Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 65 · Chapter 1

The Book of the Prophet's Reports on the Virtues of the Companions

Hadith 7345–7384

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

7345

Sahih Ibn Hibban #7345

أَخْبَرَنَا أَبُو يَزِيدَ خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِينَاءٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الأَنْصَارِيِّ وَكَانَ مِنَ الصَّحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ فِي يَوْمٍ لا رَيْبَ فِيهِ ، نَادَى مُنَادِي : مَنْ أَشْرَكَ فِي عَمَلٍ عَمِلَهُ لِلَّهِ ، فَلْيَطْلُبْ ثَوَابَهُ مِنَ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ ، فَإِنَّ اللَّهَ أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الصَّحِيحُ هُوَ أَبُو سَعْدِ بْنُ أَبِي فَضَالَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید بن ابوفضالہ انصاری رضی اللہ عنہ، جو صحابہ کرام میں سے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب اللہ تعالیٰ اس دن تمام پہلے اور بعد والے لوگوں کو اکٹھا کر لے گا، جس دن کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے، ایک منادی یہ اعلان کرے گا: جس شخص نے کسی ایسے عمل میں، جو اسے اللہ تعالیٰ کے لیے کرنا چاہیے تھا، اس میں کسی دوسرے کو شریک کیا ہو، تو وہ اپنا ثواب اللہ تعالیٰ کی بجائے اس دوسرے سے لے، کیونکہ اللہ تعالیٰ شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) صحیح یہ ہے کہ راوی کا نام سیدنا ابوسعد بن ابوفضالہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7345]

7346

Sahih Ibn Hibban #7346

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : تَحَدَّثْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى أَكْرَيْنَا الْحَدِيثَ ، ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى مَنَازِلِنَا ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا غَدَوْنَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عُرِضَتْ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ الأَنْبِيَاءُ وَأُمَمُهُمْ وَأَتْبَاعُهَا مِنْ أُمَمِهَا ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ يَمُرُّ ، وَمَعَهُ الثَّلاثَةُ مِنْ أُمَّتِهِ ، وَجَعَلَ النَّبِيُّ يَمُرُّ ، وَمَعَهُ الْعِصَابَةُ مِنْ أُمَّتِهِ ، وَالنَّبِيُّ وَلَيْسَ مَعَهُ إِلا الْوَاحِدُ مِنْ أُمَّتِهِ ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِهِ ، حَتَّى مَرَّ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ فِي كَبْكَبَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ أَعْجَبُونِي ، فَقُلْتُ : يَا رَبِّ ، مَنْ هَؤُلاءِ ؟ قَالَ : أَخُوكَ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ ، وَمَنْ تَبِعَهُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، قُلْتُ : يَا رَبِّ ، فَأَيْنَ أُمَّتِي ؟ قَالَ : انْظُرْ عَنْ يَمِينِكِ ، فَنَظَرْتُ ، فَإِذَا الظِّرَابُ ظِرَابُ مَكَّةَ ، قَدِ اسْوَدَّ بِوجُوهِ الرِّجَالِ ، فَقُلْتُ : يَا رَبِّ ، مَنْ هَؤُلاءِ ؟ قَالَ : هَؤُلاءِ أُمَّتُكَ ، أَرَضِيتَ ؟ فَقُلْتُ : يَا رَبِّ ، قَدْ رَضِيتُ ، قَالَ : انْظُرْ عَنْ يَسَارِكِ ، فَنَظَرْتُ ، فَإِذَا الأُفُقُ قَدْ سُدَّ بِوجُوهِ الرِّجَالِ ، فَقُلْتُ : يَا رَبِّ ، مَنْ هَؤُلاءِ ؟ قَالَ : هَؤُلاءِ أُمَّتُكَ ، أَرَضِيتَ ؟ فَقُلْتُ : رَبِّ رَضِيتُ ، قِيلَ : فَإِنَّ مَعَ هَؤُلاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا بِلا حِسَابٍ " ، قَالَ : فَأَنْشَأَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ أَحَدُ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : " فَإِنَّكَ مِنْهُمْ " ، قَالَ : ثُمَّ أَنْشَأَ آخَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : " سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، ایک رات ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے، یہاں تک کہ ہم نے گفتگو ختم کی اور ہم اپنے گھروں کی طرف واپس لوٹ آئے، اگلے دن صبح ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گزشتہ رات میرے سامنے انبیاء کرام ان کی امتوں اور ان کی امت سے تعلق رکھنے والے ان کے پیروکاروں کو پیش کیا گیا، تو کوئی نبی گزرا تو اس کے ساتھ اس کی امت کے تین آدمی تھے، کوئی نبی گزرا تو اس کے ساتھ اس کی امت کے کچھ لوگ تھے، کوئی نبی گزرا تو اس کے ساتھ اس کی امت کا صرف ایک آدمی تھا، کوئی نبی گزرا اس کے ساتھ اس کی امت کا کوئی بھی فرد نہیں تھا، یہاں تک کہ سیدنا موسیٰ بن عمران علیہ السلام بنی اسرائیل کے ایک بڑے گروہ کے درمیان گزرے جب میں نے انہیں دیکھا تو وہ مجھے پسند آئے، میں نے عرض کی: اے میرے پروردگار! یہ کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تمہارے بھائی موسیٰ بن عمران اور بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ان کے پیروکار لوگ ہیں، میں نے عرض کی: اے میرے پروردگار! میری امت کہاں ہے؟ پروردگار نے فرمایا: اپنی دائیں طرف دیکھو، میں نے دیکھا، تو وہاں مکہ کا ایک پہاڑ لوگوں کے چہروں سے سیاہ ہو چکا تھا، میں نے عرض کی: میرے پروردگار یہ کون لوگ ہیں؟ پروردگار نے فرمایا: تمہاری امت ہے، تو کیا تم راضی ہو؟ میں نے عرض کیا: اے میرے پروردگار! میں راضی ہوں، پروردگار نے فرمایا: اپنے بائیں طرف دیکھو، میں نے اس طرف دیکھا، تو افق کو لوگوں کے چہروں نے بھر دیا تھا، میں نے عرض کیا: اے میرے پروردگار! یہ کون لوگ ہیں؟ پروردگار نے فرمایا: یہ تمہاری امت ہے، کیا تم راضی ہو؟ میں نے عرض کی: میرے پروردگار میں راضی ہوں، تو یہ کہا گیا: ان لوگوں کے ہمراہ ستر ہزار ایسے لوگ بھی ہیں، جو کسی حساب کے بغیر (جنت میں) داخل ہوں گے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو اسد بن خزیمہ سے تھا وہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان میں سے ایک ہو۔“ ایک اور صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بارے میں عکاشہ تم سے سبقت لے گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7346]

7347

Sahih Ibn Hibban #7347

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَوْعِظَةٍ ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ،إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ عُرَاةً حُفَاةً غُرْلا ، كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ أَلا وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلْقِ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ ، أَلا وَإِنَّهُ سَيُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي ، فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ ، فَأَقُولُ : " يَا رَبِّ أَصْحَابِي أَصْحَابِي " ، فَيُقَالُ : إِنَّكَ لا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ، فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ : وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ ، فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ، إِلَى قَوْلِهِ : الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ، فَيُقَالُ : إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان وعظ کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! تم لوگوں کو برہنہ جسم، برہنہ پاؤں، ختنوں کے بغیر (قیامت کے دن) اٹھایا جائے گا (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيدُهُ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَا ۚ إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ﴾ [سورة الأنبياء: 104] ”جس طرح ہم نے پہلے تخلیق کیا تھا اس طرح ہم دوبارہ تخلیق کریں گے۔ یہ ہمارا وعدہ ہے۔ ہم ایسا ضرور کریں گے۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”خبردار! مخلوق میں سب سے پہلے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا۔ خبردار! میری امت کے کچھ افراد کو لایا جائے گا اور انہیں پکڑ کر بائیں طرف لے جایا جائے گا، تو میں یہ کہوں گا: اے میرے پروردگار! یہ میرے ساتھی ہیں یہ میرے ساتھی ہیں، تو یہ کہا جائے گا: تم نہیں جانتے کہ تمہارے بعد انہوں نے کیا کیا تھا، تو میں وہی کہوں گا جو ایک نیک بندے نے کہا تھا (جس کا ذکر قرآن میں ہے) ﴿وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ﴾ [سورة المائدة: 117] ”جب تک میں ان کے درمیان رہا میں ان پر گواہ تھا اور جب تو نے مجھے موت دے دی تو تُو ان کا نگران تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔“ یہ آیت یہاں تک ہے ﴿الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [سورة المائدة: 118] ”غالب اور حکمت والا ہے۔“ تو یہ کہا جائے گا: یہ ایڑیوں کے بل مرتد ہو گئے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7347]

7348

Sahih Ibn Hibban #7348

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى قِيَامُ السَّاعَةِ ؟ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلاةِ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ ، قَالَ : أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْقِيَامَةِ ؟ " ، قَالَ الرَّجُلُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ صَلاةٍ ، وَلا صَوْمٍ ، إِلا إِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ، وَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ "، فَقَالَ أَنَسٌ : مَا رَأَيْتُ الْمُسْلِمِينَ فَرِحُوا بِشَيْءٍ بَعْدَ الإِسْلامِ مِثْلَ فَرَحِهِمْ بِهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور آپ نے نماز مکمل کی، تو آپ نے فرمایا: ”قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟“ ان صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟“ اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے اس کے لیے زیادہ روزے اور زیادہ نمازیں تیار نہیں کیں لیکن میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آدمی اس کے ساتھ ہو گا، جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے، تم بھی اس کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت رکھتے ہو۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے مسلمانوں کو اسلام قبول کرنے کے بعد کبھی کسی چیز سے اتنا خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنا وہ اس بات پر خوش ہوئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7348]

7349

Sahih Ibn Hibban #7349

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ : يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ ، قَالَ : يُدْعَى أَحَدُهُمْ ، فَيُعْطَى كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ، وَيُمَدُّ لَهُ فِي جِسْمِهِ سِتُّونَ ذِرَاعًا ، وَيُبَيَّضُ وَجْهُهُ ، وَيُجْعَلُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجٌ مِنْ لُؤْلُؤٍ يَتَلأْلأُ ، قَالَ : " فَيَنْطَلِقُ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَيَرَوْنَهُ مِنْ بَعِيدٍ ، فَيَقُولُونَ : اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي هَذَا حَتَّى يَأْتِيَهُمْ ، فَيَقُولُ : أَبْشِرُوا ، فَإِنَّ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْكُمْ مِثْلَ هَذَا ، وَأَمَّا الْكَافِرُ ، فَيُعْطَى كِتَابَهُ بِشِمَالِهِ مُسْوَدًّا وَجْهُهُ ، وَيُزَادُ فِي جِسْمِهِ سِتُّونَ ذِرَاعًا عَلَى صُورَةِ آدَمَ ، وَيَلْبَسُ تَاجًا مِنْ نَارٍ ، فَيَرَاهُ أَصْحَابُهُ ، فَيَقُولُونَ : اللَّهُمَّ أَخْزِهِ ، فَيَقُولُ : أَبْعَدَكُمُ اللَّهُ ، فَإِنَّ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْكُمْ مِثْلَ هَذَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان اللہ تعالیٰ کے اس فرمان (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ﴿اس دن ہم تمام لوگوں کو ان کے امام کی نسبت سے بلائیں گے﴾ [سورة الإسراء: 71] کے بعد نقل کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”کسی شخص کو بلایا جائے گا، اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور اس کا جسم ستر گز تک لمبا کر دیا جائے گا، اس کا چہرہ سفید کر دیا جائے گا اور اس کے سر پر ہیروں سے بنا تاج رکھا جائے گا جو جھلملا رہا ہو گا، جب وہ شخص اپنے ساتھیوں کے پاس واپس جائے گا، وہ لوگ دور سے اسے دیکھیں گے تو کہیں گے: اے اللہ! ہمارے لیے اس میں برکت رکھ دے، یہاں تک کہ وہ شخص ان کے پاس آئے گا تو کہے گا: تم لوگ خوش خبری قبول کرو کیونکہ تم میں سے ہر شخص کو اس کی مانند (اجر و ثواب) ملے گا، لیکن جہاں تک کافر شخص کا تعلق ہے تو اس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور اس کا چہرہ سیاہ ہو گا، اس کا جسم ساٹھ گز ہو جائے گا، جو سیدنا آدم علیہ السلام کے قد جتنا تھا، اسے آگ سے بنا ہوا تاج پہنایا جائے گا، اس کے ساتھی اسے دیکھیں گے تو یہ کہیں گے: اے اللہ! اسے رسوا کر، تو وہ کہے گا: اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو بھی دور کرے، تم میں سے ہر ایک کو اس کی مانند (عذاب ملے گا)“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7349]

7350

Sahih Ibn Hibban #7350

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يُؤْتَى بِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَيَقُولُ لَهُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ ؟ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، شَرَّ مَنْزِلٍ ، فَيَقُولُ : أَتَفْتَدِي مِنْهُ بِطِلاعِ الأَرْضِ ذَهَبًا ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ أَيْ رَبِّ ، فَيَقُولُ : كَذَبْتَ ، قَدْ سُئِلْتَ مَا هُوَ أَهْوَنُ مِنْ ذَلِكَ ، فَيُرَدُّ إِلَى النَّارِ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہلِ جہنم میں سے ایک شخص کو لایا جائے گا، تو پروردگار اس سے فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! تو نے اپنے ٹھکانے کو کیسا پایا؟ وہ کہے گا: اے پروردگار! سب سے برا ٹھکانہ ہے۔ پروردگار فرمائے گا: کیا تو اس کے عوض میں تمام روئے زمین جتنا سونا فدیے کے طور پر دینے کے لیے تیار ہے؟ وہ کہے گا: جی ہاں میرے پروردگار! تو پروردگار فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، تجھ سے اس سے بھی آسان چیز کا مطالبہ کیا گیا تھا (لیکن تم نے اس پر عمل نہیں کیا)، پھر اسے جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7350]

7351

Sahih Ibn Hibban #7351

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يُقَالُ لِلْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مِلْءُ الأَرْضِ ذَهَبًا أَكُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ ، فَيُقَالُ : قَدْ سُئِلْتَ أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن کافر سے کہا جائے گا: تمہارا کیا خیال ہے؟ اگر تمہارے پاس زمین جتنا سونا ہوتا تو کیا تم فدیے کے طور پر وہ دے دیتے؟ وہ جواب دے گا: جی ہاں، تو اسے کہا جائے گا: تم سے اس سے زیادہ آسان چیز کا مطالبہ کیا گیا تھا، لیکن تم نے اس پر عمل نہیں کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7351]

7352

Sahih Ibn Hibban #7352

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا السَّمْحِ حَدَّثَهُ ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : يُنْصَبُ لِلْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِقْدَارُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ، وَإِنَّ الْكَافِرَ لَيَرَى جَهَنَّمَ ، وَيَظُنُّ أَنَّهَا مُوَاقِعَتُهُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ سَنَةً"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت کے دن کافر کے لیے پچاس ہزار سال جتنا دن ہو گا، اور کافر شخص جہنم کو دیکھ لے گا اور یہ گمان کرے گا کہ وہ اس میں چالیس برس تک گرتا رہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7352]

7353

Sahih Ibn Hibban #7353

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلا ، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : إِنَّكَ تَقُولُ : إِنَّ السَّاعَةَ تَقُومُ إِلَى كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ : لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لا أُحَدِّثَكُمْ بِشَيْءٍ ، إِنَّمَا قُلْتُ : إِنَّكُمْ تَرَوْنَ بَعْدَ قَلِيلٍ أَمْرًا عَظِيمًا ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي ، فَيَمْكُثُ فِيهِمْ أَرْبَعِينَ ، لا أَدْرِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، أَوْ أَرْبَعِينَ عَامًا ، أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا ، فَيَبْعَثُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ ، كَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ ، فَيَطْلُبُهُ فَيُهْلِكُهُ ، ثُمَّ يَمْكُثُ النَّاسُ بَعْدَهُ سَبْعَ سِنِينَ لَيْسَ بَيْنَ اثْنَيْنِ عَدَاوَةٌ ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ رِيحًا مِنْ قِبَلِ الشَّامِ ، فَلا يَبْقَى أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ ، إِلا قَبَضَتْهُ ، حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ كَانَ فِي كَبِدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْ عَلَيْهِ " ، قَدْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ فِي خِفَّةِ الطَّيْرِ ، وأحلامِ السِّباعِ ، لا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا ، وَلا يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا ، فَيَتَمَثَّلُ لَهُمُ الشَّيْطَانُ ، فَيَأْمُرُهُمْ بِالأَوْثَانِ فَيَعْبُدُونَهَا ، وَفِي ذَلِكَ دَارَّةٌ أَرْزَاقُهُمْ ، حَسَنٌ عَيْشُهُمْ ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ ، فَلا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلا أَصْغَى ، ثُمَّ لا يَبْقَى أَحَدٌ ، إِلا صَعِقَ ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ مَطَرًا كَأَنَّهُ الطَّلُّ أَوِ الظِّلُّ ، النُّعْمَانُ يَشُكُّ ، فَتَنْبُتُ مَعَهُ أَجْسَادُ النَّاسِ ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى ، فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ ، ثُمَّ يُقَالُ : أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكِمْ : وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ ، ثُمَّ يُقَالُ : أَخْرِجُوا مِنْ بَعْثِ أَهْلِ النَّارِ ، فَيُقَالُ : كَمْ ؟ فَيُقَالُ : مِنْ كُلُّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ ، فَيَوْمَئِذٍ يُبْعَثُ الْوِلْدَانُ شِيبًا ، وَيَوْمَئِذٍ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ "، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مِرَارًا ، وَعَرَضْتُهُ عَلَيْهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یعقوب بن عاصم بیان کرتے ہیں: میں نے ایک شخص کو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے یہ کہتے ہوئے سنا: آپ یہ کہتے ہیں کہ قیامت اتنے اتنے عرصے کے لیے قائم ہو گی، تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے فرمایا: پہلے میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ میں تمہیں کوئی حدیث بیان نہیں کروں گا لیکن پھر میں نے سوچا کہ تم تھوڑے ہی عرصے کے بعد ایک بڑا واقعہ دیکھو گے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری امت میں دجال نکلے گا، وہ لوگوں میں چالیس تک رہے گا (راوی کہتے ہیں:) لیکن مجھے نہیں معلوم اس سے مراد چالیس دن ہیں یا چالیس سال ہیں یا چالیس راتیں ہیں یا چالیس مہینے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو اس کی طرف بھیجے گا، ان کی شکل عروہ بن مسعود ثقفی کی طرح ہو گی، وہ اسے تلاش کر کے اسے ہلاک کر دیں گے، پھر اس کے بعد سات سال تک لوگوں کے درمیان رہیں گے۔ اس دوران دو آدمیوں کے درمیان کوئی دشمنی نہیں ہو گی، پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ہوا بھیجے گا۔ کوئی ایسا شخص زندہ نہیں رہے گا جس میں رائی کے دانے جتنا ایمان ہو، وہ ہوا اس کی روح کو قبض کر لے گی، یہاں تک کہ اگر کوئی شخص کسی پہاڑ کی غار میں ہو گا تو ہوا اس تک بھی پہنچ جائے گی۔“ (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بتایا) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات بھی سنی ہے: ”پھر برے لوگ پرندے کے ٹھکانوں اور درندوں کی کچھاروں میں باقی رہ جائیں گے، وہ نیکی سے واقف نہیں ہوں گے اور برائی کو برائی نہیں سمجھیں گے۔ شیطان ان کے سامنے انسانی شکل میں آئے گا اور انہیں بتوں کی عبادت کرنے کا حکم دے گا، تو وہ ان کی عبادت شروع کر دیں گے۔ اس وقت میں ان کا رزق عمدہ ہو گا، ان کی زندگی بظاہر عمدہ ہو گی، پھر صور میں پھونک ماری جائے گی، جو بھی اسے سنے گا وہ گر جائے گا، پھر کوئی بھی شخص باقی نہیں رہے گا، ہر شخص مر جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ ایک بارش کو بھیجے گا جو ہلکی ہو گی (یہاں پر نعمان نامی راوی کو شک ہے) یا موسلا دھار ہو گی، اس بارش کے ہمراہ لوگوں کے جسم اگنا شروع ہوں گے۔ پھر صور میں دوبارہ پھونک ماری جائے گی، تو وہ لوگ کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے۔ پھر یہ کہا جائے گا: اے لوگو! اپنے پروردگار کی طرف چل پڑو۔“ (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ﴿وَقِفُوهُمْ ۖ إِنَّهُم مَّسْئُولُونَ﴾ [سورة الصافات: 24] ”ان لوگوں کو روک لو ان سے حساب لیا جائے گا۔“ پھر یہ کہا جائے گا: ان میں سے جہنم میں جانے والے لوگوں کو نکال لو۔ پھر دریافت کیا جائے گا: کتنوں کو؟ تو یہ کہا جائے گا: ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے افراد کو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس دن بچوں کو بزرگوں کی شکل میں زندہ کیا جائے گا اور اس دن ﴿يَوْمَ يُكْشَفُ عَن سَاقٍ﴾ [سورة القلم: 42] (یعنی معاملہ سخت ہو گا)۔“ محمد بن جعفر نامی راوی کہتے ہیں: شعبہ نے یہ حدیث کئی مرتبہ ہمیں بیان کی ہے اور کئی مرتبہ میں نے بھی یہ ان کے سامنے پڑھی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7353]

7354

Sahih Ibn Hibban #7354

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : نَزَلَتْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ فِي مَسِيرٍ لَهُ ، فَرَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ حَتَّى ثَابَ إِلَيْهِ أَصْحَابُهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ يَوْمَ يَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لآدَمَ : يَا آدَمُ ، قُمْ فَابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ ، فَكَبُرَ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ " ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَدِّدُوا ، وَقَارِبُوا ، وَأَبْشِرُوا ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلا كَالشَّامَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ ، أَوْ كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ ، وَإِنَّ مَعَكُمْ لَخَلِيقَتَيْنِ مَا كَانَتَا مَعَ شَيْءٍ قَطُّ إِلا كَثَّرَتَاهُ : يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ ، وَمَنْ هَلَكَ مِنْ كَفَرَةِ الْجِنِّ وَالإِنْسِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو، بے شک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے﴾ [سورة الحج: 1] ۔ یہ آیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سفر کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں اسے تلاوت کیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ کے نزدیک آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے؟ (یعنی قیامت کا دن کون سا دن ہے؟) اس دن اللہ تعالیٰ سیدنا آدم علیہ السلام سے فرمائے گا: اے آدم! اٹھو اور ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے لوگ جہنم میں ڈالنے کے لیے نکال لو۔“ (راوی کہتے ہیں) مسلمانوں کو یہ بات بہت شاق گزری، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ ٹھیک رہو، میانہ روی اختیار کرو اور یہ خوشخبری حاصل کرو، اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، لوگوں کے درمیان تمہاری مثال اس طرح ہے، جس طرح اونٹ کے پہلو پر نشان ہوتا ہے، یا جس طرح جانور کی ٹانگ پر نشان ہوتا ہے۔ تمہارے ساتھ دو طرح کی مخلوق ہے، یہ دونوں جس کے ساتھ بھی مل جائیں گے اس کی تعداد کو زیادہ کر دیں گے، وہ یاجوج ماجوج اور ہلاک ہو جانے والے کافر جنات اور انسان ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7354]

7355

Sahih Ibn Hibban #7355

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ صَفْوَانِ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ ، قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ نَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ عَارَضَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ عُمَرَ ، كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ النَّجْوَى ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : يَدْنُو الْمُؤْمِنُ مِنْ رَبِّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَضَعَ عَلَيْهِ كَنَفَهُ ، ثُمَّ يُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ ، فَيَقُولُ : هَلْ تَعْرِفُ ؟ فَيَقُولُ : رَبِّ أَعْرِفُ ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْلُغَ ، قَالَ : فَإِنِّي قَدْ سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا ، وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ ، ثُمَّ يُعْطَى صَحِيفَةَ حَسَنَاتِهِ ، وَأَمَّا الْكَافِرُ وَالْمُنَافِقُ ، فَيُنَادَى عَلَى رُؤُوسِ الأَشْهَادِ : هَؤُلاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ ، أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا صفوان بن محرز مازنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، اسی دوران ایک شخص ان کے سامنے آیا اور بولا: اے سیدنا عبداللہ بن عمر! آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «النَّجْوَىٰ» ”سرگوشی“ کے بارے میں کیا بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قیامت کے دن مومن اپنے پروردگار کے قریب ہو گا، یہاں تک کہ وہ اسے پردے میں کر لے گا اور پھر اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کروائے گا۔ پروردگار فرمائے گا: کیا تم ان سے واقف ہو؟ وہ کہے گا: اے میرے پروردگار! میں انہیں پہچانتا ہوں، یہاں تک کہ وہاں تک بات چلی جائے گی جو اللہ کو منظور ہو گا کہ وہاں تک جائے، پھر پروردگار فرمائے گا: میں نے دنیا میں تمہارے ان عیوب کی پردہ پوشی کی تھی اور آج میں تمہارے لیے ان کی مغفرت کرتا ہوں۔ پھر اس شخص کو اس کی نیکیوں کا صحیفہ دیا جائے گا۔ لیکن جہاں تک کافر اور منافق شخص کا تعلق ہے، اسے تمام لوگوں کی موجودگی میں پکارا جائے گا (اور یہ کہا جائے گا، جس کا ذکر قرآن میں ہے): ﴿هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ﴾ [سورة هود: 18] ”یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے اپنے پروردگار کو جھٹلایا۔ خبردار! ظلم کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہو۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7355]

7356

Sahih Ibn Hibban #7356

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا آخِذٌ بِيَدِ ابْنِ عُمَرَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي النَّجْوَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّاللَّهَ يُدْنِي الْمُؤْمِنَ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَضَعَ كَنَفَهُ عَلَيْهِ ، فَيَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ ، فَيَقُولُ : أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا وَكَذَا ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ يَا رَبِّ ، فَيَقُولُ : أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا وَكَذَا ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ يَا رَبِّ ، حَتَّى إِذَا قَرَّرَهُ بِذُنُوبِهِ ، وَظَنَّ فِي نَفْسِهِ أَنَّهُ قَدِ اسْتَوْجَبَ ، قَالَ : قَدْ سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ مِنَ النَّاسِ ، وَإِنِّي أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ ، وَيُعْطَى كِتَابَ حَسَنَاتِهِ ، وَأَمَّا الْكُفَّارُ وَالْمُنَافِقُونَ ، فَيَقُولُ الأَشْهَادُ : هَؤُلاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا صفوان بن محرز مازنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ہاتھ تھاما ہوا تھا، اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت کے دن سرگوشی کے بارے میں کیا ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے قریب کرے گا، یہاں تک کہ اسے پردے میں کر لے گا اور اسے لوگوں سے چھپا لے گا، پھر وہ فرمائے گا: کیا تم فلاں فلاں گناہ کو پہچانتے ہو؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں میرے پروردگار! وہ فرمائے گا: کیا تم فلاں فلاں گناہ کو پہچانتے ہو؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں میرے پروردگار! یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس شخص سے اس کے گناہوں کا اعتراف کروائے گا اور وہ شخص یہ گمان کرے گا کہ اب اس کے لیے (جہنم) واجب ہو چکی ہے، تو پروردگار فرمائے گا: میں نے لوگوں سے تمہیں پردے میں رکھا اور آج میں تمہارے ان گناہوں کی مغفرت کرتا ہوں، پھر اس شخص کو اس کی نیکیوں کی کتاب دے دی جائے گی، جہاں تک کفار اور منافقین کا تعلق ہے، تو انہیں تمام لوگوں کے سامنے پکارا جائے گا: ﴿هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ﴾ [سورة هود: 18] ”یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے اپنے پروردگار کی طرف جھوٹی بات منسوب کی۔ خبردار! ظالم لوگوں پر اللہ کی لعنت ہے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7356]

7357

Sahih Ibn Hibban #7357

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَرْبَعَةٌ يَحْتَجُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : رَجُلٌ أَصَمُّ ، وَرَجُلٌ أَحْمَقُ ، وَرَجُلٌ هَرِمٌ ، وَرَجُلٌ مَاتَ فِي الْفَتْرَةِ ، فَأَمَّا الأَصَمُّ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، لَقَدْ جَاءَ الإِسْلامُ ، وَمَا أَسْمَعُ شَيْئًا ، وَأَمَّا الأَحْمَقُ ، فَيَقُولُ : رَبِّ ، قَدْ جَاءَ الإِسْلامُ وَالصِّبْيَانُ يَحْذِفُونَنِي بِالْبَعَرِ ، وَأَمَّا الْهَرِمُ ، فَيَقُولُ : رَبِّ ، لَقَدْ جَاءَ الإِسْلامُ وَمَا أَعْقِلُ ، وَأَمَّا الَّذِي مَاتَ فِي الْفَتْرَةِ ، فَيَقُولُ : رَبِّ ، مَا أَتَانِي لَكَ رَسُولٌ ، فَيَأْخُذُ مَوَاثِيقَهُمْ لَيُطِيعُنَّهُ ، فَيُرْسِلُ إِلَيْهِمْ رَسُولا أَنِ ادْخُلُوا النَّارَ ، قَالَ : فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ دَخَلُوهَا كَانَتْ عَلَيْهِمْ بَرْدًا وَسَلامًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”چار طرح کے لوگ قیامت کے دن حجت پیش کریں گے: (ایک) بہرا شخص، (دوسرا) احمق شخص، (تیسرا) بے عقل شخص اور (چوتھا) وہ شخص جو زمانہ فترت میں فوت ہو گیا تھا۔ جہاں تک پہلے شخص کا تعلق ہے تو وہ یہ کہے گا: اے میرے پروردگار! اسلام آیا لیکن میں نے کسی چیز کے بارے میں نہیں سنا۔ احمق شخص یہ کہے گا: اے میرے پروردگار! اسلام آیا اور اس وقت بچے مجھے مینگنیوں سے مارتے تھے (یعنی میرا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا)۔ جہاں تک بے عقل شخص کا تعلق ہے وہ یہ کہے گا: جب اسلام آیا مجھے کسی چیز کی سمجھ بوجھ نہیں تھی۔ جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے جو زمانہ فترت میں فوت ہو گیا تھا، تو وہ یہ کہے گا: اے میرے پروردگار! تیرا کوئی رسول میرے پاس نہیں آیا۔ پھر پروردگار ان لوگوں سے یہ عہد لے گا کہ وہ اس کی فرمانبرداری ضرور کریں گے، پھر پروردگار ان کی طرف ایک پیغام رساں بھیجے گا کہ تم لوگ جہنم میں داخل ہو جاؤ۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! اگر وہ اس میں داخل ہو جائیں، تو وہ ان کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7357]

7358

Sahih Ibn Hibban #7358

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ ، فَقَالَ : هَلْ تَدْرُونَ مِمَّا أَضْحَكُ ؟ " ، قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " مِنْ مُخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ ، يَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَلَمْ تُجِرْنِي مِنَ الظُّلْمِ ؟ قَالَ : يَقُولُ : بَلَى ، قَالَ : فَإِنِّي لا أُجِيزُ عَلَى نَفْسِي إِلا شَاهِدًا مِنِّي ، فَيَقُولُ : كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ شَهِيدًا ، وَبِالْكِرَامِ الْكَاتِبِينَ عَلَيْكَ شَهِيدًا ، فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ ، ثُمَّ يُقَالُ لأَرْكَانِهِ : انْطِقِي ، فَتَنْطِقُ بِأَعْمَالِهِ ، ثُمَّ يُخَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَلامِ ، فَيَقُولُ : بُعْدًا لَكُنَّ ، وَسُحْقًا ، فَعَنْكُنَّ كُنْتُ أُنَاضِلُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، آپ مسکرا دیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں کس بات پر مسکرایا ہوں؟“ ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک بندے کے اپنے پروردگار سے گفتگو کرنے پر (مجھے ہنسی آ گئی)، وہ بندہ یہ کہے گا: اے میرے پروردگار! کیا تو نے مجھے ظلم سے نہیں بچایا؟ پروردگار فرمائے گا: جی ہاں۔ بندہ عرض کرے گا: تو پھر میں اپنے خلاف کسی بھی شخص کی گواہی کو قبول نہیں کروں گا، کوئی ایسا گواہ ہونا چاہیے جو میری طرف سے ہو، تو پروردگار فرمائے گا: آج کے دن تمہارا اپنا وجود تمہارے خلاف گواہ ہونے کے لیے کافی ہے اور معزز فرشتے بھی تمہارے خلاف گواہ ہیں۔ پھر اس شخص کے منہ پر مہر لگائی جائے گی اور اس کے اعضا سے یہ کہا جائے گا: تم کلام کرو۔ پھر وہ اعضا اس کے اعمال کے بارے میں کلام کریں گے۔ پھر اسے بولنے کا موقع دیا جائے گا، تو وہ یہ کہے گا: تم لوگ دور ہو جاؤ، پرے ہو جاؤ، میں تو تمہیں بچانے کے لیے (پروردگار سے) گفتگو کر رہا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7358]

7359

Sahih Ibn Hibban #7359

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَتَدْرُونَ مَنِ الْمُفْلِسُ ؟ " ، قَالُوا : الْمُفْلِسُ فِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لا دِرْهَمَ لَهُ ، وَلا مَتَاعَ لَهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" الْمُفْلِسُ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلاتِهِ وَصِيَامِهِ وَزَكَاتِهِ ، فَيَأْتِي وَقَدْ شَتَمَ هَذَا ، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا ، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا ، وَضَرَبَ هَذَا ، فَيَقْعُدُ ، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَ مَا عَلَيْهِ ، أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ ، فَطُرِحَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارے درمیان مفلس وہ شخص ہوتا ہے جس کے پاس درہم نہ ہوں اور ساز و سامان نہ ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری امت سے تعلق رکھنے والا وہ شخص مفلس ہو گا جو قیامت کے دن اپنی نمازیں، روزے اور زکاۃ لے کر آئے گا۔ جب وہ آئے گا تو اس نے کسی کو برا کہا ہو گا، کسی کا مال کھایا ہو گا، کسی کا خون بہایا ہو گا اور کسی کو مارا ہو گا، تو وہ شخص بیٹھ جائے گا، پھر اس کی نیکیوں میں سے کسی کو کچھ دے دیا جائے گا اور کسی کو اس کی کچھ نیکیاں دے دی جائیں گی، پھر اگر اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی اور اس کے ذمے ادائیگی ابھی باقی ہو گی، تو دوسرے لوگوں کی خطائیں لی جائیں گی (اور اس کے نامہ اعمال میں ڈال دی جائیں گی) پھر اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7359]

7360

Sahih Ibn Hibban #7360

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الآيَةَ : يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا ، قَالَ : أَتَدْرُونَ مَا أَخْبَارُهَا ؟ " ، قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " فَإِنَّ أَخْبَارَهَا أَنْ تَشْهَدَ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ ، وَأَمَةٍ بِمَا عَمِلَ عَلَى ظَهْرِهَا أَنْ تَقُولَ : عَمِلَ كَذَا وَكَذَا فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا ، فَهَذِهِ أَخْبَارُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت ﴿يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا﴾ [سورة الزلزلة: 4] تلاوت فرمائی: ”اس دن (زمین) اپنے حالات بیان کرے گی۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو اس کا «أَخْبَارُهَا» (اطلاع دینا) کیا ہو گا؟“ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا «أَخْبَارُهَا» (اطلاع دینا) یہ ہے کہ یہ ہر بندے کے خلاف اور ہر کنیز کے خلاف گواہی دے گی اس چیز کے بارے میں جو وہ لوگ اس کی پشت پر کرتے رہے ہیں۔ وہ یہ کہے گی کہ اس شخص نے فلاں فلاں دن، فلاں فلاں کام کیا تھا، تو یہ اس کا اطلاع دینا ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7360]

7361

Sahih Ibn Hibban #7361

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ مَظْلَمَةٌ لأَخِيهِ مِنْ عِرْضِهِ وَمَالِهِ ، فَلْيَسْتَحِلَّهُ الْيَوْمَ قَبْلَ أَنْ يَأْخُذَهُ بِهِ حِينَ لا دِينَارَ وَلا دِرْهَمَ ، فَإِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ ، أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ ، فَجُعِلَتْ عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس شخص نے اپنے کسی بھائی کے ساتھ اس کی عزت یا مال کے حوالے سے کوئی زیادتی کی ہو، تو وہ آج ہی اسے معاف کروا لے، اس سے پہلے کہ اس کی اس دن پکڑ ہو جب کوئی دینار یا درہم کام نہیں آئے گا۔ اگر اس کے پاس نیک اعمال ہوں گے، تو اس کی زیادتی کے حساب سے اس کے نیک اعمال وصول کر لیے جائیں گے، اور اگر یہ نہیں ہو گا تو پھر اس کے ساتھیوں کے گناہ لے کر اس کے نامہ اعمال میں ڈال دیے جائیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7361]

7362

Sahih Ibn Hibban #7362

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لا أَعْلَمُهُ إِلا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَحِمَ اللَّهُ عَبْدًا كَانَتْ لأَخِيهِ عِنْدَهُ مَظْلَمَةٌ فِي نَفْسٍ ، أَوْ مَالٍ ، فَأَتَاهُ ، فَاسْتَحَلَّ مِنْهُ قَبْلَ أَنْ يُؤْخَذَ مِنْ حَسَنَاتِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ ، أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ ، فَتُوضَعُ فِي سَيِّئَاتِهِ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم کرے جس نے اپنے کسی بھائی کے ساتھ اس کی جان یا مال کے حوالے سے کوئی زیادتی کی ہو۔ پھر وہ بھائی کے پاس آئے اور اس سے اپنی زیادتی کو معاف کروا لے، اس سے پہلے کہ اس کی نیکیاں لی جائیں اور اگر اس کی نیکیاں نہ ہوں، تو اس کے ساتھی کے گناہ لیے جائیں اور اس کے گناہوں میں شامل کر دیے جائیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7362]

7363

Sahih Ibn Hibban #7363

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ بِالْفُسْطَاطِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ أَبِي خِيَرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ إِلَى أَهْلِهَا حَتَّى يُقْتَصَّ لِلشَّاةِ الْجَمَّاءِ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ نَطَحَتْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”(قیامت کے دن) حقوق ان کے اہل افراد کو ضرور ادا کیے جائیں گے، یہاں تک کہ سینگ کے بغیر بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلوایا جائے گا، جس نے اسے سینگ مارا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7363]

7364

Sahih Ibn Hibban #7364

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلاءِ بْنِ زَبْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الضَّحَّاكَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَشْعَرِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوَّلُ مَا يُقَالُ لِلْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : أَلَمْ أُصَحِّحْ جِسْمَكَ ، وَأَرْوِيَكَ مِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ ؟"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے یہ کہا جائے گا: کیا میں نے تمہارے جسم کو صحیح نہیں کیا تھا؟ کیا میں نے تمہیں ٹھنڈے پانی کے ذریعے سیراب نہیں کیا تھا؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7364]

7365

Sahih Ibn Hibban #7365

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ بِسْطَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ حُبَيْشٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّأَحَدَكُمْ لاقِي اللَّهَ جَلَّ وَعَلا ، فَقَائِلٌ مَا أَقُولُ : أَلَمْ أَجْعَلْكَ سَمِيعًا بَصِيرًا ؟ أَلَمْ أَجْعَلْ لَكَ مَالا وَوَلَدًا ؟ فَمَاذَا قَدَّمْتَ ؟ فَيَنْظُرُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ ، وَمِنْ خَلْفِهِ ، وَعَنْ يَمِينِهِ ، وَعَنْ شِمَالِهِ ، فَلا يَجِدُ شَيْئًا ، فَلا يَتَّقِي النَّارَ إِلا بِوَجْهِهِ ، فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا ، فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم میں سے کوئی ایک شخص جب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا، تو ایک کہنے والا یہ کہے گا: کیا میں نے تمہارے لیے سماعت اور بصارت نہیں بنائی تھی؟ کیا میں نے تمہیں مال اور اولاد عطا نہیں کیا تھا؟ تو پھر تم نے کیا عمل کیا؟ وہ شخص اپنے آگے، اپنے پیچھے، اپنے دائیں اور اپنے بائیں دیکھے گا، تو اسے کوئی چیز نہیں ملے گی۔ وہ صرف اپنے چہرے کے ذریعے جہنم سے بچ سکے گا، تو تم لوگ جہنم سے بچنے کی کوشش کرو، خواہ نصف کھجور کے ذریعے کرو، اور اگر یہ بھی نہیں پاتے تو پاکیزہ بات کے ذریعے جہنم سے بچنے کی کوشش کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7365]

7366

Sahih Ibn Hibban #7366

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : يَا ابْنَ آدَمَ ، اسْتَطْعَمْتُكَ ، فَلَمْ تُطْعِمْنِي " ، قَالَ : " فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، وَكَيْفَ اسْتَطْعَمْتَنِي وَلَمْ أُطْعِمْكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ قَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلانًا اسْتَطْعَمَكَ فَلَمْ تُطْعِمْهُ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ أَطْعَمْتَهُ ، لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي ؟ يَا ابْنَ آدَمَ ، اسْتَسْقَيْتُكَ ، فَلَمْ تَسْقِنِي ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، وَكَيْفَ أَسْقِيكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ فَقَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِيَ فُلانًا اسْتَسْقَاكَ ، فَلَمْ تَسْقِهِ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِيَ فُلانًا لَوْ سَقَيْتَهُ ، لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي ؟ يَا ابْنَ آدَمَ ، مَرِضْتُ ، فَلَمْ تَعُدْنِي ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، وَكَيْفَ أَعُودُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ فَقَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِيَ فُلانًا مَرِضَ ، فَلَوْ كُنْتَ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي ؟"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! میں نے تم سے کھانے کے لیے مانگا تھا، تو نے مجھے کھلایا نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! تو مجھ سے کیسے کھانا مانگ سکتا ہے اور میں تجھے کیسے کھانا کھلا سکتا ہوں، جبکہ تو تمام جہانوں کا پروردگار ہے؟ پروردگار فرمائے گا: کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ میرے فلاں بندے نے تم سے کھانے کے لیے مانگا تھا، تم نے اسے کھلایا نہیں تھا؟ کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ اگر تم اسے کھلا دیتے تو (اس کا اجر و ثواب) میرے پاس پا لیتے۔ اے آدم کے بیٹے! میں نے تم سے پینے کے لیے مانگا تھا، تم نے مجھے پلایا نہیں تھا۔ بندہ کہے گا: اے میرے پروردگار! میں تجھے کیسے پلا سکتا ہوں جبکہ تو تمام جہانوں کا پروردگار ہے؟ تو پروردگار فرمائے گا: کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ میرے فلاں بندے نے تم سے پینے کے لیے مانگا تھا، تم نے اسے پلایا نہیں تھا؟ کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ اگر میرے فلاں بندے کو تم نے پلا دیا ہوتا تو (اس کا اجر و ثواب) میرے پاس پا لیتے۔ اے آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تھا، لیکن تم نے میری عیادت نہیں کی۔ بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! میں تیری عیادت کیسے کر سکتا ہوں جبکہ تو تمام جہانوں کا پروردگار ہے؟ تو پروردگار فرمائے گا: کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا، اگر تم اس کی عیادت کر لیتے تو (اس کا اجر و ثواب) میرے پاس پا لیتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7366]

7367

Sahih Ibn Hibban #7367

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالأُبُلَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْخَيَّاطُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيَلْقَيَنَّ أَحَدُكُمْ رَبَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَقُولُ لَهُ : أَلَمْ أُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالإِبِلَ ؟ أَلَمْ أَذَرْكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ ؟ أَلَمْ أُزَوِّجْكَ فُلانَةَ خَطَبَهَا الْخَطَّابُ ، فَمَنَعْتُهُمْ وَزَوَّجْتُكَ ؟"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایک شخص قیامت کے دن ضرور اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو گا، تو پروردگار اسے فرمائے گا: کیا میں نے تمہارے لیے گھوڑے اور اونٹ مسخر نہیں کیے تھے؟ کیا میں نے تمہیں صاحب حیثیت نہیں بنایا تھا؟ کیا میں نے تمہاری فلاں عورت کے ساتھ شادی نہیں کروائی تھی، جسے کئی لوگوں نے نکاح کا پیغام بھیجا تھا، لیکن میں نے ان لوگوں کی شادی اس کے ساتھ نہیں ہونے دی اور تمہاری شادی کروا دی تھی؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7367]

7368

Sahih Ibn Hibban #7368

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ ، أَنَّ وَكَانَ سَاكِنًا فِي بَنِي النَّجَّارِ نَهَارًا الْعَبْدِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يَذْكُرُ أَنَّهُ ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّاللَّهَ جَلَّ وَعَلا يَسْأَلُ الْعَبْدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَقُولُ لَهُ : مَا مَنَعَكَ إِذَا رَأَيْتَ الْمُنْكَرَ أَنْ تُنْكِرَهُ ؟ فَإِذَا لَقَّنَ اللَّهُ عَبْدًا حَجَّتَهُ ، يَقُولُ : يَا رَبِّ ، وَثِقْتُ بِكَ وَفَرِقْتُ مِنَ النَّاسِ ، أَوْ فَرِقْتُ مِنَ النَّاسِ ، وَوَثِقْتُ بِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندے سے حساب لے گا، یہاں تک کہ وہ اس سے فرمائے گا: جب تم نے ایک منکر چیز کو دیکھا تھا، تو تمہیں کس چیز نے اس کا انکار کرنے سے روکا تھا؟ تو جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو اس کی دلیل سکھائے گا، تو وہ عرض کرے گا: اے پروردگار! میں نے تجھ پر یقین کیا اور لوگوں سے الگ ہو گیا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) میں لوگوں سے الگ ہو گیا اور میں نے تجھ پر یقین کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7368]

7369

Sahih Ibn Hibban #7369

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ " ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ، فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ، قَالَ : " ذَاكَ الْعَرْضُ ، لَيْسَ أَحَدٌ يُحَاسَبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلا هَلَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص سے حساب لیا جائے گا، اس کو عذاب دیا جائے گا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ﴿جس شخص کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، اس شخص سے آسان حساب لیا جائے گا﴾ [سورة الانشقاق: 7-8] ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد پیشی ہے، ورنہ قیامت کے دن جس بھی شخص سے حساب لیا جائے گا، وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7369]

7370

Sahih Ibn Hibban #7370

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الأَسْوَدِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ : فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ، قَالَ : " ذَاكَ الْعَرْضُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص سے حساب لیا جائے گا وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گا۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتا ہے: ﴿فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ * فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا﴾ [سورة الانشقاق: 7-8] ”جس شخص کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد پیش کرنا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7370]

7371

Sahih Ibn Hibban #7371

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ، قَالَ : ذَاكَ الْعَرْضُ لَيْسَ أَحَدٌ يُحَاسَبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلا هَلَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! (ارشادِ باری تعالیٰ ہے:) ﴿فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ * فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا﴾ [سورة الانشقاق: 7-8] ”جس شخص کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں عطا کیا جائے گا، اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد پیش کرنا ہے، ورنہ قیامت کے دن جس شخص سے حساب لیا جائے گا، وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7371]

7372

Sahih Ibn Hibban #7372

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا " ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،مَا الْحِسَابُ الْيَسِيرُ ؟ قَالَ : " أَنْ يَنْظُرَ فِي سَيِّئَاتِهِ وَيَتَجَاوَزُ لَهُ عَنْهَا ، إِنَّهُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَئِذٍ هَلَكَ ، وَكُلُّ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ يُكَفِّرُ عَنْهُ مِنْ سَيِّئَاتِهِ ، حَتَّى الشَّوْكَةُ تَشُوكُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» ”اے اللہ! مجھ سے آسان حساب لینا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آسان حساب سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اس سے مراد یہ ہے) کہ آدمی کے نامہ اعمال کی طرف پروردگار دیکھے اور پھر اس کے گناہوں سے درگزر کرے کیونکہ اس دن جس شخص سے حساب لیا جائے گا وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گا۔ مومن کو جو بھی مصیبت لاحق ہوتی ہے وہ اس کے گناہوں کو ختم کر دیتی ہے، یہاں تک کہ اسے جو کانٹا لگتا ہے (وہ بھی اس کے گناہوں کو ختم کرتا ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7372]

7373

Sahih Ibn Hibban #7373

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ بِسْطَامٍ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ ، إِلا سَيُكَلِّمُهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ ، ثُمَّ يَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ ، فَلا يَرَى شَيْئًا قَدَّمَهُ ، ثُمَّ يَنْظُرُ أَيْسَرَ مِنْهُ ، فَلا يَرَى شَيْئًا قَدَّمَهُ ، ثُمَّ يَنْظُرُ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ ، فَتَسْتَقْبِلُهُ النَّارُ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ : " فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَقِيَ وَجْهَهُ النَّارَ ، وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ الأَعْمَشُ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، وَسَمِعَهُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، رَوَى هَذَا الْخَبَرَ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَهُوَ مِنْ أَعْلَمِ النَّاسِ بِحَدِيثِ الأَعْمَشِ بَعْدَ الثَّوْرِيِّ ، وَكَذَلِكَ وَكِيعٌ فِي وَصْلِهِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، رَوَى قُطْبَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَجَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَ فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا صَحِيحَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کلام کرے گا، اور اس شخص کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا، پھر وہ آدمی اپنے دائیں طرف دیکھے گا تو اسے کوئی ایسی چیز نظر نہیں آئے گی جو اس نے آگے بھیجی ہو (یعنی کوئی نیک کام کیا ہو)، پھر وہ اپنے بائیں طرف دیکھے گا تو اسے کوئی چیز نظر نہیں آئے گی جو اس نے آگے بھیجی ہو، پھر وہ اپنے سامنے دیکھے گا تو اس کے سامنے آگ ہوگی۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ”تم میں سے جو شخص اپنے چہرے کو آگ سے بچا سکتا ہو (اسے بچانے کی بھرپور کوشش کرے) خواہ وہ کھجور کے نصف حصے کے ذریعے ایسا کرے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت اعمش نے خیثمہ سے سنی ہے۔ انہوں نے یہ روایت عمرو بن مرہ کے حوالے سے بھی خیثمہ سے سنی ہے، یہ روایت ابومعاویہ نے نقل کی ہے اور وہ اعمش کی روایات کے بارے میں ثوری کے بعد سب سے زیادہ علم رکھنے والے شخص ہیں۔ اسی طرح وکیع نے بھی اسے موصول روایت کے طور پر اعمش کے حوالے سے خیثمہ سے نقل کیا ہے۔ قطبہ بن عبدالعزیز اور جریر بن عبدالحمید نے یہ روایت اعمش کے حوالے سے عمرو بن مرہ کے حوالے سے خیثمہ سے نقل کی ہے، تو اس کے دونوں طرق مستند ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7373]

7374

Sahih Ibn Hibban #7374

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَسْكَرِيُّ بِالرَّقَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ بِشْرٍ الْجُهَنِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُجَاهِدٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ إِلَيْهِ رَجُلانِ يَشْكُو أَحَدُهُمَا الْعَيْلَةَ ، وَيَشْكُو الآخَرُ قَطْعَ السَّبِيلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَّا قَطْعُ السَّبِيلِ : فَلا يَأْتِي عَلَيْكَ إِلا قَلِيلٌ حَتَّى تَخْرُجَ الْعِيرُ مِنَ الْحِيرَةِ إِلَى مَكَّةَ بِغَيْرِ خَفِيرٍ ، وَأَمَّا الْعَيْلَةُ : فَإِنَّ السَّاعَةَ لا تَقُومُ حَتَّى يَخْرُجَ الرَّجُلُ بِصَدَقَةِ مَالِهِ ، فَلا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا مِنْهُ ، ثُمَّ لَيَقِفَنَّ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ حِجَابٌ يَحْجُبُهُ ، وَلا تُرْجُمَانٌ يُتَرْجِمُ لَهُ ، فَيَقُولَنَّ لَهُ : أَلَمْ أُوتِكَ مَالا ؟ فَلَيَقُولَنَّ : بَلَى ، فَيَقُولُ : أَلَمْ أُرْسِلْ إِلَيْكَ رَسُولا ؟ فَلَيَقُولَنَّ : بَلَى ، ثُمَّ يَنْظُرُ عَنْ يَمِينِهِ ، فَلا يَرَى إِلا النَّارَ ، ثُمَّ يَنْظُرُ عَنْ شِمَالِهِ ، فَلا يَرَى إِلا النَّارَ ، فَلْيَتَّقِ أَحَدُكُمُ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، دو آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان میں سے ایک نے تنگدستی کی شکایت کی اور دوسرے نے لوٹ مار کی شکایت کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاں تک لوٹ مار کا تعلق ہے تو تھوڑے ہی عرصے کے بعد تم پر ایسا زمانہ آئے گا کہ ایک قافلہ حیرہ سے روانہ ہو گا اور مکہ تک آ جائے گا اور اسے کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔ جہاں تک تنگدستی کا تعلق ہے، تو قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کوئی شخص اپنے مال کی زکوٰۃ لے کر نکلے گا نہیں اور پھر اسے کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا، جو اس سے اس زکوٰۃ کو قبول کر لے۔ تم میں سے ہر شخص کو اللہ کی بارگاہ میں کھڑا کیا جائے گا، اس شخص اور اللہ کی بارگاہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہو گا جو رکاوٹ بن رہا ہو اور کوئی ترجمان نہیں ہو گا جو درمیان میں واسطہ ہو، تو پروردگار اس سے فرمائے گا: کیا میں نے تمہیں مال عطا نہیں کیا تھا؟ تو وہ جواب دے گا: جی ہاں۔ پروردگار فرمائے گا: کیا میں نے تمہاری طرف رسول کو نہیں بھیجا تھا؟ وہ بندہ عرض کرے گا: جی ہاں۔ پھر وہ شخص اپنے دائیں طرف دیکھے گا تو اسے جہنم نظر آئے گی، وہ بائیں طرف دیکھے گا تو اسے صرف جہنم نظر آئے گی، تو تم میں سے ہر ایک شخص کو جہنم سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے خواہ وہ نصف کھجور کے ذریعے ایسا کرے اور اگر یہ بھی نہیں ملتی، تو پاکیزہ بات کے ذریعے (جہنم سے بچنے کی کوشش کرے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7374]

7375

Sahih Ibn Hibban #7375

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنِّي لأَعْرِفُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولا الْجَنَّةَ ، وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ ، يُؤْتَى بِرَجُلٍ ، فَيُقَالُ : سَلُوهُ عَنْ صِغَارِ ذُنُوبِهِ ، وَدَعُوا كِبَارَهَا ، فَيُقَالُ لَهُ : عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا ، وَعَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، قَدْ عَمِلْتُ أَشْيَاءَ لا أَرَاهَا هَاهُنَا "، قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، قَالَ : فَيُقَالُ لَهُ : فَإِنَّ لَكَ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں جنت میں داخل ہونے والے سب سے آخری جنتی سے واقف ہوں اور جہنم سے نکلنے والے سب سے آخری جہنمی سے واقف ہوں۔ ایک شخص کو لایا جائے گا اور کہا جائے گا: اس سے اس کے چھوٹے گناہوں کے بارے میں حساب لو اور اس کے بڑے گناہوں کو چھوڑ دو، تو اس شخص سے دریافت کیا جائے گا: تم نے فلاں فلاں دن یہ عمل کیا تھا اور فلاں فلاں دن یہ یہ عمل کیا تھا؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! میں نے کچھ اور عمل بھی کیے تھے جو مجھے یہاں نظر نہیں آ رہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسکراتے ہوئے دیکھا، یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس سے فرمایا جائے گا: تمہیں ہر گناہ کے عوض میں نیکی ملتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7375]

7376

Sahih Ibn Hibban #7376

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : جَلَسْتُ إِلَى قَوْمٍ أَنَا رَابِعُهُمْ ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ " ، قَالَ : سِوَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " سِوَايَ "، قُلْتُ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَلَمَّا قَامَ ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : ابْنُ الْجَدْعَاءِ، أَوِ ابْنُ أَبِي الْجَدْعَاءِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، میں ان میں سے چوتھا فرد تھا (یعنی میرے علاوہ تین افراد اور تھے)، ان میں سے ایک نے یہ کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میری امت کے ایک فرد کی شفاعت کی وجہ سے بنو تمیم کی تعداد سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔“ سائل نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ شخص آپ کے علاوہ کوئی اور ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میرے علاوہ ہو گا۔“ عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: کیا آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے؟ تو ان صاحب نے جواب دیا: جی ہاں۔ جب وہ صاحب اٹھ گئے تو میں نے دریافت کیا: یہ کون صاحب تھے؟ لوگوں نے بتایا: یہ ابن جذعاء تھے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) ابن ابی جذعاء رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7376]

7377

Sahih Ibn Hibban #7377

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،أَنَرَى رَبَّنَا ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ إِذَا كَانَ يَوْمَ صَحْوٍ ؟ " قُلْنَا : لا ، قَالَ : " هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ إِذَا كَانَ صَحْوًا ؟ " ، قُلْنَا : لا ، قَالَ : " فَإِنَّكُمْ لا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ ، إِلا كَمَا لا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا ، يُنَادِي مُنَادٍ ، فَيَقُولُ : لِيَلْحَقْ كُلُّ قَوْمٍ بِمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ ، قَالَ : فَيَذْهَبُ أَهْلُ الصَّلِيبِ مَعَ صَلِيبِهِمْ ، وَأَهْلُ الأَوْثَانِ مَعَ أَوْثَانِهِمْ ، وَأَصْحَابُ كُلِّ آلِهَةٍ مَعَ آلِهَتِهِمْ ، وَيَبْقَى مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ مِنْ بَرٍّ وَفَاجِرٍ ، وَغُبَّرَاتٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ، ثُمَّ يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ تُعْرَضُ كَأَنَّهَا سَرَابٌ ، فَيُقَالُ لِلْيَهُودِ : مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ ؟ فَيَقُولُونَ : كُنَّا نَعْبُدُ عُزَيْرًا ابْنَ اللَّهِ ، فَيُقَالُ : كَذَبْتُمْ مَا اتَّخَذَ اللَّهُ صَاحِبَةً ، وَلا وَلَدًا مَا تُرِيدُونَ ؟ قَالُوا : نُرِيدُ أَنْ تَسْقِيَنَا ، فَيُقَالُ : اشْرَبُوا فَيَتَسَاقَطُونَ فِي جَهَنَّمَ ، ثُمَّ يُقَالُ لِلنَّصَارَى : مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ ؟ فَيَقُولُونَ : كُنَّا نَعْبُدُ الْمَسِيحَ ابْنَ اللَّهِ ، فَيُقَالُ : كَذَبْتُمْ لَمْ يَكُنْ لَهُ صَاحِبَةٌ ، وَلا وَلَدٌ ، مَاذَا تُرِيدُونَ ؟ قَالُوا : نُرِيدُ أَنْ تَسْقِيَنَا ، فَيُقَالُ : اشْرَبُوا ، فَيَتَسَاقَطُونَ فِي جَهَنَّمَ حَتَّى يَبْقَى مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ مِنْ بَرٍّ وَفَاجِرٍ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : مَا يَحْبِسُكُمْ وَقَدْ ذَهَبَ النَّاسُ ؟ فَيَقُولُونَ : قَدْ فَارَقْنَاهُمْ ، وَإِنَّا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِيَلْحَقْ كُلُّ قَوْمٍ بِمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ ، وَإِنَّا نَنْتَظِرُ رَبَّنَا ، قَالَ : فَيَأْتِيهِمُ الْجَبَّارُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ ، فَيَقُولُ : أَنَا رَبُّكُمْ ، فَلا يُكَلِّمُهُ إِلا نَبِيٌّ ، فَيُقَالُ : هَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ آيَةٌ تَعْرِفُونَهَا ؟ فَيَقُولُونَ : السَّاقُ ، فَيُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ ، فَيَسْجُدُ لَهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ ، وَيَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ لَهُ رِيَاءً وَسُمْعَةً ، فَيَذْهَبُ يَسْجُدُ ، فَيَعُودُ ظَهْرُهُ طَبَقًا وَاحِدًا ، ثُمَّ يُؤْتَى بِالْجَسْرِ ، فَيُجْعَلُ بَيْنَ ظَهْرَانِي جَهَنَّمَ " ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْجِسْرُ ؟ قَالَ : " مَدْحَضَةٌ مَزَلَّةٌ عَلَيْهِ خَطَاطِيفُ ، وَكَلالِيبُ ، وَحَسَكَةٌ مُفَلْطَحَةٌ لَهَا شَوْكٌ عُقَيْفَاءُ ، تَكُونُ بِنَجْدٍ ، يُقَالُ لَهَا : السَّعْدَانُ ، يَجُوزُ الْمُؤْمِنُ كَالطَّرْفِ ، وَكَالْبَرْقِ ، وَكَالرِّيحِ ، وَكَأَجَاوِيدِ الْخَيْلِ ، وَكَالرَّاكِبِ ، فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ ، وَمَخْدُوشٌ مُسَلَّمٌ ، وَمَكْدُوسٌ فِي جَهَنَّمَ حَتَّى يَمُرَّ آخِرُهُمْ يُسْحَبُ سَحْبًا ، وَالْحَقُّ قَدْ تَبَيَّنَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِذَا رَأَوْا أَنَّهُمْ قَدْ نَجَوْا ، وَبَقِيَ إِخْوَانُهُمْ يَقُولُونَ : يَا رَبَّنَا ، إِخْوَانُنَا كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَنَا ، وَيَصُومُونَ مَعَنَا ، وَيَعْمَلُونَ مَعَنَا ، فَيَقُولُ الرَّبُّ جَلَّ وَعَلا : اذْهَبُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ دِينَارٍ مِنْ إِيمَانٍ ، فَأَخْرِجُوهُ ، وَيُحَرِّمُ اللَّهُ صُوَرَهُمْ عَلَى النَّارِ ، فَيَأْتُونَهُمْ وَبَعْضُهُمْ قَدْ غَابَ فِي النَّارِ إِلَى قَدَمَيْهِ ، وَإِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ ، فَيَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ ، ثُمَّ يَعُودُونَ ثَانِيَةً ، فَيَقُولُ : اذْهَبُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ نِصْفِ دِينَارٍ مِنْ إِيمَانٍ ، فَأَخْرِجُوهُ ، فَيُخْرِجُونَ مِنَ النَّارِ ، ثُمَّ يَعُودُونَ الثَّالِثَةَ ، فَيُقَالُ : اذْهَبُوا ، فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ حَبَّةً إِيمَانٍ ، فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرِجُونَ " ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : وَإِنْ لَمْ تُصَدِّقُونِي فَاقْرَءُوا قَوْلَ اللَّهِ : إِنَّ اللَّهَ لا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا ، " فَتَشْفَعُ الْمَلائِكَةُ ، وَالنَّبِيُّونَ ، وَالصِّدِّيقُونَ ، فَيَقُولُ الْجَبَّارُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لا إِلَهَ إِلا هُوَ : بَقِيَتْ شَفَاعَتِي ، فَيَقْبِضُ الْجَبَّارُ قَبْضَةً مِنَ النَّارِ ، فَيُخْرِجُ أَقْوَامًا قَدِ امْتُحِشُوا ، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرٍ يُقَالُ لَهُ : الْحَيَاةُ ، فَيَنْبُتُونَ فِيهِ كَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ ، هَلْ رَأَيْتُمُوهَا إِلَى جَانِبِ الصَّخْرَةِ ، أَوْ جَانِبِ الشَّجَرَةِ ، فَمَا كَانَ إِلَى الشَّمْسِ مِنْهَا كَانَ أَخْضَرَ ، وَمَا كَانَ إِلَى الظِّلِّ كَانَ أَبْيَضَ ، فَيَخْرُجُونَ مَثْلَ اللُّؤْلُؤَةِ ، فَيُجْعَلُ فِي رِقَابِهِمُ الْخَوَاتِيمُ ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ، فَيَقُولُ أَهْلُ الْجَنَّةِ : هَؤُلاءِ عُتَقَاءُ الرَّحْمَنِ ، أَدْخَلَهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ عَمَلٍ عَمِلُوهُ ، وَلا قَدَمٍ قَدَّمُوهُ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : لَكُمْ مَا رَأَيْتُمُوهُ وَمِثْلُهُ مَعَهُ "، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : بَلَغَنِي أَنَّ الْجِسْرَ أَدَقُّ مِنَ الشَّعْرِ ، وَأَحَدُّ مِنَ السَّيْفِ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : السَّاقُ الشِّدَّةُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب آسمان صاف ہو تو کیا تمہیں سورج کو دیکھنے میں کوئی رکاوٹ پیش آتی ہے؟“ ہم نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چودھویں رات میں جب آسمان صاف ہو تو کیا چاند کو دیکھنے میں تمہیں کوئی رکاوٹ پیش آتی ہے؟“ ہم نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اسی طرح تمہیں اپنے پروردگار کا دیدار کرنے میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئے گی، جس طرح ان دونوں کو دیکھنے میں تمہیں کوئی مشکل نہیں ہوتی ہے۔ ایک منادی یہ اعلان کرے گا: ہر قوم اس کے ساتھ جا کر مل جائے گی جس کی وہ عبادت کیا کرتے تھے، تو صلیب کی پوجا کرنے والے صلیب کے ساتھ چلے جائیں گے، بتوں کی پوجا کرنے والے بتوں کے ساتھ چلے جائیں گے اور مختلف معبودوں کے پیروکار اپنے معبودوں کے ساتھ چلے جائیں گے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے نیک اور گناہ گار لوگ باقی رہ جائیں گے جن میں سے کچھ لوگوں کا تعلق اہل کتاب سے بھی ہوگا۔ پھر جہنم کو لایا جائے گا اور اسے یوں پیش کیا جائے گا جیسے وہ سراب ہے، یہودیوں سے کہا جائے گا: تم لوگ کس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ جواب دیں گے: ہم اللہ کے بیٹے عزیر علیہ السلام کی عبادت کرتے تھے، تو کہا جائے گا: تم جھوٹ کہہ رہے ہو، اللہ تعالیٰ کی کوئی بیوی اور کوئی اولاد نہیں ہے، تم کیا چاہتے ہو؟ وہ یہ کہیں گے: ہم یہ چاہتے ہیں کہ تو ہمیں سیراب کر دے، تو ان سے کہا جائے گا: تم (اس سراب میں سے) پی لو، تو وہ لوگ جہنم میں گر جائیں گے۔ عیسائیوں سے کہا جائے گا: تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: ہم اللہ کے بیٹے سیدنا مسیح علیہ السلام کی عبادت کرتے تھے، تو کہا جائے گا: تم نے جھوٹ کہا ہے، اس کی تو کوئی بیوی اور کوئی اولاد نہیں ہے، تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے: ہم یہ چاہتے ہیں کہ تو ہمیں سیراب کر دے، تو ان سے کہا جائے گا: تم لوگ (اس سراب میں سے) پی لو، تو وہ لوگ بھی جہنم میں گر جائیں گے، یہاں تک کہ اللہ کی عبادت کرنے والے نیک اور گناہ گار لوگ باقی رہ جائیں گے، تو ان سے کہا جائے گا: تم لوگ کیوں رکے ہوئے ہو، دوسرے لوگ تو چلے گئے ہیں؟ تو وہ کہیں گے: ہم ان سے الگ رہے، ہم نے ایک منادی کو یہ اعلان کرتے ہوئے سنا کہ ہر قوم اس کے ساتھ جا کر مل جائے جس کی وہ عبادت کیا کرتے تھے، تو ہم لوگ بھی اپنے پروردگار کا انتظار کر رہے ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر وہ زبردست ذات ان کے پاس آئے گی جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہ فرمائے گا: میں تمہارا پروردگار ہوں، اس کے ساتھ کلام صرف انبیاء کریں گے۔ پھر یہ کہا جائے گا: کیا تمہارے درمیان اور اس کے درمیان کوئی نشانی ہے جس کے ذریعے تم اسے پہچان لو؟ تو مسلمان یہ کہیں گے: پنڈلی ہے۔ پھر پنڈلی سے پردہ ہٹایا جائے گا، تو ہر مومن شخص اس کے سامنے سجدے میں چلا جائے گا اور وہ شخص باقی رہ جائے گا جس نے دکھاوے اور ریاکاری کے طور پر اس کے لیے سجدہ کیا تھا، وہ شخص سجدے میں جانے لگے گا لیکن اس کی پشت اکڑ جائے گی۔ پھر ایک پل لایا جائے گا اور اسے جہنم کے اوپر لگا دیا جائے گا۔“ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ پل کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ پھسلنے اور گرنے کا مقام ہے، اس پر کانٹے، آنکڑے اور نوکیلی چیزیں ہوں گی، جیسے نجد میں موجود ایک مخصوص قسم کے پودے پر کانٹے ہوتے ہیں، اس پودے کو «سَعْدَانُ» کہا جاتا ہے۔ کوئی مومن پلک جھپکنے میں اور کوئی بجلی کی طرح اور کوئی ہوا کی طرح اور کوئی تیز رفتار گھوڑے کی طرح اور کوئی سوار شخص کی طرح اس پر سے گزرے گا؛ کچھ لوگ سلامتی سے اس پر سے گزر جائیں گے، کچھ مخدوش ہو کر گزریں گے، کچھ جہنم کے اثرات سے متاثر ہوں گے، یہاں تک کہ ان میں سے آخری شخص گھسٹتا ہوا اس پر سے گزرے گا۔ مومنین کی طرف سے حق اس وقت واضح ہو جائے گا جب وہ یہ دیکھیں گے کہ وہ نجات پا گئے ہیں اور ان کے کچھ بھائی باقی رہ گئے ہیں، جو یہ کہہ رہے ہوں گے: اے ہمارے پروردگار! یہ ہمارے بھائی ہیں، یہ ہمارے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے، ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے اور ہمارے ساتھ عمل کرتے تھے، تو پروردگار فرمائے گا: تم جاؤ اور تمہیں جس کے دل میں ایک دینار کے وزن جتنا ایمان ملتا ہے اسے (جہنم میں سے) نکال لو، تو اللہ تعالیٰ ان کی صورتوں کو جہنم کے لیے حرام قرار دے دے گا۔ وہ لوگ اپنے بھائیوں کے پاس آئیں گے جن میں سے بعض لوگ جہنم میں پاؤں تک گم ہوں گے اور بعض نصف پنڈلی تک ہوں گے، پھر وہ انہیں جہنم سے نکالیں گے۔ پھر وہ دوبارہ (اللہ کی بارگاہ میں) آئیں گے، تو وہ فرمائے گا: تم لوگ جاؤ، تمہیں جس کے دل میں نصف دینار کے وزن جتنا ایمان ملتا ہے اسے (جہنم سے) باہر نکال لو، تو وہ جہنم سے (ایسے لوگوں کو) باہر نکالیں گے۔ پھر وہ تیسری مرتبہ آئیں گے، تو کہا جائے گا: تم جاؤ اور جس کے دل میں ذرے کے وزن جتنا ایمان تمہیں ملتا ہے اسے (جہنم سے) نکال لو، تو وہ لوگ انہیں نکال لیں گے۔“ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر تم لوگ میری بات کو سچ نہیں سمجھتے تو تم یہ آیت تلاوت کر لو، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۖ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [سورة النساء: 40] ”بے شک اللہ تعالیٰ ذرے کے وزن جتنا بھی ظلم نہیں کرے گا، اور اگر کوئی نیکی ہو گی تو وہ اسے کئی گنا کر دے گا اور وہ اپنی طرف سے عظیم اجر بھی عطا کرے گا۔“ فرشتے، انبیاء اور صدیقین شفاعت کریں گے، پھر زبردست ذات جو برکت والی اور بلند و برتر ہے اور جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ یہ فرمائے گا: ”اب میری شفاعت باقی رہ گئی ہے۔“ پھر جبار (اللہ تعالیٰ) ایک مٹھی بھر لوگ جہنم سے نکالے گا، وہ ان لوگوں کو نکالے گا جو جل کر کوئلہ ہو چکے تھے اور انہیں ایک نہر میں ڈالا جائے گا جس کا نام نہرِ حیات ہے، تو وہ اس میں یوں پھوٹ پڑیں گے جیسے سیلابی پانی کی گزرگاہ میں دانہ پھوٹ پڑتا ہے۔ کیا تم نے چٹان کے کنارے پر یا درخت کے کنارے پر اسے دیکھا ہے، اس کا جو حصہ سورج کی طرف ہوتا ہے وہ سبز ہوتا ہے اور جو حصہ سائے کی طرف ہوتا ہے وہ سفید ہوتا ہے، تو وہ لوگ موتیوں کی طرح چمکتے ہوئے نکلیں گے۔ ان کے گلے میں انگوٹھیاں ڈال دی جائیں گی، وہ جنت میں داخل ہوں گے، تو اہل جنت یہ کہیں گے: یہ وہ لوگ ہیں جنہیں رحمن نے (جہنم سے) آزاد کیا ہے، اللہ تعالیٰ انہیں ان کے کیے ہوئے کسی عمل کے بغیر جنت میں داخل کر دے گا جو ان کی بھیجی ہوئی کسی چیز کے بغیر ہوگا، ان سے کہا جائے گا: تم جو کچھ دیکھ رہے ہو وہ تم کو ملتا ہے اور اس کی مانند مزید ملتا ہے۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ ”پل صراط بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہوگا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لفظ «سَاق» سے مراد شدت ہے (یعنی معاملہ سخت ہو جائے گا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7377]

7378

Sahih Ibn Hibban #7378

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَْنِ بْنِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَقُولُ إِبْرَاهِيمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : يَا رَبَّاهُ ، فَيَقُولُ الرَّبُّ جَلَّ وَعَلا : يَا لَبَّيْكَاهُ ، فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ : يَا رَبِّ حَرَّقْتَ بَنِيَّ ، فَيَقُولُ : أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ ذَرَّةٌ أَوْ شَعِيرَةٌ مِنْ إِيمَانٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت کے دن سیدنا ابراہیم علیہ السلام عرض کریں گے: اے میرے پروردگار! پروردگار فرمائے گا: میں سن رہا ہوں۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام عرض کریں گے: اے میرے پروردگار! تو نے میرے بیٹوں کو جلا دیا ہے، تو پروردگار فرمائے گا: تم جہنم میں سے ہر اس شخص کو نکال لو جس کے دل میں ذرے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) جو کے دانے کے وزن جتنا ایمان ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7378]

7379

Sahih Ibn Hibban #7379

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَيَمُرُّ النَّاسُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ وَعَلَيْهِ حَسَكٌ ، وَكَلالِيبُ ، وَخَطَاطِيفُ تَخْطَفُ النَّاسَ يَمِينًا وَشِمَالا ، وَبِجَنْبَتَيْهِ مَلائِكَةٌ ، يَقُولُونَ : اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ ، فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَمُرُّ مِثْلَ الرِّيحِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ مِثْلَ الْفَرَسِ الْمُجْرَى ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْعَى سَعْيًا ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي مَشْيًا ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَحْبُو حَبْوًا ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَزْحَفُ زَحْفًا ، فَأَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا ، فَلا يَمُوتُونَ ، وَلا يَحْيَوْنَ ، وَأَمَّا أُنَاسٌ ، فَيُؤْخَذُونَ بِذُنُوبٍ وَخَطَايَا ، فَيُحْرَقُونَ ، فَيَكُونُونَ فَحْمًا ، ثُمَّ يُؤْذَنُ فِي الشَّفَاعَةِ ، فَيُؤْخَذُونَ ضِبَارَاتٍ ضِبَارَاتٍ ، فَيَقْذَفُونَ عَلَى نَهَرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا رَأَيْتُمُ الصَّبْغَاءَ شَجَرَةً تَنْبُتُ فِي الْفَضَاءِ ؟ فَيَكُونُ مِنْ آخِرِ مَنَ أُخْرِجَ مِنَ النَّارِ رَجُلٌ عَلَى شَفَتِهَا ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، صَرِّفْ وَجْهِي عَنْهَا ، فَيَقُولُ : عَهْدَكَ وَذِمَّتَكَ لا تَسْأَلْنِي غَيْرَهَا ، قَالَ : وَعَلَى الصِّرَاطِ ثَلاثُ شَجَرَاتٍ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، حَوِّلْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ آكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا وَأَكُونُ فِي ظِلِّهَا ، فَيَقُولُ : عَهْدَكَ وَذِمَّتَكَ لا تَسْأَلْنِي شَيْئًا غَيْرَهَا ، قَالَ : ثُمَّ يَرَى أُخْرَى أَحْسَنَ مِنْهَا ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، حَوِّلْنِي إِلَى هَذِهِ آكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا ، وَأَكُونُ فِي ظِلِّهَا ، قَالَ : فَيَقُولُ : عَهْدَكَ وَذِمَّتَكَ لا تَسْأَلْنِي غَيْرَهَا ، ثُمَّ يَرَى أُخْرَى أَحْسَنَ مِنْهَا ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، حَوِّلْنِي إِلَى هَذِهِ آكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا وَأَكُونُ فِي ظِلِّهَا ، قَالَ : ثُمَّ يَرَى سَوَادَ النَّاسِ وَيَسْمَعُ كَلامَهُمْ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ "، قَالَ أَبُو نَضْرَةَ : اخْتَلَفَ أَبُو سَعِيدٍ وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : فَيُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، فَيُعْطَى الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا ، وَقَالَ الآخَرُ : فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ ، فَيُعْطَى الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَكَذَا حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى وَعَلَى الصِّرَاطِ ثَلاثُ شَجَرَاتٍ ، وَإِنَّمَا هُوَ عَلَى جَانِبِ الصِّرَاطِ ثَلاثُ شَجَرَاتٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جہنم کے پل پر سے لوگ گزریں گے۔ اس پر بڑے بڑے کانٹے اور آنکڑے لگے ہوئے ہوں گے، جو لوگوں کو دائیں طرف سے اور بائیں طرف سے اچک لیں گے۔ اس کے دونوں پہلوؤں پر فرشتے موجود ہوں گے اور وہ یہ کہہ رہے ہوں گے: «اللَّهُمَّ سَلِّمْ، سَلِّمْ» ”اے اللہ! سلامتی عطا کرنا، سلامتی عطا کرنا“، تو کچھ لوگ ہوا کی مانند (تیزی سے) گزر جائیں گے۔ کچھ لوگ تیز رفتار گھوڑے کی طرح، کچھ دوڑنے والے شخص کی طرح، کچھ چلنے والے شخص کی طرح، کچھ لوگ گھسٹ کر گزریں گے اور کچھ لوگ گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے گزریں گے۔ جہاں تک اہل جہنم کا تعلق ہے جو اس کے اہل ہوں گے، تو وہ جہنم میں نہ تو مریں گے اور نہ ہی زندہ رہیں گے۔ البتہ کچھ لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے اور خطاؤں کی وجہ سے ان کی گرفت کی جائے گی اور انہیں جلایا جائے گا۔ جب وہ کوئلہ ہو جائیں گے، تو پھر شفاعت کی اجازت دی جائے گی، تو انہیں گروہ گروہ کر کے لایا جائے گا اور جنت کی نہر میں ڈالا جائے گا اور وہ یوں پھوٹ پڑیں گے جس طرح سیلاب کی گزرگاہ میں دانہ پھوٹ پڑتا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے وہ درخت نہیں دیکھا جو ایسی کھلی جگہ پر اگتا ہے؟“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) ”جہنم سے نکالا جانے والا آخری شخص وہ ہو گا جو جہنم کے کنارے پر ہو گا۔ وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! میرا چہرہ جہنم سے پھیر دے۔ پروردگار فرمائے گا: تم یہ عہد کرو کہ تم اس کے علاوہ مجھ سے کچھ اور نہیں مانگو گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پل صراط پر تین درخت ہوں گے۔ وہ بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! مجھے اس درخت کی طرف پھیر دے تاکہ میں اس کا پھل کھا لوں اور سائے میں آ جاؤں۔ پروردگار فرمائے گا: تم یہ عہد کرو تم اس کے علاوہ مجھ سے کچھ اور نہیں مانگو گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر وہ شخص دوسرے درخت کو دیکھے گا وہ اس سے زیادہ اچھا ہے تو وہ کہے گا: اے میرے پروردگار! مجھے اس کی طرف پھیر دے تاکہ میں اس کا پھل کھا لوں اور اس کے سائے میں آ جاؤں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پروردگار یہ فرمائے گا: تم یہ عہد کرو کہ تم اس کے علاوہ کچھ اور نہیں مانگو گے۔ پھر وہ تیسرے درخت کو دیکھے گا کہ وہ اس سے بھی زیادہ اچھا ہے تو عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! تو مجھے اس درخت کے پاس لے جا تاکہ میں اس کا پھل کھاؤں اور اس کے سائے میں آؤں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر وہ شخص (جنت میں) لوگوں کے ہجوم کو دیکھے گا اور ان کا کلام سنے گا تو عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! مجھے جنت میں داخل کر دے۔“ ابونضرہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: یہاں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کے درمیان (الفاظ کو نقل کرنے) میں اختلاف ہوا۔ ان میں سے ایک کا یہ کہنا تھا: ”پروردگار اسے جنت میں داخل کر دے گا اور اسے دنیا اور اس کی مانند مزید (جگہ جنت میں عطا کرے گا)“ اور دوسرے صحابی نے یہ کہا: ”پھر وہ شخص جنت میں داخل ہو گا اور اسے دنیا اور اس کی مانند دس گنا (مزید جگہ) عطا کی جائے گی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) امام ابویعلی نے اسی طرح یہ بیان کیا ہے کہ پل صراط پر تین درخت ہوں گے حالانکہ روایت کے اصل الفاظ یہ ہیں: ”پل صراط کے ایک طرف (یعنی جنت والی طرف) تین درخت ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7379]

7380

Sahih Ibn Hibban #7380

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا : يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ أَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : عَلَى الصِّرَاطِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ ۖ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ﴾ [سورة إبراهيم: 48] ”جب زمین کو دوسری زمین میں تبدیل کر دیا جائے گا اور آسمان کو بھی (تبدیل کر دیا جائے گا) اور سب لوگ ایک اور زبردست اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے“ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ تو اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ پل صراط پر ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7380]

7381

Sahih Ibn Hibban #7381

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، وَابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالا : حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَجَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ لأَصْحَابِهِ : أَلا هَلْ مُشَمِّرٍ لِلْجَنَّةِ ، فَإِنَّ الْجَنَّةَ لا خَطَرَ لَهَا ، هِيَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ نُورٌ يَتَلأْلأُ ، وَرَيْحَانَةٌ تَهْتَزُّ ، وَقَصْرٌ مُشَيَّدٌ ، وَنَهْرٌ مُطَّرِدٌ ، وَفَاكِهَةٌ كَثِيرَةٌ نَضِيجَةٌ ، وَزَوْجَةٌ حَسْنَاءُ جَمِيلَةٌ ، وَحُلَلٌ كَثِيرَةٌ فِي مَقَامٍ أَبَدًا ، فِي حَبْرَةٍ وَنَضْرَةٍ ، فِي دَارٍ عَالِيَةٍ سَلِيمَةٍ بَهِيَّةٍ " ، قَالُوا : نَحْنُ الْمُشَمِّرُونَ لَهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " قُولُوا : إِنْ شَاءَ اللَّهُ " ، ثُمَّ ذَكَرَ الْجِهَادَ وَحَضَّ عَلَيْهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: ”کیا جنت کے لیے تیاری کرنے والا کوئی ہے؟ کیونکہ جنت ایک ایسی چیز ہے جس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ ربِ کعبہ کی قسم! وہ ایک ایسا نور ہے جو جھلملا رہا ہے، ایک ایسا پھول ہے جو لہلہا رہا ہے، ایک ایسا محل ہے جو مربوط ہے، ایک ایسی نہر ہے جو مسلسل بہتی ہے، وہاں پھل ہیں جو بہت زیادہ ہیں اور پکے ہوئے ہیں اور بیویاں ہیں جو حسین و جمیل ہیں اور بہت زیادہ عمدہ لباس ہیں۔ وہ ایک ایسا مقام ہے جہاں ہمیشہ رہنا ہوگا، وہ جگہ سرسبز ہے، ہری بھری ہے، بلند و برتر ہے، صحیح و سالم ہے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کہو «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» (“ان شاء اللہ”)۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کا ذکر کیا اور اس کی ترغیب دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7381]

7382

Sahih Ibn Hibban #7382

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً بِغَيْرِ حَقِّهَا ، لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ رِيحَ الْجَنَّةِ لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ مِئَةِ عَامٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص ناحق طور پر کسی ذمی کو قتل کر دے وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا، اگرچہ اس کی بو ایک سو میل کے فاصلے سے محسوس ہو جاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7382]

7383

Sahih Ibn Hibban #7383

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَرْمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا فِي عَهْدِهِ ، لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ خَمْسِ مِئَةِ عَامٍ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص معاہدہ ہونے کے باوجود کسی ذمی کو قتل کر دے وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا اگرچہ اس کی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت سے محسوس ہو جاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7383]

7384

Sahih Ibn Hibban #7384

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ زُهَيْرٍ الضَّبِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ الثَّقَفِيُّ عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ بِالنَّبَاءَةِ ، أَوِ النَّبَاوَةِ مِنَ الطَّائِفِ : تُوشِكُونَ أَنْ تَعَلَمُوا أَهْلَ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، أَوْ خِيَارَكُمْ مِنْ شِرَارِكُمْ ، وَلا أَعْلَمُهُ إِلا قَالَ : أَهْلَ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ : بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بِالثَّنَاءِ الْحَسَنِ ، وَالثَّنَاءِ السَّيِّئَ ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ ، بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبکر بن ابوزہیر ثقفی اپنے والد (ابوزہیر ثقفی رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نباہ یا نباوہ کے مقام پر جس کا تعلق طائف سے ہے، خطبے کے دوران یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”عنقریب تم لوگ اہل جہنم کے مقابلے میں اہل جنت کو جان لو گے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) برے لوگوں کے مقابلے میں بہتر لوگوں کو جان لو گے۔“ (راوی کہتے ہیں) میرے علم کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”اہل جہنم کے مقابلے میں اہل جنت کو پہچان لو گے۔“ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ کس چیز کے ذریعے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھی تعریف اور بری تعریف کے ذریعے، تم لوگ ایک دوسرے کے بارے میں گواہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7384]