Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 8 · Chapter 3

The Book of Heart-Softeners

Hadith 862–895

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

862

Sahih Ibn Hibban #862

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى يَعْنِي الْبِسْطَامِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي مَوْدُودٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ : بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الأَرْضِ وَلا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ، لَمْ تَفْجَأْهُ فَاجِئَةُ بَلاءٍ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي لَمْ تَفْجَأْهُ فَاجِئَةُ بَلاءٍ حَتَّى يُصْبِحَ " . وَقَدْ كَانَ أَصَابَهُ الْفَالِجُ فَقِيلَ لَهُ : أَيْنَ مَا كُنْتَ تُحَدِّثُنَا بِهِ ؟ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ حِينَ أَرَادَ بِي مَا أَرَادَ أَنْسَانِيهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص صبح کے وقت تین مرتبہ یہ کلمات پڑھتا ہے: «بِسْمِ اللّٰهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» ”اس اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جس کے نام کے ہمراہ زمین اور آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں دیتی ہے اور وہ سننے والا اور علم رکھنے والا ہے“ تو شام تک اسے کوئی اچانک مصیبت لاحق نہیں ہوتی، اور جو شام کے وقت یہ کلمات پڑھ لیتا ہے، تو صبح تک اسے اچانک کوئی مصیبت لاحق نہیں ہوتی۔“ راوی بیان کرتا ہے کہ اسے فالج ہو گیا، تو انہیں کہا گیا: آپ نے ہمیں وہ حدیث سنائی، اس پر خود عمل کیوں نہیں کیا؟ تو انہوں نے بتایا: اللہ تعالیٰ نے میرے بارے میں اس بات کا ارادہ کیا، تو مجھے یہ بات یاد نہیں رہی۔ (یعنی مجھے دعا پڑھنا یاد نہیں رہا) [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 862]

863

Sahih Ibn Hibban #863

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ التُّجِيبِيُّ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَالَ : رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالإِسْلامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو هَانِئٍ اسْمُهُ : حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ ، وَأَبُو عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيُّ اسْمُهُ : عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ فِلَسْطِينَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص یہ کہے: «رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا» ”میں اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے سے راضی ہوں“ (یعنی میں ان پر ایمان رکھتا ہوں)، اس شخص کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوہانی نامی راوی کا نام حمید بن ہانی ہے، یہ مصر سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ ابوعلی ہمدانی کا نام عمرو بن مالک جنبی ہے، یہ فلسطین سے تعلق رکھنے والے ثقہ راوی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 863]

864

Sahih Ibn Hibban #864

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ بْنِ الْبِرِنْدِ ، حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَهْلَ بَيْتِهِ ، فَقَالَ : إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمْ غَمٌّ أَوْ كَرْبٌ ، فَلْيَقُلِ : اللَّهُ اللَّهُ رَبِّي ، لا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا "اسْمُ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازُ : صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ ، رُوِيَ لَهُ أَرْبَعُونَ حَدِيثًا ، مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں کو اکٹھا کیا اور ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو کوئی غم یا مصیبت لاحق ہو جائے، تو وہ یہ کلمات پڑھے: «اللَّهُ رَبِّي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا» ”اللہ میرا پروردگار ہے میں کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہراتا۔“”ابوعامر خذاز نامی راوی کا نام صالح بن رستم ہے، ان کے حوالے سے چالیس روایات نقل کی گئی ہیں اور یہ بصرہ سے تعلق رکھنے والے ثقہ راویوں میں سے ایک ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 864]

865

Sahih Ibn Hibban #865

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ ، بِالْفُسْطَاطِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّهُ قَالَ : لَقَّنَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَؤُلاءِ الْكَلِمَاتِ ، وَأَمَرَنِيإِنْ أَصَابَنِي كَرْبٌ أَوْ شِدَّةٌ أَقُولُهُنَّ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ ، سُبْحَانَهُ وَتَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چند کلمات کی تعلیم دی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ ہدایت فرمائی تھی کہ جب بھی مجھے کوئی تکلیف یا مصیبت لاحق ہو تو میں یہ کلمات پڑھ لوں: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ، وَتَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، جو بردبار اور معزز ہے، اللہ کی ذات پاک ہے اور وہ برکت والا ہے جو عظیم عرش کا پروردگار ہے، حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 865]

866

Sahih Ibn Hibban #866

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى بِخَبَرٍ غَرِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ الصَّيْرَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَسْأَلُ أَحَدُكُمْ رَبَّهُ حَاجَتَهُ كُلَّهَا ، حَتَّى شِسْعَ نَعْلِهِ إِذَا انْقَطَعَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر شخص کو اپنے پروردگار سے تمام حاجتیں طلب کرنی چاہییں یہاں تک کہ جب اس کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے، (تو وہ بھی پروردگار سے مانگنا چاہیے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 866]

867

Sahih Ibn Hibban #867

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبَ عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُعْجِبُهُ الْجَوَامِعُ مِنَ الدُّعَاءِ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَبُو نَوْفَلٍ اسْمُهُ : مُعَاوِيَةُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي عَقْرَبَ ، مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جامع دعائیں پسند تھیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابونوفل نامی راوی کا نام معاویہ بن مسلم بن ابوعقرب ہے، اور یہ بصرہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 867]

868

Sahih Ibn Hibban #868

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو زُنَيْجٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لِرَجُلٍ : مَا تَقُولُ فِي الصَّلاةِ ؟ " ، فَقَالَ : أَتَشَهَّدُ ، ثُمَّ أَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ . أَنَا وَاللَّهِ مَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے دریافت فرمایا: ”تم نماز میں کیا پڑھتے ہو؟“ (یعنی کیا دعا مانگتے ہو) اس نے عرض کی: میں تشہد پڑھتا ہوں پھر میں یہ دعا مانگتا ہوں: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے جنت مانگتا ہوں اور جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ (اس شخص نے عرض کی) اللہ کی قسم! میں آپ کی طرح اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی طرح (جامع دعا) نہیں مانگتا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم بھی اسی کے آس پاس والی مانگتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 868]

869

Sahih Ibn Hibban #869

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، مَا لا أُحْصِي مِنْ مَرَّةٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حمادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهَا أَنْ تَقُولَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ عَاجِلَهُ وَآجِلَهُ ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمُ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ عَاجِلَهُ وَآجِلَهُ ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمُ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ مَا عَاذَ بِهِ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ ، وَأَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ وَعَمَلٍ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ وَعَمَلٍ ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ قَضَيْتَهُ لِي خَيْرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ تعلیم دی تھی کہ وہ یہ دعا مانگیں: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ بِهِ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ قَضَيْتَهُ لِي خَيْرًا» ”اے اللہ! میں تجھ سے ساری بھلائی کی دعا کرتا ہوں، خواہ وہ جلدی ملے یا دیر سے ملے، مجھے اس کا علم ہو یا نہ ہو، اور میں ہر قسم کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں خواہ وہ جلدی ہو یا دیر سے ہو، خواہ مجھے اس کا علم ہو یا علم نہ ہو۔ اے اللہ! میں تجھ سے ہر وہ بھلائی مانگتا ہوں جو تیرے بندے اور تیرے نبی نے تجھ سے مانگی ہے، اور ہر اس شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس سے تیرے بندے اور تیرے نبی نے پناہ مانگی ہے، اور میں تجھ سے جنت اور جنت سے قریب کر دینے والے قول [کا سوال کرتا ہوں] اور میں جہنم سے اور جہنم کے قریب کر دینے والے قول سے پناہ مانگتا ہوں، اور میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو نے میرے بارے میں جو بھی فیصلہ کیا ہے، اسے بہتر کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 869]

870

Sahih Ibn Hibban #870

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ أَخِي الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الدُّعَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز اور کوئی چیز نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 870]

871

Sahih Ibn Hibban #871

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ زُهَيْرٍ الْجُرْجَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَعْجِزُوا فِي الدُّعَاءِ ، فَإِنَّهُ لَنْ يَهْلِكَ مَعَ الدُّعَاءِ أَحَدٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”دعا کے بارے میں سستی نہ کرو، کیونکہ کوئی بھی شخص دعا کے ہمراہ ہلاکت کا شکار نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 871]

872

Sahih Ibn Hibban #872

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالرَّجُلَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ يُصِيبُهُ ، وَلا يُرَدُّ الْقَدْرُ إِلا بِالدُّعَاءِ ، وَلا يَزِيدُ فِي الْعُمُرِ إِلا الْبِرُّ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْخَبَرِ لَمْ يُرِدْ بِهِ عُمُومَهُ ، وَذَاكَ أَنَّ الذَّنْبَ لا يَحْرِمُ الرِّزْقَ الَّذِي رُزِقَ الْعَبْدُ ، بَلْ يُكَدِّرِ عَلَيْهِ صَفَاءَهُ إِذَا فَكَرَّ فِي تَعْقِيبِ الْحَالَةِ فِيهِ . وَدَوَامُ الْمَرْءِ عَلَى الدُّعَاءِ يُطَيِّبُ لَهُ وُرُودَ الْقَضَاءِ ، فَكَأَنَّهُ رَدَّهُ لِقِلَّةِ حِسِّهِ بِأَلَمِهِ ، وَالْبِرُّ يُطَيِّبُ الْعَيْشَ حَتَّى كَأَنَّهُ يُزَادُ فِي عُمْرِهِ بِطِيبِ عَيْشِهِ ، وَقِلَّةِ تَعَذُّرِ ذَلِكَ فِي الأَحْوَالِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”(بعض اوقات) کوئی شخص کسی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے رزق سے محروم ہو جاتا ہے اور تقدیر کو صرف دعا ٹال سکتی ہے اور عمر میں اضافہ صرف نیکی کرتی ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس حدیث میں مذکور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے مراد اس کا عموم نہیں ہے، یعنی آدمی کے نصیب میں جو رزق لکھا گیا ہے گناہ اس رزق سے محروم نہیں کرتا بلکہ اس کی پاکیزگی کو گدلا کر دیتا ہے جب وہ اس کے حاصل ہونے کے بعد کی صورتِ حال میں غور و فکر کرتا ہے، اور آدمی کا ہمیشہ دعا کرتے رہنا اس کے لیے تقدیر کے فیصلے کو قابلِ قبول بنا دیتا ہے، گویا وہ اس کی تکلیف کو کم محسوس کرتے ہوئے اس کو پرے کر دیتا ہے، اور نیکی آدمی کی زندگی کو پاکیزہ کر دیتی ہے، یہاں تک کہ اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس کی زندگی کے آرام کی وجہ سے اس کی عمر میں اضافہ ہو گیا ہے، اور عام طور پر یہ چیزیں بہت کم پائی جاتی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 872]

873

Sahih Ibn Hibban #873

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كَانَ مَلِكٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَهُ سَاحِرٌ ، فَلَمَّا كَبِرَ ، قَالَ لِلْمَلِكِ : إِنِّي قَدْ كَبِرْتُ ، فَابْعَثْ إِلَيَّ غُلامًا أُعَلِّمُهُ السِّحْرَ ، فَبَعَثَ لَهُ غُلامًا يُعَلِّمُهُ ، فَكَانَ فِي طَرِيقِهِ إِذَا سَلَكَ رَاهِبٌ ، فَقَعَدَ إِلَيْهِ ، وَسَمِعَ كَلامَهُ وَأَعْجَبَهُ ، فَكَانَ إِذَا أَتَى السَّاحِرَ ، ضَرَبَهُ ، وَإِذَا رَجَعَ مِنْ عِنْدِ السَّاحِرِ ، قَعَدَ إِلَى الرَّاهِبِ ، وَسَمِعَ كَلامَهُ ، فَإِذَا أَتَى أَهْلَهُ ضَرَبُوهُ ، فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى الرَّاهِبِ ، فَقَالَ لَهُ : إِذَا خَشِيتَ السَّاحِرَ فَقُلْ : حَبَسَنِي أَهْلِي ، وَإِذَا خَشِيتَ أَهْلَكَ ، فَقُلْ : حَبَسَنِي السَّاحِرُ . فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَتَى عَلَى دَابَّةٍ عَظِيمَةٍ قَدْ حَبَسْتِ النَّاسَ ، فَقَالَ : الْيَوْمَ أَعْلَمُ : الرَّاهِبُ أَفْضَلُ أَمِ السَّاحِرُ ؟ فَأَخَذَ حَجَرًا ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَمْرُ الرَّاهِبِ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْ أَمْرِ السَّاحِرِ ، فَاقْتُلْ هَذِهِ الدَّابَّةَ حَتَّى يَمْضِيَ النَّاسُ ، فَرَمَاهَا فَقَتَلَهَا ، وَمَضَى النَّاسُ ، فَأَتَى الرَّاهِبَ ، فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ لَهُ الرَّاهِبُ : أَيْ بُنَيَّ ، أَنْتَ الْيَوْمَ أَفْضَلُ مِنِّي ، وَإِنَّكَ سَتُبْتَلَى ، فَإِنِ ابْتُلِيتَ فَلا تَدُلَّ عَلَيَّ . فَكَانَ الْغُلامُ يُبْرِئُ الأَكْمَهَ وَالأَبْرَصَ ، وَيُدَاوِي سَائِرَ الأَدْوَاءِ . فَسَمِعَ جَلِيسٌ لِلْمَلِكِ ، كَانَ قَدْ عَمِيَ ، فَأَتَى الْغُلامَ بِهَدَايَا كَثِيرَةٍ ، فَقَالَ : مَا هَا هُنَا لَكَ أَجْمَعُ ، إِنْ أَنْتَ شَفَيْتَنِي ، قَالَ : إِنِّي لا أَشْفِي أَحَدًا إِنَّمَا يَشْفِي اللَّهُ ، فإِنْ آمَنْتَ بِاللَّهِ دَعَوْتُ اللَّهَ فَشَفَاكَ ، فَآمَنَ بِاللَّهِ فَشَفَاهُ اللَّهُ . فَأَتَى الْمَلِكَ يَمْشِي يَجْلِسُ إِلَيْهِ كَمَا كَانَ يَجْلِسُ ، فَقَالَ الْمَلِكُ : فُلانُ ! مَنْ رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ ؟ قَالَ : رَبِّي ، قَالَ : وَلَكَ رَبٌّ غَيْرِي ؟ قَالَ : رَبِّي وَرَبُّكَ وَاحِدٌ ، فَلَمْ يَزَلْ يُعَذِّبْهُ حَتَّى دَلَّ عَلَى الْغُلامِ . فَجِيءَ بِالْغُلامِ ، فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ : أَيْ بُنَيَّ ، قَدْ بَلَغَ مِنْ سِحْرِكَ مَا تُبْرِئُ الأَكْمَهَ وَالأَبْرَصَ وَتَفْعَلُ وَتَفْعَلُ ؟ قَالَ : إِنِّي لا أَشْفِي أَحَدًا ، إِنَّمَا يَشْفِي اللَّهُ . فَأَخَذَهُ ، فَلَمْ يَزَلْ يُعَذِّبْهُ حَتَّى دَلَّ عَلَى الرَّاهِبِ ، فَجِيءَ بِالرَّاهِبِ ، فَقِيلَ لَهُ : ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ ، فَأَبِي ، فَدَعَا بِالْمِنْشَارِ ، فَوَضَعَ الْمِنْشَارَ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ ، فَشُقَّ بِهِ حَتَّى وَقَعَ شِقَّاهُ . ثُمَّ جِيءَ بِجَلِيسِ الْمَلِكِ ، فَقِيلَ : ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ ، فَأَبِي ، فَوَضَعَ الْمِنْشَارَ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ ، فَشَقَّهُ بِهِ حَتَّى وَقَعَ شِقَّاهُ . ثُمَّ جِيءَ بِالْغُلامِ فَقِيلَ لَهُ : ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ فَأَبِي ، فَدَفَعَهُ إِلَى نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : اذْهَبُوا بِهِ إِلَى جَبَلِ كَذَا وَكَذَا ، فَاصْعَدُوا بِهِ الْجَبَلَ ، فَإِذَا بَلَغْتُمْ ذُرْوَتَهُ ، فَإِنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ ، وَإِلا فَاطْرَحُوهُ . فَذَهَبُوا بِهِ فَصَعِدُوا بِهِ الْجَبَلَ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ . فَرَجَفَ بِهِمُ الْجَبَلُ ، فَسَقَطُوا ، وَجَاءَ يَمْشِي إِلَى الْمَلِكِ ، فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ : مَا فَعَلَ أَصْحَابُكَ ؟ قَالَ : كَفَانِيهِمُ اللَّهُ . فَدَفَعَهُ إِلَى قَوْمٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : اذْهَبُوا بِهِ ، فَاحْمِلُوهُ فِي قُرْقُورٍ ، فَوَسِّطُوا بِهِ الْبَحْرَ ، فَلَجِّجُوا بِهِ ، فَإِنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ ، وَإِلا فَاقْذِفُوهُ ، فَذَهَبُوا بِهِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ . فَانْكَفَأَتْ بِهِمُ السَّفِينَةُ ، وَجَاءَ يَمْشِي إِلَى الْمَلِكِ ، فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ : مَا فَعَلَ أَصْحَابُكَ ؟ قَالَ : كَفَانِيهِمُ اللَّهُ . فَقَالَ لِلْمَلِكِ : وَإِنَّكَ لَسْتَ بِقَاتِلِي حَتَّى تَفْعَلَ مَا آمُرُكَ بِهِ . قَالَ : وَمَا هُوَ ؟ قَالَ : تَجْمَعُ النَّاسَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ، وَتَصْلُبُنِي عَلَى جِذْعٍ ، ثُمَّ خُذْ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِكَ ، ثُمَّ ضَعِ السَّهْمَ فِي كَبِدِ الْقَوْسِ ، ثُمَّ قُلْ : بِسْمِ اللَّهِ رَبِّ الْغُلامِ ، ثُمَّ ارْمِنِي ، فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ قَتَلْتَنِي . فَجَمَعَ النَّاسَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ، ثُمَّ صَلَبَهُ عَلَى جِذْعٍ ، ثُمَّ أَخَذَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ ، ثُمَّ وَضَعَ السَّهْمَ فِي كَبِدِ قَوْسِهِ ، ثُمَّ قَالَ : بِسْمِ اللَّهِ رَبِّ الْغُلامِ ، ثُمَّ رَمَاهُ ، فَوَقَعَ السَّهْمُ فِي صُدْغِهِ ، فَوَضَعَ يَدَهُ فِي مَوْضِعِ السَّهْمِ فَمَاتَ ، فَقَالَ النَّاسُ : آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلامِ ، آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلامِ ، ثَلاثًا . فَأُتِيَ الْمَلِكُ ، فَقِيلَ لَهُ : أَرَأَيْتَ مَا كُنْتَ تَحْذَرُ ، قَدْ وَاللَّهِ نَزَلَ بِكَ حَذَرُكَ ، قَدْ آمَنَ النَّاسُ . فَأَمَرَ بِالأُخْدُودِ بِأَفْوَاهِ السِّكَكِ ، فَخُدَّتْ ، وَأَضْرَمَ النِّيرَانَ ، وَقَالَ : مَنْ لَمْ يَرْجِعْ عَنْ دِينِهِ فَأَحْمُوهُ ، فَفَعَلُوا حَتَّى جَاءَتِ امْرَأَةٌ وَمَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا ، فَتَقَاعَسَتْ أَنْ تَقَعَ فِيهَا ، فَقَالَ لَهَا الْغُلامُ : يَا أُمَّهِ اصْبِرِي ، فَإِنَّكِ عَلَى الْحَقِّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے زمانے میں ایک بادشاہ تھا اس کا ایک جادوگر تھا۔ جب وہ عمر رسیدہ ہو گیا، تو اس نے بادشاہ سے کہا: میں بوڑھا ہو گیا ہوں تم میرے پاس کسی لڑکے کو بھیجو تاکہ میں اسے جادو کی تعلیم دوں، تو بادشاہ نے اس کے پاس ایک لڑکے کو بھیجا تاکہ وہ اسے تعلیم دینا شروع کرے۔ ابھی وہ لڑکا راستے میں جا رہا تھا کہ وہاں سے ایک راہب کا گزر ہوا وہ اس کے پاس بیٹھ گیا اور اس کی بات چیت سننے لگا، اس کو اس کی باتیں اچھی لگیں۔ جب وہ جادوگر کے پاس آیا، تو جادوگر نے اسے مارا۔ جب وہ جادوگر کے پاس سے واپس آیا، تو راہب کے پاس بیٹھ گیا اور اس کی بات چیت سننے لگا۔ جب وہ اپنے گھر آیا، تو گھر والوں نے اسے مارا، اس نے اس بات کی شکایت راہب سے کی، تو راہب نے کہا: جب تمہیں جادوگر سے اندیشہ ہو، تو تم کہنا مجھے گھر والوں نے نہیں آنے دیا تھا اور جب تمہیں گھر والوں سے اندیشہ ہو، تو تم کہنا جادوگر نے مجھے روک لیا تھا۔ اسی طرح ہوتا رہا، اسی دوران ایک مرتبہ اس لڑکے کا گزر ایک بڑے جانور کے پاس سے ہوا جس نے لوگوں کو گزرنے سے روکا ہوا تھا۔ اس لڑکے نے سوچا آج یہ بات میں جان لوں گا کہ راہب فضیلت رکھتا ہے یا جادوگر؟ اس نے ایک پتھر لیا اور پھر کہا: اے اللہ! اگر راہب کا معاملہ تیرے نزدیک جادوگر کے معاملے سے زیادہ پسندیدہ ہے، تو اس جانور کو مار دے تاکہ لوگ وہاں سے گزر جائیں، پھر اس نے وہ پتھر اس جانور کو مار کر قتل کر دیا، تو لوگ وہاں سے گزر گئے۔ وہ راہب کے پاس آیا اور اسے اس بارے میں بتایا، تو راہب نے اسے کہا: اے میرے بیٹے! آج تم مجھ سے زیادہ فضیلت رکھتے ہو، عنقریب تمہیں آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا، اگر تمہیں آزمائش میں مبتلا کیا جائے، تو تم میری طرف کسی کی رہنمائی نہ کرنا۔ پھر وہ لڑکا پیدائشی نابینا لوگوں اور برص کے شکار لوگوں کو ٹھیک کرنے لگا۔ وہ تمام بیماریوں کی دوا دینے لگا (یعنی انہیں ٹھیک کرنے لگا)۔ بادشاہ کے ایک مصاحب کو اس کے بارے میں پتہ چلا جو نابینا ہو چکا تھا۔ وہ بہت سے تحائف کے ہمراہ اس لڑکے کے پاس آیا اور بولا: اگر تم نے مجھے شفا دے دی، تو یہ سب کچھ تمہیں مل جائے گا۔ لڑکے نے کہا: میں کسی کو شفا نہیں دیتا، شفا تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے، اگر تم اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آؤ، تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا، وہ تمہیں شفا دے گا، تو وہ شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے شفا دے دی۔ پھر وہ بادشاہ کے پاس آیا اور اس کے ہاں پہلے کی طرح آیا۔ بادشاہ نے اس سے دریافت کیا: فلاں شخص! تمہاری بینائی کیسے واپس آئی؟ اس نے جواب دیا: میرے پروردگار نے واپس کی ہے۔ بادشاہ نے دریافت کیا: کیا میرے علاوہ بھی تمہارا کوئی پروردگار ہے؟ اس نے کہا: میرا اور تمہارا پروردگار ایک ہے۔ اس کے بعد بادشاہ اس شخص کو تکلیف پہنچاتا رہا، یہاں تک کہ اس نے اس لڑکے کے بارے میں رہنمائی کر دی۔ پھر اس لڑکے کو لایا گیا، تو بادشاہ نے اس سے کہا: اے لڑکے! اب تمہارا جادو اس مقام تک پہنچ گیا ہے کہ تم پیدائشی نابینا اور برص کے شکار اور فلاں فلاں شخص کو ٹھیک کر دیتے ہو۔ اس لڑکے نے کہا: میں کسی کو ٹھیک نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ شفا دیتا ہے۔ بادشاہ نے اس لڑکے کو پکڑا، وہ اسے مسلسل تکلیف پہنچاتا رہا، یہاں تک کہ اس نے راہب کی طرف رہنمائی کر دی۔ اس راہب کو لایا گیا، اس سے یہ کہا گیا کہ تم اپنے دین سے پھر جاؤ، اس راہب نے اس بات کو نہیں مانا، تو پھر ایک ”آرا“ لایا گیا، وہ ”آرا“ اس کے سر کے درمیان میں رکھا گیا اور اسے چیر دیا گیا، یہاں تک کہ اس کا جسم دو حصوں میں تقسیم ہو گیا، پھر بادشاہ کے مصاحب کو لایا گیا۔ اسے کہا گیا تم اپنے دین سے پھر جاؤ، لیکن اس نے یہ بات نہیں مانی، تو وہی آرا اس کے سر کے درمیان میں رکھا گیا، اسے بھی چیر کر دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ پھر اس لڑکے کو لایا گیا اور اسے کہا گیا کہ تم اپنے دین سے پھر جاؤ، اس لڑکے نے بھی اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔ بادشاہ نے اس لڑکے کو ساتھیوں کے سپرد کیا اور کہا: اسے لے کر فلاں فلاں پہاڑ کی طرف جاؤ، اسے لے کر پہاڑ پر چڑھ جاؤ، جب تم پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جاؤ، اگر یہ اپنے دین سے رجوع کر لے تو ٹھیک ہے، ورنہ اسے نیچے پھینک دینا۔ وہ لوگ اسے ساتھ لے کر گئے، اسے ساتھ لے کر پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اس لڑکے نے دعا کی: «اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ» ”اے اللہ! تو ان لوگوں کے حوالے سے جیسے چاہے میرے لیے کافی ہو جا“، تو پہاڑ کانپنے لگا اور وہ لوگ نیچے گر گئے۔ وہ لڑکا چلتا ہوا پھر بادشاہ کے پاس آیا۔ بادشاہ نے اس سے دریافت کیا: تمہارے ساتھیوں کا کیا بنا؟ اس نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ ان کے مقابلے میں میرے لیے کافی ہے۔ بادشاہ نے اسے اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ سپرد کیا اور کہا: اسے ساتھ لے کر جاؤ، اسے کشتی میں بٹھاؤ اور اس کو لے جا کر سمندر کے درمیان میں لے جاؤ، وہاں اگر یہ اپنے دین سے رجوع کر لے تو ٹھیک ہے، ورنہ اسے دریا میں ڈال دینا۔ وہ اسے ساتھ لے کر گئے، تو لڑکے نے دعا کی: «اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ» ”اے اللہ! تو ان لوگوں کے مقابلے میں جیسے چاہے میرے لیے کفایت کر لے“، تو ان لوگوں کی کشتی الٹ گئی (باقی سب لوگ ڈوب گئے)، وہ لڑکا چلتا ہوا بادشاہ کے پاس آ گیا۔ بادشاہ نے اس سے دریافت کیا: تمہارے ساتھیوں کا کیا بنا؟ اس نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ ان کے مقابلے میں میرے لیے کافی ہو گیا، تو اس نے بادشاہ سے کہا: تم مجھے اس وقت تک قتل نہیں کر سکتے جب تک تم وہ کام نہیں کرو گے جس کی میں تمہیں ہدایت کروں گا۔ بادشاہ نے دریافت کیا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: تم لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرو، پھر مجھے کھجور کے درخت پر صلیب پر لٹکاؤ، پھر اپنے ترکش میں سے ایک تیر لو، پھر اس تیر کو کمان میں لگاؤ اور پھر یہ کہو: «بِاسْمِ اللَّهِ رَبِّ الْغُلَامِ» ”اس لڑکے کے پروردگار اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے (میں یہ تیر چلانے لگا ہوں)“، پھر وہ تیر مجھے مار دینا، جب تم ایسا کرو گے، تو تم مجھے قتل کر دو گے۔ بادشاہ نے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کیا، اس لڑکے کو کھجور کے درخت پر لٹکایا، پھر اس نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر لیا، پھر اس تیر کو کمان میں رکھا اور یہ کہا: «بِاسْمِ اللَّهِ رَبِّ الْغُلَامِ» ”اس لڑکے کے پروردگار اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے (میں تیر چلانے لگا ہوں)“، پھر بادشاہ نے اسے تیر مارا، وہ تیر اس کی کنپٹی پر لگا۔ اس نے اپنا ہاتھ تیر کی جگہ رکھا اور انتقال کر گیا۔ لوگوں نے کہا: ہم اس لڑکے کے پروردگار پر ایمان لے آتے ہیں، ہم ایمان لے آتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی۔ (مصاحبین) نے بادشاہ کو آ کر بتایا کہ تم نے اس بات کو نوٹ کیا ہے کہ تم جس چیز سے بچنا چاہ رہے تھے وہی صورت حال سامنے آ گئی ہے؟ وہ ایمان لے آئے ہیں، تو بادشاہ کے حکم کے تحت مختلف جگہ پر گڑھے کھودے گئے۔ ان میں آگ جلائی گئی، بادشاہ نے حکم دیا جو شخص اپنے دین سے رجوع نہیں کرے گا تم لوگ اسے جلا دو، ان لوگوں نے ایسا ہی کیا، یہاں تک کہ ایک عورت آئی اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا، وہ آگ میں کودنے سے ہچکچائی، تو لڑکے نے کہا: امی جان! آپ صبر سے کام لیجیے، آپ حق پر ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 873]

874

Sahih Ibn Hibban #874

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ رَوَاحَةَ الْمَنْبِجِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعْدٌ الطَّائِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْمُدِلَّةِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ تُحْمَلُ عَلَى الْغَمَامِ ، وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاوَاتِ ، وَيَقُولُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : وَعِزَّتِي لأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو الْمُدِلَّةِ اسْمُهُ : عُبَيْدُ اللَّهِ مَدِينِيٌّ ، ثِقَةٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مظلوم کی بددعا بادلوں کے اوپر اٹھائی جاتی ہے اور (اس کے لیے) آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور پروردگار یہ فرماتا ہے: مجھے اپنی عزت کی قسم ہے میں تمہاری مدد ضرور کروں گا (خواہ تھوڑی دیر بعد کروں)۔“ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوالمدلہ کا نام عبیداللہ مدینی ہے، یہ ثقہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 874]

875

Sahih Ibn Hibban #875

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَعْرُوفِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ رَبَاحٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اتَّقُوا دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتَّقُوا دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ " أَمْرٌ بِاتِّقَاءِ دَعْوَةِ الْمَظْلُومِ ، مُرَادُهُ الزَّجْرَ عَمَّا تَوَلَّدَ ذَلِكَ الدُّعَاءُ مِنْهُ ، وَهُوَ الظُّلْمُ ، فَزَجَرَ عَنِ الشَّيْءِ بِالأَمْرِ بِمُجَانَبَةِ مَا تَوَلَّدَ مِنْهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مظلوم کی بددعا سے بچو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”مظلوم کی بددعا سے بچو“ یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مظلوم کی بددعا سے بچنے کا حکم دیا ہے، لیکن اس سے مراد اس چیز سے رکنا ہے جس کے نتیجے میں یہ بددعا سامنے آتی ہے، اور وہ چیز ظلم ہے۔ یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چیز سے رکنے کے حکم کے ذریعے اس سے الگ رہنے کا حکم دیا ہے جس کے نتیجے میں وہ چیز سامنے آئی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 875]

876

Sahih Ibn Hibban #876

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ الْعُصْفُرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّرَبَّكُمْ حَيِيٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تمہارا پروردگار «حَيِيٌّ كَرِيمٌ» ”بہت حیا والا اور سخی ہے“، وہ اپنے بندے سے حیا کرتا ہے کہ جب بندہ اپنے دونوں ہاتھ اس کی بارگاہ میں بلند کرے، تو وہ انہیں خالی لوٹا دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 876]

877

Sahih Ibn Hibban #877

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ صَالِحٍ الأَنْطَاكِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کے دوران اپنے دونوں ہاتھ بلند کر لیتے تھے، یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 877]

878

Sahih Ibn Hibban #878

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ ، وَعُمَرُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ قَرِيبًا مِنَ الزَّوْرَاءِيَدْعُو رَافِعًا كَفَّيْهِ قِبَلَ وَجْهِهِ لا يُجَاوِزُ بِهِمَا رَأْسَهُ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ”اجارزیت“ کے قریب دیکھا، یہ ”زوراء“ کے قریب ایک جگہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھیلیاں چہرے کے مدِ مقابل بلند کی ہوئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سر سے اوپر نہیں اٹھایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 878]

879

Sahih Ibn Hibban #879

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ ، أَنَّهُ : رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْقِي عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ قَرِيبًا مِنَ الزَّوْرَاءِ ، قَائِمًايَدْعُو يَسْتَسْقِي ، رَافِعًا كَفَّيْهِ لا يُجَاوِزُ بِهِمَا رَأْسَهُ ، مُقْبِلا بِبَاطِنِ كَفِّهِ إِلَى وَجْهِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «أَجَارِزِيت» کے قریب دیکھا جو «الزَّوْرَاء» کے قریب ہے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بارش کے نزول کی دعا مانگتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے اور بارش کے نزول کی دعا مانگ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھیلیاں بلند کی ہوئی تھیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سر سے اونچا نہیں اٹھایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیوں کا رخ اپنے چہرے کی طرف کیا ہوا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 879]

880

Sahih Ibn Hibban #880

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّاللَّهَ جَلَّ وَعَلا يَسْتَحْيِي مِنَ الْعَبْدِ أَنْ يَرْفَعَ إِلَيْهِ يَدَيْهِ فَيَرُدَّهُمَا خَائِبَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے حیا کرتا ہے کہ بندہ اپنے دونوں ہاتھ اللہ کی بارگاہ میں اٹھائے اور وہ انہیں نامراد واپس کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 880]

881

Sahih Ibn Hibban #881

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يَزَالُ يُسْتَجَابُ لِلْعَبْدِ مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ ، أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ ، مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ يَسْتَعْجِلُ ؟ قَالَ : " يَقُولُ : قَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي ، فَيَنْحَسِرُ عِنْدَ ذَلِكَ ، فَيَتْرُكُ الدُّعَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بندے کی دعا مسلسل قبول ہوتی رہتی ہے، جب تک وہ کسی گناہ یا قطع رحمی کے بارے میں دعا نہیں کرتا، وہ جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرتا۔“ عرض کی گئی: یا رسول اللہ! جلد بازی کا مظاہرہ کرنے سے کیا مراد ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ یہ کہے کہ میں نے دعا مانگی، میری دعا قبول نہیں ہوئی، تو ایسی صورت میں وہ بد دل ہو کر دعا مانگنا ترک کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 881]

882

Sahih Ibn Hibban #882

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ ، أَنَّهُ رَأَى بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ رَافِعًا يَدَيْهِ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : قَبَّحَ اللَّهُ هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَايَزِيدُ عَلَى أَنْ يَقُولَ بِيَدِهِ كَذَا ، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ لِلسُّبْحَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے بشر بن مروان کو منبر پر دونوں ہاتھ بلند کر کے دعا مانگتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: «قَبَّحَ اللّٰهُ هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ» ”اللہ تعالیٰ ان دونوں ہاتھوں کو قبیح کر دے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے زیادہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔“ انہوں نے اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کر کے یہ بات کہی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 882]

883

Sahih Ibn Hibban #883

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاهِرًا يَدَيْهِيَدْعُو عَلَى مِنْبَرٍ وَلا غَيْرِهِ ، وَلَكِنْ رَأَيْتُهُ يَقُولُ هَكَذَا "، وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ مِنْ يَدِهِ الْيُمْنَى يُقَوِّسُهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی منبر پر یا منبر کے علاوہ اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے نہیں دیکھا۔ میں نے آپ کو صرف اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابوسعید نامی راوی نے اپنے دائیں ہاتھ کی انگلی کے ذریعے اشارہ کیا اور اسے تھوڑا سا خمیدہ کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 883]

884

Sahih Ibn Hibban #884

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَبْصَرَ رَجُلا يَدْعُو بِأُصْبُعَيْهِ جَمِيعًا ، فَنَهَاهُ ، وَقَالَ : بِإِحْدَاهُمَا ، بِالْيُمْنَى. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَضْمَرَ فِيهِ أَنَّ الإِشَارَةَ بِالأُصْبُعَيْنِ لِيَكُونَ إِلَى الاثْنَيْنِ ، وَالْقَوْمُ عَهْدُهُمْ كَانَ قَرِيبًا بِعِبَادَةِ الأَصْنَامِ وَالإِشْرَاكِ بِاللَّهِ ، فَمِنْ أَجْلِهِمَا أَمَرَ بِالإِشَارَةِ بِأُصْبُعٍ وَاحِدٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دو انگلیوں کے ذریعے دعا مانگتے دیکھا تو اسے ایک انگلی کے ذریعے اشارہ کرنے کا حکم دیا جو دائیں ہاتھ کی ہوتی ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس میں اس بات کی طرف اشارہ پوشیدہ ہے کہ دو انگلیوں کے ذریعے دو چیزوں کی طرف اشارہ ہوتا ہے، اور وہ لوگ چونکہ بتوں کی عبادت اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے کے زمانے کے قریب تھے، اس لیے انہیں ایک انگلی کے ساتھ اشارہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 884]

885

Sahih Ibn Hibban #885

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَمْرًا فَلْيَقُلِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلا أَقْدِرُ ، وَتَعْلَمُ وَلا أَعْلَمُ ، وَأَنْتَ عَلامُ الْغُيُوبِ . اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ كَذَا وَكَذَا لِلأَمْرِ الَّذِي يُرِيدُ خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَمَعِيشَتِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي ، فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي وَأَعِنِّي عَلَيْهِ ، وَإِنْ كَانَ كَذَا وَكَذَا لِلأَمْرِ الَّذِي يُرِيدُ شَرًّا لِي فِي دِينِي وَمَعِيشَتِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي ، فَاصْرِفْهُ عَنِّي ، ثُمَّ اقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ أَيْنَمَا كَانَ ، لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب کوئی شخص کوئی کام کرنے کا ارادہ کرے، تو وہ یہ دعا مانگے: اے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کے مطابق بھلائی طلب کرتا ہوں اور میں تیری قدرت کے مطابق تجھ سے طاقت طلب کرتا ہوں، میں تیرے عظیم فضل کی دعا کرتا ہوں۔ بے شک تو قدرت رکھتا ہے، میں قدرت نہیں رکھتا، تو علم رکھتا ہے اور میں علم نہیں رکھتا، تو غیوب کا بہت زیادہ علم رکھنے والا ہے۔ اے اللہ! اگر یہ معاملہ ایسے ایسے ہے (یہاں آدمی اس کام کا نام لے جو وہ کرنا چاہتا ہے) اگر یہ میرے لیے میرے دین، میری زندگی اور آخرت کے اعتبار سے بہتر ہے، تو اسے میرے لیے مقدر کر دے اور اسے میرے لیے آسان کر دے اور میری مدد کر، اور اگر یہ معاملہ (یہاں آدمی کام کا نام لے) میری زندگی اور میرے دین، میرے حق میں برا ہے، تو مجھے اس سے پھیر دے اور مجھے بھلائی کی قدرت عطا کر، وہ جہاں کہیں بھی ہو، تیری مدد کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 885]

886

Sahih Ibn Hibban #886

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمْزَةُ بْنُ طِلْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْمُفَضَّلِ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَمْرًا فَلْيَقُلِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلا أَقْدِرُ ، وَتَعْلَمُ وَلا أَعْلَمُ ، وَأَنْتَ عَلامُ الْغُيُوبِ . اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ كَذَا وَكَذَا خَيْرًا لِي فِي دِينِي ، وَخَيْرًا لِي فِي مَعِيشَتِي ، وَخَيْرًا لِي فِي عَاقِبَةِ أَمْرِي ، فَاقْدُرْهُ لِي وَبَارِكْ لِي فِيهِ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرُ ذَلِكَ خَيْرًا لِي ، فَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ مَا كَانَ ، وَرَضِّنِي بِقَدَرِكَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو الْمُفَضَّلِ اسْمُهُ : شِبْلُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مُسْتَقِيمُ الأَمْرِ فِي الْحَدِيثِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص کسی کام کا ارادہ کرے تو اسے یہ پڑھنا چاہیے: اے اللہ! میں تیرے علم کے مطابق تجھ سے علم طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے مطابق تجھ سے مدد مانگتا ہوں، اور تیرے عظیم فضل کا تجھ سے سوال کرتا ہوں۔ بے شک، تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا، تو علم رکھتا ہے اور میں علم نہیں رکھتا، تو غیوب کا بہت زیادہ علم رکھنے والا ہے۔ اے اللہ! اگر یہ معاملہ میرے دین کے حق میں میرے لیے بہتر ہے، زندگی کے حق میں میرے لیے بہتر ہے، آخرت کے حق میں میرے لیے بہتر ہے، تو اسے میرے لیے مقدر کر دے، میرے لیے اس میں برکت پیدا کر دے اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور معاملہ میرے لیے بہتر ہے، تو بہتر والے معاملے کو میرے لیے مقدر کر دے وہ جہاں کہیں بھی ہو اور مجھے اپنے فیصلے سے راضی کر دے۔“ امام ابوحاتم بیان کرتے ہیں: ابومفضل بیان کرتے ہیں کہ مفضل نامی راوی کا نام شبل بن علا بن حاکم ہے اور یہ حدیث میں مستقیم الامر ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوالمفضل کا نام شبل بن العلاء بن عبدالرحمن ہے، اور یہ حدیث میں مستقیم الامر ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 886]""

887

Sahih Ibn Hibban #887

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى يُعَلِّمُنَا الاسْتِخَارَةَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ ، يَقُولُ : إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالأَمْرِ ، فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ ، ثُمَّ لِيَقُلِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلا أَقْدِرُ ، وَتَعْلَمُ وَلا أَعْلَمُ ، وَأَنْتَ عَلامُ الْغُيُوبِ . اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ هَذَا الأَمْرَ يُسَمِّيهِ بِعَيْنِهِ خَيْرًا لِي فِي دِينِي ، وَمَعَاشِي ، وَعَاقِبَةِ أَمْرِي ، فَقَدِّرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي وَبَارِكْ فِيهِ ، وَإِنْ كَانَ شَرًّا لِي فِي دِينِي وَمَعَادِي وَمَعَاشِي ، وَعَاقِبَةِ أَمْرِي ، فَاصْرِفْهُ عَنِّي ، وَاصْرِفْنِي عَنْهُ ، وَقَدِّرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ، وَرَضِّنِي بِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں استخارہ کی تعلیم اسی طرح دیا کرتے تھے جس طرح آپ ہمیں قرآن کی تعلیم دیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے: ”جب بھی کوئی شخص کسی کام کو کرنے کا ارادہ کرے، تو پہلے دو رکعات نفل ادا کرے پھر وہ یہ دعا مانگے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي -أَوْ قَالَ: عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ- فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي -أَوْ قَالَ: فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ- فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ أَرْضِنِي بِهِ» ”اے اللہ! میں تیرے علم کے ذریعے تجھ سے بھلائی طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے ذریعے تجھ سے صلاحیت طلب کرتا ہوں، تیرے عظیم فضل کا تجھ سے سوال طلب کرتا ہوں، تو قدرت رکھتا ہے میں قدرت نہیں رکھتا، تو علم رکھتا ہے اور میں علم نہیں رکھتا، تو غیوب کا بہت زیادہ علم رکھنے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ یہ کام (یہاں وہ اس کام کا نام لے) میرے دین، میری زندگی اور میرے حق میں آخرت کے حوالے سے بہتر ہے، تو اسے میرے لیے مقدر کر دے، اسے میرے لیے آسان کر دے، اس میں برکت رکھ دے؛ اور اگر یہ میرے دین، میری آخرت، میری زندگی اور میری عاقبت کے حوالے سے میرے حق میں برا ہے، تو پھر اسے مجھ سے پھیر دے اور میرے لیے بھلائی کو مقدر کر دے، خواہ وہ جہاں کہیں بھی ہو اور مجھے اس سے راضی کر دے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 887]

888

Sahih Ibn Hibban #888

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ، حدثني أبي عَنْ أَبِيهِ ، وَعَنْ عَمِّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا رَأَى الْهِلالَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالأَمْنِ وَالإِيمَانِ ، وَالسَّلامَةِ وَالإِسْلامِ ، وَالتَّوْفِيقِ لِمَا نُحِبُّ وَتَرْضَى ، رَبُّنَا وَرَبُّكَ اللَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پہلی کا چاند دیکھتے تھے تو یہ دعا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ وَالتَّوْفِيقِ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضَى، رَبُّنَا وَرَبُّكَ اللَّهُ» ”اے اللہ! تو اسے ہم پر امن و ایمان، سلامتی اور اسلام کے ہمراہ طلوع کر دے اور اس چیز کے ہمراہ جسے تو پسند کرتا ہو، جس سے تو راضی ہو (اے چاند!) ہمارا اور تمہارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 888]

889

Sahih Ibn Hibban #889

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا سَأَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيُكْثِرْ ، فَإِنَّهُ يَسْأَلُ رَبَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص کچھ مانگے، تو کثرت سے مانگے کیونکہ وہ اپنے پروردگار سے سوال کر رہا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 889]

890

Sahih Ibn Hibban #890

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ يُسَيْعٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ " ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ : ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: «الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ» ”دعا ہی عبادت ہے“ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ﴾ [سورة غافر: 60] ”تم لوگ مجھ سے دعا مانگو میں تمہاری دعا کو قبول کروں گا۔ بے شک جو لوگ میری عبادت سے تکبر اختیار کرتے ہیں، وہ عنقریب رسوا ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 890]

891

Sahih Ibn Hibban #891

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعَ رَجُلا ، يَقُولُ :اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّكَ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ ، الأَحَدُ ، الصَّمَدُ ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ بِالاسْمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى ، وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ» ”اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، بے شک میں تجھے اس بات کا گواہ بناتا ہوں کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو ایک ہے، صمد ہے، ﴿لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ۞ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 3-4] جس نے کسی کو جنم نہیں دیا اور نہ ہی اسے (کسی سے) جنم دیا گیا اور جس کا کوئی ہمسر نہیں ہے“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے اس اسم کے ذریعے دعا مانگ لی ہے، جب اس کے وسیلے سے مانگا جائے، تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے اور دعا کی جائے، تو اللہ تعالیٰ دعا قبول کرتا ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 891]

892

Sahih Ibn Hibban #892

أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السِّكِّينِ الْبَلَدِيُّ بِوَاسِطَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ الرَّهَاوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي يَدْعُو ، يَقُولُ :اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّكَ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ الأَحَدُ الصَّمَدُ ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الأَعْظَمِ ، الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى ، وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ " ، وَإِذَا رَجُلٌ يَقْرَأُ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ أُعْطِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ ، وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ " . قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أُخْبِرُهُ ؟ فَقَالَ : " أَخْبِرْهُ "، فَأَخْبَرْتُ أَبَا مُوسَى ، فَقَالَ : لَنْ تَزَالَ لِي صَدِيقًا . قَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ : فَحَدَّثْتُ بِهِ زُهَيْرَ بْنَ مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ السَّبِيعِيَّ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مسجد میں داخل ہوئے، وہاں ایک شخص نماز ادا کر رہا تھا اور دعا مانگ رہا تھا، وہ یہ کہہ رہا تھا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، الْأَحَدُ الصَّمَدُ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ، وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ» ”اے اللہ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں اور میں تجھے گواہ بنا کے یہ کہتا ہوں کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو ایک ہے اور صمد ہے، جس نے کسی کو نہیں جنم دیا اور نہ ہی اسے جنم دیا گیا نہ ہی کوئی اس کا ہم سر ہے۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اس نے اللہ تعالیٰ کے اس اسم کے ذریعے مانگا ہے کہ جب اس کے وسیلے سے مانگا جائے، تو وہ عطا کرتا ہے، جب اس کے وسیلے سے دعا مانگی جائے، تو وہ دعا کو قبول کرتا ہے۔“ پھر ایک شخص مسجد کے پہلو میں قرأت کر رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس شخص کو سیدنا داؤد علیہ السلام کی سی خوش الحانی عطا کی گئی ہے۔“ یہ عبداللہ بن قیس (یعنی ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اسے بتا دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے بتا دو۔“ میں نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو یہ بات بتائی، تو انہوں نے فرمایا: تم ہمیشہ میرے دوست رہو گے۔ زید بن حباب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے یہ روایت زہیر بن معاویہ رحمہ اللہ کو سنائی، تو انہوں نے کہا: میں نے ابواسحاق سبیعی رحمہ اللہ کو یہ حدیث مالک بن مغول رحمہ اللہ کے حوالے سے روایت کرتے ہوئے سنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 892]

893

Sahih Ibn Hibban #893

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ ابْنُ أَخِي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْحَلْقَةِ ، وَرَجُلٌ قَائِمٌ يُصَلِّي ، فَلَمَّا رَكَعَ سَجَدَ وَتَشَهَّدَ ، دَعَا ، فَقَالَ فِي دُعَائِهِ :اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ الْحَنَّانُ الْمَنَّانُ ، بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ ، يَا ذَا الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ ، يَا حَيُّ يَا قَيَّامُ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَدْرُونَ بِمَا دَعَا ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَقَدْ دَعَا بِاسْمِهِ الْعَظِيمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : حَفْصٌ هَذَا : هُوَ حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَخُو إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ لأُمِّهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا، ایک شخص نماز ادا کر رہا تھا، جب وہ رکوع میں گیا، اس نے سجدہ کیا اور تشہد پڑھ لیا، تو پھر اس نے دعا مانگتے ہوئے یہ کہا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، الْحَنَّانُ الْمَنَّانُ، بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ» ”اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں بے شک حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، تو حنان اور منان ہے (بڑا مہربان اور احسان کرنے والا ہے)، آسمان اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے، اے جلال اور اکرام والے! اے زندہ اور ہر چیز کے قائم رکھنے والے! اے اللہ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ یہ شخص کس کے وسیلے سے دعا مانگ رہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اس نے اس عظیم اسم کے واسطے سے دعا مانگی ہے کہ جب اس کے واسطے سے دعا مانگی جائے، تو اللہ تعالیٰ دعا کو قبول کرتا ہے اور جب اس کے واسطے سے کوئی چیز مانگی جائے، تو اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) حفص نامی راوی حفص بن عبداللہ بن ابوطلحہ ہے، جو اسحاق کا بھائی ہے، اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی والدہ کی طرف سے شریک بھائی کا بیٹا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 893]

894

Sahih Ibn Hibban #894

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نَسِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِيَسْأَلَ أَحَدُكُمْ رَبَّهُ حَاجَتَهُ كُلَّهَا ، حَتَّى شِسْعَ نَعْلِهِ إِذَا انْقَطَعَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ہر شخص کو اپنی تمام حاجات اپنے پروردگار سے مانگنی چاہییں، یہاں تک کہ جب اس کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے، تو وہ بھی اللہ تعالیٰ سے مانگنا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 894]

895

Sahih Ibn Hibban #895

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى بِخَبَرٍ غَرِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نَسِيرٍ الصَّيْرَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِيَسْأَلْ أَحَدُكُمْ رَبَّهُ حَاجَتَهُ كُلَّهَا ، حَتَّى شِسْعَ نَعْلِهِ إِذَا انْقَطَعَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم میں سے ہر ایک کو اپنی حاجات اپنے پروردگار سے مانگنی چاہئیں، یہاں تک کہ جب اس کے جوتے کا (تسمہ) ٹوٹ جائے، تو وہ بھی اللہ تعالیٰ سے مانگنا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 895]