Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 8 · Chapter 2

The Book of Heart-Softeners

Hadith 822–861

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

822

Sahih Ibn Hibban #822

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ : فَقَالَ : بِسْمِ اللَّهِ ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ ، لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ ، فَيُقَالُ لَهُ : حَسْبُكَ قَدْ كُفِيتَ وَهُدِيتَ وَوُقِيتَ . فَيَلْقَى الشَّيْطَانُ شَيْطَانًا آخَرَ فَيَقُولُ لَهُ : كَيْفَ لَكَ بِرَجُلٍ قَدْ كُفِيَ وَهُدِيَ وَوُقِيَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص اپنے گھر سے نکلتے ہوئے یہ کہتا ہے: «بِسْمِ اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے، میں نے اللہ پر بھروسا کیا، اور اللہ کی مدد کے بغیر نہ (گناہوں سے) بچنے کی طاقت ہے اور نہ (نیکی کرنے کی) قوت۔“ تو اس سے کہا جاتا ہے: ”تمہاری رہنمائی کر دی گئی، تمہاری کفایت کر دی گئی اور تمہاری حفاظت کر لی گئی“، تو شیطان اس سے دور ہو جاتا ہے، پھر دوسرا شیطان اس سے کہتا ہے: ”تم اس شخص پر کیسے قابو پا سکتے ہو جس کی رہنمائی کر دی گئی ہو، جس کی کفایت کر دی گئی ہو اور جس کی حفاظت کر لی گئی ہو؟““ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 822]

823

Sahih Ibn Hibban #823

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْبُخَارِيِّ ، بِبَغْدَادَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الصُّوَرِ قَدِ الْتَقَمَ الْقَرْنَ ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ أَنْ يَنْفُخَ ؟ " قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا نَقُولُ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : " قُولُوا : حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ بِإِسْنَادٍ نَحْوِهِ ، قَالَ : " قُولُوا : حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ، عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میں کیسے نعمت میں رہ سکتا ہوں جبکہ (صور میں) پھونک مارنے والے نے اپنا منہ صور کے ساتھ لگایا ہوا ہے اور اس نے اپنی پیشانی کو اس بات کے انتظار میں تیار رکھا ہوا ہے کہ کب اسے پھونک مارنے کا حکم ہوتا ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ ہم نے کہا: یا رسول اللہ! ہمیں پھر اس دن کیا کہنا چاہیے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ کہو: «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ”ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کافی ہے، وہ بہترین کارساز ہے“۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابویعلی نے اپنی سند کے ساتھ اسی کی مانند روایت نقل کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا» ”تم لوگ یہ کہو: ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے اور ہم اللہ تعالیٰ پر ہی توکل کرتے ہیں“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 823]

824

Sahih Ibn Hibban #824

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كُنَّا نَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَرَرْنَا عَلَى قَبْرَيْنِ ، فَقَامَ ، فَقُمْنَا مَعَهُ ، فَجَعَلَ لَوْنُهُ يَتَغَيَّرُ حَتَّى رَعَدَ كُمُّ قَمِيصِهِ ، فَقُلْنَا : مَا لَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : مَا تَسْمَعُونَ مَا أَسْمَعُ ؟ " قُلْنَا : وَمَا ذَاكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " هَذَانِ رَجُلانِ يُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا عَذَابًا شَدِيدًا فِي ذَنْبٍ هَيِّنٍ " ، قُلْنَا : مِمَّ ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " كَانَ أَحَدُهُمَا لا يَسْتَنْزِهُ مِنَ الْبَوْلِ ، وَكَانَ الآخَرُ يُؤْذِي النَّاسَ بِلِسَانِهِ ، وَيَمْشِي بَيْنَهُمْ بِالنَّمِيمَةِ " ، فَدَعَا بِجَرِيدَتَيْنِ مِنْ جَرَائِدِ النَّخْلِ ، فَجَعَلَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً . قُلْنَا : وَهَلْ يَنْفَعُهُمَا ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، يُخَفِّفُ عَنْهُمَا مَا دَامَا رَطْبَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے، ہمارا گزر دو قبروں کے پاس سے ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر گئے، ہم بھی آپ کے ساتھ ٹھہر گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رنگت تبدیل ہو گئی، یہاں تک کہ آپ کی قمیض کی آستین کپکپانے لگی۔ ہم نے دریافت کیا: ”اے اللہ کے نبی! آپ کو کیا ہوا ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو میں سن رہا ہوں کیا تم بھی وہ سن رہے ہو؟“ ہم نے دریافت کیا: ”اے اللہ کے نبی! وہ کیا چیز ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دو لوگوں کو ان کی قبروں میں دو ہلکے گناہوں کی وجہ سے شدید عذاب ہو رہا ہے۔“ ہم نے عرض کی: ”اے اللہ کے نبی! اس کی وجہ کیا ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے ایک شخص پیشاب سے بچتا نہیں تھا، اور دوسرا شخص اپنی زبان کے ذریعے لوگوں کو اذیت پہنچاتا تھا اور ان کے درمیان چغلی کیا کرتا تھا۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی شاخوں میں سے دو شاخیں منگوائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک کی قبر پر اسے گاڑ دیا۔ ہم نے دریافت کیا: ”یا رسول اللہ! کیا ان دونوں کو اس کا کوئی فائدہ ہو گا؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”جی ہاں، جب تک یہ دونوں خشک نہیں ہو جاتیں ان کے عذاب میں تخفیف رہے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 824]

825

Sahih Ibn Hibban #825

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى الْجُهَنِيُّ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَيَعْجَزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكْتَسِبَ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ ؟ " فَسَأَلَهُ نَاسٌ مِنْ جُلَسَائِهِ : وَكَيْفَ يَكْتَسِبُ أَحَدُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ ؟ قَالَ : " يُسَبِّحُ اللَّهَ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ ، فَيَكْتُبُ اللَّهُ لَهُ أَلْفَ حَسَنَةٍ ، وَيَحُطُّ عَنْهُ أَلْفَ سَيِّئَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن سعد اپنے والد سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا کوئی شخص یہ کر سکتا ہے کہ روزانہ ایک ہزار نیکیاں کمایا کرے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے کوئی شخص روزانہ ایک ہزار نیکیاں کیسے کما سکتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ سو مرتبہ پڑھے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک ہزار نیکیاں لکھ لے گا وہ اس کے ایک ہزار گناہوں کو مٹا دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 825]

826

Sahih Ibn Hibban #826

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، غُرِسَتْ لَهُ بِهِ نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ» پڑھتا ہے اس کے لیے جنت میں کھجور کا درخت لگا دیا جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 826]

827

Sahih Ibn Hibban #827

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودٍ السَّعْدِيُّ بِمَرْوَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ ، غُرِسَ لَهُ شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص «سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ» ”پاک ہے اللہ عظمت والا“ پڑھتا ہے، اس کے لیے جنت میں ایک درخت لگا دیا جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 827]

828

Sahih Ibn Hibban #828

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ كُرَيْبًا يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، قَالَتْ : أَتَى عَلَيَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُسَبِّحُ ، ثُمَّ انْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ ، ثُمَّ رَجَعَ مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ ، فَقَالَ : مَا زِلْتِ قَاعِدَةً ؟ " ، قَالَتْ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ :" أَلا أُعَلِّمُكِ كَلِمَاتٍ لَوْ عُدِلْنَ بِهِنَّ عَدَلَتْهُنَّ ، أَوْ لَوْ وُزِنَّ بِهِنَّ وَزَنَتْهُنَّ ؟ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں اس وقت تسبیح پڑھ رہی تھی۔ پھر آپ اپنے کام کے سلسلے میں تشریف لے گئے، پھر دوپہر کے وقت آپ واپس تشریف لائے تو آپ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم اس وقت سے اب تک بیٹھی ہوئی ہو؟“ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے جواب دیا: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسے کلمات کی تعلیم نہ دوں اگر (انہیں تمہارے پڑھے ہوئے کلمات) کے ساتھ ملایا جائے تو وہ زیادہ ہوں اور اگر ان کا وزن ان کے وزن کے ساتھ ملایا جائے تو وہ زیادہ وزنی ہوں (وہ کلمات یہ ہیں:) «سُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ خَلْقِهِ» ”اللہ تعالیٰ کی میں اتنی پاکی بیان کرتا ہوں جو اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر ہو۔“ یہ تین مرتبہ پڑھنا ہے، «سُبْحَانَ اللّٰهِ زِنَةَ عَرْشِهِ» ”میں اللہ تعالیٰ کی اتنی پاکی بیان کرتا ہوں، جو اس کے عرش کے وزن جتنی ہو۔“ یہ تین مرتبہ پڑھنا ہے، «سُبْحَانَ اللّٰهِ رِضَا نَفْسِهِ» ”(میں اللہ تعالیٰ کی اتنی پاکی بیان کرتا ہوں جو اس کی ذات کی رضامندی کے مطابق ہو)“ یہ تین مرتبہ پڑھنا ہے اور «سُبْحَانَ اللّٰهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ» ”میں اس کی اتنی پاکی بیان کرتا ہوں جو اس کے کلمات کی سیاہی جتنی ہو)“ یہ تین مرتبہ پڑھنا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 828]

829

Sahih Ibn Hibban #829

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبَجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ ، حُطَّتْ خَطَايَاهُ ، وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص روزانہ سو مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ» ”پاک ہے اللہ اور اپنی تعریف کے ساتھ ہے“ پڑھتا ہے اس کے گناہ ختم کر دیے جاتے ہیں، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 829]

830

Sahih Ibn Hibban #830

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ ، فَقَالَ : مَاذَا تَقُولُ يَا أَبَا أُمَامَةَ ؟ " قَالَ : أَذْكُرُ رَبِّي ، قَالَ :" أَلا أُخْبِرُكَ بِأَكْثَرَ أَوْ أَفْضَلَ مِنْ ذِكْرِكَ اللَّيْلَ مَعَ النَّهَارِ وَالنَّهَارَ مَعَ اللَّيْلِ ؟ أَنْ تَقُولَ : سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ مِلْءَ مَا خَلَقَ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا فِي الأَرْضِ وَالسَّمَاءِ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ مِلْءَ مَا فِي الأَرْضِ وَالسَّمَاءِ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ كُلِّ شَيْءٍ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ مِلْءَ كُلِّ شَيْءٍ ، وَتَقُولُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، وہ اس وقت اپنے ہونٹوں کو حرکت دے رہے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے ابو امامہ! تم کیا پڑھ رہے ہو؟“ انہوں نے عرض کی: ”میں اپنے پروردگار کا ذکر کر رہا ہوں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں نہ بتاؤں جو تمہارے دن کے ہمراہ تمہارے رات بھر ذکر کرنے اور تمہارے رات کے ہمراہ دن بھر ذکر کرنے سے زیادہ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) افضل ہوں؟ تم یہ پڑھو: «سُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ، وَسُبْحَانَ اللّٰهِ مِلْءَ مَا خَلَقَ، وَسُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ مَا فِي الْأَرْضِ وَالسَّمَاءِ، وَسُبْحَانَ اللّٰهِ مِلْءَ مَا فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَسُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ، وَسُبْحَانَ اللّٰهِ مِلْءَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ، وَسُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ كُلِّ شَيْءٍ، وَسُبْحَانَ اللّٰهِ مِلْءَ كُلِّ شَيْءٍ» ”میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر ہو، میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو اس کی مخلوق کو بھر دے، میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو آسمان اور زمین کے درمیان والی جگہ کو بھر دے، میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو اتنی تعداد میں ہو جس کو اس کی کتاب نے گھیرا ہوا ہے، اور میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو ہر شے کی تعداد جتنی ہو، اور میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو ہر چیز کو بھر دے۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:) ”الحمد للہ بھی اس کی مانند پڑھو۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 830]

831

Sahih Ibn Hibban #831

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ، حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”دو کلمات ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، رحمان کے نزدیک پسندیدہ ہیں، میزان میں وہ بھاری ہوں گے، وہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ» ”پاک ہے اللہ اپنی تعریفوں کے ساتھ، پاک ہے اللہ نہایت عظمت والا ہے“ ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 831]

832

Sahih Ibn Hibban #832

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى صَلاةِ الصُّبْحِ ، وَجُوَيْرِيَةُ جَالِسَةٌ فِي الْمَسْجِدِ ، فَرَجَعَ حِينَ تَعَالَى النَّهَارُ ، فَقَالَ : لَنْ تَزَالِي جَالِسَةً بَعْدِي ؟ " ، قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ :" لَقَدْ قُلْتُ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ لَوْ وُزِنَتْ بِهِنَّ لَوَزَنَتْهُنَّ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ ، وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ ، وَرِضَا نَفْسِهِ ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : جُوَيْرِيَةُ هِيَ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے لیے تشریف لے گئے۔ اس وقت سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا اپنی جائے نماز پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ دن چڑھنے کے بعد جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم میرے بعد اسی طرح بیٹھی رہی ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے چار کلمات پڑھے تھے، اگر ان کا وزن ان کلمات کے ساتھ کیا جائے جو تم نے کہے ہیں، تو وہ کلمات وزنی ہوں گے: «سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَا نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ، وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ» ”میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں اور اس کے ہمراہ اس کی حمد بیان کرتا ہوں جو اس کی مخلوق کی تعداد جتنی ہے، اس کی ذات کی رضا کے مطابق، اس کے عرش کے وزن جتنی اور اس کے کلمات کی سیاہی جتنی ہے۔““ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جویریہ (نامی خاتون) جناب حارث بن عبدالمطلب کی صاحبزادی ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 832]

833

Sahih Ibn Hibban #833

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ زَبْرٍ ، وَابْنُ جَابِرٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَبُو سَلامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلْمَى رَاعِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَقِيتُهُ بِالْكُوفَةِ فِي مَسْجِدِهَا ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : بَخٍ بَخٍ ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ بِخَمْسٍمَا أَثْقَلَهُنَّ فِي الْمِيزَانِ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَالْوَلَدُ الصَّالِحُ يُتَوَفَّى لِلْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فَيَحْتَسِبُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسلمی رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے ہیں، میری ان سے ملاقات کوفہ کی مسجد میں ہوئی، تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی۔ وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک سے پانچ کا اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”بہت خوب، بہت خوب، (یہ پانچ چیزیں) میزان میں کتنی وزنی ہیں۔ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“، «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد للہ“، «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”لا الہ الا اللہ“ اور «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ پڑھنا اور یہ کہ کسی مسلمان کا نیک بچہ فوت ہو جائے اور وہ اس پر ثواب کی امید رکھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 833]

834

Sahih Ibn Hibban #834

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ ، بِأَرْغِيَانَ بِقَرْيَةِ سَبَنْجَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لأَنْ أَقُولَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ پاک ہے، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھنا میرے نزدیک ہر اس چیز سے زیادہ پسندیدہ ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 834]

835

Sahih Ibn Hibban #835

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّأَحَبَّ الْكَلامِ إِلَى اللَّهِ أَرْبَعٌ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کلام چار کلمات ہیں: «سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ پاک ہے، سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 835]

836

Sahih Ibn Hibban #836

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرُ الْكَلامِ أَرْبَعٌ ، لا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”سب سے بہترین کلام چار کلمات ہیں، تمہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا، ان میں سے کسی کے ذریعے بھی آغاز کر لو: «سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ پاک ہے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 836]

837

Sahih Ibn Hibban #837

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلالٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهَا ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ فِي يَدِهَا نَوًى أَوْ حَصًى تُسَبِّحُ ، فَقَالَ : أَلا أُخْبِرُكِ بِمَا هُوَ أَيْسَرُ عَلَيْكِ مِنْ هَذَا وَأَفْضَلُ ؟ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الأَرْضِ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عائشہ بنت سعد بن ابی وقاص اپنے والد سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا بیان نقل کرتی ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک خاتون کے پاس تشریف لے گئے جن کے ہاتھ میں گٹھلیاں تھیں جن پر وہ گن کر تسبیحات پڑھ رہی تھیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں نہ بتاؤں جو تمہارے لئے زیادہ آسان اور زیادہ فضیلت والی ہو (وہ یہ کلمات ہیں) «سُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ» ”میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو ان چیزوں کی تعداد کے مطابق ہو جنہیں آسمان میں پیدا کیا“، «سُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الْأَرْضِ» ”میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو ان چیزوں کی تعداد کے مطابق ہو جنہیں زمین میں پیدا کیا“، «سُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ» ”پاکی بیان کرتا ہوں ان چیزوں کی تعداد کے برابر جنہیں پیدا کرنا ہے“، پھر تم «اللهُ أَكْبَرُ» بھی اسی کی مانند کہو، «الْحَمْدُ لِلَّهِ» بھی اس کی مانند کہو، «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» بھی اسی کی مانند کہو اور «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» بھی اسی کی مانند پڑھو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 837]

838

Sahih Ibn Hibban #838

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالأَجْرِ ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي ، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ ، وَيَتَصَدَّقُونَ بِفُضُولِ أَمْوَالِهِمْ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَولَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ مَا تَتَصَدَّقُونَ بِهِ ، كُلُّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ ، وَكُلُّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ ، وَكُلُّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ ، وَكُلُّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ ، وَأَمْرٌ بِمَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ ، وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: ”یا رسول اللہ! صاحبِ حیثیت لوگ اجر لے گئے ہیں۔ وہ نماز ادا کرتے ہیں جس طرح ہم نماز ادا کرتے ہیں، وہ اسی طرح روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم روزے رکھتے ہیں، لیکن وہ اپنے اضافی مال کو صدقہ کر دیتے ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے وہ چیز نہیں بنائی جسے تم صدقہ کیا کرو؟ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہنا صدقہ ہے، «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہنا صدقہ ہے، «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے“ کہنا صدقہ ہے، «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ پڑھنا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے اور برائی سے منع کرنا صدقہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 838]

839

Sahih Ibn Hibban #839

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفْضَلُ الْكَلامِ أَرْبَعٌ ، لا تُبَالِي بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”سب سے زیادہ فضیلت والا کلام چار کلمات ہیں، تم اس بات کی پرواہ نہ کرو کہ کس کے ذریعے آغاز کرتے ہو: «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اپنی تعریف کے ساتھ پاک ہے، اللہ عظیم پاک ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے“۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 839]

840

Sahih Ibn Hibban #840

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اسْتَكْثِرُوا مِنَ الْبَاقِيَاتِ الصَّالِحَاتِ " قِيلَ : وَمَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " التَّكْبِيرُ ، وَالتَّهْلِيلُ ، وَالتَّسْبِيحُ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”باقی رہنے والی نیکیوں کی کثرت کرو۔“ عرض کی گئی: یا رسول اللہ! اس سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد «سُبْحَانَ اللهِ»، «الْحَمْدُ لِلّٰهِ»، «اللهُ أَكْبَرُ» اور «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ» پڑھنا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 840]

841

Sahih Ibn Hibban #841

أَخْبَرَنَا عَزُّوزُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَابِدُ بِطَرَسُوسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ الْبَحْرَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”دو کلمات ایسے ہیں جو زبان پر آسان ہیں اور میزان میں وزنی ہوں گے۔ (وہ یہ ہیں:) «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ» ”اللہ اپنی تعریف کے ساتھ پاک ہے۔“” [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 841]

842

Sahih Ibn Hibban #842

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ هَانِئَ بْنَ عُثْمَانَ ، عَنْ أُمِّهِ حُمَيْضَةَ بِنْتِ يَاسِرٍ ، عَنْ جَدَّتِهَا يَسِيرَةَ وَكَانَتْ إِحْدَى الْمُهَاجِرَاتِ ، قَالَتْ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَيْكُنَّ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّقْدِيسِ ، وَاعْقِدْنَ بِالأَنَامِلِ ، فَإِنَّهُنَّ مَسْئُولاتٌ وَمُسْتَنْطَقَاتٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حمیضہ بنت یاسر اپنی دادی سیدہ یسیرہ رضی اللہ عنہا کا بیان نقل کرتی ہیں، وہ ہجرت کرنے والی خواتین میں سے ایک تھیں، وہ بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”تم خواتین «التَّسْبِيحَ» ”تسبیح“، «التَّهْلِيلَ» ”تہلیل“ اور «التَّقْدِيسَ» ”تقدیس“ پڑھا کرو اور اپنی انگلیوں کے پوروں پر انہیں شمار کیا کرو، کیونکہ ان سے سوال کیا جائے گا اور انہیں گویائی عطا کی جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 842]

843

Sahih Ibn Hibban #843

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَعْقِدُ التَّسْبِيحَ بِيَدِهِ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دستِ مبارک پر تسبیح شمار کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 843]

844

Sahih Ibn Hibban #844

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، عَنْ أَخِيهِ زَيْدِ بْنِ سَلامٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلامٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الأَشْعَرِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ شَطْرُ الإِيمَانِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلأُ الْمِيزَانَ ، وَالتَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ مِلْءُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ ، وَالصَّلاةُ نُورٌ ، وَالزَّكَاةُ بُرْهَانٌ ، وَالصَّدَقَةُ ضِيَاءٌ ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ ، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو ، فَبَائِعٌ نَفْسَهُ ، فَمُعْتِقُهَا ، أَوْ مُوبِقُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اچھی طرح وضو کرنا نصف ایمان ہے، «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمدللہ“ پڑھنا میزان کو بھر دیتا ہے، «سُبْحَانَ اللّٰهِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”سبحان اللہ، الحمدللہ، اللہ اکبر“ پڑھنا آسمانوں اور زمین کے (درمیان کی جگہ کو) بھر دیتا ہے، نماز نور ہے، زکوۃ برہان ہے، صدقہ روشنی ہے، قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے، ہر شخص نکلتا ہے اور وہ اپنے آپ کا سودا کرتا ہے، تو یا تو خود کو آزاد کروا لیتا ہے یا خود کو غلام بنا لیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 844]

845

Sahih Ibn Hibban #845

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ حَفْصٍ ابْنِ أَخِي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَلْقَةِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ ، فَقَالَ : السَّلامُ عَلَيْكُمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَعَلَيْكُمُ السَّلامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ " . فَلَمَّا جَلَسَ ، قَالَ :الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ قُلْتَ ؟ " فَرَدَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا قَالَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَقَدِ ابْتَدَرَهَا عَشَرَةُ أَمْلاكٍ كُلُّهُمْ حَرِيصٌ عَلَى أَنْ يَكْتُبُوهَا ، فَمَا دَرَوْا كَيْفَ يَكْتُبُونَهَا ، فَرَجَعُوهُ إِلَى ذِي الْعِزَّةِ جَلَّ ذِكْرُهُ ، فَقَالَ : اكْتُبُوهَا كَمَا قَالَ عَبْدِي ". قَالَ الشَّيْخُ : مَعْنَى " قَالَ عَبْدِي " فِي الْحَقِيقَةِ أَنِّي قَبِلْتُهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا، اس دوران ایک شخص آیا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور حاضرین کو بھی سلام کیا، اس نے کہا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ» “ یا وہ شخص بیٹھ گیا تو اس نے کہا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى» ”اللہ تعالیٰ کے لیے ہر طرح کی حمد مخصوص ہے، ایسی حمد جو زیادہ ہو، پاک ہو، اس میں برکت موجود ہو، جسے ہمارا پروردگار پسند کرے“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے دریافت کیا: ”تم نے کیا کلمات کہے ہیں؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ کلمات اس نے دوبارہ دہرا دیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، بارہ فرشتے تیزی سے اس کی طرف لپکے تھے، ان میں سے ہر ایک کی یہ خواہش تھی کہ وہ اسے نوٹ کر لے، پھر انہیں یہ سمجھ نہیں آئی کہ وہ اسے کیسے نوٹ کریں، وہ واپس اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گئے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم اسے ایسے نوٹ کر لو جس طرح میرے بندے نے کہے ہیں“، شیخ کہتے ہیں: ”میرے بندے نے کہا“ کا مطلب درحقیقت یہ ہے کہ میں نے اس کو قبول کر لیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 845]

846

Sahih Ibn Hibban #846

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الأَنْصَارِيُّ ، مِنْ وَلَدِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : أَفْضَلُ الذِّكْرِ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَفْضَلُ الدُّعَاءِ الْحَمْدُ لِلَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”سب سے افضل ذکر «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اور سب سے افضل دعا «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 846]

847

Sahih Ibn Hibban #847

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُرَيْجٍ النَّقَّالُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا مَرَرْتُمْ بِقُبُورِنَا وَقُبُورِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَأَخْبِرُوهُمْ أَنَّهُمْ فِي النَّارِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَمَرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْخَبَرِ الْمُسْلِمَ إِذَا مَرَّ بِقَبْرِ غَيْرِ الْمُسْلِمِ ، أَنْ يَحْمَدَ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا عَلَى هِدَايَتِهِ إِيَّاهُ الإِسْلامَ ، بِلَفْظِ الأَمْرِ بِالإِخْبَارِ إِيَّاهُ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يُخَاطَبَ مَنْ قَدْ بَلِيَ بِمَا لا يَقْبَلُ عَنِ الْمُخَاطِبِ بِمَا يُخَاطِبُهُ بِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

”جب تم زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والی ہماری اور اپنی یعنی (ہماری اور اپنے رشتے داروں) کی قبروں سے گزرو، تو انہیں بتا دو کہ وہ لوگ جہنم میں ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کو یہ حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی غیر مسلم کی قبر کے پاس سے گزرے تو اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اسلام کی ہدایت نصیب کی ہے۔ یہاں ”امر“ کے لفظ کے ذریعے اس بات کی اطلاع دی گئی ہے کہ وہ اہل جہنم (میں سے) ہیں؛ کیونکہ یہ بات ناممکن ہے کہ ان کو مخاطب کیا جائے جو بوسیدہ ہو چکے ہیں اور مخاطب کی طرف سے خطاب کو قبول نہیں کر سکتے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 847]

848

Sahih Ibn Hibban #848

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى :كَذَّبَنِي عَبْدِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ ، وَشَتَمَنِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ ، تَكْذِيبِي أَنْ يَقُولَ : أَنَّى يُعِيدُنَا كَمَا بَدَأْنَا ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ أَنْ يَقُولَ : اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا . وَإِنِّي الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے مجھے جھوٹا قرار دیا حالانکہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، اور اس نے مجھے برا کہا ہے، حالانکہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اس کا مجھے جھوٹا قرار دینا یہ ہے کہ وہ یہ کہے: اللہ تعالیٰ نے جیسے ہمیں پہلے پیدا کیا ہے دوبارہ ہمیں کیسے پیدا کرے گا؟ اس کا مجھے برا کہنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ہے، حالانکہ اس کا یہ کہنا جبکہ میں «الصَّمَدُ» ”صمد“ ہوں، میں نے کسی کو جنم نہیں دیا، مجھے جنم نہیں دیا گیا اور میرا کوئی ہمسر نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 848]

849

Sahih Ibn Hibban #849

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ ، كَانَتْ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ ، وَكُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ ، وَكَانَ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِكَ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلا أَحَدٌ عَمِلَ عَمَلا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص یہ کلمات پڑھتا ہے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے، بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے حمد اس کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے“، جو شخص روزانہ سو مرتبہ یہ کلمات پڑھ لے اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ہو گا، ایک سو نیکیاں لکھ لی جائیں گی، ایک سو گناہ مٹا دیے جائیں گے اور یہ بات اس دن میں شام تک شیطان سے اس کے بچاؤ کا ذریعہ بن جائے گی اور اس دن میں کسی بھی شخص نے اس شخص کے عمل سے افضل کوئی عمل نہیں کیا ہو گا ماسوائے اس شخص کے جس نے اس سے زیادہ تعداد میں اس کلمے کو پڑھا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 849]

850

Sahih Ibn Hibban #850

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ نَافِلَةُ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ زُبَيْدًا الإِيَامِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، عَشْرَ مَرَّاتٍ ، كَانَ كَعَدْلِ رَقَبَةٍ أَوْ نَسَمَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص دس مرتبہ یہ کلمہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے، کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہی اسی کی ہے، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے، وہ زندگی دیتا ہے اور وہ موت دیتا ہے، وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے“ پڑھتا ہے“، راوی کو شک ہے شاید (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے) یہ الفاظ ہیں: ”غلام آزاد کرنے (یا گردن آزاد کرنے) کی مانند ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 850]

851

Sahih Ibn Hibban #851

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وأبى هريرة ، قَالا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا قَالَ الْعَبْدُ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، صَدَّقَهُ رَبُّهُ ، قَالَ : صَدَقَ عَبْدِي ، لا إِلَهَ إِلا أَنَا ، وَأَنَا أَكْبَرُ . وَإِذَا قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ ، صَدَّقَهُ رَبُّهُ ، قَالَ : صَدَقَ عَبْدِي ، لا إِلَهَ إِلا أَنَا وَحْدِي . وَإِذَا قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، صَدَّقَهُ رَبُّهُ ، قَالَ : صَدَقَ عَبْدِي ، لا إِلَهَ إِلا أَنَا لا شَرِيكَ لِي . وَإِذَا قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ لَهُ الْمُلْكُ ، صَدَّقَهُ رَبُّهُ ، قَالَ : صَدَقَ عَبْدِي ، لا إِلَهَ إِلا أَنَا ، لِيَ الْمُلْكُ وَلِيَ الْحَمْدُ . وَإِذَا قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ ، صَدَّقَهُ رَبُّهُ ، قَالَ : صَدَقَ عَبْدِي ، لا إِلَهَ إِلا أَنَا ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب بندہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» پڑھتا ہے، تو پروردگار اس کی تصدیق بیان کرتا ہے: ”اس نے سچ کہا، میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں سب سے بڑا ہوں۔“ جب بندہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ» پڑھتا ہے، تو اس کا پروردگار اس کی تصدیق کرتے ہوئے فرماتا ہے: ”اس نے سچ کہا، میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، صرف میں معبود ہوں۔“ اور جب بندہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ» کہتا ہے، تو اس کا پروردگار اس کی تصدیق کرتا ہے: ”میرے بندے نے سچ کہا، میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میرا کوئی شریک نہیں ہے۔“ جب بندہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ» پڑھتا ہے، تو اس کا پروردگار اس کی تصدیق کرتے ہوئے فرماتا ہے: ”میرے بندے نے سچ کہا، میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، بادشاہی میرے لیے ہے اور حمد میرے لیے مخصوص ہے۔“ اور بندہ جب «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» پڑھتا ہے، تو اس کا پروردگار اس کی تصدیق کرتے ہوئے فرماتا ہے: ”میرے بندے نے سچ کہا، میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میری مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 851]

852

Sahih Ibn Hibban #852

أَخْبَرَنَا ابْنُ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي مَوْدُودٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ : بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الأَرْضِ وَلا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ، ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، لَمْ تَفْجَأْهُ فَاجِئَةُ بَلاءٍ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَإِنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي لَمْ تَفْجَأْهُ فَاجِئَةُ بَلاءٍ حَتَّى يُصْبِحَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص صبح کے وقت یہ پڑھ لے: «بِسْمِ اللّٰهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» ”اس اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جس کے اسم کے ہمراہ کوئی چیز زمین اور آسمان میں نقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہ سننے والا اور علم رکھنے والا ہے“ تو شام تک اسے کوئی اچانک آزمائش درپیش نہیں ہو گی اور اگر وہ شام کے وقت انہیں پڑھ لے گا تو صبح تک اسے کوئی آزمائش درپیش نہیں ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 852]

853

Sahih Ibn Hibban #853

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ إِلا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً ، وَمَا مَشَى أَحَدٌ مَمْشًى لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ فِيهِ إِلا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً ، وَمَا أَوَى أَحَدٌ إِلَى فِرَاشِهِ وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ فِيهِ إِلا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب بھی کوئی شخص کسی محفل میں اللہ کا ذکر نہیں کرتا، تو وہ اس کے لیے حسرت کا باعث ہوگی، جب کوئی شخص کسی راستے پر چلتا ہے اور وہ اس میں اللہ کا ذکر نہیں کرتا، تو وہ اس کے لیے حسرت کا باعث ہوگی اور جب کوئی شخص اپنے بستر پر جاتا ہے اور وہ اللہ کا ذکر نہیں کرتا، تو یہ اس کے لیے حسرت کا باعث ہوگی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 853]

854

Sahih Ibn Hibban #854

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَثَلُ الْبَيْتِ الَّذِي يُذْكَرُ اللَّهُ فِيهِ ، وَالْبَيْتِ الَّذِي لا يُذْكَرُ اللَّهُ فِيهِ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”وہ گھر جس میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے اور وہ گھر جس میں اللہ کا ذکر نہیں کیا جاتا، ان کی مثال زندہ اور مردہ شخص جیسی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 854]

855

Sahih Ibn Hibban #855

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَغَرِّ ، قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : مَا جَلَسَ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ ، إِلا حَفَّتْهُمُ الْمَلائِكَةُ ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ ، وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اغر کہتے ہیں: میں سیدنا ابوسعید خدری اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ ان دونوں حضرات نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کچھ لوگ اللہ کا ذکر کرتے ہیں، تو فرشتے ان کو ڈھانپ لیتے ہیں اور ان پر رحمت نازل ہوتی ہے اور ان لوگوں پر سکینت نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی بارگاہ میں موجود (فرشتوں) میں ان کا تذکرہ کرتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 855]

856

Sahih Ibn Hibban #856

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّلِلَّهِ مَلائِكَةً فُضُلا عَنْ كُتَّابِ النَّاسِ ، يَمْشُونَ فِي الطُّرُقِ ، يَلْتَمِسُونَ الذِّكْرَ ، فَإِذَا رَأَوْا أَقْوَامًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى تَنَادَوْا : هَلُمُّوا إِلَى حَاجَاتِكُمْ ، فَيَحُفُّونَ بِأَجْنِحَتِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ ، فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ جَلَّ وَعَلا ، وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ ، فَيَقُولُ : عِبَادِي مَا يَقُولُونَ ؟ فَيَقُولُونَ : يَا رَبِّ ، يُسَبِّحُونَكَ وَيَحْمَدُونَكَ ، فَيَقُولُ : هَلْ رَأَوْنِي ؟ فَيَقُولُونَ : لا ، فَيَقُولُ : كَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي ؟ فَيَقُولُونَ : لَوْ رَأَوْكَ لَكَانُوا أَشَدَّ تَسْبِيحًا وَتَمْجِيدًا وَتَكْبِيرًا وَتَحْمِيدًا ، فَيَقُولُ : مَاذَا يَسْأَلُونَ ؟ فَيَقُولُونَ : يَسْأَلُونَكَ يَا رَبِّ الْجَنَّةَ ، فَيَقُولُ لَهُمْ : هَلْ رَأَوْهَا ؟ فَيَقُولُونَ : لا ، فَيَقُولُ : كَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا ؟ فَيَقُولُونَ : لَوْ قَدْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ طَلَبًا وَأَشَدَّ حِرْصًا ، فَيَقُولُ : فَمِمَّ يَتَعَوَّذُونَ ؟ فَيَقُولُونَ : يَتَعَوَّذُونَ بِكَ مِنَ النَّارِ ، فَيَقُولُ : فَهَلْ رَأَوْهَا ؟ فَيَقُولُونَ : لا ، فَيَقُولُ : كَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا ؟ فَيَقُولُونَ : لَوْ قَدْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ تَعَوُّذًا ، فَيَقُولُ : فَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو لوگوں کے اعمال نوٹ کرنے والوں کے علاوہ ہیں، وہ راستوں میں چلتے پھرتے ہیں اور ذکر کو تلاش کرتے رہتے ہیں؛ جب وہ کچھ لوگوں کو دیکھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے ہوں، تو ایک دوسرے کو پکارتے ہیں: اپنے مقصود کی طرف آ جاؤ، پھر وہ آسمان تک اپنے پروں سے انہیں ڈھانپ لیتے ہیں۔ ان کا پروردگار ان سے دریافت کرتا ہے، حالانکہ وہ ان سے زیادہ بہتر جانتا ہے، وہ فرماتا ہے: میرے بندے کیا کہتے ہیں؟ تو فرشتے عرض کرتے ہیں: اے ہمارے پروردگار! وہ تیری تسبیح اور تیری حمد بیان کرتے ہیں۔ پروردگار دریافت کرتا ہے: کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: جی نہیں۔ پروردگار دریافت کرتا ہے: اگر وہ مجھے دیکھ لیتے، تو کیا ہوتا؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: اگر وہ تجھے دیکھ لیتے تو وہ زیادہ شدت کے ساتھ تیری تسبیح، تیری بزرگی، تیری کبریائی اور تیری حمد بیان کرتے۔ پروردگار دریافت کرتا ہے: وہ کیا چیز مانگتے ہیں؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: اے ہمارے پروردگار! وہ تجھ سے جنت مانگتے ہیں۔ پروردگار دریافت کرتا ہے: کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں: جی نہیں، پروردگار فرماتا ہے: اگر وہ اسے دیکھ لیتے، تو کیا ہوتا؟ تو فرشتے عرض کرتے ہیں: اگر وہ اسے دیکھ لیتے، تو زیادہ شدت کے ساتھ اسے طلب کرتے اور زیادہ شدت کے ساتھ اس کے حصول کے خواہش مند ہوتے۔ پروردگار دریافت کرتا ہے: وہ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: وہ جہنم سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔ پروردگار دریافت کرتا ہے: کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: جی نہیں، پروردگار دریافت کرتا ہے: اگر وہ اسے دیکھ لیتے، تو کیا ہوتا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: اگر وہ اسے دیکھ لیتے، تو وہ زیادہ شدت کے ساتھ اس سے پناہ مانگتے، تو پروردگار فرماتا ہے: میں تم لوگوں کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان لوگوں کی مغفرت کر دی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 856]

857

Sahih Ibn Hibban #857

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّلِلَّهِ مَلائِكَةً فُضُلا عَنْ كُتَّابِ النَّاسِ ، يَطُوفُونَ فِي الطُّرُقِ ، يَلْتَمِسُونَ أَهْلَ الذِّكْرِ ، فَإِذَا وَجَدُوا قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ ، تَنَادَوْا : هَلُمُّوا إِلَى حَاجَتِكُمْ ، فَيَحُفُّونَ بِهِمْ بِأَجْنِحَتِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ مِنْهُمْ ، فَيَقُولُ : مَا يَقُولُ عِبَادِي ؟ فَيَقُولُونَ : يُكَبِّرُونَكَ وَيُمَجِّدُونَكَ وَيُسَبِّحُونَكَ وَيَحْمَدُونَكَ ، فَيَقُولُ : هَلْ رَأَوْنِي ؟ فَيَقُولُونَ : لا ، فَيَقُولُ : فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي ؟ فَيَقُولُونَ : لَوْ رَأَوْكَ لَكَانُوا لَكَ أَشَدَّ عِبَادَةً وَأَكْثَرَ تَسْبِيحًا وَتَحْمِيدًا وَتَمْجِيدًا ، فَيَقُولُ : وَمَا يَسْأَلُونِي ؟ قَالَ : فَيَقُولُونَ : يَسْأَلُونَكَ الْجَنَّةَ ، فَيَقُولُ : فَهَلْ رَأَوْهَا ؟ فَيَقُولُونَ : لا وَاللَّهِ يَا رَبِّ ، فَيَقُولُ : فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا ؟ فَيَقُولُونَ : لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا عَلَيْهَا أَشَدَّ حِرْصًا وَأَشَدَّ لها طَلَبًا ، وَأَعْظَمَ فِيهَا رَغْبَةً ، فَيَقُولُ : وَمِمَّ يَتَعَوَّذُونَ ؟ فَيَقُولُونَ : مِنَ النَّارِ ، فَيَقُولُ : وَهَلْ رَأَوْهَا ؟ فَيَقُولُونَ : لا وَاللَّهِ يَا رَبِّ ، فَيَقُولُ : فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا ؟ فَيَقُولُونَ : لَوْ رَأَوْهَا لَكَانُوا مِنْهَا أَشَدَّ فِرَارًا ، وَأَشَدَّ هَرَبًا ، وَأَشَدَّ خَوْفًا ، فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَلائِكَتِهِ : أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ . ، قَالَ : ، فَقَالَ مَلَكٌ مِنَ الْمَلائِكَةِ : إِنَّ فِيهِمْ فُلانًا لَيْسَ مِنْهُمْ إِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَةٍ ، قَالَ : فَهُمُ الْجُلَسَاءُ لا يَشْقَى جَلِيسُهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو لوگوں کے اعمال نوٹ کرنے کے علاوہ ہیں، وہ راستوں میں گھومتے پھرتے رہتے ہیں اور اہل ذکر کو تلاش کرتے ہیں، جب انہیں کچھ لوگ ملتے ہیں جو اللہ کا ذکر کر رہے ہوں، تو وہ (ایک دوسرے کو) بلاتے ہیں: اپنے مقصود کی طرف آ جاؤ، پھر وہ آسمانِ دنیا تک اپنے پروں سے انہیں ڈھانپ لیتے ہیں۔ ان کا پروردگار ان سے دریافت کرتا ہے، حالانکہ وہ ان سے زیادہ بہتر جانتا ہے، پروردگار فرماتا ہے: میرے بندے کیا کہتے ہیں؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: وہ تیری کبریائی، تیری تکبیر، تیری پاکی اور تیری حمد بیان کرتے ہیں۔ پروردگار دریافت کرتا ہے: کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: جی نہیں، پروردگار دریافت کرتا ہے: اگر وہ مجھے دیکھ لیتے، تو کیا ہوتا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: اگر وہ تجھے دیکھ لیتے، تو زیادہ شدت کے ساتھ تیری پاکی بیان کرتے، زیادہ حمد اور بزرگی بیان کرتے۔ پروردگار دریافت کرتا ہے: وہ لوگ مجھ سے کیا مانگتے ہیں؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: وہ تجھ سے جنت مانگتے ہیں۔ پروردگار فرماتا ہے: کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: جی نہیں، اللہ کی قسم! (اے پروردگار! انہوں نے اسے نہیں دیکھا) پروردگار فرماتا ہے: اگر وہ اسے دیکھ لیتے، تو کیا ہوتا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: اگر وہ اسے دیکھ لیتے، تو وہ اس کے حصول کی زیادہ خواہش کرتے اور زیادہ شدت کے ساتھ اس کی رغبت کرتے۔ پروردگار فرماتا ہے: وہ لوگ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: وہ جہنم سے پناہ مانگتے ہیں۔ پروردگار دریافت کرتا ہے: کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: جی نہیں، اللہ کی قسم! اے ہمارے پروردگار! (انہوں نے اسے نہیں دیکھا) پروردگار فرماتا ہے: اگر وہ اسے دیکھ لیتے، تو کیا ہوتا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: اگر وہ اسے دیکھ لیتے، تو اس سے زیادہ دور بھاگتے، شدت سے بھاگتے اور اس سے زیادہ خوف زدہ ہوتے۔ تو پروردگار فرشتوں سے فرماتا ہے: میں تم لوگوں کو گواہ بنا کے کہتا ہوں کہ میں نے ان لوگوں کی مغفرت کر دی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان فرشتوں میں سے ایک فرشتہ عرض کرتا ہے: ان میں فلاں شخص تھا جو ان میں سے نہیں تھا، وہ اپنے کام کے سلسلہ میں وہاں آیا تھا، پروردگار فرماتا ہے: وہ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے ہوئے ایسے لوگ ہیں جن کے ساتھ بیٹھنے والا بھی محروم نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 857]

858

Sahih Ibn Hibban #858

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ ، فَمَرَّ عَلَى جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ : جُمْدَانَ ، فَقَالَ : سِيرُوا هَذَا جُمْدَانُ ، سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ ، سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْمُفَرِّدُونَ ؟ قَالَ : " الذَّاكِرُونَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے راستے میں سفر کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک پہاڑ کے پاس سے ہوا جس کا نام «جُمْدَانُ» ”جمدان“ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس «جُمْدَانُ» ”جمدان“ کی طرف چلو، «الْمُفَرِّدُونَ» ”مفردون“ سبقت لے گئے ہیں۔“ لوگوں نے عرض کی: وہ کون ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مرد اور کثرت سے ذکر کرنے والی خواتین۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 858]

859

Sahih Ibn Hibban #859

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، مِئَةَ مَرَّةٍ ، وَإِذَا أَمْسَى مِئَةَ مَرَّةٍ ، غُفِرَتْ ذُنُوبُهُ وَإِنْ كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص صبح کے وقت سو مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ» ”اللہ پاک ہے اور اپنی تعریف کے ساتھ ہے“ پڑھتا ہے اور شام کے وقت بھی سو مرتبہ یہ کلمات پڑھتا ہے، تو اس شخص کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے، اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ سے زیادہ ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 859]

860

Sahih Ibn Hibban #860

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ : سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ ، وَإِذَا أَمْسَى كَذَلِكَ ، لَمْ يُوَافِ أَحَدٌ مِنَ الْخَلائِقِ بِمِثْلِ مَا وَافَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص صبح کے وقت 100 مرتبہ اور شام کے وقت بھی اسی طرح (100 مرتبہ) «سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ» ”پاک ہے اللہ نہایت عظمت والا اور اپنی تعریف کے ساتھ“ پڑھتا ہے تو مخلوق میں سے کسی کا (عمل) اس کے برابر نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 860]

861

Sahih Ibn Hibban #861

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَهُوَ رَبِيعَةُ الرَّأْيِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَنْبَسَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ : اللَّهُمَّ مَا أَصْبَحَ بِي مِنْ نِعْمَةٍ ، أَوْ بِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ ، فَمِنْكَ وَحْدَكَ لا شَرِيكَ لَكَ ، فَلَكَ الْحَمْدُ وَلَكَ الشُّكْرُ ، فَقَدْ أَدَّى شُكْرَ ذَلِكَ الْيَوْمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص صبح کے وقت یہ پڑھتا ہے: «اللَّهُمَّ مَا أَصْبَحَ بِي مِنْ نِعْمَةٍ أَوْ بِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ، فَمِنْكَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، فَلَكَ الْحَمْدُ وَلَكَ الشُّكْرُ» ”اے اللہ! آج کے دن مجھے جو بھی نعمت حاصل ہو، تیری مخلوق میں سے جس کسی کو جو بھی نعمت حاصل ہو وہ تیری طرف سے ہے، تو ایک ہے تیرا کوئی شریک نہیں، حمد تیرے لیے مخصوص ہے اور شکر بھی تیرے لیے ہے“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص اس دن کے شکر کو ادا کر دیتا ہے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 861]