Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 65 · Chapter 2

The Book of the Prophet's Reports on the Virtues of the Companions

Hadith 7385–7427

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

7385

Sahih Ibn Hibban #7385

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ ، وَابْنِ أَبْجَرَ ، سمعا الشعبي يُحَدِّثُ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَرْفَعْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قَالَ مُوسَى : أَيْ رَبِّ ، مَنْ أَهْلُ الْجَنَّةِ أَرْفَعُ مَنْزِلَةً ؟ قَالَ : سَأُحَدِّثُكَ عَنْهُمْ ، أَعْدَدْتُ كَرَامَتَهُمْ بِيَدِي ، وَخَتَمْتُ عَلَيْهَا ، فَلا عَيْنٌ رَأَتْ ، وَلا أُذُنٌ سَمِعَتْ ، وَلا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ " ، وَمِصْدَاقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ : فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے پروردگار! اہل جنت میں سب سے بلند مرتبہ کس کا ہو گا، تو پروردگار نے فرمایا: میں تمہیں ان لوگوں کے بارے میں بتاتا ہوں، میں نے اپنے دستِ قدرت کے ذریعے ان کی عزت افزائی کا سامان تیار کیا ہے اور میں نے اس پر مہر لگا دی ہے، وہ ایک ایسی چیز ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں ہے، کسی کان نے اس کے بارے میں سنا نہیں اور کسی انسان کے ذہن میں اس کا خیال بھی نہیں آیا ہوگا۔“ (راوی کہتے ہیں) اس کا مصداق اللہ کی کتاب میں موجود (یہ آیت ہے) ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ﴾ [سورة السجدة: 17] ”کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ پوشیدہ رکھا گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7385]

7386

Sahih Ibn Hibban #7386

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ بِسْطَامٍ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا ، وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا ، وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلا رِدَاءُ الْكِبْرِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبکر بن عبداللہ بن قیس اپنے والد (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”دو جنتیں ایسی ہیں جو چاندی سے بنی ہوئی ہیں، ان کے برتن اور ان میں موجود تمام چیزیں چاندی سے بنی ہوئی ہیں۔ دو جنتیں ایسی ہیں جن کے برتن اور تمام چیزیں سونے سے بنی ہوئی ہیں، اور لوگوں اور ان کے پروردگار کے دیدار کے درمیان صرف کبریائی کی چادر حائل ہے جو جنتِ عدن میں پروردگار کی ذات پر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7386]

7387

Sahih Ibn Hibban #7387

ثَلاثَةٌ لا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمُ : الإِمَامُ الْعَادِلُ ، وَالصَّائِمُ حِينَ يُفْطِرُ ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ تُحْمَلُ عَلَى الْغَمَامِ ، وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاوَاتِ ، وَيَقُولُ الرَّبُّ : وَعِزَّتِي لأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! جب ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں تو ہمارے دل نرم ہو جاتے ہیں اور ہمیں آخرت کی فکر ہو جاتی ہے، لیکن جب ہم آپ سے جدا ہوتے ہیں تو ہمیں دنیا اچھی لگنے لگتی ہے اور ہم اپنے بیوی بچوں میں گم ہو جاتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم مستقل اسی حالت میں رہو جو تمہاری حالت اس وقت ہوتی ہے جب تم میرے پاس ہوتے ہو، تو فرشتے اپنے ہاتھوں سے تمہارے ساتھ مصافحہ کرنے لگیں، اور اگر تم اپنے گھروں میں رہنے کے دوران گناہ نہ کرو، تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو لے آئے گا جو گناہ کریں تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مغفرت کرے۔“ راوی کہتے ہیں: ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ ہمیں جنت اور اس کی بناوٹ کے بارے میں بتائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی ایک اینٹ سونے کی ہے اور ایک اینٹ چاندی کی ہے، اس کا گارا «الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ» ”مشک اذفر“ کا ہے، اس کی کنکریاں موتیوں اور یاقوت کی ہیں، اس کی مٹی زعفران ہے، جو شخص اس میں داخل ہو گا وہ ہمیشہ نعمتوں میں رہے گا، کبھی پریشان نہیں ہو گا، ہمیشہ زندہ رہے گا، اسے کبھی موت نہیں آئے گی، اس کے کپڑے کبھی پرانے نہیں ہوں گے اور اس کی جوانی ختم نہیں ہو گی۔ تین لوگ ایسے ہیں جن کی دعا مسترد نہیں ہوتی: عادل حکمران، روزہ دار شخص جب افطاری کرتا ہے اور مظلوم شخص جس کی دعا بادلوں سے اوپر چلی جاتی ہے، اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور پروردگار یہ فرماتا ہے: «وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكَ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ» ”مجھے اپنی عزت کی قسم! میں تمہاری مدد ضرور کروں گا خواہ کچھ عرصے کے بعد کروں۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7387]

7388

Sahih Ibn Hibban #7388

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ سَبْعِ سِنِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حکیم بن معاویہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جنت کے دو کواڑوں کے درمیان سات برس کی مسافت کا فاصلہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7388]

7389

Sahih Ibn Hibban #7389

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّمَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ لَكَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرَ ، أَوْ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَبُصْرَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، جنت کے دو کواڑوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا مکہ اور ہجر کے درمیان ہے۔ (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) جتنا مکہ اور بصریٰ کے درمیان فاصلہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7389]

7390

Sahih Ibn Hibban #7390

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِلالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّفِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ ، بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ ، فَهُوَ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ ، وَهُوَ أَعْلَى الْجَنَّةِ ، وَفَوْقَهُ الْعَرْشُ ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جنت میں ایک سو درجے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیا ہے، ان میں سے دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمانوں اور زمین کے درمیان ہے، جب تم مانگو تو اللہ تعالیٰ سے جنت الفردوس مانگو، کیونکہ وہ جنت کا درمیانی درجہ ہے اور جنت کا بالائی حصہ ہے اور اس کے اوپر عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7390]

7391

Sahih Ibn Hibban #7391

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَاجِكٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُمَّ حَارِثَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ هَلَكَ حَارِثَةُ يَوْمَ بَدْرٍ ، أَصَابَهُ سَهْمُ غَرْبٍ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،قَدْ عَلِمْتَ مَوْقِعَ حَارِثَةَ مِنْ قَلْبِي ، فَإِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ لَمْ أَبْكِ عَلَيْهِ ، وَإِلا سَوْفَ تَرَى مَا أَصْنَعُ ، فَقَالَ لَهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَجَنَّةٌ وَاحِدَةٌ هِيَ ، إِنَّمَا هِيَ جِنَانٌ كَثِيرَةٌ ، وَإِنَّهُ فِي الْفِرْدَوْسِ الأَعْلَى"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام حارثہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں انتقال کر گئے تھے، انہیں ایک نامعلوم تیر لگا تھا۔ اس خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ! حارثہ کی میرے دل میں جو جگہ تھی اس سے آپ واقف ہیں۔ اگر وہ جنت میں ہے تو میں اس پر نہیں روتی، ورنہ پھر آپ دیکھ لیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: ”کیا جنت کا ایک درجہ ہے؟ جنت کے کئی درجات ہیں اور وہ فردوسِ اعلیٰ میں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7391]

7392

Sahih Ibn Hibban #7392

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بْنِ مَرْزُوقٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الشَّوَارِبِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّأَهْلَ الْجَنَّةِ يَتَرَاءَوْنَ الْغُرْفَةَ مِنْ غَرَفِ الْجَنَّةِ ، كَمَا تَرَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَارِبَ فِي الأُفُقِ الشَّرْقِيِّ أَوِ الْغَرْبِيِّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اہل جنت، جنت کے بالاخانوں میں سے ایک دوسرے کو ایسے دیکھیں گے، جس طرح تم مشرقی یا مغربی افق میں غروب ہونے والے چمکدار ستارے کو دیکھتے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7392]

7393

Sahih Ibn Hibban #7393

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ ابْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّأَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ أَهْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِهِمْ ، كَمَا تَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ ، أَوِ الْغَائِرُ فِي الأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تِلْكَ مَنَازِلُ الأَنْبِيَاءِ لا يَبْلُغُهَا غَيْرُهُمْ ؟ قَالَ : " بَلَى ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، رِجَالٌ آمَنُوا بِاللَّهِ ، وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک اہل جنت اپنے اوپر موجود بالاخانوں میں لوگوں کو ایسے دیکھیں گے جس طرح تم لوگ مشرق یا مغرب کے افق میں نمودار ہونے والے چمکدار ستارے کو دیکھتے ہو۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ انبیاء کے مخصوص مقامات ہوں گے جہاں کوئی دوسرا نہیں پہنچ سکے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں، اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! یہ وہ لوگ ہوں گے جو اللہ پر ایمان لائے اور جنہوں نے رسولوں کی تصدیق کی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7393]

7394

Sahih Ibn Hibban #7394

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ ، قَالَ : يَا جِبْرِيلُ ، اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا ، فَذَهَبَ فَنَظَرَ ، فَقَالَ : يَا رَبِّ ، وَعِزَّتِكَ لا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلا دَخَلَهَا ، فَحَفَّهَا بِالْمَكَارِهِ ، ثُمَّ قَالَ : اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا ، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا ، فَقَالَ : يَا رَبِّ ، لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لا يَدْخُلُهَا أَحَدٌ ، فَلَمَّا خَلَقَ اللَّهُ النَّارَ ، قَالَ : يَا جِبْرِيلُ ، اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا ، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا ، فَقَالَ : يَا رَبِّ ، وَعِزَّتِكَ لا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ فَيَدْخُلُهَا ، فَحَفَّهَا بِالشَّهَوَاتِ ، ثُمَّ قَالَ : اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا ، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا ، فَقَالَ : يَا رَبِّ ، وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لا يَبْقَى أَحَدٌ إِلا دَخَلَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا تو فرمایا: اے جبرائیل! جاؤ اور اس کا جائزہ لو۔ وہ گئے اور انہوں نے اس کا جائزہ لیا، تو عرض کی: اے میرے پروردگار! تیری عزت کی قسم! اس کے بارے میں جو بھی سنے گا وہ اس میں ضرور داخل ہو گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے ناپسندیدہ چیزوں کے ذریعے ڈھانپ دیا، پھر فرمایا: تم جاؤ اور اس کا جائزہ لو۔ وہ گئے اور انہوں نے اس کا جائزہ لیا تو عرض کی: اے میرے پروردگار! اب مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کوئی بھی اس میں داخل نہیں ہو گا۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) جب اللہ تعالیٰ نے جہنم کو پیدا کیا تو فرمایا: اے جبرائیل! جاؤ اور اس کا جائزہ لو۔ وہ گئے اور انہوں نے اس کا جائزہ لیا تو عرض کی: اے میرے پروردگار! تیری عزت کی قسم! اس کے بارے میں جو بھی سنے گا وہ اس میں داخل نہیں ہو گا۔ پھر پروردگار نے اسے پسندیدہ چیزوں کے ذریعے ڈھانپ دیا، پھر فرمایا: تم جاؤ اور اس کا جائزہ لو۔ وہ گئے اور انہوں نے اس کا جائزہ لیا تو عرض کی: اے میرے پروردگار! تیری عزت کی قسم! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ ہر شخص اس میں داخل ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7394]

7395

Sahih Ibn Hibban #7395

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي إِسْرَائِيلَ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّفِيَ الْجَنَّةِ خِيَمًا مِنْ لُؤْلُؤَةٍ مُجَوَّفَةٍ ، عَرْضُهَا سِتُّونَ مِيلا ، فِي كُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا أَهْلٌ مَا يَرَوْنَ الآخَرِينَ يَطُوفُ عَلَيْهِنَّ الْمُؤْمِنُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبکر بن ابوموسیٰ اشعری رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک جنت میں موتیوں سے بنے ہوئے ایسے خیمے ہوں گے جو اندر سے کھوکھلے ہوں گے، ان کی چوڑائی ساٹھ میل ہو گی اور ان کے ہر ایک گوشے میں ایسے رہنے والے ہوں گے جنہیں دوسرے گوشے والے لوگ نہیں دیکھ سکیں گے، اور مومن شخص ان تمام بیویوں کے پاس چکر لگایا کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7395]

7396

Sahih Ibn Hibban #7396

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّالْمَرْأَةَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ لِيُرَى بَيَاضُ سَاقِهَا مِنْ سَبْعِينَ حُلَّةِ حَرِيرٍ ، وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ : كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ ، فَأَمَّا الْيَاقُوتُ ، فَإِنَّهُ حَجَرٌ لَوْ أَدْخَلْتَهُ سِلْكًا ثُمَّ اطَّلَعْتَ ، لَرَأَيْتَهُ مِنْ وَرَائِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اہل جنت سے تعلق رکھنے والی عورت کی پنڈلی کی سفیدی ستر ریشمی لباسوں کے اندر سے بھی دکھائی دے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے: ﴿كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ﴾ [سورة الرحمن: 58] ”وہ گویا یاقوت اور مرجان ہیں۔“ یاقوت ایک ایسا پتھر ہے کہ اگر آپ اس میں دھاگہ ڈالیں اور پھر آپ اسے دیکھیں، تو وہ آپ کو اس کے پار بھی نظر آ جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7396]

7397

Sahih Ibn Hibban #7397

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ دَرَّاجًا حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالرَّجُلَ فِي الْجَنَّةِ لَيَتَّكِئُ سَبْعِينَ سَنَةً قَبْلَ أَنْ يَتَحَوَّلَ ، ثُمَّ تَأْتِيهِ الْمَرْأَةُ ، فَتَقْرُبُ مِنْهُ ، فَيَنْظُرُ فِي خَدَّهَا أَصْفَى مِنَ الْمِرْآةِ ، فَتُسَلِّمُ عَلَيْهِ ، فَيَرُدُّ السَّلامَ ، وَيَسْأَلُهَا مَنْ أَنْتِ ؟ فَتَقُولُ : أَنَا مِنَ الْمَزِيدِ ، وَإِنَّهُ يَكُونُ عَلَيْهَا سَبْعُونَ ثَوْبًا ، فَيَنْفُذُهَا بَصَرُهُ حَتَّى يَرَى مُخَّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ ، وَإِنَّ عَلَيْهِنَّ التِّيجَانَ ، وَإِنَّ أَدْنَى لُؤْلُؤَةٍ عَلَيْهَا لَتُضِيءُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنت میں کوئی شخص ستر سال تک پہلو بدلے بغیر ٹیک لگا کر بیٹھا رہے گا، پھر اس کی بیوی اس کے پاس آئے گی، وہ اس کے قریب ہو گی تو وہ جنتی اس عورت کے رخسار میں (اپنی شکل کو) شیشے سے زیادہ صاف دیکھ لے گا۔ وہ عورت اسے سلام کرے گی، وہ اس کے سلام کا جواب دے گا اور اس عورت سے دریافت کرے گا کہ تم کون ہو؟ وہ کہے گی کہ میں اضافی نعمتوں میں سے ہوں۔ اس عورت نے ستر قسم کے کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے، جب وہ جنتی اس عورت پر نظر ڈالے گا تو ان کپڑوں کے پیچھے سے اس کی پنڈلی کا گودا نظر آئے گا، ان عورتوں نے تاج پہنے ہوئے ہوں گے اور ان پر موجود سب سے کم تر موتی (اتنا چمکدار ہو گا) کہ وہ مشرق اور مغرب کے درمیان کی ساری جگہ کو روشن کر دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7397]

7398

Sahih Ibn Hibban #7398

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ ، أَوْ مَوْضِعُ قَدَمٍ مِنَ الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَلَوْ أَنَّ امْرَأَةً اطَّلَعَتْ إِلَى الأَرْضِ مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ لأَضَاءَتْ مَا بَيْنَهُمَا ، وَلَمَلأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا ، وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی راہ میں (جہاد کے لیے) صبح کے وقت رہنا یا شام کے وقت رہنا دنیا میں موجود تمام چیزوں سے زیادہ بہتر ہے اور جنت میں کسی شخص کے کمان کے رکھنے کی جگہ یا پاؤں رکھنے کی جگہ دنیا اور اس میں موجود تمام چیزوں سے بہتر ہے، اور اگر جنت کی خواتین میں سے کوئی ایک عورت زمین پر جھانک لے، تو وہ پوری زمین کو روشن کر دے اور پوری زمین کو خوشبو سے بھر دے اور اس کے سر پر موجود دوپٹہ دنیا اور اس میں موجود تمام چیزوں سے زیادہ بہتر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7398]

7399

Sahih Ibn Hibban #7399

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُجَيْنُ ابْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ،لَوِ اطَّلَعَتِ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ عَلَى أَهْلِ الأَرْضِ لأَضَاءَتْ مَا بَيْنَهُمَا ، وَلَمَلأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا ، وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے! اہل جنت کی خواتین میں سے کوئی عورت اگر زمین کی طرف جھانک لے تو تمام زمین کو روشن کر دے اور تمام زمین کو خوشبو سے بھر دے، اور اس کے سر پر موجود دوپٹہ دنیا اور اس میں موجود تمام چیزوں سے بہتر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7399]

7400

Sahih Ibn Hibban #7400

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَْدُ اللَّهِ بْنُ جَرِيرِ بْنِ جَبَلَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يُعْطَى الرَّجُلُ فِي الْجَنَّةِ كَذَا وَكَذَا مِنَ النِّسَاءِ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " يُعْطَى قُوَّةَ مِئَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آدمی کو جنت میں اتنی اور اتنی بیویاں دی جائیں گی۔“ عرض کی گئی: یا رسول اللہ! اتنی کی طاقت کون رکھے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کو ایک سو مردوں جتنی قوت دی جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7400]

7401

Sahih Ibn Hibban #7401

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ دَرَّاجًا حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّأَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً الَّذِي لَهُ ثَمَانُونَ أَلْفَ خَادِمٍ ، وَاثْنَانِ وَسَبْعُونَ زَوْجًا ، وَيُنْصَبُ لَهُ قُبَّةٌ مِنْ لُؤْلُؤٍ ، وَزَبَرْجَدٍ ، وَيَاقُوتٍ ، كَمَا بَيْنَ الْجَابِيَةِ إِلَى صَنْعَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جنت کے سب سے کم تر درجے کے جنتی کو بھی 80 ہزار خادم اور 72 بیویاں ملیں گی۔ اس کے لیے موتی، زبرجد اور یاقوت سے بنا ہوا خیمہ ہوگا جو اتنا بڑا ہوگا جتنا جابیہ سے لے کر صنعاء تک کا فاصلہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7401]

7402

Sahih Ibn Hibban #7402

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قِيلَ لَهُ :أَنَطَأُ فِي الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ دَحْمًا دَحْمًا ، فَإِذَا قَامَ عَنْهَا ، رَجَعَتْ مُطَهَّرَةً بِكْرًا "، حَدَّثَنَاهُ ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ سَوَاءً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی: ”کیا ہم جنت میں صحبت کریں گے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں! اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، اچھی طرح سے صحبت کریں گے اور جب مرد عورت کے پاس سے اٹھ کر جائے گا تو وہ دوبارہ پاکیزہ اور کنواری ہو جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7402]

7406

Sahih Ibn Hibban #7406

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ أَبُو ذَرٍّ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : فُرِجَ سَقْفُ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ ، فَفَرَجَ صَدْرِي ، ثُمَّ غَسْلَهُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ ، ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا ، فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي ، ثُمَّ أَطْبَقَهُ ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي ، فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ ، فَلَمَّا جِئْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا ، قَالَ جِبْرِيلُ لِخَازِنِ سَمَاءِ الدُّنْيَا : افْتَحْ ، قَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا جِبْرِيلُ ، قَالَ : هَلْ مَعَكَ أَحَدٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، مَعِي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَفُتِحَ ، فَلَمَّا عَلَوْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا إِذَا رَجُلٌ عَنْ يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ ، فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى ، قَالَ : مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ، وَالابْنِ الصَّالِحِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا آدَمُ ، وَهَذِهِ الأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهِ ، وَعَنْ شِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ ، فَأَهْلُ الْيَمِينِ مِنْهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ ، وَالأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ ، فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى ، ثُمَّ قَالَ : خَرَجَ بِي جِبْرِيلُ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ لِخَازِنِهَا : افْتَحْ ، فَقَالَ لَهُ خَازِنُهَا مِثْلَ مَا قَالَ خَازِنُ السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَفَتَحَ " ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : فَذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ فِي السَّمَاوَاتِ آدَمَ ، وَإِدْرِيسَ ، وَعِيسَى ، وَمُوسَى ، وَإِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَيْهِمْ ، وَلَمْ يُثْبِتْ كَيْفَ مَنَازِلُهُمْ ، غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ آدَمَ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، وَإِبْرَاهِيمَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَأَخْبَرَنِي ابْنُ حَزْمٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَأَبَا حَبَّةَ الأَنْصَارِيَّ ، كَانَا يَقُولانِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثُمَّ عَرَجَ بِي حَتَّى ظَهَرْتُ لِمُسْتَوًى أَسْمَعُ فِيهِ صَرِيفَ الأَقْلامِ " ، قَالَ ابْنُ حَزْمٍ ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَفَرَضَ اللَّهُ عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلاةً ، فَرَجَعْتُ كَذَلِكَ حَتَّى مَرَرْتُ بِمُوسَى ، فَقَالَ مُوسَى : مَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسِينَ صَلاةً ، فَقَالَ لِي مُوسَى : فَرَاجِعْ رَبَّكَ ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لا تُطِيقُ ذَلِكَ ، قَالَ : فَرَاجَعْتُ رَبِّي ، فَوَضَعَ شَطْرَهَا ، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : رَاجِعْ رَبَّكَ ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لا تُطِيقُ ذَلِكَ ، قَالَ : فَرَاجَعْتُ رَبِّي ، فَقَالَ : هِيَ خَمْسٌ ، وَهِيَ خَمْسُونَ لا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ ، قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : رَاجِعْ رَبَّكَ ، فَقُلْتُ : قَدِ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي ، قَالَ : ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتَّى أَتَى بِي سِدْرَةَ الْمُنْتَهَى ، فَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لا أَدْرِي مَا هِيَ ، ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ ، فَإِذَا فِيهَا جَنَابِذُ اللُّؤْلُؤِ ، وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میں مکہ میں موجود تھا، میرے گھر کی چھت کو کھولا گیا، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے، انہوں نے میرے سینے کو کھولا، اسے آبِ زم زم کے ذریعے دھویا، پھر وہ ایک طشت لے کر آئے جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا، انہوں نے اسے میرے سینے میں انڈیل کر پھر اسے سی دیا۔ پھر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ساتھ لے کر آسمان کی طرف چڑھ گئے، جب ہم آسمانِ دنیا پر آئے تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے آسمانِ دنیا کے نگران سے کہا: دروازہ کھولو۔ اس نے کہا: کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جبرائیل ہوں۔ اس نے دریافت کیا: کیا آپ کے ساتھ کوئی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میرے ساتھ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس نے دریافت کیا: کیا انہیں پیغام بھجوایا گیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! تو دروازے کو کھول دیا گیا۔ جب ہم آسمانِ دنیا پر چڑھے تو وہاں ایک شخص موجود تھا جس کے دائیں طرف بہت سارے لوگ تھے اور بائیں طرف بہت سارے لوگ تھے، جب وہ اپنے دائیں طرف دیکھتا تھا تو ہنسنے لگتا تھا اور جب وہ اپنے بائیں طرف دیکھتا تھا تو رونے لگتا تھا۔ اس نے کہا: نیک نبی اور نیک بیٹے کو خوش آمدید۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے دریافت کیا: اے جبرائیل! یہ کون ہے؟ انہوں نے بتایا: یہ سیدنا آدم علیہ السلام ہیں اور یہ ان کے دائیں طرف اور بائیں طرف موجود لوگوں سے مراد ان کی اولاد ہے، ان لوگوں میں سے دائیں طرف والے جنتی ہیں اور بائیں طرف والے جہنمی ہیں، جب یہ اپنے دائیں طرف دیکھتے ہیں تو ہنسنے لگتے ہیں اور جب اپنے بائیں طرف دیکھتے ہیں تو رونے لگتے ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر جبرائیل مجھے لے کر دوسرے آسمان پر آئے، انہوں نے اس کے نگران سے کہا: دروازہ کھولو۔ اس کے نگران نے ان سے وہی کچھ دریافت کیا جو آسمانِ دنیا کے نگران نے کہا تھا، پھر اس نے دروازہ کھول دیا۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے یہ بات ذکر کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمانوں میں سیدنا آدم علیہ السلام، سیدنا ادریس علیہ السلام، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام، سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات کی، اللہ تعالیٰ کا درود سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان حضرات پر نازل ہو۔ البتہ راوی نے یہ وضاحت نہیں کی کہ ان حضرات کے مقامات کون کون سے تھے؟ صرف یہ بات ذکر کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمانِ دنیا پر سیدنا آدم علیہ السلام کو پایا تھا اور چھٹے آسمان پر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو پایا تھا۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: ابن حزم نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوحبہ انصاری رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”پھر وہ مجھے لے کر اوپر چڑھے، یہاں تک کہ میں مقامِ مستوی تک پہنچ گیا جہاں میں نے قلموں کے چلنے کی آواز سنی۔“ ابن حزم کہتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہاں اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، میں واپس آیا تو میرا گزر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس ہوا، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا: آپ کے پروردگار نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے جواب دیا: اس نے ان پر پچاس نمازیں فرض کی ہیں، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے مڑ کر کہا: آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیں کیونکہ آپ کی امت اتنی طاقت نہیں رکھے گی۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں اپنے پروردگار کے پاس واپس آیا تو اس نے نصف کر دیں، میں پھر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے کہا: آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیں کیونکہ آپ کی امت اتنی طاقت نہیں رکھے گی۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے اپنے پروردگار کی طرف رجوع کیا تو اس نے فرمایا: یہ پانچ نمازیں ہوں گی مگر پچاس شمار ہوں گی، ہمارا فرمان تبدیل نہیں ہوتا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے کہا: اپنے پروردگار سے رجوع کیجیے، میں نے کہا: مجھے اپنے پروردگار سے حیا آتی ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر وہ (یعنی جبرائیل) مجھے ساتھ لے کر روانہ ہوئے، یہاں تک کہ وہ مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے آئے جسے مختلف رنگوں نے ڈھانپا ہوا تھا، مجھے نہیں معلوم کہ وہ کیا چیز ہے۔ پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا تو اس میں موتیوں سے بنی ہوئی عمارتیں تھیں اور اس کی مٹی مشک جیسی تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7406]

7407

Sahih Ibn Hibban #7407

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَمْشَاطُ أَهْلِ الْجَنَّةِ الذَّهَبُ ، وَمَجَامِرُهُمُ الأَلُوَّةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اہلِ جنت کی کنکریاں سونے کی ہوں گی اور ان کی انگیٹھیوں میں عود سلگے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7407]

7408

Sahih Ibn Hibban #7408

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ بِالرَّمْلَةِ ، حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ يُوسُفُ بْنُ كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ قُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْهَارُ الْجَنَّةِ تَخْرُجُ مِنْ تَحْتِ تِلالِ ، أَوْ مِنْ تَحْتِ جِبَالِ مِسْكٍ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنت کی نہریں ایک ٹیلے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) پہاڑوں کے نیچے سے نکلتی ہیں، جو مشک کے بنے ہوئے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7408]

7409

Sahih Ibn Hibban #7409

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّفِي الْجَنَّةِ بَحْرَ الْمَاءِ ، وَبَحْرَ الْعَسَلِ ، وَبَحْرَ الْخَمْرِ ، وَبَحْرَ اللَّبَنِ ، ثُمَّ يَنْشَقُّ مِنْهَا بَعْدُ الأَنْهَارُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حکیم بن معاویہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جنت میں پانی کا دریا ہے، شہد کا دریا ہے، مشروب کا دریا ہے، دودھ کا دریا ہے اور پھر ان دریاؤں سے نہریں نکلتی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7409]

7410

Sahih Ibn Hibban #7410

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَطَّانُ بِتِنِّيسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَدِّي ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ إِلا سَاقُهَا مِنْ ذَهَبٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنت میں ہر درخت کا تنا سونے کا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7410]

7411

Sahih Ibn Hibban #7411

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّفِيَ الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِئَةَ عَامٍ "، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ وَظِلٍّ مَمْدُودٍ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنت میں درخت (اتنے بڑے) ہیں ایک سوار اس کے سائے میں ایک سو سال تک سفر کر سکتا ہے (پھر بھی اس کا سایہ ختم نہیں ہو گا)۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو یہ آیت تلاوت کر لو: ﴿وَظِلٍّ مَمْدُودٍ﴾ [سورة الواقعة: 30] ”اور پھیلے ہوئے سائے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7411]

7412

Sahih Ibn Hibban #7412

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِئَةَ سَنَةٍ ، لا يَقْطَعُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنت میں درخت ایسا ہے کہ ایک سوار اس کے سائے میں ایک سو سال تک چلتا رہے پھر بھی اسے عبور نہیں کر سکتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7412]

7413

Sahih Ibn Hibban #7413

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرَمَلَة ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ دَرَّاجًا حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،مَا طُوبَى ؟ قَالَ : شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ مِئَةِ سَنَةٍ ، ثِيَابُ أَهْلِ الْجَنَّةِ تَخْرُجُ مِنْ أَكْمَامِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: ”یا رسول اللہ! «طُوبٰی» کیا چیز ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایک درخت ہے جس کی مسافت ایک سو سال کی ہے، اہل جنت کے کپڑے اس کی شاخوں سے نکلتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7413]

7414

Sahih Ibn Hibban #7414

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ بِبَيْرُوتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الدَّارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ يَعْمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَخِي ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ زَيْدٍ الْبِكَالِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ ، يَقُولُ : قَامَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ :مَا فَاكِهَةُ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : فِيهَا شَجَرَةٌ تُدْعَى طُوبَى " ، فَقَالَ : أَيُّ شَجَرِنَا تُشْبِهُ ؟ قَالَ : " لَيْسَ تُشْبِهُ شَجَرًا مِنْ شَجَرِ أَرْضِكَ ، وَلَكِنْ أَتَيْتَ الشَّامَ ؟ " ، قَالَ : لا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَإِنَّهَا شَجَرَةٌ بِالشَّامِ تُدْعَى الْجُمَيْزَةَ تَشْتَدُّ عَلَى سَاقٍ ، ثُمَّ يُنْشَرُ أَعْلاهَا " ، قَالَ : مَا عِظَمُ أَصْلِهَا ؟ قَالَ : " لَوِ ارْتَحَلْتَ جَذَعَةً مِنْ إِبِلِ أَهْلِكَ مَا أَحَطْتَ بِأَصْلِهَا حَتَّى تَنْكَسِرَ تُرْقُوَتَاهَا هَرَمًا"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عتبہ بن عبدسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا، اس نے دریافت کیا: جنت کے پھل کیسے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایک درخت طوبیٰ ہے۔“ دیہاتی نے دریافت کیا: ہمارے درختوں میں سے کون سا درخت اس سے مشابہت رکھتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے علاقے کا کوئی درخت اس سے مشابہت نہیں رکھتا، کیا تم شام گئے ہو؟“ اس نے عرض کی: جی نہیں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شام میں ایک درخت ہے جس کا نام جمیزہ ہے، اس کے تنے کو باندھا جاتا ہے اور پھر اوپری حصے کو کھول دیا جاتا ہے۔“ اس دیہاتی نے دریافت کیا: (جنت کے اس درخت) کی جڑ کتنی بڑی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اپنے گھر کے اونٹوں میں سے ایک کم سن اونٹ پر پالان رکھو تو پھر بھی تم اس کی جڑ کو اس وقت تک عبور نہیں کر سکو گے جب تک اس اونٹ کی ہڈیاں بڑھاپے کی وجہ سے ٹوٹ نہیں جاتیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7414]

7415

Sahih Ibn Hibban #7415

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ ، قَالَ : رُفِعَتْ لِي سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى ، فَإِذَا نَبْقُهَا مِثْلُ قِلالِ هَجَرَ ، وَإِذَا وَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ ، وَإِذَا أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ : نَهْرَانِ بَاطِنَانِ ، وَنَهْرَانِ ظَاهِرَانِ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : أَمَّا الْبَاطِنَانِ ، فَنَهْرَانِ فِي الْجَنَّةِ ، وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ ، فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مالک بن صعصہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو یہ بات بتائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے سدرۃ المنتہیٰ آیا تو اس کے پھل ہجر کے مٹکوں کی طرح تھے اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے۔ وہاں چار نہریں تھیں، دو نہریں باطنی تھیں اور دو نہریں ظاہری تھیں۔ میں نے دریافت کیا: جبرائیل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا: جہاں تک باطنی دو نہروں کا تعلق ہے تو وہ جنت میں ہیں اور جہاں تک ظاہری دو نہروں کا تعلق ہے تو وہ نیل اور فرات ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7415]

7416

Sahih Ibn Hibban #7416

أَخْبَرَنَا مَكْحُولٌ بِبَيْرُوتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الدَّارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَمِّرُ بْنُ يَعْمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَخِي ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ زَيْدٍ الْبِكَالِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ ، يَقُولُ : قَامَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ :فِيهَا عِنَبٌ يَعْنِي : الْجَنَّةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ " ، قَالَ : مَا عِظَمُ الْعُنْقُودِ مِنْهَا ؟ قَالَ : " مَسِيرَةُ شَهْرٍ لِلْغُرَابِ الأَبْقَعِ لا يَنْثَنِي وَلا يَفْتُرُ " ، قَالَ : مَا عِظَمُ الْحَبَّةِ مِنْهُ ؟ قَالَ : " هَلْ ذَبَحَ أَبُوكَ تَيْسًا مِنْ غَنَمِهِ قَطُّ عَظِيمًا ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَسَلَخَ إِهَابَهُ ، فَأَعْطَاهُ أُمَّكَ ، وَقَالَ : ادْبُغِي لَنَا هَذَا ، ثُمَّ افْرِي لَنَا مِنْهُ دَلْوًا نَرْوِي بِهِ مَاشِيَتَنَا ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنَّ تِلْكَ الْحَبَّةَ تُشْبِعُنِي وَأَهْلَ بَيْتِي ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَعَامَّةُ عَشِيرَتِكَ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عتبہ بن عبد السلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا اس میں انگور ہوں گے؟ اس کی مراد یہ تھی کہ کیا جنت میں انگور ہوں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ اس نے دریافت کیا: اس کے گچھے کتنے بڑے ہوں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اتنی مسافت جتنی جو ایک ابقع کوا رکے بغیر مسلسل اڑتے ہوئے ایک ماہ میں طے کرتا ہے۔“ دیہاتی نے دریافت کیا: اس کا دانہ کتنا بڑا ہوگا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے والد نے اپنی بکریوں میں سے بھی کوئی بڑا نر جانور ذبح کیا ہے؟“ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”انہوں نے اس کی کھال بھی اتاری ہوگی اور وہ تمہاری والدہ کو دی ہوگی اور یہ کہا ہوگا: تم ہمارے لیے اس کی دباغت کر دو اور پھر اس کے ذریعے ہمارے لیے ایک مشکیزہ تیار کر دینا تاکہ ہم اس کے ذریعے اپنے جانوروں کو پانی دیں؟“ اس دیہاتی نے جواب دیا: جی ہاں۔ پھر اس نے کہا: وہ ایک دانہ تو مجھے اور میرے تمام اہل خانہ کو سیر کر دے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں اور تمام خاندان کے اکثر افراد کو بھی (سیر کر دے گا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7416]

7417

Sahih Ibn Hibban #7417

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا جَمِيعًا " ، اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ، وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلا مَتَاعُ الْغُرُورِ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنت میں کوڑا رکھنے کی جگہ دنیا اور اس میں موجود تمام چیزوں سے بہتر ہے، اگر تم چاہو تو یہ آیت تلاوت کر لو: ﴿فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ﴾ [سورة آل عمران: 185] ”جس شخص کو جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا وہ کامیاب ہو گیا اور دنیاوی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے“۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7417]

7418

Sahih Ibn Hibban #7418

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَقَابُ قَوْسٍ ، أَوْ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنت میں کمان رکھنے کی جگہ یا کوڑا رکھنے کی جگہ دنیا سے زیادہ بہتر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7418]

7419

Sahih Ibn Hibban #7419

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : تَجْتَمِعُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُقَالُ : أَيْنَ فُقَرَاءُ هَذِهِ الأُمَّةِ وَمَسَاكِينُهَا ؟ قَالَ : فَيَقُومُونَ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : مَاذَا عَمِلْتُمْ ؟ فَيَقُولُونَ : رَبَّنَا ابْتَلَيْتَنَا فَصَبَرْنَا ، وَآتَيْتَ الأَمْوَالَ وَالسُّلْطَانُ غَيْرَنَا ، فَيَقُولُ اللَّهُ : صَدَقْتُمْ ، قَالَ : فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ النَّاسِ ، وَيَبْقَى شِدَّةُ الْحِسَابِ عَلَى ذَوِي الأَمْوَالِ وَالسُّلْطَانِ " ، قَالُوا : فَأَيْنَ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : " يُوضَعُ لَهُمْ كَرَاسِيُّ مِنْ نُورٍ ، وَتُظَلِّلُ عَلَيْهِمُ الْغَمَامُ ، يَكُونُ ذَلِكَ الْيَوْمُ أَقْصَرَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مِنْ سَاعَةٍ مِنْ نَهَارٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم لوگ قیامت کے دن اکٹھے ہو گے تو یہ کہا جائے گا: امت کے غریب لوگ اور مسکین لوگ کہاں ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تو لوگ کھڑے ہوں گے، تو ان سے کہا جائے گا: تم نے کیا عمل کیا؟ وہ یہ کہیں گے: اے ہمارے پروردگار! تو نے ہمیں آزمائش میں مبتلا کیا، تو ہم نے صبر سے کام لیا، تو نے اموال اور حکومت دوسروں کو دے دی، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم نے سچ کہا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تو وہ لوگ دوسرے لوگوں سے پہلے جنت میں داخل ہو جائیں گے، اور حساب کی سختی مالدار لوگوں اور حکمرانوں کے لیے باقی رہ جائے گی۔ لوگوں نے دریافت کیا: اس دن مومن کہاں ہوں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے لیے نور کی کرسیاں رکھی جائیں گی اور ان پر بادل نے سایہ کیا ہوا ہو گا، اور وہ دن اہل ایمان کے لیے (دنیاوی) دن کی ایک گھڑی سے بھی چھوٹا ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7419]

7420

Sahih Ibn Hibban #7420

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدًا ، يَقُولُ اخْتَصَمَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ أَيُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ ؟ فَأَتَوْا أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَسَأَلُوهُ ، فَقَالَ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنَ أُمَّتِي عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَضْوَأِ كَوْكَبٍ فِي السَّمَاءِ دُرِّيٍّ أَوْ دُرِّيءٍ شَكَّ سُفْيَانُ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ اثْنَتَانِ ، يُرَى مُخُّ سُوقِهِنَّ مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ ، وَمَا فِي الْجَنَّةِ أَعْزُبُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ مردوں اور خواتین کے درمیان اس بات پر بحث ہو گئی کہ ان میں سے کس کی تعداد جنت میں زیادہ ہو گی۔ وہ لوگ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میری امت کا سب سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہو گا وہ چودھویں رات کے چاند کی مانند ہو گا۔ اس کے بعد والے لوگ آسمان میں موجود سب سے زیادہ چمکدار ستارے کی مانند ہوں گے۔ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں سفیان نامی راوی کو شک ہے۔) ان میں سے ہر ایک فرد کی دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلی کا گودا گوشت کے اندر سے بھی دکھائی دے گا اور جنت میں کوئی کنوارہ نہیں ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7420]

7421

Sahih Ibn Hibban #7421

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَعْرُوفُ بْنُ سُوَيْدٍ الْجُذَامِيُّ ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : هَلْ تَدْرُونَ مَنْ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ خَلَقِ اللَّهِ ؟ " ، قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ خَلَقِ اللَّهِ الْفُقَرَاءُ الْمُهَاجِرُونَ الَّذِينَ يُسَدُّ بِهِمُ الثُّغُورُ ، وَتُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِهُ ، وَيَمُوتُ أَحَدُهُمْ ، وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ لا يَسْتَطِيعُ لَهَا قَضَاءً ، فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ مَلائِكَتِهِ : إِيتُوهُمْ فَحَيُّوهُمْ ، فَيَقُولُ الْمَلائِكَةُ : رَبَّنَا نَحْنُ سُكَّانُ سَمَاوَاتِكَ ، وَخِيرَتُكَ مِنْ خَلْقِكَ ، أَفَتَأْمُرُنَا أَنْ نَأْتِيَ هَؤُلاءِ فَنُسَلِّمَ عَلَيْهِمْ ؟ قَالَ : إِنَّهُمْ كَانُوا عِبَادًا يَعْبُدُونِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ، وَتُسَدُّ بِهِمُ الثُّغُورُ ، وَتُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِهُ ، وَيَمُوتُ أَحَدُهُمْ ، وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ لا يَسْتَطِيعُ لَهَا قَضَاءً ، قَالَ : فَتَأْتِيهِمُ الْمَلائِكَةُ عِنْدَ ذَلِكَ ، فَيَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِنْ كُلِّ بَابٍ : سَلامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے سب سے پہلے کون جنت میں داخل ہوگا؟“ لوگوں نے عرض کی: «اللّٰهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ» ”اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے جنت میں سب سے پہلے غریب مہاجرین داخل ہوں گے جن کے لیے راستوں کو بند کر دیا گیا اور ان کے لیے مصیبتیں پیدا کر دی گئیں۔ ان میں سے کسی کا انتقال ہوتا تو اس کی ضرورت سینے میں ہی رہ جاتی اور وہ اسے پوری کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں میں سے جسے چاہے گا اس سے یہ فرمائے گا: ان کو لاؤ اور انہیں سلام کرو۔ فرشتے عرض کریں گے: اے ہمارے پروردگار! ہم تیرے آسمان کے رہنے والے ہیں اور تیری مخلوق میں بہتر لوگ ہیں، کیا تو ہمیں یہ حکم دے رہا ہے کہ ہم ان کے پاس جائیں اور ان کو سلام کریں؟ پروردگار فرمائے گا: یہ ایسے بندے تھے جنہوں نے میری عبادت کی اور کسی کو میرا شریک نہیں ٹھہرایا، ان کے لیے راستے بند کر دیے گئے اور مصیبتیں پیدا کر دی گئیں۔ ان میں سے کوئی شخص ایسی حالت میں فوت ہوتا کہ اس کی حاجت اس کے سینے میں ہوتی تھی اور وہ اس کو پوری کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس وقت فرشتے پھر ان لوگوں کے پاس آئیں گے اور ہر دروازے میں سے ان پر داخل ہوں گے (اور یہ کہیں گے جس کا ذکر قرآن میں ہے): ﴿سَلَامٌ عَلَيْكُم بِمَا صَبَرْتُمْ ۚ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ﴾ [سورة الرعد: 24] ”تم پر سلام ہو اس چیز کی وجہ سے جو تم نے صبر کیا اور آخرت کا گھر کتنا بہترین ہے!““ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7421]

7422

Sahih Ibn Hibban #7422

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ بِبَيْرُوتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الدَّارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ يَعْمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ سَلامٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ ، أَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ ، قَالَ : كُنْتُ قَائِمًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ جَاءَ حَبْرٌ مِنْ أَحْبَارِ الْيَهُودِ ، فَقَالَ : سَلامٌ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ ، قَالَ : فَدَفَعْتُهُ دَفْعَةً كَادَ يُصْرَعُ مِنْهَا ، فَقَالَ : لِمَ تَدْفَعُنِي ؟ فَقُلْتُ : أَلا تَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ الْيَهُودِيُّ : إِنَّمَا أَدْعُوهُ بِاسْمِهِ الَّذِي سَمَّاهُ بِهِ أَهْلُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اسْمِي مُحَمَّدٌ الَّذِي سَمَّانِي بِهِ أَهْلِي " ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ : جِئْتُ أَسْأَلُكَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ : " يَنْفَعُكَ شَيْءٌ إِنْ أَخْبَرْتُكَ ؟ " قَالَ : أَسْمَعُ مَا تُحَدِّثُ ، فَنَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ بِعُودٍ مَعَهُ ، وَقَالَ : " سَلْ " ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ :أَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ : " هُمْ فِي الظُّلْمَةِ دُونَ الْجِسْرِ " ، قَالَ : فَمَنْ أَوَّلُ النَّاسِ إِجَازَةً ؟ فَقَالَ : " فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ " ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ : فَمَا تُحْفَتُهُمْ حِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ؟ قَالَ : " زَائِدَةُ كَبِدِ النُّونِ " ، قَالَ : مَا غَدَاؤُهُمْ عَلَى إِثْرِهَا ؟ قَالَ : " يُنْحَرُ لَهُمْ ثَوْرُ الْجَنَّةِ الَّذِي كَانَ يَأْكُلُ مِنْ أَطْرَافِهَا " ، قَالَ : فَمَا شَرَابُهُمْ عَلَيْهِ ؟ قَالَ : " مِنْ عَيْنٍ فِيهَا تُسَمَّى سَلْسَبِيلا " ، قَالَ : صَدَقْتَ ، قَالَ : وَجِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنْ شَيْءٍ لا يَعْلَمُهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ إِلا نَبِيٌّ ، قَالَ : " يَنْفَعُكَ إِنْ حَدَّثْتُكَ ؟ " ، فَقَالَ : أَسْمَعُ بِأُذُنِي ، جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنِ الْوَلَدِ ، فَقَالَ : " مَاءُ الرَّجُلِ أَبْيَضُ ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ ، فَإِذَا اجْتَمَعَا فَعَلا مَاءُ الرَّجُلِ مَنِيَّ الْمَرْأَةِ أَذْكَرَا بِإِذْنِ اللَّهِ ، وَإِذَا عَلا مَنِيُّ الْمَرْأَةِ مَنِيَّ الرَّجُلِ آنَثَا بِإِذْنِ اللَّهِ " ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ : لَقَدْ صَدَقْتَ ، وَإِنَّكَ لِنَبِيٌّ ، وَانْصَرَفَ ، فَذَهَبَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ سَأَلَنِي هَذَا عَنِ الَّذِي سَأَلَنِي وَمَالِي عِلْمٌ بِشَيْءٍ مِنْهُ حَتَّى أَتَانِيَ اللَّهُ بِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہوا تھا، اسی دوران یہودیوں کا ایک عالم آیا اور بولا: اے سیدنا محمد! آپ کو سلام ہو، میں نے اسے دھکا دیا تو وہ گرنے کے قریب ہوا، اس نے مجھے کہا: تم نے مجھے دھکا کیوں دیا ہے؟ میں نے کہا: کیا تم یا رسول اللہ نہیں کہہ سکتے؟ یہودی نے کہا: میں نے انہیں ان کے نام سے بلایا ہے، وہ نام جو ان کے گھر والوں نے ان کا رکھا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرا نام محمد ہے، یہ وہ نام ہے جو میرے گھر والوں نے میرا رکھا ہے۔“ اس یہودی نے کہا: میں آپ سے سوال کرنے کے لیے آیا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر میں تمہیں کسی چیز کے بارے میں خبر دوں تو یہ چیز تمہیں فائدہ دے گی۔“ اس نے کہا: آپ جو بیان کر رہے ہیں میں اسے غور سے سن رہا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چھڑی تھی، جس سے آپ زمین کرید رہے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سوال کرو۔“ اس یہودی نے دریافت کیا، جس دن ﴿يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ﴾ [سورة إبراهيم: 48] (زمین کو دوسری زمین میں اور آسمانوں کو تبدیل کر دیا جائے گا) اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ پل صراط سے کچھ پہلے ایک تاریکی میں ہوں گے۔“ اس نے دریافت کیا: سب سے پہلے اسے کون لوگ عبور کریں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غریب مہاجرین۔“ یہودی نے دریافت کیا: جب وہ جنت میں داخل ہوں گے ان کی خوراک کیا ہو گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مچھلی کے جگر کا اضافی حصہ۔“ اس نے دریافت کیا: اس کے بعد ان کی خوراک کیا ہو گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان لوگوں کے لیے جنت کا بیل ذبح کیا جائے گا جو جنت کے اطراف میں چرتا رہا ہو گا۔“ یہودی نے دریافت کیا: ان لوگوں کا مشروب کیا ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ایک ایسے چشمے سے آئے گا، جس کا نام سلسبیل ہے۔“ اس نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے، اس نے بتایا: میں آپ سے ایسی چیزوں کے بارے میں سوال کرنے کے لیے آیا تھا جن کے بارے میں روئے زمین پر کوئی نہیں جانتا صرف کوئی نبی جان سکتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں تمہیں کچھ کہوں تو اس کا تمہیں فائدہ ہو گا۔“ اس نے کہا: میں اپنے کانوں کے ذریعے سن رہا ہوں، میں نے آپ سے بچے کے بارے میں دریافت کرنا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کا مادہ تولید سفید ہوتا ہے اور عورت کا مادہ زرد ہوتا ہے جب وہ دونوں ملیں اور مرد کا مادہ عورت کی منی پر غالب آ جائے تو اللہ کے حکم کے تحت لڑکا ہوتا ہے، جب عورت کی منی مرد کی منی پر غالب آ جائے تو اللہ کے حکم کے تحت لڑکی ہوتی ہے۔“ یہودی نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے، آپ واقعی نبی ہیں پھر وہ چلا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی اس نے مجھ سے جن چیزوں کے بارے میں دریافت کیا تھا، مجھے ان کے بارے میں علم نہیں تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے اس کا علم دے دیا گیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7422]

7423

Sahih Ibn Hibban #7423

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ فِي نَخْلٍ لَهُ ، فَأَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلامٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَشْيَاءَ لا يَعْلَمُهَا إِلا نَبِيٌّ ، فَإِنْ أَنْتَ أَخْبَرْتَنِي بِهَا ، آمَنْتُ بِكَ ، فَسَأَلَهُ عَنِ الشَّبَهِ ، وَعَنْ أَوَّلِ شَيْءٍ يَحْشُرُ النَّاسَ ، وَعَنْ أَوَّلِ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَخْبَرَنِي بِهِنَّ جِبْرِيلُ آنِفًا " ، قَالَ : ذَاكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" أَمَا الشَّبَهُ إِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ ذَهَبَ بِالشَّبَهِ ، وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ ذَهَبَ بِالشَّبَهِ ، وَأَوَّلُ شَيْءٍ يَحْشُرُ النَّاسَ نَارٌ تَجِيءُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ ، فَتَحْشُرُ النَّاسَ إِلَى الْمَغْرِبِ ، وَأَوَّلُ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ رَأْسُ ثَوْرٍ وَكَبِدُ حُوتٍ " ، ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهْتٌ ، وَإِنَّهُمْ إِنْ سَمِعُوا بِإِيمَانِي بِكَ بَهَتُونِي ، وَوَقَعُوا فِيَّ ، فَخَبْأَنِي وَأَبْعَثْ إِلَيْهِمْ ، فَبَعَثَ فَجَاؤُوا ، فَقَالَ : " مَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ ؟ " ، قَالُوا : سَيِّدُنَا وَابْنُ سَيِّدِنَا ، وَعَالِمُنَا وَابْنُ عَالِمِنَا ، وَخَيْرُنَا وَابْنُ خَيْرِنَا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ أَتُسْلِمُونَ ؟ " ، فَقَالُوا : أَعَاذَهُ اللَّهُ أَنْ يَقُولُ ذَلِكَ ، مَا كَانَ لِيَفْعَلَ ، فَقَالَ : " اخْرُجْ يَا ابْنَ سَلامٍ " ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالُوا : بَلْ هُوَ شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا ، وَجَاهِلُنَا وَابْنُ جَاهِلِنَا ، قَالَ : أَلَمْ أُخْبِرْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّهُمْ قَوْمٌ بُهْتٌ !"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اس وقت اپنے کھجوروں کے باغ میں تھے۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”میں آپ سے کچھ ایسی چیزوں کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہوں جن کے بارے میں کسی نبی کو ہی علم ہو سکتا ہے، اگر آپ نے مجھے ان کے بارے میں بتا دیا، تو میں آپ پر ایمان لے آؤں گا۔“ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (بچے کی ماں یا باپ میں سے کسی ایک کے ساتھ) مشابہت کے بارے میں دریافت کیا، اور اس چیز کے بارے میں دریافت کیا جو لوگوں کو اکٹھا کرے گی اور اس بارے میں دریافت کیا کہ اہل جنت سب سے پہلے کیا چیز کھائیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی جبرائیل نے مجھے ان کے بارے میں بتایا ہے۔“ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے بتایا: ”وہ تو یہودیوں کے ناپسندیدہ ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاں تک مشابہت کا تعلق ہے، جب مرد کا مادہ عورت کے مادے پر سبقت لے جائے تو بچہ باپ کے مشابہ ہوتا ہے اور اگر عورت کا مادہ مرد کے مادے پر سبقت لے جائے تو بچہ عورت کے مشابہ ہوتا ہے۔ لوگوں کو سب سے پہلے ایک آگ اکٹھا کرے گی جو مشرق کی طرف سے آئے گی اور ان کو اکٹھا کر کے مغرب کی طرف لے جائے گی۔ اہل جنت سب سے پہلے جو چیز کھائیں گے وہ بیل کا سر ہو گا اور مچھلی کا جگر ہو گا۔“ پھر انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہودی بہتان طراز لوگ ہیں، اگر انہوں نے یہ سن لیا کہ میں آپ پر ایمان لایا ہوں تو وہ مجھ پر بہتان لگائیں گے، میرے خلاف بولیں گے، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ میں انہیں بلوا لوں۔“ پھر سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے انہیں پیغام بھیجا تو یہودی آ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”عبداللہ بن سلام کی کیا حیثیت ہے؟“ انہوں نے کہا: ”وہ ہمارے سردار ہیں اور ہمارے سردار کے صاحب زادے ہیں اور ہمارے عالم ہیں اور ہمارے عالم کے صاحب زادے ہیں، ہمارے بہترین فرد ہیں اور ہمارے بہترین فرد کے صاحب زادے ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ مسلمان ہو جائیں تو کیا تم بھی مسلمان ہو جاؤ گے؟“ ان لوگوں نے کہا: ”اللہ تعالیٰ انہیں اس بات سے بچائے کہ وہ یہ بات کہیں، وہ ایسا نہیں کر سکتے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن سلام! باہر آؤ۔“ وہ نکل کر ان کے سامنے آئے اور انہوں نے کہا: ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں“، تو ان یہودیوں نے کہا: ”بلکہ یہ ہمارے بدترین فرد اور بدترین فرد کے بیٹے ہیں، ہمارے جاہل فرد اور جاہل فرد کے بیٹے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا میں نے آپ کو بتایا نہیں تھا کہ یہ بہتان طراز لوگ ہیں؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7423]

7424

Sahih Ibn Hibban #7424

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ ، فَقَالَ : يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ فِيهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّأَحَدَهُمُ لَيُعْطَى قُوَّةَ مِئَةِ رَجُلٍ فِي الْمَطْعَمِ ، وَالْمَشْرَبِ ، وَالشَّهْوَةِ ، وَالْجِمَاعِ " ، فَقَالَ لَهُ الْيَهُودِيُّ : فَإِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَاجَتُهُمْ عَرَقٌ يَفِيضُ مِنْ جُلُودِهِمْ مِثْلُ الْمِسْكِ ، فَإِذَا الْبَطْنُ قَدْ ضَمُرَ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہودیوں کا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: اے ابوالقاسم! کیا آپ اس بات کے قائل ہیں کہ اہل جنت، جنت میں کھائیں گے بھی اور پییں گے بھی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ» ”اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے!“ ہر جنتی کو کھانے پینے، شہوت اور صحبت کرنے میں ایک سو آدمیوں جتنی قوت دی جائے گی۔“ ان یہودیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: جو شخص کھاتا اور پیتا ہے، اسے قضائے حاجت کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی قضائے حاجت پسینے کی شکل میں ہو گی جو مشک کی طرح کا (خوشبودار) ہو گا، وہ ان کے جسم سے نکل جائے گا، اور پیٹ ویسے ہی ہلکا پھلکا رہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7424]

7425

Sahih Ibn Hibban #7425

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، قَالا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّفِي الْجَنَّةِ سُوقًا يَأْتُونَهُ كُلَّ جُمُعَةٍ فِيهِ كُثْبَانُ الْمِسْكِ ، فَتَهِيجُ رِيحُ شَمَالٍ ، فَتَحْثِي أَوْ فَتَسْفِي فِي وُجُوهِهِمُ الْمِسْكَ ، فَيَأْتُونَ أَهْلِيهِمْ ، فَيَقُولُونَ لَهُمْ : قَدْ زَادَكُمُ اللَّهُ بَعْدَنَا ، أَوِ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالا ، فَيَقُولُونَ لَهُمْ : وَأَنْتُمْ قَدْ زَادَكُمُ اللَّهُ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنت میں ایک بازار ہے جس میں اہل جنت ہر جمعے کے دن آیا کریں گے، اس میں مشک کے ٹیلے ہیں، وہاں شمال کی طرف سے آنے والی ہوا چلے گی جو ان کے چہروں پر مشک چھڑکے گی۔ جب وہ اپنی بیویوں کے پاس جائیں گے تو ان سے کہیں گے: ہمارے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہارے حسن و جمال میں اضافہ کیا ہے، تو ان کے اہل خانہ ان سے کہیں گے: ہمارے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہارے بھی حسن و جمال میں اضافہ کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7425]

7426

Sahih Ibn Hibban #7426

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْغَضَائِرِيُّ بِحَلَبٍ وَكَانَ حِتْرَ النِّعَالِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ ، سَمِعَا الشَّعْبِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّمُوسَى ، قَالَ : رَبِّ ، أَيُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَدْنَى مَنْزِلَةً ؟ فَقَالَ : رَجُلٌ يَجِيءُ بَعْدَمَا يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ ، فَيُقَالُ : ادْخُلِ الْجَنَّةَ ، فَيَقُولُ : كَيْفَ أَدْخُلُ وَقَدْ نَزَلَ النَّاسُ مَنَازِلَهُمْ وَأَخَذُوا أَخَذَاتِهِمْ ، فَيُقَالُ لَهُ : تَرْضَى أَنْ يَكُونَ لَكَ مِنَ الْجَنَّةِ مِثْلَ مَا كَانَ لِمَلِكٍ مِنْ مُلُوكِ الدُّنْيَا ؟ قَالَ : فَيَقُولُ : نَعَمْ أَيْ رَبِّ ، فَيُقَالُ : لَكَ هَذَا وَمِثْلُهُ وَمِثْلُهُ وَمِثْلُهُ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ رَضِيتُ ، فَيُقَالُ لَهُ : إِنَّ لَكَ هَذَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهِ مَعَهُ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ رَضِيتُ ، فَيُقَالُ لَهُ : لَكَ مَعَ هَذَا مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ ، وَلَذَّتْ عَيْنُكَ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے منبر پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے، آپ نے فرمایا: ”سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے پروردگار! اہل جنت میں سب سے کم تر مرتبے کا شخص کون ہوگا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ایک ایسا شخص جو اہل جنت کے (جنت میں) داخل ہو جانے کے بعد آئے گا، تو اسے کہا جائے گا: تم جنت میں داخل ہو جاؤ، تو وہ کہے گا: میں کیسے اندر جا سکتا ہوں جبکہ لوگ اپنے ٹھکانوں پر پہنچ چکے ہیں اور اپنی اپنی جگہ حاصل کر چکے ہیں؟ اس سے کہا جائے گا: کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم کو جنت میں اتنی جگہ مل جائے جو دنیا میں کسی بادشاہ کی ہوتی تھی؟ تو وہ کہے گا: جی ہاں اے میرے پروردگار! میں راضی ہوں، تو اسے کہا جائے گا: تمہیں اتنی جگہ ملتی ہے اس کی مانند مزید اور اس کی مانند مزید اور اس کی مانند مزید (یعنی مزید تین گنا اتنی جگہ ملتی ہے) تو وہ کہے گا: اے میرے پروردگار! میں راضی ہوں۔ اسے کہا جائے گا: تمہیں یہ بھی ملتا ہے اور اس کے ہمراہ اس کا دس گنا مزید ملتا ہے، تو وہ کہے گا: اے میرے پروردگار! میں راضی ہوں، تو اسے کہا جائے گا: تمہیں اس کے ہمراہ وہ چیز ملے گی، جس کی تمہارے نفس کو خواہش تھی جس کے ذریعے تمہاری آنکھوں کو لذت حاصل ہوگی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7426]

7427

Sahih Ibn Hibban #7427

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْبَذَشِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنِّي لأَعْرِفُآخِرَ رَجُلٍ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ رَجُلٌ خَرَجَ زَحْفًا ، فَقِيلَ لَهُ : ادْخُلِ الْجَنَّةَ ، فَيَدْخُلُ ، ثُمَّ يَخْرُجُ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، قَدْ أَخَذَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ ، فَيُقَالُ لَهُ : أَتَذْكُرُ الزَّمَانَ الَّذِي كُنْتَ فِيهِ فِي الدُّنْيَا ، فَيَقُولُ : نَعَمْ ، فَيَقُولُ : تَمَنَّهْ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، تَنَافَسَ أَهْلُ الدُّنْيَا فِي دُنْيَاهُمْ ، وَتَضَايَقُوا فِيهَا ، فَأَنَا أَسْأَلُكَ مِثْلَهَا ، فَيَقُولُ : لَكَ مِثْلَهَا وَعَشَرَةَ أَضْعَافِ ذَلِكَ ، فَهُوَ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں جہنم سے نکلنے والے آخری شخص سے واقف ہوں۔ یہ وہ شخص ہے جو گھسٹتا ہوا باہر آئے گا۔ اسے کہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ جنت میں داخل ہوگا پھر وہ باہر آئے گا اور کہے گا: اے میرے پروردگار! لوگ تو اپنی جگہوں کو حاصل کر چکے ہیں۔ اس سے کہا جائے گا: کیا تمہیں وہ زمانہ یاد ہے جب تم دنیا میں رہا کرتے تھے؟ وہ کہے گا جی ہاں، تو پروردگار فرمائے گا: تم آرزو کرو۔ وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! اہل دنیا اپنی دنیا کی خواہش کیا کرتے تھے اور دنیا کے بارے میں تنگی کا شکار ہوتے تھے۔ میں تجھ سے اس کی مانند کا سوال کرتا ہوں۔ پروردگار فرمائے گا: تمہیں اس کی مانند ملتا ہے اور اس کا دس گنا (مزید) بھی ملتا ہے۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے فرمایا:) یہ سب سے کم تر درجے کے جنتی کا مقام ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7427]