهُ الاسْتِغْفَارَ وَالدَّوَامَ عَلَيْهِ ، لِمَا عَلِمَ مِنْ مُقَارَفَتِهَا الْمَآثِمَ فِي الأَحَايِينِ بِاسْتِعْمَالِ الاسْتِغْفَارِ ، وَالْمَعْنَى الثَّانِي : أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَغْفِرُ لِنَفْسِهِ عَنْ تَقْصِيرِ الطَّاعَاتِ لا الذُّنُوبِ ، لأَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا عَصَمَهُ مِنْ بَيْنِ خَلْقِهِ ، وَاسْتَجَابَ لَهُ دُعَاءَهُ عَلَى شَيْطَانِهِ حَتَّى أَسْلَمَ ، وَذَاكَ أَنَّ مِنْ خُلُقِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَتَى بِطَاعَةٍ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ دَاوَمَ عَلَيْهَا وَلَمْ يَقْطَعْهَا ، فَرُبَّمَا شُغِلَ بِطَاعَةٍ عَنْ طَاعَةٍ حَتَّى فَاتَتْهُ إِحْدَاهُمَا ، كَمَا شُغِلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ بِوَفْدِ تَمِيمٍ ، حَيْثُ كَانَ يَقْسِمُ فِيهِمْ وَيَحْمِلُهُمْ حَتَّى فَاتَتْهُ الرَّكْعَتَانِ اللَّتَانِ بَعْدَ الظُّهْرِ ، فَصَلاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ ، ثُمَّ دَاوَمَ عَلَيْهِمَا فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ فِيمَا بَعْدُ ، فَكَانَ اسْتِغْفَارُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتَقْصِيرِ طَاعَةٍ أَنْ أَخَّرَهَا عَنْ وَقْتِهَا مِنَ النَّوَافِلِ لاشْتِغَالِهِ بِمِثْلِهَا مِنَ الطَّاعَاتِ الَّتِي كَانَ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ أَوْلَى مِنْ تِلْكَ الَّتِي كَانَ يُوَاظِبُ عَلَيْهَا ، لا أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَغْفِرُ مِنْ ذُنُوبٍ يَرْتَكِبُهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ (مرتبہ) کسی کو یہ کلمہ «أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» ”میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں“ پڑھتے ہوئے نہیں سنا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مختلف احوال میں اپنے رب سے مغفرت طلب کیا کرتے تھے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مغفرت طلب کرنے کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی قوم کے لیے قول و فعل کے اعتبار سے معلم بنا کر بھیجا تھا، تو آپ اپنی امت کو مغفرت طلب کرنے اور اس پر باقاعدگی اختیار کرنے کی دعوت دیتے تھے، کیونکہ آپ یہ بات جانتے تھے کہ آپ کی امت اکثر گناہوں میں مبتلا ہوتی رہے گی، تو یوں وہ مغفرت طلب کرنے کے فعل پر عمل کرتے رہیں گے۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات کے لیے نیکیوں میں کمی کے حوالے سے دعائے مغفرت کرتے تھے۔ آپ گناہوں کی وجہ سے دعائے مغفرت نہیں کرتے تھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کے درمیان آپ کو (گناہوں سے) پاک رکھا ہے، اور آپ کے ساتھ (فطری طور پر پیدا ہونے والے) شیطان کے بارے میں آپ کی دعا کو مستجاب کیا، یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو گیا؛ تو صورت حال یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ کریمانہ میں یہ بات شامل تھی کہ آپ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے متعلق جو عمل کرتے تھے، تو باقاعدگی سے کرتے تھے۔ آپ اسے منقطع نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ بعض اوقات آپ کسی دوسرے نیک کام کی وجہ سے کسی ایک نیک کام کو انجام نہیں دے پاتے تھے اور وہ ایک نیک کام آپ سے رہ جاتا تھا، جس طرح آپ مصروفیت کی وجہ سے ظہر کے بعد کی دو رکعت ادا نہیں کر سکے تھے، کیونکہ بنو تمیم کا وفد آیا ہوا تھا اور آپ ان کے درمیان مال تقسیم کر رہے تھے اور انہیں سواریاں فراہم کر رہے تھے۔ اس وجہ سے ظہر کے بعد والی دو رکعت آپ سے رہ گئی تھیں، تو آپ نے عصر کے بعد ادا کی تھیں۔ پھر آپ اس کے بعد اس وقت میں ان رکعات کو باقاعدگی سے ادا کرتے رہے تھے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مغفرت طلب کرنا نیکی میں اس کمی کے حوالے سے تھا کہ آپ نے مصروفیت کی وجہ سے انہیں ان کے وقت پر ادا نہیں کیا تھا اور آپ دوسری نیکیوں میں مصروف رہے تھے جو اس وقت میں اس نیکی سے زیادہ ضروری تھیں جن کو آپ باقاعدگی سے سرانجام دیتے تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان گناہوں سے مغفرت طلب کرتے تھے جن کا آپ نے ارتکاب کیا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 928]

929

Sahih Ibn Hibban #929

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَخْبَرَنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَجُلا مِنْ جُهَيْنَةَ يُقَالُ لَهُ : الأَغَرُّ ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُحَدِّثُ ابْنَ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ،تُوبُوا إِلَى رَبِّكُمْ ، فَإِنِّي أَتُوبُ إِلَيْهِ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُوبُوا إِلَى رَبِّكُمْ " يُرِيدُ بِهِ : اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ . وَكَذَلِكَ قَوْلُهُ : " فَإِنِّي أَتُوبُ إِلَيْهِ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ " . وَكَانَ اسْتِغْفَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتَقْصِيرِهِ فِي الطَّاعَاتِ الَّتِي وَظَّفَهَا عَلَى نَفْسِهِ ، لأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنْ أَخْلاقِهِ إِذَا عَمِلَ خَيْرًا أَنْ يُثْبِتَهُ فَيَدُومَ عَلَيْهِ ، فَرُبَّمَا اشْتَغَلَ فِي بَعْضِ الأَوْقَاتِ عَنْ ذَلِكَ الْخَيْرِ الَّذِي كَانَ يُوَاظِبُ عَلَيْهِ بِخَيْرٍ آخَرَ ، مِثْلُ اشْتِغَالِهِ بِوَفْدِ بَنِي تَمِيمٍ وَالْقِسْمَةِ فِيهِمْ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الظُّهْرِ ، فَلَمَّا صَلَّى الْعَصْرَ أَعَادَهُمَا ، فَكَانَ اسْتِغْفَارُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلتَّقْصِيرِ فِي خَيْرٍ اشْتَغَلَ عَنْهُ بِخَيْرٍ ثَانٍ عَلَى حَسَبِ مَا وَصَفْنَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبردہ بیان کرتے ہیں: میں نے جہینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص اغر کو بیان کرتے ہوئے سنا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ بات بتائی کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اے لوگو! تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں توبہ کرو، کیونکہ میں روزانہ اس کی بارگاہ میں ایک سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”کہ تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں توبہ کرو“ اس سے مراد یہ ہے کہ تم اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کرو۔ اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”میں اس کی بارگاہ میں روزانہ سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ان نیکیوں میں کمی کے حوالے سے مغفرت طلب کرتے تھے جن کو آپ نے اپنے لیے باقاعدگی سے مقرر کیا ہوا تھا کہ آپ کے معمولات میں یہ بات شامل تھی کہ جب آپ کوئی نیکی کا کام کرتے تو اسے ثابت رکھتے تھے اور باقاعدگی سے کیا کرتے تھے۔ بعض اوقات آپ کسی مصروفیت کی وجہ سے اس نیکی کے کام کو سرانجام نہیں دے پاتے تھے جسے آپ باقاعدگی سے کیا کرتے تھے اور ایسا کسی دوسرے نیک کام کی وجہ سے ہوتا تھا، جس طرح آپ بنو تمیم کے وفد کے ساتھ مصروف رہے اور ان کے درمیان مال تقسیم کرنے کی وجہ سے وہ دو رکعت ادا نہیں کر سکے تھے جو آپ ظہر کے بعد ادا کیا کرتے تھے، تو جب آپ نے عصر کی نماز ادا کر لی تو ان دو رکعات کو بھی ادا کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا استغفار اس کمی کے حوالے سے ہوتا تھا جو اس نیکی میں ہوتی تھی جس نیکی کو آپ کسی دوسری نیکی میں مصروفیت کی وجہ سے سرانجام نہیں دے پاتے تھے، جیسا کہ ہم پہلے یہ بات ذکر کر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 929]

930

Sahih Ibn Hibban #930

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ ، بِمِصْرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّالْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِيئَةً نُكِتَ فِي قَلْبِهِ نُكْتَةٌ ، فَإِنْ هُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ ، صُقِلَتْ ، فَإِنْ عَادَ ، زِيدَ فِيهَا ، فَإِنْ عَادَ ، زِيدَ فِيهَا حَتَّى تَعْلُوَ فِيهِ ، فَهُوَ الرَّانُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ كَلا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی بندہ غلطی کرتا ہے، تو اس کے دل میں ایک نقطہ لگ جاتا ہے، پھر اگر وہ الگ ہو کر مغفرت طلب کرے اور توبہ کرے، تو وہ صاف ہو جاتا ہے، پھر وہ دوبارہ غلطی کرے، تو اس میں اضافہ ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس پر غالب آ جاتا ہے، یہ وہی «الرَّانُ» (زنگ یا پردہ) ہے جس کا ذکر اللہ نے ان الفاظ میں کیا ہے: ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ [سورة المطففين: 14] ”خبردار! ان کے دلوں پر زنگ لگ گیا ہے، جو وہ عمل کرتے ہیں“۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 930]

931

Sahih Ibn Hibban #931

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ ، عَنِ الأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهُلَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي ، وَإِنِّي لأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي " ، يُرِيدُ بِهِ : يَرِدُ عَلَيْهِ الْكَرْبُ مِنْ ضِيقِ الصَّدْرِ مِمَّا كَانَ يَتَفَكَّرُ فِيهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَمْرِ اشْتِغَالِهِ كَانَ بِطَاعَةٍ عَنْ طَاعَةٍ ، أَوِ اهْتِمَامِهِ بِمَا لَمْ يَعْلَمْ مِنَ الأَحْكَامِ قَبْلَ نُزُولِهَا ، كَأَنَّهُ كَانَ يَعُدُّ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَدَمَ عِلْمِهِ بِمَكَّةَ بِمَا فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ ، مِنَ الأَحْكَامِ ، قَبْلَ إِنْزَالِ اللَّهِ إِيَّاهَا بِالْمَدِينَةِ ذَنْبًا ، فَكَانَ يُغَانُ عَلَى قَلْبِهِ لِذَلِكَ ، حَتَّى كَانَ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ ، لا أَنَّهُ كَانَ يُغَانُ عَلَى قَلْبِهِ مِنْ ذَنْبٍ يُذْنِبُهُ ، كَأُمَّتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اغر مزنی رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: «إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي، وَإِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ» ”بعض اوقات میرے دل پر ایک خاص کیفیت طاری ہوتی ہے اور میں روزانہ اللہ تعالیٰ سے ایک سو مرتبہ مغفرت طلب کرتا ہوں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”میرے دل پر ایک خاص کیفیت طاری ہوتی ہے“ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ سینے کی تنگی کے حوالے سے آپ پر تکلیف کی کیفیت طاری ہوتی ہے جب آپ کسی نیکی کی وجہ سے کوئی ایسا کام نہیں کر پاتے جو نیکی کا کام ہوتا ہے اور آپ اس بارے میں غور و فکر کرتے تھے، یا جب آپ اس چیز کا اہتمام کرتے جن احکام کا آپ کو علم نہیں ہے اور ایسا ان کے نازل ہونے سے پہلے ہوتا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گویا ﴿سورة البقرة﴾ میں موجود احکام سے مکہ میں اپنی لاعلمی کو ذنب شمار کرتے جو لاعلمی مدینہ منورہ میں سورہ نازل ہونے سے پہلے تھی، تو اس وجہ سے آپ کے دل پر مخصوص کیفیت طاری ہو جاتی، یہاں تک کہ آپ روزانہ ایک سو مرتبہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے؛ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ آپ سے کسی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے آپ کے دل پر پردہ آ جاتا، جس طرح کہ آپ کی امت کے ساتھ ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 931]

932

Sahih Ibn Hibban #932

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَيِّدُ الاسْتِغْفَارِ أَنْ يَقُولَ الْعَبْدُ : اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي ، وَأَنَا عَبْدُكَ ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ ، أَصْبَحْتُ عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ ، وَأَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذُنُوبِي ، فَاغْفِرْ لِي ، إِنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”سید الاستغفار یہ ہے کہ بندہ یہ کہے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! تو میرا پروردگار ہے، میں تیرا بندہ ہوں، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ تو نے مجھے پیدا کیا ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں تیرے عہد اور تیرے وعدے پر جہاں تک ہو سکے گا قائم رہوں گا اور میں نے جو کچھ کیا ہے اس کے شر سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں، تو نے میرے اوپر جو نعمت کی ہے میں اس کا اعتراف کرتا ہوں، اور اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں، تو میری مغفرت کر دے۔ بے شک گناہوں کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 932]

933

Sahih Ibn Hibban #933

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِيرِيُّ أَبُو عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَيِّدُ الاسْتِغْفَارِ أَنْ يَقُولَ الْعَبْدُ : اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ ، أَبُوءُ لَكَ بِالنِّعْمَةِ ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي ، فَاغْفِرْ لِي ، إِنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ . فَإِنْ قَالَهَا بَعْدَمَا يُصْبِحُ مُوقِنًا بِهَا ثُمَّ مَاتَ ، كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَإِنْ قَالَهَا بَعْدَمَا يُمْسِي مُوقِنًا بِهَا ، كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَسَمِعَهُ مِنْ بَشِيرِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ . فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”سید الاستغفار یہ ہے: بندہ یہ کہے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! تو میرا پروردگار ہے، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو نے مجھے پیدا کیا ہے، میں تیرا بندہ ہوں، مجھ سے جہاں تک ہو سکے گا میں تیرے عہد پر قائم رہوں گا، میں تیری نعمت کا اعتراف کرتا ہوں، اور اپنے گناہوں کا تیرے سامنے اعتراف کرتا ہوں، تو میری مغفرت کر دے، بے شک گناہوں کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے“۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) اگر بندہ صبح ہونے کے بعد یقین کے ساتھ یہ کلمات پڑھے اور اس کا انتقال ہو جائے، تو وہ جنتی ہو گا، اور اگر وہ شام ہونے کے بعد یقین کے ساتھ یہ کلمات پڑھے (اور پھر اس کا انتقال ہو جائے، تو وہ جنتی ہو گا)۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عبداللہ بن بریدہ نے یہ روایت اپنے والد رضی اللہ عنہ سے سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت بشیر بن کعب کے حوالے سے سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے، تو اس کے دونوں طریقے محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 933]

934

Sahih Ibn Hibban #934

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْعَلاءُ بْنُ رُؤْبَةَ التَّمِيمِيُّ هُوَ الْحِمْصِيُّ ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَشَكَا إِلَيْهِ ذَلِكَ ، وَسَأَلَهُ أَنْ يَأْمُرَ لَهُ بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنْ شِئْتَ أَمَرْتُ لَكَ بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ ، وَإِنْ شِئْتَ عَلَّمْتُكَ كَلِمَاتٍ هِيَ خَيْرٌ لَكَ ؟ " قَالَ : عَلِّمْنِيهُنَّ ، وَمُرْ لِي بِوَسْقٍ ، فَإِنِّي ذُو حَاجَةٍ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " قُلِ :اللَّهُمَّ احْفَظْنِي بِالإِسْلامِ قَاعِدًا ، وَاحْفَظْنِي بِالإِسْلامِ قَائِمًا ، وَاحْفَظْنِي بِالإِسْلامِ رَاقِدًا ، وَلا تُطِعْ فِي عَدُوًّا حَاسِدًا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ ، وَأَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ الَّذِي هُوَ بِيَدِكَ كُلِّهِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : تُوُفِّيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَهَاشِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ابْنُ تِسْعِ سِنِينَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہاشم بن عبداللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ایک مصیبت لاحق ہو گئی۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے اس بات کی شکایت کی اور آپ سے یہ درخواست کی کہ آپ انہیں کھجوروں کا ایک وسق دینے کا حکم دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو میں تمہیں کھجوروں کا ایک وسق دینے کا حکم دیتا ہوں، اور اگر تم چاہو، تو میں تمہیں کچھ کلمات کی تعلیم دیتا ہوں، جو تمہارے لیے زیادہ بہتر ہوں گے۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: آپ مجھے ان کلمات کی تعلیم دیں اور مجھے ایک وسق دینے کا بھی حکم دیں۔ مجھے اس کی شدید ضرورت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم یہ پڑھو: «اللَّهُمَّ احْفَظْنِي بِالْإِسْلَامِ قَاعِدًا، وَاحْفَظْنِي بِالْإِسْلَامِ قَائِمًا، وَاحْفَظْنِي بِالْإِسْلَامِ رَاقِدًا، وَلَا تُشْمِتْ بِي عَدُوًّا حَاسِدًا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا، وَأَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ الَّذِي هُوَ بِيَدِكَ كُلِّهِ» ”اے اللہ! جب میں بیٹھا ہوں، تو اسلام کے حوالے سے میری حفاظت کر اور جب میں کھڑا ہوں، تو اسلام کے حوالے سے میری حفاظت کر اور جب میں سو رہا ہوں، تو اسلام کے حوالے سے میری حفاظت کر اور میرے بارے میں کسی حسد کرنے والے دشمن کی بات نہ ماننا اور میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کی پیشانی کو تو نے پکڑا ہوا ہے اور میں تجھ سے بھلائی کا سوال کرتا ہوں، جو ساری کی ساری تیرے دست قدرت میں ہے۔“”(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ہاشم بن عبداللہ بن زبیر 9 سال کے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 934]

935

Sahih Ibn Hibban #935

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ ، بِصَيْدَا ، وَلَمْ يَشْرَبِ الْمَاءَ فِي الدُّنْيَا ثَمَانَ عَشْرَةَ سَنَةً ، وَيَتِّخَذُ كُلَّ لَيْلَةٍ حَسْوًا فَيَحْسُوهُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ مُسْلِمِ بْنِ مِشْكَمٍ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، فَنَزَلْنَا مَرْجَ الصُّفَّرِ ، فَقَالَ : ائْتُونِي بِالسُّفْرَةِ نَعْبَثْ بِهَا ، فَكَانَ الْقَوْمُ يَحْفَظُونَهَا مِنْهُ ، فَقَالَ : يَا بَنِي أَخِي ، لا تَحْفَظُوهَا عَنِّي ، وَلَكِنِ احْفَظُوا مِنِّي مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا اكْتَنَزَ النَّاسُ الدَّنَانِيرَ وَالدَّرَاهِمَ ، فَاكْتَنِزُوا هَؤُلاءِ الْكَلِمَاتَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الأَمْرِ ، وَالْعَزِيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ ، إِنَّكَ أَنْتَ عَلامُ الْغُيُوبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبیداللہ مسلم بیان کرتے ہیں: میں سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کے ساتھ روانہ ہوا، ہم نے ”مرج الصفر“ کے مقام پر پڑاؤ کیا۔ انہوں نے فرمایا: ہمارا زادراہ لے کر آؤ تاکہ ہم اسے استعمال کریں۔ حاضرین ان سے اس چیز کو محفوظ کرنا چاہتے تھے، تو انہوں نے فرمایا: میرے بھتیجے! تم مجھ سے اس چیز کو محفوظ نہ کرو بلکہ مجھ سے اس چیز کو محفوظ کر لو جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:) ”جس وقت لوگ دینار اور درہموں کا خزانہ بنا رہے ہوں، تو تم ان کلمات کا خزانہ اکٹھا کرو: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ، وَالْعَزِيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ، إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ» ”اے اللہ! میں دین میں ثابت قدمی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں، اور ہدایت میں عزیمت کا سوال کرتا ہوں، اور تیری نعمت کے شکر کا تجھ سے سوال کرتا ہوں، اور تیری اچھی طریقے سے عبادت کا تجھ سے سوال کرتا ہوں، اور میں ہر اس بھلائی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں جسے تو جانتا ہے، اور ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جسے تو جانتا ہے اور میں تجھ سے اس چیز کی مغفرت طلب کرتا ہوں جسے تو جانتا ہے۔ بے شک تو غیوب کا بہت زیادہ علم رکھنے والا ہے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 935]