Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 7 · Chapter 1

The Book of Piety and Benevolence

Hadith 667–707

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

667

Sahih Ibn Hibban #667

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْمِنْهَالِ الْعَطَّارُ ، بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُنْذِرُكُمُ النَّارَ ، أُنْذِرُكُمُ النَّارَ ، أُنْذِرُكُمُ النَّارَ ، حَتَّى لَوْ كَانَ فِي مَقَامِي هَذَا ، وَهُوَ بِالْكُوفَةِ "سَمِعَهُ أَهْلُ السُّوقِ حَتَّى وَقَعَتْ خَمِيصَةٌ كَانَتْ عَلَى عَاتِقِهِ ، عَلَى رِجْلَيْهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «أَنْذَرْتُكُمُ النَّارَ، أَنْذَرْتُكُمُ النَّارَ، أَنْذَرْتُكُمُ النَّارَ» ”میں تمہیں جہنم سے ڈرا رہا ہوں، میں تمہیں جہنم سے ڈرا رہا ہوں، میں تمہیں جہنم سے ڈرا رہا ہوں۔“ (سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں) اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میری جگہ پر کھڑے ہوئے ہوتے، سیدنا نعمان رضی اللہ عنہما اس وقت کوفہ میں تھے، تو بازار کے رہنے والے لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سن لیتے، یہاں تک کہ (جوش زیادہ ہونے کی وجہ سے) آپ کے کندھے پر موجود چادر آپ کے پاؤں میں گر گئی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 667]

668

Sahih Ibn Hibban #668

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ سَهْمٍ ، قَالَ : نَزَلْتُ عَلَى أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَهُوَ مَطْعُونٌ ، فَأَتَاهُ مُعَاوِيَةُ يَعُودُهُ ، فَبَكَى أَبُو هَاشِمٍ ، فقَالَ مُعَاوِيَةُ : مَا يُبْكِيكَ أَيْ خَالِ ؟ أَوَجَعٌ أَمْ عَلَى الدُّنْيَا ؟ فَقَدْ ذَهَبَ صَفْوُهَا ، فقَالَ : عَلَى كُلٍّ ، لا ، وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا وَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ تَبِعْتُهُ ، قَالَ : إِنَّكَ لَعَلَّكَ أَنْ تُدْرِكَ أَمْوَالا تُقَسَّمُ بَيْنَ أَقْوَامٍ ، وَإِنَّمَا يَكْفِيكَ مِنْ ذَلِكَ خَادِمٌ ، وَمَرْكَبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " فَأَدْرَكْتُ وَجَمَعْتُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سمرہ بن سہم بیان کرتے ہیں: میں ابوہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ کے ہاں گیا جو طاعون کی بیماری میں مبتلا تھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بھی ان کی عیادت کے لیے آئے تو ابوہاشم رضی اللہ عنہ رونے لگے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”اے ماموں! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ کیا آپ کو کوئی تکلیف ہو رہی ہے؟ یا آپ دنیا (چھوڑنے کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں) اس کی صفائی تو رخصت ہو چکی ہے؟“ تو ابوہاشم رضی اللہ عنہ نے کہا: ”دونوں صورتیں نہیں ہیں، اصل بات یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک عہد لیا تھا، میری یہ خواہش تھی کہ میں اس کی پیروی کر لیتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”ہو سکتا ہے تمہیں ایسے اموال ملیں جو لوگوں کے درمیان تقسیم کیے جائیں، تو اس میں سے تمہارے لیے ایک خادم اور اللہ کی راہ میں جانے کے لیے ایک سواری کافی ہے۔““ (ابوہاشم رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) ”مجھے وہ چیز ملی بھی اور میں نے انہیں جمع بھی کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 668]

669

Sahih Ibn Hibban #669

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الزُّرَقِيُّ ، بِطَرَسُوسَ ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا حَمَاهُ الدُّنْيَا كَمَا يَظَلُّ أَحَدُكُمْ ، يَحْمِي سَقِيمَهُ الْمَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت رکھتا ہے، تو اسے دنیا سے یوں بچاتا ہے جس طرح کوئی شخص اپنے بیمار کو پانی سے بچاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 669]

670

Sahih Ibn Hibban #670

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ بِبَيْرُوتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَمَةَ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ وَكَانَ رِزْقُهُ كَفَافًا ، فَصَبَرَ عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اسلام قبول کر لے، اسے بقدرِ کفاف (ضرورت کے مطابق) رزق دیا جائے اور اللہ اسے اس پر قناعت عطا فرما دے، تو وہ کامیاب ہو گیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 670]

671

Sahih Ibn Hibban #671

أَخْبَرَنَا مَكْحُولٌ ، بِبَيْرُوتَ ، وَابْنُ سَلْمٍ ، وَابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَصْبَحَ مُعَافًى فِي بَدَنِهِ ، آمِنًا فِي سِرْبِهِ عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ ، فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص ایسی حالت میں صبح کرے کہ اس کے جسم میں عافیت ہو، اپنی رہائش میں امن کے ساتھ ہو، اس کے پاس اس دن کی خوراک ہو، تو گویا اس کے لیے دنیا کو سمیٹ دیا گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 671]

672

Sahih Ibn Hibban #672

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عَزْرَةَ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ الأَعْوَرُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَلَنَا قِرَامٌ فِيهِ تَمَاثِيلُ ، فَعُلِّقَتْ عَلَى بَابِي ، فَرَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ ، فقَالَ : انْزِعِيهِ ، فَإِنَّهُ يُذَكِّرُنِي الدُّنْيَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میرے پاس ایک پردہ تھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں، وہ میں نے دروازے پر لٹکا دیا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو ارشاد فرمایا: ”اسے اتار لو، کیونکہ یہ مجھے دنیا کی یاد دلاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 672]

673

Sahih Ibn Hibban #673

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ ، وَفِرَاشٌ لامْرَأَتِهِ ، وَالثَّالِثُ لِلضَّيْفِ ، وَالرَّابِعُ لِلشَّيْطَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک بستر مرد کے لیے ہو، ایک اس کی بیوی کے لیے، تیسرا مہمان کے لیے اور چوتھا شیطان کے لیے ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 673]

674

Sahih Ibn Hibban #674

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا مِنْ وِعَاءٍ مَلأَ ابْنُ آدَمَ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ ، حَسْبُ ابْنِ آدَمَ أُكُلاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ ، فَإِنْ كَانَ لا بُدَّ ، فَثُلُثٌ لِطَعَامِهِ ، وَثُلُثٌ لِشَرَابِهِ ، وَثُلُثٌ لِنَفَسِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”آدم کا بیٹا پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرتا، آدم کے بیٹے کے لیے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پشت کو سیدھا رکھیں، اگر وہ نہیں مانتا، تو پھر اسے (اپنے پیٹ کا) ایک تہائی حصہ کھانے کے لیے، ایک تہائی حصہ پینے کے لیے اور ایک تہائی حصہ سانس لینے کے لیے رکھنا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 674]

675

Sahih Ibn Hibban #675

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ، قَالَ : قُمْتُ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ ، فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ يَدْخُلُهَا الْمَسَاكِينُ ، وَإِذَا أَصْحَابُ الْجَدِّ مَحْبُوسُونَ ، وَإِذَا أَصْحَابُ النَّارِ قَدْ أُمِرَ بِهِمْ إِلَى النَّارِ ، وَنَظَرْتُ إِلَى النَّارِ ، فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ يَدْخُلُهَا النِّسَاءُ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَرَنَ عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فِي هَذَا الْخَبَرِ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ وَأَنَا أَهَابُهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا، تو اس میں داخل ہونے والے زیادہ تر لوگ غریب تھے اور خوشحال لوگوں کو روک لیا گیا تھا، اور جب اہل جہنم کو جہنم میں جانے کا حکم ہوا، میں نے جہنم کا جائزہ لیا، تو اس میں داخل ہونے والی زیادہ تر خواتین تھیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عمران بن موسیٰ نے اس روایت میں سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے ساتھ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہما کو بھی ملا دیا ہے، اور میں اس بات سے خوفزدہ ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 675]

676

Sahih Ibn Hibban #676

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الأَغْنِيَاءِ بِنِصْفِ يَوْمٍ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”غریب مسلمان، خوشحال مسلمانوں سے نصف دن پہلے جنت میں جائیں گے، جو پانچ سو برس کا ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 676]

677

Sahih Ibn Hibban #677

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ ، وَحَلْقَةُ مِنْ فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ وَسَطَ الْمَسْجِدِ جُلُوسٌ ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ نِصْفَ النَّهَارِ ، فَانْطَلَقَ إِلَيْهِمْ ، فَجَلَسَ مَعَهُمْ ، فَلَمَّا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، جَلَسَ إِلَيْهِمْ ، قُمْتُ إِلَيْهِ ، فَأَدْرَكْتُ مِنْ حَدِيثِهِ وَهُوَ يَقُولُ : بَشِّرْ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ أَنَّهُمْ لَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الأَغْنِيَاءِ بِأَرْبَعِينَ عَامًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا، غریب مہاجرین کا ایک حلقہ بنا ہوا تھا، وہ لوگ مسجد کے درمیان میں بیٹھے ہوئے تھے، اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے، یہ دوپہر کے وقت کی بات ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے ساتھ بیٹھ گئے، جب میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ بیٹھ گئے ہیں، تو میں اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کا یہ حصہ پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما رہے تھے: ”غریب مہاجرین کو یہ خوشخبری دے دو کہ وہ لوگ خوشحال لوگوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 677]

678

Sahih Ibn Hibban #678

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّفُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَسْبِقُونَ الأَغْنِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِسَبْعِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک غریب مہاجرین خوشحال لوگوں سے قیامت کے دن ستر (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) چالیس سال پہلے (جنت میں داخل ہوں گے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 678]

679

Sahih Ibn Hibban #679

أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّيلِيُّ ، بِأَنْطَاكِيَّةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ ، إِنَّمَا الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”خوشحالی مال کی کثرت سے نہیں آتی، بلکہ اصل خوشحالی دل کی بے نیازی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 679]

680

Sahih Ibn Hibban #680

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبَانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : خَرَجَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ نِصْفَ النَّهَارِ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا بَعَثَ إِلَيْهِ هَذِهِ السَّاعَةَ إِلا لِشَيْءٍ سَأَلَهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ ، فقَالَ : سَأَلَنَا عَنْ أَشْيَاءَ سَمِعْنَاهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَبَلَّغَهُ غَيْرَهُ ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ ، ثَلاثٌ لا يُغَلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ : إِخْلاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ ، وَمُنَاصَحَةُ وُلاةِ الأَمْرِ ، وَلُزُومُ الْجَمَاعَةِ ، فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ ، وَمَنْ كَانَتِ الدُّنْيَا نِيَّتَهُ فَرَّقَ اللَّهُ عَلَيْهِ أَمْرَهُ ، وَجَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ، وَلَمْ يَأْتِهِ مِنَ الدُّنْيَا إِلا مَا كُتِبَ لَهُ ، وَمَنْ كَانَتِ الآخِرَةُ نِيَّتَهُ جَمَعَ اللَّهُ لَهُ أَمْرَهُ ، وَجَعَلَ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ ، وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن ابان اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ دوپہر کے وقت مروان کے پاس سے اٹھ کر باہر آئے، تو میں نے سوچا یہ اس وقت ضرور کسی ایسے کام کے سلسلے میں گئے ہوں گے کہ جو مروان ان سے دریافت کرنا چاہتا ہوگا، میں نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: اس نے ہم سے کچھ چیزوں کے بارے میں دریافت کیا جو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہیں۔ (سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے بتایا) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ اسے خوش رکھے جو ہم سے حدیث سنے اور پھر اسے دوسرے تک پہنچا دے، کیونکہ بعض اوقات علم حاصل کرنے والا شخص اس شخص تک اسے منتقل کر دیتا ہے جو اس سے زیادہ علم والا ہوتا ہے اور بعض اوقات علم حاصل کرنے والا شخص درحقیقت عالم نہیں ہوتا، تین چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں مسلمان کا دل دھوکہ نہیں دیتا: عمل کا اللہ تعالیٰ کے لیے خالص ہونا، مسلمان حکمرانوں کے لیے خیر خواہی اور ان کی جماعت کے ساتھ رہنا، کیونکہ ان کی دعا غیر موجود لوگوں تک محیط ہوتی ہے، جس شخص کی نیت دنیا ہوگی اللہ تعالیٰ اس کے معاملے کو متفرق کر دے گا اور اس کی غربت کو اس کے سامنے کر دے گا اور دنیا میں سے اسے صرف وہی کچھ ملے گا جو اس کے نصیب میں لکھا گیا ہے اور جس شخص کی نیت آخرت ہوگی اللہ تعالیٰ اس کے معاملے کو سمیٹ دے گا، اس کے دل میں خوشحالی ڈال دے گا اور دنیا سرنگوں ہو کر اس کے پاس آئے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 680]

681

Sahih Ibn Hibban #681

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحَرِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ قَالَ : انْظُرْ أَرْفَعَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ فِي عَيْنَيْكَ " فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَجُلٌ فِي حُلَّةٍ جَالِسٌ يُحَدِّثُ قَوْمًا ، فَقُلْتُ : هَذَا ، قَالَ : " انْظُرْ أَوْضَعَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ فِي عَيْنَيْكَ " ، قَالَ : فَنَظَرْتُ فَإِذَا رُوَيْجِلٌ مِسْكِينٌ فِي ثَوْبٍ لَهُ خَلْقٍ ، قُلْتُ : هَذَا ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ قَرَارِ الأَرْضِ مِثْلَ هَذَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں موجود تھا، اسی دوران آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم مجھے دیکھ کر بتاؤ کہ مسجد میں تمہارے سامنے کون سا شخص سب سے بلند تر حیثیت کا مالک ہے؟“ میں نے اس بات کا جائزہ لیا، تو وہاں ایک شخص حلہ پہن کر لوگوں کے ساتھ بیٹھا بات چیت کر رہا تھا، میں نے جواب دیا: یہ والا شخص، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اب اس بات کا جائزہ لو کہ تمہارے سامنے کون سا شخص سب سے کم تر حیثیت کا مالک ہے؟“ تو میں نے اس بات کا جائزہ لیا، تو وہاں ایک غریب سا شخص پرانے سے کپڑوں میں بیٹھا ہوا تھا، میں نے عرض کی: یہ والا شخص، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ (غریب شخص) قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس (امیر آدمی جیسے) زمین بھر لوگوں سے بہتر ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 681]

682

Sahih Ibn Hibban #682

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ سَبْعِينَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصُّفَّةِ ، مَا عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ رِدَاءٌ إِلا إِزَارٌ ، أَوْ كِسَاءٌ ، مُتَوَشِّحًا بِهِ قَدْ عَقَدَهُ خَلْفَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ستر اصحاب کو صفہ میں دیکھا ہے، ان میں سے کسی ایک کے پاس بھی چادر نہیں ہوتی تھی، صرف چھوٹا تہبند ہوتا تھا یا ایک چادر ہوتی تھی جسے وہ «تَوْشِيح» کے طور پر لپیٹ لیتا تھا اور اپنے پیچھے باندھ لیتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 682]

683

Sahih Ibn Hibban #683

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : مَا كَانَ طَعَامَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلا الأَسْوَدَانِ : التَّمْرُ وَالْمَاءُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہماری خوراک صرف دو سیاہ چیزیں ہوتی تھیں: کھجور اور پانی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 683]

684

Sahih Ibn Hibban #684

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَمِّي ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : مَنْ حَدَّثَكُمْ أَنَّا كُنَّا نَشْبَعُ مِنَ التَّمْرِ فَقَدْ كَذَبَكُمْ ،فَلَمَّا افْتَتَحَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْظَةَ ، أَصَبْنَا شَيْئًا مِنَ التَّمْرِ وَالْوَدَكِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جو شخص تمہیں یہ بات بتائے کہ ہم پیٹ بھر کر کھجوریں کھا لیا کرتے تھے، اس نے تمہارے ساتھ غلط بیانی کی ہے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریظہ کو فتح کیا، تو ہمیں کچھ کھجوریں اور چربی ملی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 684]

685

Sahih Ibn Hibban #685

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَبَا ذَرٍّ أَتَرَى كَثْرَةَ الْمَالِ هُوَ الْغِنَى ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَتَرَى قِلَّةَ الْمَالِ هُوَ الْفَقْرُ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنَّمَاالْغِنَى غِنَى الْقَلْبِ ، وَالْفَقْرُ فَقْرُ الْقَلْبِ " ثُمَّ سَأَلَنِي عَنْ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، فقَالَ : " هَلْ تَعْرِفُ فُلانًا " ؟ قُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَكَيْفَ تَرَاهُ وَتَرَاهُ ؟ " قُلْتُ : إِذَا سَأَلَ أُعْطِيَ ، وَإِذَا حَضَرَ أُدْخِلَ ، ثُمَّ سَأَلَنِي عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ ، فقَالَ : " هَلْ تَعْرِفُ فُلانًا ؟ " قُلْتُ : لا وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَمَا زَالَ يُحَلِّيهِ وَيَنْعَتُهُ حَتَّى عَرَفْتُهُ " ، فَقُلْتُ : قَدْ عَرَفْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَكَيْفَ تَرَاهُ أَوْ تَرَاهُ ؟ " قُلْتُ : رَجُلٌ مِسْكِينٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ ، فقَالَ : " هُوَ خَيْرٌ مِنْ طِلاعِ الأَرْضِ مِنَ الآخَرِ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلا يُعْطَى مِنْ بَعْضِ مَا يُعْطَى الآخَرُ ؟ فقَالَ : " إِذَا أُعْطِيَ خَيْرًا فَهُوَ أَهْلُهُ ، وَإِنْ صُرِفَ عَنْهُ فَقَدْ أُعْطِيَ حَسَنَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے ابوذر! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ مال کا زیادہ ہونا خوشحالی ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو تم یہ سمجھتے ہو گے کہ مال کا کم ہونا غربت ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اصل خوشحالی دل کا خوشحال ہونا ہے اور اصل غربت دل کا غریب ہونا ہے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم فلاں شخص کو جانتے ہو؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہاری اس کے بارے میں کیا رائے ہے اور اسے کیا سمجھا جاتا ہے؟“ میں نے عرض کی: جب وہ کوئی چیز مانگے، تو اسے دے دی جائے اور جب وہ کہیں آئے، تو اسے اندر آنے دیا جائے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل صفہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا اور فرمایا: ”کیا تم فلاں کو جانتے ہو؟“ میں نے عرض کی: نہیں، اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! میں اسے نہیں جانتا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا حسب نسب میرے سامنے بیان کرتے رہے، یہاں تک کہ میں نے اس کو پہچان لیا، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اس کی شناخت ہو گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری اس کے بارے میں کیا رائے ہے اور اسے کیا سمجھا جاتا ہے؟“ میں نے عرض کی: وہ صفہ سے تعلق رکھنے والا ایک غریب آدمی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ (غریب آدمی) اس دوسرے (امیر آدمی جیسے) زمین بھر لوگوں سے زیادہ بہتر ہے۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس شخص کو اس چیز میں سے کچھ حصہ عطا نہیں کیا گیا جو دوسرے کو دی گئی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر اس کو بھلائی دی گئی ہے، تو یہ اس کا زیادہ اہل ہے اور اگر اس کو اس سے پھیر لیا گیا ہے، تو اسے نیکی عطا کی گئی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 685]

686

Sahih Ibn Hibban #686

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ خُلَيْدٍ الْعَصَرِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا طَلَعَتْ شَمْسٌ قَطُّ إِلا وَبِجَنْبَتَيْهَا مَلَكَانِ يُنَادِيَانِ : اللَّهُمَّ مَنْ أَنْفَقَ فَأَعْقِبْهُ خَلَفًا ، وَمَنْ أَمْسَكَ فَأَعْقِبْهُ تَلَفًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب بھی سورج نکلتا ہے تو اس کے پہلو میں دو فرشتے ہوتے ہیں جو یہ اعلان کرتے ہیں: «اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا، وَأَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا» ”اے اللہ! جو شخص (تیری راہ میں) خرچ کرتا ہے، تو اسے اس کے بدلے میں مزید عطا کر اور جو شخص خرچ نہیں کرتا ہے، تو اس کے بدلے میں اس کا نقصان کر دے۔“” [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 686]

687

Sahih Ibn Hibban #687

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ ، وَجَنَّةُ الْكَافِرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 687]

688

Sahih Ibn Hibban #688

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ ، وَجَنَّةُ الْكَافِرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 688]

689

Sahih Ibn Hibban #689

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَزِيرُ بْنُ صُبَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ : كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ ، قَالَ : مِنْ شَأْنِهِ أَنْ يَغْفِرَ ذَنْبًا ، وَيُفَرِّجَ كَرْبًا ، وَيَرْفَعُ قَوْمًا ، وَيَضَعُ آخَرِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ﴾ [سورة الرحمن: 29] کے بارے میں یہ بات بیان فرمائی (ارشادِ باری تعالیٰ ہے): ”ہر روز اس کی نئی شان ہوتی ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس کی شان میں یہ بات شامل ہے کہ «يَغْفِرُ ذَنْبًا، وَيُفَرِّجُ كَرْبًا، وَيَرْفَعُ قَوْمًا، وَيَخْفِضُ آخَرِينَ» ”وہ گناہ کی مغفرت کر دیتا ہے، پریشانی کو ختم کر دیتا ہے، ایک قوم کو سربلندی نصیب کرتا ہے اور دوسروں کو پست کر دیتا ہے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 689]

690

Sahih Ibn Hibban #690

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ ، بِبَيْرُوتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ رَبٍّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلا بَلاءٌ وَفِتْنَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبدرب بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس منبر پر یہ بیان کرتے ہوئے سنا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”دنیا میں سے صرف آزمائش اور فتنہ باقی رہ گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 690]

691

Sahih Ibn Hibban #691

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ هِنْدٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، وَمَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ هِنْدٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ : سُبْحَانَ اللَّهِ مَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْفِتَنِ ؟ وَمَاذَا فُتِحَ مِنَ الْخَزَائِنِ ؟ أَيْقِظُوا صَوَاحِبَ الْحُجَرِ ، فَرُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا ، عَارِيَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے“، کتنے ہی فتنے نازل کر دیے گئے ہیں اور کتنے ہی خزانوں کے دروازے کھول دیے گئے ہیں۔ حجرے میں رہنے والی خواتین کو بیدار کر دو، کیونکہ دنیا میں بہت سی باپردہ عورتیں قیامت کے دن بے پردہ ہوں گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 691]

692

Sahih Ibn Hibban #692

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ أَنَّهُ حَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : قُمْتُ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ ، فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا الْمَسَاكِينُ ، وَإِذَا أَصْحَابُ الْجَدِّ مَحْبُوسُونَ ، وَأَصْحَابُ النَّارِ قَدْ أُمِرَ بِهِمْ إِلَى النَّارِ ، وَنَظَرْتُ إِلَى النَّارِ ، فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا النِّسَاءُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَرَنَ عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ فِي هَذَا الْخَبَرِ الْمُعْتَمِرُ : مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تھا، اس میں داخل ہونے والے زیادہ تر لوگ غریب لوگ تھے اور خوشحال لوگوں کو وہاں روک لیا گیا تھا، اور جب اہل جہنم کو جہنم میں جانے کا حکم ہوا اور میں نے جہنم کا جائزہ لیا، تو اس میں داخل ہونے والی اکثر خواتین تھیں۔“ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عمران بن موسیٰ نامی راوی نے اس روایت میں سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے ساتھ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو بھی ملا دیا ہے۔ یہاں معتمر نامی راوی سے مراد معتمر بن سلیمان ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 692]

693

Sahih Ibn Hibban #693

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ صَوْتَ زُمَّارَةِ رَاعٍ ، قَالَ :فَجَعَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ ، وَعَدَلَ عَنِ الطَّرِيقِ وَجَعَلَ ، يَقُولُ : يَا نَافِعُ أَتَسْمَعُ ؟ فَأَقُولُ : نَعَمْ ، فَلَمَّا قُلْتُ : لا ، رَاجَعَ الطَّرِيقَ ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک چرواہے کی بانسری کی آواز سنی، تو انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں رکھ لیں اور راستے سے ایک طرف ہٹ گئے، وہ یہ فرماتے جا رہے تھے: اے نافع! کیا تمہیں آواز آ رہی ہے؟ میں جواب دیتا تھا: جی ہاں! جب میں نے کہا: اب نہیں آ رہی، تو وہ واپس راستے پر آ گئے، پھر انہوں نے فرمایا: ”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 693]

694

Sahih Ibn Hibban #694

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلا إِنَّ الدِّينَارَ وَالدِّرْهَمَ أَهْلَكَا مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، وَهُمَا مُهْلِكَاكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خبردار! بیشک درہم اور دینار نے تم سے پہلے لوگوں کو بھی ہلاکت کا شکار کر دیا اور یہ تم لوگوں کو بھی ہلاکت کا شکار کر دیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 694]

695

Sahih Ibn Hibban #695

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ بَعَثَتْ بِقِنَاعٍ فِيهِ رُطَبٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَجَعَلَ يَقْبِضُ الْقَبْضَةَ ، فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ ، ثُمَّ يَقْبِضُ الْقَبْضَةَ ، فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى بعض أَزْوَاجِهِ ، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا وَإِنَّهُ لَيَشْتَهِيهِ " ، فَعَلَ ذَلِكَ غَيْرَ مَرَّةٍ وَإِنَّهُ لَيَشْتَهِيهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تازہ کھجوروں کا ایک تھال بھیجا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی میں کھجوریں لے کر انہیں اپنی ایک زوجہ محترمہ کی طرف بھجوا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی میں کھجوریں لیں اور اپنی ازواج کی طرف بھجوا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھجوا دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خواہش بھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مرتبہ ایسا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خواہش بھی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 695]

696

Sahih Ibn Hibban #696

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَلَّى الأَدَمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قُعَيْسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ فِي غَزَاةٍ كَانَ آخِرُ عَهْدِهِ بِفَاطِمَةَ ، وَإِذَا قَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ كَانَ أَوَّلُ عَهْدِهِ بِفَاطِمَةَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهَا ، فَإِنَّهُ خَرَجَ لِغَزْوِ تَبُوكَ وَمَعَهُ عَلِيٌّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، فَقَامَتْ فَاطِمَةُ فَبَسَطَتْ فِي بَيْتِهَا بِسَاطًا ، وَعَلَّقَتْ عَلَى بَابِهَا سِتْرًا ، وَصَبَغَتْ مِقْنَعَتَهَا بِزَعْفَرَانٍ ، فَلَمَّا قَدِمَ أَبُوهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَأَى مَا أَحْدَثَتْ رَجَعَ ، فَجَلَسَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى بِلالٍ ، فَقَالَتْ : يَا بِلالُ اذْهَبْ إِلَى أَبِي ، فَسَلْهُ مَا يَرُدُّهُ عَنْ بَابِي ؟ فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي رَأَيْتُهَا أَحْدَثَتْ ، ثَمَّ شَيْئًا " ، فَأَخْبَرَهَا ، فَهَتَكَتِ السِّتْرَ ، وَرَفَعَتِ الْبِسَاطَ ، وَأَلْقَتْ مَا عَلَيْهَا ، وَلَبِسَتْ أَطْمَارَهَا ، فَأَتَاهُ بِلالٌ فَأَخْبَرَهُ ، فَأَتَاهُ فَاعْتَنَقَهَا وَقَالَ : " هَكَذَا كُونِي فِدَاكِ أَبِي وَأُمِّي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی جنگ میں شریک ہونے کے لیے تشریف لے جاتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے آخر میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملتے تھے اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی جنگ سے واپس تشریف لاتے تھے، تو سب سے پہلے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں شرکت کے لیے تشریف لے گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کھڑی ہوئیں۔ انہوں نے اپنے گھر میں ایک چٹائی بچھا لی اور گھر کے دروازے پر پردہ لٹکا دیا۔ انہوں نے اس پردے کو زعفران کے ساتھ رنگ دیا تھا۔ جب ان کے والد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے اس عمل کو دیکھا، تو وہ واپس تشریف لے گئے اور مسجد میں تشریف فرما ہوئے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو پیغام بھجوایا اور کہا: اے بلال! تم میرے والد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور ان سے دریافت کرو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے دروازے سے واپس کیوں چلے گئے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے دیکھا ہے کہ اس نے وہاں ایک نیا کام کیا تھا۔“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس بارے میں بتایا، تو انہوں نے اس پردے کو اتار دیا اور اس بچھونے کو اٹھا دیا اور اس پر موجود چیزوں کو ایک طرف رکھ کے خود پرانے سے کپڑے پہن لیے، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے ہاں تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو) گلے لگا لیا اور ارشاد فرمایا: ”تم اسی طرح رہا کرو، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 696]

698

Sahih Ibn Hibban #698

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْكِبِي أَوْ قَالَ : بِمَنْكِبَيَّ ، فقَالَ : كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ ، أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ " ، قَالَ : فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ ، يَقُولُ : إِذَا أَصْبَحْتَ ، فَلا تَنْتَظِرُ الْمَسَاءَ ، وَإِذَا أَمْسَيْتَ فَلا تَنْتَظِرُ الصَّبَّاحَ ، وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ لِمَرَضِكَ ، وَمَنْ حَيَاتِكَ لِمَوْتِكَ ". وَقَالَ إِسْحَاقُ : قَالَ الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ : مَا سَأَلَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ إِلا هَذَا الْحَدِيثَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کندھے کو پکڑا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) میرے دونوں کندھوں کو پکڑا اور فرمایا: ”تم دنیا میں یوں رہو جیسے تم اجنبی ہو یا تم مسافر ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ فرمایا کرتے تھے جب تم صبح کر لو، تو شام کا انتظار نہ کرو اور جب شام کر لو، تو صبح کا انتظار نہ کرو اور بیماری سے پہلے اپنی صحت کو اور مرنے سے پہلے اپنی زندگی کو غنیمت سمجھو۔ اسحاق نامی راوی کہتے ہیں: حسن بن قزعہ بیان کرتے ہیں: یحییٰ بن معین نے مجھ سے صرف اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 698]""

699

Sahih Ibn Hibban #699

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سُوَيْدٍ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَحْسَابُ أَهْلِ الدُّنْيَا الْمَالُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اہلِ دنیا کے نزدیک حسب (برتری کا معیار) مال ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 699]

700

Sahih Ibn Hibban #700

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّأَحْسَابَ أَهْلِ الدُّنْيَا الَّذِي يَذْهَبُونَ إِلَيْهِ لَهَذَا الْمَالُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اہلِ دنیا کے نزدیک حسب (یعنی برتری) کا معیار مال ہے، جس کی طرف وہ جاتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 700]

701

Sahih Ibn Hibban #701

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَهُوَ غُنْدَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُطَرِّفًا ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْرَأُ : أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ ، قَالَ : يَقُولُ ابْنُ آدَمَ : مَا لِي مَا لِي ، وَإِنَّمَا لَكَ مِنْ مَالِكَ مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مطرف اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ یہ آیت تلاوت فرما رہے تھے: ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ﴾ [سورة التكاثر: 1] ”کثرت تمہیں غفلت کا شکار کر دے گی“۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابنِ آدم کہتا ہے: یہ میرا مال ہے، یہ میرا مال ہے، حالانکہ تمہارا مال وہ ہے، جو کھا کر تم فنا کر دو، یا جسے پہن کر تم پرانا کر دو، یا جسے صدقہ کر کے تم آگے بھیج دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 701]

702

Sahih Ibn Hibban #702

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ بِسْطَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَيٍّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّمَطْعَمَ ابْنِ آدَمَ ضُرِبَ لِلدُّنْيَا مَثَلا بِمَا خَرَجَ مِنِ ابْنِ آدَمَ ، وَإِنْ قَزَّحَهُ ، وَمَلَّحَهُ ، فَانْظُرْ مَا يَصِيرُ إِلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ابنِ آدم نے جو کچھ کھایا ہے، اس کے ذریعے دنیا کی مثال بیان کی جا سکتی ہے، جو ابنِ آدم کے جسم سے نکلتا ہے، وہ اگرچہ اس میں مصالحہ ڈالتا ہے اور نمک ڈالتا ہے لیکن تم اس بات کا جائزہ لو (کہ آدمی کے پیٹ میں رہ کر) وہ کیا بن جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 702]

703

Sahih Ibn Hibban #703

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ ، بِالأُبُلَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَضْبَاءُ لا تُسْبَقُ كُلَّمَا سَابَقُوهَا ، سَبَقَتْ ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ ، فَسَابَقَهَا فَسَبَقَهَا ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى رَأَى ذَلِكَ فِي وُجُوهِهِمْ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : حَقٌّ عَلَى اللَّهِ أَنْ لا يَرْتَفِعَ شَيْءٌ مِنْ هَذِهِ الْقَذِرَةِ إِلا وَضَعَهَا اللَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی «عَضْبَاء» سے آگے کوئی نہیں نکل سکتا تھا، جب بھی اس کے ساتھ مقابلہ ہوتا تھا وہ آگے نکل جاتی تھی۔ ایک مرتبہ ایک دیہاتی ایک اونٹ پر بیٹھ کر آیا، اس نے اس اونٹنی کے ساتھ مقابلہ کیا تو وہ آگے نکل گیا۔ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم کو گراں گزری، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہروں پر یہ بات ملاحظہ کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پر یہ بات لازم ہے کہ اس دنیا میں جب کسی چیز کو سربلندی عطا کرے تو اسے پستی بھی عطا کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 703]

704

Sahih Ibn Hibban #704

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي الْمَاضِي بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيرٌ مُشَبَّكٌ بِالْبَرْدِيِّ ، عَلَيْهِ كِسَاءٌ أَسْوَدُ قَدْ حَشَوْنَاهُ بِالْبَرْدِيِّ ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ عَلَيْهِ ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا رَآهُمَا اسْتَوَى جَالِسًا ، فَنَظَرَا ، فَإِذَا أَثَرُ السَّرِيرِ فِي جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ وَبَكَيَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يُؤْذِيكَ خُشُونَةُ مَا نَرَى مِنْ سَرِيرِكَ وَفِرَاشِكَ ، وَهَذَا كِسْرَى وَقَيْصَرُ عَلَى فُرُشِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ ، فقَالَ : لا تَقُولا هَذَا ، فَإِنَّ فِرَاشَ كِسْرَى وَقَيْصَرَ فِي النَّارِ ، وَإِنَّ فِرَاشِي وَسَرِيرِي هَذَا عَاقِبَتُهُ إِلَى الْجَنَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مخصوص پلنگ تھا، جسے مخصوص قسم کے (پتوں، یا شاخوں) کے ذریعے بنا گیا تھا، اس پر سیاہ رنگ کی چادر موجود تھی جس کے اندر ہم نے اس قسم کے پتے بھرے ہوئے تھے، ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوئے ہوئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں حضرات کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے، ان دونوں صاحبان نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو پر پلنگ کا نشان موجود ہے تو سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما رو پڑے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کا جو پلنگ اور جو بستر ہم دیکھ رہے ہیں کیا اس کی سختی آپ کو تکلیف نہیں دیتی ہے، جبکہ قیصر اور کسری ریشم اور دیباج کے اوپر آرام کرتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں یہ بات نہ کرو، کیونکہ قیصر اور کسری کے بستر جہنم میں ہوں گے اور میرا پلنگ اور میرا بستر، ان کا ٹھکانہ جنت میں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 704]

705

Sahih Ibn Hibban #705

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الْعَابِدُ الطَّاحِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْجَنْبِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ ، سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ، يَقُولُ : إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : طُوبَى لِمَنْ هُدِيَ إِلَى الإِسْلامِ ، وَكَانَ عَيْشُهُ كَفَافًا وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اس شخص کے لیے مبارکباد ہے، جسے اسلام کی طرف ہدایت دی گئی، ضروریات کے مطابق اسے چیزیں دی گئیں اور اس کو اللہ تعالیٰ نے اس چیز پر قناعت عطا کی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 705]

706

Sahih Ibn Hibban #706

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ سَلْمَانَ الْخَيْرَ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ عَرَفُوا مِنْهُ بَعْضَ الْجَزَعِ ، قَالُوا : مَا يُجْزِعُكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، وَقَدْ كَانَتْ لَكَ سَابِقَةٌ فِي الْخَيْرِ ، شَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَغَازِيَ حَسَنَةً وَفُتُوحًا عِظَامًا ؟ قَالَ : يُجْزِعُنِي أَنَّ حَبِيبَنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَارَقَنَا عَهِدَ إِلَيْنَا ، قَالَ : لِيَكْفِ الْيَوْمَ مِنْكُمْ كَزَادِ الرَّاكِبِ " فَهَذَا الَّذِي أَجْزَعَنِي ، فَجُمِعَ مَالُ سَلْمَانَ ، فَكَانَ قِيمَتُهُ خَمْسَةَ عَشَرَ دِينَارًا، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : عَامِرٌ هَذَا : هُوَ عَامِرُ بْنُ عَبْدِ قَيْسٍ وَسَلْمَانُ الْخَيْرُ هُوَ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا سلمان الخیر (یعنی سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ) کے انتقال کا وقت قریب آیا، تو لوگوں نے ان پر گھبراہٹ محسوس کی۔ لوگوں نے دریافت کیا: اے ابوعبداللہ! آپ کیوں گھبرا رہے ہیں؟ جبکہ آپ کو بھلائی کی طرف سبقت لے جانے کا شرف حاصل ہے، آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوات میں شرکت کی ہے اور بڑی فتوحات میں حصہ لیا ہے، تو سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے یہ چیز گھبراہٹ کا شکار کر رہی ہے کہ ہمارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم جب ہم سے جدا ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ عہد لیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”تم میں سے کسی شخص کے لیے ایک دن کے لیے اتنی چیز کافی ہے، جو کسی سوار کا زادِ سفر ہوتی ہے۔“ تو یہ چیز مجھے گھبراہٹ کا شکار کر رہی ہے، پھر جب سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا مال جمع کیا گیا، تو اس کی قیمت پندرہ دینار بنتی تھی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عامر نامی راوی عامر بن عبدقیس ہیں، جبکہ سلمان خیر سے مراد سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 706]

707

Sahih Ibn Hibban #707

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ ، فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفًا فَأَخَذْتُهَا مِنْ فِيهِ ، وَإِنَّ فَاهُ رَطْبٌ بِهَا ، فَمَا أَدْرِي بِأَيِّهَا خَتَمَ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ أَوْ إِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لا يَرْكَعُونَ ، فَسَبَقَتْنَا حَيَّةٌ ، فَدَخَلَتْ فِي جُحْرٍ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وُقِيتُمْ شَرَّهَا ، كَمَا وُقِيَتْ شَرَّكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غار میں موجود تھے اور آپ پر یہ سورہ نازل ہوئی۔ تو میں نے آپ کی زبانی اس سورہ کو سیکھ لیا حالانکہ یہ ابھی کچھ دیر پہلے آپ پر نازل ہوئی تھی؛ مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے کون سی آیت پر اسے ختم کیا تھا؟ ﴿فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ﴾ [سورة المرسلات: 50] پر یا پھر اس آیت پر ﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ﴾ [سورة المرسلات: 48] پر۔ اسی دوران ایک سانپ نکل کر آ گیا اور پھر اپنے بل میں داخل ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں کو اس کے شر سے بچا لیا گیا جس طرح اسے تمہاری طرف سے پہنچنے والے نقصان سے بچایا گیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 707]