Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 8 · Chapter 1

The Book of Heart-Softeners

Hadith 782–821

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

782

Sahih Ibn Hibban #782

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا الأَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْمِيُّ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الآيَتَانِ خُتِمَ بِهِمَا سُورَةُ الْبَقَرَةِ لا تُقْرَآنِ فِي دَارٍ ثَلاثَ لَيَالٍ ، فَيَقْرَبُهَا شَيْطَانٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”وہ دو آیات، جہاں سورہ بقرہ ختم ہوتی ہے، وہ جس بھی گھر میں تین دن تک تلاوت کی جائیں، تو شیطان اس کے قریب نہیں آئے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 782]

783

Sahih Ibn Hibban #783

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا تَتَّخِذُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ ، صَلُّوا فِيهَا ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لِيَفِرُّ مِنَ الْبَيْتِ يَسْمَعُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ تُقْرَأُ فِيهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، تم وہاں نماز ادا کیا کرو، کیونکہ شیطان ایسے گھر سے دور بھاگتا ہے جس گھر میں وہ سورہ بقرہ کی تلاوت سنتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 783]

784

Sahih Ibn Hibban #784

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ كَانَ لَهُمْ جَرِينٌ فِيهِ تَمْرٌ ، وَكَانَ مِمَّا يَتَعَاهَدُهُ فَيَجِدُهُ يَنْقُصُ ، فَحَرَسَهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَإِذَا هُوَ بِدَابَّةٍ كَهَيْئَةِ الْغُلامِ الْمُحْتَلِمِ . قَالَ : فَسَلَّمْتُ فَرَدَّ السَّلامَ ، فَقُلْتُ :مَا أَنْتَ ، جِنٌّ أَمْ إِنْسٌ ؟ فَقَالَ : جِنٌّ ، فَقُلْتُ : نَاوِلْنِي يَدَكَ ، فَإِذَا يَدُ كَلْبٍ وَشَعْرُ كَلْبٍ ، فَقُلْتُ : هَكَذَا خُلِقَ الْجِنُّ ، فَقَالَ : لَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنُّ أَنَّهُ مَا فِيهِمْ مَنْ هُوَ أَشَدُّ مِنِّي ، فَقُلْتُ : مَا يَحْمِلُكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّكَ رَجُلٌ تُحِبُّ الصَّدَقَةَ ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُصِيبَ مِنْ طَعَامِكَ ، قُلْتُ : فَمَا الَّذِي يَحْرِزُنَا مِنْكُمْ ؟ فَقَالَ : هَذِهِ الآيَةُ ، آيَةُ الْكُرْسِيِّ ، قَالَ : فَتَرَكْتُهُ . وَغَدَا أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَدَقَ الْخَبِيثُ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : اسْمُ ابْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ هُوَ الطُّفَيْلُ بْنُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے انہیں بتایا کہ ان کا ایک گودام تھا جس میں کھجوریں موجود تھیں، وہ اس کا دھیان رکھتے تھے، لیکن کھجوریں کم ہوتی جا رہی تھیں۔ ایک رات وہ اس کا پہرہ دے رہے تھے، تو وہاں ایک نوجوان لڑکے کی طرح کا جانور آیا۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سلام کیا، تو اس نے مجھے سلام کا جواب دیا۔ میں نے دریافت کیا: ”تم کون ہو، تم جن ہو یا انسان ہو؟“ اس نے کہا: ”میں جن ہوں۔“ میں نے کہا: ”تم اپنا ہاتھ میری طرف بڑھاؤ“، تو اس کا ہاتھ کتے کی مانند تھا اور اس کے بال کتے کے بالوں جیسے تھے۔ میں نے کہا: ”کیا جنوں کی تخلیق اس طرح ہوتی ہے؟“ اس نے کہا: ”جن یہ بات جانتے ہیں کہ ان میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو مجھ سے زیادہ طاقت ور ہیں۔“ میں نے کہا: ”تم ایسا کیوں کرتے ہو؟“ اس نے کہا: ”مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ ایک ایسے شخص ہیں جو صدقہ کرنے کو پسند کرتے ہیں، تو میری یہ خواہش ہوئی کہ میں بھی آپ کے اناج میں سے کچھ حاصل کر لوں۔“ میں نے دریافت کیا: ”تم لوگوں سے کون سی چیز ہمیں محفوظ رکھ سکتی ہے؟“ اس نے کہا: ”یہ آیت یعنی آیت الکرسی ﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ [سورة البقرة: 255] ۔“ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اسے چھوڑ دیا۔ اگلے دن سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس خبیث نے ٹھیک کہا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کا نام طفیل بن ابی بن کعب ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 784]

785

Sahih Ibn Hibban #785

أَخْبَرَنَا أَبُو صَخْرَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، بِبَغْدَادَ بَيْنَ السُّورَيْنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ سُورَةِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص سورہ الکہف کی دس آیات کی تلاوت کر لے گا، وہ دجال کی آزمائش سے محفوظ رہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 785]

786

Sahih Ibn Hibban #786

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنَ الدَّجَّالِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سورہ الکہف کی آخری دس آیات کی تلاوت کر لے گا وہ دجال کی آزمائش سے محفوظ رہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 786]

787

Sahih Ibn Hibban #787

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : قُلْتُ لأَبِي أُسَامَةَ : أَحَدَّثَكُمْ شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُشَمِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّسُورَةً فِي الْقُرْآنِ ثَلاثُونَ آيَةً ، تَسْتَغْفِرُ لِصَاحِبِهَا حَتَّى يُغْفَرَ لَهُ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ "، فَأَقَرَّ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ وَقَالَ : نَعَمْ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسْتَغْفِرُ لِصَاحِبِهَا " أَرَادَ بِهِ ثَوَابَ قِرَاءَتِهَا ، فَأَطْلَقَ الاسْمَ عَلَى مَا تَوَلَّدَ مِنْهُ وَهُوَ الثَّوَابُ ، كَمَا يُطْلَقُ اسْمُ السُّورَةِ نَفْسِهَا عَلَيْهِ . وَكَذَلِكَ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَبَرِ أَبِي أُمَامَةَ أَرَادَ بِهِ ثَوَابَ الْقُرْآنِ ، وَثَوَابَ الْبَقَرَةِ ، وَآلِ عِمْرَانَ ، إِذِ الْعَرَبُ تُطْلِقُ فِي لُغَتِهَا اسْمَ مَا تَوَّلَدَ مِنَ الشَّيْءِ عَلَى نَفْسِهِ كَمَا ذَكَرْنَاهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک قرآن میں ایک سورۃ ہے، جس کی تیس آیات ہیں۔ یہ سورۃ اپنے حافظ کے لیے دعائے مغفرت کرتی رہے گی، یہاں تک کہ اس شخص کی مغفرت ہو جائے گی۔ (وہ سورت یہ ہے) ﴿تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ﴾ [سورة الملك] “ تو ابواسامہ نے ان کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا: جی ہاں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”وہ اپنے ساتھی (یعنی باقاعدگی سے پڑھنے والے یا حافظ) کے لیے دعائے مغفرت کرتی ہے“ اس سے مراد ان کی قرأت کا ثواب ہے، تو یہاں اسم کا اطلاق، اس سے حاصل ہونے والے نتیجے پر کیا گیا ہے اور وہ ثواب ہے، جس طرح سورت کے اسم کا اطلاق اس کے نفسِ وجود پر بھی ہوتا ہے۔ اسی طرح سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے مراد قرآن، سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران پڑھنے کا ثواب ہے کیونکہ عرب اپنے محاورے میں (بعض اوقات) کسی اسم کا اطلاق اس سے حاصل ہونے والے نتیجے پر کرتے ہیں جیسا کہ ہم پہلے یہ ذکر کر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 787]

788

Sahih Ibn Hibban #788

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُشَمِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سُورَةٌ فِي الْقُرْآنِ ، ثَلاثُونَ آيَةً ، تَسْتَغْفِرُ لِصَاحِبِهَا حَتَّى يُغْفَرَ لَهُ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قرآن میں ایک سورۃ ہے، جس کی تیس آیات ہیں۔ یہ اپنے پڑھنے والے کے لیے دعائے مغفرت کرتی رہے گی، یہاں تک کہ اس شخص کی مغفرت ہو جائے گی۔ (وہ سورۃ یہ ہے) ﴿تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ﴾ [سورة الملك: 1] ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 788]

789

Sahih Ibn Hibban #789

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَقُولُهُإِذَا أَوَيْتُ إِلَى فِرَاشِي ، قَالَ : اقْرَأْ : قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

فروہ بن نوفل اشجعی رضی اللہ عنہما اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے نبی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کسی ایسی چیز کی تعلیم دیجیے کہ جب میں بستر پر جایا کروں، تو اسے پڑھ لیا کروں“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] پڑھو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 789]

790

Sahih Ibn Hibban #790

أَخْبَرَنَا الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : هَلْ لَكَ فِي رَبِيبَةٍ يَكْفُلُهَا رَبِيبٌ ؟ " قَالَ : ثُمَّ جَاءَ فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : تَرَكْتُهَا عِنْدَ أُمِّهَا . قَالَ : " فَمَجِيءٌ مَا جَاءَ بِكَ ؟ " قَالَ : جِئْتُ لِتُعَلِّمَنِي شَيْئًا أَقُولُهُ عِنْدَ مَنَامِي ، قَالَ : " اقْرَأْ : قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، ثُمَّ نَمْ عَلَى خَاتِمَتِهَا ، فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

فروہ بن نوفل اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اپنی سوتیلی بیٹی کو حاصل کرنا چاہتے ہو؟ وہ اپنے سوتیلے باپ کی کفالت میں ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہی سوال کیا، تو انہوں نے عرض کی: میں نے اسے اس کی ماں کے پاس چھوڑ دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیوں آئے ہو؟“ اس نے کہا: میں اس لیے آیا ہوں تاکہ آپ مجھے کسی ایسی چیز کی تعلیم دیں جسے میں سوتے وقت پڑھ لیا کروں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] کی تلاوت کیا کرو، تم اسے مکمل پڑھ کر سویا کرو، کیونکہ یہ شرک سے براءت (کا اظہار) ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 790]

791

Sahih Ibn Hibban #791

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الْعَابِدُ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلا سَمِعَ رَجُلا يَقْرَأُ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ يُرَدِّدُهَا ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَكَأَنَّ الرَّجُلَ يَتَقَالُّهَا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّهَالَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کو سورۂ اخلاص بار بار تلاوت کرتے ہوئے سنا، اگلے دن وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، وہ شخص اس سورت کو چھوٹی سمجھ رہا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، یہ تہائی قرآن کے برابر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 791]

792

Sahih Ibn Hibban #792

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُحِبُّ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : حُبُّكَ إِيَّاهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں سورۃ اخلاص سے محبت کرتا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اس سے محبت کرنا تمہیں جنت میں داخل کر دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 792]

793

Sahih Ibn Hibban #793

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، أَنَّ أَبَا الرِّجَالِ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَعَثَ رَجُلا عَلَى سَرِيَّةٍ ، فَكَانَ يَقْرَأُ لأَصْحَابِهِ فِي صَلاتِهِمْ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَلَمَّا رَجَعُوا ، ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : سَلُوهُ لأَيِّ شَيْءٍ صَنَعَ هَذَا ؟ " فَسَأَلُوهُ ، فَقَالَ : أَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَخْبِرُوهُ أَنَّ اللَّهَ يُحِبُّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ایک مہم کا امیر بنا کر روانہ کیا۔ وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے ہوئے سورۂ اخلاص پڑھا کرتا تھا، وہ لوگ واپس آئے۔ انہوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اس سے دریافت کرو وہ ایسا کیوں کرتا ہے۔“ لوگوں نے اس سے دریافت کیا، تو اس نے بتایا کہ مجھے اس سورت کی تلاوت کرنا اچھا لگتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اسے بتا دو اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 793]

794

Sahih Ibn Hibban #794

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلا كَانَيَلْزَمُ قِرَاءَةَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فِي الصَّلاةِ مَعَ كُلِّ سُورَةٍ ، وَهُوَ يَؤُمُّ بِأَصْحَابِهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِيهِ ، فَقَالَ : إِنِّي أُحِبُّهَا ، قَالَ : حُبُّهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص باقاعدگی کے ساتھ نماز میں ہر سورہ کے ساتھ سورہ اخلاص کی تلاوت کیا کرتا تھا، وہ شخص اپنے ساتھیوں کی امامت بھی کرتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اس بارے میں دریافت کیا، تو اس نے عرض کی: میں اس سورہ سے محبت کرتا ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اس سورہ سے محبت کرنا تمہیں جنت میں داخل کر دے گا“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 794]

795

Sahih Ibn Hibban #795

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : تَبِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَوْمًا وَهُوَ رَاكِبٌ ، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى يَدِهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقْرِئْنِي مِنْ سُورَةِ هُودٍ ، وَمِنْ سُورَةِ يُوسُفَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّكَلَنْ تَقْرَأَ شَيْئًا أَبْلَغَ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھا، آپ اس وقت سوار تھے، میں نے اپنا ہاتھ آپ کے دستِ مبارک پر رکھا اور عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے سورۃ ہود اور سورۃ یوسف پڑھنی سکھا دیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ایسی کسی چیز کی تلاوت نہیں سیکھو گے، جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سورۃ فلق سے زیادہ بلیغ ہو (یا زیادہ مرتبے کی حامل ہو)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 795]

796

Sahih Ibn Hibban #796

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ ، بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو طَلْحَةَ الرَّاسِبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْرَأْ يَا جَابِرُ " . قَالَ : قُلْتُ : مَا أَقْرَأُ بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتَ ؟ قَالَ : " قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ " . فَقَرَأْتُهُمَا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَأْ بِهِمَا ، وَلَنْ تَقْرَأَ بِمِثْلِهِمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جابر! تلاوت کرو۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں کیا تلاوت کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورۃ الفلق اور سورۃ الناس۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ان دونوں کی تلاوت کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان دونوں کی تلاوت کیا کرو، تم ان دونوں جیسی کسی اور (سورت) کی تلاوت نہیں کرو گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 796]

797

Sahih Ibn Hibban #797

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ لأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ لا يَكْتُبُ فِي مُصْحَفِهِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ ، فَقَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ لِي جِبْرِيلُ : قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ فَقُلْتُهَا ، وَقَالَ لِي : قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ فَقُلْتُهَا ". فَنَحْنُ نَقُولُ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زر بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مصحف میں معوذتین تحریر نہیں کرتے تھے، تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ فرمایا تھا: ”جبرائیل نے مجھ سے کہا: ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق] (میں نے اسے پڑھا)، پھر انہوں نے مجھ سے کہا: ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس] (تو میں نے اسے پڑھا)۔“ (سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) ہم وہ کہتے ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 797]

798

Sahih Ibn Hibban #798

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِ إِحْدَانَا ، فَيَتْلُو الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم (ازواج مطہرات) میں سے کسی ایک کی گود میں سر رکھ کر قرآن کی تلاوت کر لیتے تھے، جبکہ وہ خاتون حیض کی حالت میں ہوتی تھیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 798]

799

Sahih Ibn Hibban #799

أَخْبَرَنَا أَبُو قُرَيْشٍ مُحَمَّدُ بْنُ جُمُعَةَ الأَصَمُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، وَمِسْعَرٍ ، وَذَكَرَ أَبُو قُرَيْشٍ آخَرَ مَعَهُمَا ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلا يَحْجُبُهُ عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ ، مَا خَلا الْجَنَابَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قرآن کی تلاوت کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز مانع نہیں ہوتی تھی، صرف جنابت کا معاملہ مختلف تھا (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں قرآن کی تلاوت نہیں کرتے تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 799]

800

Sahih Ibn Hibban #800

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، وَشُعْبَةَ ، وَذَكَرَ ابْنُ قُتَيْبَةَ آخَرَ مَعَهُمَا ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَمْ يَكُنْ يَحْجُبُهُ مِنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ شَيْءٌ ، إِلا أَنْ يَكُونَ جُنُبًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کوئی بھی چیز قرآن کی تلاوت کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رکاوٹ نہیں بنتی تھی، البتہ اگر آپ جنبی ہوتے تھے (تو آپ قرآن کی تلاوت نہیں کرتے تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 800]

801

Sahih Ibn Hibban #801

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى أَحْيَانِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کر لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 801]

802

Sahih Ibn Hibban #802

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى أَحْيَانِهِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُ عَائِشَةَ : " يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى أَحْيَانِهِ " أَرَادَتْ بِهِ الذِّكْرَ الَّذِي هُوَ غَيْرُ الْقُرْآنِ ، إِذِ الْقُرْآنُ يَجُوزُ أَنْ يُسَمَّى الَّذِي ذَكَرَ ، وَقَدْ كَانَ لا يَقْرَؤُهُ وَهُوَ جُنُبٌ ، وَكَانَ يَقْرَؤُهُ فِي سَائِرِ الأَحْوَالِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کر لیتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ کہنا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے۔“ اس سے ان کی مراد وہ ذکر ہے جو قرآن کے علاوہ ہو، کیونکہ یہ ممکن ہے انہوں نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں ان سے مراد قرآن ہو، حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں اس کی تلاوت نہیں کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم باقی تمام حالتوں میں اس کی تلاوت کر لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 802]

803

Sahih Ibn Hibban #803

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، وَخَالِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ النَّضْرِ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ الْحُضَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ ، عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ جُدْعَانَ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى تَوَضَّأَ ، ثُمَّ اعْتَذَرَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : إِنِّيكَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ إِلا عَلَى طُهْرٍ ، أَوْ قَالَ : عَلَى طَهَارَةٍ "وَكَانَ الْحَسَنُ بِهِ يَأْخُذُ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صلي الله عَلَيْهِ وسلم : " إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ إِلا عَلَى طُهْرٍ " أَرَادَ بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَضْلَ ، لأَنَّ الذِّكْرَ عَلَى الطَّهَارَةِ أَفْضَلُ ، لا أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُهُ لِنَفْيِ جَوَازِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت وضو کر رہے تھے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کا جواب نہیں دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو مکمل کر لیا، تو (سلام کا جواب دے کر) عذر بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں بے وضو حالت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کروں۔“ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) حسن بصری رحمہ اللہ اس روایت کے مطابق فتویٰ دیتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ ”مجھے ناپسند ہوا کہ میں بے وضو حالت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کروں“ اس سے مراد فضیلت (کے حصول کا ارادہ) ہے کیونکہ باوضو حالت میں ذکر کرنا افضل ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ناجائز ہونے کی وجہ سے اسے ناپسند کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 803]

804

Sahih Ibn Hibban #804

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : أَخَذَ الْقَوْمُ فِي عَقَبَةٍ أَوْ ثَنِيَّةٍ ، فَكُلَّمَا عَلاهَا رَجُلٌ ، قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَةٍ يَعْرِضُهَا فِي الْجَبَلِ ، فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّكُمْ لا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلا غَائِبًا " ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا مُوسَى ، أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍأَلا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ " قَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ لا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلا غَائِبًا " ، لَفْظَةُ إِعْلامٍ عَنْ هَذَا الشَّيْءِ ، مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنْ رَفْعِ الصَّوْتِ بِالدُّعَاءِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: لوگ یعنی (صحابہ کرام) جب بھی کسی گھاٹی پر چڑھتے تھے، تو جب آدمی اوپر پہنچ جاتا تھا تو «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ اور «اَللّٰهُ أَکْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنے خچر پر سوار تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ پہاڑ پر پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! تم کسی بہرے یا غیر موجود (مبعود) کو نہیں پکار رہے“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے ابو موسیٰ! (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) اے عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہاری رہنمائی جنت کے خزانے کی طرف نہ کروں؟“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(وہ یہ کلمہ ہے) «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» ”اللہ کی مدد کے بغیر نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی قوت““۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”تم کسی بہرے یا غیر موجود کو نہیں پکار رہے ہو“ لفظی طور پر اس بات کی اطلاع ہے، لیکن اس سے مراد دعا کرتے ہوئے آواز بلند کرنے سے منع کرنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 804]

805

Sahih Ibn Hibban #805

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ ابْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ عُمَيْرٍ ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : أَقْبَلْتُ أَنَا ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي الْجُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ ، فَقَالَ أَبُو الْجُهَيْمِ : أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوِ بِئْرِ الْجَمَلِ ،فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ ، فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ ، ثُمَّ رَدَّ السَّلامَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمیر، جو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور عبداللہ بن یسار، سیدنا ابوجہیم رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے، تو سیدنا ابوجہیم رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «بِئْرِ جَمَلٍ» ”بئرِ جمل“ کی طرف سے تشریف لا رہے تھے۔ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا اور اس نے سلام کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیوار کے پاس گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں کا مسح کیا یعنی (تیمم کیا)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 805]

806

Sahih Ibn Hibban #806

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ الْقُرَشِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ ، وَابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ حُضَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ مُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يَبُولُ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى تَوَضَّأَ ، ثُمَّ اعْتَذَرَ ، فَقَالَ : إِنِّيكَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ إِلا عَلَى طُهْرٍ ، أَوْ قَالَ : عَلَى طَهَارَةٍ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ كَرَاهِيَةَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذِكْرَ اللَّهِ إِلا عَلَى طَهَارَةٍ ، كَانَ ذَلِكَ لأَنَّ الذِّكْرَ عَلَى طَهَارَةٍ أَفْضَلُ ، لا أَنَّ ذِكْرَ الْمَرْءِ رَبَّهُ عَلَى غَيْرِ الطَّهَارَةِ غَيْرُ جَائِزٍ ، لأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى أَحْيَانِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت پیشاب کر رہے تھے انہوں نے سلام کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کا جواب نہیں دیا، پہلے آپ نے وضو کیا پھر آپ نے عذر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں بے وضو حالت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کروں۔“ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بے وضو حالت میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کو ناپسند کرنا اس وجہ سے تھا کہ باوضو حالت میں ذکر کرنا افضل ہے، ایسا نہیں ہے کہ آدمی کا بے وضو حالت میں اپنے پروردگار کا ذکر کرنا جائز ہی نہیں ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 806]

807

Sahih Ibn Hibban #807

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّلِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا ، مِائَةً إِلا وَاحِدَةً ، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ کے 99 نام ہیں یعنی ایک کم 100، جو انہیں یاد کر لے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 807]

808

Sahih Ibn Hibban #808

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أحمد بن عبيد بن فياض بدمشق واللفظ للحسن ، قَالُوا : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّلِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا ، مِائَةً إِلا وَاحِدًا ، إِنَّهُ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ ، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ . هُوَ اللَّهُ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ الرَّحْمَنُ ، الرَّحِيمُ ، الْمَلِكُ ، الْقُدُّوسُ ، السَّلامُ ، الْمُؤْمِنُ ، الْمُهَيْمِنُ ، الْعَزِيزُ ، الْجَبَّارُ ، الْمُتَكَبِّرُ ، الْخَالِقُ ، الْبَارِئُ ، الْمُصَوِّرُ ، الْغَفَّارُ ، الْقَهَّارُ ، الْوَهَّابُ ، الرَّزَّاقُ ، الْفَتَّاحُ ، الْعَلِيمُ ، الْقَابِضُ ، الْبَاسِطُ ، الْخَافِضُ ، الرَّافِعُ ، الْمُعِزُّ ، الْمُذِلُّ ، السَّمِيعُ ، الْبَصِيرُ ، الْحَكَمُ ، الْعَدْلُ ، اللَّطِيفُ ، الْخَبِيرُ ، الْحَلِيمُ ، الْعَظِيمُ ، الْغَفُورُ ، الشَّكُورُ ، الْعَلِيُّ ، الْكَبِيرُ ، الْحَفِيظُ ، الْمُقِيتُ ، الْحَسِيبُ ، الْجَلِيلُ ، الْكَرِيمُ ، الرَّقِيبُ ، الْوَاسِعُ ، الْحَكِيمُ ، الْوَدُودُ ، الْمَجِيدُ ، الْمُجِيبُ ، الْبَاعِثُ ، الشَّهِيدُ ، الْحَقُّ ، الْوَكِيلُ ، الْقَوِيُّ ، الْمَتِينُ ، الْوَلِيُّ ، الْحَمِيدُ ، الْمُحْصِي ، الْمُبْدِئُ ، الْمُعِيدُ ، الْمُحْيِي ، الْمُمِيتُ ، الْحَيُّ ، الْقَيُّومُ ، الْوَاجِدُ ، الْمَاجِدُ ، الْوَاحِدُ ، الأَحَدُ ، الصَّمَدُ ، الْقَادِرُ ، الْمُقْتَدِرُ ، الْمُقَدِّمُ ، الْمُؤَخِّرُ ، الأَوَّلُ ، الآخِرُ ، الظَّاهِرُ ، الْبَاطِنُ ، الْمُتَعَالِ ، الْبَرُّ ، التَّوَّابُ ، الْمُنْتَقِمُ ، الْعَفُوُّ ، الرَّءُوفُ ، مَالِكُ الْمُلْكِ ، ذُو الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ ، الْمُقْسِطُ ، الْمَانِعُ ، الْغَنِيُّ ، الْمُغْنِي ، الْجَامِعُ ، الضَّارُّ ، النَّافِعُ ، النُّورُ ، الْهَادِي ، الْبَدِيعُ ، الْبَاقِي ، الْوَارِثُ ، الرَّشِيدُ ، الصَّبُورُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو، اللہ تعالیٰ «وِتْرٌ» ”وتر“ ہے اور «الْوِتْرَ» ”وتر“ کو پسند کرتا ہے، جو شخص انہیں یاد کر لے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ وہ اللہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ رحمان ہے، رحم کرنے والا ہے، بادشاہ ہے، پاک ہے، سلامتی عطا کرنے والا ہے، امن دینے والا ہے، نگرانی کرنے والا ہے، غالب ہے، زبردست ہے، کبریائی والا ہے، پیدا کرنے والا ہے، بنانے والا ہے، شکل و صورت عطا کرنے والا ہے، مغفرت کرنے والا ہے، قہر والا ہے، عطیہ دینے والا ہے، رزق عطا کرنے والا ہے، کھولنے والا ہے، علم رکھنے والا ہے، تنگی کرنے والا ہے، کشادگی دینے والا ہے، پست کرنے والا ہے، بلند کرنے والا ہے، عزت دینے والا ہے، ذلت دینے والا ہے، سماعت والا ہے، بصیرت والا ہے، فیصلہ دینے والا ہے، عدل کرنے والا ہے، مہربان ہے، خبر رکھنے والا ہے، بردبار ہے، عظیم ہے، مغفرت کرنے والا ہے، شکر کرنے والا ہے، بلند ہے، بڑا ہے، حفاظت کرنے والا ہے، نگرانی کرنے والا ہے، حساب رکھنے والا ہے، عظمت والا ہے، معزز ہے، نگران ہے، وسعت والا ہے، حکمت والا ہے، مہربان ہے، بزرگی والا ہے، دعا قبول کرنے والا ہے، زندہ کرنے والا ہے، گواہ ہے، حق ہے، وکیل ہے، طاقت ور ہے، متین ہے، نگران ہے، لائقِ حمد ہے، شمار کرنے والا ہے، آغاز کرنے والا ہے، دوبارہ پیدا کرنے والا ہے، زندگی دینے والا ہے، موت دینے والا ہے، زندہ ہے، قیوم ہے، پالنے والا ہے، بزرگی والا ہے، ایک ہے، یکتا ہے، بے نیاز ہے، قدرت والا ہے، اقتدار والا ہے، آگے کرنے والا ہے، پیچھے کرنے والا ہے، پہلا ہے، آخر ہے، ظاہر ہے، باطن ہے، بلند و برتر ہے، مہربان ہے، توبہ قبول کرنے والا ہے، انتقام لینے والا ہے، معاف کرنے والا ہے، مہربان ہے، بادشاہ ہے، جلال و اکرام والا ہے، انصاف کرنے والا ہے، روکنے والا ہے، بے نیاز ہے، غنی ہے، جمع کرنے والا ہے، نقصان پہنچانے والا ہے، نفع دینے والا ہے، نور ہے، ہدایت دینے والا، (کسی سابقہ شان کے بغیر) پیدا کرنے والا ہے، باقی ہے، وارث ہے، ہدایت دینے والا ہے، صبر عطا کرنے والا (برداشت کرنے والا) ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 808]

809

Sahih Ibn Hibban #809

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : خَيْرُ الذِّكْرِ الْخَفِيُّ ، وَخَيْرُ الرِّزْقِ ، أَوِ الْعَيْشِ ، مَا يَكْفِي ". الشَّكُّ مِنِ ابْنِ وَهْبٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”سب سے بہترین ذکر وہ ہے جو پست آواز میں ہو، اور سب سے بہترین رزق (ضروریاتِ زندگی، راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: بہتر زندگی) وہ ہے جو کفایت کر جائے۔“ یہاں روایت کے الفاظ میں شک ابن وہب نامی راوی کو ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 809]

810

Sahih Ibn Hibban #810

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللَّهُ : يَا ابْنَ آدَمَاذْكُرْنِي فِي نَفْسِكَ ، أَذْكُرْكَ فِي نَفْسِي ، اذْكُرْنِي فِي مَلأٍ مِنَ النَّاسِ ، أَذْكُرْكَ فِي مَلأٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے آدم کے بیٹے! تم اپنے دل میں مجھے یاد کرو، میں اپنے دل میں تمہیں یاد کروں گا، تم لوگوں کی محفل میں مجھے یاد کرو، میں ان سے بہتر گروہ میں تمہیں یاد کروں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 810]

811

Sahih Ibn Hibban #811

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بْنِ مَرْزُوقٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى :أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي ، وَأَنَا مَعَهُ حَيْثُ يَذْكُرُنِي ، إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي ، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلأٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلأٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ ، وَإِنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا ، وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : اللَّهُ أَجَلُّ وَأَعْلَى مِنْ أَنْ يُنْسَبَ إِلَيْهِ شَيْءٌ مِنْ صِفَاتِ الْمَخْلُوقِ ، إِذْ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ، وَهَذِهِ أَلْفَاظٌ خَرَجَتْ مِنْ أَلْفَاظِ التَّعَارُفِ عَلَى حَسَبِ مَا يَتَعَارَفُهُ النَّاسُ مِمَّا بَيْنَهُمْ . وَمَنْ ذَكَرَ رَبَّهُ جَلَّ وَعَلا فِي نَفْسِهِ بِنُطْقٍ أَوْ عَمَلٍ يَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى رَبِّهِ ، ذَكَرَهُ اللَّهُ فِي مَلَكُوتِهِ بِالْمَغْفِرَةِ لَهُ تَفَضُّلا وَجُودًا ، وَمَنْ ذَكَرَ رَبَّهُ فِي مَلأٍ مِنْ عِبَادِهِ ، ذَكَرَهُ اللَّهُ فِي مَلائِكَتِهِ الْمُقَرَّبِينَ بِالْمَغْفِرَةِ لَهُ ، وَقَبُولِ مَا أَتَى عَبْدُهُ مِنْ ذِكْرِهِ ، وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَى الْبَارِي جَلَّ وَعَلا بِقَدْرِ شِبْرٍ مِنَ الطَّاعَاتِ ، كَانَ وُجُودُ الرَّأْفَةِ وَالرَّحْمَةِ مِنَ الرَّبِّ مِنْهُ لَهُ أَقْرَبَ بِذِرَاعٍ ، وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَى مَوْلاهُ جَلَّ وَعَلا بِقَدْرِ ذِرَاعٍ مِنَ الطَّاعَاتِ كَانَتِ الْمَغْفِرَةُ مِنْهُ لَهُ أَقْرَبَ بِبَاعٍ ، وَمَنْ أَتَى فِي أَنْوَاعِ الطَّاعَاتِ بِالسُّرْعَةِ كَالْمَشْيِ ، أَتَتْهُ أَنْوَاعُ الْوَسَائِلِ وَوُجُودُ الرَّأْفَةِ وَالرَّحْمَةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِالسُّرْعَةِ كَالْهَرْوَلَةِ ، وَاللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں۔ وہ جب جہاں مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں؛ اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے، تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ لوگوں میں مجھے یاد کرتا ہے، تو میں اس سے بھی بہترین گروہ میں اسے یاد کرتا ہوں۔ اگر وہ ایک بالشت میرے قریب آتا ہے، تو میں ایک ذراع اس کے قریب ہوتا ہوں؛ اور اگر وہ چل کر میری طرف آتا ہے، تو میں دوڑ کر اس کی طرف آتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اللہ تعالیٰ کی ذات اس بات سے بلند و برتر ہے کہ مخلوق کی صفات میں سے کوئی چیز اس کی طرف منسوب کی جائے، کیونکہ کوئی بھی چیز اس کی مثل نہیں ہے۔ یہ الفاظ (جو اس روایت میں استعمال ہوئے ہیں) یہ اس عام محاورے کے مطابق ہیں جو لوگوں کے درمیان رائج ہے۔ جو شخص تنہائی میں زبان کے ذریعے یا عمل کے ذریعے اپنے پروردگار کا ذکر کرتا ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں قرب حاصل کرے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کے تحت، اپنی ملکوت میں مغفرت کے ہمراہ اس کا ذکر کرتا ہے اور جو شخص اپنے پروردگار کا ذکر اس کے بندوں کی موجودگی میں کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اپنے مقرب فرشتوں کے سامنے اس شخص کا ذکر مغفرت کے ہمراہ کرتا ہے۔ اس نے اپنے بندے کے ذکر کو قبول کر لیا ہے (اس کے ہمراہ بندے کا ذکر کرتا ہے) اور جو شخص ایک بالشت جتنی فرمانبرداری کے ہمراہ پروردگار کے قریب ہو، تو پروردگار کی طرف سے مہربانی اور رحمت ایک ذراع (درمیانی بڑی انگلی کے کنارے سے لے کر کہنی تک) جتنا اس کے قریب ہوتی ہے۔ جو شخص ایک ذراع جتنی فرمانبرداری کے ہمراہ (اپنے) خالق کے قریب ہوتا ہے، تو اس (پروردگار) کی طرف سے مغفرت ایک باع (دونوں بازوؤں کے پھیلاؤ) سے زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے؛ جو شخص مختلف طرح کی نیکیاں پیدل چلنے جتنی سرعت کے ساتھ کرتا ہے، تو وسائل، مہربانی اور رحمت کے وجود اور مغفرت اتنی تیزی سے اس کی طرف آتے ہیں جس طرح دوڑنا ہوتا ہے، تو اللہ تعالیٰ بلند و برتر ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 811]

812

Sahih Ibn Hibban #812

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا :عَبْدِي عِنْدَ ظَنِّهِ بِي ، وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي ، إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي ، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلأٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلأٍ خَيْرٌ مِنْهُ وَأَطْيَبُ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ جَلَّ وَعَلا : " إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي " يُرِيدُ بِهِ إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ بِالدَّوَامِ عَلَى الْمَعْرِفَةِ الَّتِي وَهَبْتُهَا لَهُ ، وَجَعَلْتُهُ أَهْلا لَهَا ، ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي ، يُرِيدُ بِهِ فِي مَلَكُوتِي بِقَبُولِ تِلْكَ الْمَعْرِفَةِ مِنْهُ مَعَ غُفْرَانِ مَا تَقَدَّمَهُ مِنَ الذُّنُوبِ . ثُمَّ قَالَ : " وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلأٍ " يُرِيدُ بِهِ : وَإِنْ ذَكَرَنِي بِلِسَانِهِ ، يُرِيدُ بِهِ الإِقْرَارَ الَّذِي هُوَ عَلامَةُ تِلْكَ الْمَعْرِفَةِ فِي مَلأٍ مِنَ النَّاسِ لِيَعْلَمُوا إِسْلامَهُ ، ذَكَرْتُهُ فِي مَلأٍ خَيْرٍ مِنْهُ ، يُرِيدُ بِهِ ذَكَرْتُهُ فِي مَلأٍ خَيْرٍ مِنْهُ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ فِي الْجَنَّةِ ، بِمَا أَتَى مِنَ الإِحْسَانِ فِي الدُّنْيَا الَّذِي هُوَ الإِيمَانُ إِلَى أَنِ اسْتَوْجَبَ بِهِ التَّمَكُّنَ مِنَ الْجِنَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں، جب وہ مجھے پکارتا ہے، تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں، اگر وہ دل میں مجھے یاد کرتا ہے، تو میں بھی دل میں اسے یاد کرتا ہوں، اگر وہ لوگوں میں مجھے یاد کرتا ہے، تو میں بھی اس سے بہتر اور پاکیزہ گروہ میں اس کا تذکرہ کرتا ہوں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ”اگر وہ اپنے نفس میں (یعنی دل میں یا تنہائی میں) میرا ذکر کرتا ہے، تو میں اپنے من میں اس کا ذکر کرتا ہوں“، اس سے مراد یہ ہے کہ اگر وہ اپنے من میں اس معرفت کی وجہ سے باقاعدگی سے میرا ذکر کرتا ہے، جو (معرفت) میں نے اسے ہبہ کی ہے اور میں نے اسے اس کا اہل بنایا ہے، تو پھر میں اپنے من میں اس کا ذکر کرتا ہوں۔ اس سے مراد یہ ہے: میں اپنے ملکوت میں اس کی طرف سے اس معرفت کو قبول کرتا ہوں، اور اس کے ہمراہ اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہوں۔ پھر اس نے یہ فرمایا: ”اگر وہ لوگوں میں میرا ذکر کرے“، اس سے مراد یہ ہے: اگر وہ اپنی زبان کے ہمراہ میرا ذکر کرے گا، اس سے مراد وہ اقرار ہے، جو لوگوں کی موجودگی میں اس معرفت کی علامت ہو گا تاکہ انہیں اس کے اسلام کا پتہ چل جائے۔ تو میں اس سے بہتر گروہ میں اس کا ذکر کرتا ہوں۔ اس سے مراد یہ ہے میں اس کا ذکر ایسے گروہ میں کرتا ہوں، جو اس سے بہتر ہے، جس میں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین ہوں گے جو جنت میں ہوں گے، اس (شخص کے ذکر کی صورت یہ ہو گی) اس نے دنیا میں بھلائی کی ہو گی جو ایمان ہے، یہاں تک کہ اس (ایمان) کی وجہ سے وہ جنت میں رہنے کا مستحق ہو جائے گا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 812]

813

Sahih Ibn Hibban #813

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : خَرَجَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : مَا يُجْلِسُكُمْ ؟ قَالُوا : جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ ، قَالَ : آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلا ذَلِكَ ؟ قَالُوا : وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلا ذَلِكَ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : مَا يُجْلِسُكُمْ ؟ " قَالُوا : جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلإِسْلامِ ، وَمَنَّ عَلَيْنَا بِهِ ، قَالَ : " آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلا ذَلِكَ ؟ " قَالُوا : وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلا ذَلِكَ ، قَالَ :" أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ ، وَلَكِنْ جِبْرِيلُ أَتَانِي ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلائِكَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما مسجد میں ایک حلقے کے پاس تشریف لائے اور دریافت کیا: ”تم لوگ یہاں کیوں بیٹھے ہو؟“ لوگوں نے بتایا: ”ہم اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے ہیں۔“ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”اللہ کی قسم! کیا تم لوگ صرف اسی مقصد کے لیے بیٹھے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! ہم لوگ صرف اسی مقصد کے لیے بیٹھے ہیں۔“ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ایک حلقے کے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم لوگ کیوں بیٹھے ہوئے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”ہم اللہ کا ذکر کرنے کے لیے اور اس نے جو اسلام کی ہدایت دی ہے اور ہم پر یہ احسان کیا ہے، اس بات پر اس کی حمد بیان کرنے کے لیے بیٹھے ہوئے ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! کیا تم صرف اسی مقصد کے لیے بیٹھے ہوئے ہو؟“ لوگوں نے عرض کی: ”اللہ کی قسم! ہم صرف اسی مقصد کے لیے بیٹھے ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تم پر کوئی الزام عائد کرنے کے لیے تم سے قسم نہیں لی ہے، بلکہ جبرائیل میرے پاس آئے، انہوں نے مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے تم پر فخر کا اظہار کر رہا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 813]

814

Sahih Ibn Hibban #814

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ الْكِنْدِيَّ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيَّانِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي بِأَمْرٍ أَتَشَبَّثُ بِهِ . قَالَ : لا يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان میں سے ایک نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کسی ایسی چیز کے بارے میں مجھے بتائیں جسے میں مضبوطی سے پکڑ لوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری زبان اللہ کے ذکر سے ہمیشہ تر رہنی چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 814]

815

Sahih Ibn Hibban #815

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ جُوصَا أَبُو الْحَسَنِ ، بِدِمَشْقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ النَّحَّاسُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ كَرِيمَةَ بِنْتِ الْحَسْحَاسِ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ فِي بَيْتِ أُمِّ الدَّرْدَاءِ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى :أَنَا مَعَ عَبْدِي مَا ذَكَرَنِي وَتَحَرَّكَتْ بِي شَفَتَاهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کریمہ بنت حسحاس بیان کرتی ہیں: میں نے سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کے گھر میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ میرا ذکر کرتا ہے اور اس کے ہونٹ میرے لیے حرکت کرتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 815]

816

Sahih Ibn Hibban #816

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا :سَيَعْلَمُ أَهْلُ الْجَمْعِ الْيَوْمَ مَنْ أَهْلُ الْكَرَمِ " ، فَقِيلَ : مَنْ أَهْلُ الْكَرَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَهْلُ مَجَالِسِ الذِّكْرِ فِي الْمَسَاجِدِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: آج کے دن اہل دولت جان لیں گے کہ کون معزز ہیں“، تو دریافت کیا گیا کہ یا رسول اللہ! کون معزز ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد میں منعقد کی جانے والی محفلِ ذکر کے افراد معزز ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 816]

817

Sahih Ibn Hibban #817

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا السَّمْحِ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَكْثِرُوا ذِكْرَ اللَّهِ ، حَتَّى يَقُولُوا : مَجْنُونٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم اللہ تعالیٰ کا اتنی کثرت سے ذکر کرو کہ لوگ یہ کہیں: یہ پاگل ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 817]

818

Sahih Ibn Hibban #818

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ مَكْحُولٌ ، بِبَيْرُوتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَعْلَبَكَيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :أَيُّ الأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ؟ قَالَ : أَنْ تَمُوتَ وَلِسَانُكَ رَطْبٌ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس حالت میں مرو کہ تمہاری زبان اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 818]

819

Sahih Ibn Hibban #819

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ فَذَكَرَ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ ، قَالَ الشَّيْطَانُ : لا مَبِيتَ لَكُمْ وَلا عَشَاءَ ، وَإِذَا دَخَلَ فَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ ، قَالَ الشَّيْطَانُ : أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ ، وَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ طَعَامِهِ ، قَالَ : أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہو اور داخلے کے وقت اللہ کا ذکر کرتا ہے اور کھانے کے وقت اللہ کا ذکر کرتا ہے، تو شیطان (اپنے ساتھیوں سے) یہ کہتا ہے: تمہیں یہاں رہنے کے لئے جگہ بھی نہیں ملے گی اور کھانا بھی نہیں ملے گا، اور جب کوئی شخص گھر میں داخلے کے وقت اللہ کا ذکر نہیں کرتا، تو شیطان یہ کہتا ہے کہ تمہیں یہاں جگہ مل جائے گی، اور جب کوئی شخص کھانے کے وقت اللہ کا ذکر نہیں کرتا، تو شیطان کہتا ہے: تمہیں یہاں رہنے کی جگہ بھی مل جائے گی اور کھانا بھی مل جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 819]

820

Sahih Ibn Hibban #820

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ بْنِ بَرَكَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الأَوْدِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا أَبَا ذَرٍّ ،أَلا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ " قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے ابوذر! کیا میں تمہاری رہنمائی جنت کے ایک خزانے کی طرف نہ کروں؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» ”(جنت کا خزانہ ہے)“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 820]

821

Sahih Ibn Hibban #821

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مَرَّ عَلَى إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ ، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ ، لِجِبْرِيلَ : مَنْ مَعَكَ يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ جِبْرِيلُ : هَذَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ : يَا مُحَمَّدُ مُرْ أُمَّتَكَ أَنْ يُكْثِرُوا غِرَاسَ الْجَنَّةِ ، فَإِنَّ تُرْبَتَهَا طَيِّبَةٌ ، وَأَرْضُهَا وَاسِعَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لإِبْرَاهِيمَ :وَمَا غِرَاسُ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی کہ جس رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کروائی گئی، آپ کا گزر سیدنا ابراہیم خلیل علیہ السلام کے پاس سے ہوا، تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا: اے جبرائیل! آپ کے ساتھ کون ہے؟ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے بتایا: یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اپنی امت کو یہ ہدایت کریں کہ وہ جنت میں زیادہ درخت لگائے، کیونکہ اس کی مٹی پاکیزہ ہے اور اس کی زمین کشادہ ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا: ”جنت میں درخت لگانے سے مراد کیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» ”پڑھنا“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 821]