Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 10 · Chapter 2

The Book of Prayer

Hadith 1050–1089

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1050

Sahih Ibn Hibban #1050

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، بِعَسْقَلانَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُدَّامَ أَنْفُسِنَا نَتَنَاوَبُ الرِّعْيَةَ رِعْيَةَ إِبِلِنَا فَكُنْتُ عَلَى رِعْيَةِ الإِبِلِ ، فَرُحْتُهَا بِعَشِيٍّ ، فَأَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ ، يُقْبِلُ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ ، فَقَدْ أَوْجَبَ " . قَالَ : فَقُلْتُ : مَا أَجْوَدَ هَذِهِ ! ! ، فَقَالَ رَجُلٌ : الَّذِي قَبْلَهَا أَجْوَدُ . فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قُلْتُ : مَا هُوَ يَا أَبَا حَفْصٍ ؟ قَالَ : إِنَّهُ قَالَ آنِفًا ، قَبْلَ أَنْ تَجِيءَ : " مَا مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ يَقُولُ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ وَضُوئِهِ : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، إِلا فُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ لَهُ ، يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ "، قَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ : وَحَدَّثَنِيهِ رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَبُو عُثْمَانَ هَذَا يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ حَرِيزَ بْنَ عُثْمَانَ الرَّحَبِيَّ ، وَإِنَّمَا اعْتِمَادُنَا عَلَى هَذَا الإِسْنَادِ الأَخِيرِ ، لأَنَّ حَرِيزَ بْنَ عُثْمَانَ لَيْسَ بِشَيْءٍ فِي الْحَدِيثِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم اپنے خادم خود ہی تھے، اپنے اونٹوں کی دیکھ بھال خود کیا کرتے تھے، میں بھی کچھ اونٹوں کو چرا رہا تھا، میں شام کے وقت انہیں واپس لایا، مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”جو بھی شخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر اٹھ کر دو رکعات نماز ادا کرتا ہے، جس کے دوران وہ اپنے دماغ اور چہرے کے ساتھ متوجہ رہتا ہے، تو وہ شخص (اپنے لیے جنت کو) واجب کر لیتا ہے۔“ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے کہا: یہ کتنی عمدہ بات ہے، تو ایک صاحب نے کہا: جو بات اس سے پہلے تھی وہ زیادہ عمدہ تھی، میں نے دیکھا تو وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے، میں نے دریافت کیا: اے ابوحفص! وہ کیا بات تھی؟ تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے آنے سے پہلے یہ بات ارشاد فرمائی تھی: ”جو شخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرتا ہے، اور وضو سے فارغ ہونے کے بعد یہ پڑھتا ہے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں، وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں“، تو اس شخص کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، وہ ان میں سے جس میں سے چاہے اندر داخل ہو جائے۔“ معاویہ بن صالح کہتے ہیں: ربیعہ بن یزید نے ابوادریس کے حوالے سے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث مجھے سنائی ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) (ابوعثمان نامی راوی کے بارے میں امکان موجود ہے، یہ حریز بن عثمان رحبی ہو، ہمارا اعتماد اس دوسری سند پر ہے، حریز بن عثمان نامی راوی علم حدیث میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔) [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1050]

1051

Sahih Ibn Hibban #1051

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ ، بِعُكْبَرَا ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ أَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ بَاتَ طَاهِرًا بَاتَ فِي شِعَارِهِ مَلَكٌ ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ إِلا قَالَ الْمَلَكُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِكَ فُلانٍ ، فَإِنَّهُ بَاتَ طَاهِرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص باوضو حالت میں رات بسر کرتا ہے تو اس کے لحاف کے اندر فرشتہ بھی رات بسر کرتا ہے، وہ شخص جب بیدار ہوتا ہے تو فرشتہ یہ کہتا ہے: اے اللہ! فلاں بندے کی مغفرت کر دے، کیونکہ اس نے باوضو حالت میں رات بسر کی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1051]

1052

Sahih Ibn Hibban #1052

وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِي يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ يُعَالِجُ نَفْسَهُ إِلَى الطَّهُورِ ، وَعَلَيْكُمْ عُقَدٌ ، فَإِذَا وَضَّأَ يَدَيْهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ، فَإِذَا وَضَّأَ وَجْهَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ، وَإِذَا مَسَحَ رَأْسَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ، وَإِذَا وَضَّأَ رِجْلَيْهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ، فَيَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِلَّذِي وَرَاءَ الْحِجَابِ : انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُعَالِجُ نَفْسَهُ لَيَسْأَلَنِي ، مَا سَأَلَنِي عَبْدِي هَذَا ، فَهُوَ لَهُ ، مَا سَأَلَنِي عَبْدِي هَذَا ، فَهُوَ لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے آج کوئی ایسی بات بیان نہیں کر رہا جو آپ نے ارشاد نہ فرمائی ہو، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی بات منسوب کرتا ہے وہ جہنم میں اپنے گھر پہنچنے کے لیے تیار رہے۔“ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بھی بتائی، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میری اُمت کا ایک شخص رات کے وقت کھڑا ہو کر وضو کرنے کے لیے جاتا ہے، تم لوگوں پر گرہیں لگی ہوئی ہوتی ہیں، جب وہ شخص اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، تو اللہ تعالیٰ حجاب کے دوسری طرف (موجود) فرماتا ہے: میرے اس بندے کا جائزہ لو! جو مجھ سے مانگنے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر رہا ہے، میرا یہ بندہ مجھ سے جو بھی مانگے وہ اسے مل جائے گا، میرا یہ بندہ مجھ سے جو بھی مانگے گا وہ اسے مل جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1052]

1053

Sahih Ibn Hibban #1053

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : صَفْقَتَانِ فِي صَفْقَةٍ رِبًا وَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ”ایک سودے میں دو سودے کرنا سود ہے“، اور ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اچھی طرح وضو کرنے کا حکم دیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1053]

1054

Sahih Ibn Hibban #1054

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ وَافِدَ بَنِي الْمُنْتَفِقِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ نُصَادِفْهُ فِي مَنْزِلِهِ ، وَصَادَفْنَا عَائِشَةَ ، فَأَمَرَتْ لَنَا بِخَزِيرَةٍ فَصُنِعَتْ ، وَأَتَتْنَا بِقِنَاعٍ وَالْقِنَاعُ الطَّبَقُ فِيهِ التَّمْرُ فَأَكَلْنَا ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : هَلْ أَصَبْتُمْ شَيْئًا ؟ أَوْ آمُرُ لَكُمْ بِشَيْءٍ ؟ " قُلْنَا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَبَيْنَمَا نَحْنُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ ، إِذْ رَفَعَ الرَّاعِي غَنَمَهُ إِلَى الْمُرَاحِ وَمَعَهُ سَخْلَةٌ تَيْعَرُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا وَلَّدْتَ ؟ " قَالَ : بَهْمَةٌ ، قَالَ : " اذْبَحْ مَكَانَهَا شَاةً " ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ ، فَقَالَ : " لا تَحْسِبَنَّ وَلَمْ يَقُلْ : لا تَحْسَبَنَّ أَنَّا مِنْ أَجَلِكَ ذَبَحْنَاهَا ، إِنَّ لَنَا غَنَمًا مِائَةً لا تَزِيدُ ، فَمَا وَلَدَتْ بَهْمَةً ذَبَحْنَا مَكَانَهَا شَاةً " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِيَ امْرَأَةً فِي لِسَانِهَا شَيْءٌ . قَالَ : " فَطَلِّقْهَا إِذَا " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي مِنْهَا وَلَدًا ، وَلَهَا صُحْبَةً ، قَالَ : " عِظْهَا ، فَإِنْ يَكُ فِيهَا خَيْرٌ ، فَسَتَقْبَلُ ، وَلا تَضْرِبْ ظَعِينَتَكَ ضَرْبَكَ أَمَتَكَ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ ، قَالَ :" أَسْبِغِ الْوُضُوءَ ، وَخَلِّلْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ ، وَبَالِغْ فِي الاسْتِنْشَاقِ إِلا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عاصم بن لقیط بن سبرہ اپنے والد سے یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں بنو مثفق کے وفد میں شامل ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے لیکن آپ ہمیں اپنے گھر میں نہیں ملے۔ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے تھے۔ انہوں نے ہمارے لیے خزیرہ تیار کرنے کا حکم دیا تھا۔ وہ تیار ہو گیا، وہ ہمارے پاس ایک تھال میں کھجوریں لے کر آئیں۔ ہم انہیں کھا رہے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم نے کوئی چیز کھائی ہے یا میں تمہارے لیے کسی چیز کا حکم دوں؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی دوران ایک چرواہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بکریاں لے کر ان کے باڑے کی طرف جا رہا تھا۔ اس کے ساتھ ایک بکری تھی جو آواز نکال رہی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا اس نے بچے کو جنم دے دیا ہے؟“ اس نے جواب دیا: جی ہاں، بچہ پیدا ہوا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بچے کی جگہ ایک بکری کو ذبح کر دو۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ یہ نہ سمجھنا کہ ہم تمہاری وجہ سے اسے ذبح کر رہے ہیں، ہمارے پاس ایک سو بکریاں ہیں، اس سے زیادہ نہیں ہوتیں، جب بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اس بچے کی جگہ ایک بکری ذبح کر لیتے ہیں۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میری ایک بیوی ہے جس کی زبان میں کچھ تیزی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اسے طلاق دے دو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرا اس سے بچہ بھی ہے اور بڑا پرانا ساتھ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے نصیحت کرو، اگر اس میں بھلائی ہوگی تو وہ اسے قبول کر لے گی، تاہم تم اپنی بیوی کو اس طرح نہ مارو جس طرح کنیز کو مارا جاتا ہے۔“ راوی کہتے ہیں، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے وضو کے بارے میں بتائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اچھی طرح وضو کرو، انگلیوں کے درمیان خلال کرو اور ناک میں اچھی طرح پانی ڈالو، البتہ اگر تم روزے کی حالت میں (ہو، تو اس کا حکم مختلف) ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1054]

1055

Sahih Ibn Hibban #1055

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : رَجَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ ، تَعَجَّلَ قَوْمٌ عِنْدَ الْعَصْرِ ، فَتَوَضَّؤُوا وَهُمْ عِجَالٌ ، قَالَ : فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ ، وَأَعْقَابُهُمْ تَلُوحُ ، لَمْ يَمَسَّهَا الْمَاءُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ، أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ سے مدینہ منورہ کی طرف واپس آ رہے تھے۔ راستے میں کسی جگہ کچھ لوگ عصر کی نماز کے وقت تیزی سے آگے بڑھے، انہوں نے جلد بازی میں وضو شروع کیا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب ہم ان لوگوں کے پاس پہنچے تو ان کی (ایڑیاں) خشک چمک رہی تھیں، وہاں پانی نہیں لگا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ» ”ان ایڑیوں کے لیے جہنم کی بربادی ہے، تم لوگ اچھی طرح وضو کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1055]

1056

Sahih Ibn Hibban #1056

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ : صَلَّى عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ الْفَجْرَ ، ثُمَّ دَخَلَ الرَّحَبَةَ ، فَدَخَلْنَا مَعَهُ ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ ، فَأَتَاهُ الْغُلامُ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَطَسْتٍ ،فَأَخَذَ الإِنَاءَ بِيَمِينِهِ ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَسَارِهِ ، فَغَسَلَهَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، غَسَلَ كَفَّيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا الإِنَاءَ ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الإِنَاءِ ، فَغَرَفَ مِنْهُ مَاءً ، فَمَلأَ فَاهُ ، فَمَضْمَضَ ، وَاسْتَنْشَقَ ثَلاثًا ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا ، وَذِرَاعَيْهِ ثَلاثًا ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا مُقَدَّمَهُ وَمُؤَخَّرَهُ ، ثُمَّ أَدْخَلَ الْيُمْنَى ، فَأَفْرَغَ عَلَى قَدَمِهِ الْيُمْنَى فَغَسَلَهَا ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ ، ثُمَّ أَخْرَجَهَا ، فَغَسَلَ الأُخْرَى ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَهَذَا وُضُوؤُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبد خیر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے فجر کی نماز پڑھائی، پھر صحن میں تشریف لائے، ہم بھی ان کے ساتھ آ گئے۔ انہوں نے وضو کا پانی منگوایا۔ ایک لڑکا ان کے پاس ایک برتن لے کر آیا جس میں پانی موجود تھا اور ایک طشت لے کر آیا۔ انہوں نے برتن کو دائیں ہاتھ میں پکڑا اور اپنے بائیں ہاتھ پر پانی انڈیلا اور اسے تین مرتبہ دھو لیا، پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ برتن میں داخل کرنے سے پہلے دھو لیے، پھر انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا، پھر اس میں سے چلو لے کر اپنے منہ میں بھرا اور کلی کی اور ناک صاف کی۔ ایسا انہوں نے تین مرتبہ کیا، پھر انہوں نے اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا، پھر چہرے کو تین مرتبہ دھو لیا، دونوں بازوؤں کو تین مرتبہ دھویا، پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کے ذریعے سر کا اور پیچھے والے حصے کا مسح کیا، پھر انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اپنے دائیں پاؤں پر انڈیلا اور اسے دھو لیا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اسے باہر نکالا، پھر دوسرے پاؤں کو دھویا، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی کہ جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہو (یعنی وہ یہ چاہتا ہو) کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کو دیکھے، تو یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1056]

1057

Sahih Ibn Hibban #1057

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ الظُّهْرَ ، ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسٍ لَهُ كَانَ يَجْلِسُهُ فِي الرَّحَبَةِ ، فَقَعَدَ وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ ، فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ ،فَأَخَذَ مِنْهُ كَفًّا ، فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ، وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، وَمَسَحَ رِجْلَيْهِ ، ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَ إِنَائِهِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنِّي حُدِّثْتُ أَنَّ رِجَالا يَكْرَهُونَ أَنْ يَشْرَبَ أَحَدُهُمْ وَهُوَ قَائِمٌ ، وَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَمَا فَعَلْتُ ، وَهَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نزال بن سبرہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں ظہر کی نماز ادا کی، پھر وہ اس بیٹھک کی طرف تشریف لے گئے جہاں وہ کھلے میدان میں بیٹھتے تھے، وہ تشریف فرما ہوئے اور ان کے ارد گرد ہم بھی بیٹھ گئے، پھر عصر کی نماز کا وقت ہوا تو ایک برتن لایا گیا جس میں پانی موجود تھا۔ انہوں نے اس میں سے ایک چلو لیا، اس کے ذریعے کلی کی، ناک صاف کی، اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں کا مسح کیا، اپنے سر کا مسح کیا، دونوں پاؤں کا مسح کیا، پھر وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اس برتن میں بچے ہوئے پانی کو پی لیا، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی: ”مجھے یہ بات بیان کی گئی ہے لوگ اس بات کو ناپسند کرتے ہیں، وہ کھڑے ہو کر پانی پئیں۔ حالانکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے، جس طرح میں نے کیا ہے یہ اس شخص کا وضو ہے، جو پہلے سے باوضو ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1057]

1058

Sahih Ibn Hibban #1058

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ دَعَا بِوَضُوءٍفَتَوَضَّأَ وَغَسَلَ كَفَّهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ لا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حمران بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا، انہوں نے اپنے ہاتھ تین مرتبہ دھوئے، پھر کلی کی، پھر ناک میں پانی ڈالا، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر دائیں بازو کو کہنی تک تین مرتبہ دھویا، پھر بائیں بازو کو اسی طرح دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر دائیں پاؤں کو ٹخنوں تک دھویا، پھر بائیں پاؤں کو اسی طرح دھویا، پھر یہ بات بیان کی: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اس وضو کی طرح وضو کرتے دیکھا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص میرے اس وضو کی طرح وضو کرے اور پھر اٹھ کر دو رکعات ادا کرے، اس دوران وہ اپنے خیالوں میں گم نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1058]

1059

Sahih Ibn Hibban #1059

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : تَوَضَّأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عِنْدَ عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، أَسْبِغِ الْوُضُوءَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : وَيْلٌ لِلْعَرَاقِيبِ مِنَ النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسلمہ بیان کرتے ہیں، سیدنا عبدالرحمن (بن ابوبکر) رضی اللہ عنہما نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں وضو کیا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے عبدالرحمن! اچھی طرح وضو کرو، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”(بعض) ایڑیوں کے لیے جہنم کی بربادی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1059]

1060

Sahih Ibn Hibban #1060

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ ، بِحِمْصَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ ، مَوْلَى عُثْمَانَ ، أَنَّهُ رَأَى عُثْمَانَدَعَا بِوَضُوءٍ ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ مِنْ إِنَائِهِ ، فَغَسَلَهُمَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الْوُضُوءِ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ، وَاسْتَنْثَرَ ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا ، وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ، ثُمَّ غَسَلَ كُلَّ رِجْلٍ مِنْ رِجْلَيْهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حمران بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کے لیے پانی منگوایا۔ انہوں نے برتن میں سے دونوں ہاتھوں پر پانی انڈیل کر انہیں تین مرتبہ دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ وضو کے پانی میں داخل کر کے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر ناک صاف کیا، پھر انہوں نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور دونوں بازوؤں کو کہنیوں تک تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر ہر پاؤں کو تین مرتبہ دھویا، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اس وضو کی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص میرے اس وضو کی طرح وضو کرے، پھر اٹھ کر دو رکعات نماز ادا کرے اور ان کے دوران وہ اپنے خیالوں میں گم نہ ہو، تو اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1060]

1061

Sahih Ibn Hibban #1061

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ ، فَلا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لا يَدْرِي أَيْنَ كَانَتْ تَطُوفُ يَدُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو وہ اس وقت تک پانی میں ہاتھ نہ ڈالے، جب تک انہیں تین دفعہ دھو نہ لے، کیونکہ کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات بھر کہاں رہا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1061]

1062

Sahih Ibn Hibban #1062

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ ، فَلا يَغْمِسَنَّ يَدَهُ فِي إِنَائِهِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلاثًا ، فَإِنَّهُ لا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُه """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو وہ اس وقت پانی میں ہاتھ نہ ڈالے جب تک انہیں دھو نہ لے، کیونکہ وہ اس بات کو نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات بھر کہاں رہا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1062]

1063

Sahih Ibn Hibban #1063

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ ، فَلْيَغْسِلْ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا فِي وَضُوئِهِ ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو، تو وہ اپنے دونوں ہاتھ وضو کرنے سے پہلے دھو لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا اس کا ہاتھ رات کے وقت کہاں رہا؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1063]

1064

Sahih Ibn Hibban #1064

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ ، فَلا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو، تو وہ اپنا ہاتھ برتن میں اس وقت تک نہ ڈبوئے جب تک اسے تین مرتبہ دھو نہ لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1064]

1065

Sahih Ibn Hibban #1065

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبُسْرِيُّ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ ، فَلا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلاثًا ، فَإِنَّهُ لا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ مِنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو، تو وہ اپنا ہاتھ برتن میں اس وقت تک نہ ڈبوئے جب تک اسے تین مرتبہ دھو نہ لے، وہ یہ بات نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ اس کے جسم پر (رات کے وقت کہاں لگا تھا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1065]

1066

Sahih Ibn Hibban #1066

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ الآدَمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَكْثَرْتُ عَلَيْكُمْ فِي السِّوَاكِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہیں مسواک کرنے کی بکثرت تاکید کرتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1066]

1067

Sahih Ibn Hibban #1067

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، سَمِعْتُ أَبِي ، سَمِعْتُ عَائِشَةَ تُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَبُو عَتِيقٍ هَذَا اسْمُهُ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ ، لَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُؤْيَةٌ ، وَهَؤُلاءِ أَرْبَعَةٌ فِي نَسَقٍ وَاحِدٍ ، لَهُمْ كُلُّهُمْ رُؤْيَةٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبُو قُحَافَةَ ، وَابْنُهُ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ، وَابْنُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَابْنُهُ أَبُو عَتِيقٍ ، وَلَيْسَ هَذَا لأَحَدٍ فِي هَذِهِ الأُمَّةِ غَيْرِهِمْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: «السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ» ”مسواک منہ کو صاف کرتی ہے اور پروردگار کی رضا مندی کا باعث ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوعتیق نامی راوی کا نام محمد بن عبدالرحمن بن ابوبکر بن ابوقحافہ ہے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہوئی ہے، یہ چار افراد ایک نسل سے تعلق رکھتے ہیں (یعنی آپس میں باپ بیٹا اور دادا پوتا ہیں)، ان سب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہوئی ہے۔ سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ، ان کے صاحبزادے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، ان کے صاحبزادے سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما اور ان کے صاحبزادے ابوعتیق (یعنی محمد بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہما)، اس اُمت میں ان حضرات کے علاوہ کسی کو یہ خصوصیت حاصل نہیں ہے (یعنی یہ کہ ان کی چار پشتیں صحابی ہوں)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1067]

1068

Sahih Ibn Hibban #1068

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلاةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1068]

1069

Sahih Ibn Hibban #1069

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ مَعَ الْوُضُوءِ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلاةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”اگر مجھے اپنی اُمت کے مشقت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو میں انہیں ہر نماز کے وقت وضو کے ہمراہ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1069]

1070

Sahih Ibn Hibban #1070

أَخْبَرَنَا ابْنُ زُهَيْرٍ ، بِتُسْتَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَبِيرِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَيْكُمْ بِالسِّوَاكِ ، فَإِنَّهُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم پر مسواک کرنا لازم ہے، کیونکہ یہ منہ کو صاف کرتی ہے اور پروردگار کی رضا مندی کا باعث ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1070]

1071

Sahih Ibn Hibban #1071

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَعِيَ رَجُلانِ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ ، أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِي ، وَالآخَرُ عَنْ يَسَارِي ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ ، فَكِلاهُمَا سَأَلا الْعَمَلَ ، قُلْتُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَطْلَعَانِي عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمَا ، وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى سِوَاكِهِ تَحْتَ شَفَتِهِ قَلَصَتْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّا لا أَوْ لَنْ نَسْتَعِينَ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ ، لَكِنِ اذْهَبْ أَنْتَ " فَبَعَثَهُ عَلَى الْيَمَنِ، ثُمَّ أَرْدَفَهُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میرے ساتھ اشعر قبیلے سے تعلق رکھنے والے دو افراد بھی تھے۔ ان میں سے ایک میرے دائیں طرف تھا اور دوسرا میرے بائیں طرف تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسواک کر رہے تھے۔ ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی سرکاری ذمہ داری کی درخواست کی۔ میں نے عرض کی: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، انہوں نے مجھے نہیں بتایا تھا کہ ان کے ذہن میں کیا ہے اور مجھے بھی یہ اندازہ نہیں ہوا کہ یہ کسی سرکاری ذمہ داری کا مطالبہ کریں گے۔ (سیدنا ابوموسیٰ بیان کرتے ہیں) گویا کہ میں اس وقت بھی یہ منظر دیکھ رہا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہونٹ کے نیچے مسواک تھی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم چبا رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہم اپنے (ریاستی) کاموں میں ایسے شخص کو مامور نہیں کریں گے جو اس (عہدے) کا طالب گار ہو، البتہ تم چلے جاؤ۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو یمن بھیج دیا اور پھر ان کے پیچھے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو بھجوایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1071]

1072

Sahih Ibn Hibban #1072

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَحُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے (وقت نوافل ادا کرنے) کے لیے بیدار ہوتے تو آپ اپنے منہ کو مسواک کے ذریعے صاف کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1072]

1073

Sahih Ibn Hibban #1073

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ غَيْلانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَوَهُوَ يَسْتَنُّ ، وَطَرَفُ السِّوَاكِ عَلَى لِسَانِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : عَأْ عَأْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ اس وقت مسواک کر رہے تھے، مسواک کا کنارہ آپ کی زبان پر تھا اور آپ «أُعْ أُعْ» ”عاعا“ کی آواز نکال رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1073]

1074

Sahih Ibn Hibban #1074

أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرْكِينَ ، بِدِمَشْقَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ يَبْدَأُ بِالسِّوَاكِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر تشریف لاتے تو سب سے پہلے مسواک کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1074]

1075

Sahih Ibn Hibban #1075

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَحُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت بیدار ہوتے تھے، تو آپ اپنے منہ کو مسواک کے ذریعے صاف کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1075]

1076

Sahih Ibn Hibban #1076

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً ، وَجَمَعَ بَيْنَ الْمَضْمَضَةِ وَالاسْتِنْشَاق"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کلی اور ناک میں پانی ڈالنے کو جمع کر لیا (یعنی ایک ہی چلو کے ساتھ یہ دونوں کام کیے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1076]

1077

Sahih Ibn Hibban #1077

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : شَهِدْتُ عَمْرَو بْنَ أَبِي حَسَنٍ ، سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ عَنْوُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَعَا بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ ، فَأَكْفَأَ عَلَى يَدِهِ ، فَغَسَلَ يَدَهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، مِنْ ثَلاثِ حَفَنَاتٍ ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ فَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن یحییٰ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں اس وقت عمرو بن ابوحسن کے پاس موجود تھا، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے وضو کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے وضو کے پانی کا برتن منگوایا اور اسے اپنے ہاتھوں پر انڈیلا، انہوں نے اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کر کے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، انہوں نے ایسا تین مرتبہ کیا اور تین مرتبہ چلو میں پانی لے کر کیا، پھر انہوں نے اپنا ہاتھ برتن میں داخل کر کے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کر کے اپنے دونوں بازوؤں کو کہنیوں تک دو مرتبہ دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کر کے اپنے سر کا مسح کیا، وہ (ہاتھوں کو) آگے سے پیچھے لے کر گئے پھر پیچھے سے آگے کی طرف لے کر آئے، پھر انہوں نے اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھو لیے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1077]

1078

Sahih Ibn Hibban #1078

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَوَضَّأَ ، فَغَرَفَ غَرْفَةً فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ وَجْهَهُ ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَبَاطِنِ أُذُنَيْهِ وَظَاهِرِهِمَا ، وَأَدْخَلَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے ایک چلو میں پانی لیا اور کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر آپ نے ایک چلو لیا اور اپنے چہرے کو دھویا، پھر آپ نے ایک چلو لیا اور اپنے دائیں بازو کو دھویا، پھر آپ نے ایک چلو لیا اور بائیں بازو کو دھویا، پھر آپ نے چلو میں پانی لیا اور اپنے سر کا اور اپنے کان کے اندرونی اور بیرونی حصے کا مسح کیا، پھر آپ نے اپنی انگلیاں کانوں میں داخل کیں، پھر آپ نے چلو میں پانی لیا اور اپنے دائیں پاؤں کو دھویا، پھر چلو میں پانی لیا اور بائیں پاؤں کو دھویا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1078]

1079

Sahih Ibn Hibban #1079

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ خَيْرٍ ، قَالَ : دَخَلَ عَلِيٌّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ الرَّحَبَةَ بَعْدَمَا صَلَّى الْفَجْرَ ، فَجَلَسَ فِي الرَّحَبَةِ ، ثُمَّ قَالَ لِغُلامٍ : ائْتِنِي بِطَهُورٍ ، فَأَتَاهُ الْغُلامُ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَطَسْتٍ . قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ : وَنَحْنُ جُلُوسٌ نَنْظُرُ إِلَيْهِ . قَالَ :فَأَخَذَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى الإِنَاءَ ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ، ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى الإِنَاءَ ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى كُلُّ ذَلِكَ لا يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ حَتَّى غَسَلَهُمَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ، قَالَ : فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَنَثَرَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى فَعَلَ هَذَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْمِرْفَقِ ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الإِنَاءِ حَتَّى غَمَرَهَا ، ثُمَّ رَفَعَهَا بِمَا حَمَلَتْ مِنْ مَاءٍ ، ثُمَّ مَسَحَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا مَرَّةً وَاحِدَةً ، ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ عَلَى قَدَمِهِ الْيُمْنَى ، ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ، ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى قَدَمِهِ الْيُسْرَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ ، فَغَرَفَ بِكَفِّهِ ، فَشَرِبَ مِنْهُ ، ثُمَّ قَالَ : هَذَا طَهُورُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طَهُورِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَهَذَا طَهُورُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدخیر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد میدان میں تشریف لائے، آپ وہاں تشریف فرما ہوئے پھر آپ نے لڑکے سے کہا: میرے پاس وضو کا پانی لے کر آؤ، وہ لڑکا آپ کے پاس پانی کا برتن اور طشت لے کر آیا۔ عبدخیر بیان کرتے ہیں: ہم لوگ بیٹھے ہوئے آپ کی طرف دیکھ رہے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دائیں ہاتھ کے ذریعے برتن پکڑا اور اس کے ذریعے اپنے بائیں ہاتھ پر پانی انڈیلا پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، ہر مرتبہ میں انہوں نے برتن میں ہاتھ داخل نہیں کیا، یہاں تک کہ انہوں نے دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھو لیے پھر انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا، راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے کلی کی، ناک میں پانی ڈالا اور دائیں ہاتھ کے ذریعے ناک صاف کیا۔ انہوں نے یہ عمل تین مرتبہ کیا پھر انہوں نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا پھر دائیں بازو کو کہنی تک تین مرتبہ دھویا پھر بائیں بازو کو کہنی تک تین مرتبہ دھویا پھر انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا یہاں تک کہ اسے ڈبو دیا، یہاں تک کہ انہوں نے اس میں موجود پانی سمیت نکالا اور اپنے بائیں ہاتھ پر مسح کیا۔ انہوں نے اپنے سر کا مسح دونوں ہاتھوں سے ایک مرتبہ کیا پھر انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ کے ذریعے دائیں پاؤں پر پانی ڈالا پھر اسے بائیں ہاتھ کے ذریعے تین مرتبہ دھویا پھر انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے بائیں پاؤں پر تین مرتبہ پانی ڈالا اور اسے اپنے بائیں ہاتھ سے دھویا پھر انہوں نے اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا۔ اس میں سے ایک چلو لیا اور اسے پی لیا پھر یہ بات بیان کی: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ ہے، جو شخص اللہ کے نبی کے وضو کے طریقے کو دیکھنا چاہتا ہو، تو یہ آپ کے وضو کا طریقہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1079]

1080

Sahih Ibn Hibban #1080

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : دَخَلَ عَلِيٌّ بَيْتِي وَقَدْ بَالَ ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ ، فَجِئْنَاهُ بِقَعْبٍ يَأْخُذُ الْمُدَّ حَتَّى وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : أَلا أَتَوَضَّأُ لَكَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ " فَقُلْتُ : فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي . قَالَ : " فَغَسَلَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَمِينِهِ الْمَاءَ فَصَكَّ بِهِ وَجْهَهُ حَتَّى فَرَغَ مِنْ وَضُوئِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبیداللہ خولانی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ میرے ہاں تشریف لائے، وہ پیشاب کر چکے تھے۔ انہوں نے وضو کے لیے پانی منگوایا، ہم ایک بڑے برتن میں آپ کے پاس پانی لے کر آئے جس میں ایک مد پانی آ جاتا ہے۔ اسے آپ کے سامنے رکھا گیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”کیا میں تمہارے سامنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کی طرح وضو کر کے نہ دکھاؤں؟“ میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں (ضرور ایسا کریں)۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دونوں ہاتھ دھوئے، انہوں نے کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، ناک کو صاف کیا، پھر انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ میں پانی لے کر اسے اپنے چہرے پر چھپکا مار کر (دھویا) یہاں تک کہ انہوں نے پورا وضو کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1080]

1081

Sahih Ibn Hibban #1081

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ عُثْمَانَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِتَوَضَّأَ فَخَلَّلَ لِحْيَتَهُ ثَلاثًا ، وَقَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابووائل بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے اپنی داڑھی کا تین مرتبہ خلال کیا، پھر یہ بات بیان کی: ”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1081]

1082

Sahih Ibn Hibban #1082

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ ، فَجَعَلَ يَدْلُكُ ذِرَاعَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عباد بن تمیم اپنے چچا (رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں بازو مل رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1082]

1083

Sahih Ibn Hibban #1083

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِثُلُثَيْ مُدٍّ مَاءً ،فَتَوَضَّأَ فَجَعَلَ يَدْلُكُ ذِرَاعَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عباد بن تمیم اپنے چچا سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو تہائی مد پانی لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے دونوں بازوؤں کو ملا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1083]

1084

Sahih Ibn Hibban #1084

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى : هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ : نَعَمْ ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ ،فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى ثَلاثًا ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ بِيَدَيْهِ ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ ، بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ، ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ وَقَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن یحییٰ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے (جو عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں) یہ کہا: کیا آپ یہ کر کے دکھا سکتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کیا کرتے تھے؟ تو سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں، پھر انہوں نے وضو کا پانی منگوایا اور اپنے دائیں ہاتھ پر تین مرتبہ پانی انڈیلا، پھر انہوں نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر دونوں ہاتھ دو دو مرتبہ کہنیوں تک دھوئے، پھر اپنے سر کا دونوں ہاتھوں کے ذریعے مسح کیا، وہ ہاتھ آگے سے پیچھے کی طرف لے کر گئے، پھر پیچھے سے آگے کی طرف لے کر آئے، انہوں نے سر کے آگے والے حصے سے آغاز کیا تھا، پھر پیچھے گدی تک ہاتھ لے کر گئے، پھر اسے واپس اسی جگہ لے کر آئے جہاں سے آغاز کیا تھا، پھر انہوں نے اپنے دونوں پاؤں دھوئے اور یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1084]

1085

Sahih Ibn Hibban #1085

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِيَّ يَذْكُرُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَوَضَّأَ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا ، وَيَدَهُ الْيُمْنَى ثَلاثًا ، وَالأُخْرَى مِثْلَهَا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ بِمَاءٍ غَيْرِ فَضْلِ يَدِهِ ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حبان بن واسع اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی، ناک میں پانی ڈالا پھر اپنے چہرہ مبارک کو تین مرتبہ دھویا، اپنے دائیں بازو کو تین مرتبہ دھویا اور دوسرے کو بھی اسی کی مانند (تین مرتبہ) دھویا، اپنے سر کا مسح ہاتھ پر موجود پانی کے علاوہ اضافی پانی لیے بغیر کیا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے یہاں تک کہ انہیں اچھی طرح صاف کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1085]

1086

Sahih Ibn Hibban #1086

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَوَضَّأَ فَغَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ وَجْهَهُ ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ دَاخِلَهُمَا بِالسَّبَّابَتَيْنِ ، وَخَالَفَ بِإِبْهَامَيْهِ إِلَى ظَاهِرِ أُذُنَيْهِ ، فَمَسَحَ ظَاهِرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے ہوئے چلو میں پانی لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے کو دھویا، پھر چلو میں پانی لیا اور اپنے دائیں بازو کو دھویا، پھر چلو میں پانی لیا اور اپنے بائیں بازو کو دھویا، پھر چلو میں پانی لیا اور اپنے سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا، ان کے اندرونی حصے میں شہادت کی انگلیوں کے ذریعے مسح کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کے انگوٹھوں کو باہر والے حصے پر رکھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اندرونی اور بیرونی حصے کا مسح کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چلو میں پانی لیا اور اپنے دائیں پاؤں کو دھویا، پھر چلو میں پانی لیا اور بائیں پاؤں کو دھویا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1086]

1087

Sahih Ibn Hibban #1087

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ ، قَالَ : أَسْبِغِ الْوُضُوءَ ، وَخَلِّلْ بَيْنَ الأَصَابِعِ ، وَبَالِغْ فِي الاسْتِنْشَاقِ إِلا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عاصم بن لقیط بن صبرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے وضو کے بارے میں بتائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اچھی طرح وضو کرو، انگلیوں کے درمیان خلال کرو، ناک میں اچھی طرح پانی ڈالو اگر تم روزے کی (حالت میں ہو، تو حکم مختلف ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1087]

1088

Sahih Ibn Hibban #1088

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ ، وَهُمْ يَتَوَضَّئُونَ عِنْدَ الْمَطْهَرَةِ فَيَقُولُ لَهُمْ : أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمْ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن زیاد بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ لوگوں کے پاس تشریف لاتے تھے جبکہ وہ لوگ اس وقت وضو خانے میں وضو کر رہے ہوتے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان سے فرمایا کرتے تھے: اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے، تم لوگ اچھی طرح وضو کرو، کیونکہ میں نے سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بعض ایڑیوں کے لیے جہنم کی بربادی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1088]

1089

Sahih Ibn Hibban #1089

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَبَا جُبَيْرٍ الْكِنْدِيَّ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ ، وَقَالَ : تَوَضَّأْ يَا أَبَا جُبَيْرٍ " ، فَبَدَأَ بِفِيهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" لا تَبْدَأْ بِفِيكَ ، فَإِنَّ الْكَافِرَ يَبْدَأُ بِفِيهِ " ، ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلاثًا ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلاثًا ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمان بن جندب اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ابوجبیر کندی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے وضو کا پانی لانے کے لیے حکم دیا اور ارشاد فرمایا: ”اے ابوجبیر! تم جاؤ اور وضو کرو۔“ انہوں نے اپنے منہ کے ذریعے آغاز کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اپنے منہ کے ذریعے آغاز نہ کرو، کیونکہ کافر شخص اپنے منہ کے ذریعے آغاز کرتا ہے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا پانی منگوایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ دھوئے، انہیں اچھی طرح صاف کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی، پھر ناک میں پانی ڈالا، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر دائیں بازو کو کہنیوں تک تین مرتبہ دھویا، پھر بائیں بازو کو کہنیوں تک تین مرتبہ دھویا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح کیا، پھر دونوں پاؤں دھو لیے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1089]