Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 10 · Chapter 3

The Book of Prayer

Hadith 1090–1123

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1090

Sahih Ibn Hibban #1090

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا لَبِسْتُمْ ، وَإِذَا تَوَضَّأْتُمْ ، فَابْدَءُوا بِمَيَامِنِكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب تم لباس پہنو اور جب تم وضو کرو، تو اپنے دائیں طرف والے حصے سے آغاز کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1090]

1091

Sahih Ibn Hibban #1091

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الأَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيُحِبُّ التَّيَامُنَ مَا اسْتَطَاعَ : فِي طُهُورِهِ ، وَتَنَعُّلِهِ ، وَتَرَجُّلِهِ ". قَالَ شُعْبَةُ : ثُمَّ سَمِعْتُ الأَشْعَثَ بِوَاسِطَ ، يَقُولُ : يُحِبُّ التَّيَامُنَ ، وَذَكَرَ شَأْنَهُ كُلَّهُ ، ثُمَّ ، قَالَ : شَهِدْتُهُ بِالْكُوفَةِ يَقُولُ : يُحِبُّ التَّيَامُنَ مَا اسْتَطَاعَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو، جہاں تک ہو سکے، وضو کرتے ہوئے، جوتا پہنتے ہوئے اور کنگھی کرتے ہوئے دائیں طرف سے آغاز کرنا پسند تھا۔ شعبہ نامی راوی کہتے ہیں: میں نے اشعث نامی راوی کو واسط میں یہ بیان کرتے سنا ہے: ”(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) دائیں طرف کو پسند کرتے تھے“، پھر انہوں نے تمام معاملات کا ذکر کیا، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی کہ میں نے انہیں کوفہ میں یہ کہتے سنا ہے: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جہاں تک ہو سکے دائیں طرف سے آغاز کرنا پسند تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1091]

1092

Sahih Ibn Hibban #1092

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا الْمُطَّلِبُ بْنُ حَنْطَبٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَيَتَوَضَّأُ ثَلاثًا ثَلاثًا ، يُسْنِدُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مطلب بن حنطب بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تین مرتبہ وضو کرتے تھے اور اس بات کی نسبت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1092]

1093

Sahih Ibn Hibban #1093

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ الْخُوَارِزْمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَنَا فِي الْبَيْتِ ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ ، فَأَتَيْنَاهُ بِتَوْرٍ مِنْ صُفْرٍ فِيهِ مَاءٌ ،فَتَوَضَّأَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا ، وَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ ، وَمَسَحَ رَأْسَهُ ، فَأَقْبَلَ بِيَدَيْهِ وَأَدْبَرَ ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں گھر میں موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا پانی منگوایا، میں پیتل کے بنے برتن میں پانی لے کر حاضر ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، دونوں بازو دو مرتبہ دھوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں کو آگے سے پیچھے کی طرف لے کر گئے اور پیچھے سے آگے لے کر آئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1093]

1094

Sahih Ibn Hibban #1094

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ جُوصَا أَبُو الْحَسَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دو مرتبہ“ وضو کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1094]

1095

Sahih Ibn Hibban #1095

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَنَا أَعْلَمُكُمْبِوُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں تم سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ایک مرتبہ“ (بھی) وضو کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1095]

1096

Sahih Ibn Hibban #1096

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ ، أَصَابَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ امْرَأَةَ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَافِلا أَتَى زَوْجُهَا وَكَانَ غَائِبًا ، فَلَمَّا أُخْبِرَ حَلَفَ لا يَنْتَهِي حَتَّى يُهْرِيقَ فِي أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمًا ، فَخَرَجَ يَتْبَعُ أَثَرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلا ، فَقَالَ : مَنْ رَجُلٌ يَكْلَؤُنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ ؟ " فَانْتُدِبَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، قَالا : نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَكُونَا بِفَمِ الشِّعْبِ " ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ نَزَلُوا إِلَى شِعْبٍ مِنَ الْوَادِي ، فَلَمَّا خَرَجَ الرَّجُلانِ إِلَى فَمِ الشِّعْبِ ، قَالَ الأَنْصَارِيُّ لِلْمُهَاجِرِيِّ : أَيُّ اللَّيْلِ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أَكْفِيَكَ ، أَوَّلَهُ أَوْ آخِرَهُ ؟ قَالَ : اكْفِنِي أَوَّلَهُ ، قَالَ : فَاضْطَجَعَ الْمُهَاجِرِيُّ ، فَنَامَ ، وَقَامَ الأَنْصَارِيُّ ، يُصَلِّي ، وَأَتَى زَوْجُ الْمَرْأَةِ ، فَلَمَّا رَأَى شَخَصَ الرَّجُلِ ، عَرَفَ أَنَّهُ رَبِيئَةَ الْقَوْمِ ، فَرَمَاهُ بِسَهْمٍ ، فَوَضَعَهُ فِيهِ ، فَنَزَعَهُ ، فَوَضَعَهُ ، وَثَبَتَ قَائِمًا يُصَلِّي ، ثُمَّ رَمَاهُ بِسَهْمٍ آخَرَ ، فَوَضَعَهُ فِيهِ ، فَنَزَعَهُ ، وَثَبَتَ قَائِمًا يُصَلِّي ، ثُمَّ عَادَ لَهُ الثَّالِثَةَ ، فَوَضَعَهُ فِيهِ ، فَنَزَعَهُ ، فَوَضَعَهُ ، ثُمَّ رَكَعَ فَسَجَدَ ، ثُمَّ أَهَبَّ صَاحِبَهُ ، وَقَالَ : اجْلِسْ ، فَقَدْ أُتِيتُ ، فَوَثَبَ ، فَلَمَّا رَآهُمَا الرَّجُلُ عَرَفَ أَنَّهُ قَدْ نَذِرَ بِهِ ، هَرَبَ ، فَلَمَّا رَأَى الْمُهَاجِرِيُّ مَا بِالأَنْصَارِيِّ مِنَ الدِّمَاءِ ، قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، أَفَلا أَهْبَبْتَنِي أَوَّلَ مَا رَمَاكَ ! ؟ قَالَ : كُنْتُ فِي سُورَةٍ أَقْرَأُهَا ، فَلَمْ أُحِبَّ أَنْ أَقْطَعَهَا حَتَّى أُنْفِذَهَا ، فَلَمَّا تَابَعَ عَلَيَّ الرَّمْيَ رَكَعْتُ فَآذَنْتُكَ ، وَايْمُ اللَّهِ لَوْلا أَنْ أُضَيِّعَ ثَغْرًا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِهِ ، لَقَطَعَ نَفْسِي قَبْلَ أَنْ أَقْطَعَهَا أَوْ أُنْفِذَهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ ذات الرقاع میں روانہ ہوئے، مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مشرکین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی بیوی کو قتل کر دیا (یا اسے نقصان پہنچایا)۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لا رہے تھے، تو اسی دوران اس عورت کا شوہر وہاں آ چکا تھا جو پہلے وہاں موجود نہیں تھا۔ جب اسے اس بارے میں بتایا گیا، تو اس نے یہ قسم اٹھائی تھی کہ وہ اس وقت تک باز نہیں آئے گا جب تک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے کسی کا خون نہیں بہائے گا۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچھا کرتے ہوئے آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا اور ارشاد فرمایا: ”آج رات کون یہاں ہماری پہرے داری کرے گا؟“ تو مہاجرین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص اور انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے خود کو پیش کیا۔ ان دونوں نے عرض کی: «يَا رَسُولَ اللّٰهِ» ”یا رسول اللہ! ہم ایسا کریں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم گھاٹی کے سرے پر رہنا۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے وادی کی گھاٹی میں پڑاؤ کر لیا۔ جب یہ دونوں صاحبان گھاٹی کے سرے کی طرف جانے کے لیے نکلے تو انصاری شخص نے مہاجر سے کہا: آپ کو کیا پسند ہے، میں رات کے کون سے حصے میں آپ کی جگہ کفایت کروں، ابتدائی حصے میں یا آخری حصے میں؟ تو مہاجر نے کہا: اس کے ابتدائی حصے میں کفایت کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں: مہاجر شخص لیٹ کر سو گیا۔ انصاری اٹھ کر نماز ادا کرنے لگا، اس دوران اس عورت کا شوہر آیا، جب اس نے ایک شخص کے ہیولے کو دیکھا تو اسے اندازہ ہو گیا کہ یہ لوگوں کا پہرے دار ہے۔ اس نے ایک تیر مارا وہ جا کر اس انصاری کو لگا۔ انصاری نے اس تیر کو نکال کر ایک طرف رکھا اور کھڑا ہو کر نماز ادا کرتا رہا، پھر اس شخص نے انصاری کو دوسرا تیر مارا وہ بھی اسے لگا۔ انصاری نے اسے باہر نکالا اور کھڑا ہو کر نماز ادا کرتا رہا۔ پھر اس نے تیسری مرتبہ تیر مارا وہ بھی اسے لگا۔ انصاری نے اسے باہر نکالا اور اسے ایک طرف رکھ دیا، پھر وہ رکوع میں گیا، پھر اس نے سجدہ کیا، پھر اس نے اپنے ساتھی کو بیدار کیا اور کہا: اٹھو! کہ مجھ پر حملہ ہو گیا ہے۔ تو وہ (مہاجر) فوراً اٹھ گیا۔ جب اس شخص نے ان دو آدمیوں کو دیکھا تو اسے اندازہ ہو گیا کہ اسے مشکل پیش آ جائے گی، تو وہ شخص بھاگ گیا۔ جب مہاجر نے انصاری کا بہتا ہوا خون دیکھا تو بولا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ! جب اس نے تمہیں پہلی مرتبہ تیر مارا تھا، تو تم نے اس وقت مجھے بیدار کیوں نہیں کیا؟“ تو انصاری نے جواب دیا: میں ایک سورت کی تلاوت کر رہا تھا، تو مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں اسے ختم کرنے سے پہلے درمیان میں ہی منقطع کر دوں، لیکن جب اس نے مسلسل مجھے تیر مارے تو میں رکوع میں چلا گیا اور میں نے تمہیں اطلاع دی۔ «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم! اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جس کام کی حفاظت کا حکم دیا ہے میں اسے ضائع کر دوں گا، تو میری اس سورت کو ختم کرنے سے پہلے میری جان چلی جاتی یا پھر یہ ہے کہ میں اسے مکمل کر لیتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1096]

1097

Sahih Ibn Hibban #1097

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ ابْنَ عَمْرٍو الأَوْزَاعِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ يَعِيشَ بْنَ الْوَلِيدِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ مَعْدَانَ بْنَ طَلْحَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ حَدَّثَهُ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَاءَ فَأَفْطَرَ "، فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ ، فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ ، فَقَالَ : صَدَقَ ، أَنَا صَبَبْتُ لَهُ وَضُوءًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معدان بن طلحہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کر کے روزہ ختم کر دیا تھا، (راوی کہتے ہیں) پھر میری ملاقات مسجدِ دمشق میں سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے ہوئی، میں نے ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا: ”انہوں نے یعنی (سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ) نے سچ کہا ہے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کروایا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1097]

1098

Sahih Ibn Hibban #1098

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَطَاءٍ : أَيُّ حِينٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ لِلْعَتَمَةِ إِمَّا إِمَامًا وَإِمَّا خَلْوًا ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : اعْتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَتَمَةِ حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا ، وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الصَّلاةَ الصَّلاةَ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الآنَ تَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً ، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى رَأْسِهِ ، فَقَالَ : لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوا هَكَذَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کی نماز ادا کرنے میں تاخیر کر دی، یہاں تک کہ لوگ سو گئے، پھر وہ بیدار ہو گئے، پھر وہ سو گئے، پھر بیدار ہو گئے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: نماز، نماز! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں) گویا کہ یہ منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے، آپ کے سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور آپ نے اپنے دونوں ہاتھ سر پر رکھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو میں انہیں یہ ہدایت کرتا کہ وہ اسے اسی طرح ادا کریں (یعنی عشاء کی نماز کو اسی وقت میں ادا کریں)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1098]

1099

Sahih Ibn Hibban #1099

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُغِلَ ذَاتَ لَيْلَةٍ عَنْ صَلاةِ الْعَتَمَةِ ، حَتَّى رَقَدْنَا فِي الْمَسْجِدِ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا ، ثُمَّ رَقَدْنَا ، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ يَنْتَظِرُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ الصَّلاةَ غَيْرُكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز کے وقت کسی کام میں مصروف رہے، یہاں تک کہ ہم لوگ مسجد میں ہی سو گئے، پھر ہم بیدار ہو گئے، پھر ہم سو گئے، پھر بیدار ہو گئے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس وقت روئے زمین میں تمہارے علاوہ کوئی شخص (اس) نماز کا انتظار نہیں کر رہا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1099]

1100

Sahih Ibn Hibban #1100

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ : أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ ، فَقَالَ لِي : مَا حَاجَتُكَ ؟ قُلْتُ لَهُ : ابْتِغَاءُ الْعِلْمِ ، قَالَ : فَإِنَّ الْمَلائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًى بِمَا يَطْلُبُ ، قُلْتُ : حَكَّ فِي نَفْسِي الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ بَعْدَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ ، وَكُنْتُ امْرَءًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْتُكَ أَسْأَلُكَ : هَلْ سَمِعْتَ مِنْهُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، كَانَ يَأْمُرُنَاإِذَا كُنَّا فِي سَفَرٍ أَوْ مُسَافِرِينَ أَنْ لا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ إِلا مِنْ جَنَابَةٍ ، لَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الرُّقَادُ لَهُ بِدَايَةٌ وَنِهَايَةٌ ، فَبِدَايَتُهُ النُّعَاسُ الَّذِي هُوَ أَوَائِلُ النَّوْمِ ، وَصِفَتُهُ أَنَّ الْمَرْءَ إِذَا كُلِّمَ فِيهِ يَسْمَعُ ، وَإِنْ أَحْدَثَ عَلِمَ ، إِلا أَنَّهُ يَتَمَايَلُ تَمَايُلا . وَنِهَايَتُهُ زَوَالُ الْعَقْلِ ، وَصِفَتُهُ أَنَّ الْمَرْءَ إِذَا أَحْدَثَ فِي تِلْكَ الْحَالَةِ لَمْ يَعْلَمْ ، وَإِنْ تَكَلَّمَ لَمْ يَفْهَمْ . فَالنُّعَاسُ لا يُوجِبُ الْوُضُوءَ عَلَى أَحَدٍ قَلِيلُهُ وَكَثِيرُهُ عَلَى أَيِّ حَالَةٍ كَانَ النَّاعِسُ ، وَالنَّوْمُ يُوجِبُ الْوُضُوءَ عَلَى مَنْ وُجِدَ عَلَى أَيِّ حَالَةٍ كَانَ النَّائِمُ . عَلَى أَنَّ اسْمَ النَّوْمِ قَدْ يَقَعُ عَلَى النُّعَاسِ ، وَالنُّعَاسُ عَلَى النَّوْمِ ، وَمَعْنَاهُمَا مُخْتَلِفَانِ ، وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا بِقَوْلِهِ : لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ وَلَمَّا قَرَنَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَبَرِ صَفْوَانَ بَيْنَ النَّوْمِ ، وَالْغَائِطِ ، وَالْبَوْلِ ، فِي إِيجَابِ الْوُضُوءِ مِنْهَا ، وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ الْبَوْلِ وَالْغَائِطِ فُرْقَانٌ ، وَكَانَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قَلِيلُ أَحَدِهِمَا أَوْ كَثِيرُهُ أَوْجَبَ عَلَيْهِ الطَّهَارَةَ ، سَوَاءً كَانَ الْبَائِلُ قَائِمًا ، أَوْ قَاعِدًا ، أَوْ رَاكِعًا ، أَوْ سَاجِدًا ، كَانَ كُلُّ مَنْ نَامَ بِزَوَالِ الْعَقْلِ ، وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ ، سَوَاءً اخْتَلَفَتْ أَحْوَالُهُ ، أَوِ اتَّفَقَتْ ، لأَنَّ الْعِلَّةَ فِيهِ زَوَالُ الْعَقْلِ لا تَغَيُّرُ الأَحْوَالِ عَلَيْهِ ، كَمَا أَنَّ الْعِلَّةَ فِي الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ وُجُودُهُمَا لا تَغَيُّرُ أَحْوَالِ الْبَائِلِ وَالْمُتَغَوِّطِ فِيهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: میں سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے مجھ سے دریافت کیا: ”تمہیں کیا کام ہے؟“ میں نے ان سے گزارش کی: ”علم کا حصول۔“ انہوں نے فرمایا: ”فرشتے طالب علم کی طلب سے راضی ہو کر اپنے پر اس کے لیے بچھا دیتے ہیں۔“ میں نے کہا: پیشاب کرنے کے بعد (وضو کرتے ہوئے) موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں میرے ذہن میں کچھ الجھن ہے۔ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، میں آپ کے پاس اس بارے میں دریافت کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں کہ کیا آپ نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کوئی بات سنی ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ ہدایت کرتے تھے: ”جب ہم لوگ سفر کی حالت میں ہوں۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جب ہم مسافر ہوں، تو ہم تین دن اور تین راتوں تک اپنے موزے نہ اتاریں، البتہ جنابت کا حکم مختلف ہے، تاہم پاخانہ یا پیشاب یا نیند کی وجہ سے (وضو ختم ہونے کی صورت میں) ہم موزے نہ اتاریں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) «الرُّقَادُ» (یعنی سونے) کا ایک آغاز ہے اور ایک اختتام ہے۔ اس کا آغاز وہ «النُّعَاسُ» (یعنی اونگھ) ہے، جو نیند کے شروع میں ہوتی ہے، اور اس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ اس دوران اگر آدمی کے ساتھ کلام کیا جائے، تو وہ سن لیتا ہے، اور اگر وہ بے وضو ہو جائے، تو اسے یہ پتا ہوتا ہے، البتہ اگر وہ ایک طرف ڈھلک جائے (تو معاملہ مختلف ہے) اور اس کا اختتام عقل (یعنی شعور) کا زائل ہو جانا ہے۔ اور اس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ جب آدمی اس حالت کے دوران بے وضو ہو جائے، تو اسے پتا نہیں چلتا اور اگر اس کے ساتھ کلام کیا جائے، تو اسے سمجھ نہیں آتا، تو اونگھ کسی بھی شخص پر وضو کو لازم نہیں کرتی، خواہ وہ تھوڑی ہو یا زیادہ ہو، خواہ اونگھنے کی حالت کوئی سی بھی ہو، جبکہ نیند وضو کو لازم کر دیتی ہے، خواہ وہ کسی بھی حالت میں پائی جائے جو سونے والے کی ہوتی ہے۔ اس کے ہمراہ بعض اوقات لفظ «النَّوْمُ» (یعنی نیند) کا اطلاق «النُّعَاسُ» (یعنی اونگھ) پر بھی ہوتا ہے، اور لفظ «النُّعَاسُ» کا اطلاق لفظ «النَّوْمُ» پر بھی ہوتا ہے، لیکن ان دونوں کا معنی مختلف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان فرق کو بیان کرتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ﴿لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ﴾ [سورة البقرة: 255] ”اسے اونگھ نہیں آتی اور نیند بھی نہیں آتی ہے۔“ تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت میں نیند، پاخانے اور پیشاب کو وضو لازم کرنے والی چیزوں میں شامل کر لیا، تو جس طرح پیشاب اور پاخانے میں کوئی فرق نہیں ہے، یہ دونوں جس کسی سے بھی صادر ہوں گے خواہ وہ تھوڑے ہوں یا زیادہ، تو ایسے شخص پر وضو کرنا لازم ہو جائے گا، خواہ پیشاب کرنے والا شخص بیٹھ کر کرے یا کھڑا ہو کر کرے یا رکوع کی حالت میں کرے یا سجدے کی حالت میں کرے، تو ہر وہ شخص جس کی عقل زائل ہو جائے اور وہ سو جائے، تو اس پر وضو کرنا لازم ہو جائے گا، خواہ اس کی حالتوں میں اختلاف ہو یا حالتوں میں اتفاق ہو، کیونکہ اس میں بنیادی علت عقل کا زائل ہو جانا ہے، حالت کا تبدیل ہونا بنیادی علت نہیں ہے، جیسا کہ پیشاب اور پاخانے میں علت ان دونوں کا پایا جانا ہے، پیشاب کرنے والے یا پاخانہ کرنے والے کی حالت کا متغیر ہونا (علت نہیں) ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1100]

1101

Sahih Ibn Hibban #1101

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنْ أَهْلِهِ مَاذَا عَلَيْهِ ؟ فَإِنْ عِنْدِي ابْنَتَهُ وَأَنَا أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَهُ ، قَالَ الْمِقْدَادُ : فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِذَا وَجَدَ ذَلِكَ ، فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ ، وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَاتَ الْمِقْدَادُ بْنُ الأَسْوَدِ بِالْجُرُفِ سَنَةَ ثَلاثٍ وَثَلاثِينَ . وَمَاتَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَتِسْعِينَ ، وَقَدْ سَمِعَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ الْمِقْدَادَ وَهُوَ ابْنُ دُونِ عَشْرِ سِنِينَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے انہیں ہدایت کی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کریں کہ جب وہ اپنی بیوی کے قریب ہوتا ہے (تو اس کی مذی خارج ہو جاتی ہے) تو ایسے شخص پر کیا بات لازم ہو گی (سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضاحت کی)، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی میری اہلیہ ہے، اس لیے مجھے خود ان سے حیا آتی ہے۔ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب وہ شخص اس طرح کی صورت حال پائے، تو اپنی شرم گاہ پر پانی چھڑک لے اور نماز کے وضو کی طرح وضو کر لے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کا انتقال 33 ہجری میں ہوا، جبکہ سلیمان بن یسار کا انتقال 90 ہجری میں ہوا، جس وقت سلیمان بن یسار نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے احادیث کا سماع کیا تھا، اس وقت ان کی عمر 10 سال سے کم تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1101]

1102

Sahih Ibn Hibban #1102

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، حَدَّثَنِي الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : كُنْتُ رَجُلا مَذَّاءً ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ ، وَإِذَا رَأَيْتَ الْمَاءَ ، فَاغْتَسِلْ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَمَرَ الْمِقْدَادَ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ هَذَا الْحُكْمِ فَسَأَلَهُ وَأَخْبَرَهُ ، ثُمَّ أَخْبَرَ الْمِقْدَادُ عَلِيًّا بِذَلِكَ ، ثُمَّ سَأَلَ عَلِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا أَخْبَرَهُ بِهِ الْمِقْدَادُ حَتَّى يَكُونَا سُؤَالَيْنِ فِي مَوْضِعَيْنِ مُخْتَلِفَيْنِ ، وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّهُمَا كَانَا فِي مَوْضِعَيْنِ أَنَّ عِنْدَ سُؤَالِ عَلِيٍّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَمَرَهُ بِالاغْتِسَالِ عِنْدَ الْمَنِيِّ ، وَلَيْسَ هَذَا فِي خَبَرِ الْمِقْدَادِ . يَدُلُّكُ هَذَا عَلَى أَنَّهُمَا غَيْرُ مُتَضَادَّيْنِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایک ایسا شخص تھا، جس کی مذی بکثرت خارج ہوتی تھی۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم مذی کو دیکھو تو اپنی شرمگاہ کو دھو لو اور جب تم پانی (یعنی منی) کو دیکھو تو تم غسل کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) (اس بات کا امکان موجود ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو اس بات کی ہدایت کی ہو کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا حکم دریافت کریں۔ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔ آپ نے انہیں بتایا پھر سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بتایا پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا جس کے بارے میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا تھا، تو یہ دو سوال ہوں گے جو دو مختلف موقعوں پر کیے گئے۔ اور اس بات کی دلیل کہ یہ دونوں سوال مختلف موقعوں پر کیے گئے تھے یہ ہے کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا تو آپ نے منی کے نزول کے وقت انہیں غسل کرنے کا حکم دیا تھا اور یہ بات سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت میں نہیں ہے۔ یہ بات آپ کی رہنمائی اس چیز کی طرف کرے گی کہ یہ دو مختلف احادیث ہیں)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1102]

1103

Sahih Ibn Hibban #1103

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الْمَذْيِ شِدَّةً ، فَكُنْتُ أُكْثِرُ الاغْتِسَالَ مِنْهُ ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : إِنَّمَايُجْزِئُكَ مِنْهُ الْوُضُوءُ " . فَقُلْتُ : فَكَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي مِنْهُ ؟ قَالَ : " يَكْفِيكَ أَنْ تَأْخُذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَتَنْضَحَ بِهَا مِنْ ثَوْبِكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے مذی کی وجہ سے مشقت کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور میں اس کی وجہ سے بکثرت غسل کیا کرتا تھا۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے لیے اس کی وجہ سے وضو کر لینا ہی کافی ہے۔“ میں نے عرض کی: اگر یہ میرے کپڑے پر لگ جائے تو پھر کیا ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ تم ایک چلو میں پانی لو اور اسے اپنے کپڑے پر اس جگہ چھڑک لو جہاں تمہیں نظر آ رہا ہے کہ یہ لگی ہوئی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1103]

1104

Sahih Ibn Hibban #1104

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : كُنْتُ رَجُلا مَذَّاءً ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِذَا رَأَيْتَ الْمَاءَ ، فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ وَتَوَضَّأْ ، وَإِذَا رَأَيْتَ الْمَنِيَّ ، فَاغْتَسِلْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایسا شخص تھا، جس کی مذی بکثرت خارج ہوتی تھی۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم پانی (مذی) کو دیکھو تو اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضو کر لو اور جب تم منی دیکھو تو تم غسل کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1104]

1105

Sahih Ibn Hibban #1105

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ خَلِيفَةَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّ عَلِيًّا أَمَرَ عَمَّارًا أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَذْيِ ، فَقَالَ : يَغْسِلُ مَذَاكِيرَهُ وَيَتَوَضَّأُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو یہ ہدایت کی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذی کے بارے میں دریافت کریں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص اپنی شرمگاہ کو دھو لے اور وضو کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1105]

1106

Sahih Ibn Hibban #1106

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنْ أَهْلِهِ فَخَرَجَ مِنْهُ الْمَذْيُ مَاذَا عَلَيْهِ ؟ فَإِنْ عِنْدِي ابْنَتَهُ وَأَنَا أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَهُ ، قَالَ الْمِقْدَادُ : فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ ، فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ ، وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَحِمَهُ اللَّهُ : قَدْ يَتَوَهَّمُ بَعْضُ الْمُسْتَمِعِينَ لِهَذِهِ الأَخْبَارِ مِمَّنْ لَمْ يَطْلُبِ الْعِلْمَ مِنْ مَظَانِّهِ ، وَلا دَارَ فِي الْحَقِيقَةِ عَلَى أَطْرَافِهِ ، أَنْ بَيْنَهَا تَضَادًّا أَوْ تَهَاتُرًا ، لأَنَّ فِي خَبَرِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَفِي خَبَرِ إِيَاسِ بْنِ خَلِيفَةَ ، أَنَّهُ أَمَرَ عَمَّارًا أَنْ يَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَفِي خَبَرِ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ أَمَرَ الْمِقْدَادَ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَلَيْسَ بَيْنَهَا تَهَاتُرٌ ، لأَنَّهُ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَمَرَ عَمَّارًا أَنْ يَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ ، ثُمَّ أَمَرَ الْمِقْدَادَ أَنْ يَسْأَلَهُ ، فَسَأَلَهُ ، ثُمَّ سَأَلَ بِنَفْسِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ مَا ذَكَرْتُ أَنْ مَتْنَ كُلِّ خَبَرٍ يُخَالِفُ مَتْنَ الْخَبَرِ الآخَرِ ، لأَنَّ فِي خَبَرِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ : كُنْتُ رَجُلا مَذَّاءً ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِذَا رَأَيْتَ الْمَاءَ ، فَاغْتَسِلْ " . وَفِي خَبَرِ إِيَاسِ بْنِ خَلِيفَةَ : أَنَّهُ أَمَرَ عَمَّارًا أَنْ يَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَغْسِلُ مَذَاكِيرَهُ وَيَتَوَضَّأُ " ، وَلَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْمَنِيِّ الَّذِي فِي خَبَرِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ . وَخَبَرُ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ سُؤَالٌ مُسْتَأْنَفٌ ، فَيَسْأَلُ أَنَّهُ لَيْسَ بِالسُّؤَالَيْنِ الأَوَّلَيْنِ اللَّذَيْنِ ذَكَرْنَاهُمَا ، لأَنَّ فِي خَبَرِ الْمِقْدَادِ : أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنْ أَهْلِهِ فَخَرَجَ مِنْهُ الْمَذْيُ مَاذَا عَلَيْهِ ؟ فَإِنْ عِنْدِي ابْنَتَهُ . فَذَلِكَ مَا وَصَفْنَا ، عَلَى أَنَّ هَذِهِ أَسْئِلَةٌ مُتَبَايِنَةٌ ، فِي مَوَاضِعَ مُخْتَلِفَةٍ ، لِعِلَلٍ مَوْجُودَةٍ ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَهَا تَضَادُّ أَوْ تَهَاتُرٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کریں جو اپنی بیوی کے قریب ہوتا ہے، تو اس کی مذی خارج ہو جاتی ہے، ایسے شخص پر کیا چیز لازم ہو گی؟ (سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضاحت کی) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میری اہلیہ ہے، اس لیے مجھے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص اس طرح کی صورت حال کا سامنا کرے تو اسے اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لینا چاہیے اور نماز کے وضو کی طرح وضو کر لینا چاہیے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان روایات کو سننے والے بعض ایسے افراد جنہوں نے علم حدیث کو اس کے اصل ماخذ سے حاصل نہیں کیا اور حقیقت کو اس کے اپنے دائرے میں نہیں گھمایا، وہ اس غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ ان روایات کے درمیان تضاد اور اختلاف پایا جاتا ہے، کیونکہ ابوعبدالرحمن سلمی کی نقل کردہ روایت میں یہ ہے: ”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا“، جبکہ ایاس بن خلیفہ کی نقل کردہ روایت میں ہے کہ انہوں نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کریں، جبکہ سلیمان بن یسار کی نقل کردہ روایت میں ہے کہ انہوں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کریں، حالانکہ ان روایات کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے، کیونکہ اس بات کا احتمال موجود ہے کہ پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کریں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، پھر آپ نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا ہو کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کریں، تو انہوں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ہو، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بذات خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا ہو۔ میں نے جو چیز ذکر کی ہے اس کے صحیح ہونے کی دلیل یہ ہے کہ ان میں سے ہر روایت کا متن دوسری روایت کے متن سے مختلف ہے، کیونکہ ابوعبدالرحمن سلمی کی نقل کردہ روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”میں ایک ایسا شخص تھا جس کی مذی بکثرت خارج ہوتی تھی، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم جب پانی کو دیکھو تو غسل کرو۔“ ایاس بن خلیفہ کی روایت میں الفاظ ہیں: ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کریں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضو کر لے۔“ اس روایت میں منی کا تذکرہ نہیں ہے جو ابوعبدالرحمن کی نقل کردہ روایت میں ہے، جبکہ سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت میں مذکور ہے کہ انہوں نے پہلے سوال کیا تھا، تو یہ پہلے والے دو سوالات نہیں ہیں جو ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں، سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہ ہے کہ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ حکم دیا تھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کریں جو اپنی بیوی کے قریب ہوتا ہے، تو اس کی منی خارج ہوتی ہے، تو ایسے شخص پر کیا بات لازم ہو گی؟ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میری اہلیہ ہے، میں (اس لیے براہِ راست آپ سے یہ سوال نہیں کر سکتا)، تو ہم نے جو چیز ذکر کی ہے وہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ مختلف سوالات ہیں جو مختلف مواقع پر کیے گئے جن کی اپنی مخصوص علتیں ہیں، ان کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1106]

1107

Sahih Ibn Hibban #1107

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الْحَذَّاءُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : كُنْتُ رَجُلا مَذَّاءً ، فَجَعَلْتُ أَغْتَسِلُ فِي الشِّتَاءِ حَتَّى تَشَقَّقَ ظَهْرِي ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ ذُكِرَ لَهُ ، فَقَالَ : لا تَفْعَلْ ، إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ ، وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلاةِ ، وَإِذَا نَضَحْتَ الْمَاءَ ، فَاغْتَسِلْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک ایسا شخص تھا جس کی مذی بکثرت خارج ہوتی تھی، میں اس کی وجہ سے سردی کے موسم میں غسل کرتا تھا جس کی وجہ سے میری پشت کو تکلیف لاحق ہوتی تھی۔ میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ایسا نہ کرو، جب تم مذی دیکھو تو اپنی شرمگاہ کو دھو کر نماز کے وضو کی طرح وضو کرو اور جب تم پانی چھڑکو (یعنی منی خارج ہو) تو تم غسل کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1107]

1108

Sahih Ibn Hibban #1108

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّهَا كَانَتْتَغْتَسِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الإِنَاءِ الْوَاحِدِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی برتن میں غسل کر لیا کرتی تھیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1108]

1109

Sahih Ibn Hibban #1109

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ ابْنَتِهِ ، فَكَانَ إِذَا قَامَ حَمَلَهَا ، وَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ لیتے تھے حالانکہ آپ نے سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا کو اٹھایا ہوتا تھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھڑے ہوتے تھے، تو انہیں اٹھا لیتے تھے۔ جب سجدے میں جاتے تھے، تو انہیں ایک طرف (یعنی کھڑا کر دیتے تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1109]

1110

Sahih Ibn Hibban #1110

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ ، يَقُولُ : بَيْنَمَا نَحْنُ عَلَى بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُ أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ ، وَأُمُّهَا زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهِيَ صَبِيَّةٌ ،فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ عَلَى عَاتِقِهِ ، يَضَعُهَا إِذَا رَكَعَ ، وَيُعِيدُهَا عَلَى عَاتِقِهِ إِذَا قَامَ ، حَتَّى قَضَى صَلاتَهُ ، يَفْعَلُ ذَلِكَ بِهَا "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن سلیم زرقی بیان کرتے ہیں، انہوں نے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ عنہا کو اٹھایا ہوا تھا، اس بچی کی والدہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا تھیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں، وہ ابھی کم سن بچی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی، تو بچی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو زمین پر ایک طرف (کھڑا) کر دیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ اسے کندھے پر بٹھا لیا، یہاں تک کہ اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1110]

1111

Sahih Ibn Hibban #1111

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ الأَنْصَارِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : إِنْ كُنْتُلأَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ، تَخْتَلِفُ أَيْدِينَا فِيهِ وَتَلْتَقِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے، ہمارے ہاتھ اس برتن میں الگ ہوتے تھے اور اس میں ملتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1111]

1112

Sahih Ibn Hibban #1112

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ : دَخَلْتُ عَلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، فَذَكَرْنَا مَا يَكُونُ مِنْهُ الْوُضُوءُ ، فَقَالَ مَرْوَانُ : أَخْبَرَتْنِي بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ ، فَلْيَتَوَضَّأْ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : عَائِذٌ بِاللَّهِ أَنْ نَحْتَجَّ بِخَبَرٍ . رَوَاهُ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ وَذَوُوهُ فِي شَيْءٍ مِنْ كُتُبِنَا ، لأَنَّا لا نَسْتَحِلُّ الاحْتِجَاجَ بِغَيْرِ الصَّحِيحِ مِنْ سَائِرِ الأَخْبَارِ ، وَإِنْ وَافَقَ ذَلِكَ مَذْهَبَنَا ، وَلا نَعْتَمِدُ مِنَ الْمَذَاهِبِ إِلا عَلَى الْمُنْتَزَعِ مِنَ الآثَارِ ، وَإِنْ خَالَفَ ذَلِكَ قَوْلَ أَئِمَّتِنَا . وَأَمَّا خَبَرُ بُسْرَةَ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ ، فَإِنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ سَمِعَهُ مِنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ بُسْرَةَ ، فَلَمْ يُقْنِعْهُ ذَلِكَ حَتَّى بَعَثَ مَرْوَانُ شُرْطِيًّا لَهُ إِلَى بُسْرَةَ فَسَأَلَهَا ، ثُمَّ آتَاهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ بِمِثْلِ مَا قَالَتْ بُسْرَةُ ، فَسَمِعَهُ عُرْوَةُ ثَانِيًا عَنِ الشُّرْطِيِّ ، عَنْ بُسْرَةَ ، ثُمَّ لَمْ يُقْنِعْهُ ذَلِكَ حَتَّى ذَهَبَ إِلَى بُسْرَةَ فَسَمِعَ مِنْهَا ، فَالْخَبَرُ عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ بُسْرَةَ مُتَّصِلٌ لَيْسَ بِمُنْقَطِعٍ ، وَصَارَ مَرْوَانُ وَالشُّرْطِيُّ كَأَنَّهُمَا عَارِيَتَانِ يَسْقُطَانِ مِنَ الإِسْنَادِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: میں مروان بن حکم کے پاس گیا، ہم نے وہاں اس بات کا ذکر شروع کیا کون سی صورتوں میں وضو کرنا لازم ہوتا ہے، تو مروان نے بتایا: سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی ہے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب کوئی شخص اپنی شرم گاہ کو چھو لے، تو اسے وضو کرنا چاہیے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ہم اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہم اپنی کتابوں میں کوئی ایسی روایت نقل کریں جسے مروان بن حکم یا اس جیسے افراد نے نقل کیا ہو۔ وجہ یہ ہے، ہم اس چیز کو جائز نہیں سمجھتے کہ روایات میں سے غیر مستند روایات سے استدلال کیا جائے۔ حتیٰ کہ وہ ہمارے موقف کے موافق ہی کیوں نہ ہو اور مذاہب میں سے ہم صرف ان ہی روایات پر عمل کریں گے جو مستند ہوں۔ اگرچہ وہ ہمارے ائمہ کے قول کے خلاف ہوں۔ جہاں تک سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا کی نقل کردہ روایت کا تعلق ہے پیچھے ہم نے ذکر کیا ہے، تو عروہ بن زبیر نے یہ روایت مروان بن حکم کے حوالے سے سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا سے سنی ہے، لیکن انہوں نے اس پر قناعت نہیں کی، یہاں تک کہ مروان نے اپنے ایک سپاہی کو سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا اور اس نے ان سے سوال کیا۔ پھر وہ ان لوگوں کے پاس گیا اور انہیں اس چیز کے بارے میں بتایا جو سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا نے بیان کی ہے۔ تو عروہ نے دوسری دفعہ یہ روایت سپاہی کے حوالے سے سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا سے سن لی، لیکن پھر انہوں نے اس پر بھی قناعت نہیں کی، یہاں تک کہ وہ خود سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے اس حدیث کو سنا تو یہ روایت عروہ کے حوالے سے سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے۔ یہ متصل ہے، یہ منقطع نہیں ہے۔ مروان اور اس کا سپاہی دو عاریت کے طور پر راوی ہوں گے جنہیں ان کی سند سے ساقط کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1112]

1113

Sahih Ibn Hibban #1113

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُسَرَّحٍ الْحَرَّانِيُّ أَبُو بَدْرٍ ، بِسَرْغَامَرْطَا مِنْ دِيَارِ مُضَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ حَدَّثَهُ ، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ ، فَلْيَتَوَضَّأْ ". قَالَ : فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عُرْوَةُ ، فَسَأَلَ بُسْرَةَ ، فَصَدَّقَتْهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لے، تو اسے وضو کرنا چاہئے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: عروہ نے اس بات کا انکار کیا ہے، پھر انہوں نے سیدہ بسرہ سے دریافت کیا تو اس خاتون نے اس بیان کی تصدیق کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1113]

1114

Sahih Ibn Hibban #1114

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَرْوَانَ ، عَنْ بُسْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ ، فَلْيَتَوَضَّأْ ". قَالَ عُرْوَةُ : فَسَأَلْتُ بُسْرَةَ ، فَصَدَّقَتْهُ ."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جو شخص اپنی شرم گاہ کو چھو لے، تو اسے وضو کرنا چاہیے۔“ عروہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا سے اس بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1114]

1115

Sahih Ibn Hibban #1115

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ بُسْرَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ ، فَلْيُعِدِ الْوُضُوءَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَوْ كَانَ الْمُرَادُ مِنْهُ غَسْلَ الْيَدَيْنِ قَالَ بَعْضُ النَّاسِ : لَمَّا قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلْيُعِدِ الْوُضُوءَ إِذِ الإِعَادَةُ لا تَكُونُ إِلا لِلْوُضُوءِ الَّذِي هُوَ لِلصَّلاةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لے اسے چاہیے کہ وہ دوبارہ وضو کرے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اگر اس سے مراد دونوں ہاتھ دھونا ہوتا جس طرح بعض لوگوں نے یہ بات کہی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہ فرماتے: ”دوبارہ وضو کر لے“ کیونکہ دوبارہ صرف وہی وضو ہو سکتا ہے، جو نماز کے لیے کیا جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1115]

1116

Sahih Ibn Hibban #1116

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قُرَيْشٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَرْوَانَ ، عَنْ بُسْرَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ ، فَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”جو شخص اپنی شرم گاہ کو چھو لے اسے چاہیے کہ نماز کے وضو والا وضو کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1116]

1117

Sahih Ibn Hibban #1117

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ذَكْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ الْيَحْصَبِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ بُسْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ ، وَالْمَرْأَةُ مِثْلُ ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جب کوئی شخص اپنی شرم گاہ کو چھو لے، تو اسے وضو کرنا چاہیے اور عورت بھی اسی طرح کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1117]

1118

Sahih Ibn Hibban #1118

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمُعَدَّلُ ، بِالْفُسْطَاطِ ، وَعِمْرَانُ بْنُ فَضَالَةَ الشَّعِيرِيُّ بِالْمَوْصِلِ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَنَافِعِ بْنِ أَبِي نُعَيْمٍ القارئ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أَفْضَى أَحَدُكُمْ بِيَدِهِ إِلَى فَرْجِهِ ، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا سِتْرٌ وَلا حِجَابٌ ، فَلْيَتَوَضَّأْ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : احْتِجَاجُنَا فِي هَذَا الْخَبَرِ بِنَافِعِ بْنِ أَبِي نُعَيْمٍ دُونَ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيِّ لأَنَّ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ تَبَرَّأْنَا مِنْ عُهْدَتِهِ فِي كِتَابِ الضُّعَفَاءِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص اپنا ہاتھ اپنی شرمگاہ کی طرف بڑھائے اور ان دونوں کے درمیان کوئی پردہ یا رکاوٹ نہ ہو، تو اس شخص کو وضو کرنا چاہیے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں ہمارا استدلال نافع بن ابونعیم کی نقل کردہ روایت سے ہے، یزید بن عبدالملک کی نقل کردہ روایت سے نہیں ہے، کیونکہ یزید بن عبدالملک کے مستند ہونے سے ہم بری الذمہ ہیں، جیسا کہ یہ بات کتاب الضعفاء میں بیان کی گئی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1118]

1119

Sahih Ibn Hibban #1119

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : خَرَجْنَا وَفْدًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَا تَقُولُ فِيمَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ بَعْدَمَا يَتَوَضَّأُ ؟ فَقَالَ : هَلْ هُوَ إِلا مُضْغَةٌ أَوْ بَضْعَةٌ مِنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن طلق اپنے والد (سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ وفد کی شکل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ایک شخص آیا اس نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں جو شخص وضو کرنے کے بعد اپنی شرمگاہ کو چھو لیتا ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ (شرمگاہ) اس کے جسم کا گوشت کا ایک لوتھڑا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ایک ٹکڑا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1119]

1120

Sahih Ibn Hibban #1120

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، أَخْبَرَنَا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّأَحَدَنَا يَكُونُ فِي الصَّلاةِ فَيَحْتَكُّ فَتُصِيبُ يَدُهُ ذَكَرَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَهَلْ هُوَ إِلا بَضْعَةٌ مِنْكَ أَوْ مُضْغَةٌ مِنْكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن طلق بیان کرتے ہیں، میرے والد (طلق بن علی رضی اللہ عنہ) نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ہم میں سے کوئی ایک شخص نماز کی حالت میں ہوتا ہے، اسے خارش ہوتی ہے اور اس کا ہاتھ اس کی شرمگاہ تک پہنچ جاتا ہے“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ (شرمگاہ) «بَضْعَةٌ مِنْكَ» ”تمہارے جسم کا ایک ٹکڑا ہے“، راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: «بَضْعَةٌ مِنْ لَحْمِكَ» ”تمہارے جسم کے گوشت کا ایک لوتھڑا ہے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1120]

1121

Sahih Ibn Hibban #1121

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْذِرِ النَّيْسَابُورِيُّ ، بِمَكَّةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِالرَّجُلِ يَمَسُّ ذَكَرَهُ وَهُوَ فِي الصَّلاةِ ، قَالَ : لا بَأْسَ بِهِ ، إِنَّهُ لَبَعْضُ جَسَدِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن طلق اپنے والد (رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو نماز میں اپنی شرم گاہ کو چھو لیتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں، وہ تمہارے جسم کا ایک حصہ ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1121]

1122

Sahih Ibn Hibban #1122

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَدِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَنَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ فَكَانَ يَقُولُ : قَدِّمُوا الْيَمَامِي مِنَ الطِّينِ ، فَإِنَّهُ مِنْ أَحْسَنِكُمْ لَهُ مَسًّا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : خَبَرُ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ خَبَرٌ مَنْسُوخٌ ، لأَنَّ طَلْقَ بْنَ عَلِيٍّ كَانَ قُدُومُهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوَّلَ سَنَةٍ مِنْ سِنِيِّ الْهِجْرَةِ ، حَيْثُ كَانَ الْمُسْلِمُونَ يَبْنُونَ مَسْجِدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ . وَقَدْ رَوَى أَبُو هُرَيْرَةَ إِيجَابَ الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ ، عَلَى حَسَبِ مَا ذَكَرْنَاهُ قَبْلُ ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ أَسْلَمَ سَنَةَ سَبْعٍ مِنَ الْهِجْرَةِ ، فَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّ خَبَرَ أَبِي هُرَيْرَةَ كَانَ بَعْدَ خَبَرِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ بِسَبْعِ سِنِينَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن طلق اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مسجد نبوی کی تعمیر میں حصہ لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمایا کرتے تھے: «قَدِّمُوا الْيَمَامِيَّ مِنَ الطِّينِ، فَإِنَّهُ أَطْوَعُكُمْ لَهُ، وَأَحْسَنُكُمْ لَهُ مَسًّا» ”مٹی میں سے یمامی کو آگے کرو، کیونکہ وہ کام کرنے کے اعتبار سے تم سب سے زیادہ عمدہ ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت جو ہم نے ذکر کی ہے، یہ منسوخ حدیث ہے، سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہجرت کے پہلے سال آئے تھے جب مسلمان مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی تعمیر کر رہے تھے، جبکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے شرمگاہ کو چھونے پر وضو لازم ہونے کی حدیث نقل کی ہے، جیسا کہ ہم پہلے یہ بات ذکر کر چکے ہیں، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سن 7 ہجری میں اسلام قبول کیا تھا، یہ بات اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت، سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت سے سات سال بعد کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1122]

1123

Sahih Ibn Hibban #1123

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ الْحَنَفِيُّ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : خَرَجْنَا سِتَّةً وَفْدًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، خَمْسَةٌ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي ضُبَيْعَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ، حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَايَعْنَاهُ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ ، وَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّ بِأَرْضِنَا بَيْعَةً لَنَا ، وَاسْتَوْهَبْنَاهُ مِنْ فَضْلِ طُهُورِهِ ،فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ وَتَمَضْمَضَ ، وَصَبَّ لَنَا فِي إِدَاوَةٍ ، ثُمَّ قَالَ : اذْهَبُوا بِهَذَا الْمَاءِ ، فَإِذَا قَدِمْتُمْ بَلَدَكُمْ ، فَاكْسِرُوا بِيعَتَكُمْ ، ثُمَّ انْضَحُوا مَكَانَهَا مِنْ هَذَا الْمَاءِ ، وَاتَّخِذُوا مَكَانَهَا مَسْجِدًا " . فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْبَلَدُ بَعِيدٌ ، وَالْمَاءُ يَنْشَفُ ، قَالَ : " فَأَمِدُّوهُ مِنَ الْمَاءِ ، فَإِنَّهُ لا يَزِيدُهُ إِلا طِيبًا " . فَخَرَجْنَا فَتَشَاحَحْنَا عَلَى حَمْلِ الإِدَاوَةِ أَيُّنَا يَحْمِلُهَا ، فَجَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَوْبًا لِكُلِّ رَجُلٍ مِنَّا يَوْمًا وَلَيْلَةً ، فَخَرَجْنَا بِهَا حَتَّى قَدِمْنَا بَلَدَنَا فَعَمِلْنَا الَّذِي أَمَرَنَا ، وَرَاهِبُ ذَلِكَ الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ طَيِّئٍ ، فَنَادَيْنَا بِالصَّلاةِ ، فَقَالَ الرَّاهِبُ : دَعْوَةُ حَقٍّ ، ثُمَّ هَرَبَ فَلَمْ يُرَ بَعْدُ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ طَلْقَ بْنَ عَلِيٍّ رَجَعَ إِلَى بَلَدِهِ بَعْدَ الْقِدْمَةِ الَّتِي ذَكَرْنَا وَقْتَهَا ، ثُمَّ لا يُعْلَمُ لَهُ رُجُوعٌ إِلَى الْمَدِينَةِ بَعْدَ ذَلِكَ . فَمَنِ ادَّعَى رُجُوعَهُ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَعَلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَ بِسُنَّةٍ مُصَرِّحَةٍ ، وَلا سَبِيلَ لَهُ إِلَى ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن طلق اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ہم چھ افراد وفد کی شکل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، پانچ افراد کا تعلق بنو حنیفہ سے تھا اور ایک شخص کا تعلق بنو ضبیعہ بن ربیعہ سے تھا۔ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے آپ کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کیا اور آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ ہم نے آپ کو بتایا کہ ہمارے علاقے میں ایک گرجا گھر ہے، ہم نے آپ سے یہ درخواست کی کہ آپ اپنے وضو کا بچا ہوا پانی ہمیں عنایت کریں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، آپ نے اس کے ذریعے وضو کیا، کلی کی، پھر آپ نے ہمارے لیے ایک برتن میں پانی انڈیل دیا، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”اس پانی کو لے جاؤ، جب تم اپنے علاقے میں جاؤ تو گرجا گھر کو توڑ دینا اور اس جگہ پر اس پانی کو چھڑک دینا اور اس جگہ پر مسجد بنا دینا۔“ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارا علاقہ بہت دور ہے، پانی خشک ہو جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اس میں پانی ملاتے رہنا، اس کے نتیجے میں اس کی پاکیزگی میں اضافہ ہی ہو گا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ہم لوگ وہاں سے روانہ ہوئے، تو ہمارے درمیان اس بارے میں اختلاف ہو گیا کہ پانی کے اس برتن کو کون اٹھائے گا؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے ہر ایک شخص کے لیے ایک دن اور ایک رات کی باری مقرر کر دی۔ ہم لوگ اسے لے کر روانہ ہوئے، یہاں تک کہ اپنے علاقے میں آئے۔ ہم نے وہی کام کیا جس کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہدایت کی تھی۔ اس قوم کا راہب طے قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا، جب ہم نے نماز کے لیے اذان دی تو راہب نے کہا: یہ حق کی دعوت ہے، پھر وہ بھاگ گیا، اس کے بعد وہ نظر نہیں آیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے، سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کے بعد اپنے علاقے واپس چلے گئے تھے۔ یہ اس وقت کی بات ہے، جس کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ اس کے بعد ان کے دوبارہ مدینہ منورہ میں آنے کے بارے میں پتا نہیں چل سکا۔ جو شخص ان کے دوبارہ مدینہ منورہ میں آنے کا دعویٰ کرتا ہے اس پر یہ بات لازم ہے کہ وہ کوئی ایسی حدیث بیان کرے جس میں اس بات کی صراحت موجود ہو اور یہ حدیث اسے مل نہیں سکتی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1123]