Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 7 · Chapter 2

The Book of Piety and Benevolence

Hadith 708–747

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

708

Sahih Ibn Hibban #708

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ ، بِنَسَا ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجُعْفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ ، فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفًا ، فَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا ، وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ ، وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ ، فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْتُلُوهَا " فَابْتَدَرْنَاهَا فَذَهَبَتْ ، فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْوُقِيَتْ شَرَّكُمْ ، كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورہ مرسلات نازل ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت کی، میں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سیکھ لیا، یہ کچھ دیر پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی۔ اسی دوران ایک سانپ نکل کر ہمارے سامنے آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مار دو!“ ہم تیزی سے اس کی طرف لپکے، تو وہ چلا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تمہارے نقصان سے بچا لیا گیا جس طرح تمہیں اس کے شر سے بچا لیا گیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 708]

709

Sahih Ibn Hibban #709

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أَحَبَّ دُنْيَاهُ ، أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ ، وَمَنْ أَحَبَّ آخِرَتَهُ أَضَرَّ بِدُنْيَاهُ ، فَآثِرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يَفْنَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص دنیا سے محبت رکھتا ہے یہ چیز اس کی آخرت کو نقصان پہنچاتی ہے، جو شخص آخرت سے محبت رکھتا ہے، تو یہ چیز اس کی دنیا کو نقصان پہنچاتی ہے، تو جو چیز باقی رہنے والی ہے، تم اسے اس چیز پر ترجیح دو، جو فنا ہو جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 709]

710

Sahih Ibn Hibban #710

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَعْدِ بْنِ الأَخْرَمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَتَّخِذُوا الضَّيْعَةَ ، فَتَرْغَبُوا فِي الدُّنْيَا "قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَبِالْمَدِينَةِ وَمَا بِالْمَدِينَةِ ، وَبِرَاذَانَ وَمَا بِرَاذَانَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”زیادہ ساز و سامان نہ بناؤ، تم دنیا کی طرف راغب ہو جاؤ گے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو کچھ ”مدینہ“ میں ہے وہ مدینے میں ہے اور جو کچھ ”رازان“ میں ہے وہ ”رازان“ میں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 710]

711

Sahih Ibn Hibban #711

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي الْخَلْقِ ، أَوِ الرِّزْقِ ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلُ مِنْهُ مِمَّنْ فُضِّلَ هُوَ عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص کسی ایسے شخص کی طرف دیکھے، جس کو تخلیق (یعنی شکل و صورت) یا رزق کے حوالے سے اس پر فضیلت دی گئی ہو، تو اسے اس شخص کا بھی جائزہ لینا چاہیے جو اس شخص سے نیچے ہے، جس پر اسے فضیلت دی گئی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 711]

712

Sahih Ibn Hibban #712

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا نَظَرَ أَحَدُكُمْ إِلَى مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي الْمَالِ وَالْخَلْقِ ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلُ مِنْهُ مِمَّنْ فُضِّلَ هُوَ عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص کسی ایسے شخص کی طرف دیکھے جسے مال اور تخلیق کے لحاظ سے اس پر فضیلت دی گئی ہے، تو اسے اس شخص کا بھی جائزہ لینا چاہیے جو اس شخص سے بھی نیچے ہے، جس پر اسے فضیلت دی گئی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 712]

713

Sahih Ibn Hibban #713

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ ، وَانْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلُ مِنْكُمْ ، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ لا تَرُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم ان لوگوں کی طرف نہ دیکھو جو تم سے اوپر ہیں، تم ان کی طرف دیکھو جو تم سے نیچے ہیں، کیونکہ یہ اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ تم اس طرح اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو حقیر (یعنی انہیں کم تر نہیں سمجھو گے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 713]

714

Sahih Ibn Hibban #714

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَحْرٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَنْ فَوْقَهُ فِي الْمَالِ وَالْحَسَبِ ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَهُ فِي الْمَالِ وَالْحَسَبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص مال اور حسب کے اعتبار سے اپنے سے اوپر والے شخص کو دیکھے، تو اسے مال اور حسب کے اعتبار سے اپنے سے نیچے والے شخص کو بھی دیکھنا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 714]

715

Sahih Ibn Hibban #715

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ ، بِالْفُسْطَاطِ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتِ : اشْتَدَّ وَجَعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ سَبْعَةُ دَنَانِيرَ أَوْ تِسْعَةٌ ، فقَالَ : يَا عَائِشَةُ ، مَا فَعَلَتْ تِلْكَ الذَّهَبُ " ؟ فَقُلْتُ : هِيَ عِنْدِي ، قَالَ : " تَصَدَّقِي بِهَا " ، قَالَتْ : فَشُغِلْتُ بِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ ،مَا فَعَلَتْ تِلْكَ الذَّهَبُ " ؟ فَقُلْتُ : هِيَ عِنْدِي ، فقَالَ : " ائْتِنِي بِهَا " ، قَالَتْ : فَجِئْتُ بِهَا ، فَوَضَعَهَا فِي كَفِّهِ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا ظَنُّ مُحَمَّدٍ أَنْ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ وَهَذِهِ عِنْدَهُ ؟ مَا ظَنُّ مُحَمَّدٍ أَنْ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ وَهَذِهِ عِنْدَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف زیادہ ہو گئی، آپ کے پاس سات یا شاید نو دینار موجود تھے۔ آپ نے فرمایا: ”اے عائشہ! تم نے اس سونے کا کیا کیا ہے؟“ میں نے عرض کی: وہ میرے پاس ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے صدقہ کر دو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں مشغولیت کی وجہ سے یہ کام نہ کر سکی، پھر آپ نے دریافت کیا: ”اے عائشہ! تم نے اس سونے کے ساتھ کیا کیا ہے؟“ میں نے عرض کی: وہ میرے پاس ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: ”اسے میرے پاس لے کر آؤ۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں وہ لے کر آئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی ہتھیلی میں لیا اور ارشاد فرمایا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا گمان کیا جائے گا کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہوں کہ یہ کچھ ان کے پاس ہو؟ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا گمان کیا جائے گا کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہوں کہ یہ ان کے پاس ہو؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 715]

716

Sahih Ibn Hibban #716

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، بِخَبَرٍ غَرِيبٍ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : حُفَّتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ ، وَحُفَّتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جنت کو ناپسندیدہ چیزوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے اور جہنم کو پسند آنے والی چیزوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 716]

717

Sahih Ibn Hibban #717

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ الشَّدِيدُ مَنْ غَلَبَ ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ مَنْ غَلَبَ نَفْسَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”طاقتور وہ نہیں ہوتا جو غالب آ جائے، طاقتور وہ ہوتا ہے جو اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 717]

718

Sahih Ibn Hibban #718

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : حُفَّتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ ، وَحُفَّتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنت کو ناپسندیدہ چیزوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے اور جہنم کو پسندیدہ چیزوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 718]

719

Sahih Ibn Hibban #719

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَرْوَزِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : حُفَّتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ ، وَحُفَّتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جہنم کو پسندیدہ چیزوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے اور جنت کو ناپسندیدہ چیزوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 719]

720

Sahih Ibn Hibban #720

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اشْتَرَى رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ عَقَارًا ، فَوَجَدَ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ فِي عَقَارِهِ جَرَّةَ ذَهَبٍ ، فقَالَ لَهُ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ : خُذْ ذَهَبَكَ عَنِّي ، إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ مِنْكَ أَرْضًا وَلَمْ أَبْتَعْ مِنْكَ ذَهَبًا ، وَقَالَ الَّذِي بَاعَ الأَرْضَ : إِنَّمَا بِعْتُكَ الأَرْضَ وَمَا فِيهَا ، قَالَ : فَتَحَاكَمَا إِلَى رَجُلٍ ، فقَالَ الَّذِي تَحَاكَمَا إِلَيْهِ : أَلَكُمَا وَلَدٌ ؟ فقَالَ أَحَدُهُمَا : غُلامٌ ، وقَالَ الآخَرُ : جَارِيَةٌ ، فقَالَ : أَنْكِحُوا الْغُلامَ الْجَارِيَةَ ، وَأَنْفِقُوا عَلَى أَنْفُسِهِمَا ، وَتَصَدَّقَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک شخص نے دوسرے شخص سے ایک زمین خریدی، اس نے جو زمین خریدی تھی اس زمین میں سونے کا ایک مٹکا پایا، تو اس نے اس شخص سے، جس سے زمین خریدی تھی، کہا: تم اپنا یہ سونا مجھ سے لے لو، میں نے تم سے زمین خریدی تھی، میں نے تم سے سونا نہیں خریدا تھا۔ جس شخص نے زمین فروخت کی تھی اس نے کہا: میں نے تمہیں زمین اور اس میں موجود ساری چیزیں فروخت کر دی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان دونوں نے ایک تیسرے شخص کو اپنا ثالث مقرر کیا، تو جس شخص کو ثالث مقرر کیا گیا تھا اس نے دریافت کیا: کیا تمہاری اولاد ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا: میرا بیٹا ہے، دوسرے نے کہا: میری بیٹی ہے۔ اس شخص نے کہا: تم اس لڑکے کا نکاح اس لڑکی کے ساتھ کر دو اور اس (دولت) کو اپنے اوپر بھی خرچ کرو اور صدقہ بھی کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 720]

721

Sahih Ibn Hibban #721

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : الْحَلالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيَّنٌ ، وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ " وَرُبَّمَا قَالَ : مُتَشَابِهَةٌ وَسَأَضْرِبُ لَكُمْ فِي ذَلِكَ مَثَلا : إِنَّ اللَّهَ حَمَى حِمًى ، وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمَهُ ، وَإِنَّهُ مَنْ يَرْتَعْ حَوْلَ الْحِمَى ، يُوشِكْ أَنْ يُخَالِطَ الْحِمَى وَرُبَّمَا ، قَالَ : مَنْ يَرْتَعْ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكْ أَنْ يَرْتَعَ ، وَإِنَّ مَنْ خَالَطَ الرِّيبَةَ ، يُوشِكُ أَنْ يَجْسُرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں۔ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) میں تمہارے سامنے اس کی مثال بیان کرتا ہوں۔ بیشک اللہ کی چراگاہ ہی چراگاہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ اشیاء ہیں، تو جو شخص چراگاہ کے ارد گرد جانور چرانے کی کوشش کرتا ہے، تو ہو سکتا ہے وہ چراگاہ کے اندر داخل ہو جائیں (بعض اوقات راوی نے یہ الفاظ استعمال کیے) جو شخص چراگاہ کے ارد گرد جانور چراتا ہے، تو آگے جا کر وہ چراگاہ کے اندر چرنے لگ پڑتے ہیں، تو جو شخص مشکوک چیزوں کے ساتھ ملاپ اختیار کرتا ہے وہ آگے چل کر اسے عبور بھی کر لیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 721]

722

Sahih Ibn Hibban #722

وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ : اللَّهُمَّ اهْدِنَا فِيمَنْ هَدَيْتَ ، وَعَافِنَا فِيمَنْ عَافَيْتَ ، وَتَوَلَّنَا فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ ، وَبَارِكْ لَنَا فِيمَا أَعْطَيْتَ ، وَقِنَا شَرَّ مَا قَضَيْتَ ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلا يُقْضَى عَلَيْكَ ، إِنَّهُ لا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوحوراء سعدی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سن کر یاد رکھی ہو، وہ کسی اور نے آپ کو نہ سنائی ہو، تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہما نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: «دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ» ”تم اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں مبتلا کرتی ہے اور اس چیز کی طرف جاؤ جو تمہیں شک میں مبتلا نہیں کرتی ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے: «فَإِنَّ الْخَيْرَ طُمَأْنِينَةٌ وَإِنَّ الشَّرَّ رِيبَةٌ» ”بھلائی اطمینان ہوتا ہے اور برائی مشکوک ہوتی ہے۔“ (سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہما نے یہ بھی بتایا) ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں صدقے کی کچھ کھجوریں پیش کی گئیں میں نے ان میں سے ایک کھجور لی اور اپنے منہ میں ڈال لی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کھجور کو پکڑا اس کا لعاب لیا اور واپس اس کھجور میں ڈال دیا۔ آپ کی خدمت میں عرض کی گئی: یا رسول اللہ! اس بچے نے جو کھجور لی تھی اس کے حوالے سے آپ کو تو کوئی نقصان نہیں ہوتا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ» ”ہمارے، آل محمد کے لیے صدقہ حلال نہیں ہے۔“ (سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہما نے یہ بات بھی بتائی) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا ہے: «اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ» ”اے اللہ! جنہیں تو نے ہدایت عطا کی ہے ان میں ہمیں بھی ہدایت پر ثابت قدم رکھ! جنہیں تو نے عافیت عطا کی ہے ان میں ہمیں بھی عافیت عطا کر، جن کا تو نگران بنا ہے ان میں سے ہمارا بھی نگران بن، ہمیں تو نے جو کچھ عطا کیا ہے ان میں ہمارے لیے برکت رکھ دے اور جو تو نے فیصلہ کیا ہے، اس کے شر سے ہمیں بچا لے۔ بیشک تو فیصلہ دیتا ہے تیرے خلاف فیصلہ نہیں دیا جا سکتا، جس کا تو نگران ہو، وہ رسوا نہیں ہو سکتا، تو برکت والا اور بلند و برتر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 722]

723

Sahih Ibn Hibban #723

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيًّا فَأَكْرَمَهُ ، فقَالَ لَهُ : ائْتِنَا " ، فَأَتَاهُ ، فقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَلْ حَاجَتَكَ " ، قَالَ : نَاقَةٌ نَرْكَبُهَا ، وَأَعْنُزٌ يَحْلِبُهَا أَهْلِي ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعَجَزْتُمْ أَنْ تَكُونُوا مِثْلَ عَجُوزِ بَنِي إِسْرَائِيلَ " ؟ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا عَجُوزُ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، قَالَ : " إِنَّمُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ لَمَّا سَارَ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ مِصْرَ ، ضَلُّوا الطَّرِيقَ ، فقَالَ : مَا هَذَا ؟ فقَالَ عُلَمَاؤُهُمْ : إِنَّ يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلامُ ، لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَخَذَ عَلَيْنَا مَوْثِقًا مِنَ اللَّهِ أَنْ لا نَخْرُجَ مِنْ مِصْرَ حَتَّى نَنْقُلَ عِظَامَهُ مَعَنَا ، قَالَ : فَمَنْ يَعْلَمُ مَوْضِعَ قَبْرِهِ ؟ قَالَ : عَجُوزٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَبَعَثَ إِلَيْهَا فَأَتَتْهُ ، فقَالَ : دُلِّينِي عَلَى قَبْرِ يُوسُفَ ، قَالَتْ : حَتَّى تُعْطِيَنِي حُكْمِي ، قَالَ : وَمَا حُكْمُكِ ؟ قَالَتْ : أَكُونُ مَعَكَ فِي الْجَنَّةِ ، فَكَرِهَ أَنْ يُعْطِيَهَا ذَلِكَ ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : أَنْ أَعْطِهَا حُكْمَهَا ، فَانْطَلَقَتْ بِهِمْ إِلَى بُحَيْرَةٍ مَوْضِعِ مُسْتَنْقَعِ مَاءٍ ، فَقَالَتْ : أَنْضِبُوا هَذَا الْمَاءَ ، فَأَنْضَبُوهُ ، فَقَالَتْ : احْتَفِرُوا ، فَاحْتَفَرُوا ، فَاسْتَخْرَجُوا عِظَامَ يُوسُفَ ، فَلَمَّا أَقَلُّوهَا إِلَى الأَرْضِ ، وَإِذَا الطَّرِيقُ مِثْلُ ضَوْءِ النَّهَارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیہاتی کے پاس تشریف لائے، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت افزائی کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: ”اسے ہمارے پاس لے کے آؤ۔“ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: ”اپنی حاجت طلب کرو۔“ اس نے عرض کی: ایک اونٹنی چاہیے جس پہ ہم سوار ہو سکیں اور کچھ بکریاں چاہئیں جن کا دودھ میرے گھر والے دوہ لیا کریں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم لوگ اتنے عاجز ہو گئے ہو کہ تم بنی اسرائیل کی بوڑھیوں کی مانند بھی نہیں ہو سکتے؟“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! بنی اسرائیل کی بوڑھیوں کا کیا معاملہ ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر مصر سے روانہ ہوئے تو وہ لوگ راستہ بھول گئے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا: اس کی وجہ کیا ہے؟ تو ان کے علما نے بتایا: سیدنا یوسف علیہ السلام کے انتقال کا وقت جب قریب آیا تھا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم سے یہ پختہ عہد لیا تھا کہ جب ہم لوگ مصر سے نکلیں گے تو اپنے ساتھ ان کی میت بھی ساتھ لے کے جائیں گے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا: ان کی قبر کی جگہ کو کون جانتا ہے؟ تو اس شخص نے بتایا: بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی ایک بوڑھی عورت۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اس عورت کو بلوایا، وہ عورت آپ علیہ السلام کے پاس آئی تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: تم سیدنا یوسف علیہ السلام کی قبر کی طرف میری رہنمائی کرو۔ اس عورت نے کہا: جب تک آپ مجھے میرا معاوضہ نہیں دیں گے (میں ایسا نہیں کروں گی)۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا: تمہارا معاوضہ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا: یہ کہ میں جنت میں آپ کے ساتھ ہوں، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو یہ بات اچھی نہیں لگی کہ اسے یہ بات کہیں، تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف یہ وحی کی کہ وہ جو مانگ رہی ہے وہ اسے دے دو، پھر وہ عورت ان لوگوں کو لے کر ایک جگہ پر آئی جہاں سے پانی پھوٹ رہا تھا۔ عورت نے کہا: اس پانی کو بند کر دو، ان لوگوں نے پانی کو بند کر دیا۔ اس عورت نے کہا: اب اسے کھولو، ان لوگوں نے اسے کھولا تو وہاں سے سیدنا یوسف علیہ السلام کی ہڈیاں نکل آئیں، جب وہ اس سرزمین کی طرف واپس آئے تو راستہ یوں تھا جیسے دن کی روشنی ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 723]

724

Sahih Ibn Hibban #724

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْجَنْبِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ يُحَدِّثُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى بِالنَّاسِ يَخِرُّ رِجَالٌ مِنْ قَامَتِهِمْ فِي الصَّلاةِ لِمَا بِهِمْ مِنَ الْحَاجَةِ ، وَهُمْ أَصْحَابُ الصُّفَّةِ ، حَتَّى يَقُولَ الأَعْرَابُ : إِنَّ هَؤُلاءِ لَمَجَانِينَ ، فَإِذَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاتَهُ ، قَالَ : لَوْ تَعْلَمُونَ مَا لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ ، لأَحْبَبْتُمْ أَنْ تَزْدَادُوا فَاقَةً وَحَاجَةً "، قَالَ فَضَالَةُ : وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب لوگوں کو نماز پڑھا رہے ہوتے تھے، تو بعض لوگ بھوک کی شدت کی وجہ سے نماز کے دوران گر پڑا کرتے تھے، یہ اہل صفہ تھے، یہاں تک کہ دیہاتی یہ کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ پاگل ہیں۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم لوگوں کو یہ بات پتہ چل جائے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہارا کیا اجر و ثواب ہے، تو تم لوگ اس بات کو پسند کرو گے کہ تمہارے فاقہ اور بھوک میں اضافہ ہو جائے۔“ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس دن میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 724]

725

Sahih Ibn Hibban #725

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَمِينُ اللَّهِ مَلأَى لا يَغِيضُهَا نَفَقَةٌ ، سَحَّاءُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَمِينِهِ ، وَالْيَدُ الأُخْرَى الْقَبْضُ ، يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ ، وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذِهِ أَخْبَارٌ أُطْلِقَتْ مِنْ هَذَا النَّوْعِ تُوهِمُ مَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةَ الْعِلْمِ أَنَّ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ مُشَبِّهَةٌ ، عَائِذٌ بِاللَّهِ أَنْ يَخْطُرَ ذَلِكَ بِبَالِ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ وَلَكِنْ أَطْلَقَ هَذِهِ الأَخْبَارِ بِأَلْفَاظِ التَّمْثِيلِ لِصِفَاتِهِ عَلَى حَسْبِ مَا يَتَعَارَفُهُ النَّاسُ فِيمَا بَيْنَهُمْ دُونَ تَكْيِيفِ صِفَاتِ اللَّهِ ، جَلَّ رَبُّنَا عَنْ أَنْ يُشَبَّهَ بِشَيْءٍ مِنَ الْمَخْلُوقِينَ ، أَوْ يُكَيَّفَ بِشَيْءٍ مِنْ صِفَاتِهِ ، إِذْ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے، رات اور دن میں مسلسل خرچ کرنا اس میں کوئی کمی نہیں کرتا، کیا تم نے یہ بات نوٹ نہیں کی کہ جس دن سے اس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے وہ اس دن سے خرچ کر رہا ہے اور اس چیز نے اس کے ہاتھ میں موجود چیز میں کوئی کمی نہیں کی ہے، جبکہ اس کا دوسرا ہاتھ قبض کرنے والا ہے، وہ بلندی اور پستی عطا کرتا ہے اور اس کا عرش پانی پر ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان روایات کو اس قسم میں مطلق طور پر ذکر کیا گیا ہے، جو شخص علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوا کہ محدثین عظام مشبہہ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں، حالانکہ ہم اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ محدثین میں سے کسی ایک کے ذہن میں بھی اس کے حوالے سے خیال آیا ہو۔ لیکن یہ روایات اللہ تعالیٰ کی صفات کے لیے مثالی الفاظ کے ہمراہ اسی طرح مطلق طور پر منقول ہیں، جو لوگوں کے آپس کے محاورے کے مطابق ہیں۔ ان میں اللہ تعالیٰ کی صفات کی کیفیت بیان نہیں کی گئی ہے۔ ہمارا پروردگار اس بات سے بلند و برتر ہے کہ اسے مخلوق میں سے کسی چیز کے مشابہ قرار دیا جائے، یا اس کی صفات میں سے کسی صفت کی کیفیت بیان کی جائے، کیونکہ ﴿اس کی مانند اور کوئی چیز نہیں ہے﴾ [سورة الشورى: 11] ۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 725]

726

Sahih Ibn Hibban #726

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الأَشْعَثِ ، بِسَمَرْقَنْدَ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ ، بِبُخَارَى ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَخَلَتْ أُمَّةٌ الْجَنَّةَ بِقَضِّها وَقَضِيضِهَا ، كَانُوا لا يَكْتَوُونَ ، وَلا يَسْتَرْقُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک امت ساری کی ساری اس وجہ سے جنت میں داخل ہوگئی کہ وہ لوگ داغ نہیں لگواتے تھے، جھاڑ پھونک نہیں کرتے تھے اور اپنے پروردگار پر توکل رکھتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 726]

727

Sahih Ibn Hibban #727

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ ، قَالَ : أَتَيْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، فَقُلْتُ لَهُ : وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنَ الْقَدَرِ ، فَحَدِّثْنِي بِشَيْءٍ لَعَلَّهُ أَنْ يَذْهَبَ مِنْ قَلْبِي ، فقَالَ : إِنَّاللَّهَ لَوْ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ عَذَّبَهُمْ غَيْرَ ظَالِمٍ لَهُمْ ، وَلَوْ رَحِمَهُمْ كَانَتْ رَحْمَتُهُ خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ ، وَلَوْ أَنْفَقْتَ مِثْلَ أُحُدٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، مَا قَبِلَهُ اللَّهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ ، وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ ، وَلَوْ مُتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا ، لَدَخَلْتَ النَّارَ "، قَالَ : ثُمَّ أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، فقَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ ، ثُمَّ أَتَيْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ ، فقَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ ، ثُمَّ أَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، فَحَدَّثَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن دیلمی بیان کرتے ہیں: میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے ان سے کہا: میرے ذہن میں تقدیر کے حوالے سے کچھ الجھن ہے، تو آپ مجھے کوئی حدیث بیان کیجیے تاکہ اس کے ذریعے سے میرے ذہن کی یہ الجھن ختم ہو جائے، تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ آسمانوں کے رہنے والے اور زمین کے رہنے والے تمام لوگوں کو عذاب دے دے، تو وہ انہیں عذاب دیتے ہوئے ان کے ساتھ ظلم کرنے والا نہیں ہوگا اور اگر وہ ان سب پر رحم کر دے، تو اس کی رحمت ان لوگوں کے لیے ان کے اعمال سے زیادہ بہتر ہے، اگر تم اللہ کی راہ میں اُحد پہاڑ جتنا خرچ کرو، تو بھی اللہ تعالیٰ تمہاری طرف سے اسے اس وقت تک قبول نہیں کرے گا، جب تک تم تقدیر پر ایمان نہیں رکھتے اور تم یہ بات جان نہیں لیتے کہ جو صورت حال تمہیں لاحق ہوئی ہے وہ تمہیں لاحق ہو کے رہنی تھی اور جو صورت حال تمہیں لاحق نہیں ہوئی ہے وہ تمہیں کبھی لاحق نہیں ہونی تھی، اگر تم اس کے علاوہ کسی اور عقیدے پر مرو گے، تو تم جہنم میں جاؤ گے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو انہوں نے بھی اس کی مانند الفاظ بیان کیے، پھر میں سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو انہوں نے بھی اسی طرح کی بات کہی، پھر میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسی کی مانند حدیث مجھے بیان کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 727]

728

Sahih Ibn Hibban #728

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَجِبْتُ لِلْمُؤْمِنِ لا يَقْضِي اللَّهُ لَهُ شَيْئًا ، إِلا كَانَ خَيْرًا لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے مومن کے معاملے پر حیرت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں جو بھی فیصلہ دیتا ہے، وہ اس کے حق میں بہتر ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 728]

729

Sahih Ibn Hibban #729

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَقَدْ كَانَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرَوْنَ ثَلاثَةَ أَشْهُرٍ مَا يَسْتَوْقِدُونَ فِيهِ بِنَارٍ ، مَا هُوَ إِلا الْمَاءُ وَالتَّمْرُ ، وَكَانَ حَوْلَنَا أَهْلُ دُورٍ مِنَ الأَنْصَارِ لَهُمْ دَوَاجِنُ فِي حَوَائِطِهِمْ ، فَكَانَ أَهْلُ كُلِّ دَارٍ يَبْعَثُونَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِغَزِيرِ شَاتِهِمْ ، فَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنْ ذَلِكَ اللَّبَنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کو تین مہینے بعض اوقات ایسے گزر جاتے تھے کہ اس دوران وہ آگ نہیں جلا پاتے تھے، ان کی خوراک صرف پانی اور کھجور ہوتی تھی، ہمارے اردگرد انصار کے کچھ گھرانے تھے جن کے باغات میں ان کی بکریاں ہوتی تھیں، تو بعض اوقات ان میں سے کسی گھرانے کے لوگ اپنی بکریوں کا تازہ دودھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھجوا دیا کرتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دودھ کو پی لیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 729]

730

Sahih Ibn Hibban #730

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَوْ تَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ ، لَرَزَقَكُمُ اللَّهُ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ ، تَغْدُو خِمَاصًا ، وَتَعُودُ بِطَانًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اگر تم لوگ اللہ تعالیٰ پر اس طرح توکل کرو جس طرح توکل کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں اس طرح رزق دے گا، جس طرح پرندوں کو رزق دیتا ہے، جو صبح کے وقت خالی پیٹ جاتے ہیں اور پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 730]

731

Sahih Ibn Hibban #731

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُرْسِلُ نَاقَتِي وَأَتَوَكَّلُ ؟ قَالَ : اعْقِلْهَا وَتَوَكَّلْ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يَعْقُوبُ هَذَا هُوَ يَعْقُوبُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ مِنْ أَهْلِ الْحِجَازِ مَشْهُورٌ مَأْمُونٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جعفر بن عمرو بن امیہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: کیا میں اپنی اونٹنی کو کھول کر توکل کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے باندھ کر توکل کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یعقوب نامی یہ راوی یعقوب بن عمرو بن عبداللہ بن عمرو بن امیہ ضمری ہے۔ یہ اہل حجاز سے تعلق رکھتے ہیں۔ مشہور اور مامون ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 731]

732

Sahih Ibn Hibban #732

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ ، فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ فَقُومُوا عَنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”تم قرآن کی تلاوت اس وقت تک کرو، جب تک تمہارے دل اس کی طرف مائل ہوں اور جب تمہاری توجہ منتشر ہونے لگے، تو تم (اس کی تلاوت چھوڑ کر) اٹھ جاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 732]

733

Sahih Ibn Hibban #733

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ يُصَلِّي يَخْفِضُ صَوْتَهُ ، وَمَرَّ بِعُمَرَ يُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَهُ ، قَالَ : فَلَمَّا اجْتَمَعَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لأَبِي بَكْرٍ : يَا أَبَا بَكْرٍ ،مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي تَخْفِضُ مِنْ صَوْتِكَ " ، قَالَ : قَدْ أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَيْتُ ، قَالَ : " وَمَرَرْتُ بِكَ يَا عُمَرُ ، وَأَنْتَ تَرْفَعُ صَوْتَكَ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُوقِظُ الْوَسْنَانَ ، وَأَحْتَسِبُ بِهِ . قَالَ : فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لأَبِي بَكْرٍ : " ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا " ، وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لِعُمَرَ : " اخْفِضْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا، وہ نماز ادا کر رہے تھے اور پست آواز میں قراءت کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا، تو وہ بلند آواز میں قراءت کرتے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب یہ دونوں حضرات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے ابوبکر! میں تمہارے پاس سے گزرا تھا، تم پست آواز میں قراءت کرتے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میں اس ذات کو سنا رہا تھا جس کی بارگاہ میں، میں مناجات کر رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! میں تمہارے پاس سے بھی گزرا تھا، اور تم بلند آواز میں قراءت کر رہے تھے۔“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں سوئے ہوئے شخص کو جگانا چاہتا تھا، اور اس کے ذریعے ثواب کی امید رکھتا تھا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم اپنی آواز کو کچھ بلند کرو“ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم اپنی آواز کو کچھ پست کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 733]

734

Sahih Ibn Hibban #734

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْجَاهِرُ بِالْقُرْآنِ كَالْجَاهِرِ بِالصَّدَقَةِ ، وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بلند آواز میں قرآن کی تلاوت کرنے والا، ظاہر کر کے صدقہ کرنے والے کی مانند ہے اور پست آواز میں قراءت کرنے والا پوشیدہ کر کے صدقہ کرنے والے کی مانند ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 734]

735

Sahih Ibn Hibban #735

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْرَأْ عَلَيَّ " ، قَالَ : قُلْتُ :أَقْرَأُ عَلَيْكَ ، وَإِنَّمَا أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَيْكَ ؟ قَالَ : " إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي " . فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ سُورَةَ النِّسَاءِ حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ : فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا نَظَرْتُ إِلَيْهِ ، فَإِذَا عَيْنَاهُ تُهْرَاقَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”میرے سامنے تلاوت کرو۔“ میں نے عرض کی: کیا میں آپ کے سامنے تلاوت کروں جبکہ قرآن آپ ہی پر نازل ہوا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں یہ چاہتا ہوں کہ میں اسے دوسرے کی زبانی سنوں۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آپ کے سامنے سورۃ النساء پڑھنی شروع کی، جب میں نے اس آیت کی تلاوت کی: ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا﴾ [سورة النساء: 41] ”اس وقت کیا عالم ہو گا، جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے اور تمہیں ان سب پر گواہ بنا کر لے آئیں گے۔“ تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا، تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 735]

736

Sahih Ibn Hibban #736

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَوْدُودٍ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الأَجْدَعِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : لَمْ أَزَلْ أُحِبُّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ مُنْذُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ : عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے جب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے اس کے بعد سے ہمیشہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قرآن کی تلاوت چار لوگوں سے سیکھو، عبداللہ بن مسعود، ابوحذیفہ کا غلام سالم، معاذ بن جبل اور ابی بن کعب۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 736]

737

Sahih Ibn Hibban #737

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : قَرَأَ رَجُلٌ آيَةً وَقَرَأْتُهَا عَلَى غَيْرِ قِرَاءَتِهِ ، فَقُلْتُ : مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ ؟ فَقَالَ : أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقْرَأْتَنِي آيَةَ كَذَا وَكَذَا ؟ قَالَ : نَعَمْ " ، قَالَ الرَّجُلُ : أَقْرَأْتَنِي كَذَا وَكَذَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، إِنَّجِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ أَتَيَانِي ، فَجَلَسَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ عَنْ يَمِينِي ، وَمِيكَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ عَنْ يَسَارِي ، فَقَالَ جِبْرِيلُ : يَا مُحَمَّدُ ، اقْرَأِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ . فَقَالَ مِيكَائِيلُ : اسْتَزِدْهُ . فَقُلْتُ : زِدْنِي . فَقَالَ : اقْرَأْهُ عَلَى حَرْفَيْنِ . فَقَالَ مِيكَائِيلُ : اسْتَزِدْهُ . حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ . وَقَالَ : اقْرَأْهُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، كُلٌّ شَافٍ كَافٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک آیت تلاوت کی۔ میں نے وہ آیت اس سے مختلف طور پر تلاوت کی ہوئی تھی۔ میں نے اس سے دریافت کیا: تمہیں یہ آیت پڑھنی کس نے سکھائی ہے؟ اس نے جواب دیا: یہ مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھنی سکھائی ہے۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے مجھے فلاں، فلاں آیت پڑھنی سکھائی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں!“ اس شخص نے عرض کی: آپ نے مجھے فلاں، فلاں آیت پڑھنی سکھائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں! جبرائیل اور میکائیل میرے پاس آئے تھے۔ جبرائیل میرے دائیں طرف بیٹھ گئے اور میکائیل میرے بائیں طرف بیٹھ گئے، تو جبرائیل نے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ایک حرف کے مطابق قرآن کی تلاوت کیجئے۔ میکائیل نے کہا: آپ مزید کے لیے کہیں، تو میں نے کہا: ”مزید طریقہ بتائیں“، تو جبرائیل نے کہا: آپ دو حرف کے مطابق اس کی تلاوت کیجئے، تو میکائیل نے کہا: آپ مزید کے لیے کہیں، یہاں تک کہ سات حروف تک بات پہنچ گئی، تو جبرائیل نے کہا: آپ سات حروف تک میں اس کی تلاوت کیجئے۔ ان میں سے ہر ایک «شَافٍ كَافٍ» ”شافی اور کافی“ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 737]

738

Sahih Ibn Hibban #738

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ بِأَضَاةِ بَنِي غِفَارَ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ هَذَا الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ ، أَوْ مَعُونَتَهُ وَمُعَافَاتَهُ ، سَلْ لَهُمُ التَّخْفِيفَ ، فَإِنَّهُمْ لَنْ يُطِيقُوا ذَلِكَ . فَانْطَلَقَ ثُمَّ رَجَعَ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ هَذَا الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفَيْنِ . فَقَالَ : أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ ، أَوْ مَعُونَتَهُ وَمُعَافَاتَهُ ، سَلْ لَهُمُ التَّخْفِيفَ ، فَإِنَّهُمْ لَنْ يُطِيقُوا ذَلِكَ . فَانْطَلَقَ ثُمَّ رَجَعَ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ هَذَا الْقُرْآنَ عَلَى ثَلاثَةِ أَحْرُفٍ . قَالَ : أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ ، أَوْ مَعُونَتَهُ وَمُعَافَاتَهُ ، سَلْ لَهُمُ التَّخْفِيفَ ، فَإِنَّهُمْ لَنْ يُطِيقُوا ذَاكَ . قَالَ : فَانْطَلَقَ ثُمَّ رَجَعَ . فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنَّ تَقْرَأَ هَذَا الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، فَمَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْهَا فَهُوَ كَمَا قَرَأَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اضاۃ بنو غفار کے علاقے (یہ مکہ مکرمہ کے قریب ایک جگہ ہے) میں تھے۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! بیشک اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ اپنی امت کو ایک طریقے کے مطابق قرآن کی تلاوت سکھائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ تعالیٰ سے «مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ» ”اس کی معافی اور اس کی مغفرت“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) «مَعُونَتَهُ وَمُعَافَاتَهُ» ”اس کی معونت اور اس کی معافات“ کا سوال کرتا ہوں، تم اللہ تعالیٰ سے ان لوگوں کے لیے تخفیف کا سوال کرو، کیونکہ وہ لوگ اس کی طاقت نہیں رکھیں گے۔“ جبرائیل واپس چلے گئے پھر وہ واپس آئے، تو انہوں نے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ اپنی امت کو دو حرف کے مطابق قرآن کی تلاوت سکھائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ تعالیٰ سے «مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ» ”اس کی معافات اور مغفرت“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) «مَعُونَتَهُ وَمُعَافَاتَهُ» ”اس کی معونت اور معافات“ کا سوال کرتا ہوں، تم ان لوگوں کے لیے تخفیف کی درخواست کرو، کیونکہ وہ لوگ اس کی طاقت نہیں رکھیں گے۔“ جبرائیل واپس چلے گئے، پھر وہ واپس آئے اور بولے: بیشک اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ اپنی امت کو یہ قرآن تین حروف میں پڑھنا سکھائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ تعالیٰ سے «مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ» ”اس کی معافات اور اس کی مغفرت“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) «مَعُونَتَهُ وَمُعَافَاتَهُ» ”اس کی معونت اور معافات“ کا سوال کرتا ہوں، تم ان کے لیے تخفیف کی درخواست کرو، کیونکہ وہ لوگ اس کی طاقت نہیں رکھیں گے۔“ جبرائیل واپس چلے گئے پھر وہ واپس آئے اور بولے: بیشک اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ اس قرآن کو سات حروف میں پڑھ سکتے ہیں، جو شخص ان میں سے کسی بھی ایک طریقے سے پڑھے گا، تو وہ ٹھیک پڑھے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 738]

739

Sahih Ibn Hibban #739

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّيبُعِثْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمَيَّةٍ ، مِنْهُمُ الْغُلامُ ، وَالْجَارِيَةُ ، وَالْعَجُوزُ ، وَالشَّيْخُ الْفَانِي " ، قَالَ : مُرْهُمْ فَلْيَقْرَؤُوا الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات سیدنا جبرائیل علیہ السلام سے ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”مجھے ایک امی قوم کی طرف مبعوث کیا گیا ہے جن میں لڑکے اور لڑکیاں بھی ہیں، بوڑھی عورتیں اور بوڑھے مرد بھی ہیں،“ تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا: آپ انہیں ہدایت کیجئے کہ وہ سات حروف میں سے کسی ایک طریقے کے مطابق تلاوت کر سکتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 739]

740

Sahih Ibn Hibban #740

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَقَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ ، ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ قِرَاءَةً سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ دَخَلا جَمِيعًا ، عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا قَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَرَأَ الآخَرُ قِرَاءَةً سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ ، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْرَآ " ، فَقَرَآ ، فَقَالَ : " أَحْسَنْتُمَا ، أَوْ ، قَالَ : أَصَبْتُمَا " ، قَالَ : فَلَمَّا ، قَالَ لَهُمَا الَّذِي قَالَ ، كَبُرَ عَلَيَّ ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غَشِيَنِي ، ضَرَبَ فِي صَدْرِي ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَبِّي فَرَقًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أُبَيّ ، إِنَّ رَبِّي أَرْسَلَ إِلَيَّ : أَنِاقْرَأِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ ، فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ : أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي مَرَّتَيْنِ ، فَرَدَّ عَلَيَّ : أَنِ اقْرَأْهُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، وَلَكَ بِكُلِّ رَدَّةٍ رَدَدْتُهَا مَسْأَلَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأُمَّتِي ، ثُمَّ أَخَّرْتُ الثَّانِيَةَ إِلَى يَوْمٍ يَرْغَبُ إِلَيَّ فِيهِ الْخَلْقُ حَتَّى أَبَرَّهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص اندر آیا، اس نے قرأت کرنا شروع کی۔ مجھے اس کی قرأت نامانوس لگی، پھر ایک اور شخص آیا، اس نے اپنے اس ساتھی سے کچھ مختلف قرأت کی، پھر اس نے نماز مکمل کر لی، پھر وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس شخص نے اس طریقے کے مطابق قرأت کی ہے جو مجھے نامانوس لگی ہے، پھر دوسرے شخص نے اپنے ساتھی سے مختلف طریقے سے قرأت کی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: ”تم لوگ تلاوت کرو۔“ انہوں نے تلاوت کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں نے اچھی تلاوت کی ہے۔“ (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) ”ٹھیک تلاوت کی ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو یہ بات کہی، تو مجھے یہ بات بہت گراں گزری۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چیز ملاحظہ کی جو میرے ذہن میں آئی ہے، تو آپ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا، تو مجھے یوں لگا جیسے میں اس وقت اپنے پروردگار کی طرف دیکھ رہا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابی! بیشک میرے پروردگار نے مجھے پیغام بھجوایا ہے کہ تم ایک حرف کے مطابق قرآن کی تلاوت کرو، تو میں نے دو مرتبہ اس کی بارگاہ میں یہ درخواست کی کہ وہ میری امت کو آسانی فراہم کرے، تو اس نے مجھے یہ حکم دیا کہ تم سات حروف کے مطابق اس کی تلاوت کر سکتے ہو اور تم نے ہر مرتبہ جو دوبارہ کرنے کی درخواست کی ہے، اس کے عوض میں، میں تمہیں قیامت کے دن سوال کرنے (یعنی شفاعت کرنے کا مرتبہ) عطا کرتا ہوں۔ میں نے درخواست کی: اے میرے پروردگار! تو میری امت کی مغفرت کر دے، پھر میں نے دوسری دعا کو اس دن کے لیے مؤخر کر دیا ہے جس دن مخلوق کو اس کی ضرورت ہو گی، یہاں تک کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو بھی اس کی ضرورت ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 740]

741

Sahih Ibn Hibban #741

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الْقَارِي ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، فَقَرَأَ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا ، فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَمْهَلْتُ حَتَّى انْصَرَفَ ، ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ ، فَجِئْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْرَأْ " ، فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَكَذَا أُنْزِلَتْ " ، ثُمَّ قَالَ لِي : " اقْرَأْ " ، فَقَرَأْتُ ، فَقَالَ : " هَكَذَا أُنْزِلَتْ ، إِنَّ هَذَاالْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے ہشام بن حکیم کو تلاوت کرتے ہوئے سنا، وہ سورۃ الفرقان اس سے مختلف طریقے سے پڑھ رہے تھے جس طریقے سے میں پڑھتا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مجھے یہ سورہ پڑھنی سکھائی تھی۔ پہلے میں ان پر حملہ کرنے لگا، لیکن پھر میں کچھ ٹھہر گیا، جب انہوں نے نماز مکمل کر لی، تو میں نے انہیں ان کی چادر سے پکڑا اور انہیں ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کی: میں نے اس شخص کو سورۃ الفرقان کی قرأت اس طریقے سے مختلف طور پر کرتے ہوئے سنا ہے، جو آپ نے مجھے پڑھنا سکھایا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم تلاوت کرو“ انہوں نے اسی طریقے کے مطابق قرأت کی جس طریقے سے میں نے انہیں سنا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم تلاوت کرو“ میں نے قرأت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے، بیشک یہ قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے، اس میں سے جو تمہیں آسان لگے اس کے مطابق تلاوت کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 741]

742

Sahih Ibn Hibban #742

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 742]

743

Sahih Ibn Hibban #743

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ " . حَكِيمًا ، عَلِيمًا ، غَفُورًا ، رَحِيمًا. قَوْلُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَدْرَجَهُ فِي الْخَبَرِ ، وَالْخَبَرُ إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَقَطْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قرآن کو سات حروف پر نازل کیا گیا ہے۔“ (اس روایت کے یہ الفاظ) حکمت والا، علم والا، مغفرت کرنے والا، رحم کرنے والا۔ یہ محمد بن عمرو کے الفاظ ہیں، جو روایت کے متن میں درج کر لیے گئے ہیں۔ اصل روایت صرف سات حروف کے الفاظ تک ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 743]

744

Sahih Ibn Hibban #744

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمَيْدًا ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ يَكْتُبُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَةَ ، وَآلَ عِمْرَانَ عُدَّ فِينَا ذُو شَأْنٍ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُمْلِ عَلَيْهِ : غَفُورًا رَحِيمًا فَيَكْتُبُ : عَفُوًّا غَفُورًا " ، فَيَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اكْتُبْ " ، وَيُمْلِي عَلَيْهِ : عَلِيمًا حَكِيمًا ، فَيَكْتُبُ " سَمِيعًا بَصِيرًا " ، فَيَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اكْتُبْ أَيَّهُمَا شِئْتَ " . قَالَ : فَارْتَدَّ عَنِ الإِسْلامِ ، فَلَحِقَ بِالْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ : أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنْ كُنْتُ لأَكْتُبُ مَا شِئْتُ . فَمَاتَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ الأَرْضَ لَنْ تَقْبَلَهُ "، قَالَ : فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : فَأَتَيْتُ تِلْكَ الأَرْضَ الَّتِي مَاتَ فِيهَا ، وَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ الَّذِي ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَمَا قَالَ ، فَوَجَدْتُهُ مَنْبُوذًا ، فَقُلْتُ : مَا شَأْنُ هَذَا ؟ فَقَالُوا : دَفَنَّاهُ فَلَمْ تَقْبَلْهُ الأَرْضُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کتابت کیا کرتا تھا، وہ ہمارے درمیان اہم حیثیت کا مالک تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے املا کروایا: «غَفُورًا رَحِيمًا» ”مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا“ تو اس نے لکھ دیا: «عَفُوًّا غَفُورًا» ”معاف کرنے والا مغفرت کرنے والا“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ لکھو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے املا کروایا: «عَلِيمًا حَكِيمًا» ”علم والا حکمت والا“ تو اس نے لکھ دیا: «سَمِيعًا بَصِيرًا» ”سننے والا دیکھنے والا“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان دونوں میں سے جو چاہو لکھ لو۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر وہ اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہو گیا اور مشرکین کے ساتھ مل گیا۔ اس نے کہا: میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تم سب سے زیادہ جانتا ہوں، کیونکہ میں جو چاہوں وہ لکھ سکتا ہوں، پھر وہ فوت ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین اسے قبول نہیں کرے گی۔“ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے: میں اس سرزمین پر آیا جہاں وہ شخص مرا تھا، تو مجھے پتا چلا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے، تو میں نے اسے قبر سے باہر پڑا ہوا پایا۔ میں نے دریافت کیا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ تو لوگوں نے بتایا: ہم نے اسے دفن کیا تھا، لیکن زمین نے اسے قبول نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 744]

745

Sahih Ibn Hibban #745

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كَانَالْكِتَابُ الأَوَّلُ يَنْزِلُ مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ ، وَعَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍ ، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ مِنْ سَبْعَةِ أَبْوَابٍ ، عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ : زَاجِرٌ ، وَآمِرٌ ، وَحَلالٌ ، وَحَرَامٌ ، وَمُحْكَمٌ ، وَمُتَشَابِهٌ ، وَأَمْثَالٌ ، فَأَحِلُّوا حَلالَهُ ، وَحَرِّمُوا حَرَامَهُ ، وَافْعَلُوا مَا أُمِرْتُمْ بِهِ ، وَانْتَهُوا عَمَّا نُهِيتُمْ عَنْهُ ، وَاعْتَبِرُوا بِأَمْثَالِهِ ، وَاعْمَلُوا بِمُحْكَمِهِ ، وَآمِنُوا بِمُتَشَابِهِهِ ، وَقُولُوا : آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”پہلے ایک کتاب ایک دروازے سے ایک حرف کے مطابق نازل ہوتی تھی، لیکن قرآن کو سات دروازوں سے سات حروف کے مطابق نازل کیا گیا (وہ یہ ہیں) تنبیہ کرنے والا، حکم دینے والا، حلال، حرام، محکم، متشابہ اور امثال، تو تم لوگ اس کے حلال کو حلال قرار دو، اس کے حرام کو حرام قرار دو، جس چیز کا تمہیں اس میں حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کرو اور جس چیز سے تمہیں منع کیا گیا ہے اس سے باز آ جاؤ، اس کی مثالوں سے عبرت حاصل کرو، اس کے حکم پر عمل کرو، اس کے متشابہ پر ایمان لاؤ اور یہ کہو: ﴿آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا﴾ [سورة آل عمران: 7] ”ہم اس پر ایمان لاتے ہیں، یہ سارے کا سارا ہمارے پروردگار کی طرف سے آیا ہے“۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 745]

746

Sahih Ibn Hibban #746

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالأُبُلَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلا يَقْرَأُ آيَةً أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِلافَ مَا قَرَأَ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يُنَاجِي عَلِيًّا ، فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا عَلِيٌّ وَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْتَقْرَءُوا كَمَا عُلِّمْتُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے ایک شخص کو ایک آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا، وہ آیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پڑھنا سکھائی تھی، لیکن وہ شخص اس کے برخلاف طریقے سے تلاوت کر رہا تھا۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سرگوشی میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کوئی بات کر رہے تھے، میں نے اس بات کا تذکرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور بولے: ”بیشک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں کو یہ حکم دیا ہے کہ تم اسی طریقے سے تلاوت کرو جس طرح تمہیں تعلیم دی گئی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 746]

747

Sahih Ibn Hibban #747

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْخَطِيبُ بِالأَهْوَازِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةَ الرَّحْمَنِ ، فَخَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ عَشِيَّةً ، فَجَلَسَ إِلَيَّ رَهْطٌ ، فَقُلْتُ لِرَجُلٍ : اقْرَأْ عَلَيَّ . فَإِذَا هُوَ يَقْرَأُ أَحْرُفًا لا أَقْرَؤُهَا ، فَقُلْتُ : مَنْ أَقْرَأَكَ ؟ فَقَالَ : أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَانْطَلَقْنَا حَتَّى وَقَفْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : اخْتَلَفْنَا فِي قِرَاءَتِنَا . فَإِذَا وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ تَغَيُّرٌ ، وَوَجَدَ فِي نَفْسِهِ حِينَ ذَكَرْتُ الاخْتِلافَ ، فَقَالَ : إِنَّمَاهَلَكَ مَنْ قَبْلَكُمْ بِالاخْتِلافِ " ، فَأَمَرَ عَلِيًّا ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ كَمَا عُلِّمَ ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ قَبْلَكُمُ الاخْتِلافُ، قَالَ : فَانْطَلَقْنَا وَكُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يَقْرَأُ حَرْفًا لا يَقْرَأُ صَاحِبُهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورہ رحمٰن پڑھنا سکھائی، ایک دن میں شام کے وقت مسجد میں آیا، تو کچھ لوگ میرے پاس آ کر بیٹھ گئے، میں نے ان میں سے ایک شخص سے کہا: تم میرے سامنے تلاوت کرو، تو اس نے کچھ الفاظ ایسے طریقے سے تلاوت کیے جنہیں میں نے نہیں پڑھا تھا۔ میں نے دریافت کیا: تمہیں کس نے یہ تلاوت سکھائی ہے؟ اس نے جواب دیا: مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تلاوت سکھائی ہے، پھر ہم لوگ روانہ ہوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے عرض کی: ہمارا قرأت کے بارے میں اختلاف ہو گیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک یہ سن کر متغیر ہو گیا، جب میں نے اختلاف کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بہت افسوس ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم سے پہلے لوگ اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہو گئے تھے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ”بیشک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم کو یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم میں سے ہر ایک شخص اسی طریقے کے مطابق تلاوت کرے جس طرح اسے تعلیم دی گئی ہے، کیونکہ تم سے پہلے لوگ اختلاف کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہو گئے تھے“۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر ہم لوگ وہاں سے آ گئے، ہم میں سے ہر شخص اسی طریقے کے مطابق تلاوت کرتا تھا (جو اس نے سیکھا تھا) اس کا ساتھی اس کے طریقے کے مطابق تلاوت نہیں کرتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 747]