Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 65 · Chapter 4

The Book of the Prophet's Reports on the Virtues of the Companions

Hadith 7468–7491

24 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

7468

Sahih Ibn Hibban #7468

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ أَنَّ حَجَرًا يُقْذَفَ بِهِ فِي جَهَنَّمَ هَوَى سَبْعِينَ خَرِيفًا قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ قَعْرَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر کسی پتھر کو جہنم میں پھینکا جائے تو وہ اس کی تہہ تک پہنچنے سے پہلے ستر سال تک گرتا رہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7468]

7469

Sahih Ibn Hibban #7469

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ سَمِعَ وَجْبَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ ؟ " ، قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ :" هَذِهِ حَجَرٌ رُمِيَ بِهِ فِي النَّارِ مُنْذُ سَبْعِينَ خَرِيفًا ، فَالآنَ انْتَهَى إِلَى قَعْرِ النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، اس دوران آپ نے بلند آواز سنی، آپ نے دریافت کیا: ”کیا تم لوگ جانتے ہو یہ کیا چیز ہے؟“ ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ پتھر ہے جسے جہنم میں ستر سال پہلے پھینکا گیا تھا وہ اب اس کی تہہ میں گرا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7469]

7470

Sahih Ibn Hibban #7470

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ ، وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ، فَلَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنَ الزَّقُّومِ قَطَرَتْ فِي الأَرْضِ ، لأَفْسَدَتْ عَلَى أَهْلِ الأَرْضِ مَعِيشَتَهُمْ ، فَكَيْفَ بِمَنْ لَيْسَ لَهُ طَعَامٌ غَيْرُهُ ؟ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”(ارشاد باری تعالیٰ ہے) ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 102] ”اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اس طرح ڈرو جس طرح اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم مرتے وقت مسلمان ہونا۔“”(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”) اگر زقوم کا ایک قطرہ زمین پر ٹپکا دیا جائے تو وہ تمام اہل زمین کی زندگی کو خراب کر دے، تو اس شخص کا کیا عالم ہو گا جس کی خوراک ہی صرف یہ ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7470]

7471

Sahih Ibn Hibban #7471

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ دَرَّاجًا حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيَّ ، يَقُولُ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : إِنَّفِي النَّارِ لَحَيَّاتٍ أَمْثَالَ أَعْنَاقِ الْبُخْتِ ، تَلْسَعُ أَحَدَهُمُ اللَّسْعَةَ ، فَيَجِدُ حُمُوَّتَهَا أَرْبَعِينَ خَرِيفًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں کچھ سانپ ہوں گے جو بختی اونٹوں کی گردنوں کی طرح ہوں گے، ان میں سے کوئی ایک ڈسے گا تو اس کی شدت چالیس سال تک محسوس ہوگی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7471]

7472

Sahih Ibn Hibban #7472

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِمِصْرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّأَدْنَى أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا الَّذِي يُجْعَلُ لَهُ نَعْلانِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جہنم میں سب سے ہلکا عذاب اس شخص کو ہوگا، جسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے اور اس کے ذریعے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7472]

7473

Sahih Ibn Hibban #7473

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَاءٍ كَالْمُهْلِ كَعَكَرِ الزَّيْتِ ، فَإِذَا قَرَّبَهُ إِلَيْهِ ، سَقَطَتْ فَرْوَةُ وَجْهِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایسا پانی جو تارکول کی مانند ہو گا۔“ اس سے مراد تارکول ہے۔ جب وہ اس کے قریب ہو گا تو اس کے نتیجے میں اس کے چہرے کی کھال اتر جائے گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7473]

7474

Sahih Ibn Hibban #7474

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْهَيْثَمِ الأَيْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا صَارَ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَى الْجَنَّةِ ، وَأَهْلُ النَّارِ إِلَى النَّارِ ، أُتِيَ بِالْمَوْتِ حَتَّى يُجْعَلَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، ثُمَّ يُذْبَحُ ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، لا مَوْتَ ، يَا أَهْلَ النَّارِ ، لا مَوْتَ ، فَيَزْدَادُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَرَحًا إِلَى فَرَحِهِمْ ، وَيَزْدَادُ أَهْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلَى حُزْنِهِمْ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : خَبَرُ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ : " يُجَاءُ بِالْمَوْتِ كَأَنَّهُ كَبْشٌ أَمْلَحُ " ، تَنَكَّبْنَاهُ ، لأَنَّهُ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ ، قَالَ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، قَالَ : سَمِعْتُهُمْ يَذْكُرُونَ : عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ : " يُجَاءُ بِالْمَوْتِ " يُرِيدُ : يُمَثِّلُ لَهُمُ الْمَوْتُ لا أَنَّهُ يُجَاءُ بِالْمَوْتِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب اہل جنت، جنت میں چلے جائیں گے اور اہل جہنم، جہنم میں چلے جائیں گے تو موت کو لایا جائے گا، اس کو جنت اور جہنم کے درمیان رکھا جائے گا اور پھر ذبح کر دیا جائے گا۔ پھر ایک منادی یہ اعلان کرے گا: اے اہل جنت! اب موت نہیں آئے گی۔ اے اہل جہنم! اب موت نہیں آئے گی۔ اس کے نتیجے میں اہل جنت کی خوشی میں اضافہ ہو جائے گا اور اہل جہنم کے غم میں اضافہ ہو جائے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اعمش نے ابوصالح کے حوالے سے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ موت کو ایک دنبے کی شکل میں لایا جائے گا۔ ہم نے اس روایت کو نقل نہیں کیا ہے کیونکہ اس کی سند متصل نہیں ہے۔ شجاع بن ولید نے اسے اعمش کے حوالے سے نقل کیا ہے وہ یہ کہتے ہیں: میں نے اسے لوگوں کو ابوصالح کے حوالے سے نقل کرتے ہوئے سنا ہے۔ روایت کے یہ الفاظ ”موت کو لایا جائے گا“ اس کے ذریعے مراد یہ ہے کہ موت کو کسی وجود کی شکل میں لایا جائے گا۔ یہ مراد نہیں ہے کہ موت کو لایا جائے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7474]

7475

Sahih Ibn Hibban #7475

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : لأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ ، وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولا الْجَنَّةَ : رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ حَبْوًا ، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ : اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ ، فَيَأْتِيهَا ، فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلأَى ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، قَدْ وَجَدْتُهَا مَلأَى ، فَيَقُولُ لَهُ : اذْهَبْ فَارْجِعْ ، فَادْخُلِ الْجَنَّةَ ، فَيَأْتِيهَا ، فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلأَى ، فَيَرْجِعُ إِلَيْهِ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، قَدْ وَجَدْتُهَا مَلأَى ، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ : اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ ، فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِ الدُّنْيَا ، فَيَقُولُ : أَتَسْخَرُ بِي ، أَوْ تَضْحَكُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ " ، قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ : وَكَانَ يُقَالُ : إِنَّ ذَلِكَ الرَّجُلَ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں جہنم سے نکلنے والے آخری جنتی کو جانتا ہوں اور جنت میں داخل ہونے والے آخری جنتی کو جانتا ہوں۔ ایک شخص جہنم سے گھسٹتا ہوا نکلے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ جنت میں آئے گا، تو اسے یہ محسوس ہوگا کہ وہ بھر چکی ہے۔ وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! میں نے اسے پایا ہے کہ وہ بھر چکی ہے۔ پروردگار اس سے فرمائے گا: تم واپس جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ اس میں آئے گا تو اسے لگے گا کہ وہ بھر چکی ہے۔ وہ واپس پروردگار کی بارگاہ میں جائے گا اور عرض کرے گا: اے پروردگار! میں نے اسے پایا ہے کہ وہ بھر چکی ہے، تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: تم جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ، تمہیں دنیا اور دنیا کا دس گنا مزید ملتا ہے۔ وہ عرض کرے گا: کیا تو میرا مذاق اڑا رہا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) کیا تو مجھ پر ہنس رہا ہے، جبکہ تو بادشاہ ہے؟“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسکراتے ہوئے دیکھا یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے۔ ابراہیم نامی راوی کہتے ہیں: یہ بات کہی جاتی ہے کہ یہ جنت کے سب سے کم مرتبے کے شخص کا عالم ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7475]

7476

Sahih Ibn Hibban #7476

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اخْتَصَمَتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ ، فَقَالَتِ النَّارُ : يَدْخُلُنِي الْجَبَّارُونَ وَالْمُتَكَبِّرُونَ ، وَقَالَتِ الْجَنَّةُ : يَدْخُلُنِي ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَأَسْقَاطُهُمْ ، فَقَالَ اللَّهُ لِلنَّارِ : أَنْتِ عَذَابِي أُصِيبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ ، وَقَالَ لِلْجَنَّةِ : أَنْتِ رَحْمَتِي أُصِيبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ ، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جنت اور جہنم میں بحث ہو گئی۔ جہنم نے کہا: میرے اندر جبار اور متکبر لوگ داخل ہوں گے۔ جنت نے کہا: میرے اندر کمزور اور عام افراد داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جہنم سے فرمایا: تم میرا عذاب ہو تمہارے ذریعے میں جسے چاہوں گا عذاب دوں گا اور جنت سے فرمایا: تم میری رحمت ہو تمہارے ذریعے میں جسے چاہوں گا (رحمت عطا کروں گا) اور تم دونوں میں سے ہر ایک نے بھرنا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7476]

7477

Sahih Ibn Hibban #7477

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : احْتَجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ ، فَقَالَتِ الْجَنَّةُ : مَا بَالِي يَدْخُلُنِي الْفُقَرَاءُ وَالضُّعَفَاءُ ؟ وَقَالَتِ النَّارُ : مَا بَالِي يَدْخُلُنِي الْجَبَّارُونَ وَالْمُتَكَبِّرُونَ ؟ فَقَالَ اللَّهُ : أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ ، وَقَالَ لِلنَّارِ : أَنْتِ عَذَابِي أُصِيبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ ، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ مِلْؤُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جنت اور جہنم میں بحث ہو گئی۔ جنت نے کہا: میرا یہ معاملہ ہے کہ میرے اندر غریب اور ضعیف لوگ داخل ہوں گے۔ جہنم نے کہا: میرا یہ معاملہ ہے، میرے اندر جبار اور متکبر داخل ہوں گے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم میری رحمت ہو، میں تمہارے ذریعے جس پر چاہوں گا رحم کروں گا، اور جہنم سے فرمایا: تم میرا عذاب ہو، میں تمہارے ذریعے جسے چاہوں گا (عذاب دوں گا) اور تم دونوں میں سے ہر ایک نے بھرنا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7477]

7478

Sahih Ibn Hibban #7478

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ حِزَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءَ بِالصَّدَقَةِ ، وَحَثَّهُنَّ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : تَصَدَّقْنَ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ " ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ : بِمَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ ، وَتُسَوِّفْنَ الْخَيْرَ ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ "، وَالْعَشِيرُ : الزَّوْجُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو صدقہ کرنے کا حکم دیا اور انہیں اس کی ترغیب دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم صدقہ کرو، کیونکہ اہل جہنم میں اکثریت تمہاری ہے۔“ ان میں سے ایک خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس کی وجہ کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیونکہ تم لعنت بکثرت کرتی ہو، اور بھلائی کا انکار کرتی ہو، اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) «الْعَشِيرُ» سے مراد شوہر ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7478]

7479

Sahih Ibn Hibban #7479

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ حِزَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ : خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَوَعَظَهُنَّ ، وَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالطَّاعَةِ لأَزْوَاجِهِنَّ ، وَقَالَ : إِنَّمِنْكُنَّ مَنْ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ " ، وَجَمَعَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، " وَمِنْكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ " ، وَفَرَّقَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، فَقَالَتِ الْمَارِدِيَّةُ أَوِ الْمُرَادِيَّةُ : وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ ، وَتُكْثِرْنَ اللَّعْنَ ، وَتُسَوِّفْنَ الْخَيْرَ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو خطبہ دیتے ہوئے انہیں وعظ و نصیحت کی، اور انہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور اپنے شوہروں کی فرمانبرداری کرنے کا حکم دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کچھ خواتین وہ ہیں، جو جنت میں داخل ہوں گی،“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو اکٹھا کر لیا، ”اور کچھ خواتین وہ ہیں، جو جہنم کا ایندھن ہوں گی،“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ کہتے ہوئے) اپنی انگلیوں کو پھیلا لیا، تو ان میں سے ایک خاتون، جس کا تعلق مارد یا شاید مراد قبیلے سے تھا، اس نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! اس کی وجہ کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیونکہ تم شوہر کی ناشکری کرتی ہو، لعنت زیادہ کرتی ہو، اور بھلائی سے گریز کرتی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7479]

7480

Sahih Ibn Hibban #7480

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ بِعُكْبَرَاءَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْوَائِدَةُ وَالْمَوْؤُدَةُ فِي النَّارِ "، أَخْبَرَنَاهُ ابْنُ ذَرِيحٍ فِي عَقِبِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبِي فَحَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، أَنَّ عَامِرًا حَدَّثَهُ بِذَلِكَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : خِطَابُ هَذَا الْخَبَرِ وَرَدَ فِي الْكُفَّارِ دُونَ الْمُسْلِمِينَ ، يُرِيدُ بِقَوْلِهِ : الْوَائِدَةُ وَالْمَوْؤُدَةُ مِنَ الْكُفَّارِ فِي النَّارِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”زندہ درگور کرنے والی اور زندہ درگور ہونے والی جہنمی ہوں گی۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ کفار (کی خواتین) کے بارے میں ہیں، مسلمانوں کے بارے میں نہیں ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”زندہ درگور کرنے والی اور زندہ درگور ہونے والی“ سے مراد وہ عورتیں ہیں جو کفار سے تعلق رکھتی ہیں، وہ جہنم میں ہوں گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7480]

7481

Sahih Ibn Hibban #7481

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ الْعُقَيْلِيِّ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عُرِضَ عَلَيَّ أَوَّلُ ثَلاثَةٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ : أَمِيرٌ مُسَلَّطٌ ، وَذُو ثَرْوَةٍ مِنْ مَالٍ لا يُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ ، وَفَقِيرٌ فَخُورٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے سامنے ان تین افراد کو پیش کیا گیا جو جہنم میں سب سے پہلے داخل ہوں گے: (ایک) مسلط کیا جانے والا حکمران، (دوسرا) ایسا مال دار شخص جو اللہ تعالیٰ کے حق کو ادا نہیں کرتا اور (تیسرا) غریب متکبر۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7481]

7482

Sahih Ibn Hibban #7482

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ مَطَرٍ ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَهْلُ النَّارِ خَمْسَةٌ : الضَّعِيفُ الَّذِي لا يُؤْبَهُ لَهُ وَهُوَ فِيكُمْ تَبَعٌ لا يَبْغُونَ أَهْلا وَلا مَالا " ، قُلْتُ : وَيَكُونُ ذَلِكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَاللَّهِ لَقَدْ أَدْرَكْتُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْعَى عَلَى الْحَيِّ مَا بِهِ إِلا وَلِيدَتُهُمْ يَطَؤُهَا : " وَرَجُلٌ لا يُصْبِحُ وَلا يُمْسِي إِلا وَهُوَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكِ وَمَالِكِ ، وَرَجُلٌ لا يُخْفَى عَلَيْهِ شَيْءٌ إِلا خَانَهُ ، وَإِنَّ دَقَّ ، وَذَكَرَ الْكَذِبَ ، وَذَكَرَ الْبُخْلَ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اہل جہنم پانچ قسم کے لوگ ہیں: وہ ضعیف شخص جس کی پرواہ نہیں کی جاتی اور وہ تمہارے درمیان پیروکار (تابع فرمان) کے طور پر رہتے ہیں، وہ نہ بیوی بچے چاہتے ہیں، نہ مال چاہتے ہیں۔“ (راوی کہتے ہیں) میں نے دریافت کیا: اے ابوعبداللہ! کیا ایسا ہو گا؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! اللہ کی قسم! میں نے زمانہ جاہلیت میں ایسے لوگوں کو پایا ہے، جو کسی قبیلے کا پہرہ صرف اس لیے دیا کرتا تھا، تاکہ اس کے ذریعے (اس قبیلے کی کسی) لڑکی کے ساتھ زنا کر لے۔ ”اور وہ شخص جو صبح و شام تمہاری بیوی اور مال کے حوالے سے تمہارے ساتھ دھوکا سے کام لے، اور وہ شخص جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہتی، وہ خیانت کرتا ہے، خواہ وہ چیز کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو۔“ پھر انہوں نے جھوٹ اور بخل کا بھی ذکر کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7482]

7483

Sahih Ibn Hibban #7483

سَمِعْتُ الْهَيْثَمَ بْنَ خَلَفٍ الدُّورِيَّ بِبَغْدَادَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ مُوسَى الأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أُذُنَيْهِ : يُخْرِجُ اللَّهُ قَوْمًا مِنَ النَّارِ فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ "، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ فِي حَدِيثِ عَمْرٍو : إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ : يُرِيدُونَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ النَّارِ ، وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنْهَا ، فَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : إِنَّكُمْ تَجْعَلُونَ الْخَاصَّ عَامًّا ، هَذِهِ لِلْكُفَّارِ اقْرَؤُوا مَا قَبْلَهَا ، ثُمَّ تَلا : إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ أَنَّ لَهُمْ مَا فِي الأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لِيَفْتَدُوا بِهِ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ يُرِيدُونَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ النَّارِ ، وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنْهَا هَذِهِ لِلْكُفَّارِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: میں نے ان دونوں کانوں کے ذریعے سنا۔ انہوں نے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کر کے یہ کہا: (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کرے گا۔“ عمرو کی روایت میں یہ الفاظ ہیں۔ ایک شخص نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ﴿يُرِيدُونَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنْهَا﴾ [سورة المائدة: 37] ”وہ لوگ جہنم سے نکلنے کا ارادہ کریں گے لیکن وہ اس سے نکل نہیں سکیں گے۔“ تو سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم لوگ خصوصی مفہوم سے عام مفہوم مراد لے رہے ہو۔ یہ کفار کے بارے میں ہے، تم اس سے پہلے والے حصے کو بھی تلاوت کرو۔ انہوں نے یہ تلاوت کی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ أَنَّ لَهُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لِيَفْتَدُوا بِهِ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ * يُرِيدُونَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنْهَا﴾ [سورة المائدة: 36-37] ”بے شک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اگر ان کے لیے زمین میں موجود سب کچھ ہو اور اس کی مانند مزید ان کے ساتھ ہو اور وہ قیامت کے دن کے عذاب کے لیے اسے فدیے کے طور پر دینا چاہیں، تو وہ ان کی طرف سے قبول نہیں کیا جائے گا انہیں دردناک عذاب ہو گا وہ جہنم سے نکلنا چاہیں گے لیکن وہ اس سے نہیں نکل سکیں گے۔“ یہ آیت کفار کے لیے ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7483]

7484

Sahih Ibn Hibban #7484

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، وَأَبُو يَعْلَى ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، وَهِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً "، قَالَ يَزِيدُ : فَلَقِيتُ شُعْبَةَ فَحَدَّثْتُهُ الْحَدِيثَ ، فَقَالَ شُعْبَةُ : حَدَّثَنِي بِهِ قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، إِلا أَنَّ شُعْبَةَ جَعَلَ مَكَانَ الذَّرَّةِ ذَرَّةً ، قَالَ يَزِيدُ : صَحَّفَ فِيهِ أَبُو بِسْطَامٍ ، قَالَ يَزِيدُ : فَلَقِيتُ عِمْرَانَ الْقَطَّانَ أَبَا الْعَوَّامِ فَحَدَّثْتُهُ بِالْحَدِيثِ ، فَقَالَ عِمْرَانُ : حَدَّثَنِي بِهِ قَتَادَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبَى هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَدِيثِ ، قَالَ يَزِيدُ : أَخْطَأَ فِيهِ عِمْرَانُ ، وَوَهِمَ فِيهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جہنم سے ہر وہ شخص نکل جائے گا جو «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ پڑھتا ہو اور اس کے دل میں ذرے کے وزن جتنا ایمان ہو۔“ یزید کہتے ہیں: میری ملاقات شعبہ سے ہوئی۔ میں نے انہیں یہ حدیث بیان کی، تو شعبہ نے بتایا کہ قتادہ نے یہ روایت سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے، البتہ شعبہ نے لفظ «الذَّرَّةِ» کی بجائے «ذَرَّةٍ» استعمال کیا ہے۔ یزید بیان کرتے ہیں: اس روایت میں ابوبسطام نامی راوی نے تصحیف کی ہے۔ یزید کہتے ہیں: میری ملاقات عمران قطان سے ہوئی۔ میں نے انہیں یہ حدیث سنائی تو عمران نے بتایا: قتادہ نے یہ حدیث عطاء بن یزید لیثی کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہونے کے طور پر مجھے سنائی تھی۔ یزید کہتے ہیں: اس روایت میں عمران نے غلطی کی ہے اور انہیں اس میں وہم ہوا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7484]

7485

Sahih Ibn Hibban #7485

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَسْلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا ، فَإِنَّهُمْ لا يَمُوتُونَ ، وَلا يَحْيَوْنَ ، وَلَكِنَّ أُنَاسًا تُصِيبُهُمُ النَّارُ بِذُنُوبِهِمْ فَيُمِيتُهُمْ ، حَتَّى إِذَا صَارُوا فَحْمًا أَذِنَ فِي الشَّفَاعَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جہاں تک اہل جہنم کا تعلق ہے جو اس کے (حقیقی) اہل ہوں گے، وہ اس میں نہ مریں گے اور نہ ہی زندہ رہیں گے، البتہ جن لوگوں کو ان کے گناہوں کے عوض جہنم لاحق ہو گی، وہ انہیں مار دے گی، یہاں تک کہ جب وہ جل کر کوئلہ ہو جائیں گے تو ان کی شفاعت کی جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7485]

7486

Sahih Ibn Hibban #7486

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : غِلَظُ الْكَافِرِ اثْنَانِ وَأَرْبَعُونَ ذِرَاعًا بِذِرَاعِ الْجَبَّارِ ، وَضِرْسُهُ مِثْلُ أُحُدٍ "، الْجَبَّارُ : مَلِكٌ بِالْيَمَنِ ، يُقَالُ لَهُ : الْجَبَّارُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کافر کی موٹائی بیالیس گز ہو گی، جو جبار کے گز کے حساب سے ہو گی اور اس کی لمبائی احد پہاڑ جتنی ہو گی۔“ جبار یمن کا حکمران تھا، اسے جبار کہا جاتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7486]

7487

Sahih Ibn Hibban #7487

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي إِسْرَائِيلَ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ضِرْسُ الْكَافِرِ ، أَوْ نَابُ الْكَافِرِ مِثْلُ أُحُدٍ ، وَغِلَظُ جِلْدِهِ مَسِيرَةُ ثَلاثٍ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کافر کی داڑھ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) کافر کا ایک طرف کا دانت احد جتنا ہو گا اور اس کی کھال تین دن کی مسافت جتنی موٹی ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7487]

7488

Sahih Ibn Hibban #7488

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ حُمَيْدٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ضِرْسُ الْكَافِرِ مِثْلُ أُحُدٍ "، يَعْنِي فِي النَّارِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کافر کی داڑھ احد پہاڑ کی مانند ہوگی (راوی کہتے ہیں: یعنی جہنم میں ایسا ہوگا)“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7488]

7489

Sahih Ibn Hibban #7489

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شريكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَكْثَرُ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءُ ، وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَإِذَا أَكْثَرُ أَهْلِهَا النِّسَاءُ ، وَرَأَيْتُ فِيهَا ثَلاثَةً يُعَذَّبُونَ : امْرَأَةً مِنْ حِمْيَرَ طُوَالَةً رَبَطَتْ هِرَّةً لَهَا لَمْ تُطْعِمْهَا ، وَلَمْ تَسْقِهَا ، وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ ، فَهِيَ تَنْهَشُ قُبُلَهَا وَدُبُرَهَا ، وَرَأَيْتُ فِيهَا أَخَا بَنِي دَعْدَعٍ الَّذِي كَانَ يَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِهِ فَإِذَا فُطِنَ لَهُ ، قَالَ : إِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِي ، وَالَّذِي سَرَقَ بَدَنَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں جنت میں داخل ہوا تو اہل جنت میں اکثریت غریبوں کی تھی۔ میں نے جہنم میں جھانکا تو اس میں اکثریت خواتین کی تھی۔ میں نے اس میں تین لوگوں کو دیکھا کہ انہیں عذاب ہو رہا تھا: ایک حمیر سے تعلق رکھنے والی ایک طویل القامت عورت جس نے ایک بلی کو باندھ دیا تھا اور وہ اسے کھانے کے لیے کچھ نہیں دیتی تھی اور پینے کے لیے نہیں دیتی تھی اور اسے چھوڑتی بھی نہیں تھی کہ وہ خود ہی کچھ کھا لے۔ وہ بلی اسے آگے کی طرف سے اور پیچھے کی طرف سے نوچتی تھی۔ میں نے جہنم میں بنو دعدع سے تعلق رکھنے والے اس شخص کو دیکھا جو اپنی لاٹھی کے ذریعے حاجیوں کا سامان چوری کرتا تھا، جب وہ پکڑا جاتا تھا، تو یہ کہتا تھا، یہ چیز میری لاٹھی کے ساتھ لٹک گئی تھی اور اس شخص کو دیکھا، جس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے دو جانور چوری کیے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7489]

7490

Sahih Ibn Hibban #7490

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : عُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ ، فَرَأَيْتُ فِيهَا عَمْرَو بْنَ لُحَيِّ بْنِ قَمَعَةَ بْنِ خِنْدِفٍ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ غَيَّرَ عَهْدَ إِبْرَاهِيمَ ، وَسَيَّبَ السَّوَائِبَ ، وَكَانَ أَشْبَهَ شَيْءٍ بِأَكْثَمَ بْنِ أَبِي الْجَوْنِ الْخُزَاعِيِّ " ، فَقَالَ الأَكْثَمُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ يَضُرُّنِي شَبَهُهُ ؟ فَقَالَ : " إِنَّكَ مُسْلِمٌ وَهُوَ كَافِرٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میرے سامنے جہنم کو پیش کیا گیا اور میں نے اس میں عمرو بن لحی کو دیکھا، وہ اپنی آنتیں گھسیٹ رہا تھا۔ یہ وہ پہلا شخص تھا جس نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے دین کو تبدیل کیا تھا، اس نے بتوں کے نام پر جانور مخصوص کرنے کا آغاز کیا تھا۔ وہ اکثم بن ابوجون خزاعی سے مشابہت رکھتا تھا۔“ اکثم رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا اس کے ساتھ مشابہت رکھنا مجھے نقصان دے گا؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم مسلمان ہو اور وہ کافر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7490]

7491

Sahih Ibn Hibban #7491

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أَتَانِي رَجُلانِ ، فَأَخَذَا بِضَبْعَيَّ ، فَأَتَيَا بِي جَبَلا وَعْرًا ، فَقَالا لِي : اصْعَدْ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي سَوَاءِ الْجَبَلِ ، فَإِذَا أَنَا بِصَوْتٍ شَدِيدٍ ، فَقُلْتُ : مَا هَذِهِ الأَصْوَاتُ ؟ قَالَ : هَذَا عُوَاءُ أَهْلِ النَّارِ ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي فَإِذَا بِقَوْمٍ مُعَلَّقِينَ بِعَرَاقِيبِهِمْ مُشَقَّقَةٍ أَشْدَاقُهُمْ تَسِيلُ أَشْدَاقُهُمْ دَمًا ، فَقُلْتُ : مَنْ هَؤُلاءِ ؟ فَقِيلَ : هَؤُلاءِ الَّذِينَ يُفْطِرُونَ قَبْلَ تَحِلَّةِ صَوْمِهِمْ ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي ، فَإِذَا بِقَوْمٍ أَشَدِّ شَيْءٍ انْتِفَاخًا ، وَأَنْتَنِهِ رِيحًا ، وَأَسْوَئِهِ مَنْظَرًا ، فَقُلْتُ : مَنْ هَؤُلاءِ ؟ قِيلَ : الزَّانُونَ وَالزَّوَانِي ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي ، فَإِذَا بِنِسَاءٍ تَنْهَشُ ثَدْيَهُنَّ الْحَيَّاتُ ، قُلْتُ : مَا بَالُ هَؤُلاءِ ؟ قِيلَ : هَؤُلاءِ اللاتِي يَمْنَعْنَ أَوْلادَهُنَّ أَلْبَانَهُنَّ ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي ، فَإِذَا أَنَا بِغِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ بَيْنَ نَهْرَيْنِ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَؤُلاءِ ؟ فَقِيلَ : هَؤُلاءِ ذَرَارِيُّ الْمُؤْمِنِينَ ، ثُمَّ شَرَفَ بِي شَرَفًا ، فَإِذَا أَنَا بِثَلاثَةٍ يَشْرَبُونَ مِنْ خَمْرٍ لَهُمْ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَؤُلاءِ ؟ قَالُوا : هَذَا إِبْرَاهِيمُ ، وَمُوسَى ، وَعِيسَى وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ایک مرتبہ میں سویا ہوا تھا، دو آدمی میرے پاس آئے، انہوں نے مجھے بازو سے پکڑا اور مجھے لے کر ایک پہاڑ کے پاس آ گئے۔ انہوں نے مجھ سے کہا: آپ چڑھیں۔ جب میں پہاڑ کے اوپر پہنچا تو ایک زبردست آواز آئی، میں نے ان سے پوچھا: یہ کس قسم کی آوازیں ہیں؟ تو انہوں نے بتایا: یہ اہل جہنم کا شور و غوغا ہے۔ پھر وہ مجھے ساتھ لے کر چلے تو میرے سامنے کچھ لوگ آئے جو اپنی ایڑیوں کے بل لٹکے ہوئے تھے، ان کی باچھیں پھٹی ہوئی تھیں اور ان میں سے خون بہہ رہا تھا۔ میں نے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ تو بتایا گیا: یہ وہ لوگ ہیں جو روزے کا وقت ختم ہونے سے پہلے روزہ افطار کر لیتے تھے۔ پھر وہ مجھے ساتھ لے کر گئے تو میرے سامنے کچھ ایسے لوگ آئے جو انتہائی پھولے ہوئے تھے اور ان سے انتہائی بدبو آ رہی تھی اور ان کی صورتِ حال انتہائی بدترین تھی۔ میں نے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ کہا گیا: یہ زنا کرنے والے مرد اور زنا کرنے والی عورتیں ہیں۔ پھر وہ مجھے ساتھ لے کر گئے تو وہاں کچھ خواتین تھیں جن کی چھاتیوں کو سانپ ڈس رہے تھے، میں نے دریافت کیا: ان کا کیا معاملہ ہے؟ تو بتایا گیا: یہ وہ عورتیں ہیں جو اپنی اولاد کو اپنا دودھ نہیں پلاتی تھیں۔ پھر وہ مجھے ساتھ لے کر گئے تو کچھ لڑکے تھے جو دو نہروں کے درمیان کھیل رہے تھے، میں نے دریافت کیا: یہ کون ہیں؟ تو بتایا گیا: یہ اہل ایمان کے بچے ہیں۔ پھر وہ مجھے ساتھ لے کر اوپر گئے تو وہاں تین حضرات موجود تھے جو مشروب پی رہے تھے، میں نے دریافت کیا: یہ کون ہیں؟ تو فرشتوں نے بتایا: یہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام، سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ہیں، یہ حضرات آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7491]