Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 10 · Chapter 1

The Book of Prayer

Hadith 1010–1049

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1010

Sahih Ibn Hibban #1010

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ ، وَالْعَجْزِ وَالْبُخْلِ ، وَفِتْنَةِ الْمَسِيحِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ، وَالْهَرَمِ، وَالْعَجْزِ، وَالْبُخْلِ، وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ» ”اے اللہ! میں کاہلی، بڑھاپے، عاجز ہو جانے، کنجوسی، دجال کی آزمائش اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1010]

1011

Sahih Ibn Hibban #1011

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلاءِ الْكَلِمَاتِ : أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْبُخْلِ وَالْجُبْنِ ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الصَّدْرِ ، وَبَغْيِ الرِّجَالِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن سعد اپنے والد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: «أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الصَّدْرِ، وَمِنْ سَوْرَةِ النَّاسِ» ”میں اس بات سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں کہ مجھے رذیل ترین عمر کی طرف لوٹا دیا جائے۔ میں کنجوسی اور بزدلی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں، میں سینے کی آزمائش اور لوگوں کی سرکشی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1011]

1012

Sahih Ibn Hibban #1012

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ حَسَنًا وَحُسَيْنًا : أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لامَّةٍ " ، ثُمَّ يَقُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ إِبْرَاهِيمُ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ يُعَوِّذُ بِهِ ابْنَيْهِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہما کو یہ پڑھ کر دم کیا کرتے تھے: «أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ» ”میں ہر شیطان، تکلیف دہ چیز اور لگنے والی نظر (کے شر سے) تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے: ”سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنے دو صاحبزادوں سیدنا اسماعیل اور سیدنا اسحاق علیہما السلام کو یہی (کلمات پڑھ کر) دم کیا کرتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1012]

1013

Sahih Ibn Hibban #1013

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ حَسَنًا وَحُسَيْنًا : أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لامَّةٍ " . وَكَانَ يَقُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ أَبُوكُمَا يُعَوِّذُ بِهِمَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو یہ پڑھ کر دم کیا کرتے تھے: «أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ» ”میں ہر شیطان، تکلیف دہ چیز اور لگنے والی نظر (کے شر سے بچانے کے لیے) تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ میں دے رہا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے: ”تمہارے جدِ امجد (سیدنا ابراہیم علیہ السلام) بھی ان کلمات کے ذریعے سیدنا اسماعیل علیہ السلام اور سیدنا اسحاق علیہ السلام کو دم کیا کرتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1013]

1014

Sahih Ibn Hibban #1014

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا سَأَلَ رَجُلٌ مُسْلِمٌ الْجَنَّةَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، إِلا قَالَتِ الْجَنَّةُ : اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ ، وَلا اسْتَجَار رجل مُسْلِمٌ مِنَ النَّارِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، إِلا قَالَتِ النَّارُ : اللَّهُمَّ أَجِرْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو مسلمان شخص اللہ تعالیٰ سے تین مرتبہ جنت کا سوال کرتا ہے، تو جنت یہ کہتی ہے: «اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ» ”اے اللہ! اسے جنت میں داخل کر دے“، اور جو مسلمان شخص تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے، تو جہنم یہ کہتی ہے: «اللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنَ النَّارِ» ”اے اللہ! تو اسے پناہ عطا کر دے“۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1014]

1015

Sahih Ibn Hibban #1015

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ نَفْسٍ لا تَشْبَعُ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ صَلاةٍ لا تَنْفَعُ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ دُعَاءٍ لا يُسْمَعُ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ قَلْبٍ لا يَخْشَعُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے) «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ صَلَاةٍ لَا تَنْفَعُ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ» ”اے اللہ! میں ایسے نفس سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو سیر نہ ہو اور ایسی نماز سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو فائدہ نہ دے، اور میں ایسی دعا سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو سنی نہ جائے اور میں ایسے دل سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو خشوع والا نہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1015]

1016

Sahih Ibn Hibban #1016

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُمَيٌّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ : يَتَعَوَّذُ مِنْ جَهْدِ الْبَلاءِ ، وَدَرْكِ الشَّقَاءِ ، وَسُوءِ الْقَضَاءِ ، وَشَمَاتَةِ الأَعْدَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ”آزمائش کی مشقت، بدبختی لاحق ہونے، برے فیصلے اور دشمنوں کی شماتت“ سے پناہ مانگتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1016]

1017

Sahih Ibn Hibban #1017

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ ، يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ ، وَالْجُنُونِ ، وَالْجُذَامِ ، وَسَيِّئِ الأَسْقَامِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ، وَالْجُنُونِ، وَالْجُذَامِ، وَمِنْ سَيِّئِ الْأَسْقَامِ» ”اے اللہ! میں پھلبہری، پاگل پن، کوڑھ اور بری بیماریوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1017]

1018

Sahih Ibn Hibban #1018

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ : يَتَعَوَّذُ مِنْ شَرِّ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ”زندگی اور موت کے شر، قبر کے عذاب اور دجال کے شر سے پناہ مانگا کرتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1018]

1019

Sahih Ibn Hibban #1019

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَعَذَابِ النَّارِ ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ» ”اے اللہ! میں قبر کے عذاب، جہنم کے عذاب، زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1019]

1020

Sahih Ibn Hibban #1020

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، وَالْحَارِثَ بْنَ يَعْقُوبَ حَدَّثَاهُ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَقِيتُ مِنْ عَقْرَبٍ لَدَغَتْنِي الْبَارِحَةَ ! ! فَقَالَ : أَمَا إِنَّكَلَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ، لَمْ يَضُرَّكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! گزشتہ رات مجھے بچھو نے ڈنگ مار دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم شام کے وقت یہ کلمات پڑھ لیتے: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» ”(اللہ تعالیٰ نے) جو بھی چیز پیدا کی ہے اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں“، تو وہ (بچھو) تمہیں نقصان نہ پہنچاتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1020]

1021

Sahih Ibn Hibban #1021

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ أَسْلَمَ ، قَالَ : مَا نِمْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ؟ " قَالَ : لَدَغَتْنِي عَقْرَبٌ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا إِنَّكَلَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ، لَمْ يَضُرَّكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے عرض کی: گزشتہ رات میں سو نہیں سکا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”وہ کس وجہ سے؟“ اس نے عرض کی: مجھے بچھو نے کاٹ لیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم نے شام کے وقت یہ کلمات پڑھ لیے ہوتے: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» ”(اللہ تعالیٰ نے) جو چیز پیدا کی ہے میں اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں“ تو ان شاء اللہ اس (بچھو) نے تمہیں نقصان نہیں پہنچانا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1021]

1022

Sahih Ibn Hibban #1022

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ قَالَ حِينَ يُمْسِي : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ، ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، لَمْ تَضُرَّهُ حَيَّةٌ إِلَى الصَّبَاحِ ". قَالَ : وَكَانَ إِذَا لُدِغَ إِنْسَانٌ مِنْ أَهْلِهِ ، قَالَ : أَمَا قَالَ الْكَلِمَاتِ ؟ !"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص شام کے وقت یہ کلمات: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» ”(اللہ تعالیٰ نے) جو بھی چیز پیدا کی ہے، میں اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کے کامل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں“، تین مرتبہ پڑھے تو صبح تک کوئی سانپ (یا زہریلی چیز) اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) ان کے گھر والوں میں سے جب کسی کو (کوئی زہریلی چیز) کاٹ لیتی تو وہ یہ کہتے: کیا اس نے وہ کلمات نہیں پڑھے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1022]

1023

Sahih Ibn Hibban #1023

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ الْحَافِظُ ، بِتُسْتَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو ، يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ ، وَالْبُخْلِ وَالْهَرَمِ ، وَالْقَسْوَةِ وَالْغَفْلَةِ ، وَالذِّلَّةِ وَالْمَسْكَنَةِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْكُفْرِ ، وَالشِّرْكِ وَالنِّفَاقِ ، وَالسُّمْعَةِ وَالرِّيَاءِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الصَّمَمِ وَالْبَكَمِ ، وَالْجُنُونِ ، وَالْبَرَصِ وَالْجُذَامِ ، وَسَيِّيءِ الأَسْقَامِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ، وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ، وَالْهَرَمِ، وَالْقَسْوَةِ، وَالْغَفْلَةِ، وَالذِّلَّةِ، وَالْمَسْكَنَةِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ، وَالْكُفْرِ، وَالشِّرْكِ، وَالنِّفَاقِ، وَالرِّيَاءِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الصَّمَمِ، وَالْبُكْمِ، وَالْجُنُونِ، وَالْبَرَصِ، وَالْجُذَامِ، وَسَيِّئِ الْأَسْقَامِ» ”اے اللہ! میں عاجز ہو جانے، کاہلی، کنجوسی، بڑھاپے، دل کی سختی، غفلت، ذلت اور ناداری سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں غربت، کفر، شرک، منافقت، ریاکاری سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں بہرے پن، گونگے پن، پاگل پن، پھلبہری، کوڑھ اور بری بیماریوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1023]

1024

Sahih Ibn Hibban #1024

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ : حَجَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ حَجَّتَيْنِ ، إِحْدَاهُمَا : الَّتِي أُصِيبَ فِيهَا ، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ بِجَمْعٍ : أَلا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ خَمْسٍ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْجُبْنِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ سُوءِ الْعُمُرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الصَّدْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ دو مرتبہ حج کیا ہے، ان میں ایک مرتبہ وہ حج تھا (جس کے کچھ عرصہ بعد) وہ شہید ہو گئے، (اس حج کے موقع پر) میں نے انہیں مزدلفہ میں یہ بیان کرتے ہوئے سنا: خبردار! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ چیزوں سے پناہ مانگا کرتے تھے: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَالْجُبْنِ، وَسُوءِ الْعُمُرِ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ» ”اے اللہ! میں کنجوسی اور بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور خرابی عمر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور سینے کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1024]

1025

Sahih Ibn Hibban #1025

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ غَيْلانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ دَرَّاجًا أَبَا السَّمْحِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْهَيْثَمِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْكُفْرِ وَالدَّيْنِ " . فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يُعْدَلُ الدَّيْنُ بِالْكُفْرِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میں کفر اور قرض سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں“۔ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا قرض، کفر کے برابر ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1025]

1026

Sahih Ibn Hibban #1026

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ غَيْلانَ التُّجِيبِيُّ ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَيَعْتَدِلانِ ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ» ”اے اللہ! میں کفر اور فقر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا یہ دونوں برابر ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1026]

1027

Sahih Ibn Hibban #1027

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَظُلْمَنَا ، وَهَزْلَنَا وَجِدَّنَا وَعَمْدَنَا ، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدَنَا . اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ ، وَغَلَبَةِ الْعِبَادِ ، وَشَمَاتَةِ الأَعْدَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، وَإِسْرَافِي، وَهَزْلِي، وَجِدِّي، وَعَمْدِي، وَكُلَّ ذَلِكَ عِنْدِي، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ، وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ» ”اے اللہ! ہمارے ذنوب، زیادتی، مذاق، سنجیدگی، جان بوجھ کر کیے گئے (غرضیکہ) ہماری طرف سے ہونے والی (ہر قسم کی کوتاہی) کی مغفرت کر دے۔ اے اللہ! میں قرض کے غلبہ، بندوں کے غلبہ اور دشمنوں کی شماتت سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1027]

1028

Sahih Ibn Hibban #1028

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسلم بن ابوبکرہ اپنے والد (سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ، وَالْفَقْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ» ”اے اللہ! میں کفر، فقر اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1028]

1029

Sahih Ibn Hibban #1029

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ مِنْ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُوعِ ، فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخِيَانَةِ ، فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں یہ (کلمات بھی شامل) تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُوعِ، فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخِيَانَةِ، فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ» ”اے اللہ! میں بھوک سے تیری پناہ مانگتا ہوں، کیونکہ وہ بری ساتھی ہے، اور میں خیانت سے تیری پناہ مانگتا ہوں، کیونکہ وہ بری ہم راز ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1029]

1030

Sahih Ibn Hibban #1030

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْفَاقَةِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہا (یعنی یہ دعا کیا) کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ، وَالْقِلَّةِ، وَالذِّلَّةِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ» ”اے اللہ! میں فقر و فاقہ سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1030]

1031

Sahih Ibn Hibban #1031

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو ؟ قَالَتْ : كَانَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ ، وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

فروہ بن نوفل اشجعی بیان کرتے ہیں: میں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اس دعا کے بارے میں دریافت کیا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مانگا کرتے تھے، تو انہوں نے بتایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہا (یعنی یہ دعا کیا) کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ، وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ» ”اے اللہ! میں نے جو عمل کیا ہے اور میں نے جو عمل نہیں کیا، میں اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1031]

1032

Sahih Ibn Hibban #1032

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، قُلْتُ : حَدِّثِينِي بِشَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ . قَالَتْ : كَانَ يَقُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ ، وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

فروہ بن نوفل اشجعی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے درخواست کی اور کہا: آپ مجھے اس چیز (یعنی ان کلمات) کے بارے میں بتائیے جن کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگا کرتے تھے، تو انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہا (یعنی یہ دعا کیا) کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ، وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ» ”اے اللہ! میں نے جو عمل کیا ہے اور میں نے جو عمل نہیں کیا، میں اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1032]

1033

Sahih Ibn Hibban #1033

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمْدَانَ بْنِ مُوسَى التُّسْتَرِيُّ ، بِعَبَّادَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَارِ السُّوءِ فِي دَارِ الْمُقَامَةِ ، فَإِنَّ جَارَ الْبَادِي يَتَحَوَّلُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہا (یعنی یہ دعا کیا) کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَارِ السُّوءِ فِي دَارِ الْمُقَامَةِ، فَإِنَّ جَارَ الْبَادِيَةِ يَتَحَوَّلُ» ”اے اللہ! میں دار المقامہ میں بُرے پڑوس سے تیری پناہ مانگتا ہوں، کیونکہ دنیاوی پڑوسی تو تبدیل ہو جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1033]

1034

Sahih Ibn Hibban #1034

أَخْبَرَنَا ابْنُ الْجُنَيْدِ إِمْلاءً ، بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْجَنَّةَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَتِ الْجَنَّةُ : اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ ، وَمَنِ اسْتَجَارَ مِنَ النَّارِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَتِ النَّارُ : اللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنَ النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اللہ تعالیٰ سے تین مرتبہ جنت مانگتا ہے، تو جنت کہتی ہے: «اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ» ”اے اللہ! اسے جنت میں داخل کر دے“ اور جو شخص جہنم سے تین مرتبہ پناہ مانگتا ہے، تو جہنم کہتی ہے: «اللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنَ النَّارِ» ”اے اللہ! اسے جہنم سے پناہ عطا کر دے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1034]

1035

Sahih Ibn Hibban #1035

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ ثَعْلَبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ قَالَ :اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ ، عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ ، وَأَبُوءُ بِذَنْبِي ، فَاغْفِرْ لِي إِنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ ، فَمَاتَ مِنْ يَوْمِهِ أَوْ لَيْلَتِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص یہ کہے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! تو میرا پروردگار ہے، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو نے مجھے پیدا کیا ہے، میں تیرا بندہ ہوں، میں اپنی استطاعت کے مطابق تیرے عہد اور تیرے وعدے پر قائم ہوں، میں نے جو کیا میں اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں، تو میری مغفرت کر دے، گناہوں کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) ”اگر وہ شخص اسی دن یا اسی رات میں فوت ہو جائے، تو جنت میں داخل ہو گا۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1035]

1036

Sahih Ibn Hibban #1036

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا لُدِغَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَا إِنَّكَلَوْ كُنْتَ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ، مَا ضَرَّكَ ". قَالَ : فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا لُدِغَ إِنْسَانٌ مِنَّا أَمَرَهُ أَنْ يَقُولَهَا . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا ضَرَّكَ " أَرَادَ بِهِ أَنَّكَ لَوْ قُلْتَ مَا قُلْنَا ، لَمْ يَضُرَّكَ أَلَمُ اللَّدْغِ ، لا أَنَّ الْكَلامَ الَّذِي قَالَ يَدْفَعُ قَضَاءَ اللَّهِ عَلَيْهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کو کسی زہریلی چیز نے کاٹ لیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم نے شام کے وقت یہ کلمات پڑھ لیے ہوتے: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» ”(اللہ نے) جو پیدا کیا ہے، میں اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں“، (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) تو اس چیز نے تمہیں نقصان نہیں پہنچانا تھا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ہم میں سے جب کسی شخص کو کوئی زہریلی چیز کاٹ لیتی تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اسے یہ کلمات پڑھنے کی ہدایت کرتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ”کوئی چیز تمہیں نقصان نہیں دے گی“ اس سے مراد یہ ہے کہ ہم نے جو پڑھا ہے، اگر تم وہ پڑھ لو گے تو ڈنگ مارنے کی تکلیف تمہیں نقصان نہیں دے گی۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دعا پڑھی تھی، وہ اس شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو پرے کر دے گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1036]

1037

Sahih Ibn Hibban #1037

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، أَنَّ أَبَا كَبْشَةَ السَّلُولِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ ثَوْبَانَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَدِّدُوا وَقَارِبُوا ، وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمُ الصَّلاةُ ، وَلا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلا مُؤْمِنٌ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذِهِ اللَّفْظَةُ مِمَّا ذَكَرْنَا فِي كُتُبِنَا ، أَنَّ الْعَرَبَ تُطْلِقُ الاسْمَ بِالْكُلِّيَّةِ عَلَى جُزْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ شَيْءٍ يُطْلَقُ اسْمُ ذَلِكَ الشَّيْءِ عَلَى جُزْءٍ مِنْ أَجْزَائِهِ . فَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلا مُؤْمِنٌ " أَطْلَقَ اسْمَ الإِيمَانِ عَلَى الْمُحَافِظِ عَلَى الْوُضُوءِ ، وَالْوُضُوءُ مِنْ أَجْزَاءِ الإِيمَانِ ، كَذَلِكَ اسْمُ الإِيمَانِ عَلَى الْمُفْرِدِ الْعَمَلَ بِهِ ، لأَنَّهُ جُزْءٌ مِنْ أَجْزَاءِ الإِيمَانِ عَلَى حَسَبِ مَا ذَكَرْنَاهُ . وَخَبَرُ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ ثَوْبَانَ خَبَرٌ مُنْقَطِعٌ ، فَلِذَلِكَ تَنَكَّبْنَاهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم سنت کی پیروی کرو اور میانہ روی اختیار کرو، اور یہ بات جان لو کہ تمہارے اعمال میں سب سے بہتر نماز ہے، اور وضو کی حفاظت صرف مومن کرتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ وہ الفاظ ہیں جن کا ہم اپنی کتابوں میں کئی بار ذکر کر چکے ہیں، عرب اپنے محاورے میں کسی چیز کے مختلف اجزا میں سے کسی ایک جز پر مکمل چیز کا نام استعمال کرتے ہیں، وہ اس چیز کے نام کو اس ایک جز کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”وضو کی حفاظت صرف مومن کرے گا۔“ یہاں لفظِ ایمان کا اطلاق وضو کی حفاظت کرنے والے پر کیا گیا ہے، حالانکہ وضو ایمان کے اجزا میں سے ایک جز ہے، اس طرح لفظِ ایمان کا اطلاق ایک ایسی مفرد چیز پر کیا گیا ہے جس پر عمل کیا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایمان کے اجزا میں سے ایک جز ہے، جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ سالم بن ابوالجعد نے سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے وہ منقطع ہے، اس لیے ہم نے اس سے پہلو تہی کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1037]

1038

Sahih Ibn Hibban #1038

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَلا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ ؟ إِسْبَاغُ الْوُضُوءُ عَلَى الْمَكَارِهِ ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلاةِ بَعْدَ الصَّلاةِ ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَعْنَاهُ الرِّبَاطُ مِنَ الذُّنُوبِ ، لأَنَّ الْوُضُوءَ يُكَفِّرُ الذُّنُوبَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کیا میں تمہیں اس چیز کے بارے میں نہ بتاؤں جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے اور اس کے ذریعے درجات کو بلند کر دیتا ہے؟ جب طبیعت آمادہ نہ ہو، تو اچھی طرح وضو کرنا، زیادہ قدموں کے ساتھ چل کر مسجد تک جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا؛ یہی تیاری ہے، یہی تیاری ہے، یہی تیاری ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس کا مطلب گناہوں سے (بچنے کے لیے) پہرہ ہے، کیونکہ وضو گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1038]

1039

Sahih Ibn Hibban #1039

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا هَوْبَرُ بْنُ مُعَاذٍ الْكَلْبِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ شُرَحْبِيلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا ، وَيُكَفَّرُ بِهِ الذُّنُوبَ ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكْرُوهَاتِ ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلاةِ بَعْدَ الصَّلاةِ ، فَذَلِكَ الرِّبَاطُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کیا میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے اور اس کے ذریعے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب طبیعت آمادہ نہ ہو، تو اچھی طرح وضو کرنا، زیادہ قدموں کے ساتھ (چل کر) مسجد کی طرف جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، یہی تیاری ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1039]

1040

Sahih Ibn Hibban #1040

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، بِمَنْبَجٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوِ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ، خَرَجَتْ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ ، وَمَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ ، أَوْ نَحْوَ هَذَا ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ ، أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ ، حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب مسلمان بندہ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) مومن بندہ وضو کرتے ہوئے اپنے چہرے کو دھوتا ہے، تو پانی کے ساتھ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) پانی کے آخری قطرے کے ساتھ، یا اس کی مانند کوئی اور الفاظ ہیں، اس کے چہرے سے ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جس کی طرف اس نے اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا تھا، جب وہ اپنے دونوں بازو دھوتا ہے تو اس سے ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جس کو اس نے اپنے ہاتھوں کے ذریعے پکڑا تھا، پانی کے ساتھ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) پانی کے آخری قطرے کے ساتھ، یہاں تک کہ وہ شخص گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1040]

1041

Sahih Ibn Hibban #1041

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حُمْرَانَ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ جَلَسَ عَلَى الْمَقَاعِدِ ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ فَآذَنَهُ بِصَلاةِ الْعَصْرِ ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ ، ثُمّ قَالَ : لأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا لَوْلا آيَةٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ لَمَّا حَدَّثْتُكُمُوهُ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَا مِنِ امْرِئٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ يُصَلِّي الصَّلاةَ ، إِلا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلاةِ الأُخْرَى حَتَّى يُصَلِّيَهَا ". قَالَ مَالِكٌ : أُرَاهُ يُرِيدُ هَذِهِ الآيَةَ أَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حمران بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ صحن میں بیٹھے تھے، مؤذن ان کے پاس اطلاع دینے کے لیے آیا۔ انہوں نے پانی منگوایا، وضو کیا، پھر یہ بات ارشاد فرمائی: میں تم لوگوں کو ایک حدیث بیان کرنے لگا ہوں، اگر اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ایک آیت موجود نہ ہوتی، تو میں وہ حدیث بیان نہ کرتا۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے سنا ہے: ”جو بھی شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر نماز ادا کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے اس نماز اور اس کے بعد والی نماز کے درمیانی گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے، جب تک وہ (اگلی) نماز ادا نہیں کرتا۔“ امام مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مراد یہ آیت تھی: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ۚ ذَٰلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّاكِرِينَ﴾ [سورة هود: 114] ”تم دن کے دونوں کناروں اور رات کے کچھ حصہ میں نماز قائم کرو۔ بے شک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں۔ یہ نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1041]

1042

Sahih Ibn Hibban #1042

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ ، أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةَ السَّلاسِلِ ، فَفَاتَهُمُ الْعَدُوُّ ، فَرَابَطُوا ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ أَبُو أَيُّوبَ ، وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ ، فَقَالَ عَاصِمٌ : يَا أَبَا أَيُّوبَ ، فَاتَنَا الْعَدُوُّ الْعَامَ ، وَقَدْ أُخْبِرْنَا أَنَّهُ مَنْ صَلَّى فِي الْمَسَاجِدِ الأَرْبَعَةِ غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ . قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ أَيْسَرُ مِنْ ذَلِكَ ؟ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ تَوَضَّأَ كَمَا أُمِرَ ، وَصَلَّى كَمَا أُمِرَ ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ "أَكَذَلِكَ يَا عُقْبَةُ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الْمَسَاجِدُ الأَرْبَعَةُ : مَسْجِدُ الْحَرَامِ ، وَمَسْجِدُ الْمَدِينَةِ ، وَمَسْجِدُ الأَقْصَى ، وَمَسْجِدُ قُبَاءٍ . وَغَزَاةُ السَّلاسِلِ كَانَتْ فِي أَيَّامِ مُعَاوِيَةَ ، وَغَزَاةُ السَّلاسِلِ كَانَتْ فِي أَيَّامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عاصم بن سفیان ثقفی بیان کرتے ہیں: لوگوں نے غزوہ سلاسل میں شرکت کی لیکن وہ دشمن پر قابو نہ پا سکے، وہ پہرے داری کرتے رہے، پھر جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آئے، تو اس وقت ان کے پاس سیدنا ابوایوب انصاری اور سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے۔ عاصم بن سفیان نے کہا: اے سیدنا ابوایوب! اس سال ہم دشمن پر قابو نہیں پا سکے۔ ہمیں یہ بات بتائی گئی ہے، جو شخص چار مساجد میں نماز ادا کر لیتا ہے اس کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے، تو انہوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! کیا میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں جو تمہارے لیے اس سے زیادہ آسان ہے؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اسی طرح وضو کرتا ہے، جس طرح اسے حکم دیا گیا ہے، اور اسی طرح نماز ادا کرتا ہے، جس طرح اسے حکم دیا گیا ہے، تو اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے۔“ (پھر انہوں نے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا) اے عقبہ! کیا اسی طرح ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) وہ چار مساجد یہ ہیں: مسجد حرام، مسجد مدینہ، مسجد اقصی اور مسجد قبا؛ جنگ سلاسل سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوئی تھی، اور غزوہ سلاسل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ہوا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1042]

1043

Sahih Ibn Hibban #1043

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ ، يُحَدِّثُ أَبَا بُرْدَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا ، فَالصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جامع بن شداد بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حمران کو ابو بردہ کو یہ بات بتاتے ہوئے سنا کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے: ”جو شخص اس طرح مکمل وضو کرے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے، تو پانچ نمازیں، اپنے درمیان میں (ہونے) والے گناہ کا کفارہ بن جاتی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1043]

1044

Sahih Ibn Hibban #1044

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، فَدَعَا بِطَهُورٍ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَا مِنِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُهُ الصَّلاةُ الْمَكْتُوبَةُ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهَا وَرُكُوعَهَا وَخُشُوعَهَا ، إِلا كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ ، مَا لَمْ يَأْتِ كَبِيرَةً ، وَذَلِكَ الدَّهْرَ كُلَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسحاق بن سعید اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، انہوں نے وضو کے لیے پانی منگوایا، پھر یہ بات بتائی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس بھی مسلمان کے سامنے فرض نماز کا وقت ہو جاتا ہے اور وہ اچھی طرح وضو کرے، اچھی طرح رکوع، اچھی طرح خشوع (کے ساتھ) نماز ادا کرے، تو یہ نماز اس کے پہلے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے، جب کہ اس نے گناہِ کبیرہ کا ارتکاب نہ کیا ہو اور یہ (فضیلت) ہمیشہ حاصل ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1044]

1045

Sahih Ibn Hibban #1045

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : تَبْلُغُ حِلْيَةُ أَهْلِ الْجَنَّةِ مَبْلَغَ الْوُضُوءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اہل جنت کے زیور وہاں تک جائیں گے جہاں تک وضو کیا جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1045]

1046

Sahih Ibn Hibban #1046

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَقْبَرَةَ ، فَقَالَ : السَّلامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاحِقُونَ ، وَدِدْتُ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ إِخْوَانَنَا " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَسْنَا إِخْوَانَكَ ؟ قَالَ : " بَلْ أَصْحَابِي ، وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ ، وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ يَأْتِي بَعْدَكَ مِنْ أُمَّتِكَ ؟ فَقَالَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَتْ لِرَجُلٍ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ فِي خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ ، أَلا يَعْرِفُ خَيْلَهُ ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، فَلَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي ، كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ ، أُنَادِيهِمْ : أَلا هَلُمَّ ، أَلا هَلُمَّ ، فَيُقَالُ : إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ ، فَأَقُولُ : فَسُحْقًا ، فَسُحْقًا ، فَسُحْقًا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الاسْتِثْنَاءُ يَسْتَحِيلُ فِي الشَّيْءِ الْمَاضِي ، وَإِنَّمَا يَجُوزُ الاسْتِثْنَاءُ فِي الْمُسْتَقْبَلِ مِنَ الأَشْيَاءِ . وَحَالُ الإِنْسَانِ فِي الاسْتِثْنَاءِ عَلَى ضَرْبَيْنِ ، إِذَا اسْتَثْنَى فِي إِيمَانِهِ : فَضَرْبٌ مِنْهُ يُطْلَقُ مُبَاحٌ لَهُ ذَلِكَ ، وَضَرْبٌ آخَرُ إِذَا اسْتَثْنَى فِيهِ الإِنْسَانُ ، كَفَرَ . وَأَمَّا الضَّرْبُ الَّذِي لا يَجُوزُ ذَلِكَ ، فَهُوَ أَنْ يُقَالَ لِلرَّجُلِ : أَنْتَ مُؤْمِنٌ بِاللَّهِ ، وَمَلائِكَتِهِ ، وَكُتُبِهِ ، وَرُسُلِهِ ، وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، وَالْبَعْثِ وَالْمِيزَانِ ، وَمَا يُشْبِهُ هَذِهِ الْحَالَةَ ؟ فَالْوَاجِبُ عَلَيْهِ أَنْ يَقُولَ : أَنَا مُؤْمِنٌ بِاللَّهِ حَقًّا ، وَمُؤْمِنٌ بِهَذِهِ الأَشْيَاءِ حَقًّا ، فَمَتَى مَا اسْتَثْنَى فِي هَذَا ، كَفَرَ . وَالضَّرْبُ الثَّانِي : إِذَا سُئِلَ الرَّجُلُ : إِنَّكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِي يُقِيمُونَ الصَّلاةَ ، وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ ، وَهُمْ فِيهَا خَاشِعُونَ ، وَعَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ ؟ فَيَقُولُ : أَرْجُو أَكُونَ مِنْهُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . أَوْ يُقَالُ لَهُ : أَنْتَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ فَيَسْتَثْنِي أَنْ يَكُونَ مِنْهُمْ . وَالْفَائِدَةُ فِي الْخَبَرِ حَيْثُ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاحِقُونَ " أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ بَقِيعَ الْغَرْقَدِ فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فِيهِمْ مُؤْمِنُونَ وَمُنَافِقُونَ ، فَقَالَ : " إِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاحِقُونَ " ، وَاسْتَثْنَى الْمُنَافِقِينَ أَنَّهُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ يُسْلِمُونَ ، فَيَلْحَقُونَ بِكُمْ ، عَلَى أَنَّ اللُّغَةَ تُسَوِّغُ إِبَاحَةَ الاسْتِثْنَاءِ فِي الشَّيْءِ الْمُسْتَقْبَلِ وَإِنْ لَمْ يَشُكَّ فِي كَوْنِهِ ، لِقَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان تشریف لے گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ» ”تم پر سلام ہو اے اہل ایمان کی بستی کے رہنے والو! بے شک ہم بھی، اگر اللہ نے چاہا، تو تم سے آ ملیں گے۔ میری یہ خواہش ہے کہ میں نے اپنے بھائیوں کو دیکھ لیا ہوتا۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میرے ساتھی ہو، ہمارے بھائی وہ لوگ ہوں گے جو بعد میں آئیں گے اور میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ اپنی امت کے بعد میں آنے والے لوگوں کو کیسے پہچانیں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے، اگر کسی شخص کا کوئی ایسا سیاہ گھوڑا ہو، جس کے ماتھے اور چاروں پاؤں کے پاس سفید نشان ہوں، تو کیا وہ مکمل سیاہ گھوڑوں کے درمیان اس کو پہچان نہیں لے گا؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ بھی جب قیامت کے دن آئیں گے تو وضو کی وجہ سے ان کی پیشانیاں چمک رہی ہوں گی اور میں حوض پر ان کا پیش رو ہوں گا، اور میرے حوض سے کچھ لوگوں کو پرے کر دیا جائے گا، جس طرح گم شدہ اونٹ کو پرے کیا جاتا ہے۔ میں انہیں پکار کر کہوں گا: آگے آؤ! آگے آؤ! تو یہ کہا جائے گا کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد تبدیلی کر لی تھی، تو میں کہوں گا: پرے ہو جاؤ، پرے ہو جاؤ، پرے ہو جاؤ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ماضی کی چیز میں استثنیٰ کرنا ناممکن ہے۔ استثنیٰ صرف ان چیزوں میں ہو سکتا ہے جو مستقبل سے تعلق رکھتی ہوں۔ استثنیٰ کے بارے میں انسان کی حالت دو طرح کی ہو سکتی ہے۔ اس وقت جب وہ اپنے ایمان میں استثنیٰ کرتا ہے، ان میں سے ایک قسم وہ ہے جس کو مطلق طور پر کرنا آدمی کے لیے مباح ہے۔ دوسری قسم وہ ہے کہ اس میں انسان استثنیٰ کرے تو وہ کافر ہو جاتا ہے۔ جہاں تک اس قسم کا تعلق ہے جو جائز نہیں ہے، وہ یہ ہے کہ آدمی سے کہا جائے کہ کیا تم اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، رسولوں، جنت، جہنم، دوبارہ زندہ ہونے، میزان اور ان جیسی دوسری چیزوں پر ایمان رکھتے ہو، تو آدمی پر لازم ہے کہ وہ یہ کہے: میں اللہ تعالیٰ کے برحق ہونے پر اور ان چیزوں کے برحق ہونے پر ایمان رکھتا ہوں۔ جب آدمی ان چیزوں کے بارے میں استثنیٰ کرے گا تو وہ کافر ہو جائے گا، اور دوسری قسم یہ ہے کہ جب آدمی سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا تم ان مومنوں میں سے ہو جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ ان میں خشوع کرتے ہیں اور وہ لغو چیزوں سے اعراض کرتے ہیں، تو وہ شخص پھر یہ کہے: میں امید کرتا ہوں کہ اگر اللہ نے چاہا تو میں ان میں سے ہوں گا۔ یا اس سے یہ کہا جائے کہ کیا تم جنتی ہو، تو وہ جنتی ہونے میں استثنیٰ کر لے۔ یہ فائدہ روایت سے اس طرح ثابت ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”بے شک اگر اللہ نے چاہا تو ہم تم سے آ ملیں گے۔“ یہ اس وقت ہوا تھا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ کے ہمراہ جنت البقیع میں تشریف لائے تھے، جس میں مومن اور منافق دونوں لوگ تھے؛ ”بے شک اگر اللہ نے چاہا تو ہم تم سے آ ملیں گے“ (یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے استثنیٰ کر لیا)، جبکہ منافقین کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ استثنیٰ کیا کہ اگر اللہ نے چاہا تو وہ مسلمان ہو کر تم لوگوں سے آ ملیں گے۔ اس کی بنیاد پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ لغت اس بات کو درست قرار دیتی ہے کہ مستقبل سے تعلق رکھنے والی کسی چیز کے بارے میں استثنیٰ کیا جا سکتا ہے، اگرچہ اس کے ہونے کے بارے میں شک نہ ہو۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ﴾ [سورة الفتح: 27] ”اگر اللہ نے چاہا تو تم لوگ ضرور بہ ضرور امن کی حالت میں مسجد حرام میں داخل ہو گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1046]

1047

Sahih Ibn Hibban #1047

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُمْ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ تَرَ مِنْ أُمَّتِكَ ؟ قَالَ : غُرٌّ مُحَجَّلُونَ بُلْقٌ مِنْ آثَارِ الطُّهُورِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے اپنی اُمت کے جن افراد کو دیکھا نہیں، آپ انہیں کیسے پہچانیں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ وضو کے آثار کی وجہ سے چمک دار پیشانیوں والے ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1047]

1048

Sahih Ibn Hibban #1048

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَرِدُونَ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ سِيمَا أُمَّتِي لَيْسَ لأَحَدٍ غَيْرِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم لوگ وضو کی وجہ سے چمک دار پیشانیاں لے کر آؤ گے، یہ میری امت کا مخصوص علامتی نشان ہے، یہ ان کے علاوہ کسی اور کا نہیں ہوگا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1048]

1049

Sahih Ibn Hibban #1049

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ رَأَى أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ حَتَّى كَادَ يَبْلُغَ الْمَنْكِبَيْنِ ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى رَفَعَ إِلَى السَّاقَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرٌّ مُحَجَّلُونَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ ". فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نعیم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے وضو کے دوران چہرہ دھویا اور بازوؤں کو کندھوں تک دھویا، پھر دونوں پاؤں دھوئے اور انہیں پنڈلیوں تک دھویا، پھر یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک قیامت کے دن میری امت کے افراد وضو کے نشان کی وجہ سے چمک دار پیشانیوں والے ہوں گے، تم میں سے جو شخص اپنی چمک میں جتنا اضافہ کر سکتا ہو اسے کرنا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1049]