Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 65 · Chapter 3

The Book of the Prophet's Reports on the Virtues of the Companions

Hadith 7428–7467

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

7428

Sahih Ibn Hibban #7428

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُمْ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَكُونُ فِي النَّارِ قَوْمٌ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ يَرْحَمُهُمُ اللَّهُ ، ثُمَّ يُخْرِجُهُمْ ، فَيَكُونُونَ فِي أَدْنَى الْجَنَّةِ ، فَيُغَسَّلُونَ فِي عَيْنِ الْحَيَاةِ ، فَيُسَمِّيهِمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ : الْجَهَنَّمِيُّونَ ، لَوْ طَافَ بِأَحَدِهِمْ أَهْلُ الدُّنْيَا ، لأَطْعَمَهُمْ ، وَسَقَاهُمْ ، وَفَرَشَهُمْ ، قَالَ : وَأَحْسِبُهُ قَالَ : وَزَوَّجَهُمْ لا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کچھ لوگ جہنم میں ہوں گے جب تک اللہ نے چاہا وہ اس میں رہیں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے گا اور انہیں باہر نکالے گا، یہ لوگ جنت میں کمتر درجے کے لوگ ہوں گے۔ انہیں چشمہِ حیات میں غسل دیا جائے گا، اہل جنت ان کا نام جہنمی رکھیں گے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک تمام اہل دنیا کے پاس آئے تو ان سب کو کھلا سکتا ہے، پلا سکتا ہے، ان سب کو بستر دے سکتا ہے (راوی کہتے ہیں) میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں، وہ ان کی شادیاں کروا سکتا ہے، پھر بھی اس کے پاس جو نعمتیں ہوں گی ان میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7428]

7429

Sahih Ibn Hibban #7429

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ ؟ " ، قَالُوا : لا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ ؟ " ، قَالُوا : لا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَقُولُ : مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْهُ ، فَيَتَّبِعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الشَّمْسَ الشَّمْسَ ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ الْقَمَرَ الْقَمَرَ ، وَيَتَّبِعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ الطَّوَاغِيتَ ، وَتَبْقَى هَذِهِ الأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا ، فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا فِي غَيْرِ صُورَتِهِ الَّتِي يَعْرِفُونَ ، فَيَقُولُ : أَنَا رَبُّكُمْ ، فَيَقُولُونَ : نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ، هَذَا مَقَامُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا ، فَإِذَا جَاءَنَا رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ ، قَالَ : فَيَأْتِيهِمْ فِي الصُّورَةِ الَّتِي يَعْرِفُونَ ، فَيَقُولُ : أَنَا رَبُّكُمْ ، فَيَقُولُونَ : أَنْتَ رَبُّنَا ، وَيُضْرَبُ جِسْرٌ عَلَى جَهَنَّمَ " ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَجُوزُهُ ، وَدَعْوَةُ الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ : اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ ، وَبِهِ كَلالِيبُ مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ ، هَلْ تَدْرُونَ شَوْكَ السَّعْدَانِ ؟ " ، قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ غَيْرَ أَنَّهُ لا يَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِهَا إِلا اللَّهُ ، فَتَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ ، فَمِنْهُمُ الْمُوبَقُ بِعَمَلِهِ ، وَمِنْهُمُ الْمُخَرْدَلُ ، ثُمَّ يَنْجُو ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ اللَّهُ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ عِبَادِهِ ، وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ مِنَ النَّارِ ، مَنْ أَرَادَ مِمَّنْ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ أَمَرَ اللَّهُ الْمَلائِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوهُمْ ، فَيَعْرِفُونَهُمْ بِعَلامَةِ آثَارِ السُّجُودِ ، قَالَ : وَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ مِنِ ابْنِ آدَمَ أَثَرَ السُّجُودِ ، قَالَ : فَيُخْرِجُونَهُمْ قَدِ امْتُحِشُوا فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَاءٌ ، يُقَالُ لَهُ : مَاءُ الْحَيَاةِ ، فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحَبَّةِ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ " ، قَالَ : " وَيَبْقَى رَجُلٌ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ عَلَى النَّارِ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا ، وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا ، فَاصْرِفْ وَجْهِي عَنِ النَّارِ ، فَلا يَزَالُ يَدْعُو ، فَيَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : فَلَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ ؟ فَيَقُولُ : لا وَعِزَّتِكَ ، لا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ ، فَيَصْرِفُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ ، ثُمَّ يَقُولُ بَعْدَ ذَلِكَ : يَا رَبِّ ، قَرِّبْنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ ، فَيَقُولُ جَلَّ وَعَلا : أَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لا تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ ؟ وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ ! فَلا يَزَالُ يَدْعُو ، فَيَقُولُ جَلَّ وَعَلا : فَلَعَلَّكَ إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ ؟ فَيَقُولُ : لا وَعِزَّتِكَ لا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ ، وَيُعْطِي اللَّهَ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ أَنْ لا يَسْأَلَهُ غَيْرَهُ ، فَيُقَرِّبُهُ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ ، فَلَمَّا قَرَّبَهُ مِنْهَا انْفَهَقَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ، فَإِذَا رَأَى مَا فِيهَا سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ ، ثُمَّ يَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ ، فَيَقُولُ جَلَّ وَعَلا : أَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لا تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ ؟ وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ ! فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، لا تَجْعَلْنِي أَشْقَى خَلْقِكَ ، قَالَ : فَلا يَزَالُ يَدْعُو حَتَّى يَضْحَكَ جَلَّ وَعَلا ، فَإِذَا ضَحِكَ مِنْهُ ، أَذِنَ لَهُ بِالدُّخُولِ دُخُولِ الْجَنَّةِ ، فَإِذَا دَخَلَ قِيلَ لَهُ : تَمَنَّ كَذَا ، وَتَمَنَّ كَذَا ، فَيَتَمَنَّى حَتَّى تَنْقَطِعَ بِهِ الأَمَانِيُّ ، فَيَقُولُ جَلَّ وَعَلا : هُوَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ " ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " هُوَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ " ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : حَفِظْتُ : " هُوَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَذَلِكَ الرَّجُلُ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں بادل کے بغیر سورج کو دیکھنے میں کچھ مشکل پیش آتی ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: جی نہیں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں بادل کے بغیر چودھویں رات کا چاند دیکھنے میں کچھ مشکل پیش آتی ہے؟“ تو لوگوں نے عرض کی: جی نہیں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اسی طرح قیامت کے دن اپنے پروردگار کا دیدار کرو گے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا اور یہ فرمائے گا: جو جس کی عبادت کرتا تھا وہ اس کے پیچھے چلا جائے، چنانچہ جو لوگ سورج کی عبادت کرتے تھے وہ سورج کے پیچھے چلے جائیں گے، جو چاند کی عبادت کرتے تھے وہ چاند کے پیچھے چلے جائیں گے، جو بتوں کی عبادت کرتے تھے وہ بتوں کے پیچھے چلے جائیں گے اور پھر یہ امت باقی رہ جائے گی، جس میں اس کے منافقین بھی ہوں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس اس سے مختلف صورت میں آئے گا جس سے وہ واقف ہوں گے، وہ فرمائے گا: میں تمہارا پروردگار ہوں، تو وہ یہ کہیں گے: ہم تم سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہم یہیں رہیں گے جب تک ہمارا پروردگار ہمارے پاس نہیں آتا، جب ہمارا پروردگار ہمارے پاس آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان کا پروردگار ان کے پاس اس صورت میں آئے گا جس سے وہ واقف ہوں گے اور یہ فرمائے گا: میں تمہارا پروردگار ہوں، تو وہ کہیں گے: تو ہمارا پروردگار ہے، پھر جہنم پر پل لگایا جائے گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے پہلے میں اسے عبور کروں گا، اس دن تمام رسول یہی دعا کر رہے ہوں گے: «اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ» ”اے اللہ! سلامتی عطا کرنا، اے اللہ! سلامتی عطا کرنا“ اور اس پل پر کچھ آنکڑے لگے ہوئے ہوں گے جو سعدان نامی پودے کے کانٹوں کی طرح ہوں گے، کیا تم جانتے ہو سعدان کے کانٹے کیسے ہیں؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سعدان کے کانٹوں کی مانند ہوں گے، البتہ ان کے حجم کے بارے میں صرف اللہ جانتا ہے اور وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے حساب سے اچک لیں گے، تو کوئی شخص اپنے عمل کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہو گا، اور کوئی (جہنم کے اندر) گر جائے گا اور پھر نجات پائے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر کے فارغ ہو جائے گا، اور اس بات کا ارادہ کرے گا کہ جہنم سے ان لوگوں کو نکالے جو اس بات کی گواہی دیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں اور اللہ تعالیٰ فرشتوں کو یہ حکم دے گا کہ وہ ان لوگوں کو نکال لیں، تو فرشتے انہیں سجدوں کے نشانات کی علامت کے ذریعے پہچان لیں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے جہنم کے لیے یہ چیز حرام قرار دی ہے کہ وہ ابن آدم کے سجدوں کے نشان کو کھا لے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”وہ لوگ انہیں نکالیں گے جبکہ وہ لوگ جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے، ان پر پانی بہایا جائے گا، جسے آبِ حیات کہا جاتا ہے، تو وہ یوں اگ جائیں گے، جس طرح سیلابی پانی کے راستے میں دانہ اگتا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں سے ایک شخص باقی رہ جائے گا، جو اپنے چہرے کے بل جہنم کی طرف ہو گا اور عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! اس کی بدبو نے مجھے تنگ کیا ہوا ہے اور اس کی گرمی مجھے جلا رہی ہے، میرا چہرہ جہنم کی طرف سے پھیر دے، وہ مسلسل دعا کرتا رہے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اگر میں نے تمہیں یہ چیز عطا کر دی، تو پھر تم نے مجھ سے کوئی اور چیز نہیں مانگنی؟ وہ عرض کرے گا: تیری عزت کی قسم! میں اس کے علاوہ تجھ سے کچھ نہیں مانگوں گا، اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے پھیر دے گا۔ اس کے بعد وہ شخص عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تم نے یہ نہیں کہا تھا کہ تم اس کے علاوہ مجھ سے کچھ اور نہیں مانگو گے؟ اے ابن آدم! تمہارے لیے بربادی ہے، تم کتنے وعدہ خلاف ہو! اس کے بعد وہ شخص مسلسل دعا کرتا رہے گا، پروردگار فرمائے گا: اگر میں نے تمہیں یہ چیز عطا کر دی، تو پھر اس کے علاوہ تم مجھ سے کچھ نہیں مانگنا، وہ عرض کرے گا: تیری عزت کی قسم! میں اس کے علاوہ تجھ سے کچھ نہیں مانگوں گا، پھر وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ پختہ عہد کرے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کچھ اور نہیں مانگے گا تو اللہ تعالیٰ اسے جنت کے دروازے کے قریب کر دے گا۔ جب اللہ تعالیٰ اسے جنت کے دروازے کے قریب کر دے گا تو جنت اس کے سامنے آئے گی پھر وہ اس میں موجود (نعمتوں کو) دیکھے گا، اور جتنا اللہ کو منظور ہو گا اتنی دیر خاموش رہے گا پھر عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! مجھے جنت میں داخل کر دے، پروردگار فرمائے گا: کیا تم نے یہ نہیں کہا تھا کہ تم اس کے علاوہ مجھ سے کچھ نہیں مانگو گے؟ اے ابن آدم! تمہاری بربادی ہے تم کتنے وعدہ خلاف ہو، وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! مجھے اپنی مخلوق کا سب سے بدبخت شخص نہ بنا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”وہ مسلسل دعا کرتا رہے گا یہاں تک کہ پروردگار ہنس دے گا، جب وہ اس پر ہنس پڑے گا تو وہ اسے جنت میں داخل ہونے کی اجازت دے گا، جب وہ جنت میں داخل ہو گا، تو اس سے کہا جائے گا: اتنی آرزو کرو، اتنی آرزو کرو، وہ آرزو کرے گا یہاں تک کہ اس کی آرزوئیں ختم ہو جائیں گی، پروردگار فرمائے گا: تمہیں یہ سب کچھ ملتا ہے اور اس کی مانند مزید ملتا ہے۔“ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”تمہیں یہ ملتا ہے اور اس کی مانند دس گنا ملتا ہے“، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے یہ الفاظ یاد ہیں کہ: ”تمہیں یہ ملتا ہے اور اس کی مانند مزید ملتا۔“ یہ وہ شخص ہے جو جنت میں سب سے آخر میں داخل ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7429]

7430

Sahih Ibn Hibban #7430

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّآخِرَ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ يُمْشِي عَلَى الصِّرَاطِ ، فَهُوَ يَكْبُو مَرَّةً ، وَتَسْفَعُهُ النَّارُ أُخْرَى ، حَتَّى إِذَا جَاوَزَهَا الْتَفَتَ إِلَيْهَا ، فَيَقُولُ : تَبَارَكَ الَّذِي نَجَّانِي مِنْهَا ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَانِي شَيْئًا مَا أَعْطَاهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ ، قَالَ : ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَدْنِنِي مِنْهَا ، لَعَلِّي أَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا ، قَالَ : فَيَقُولُ اللَّهُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، لَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُكَهُ سَأَلْتَنِي غَيْرَهَا ، فَيَقُولُ : لا يَا رَبِّ ، وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لا يَفْعَلَ ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ فَاعِلُهُ لِمَا يَرَى مِمَّا لا صَبَرَ لَهُ عَلَيْهِ ، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا ، فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا ، وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا ، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ أُخْرَى هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الأُولَى ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَدْنِنِي مِنْهَا لأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا ، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا ، فَيَقُولُ : أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا ؟ فَيَقُولُ : بَلَى يَا رَبِّ ، وَلَكِنْ أَدْنِنِي مِنْهَا لأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا ، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا ، فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا ، فَيُدْنِيهِ ، مِنْهَا ، وَيَعْلَمُ أَنَّهُ سَيَسْأَلُهُ غَيْرَهَا لِمَا يَرَى مَا لا صَبَرَ لَهُ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ أُخْرَى عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الأُولَيَيْنِ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَدْنِنِي مِنْهَا لأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا ، فَيَقُولُ : أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا ؟ فَيَقُولُ : بَلَى يَا رَبِّ ، وَلَكِنْ أَدْنِنِي مِنْهَا ، فَإِذَا دَنَا مِنْهَا ، سَمِعَ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ ، فَيَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : أَيُرْضِيكَ يَا ابْنَ آدَمَ أَنْ أُعْطِيكَ الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا ، فَيَقُولُ : أَتَسْتَهْزِئُ بِي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ ! فَيَقُولُ : مَا أَسْتَهْزِئُ بِكَ ، وَلَكِنَّنِي عَلَى مَا أَشَاءُ قَادِرٌ " ، قَالَ : فَكَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ إِذَا ذَكَرَ قَوْلَهُ : " أَتَسْتَهْزِئُ بِي ؟ " ، ضَحِكَ ، ثُمَّ قَالَ : أَلا تَسْأَلُونِي مِمَّا أَضْحَكُ ؟ فَقِيلَ : مِمَّا تَضْحَكُ ؟ فَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ ذَلِكَ ضَحِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والا وہ شخص ہو گا، جو پل صراط پر چہرے کے بل چل رہا ہو گا۔ آگ اسے جھلسائے گی، یہاں تک کہ جب وہ پل صراط کو عبور کر لے گا، تو اس کی طرف رخ کر کے کہے گا: بابرکت ہے وہ ذات جس نے مجھے اس سے نجات عطا کی۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ چیز عطا کی ہے جو اس نے تمام جہانوں میں کسی کو بھی عطا نہیں کی۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر اس کے سامنے ایک درخت آئے گا، وہ کہے گا: اے میرے پروردگار! مجھے اس کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سائے میں آ جاؤں اور اس کے پانی کو پیوں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پروردگار فرمائے گا: اے ابن آدم! اگر میں نے تمہیں یہ چیز دے دی تو تم مجھ سے کچھ اور بھی مانگو گے۔ وہ عرض کرے گا: جی نہیں میرے پروردگار، پھر وہ معاہدہ کرے گا کہ وہ ایسا نہیں کرے گا، حالانکہ پروردگار یہ بات جانتا ہے کہ وہ ایسا کرے گا؛ کیونکہ اس کو اس پر بھی صبر نہیں ہونا۔ پروردگار اسے اس درخت کے قریب کر دے گا۔ وہ اس کے سائے میں آئے گا، اس کے پانی کو پیے گا۔ پھر اس کے سامنے ایک اور درخت آئے گا، وہ پہلے والے سے زیادہ اچھا ہو گا، تو وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! مجھے اس کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سائے میں آ جاؤں اور اس کے پانی کو پیوں۔ پروردگار فرمائے گا: کیا تم نے مجھ سے یہ معاہدہ نہیں کیا تھا کہ تم مجھ سے کچھ اور نہیں مانگو گے؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں اے میرے پروردگار! لیکن تو مجھے اس کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سائے میں آؤں اور اس کا پانی پیوں، تو وہ پروردگار سے یہ عہد کرے گا کہ وہ اس کے علاوہ کچھ اور نہیں مانگے گا۔ پروردگار اسے قریب کر دے گا، حالانکہ پروردگار کو یہ معلوم ہو گا کہ وہ اس کے علاوہ بھی مانگے گا؛ کیونکہ پروردگار کو پتہ ہے کہ اس سے اتنا صبر نہیں ہونا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر اس کے سامنے جنت کے دروازے کے قریب ایک اور درخت آئے گا، جو پہلے والے دونوں درختوں سے زیادہ خوب صورت ہو گا۔ وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سائے میں آؤں اور اس کے پانی کو پیوں۔ پروردگار فرمائے گا: کیا تم نے مجھ سے معاہدہ نہیں کیا تھا کہ مجھ سے اس کے علاوہ تم کچھ نہیں مانگو گے؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں میرے پروردگار! لیکن تو مجھے اس کے قریب کر دے۔ جب وہ اس کے قریب ہو گا تو اہل جنت کی آوازیں سنے گا تو عرض کرے گا: اے پروردگار! مجھے جنت میں داخل کر دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے ابن آدم! کیا یہ چیز تمہیں راضی کرے گی کہ میں تمہیں دنیا اور اس کی مانند مزید دے دوں؟ تو وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! کیا تو میرے ساتھ مذاق کر رہا ہے جبکہ تو تمام جہانوں کا پروردگار ہے؟ تو پروردگار فرمائے گا: میں تمہارے ساتھ مذاق نہیں کر رہا، لیکن میں جو چاہوں اس کو کرنے پر قادر ہوں۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب یہ الفاظ ذکر کرتے: ”کیا تو میرے ساتھ مذاق کر رہا ہے“، تو مسکرا دیتے، پھر وہ یہ فرماتے تھے: ”تم لوگ مجھ سے اس بارے میں دریافت نہیں کرو گے کہ میں کس بات پر ہنسا ہوں؟“ ان سے دریافت کیا گیا: آپ کس بات پر ہنسے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس کا ذکر کرتے تھے تو مسکرا دیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7430]

7431

Sahih Ibn Hibban #7431

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّيلأَعْرِفُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنْهَا زَحْفًا ، فَيُقَالُ لَهُ : انْطَلِقْ ، فَادْخُلِ الْجَنَّةَ ، قَالَ : فَيَذْهَبُ ، فَيَدْخُلُ ، فَيَجِدُ النَّاسَ قَدِ أَخَذُوا الْمَنَازِلَ ، قَالَ : فَيَرْجِعُ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، قَدْ أَخَذَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ ، قَالَ : فَيُقَالُ لَهُ : أَتَذْكُرُ الزَّمَانَ الَّذِي كُنْتَ فِيهِ فِي الدُّنْيَا ؟ قَالَ : فَيَقُولُ : نَعَمْ ، فَيُقَالُ لَهُ : تَمَنَّ ، فَيَتَمَنَّى ، فَيُقَالُ لَهُ : لَكَ الَّذِي تَمَنَّيْتَ وَعَشَرَةَ أَضْعَافِ الدُّنْيَا ، قَالَ : فَيَقُولُ : أَتَسْخَرُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ ؟ " ، قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جہنم سے نکلنے والے آخری جہنمی سے واقف ہوں، وہ ایسا شخص ہے جو گھسٹ کر باہر آئے گا، تو اسے کہا جائے گا: تم جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”وہ جائے گا اور داخل ہوگا تو لوگوں کو پائے گا کہ انہوں نے اپنی اپنی جگہ حاصل کر لی ہے، وہ واپس آئے گا اور عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! لوگوں نے اپنی رہائش گاہیں حاصل کر لی ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس سے کہا جائے گا: کیا تمہیں وہ زمانہ یاد ہے جب تم دنیا میں ہوا کرتے تھے؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں، تو اس سے کہا جائے گا: تم آرزو کرو۔ وہ آرزو کرے گا، تو اس سے کہا جائے گا: تم نے جو آرزو کی ہے وہ تمہیں ملتا ہے اور اس کے ہمراہ مزید ملتا ہے، تو وہ عرض کرے گا: کیا تو میرے ساتھ مذاق کر رہا ہے جبکہ تو بادشاہ ہے؟“ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کے دندانِ مبارک نظر آنے لگے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7431]

7432

Sahih Ibn Hibban #7432

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانِ بْنِ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ أَبِي رَوْقٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي طَرِيفٍ ، قَالَ : قُلْتُ لأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي هَذِهِ الآيَةِ : رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمَيْنَ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : يُخْرِجُ اللَّهُ أُنَاسًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ مِنَ النَّارِ بَعْدَمَا يَأْخُذُ نِقْمَتَهُ مِنْهُمْ ، قَالَ : لَمَّا أَدْخَلَهُمُ اللَّهُ النَّارَ مَعَ الْمُشْرِكِينَ ، قَالَ الْمُشْرِكُونَ : أَلَيْسَ كُنْتُمْ تَزْعُمُونَ فِي الدُّنْيَا أَنَّكُمْ أَوْلِيَاءُ ، فَمَا لَكُمْ مَعَنَا فِي النَّارِ ؟ فَإِذَا سَمِعَ اللَّهُ ذَلِكَ مِنْهُمْ ، أَذِنَ فِي الشَّفَاعَةِ ، فَيَتَشَفَّعُ لَهُمُ الْمَلائِكَةُ وَالنَّبِيُّونَ حَتَّى يَخْرُجُوا بِإِذْنِ اللَّهِ ، فَلَمَّا أُخْرِجُوا ، قَالُوا : يَا لَيْتَنَا كُنَّا مَثَلَهُمْ ، فَتُدْرِكُنَا الشَّفَاعَةُ ، فَنُخْرَجُ مِنَ النَّارِ ، فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا : رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمَيْنِ ، قَالَ : فَيُسَمَّوْنَ فِي الْجَنَّةِ الْجَهَنَّمِيِّينَ مِنْ أَجْلِ سَوَادٍ فِي وُجُوهِهِمْ ، فَيَقُولُونَ : رَبَّنَا أَذْهِبْ عَنَّا هَذَا الاسْمَ ، قَالَ : فَيَأْمُرُهُمْ فَيَغْتَسِلُونَ فِي نَهْرِ الْجَنَّةِ ، فَيَذْهَبُ ذَلِكَ مِنْهُمْ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صالح بن ابوطریف بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت ﴿عنقریب وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا وہ یہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے﴾ [سورة الحجر: 2] کے بارے میں کچھ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے؟ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بتایا: جی ہاں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ مومنین میں سے کچھ لوگوں کو جہنم سے نکالے گا، یہ اس کے بعد ہو گا کہ جب وہ انہیں سزا دے چکا ہو گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو مشرکین کے ہمراہ جہنم میں داخل کیا ہو گا تو مشرکین یہ کہیں گے: کیا تم دنیا میں یہ نہیں کہتے تھے کہ تم دوست ہو، تو پھر تم جہنم میں ہمارے ساتھ کیوں ہو؟ جب اللہ تعالیٰ یہ بات سنے گا، تو وہ شفاعت کرنے کی اجازت دے گا، تو فرشتے اور انبیاء ان لوگوں کی شفاعت کریں گے یہاں تک کہ وہ لوگ اللہ کے حکم کے تحت (جہنم سے) باہر آ جائیں گے۔ جب انہیں نکال دیا جائے گا تو وہ لوگ کہیں گے: اے کاش! ہم بھی ان کی مانند ہوتے اور ہمیں بھی شفاعت نصیب ہو جاتی اور ہم بھی جہنم سے نکل جاتے، تو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿کفر کرنے والے لوگ عنقریب یہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے﴾ [سورة الحجر: 2] سے یہی مراد ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان لوگوں کا جنت میں نام ”جہنمی“ رکھا جائے گا کیونکہ ان کے چہرے سیاہ ہو چکے ہوں گے۔ وہ عرض کریں گے: اے ہمارے پروردگار! ہم سے اس نام کو دور کر دے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو پروردگار انہیں حکم دے گا وہ جنت کی نہر میں غسل کریں گے، تو ان کی یہ (سیاہی) ختم ہو جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7432]

7433

Sahih Ibn Hibban #7433

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَكُونُ قَوْمٌ فِي النَّارِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونُوا ، ثُمَّ يَرْحَمُهُمُ اللَّهُ ، فَيُخْرِجُهُمْ مِنْهَا ، فَيَكُونُونَ فِي أَدْنَى الْجَنَّةِ فِي نَهْرٍ يُقَالُ لَهُ : الْحَيَوَانُ ، لَوِ اسْتَضَافَهُمْ أَهْلُ الدُّنْيَا ، لأَطْعَمُوهُمْ وَسَقُوهُمْ وَأَتْحَفُوهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کچھ لوگ جہنم میں جتنا عرصہ اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا اتنا عرصہ رہیں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے گا اور انہیں جہنم سے نکال دے گا اور وہ جنت کے زیریں حصے میں ایک نہر میں آئیں گے جس کا نام «الْحَيَوَان» ”حیوان“ ہوگا۔ اگر تمام اہل دنیا ان کے مہمان بن جائیں تو وہ ان سب کو کھلا دیں، پلا دیں اور انہیں تحفے دیں (پھر بھی ان کے پاس موجود نعمتیں ختم نہیں ہوں گی)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7433]

7434

Sahih Ibn Hibban #7434

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ ، حُبِسُوا بِقَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، فَيَقَاصُّونَ مَظَالِمَ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا ، حَتَّى إِذَا نُقُّوا وَهُذِّبُوا ، أُذِنَ لَهُمْ بِدُخُولِ الْجَنَّةِ ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لأَحَدُهُمْ بِمَسْكَنِهِ فِي الْجَنَّةِ أَدَلُّ بِمَنْزِلِهِ كَانَ فِي الدُّنْيَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب اہل ایمان جہنم سے نجات پا لیں گے، تو انہیں جنت اور جہنم کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا اور ان کے درمیان آپس میں دنیا میں جو زیادتیاں ہوئی تھیں ان کا بدلہ دلوایا جائے گا، یہاں تک کہ جب وہ پاک و صاف ہو جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، جنت میں (داخل ہونے والا شخص) اپنے مخصوص ٹھکانے سے اس سے زیادہ واقف ہو گا جتنا وہ دنیا میں اپنے گھر سے واقف تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7434]

7435

Sahih Ibn Hibban #7435

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَهْلُ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ ، وَيَشْرَبُونَ ، وَلا يَبُولُونَ ، وَلا يَتَغَوَّطُونَ ، وَلا يَتَمَخَّطُونَ ، وَلا يَبْزُقُونَ ، يُلْهَمُونَ الْحَمْدَ وَالتَّسْبِيحَ كَمَا يُلْهَمُونَ النَّفَسَ ، طَعَامُهُمْ لَهُ جُشَاءٌ ، وَرِيحُهُمُ الْمِسْكُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اہلِ جنت کھائیں گے اور پیئیں گے لیکن وہ پیشاب اور پاخانہ نہیں کریں گے، بلغم نہیں نکالیں گے، تھوک نہیں پھینکیں گے۔ انہیں حمد اور تسبیح یوں الہام کی جائے گی جس طرح سانس لینا الہام کیا جاتا ہے اور ان کا کھانا ڈکار کی شکل میں (ختم ہو جائے گا) اس کی خوشبو مشک کی طرح ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7435]

7436

Sahih Ibn Hibban #7436

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَلِجُ الْجَنَّةَ صُوَرُهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، لا يَبْصُقُونَ فِيهَا ، وَلا يَمْتَخِطُونَ فِيهَا ، وَلا يَتَغَوَّطُونَ فِيهَا ، آنِيَتُهُمْ ، وَأَمْشَاطُهُمْ ، مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ ، وَمَجَامِرُهُمُ الأَلُوَّةُ ، وَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ يُرَى مُخُّ سُوقِهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ ، لا اخْتِلافَ بَيْنَهُمْ ، وَلا تَبَاغُضَ ، قُلُوبُهُمْ عَلَى قَلْبٍ وَاحِدٍ يُسَبِّحُونَ اللَّهَ بَكْرَةً وَعَشِيًّا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنت میں داخل ہونے والے سب سے پہلے گروہ کی شکلیں چودھویں رات کے چاند کی مانند ہوں گی، وہ لوگ جنت میں تھوکیں گے نہیں، بلغم نہیں نکالیں گے، پاخانہ نہیں کریں گے۔ ان کے برتن اور کنگھیاں سونے اور چاندی سے بنی ہوئی ہوں گی، ان کی انگیٹھیوں میں عود سلگے گا، ان میں سے ہر شخص کی دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلی کا مغز گوشت کے اندر سے بھی نظر آئے گا۔ ان لوگوں کے درمیان آپس میں کوئی اختلاف نہیں ہوگا، ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے بغض نہیں ہوگا اور ان سب کے دلوں کی حیثیت ایک جیسی ہوگی۔ وہ صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کریں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7436]

7437

Sahih Ibn Hibban #7437

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى صُورَةِ أَشَدِّ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ لا يَبُولُونَ ، وَلا يَتَغَوَّطُونَ ، وَلا يَتْفُلُونَ ، وَلا يَمْتَخِطُونَ ، أمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ ، وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ ، وَمَجَامِرُهُمُ الأَلُوَّةُ ، وَأَزْوَاجُهُمُ الْحُورُ الْعَيْنُ ، وَأَخْلاقُهُمْ عَلَى خُلُقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ ، عَلَى صُورَةِ أَبِيهِمْ سِتُّونَ ذِرَاعًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنت میں داخل ہونے والا سب سے پہلا گروہ چودھویں رات کے چاند کی مانند ہو گا، پھر اس کے بعد والے لوگ آسمان میں موجود سب سے زیادہ چمکدار ستارے کی مانند ہوں گے۔ وہ لوگ (جنت میں) پیشاب نہیں کریں گے، پاخانہ نہیں کریں گے، تھوک نہیں پھینکیں گے، بلغم نہیں نکالیں گے۔ ان کی کنگھیاں سونے سے بنی ہوئی ہوں گی اور ان کا پسینہ مشک کا ہو گا۔ ان کی انگیٹھیوں میں عود سلگے گا۔ ان کی بیویاں حورِ عین ہوں گی اور ان کی جسامت ان کے جدِ امجد (سیدنا آدم علیہ السلام) کی طرح ساٹھ گز ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7437]

7438

Sahih Ibn Hibban #7438

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ بِنَسَا ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ ، وَعُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ فِي آخَرِينَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي الْعِشْرِينَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ فِي سُوقِ الْجَنَّةِ ، قَالَ سَعِيدٌ : أَوَ فِيهَا سُوقٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّأَهْلَ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلُوهَا ، نَزَلُوا فِيهَا بِفَضْلِ أَعْمَالِهِمْ ، فَيُؤْذَنُ لَهُمْ فِي مِقْدَارِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا ، فَيَزُورُونَ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا ، وَيُبْرِزُ لَهُمْ عَرْشَهُ ، وَيَبْتَدِي لَهُمْ فِي رَوْضَةٍ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ ، فَيُوضَعُ لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ ، وَمَنَابِرُ مِنْ لُؤْلُؤٍ ، وَمَنَابِرُ مِنْ يَاقُوتٍ ، وَمَنَابِرُ مِنْ زَبَرْجَدٍ ، وَمَنَابِرُ مِنْ ذَهَبٍ ، وَمَنَابِرُ مِنْ فِضَّةٍ ، وَيَجْلِسُ أَدْنَاهُمْ وَمَا فِيهِمْ دَنِيٌّ عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ وَالْكَافُورِ ، مَا يَرَوْنَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَرَاسِيِّ أَفْضَلُ مِنْهُمْ مَجْلِسًا " ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَهَلْ نَرَى رَبَّنَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، هَلْ تَتَمَارَوْنَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ؟ " ، قُلْنَا : لا ، قَالَ : " كَذَلِكَ لا تَتَمَارَوْنَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ ، وَلا يَبْقَى فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ أَحَدٌ إِلا حَاصَرَهُ اللَّهُ مُحَاصَرَةً ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَقُولُ لِلرَّجُلِ مِنْهُمْ : يَا فُلانُ ، أَتَذْكُرُ يَوْمَ عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا ؟ يُذَكِّرُهُ بَعْضَ غَدَرَاتِهِ فِي الدُّنْيَا ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَفَلَمْ تَغْفِرْ لِي ؟ فَيَقُولُ : بَلَى ، فَبِسَعَةِ مَغْفِرَتِي بَلَغْتَ مَنْزِلَتَكَ هَذِهِ ، قَالَ : فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ غَشِيَتْهُمْ سَحَابَةٌ مِنْ فَوْقِهِمْ ، فَأَمْطَرَتْ عَلَيْهِمْ طِيبًا لَمْ يَجِدُوا مِثْلَ رِيحِهِ شَيْئًا قَطُّ ، ثُمَّ يَقُولُ جَلَّ وَعَلا : قُومُوا إِلَى مَا أَعْدَدْتُ لَكُمْ مِنَ الْكَرَامَةِ ، فَخُذُوا مَا اشْتَهَيْتُمْ ، قَالَ : فَنَأْتِي سُوقًا قَدْ حُفَّتْ بِهِ الْمَلائِكَةُ مَا لَمْ تَنْظُرِ الْعُيُونُ إِلَى مِثْلِهِ ، وَلَمْ تَسْمَعِ الآذَانُ ، وَلَمْ يَخْطُرْ عَلَى الْقُلُوبِ ، قَالَ : فَيُحْمَلُ لَنَا مَا اشْتَهَيْنَا ، لَيْسَ يُبَاعُ فِيهِ شَيْءٌ وَلا يُشْتَرَى ، وَفِي ذَلِكَ السُّوقِ يَلْقَى أَهْلُ الْجَنَّةِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا ، قَالَ : فَيُقْبِلُ الرَّجُلُ ذُو الْمَنْزِلَةِ الْمُرْتَفِعَةِ ، فَيَلْقَى مَنْ هُوَ دُونَهُ ، وَمَا فِيهِمْ دَنِيٌّ ، فَيَرُوعُهُ مَا يَرَى عَلَيْهِ مِنَ اللِّبَاسِ ، فَمَا يَنْقَضِي آخِرُ حَدِيثِهِ حَتَّى يَتَمَثَّلَ عَلَيْهِ بِأَحْسَنَ مِنْهُ ، وَذَلِكَ أَنَّهُ لا يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يَحْزَنَ فِيهَا ، قَالَ : ثُمَّ نَنْصَرِفُ إِلَى مَنَازِلِنَا ، فَتَلْقَانَا أَزْوَاجُنَا ، فَيَقُلْنَ : مَرْحَبًا وَأَهْلا بِحِبِّنَا ، لَقَدْ جِئْتَ ، وَإِنَّ بِكَ مِنَ الْجَمَالِ وَالطِّيبِ أَفْضَلَ مِمَّا فَارَقْتَنَا عَلَيْهِ ، فَيَقُولُ : إِنَّا جَالَسْنَا الْيَوْمَ رَبَّنَا الْجَبَّارَ ، وَيَحُقُّنَا أَنْ نَنْقَلِبَ بِمِثْلِ مَا انْقَلَبْنَا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لَفْظُ الْخَبَرِ لِلْحَسَنِ بْنِ سُفْيَانَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن مسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی ملاقات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اور تمہیں جنت کے بازار میں اکٹھا کرے۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے دریافت کیا: کیا جنت میں بازار ہوں گے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات بتائی ہے: ”جب اہل جنت، جنت میں داخل ہو جائیں گے تو وہ اپنے اعمال کے فضائل کے حساب سے اس میں رہائش اختیار کریں گے۔ دنیاوی دنوں کے اعتبار سے جمعے کے دن انہیں اجازت دی جائے گی تو وہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنے کے لیے آئیں گے اور اللہ تعالیٰ کا عرش ان کے سامنے ظاہر ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ان کے سامنے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ میں جلوہ افروز ہو گا، ان کے سامنے نور کے منبر رکھے جائیں گے اور موتیوں کے منبر ہوں گے، یاقوت کے منبر ہوں گے، زبرجد کے منبر ہوں گے، سونے کے منبر ہوں گے اور چاندی کے منبر ہوں گے۔ ان میں سب سے کم تر شخص، حالانکہ ان میں کوئی بھی شخص کم تر نہیں ہو گا، وہ بھی مشک کے ٹیلوں پر اور کافور کے ٹیلوں پر ہو گا۔ وہ یہ نہیں سمجھیں گے کہ کرسیوں پر بیٹھنے والے لوگ محفل میں بیٹھنے کے اعتبار سے ان سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں! کیا تمہیں سورج کو دیکھنے اور چودھویں رات کے چاند کو دیکھنے میں کوئی شک و شبہ ہوتا ہے؟“ ہم نے عرض کی: جی نہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح تمہیں اپنے پروردگار کا دیدار کرنے میں بھی کوئی الجھن پیش نہیں آئے گی۔ اس محفل میں جو بھی شخص موجود ہو گا اللہ تعالیٰ اس سے براہ راست کلام فرمائے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی ایک شخص سے فرمائے گا: اے فلاں! کیا تمہیں فلاں دن یاد ہے جب تم نے ایسا ایسا عمل کیا تھا؟ تو اللہ تعالیٰ دنیا میں کی گئی اس کی بعض لغزشوں کو یاد دلائے گا تو وہ عرض کرے گا: اے پروردگار! کیا تو نے میری مغفرت نہیں فرما دی؟ تو پروردگار فرمائے گا: جی ہاں! میری مغفرت کی وسعت ہی کی وجہ سے تم اس مقام پر پہنچے ہو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ابھی وہ لوگ اسی حالت میں ہوں گے کہ ان کے اوپر سے ایک بادل انہیں ڈھانپ لے گا اور ان پر ایسی خوشبو کی بارش برسائے گا جس کی مانند انہوں نے کبھی کوئی خوشبو نہیں سونگھی ہو گی، پھر پروردگار فرمائے گا: تم اس چیز کی طرف اٹھ کر جاؤ جو میں نے تمہارے لیے بطورِ اعزاز تیار کی ہے اور جس چیز کی تمہیں خواہش ہے اسے تم حاصل کرو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر ہم ایک بازار میں آئیں گے جسے فرشتوں نے ڈھانپا ہوا ہو گا، وہ ایسی چیز ہو گی جس کی مانند نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھی ہو گی، نہ کانوں نے سنی ہو گی اور نہ ہی کسی انسانی دل میں اس کا خیال گزرا ہو گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پس ہمارے لیے وہاں وہ تمام چیزیں لائی جائیں گی جن کی ہمیں خواہش ہو گی۔ وہاں کوئی چیز فروخت نہیں ہو گی اور نہ کوئی چیز خریدی جائے گی۔ اس بازار میں اہل جنت ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر بلند مرتبے والا ایک شخص آئے گا اور وہ اس شخص سے ملے گا جو اس سے کم مرتبے کا ہو گا، حالانکہ ان میں کوئی بھی کم درجے کا نہیں ہو گا، وہ شخص اس کے جسم پر موجود لباس کو دیکھ کر اسے پسند کرے گا تو ابھی ان کی گفتگو ختم نہیں ہو گی کہ اسے محسوس ہو گا کہ اس کے اپنے جسم پر اس سے بھی زیادہ عمدہ لباس آ چکا ہے، اس کی وجہ یہ ہو گی کہ وہاں کوئی شخص کسی بھی حوالے سے غمگین نہیں ہو گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر ہم اپنی رہائش گاہوں کی طرف واپس جائیں گے تو ہماری بیویاں ہمیں یہ کہہ کر ملیں گی: آپ کو خوش آمدید! اے ہمارے محبوب، آپ تشریف لے آئے ہیں، اب آپ کا حسن و جمال اور خوشبو پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے جیسا کہ آپ ہمیں چھوڑ کر گئے تھے، تو وہ کہیں گے: آج ہم نے اپنے ربِ جبار کی ہم نشینی اختیار کی تھی، اس لیے ہم اس بات کے حق دار تھے کہ اسی صورتِ حال میں واپس آئیں جس میں ہم آئے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے الفاظ حسن بن سفیان کے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7438]

7439

Sahih Ibn Hibban #7439

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلالُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أُدْخِلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ ، قَالَ اللَّهُ : أَتَشْتَهُونَ شَيْئًا فَأَزِيدَكُمْ ؟ فَيَقُولُونَ : رَبَّنَا ، وَمَا فَوْقَ مَا أَعْطَيْتَنَا ؟ قَالَ : فَيَقُولُ : بَلَى ، رِضَايَ أَكْثَرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب اہل جنت، جنت میں داخل کر دیے جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تم کسی چیز کے خواہش مند ہو؟ تاکہ میں تمہیں مزید عطا کروں، تو وہ عرض کریں گے: اے ہمارے پروردگار! تو نے ہمیں جو کچھ عطا کر دیا ہے اس سے اوپر اور کیا ہو سکتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تو پروردگار فرمائے گا: جی ہاں! میری رضا سب سے برتر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7439]

7440

Sahih Ibn Hibban #7440

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ فَضَالَةَ الشَّعِيرِيُّ بِالْمَوْصِلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْهَيْثَمِ الأَيْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّاللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، فَيَقُولُونَ : لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكِ ، فَيَقُولُ : هَلْ رَضِيتُمْ ؟ فَيَقُولُونَ : مَا لَنَا لا نَرْضَى وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ ، فَيَقُولُ : أَلا أُعْطِيكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ، فَيَقُولُونَ : يَا رَبِّ ، وَأَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ ؟ فَيَقُولُ : أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِي ، فَلا أَسْخَطُ بَعْدَهُ أَبَدًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے اہل جنت! وہ عرض کریں گے: اے ہمارے پروردگار! ہم حاضر ہیں، سعادت مندی تجھ سے حاصل ہو سکتی ہے، بھلائی تیرے دستِ قدرت میں ہے۔ پروردگار دریافت فرمائے گا: کیا تم لوگ راضی ہو؟ وہ عرض کریں گے: ہم کیوں راضی نہ ہوں گے جبکہ تو نے ہمیں وہ کچھ عطا کر دیا ہے جو تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی عطا نہیں کیا؟ پروردگار فرمائے گا: کیا میں تمہیں اس سے زیادہ فضیلت والی چیز عطا نہ کروں؟ وہ عرض کریں گے: اے ہمارے پروردگار! اس سے زیادہ فضیلت والی چیز اور کیا ہو سکتی ہے؟ پروردگار فرمائے گا: میں نے تمہارے لیے اپنی رضامندی کو حلال کر دیا ہے، اب میں اس کے بعد کبھی بھی (تم سے) ناراض نہیں ہوں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7440]

7441

Sahih Ibn Hibban #7441

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتُ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ ، قَالَ : تَلا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الآيَةَ : لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ ، قَالَ : إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ نَادَى مُنَادٍ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، إِنَّ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ مَوْعِدًا يُحِبُّ أَنْ يُنْجِزَكُمُوهُ ، فَيَقُولُونَ : وَمَا هُوَ ؟ أَلَمْ يُثَقِّلِ اللَّهُ مَوَازِينَنَا ، وَيُبَيَّضْ وُجُوهَنَا ، وَيُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ ، وَيُجِرْنَا مِنَ النَّارِ ؟ قَالَ : فَيُكْشَفُ الْحِجَابُ ، فَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ ، فَوَاللَّهِ مَا أَعْطَاهُمُ اللَّهُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهِ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت ﴿لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ﴾ [سورة يونس: 26] ”جن لوگوں نے اچھائی کی ان کے لیے اچھائی ہے اور مزید ہے۔“ تلاوت کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب اہل جنت، جنت میں داخل ہو جائیں گے اور اہل جہنم، جہنم میں داخل ہو جائیں گے تو ایک منادی یہ اعلان کرے گا: اے اہل جنت! اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہارے لیے ایک وعدہ ہے، وہ یہ چاہتا ہے کہ وہ اسے تمہارے ساتھ پورا کر دے۔ وہ دریافت کریں گے: وہ کیا ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ نے ہمارے میزان کو وزنی نہیں کیا، ہمارے چہروں کو روشن نہیں کیا اور ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا اور ہمیں جہنم سے نجات عطا نہیں کی؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو پردہ ہٹایا جائے گا تو وہ لوگ اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے انہیں جو کچھ بھی عطا کیا ہے ان میں سے کوئی بھی چیز ان کے نزدیک اپنے پروردگار کا دیدار کرنے سے زیادہ محبوب نہیں ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7441]

7442

Sahih Ibn Hibban #7442

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي غَيْلانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، وَحَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْلَةَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ ، فَقَالَ : إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا ، لا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لا تُغْلَبُوا عَنْ صَلاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَصَلاةٍ قَبْلَ غُرُوبِهَا ، فَافْعَلُوا " ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ : وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ تاریخ کی رات کو چودھویں کے چاند کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”عنقریب تم اپنے پروردگار کا اسی طرح دیدار کرو گے، جس طرح تم اسے دیکھ رہے ہو، اسے دیکھنے میں تمہیں کوئی مشکل پیش نہیں آ رہی، اگر تم سے ہو سکے تو تم سورج کے طلوع ہونے سے پہلے والی اور غروب ہونے سے پہلے والی نماز کے حوالے سے مغلوب نہ ہونا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ﴾ [سورة ق: 39] ”اور تم اپنے پروردگار کی حمد کے ہمراہ پاکی بیان کرو، سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7442]

7443

Sahih Ibn Hibban #7443

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ بِسْطَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، قَالَ : قَالَ لِي جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، فَقَالَ : أَمَا إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا ، لا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لا تُغْلَبُوا عَلَى صَلاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ، فَافْعَلُوا " ، ثُمَّ قَرَأَ : وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھ کر فرمایا: ”عنقریب تم اپنے پروردگار کا اس طرح دیدار کرو گے، جس طرح تم اسے دیکھ رہے ہو۔ اسے دیکھنے میں تمہیں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ اگر تم سے ہو سکے تو تم سورج طلوع ہونے سے پہلے والی اور سورج غروب ہونے سے پہلے والی نماز کے حوالے سے مغلوب نہ ہونا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا﴾ [سورة طه: 130] ”تم اپنے پروردگار کی حمد کے ہمراہ پاکی بیان کرو سورج طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7443]

7444

Sahih Ibn Hibban #7444

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَيْسٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، قَالَ : خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، فَقَالَ : إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبُّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا ، لا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذِهِ الأَخْبَارُ فِي الرُّؤْيَةِ يَدْفَعُهَا مَنْ لَيْسَ الْعِلْمُ صِنَاعَتَهُ ، وَغَيْرُ مُسْتَحِيلٍ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا يُمَكِّنُ الْمُؤْمِنِينَ الْمُخْتَارِينَ مِنْ عِبَادِهِ مِنَ النَّظَرِ إِلَى رُؤْيَتِهِ ، جَعَلْنَا اللَّهُ مِنْهُمْ بِفَضْلِهِ ، حَتَّى يَكُونَ فَرْقًا بَيْنَ الْكُفَّارِ وَالْمُؤْمِنِينَ ، وَالْكِتَابُ يَنْطِقُ بِمِثْلِ السُّنَنِ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا سَوَاءً ، قَوْلَهُ جَلَّ وَعَلا : كَلا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ ، فَلَمَّا أَثْبَتَ الْحِجَابَ عَنْهُ لِلْكُفَّارِ ، دَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّ غَيْرَ الْكُفَّارِ لا يُحْجَبُونَ عَنْهُ ، فَأَمَّا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا ، فَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا خَلَقَ الْخَلْقَ فِيهَا لِلْفَنَاءِ ، فَمُسْتَحِيلٌ أَنْ يَرَى بِالْعَيْنِ الْفَانِيَةِ الشَّيْءَ الْبَاقِي ، فَإِذَا أَنْشَأَ اللَّهُ الْخَلْقَ ، وَبَعَثَهُمْ مِنْ قُبُورِهِمْ لِلْبَقَاءِ فِي إِحْدَى الدَّارَيْنِ ، غَيْرُ مُسْتَحِيلٍ حِينَئِذٍ أَنْ يَرَى بِالْعَيْنِ الَّتِي خُلِقَتْ لِلْبَقَاءِ فِي الدَّارِ الْبَاقِيَةِ الشَّيْءَ الْبَاقِي ، لا يُنْكِرُ هَذَا الأَمْرَ إِلا مَنْ جَهِلَ صِنَاعَةَ الْعِلْمِ ، وَمَنَعَ بِالرَّأْيِ الْمَنْكُوسِ ، وَالْقِيَاسِ الْمَنْحُوسِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چودھویں رات میں ہمارے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ عنقریب قیامت کے دن اپنے پروردگار کو یوں دیکھو گے، جس طرح تم اسے (یعنی چودھویں کے چاند کو) دیکھ رہے ہو جسے دیکھنے میں تمہیں کوئی مشکل نہیں آ رہی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان تمام روایات میں دیدارِ باری تعالیٰ کا ذکر ہے، ان روایات کو اس شخص نے پرے کر دیا ہے جس نے علم حاصل نہیں کیا اور وہ یہ کہتا ہے کہ یہ بات ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے اپنے منتخب مومن بندوں کو اپنے دیدار کا شرف عطا کرے، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل کے تحت ان لوگوں میں شامل کرے، تاکہ کفار اور اہل ایمان کے درمیان فرق ہو جائے اور کتاب میں بھی سنت کے مطابق حکم مذکور ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿كَلَّا إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ﴾ [سورة المطففين: 15] ”خبردار! وہ لوگ اس دن اپنے پروردگار کے حوالے سے محجوب ہوں گے۔“ تو جب کفار کے لیے حجاب کا حکم ثابت ہو گیا، تو یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو لوگ کفار نہیں ہوں گے وہ محجوب نہیں ہوں گے۔ جہاں تک اس دنیا کا تعلق ہے تو اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو فنا ہونے کے لیے پیدا کیا ہے، تو یہ بات ناممکن ہے کہ فانی آنکھ باقی چیز کو دیکھ لے۔ جب اللہ تعالیٰ اس مخلوق کو پیدا کرے گا اور انہیں ان کی قبروں سے زندہ کرے گا تو یہ بقا کے لیے ہو گا۔ اس صورت میں یہ ناممکن نہیں ہو گا کہ اس آنکھ کے ذریعے وہ پروردگار کا دیدار کریں جسے ہمیشہ رہنے والی دنیا میں باقی رہنے کے لیے پیدا کیا ہے اور وہ اس چیز کا دیدار کریں جو باقی رہنے والی ہے۔ اس بات کا انکار صرف وہ شخص کر سکتا ہے جو علم سے ناواقف ہو اور الٹی رائے اور منحوس قیاس کے ذریعے اس کا انکار کرتا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7444]

7445

Sahih Ibn Hibban #7445

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ نَاسٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ : هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي يَوْمِ صَائِفٍ ، وَالسَّمَاءُ مُصْحِيَةٌ ، غَيْرُ مُتَغَيِّمَةٍ ، لَيْسَ فِيهَا سَحَابَةٌ ؟ " ، قَالُوا : لا ، قَالَ : " فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، وَالسَّمَاءُ مُصْحِيَةٌ ، غَيْرُ مُتَغَيِّمَةٍ ، لَيْسَ فِيهَا سَحَابَةٌ ؟ " ، قَالُوا : لا ، قَالَ : " فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، كَذَلِكَ لا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، كَمَا لا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ، يَلْقَى الْعَبْدُ رَبَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : أَيْ فُلُ ، أَلَمْ أَخْلُقْكَ ؟ أَلَمْ أَجْعَلْكَ سَمِيعًا بَصِيرًا ؟ أَلَمْ أُزَوِّجْكَ ؟ أَلَمْ أَكْرِمْكَ ؟ أَلَمْ أُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالإِبِلَ ؟ أَلَمْ أُسَوِّدْكَ وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ ؟ فَيَقُولُ : بَلَى أَيْ رَبِّ ، فَيَقُولُ : فَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلاقِيَّ ؟ فَيَقُولُ : لا يَا رَبِّ ، فَيَقُولُ : الْيَوْمَ أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي ، قَالَ : وَيَلْقَاهُ الآخَرُ ، فَيَقُولُ : أَيْ فُلُ ، أَلَمْ أَخْلُقْكَ ؟ أَلَمْ أَجْعَلْكَ سَمِيعًا بَصِيرًا ؟ أَلَمْ أُزَوِّجْكَ ؟ أَلَمْ أُكْرِمْكَ ؟ أَلَمْ أُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالإِبِلَ ؟ أَلَمْ أُسَوِّدْكَ وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ ؟ فَيَقُولُ : بَلَى يَا رَبِّ ، فَيَقُولُ : فَمَاذَا أَعْدَدْتَ لِي ؟ فَيَقُولُ : آمَنْتُ بِكَ وَبِكِتَابِكَ ، وَبِرَسُولِكَ ، وَصَدَّقْتُ ، وَصَلَّيْتُ ، وَصُمْتُ ، فَيَقُولُ : فَهَا هُنَا إِذًا ، ثُمَّ يَقُولُ : أَلا نَبْعَثُ عَلَيْكَ ؟ قَالَ : فَيُفَكِّرُ فِي نَفْسِهِ مَنْ هَذَا الَّذِي يَشْهَدُ عَلَيَّ ؟ قَالَ : وَذَلِكَ الْمُنَافِقُ الَّذِي يَغْضَبُ اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَذَلِكَ لِيُعْذِرَ مِنْ نَفْسِهِ ، فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ ، وَيُقَالُ لِفَخِذِهِ : انْطِقِي ، فَتَنْطِقُ فَخِذُهُ ، وَعِظَامُهُ ، وَعَصَبُهُ ، بِمَا كَانَ يَعْمَلُ ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ ، أَلا اتَّبَعَتْ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ ، فَيَتْبَعُ عَبْدَةُ الصَّلِيبِ الصَّلِيبَ ، وَعَبْدَةُ النَّارِ النَّارَ ، وَعَبْدَةُ الأَوْثَانِ الأَوْثَانَ ، وَعَبْدَةُ الشَّيْطَانِ الشَّيْطَانَ ، وَيَتْبَعُ كُلُّ طَاغِيَةٍ طَاغِيَتَهَا إِلَى جَهَنَّمَ ، وَنَبْقَى أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ ، وَنَحْنُ الْمُؤْمِنُونَ فَيَأْتِينَا رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، وَنَحْنُ قِيَامٌ ، فَيَقُولُ : عَلامَ هَؤُلاءِ قِيَامٌ ؟ فَنَقُولُ : نَحْنُ عِبَادُ اللَّهِ الْمُؤْمِنُونَ آمَنَّا بِهِ ، وَلَمْ نُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا ، وَهَذَا مَقَامُنَا ، وَلَنْ نَبْرَحَ حَتَّى يَأْتِينَا رَبُّنَا ، وَهُوَ رَبُّنَا ، وَهُوَ يُثَبِّتُنَا ، فَيَقُولُ : وَهَلْ تَعْرِفُونَهُ ؟ فَنَقُولُ : سُبْحَانَهُ إِذَا اعْتَرَفَ لَنَا عَرَفْنَاهُ " ، قَالَ سُفْيَانُ : وَهَهُنَا كَلِمَةٌ لا أَقُولُهَا لَكُمْ ، قَالَ : فَنَنْطَلِقُ حَتَّى نَأْتِي الْجِسْرَ وَعَلَيْهِ خَطَاطِيفُ مِنْ نَارٍ تَخْطَفُ النَّاسَ ، وَعِنْدَهَا حَلَّتِ الشَّفَاعَةُ ، اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ ، اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ ، اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ ، فَإِذَا جَاوَزَ الْجِسْرَ ، فَكُلُّ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجًا مِنَ الْمَالِ مِمَّا يَمْلِكُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَكُلُّ خَزَنَةِ الْجَنَّةِ تَدَعُوهُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، يَا مُسْلِمُ هَذَا خَيْرٌ ، فَتَعَالَ ، يَا عَبْدَ اللَّهِ ، يَا مُسْلِمُ ، هَذَا خَيْرٌ ، فَتَعَالَ ، يَا عَبْدَ اللَّهِ ، يَا مُسْلِمُ ، هَذَا خَيْرٌ ، فَتَعَالَ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَهُوَ إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَاكَ عَبْدٌ لا تَوَى عَلَيْهِ ، يَدَعُ بَابًا ، وَيَلِجُ مِنْ آخَرَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَسَحَ مَنْكِبَيْهِ : " إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں صاف دن میں سورج کو دیکھنے میں مشکل پیش آتی ہے، جبکہ آسمان صاف ہو یعنی کوئی بادل نہ ہو؟“ لوگوں نے عرض کی: جی نہیں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں چودھویں رات میں چاند کو دیکھنے میں مشکل پیش آتی ہے جبکہ آسمان صاف ہو اور اس میں کوئی بادل موجود نہ ہو؟“ لوگوں نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، اسی طرح تمہیں قیامت کے دن اپنے پروردگار کا دیدار کرنے میں مشکل پیش نہیں آئے گی، جس طرح تمہیں ان دونوں (یعنی سورج اور چاند) میں سے کسی ایک کو دیکھنے میں مشکل پیش نہیں آتی۔ قیامت کے دن بندہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو پروردگار فرمائے گا: اے فلاں! کیا میں نے تمہیں پیدا نہیں کیا تھا؟ کیا میں نے دیکھنے اور سننے کی صلاحیت عطا نہیں کی تھی؟ کیا میں نے تمہاری شادی نہیں کروائی تھی؟ کیا میں نے تمہاری عزت افزائی نہیں کروائی تھی؟ کیا میں نے تمہارے لیے گھوڑوں اور اونٹوں کو مسخر نہیں کیا تھا؟ کیا میں نے تمہیں صاحبِ حیثیت نہیں بنایا تھا؟ تو وہ عرض کرے گا: جی ہاں، اے میرے پروردگار! پروردگار فرمائے گا: کیا تمہیں اندازہ تھا کہ تم میری بارگاہ میں حاضر ہو گے؟ وہ عرض کرے گا: جی نہیں، اے میرے پروردگار! پروردگار فرمائے گا: آج کے دن میں تمہیں اسی طرح بھلا دیتا ہوں، جس طرح تم مجھے بھول گئے تھے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر دوسرا شخص پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو گا۔ پروردگار فرمائے گا: اے فلاں! کیا میں نے تمہیں پیدا نہیں کیا؟ کیا میں نے تمہیں سماعت اور بصارت عطا نہیں کی؟ کیا میں نے تمہاری شادی نہیں کروائی؟ کیا میں نے تمہاری عزت افزائی نہیں کروائی؟ کیا میں نے تمہارے لیے گھوڑے اور اونٹ مسخر نہیں کیے؟ کیا میں نے تمہیں صاحبِ حیثیت نہیں بنایا تھا؟ تو وہ عرض کرے گا: جی ہاں، اے میرے پروردگار! تو پروردگار فرمائے گا: تم نے میرے لیے کیا تیاری کی؟ وہ عرض کرے گا: میں تجھ پر، تیری کتاب پر، تیرے رسول پر ایمان لایا، میں نے تسبیح کی، میں نے نماز ادا کی، میں نے روزہ رکھا۔ تو پروردگار فرمائے گا: اچھا، تو پھر ہم تمہارے خلاف گواہ نہ لے کے آئیں؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”وہ بندہ اپنے دل میں سوچے گا: میرے خلاف کون گواہی دے سکتا ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہ وہ منافق شخص ہے جس پر اللہ تعالیٰ غضب ناک ہو گا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ اس کو معذور کرے گا اور اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے زانُو سے کہا جائے گا: تم کلام کرو، تو اس کا زانُو، اس کی ہڈیاں، اس کے پٹھے اس چیز کے بارے میں بات کریں گے جو وہ عمل کرتا رہا تھا۔ پھر ایک منادی یہ اعلان کرے گا: خبردار! ہر امت اس کے پیچھے چلی جائے جس کی وہ عبادت کرتی تھی، تو صلیب کے عبادت گزار صلیب کے پیچھے چلے جائیں گے، آگ کے پجاری آگ کے پیچھے چلے جائیں گے، بتوں کے پجاری بتوں کے پیچھے چلے جائیں گے، شیطان کے پجاری شیطان کے پیچھے چلے جائیں گے۔ ہر سرکش کا پجاری سرکش کے پیچھے جہنم کی طرف چلا جائے گا۔ اے اہل ایمان! پھر ہم باقی رہ جائیں گے، ہم جو مومن ہوں گے۔ ہمارا پروردگار ہمارے پاس آئے گا، ہم کھڑے ہوئے ہوں گے، وہ فرمائے گا: تم لوگ یہاں کیوں کھڑے ہوئے ہو؟ تو ہم عرض کریں گے: ہم اللہ کے مومن بندے ہیں، ہم اس پر ایمان لائے، ہم نے کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہرایا، ہم یہیں کھڑے رہیں گے جب تک ہمارا پروردگار نہیں آتا، وہ ہمارا پروردگار ہے، وہ ہمیں ثابت قدم رکھے گا، تو پروردگار فرمائے گا: کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ تو ہم کہیں گے: اس کی ذات پاک ہے، جب وہ ہمیں پہچان کروائے گا تو ہم پہچان لیں گے۔“ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: یہاں ایک کلمہ ہے جو میں تمہارے سامنے بیان نہیں کروں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر ہم چل پڑیں گے، یہاں تک کہ ہم پل صراط پر آئیں گے جس پر آگ کے بنے ہوئے آنکڑے ہوں گے جو لوگوں کو اچک رہے ہوں گے۔ اس مقام پر شفاعت حلال ہو گی (اور یہ کہا جائے گا:) «اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ» ”اے اللہ! سلامتی عطا کر، سلامتی عطا کر۔“ جب پل سے پار ہو جائیں گے تو ہر وہ شخص جس نے اپنے مال میں سے کسی چیز کا جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہو گا، تو جنت کے تمام دربان اسے بلائیں گے اور کہیں گے: اے اللہ کے بندے! اے مسلمان! یہ بہتر ہے، ادھر آ جاؤ! اے اللہ کے بندے! اے مسلمان! ادھر آ جاؤ، یہ بہتر ہے، اے اللہ کے بندے! اے مسلمان! ادھر آ جاؤ، یہ بہتر ہے۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی—وہ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے—: ایسے شخص کو تو کوئی نقصان نہیں ہو گا، وہ ایک دروازے کو چھوڑ کر دوسرے سے داخل ہو جائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کندھے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”مجھے یہ امید ہے کہ تم بھی ان میں سے ایک ہو گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7445]

7446

Sahih Ibn Hibban #7446

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رِفَاعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَرَارِيُّ الْمُؤْمِنِينَ يَكْفُلُهُمْ إِبْرَاهِيمُ فِي الْجَنَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اہل ایمان کے بچوں کی کفالت جنت میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کریں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7446]

7447

Sahih Ibn Hibban #7447

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ اللَّخْمِيُّ بِعَسْقَلانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَحَاجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ ، فَقَالَتِ النَّارُ : أُوثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ ، وَقَالَتِ الْجَنَّةُ : لا يَدْخُلُنِي إِلا ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ ، فَقَالَ اللَّهُ لِلْجَنَّةِ : أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي ، وَقَالَ لِلنَّارِ : أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي ، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا ، فَأَمَّا النَّارُ ، فَلا تَمْتَلِئُ حَتَّى يَضَعَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا قَدَمَهُ فِيهَا ، فَتَقُولُ : قَطْ قَطْ فَهُنَاكَ تَمْتَلِئُ ، وَيَنْزَوِي بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ ، وَلا يَظْلِمُ اللَّهُ أَحَدًا ، وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا يُنْشِئُ لَهَا خَلْقًا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الْقَدَمُ مَوَاضِعُ الْكُفَّارِ الَّتِي عَبَدُوا فِيهَا دُونَ اللَّهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنت اور جہنم میں بحث ہو گئی۔ جہنم نے کہا: مجھے تکبر کرنے والوں اور جابر لوگوں کے ذریعے ترجیح دی گئی ہے۔ جنت نے کہا: میرے اندر صرف کمزور اور عام سے لوگ داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا: تم میری رحمت ہو، میں تمہارے ذریعے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں گا رحمت کروں گا، اور اللہ تعالیٰ نے جہنم سے فرمایا: تم میرا عذاب ہو، میں تمہارے ذریعے اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا عذاب دوں گا اور تم میں سے ہر ایک کو بھرنا ہے۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) ”جہاں تک جہنم کا تعلق ہے، تو وہ اس وقت تک نہیں بھرے گی جب تک اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں نہیں رکھے گا، تو وہ عرض کرے گی: «قَطْ قَطْ» ”بس بس“۔ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ ظلم نہیں کرے گا، جہاں تک جنت کا تعلق ہے تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) پاؤں سے مراد کفار کے وہ مقامات ہیں جہاں وہ اللہ تعالیٰ کی بجائے دوسروں کی عبادت کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7447]

7448

Sahih Ibn Hibban #7448

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلامٍ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَبْقَى مِنَ الْجَنَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْقَى ، فَيُنْشِئُ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا مَا يَشَاءُ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جنت میں اتنی جگہ باقی رہ جائے گی، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا کہ وہ باقی رہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کے لیے نئی مخلوق پیدا کرے گا جتنی وہ چاہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7448]

7449

Sahih Ibn Hibban #7449

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِالْفُسْطَاطِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ ، نَادَى مُنَادٍ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، خُلُودٌ وَلا مَوْتَ فِيهِ ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ لا مَوْتَ فِيهِ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب اہل جنت، جنت میں اور اہل جہنم، جہنم میں داخل ہوں گے تو ایک منادی یہ اعلان کرے گا: اے اہل جنت! تم ہمیشہ رہو گے، اس میں تمہیں موت نہیں آئے گی۔ اے اہل جہنم! تم ہمیشہ رہو گے، اس میں تمہیں موت نہیں آئے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7449]

7450

Sahih Ibn Hibban #7450

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثَ السِّجِسْتَانِيُّ بِبَغْدَادَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُؤْتَى بِالْمَوْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُوقَفُ عَلَى الصِّرَاطِ ، فَيُقَالُ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، فَيَنْطَلِقُونَ خَائِفِينَ وَجِلِينَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنْ مَكَانِهِمُ الَّذِي هُمْ فِيهِ ، ثُمَّ يُقَالُ : يَا أَهْلَ النَّارِ ، فَيَنْطَلِقُونَ فَرِحِينَ مُسْتَبْشِرِينَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنْ مَكَانِهِمُ الَّذِي هُمْ فِيهِ ، فَيُقَالُ : هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ رَبَّنَا ، هَذَا الْمَوْتُ ، فَيَأْمُرُ بِهِ فَيُذْبَحُ عَلَى الصِّرَاطِ ، ثُمَّ يُقَالُ لِلْفَرِيقَيْنِ كِلاهُمَا : خُلُودٌ وَلا مَوْتَ فِيهِ أَبَدًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن موت کو لایا جائے گا اور اسے پل صراط پر ٹھہرا دیا جائے گا اور کہا جائے گا: اے اہل جنت! تو وہ لوگ خوف زدہ ہو کر اور پریشان ہو کر چلتے ہوئے آئیں گے اور اپنی جگہ سے باہر نکلیں گے جہاں وہ رہتے ہوں گے، پھر کہا جائے گا: اے اہل جہنم! تو وہ خوش ہوتے ہوئے اور خوش خبری حاصل کرتے ہوئے اس جگہ سے نکلیں گے جہاں وہ رہ رہے ہوں گے، تو پوچھا جائے گا: کیا تم اسے جانتے ہو؟ تو وہ عرض کریں گے: جی ہاں! اے ہمارے پروردگار! یہ موت ہے۔ پھر پروردگار اس کے بارے میں حکم دے گا تو اسے پل صراط پر ذبح کر دیا جائے گا۔ پھر دونوں فریقوں سے یہ کہا جائے گا: تم ہمیشہ یہاں رہو گے، تمہیں اس میں کبھی موت نہیں آئے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7450]

7451

Sahih Ibn Hibban #7451

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُشْكَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْرَجُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَحَدٌ ، إِلا أُرِيَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ لَوْ أَسَاءَ لِيَزْدَادَ شُكْرًا ، وَلا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ ، إِلا أُرِيَ مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ لَوْ أَحْسَنَ لِيَكُونَ عَلَيْهِ حَسْرَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو بھی شخص جنت میں داخل ہو گا اسے جہنم کا ٹھکانہ دکھایا جائے گا کہ اگر اس نے برائی کی ہوتی (تو اسے یہ جگہ ملنی تھی) تاکہ اس کے شکر میں اضافہ ہو، اور جو بھی شخص جہنم میں داخل ہو گا اسے جنت کا ٹھکانہ دکھایا جائے گا کہ اگر اس نے اچھائی کی ہوتی (تو اسے یہ جگہ ملتی تھی) تاکہ اس کو حسرت ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7451]

7452

Sahih Ibn Hibban #7452

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى بِالْمَوْصِلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَحَدٌ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا ، وَلَهُ عَشَرَةُ أَمْثَالِهَا إِلا الشَّهِيدُ ، فَإِنَّهُ وَدَّ أَنَّهُ رَجَعَ إِلَى الدُّنْيَا ، فَيُقْتَلُ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنَ الْفَضْلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اہل جنت میں سے کوئی بھی شخص اس بات کی آرزو نہیں کرے گا کہ وہ دوبارہ دنیا کی طرف جائے اگرچہ اس کو دنیا کا دس گنا مل جائے۔ صرف شہید کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ وہ اس بات کا آرزو مند ہوگا کہ وہ دنیا میں واپس جائے اور اسے دس مرتبہ شہید کر دیا جائے کیونکہ وہ (شہید ہونے کی) فضیلت دیکھ لے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7452]

7453

Sahih Ibn Hibban #7453

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ مَطَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَهْلُ الْجَنَّةِ ثَلاثَةٌ : ذُو سُلْطَانٍ مُقْسِطٌ مُوَفَّقٌ ، وَرَجُلٌ رَحِيمٌ رَقِيقُ الْقَلْبِ بِكُلِّ ذِي قُرْبَى وَمُسْلِمٍ ، وَرَجُلٌ فَقِيرٌ عَفِيفٌ مُتَصَدِّقٌ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اہلِ جنت تین طرح کے لوگ ہوں گے۔ ایسا حکمران جو عدل کرتا ہو، اسے توفیق دی گئی ہو، ایسا شخص جو رحیم ہو، نرم دل ہو، ہر رشتے دار اور مسلمان کے ساتھ اچھائی کرتا ہو اور ایسا شخص جو غریب ہو، مانگنے سے بچتا ہو اور صدقہ و خیرات کرتا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7453]

7454

Sahih Ibn Hibban #7454

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ غُلامُ طَالُوتَ بْنِ عَبَّادٍ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : افْتَخَرَتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ ، فَقَالَتِ النَّارُ : يَدْخُلُنِي الْجَبَّارُونَ ، وَالْمُلُوكُ ، وَالأَشْرَافُ ، وَقَالَتِ الْجَنَّةُ : يَدْخُلُنِي الْفُقَرَاءُ ، وَالْمَسَاكِينُ ، فَقَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِلنَّارِ : أَنْتِ عَذَابِي أُصِيبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ ، وَقَالَ لِلْجَنَّةِ : أَنْتِ رَحْمَتِي وَسِعْتِ كُلَّ شَيْءٍ ، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جنت اور جہنم نے فخر کا اظہار کیا۔ جہنم نے کہا: میرے اندر جابر، بادشاہ اور معززین داخل ہوں گے۔ جنت نے کہا: میرے اندر غریب اور مسکین داخل ہوں گے، تو اللہ تعالیٰ نے جہنم سے فرمایا: تم میرا عذاب ہو، میں جیسے چاہوں گا تمہارے ذریعے (عذاب دوں گا) اور جنت سے فرمایا: تم میری رحمت ہو، تم ہر چیز سے وسیع ہو، ویسے تم دونوں میں سے ہر ایک نے بھرنا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7454]

7455

Sahih Ibn Hibban #7455

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْمَصَاحِفِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْبَلْخِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءُ ، وَاطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو مجھے اس کے رہنے والوں میں اکثریت خواتین کی نظر آئی، اور میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو اس میں اکثریت غریبوں کی نظر آئی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7455]

7456

Sahih Ibn Hibban #7456

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ غُلامُ طَالُوتَ بْنِ عَبَّادٍ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَظَرْتُ إِلَى الْجَنَّةِ ، فَإِذَا أَكْثَرُ أَهْلِهَا الْمَسَاكِينُ ، وَنَظَرْتُ فِي النَّارِ ، فَإِذَا أَكْثَرُ أَهْلِهَا النِّسَاءُ ، وَإِذَا أَهْلُ الْجَدِّ مَحْبُوسُونَ ، وَإِذَا الْكُفَّارُ قَدْ أُمِرَ بِهِمْ إِلَى النَّارِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : اطِّلاعُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْجَنَّةِ وَالنَّارِ مَعًا كَانَ بِجِسْمِهِ ، وَنَظَرِهِ الْعَيَانِ تَفَضُّلا مِنَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا عَلَيْهِ ، وَفَرْقًا فَرَقَ بِهِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَائِرِ الأَنْبِيَاءِ ، فَأَمَّا الأَوْصَافُ الَّتِي وَصَفَ أَنَّهُ رَأَى أَهْلَ الْجَنَّةِ بِهَا ، وَأَهْلَ النَّارِ بِهَا ، فَهِيَ أَوْصَافٌ صُوِّرَتْ لَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَعْلَمَ بِهَا مَقَاصِدَ نِهَايَةِ أَسْبَابِ أُمَّتِهِ فِي الدَّارَيْنِ جَمِيعًا ، لِيُرَغِّبَ أُمَّتَهُ بِأَخْبَارِ تِلْكَ الأَوْصَافِ لأَهْلِ الْجَنَّةِ لِيَرْغَبُوا ، وَيُرَهِّبَهُمْ بِأَوْصَافِ أَهْلِ النَّارِ لِيَرْتَدِعُوا عَنْ سُلُوكِ الْخِصَالِ الَّتِي تُؤَدِّيهِمْ إِلَيْهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے جنت کی طرف دیکھا تو اہل جنت میں اکثریت غریبوں کی تھی، میں نے جہنم کی طرف دیکھا تو اہل جہنم میں اکثریت خواتین کی تھی اور خوش حال لوگوں کو روک لیا گیا تھا اور کفار کو جہنم کی طرف لے جانے کا حکم دیا گیا تھا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جنت اور جہنم دونوں میں دیکھنا آپ کے جسم مبارک کے ہمراہ تھا اور آنکھوں کے ذریعے دیکھنا تھا، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر فضل تھا تاکہ اس کے ذریعے آپ کے اور دیگر انبیاء کے درمیان فرق ہو جائے۔ جہاں تک ان اوصاف کا تعلق ہے جو آپ نے بیان فرمائے کہ آپ نے اہل جنت کو ان کے اوصاف کے ساتھ موصوف دیکھا اور اہل جہنم کو ان کے اوصاف کے ساتھ موصوف دیکھا تھا، تو یہ وہ اوصاف ہیں جن کی شکل آپ کے سامنے پیش کی گئی تاکہ آپ اس کے ذریعے اپنی امت کے لیے دونوں جہانوں میں اسباب کے اختتام کے مقاصد کے بارے میں جان لیں، تاکہ آپ ان اوصاف کی اطلاع کے ذریعے اپنی امت کو ترغیب دیں تاکہ وہ رغبت حاصل کریں اور جہنم کے اوصاف کے ذریعے انہیں ڈرائیں تاکہ وہ ان خصوصیات کو اختیار کرنے سے بچیں جو جہنم کی طرف لے جا سکتی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7456]

7457

Sahih Ibn Hibban #7457

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي غَيْلانَ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يُحَدِّثُ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّأَقَلَّ سَاكِنِي الْجَنَّةِ النِّسَاءُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنت کے رہنے والوں میں کم تعداد خواتین کی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7457]

7458

Sahih Ibn Hibban #7458

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ الأَوْدِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْنَدَ ظَهْرَهُ إِلَى قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبْعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ " ، قُلْنَا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّيلأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّهُ لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلا كُلُّ نَفْسٍ مُسْلِمَةٍ ، وَإِنَّ مَثَلَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الْكُفَّارِ فِي الْعَدَدِ كَمَثَلِ الشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الأَسْوَدِ ، أَوِ الشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي الثَّوْرِ الأَبْيَضِ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، آپ نے چمڑے سے بنے ہوئے خیمے کے ساتھ ٹیک لگا لی، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ” «أَمَّا بَعْدُ!» کیا تم لوگ اس بات سے راضی ہو کہ تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے! مجھے یہ امید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف ہو گے اور جنت میں صرف مسلمان داخل ہو گا، قیامت کے دن کفار کے مقابلے میں عدد کے اعتبار سے مسلمانوں کی تعداد اس طرح ہو گی، جس طرح سیاہ رنگ کے بیل کے جسم پر سفید بال ہو، یا سفید رنگ کے بیل کے جسم پر سیاہ بال ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7458]

7459

Sahih Ibn Hibban #7459

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُهَيْرٍ أَبُو يَعْلَى بِالأُبُلَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِئَةُ صَفٍّ ، هَذِهِ الأُمَّةُ مِنْهَا ثَمَانُونَ صَفًّا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اہلِ جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی جن میں سے 80 صفیں اس امت کی ہوں گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7459]

7460

Sahih Ibn Hibban #7460

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِئَةُ صَفٍّ ، ثَمَانُونَ مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ ، وَأَرْبَعُونَ مِنْ سَائِرِ الأُمَمِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اہلِ جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی، جن میں سے اسی صفیں اس امت کی ہوں گی اور چالیس صفیں دیگر تمام امتوں کی ہوں گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7460]

7461

Sahih Ibn Hibban #7461

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَمْ أَرَهُمَا : قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ مِثْلُ أَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ ، وَنِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مَائِلاتٌ مُمِيلاتٌ ، رُؤُوسُهُنَّ مِثْلُ أَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ ، لا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ، وَلا يَجِدُونَ رِيحَهَا ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَتُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ كَذَا وَكَذَا "، الْمَائِلَةُ مِنَ التَّبَخْتُرِ ، وَالْمُمِيلاتُ مِنَ السِّمَنِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میری امت سے تعلق رکھنے والے دو قسم کے لوگوں کو میں نے نہیں دیکھا۔ ایک وہ لوگ جن کے پاس ایسے کوڑے ہوں گے جو گائے کی دم کی طرح ہوں گے وہ کوڑے لوگوں کو ماریں گے اور وہ عورتیں، جو لباس پہننے کے باوجود برہنہ ہوں گی وہ «مَائِلَاتٌ» ”مائل کرنے والی“ اور «مُمِیلَاتٌ» ”مائل کروانے والی“ ہوں گی ان کے سر بختی اونٹوں کی کوہان کی طرح ہوں گے۔ یہ لوگ جنت میں داخل نہیں ہوں گے اور نہ ہی جنت کی خوشبو کو پائیں گے اگرچہ اس کی خوشبو اتنے، اتنے فاصلے سے آ جاتی ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) «مَائِلَة» سے مراد اترانے والی عورت ہے اور «مَمِیلَة» سے مراد موٹی عورت ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7461]

7462

Sahih Ibn Hibban #7462

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : نَارُكُمُ الَّتِي تُوقِدُونَ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ كَانَتْ لَكَافِيَةً ، قَالَ : " إِنَّهَا فُضِّلَتْ عَلَيْهَا بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تمہاری وہ آگ جسے تم جلاتے ہو یہ جہنم کی آگ کا سترواں (70 واں) جز ہے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہی (آگ) کافی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے انہتر (69) گنا فضیلت عطا کی گئی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7462]

7463

Sahih Ibn Hibban #7463

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : نَارُكُمْ هَذِهِ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ ضُرِبَتْ بِمَاءِ الْبَحْرِ ، وَلَوْلا ذَلِكَ مَا جَعَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْفَعَةً لأَحَدٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا پتہ چلا ہے: ”تمہاری یہ آگ جہنم کی آگ کا 70 واں جز ہے۔ اس پر سمندر کا پانی ڈالا گیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں کسی کے لیے فائدہ نہ رکھا ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7463]

7464

Sahih Ibn Hibban #7464

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدٍ الْعَزِيزِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، قَامَ عَلَىسُوَرِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ الشَّرْقِيِّ ، فَبَكَى ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا الْوَلِيدِ ؟ قَالَ : مِنْ هَا هُنَا أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَأَى جَهَنَّمَ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ بیت المقدس کی مشرقی دیوار پر کھڑے ہوئے اور رونے لگے۔ کسی نے کہا: اے ابو ولید! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ تو انہوں نے بتایا: اس جگہ کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا تھا: ”آپ نے یہاں سے جہنم کو دیکھا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7464]

7465

Sahih Ibn Hibban #7465

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْرٍ النَّحَّاسُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : رُئِيَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ عَلَىسُوَرِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ الشَّرْقِيِّ يَبْكِي ، فَقِيلَ لَهُ ، فَقَالَ : مِنْ هَا هُنَا نَبَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَأَى مَالِكًا يُقَلِّبُ جَمْرًا كَالْقُطْفِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیت المقدس کی مشرقی دیوار پر کھڑے ہوئے اور رونے لگے۔ ان سے دریافت کیا گیا، تو انہوں نے فرمایا: اس جگہ کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا تھا کہ ”یہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کے (داروغہ) مالک کو دیکھا تھا کہ وہ انگاروں کو الٹ پلٹ رہا تھا، جیسے وہ انگور کے دانے ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7465]

7466

Sahih Ibn Hibban #7466

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَبِّ ، أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا ، فَنَفِّسْنِي ، فَجَعَلَ لَهَا فِي كُلِّ عَامٍ نَفَسَيْنِ فِي الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ ، فَشِدَّةُ الْبَرْدِ الَّذِي تَجِدُونَ مِنْ زَمْهَرِيرِهَا ، وَشِدَّةُ الْحَرِّ الَّذِي تَجِدُونَ مِنْ حُرِّ جَهَنَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جہنم نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں شکایت کی، اس نے عرض کی: اے میرے پروردگار! میرا کچھ حصہ دوسرے کو کھا جاتا ہے، تو مجھے سانس لینے کی اجازت دے، تو اللہ تعالیٰ نے اسے ہر سال میں دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دی۔ ایک مرتبہ سردی کے موسم میں اور ایک مرتبہ گرمی کے موسم میں، تو یہ سردی کی وہ شدت ہوتی ہے جسے تم سردی کے موسم میں پاتے ہو اور گرمی کی وہ شدت ہوتی ہے جو جہنم کی تپش کا حصہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7466]

7467

Sahih Ibn Hibban #7467

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : وَيْلٌ وَادٍ فِي جَهَنَّمَ ، يَهْوِي بِهِ الْكَافِرُ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ قَعْرَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” «وَيْلٌ» جہنم میں ایک وادی ہے، کافر شخص اس کی تہہ تک پہنچنے سے پہلے چالیس سال تک اس میں گرتا رہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7467]