Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 7 · Chapter 3

The Book of Piety and Benevolence

Hadith 748–781

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

748

Sahih Ibn Hibban #748

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُغَفَّلِ ، يَقُولُ : قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَرَجَّعَ فِي قِرَاءَتِهِ "، قَالَ مُعَاوِيَةُ : لَوْلا أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَيَّ ، لَحَكَيْتُ قِرَاءَتَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر تلاوت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تلاوت کے دوران ترجیع کی۔ معاویہ نامی راوی یہ بات بیان کرتے ہیں: ”اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ میرے اردگرد اکٹھے ہو جائیں گے، تو میں اس طریقے سے تلاوت کر کے دکھاتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 748]

749

Sahih Ibn Hibban #749

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْعَابِدُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذِهِ اللَّفْظَةُ مِنْ أَلْفَاظِ الأَضْدَادِ ، يُرِيدُ بِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ " ، لا : زَيِّنُوا أَصْوَاتَكُمْ بِالْقُرْآنِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: «زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ» ”قرآن کو اپنی آوازوں کے ذریعے آراستہ کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ وہ الفاظ ہیں، جنہیں ہو کر متضاد مفہوم مراد لیا جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے مراد یہ ہے: ”تم قرآن کو اپنی آوازوں کے ذریعے آراستہ کرو“، یہ نہیں کہ ”تم قرآن کے ذریعے اپنی آوازوں کو آراستہ کرو“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 749]

750

Sahih Ibn Hibban #750

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قرآن کو اپنی آوازوں کے ذریعے آراستہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 750]

751

Sahih Ibn Hibban #751

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبَجٍ ، حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . ثُمَّ سَمِعْتُهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ " يُرِيدُ يَتَحَزَّنُ بِهِ ، وَلَيْسَ هَذَا مِنَ الْغُنْيَةِ ، وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ مِنَ الْغُنْيَةِ ، لَقَالَ : يَتَغانَى بِهِ ، وَلَمْ يَقُلْ : يَتَغَنَّى بِهِ ، وَلَيْسَ التَّحَزُّنُ بِالْقُرْآنِ نَقَاءَ الْجِرْمِ ، وَطِيبَ الصَّوْتِ ، وَطَاعَةَ اللَّهَوَاتِ بِأَنْوَاعِ النَّغَمِ بِوِفَاقِ الْوِقَاعِ ، وَلَكِنَّ التَّحَزُّنَ بِالْقُرْآنِ هُوَ أَنْ يُقَارِنَهُ شَيْئَانِ : الأَسَفُ وَالتَّلَهُّفُ : الأَسَفُ عَلَى مَا وَقَعَ مِنَ التَّقْصِيرِ ، وَالتَّلَهُّفُ عَلَى مَا يُؤْمَلُ مِنَ التَّوْقِيرِ ، فَإِذَا تَأَلَّمَ الْقَلْبُ وَتَوَجَّعَ ، وَتَحَزَّنَ الصَّوْتُ وَرَجَّعَ ، بَدَرَ الْجَفْنَ بِالدِّمُوعِ ، وَالْقَلْبَ بِاللُّمُوعِ ، فَحِينَئِذٍ يَسْتَلِذُّ الْمُتَهَجِّدُ بِالْمُنَاجَاةِ ، وَيَفِرُّ مِنَ الْخَلْقِ إِلَى وَكْرِ الْخَلَوَاتِ ، رَجَاءَ غُفْرَانِ السَّالِفِ مِنَ الذُّنُوبِ ، وَالتَّجَاوُزِ عَنِ الْجِنَايَاتِ وَالْعُيُوبِ ، فَنَسْأَلُ اللَّهَ التَّوْفِيقَ لَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ کسی بھی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا جتنی توجہ سے وہ اس نبی کو سنتا ہے، جو قرآن کو خوش الحانی کے ساتھ تلاوت کرتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”وہ قرآن کو خوش الحانی سے پڑھے“ اس سے مراد اس کو دردمندی سے پڑھنا ہے۔ اگر یہ «الْغُنْيَةِ» (یعنی خوش الحانی) سے ماخوذ ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے: «يَتَغَانٰی بِهٖ»، یہ نہ کہتے: «يَتَغَنّٰى بِهٖ» ۔ قرآن کو دردمند انداز میں پڑھنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حلق پر بوجھ لادا جائے یا آواز کو سنوارا جائے یا نغمگی کی پیروی کرتے ہوئے (آواز میں اتار چڑھاؤ پیدا کیا جائے)، قرآن کو دردمندانہ انداز میں پڑھنے سے مراد یہ ہے کہ تلاوت کے ہمراہ دو چیزیں ہوں: افسوس کا اظہار کرنا اور غمگین ہونا، یعنی آدمی سے جو غلطیاں سرزد ہوئی تھیں ان پر افسوس کا اظہار کرنا اور جس توقیر کی خواہش ہو اس پر غمگین ہونا۔ جب دل الم اور تکلیف کو محسوس کرے، تو آواز غمگین ہو جائے اور وہ ترجیع کرے، آنکھیں آنسو بہائیں اور دل روشن ہو، تو اس صورت میں مناجات کے ہمراہ تہجد پڑھنے والے کو لذت محسوس ہو گی اور وہ شخص مخلوق سے فرار ہو کر خلوت کے گھونسلے (یعنی اس کی پناہ) میں آ جائے، اس بات کی امید رکھتے ہوئے کہ اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جائے اور اس کے جرائم اور عیوب سے درگزر کیا جائے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے اس کی توفیق مانگتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 751]

752

Sahih Ibn Hibban #752

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ كَأَذَنِهِ لِلَّذِي يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ ، يَجْهَرُ بِهِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ : " مَا أَذِنَ اللَّهُ " ، يُرِيدُ : مَا اسْتَمَعَ اللَّهُ لِشَيْءٍ ، " كَأَذَنِهِ " : كَاسْتِمَاعِهِ " لِلَّذِي يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ ، يَجْهَرُ بِهِ " ، يُرِيدُ : يَتَحَزَّنُ بِالْقِرَاءَةِ عَلَى حَسَبِ مَا وَصَفْنَا نَعْتَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ کسی بھی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا، جتنی توجہ سے قرآن کی خوش الحانی سے کی جانے والی تلاوت کو سنتا ہے، جو بلند آواز میں کی جاتی ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان «مَا أَذِنَ اللَّهُ» سے مراد یہ ہے یعنی ”اللہ تعالیٰ کسی بھی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا“، «كَأَذَنِهِ» یعنی ”جس طرح وہ سنتا ہے“ اس شخص کو جو خوش الحانی سے قرآن کی تلاوت کرے، جو بلند آواز میں اس کی تلاوت کرتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے: وہ دردمندانہ انداز میں قرأت کرے جو اس کے مطابق ہو، جس کی صفت کو ہم نے بیان کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 752]

753

Sahih Ibn Hibban #753

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَفِي صَدْرِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الْمِرْجَلِ مِنَ الْبُكَاءِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ التَّحَزُّنَ الَّذِي أَذِنَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا فِيهِ بِالْقُرْآنِ ، وَاسْتَمَعَ إِلَيْهِ هُوَ التَّحَزُّنُ بِالصَّوْتِ مَعَ بِدَايَتِهِ وَنِهَايَتِهِ ، لأَنَّ بَدَاءَتَهُ هُوَ الْعَزْمُ الصَّحِيحُ عَلَى الانْقِلاعِ عَنِ الْمَزْجُورَاتِ ، وَنِهَايَتُهُ وُفُورُ التَّشْمِيرِ فِي أَنْوَاعِ الْعِبَادَاتِ ، فَإِذَا اشْتَمَلَ التَّحَزُّنُ عَلَى الْبِدَايَةِ الَّتِي وَصَفْتُهَا ، وَالنِّهَايَةُ الَّتِي ذَكَرْتُهَا ، صَارَ الْمُتَحَزِّنُ بِالْقُرْآنِ كَأَنَّهُ قَذَفَ بِنَفْسِهِ فِي مِقْلاعِ الْقُرْبَةِ إِلَى مَوْلاهُ ، وَلَمْ يَتَعَلَّقْ بِشَيْءٍ دُونَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مطرف بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا، گریہ و زاری کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے سے یوں آواز آ رہی تھی جیسے ہنڈیا ابلتی ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ جس دردمندانہ تلاوت کو اللہ تعالیٰ سنتا ہے اور پوری توجہ سے سنتا ہے، وہ ایسا درد ہے جو آواز میں آغاز اور اختتام کے ہمراہ ہو؛ کیونکہ آغاز یہ ہوتا ہے کہ اس بات کا پختہ ارادہ کیا جائے کہ ممنوعہ چیزوں سے لاتعلقی اختیار کی جائے گی اور انجام یہ ہے کہ مختلف نوعیت کی عبادات میں بھرپور کوشش کی جائے گی، تو جب وہ درد آغاز میں اس کے مطابق ہو جو ہم نے بیان کیا ہے اور اختتام اس کے مطابق ہو جو میں نے ذکر کیا ہے، تو قرآن کے ہمراہ دردمند ہونے والا شخص گویا اپنے آپ کو اپنے پروردگار کے قرب میں ڈال دیتا ہے اور وہ اس کے علاوہ کسی اور چیز سے متعلق نہیں ہوتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 753]

754

Sahih Ibn Hibban #754

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ ، عَنْ مَيْسَرَةَ مَوْلَى فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَلَّهُ أَشَدُّ أَذَنَا إِلَى الرَّجُلِ الْحَسَنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ ، مِنْ صَاحِبِ الْقَيْنَةِ إِلَى قَيْنَتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جتنے شوق کے ساتھ کوئی شخص کسی کنیز کا گانا سنتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ پسندیدگی کے ساتھ اچھی آواز والے شخص کی قرآن کی تلاوت کو سنتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 754]

755

Sahih Ibn Hibban #755

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ أَبِي عَمْرٍو الْخَوْلانِيُّ ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ التُّجِيبِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يَكُونُ خَلْفٌ بَعْدَ سِتِّينَ سَنَةً أَضَاعُوا الصَّلاةَ ، وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ ، فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا ، ثُمَّ يَكُونُ خَلْفٌ يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ لا يَعْدُو تَرَاقِيَهُمْ ، وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثَلاثَةٌ : مُؤْمِنٌ ، وَمُنَافِقٌ ، وَفَاجِرٌ ". قَالَ بَشِيرٌ : فَقُلْتُ لِلْوَلِيدِ : مَا هَؤُلاءِ الثَّلاثَةُ ؟ قَالَ : الْمُنَافِقُ كَافِرٌ بِهِ ، وَالْفَاجِرُ يَتَأَكَّلُ بِهِ ، وَالْمُؤْمِنُ يُؤْمِنُ بِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ساٹھ سال کے بعد ایسے لوگ آ جائیں گے، جو نماز کو ضائع کریں گے، خواہشات کی پیروی کریں گے، وہ عنقریب جہنم میں جائیں گے، پھر اس کے بعد وہ لوگ آ جائیں گے، جو قرآن کی تلاوت کریں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ قرآن کو تین طرح کے لوگ پڑھتے ہیں: مومن، منافق اور فاجر۔“ بشیر نامی راوی کہتے ہیں: میں نے ولید سے دریافت کیا: یہ تین لوگ کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: منافق سے مراد وہ شخص ہے، جو قرآن کا انکار کرتا ہو، فاجر سے مراد وہ شخص ہے، جو اس کا معاوضہ وصول کرتا ہو اور مومن سے مراد وہ شخص ہے، جو اس پر ایمان رکھتا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 755]

756

Sahih Ibn Hibban #756

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَكِيمِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : جَمَعْتُ الْقُرْآنَ فَقَرَأْتُ بِهِ فِي لَيْلَةٍ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : اقْرَأْهُ فِي كُلِّ شَهْرٍ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَمِنْ شَبَابِي ، فَقَالَ : " اقْرَأْهُ فِي كُلِّ عِشْرِينَ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَمِنْ شَبَابِي ، قَالَ : " اقْرَأْهُ فِي عَشْرٍ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَمِنْ شَبَابِي ، قَالَ : " اقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَمِنْ شَبَابِي ، فَأَبَى"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نے قرآن کو جمع کیا اور ایک ہی رات میں اس کی تلاوت کر لی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم مہینے میں پورے قرآن کی تلاوت کیا کرو۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے موقع دیجیے کہ میں اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ حاصل کر لوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بیس دن میں پورے قرآن کی تلاوت کر لیا کرو۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے موقع دیجیے کہ میں اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ حاصل کر لوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دس دن میں اس کی تلاوت کر لیا کرو۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے موقع دیجیے کہ میں اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ حاصل کر لوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سات دن میں اس کی تلاوت کر لیا کرو۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے موقع دیجیے کہ میں اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ حاصل کر لوں، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 756]

757

Sahih Ibn Hibban #757

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَكِيمِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : حَفِظْتُ الْقُرْآنَ فَقَرَأْتُ بِهِ فِي لَيْلَةٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْرَأْهُ فِي شَهْرٍ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي ، قَالَ : " اقْرَأْهُ فِي عَشْرٍ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي ، قَالَ : " اقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي ، قَالَ : فَأَبَى"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے قرآن کو یاد کر لیا اور میں نے ایک رات میں اس کی تلاوت کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم ایک مہینے میں اس کی تلاوت کرو۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے موقع دیجیے کہ میں اپنی قوت اور اپنی جوانی سے فائدہ حاصل کر لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دس دن میں اس کی تلاوت کر لو۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے موقع دیجیے کہ میں اپنی قوت اور اپنی جوانی سے فائدہ حاصل کر لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سات دن میں اس کی تلاوت کر لو۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے موقع دیجیے کہ میں اپنی قوت اور اپنی جوانی سے فائدہ حاصل کر لوں۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 757]

758

Sahih Ibn Hibban #758

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَفْقَهُ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلاثٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص تین دن سے کم میں اس کی (یعنی پورے قرآن کی) تلاوت کر لیتا ہے اس نے اسے سمجھا ہی نہیں۔ (یا وہ شخص سمجھ بوجھ ہی نہیں رکھتا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 758]

759

Sahih Ibn Hibban #759

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اقْرَؤُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ ، فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ ، فَقُومُوا عَنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”تم قرآن کی تلاوت اس وقت تک کرتے رہو، جب تک تمہارے دل اس کی طرف مائل رہیں اور جب طبیعت منتشر ہونے لگے، تو تم (اس کی تلاوت ختم کر کے) اٹھ جاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 759]

760

Sahih Ibn Hibban #760

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَذَكَرَ ابْنُ سَلْمٍ آخَرَ مَعَهُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ وَفَاءِ بْنِ شُرَيْحٍ الصَّدَفِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَنَحْنُ نَقْتَرِئُ ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ، كِتَابُ اللَّهِ وَاحِدٌ ، وَفِيكُمُ الأَحْمَرُ ، وَفِيكُمُ الأَسْوَدُ ؟ ! اقْرَؤُوهُ قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَهُ أَقْوَامٌ يُقَوِّمُونَهُ كَمَا يُقَوَّمُ أَلْسِنَتُهُمْ ، يَتَعَجَّلُ أَحَدُهُمْ أَجْرَهُ وَلا يَتَأَجَّلُهُ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : كَذَا وَقَعَ السَّمَاعُ ، وَإِنَّمَا هُوَ السَّهْمُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم اس وقت قرأت سیکھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب ایک ہے، تمہارے اندر سفید فام بھی ہیں اور سیاہ فام بھی ہیں، تم لوگ اس کی قرأت سیکھ لو اس سے پہلے کہ ایسے لوگ اس کی قرأت سیکھیں جو اس کی یوں قیمت لگوائیں گے جس طرح وہ اپنی زبانوں (دراصل یہاں لفظ سامان ہونا چاہیے) کی قیمت لگواتے ہیں اور وہ لوگ اس کا معاوضہ جلدی (یعنی دنیا میں ہی) وصول کریں گے، وہ اسے تاخیر سے (یعنی آخرت میں) وصول کرنا نہیں چاہیں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سماع اسی طرح واقع ہوا ہے، لیکن اصل لفظ «أَلْسِنَتُهُمْ» نہیں ہے بلکہ «السَّهْمُ» (یعنی حصہ) ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 760]

761

Sahih Ibn Hibban #761

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَقُولُ أَحَدُكُمْ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ هُوَ نَسِيَ ، وَلَكِنَّهُ نُسِّيَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی شخص یہ نہ کہے: میں فلاں فلاں آیت کو بھول گیا ہوں، وہ شخص اسے بھولا نہیں ہوتا بلکہ وہ آیت اسے بھلا دی گئی ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 761]

762

Sahih Ibn Hibban #762

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بِفَمِّ الصِّلْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ ، فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهَا ، وَبِئْسَمَا لأَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ : نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ ، مَا نَسِيَ ، وَلَكِنْ نُسِّيَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَمْ يُسْنِدْ سَعِيدٌ عَنِ الأَعْمَشِ غَيْرَ هَذَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قرآن کو یاد کرتے رہو، کیونکہ یہ آدمی کے سینے سے اس سے زیادہ تیزی سے نکلتا ہے جتنی تیزی سے کوئی جانور اپنی رسی سے نکلتا ہے اور کسی شخص کا یہ کہنا بہت برا ہے کہ میں فلاں، فلاں آیت کو بھول گیا ہوں، وہ بھولا نہیں ہے، بلکہ اسے بھلا دی گئی ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سعید نے اعمش کے حوالے سے اس روایت کے علاوہ کوئی اور روایت ”مسند“ حدیث کے طور پر روایت نہیں کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 762]

763

Sahih Ibn Hibban #763

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ ، وَعُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ ، فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهَا ، وَبِئْسَمَا لأَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ : نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الاسْتِطَاعَةَ مَعَ الْفِعْلِ لا قَبْلَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قرآن کو یاد کرتے رہو، کیونکہ یہ آدمی کے سینے سے اس سے زیادہ تیزی سے نکلتا ہے، جتنی تیزی سے جانور اپنی رسی چھڑا کر نکلتا ہے اور کسی شخص کا یہ کہنا بہت برا ہے کہ میں فلاں، فلاں آیت کو بھول گیا ہوں، بلکہ وہ اسے بھلا دی گئی ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس حدیث میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ استطاعت فعل کے ہمراہ ہو گی، اس سے پہلے نہیں ہو گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 763]

764

Sahih Ibn Hibban #764

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّمَا مَثَلُصَاحِبِ الْقُرْآنِ كَصَاحِبِ الإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ ، إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا ، وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قرآن کا علم حاصل کرنے والے کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کے مالک کی مانند ہے، اگر وہ اس کا دھیان رکھے گا تو اسے روک کر رکھے گا اور اگر چھوڑ دے گا تو وہ چلا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 764]

765

Sahih Ibn Hibban #765

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ مَثَلَصَاحِبِ الْقُرْآنِ مَثَلُ صَاحِبِ الإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ ، إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا ، عَقَلَهَا ، وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”قرآن کے عالم (یا حافظ) کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کے مالک کی طرح ہے، اگر وہ اس کا خیال رکھے گا تو اسے روک کر رکھے گا اور اگر اسے چھوڑ دے گا تو وہ چلا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 765]

766

Sahih Ibn Hibban #766

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ ، بِحِمْصَ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : اقْرَأْ وَارْقَ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي دَارِ الدُّنْيَا ، فَإِنَّ مَنْزِلَتَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ كُنْتَ تَقْرَؤُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”قرآن کے حافظ سے قیامت کے دن یہ کہا جائے گا: تم تلاوت کرنا شروع کرو اور (جنت کے درجات پر) چڑھنا شروع کرو اور تم اسی طرح ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرو جس طرح تم دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتے تھے، تمہارا مقام اس آخری آیت کے پاس ہوگا، جس کی تم تلاوت کرو گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 766]

767

Sahih Ibn Hibban #767

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُالَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ مَاهِرٌ بِهِ ، مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ ، وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ وَهُوَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ لَهُ أَجْرَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص قرآن کی تلاوت کرتا ہے اور مہارت کے ساتھ اس کی تلاوت کرتا ہے، تو وہ معزز نیک (فرشتوں) کے ساتھ ہوگا اور جو شخص قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے مشکل کا سامنا کرتا ہے اس کے لیے دو گنا اجر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 767]

768

Sahih Ibn Hibban #768

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ أَبُو عَمْرٍو بِنَسَا ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ ابْنُ زَنْجُوَيْهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا جَلَسَ قَوْمٌ فِي مَسْجِدٍ مِنْ مَسَاجِدِ اللَّهِ ، يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ ، وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ ، إِلا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ ، وَحَفَّتْهُمُ الْمَلائِكَةُ ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ . وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب بھی کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی مسجد میں بیٹھ کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کو اس کا درس دیتے ہیں، تو ان لوگوں پر سکینت نازل ہوتی ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے انہیں ڈھانپ لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے پاس موجود (فرشتوں کے سامنے) ان لوگوں کا ذکر کرتا ہے، اور جس شخص کا عمل اسے سست کر دے اس کا نسب اسے تیز نہیں کر سکتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 768]

769

Sahih Ibn Hibban #769

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ : إِنَّ رَجُلا كَانَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْكَهْفِ وَدَابَّتُهُ مُوثَقَةٌ ، فَجَعَلَتْ تَنْفِرُ ، تَرَى مِثْلَ الضَّبَابَةِ أَوِ الْغَمَامَةِ قَدْ غَشِيَتْهُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : اقْرَأْ يَا فُلانُ ، تِلْكَ السَّكِينَةُ أُنْزِلَتْ عِنْدَ الْقُرْآنِ ، أَوْ لِلْقُرْآنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص سورہ کہف کی تلاوت کر رہا تھا اور اس کا جانور بندھا ہوا تھا، اس جانور نے اچھلنا شروع کر دیا، اس شخص نے ایک بادل دیکھا جس نے اسے ڈھانپ لیا تھا، وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس بات کا تذکرہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلاں! تم تلاوت کرتے رہتے، یہ سکینت تھی جو قرآن کے پاس (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) قرآن کی وجہ سے نازل ہو رہی تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 769]

770

Sahih Ibn Hibban #770

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَثَلُالْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الأُتْرُجَّةِ ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلا رِيحَ لَهَا ، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ ، رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ ، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي لا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ ، طَعْمُهَا مُرٌّ ، وَلا رِيحَ لَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”وہ مومن جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے اس کی مثال «الأُتْرُجَّةِ» ”ناشپاتی“ کی طرح ہے، جس کا ذائقہ بھی میٹھا ہوتا ہے اور خوشبو بھی پاکیزہ ہوتی ہے، اور وہ مومن جو قرآن کی تلاوت نہیں کرتا، اس کی مثال کھجور کی طرح ہے، جس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے، لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی، اور وہ فاجر (یعنی منافق یا کافر) شخص جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے اس کی مثال «الرَّيْحَانَةِ» ”ریحانہ“ کی مانند ہے، جس کی خوشبو عمدہ ہوتی ہے، لیکن ذائقہ کڑوا ہوتا ہے، اور وہ فاجر (یعنی کافر یا منافق) شخص جو قرآن کی تلاوت نہیں کرتا، اس کی مثال «الْحَنْظَلَةِ» ”حنظلہ“ کی مانند ہے، جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس کی خوشبو بھی نہیں ہوتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 770]

771

Sahih Ibn Hibban #771

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُالْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، مَثَلُ الأُتْرُجَّةِ ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ التَّمْرَةِ ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلا رِيحَ لَهَا ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ ، أَوِ الْفَاجِرِ ، الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ ، رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ ، أَوِ الْفَاجِرِ ، الَّذِي لا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ ، طَعْمُهَا مُرٌّ وَلا رِيحَ لَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ مومن جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے، اس کی مثال «الأُتْرُجَّةِ» (سنگترے یا چکوترے) کی مانند ہے، جس کا ذائقہ بھی میٹھا ہوتا ہے اور اس کی خوشبو بھی عمدہ ہوتی ہے، اور وہ مومن جو قرآن کی تلاوت نہیں کرتا، اس کی مثال «التَّمْرَةِ» (کھجور) کی مانند ہے، جس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے، لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی، اور وہ منافق (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: فاجر شخص) جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے، اس کی مثال «الرَّيْحَانَةِ» (ریحانہ) کی طرح ہے، جس کی خوشبو اچھی ہوتی ہے، لیکن اس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے، اور وہ منافق (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: فاجر شخص) جو قرآن کی تلاوت نہیں کرتا ہے، اس کی مثال «الْحَنْظَلَةِ» (حنظلہ) کی مانند ہے، جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس کی خوشبو بھی نہیں ہوتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 771]

772

Sahih Ibn Hibban #772

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الطُّفَيْلِ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ ، تَلَقَّى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ إِلَى عُسْفَانَ ، وَكَانَ نَافِعٌ عَامِلا لِعُمَرَ عَلَى مَكَّةَ ، فَقَالَ عُمَرُ : مَنِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَى أَهْلِ الْوَادِي ؟ يَعْنِي أَهْلَ مَكَّةَ ، قَالَ : ابْنَ أَبْزَى ، قَالَ : وَمَنِ ابْنُ أَبْزَى ؟ قَالَ : رَجُلٌ مِنَ الْمَوَالِي ، قَالَ عُمَرُ : اسْتَخْلَفْتَ عَلَيْهِمْ مَوْلًى ؟ ! فَقَالَ لَهُ : إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ ، فَقَالَ : أَمَا إِنَّ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّاللَّهَ لَيَرْفَعُ بِهَذَا الْقُرْآنِ أَقْوَامًا ، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوطفیل بیان کرتے ہیں: نافع بن عبدالحارث کی ملاقات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ”عسفان“ کے مقام پر ہوئی، نافع سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے مکہ مکرمہ کے گورنر تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”تم نے اپنے پیچھے کس کو مکہ میں اپنا نائب مقرر کیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ابن ابزی کو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”ابن ابزی کون ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ایک آزاد کردہ غلام ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نے ان لوگوں پر اپنا ایک آزاد کردہ غلام نائب بنا دیا ہے؟“ تو نافع نے ان سے گزارش کی کہ وہ اللہ کی کتاب کا عالم ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ اس قرآن کی وجہ سے کچھ لوگوں کو سربلندی عطا فرمائے گا اور کچھ دوسرے لوگوں کو پستی عطا کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 772]

773

Sahih Ibn Hibban #773

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ ، وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، أَنَّ عَيَّاشَ بْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلالٍ الصَّدَفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقْرِئْنِي الْقُرْآنَ ، قَالَ : اقْرَأْ ثَلاثًا مِنْ ذَوَاتِ الر " ، قَالَ الرَّجُلُ : كَبُرَ سِنِّي ، وَثَقُلَ لِسَانِي ، وَغَلُظَ قَلْبِي ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَأْ ثَلاثًا مِنْ ذَوَاتِ حم " ، فَقَالَ الرَّجُلُ : مِثْلَ ذَلِكَ ، وَلَكِنْ أَقْرِئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ سُورَةً جَامِعَةً ، فَأَقْرَأَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا زُلْزِلَتِ الأَرْضُ سورة الزلزلة آية 1 حَتَّى بَلَغَ مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ سورة الزلزلة آية 5 - 7 قَالَ الرَّجُلُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا أُبَالِي أَنْ لا أَزِيدَ عَلَيْهَا حَتَّى أَلْقَى اللَّهَ ، وَلَكِنْ أَخْبِرْنِي بِمَا عَلَيَّ مِنَ الْعَمَلِ أَعْمَلْ مَا أَطَقْتُ الْعَمَلَ ، قَالَ :" الصَّلَوَاتُ الْخُمْسُ ، وَصِيَامُ رَمَضَانَ ، وَحَجُّ الْبَيْتِ ، وَأَدِّ زَكَاةَ مَالِكَ ، وَمُرْ بِالْمَعْرُوفِ ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے قرآن پڑھنا سکھائیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم «الرَّ» سے شروع ہونے والی تین سورتوں کی تلاوت سیکھ لو۔“ اس شخص نے عرض کی: میری عمر زیادہ ہو گئی ہے، زبان وزنی ہو گئی ہے اور دل سخت ہو گیا ہے (یعنی حافظہ کمزور ہے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم «حمٓ» سے شروع ہونے والی تین سورتیں سیکھ لو۔“ اس شخص نے اس کی مانند کلمات کہے اور عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے ایک جامع سورۃ پڑھنا سکھا دیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سورہ زلزال پڑھنا سکھا دی، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت ﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ * وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾ [سورة الزلزلة: 7-8] پر پہنچے جس کا ترجمہ ہے: ”جو شخص ذرے کے وزن جتنی بھلائی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا اور جو شخص ذرے کے وزن جتنی برائی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا۔“ اس شخص نے عرض کی: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، میں اس بات کی پروا نہیں کروں گا کہ میں اس کے علاوہ مزید بھی کچھ سیکھوں، یہاں تک کہ میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو جاؤں۔ آپ مجھے یہ بتا دیجیے مجھ پر کون سا عمل کرنا لازم ہے میں وہ عمل کروں گا جس کی میں طاقت رکھتا ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پانچ نمازیں پڑھنا، رمضان کے روزے رکھنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور تم اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرو، نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 773]

774

Sahih Ibn Hibban #774

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ آدَمَ غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْمَعْنِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ فَنَزَلَ ، فَمَشَى رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَى جَانِبِهِ ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : أَلا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ الْقُرْآنِ ؟ " ، قَالَ : فَتَلا عَلَيْهِ " الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ الْقُرْآنِ " ، أَرَادَ بِهِ : بِأَفْضَلِ الْقُرْآنِ لَكَ ، لا أَنَّ بَعْضَ الْقُرْآنِ يَكُونُ أَفْضَلَ مِنْ بَعْضٍ ، لأَنَّ كَلامَ اللَّهِ يَسْتَحِيلُ أَنْ يَكُونَ فِيهِ تَفَاوُتُ التَّفَاضُلِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے، آپ سواری سے نیچے اترے، آپ کے ساتھیوں میں سے ایک صاحب آپ کے پیچھے کی طرف گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف توجہ کی اور ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں قرآن کے سب سے افضل حصے کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے یہ تلاوت کی: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ”سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”کیا میں تمہیں قرآن کے افضل کے بارے میں نہ بتاؤں“ اس سے آپ کی مراد یہ ہے: (جسے پڑھنا) تمہارے لیے افضل ہے، ایسا نہیں ہے کہ قرآن کا ایک حصہ دوسرے سے افضل ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے بارے میں یہ بات ناممکن ہے کہ اس میں ”تفاضل“ ہو (یعنی کسی ایک حصے کو دوسرے پر فضیلت ہو)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 774]

775

Sahih Ibn Hibban #775

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانُ بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ ، وَعِدَّةٌ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى :مَا فِي التَّوْرَاةِ ، وَلا فِي الإِنْجِيلِ ، مِثْلُ أُمِّ الْقُرْآنِ ، وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي ، وَهِيَ مَقْسُومَةٌ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي ، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَعْنَى هَذِهِ اللَّفْظَةِ " مَا فِي التَّوْرَاةِ ، وَلا فِي الإِنْجِيلِ ، مِثْلُ أُمِّ الْقُرْآنِ " ، أَنَّ اللَّهَ لا يُعْطِي لِقَارِئِ التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ مِنَ الثَّوَابِ مَا يُعْطِي لِقَارِئِ أُمِّ الْقُرْآنِ ، إِذِ اللَّهُ بِفَضْلِهِ فَضَّلَ هَذِهِ الأُمَّةَ عَلَى غَيْرِهَا مِنَ الأُمَمِ ، وَأَعْطَاهَا الْفَضْلَ عَلَى قِرَاءَةِ كَلامِ اللَّهِ أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَى غَيْرَهَا مِنَ الْفَضْلِ عَلَى قِرَاءَةِ كَلامِهِ ، وَهُوَ فَضْلٌ مِنْهُ لِهَذِهِ الأُمَّةِ ، وَعَدْلٌ مِنْهُ عَلَى غَيْرِهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تورات میں اور انجیل میں «أُمُّ الْقُرْآنِ» ”ام القرآن“ (یعنی سورہ فاتحہ کی) مانند اور کوئی سورت نہیں ہے، یہی «السَّبْعُ الْمَثَانِي» ”سبع مثانی“ ہے، یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان تقسیم ہوئی ہیں اور میرا بندہ جو مانگتا ہے وہ اسے ملے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ ”تورات اور انجیل میں ام القرآن (یعنی سورہ فاتحہ) کی مانند کوئی چیز نہیں ہے“ اس کا مطلب یہ ہے کہ تورات اور انجیل کی تلاوت کرنے والے کو اللہ تعالیٰ اتنا اجر عطا نہیں کرتا جتنا سورہ فاتحہ کی تلاوت کرنے والے کو عطا کرتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کے تحت اس امت کو باقی تمام امتوں پر فضیلت عطا کی ہے اور اس (امت کو) اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کرنے پر اس سے زیادہ فضیلت عطا کی ہے جو دوسری (امتوں کو ان پر نازل ہونے والے) اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت پر عطا کی تھی اور یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور دوسری امتوں کے لیے یہ اس کا عدل ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 775]

776

Sahih Ibn Hibban #776

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَوْدُودٍ أَبُو عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ صَلَّى صَلاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، فَهِيَ خِدَاجٌ ، فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ " قَالَ : ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، إِنِّي أَحْيَانًا أَكُونُ وَرَاءَ الإِمَامِ ، قَالَ : فَغَمَزَ ذِرَاعِي ، ثُمَّ قَالَ : يَا فَارِسِيُّ ، اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : قُسِمَتِ الصَّلاةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عِبَادِي نِصْفَيْنِ ، فَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَنِصْفُهَا لِي ، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ ، إِذَا قَالَ الْعَبْدُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، قَالَ اللَّهُ : حَمِدَنِي عَبْدِي ، وَإِذَا قَالَ : الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ يَقُولُ اللَّهُ : أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي ، وَإِذَا قَالَ : مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ، قَالَ : مَجَّدَنِي عَبْدِي ، وَهَذِهِ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي ، يَقُولُ : إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ، وَمَا بَقِيَ فَلِعَبْدِي ، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ ، اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ . فَهَذَا لِعَبْدِي ، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو الْمُغِيرَةِ : عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ الْخَوْلانِيُّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص نماز ادا کرتا ہے اور اس میں سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا، تو وہ نماز ناقص ہوتی ہے، وہ ناقص ہوتی ہے، وہ مکمل نہیں ہوتی۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے کہا: اے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! بعض اوقات میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے میرے بازو پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اے فارسی! تم اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کرو، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز (یعنی سورۃ فاتحہ کی تلاوت کو) اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر لیا ہے، اس کا نصف حصہ میرے بندے کے لیے ہے اور نصف حصہ میرے لیے ہے اور میرے بندے نے جو مانگا ہے وہ اسے ملے گا، جب بندہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ» ﴿سورة الفاتحة: 2﴾ ”سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے“ پڑھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری حمد بیان کی، جب بندہ «الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ» ﴿سورة الفاتحة: 3﴾ ”نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا“ پڑھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تعریف کی، جب بندہ «مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ» ﴿سورة الفاتحة: 4﴾ ”بدلے کے دن کا مالک“ پڑھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی اور یہ (یہ بعد والی آیت) میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے وہ کہتا ہے: «إِیَّاكَ نَعْبُدُ وَإِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ» ﴿سورة الفاتحة: 5﴾ ”ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں“ اور اس کے بعد والا باقی حصہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرا بندہ جو مانگے گا وہ اسے ملے گا وہ یہ پڑھتا ہے: «اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ ۝ صِرَاطَ الَّذِیْنَ أَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ» ﴿سورة الفاتحة: 6-7﴾ ”تو صراط مستقیم کی طرف ہمیں ہدایت دے ان لوگوں کے راستے کی طرف جن پر تو نے اپنا انعام کیا ہے، نہ کہ ان لوگوں کے راستے کی طرف جن پر غضب نازل کیا گیا اور جو گمراہ ہوئے“ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے)، تو یہ چیز میرے بندے کو ملے گی اور میرے بندے نے جو مانگا ہے وہ اسے ملے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابومغیرہ نامی راوی کا نام عبدالقدوس بن حجاج خولانی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 776]

777

Sahih Ibn Hibban #777

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى ، قَالَ : كُنْتُ أُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ ، فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ أُجِبْهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي . فَقَالَ : أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ : اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ ؟ " ثُمَّ قَالَ :" أَلا أُعَلِّمُكَ سُورَةً هِيَ أَعْظَمُ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ ؟ " فَقُلْتُ : بَلَى ، فَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي ، وَالْقُرْآنُ الَّذِي أُوتِيتُهُ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ أَعْظَمُ سُورَةٍ " أَرَادَ بِهِ فِي الأَجْرِ ، لا أَنَّ بَعْضَ الْقُرْآنِ أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ . وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ الْمُعَلَّى اسْمُهُ : رَافِعُ بْنُ الْمُعَلَّى بْنِ لَوْذَانَ بْنِ حَارِثَةَ ، مَاتَ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسَبْعِينَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں مسجد میں نماز ادا کر رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دی، میں آپ کی طرف نہیں گیا (جب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا)، تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نماز ادا کر رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نہیں فرمایا: ﴿اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ﴾ [سورة الأنفال: 24] ”جب اللہ اور اس کا رسول تم کو بلائیں، تو تم ان کی طرف جاؤ۔“؟“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی سورت کی تعلیم نہ دوں جو قرآن میں موجود سب سے عظیم سورت ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» ”سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے“، یہی سبع مثانی ہے اور وہ قرآن ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”یہ سب سے عظیم سورت ہے“ اس سے مراد اجر کے اعتبار سے (سب سے عظیم ہونا) ہے؛ ایسا نہیں ہے کہ قرآن کا ایک حصہ دوسرے سے افضل ہو۔ سیدنا ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ کا نام رافع بن معلی بن لوذان بن حارثہ ہے، ان کا انتقال 74 ہجری میں ہوا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 777]

778

Sahih Ibn Hibban #778

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ :بَيْنَمَا جِبْرِيلُ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ سَمِعَ نَقِيضًا مِنْ فَوْقِهِ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، وَقَالَ : لَقَدْ فُتِحَ بَابٌ مِنَ السَّمَاءِ مَا فُتِحَ قَطُّ ، فَأَتَاهُ مَلَكٌ ، فَقَالَ لَهُ : أَبْشِرْ بِسُورَتَيْنِ أُوتِيتَهُمَا لَمْ يُعْطَهُمَا نَبِيٌّ كَانَ قَبْلَكَ : فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَخَوَاتِيمِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ، لَنْ تَقْرَأَ مِنْهَا حَرْفًا إِلا أُعْطِيتَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ جبرائیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے، اسی دوران انہوں نے اوپر سے (آسمان کا دروازہ) کھلنے کی آواز سنی، انہوں نے سر اٹھایا اور بولے: آج آسمان کا ایسا دروازہ کھلا ہے، جو اس سے پہلے کبھی نہیں کھلا، پھر ایک فرشتہ ان کے پاس آیا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ کو دو ایسی سورتوں کی خوشخبری قبول ہو، جو آپ سے پہلے کسی اور نبی کو نہیں دی گئی ہیں، وہ سورہ فاتحہ اور سورہ البقرہ کی آخری آیات ہیں، آپ ان کا جو بھی حرف تلاوت کریں گے آپ کو وہ چیز مل جائے گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 778]

779

Sahih Ibn Hibban #779

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَيْنَمَا أَنَا أَقْرَأُ اللَّيْلَةَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ إِذْ سَمِعْتُ وَجْبَةً مِنْ خَلْفِي ، فَظَنَنْتُ أَنَّ فَرَسِي انْطَلَقَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْرَأْ يَا أَبَا عَتِيكٍ " ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا مِثْلُ الْمِصْبَاحِ مُدَلًّى بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اقْرَأْ يَا أَبَا عَتِيكٍ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا اسْتَطَعْتُ أَنْ أَمْضِيَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تِلْكَ الْمَلائِكَةُ نَزَلَتْ لِقِرَاءَةِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ مَضَيْتَ لَرَأَيْتَ الْعَجَائِبَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! گزشتہ رات میں سورہ بقرہ کی تلاوت کر رہا تھا، اسی دوران میں نے اپنے پیچھے ایک آہٹ سنی، مجھے یہ گمان ہوا کہ شاید میرا گھوڑا چلا گیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابواسید! تم تلاوت کرتے رہو۔“ میں نے توجہ کی، تو وہاں کچھ چراغ نظر آئے، جو آسمان و زمین کے درمیان موجود تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوعتیک! تم تلاوت کرتے ہو۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں اب تلاوت جاری نہیں رکھ سکتا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ فرشتے تھے جو سورہ بقرہ کی تلاوت کی وجہ سے نازل ہوئے تھے، اگر تم تلاوت جاری رکھتے، تو اور بھی حیران کن چیزیں دیکھتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 779]

780

Sahih Ibn Hibban #780

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الأَزْرَقُ بْنُ عَلِيِّ أَبُو جَهْمٍ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّلِكُلِّ شَيْءٍ سَنَامًا ، وَإِنَّ سَنَامَ الْقُرْآنِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ، مَنْ قَرَأَهَا فِي بَيْتِهِ لَيْلا لَمْ يَدْخُلِ الشَّيْطَانُ بَيْتَهُ ثَلاثَ لَيَالٍ ، وَمَنْ قَرَأَهَا نَهَارًا لَمْ يَدْخُلِ الشَّيْطَانُ بَيْتَهُ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمْ يَدْخُلِ الشَّيْطَانُ بَيْتَهُ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ " أَرَادَ بِهِ مَرَدَةَ الشَّيَاطِينِ دُونَ غَيْرِهِمْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ہر چیز کی ایک چوٹی ہے اور قرآن کی چوٹی سورۃ بقرہ ہے، جو شخص رات کے وقت اس کی تلاوت کر لیتا ہے، شیطان تین راتوں تک اس کے گھر میں داخل نہیں ہو گا اور جو شخص دن کے وقت اس کی تلاوت کر لیتا ہے، شیطان تین دن تک اس کے گھر میں داخل نہیں ہو گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”شیطان تین دن تک اس گھر میں داخل نہیں ہوتا“ اس سے مراد سرکش شیاطین ہیں۔ دوسرے شیاطین مراد نہیں ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 780]

781

Sahih Ibn Hibban #781

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : لَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ فِي الطَّوَافِ فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ ، فَحَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ قَرَأَ الآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں: طواف کے دوران میری ملاقات سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے مجھے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص رات کے وقت سورہ بقرہ کی آخری دو آیات کی تلاوت کر لے، تو یہ دونوں اس کے لیے کافی ہوں گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 781]