Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 6 · Chapter 3

The Book of Piety and Benevolence

Hadith 633–666

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

633

Sahih Ibn Hibban #633

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَيَّانُ أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى :أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي ، فَلْيَظُنَّ بِي مَا شَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں۔ اب اس کی مرضی ہے وہ میرے بارے میں جو چاہے گمان کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 633]

634

Sahih Ibn Hibban #634

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حَيَّانُ أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ ، يَقُولُ : قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ عَنِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا ، قَالَ : أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي ، فَلْيَظُنَّ بِي مَا شَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کرتے ہوئے سنا ہے: ”میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں۔ اب وہ جو چاہے میرے بارے میں گمان کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 634]

635

Sahih Ibn Hibban #635

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الدِّمَشْقِيُّ ، بِجُرْجَانَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالا : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَيَّانُ أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الأَسْقَعِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : عَنِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا ، قَالَ : أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي ، فَلْيَظُنَّ بِي مَا شَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کرتے ہوئے سنا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں۔ اب وہ جو چاہے میرے بارے میں گمان کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 635]

636

Sahih Ibn Hibban #636

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلاثٍ : لا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلا وَهُوَ يُحْسِنُ بِاللَّهِ الظَّنَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے وصال سے تین دن پہلے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”تم میں سے کوئی بھی شخص ہرگز فوت نہ ہو، مگر یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہو۔“ (یعنی تم میں سے ہر ایک شخص کو مرتے وقت اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہیے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 636]

637

Sahih Ibn Hibban #637

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلاثٍ : مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ لا يَمُوتَ إِلا وَظَنُّهُ بِاللَّهِ حَسَنٌ ، فَلْيَفْعَلْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے وصال سے تین دن پہلے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”تم میں سے جو شخص یہ کر سکے کہ وہ مرتے وقت اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھ سکے، تو اسے ایسا کرنا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 637]

638

Sahih Ibn Hibban #638

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلاثٍ : لا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللَّهِ جَلَّ وَعَلا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے وصال سے تین دن پہلے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”تم میں سے کوئی بھی شخص ہرگز فوت نہ ہو، مگر یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہو۔ (یعنی تم میں سے ہر شخص کو مرتے وقت اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہیے)“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 638]

639

Sahih Ibn Hibban #639

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَذَكَرَ ابْنُ سَلْمٍ آخَرَ مَعَهُ أَنَّ أَبَا يُونُسَ ، حَدَّثَهُمْ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا يَقُولُ :أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي ، إِنْ ظَنَّ خَيْرًا فَلَهُ ، وَإِنْ ظَنَّ شَرًّا فَلَهُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَبُو يُونُسَ هَذَا اسْمُهُ سُلَيْمُ بْنُ جُبَيْرٍ تَابِعِيٌّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بیشک اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے: میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں، اگر وہ بھلائی کا گمان رکھتا ہے، تو وہ اسے مل جائے گی اور اگر وہ برائی کا گمان رکھتا ہے، تو وہ اسے مل جائے گی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابویونس نامی راوی کا نام سلیم بن جبیر ہے، اور یہ تابعی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 639]

640

Sahih Ibn Hibban #640

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ جَلَّ وَعَلا ، قَالَ : وَعِزَّتِي لا أَجْمَعُ عَلَى عَبْدِي خَوْفَيْنِ وَأَمْنَيْنِ ، إِذَا خَافَنِي فِي الدُّنْيَا أَمَّنْتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَإِذَا أَمِنَنِي فِي الدُّنْيَا أَخَفْتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مجھے اپنی عزت کی قسم ہے، میں اپنے کسی بندے پر دو طرح کا خوف اور دو طرح کا امن اکٹھا نہیں کروں گا۔ اگر وہ دنیا میں مجھ سے خوف رکھے گا، تو میں قیامت میں اسے امن عطا کروں گا اور اگر وہ دنیا میں مجھ سے مامون رہے گا، تو میں قیامت میں اسے خوف میں مبتلا کروں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 640]

641

Sahih Ibn Hibban #641

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ حَيَّانَ أَبِي النَّضْرِ ، قَالَ : خَرَجْتُ عَائِدًا لِيَزِيدَ بْنِ الأَسْوَدِ فَلَقِيتُ وَاثِلَةَ بْنَ الأَسْقَعِ وَهُوَ يُرِيدُ عِيَادَتَهُ ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ ، فَلَمَّا رَأَى وَاثِلَةَ ، بَسَطَ يَدَهُ ، وَجَعَلَ يُشِيرُ إِلَيْهِ ، فَأَقْبَلَ وَاثِلَةُ حَتَّى جَلَسَ ، فَأَخَذَ يَزِيدُ بِكَفَّيْ وَاثِلَةَ ، فَجَعَلَهُمَا عَلَى وَجْهِهِ ، فقَالَ لَهُ وَاثِلَةُ : كَيْفَ ظَنُّكَ بِاللَّهِ ؟ قَالَ : ظَنِّي بِاللَّهِ وَاللَّهِ حَسَنٌ ، قَالَ : فَأَبْشِرْ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا :أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي إِنْ ظَنَّ خَيْرًا ، وَإِنْ ظَنَّ شَرًّا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حیان ابو نضر بیان کرتے ہیں: میں یزید بن اسود کی عیادت کرنے کے لیے روانہ ہوا، تو میری ملاقات سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے ہوئی، وہ بھی ان کی عیادت کے لیے جا رہے تھے۔ ہم یزید کے پاس پہنچے، جب انہوں نے سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، تو اپنا ہاتھ پھیلا دیا اور ان کی طرف اشارہ کرنے لگے۔ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ آگے ہوئے اور تشریف فرما ہوئے، تو یزید نے سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے اور ان دونوں کو اپنے چہرے پر رکھا۔ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا: اللہ تعالیٰ کے بارے میں تمہارا گمان کیا ہے؟ یزید نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ کے بارے میں میرا گمان اچھا ہے، تو سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم خوشخبری قبول کرو، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں، خواہ وہ بھلائی کا گمان رکھے خواہ وہ برائی کا گمان رکھے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 641]

642

Sahih Ibn Hibban #642

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا أَحَدٌ أَصْبَرَ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنَ اللَّهِ ، يَجْعَلُونَ لَهُ نِدًّا وَيَجْعَلُونَ لَهُ وَلَدًا ، وَهُوَ فِي ذَلِكَ يَرْزُقُهُمْ وَيُعَافِيهِمْ وَيُعْطِيهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کوئی بھی شخص کسی بھی تکلیف دہ بات کو سن کر اللہ تعالیٰ سے زیادہ صبر نہیں کرتا، لوگ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں، اس کی اولاد قرار دیتے ہیں اور وہ اس کے باوجود ان لوگوں کو رزق دیتا ہے، ان کو عافیت دیتا ہے اور ان کو (مختلف طرح کی نعمتیں) عطا کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 642]

643

Sahih Ibn Hibban #643

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ لَمَّا قُبِرَ ، قَالَتْ أُمُّ الْعَلاءِ : طِبْتَ أَبَا السَّائِبِ فِي الْجَنَّةِ ، فَسَمِعَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : مَنْ هَذِهِ " ؟ فَقَالَتْ : أَنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قَالَ : " وَمَا يُدْرِيكِ " ؟ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ ! ! ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" أَجَلْ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ ، مَا رَأَيْنَاهُ إِلا خَيْرًا ، وَهَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا يُصْنَعُ بِي "، قَالَ عَمْرٌو : وَسَمِعَهُ أَبُو النَّضْرِ مِنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَمِّهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابونضر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو جب دفن کر دیا گیا، تو ام العلاء رضی اللہ عنہا نے کہا: اے ابوسائب! آپ نے جنت میں ٹھکانہ بنا لیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کی یہ بات سنی، تو ارشاد فرمایا: ”یہ کون عورت ہے؟“ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہاری مراد کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! (میری مراد) سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ (ہیں)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں عثمان بن مظعون، ہمیں اس کے بارے میں صرف بھلائی کا علم ہے، لیکن میں اللہ کا رسول ہوں، لیکن اللہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟“ عمرو کہتے ہیں ابونصر نامی راوی نے یہ روایت خارجہ بن زید کے حوالے سے ان کے والد (زید بن ثابت رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے سنی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 643]""

644

Sahih Ibn Hibban #644

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْمِنْهَالِ الْعَطَّارُ ، بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُنْذِرُكُمُ النَّارَ ، أُنْذِرُكُمُ النَّارَ ، أُنْذِرُكُمُ النَّارَ حَتَّى لَوْ كَانَ فِي مَقَامِي هَذَا "وَهُوَ بِالْكُوفَةِ ، سَمِعَهُ أَهْلُ السُّوقِ ، حَتَّى وَقَعَتْ خَمِيصَةٌ كَانَتْ عَلَى عَاتِقِهِ عَلَى رِجْلَيْهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میں تمہیں جہنم سے ڈرا رہا ہوں، میں تمہیں جہنم سے ڈرا رہا ہوں، میں تمہیں جہنم سے ڈرا رہا ہوں۔“ (سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری اس جگہ پر ہوتے، سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ اس وقت کوفہ میں تھے، تو بازار کے لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سن لیتے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر موجود چادر گر کر آپ کے پاؤں میں آ گئی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 644]

645

Sahih Ibn Hibban #645

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَأْخُذُ رَجُلٌ بِيَدِ أَبِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، يُرِيدُ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، فَيُنَادَى : أَلا إِنَّ الْجَنَّةَ لا يَدْخُلُهَا مُشْرِكٌ ، قَالَ : فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أَبِي ! ، قَالَ : فَيُحَوَّلُ فِي صُورَةٍ قَبِيحَةٍ ، وَرِيحٍ مُنْتِنَةٍ ، فَيَتْرُكُهُ "قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : كَانُوا يَقُولُونَ : إِنَّهُ إِبْرَاهِيمُ ، قَالَ : وَلَمْ يَزِدْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”قیامت کے دن ایک شخص اپنے باپ کا ہاتھ پکڑے گا، وہ اسے جنت میں لے جانا چاہے گا، تو پکار کر کہا جائے گا: خبردار! جنت میں کوئی مشرک داخل نہیں ہو گا، تو وہ بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! یہ میرا باپ ہے“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو اس کے باپ کو انتہائی بدصورت اور بدبودار کر دیا جائے گا، تو وہ شخص اسے چھوڑ دے گا“۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: لوگ یہ کہا کرتے تھے کہ اس سے مراد سیدنا ابراہیم علیہ السلام (اور ان کے والد) کا معاملہ ہے، تاہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے علاوہ مزید کچھ ارشاد نہیں فرمایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 645]

646

Sahih Ibn Hibban #646

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا ، فقَالَ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ،أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ ، فَإِنِّي لا أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلا نَفْعًا وَلِبَنِي عَبْدِ مَنَافٍ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ ، فَإِنِّي لا أَمْلِكُ لَكِ ضَرًّا وَلا نَفْعًا ، إِلا أَنَّ لَكِ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلالِهَا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا مَنْسُوخٌ ، إِنَّ فِيهِ أَنَّهُ لا يَشْفَعُ لأَحَدٍ ، واخْتِيَارُ الشَّفَاعَةِ كَانَتْ بِالْمَدِينَةِ بَعْدَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ [سورة الشعراء: 214] نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو اکٹھا کیا اور فرمایا: ”اے قریش کے گروہ! اپنے آپ کو جہنم سے بچا لو، کیونکہ میں تمہارے حوالے سے کسی نقصان یا نفع کا مالک نہیں ہوں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد مناف کی اولاد سے بھی یہی بات کہی، عبد المطلب کی اولاد سے بھی یہی بات کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے محمد کی صاحبزادی فاطمہ! تم اپنے آپ کو جہنم سے بچا لو، کیونکہ میں تمہیں کوئی نقصان یا نفع پہنچانے کا مالک نہیں ہوں، البتہ میری تمہارے ساتھ رشتے داری ہے، اس کا فائدہ میں تمہیں پہنچاؤں گا۔“ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت منسوخ ہے، کیونکہ اس میں تو یہ مذکور ہے کہ کوئی شخص کسی کے لیے شفاعت نہیں کرے گا، لیکن (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو) بعد میں مدینہ منورہ میں شفاعت کا اختیار مل گیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 646]

647

Sahih Ibn Hibban #647

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نَشِيطٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ بْنِ رُهَيْمٍ ، بَغْدَادِيٌّ ثِقَةٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ السَّكُونِيِّ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ ، خَرَجَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوصِيهِ مُعَاذٌ رَاكِبٌ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ رَاحِلَتِهِ فَلَمَّا فَرَغَ ، قَالَ : يَا مُعَاذُ ، إِنَّكَ عَسَى أَنْ لا تَلْقَانِي بَعْدَ عَامِي هَذَا ، لَعَلَّكَ أَنْ تَمُرَّ بِمَسْجِدِي وَقَبْرِي " فَبَكَى مُعَاذٌ خَشَعًا لِفِرَاقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ الْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ الْمَدِينَةِ ، فقَالَ :" إِنَّ أَهْلَ بَيْتِي هَؤُلاءِ يَرَوْنَ أَنَّهُمْ أَوْلَى النَّاسِ بِي ، وَإِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِي الْمُتَّقُونَ ، مَنْ كَانُوا حَيْثُ كَانُوا ، اللَّهُمَّ إِنِّي لا أُحِلُّ لَهُمْ فَسَادَ مَا أَصْلَحْتَ ، وَايْمُ اللَّهِ لَيَكْفُئُونَ أُمَّتِي عَنْ دِينِهَا كَمَا يُكْفَأُ الإِنَاءُ فِي الْبَطْحَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تلقین کرنے کے لیے ان کے ساتھ نکلے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اس وقت سوار تھے جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی سواری کے نیچے (پیدل) چل رہے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے معاذ! ہو سکتا ہے اس سال کے بعد تمہاری مجھ سے ملاقات نہ ہو۔ ہو سکتا ہے، اب کی بار تمہارا گزر میری قبر اور میری مسجد کے پاس سے ہو۔“ تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کے خوف سے رونے لگے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف توجہ کی اور ارشاد فرمایا: ”میرے اہل بیت یہ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگ باقی سب لوگوں کے مقابلے میں میرے زیادہ قریب ہیں، حالانکہ میرے سب سے زیادہ قریب پرہیزگار لوگ ہیں، خواہ وہ جو کوئی بھی ہوں اور خواہ وہ جہاں کہیں بھی رہتے ہوں۔ اے اللہ! میں ان کے لیے ایسی کسی چیز کے فساد کو حلال قرار نہیں دیتا جسے تو نے صالح قرار دیا ہے۔ اللہ کی قسم! یہ لوگ میری امت کے دین کے حوالے سے اسی طرح اوندھے ہوں گے، جس طرح میدان میں برتن کو الٹا دیا جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 647]

648

Sahih Ibn Hibban #648

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ ؟ قَالَ : أَتْقَاهُمْ " ، قَالُوا : لَسْنَا عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ ، قَالَ : " فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونَنِي ؟ خِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ فِي الإِسْلامِ إِذَا فَقِهُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عرض کی گئی: یا رسول اللہ! سب سے زیادہ معزز کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو“ لوگوں نے عرض کی: ہم اس کے بارے میں آپ سے دریافت نہیں کر رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم عربوں کے بڑوں کے بارے میں دریافت کر رہے ہو؟ تم میں سے جو لوگ زیادہ بہتر (شمار ہوتے ہیں) وہ اسلام میں بھی بہتر شمار ہوں گے جبکہ وہ (دینی تعلیمات کی) سمجھ بوجھ حاصل کر لیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 648]

649

Sahih Ibn Hibban #649

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَ فِيمَنْ سَلَفَ مِنَ النَّاسِرَجُلٌ رَغَسَهُ اللَّهُ مَالا وَوَلَدًا ، فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ ، جَمَعَ بَنِيهِ ، فقَالَ : أَيَّ أَبٍ كُنْتُ لَكُمْ ؟ قَالُوا : خَيْرَ أَبٍ ، فقَالَ : إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا ابْتَأَرَ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا قَطُّ ، وَإِنَّ رَبَّهُ يُعَذِّبُهُ ، فَإِذَا أَنَا مِتُّ فَأَحْرِقُونِي ، ثُمَّ اسْحَقُونِي ، ثُمَّ اذْرُونِي فِي رِيحٍ عَاصِفٍ ، قَالَ اللَّهُ : كُنْ ، فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ ، قَالَ : مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ : مَخَافَتُكَ ، قَالَ : فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنْ يَلْقَاهُ غَيْرَ أَنْ غُفِرَ لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پہلے زمانے کے لوگوں میں سے ایک شخص تھا، جسے اللہ تعالیٰ نے مال اور اولاد میں وسعت عطا کی تھی، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا، تو اس نے اپنے بچوں کو جمع کیا اور دریافت کیا: میں تمہارے لیے کیسا باپ تھا؟ انہوں نے جواب دیا: بہترین باپ تھے، تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کے لیے کوئی بھلائی ذخیرہ نہیں کی ہے، تو اب اس کا پروردگار اسے عذاب دے گا، تو جب میں مر جاؤں، تو تم مجھے جلا دینا اور پھر مجھے پیس کر تیز چلتی ہوئی ہوا میں اڑا دینا، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم کھڑے ہو جاؤ، تو وہ شخص کھڑا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے دریافت کیا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے عرض کی: تیرے خوف کی وجہ سے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کر دی تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 649]

650

Sahih Ibn Hibban #650

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ وَرْدَانَ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يُحَدِّثُ عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَرَجُلٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَمْ يَبْتَئِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا قَطُّ ، قَالَ لِبَنِيهِ عِنْدَ الْمَوْتِ : يَا بَنِيَّ ، أَيَّ أَبٍ كُنْتُ لَكُمْ ؟ قَالُوا : خَيْرَ أَبٍ ، قَالَ : فَإِذَا أَنَا مِتُّ ، فَاحْرَقُونِي واسْحَقُونِي ، فَإِذَا كَانَ فِي يَوْمِ رِيحٍ عَاصِفٍ فَذُرُّونِي ، قَالَ : فَمَاتَ ، فَفُعِلَ بِهِ ذَلِكَ ، فقَالَ لَهُ : كُنْ ، فَكَانَ كَأَسْرَعِ مِنْ طَرْفَةِ الْعَيْنِ ، فقَالَ اللَّهُ : يَا عَبْدِي ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ ؟ فقَالَ : مَخَافَتُكَ أَيْ رَبِّ ، قَالَ : فَمَا تَلافَاهُ أَنْ غُفِرَ لَهُ "قَالَ الْمُعْتَمِرُ : ، قَالَ أَبِي : فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ ، قَالَ : هَكَذَا حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، وَزَادَ فِيهِ : " وَذُرُّونِي فِي الْبَحْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم سے پہلے زمانے میں ایک شخص تھا جس نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کے لیے کوئی بھلائی ذخیرہ نہیں کی تھی۔ اس نے مرتے وقت اپنے بیٹوں سے کہا: اے میرے بیٹو! میں تمہارے لیے کیسا باپ تھا؟ انہوں نے جواب دیا: بہترین باپ تھے۔ اس شخص نے کہا: جب میں مر جاؤں، تو تم مجھے جلا کر مجھے پیس دینا اور جب تیز ہوا چل رہی ہو، تو مجھے اڑا دینا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”وہ شخص فوت ہو گیا۔ اس کے ساتھ ایسا ہی کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ہو جاؤ، تو وہ پلک جھپکنے سے بھی پہلے (انسان بن کر کھڑا ہو گیا)۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے میرے بندے! تم نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے عرض کیا: اے میرے پروردگار! تیرے خوف کی وجہ سے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے اسے یہ بدلہ دیا کہ اس کی مغفرت کر دی گئی۔“ معتمر نامی راوی بیان کرتے ہیں: میرے والد نے یہ بات بیان کی ہے کہ میں نے یہ روایت ابوعثمان نہدی کو سنائی، تو انہوں نے کہا: سلیمان نے یہ حدیث مجھے اسی طرح سنائی تھی، تاہم انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے تھے: ”تم لوگ مجھے دریا میں ڈال دینا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 650]

651

Sahih Ibn Hibban #651

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : تُوُفِّيَ رَجُلٌ كَانَ نَبَّاشًا ، فقَالَ لِوَلَدِهِ : احْرِقُونِي ، ثُمَّ اسْحَقُونِي فَذُرُّونِي فِي الرِّيحِ ، فَسُئِلَ : مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ : مَخَافَتُكَ يَا رَبِّ ، قَالَ : فَغَفَرَ لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک کفن چور کا انتقال ہو گیا، اس نے اپنے بیٹے سے کہا: تم مجھے جلا دینا پھر مجھے پیس کر مجھے ہوا میں اڑا دینا۔ اس سے دریافت کیا گیا تم نے ایسا کیوں کیا تو اس نے عرض کی: اے میرے پروردگار! تیرے خوف کی وجہ سے۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کر دی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 651]

652

Sahih Ibn Hibban #652

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذْ قُضِيَ الأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ ، قَالَ : فِي الدُّنْيَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت ﴿وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ﴾ [سورة مريم: 39] کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے: (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ”جب معاملے کا فیصلہ ہو جائے گا اور وہ لوگ غفلت میں ہوں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہ دنیا کے بارے میں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 652]

653

Sahih Ibn Hibban #653

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْعَلاءُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ ، أَخُو مُطَرِّفٍ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي رَجُلانِ آخَرَانِ أَنَّ مُطَرِّفًا حَدَّثَهُمْ أَنَّ عِيَاضَ بْنَ حِمَارٍ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ : إِنَّ اللَّهَأَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا ، إِنَّ كُلَّ مَا أَنْحَلْتُهُ عَبْدِي حَلالٌ ، وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ ، وَإِنَّهُ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ ، وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ ، فَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنْزِلْ بِهِ سُلْطَانًا ، وَإِنَّ اللَّهَ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ الأَرْضِ ، فَمَقَتَهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ ، غَيْرَ بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ، فقَالَ يَا مُحَمَّدُ : إِنَّمَا بَعَثْتُكَ لأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِيَ بِكَ ، وَأُنْزِلَ عَلَيْكَ كِتَابًا لا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ ، تَقْرَؤُهُ يَقْظَانَ وَنَائِمًا ، وَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا أَمَرَنِي أَنْ أُخْبِرَ قُرَيْشًا ، فَقُلْتُ : إِذًا يَثْلَغُوا رَأْسِي فَيَتْرُكُوهُ خُبْزَةً ، قَالَ : فَاسْتَخْرِجْهُمْ كَمَا اسْتَخْرَجُوكَ ، وَاغْزُهُمْ يَسْتَغْزُوكَ ، وَأَنْفِقْ يُنْفَقْ عَلَيْكَ ، وَابْعَثْ جَيْشًا نَبْعَثْ خَمْسَةً أَمْثَالَهُمْ ، وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مَنْ عَصَاكَ وَقَالَ : أَصْحَابُ الْجَنَّةِ ثَلاثَةٌ : إِمَامٌ مُقْسِطٌ مُصَدِّقٌ مُوَفَّقٌ ، وَرَجُلٌ رَحِيمٌ رَقِيقُ الْقَلْبِ بِكُلِّ ذِي قُرْبَى وَمُسْلِمٍ ، وَرَجُلٌ عَفِيفٌ فَقِيرٌ مُصَّدِّقٌ وَقَالَ : أَصْحَابُ النَّارِ خَمْسَةٌ : رَجُلٌ جَائِرٌ لا يَخْفَى لَهُ طَمَعٌ وَإِنْ دَقَّ ، وَرَجُلٌ لا يُمْسِي وَلا يُصْبِحُ إِلا وَهُوَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ ، وَالضَّعِيفُ الَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ تَبَعٌ لا يَبْغُونَ أَهْلا وَلا مَالا " ، فقَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أَمِنَ الْمَوَالِي هُوَ ، أَوْ مِنَ الْعَرَبِ ؟ قَالَ : هُوَ التَّابِعَةُ يَكُونُ لِلرَّجُلِ فَيُصِيبُ مِنْ حُرْمَتِهِ سِفَاحًا غَيْرَ نِكَاحٍ وَالشِّنْظِيرُ : الْفَاحِشُ وَذَكَرَ الْبُخْلَ وَالْكَذِبَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبے کے دوران یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ اس نے مجھے جن چیزوں کا علم دیا ہے اور تم ان سے ناواقف ہو، آج میں اس جگہ تمہیں ان چیزوں کی تعلیم دے دوں۔ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:) ہر وہ چیز جو میں نے اپنے بندے کو عطیے کے طور پر دی ہے وہ حلال ہے اور میں نے اپنے تمام بندوں کو حنیف (مسلمان) پیدا کیا ہے، پھر شیاطین ان کے پاس آتے ہیں اور ان کے دین کے حوالے سے انہیں گمراہ کر دیتے ہیں اور ان کے لیے ان چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں جو میں نے ان کے لیے حلال قرار دی ہیں اور انہیں اس بات کا حکم دیتے ہیں کہ وہ کسی کو میرا شریک بنا دیں حالانکہ میں نے اس بارے میں کوئی مضبوط دلیل نازل نہیں کی ہے۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) ”اللہ تعالیٰ اہل زمین کی طرف دیکھ کر تمام اہل عرب اور عجمیوں پر ناراض ہوا، سوائے اہل کتاب میں سے باقی رہ جانے والے چند لوگوں کے، پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے محمد! میں نے تمہیں اس لیے مبعوث کیا ہے، تاکہ میں تمہیں آزمائش میں مبتلا کروں اور تمہاری وجہ سے لوگوں کو آزماؤں اور میں نے تم پر ایک کتاب نازل کی ہے، جسے پانی دھو نہیں سکے گا (یعنی وہ بالکل ختم نہیں ہو گی)، بیدار شخص اور سویا ہوا شخص اس کی تلاوت کرے گا۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) ”مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ میں قریش کو جلا دوں (یعنی ان سے قتال کروں)، میں نے عرض کی: اے میرے رب! اس صورت میں تو وہ لوگ میرا سر کچل دیں گے اور وہ اسے (پیس کر) روٹی بنا دیں گے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم بھی انہیں نکالنے پر مجبور کرو جس طرح انہوں نے تم کو نکلنے پر مجبور کیا تھا، اور تم ان کے ساتھ جنگ کرو ہم تمہاری مدد کریں گے، اور تم خرچ کرو تم پر خرچ کیا جائے گا، اور تم ایک لشکر کو بھیجو ہم اس کے پانچ گنا مزید بھیج دیں گے، اور جو شخص تمہاری فرمانبرداری کرتا ہے اس کے ساتھ مل کر اس شخص کے ساتھ جنگ کرو جو تمہاری نافرمانی کرتا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل جنت تین قسم کے ہیں۔ ایسا امام جو عادل ہو، تصدیق کرنے والا ہو اور اسے خیر کی توفیق دی گئی ہو، ایک وہ شخص جو مہربان ہو، رقیق القلب ہو، ہر قریبی رشتہ دار اور ہر مسلمان کے لیے (نرم دل ہو)، اور ایک وہ شخص جو پاک دامن ہو، عیال دار (غریب) ہو اور سوال نہ کرنے والا ہو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل جہنم پانچ قسم کے ہیں۔ وہ کمزور جس میں سمجھ بوجھ نہ ہو، جو تمہارے تابع ہیں، وہ نہ اہل طلب کرتے ہیں اور نہ مال (یعنی تمہارے ہی ٹکڑوں پر پلنے والے ہیں)، ایسا خیانت کار جس کا لالچ پوشیدہ نہ ہو خواہ وہ بہت ہی معمولی سی چیز ہو اس میں خیانت کرے، اور ایسا شخص جو صبح و شام تمہارے اہل اور تمہارے مال کے بارے میں تمہیں دھوکا دیتا ہو۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخل اور جھوٹ کا ذکر کیا، اور ” «الشَّنْظِيرُ» ”بدزبان اور فحش گو“ کا تذکرہ کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 653]

654

Sahih Ibn Hibban #654

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ حَكِيمٍ الأَثْرَمِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلاأَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا ، وَإِنَّهُ ، قَالَ لِي : إِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ ، وَإِنَّ كُلَّ مَا أَنْحَلْتُ عِبَادِي فَهُوَ لَهُمْ حَلالٌ ، وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ أَتَتْهُمْ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ ، وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمُ الَّذِي أَحْلَلْتُ لَهُمْ ، وَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنْزِلْ بِهِ سُلْطَانًا ، وَإِنَّ اللَّهَ أَتَى أَهْلَ الأَرْضِ قَبْلَ أَنْ يَبْعَثَنِي ، فَمَقَتَهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ إِلا بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ، وَإِنَّهُ ، قَالَ لِي : قَدْ أَنْزَلْتُ كِتَابًا لا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ فَاقْرَأْهُ نَائِمًا وَيَقْظَانَ ، وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُخْبِرَ قُرَيْشًا وَإِنِّي قُلْتُ : أَيْ رَبِّ ، إِذًا يَثْلَغُوا رَأْسِي فَيَدَعُوهُ خُبْزَةً وَإِنَّهُ قَالَ لِي : اسْتَخْرِجْهُمْ كَمَا اسْتَخْرَجُوكَ ، وَاغْزُهُمْ يَسْتَغْزُونَكَ ، وَأَنْفِقْ نُنْفِقْ عَلَيْكَ ، وَابْعَثْ جَيْشًا نَبْعَثْ خَمْسَةَ أَمْثَالِهِ ، وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مَنْ عَصَاكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے اس بات کا حکم دیا ہے کہ میں آج تمہیں ان چیزوں کی تعلیم دوں جو علم مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یہ فرمایا ہے: میں نے اپنے تمام بندوں کو مسلمان پیدا کیا ہے اور میں نے اپنے بندوں کو جو چیز بھی عطا کی ہے، وہ ان کے لیے حلال ہے۔ شیاطین لوگوں کے پاس آتے ہیں اور انہیں دین کے حوالے سے گمراہ کر دیتے ہیں، وہ ان کے لیے ان چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں جو میں نے ان کے لیے حلال قرار دی ہیں اور وہ ان لوگوں کو یہ حکم دیتے ہیں کہ وہ میرے ساتھ شریک ٹھہرائیں جس کے بارے میں میں نے کوئی حکم نازل نہیں کیا ہے۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث کرنے سے پہلے زمین کی طرف توجہ کی اور تمام اہل عرب اور تمام عجمیوں پر ناراضی کا اظہار کیا، البتہ اہل کتاب میں سے باقی رہ جانے والوں کا معاملہ مختلف ہے۔ اللہ نے مجھ سے فرمایا: میں نے ایک کتاب نازل کی ہے، جسے پانی دھو نہیں سکے گا، تم سونے اور بیداری کی حالت میں اس کی تلاوت کرو۔ اللہ نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں قریش کو یہ بات بتا دوں، میں نے عرض کی: اے میرے پروردگار! اس صورت میں وہ میرے سر کو کچل کر اسے پیس کے رکھ دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم انہیں نکلنے پر مجبور کرو جس طرح انہوں نے تم کو نکالا تھا، اور تم ان سے جنگ کرو جس طرح انہوں نے تمہارے ساتھ جنگ کی تھی، اور تم خرچ کرو ہم تم پر خرچ کریں گے، اور تم لشکر کو بھیجو ہم اس جیسے پانچ بھیجیں گے، اور جو شخص تمہاری اطاعت کرتا ہے اس شخص کے ساتھ مل کر اس شخص کے ساتھ جنگ کرو جو تمہاری نافرمانی کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 654]

655

Sahih Ibn Hibban #655

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ أَحْمَدَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ الْفَزَارِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَقُولُ : هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْ رُؤْيَا " ؟ فَيَقُصُّ عَلَيْهِ مَنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُصَّ ، وَإِنَّهُ قَالَ لَنَا ذَاتَ غَدَاةٍ : " إِنَّهُ أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتِيَانِ ، وَإِنَّهُمَا ابْتَعَثَانِي ، وَإِنَّهُمَا ، قَالا لِي : انْطَلِقْ ، وَإِنِّي انْطَلَقْتُ مَعَهُمَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ ، وَإِذَا آخَرُ قَائِمٌ عَلَيْهِ بِصَخْرَةٍ وَإِذَا هُوَ يَهْوِي بِالصَّخْرَةِ لِرَأْسِهِ ، فَيَثْلَغُ بِهَا رَأْسَهُ ، فَتُدَهْدِهَهُ الصَّخْرَةُ هَهُنَا ، فَيَقُومُ إِلَى الْحَجَرِ فَيَأْخُذُهُ فَمَا يَرْجِعُ إِلَيْهِ أَحْسِبُهُ قَالَ : حَتَّى يَصِحَّ رَأْسُهُ كَمَا كَانَ ، ثُمَّ يَعُودُ عَلَيْهِ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ الْمَرَّةَ الأُولَى ، قَالَ : قُلْتُ : سُبْحَانَ اللَّهِ مَا هَذَانِ ؟ قَالا لِي : انْطَلِقِ انْطَلِقْ ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا ، فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُسْتَلْقٍ لِقَفَاهُ وَإِذَا آخَرُ عَلَيْهِ بِكَلُّوبٍ مِنْ حَدِيدٍ ، فَإِذَا هُوَ يَأْتِيَ أَحَدَ شِقَّيْ وَجْهِهِ فَيُشَرْشِرُ شِدْقَهُ إِلَى قَفَاهُ ، وَمِنْخَرَهُ إِلَى قَفَاهُ ، وَعَيْنَهُ إِلَى قَفَاهُ ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُ إِلَى الْجَانِبِ الآخَرِ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ بِالْجَانِبِ الأَوَّلِ ، فَمَا يَفْرُغُ مِنْ ذَلِكَ الْجَانِبِ حَتَّى يَصِحَّ الْجَانِبُ الأَوَّلُ كَمَا كَانَ ، ثُمَّ يَعُودُ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ الْمَرَّةَ الأُولَى ، قَالَ : قُلْتُ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، مَا هَذَانِ ؟ قَالا : انْطَلِقِ انْطَلِقْ ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا فَأَتَيْنَا عَلَى مِثْلِ بِنَاءِ التَّنُّورِ ، قَالَ عَوْفٌ : أَحْسِبُ أَنَّهُ ، قَالَ : فَإِذَا فِيهِ لَغَطٌ وَأَصْوَاتٌ ، فَاطَّلَعْنَا فَإِذَا فِيهِ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ عُرَاةٌ وَإِذَا بِنَهْرٍ لَهِيبٍ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ ، فَإِذَا أَتَاهُمْ ذَلِكَ اللَّهَبُ تَضَوْضَوْا ، قَالَ : قُلْتُ : مَا هَؤُلاءِ ؟ قَالا لِي : انْطَلِقِ انْطَلِقْ ، قَالَ : فَانْطَلَقْنَا عَلَى نَهَرٍ حَسِبْتُ أَنَّهُ ، قَالَ : أَحْمَرَ مِثْلِ الدَّمِ وَإِذَا فِي النَّهَرِ رَجُلٌ يَسْبَحُ ، وَإِذَا عِنْدَ شَطِّ النَّهَرِ رَجُلٌ قَدْ جَمَعَ عِنْدَهُ حِجَارَةً كَثِيرَةً ، وَإِذَا ذَلِكَ السَّابِحُ يَسْبَحُ مَا يَسْبَحُ ، ثُمَّ يَأْتِي ذَلِكَ الرَّجُلَ الَّذِي جَمَعَ الْحِجَارَةَ ، فَيَفْغَرُ لَهُ فَاهُ فَيُلْقِمُهُ حَجَرًا ، قَالَ : قُلْتُ : مَا هَؤُلاءِ ؟ قَالا لِي : انْطَلِقِ انْطَلِقْ ، قَالَ : فَانْطَلَقْنَا ، فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ كَرِيهِ الْمَرْآةِ كَأَكْرَهِ مَا أَنْتَ رَاءٍ رَجُلا مَرْآهُ ، فَإِذَا هُوَ عِنْدَ نَارٍ يَحُشُّهَا وَيَسْعَى حَوْلَهَا ، قَالَ : قُلْتُ لَهُمَا : مَا هَذَا ؟ قَالا لِي : انْطَلِقِ انْطَلِقْ ، فَانْطَلَقْنَا فَأَتَيْنَا عَلَى رَوْضَةٍ فِيهَا مِنْ كُلِّ نَوْرِ الرَّبِيعِ ، وَإِذَا بَيْنَ ظَهْرَيِ الرَّوْضَةِ رَجُلٌ قَائِمٌ طَوِيلٌ لا أَكَادُ أَرَى رَأْسَهُ طُولا فِي السَّمَاءِ ، وأَرَى حَوْلَ الرَّجُلِ مِنْ أَكْثَرِ وِلْدَانٍ رَأَيْتُهُمْ قَطُّ وَأَحْسَنَهُ ، قَالَ : قُلْتُ لَهُمَا : مَا هَؤُلاءِ ؟ قَالا لِي : انْطَلِقِ انْطَلِقْ ، فَانْطَلَقْنَا وَأَتَيْنَا دَوْحَةً عَظِيمَةً لَمْ أَرَ دَوْحَةً قَطُّ أَعْظَمَ مِنْهَا وَلا أَحْسَنَ ، قَالا لِي : ارْقَ فِيهَا ، قَالَ : فَارْتَقَيْنَا فِيهَا ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى مَدِينَةٍ مَبْنِيَّةٍ بِلَبِنِ ذَهَبٍ ، وَلَبِنِ فِضَّةٍ ، فَأَتَيْنَا بَابَ الْمَدِينَةِ ، فَاسْتَفْتَحْنَا ، فَفُتِحَ لَنَا ، فَقُلْنَا : مَا مِنْهَا رِجَالٌ ، شَطْرٌ مِنْ خَلْقِهِمْ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ ، وَشَطْرٌ كَأَقْبَحِ مَا أَنْتَ رَاءٍ ، قَالَ : قَالا لَهُمُ : اذْهَبُوا فَقَعُوا فِي ذَلِكَ النَّهَرِ ، فَإِذَا نَهَرٌ مُعْتَرِضٌ يَجْرِي كَأَنَّ مَاءَهُ الْمَحْضُ فِي الْبَيَاضِ ، فَذَهَبُوا فَوَقَعُوا فِيهِ ، ثُمَّ رَجَعُوا وَقَدْ ذَهَبَ ذَلِكَ السُّوءُ عَنْهُمْ ، وَصَارُوا فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ ، قَالَ : ، قَالا لِي : هَذِهِ جَنَّةُ عَدْنٍ ، وَهَذَاكَ مَنْزِلُكَ ، قَالَ : فَسَمَا بَصَرِي صُعُدًا ، فَإِذَا قَصْرٌ مِثْلُ الرَّبَابَةِ الْبَيْضَاءِ ، قَالَ : ، قَالا لِي : هَذَاكَ مَنْزِلُكَ ، قَالَ : قُلْتُ لَهُمَا : بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمَا ، ذَرَانِي أَدْخُلْهُ ، قَالَ : ، قَالا لِي : أَمَّا الآنَ فَلا ، وَأَنْتَ دَاخِلُهُ ، قَالَ : فَإِنِّي رَأَيْتُ مُنْذُ اللَّيْلَةِ عَجَبًا ، فَمَا هَذَا الَّذِي رَأَيْتُ ؟ قَالَ : ، قَالا لِي : أَمَا إِنَّا سَنُخْبِرُكَ : أَمَّا الرَّجُلُ الأَوَّلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يُثْلَغُ رَأْسُهُ بِالْحَجَرِ ، فَإِنَّهُ الرَّجُلُ يَأْخُذُ الْقُرْآنَ فَيَرْفُضُهُ ، وَيَنَامُ عَنِ الصَّلاةِ الْمَكْتُوبَةِ ، وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يُشَرْشَرُ شِدْقُهُ إِلَى قَفَاهُ ، وَعَيْنُهُ إِلَى قَفَاهُ ، وَمِنْخَرُهُ إِلَى قَفَاهُ ، فَإِنَّهُ الرَّجُلُ يَغْدُو مِنْ بَيْتِهِ فَيَكْذِبُ الْكَذْبَةَ فَتَبْلُغُ الآفَاقَ وَأَمَّا الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ الْعُرَاةُ الَّذِينَ فِي مِثْلِ بِنَاءِ التَّنُّورِ ، فَإِنَّهُمُ الزُّنَاةُ وَالزَّوَانِي وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي فِي النَّهَرِ ، فَيَلْتَقِمُ الْحِجَارَةَ ، فَإِنَّهُ آكِلُ الرِّبَا ، وَأَمَّا الرَّجُلُ الْكَرِيهُ الْمَرْآةِ الَّذِي عِنْدَ النَّارِ يَحُشُّهَا فَإِنَّهُ مَالِكٌ خَازِنُ جَهَنَّمَ ، وَأَمَّا الرَّجُلُ الطَّوِيلُ الَّذِي فِي الرَّوْضَةِ ، فَإِنَّهُ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلامُ وَأَمَّا الْوِلْدَانُ الَّذِينَ حَوْلَهُ ، فَكُلُّ مَوْلُودٍ وُلِدَ عَلَى الْفِطْرَةِ ، قَالَ : فقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَوْلادُ الْمُشْرِكِينَ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَأَوْلادُ الْمُشْرِكِينَ ، وَأَمَّا الْقَوْمُ الَّذِينَ شَطْرٌ مِنْهُمْ حَسَنٌ ، وَشَطْرٌ مِنْهُمْ قَبِيحٌ ، فَهُمْ قَوْمٌ خَلَطُوا عَمَلا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا ، فَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سمرہ بن جندب فزاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دریافت کیا کرتے تھے: ”کیا کسی شخص نے کوئی خواب دیکھا ہے؟“ پھر جو اللہ کو منظور ہوتا تھا وہ شخص اپنا خواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کر دیتا تھا۔ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”گزشتہ رات دو فرشتے میرے پاس آئے، وہ میرے پاس بھیجے گئے تھے۔ ان دونوں نے مجھ سے کہا: آپ چلئے! میں ان دونوں کے ساتھ چل پڑا، ہمارا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو لیٹا ہوا تھا اور دوسرا شخص اس کے سرہانے پتھر لیے کھڑا ہوا تھا۔ وہ اپنا پتھر اس شخص کے سر پر مار کر اس پتھر کے ذریعے اس کے سر کو کچل دیتا تھا، پھر پتھر لڑھکتا ہوا دور چلا جاتا تھا، وہ شخص اس پتھر کو لینے کے لیے جاتا تھا اور اسے پکڑ کر واپس اس شخص کے پاس آتا تھا (راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں) یہاں تک کہ وہ شخص پہلے کی طرح ٹھیک ہو جاتا تھا، پھر وہ دوبارہ اس کے ساتھ وہی عمل کرتا تھا جس طرح پہلی مرتبہ کیا تھا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے دریافت کیا: «سُبْحَانَ اللَّهِ» ”اللہ پاک ہے“ ان دونوں کا کیا معاملہ ہے؟ ان دونوں فرشتوں نے مجھ سے کہا: آپ چلتے رہیے، آپ چلتے رہیے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں ان دونوں کے ساتھ چلتا رہا، یہاں تک کہ ہم ایک شخص کے پاس آئے جو گدی کے بل چت لیٹا ہوا تھا اور دوسرے شخص کے پاس لوہے کا بنا ہوا آنکڑا تھا۔ وہ اس کے منہ کے ایک کنارے کی طرف آتا تھا اور اس کے جبڑے کو گدی تک چیر دیتا تھا اور پھر اس کے نتھنے کو پیچھے گدی تک چیر دیتا تھا اور اس کی آنکھ کو پیچھے گدی تک چیر دیتا تھا، پھر وہ دوسری طرف آتا تھا اور اس کے ساتھ اسی طرح کرتا تھا جس طرح پہلی طرف کیا تھا، پھر جب وہ دوسری طرف سے فارغ ہوتا تھا تو پہلی والی طرف پہلے کی طرح ٹھیک ہو چکی ہوتی تھی، پھر وہ دوبارہ اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرتا تھا جس طرح پہلی مرتبہ کیا تھا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے کہا: «سُبْحَانَ اللَّهِ» ”اللہ پاک ہے“ ان دونوں کا کیا معاملہ ہے؟ ان دونوں فرشتوں نے کہا: آپ چلتے رہیے، آپ چلتے رہیے۔ میں ان دونوں فرشتوں کے ساتھ چلتا رہا، پھر ہم تندور جیسی عمارت کے پاس آئے۔ (عوف نامی راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں) اس میں سے چیخ و پکار اور آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ ہم نے اس میں جھانک کر دیکھا تو اس میں کچھ برہنہ مرد اور خواتین تھیں اور اس تندور کے نیچے آگ کے شعلے بھڑک رہے تھے۔ جب کوئی شعلہ ان لوگوں کے پاس آتا تھا تو وہ چیخ و پکار کرتے تھے۔ میں نے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ تو ان دونوں فرشتوں نے مجھ سے کہا: آپ چلتے رہیے، آپ چلتے رہیے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہم ایک نہر کے پاس آئے۔ (راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں) جس کا پانی خون کی طرح سرخ تھا۔ اس نہر میں ایک شخص تیر رہا تھا اور اس نہر کے کنارے پر ایک اور شخص موجود تھا جس کے پاس بہت سے پتھر جمع تھے۔ وہ تیرنے والا شخص جب اس شخص کے پاس آتا جس نے پتھر جمع کر رکھے تھے تو وہ اپنا منہ اس شخص کے سامنے کھولتا تھا اور وہ دوسرا شخص اس کے منہ میں پتھر ڈال دیتا تھا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ ان دونوں فرشتوں نے مجھ سے کہا: آپ چلتے رہیے، آپ چلتے رہیے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ”ہم چلتے رہے، پھر ہم ایک ایسے شخص کے پاس آئے جس کی شکل انتہائی بدصورت تھی، تم نے زندگی میں جو بھی بدصورت ترین شخص دیکھا ہو گا وہ اس کی مانند تھا، وہ شخص ایک آگ کے پاس تھا، وہ اسے جلانے کی کوشش کرتا تھا اور اس کے گرد دوڑتا تھا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے ان دونوں سے دریافت کیا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ ان دونوں نے مجھ سے کہا: آپ چلتے رہیے، آپ چلتے رہیے! پھر ہم روانہ ہوئے، یہاں تک کہ ہم ایک باغ میں آئے جس میں ہر طرف بہار آئی ہوئی تھی اور اس باغ کے درمیان میں ایک طویل شخص کھڑا ہوا تھا، وہ اتنا اونچا تھا کہ مجھے اس کا سر دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ میں نے اس شخص کے ارد گرد اس کے ڈھیر سارے بچے دیکھے، لیکن میں نے ان میں سے کوئی بھی بچہ اس سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے ان دونوں سے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے مجھ سے کہا: آپ چلتے رہیے، آپ چلتے رہیے۔ پھر ہم لوگ چلتے رہے، یہاں تک کہ ہم ایک بڑے پھیلے ہوئے درخت کے پاس آ گئے۔ میں نے اس سے بڑا اور اس سے خوبصورت درخت کبھی نہیں دیکھا۔ ان دونوں فرشتوں نے مجھ سے کہا: آپ اس پر چڑھ جائیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہم اس پر چڑھ گئے تو ہم ایک شہر میں پہنچ گئے جس کی عمارتیں سونے اور چاندی کی اینٹوں سے بنی ہوئی تھیں۔ ہم اس شہر کے دروازے پر آئے۔ ہم نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا، دروازہ کھول دیا گیا، تو ہم نے وہاں ایسے لوگ دیکھے جن میں سے نصف ایسے ہوں گے جو تم نے سب سے زیادہ خوبصورت لوگ دیکھے ہوں اور نصف ایسے ہیں جو تم نے سب سے زیادہ بدصورت دیکھے ہوں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان دونوں فرشتوں نے ان لوگوں سے کہا: تم لوگ جاؤ اور اس نہر میں داخل ہو جاؤ۔ وہ نہر چوڑی تھی اور بہہ رہی تھی، اس کا پانی سفیدی کے اعتبار سے خالص دودھ کی طرح تھا۔ وہ لوگ گئے اور اس میں داخل ہو گئے۔ پھر جب وہ لوگ واپس آئے تو ان کی خرابی ختم ہو چکی تھی اور ان کی شکلیں انتہائی خوبصورت ہو چکی تھیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان دونوں فرشتوں نے مجھ سے کہا: یہ جنتِ عدن ہے اور یہ آپ کا ٹھکانہ ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے نگاہ اٹھا کر بلندی کی طرف دیکھا تو وہاں ایک محل تھا جو سفید بادل کی مانند تھا۔ ان دونوں فرشتوں نے مجھ سے کہا: یہ آپ کی رہائش گاہ ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے ان دونوں سے کہا: «بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمَا» ”اللہ تعالیٰ تم دونوں میں برکت نصیب فرمائے“ مجھے موقع دو کہ میں اس کے اندر چلا جاؤں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان دونوں نے مجھ سے کہا: ابھی نہیں، لیکن آپ اس میں داخل ہو جائیں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے گزشتہ رات جو حیران کن چیزیں دیکھی ہیں، تو جو کچھ میں نے دیکھا ہے اس کی حقیقت کیا ہے؟ تو ان فرشتوں نے مجھ سے کہا: ہم آپ کو اس کی حقیقت بتاتے ہیں۔ جہاں تک اس پہلے شخص کا تعلق ہے جس کے پاس آپ تشریف لائے تھے جس کے سر کو پتھر کے ذریعے کچلا جا رہا تھا، تو یہ وہ شخص تھا جس نے قرآن کا علم حاصل کیا اور پھر اسے پرے کر دیا اور یہ فرض نماز کے وقت سویا رہ جاتا تھا۔ جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے جس کے پاس آپ تشریف لائے تھے جس کی باچھوں کو گدی تک اور اس کی آنکھوں کو گدی تک اور اس کے نتھنوں کو گدی تک چیرا جا رہا تھا، تو یہ وہ شخص تھا جو اپنے گھر سے نکلتا تھا اور ایک جھوٹ بولتا تھا اور اس کا جھوٹ دنیا میں پھیل جاتا تھا۔ جہاں تک ان برہنہ مردوں اور خواتین کا تعلق ہے جو تندور نما عمارت کے اندر موجود تھے، تو یہ زنا کرنے والے مرد اور زنا کرنے والی عورتیں تھیں۔ جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے جو نہر میں تھا اور پتھر منہ میں لے رہا تھا، تو یہ سود کھانے والا شخص تھا۔ جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے جو انتہائی بدصورت تھا اور جو آگ کے پاس تھا اور اسے دہکاتا تھا، تو یہ «مَالِكٌ» ”مالک“ تھا جو جہنم کا داروغہ ہے۔ جہاں تک اس طویل شخص کا تعلق ہے جو باغ میں تھا، تو وہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام تھے۔ جہاں تک ان کے ارد گرد موجود بچوں کا تعلق ہے، تو ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: مسلمانوں میں سے ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! مشرکین کی اولاد کا کیا حکم ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشرکین کی اولاد بھی (فطرت پر پیدا ہوتی ہے)۔ جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جن میں سے آدھے لوگ خوبصورت تھے اور آدھے لوگ بدصورت تھے، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے نیکیوں کے ساتھ برے اعمال بھی کیے، ان سے اللہ تعالیٰ نے درگزر فرمایا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 655]

656

Sahih Ibn Hibban #656

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي الْعَلاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ ، مَا طَمِعَ بِجَنَّتِهِ أَحَدٌ ، وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ ، مَا قَنَطَ مِنْ جَنَّتِهِ أَحَدٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اگر بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں موجود سزا کا پتا چل جائے، تو کوئی بھی شخص جنت کی امید نہ رکھے اور اگر کافر شخص کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا پتا چل جائے، تو کوئی بھی شخص جنت سے ناامید نہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 656]

657

Sahih Ibn Hibban #657

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ يُؤَاخِذُنِي اللَّهُ ، وَابْنَ مَرْيَمَ ، بِمَا جَنَتْ هَاتَانِ يَعْنِي الإِبْهَامَ وَالَّتِي تَلِيهَا ، لَعَذَّبَنَا ثُمَّ لَمْ يَظْلِمْنَا شَيْئًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ میرا اور ابن مریم کا ان دونوں (انگلیوں) کے قصور کی وجہ سے مواخذہ کرے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھے اور اس کے ساتھ والی انگلی کی طرف اشارہ کر کے یہ فرمایا) اور وہ ہمیں عذاب دے، تو وہ ہمارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 657]

658

Sahih Ibn Hibban #658

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَقُولُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا كَانَ يَوْمُ رِيحٍ ، أَوْ غَيْمٍ ، عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ ، فَإِذَا مَطَرَتْ ، سُرَّ بِهِ وَذَهَبَ ذَلِكَ عَنْهُ ، فَسُئِلَ ، فقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّيخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ عَذَابًا سُلِّطَ عَلَى أُمَّتِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیز ہوا والے دن یا بارش والے دن پریشان ہو جایا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ادھر ادھر آیا جایا کرتے تھے، جب بارش شروع ہو جاتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو جایا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پریشانی ختم ہو جاتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں یہ عذاب نہ ہو، جو میری امت پر مسلط کر دیا گیا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 658]

659

Sahih Ibn Hibban #659

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ أَنَّ اللَّهَ يُؤَاخِذُنِي وَعِيسَى بِذُنُوبِنَا ، لَعَذَّبَنَا وَلا يَظْلِمُنَا شَيْئًا " ، قَالَ : وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالَّتِي تَلِيهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ میرا اور عیسیٰ کا ہمارے ذنوب کی وجہ سے مواخذہ کرے اور ہمیں عذاب دے، تو وہ ہمارے ساتھ کوئی زیادتی کرنے والا نہیں ہو گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت والی انگلی اور اس کے ساتھ والی انگلی کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 659]

660

Sahih Ibn Hibban #660

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يُنْجِيهِ عَمَلُهُ ، وَلَكِنْ سَدِّدُوا وَقَارِبُوا " قَالُوا : وَلا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلا أَنَا ، إِلا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي بِمَغْفِرَةٍ وَفَضْلٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم میں سے کسی بھی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دے گا، تاہم تم لوگ میانہ روی اختیار کرو اور انتہا پسندی سے گریز کرو۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کو بھی نہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بھی نہیں، البتہ مجھے اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور فضل کے ذریعے ڈھانپ لیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 660]

661

Sahih Ibn Hibban #661

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْجَنَّةُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ ، وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جنت تم میں سے کسی ایک شخص کے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور جہنم بھی اسی کی مانند ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 661]

662

Sahih Ibn Hibban #662

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اگر تم لوگ وہ بات جان لو جو میں جانتا ہوں، تو تم تھوڑا ہنسا کرو اور زیادہ رویا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 662]

663

Sahih Ibn Hibban #663

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، بِمَنْبِجَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، بِعَسْقَلانَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى بْنِ أَبِي حَنْظَلَةَ الْعَابِدُ بِصَيْدَاءَ ، فِي آخَرِينَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ ، أَدَّى عَنِ الزُّهْرِيِّ ، سَبْعَةَ آلافِ دِينَارٍ دَيْنًا كَانَ عَلَيْهِ ، ثُمّ قَالَ لِلزُّهْرِيِّ لا تَعُودَنَّ تَدَّانُ ، فقَالَ الزُّهْرِيُّ : كَيْفَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، وَقَدْ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ "لَفْظُ الْخَبَرِ لِعُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ سِنَانٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن عبدالعزیز بیان کرتے ہیں کہ ہشام بن عبدالملک نے زہری کی طرف سے سات ہزار دینار ادا کر دیے جو ان کے ذمے قرض تھے۔ انہوں نے کہا: اب آپ دوبارہ قرض نہ لیجیے گا، تو زہری نے کہا: اے امیر المؤمنین! اب کیسے ہو سکتا ہے، جبکہ سعید بن مسیب نے مجھے یہ بات بتائی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مؤمن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جا سکتا۔“ روایت کے یہ الفاظ عمر بن سعید سنان کے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 663]

664

Sahih Ibn Hibban #664

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا هَبَّتِ الرِّيحُ عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب تیز ہوا چلتی تھی، تو اس کی وجہ سے پریشانی کا اثر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ظاہر ہو جاتا تھا، تاکہ آدمی اس حوالے سے خود پسندی کا شکار نہ ہو، اگرچہ وہ شخص اپنی ذات کے اعتبار سے فضیلت والا ہو اور اپنے دین کے اعتبار سے پرہیزگار ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 664]

665

Sahih Ibn Hibban #665

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ الْعَدَوِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَهُوَقَائِمٌ يُصَلِّي ، وَبِصَدْرِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الْمِرْجَلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مطرف بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھڑے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے سے یوں آواز آ رہی تھی جس طرح ہنڈیا ابلنے کی آواز ہوتی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 665]

666

Sahih Ibn Hibban #666

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : اتَّقُوا النَّارَ " ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ ، ثُمَّ قَالَ : " اتَّقُوا النَّارَ " ، ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ ، حَتَّى رُئِينَا أَنَّهُ يَرَاهَا ثُمَّ قَالَ :" اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيْبَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ جہنم سے بچنے کی کوشش کرو۔“ پھر آپ نے منہ پھیر لیا اور چہرے کو بچانے کی کوشش کی، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ جہنم سے بچنے کی کوشش کرو۔“ پھر آپ نے منہ پھیر لیا اور چہرے کو بچانے کی کوشش کی، یہاں تک کہ ہمیں یوں محسوس ہوا کہ آپ اسے دیکھ رہے ہیں، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”جہنم سے بچنے کی کوشش کرو، خواہ نصف کھجور کے ذریعے ایسا کرو اور اگر تمہیں یہ بھی نہیں ملتی، تو پاکیزہ بات کے ذریعے (جہنم سے بچنے کی کوشش کرو)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 666]