Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 64 · Chapter 1

The Book of the Prophet's Reports on the Virtues of the Companions, Their Men and Women, Mentioning Their Names, May Allah Be Pleased with Them All

Hadith 7227–7266

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

7227

Sahih Ibn Hibban #7227

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِينَ يَلُونِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهُمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری امت میں سب سے بہتر وہ زمانہ ہے جو میرے بعد آئے گا، پھر اس کے بعد والا ہے، پھر اس کے بعد والا ہے، پھر اس کے بعد والا ہے۔ پھر وہ لوگ آئیں گے جن میں سے کسی ایک کی گواہی اس کی قسم سے پہلے ہو گی اور اس کی قسم اس کی گواہی سے پہلے ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7227]

7228

Sahih Ibn Hibban #7228

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ وَأَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، پھر اس کے بعد والا ہے، پھر اس کے بعد والا ہے، پھر وہ لوگ آئیں گے جن کی گواہی ان کی قسم سے پہلے ہوگی اور ان کی قسم ان کی گواہی سے پہلے ہوگی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7228]

7229

Sahih Ibn Hibban #7229

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا هِلالُ بْنُ يَسَافٍ قَالَ : سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، پھر اس کے بعد والا ہے، پھر اس کے بعد والا ہے، پھر اس کے بعد والا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7229]

7230

Sahih Ibn Hibban #7230

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ دَرَّاجًا حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رُجُلا قَالَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، طُوبَى لِمَنْ رَآكَ وَآمَنَ بِكَ ، قَالَ : طُوبَى لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي ، وَطُوبَى ، ثُمَّ طُوبَى لِمَنْ آمَنَ بِي وَلَمْ يَرَنِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! اس شخص کے لیے مبارک ہے جس نے آپ کی زیارت کی اور آپ پر ایمان لایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کو مبارک ہو جس نے میری زیارت کی ہو اور مجھ پر ایمان لایا ہو اور اس شخص کو مبارک ہو اور مزید مبارک ہو جو مجھ پر ایمان لایا حالانکہ اس نے مجھے دیکھا نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7230]

7231

Sahih Ibn Hibban #7231

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ إِمْلاءً ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الإِسْكَنْدَرَانِيُّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مِنْ أَشِدِّ أُمَّتِي لِي حُبًّا نَاسٌ يَكُونُونَ بَعْدِي ، يَوَدُّ أَحَدُهُمْ أَنْ لَوْ رَآنِي بِأَهْلِهِ وَمَالِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میری امت میں مجھ سے سب سے زیادہ شدید محبت وہ لوگ کرتے ہوں گے جو میرے بعد آئیں گے۔ ان میں سے کسی ایک شخص کی خواہش ہوگی کاش اس نے اپنے اہل خانہ اور مال کے عوض میں میری زیارت کی ہوتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7231]

7232

Sahih Ibn Hibban #7232

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَيْمَنٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : طُوبَى لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي ، وَطُوبَى سَبْعَ مَرَّاتٍ لِمَنْ آمَنَ بِي وَلَمْ يَرَنِي"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اس شخص کے لیے مبارک باد ہے جس نے میری زیارت کی اور مجھ پر ایمان لایا، اور اس شخص کے لیے سات مرتبہ مبارک باد ہے جو مجھ پر ایمان لایا، حالانکہ اس نے مجھے دیکھا نہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7232]

7233

Sahih Ibn Hibban #7233

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَيْمَنَ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : طُوبَى لِمَنْ رَآنِي ثُمَّ آمَنَ بِي ، وَطُوبَى سَبْعَ مَرَّاتٍ لِمَنْ آمَنَ بِي ، وَلَمْ يَرَنِي "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ أَيْمَنُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي أُمَامَةَ مَعًا ، وَأَيْمَنُ هَذَا هُوَ أَيْمَنُ بْنُ مَالِكٍ الأَشْعَرِيُّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اس شخص کے لیے مبارک باد ہے جس نے میری زیارت کی اور مجھ پر ایمان لایا اور اس شخص کے لیے سات مرتبہ مبارک باد ہے جو مجھ پر ایمان لایا، حالانکہ اس نے میری زیارت نہیں کی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ایمن نامی راوی نے یہ روایت سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہما دونوں سے سنی ہے، ایمن نامی یہ راوی ایمن بن مالک اشعری ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7233]

7234

Sahih Ibn Hibban #7234

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلا قَوْلَ اللَّهِ فِي إِبْرَاهِيمَ : رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ ، فَمَنْ تَبِعَنِي ، فَإِنَّهُ مِنِّي ، وَقَالَ عِيسَى : إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ، إِلَى آخِرِ الآيَةِ ، قَالَ اللَّهُ : يَا جِبْرِيلُاذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ ، وَقُلْ لَهُ إِنَّا سَنُرْضِيكَ فِي أُمَّتِكَ ، وَلا نَسُوؤُكَ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تلاوت کی (ارشاد باری تعالیٰ ہے: سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے یہ کہا:) ﴿رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ ۖ فَمَن تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي﴾ [سورة إبراهيم: 36] ”اے میرے پروردگار! ان (بتوں) نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا، تو جو شخص میری پیروی کرے وہ مجھ سے ہو گا۔“ (ارشاد باری تعالیٰ ہے) سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے یہ کہا: ﴿إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ﴾ [سورة المائدة: 118] ”اگر تو انہیں عذاب دیتا ہے تو یہ تیرے بندے ہیں“ یہ آیت کے آخر تک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اے جبرائیل! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جاؤ اور ان سے یہ کہہ دو کہ ہم تمہاری امت کے بارے میں تمہیں راضی کر دیں گے اور ہم تمہیں رسوا نہیں کریں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7234]

7235

Sahih Ibn Hibban #7235

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلا قَوْلَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا فِي إِبْرَاهِيمَ : إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ، وَقَالَ عِيسَى : إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ أُمَّتِي أُمَّتِي " ، وَبَكَى ، فَقَالَ اللَّهُ : " يَا جِبْرِيلُ ، اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَبُّكَ أَعْلَمُ ، فَسَلْهُ مَا يُبْكِيهِ ؟ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ ، فَسَأَلَهُ ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، فَقَالَ اللَّهُ : يَا جِبْرِيلُاذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ ، فَقُلْ : إِنَّا سَنُرْضِيكَ فِي أُمَّتِكَ وَلا نَسُوؤُكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ ۖ فَمَن تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي ۖ وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ [سورة إبراهيم: 36] تلاوت کیا۔ (سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے یہ کہا تھا:) اے میرے پروردگار! ان (بتوں) نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا جو شخص میری پیروی کرے وہ مجھ سے ہو گا اور جو میری نافرمانی کرے تو بے شک تو مغفرت کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے (ارشاد باری تعالیٰ ہے) سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے یہ کہا: ﴿إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ﴾ [سورة المائدة: 118] اگر تو انہیں عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں۔ (راوی بیان کرتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور دعا کی: «اللَّهُمَّ أُمَّتِي أُمَّتِي» ”اے اللہ! میری امت (کی مغفرت کر دے) میری امت (کی مغفرت کر دے)“ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے جبرائیل! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) ”تمہارا پروردگار زیادہ علم رکھتا ہے“ (لیکن پھر بھی اس نے یہ ارشاد فرمایا) تم اس سے دریافت کرو کہ تم کیوں رو رہے ہو، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اللہ تعالیٰ کو بتایا حالانکہ اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے جبرائیل! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور یہ کہو ہم تمہاری امت کے بارے میں تمہیں راضی کر دیں گے، ہم تمہیں رسوا نہیں کریں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7235]

7236

Sahih Ibn Hibban #7236

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ ، أَنَّ خَبَّابًا ، قَالَ : رَمَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاةٍ صَلاهَا حَتَّى كَانَ مَعَ الْفَجْرِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلاتِهِ جَاءَهُ خَبَّابٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي لَقَدْ صَلَّيْتَ اللَّيْلَةَ صَلاةً مَا رَأَيْتُكَ صَلَّيْتَ نَحْوَهَا ، قَالَ : أَجَلْ إِنَّهَا صَلاةُ رَغَبٍ وَرَهَبٍ ،سَأَلْتُ رَبِّي فِيهَا ثَلاثَ خِصَالٍ ، فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ ، وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً ، سَأَلْتُهُ أَنْ لا يُهْلِكَنَا بِمَا أَهْلَكَ بِهِ الأُمَمَ قَبْلَهَا ، فَأَعْطَانِيهَا ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لا يُظْهِرَ عَلَيْنَا عَدُوًّا مِنْ غَيْرِنَا ، فَأَعْطَانِيهَا ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لا يَلْبِسَنَا شِيَعًا ، فَمَنَعَنِيهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا جائزہ لیتا رہا، جو آپ ادا کرتے رہے تھے، یہاں تک کہ صبح صادق کا وقت قریب آ گیا تھا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کا سلام پھیرا تو سیدنا خباب رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آج رات آپ نے ایسی نماز ادا کی ہے کہ میں نے آپ کو اس کی مانند نماز ادا کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، یہ ایک ایسی نماز تھی جس میں رغبت اور ہیبت دونوں چیزیں پائی جاتی تھیں۔ میں نے اس کے دوران اپنے پروردگار سے تین چیزوں کے بارے میں سوال کیا، تو اس نے دو چیزیں مجھے عطا کر دیں اور ایک چیز عطا نہیں کی۔ میں نے اس سے یہ درخواست کی کہ وہ ہمیں اس طرح ہلاکت کا شکار نہ کرے، جس طرح اس نے پہلی امتوں کو ہلاکت کا شکار کیا تھا، تو اس نے مجھے یہ چیز عطا کر دی۔ میں نے اس سے یہ سوال کیا کہ وہ ہم پر ایسے دشمن کو غالب نہ کرے جو دوسری قوم سے تعلق رکھتا ہو، تو اس نے مجھے یہ چیز بھی عطا کر دی۔ میں نے اس سے یہ سوال کیا کہ وہ ہمیں گروہوں میں تقسیم نہ کرے، تو اس نے اس چیز کو قبول نہیں کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7236]

7237

Sahih Ibn Hibban #7237

وَأَخْبَرَنَا ابن خزيمة ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الطُّوسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنَ الْعَالِيَةِ حَتَّى إِذَا مَرَّ بِمَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ دَخَلَ ، فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ، وَصَلَّيْنَا مَعَهُ ، فَدَعَا رَبَّهُ طَوِيلا ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا فَقَالَ : سَأَلْتُ رَبِّي أَنْ لا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالسَّنَةِ ، فَأَعْطَانِيهَا ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ ، فَمَنَعَنِيهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بالائی علاقے کی طرف سے تشریف لا رہے تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر بنو معاویہ کی مسجد سے ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اندر آئے، دو رکعت ادا کیں اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار سے طویل دعا مانگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”میں نے اپنے پروردگار سے یہ درخواست کی تھی کہ وہ میری امت کو قحط سالی کے ذریعے ہلاک نہیں کرے گا، تو اس نے مجھے یہ چیز عطا کر دی، میں نے اس سے درخواست کی کہ یہ لوگ آپس میں نہ لڑیں، تو اس نے یہ چیز قبول نہیں کی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7237]

7238

Sahih Ibn Hibban #7238

قَالَ : قَالَ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَاأَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ ، وَإِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَلا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنَ أُمَّتِي بِالْمُشْرِكِينَ وَحَتَّى تُعْبَدَ الأَوْثَانُ ، وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي ثَلاثُونَ كَذَّابًونَ ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ ، وَإِنِّي خَاتَمُ النَّبِيِّينَ ، لا نَبِيَّ بَعْدِي ، وَلَنْ تَزَالَ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ لا يَضُرُّهُمْ مَنْ يَخْذُلُهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو لپیٹ دیا تو میں نے اس کے مشرقی اور مغربی حصوں کو دیکھ لیا۔ میری امت کی حکومت عنقریب وہاں تک پہنچ جائے گی جہاں تک میرے لیے زمین کو لپیٹا گیا تھا اور مجھے دو خزانے عطا کیے گئے: سرخ اور سفید۔ میں نے اپنے پروردگار سے اپنی امت کے لیے دعا مانگی کہ وہ انہیں عمومی قحط سالی کے ذریعے ہلاک نہیں کرے گا اور ان پر ایسا دشمن مسلط نہیں کرے گا جو کسی دوسری قوم سے تعلق رکھتا ہو جو ان کا قتل عام کر دے، تو میرے پروردگار نے فرمایا: اے محمد! جب میں کوئی فیصلہ کر لوں تو پھر اس میں تبدیلی نہیں کی جاتی۔ میں آپ کی امت کے بارے میں آپ کو یہ چیز عطا کرتا ہوں کہ میں انہیں عمومی قحط سالی کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہیں کروں گا، اور میں ان پر ایسا دشمن مسلط نہیں کروں گا جو کسی دوسری قوم سے تعلق رکھتا ہو اور جو ان کا قتل عام کرے، خواہ وہ دشمن ان کے خلاف زمین کے کونے کونے سے اکٹھا ہو جائے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) البتہ وہ لوگ خود ایک دوسرے کو ہلاکت کا شکار کریں گے اور ایک دوسرے کو قیدی بنا لیں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اپنی امت کے بارے میں گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا اندیشہ ہے، جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو پھر قیامت تک نہیں اٹھائی جائے گی، اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک میری امت کے کچھ قبائل مشرکین سے نہیں مل جائیں گے، یہاں تک کہ بتوں کی عبادت نہیں کی جانے لگے گی۔ میری امت میں تیس کذاب ہوں گے جن میں سے ہر ایک اس بات کا دعویدار ہو گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر ثابت قدم رہے گا اور وہ لوگ غالب رہیں گے، جو شخص انہیں رسوا کرنے کی کوشش کرے گا وہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ (یعنی قیامت) آ جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7238]

7239

Sahih Ibn Hibban #7239

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو بِالْفُسْطَاطِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلاءِ الزُّبَيْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لُقْمَانُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ جَبَلَةَ ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَتَزْدَحِمَنَّ هَذِهِ الأُمَّةُ عَلَى الْحَوْضِ ازْدِحَامَ إِبِلٍ وَرَدَتْ لِخَمْسٍ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اس امت کا حوض کوثر پر اس طرح ہجوم ہو گا جس طرح اونٹوں کا ہجوم ہوتا ہے جو پانی پینے آتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7239]

7240

Sahih Ibn Hibban #7240

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْمَقْبُرَةِ ، فَقَالَ : السَّلامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاحِقُونَ ، وَدِدْتُ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ إِخْوَانَنَا " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَسْنَا إِخْوَانَكَ ؟ قَالَ : " بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي ، وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ يَأْتِي بَعْدَكَ مِنْ أُمَّتِكَ ؟ قَالَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لِرَجُلٍ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ فِي خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ ، أَلا يَعْرِفُ خَيْلَهُ ؟ " ، قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، فَلَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ ، أُنَادِيهِمْ ، أَلا هَلُمَّ أَلا هَلُمَّ ، فَيُقَالُ : إِنَّهُمْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ ، فَأَقُولُ : فَسُحْقًا فَسُحْقًا فَسُحْقًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان تشریف لے گئے اور فرمایا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ» ”اے اہل ایمان کی قوم کی بستی والو! تم پر سلام ہو۔ اگر اللہ نے چاہا تو ہم بھی تم سے آ ملیں گے۔“ (پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”میری یہ خواہش تھی کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھ لیتا۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تم میرے اصحاب ہو۔ میرے بھائی وہ لوگ ہیں، جو بعد میں آئیں گے۔ میں حوضِ کوثر پر ان کا پیش رو ہوں گا۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کی امت کے جو لوگ آپ کے بعد آئیں گے، آپ ان کو کیسے پہچانیں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے اگر کسی شخص کے پاس ایسا گھوڑا ہو جس کی پیشانی پر سفید نشان ہو اور وہ گھوڑا سیاہ گھوڑوں کے درمیان موجود ہو، کیا وہ شخص اپنے گھوڑے کو پہچان نہیں لے گا؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو جب وہ لوگ بھی قیامت کے دن آئیں گے تو وضو کرنے کی وجہ سے ان کی پیشانیاں چمک رہی ہوں گی اور حوضِ کوثر پر میں ان کا پیش رو ہوں گا اور کچھ لوگوں کو میرے حوض سے یوں پرے کیا جائے گا، جس طرح گمشدہ اونٹ کو پرے کیا جاتا ہے۔ میں انہیں پکاروں گا: ادھر آؤ، ادھر آؤ، تو یہ کہا جائے گا: ان لوگوں نے آپ کے بعد (دین کے احکام میں) تبدیلی کر دی تھی، تو میں کہوں گا: پرے ہو جاؤ، پرے ہو جاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7240]

7241

Sahih Ibn Hibban #7241

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّحَوْضِي لأَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ إِلَى عَدْنَ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ ، وَلَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنِّي لأَذُودُ عَنْهُ الرِّجَالَ كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ الإِبِلَ الْغَرِيبَةَ عَنْ حَوْضِهِ " ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَتَعْرِفُنَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ لَيْسَ لأَحَدٍ غَيْرِكُمْ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لأَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ إِلَى عَدْنَ " ، تَأْكِيدٌ فِي الْقَصْدِ ، لا أَنَّهُ أَبْعَدُ مِنْهُمَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرا حوض اس سے زیادہ بڑا ہے جتنا ایلہ سے لے کر عدن تک کا فاصلہ ہے، اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! اس حوض کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں اور اس کا مشروب دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! اس حوض سے کچھ لوگوں کو پرے کیا جائے گا، جس طرح کوئی شخص اپنے حوض سے اجنبی اونٹوں کو پرے کرتا ہے،“ تو عرض کی گئی: یا رسول اللہ! کیا آپ ہمیں پہچان لیں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، تم میرے پاس چمکدار پیشانیوں کے ساتھ آؤ گے جو وضو کرنے کی وجہ سے ہوگی، (یہ علامت) تمہارے علاوہ کسی کی نہیں ہوگی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”اس سے زیادہ دور ہے جتنا ایلہ سے لے کر عدن تک کا فاصلہ ہے“ یہاں مقصود میں تاکید پیدا کرنا مراد ہے، اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ ان دونوں سے زیادہ دور ہوگا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7241]

7242

Sahih Ibn Hibban #7242

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُمْ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ تَرَ مِنْ أُمَّتِكَ ؟ قَالَ : غُرٌّ مُحَجَّلُونَ بُلْقٌ مِنْ آثَارِ الطَّهُورِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ ان لوگوں کو کیسے پہچانیں گے جن کا تعلق آپ کی امت سے ہے اور آپ نے انہیں دیکھا نہیں ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ وضو کے آثار کی وجہ سے چمکدار پیشانیوں والے ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7242]

7243

Sahih Ibn Hibban #7243

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَرِدُونَ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ سِيمَا أُمَّتِي لَيْسَ لأَحَدٍ غَيْرِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ وضو کی وجہ سے چمکدار پیشانیوں کے ساتھ (میرے حوض پر) آؤ گے۔ یہ میری امت کا مخصوص علامتی نشان ہے، جو ان کے علاوہ اور کسی کا نہیں ہوگا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7243]

7244

Sahih Ibn Hibban #7244

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ " ، قَالَ : فَقَالَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ " ، فَقَالَ آخَرُ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ " ، لَفْظَةُ إِخْبَارٍ عَنْ فِعْلٍ مَاضٍ مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنِ الشَّيْءِ الَّذِي مِنْ أَجْلِهِ أَطْلَقَ هَذِهِ اللَّفْظَةَ ، وَذَلِكَ أَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَعَا لِعُكَّاشَةَ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ " ، ثُمَّ قَامَ الآخَرُ ، فَلَوْ دَعَا لَهُ لَقَامَ الثَّالِثُ وَالرَّابِعُ ، وَخَرَجَ الأَمْرُ إِلَى مَا لا نِهَايَةَ لَهُ ، وَلَبَطَلَ وَعِيدُ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا لِمَنِ ارْتَكَبَ الْمَزْجُورَاتِ مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلَهُمُ النَّارَ ، فَحَسَمَهُمْ ذَلِكَ عَنْ نَفْسِهِ بِلَفْظَةِ إِخْبَارٍ مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنْهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری امت کے ستر ہزار لوگ کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: تو سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے ان میں شامل کر لے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ» ”اے اللہ! تو اسے ان میں شامل کر لے۔“ ایک اور صاحب نے عرض کی: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے ان میں شامل کر لے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ» ”اس حوالے سے عکاشہ تم پر سبقت لے گیا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”اس حوالے سے عکاشہ تم پر سبقت لے گیا ہے“ اس میں لفظی طور پر گزرے ہوئے زمانے سے متعلق ایک فعل کے بارے میں اطلاع دی گئی ہے، لیکن اس کے ذریعے مراد اس چیز سے منع کرنا ہے جس کے ذریعے یہ الفاظ مطلق طور پر استعمال ہوتے ہیں اور وہ یہ کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ کے لیے یہ دعا کر دی اور یہ کہہ دیا کہ «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ» ”اے اللہ! تو اسے ان میں شامل کر دے،“ تو دوسرے صاحب کا کھڑے ہونا (مناسب نہیں ہے) کیونکہ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے دعا کر دیتے تو پھر کوئی تیسرا اور چوتھا شخص بھی کھڑا ہو جاتا اور معاملہ ایک ایسی صورت کی طرف چلا جاتا جس کی کوئی انتہا نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کی وعید جو ان لوگوں کے لیے ہے جن کا تعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے ہوگا اور وہ ممنوعہ چیزوں کے مرتکب ہوں گے وہ باطل ہو جاتی (وہ وعید یہ ہے) کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جہنم میں داخل کرے گا، تو اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظی طور پر اطلاع کے ذریعے اپنے آپ کو اس طرح کی چیزوں سے روک لیا، اور اس سے مراد اس سے منع کرنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7244]""

7245

Sahih Ibn Hibban #7245

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبَى عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الأَوْدِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا هُوَ ذَاتُ يَوْمٍ فِي بَيْتِ الْمَالِ ، إِذْ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ قُبَّةٍ لَهُ مِنْ أَدَمٍ ، فَقَالَ : أَلا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ " ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " وَثُلُثُ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ " ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، إِنَّ مَثَلَ الْمُسْلِمِينَ فِي الْكُفَّارِ كَالْبَقَرَةِ الْبَيْضَاءِ فِيهَا الشَّعْرَةُ السَّوْدَاءُ ، أَوْ كَالْبَقَرَةِ السَّوْدَاءِ فِيهَا الشَّعْرَةُ الْبَيْضَاءُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ بیت المال میں موجود تھے تو انہوں نے فرمایا: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چمڑے سے بنے ہوئے خیمے سے باہر نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم لوگ اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”یا اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہو؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! مجھے اس بات کی امید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف ہو گے۔ کفار کے درمیان مسلمانوں کی مثال اس طرح ہے، جس طرح کوئی سفید گائے ہو جس میں ایک سیاہ بال موجود ہو۔ یا سیاہ گائے ہو جس میں ایک سفید بال موجود ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7245]

7246

Sahih Ibn Hibban #7246

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ، وَأَبَى الْيَمَانِ الهوزني ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّاللَّهَ وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ " ، فَقَالَ : يَزِيدُ بْنُ الأَخْنَسِ السُّلَمِيُّ : وَاللَّهِ مَا أُولَئِكَ فِي أُمَّتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلا كَالذُّبَابِ الأَصْهَبِ فِي الذِّبَّانِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ رَبِّي قَدْ وَعَدَنِي سَبْعِينَ أَلْفًا مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُينَ أَلْفًا وَزَادَنِي حَثَيَاتٍ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت کے ستر ہزار افراد کو بغیر کسی حساب کے جنت میں داخل کرے گا۔“ اس پر سیدنا یزید بن اخنس سلمی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کی قسم یا رسول اللہ! آپ کی امت میں (یہ ستر ہزار لوگ) اس طرح ہوں گے، جس طرح ٹیلے کے مقابلے میں مٹھی بھر ریت ہوتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک میرے پروردگار نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ ستر ہزار لوگ ہوں گے، جن میں سے ہر ایک ہزار کے ساتھ ستر ہزار لوگ ہوں گے، اور اس کے ہمراہ مزید کچھ لپ ہوں گے (یعنی پروردگار بے حد و شمار لوگوں کو جہنم سے آزاد کرے گا۔)“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7246]

7247

Sahih Ibn Hibban #7247

أَخْبَرَنَا مَكْحُولٌ بِبَيْرُوتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الدَّارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ يَعْمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَخِي زَيْدُ بْنُ سَلامٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ زَيْدٍ الْبِكَالِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّرَبِّي وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ مِنَ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ ، ثُمَّ يُتْبِعُ كُلَّ أَلْفٍ بِسَبْعِينَ أَلْفًا ، ثُمَّ يَحْثِي بِكَفِّهِ ثَلاثَ حَثَيَاتٍ " ، فَكَبَّرَ عُمَرُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ السَّبْعِينَ أَلْفًا الأُوَلَ يُشَفِّعُهُمُ اللَّهُ فِي آبَائِهِمْ وَأُمَّهَاتِهِمْ وَعَشَائِرِهِمْ ، وَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَ أُمَّتِي أَدْنَى الْحَثَوَاتِ الأَوَاخِرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عبد السلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے پروردگار نے مجھ سے یہ وعدہ کیا ہے وہ میری امت کے ستر ہزار لوگوں کو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا اور پھر ان میں سے ہر ایک ہزار کے ہمراہ ستر ہزار لوگ جائیں گے۔ پھر وہ اپنے دستِ قدرت کے ذریعے تین مرتبہ لپ بھرے گا اور اتنے لوگوں کو جہنم سے آزاد کرے گا۔“ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے «اَللّٰهُ أَکْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک پہلے والے ستر ہزار لوگ اپنے آباؤ اجداد، اپنی امہات اور اپنے رشتہ داروں کی شفاعت کریں گے اور مجھے یہ امید ہے کہ وہ میری امت کو آخری لپوں میں سب سے زیادہ قریب کر دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7247]

7248

Sahih Ibn Hibban #7248

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَامِرٌ الْعُقَيْلِيُّ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عُرِضَ عَلَيَّ أَوَّلُ ثَلاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ : الشَّهِيدُ ، وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ وَنَصَحَ لِسَيِّدِهِ ، وَعَفِيفٌ مُتَعَفِّفٌ ذُو غِنًى أَوْ مَالٍ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے سامنے وہ تین لوگ پیش کیے گئے جو پہلے جنت میں داخل ہوں گے: ایک شہید، دوسرا وہ غلام جو اپنے پروردگار کی اچھی طرح سے عبادت کرتا ہو اور اپنے آقا کا خیرخواہ ہو، اور تیسرا وہ شخص جو خوشحال ہو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) جو مالدار ہو، اور حرام سے اور لوگوں کے پاس موجود مال (کو ہتھیانے) سے بچے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7248]

7249

Sahih Ibn Hibban #7249

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ يَحْيَى ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَذْكُرُهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : صَلَّيْنَا الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْنَا : لَوِ انْتَظَرْنَا حَتَّى نُصَلِّي مَعَهُ الْعِشَاءَ ، فَانْتَظَرْنَا ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : مَا زِلْتُمْ هَاهُنَا ؟ " ، قُلْنَا : نَعَمْ ، نُصَلِّي مَعَكَ الْعِشَاءَ ، قَالَ : " أَحْسَنْتُمْ " ، أَوْ قَالَ : " أَصَبْتُمْ " ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، فَقَالَ :" النُّجُومُ أَمَنَةُ السَّمَاءِ ، فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومُ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُ ، وَأَنَا أَمَنَةٌ لأَصْحَابِي ، فَإِذَا أَنَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ ، وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لأُمَّتِي ، فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ مَعْنَى هَذَا الْخَبَرِ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا جَعَلَ النُّجُومَ عَلامَةً لِبَقَاءِ السَّمَاءِ وَأَمَنَةً لَهَا عَنِ الْفَنَاءِ ، فَإِذَا غَارَتْ وَاضْمَحَلَّتْ أَتَى السَّمَاءَ الْفَنَاءُ الَّذِي كُتِبَ عَلَيْهَا ، وَجَعَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا الْمُصْطَفَى أَمَنَةَ أَصْحَابِهِ مِنْ وقُوعِ الْفِتَنِ ، فَلَمَّا قَبَضَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا إِلَى جَنَّتِهِ ، أَتَى أَصْحَابَهُ الْفِتَنُ الَّتِي أُوعِدُوا ، وَجَعَلَ اللَّهُ أَصْحَابَهُ أَمَنَةَ أُمَّتِهِ مِنْ ظُهُورِ الْجَوْرِ فِيهَا ، فَإِذَا مَضَى أَصْحَابُهُ ، أَتَاهُمْ مَا يُوعَدُونَ مِنَ ظُهُورِ غَيْرِ الْحَقِّ مِنَ الْجَوْرِ وَالأَبَاطِيلِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں مغرب کی نماز ادا کی، تو ہم نے کہا: اگر ہم انتظار کر لیں، یہاں تک کہ عشاء کی نماز بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں ادا کریں (تو یہ مناسب ہو گا) تو ہم لوگ انتظار کرنے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم لوگ اس وقت سے یہاں ہو؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں عشاء کی نماز ادا کرنا چاہتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اچھا کیا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) تم نے ٹھیک کیا۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا اور فرمایا: ”ستارے آسمان کے امین (یا محافظ ہیں) جب یہ ستارے رخصت ہو جائیں گے تو آسمان پر وہ چیز آ جائے گی، جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے اور میں اپنے ساتھیوں کا محافظ ہوں۔ جب میں رخصت ہو جاؤں گا تو میرے ساتھیوں پر وہ چیز آئے گی جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے اور میرے ساتھی میری امت کے لیے محافظ ہیں۔ جب میرے ساتھی رخصت ہو جائیں گے تو میری امت پر وہ چیز آ جائے گی، جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا احتمال موجود ہے کہ اس روایت کا مطلب یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے ستاروں کو آسمانوں کی بقا کی نشانی اور آسمان کو فنا ہونے سے بچنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ جب یہ غارت ہو جائیں گے اور مضمحل ہو جائیں گے اور آسمان پر فنا طاری ہو جائے گی، جو اس کے نصیب میں لکھی گئی ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھیوں کے لیے فتنوں سے محفوظ ہونے کا ذریعہ بنایا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبض کر کے اپنی جنت کی طرف لے جائے گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تک وہ فتنے آئیں گے جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے محافظ قرار دیا ہے، جو امت میں ظلم و ستم کے ظہور سے بچاؤ کا ذریعہ ہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رخصت ہو جائیں گے تو پھر امت تک وہ چیز آ جائے گی جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے، جو ناحق چیزوں کے ظہور سے متعلق ہو گی، جس کا تعلق ظلم اور باطل چیزوں سے ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7249]

7250

Sahih Ibn Hibban #7250

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَقِيَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِسَانِهِ ثِقَلٌ ، مَا يُبِينُ الْكَلامَ ، فَذَكَرَ عُثْمَانَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا يَقُولُ غَيْرَ أَنَّكُمْ تَعْلَمُونَ يَا مَعْشَرَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ أَنَّاكُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَقُولُ : أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ ، وَإِنِّمَا هُوَ هَذَا الْمَالُ ، فَإِنْ أَعْطَاهُ رَضِيتُمْ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مَا رَوَاهُ عَنِ الْوَلِيدِ ، إِلا إِسْحَاقُ ، وَلَيْسَ لِثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ ، وَمَا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ إِسْحَاقَ ، إِلا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ ، وَهُوَ غَرِيبٌ جِدًّا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب کی مجھ سے ملاقات ہوئی، ان کی زبان میں کچھ لکنت تھی اور ان کی بات نمایاں نہیں ہوتی تھی، انہوں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم کہ وہ کیا کہتے ہیں، البتہ اے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے گروہ! آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں یہ کہا کرتے تھے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ (پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس شخص سے کہا: تم نے جس معاملے کا ذکر کیا ہے) وہ تو صرف مال سے متعلق ہے، اگر انہوں نے وہ مال اس شخص کو دے دیا ہے تو تم اس سے راضی رہو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت کو ولید کے حوالے سے صرف اسحاق نے نقل کیا ہے اور ثور بن یزید نے زہری کے حوالے سے صرف یہ روایت نقل کی ہے، اسحاق کے حوالے سے یہ روایت صرف عبداللہ بن محمد نے نقل کی ہے اور یہ روایت انتہائی غریب ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7250]

7251

Sahih Ibn Hibban #7251

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ بْنِ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنَّا نُفَاضِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ عُمَرُ ، ثُمَّ عُثْمَانُ ، ثُمَّ نَسْكُتُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اور پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو (دیگر تمام صحابہ کرام سے) افضل قرار دیتے تھے اور پھر ہم سکوت اختیار کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7251]

7252

Sahih Ibn Hibban #7252

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ ، وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ عُمَرُ ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ ، وَأَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، أَلا وَإِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا ، أَلا وَإِنَّ أَمِينَ هَذِهِ الأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری امت میں میری امت کے بارے میں سب سے زیادہ رحم دل ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں، اللہ تعالیٰ کے حکم کے بارے میں سب سے زیادہ سخت عمر رضی اللہ عنہ ہیں، حیا کے اعتبار سے سب سے زیادہ سچے عثمان رضی اللہ عنہ ہیں، اللہ کی کتاب کے سب سے بڑے عالم ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں، علم وراثت کے سب سے بڑے عالم زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہیں، حلال اور حرام کے سب سے بڑے عالم معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں، خبردار! ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7252]

7253

Sahih Ibn Hibban #7253

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَسُبُّوا أَصْحَابِي ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا ، مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ ، وَلا نَصِيفَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے اصحاب کو برا نہ کہو، اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی ایک شخص احد پہاڑ جتنا سونا خرچ کرے، پھر بھی وہ ان (صحابہ کرام) میں سے کسی ایک کے ایک ”مد“ بلکہ اس کا نصف خرچ (کرنے کے برابر بھی نہیں ہو سکتا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7253]

7254

Sahih Ibn Hibban #7254

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ بِالْجَابِيَةِ ، فَقَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامِي فِيكُمْ ، فَقَالَ : اسْتَوْصُوا بِأَصْحَابِي خَيْرًا ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَبْتَدِئُ بِالشَّهَادَةِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا ، وَبِالْيَمِينِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا ، فَمَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ بُحْبُوحَةَ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ ، وَهُوَ مِنَ الاثْنَيْنِ أَبْعَدُ ، وَلا يَخْلُوَنَّ أَحَدُكُمْ بِامْرَأَةٍ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ ثَالِثُهُمَا ، وَمَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ ، فَهُوَ مُؤْمِنٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جابیہ کے مقام پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان اس طرح کھڑے ہوئے جس طرح میں تمہارے درمیان کھڑا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے اصحاب کے بارے میں بھلائی کی تلقین کو قبول کرو، پھر اس کے بعد والے لوگوں کے بارے میں، پھر اس کے بعد والے لوگوں کے بارے میں (بھلائی کی تلقین کو قبول کرو)، پھر جھوٹ پھیل جائے گا، یہاں تک کہ آدمی شہادت کا مطالبہ کیے جانے سے پہلے ہی گواہی دے گا اور قسم کا مطالبہ کیے جانے سے پہلے ہی قسم اٹھائے گا، تو جو شخص جنت کے درمیان میں جانا چاہتا ہو وہ (مسلمانوں کی) جماعت کو لازم پکڑے کیونکہ شیطان ایک شخص کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ دو آدمیوں سے زیادہ دور ہوتا ہے، کوئی بھی شخص کسی (اجنبی) عورت کے ساتھ تنہائی میں ہرگز نہ رہے، کیونکہ ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوگا اور جس شخص کو نیکی اچھی لگے اور برائی بری لگے، وہ مومن ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7254]

7255

Sahih Ibn Hibban #7255

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا تَسُبُّوا أَصْحَابِي ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا ، مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ ، وَلا نَصِيفَهُ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میرے اصحاب کو برا نہ کہو، اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی ایک شخص احد پہاڑ جتنا سونا خرچ کرے، تو وہ پھر بھی ان (صحابہ کرام) میں سے کسی ایک کے، ایک مد یا اس کے نصف کو (خیرات کرنے کے) برابر نہیں ہو سکتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7255]

7256

Sahih Ibn Hibban #7256

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدَةُ بْنُ أَبِي رَائِطَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي ، لا تَتَّخِذُوا أَصْحَابِي غَرَضًا ، مَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ ، فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ ، وَمَنْ آذَاهُمْ ، فَقَدْ آذَانِي ، وَمَنْ آذَانِي ، فَقَدْ آذَى اللَّهَ ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ يُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّومِيُّ بَصْرِيٌّ ، رَوَى عَنْهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، مَاتَ قَبْلَ أَيُّوبَ السِّخْتِيَانِيِّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے اصحاب کے بارے میں اللہ سے (ڈرتے رہو)، میرے اصحاب کو نشانہ نہ بناؤ؛ جو شخص ان سے محبت کرے گا، وہ مجھ سے محبت کی وجہ سے ان سے محبت کرے گا اور جو شخص ان سے بغض رکھے گا، وہ شخص میرے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے ان کے ساتھ بغض رکھے گا، جو شخص انہیں اذیت پہنچائے گا وہ مجھے اذیت پہنچائے گا اور جو شخص مجھے اذیت پہنچائے گا اس نے گویا اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائی، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائے گا، تو عنقریب اللہ تعالیٰ اس پر گرفت کر لے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عبداللہ بن عبدالرحمن نامی یہ راوی رومی بصری ہے جس کے حوالے سے حماد بن زید نے روایات نقل کی ہیں۔ اس کا انتقال ایوب سختیانی سے پہلے ہو گیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7256]

7257

Sahih Ibn Hibban #7257

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَخِي أبِي رُهْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا رُهْمٍ الْغِفَارِيَّ ، يَقُولُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَ الشَّجَرَةِ : غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبُوكاًَ ، فَلَمَّا قَفَلَ سِرْنَا لَيْلَةً ، فَسِرْتُ قَرِيبًا مِنْهُ ، وَأُلْقِيَ عَلَيَّ النُّعَاسُ ، فَطَفِقْتُ أَسْتَيْقِظُ وَقَدْ دَنَتْ رَاحِلَتِي مِنْ رَاحِلَتِهِ ، فَيُفْزِعُنِي دُنُوُّهَا خَشْيَةَ أَنْ أُصِيبَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ ، فَأَزْجُرُ رَاحِلَتِي ، حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي فِي بَعْضِ اللَّيْلِ فَزَحَمَتْ رَاحِلَتِي رَاحِلَتَهُ ، وَرِجْلُهُ فِي الْغَرْزِ فَأَصَبْتُ رِجْلَهُ ، فَلَمْ أَسْتَيْقِظْ إِلا بِقَوْلِهِ : حَسَّ " ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي ، فَقُلْتُ : اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " سِرْ " ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُنِي عَمَّنْ تَخَلَّفَ مِنْ بَنِي غِفَارَ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَإِذَا هُوَ قَالَ :" مَا فَعَلَ النَّفَرُ الْحُمْرُ الثِّطَاطُ ؟ " ، فَحَدَّثْتُهُ بِتَخَلُّفِهِمْ ، قَالَ : " مَا فَعَلَ النَّفَرُ السُّودُ الْجِعَادُ الْقِطَاطُ ، أَوِ الْقِصَارُ ، الَّذِينَ لَهُمْ نَعَمٌ بِشَبَكَةِ شَرْخٍ ؟ " ، فَتَذَكَّرْتُهُمْ فِي بَنِي غِفَارَ ، فَلَمْ أَذْكُرْهُمْ حَتَّى ذَكَرْتُ رَهْطًا مِنْ أَسْلَمَ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُولَئِكَ رَهْطٌ مِنْ أَسْلَمَ وَقَدْ تَخَلَّفُوا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَمَا يَمْنَعُ أُولَئِكَ حِينَ تَخَلَّفَ أَحَدُهُمْ أَنْ يَحْمِلَ عَلَى بَعْضِ إِبِلِهِ امْرءاًً نَشِيطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، إِنَّ أَعَزَّ أَهْلِي عَلَيَّ أَنْ يَتَخَلَّفَ عَنِّي الْمُهَاجِرُونَ ، وَالأَنْصَارُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابورہم غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان صحابہ کرام میں سے ایک ہیں جنہوں نے (بیعت رضوان کے موقع پر) درخت کے نیچے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی۔ وہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ تبوک میں شرکت کی۔ جب ہم واپس آ رہے تھے تو ہم رات بھر چلتے رہے۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہی سفر کرتا رہا۔ مجھے اونگھ آ گئی۔ میں خود کو بیدار رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میری سواری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوئی۔ اس کے قریب آنے کی وجہ سے مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں میں رکاب میں موجود آپ کے پاؤں کو نقصان نہ پہنچاؤں، تو میں نے اپنی سواری کو جھڑکا، لیکن پھر رات کے کسی حصے میں میری آنکھ لگ گئی۔ پھر میری سواری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے ساتھ لگی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پاؤں اس وقت رکاب میں تھا۔ میری ٹکر آپ کے پاؤں سے ہوئی۔ میں اس وقت بیدار ہوا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”دھیان کرو۔“ میں نے اپنا سر اٹھایا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے لیے دعائے مغفرت کیجیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم چلتے رہو۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اس بارے میں دریافت کرنا شروع کیا کہ میں اپنے پیچھے بنو غفار کو کس حالت میں چھوڑ کر آیا ہوں؟ میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اس گروہ کی کیا حالت ہے جو سرخ رنگ کے تھے اور ان کے چہرے پر بال نہیں ہوتے، صرف ٹھوڑی پر تھوڑے سے بال ہوتے ہیں؟“ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے پیچھے رہنے کے بارے میں بتایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس گروہ کا کیا حال ہے جس کا رنگ سیاہ تھا اور بال بکھرے ہوئے تھے؟“ میں نے بنو غفار میں ان کے ہونے کا ذکر کیا۔ میں نے ان کا ذکر نہیں کیا، یہاں تک کہ میں نے ایک گروہ کا ذکر کیا جس کا تعلق اسلم قبیلے سے تھا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اسلم قبیلے کا ایک گروہ ہے وہ لوگ پیچھے رہ گئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ پیچھے کیوں رہ گئے؟ جب ان میں سے کوئی شخص پیچھے رہ گیا تھا، تو پھر کسی دوسرے کو اپنا اونٹ اسے دے دینا چاہیے تھا تاکہ وہ اللہ کی راہ میں (اپنا سفر کرتا رہتا)۔ میرے نزدیک یہ بات سب سے ناپسندیدہ ہے کہ مہاجرین، انصار یا اسلم قبیلے کے لوگ یا غفار قبیلے کے لوگ مجھ سے پیچھے رہ جائیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7257]

7258

Sahih Ibn Hibban #7258

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُحِبُّ أَنْ يَلِيَهُ الْمُهَاجِرُونَ ، وَالأَنْصَارُ لِيَحْفَظُوا عَنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پسند کرتے تھے کہ مہاجرین اور انصار آپ کے قریب رہیں تاکہ آپ سے (شرعی احکام سیکھ کر) انہیں محفوظ رکھیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7258]

7259

Sahih Ibn Hibban #7259

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَقُولُونَ وَهُمْ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ : نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الْقِتَالِ مَا بَقِينَا أَبَدًا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الآخِرَةْ فَاغْفِرْ لِلأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب جب خندق کھود رہے تھے تو وہ ساتھ ساتھ یہ کہہ رہے تھے: «نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدًا» ”ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات پر بیعت کی ہے کہ جب تک ہم باقی رہیں گے ہمیشہ جنگ کرتے رہیں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان حضرات کو یہ جواب دے رہے تھے: «اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَةِ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةِ» ”اے اللہ! بے شک زندگی صرف آخرت کی زندگی ہے، تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7259]

7260

Sahih Ibn Hibban #7260

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمُهَاجِرُونَ ، وَالأَنْصَارُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ، وَالطُّلَقَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ ، وَالْعُتَقَاءُ مِنْ ثَقِيفٍ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مہاجرین اور انصار دنیا اور آخرت میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ قریش سے تعلق رکھنے والے طلقاء اور ثقیف سے تعلق رکھنے والے عتقاء ایک دوسرے کے دنیا اور آخرت میں دوست ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7260]

7261

Sahih Ibn Hibban #7261

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، فَمَرِضْتُ مَرَضًا أَشْفَى عَلَى الْمَوْتِ ، فَعَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي مَالا كَثِيرًا ، وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلا ابْنَةٌ لِي أَفَأُوصِي بِثُلُثَيْ مَالِي ؟ قَالَ : لا " ، قُلْتُ : فَبِشَطْرِ مَالِي ؟ قَالَ : " لا " ، قُلْتُ : فَبِثُلُثِهِ ؟ قَالَ :" الثُّلُثُ ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ ، إِنَّكَ يَا سَعْدُ أَنْ تَتْرُكَ وَرَثَتَكَ بِخَيْرٍ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَتْرُكَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ ، إِنَّكَ يَا سَعْدُ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ ، إِلا أُجِرْتَ عَلَيْهَا ، حَتَّى اللُّقْمَةُ تَجْعَلُهَا فِي فِيِّ امْرَأَتِكَ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُخَلَّفُ عَنْ أَصْحَابِي ؟ قَالَ : " إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي ، فَتَعْمَلَ عَمَلا تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ إِلا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً ، وَلَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي ، فَيَنْفَعَ اللَّهُ بِكَ أَقْوَامًا وَيُضَرُّ بِكَ آخَرِينَ ، اللَّهُمَّ أَمْضِ لأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ ، وَلا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ لَكِنَّ الْبَائِسَ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ " رَثَى لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ مَاتَ بِمَكَّةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، میں بیمار ہو گیا، یہاں تک کہ موت کے کنارے تک پہنچ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے پاس بہت سا مال ہے، میری وارث بس ایک بیٹی ہے، تو کیا میں اپنے دو تہائی مال (کو صدقہ کرنے) کی وصیت کر دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں۔“ میں نے عرض کی: نصف مال کی کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں۔“ میں نے عرض کی: ایک تہائی کے بارے میں کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک تہائی کے بارے میں کر دو، ویسے ایک تہائی بھی زیادہ ہے۔ اے سعد! تم اپنے ورثاء کو اچھی طرح سے خوشحال چھوڑ کر جاتے ہو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تم انہیں تنگدست چھوڑ کر جاؤ اور وہ لوگوں سے مانگتے پھریں۔ اے سعد! تم جو بھی چیز اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرو گے تم کو اس کا اجر ملے گا، یہاں تک کہ تم جو لقمہ اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے (اس کا بھی اجر ملے گا)۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ جاؤں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میرے بعد بھی زندہ رہو گے اور ایسا عمل کرو گے جس کے ذریعے تم اللہ کی رضا چاہو گے، تو اس کے نتیجے میں تمہارے درجے اور قدر و منزلت میں اضافہ ہو گا۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ تم میرے بعد بھی زندہ رہو، اللہ تعالیٰ تمہاری وجہ سے کچھ لوگوں کو نفع دے اور تمہاری وجہ سے دوسرے لوگوں کو نقصان ہو۔ «اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ» ”اے اللہ! میرے ساتھیوں کی ہجرت کو جاری رہنے دینا اور انہیں ایڑیوں کے بل لوٹا نہ دینا۔““ البتہ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ پر افسوس ہے۔ (راوی بیان کرتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر افسوس کا اظہار اس لیے کیا کیونکہ ان کا انتقال مکہ میں ہو گیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7261]

7262

Sahih Ibn Hibban #7262

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِلْمُهَاجِرِينَ مَنَابِرَ مِنْ ذَهَبٍ يَجْلِسُونَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَدْ أَمِنُوا مِنَ الْفَزَعِ "، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : وَاللَّهِ لَوْ حَبَوْتُ بِهَا أَحَدًا ، لَحَبَوْتُ بِهَا قَوْمِي"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مہاجرین کے لیے سونے سے بنے ہوئے منبر ہوں گے جن پر وہ قیامت کے دن بیٹھیں گے اور وہ گھبراہٹ سے محفوظ ہوں گے۔“ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! اگر میں یہ چیز کسی کو دیتا، تو یہ چیز اپنی قوم کو دیتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7262]

7263

Sahih Ibn Hibban #7263

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ شَبَابٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُسَمَّوْنَ الْقُرَّاءَ يَكُونُونَ فِي نَاحِيَةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ ، يَحْسَبُ أَهْلُوهُمْ أَنَّهُمْ فِي الْمَسْجِدِ ، وَيُحْسَبُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ أَنَّهُمْ فِي أَهْلِيهِمْ ، فَيُصَلُّونَ مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى إِذَا تَقَارَبَ الصُّبْحُ ، احْتَطَبُوا الْحَطَبَ ، وَاسْتَعْذَبُوا مِنَ الْمَاءِ ، فَوَضَعُوهُ عَلَى أَبْوَابِ حُجَرِ رَسُولِ اللَّهِ ، فَبَعَثَهُمْ جَمِيعًا إِلَى بِئْرِ مَعُونَةَ ، فَاسْتُشْهِدُوا ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتَلَتِهِمْ أَيَّامًا"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ نوجوان، جنہیں قاری صاحبان کہا جاتا تھا، وہ مدینہ منورہ کے کنارے پر رہتے تھے، ان کے گھر والے یہ سمجھتے تھے کہ وہ مسجد میں ہوں گے اور مسجد والے یہ سمجھتے تھے کہ وہ گھر پر ہوں گے، وہ لوگ رات کے وقت نوافل ادا کرتے رہتے تھے اور جب صبح قریب آتی تھی تو وہ لکڑیاں چنا کرتے تھے اور میٹھا پانی حاصل کرتے تھے اور یہ چیزیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجروں کے دروازوں پر رکھ دیتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو بئر معونہ کی طرف بھیجا تھا، تو وہ وہاں سب شہید ہو گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قاتلوں کے خلاف کئی دن تک دعائے ضرر کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7263]

7264

Sahih Ibn Hibban #7264

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَصَابَنِي الْجَهْدُ ، فَأَرْسَلَ إِلَى نِسَائِهِ ، فَلَمْ يَجِدْ عِنْدَهُمْ شَيْئًا ، فَقَالَ : أَلا رَجُلٌ يُضَيِّفُهُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ؟ " ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَذَهَبَ إِلَى أَهْلِهِ ، فَقَالَ لامْرَأَتِهِ : ضَيْفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا تَدَّخِرِي عَنْهُ شَيْئًا ، فَقَالَتْ : وَاللَّهِ مَا عِنْدِي إِلا قُوتُ الصِّبْيَةِ ، قَالَ : فَإِذَا أَرَادَ الصِّبْيَةُ الْعَشَاءَ فَنَوِّمِيهِمْ ، وَتَعَالِي ، فَأَطْفِئِي السَّرَّاجَ ، وَنَطْوِي بُطُونَنَا اللَّيْلَةَ ، فَفَعَلَتْ ، ثُمَّ غَدَا الرَّجُلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ عَجِبَ اللَّهُ ، أَوْ ضَحِكَ اللَّهُ مِنْ فُلانٍ وَفُلانَةَ " ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے بھوک لاحق ہوئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف پیغام بھیجا، تو ان کے ہاں کچھ بھی موجود نہ تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کوئی شخص آج کی رات اس کو اپنا مہمان بنائے گا؟“ تو انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص کھڑا ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں (اسے اپنا مہمان بناؤں گا)۔ وہ شخص اپنی بیوی کے پاس گیا، اس نے اپنی بیوی سے کہا: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان ہے، تم اس کے حوالے سے کوئی چیز چھپا کر نہ رکھنا۔ اس عورت نے کہا: اللہ کی قسم! میرے پاس صرف بچوں کی خوراک جتنی چیز ہے۔ انصاری نے کہا: جب بچے رات کا کھانا کھانا چاہیں، تو تم ان کو سلا دینا، پھر تم چراغ بجھا دینا، آج رات ہم اپنا پیٹ لپیٹ لیں گے۔ اس عورت نے ایسا ہی کیا۔ اگلے دن وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کو فلاں مرد اور فلاں عورت کا طرزِ عمل اچھا لگا۔“ (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں:) ”کہ اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہوا“، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾ [سورة الحشر: 9] ”اور وہ لوگ اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ ان کو خود شدید ضرورت لاحق ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7264]

7265

Sahih Ibn Hibban #7265

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْجَرَادِيُّ بِالْمَوْصِلِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّالأَنْصَارَ كَرِشِي وَعَيْبَتِي ، وَإِنَّ النَّاسَ يَكْثِرُونَ وَيَقِلُّونَ ، فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ ، وَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک انصار میرے انتہائی قریبی ہیں۔ لوگ زیادہ ہوتے چلے جائیں گے اور یہ کم ہوتے چلے جائیں گے۔ تم ان میں سے اچھے لوگوں کی اچھائی کو قبول کرنا اور ان کے برے شخص کی برائی سے درگزر کرنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7265]

7266

Sahih Ibn Hibban #7266

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا عَاصِبًا رَأْسَهُ ، فَتَلَقَّاهُ ذَرَارِيُّ الأَنْصَارِ وَخَدَمُهُمْ مَا هُمْ بِوجُوهِ الأَنْصَارِ يَوْمَئِذٍ ، فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأُحِبُّكُمْ " ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّالأَنْصَارَ قَدْ قَضَوَا الَّذِي عَلَيْهِمْ ، وَبَقِيَ الَّذِي عَلَيْكُمْ ، فَأَحْسِنُوا إِلَى مُحْسِنِهِمْ ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے، آپ نے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی۔ آپ کے سامنے انصار کے کچھ بچے اور خدمت گزار آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، میں تم لوگوں سے محبت کرتا ہوں۔“ یہ بات آپ نے دو یا تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک انصار نے اس چیز کو ادا کر دیا ہے، جو ان کے ذمے لازم تھا، اور اب وہ چیز باقی رہ گئی ہے جو تمہارے ذمے لازم ہے، تو تم ان میں سے اچھے شخص کے ساتھ اچھائی کرنا اور ان کے برے شخص سے درگزر کرنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7266]