Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 64 · Chapter 2

The Book of the Prophet's Reports on the Virtues of the Companions, Their Men and Women, Mentioning Their Names, May Allah Be Pleased with Them All

Hadith 7267–7310

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

7267

Sahih Ibn Hibban #7267

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، وَعِدَّةٌ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا ضَرَّ امْرَأَةً نَزَلَتْ بَيْنَ بَيْتَيْنِ مِنَ الأَنْصَارِ ، أَوْ نَزَلَتْ بَيْنَ أَبَوَيْهَا"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایسی عورت کو کوئی نقصان لاحق نہیں ہوتا جو انصار کے دو گھرانوں کے درمیان ٹھہرتی ہے یا اپنے ماں باپ کے ہاں ٹھہرتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7267]

7268

Sahih Ibn Hibban #7268

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ ، فَأَعْطَى الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ ، وَعُيَيْنَةَ بْنَ بَدْرٍ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ ، وَذَكَرَ نَفَرًا مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تُعْطِي غَنَائِمَنَا قَوْمًا تَقْطُرُ سُيُوفُنَا مِنْ دِمَائِهِمْ ، أَوْ تَقْطُرُ دِمَاؤُهُمْ فِي سُيُوفِنَا ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ ، فَجَمَعَ الأَنْصَارَ ، فَقَالَ : هَلْ فِيكُمْ غَيْرُكُمْ ؟ " ، فَقَالُوا : لا ، غَيْرَ ابْنِ أُخْتِنَا ، قَالَ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ " ، ثُمَّ قَالَ : " يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، أَمَا تَرْغَبُونَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا أَوْ بِالشَّاءِ وَالإِبِلِ ، وَتَذْهَبُونَ بِمُحَمَّدٍ إِلَى دِيَارِكُمْ ؟ " ، قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ،لَوْ أَخَذَ النَّاسُ وَادِيًا ، وَأَخَذَ الأَنْصَارُ شِعْبًا ، لأَخَذْتُ شِعْبَ الأَنْصَارِ ، الأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي ، وَلَوْلا الْهِجْرَةُ ، لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الأَنْصَارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کا مالِ غنیمت تقسیم کیا، آپ نے اقرع بن حابس کو ایک سو اونٹ دیے، عیینہ بن بدر کو ایک سو اونٹ دیے، پھر سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے انصار کے ایک گروہ کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہا کہ ان لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے ہمارا مالِ غنیمت ان لوگوں کو دے دیا جن کے خون ہماری تلواروں سے ٹپک رہے ہیں (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں:) ان کا خون ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے۔ اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی، تو آپ نے انصار کو اکٹھا کیا، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے درمیان تمہارے علاوہ کوئی اور ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: جی نہیں، صرف ہمارا ایک بھانجا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قوم کا بھانجا ان کا حصہ ہوتا ہے۔“ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”اے انصار کے گروہ! کیا تم اس بات میں دلچسپی نہیں رکھتے کہ لوگ دنیاوی چیزیں، بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے علاقے میں لے جاؤ؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں محمد کی جان ہے، اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری گھاٹی میں جائیں، تو میں انصار کی گھاٹی کو اختیار کروں گا۔ انصار میرے انتہائی قریبی ہیں، اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7268]

7269

Sahih Ibn Hibban #7269

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْلا الْهِجْرَةُ ، لَكُنْتُ امرءاًً مِنَ الأَنْصَارِ ، وَلَوْ يَنْدَفِعُ النَّاسُ شِعْبًا ، وَالأَنْصَارُ فِي شِعْبِهِمْ ، لانْدَفَعْتُ مَعَ الأَنْصَارِ فِي شِعْبِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا۔ اگر لوگ ایک گھاٹی میں ہوں اور انصار دوسری گھاٹی میں ہوں تو میں انصار کے ساتھ ان کی گھاٹی میں ہوں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7269]

7270

Sahih Ibn Hibban #7270

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءً وَصِبْيَانًا مِنَ الأَنْصَارِ مُقْبِلِينَ مِنَ الْعُرْسِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ : أَنْتُمْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مُعَوَّلُ هَذِهِ الأَخْبَارِ كُلِّهَا عَلَى " مِنْ " فَحُذِفَ " مِنْ " مِنْهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی کچھ خواتین اور بچوں کو شادی سے واپس آتے ہوئے دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان تمام روایات میں لفظ «مِنْهَا» محذوف شمار ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7270]

7271

Sahih Ibn Hibban #7271

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمَيْدًا ، وَذَكَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ ، فَتَلَقَّتْهُ الأَنْصَارُ بِوُجُوهِهِمْ وَفِتْيَانِهِمْ ، فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ،إِنِّي لأُحِبُّكُمْ ، إِنَّ الأَنْصَارَ قَدْ قَضَوُا الَّذِي عَلَيْهِمْ ، وَبَقِيَ الَّذِي عَلَيْكُمْ ، فَأَحْسِنُوا إِلَى مُحْسِنِهِمْ ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ انصار کو اور ان کے نوجوانوں کو سامنے سے آتے ہوئے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، میں تم لوگوں سے محبت کرتا ہوں۔ بے شک انصار نے اس چیز کو ادا کر دیا جو ان کے ذمے لازم تھی۔ اب وہ چیز باقی رہ گئی ہے جو تم لوگوں کے ذمے لازم ہے، تو تم ان کے اچھے شخص کے ساتھ اچھائی کرو اور ان کے برے شخص سے درگزر کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7271]

7272

Sahih Ibn Hibban #7272

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، وَالْحَوْضِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ أَحَبَّ الأَنْصَارَ ، فَقَدْ أَحَبَّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، وَمَنْ أَبْغَضَ الأَنْصَارَ ، فَقَدْ أَبْغَضَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، لا يُحِبُّهُمْ إِلا مُؤْمِنٌ ، وَلا يُبْغِضُهُمْ إِلا مُنَافِقٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص انصار سے محبت کرے گا اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کریں گے، اور جو شخص انصار سے بغض رکھے گا اللہ اور اس کا رسول اس سے بغض رکھیں گے۔ ان سے محبت صرف مومن کرے گا اور ان سے بغض صرف منافق رکھے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7272]

7273

Sahih Ibn Hibban #7273

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ سَعْدِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ زِيَادٍ ، صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَحَبَّ الأَنْصَارَ ، أَحَبَّهُ اللَّهُ يَوْمَ يَلْقَاهُ ، وَمَنْ أَبْغَضَ الأَنْصَارَ ، أَبْغَضَهُ اللَّهُ يَوْمَ يَلْقَاهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا حارث بن زیاد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص انصار سے محبت رکھے گا، اللہ تعالیٰ بھی اس دن اس شخص سے محبت کرے گا جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا اور جو شخص انصار سے بغض رکھے گا، اللہ تعالیٰ اس دن اس شخص سے ناراض ہو گا جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7273]

7274

Sahih Ibn Hibban #7274

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يُبْغِضُ الأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والا کوئی شخص انصار سے بغض نہیں رکھے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7274]

7275

Sahih Ibn Hibban #7275

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ عُمَرَ الْخَطَّابِيُّ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ لِلأَنْصَارِ بِالْبَحْرَيْنِ ، فَقَالُوا : لا ، حَتَّى تَكْتُبَ لأَصْحَابِنَا مِنْ قُرَيْشٍ مِثْلَ ذَلِكَ ، قَالَ : إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بحرین کی جاگیریں عطا کرنے کا ارادہ کیا۔ انہوں نے کہا: جی نہیں، جب تک آپ قریش سے تعلق رکھنے والے ہمارے ساتھیوں کو اس کی مانند عطا نہیں کرتے (ہم اسے قبول نہیں کریں گے)، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم عنقریب میرے بعد ترجیحی سلوک پاؤ گے، تو تم صبر سے کام لینا، یہاں تک کہ حوض کوثر پر تمہاری ملاقات مجھ سے ہو جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7275]

7276

Sahih Ibn Hibban #7276

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ الأَنْصَارَ الْبَحْرَيْنِ ، أَوْ قَالَ : طَائِفَةً مِنْهَا ، فَقَالُوا : لا ، حَتَّى تُقْطِعَ إِخْوَانَنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مِثْلَ الَّذِي أَقْطَعْتَنَا ، قَالَ : أَمَاإِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار رضی اللہ عنہم کو بحرین میں جاگیریں عطا کیں (یا راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) انصار رضی اللہ عنہم میں سے کچھ افراد کو جاگیریں عطا کیں۔ انہوں نے عرض کی: جی نہیں! جب تک آپ ہمارے مہاجر بھائیوں رضی اللہ عنہم کو اسی کی مانند عطا نہیں کرتے، جس طرح آپ نے ہمیں عطا کیا ہے، ہم اس وقت تک اسے قبول نہیں کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ میرے بعد ترجیحی سلوک کا سامنا کرو گے، تو تم لوگ صبر سے کام لینا، یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7276]

7277

Sahih Ibn Hibban #7277

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أَتَى أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ الأَشْهَلِيُّ النَّقِيبُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ لَهُ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الأَنْصَارِ فِيهِمْ حَاجَةٌ ، قَالَ : وَقَدْ كَانَ قَسَمَ طَعَامًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَرَكْتَنَا حَتَّى ذَهَبَ مَا فِي أَيْدِينَا ، فَإِذَا سَمِعْتَ بِشَيْءٍ قَدْ جَاءَنَا ، فَاذْكُرْ لِي أَهْلَ الْبَيْتِ " ، قَالَ : فَجَاءَهُ بَعْدَ ذَلِكَ طَعَامٌ مِنْ خَيْبَرَ : شَعِيرٌ وَتَمْرٌ ، قَالَ : وَجُلُّ أَهْلِ ذَلِكَ الْبَيْتِ نِسْوَةٌ ، قَالَ : فَقَسَمَ فِي النَّاسِ ، وَقَسَمَ فِي الأَنْصَارِ ، فَأَجْزَلَ ، وَقَسَمَ فِي أَهْلِ ذَلِكَ الْبَيْتِ ، فَأَجْزَلَ ، فَقَالَ لَهُ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ يَشْكُرُ لَهُ : جَزَاكَ اللَّهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ عَنَّا أَطْيَبَ الْجَزَاءِ أَوْ قَالَ : خَيْرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأَنْتُمْ مَعْشَرَ الأَنْصَارِ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ أَطْيَبَ الْجَزَاءِ أَوْ قَالَ : خَيْرًا مَا عَلِمْتُكُمْ ، أَعِفَّةٌ صُبُرٌ ، وَسَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فِي الأَمْرِ وَالْعَيْشِ ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا اسید بن حضیر اشہلی رضی اللہ عنہ (جو اپنے قبیلے) کے سردار تھے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے انصار کے کچھ گھرانوں کے ضرورت مند ہونے کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے کچھ اناج تقسیم کر چکے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نے اس وقت ہمیں ذکر نہیں کیا یہاں تک کہ ہمارے پاس موجود سب کچھ ختم ہو گیا، جب تمہیں اطلاع ملے کہ ہمارے پاس کچھ چیز آئی ہے تم پھر ان گھرانوں کے بارے میں مجھے یاد کرا دینا۔“ (راوی بیان کرتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خیبر سے کچھ اناج آیا جس میں جو اور کھجوریں بھی تھیں۔ راوی بیان کرتا ہے: اس گھرانے میں زیادہ تر خواتین تھیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اناج لوگوں میں تقسیم کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اناج انصار میں تقسیم کیا، اچھی طرح تقسیم کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گھرانے کے لوگوں میں اسے تقسیم کیا، انہیں اچھی طرح دیا، تو سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: اے اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ آپ کو ہماری طرف سے پاکیزہ ترین (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) سب سے بہتر جزا عطا کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے انصار کے گروہ! اللہ تعالیٰ تمہیں بھی سب سے زیادہ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) بہتر جزا عطا کرے، مجھے تمہارے بارے میں یہ بات پتہ ہے تم مانگنے سے بچتے ہو اور صبر سے کام لیتے ہو۔ عنقریب تم میرے بعد حکومت اور زندگی کے دیگر معاملات میں اپنے ساتھ ترجیحی سلوک دیکھو گے، تو تم صبر سے کام لینا، یہاں تک کہ حوض کوثر پر تمہاری ملاقات مجھ سے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7277]

7278

Sahih Ibn Hibban #7278

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَاسًا مِنَ الأَنْصَارِ قَالُوا يَوْمَ حُنَيْنٍ حِينَ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ مَا أَفَاءَ ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي رِجَالا مِنْ قُرَيْشٍ الْماِئَةَ مِنَ الإِبِلِ ، فَقَالُوا : يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ ، قَالَ أَنَسٌ : فَحَدَّثْتُ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَوْلِهِمْ ، فَأَرْسَلَ إِلَى الأَنْصَارِ ، فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَاءَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ ؟ " ، فَقَالَ لَهُ قَوْمٌ مِنَ الأَنْصَارِ : أَمَّا ذَوُو أَسْنَانِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا ، وَأَمَّا نَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ ، فَقَالُوا : يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ يُعْطِي أُنَاسًا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" إِنِّي أُعْطِي رِجَالا حَدِيثِي عَهْدٍ بِالْكُفْرِ أَتَأَلَّفُهُمْ ، أَفَلا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالأَمْوَالِ ، وَتَرْجِعُونَ إِلَى رِحَالِكُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ ؟ فَوَاللَّهِ لَمَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ " ، فَقَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ رَضِينَا ، قَالَ : " فَإِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ أَثَرَةً شَدِيدَةً ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلَقَوَا اللَّهَ وَرَسُولَهُ عَلَى الْحَوْضِ "، قَالُوا : سَنَصْبِرُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ حنین کے موقع پر کچھ انصاریوں نے یہ کہا: جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ہوازن کے مال میں سے مالِ فے عطا کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے کچھ لوگوں کو ایک سو اونٹ دیے۔ انصاریوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی مغفرت کرے، انہوں نے قریش کو دے دیا ہے اور ہمیں نہیں دیا، حالانکہ ہماری تلواروں سے ان کا خون ٹپک رہا ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو پیغام بھجوایا اور آپ نے انہیں چمڑے سے بنے ہوئے ایک خیمے میں اکٹھا کیا، جب وہ سب اکٹھے ہو گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”تمہارے حوالے سے یہ کیا بات ہے جو مجھ تک پہنچی ہے؟“ انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے آپ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارے عمر رسیدہ افراد میں سے کسی نے یہ بات نہیں کی، البتہ ہمارے کچھ کم عمر لوگوں نے یہ بات کہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی مغفرت کرے، انہوں نے کچھ لوگوں کو عطیات دے دیے ہیں حالانکہ ان لوگوں کا خون ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے ایسے لوگوں کو عطیات دیے ہیں جو زمانہ کفر سے قریب ترین ہیں تاکہ میں ان کی تالیفِ قلب کروں، کیا تم لوگ اس بات سے راضی نہیں ہو کہ لوگ اموال لے جائیں اور تم اپنے رہائش کی جگہ پر اللہ کے رسول کو لے جاؤ؟ اللہ کی قسم! تم لوگ جس چیز کو لے کر واپس جاؤ گے وہ اس سے زیادہ بہتر ہے جسے وہ لے کر واپس جائیں گے۔“ ان لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ! ہم اس سے راضی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم عنقریب انتہائی شدید ترجیحی سلوک پاؤ گے، تو تم صبر سے کام لینا، یہاں تک کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں حوضِ کوثر پر آ جاؤ۔“ تو ان لوگوں نے عرض کی: ہم صبر سے کام لیں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7278]

7279

Sahih Ibn Hibban #7279

وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ أَثَرَةً بَعْدِي "، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَسَمَ حُلَلا بَيْنَ النَّاسِ ، فَبَعَثَ إِلَيَّ مِنْهَا بِحُلَّةٍ ، فَاسْتَصْغَرْتُهَا ، فَأَعْطَيْتُهَا ابْنِي ، فَبَيْنَا أَنَا أُصَلِّي إِذْ مَرَّ بِي شَابٌّ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَيْهِ حُلَّةٌ مِنْ تِلْكَ الْحُلَلِ يَجُرُّهَا ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً " ، فَقُلْتُ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، فَانْطَلَقَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ ، فَأَخْبَرَهُ ، فَجَاءَ وَأَنَا أُصَلِّي ، فَقَالَ : يَا أُسَيْدُ ، فَلَمَّا قَضَيْتُ صَلاتِي قَالَ : كَيْفَ قُلْتَ ؟ فَأَخْبَرْتُهُ ، قَالَ : تِلْكَ حُلَّةٌ بَعَثْتُ بِهَا إِلَى فُلانِ بْنِ فُلانٍ وَهُوَ بَدْرِيٌّ أُحُدِيٌّ عَقَبِيٌّ ، فَأَتَاهُ هَذَا الْفَتَى ، فَابْتَاعَهَا مِنْهُ فَلَبِسَهَا ، أَفَظَنَنْتَ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ فِي زَمَانِي ؟ قُلْتُ : قَدْ وَاللَّهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ظَنَنْتُ أَنَّ ذَاكَ لا يَكُونُ فِي زَمَانِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمود بن لبید رحمہ اللہ، ابن شفیع رحمہ اللہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، جو ایک طبیب تھے، وہ کہتے ہیں: سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلوایا، میں نے ان کے «عِرْقُ النِّسَاءِ» (عرق النساء) کا علاج کیا، تو انہوں نے مجھے دو حدیثیں سنائیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ ایک مرتبہ میری قوم کے دو گھرانوں سے تعلق رکھنے والے لوگ میرے پاس آئے، ایک گھرانے کا تعلق بنو ظفر سے تھا اور ایک گھرانے کا تعلق بنو معاویہ سے تھا، انہوں نے کہا: آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں بات چیت کیجیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بھی تقسیم میں سے کچھ دیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) کہ ہمیں کچھ عطا کریں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں بات کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے، میں ان میں سے ہر ایک گھرانے کو ایک ایک حصہ دے دوں گا، اگر اللہ نے ہمیں دوبارہ فتوحات دیں، تو ہم انہیں عطیات دیں گے۔“ اس پر میں نے عرض کی: «جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ» ”اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے اے اللہ کے رسول!“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو بھی جزائے خیر دے، کیونکہ تم لوگوں کے بارے میں مجھے علم ہے کہ تم مانگنے سے بچتے ہو اور صبر سے کام لیتے ہو۔“ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”تم لوگ میرے بعد ترجیحی سلوک پاؤ گے۔“ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو انہوں نے کچھ حلے لوگوں کے درمیان تقسیم کیے، انہوں نے ان میں سے ایک حلہ مجھے بھی بھجوایا، مجھے وہ چھوٹا محسوس ہوا تو وہ میں نے اپنے والد کو دے دیا۔ ایک دن میں نماز پڑھ رہا تھا، میرے پاس سے قریش سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان گزرا جس نے اسی قسم کا ایک حلہ پہنا ہوا تھا اور وہ اسے زمین پر گھسیٹ رہا تھا (یعنی اس کے پاس کپڑا زیادہ تھا) تو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد آ گیا: ”عنقریب تم میرے بعد ترجیحی سلوک پاؤ گے“، تو میں نے کہا: «صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ» ”اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا ہے“۔ پھر ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور انہیں اس بارے میں بتایا، وہ تشریف لائے جبکہ میں اس وقت نماز ادا کر رہا تھا۔ انہوں نے فرمایا: اے اسید! جب میں نے نماز مکمل کر لی تو انہوں نے دریافت کیا: تم نے کیا کہا تھا؟ میں نے انہیں اس بارے میں بتایا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ ایک ایسا حلہ تھا جو میں نے فلاں بن فلاں کی طرف بھیجا تھا، جس نے غزوہ احد میں بھی شرکت کی ہے، غزوہ بدر میں بھی شرکت کی ہے اور بیعت عقبہ میں بھی شرکت کی ہے، پھر وہ نوجوان ان صاحب کے پاس گیا اور اس نے ان صاحب سے وہ حلہ خرید کر پہن لیا، کیا تم یہ گمان کر رہے تھے کہ ایسا میرے زمانے میں ہو گا (یعنی میرے زمانے میں انصار سے ترجیحی سلوک ہو گا؟) تو میں نے کہا: اللہ کی قسم اے امیر المؤمنین! میرا تو یہ گمان تھا کہ یہ آپ کے زمانے میں نہیں ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7279]

7280

Sahih Ibn Hibban #7280

أَخْبَرَنَا أَبُو قُرَيْشٍ مُحَمَّدُ بْنُ جُمُعَةَ الأَصَمُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلاسُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلأَنْصَارِ ، وَلأَبْنَاءِ الأَنْصَارِ ، وَلأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الأَنْصَارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ» ”اے اللہ! انصار کی، انصار کے بچوں کی، انصار کے بچوں کے بچوں کی مغفرت کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7280]

7281

Sahih Ibn Hibban #7281

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ : كَتَبَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يُعَزِّيهِ بِوَلَدِهِ وَأَهْلِهِ الَّذِينَ أُصِيبُوا يَوْمَ الْحَرَّةِ ، فَكَتَبَ فِي كِتَابِهِ : وَإِنِّي مُبَشِّرُكَ بِبُشْرَى مِنَ اللَّهِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلأَنْصَارِ ، وَلأَبْنَاءِ الأَنْصَارِ ، وَلأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الأَنْصَارِ ، وَلِنَسَاءِ الأَنْصَارِ ، وَلِنَسَاءِ أَبْنَاءِ الأَنْصَارِ ، وَلِنَسَاءِ أَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الأَنْصَارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبکر بن انس بیان کرتے ہیں کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو خط لکھا جس میں ان کی اس اولاد اور اہل خانہ کے بارے میں تعزیت کی جو واقعہ حرہ میں شہید ہو گئے تھے، انہوں نے اپنے خط میں یہ بات تحریر کی: میں آپ کو اس چیز کی بشارت دیتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِنِسَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِنِسَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِنِسَاءِ أَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ» ”اے اللہ! انصار کی، انصار کے بیٹوں کی، انصار کے بیٹوں کے بیٹوں کی، انصار کی خواتین (بیویوں) کی، انصار کے بیٹوں کی خواتین (بیویوں) کی، انصار کے بیٹوں کے بیٹوں کی خواتین (بیویوں) کی مغفرت کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7281]

7282

Sahih Ibn Hibban #7282

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ الرُّومِيِّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلأَنْصَارِ ، وَلِذَرَارِيِّ الأَنْصَارِ ، وَلِذَرَارِيِّ ذَرَارِيَّهُمْ ، وَلِمَوَالِي الأَنْصَارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِمَوَالِي الْأَنْصَارِ» ”اے اللہ! انصار کی، انصار کے بچوں کی، انصار کے بچوں کے بچوں کی، انصار کے غلاموں کی مغفرت کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7282]

7283

Sahih Ibn Hibban #7283

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ هَارُونَ الأَنْصَارِيِّ ، حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلأَنْصَارِ ، وَلِذَرَارِيِّ الأَنْصَارِ ، وَلِذَرَارِيِّ ذَرَارِيَّهُمْ ، وَلِمَوَالِيهِمْ وَلِجِيرَانِهِمْ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے اللہ! انصار کی، انصار کے بچوں کی، انصار کے بچوں کے بچوں کی، ان کے غلاموں کی اور ان کے پڑوسیوں کی مغفرت کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7283]

7284

Sahih Ibn Hibban #7284

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دِيَارِ الأَنْصَارِ ؟ " ، قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " دِيَارُ بَنِي النَّجَّارِ ، ثُمَّ دِيَارُ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ ، ثُمَّ دِيَارُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، ثُمَّ دِيَارُ بَنِي سَاعِدَةَ ، ثُمَّ فِي كُلِّ دِيَارِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تم کو انصار کے سب سے بہتر گھرانے کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنو نجار کا گھرانہ، پھر بنو عبد الاشہل کا گھرانہ، پھر بنو حارث بن خزرج کا گھرانہ، پھر بنو ساعدہ کا گھرانہ، ویسے انصار کے ہر گھرانے میں بھلائی موجود ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7284]

7285

Sahih Ibn Hibban #7285

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَلا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الأَنْصَارِ ؟ " ، قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " دَارُ بَنِي النَّجَّارِ ، ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ ، ثُمَّ دَارُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ ، وَفِي كُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کیا میں تمہیں انصار کے بہترین گھرانے کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ لوگوں نے عرض کی: ”جی ہاں، یا رسول اللہ!“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنو نجار کا گھرانہ، پھر بنو عبدالأشہل کا گھرانہ، پھر بنو حارث بن خزرج کا گھرانہ، پھر بنو ساعدہ کا گھرانہ، ویسے انصار کے ہر گھرانے میں بھلائی موجود ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7285]

7286

Sahih Ibn Hibban #7286

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أنهما سمعا أبا هريرة ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الأَنْصَارِ ؟ " ، قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " دَارُ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ ، وَهُمْ رَهْطُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ " ، قَالُوا : ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " ثُمَّ بَنُو النَّجَّارِ " ، قَالُوا : ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ " ، قَالُوا : ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ " ، قَالُوا : ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " فِي كُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ "، فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ ، فَقَالَ : ذَكَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرَ أَرْبَعَةِ أَدْوُرٍ لأُكَلِّمَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : أَمَا تَرْضَى أَنْ يَذْكُرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرَ الأَرْبَعَةِ ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الأَنْصَارِ أَكْثَرَ مِمَّنْ ذَكَرَ ، قَالَ : فَرَجَعَ سَعْدٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تم لوگوں کو انصار کے بہترین گھرانوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنو عبدالاشہل کا گھرانہ“ (یہ لوگ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا خاندان تھے)۔ لوگوں نے عرض کی: پھر کون ہیں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر بنو نجار ہیں۔“ لوگوں نے عرض کی: پھر کون ہیں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر بنو حارث بن خزرج ہیں۔“ لوگوں نے دریافت کیا: پھر کون ہیں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر بنو ساعدہ ہیں۔“ لوگوں نے دریافت کیا: پھر کون ہیں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار کے تمام گھرانوں میں بھلائی موجود ہے۔“ اس بات کی اطلاع سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو ملی، تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا ذکر کرتے ہوئے چار گھرانوں میں سب سے آخر میں ذکر کیا ہے، میں اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ضرور بات کروں گا، تو ایک شخص نے ان سے کہا: کیا آپ اس بات سے راضی نہیں ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا ذکر چار گھرانوں کے آخر میں ہی کر دیا ہے؟ حالانکہ اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے جتنے گھرانوں کا ذکر کیا ہے، ان سے زیادہ گھرانوں کا ذکر ترک کیا ہے۔ اس پر سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ باز آ گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7286]

7291

Sahih Ibn Hibban #7291

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : غِفَارُ ، وَأَسْلَمُ ، وَمُزَيْنَةُ وَمَنْ كَانَ مِنْ جُهَيْنَةَ خَيْرٌ مِنَ الْحَلِيفَيْنِ غَطَفَانَ ، وَأَسَدٍ ، وَهَوَازِنُ ، وَتَمِيمٌ دُونَهُمْ ، فَإِنَّهُمْ أَهْلُ الْخَيْلِ وَالْوَبَرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”غفار، اسلم، مزینہ اور جہینہ قبیلے سے جو بھی تعلق رکھتا ہو، یہ لوگ دو حریف قبیلوں غطفان اور بنو اسد سے بہتر ہیں، جبکہ ہوازن اور تمیم ان سے کم درجے کے ہیں کیونکہ وہ لوگ گھوڑے پالتے ہیں اور ویرانوں میں رہتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7291]

7292

Sahih Ibn Hibban #7292

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : جَاءَ وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُمْ : أَبْشِرُوا يَا بَنِي تَمِيمٍ " ، قَالُوا : بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَجَاءَ وَفْدُ أَهْلِ الْيَمَنِ ، فَقَالَ لَهُمْ :" أَبْشِرُوا يَا أَهْلَ الْيَمَنِ ، إِذْ لَمْ يَقْبَلِ الْبُشْرَى بَنُو تَمِيمٍ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو تمیم کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے بنو تمیم! تم خوش خبری قبول کرو۔“ انہوں نے عرض کی: آپ ہمیں خوش خبری دے چکے ہیں، اب آپ ہمیں (مال و دولت) دیجیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک تبدیل ہو گیا، پھر اہل یمن کا وفد آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اہل یمن! تم لوگ خوش خبری قبول کرو کیونکہ بنو تمیم نے اس خوش خبری کو قبول نہیں کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7292]

7293

Sahih Ibn Hibban #7293

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَرَجُلانِ مِنْ بَنِي عَامِرٍ ، فَقَالَ : مَنْ أَنْتُمْ ؟ " ، فَقُلْنَا : مِنْ بَنِي عَامِرٍ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَرْحَبًا بِكُمْ أَنْتُمْ مِنِّي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عون بن ابوجحیفہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میرے ساتھ بنو عامر سے تعلق رکھنے والے دو افراد بھی تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم کون ہو؟“ ہم نے عرض کی: ہم بنو عامر سے تعلق رکھتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں کو خوش آمدید! تم مجھ سے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7293]

7294

Sahih Ibn Hibban #7294

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زِمَامٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ، حَدَّثَنَا شُبَيْلُ بْنُ عَزْرَةَ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرُ أَهْلِ الْمَشْرِقِ عَبْدُ الْقَيْسِ ، أَسْلَمَ النَّاسُ كَرْهًا ، وَأَسْلَمُوا طَائِعِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اہلِ مشرق میں سب سے بہتر عبدالقیس قبیلے کے لوگ ہیں۔ دوسرے لوگوں نے زبردستی اسلام قبول کیا اور ان لوگوں نے اپنی خوشی سے اسلام قبول کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7294]

7295

Sahih Ibn Hibban #7295

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ غَيْرَ خَزَايَا وَلا نَادِمِينَ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ مُضَرَ ، وَإِنَّا لا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلا فِي الأَشْهُرِ الْحُرُمِ ، فَحَدِّثْنَا عَمَلا مِنَ الأَجْرِ إِذَا أَخَذْنَا بِهِ ، دَخَلْنَا الْجَنَّةَ ، وَنَدْعُوا إِلَيْهِ مِنْ وَرَاءِنَا ، فَقَالَ :" آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ : الإِيمَانُ بِاللَّهِ " ، قَالَ : " وَهَلْ تَدْرُونَ مَا الإِيمَانُ بِاللَّهِ ؟ " ، قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " شَهَادَةُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَإِقَامُ الصَّلاةِ ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ ، وَتُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْغَنَائِمِ ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ النَّبِيذِ فِي الدُّبَّاءِ ، وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عبدالقیس قبیلے کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس وفد کو خوش آمدید جو کسی رسوائی اور ندامت کے بغیر ہو۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے اور آپ کے درمیان مضر قبیلے سے تعلق رکھنے والے مشرکین رہتے ہیں، اس لیے ہم صرف حرمت والے مہینوں میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو سکتے ہیں، آپ اجر کے حوالے سے ہمیں کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیے کہ جب ہم اسے اختیار کریں تو ہم جنت میں داخل ہو جائیں اور ہم اپنے پیچھے لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں: اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم یہ بات جانتے ہو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے سے مراد کیا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت میں سے خمس ادا کرنا، اور میں تمہیں «الدُّبَّاءُ» (دباء) میں نبیذ تیار کرنے، «النَّقِيرُ» (نقیر)، «الْحَنْتَمُ» (حنتم)، «الْمُزَفَّتُ» (مزفت) (میں نبیذ تیار کرنے یا ان برتنوں کو استعمال کرنے سے) منع کرتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7295]

7296

Sahih Ibn Hibban #7296

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : غِلَظُ الْقُلُوبِ وَالْجَفَاءُ فِي الْمَشْرِقِ ، وَالإِيمَانُ فِي أَرْضِ الْحِجَازِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”دل کی سختی اور وعدہ خلافی مشرق میں پائی جاتی ہے، جبکہ ایمان حجاز کی سرزمین پر پایا جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7296]

7297

Sahih Ibn Hibban #7297

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً ، الإِيمَانُ يَمَانٍ ، وَالْفِقْهُ يَمَانٍ ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَّةٌ ، وَالْفَخْرُ ، وَالْخُيَلاءُ فِي أَصْحَابِ الإِبِلِ ، وَالْوَقَارُ فِي أَصْحَابِ الْغَنَمِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اہلِ یمن تمہارے پاس آئے ہیں، وہ نرم دلوں کے مالک ہیں۔ ایمان یمانی ہے، سمجھ بوجھ یمانی ہے، حکمت (دانائی) یمانی ہے، جبکہ اونٹ پالنے والوں میں فخر اور تکبر کے جذبات پائے جاتے ہیں جبکہ بکریاں پالنے والوں میں وقار پایا جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7297]

7298

Sahih Ibn Hibban #7298

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادٍ بِبُسْتٍ أَبُو عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ إِذْ قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ ، وَجَاءَ الْفَتْحُ ، وَجَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ ، قَوْمٌ نَقِيَّةٌ قُلُوبُهُمْ لَيِّنَةٌ طَاعَتُهُمْ ، الإِيمَانُ يَمَانٍ ، وَالْفِقْهُ يَمَانٍ ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَّةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں موجود تھے، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اَللّٰهُ أَکْبَرُ، اَللّٰهُ أَکْبَرُ» ”اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ کی مدد آ گئی ہے، فتح آ گئی ہے۔ اہل یمن آ گئے ہیں، یہ ایسے لوگ ہیں جن کے دل صاف ستھرے ہیں، ان کی فرمانبرداری نرم ہے، ایمان یمانی ہے، سمجھ بوجھ یمانی ہے اور دانائی یمانی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7298]

7299

Sahih Ibn Hibban #7299

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الإِيمَانُ يَمَانٍ ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَّةٌ ، وَرَأْسُ الْكُفْرِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایمان یمانی ہے، دانائی یمانی ہے اور کفر کا سرا مشرق کی طرف ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7299]

7300

Sahih Ibn Hibban #7300

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : جَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً ، الإِيمَانُ يَمَانٍ ، وَالْفِقْهُ يَمَانٍ ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَّةٌ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اہل یمن آ گئے ہیں، جو انتہائی نرم دل رکھتے ہیں، ایمان یمانی ہے، سمجھ بوجھ یمانی ہے اور دانائی یمانی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7300]

7301

Sahih Ibn Hibban #7301

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ بْنِ بِنْتِ أَزْهَرَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَدِّي ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا " ، قَالُوا : وَفِي نَجْدِنَا ، قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا " ، قَالُوا : وَفِي نَجْدِنَا ، قَالَ : " هُنَالِكَ الزَّلازِلُ وَالْفِتَنُ وَبِهَا " ، أَوْ قَالَ : " مِنْهَا يَخْرُجُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأْمِنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا» ”اے اللہ! ہمارے شام میں ہمارے لیے برکت نصیب کر، ہمارے یمن میں ہمارے لیے برکت نصیب کر۔“ لوگوں نے عرض کی: ہمارے نجد کے بارے میں بھی (دعا کیجیے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأْمِنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا» ”اے اللہ! ہمارے شام میں ہمارے لیے برکت رکھ دے، ہمارے لیے ہمارے یمن میں برکت رکھ دے۔“ لوگوں نے عرض کی: ہمارے نجد کے بارے میں (بھی دعا کیجیے)۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہاں زلزلے اور فتنے ہوں گے اور وہاں سے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) اس جگہ سے شیطان کا سینگ نکلے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7301]

7302

Sahih Ibn Hibban #7302

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا فَسَدَ أَهْلُ الشَّامِ ، فَلا خَيْرَ فِيكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معاویہ بن قرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب اہل شام خراب ہو جائیں گے، تو تمہارے درمیان بھلائی نہیں رہے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7302]

7303

Sahih Ibn Hibban #7303

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، 25 عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا فَسَدَ أَهْلُ الشَّامِ ، فَلا خَيْرَ فِيكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاویہ بن قرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب اہل شام خراب ہو جائیں گے تو تمہارے درمیان بھلائی نہیں رہے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7303]

7304

Sahih Ibn Hibban #7304

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَذَكَرَ ابْنُ سَلْمٍ آخَرَ مَعَهُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنِ ابْنِ شِمَاسَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَنَحْنُ عِنْدَهُ : طُوبَى لِلشَّامِ " قُلَنَا : مَا بَالَهُ ؟ قَالَ : " إِنَّ مَلائِكَةَ الرَّحْمَنِ لَبَاسِطَةٌ أَجْنِحَتَهَا عَلَيْهِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : ابْنُ شِمَاسَةَ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيُّ مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ مِصْرَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شام کے لیے مبارکباد ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رحمٰن کے فرشتوں نے اپنے پر اس پر پھیلائے ہوئے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابن شماسہ نامی راوی عبدالرحمن بن شماسہ مہری ہے اور یہ اہل مصر کے ثقہ راویوں میں سے ایک ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7304]

7305

Sahih Ibn Hibban #7305

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَتَخْرُجُ عَلَيْكُمْ نَارٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ مِنْ حَضْرَمَوْتَ تَحْشُرُ النَّاسَ " ، قَالَ : قُلْنَا : بِمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَوَّلُ الشَّامِ بَالِسُ ، وَآخِرُهُ عَرِيشُ مِصْرَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”آخری زمانے میں حضرموت سے ایک آگ تم پر نکلے گی، جو لوگوں کو اکٹھا کر لے گی۔“ راوی کہتے ہیں: ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم شام میں رہنا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) شام کا آغاز بالس ہے اور اس کا اختتام عریشِ مصر ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7305]

7306

Sahih Ibn Hibban #7306

أَخْبَرَنَا مَكْحُولٌ بِبَيْرُوتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَكْحُولٌ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّكُمْسَتُجَنَّدُونَ أَجْنَادًا : جُنْدًا بِالشَّامِ ، وَجُنْدًا بِالْعِرَاقِ ، وَجُنْدًا بِالْيَمَنِ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خِرْ لِي ؟ قَالَ : " عَلَيْكَ بِالشَّامِ ، فَمَنْ أَبَى فَلْيَلْحَقْ بِيَمَنِهِ ، وَلْيَسْقِ مِنْ غُدَرِهِ ، فَإِنَّ اللَّهَ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم عنقریب کچھ لشکروں کو پاؤ گے۔ ایک لشکر شام میں ہو گا۔ ایک لشکر عراق میں ہو گا۔ ایک لشکر یمن میں ہو گا۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ میرے لیے کسی ایک کو اختیار کر لیجیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر شام کو اختیار کرنا لازم ہے، جو شخص نہیں مانتا وہ (لوگوں کی آبادی سے ہٹ کر ویرانوں میں) اپنی بھیڑ بکریوں کے ساتھ رہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شام اور اہل شام کے لیے مجھے ضمانت دی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7306]

7307

Sahih Ibn Hibban #7307

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ ، قَالَ : فُتِحَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتْحٌ ، فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سُيِّبَتِ الْخَيْلُ ، وَوَضَعُوا السِّلاحَ ، فَقَدْ وَضَعَتِ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ، وَقَالُوا : لا قِتَالَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَذَبُوا ، الآنَ جَاءَ الْقِتَالُ ،الآنَ جَاءَ الْقِتَالُ ، إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا يُزِيغُ قُلُوبَ أَقْوَامٍ يُقَاتِلُونَهُمْ ، وَيَرْزُقُهُمُ اللَّهُ مِنْهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَلَى ذَلِكَ ، وَعُقْرُ دَارِ الْمُؤْمِنِينَ الشَّامُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح نصیب ہوئی، تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ! گھوڑوں کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے اور ہتھیار رکھ دیے گئے ہیں اور جنگ ختم ہو چکی ہے اور لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اب لڑائی نہیں ہوگی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ غلط کہہ رہے ہیں۔ اب تو لڑائی کا وقت آیا ہے، اب تو لڑائی کا وقت آیا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کے دلوں کو ٹیڑھا کر دے گا جو ان لوگوں کے ساتھ لڑائی کرنے لگیں۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو رزق عطا کرتا رہے گا، یہاں تک کہ ایسی صورت پر اللہ تعالیٰ کا حکم آ جائے گا اور اہل ایمان کا ٹھکانہ اس وقت شام ہوگا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7307]

7308

Sahih Ibn Hibban #7308

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ : وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ، فَقَالَ رَجُلٌ : مَنْ هَؤُلاءِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَلَمْ يُجِبْهُ ، فَعَادَ وَمَضَى سَلْمَانُ ، فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَنْكِبِهِ ، وَقَالَ : لَوْ كَانَ الإِيمَانُ مُعَلَّقًا بِالثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهُ رِجَالٌ مِنْ قَوْمِ هَذَا"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ آپ پر یہ آیت: ﴿وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ﴾ [سورة الجمعة: 3] ”اور ان میں سے بعد میں آنے والے لوگ بھی ہیں، جو ان سے نہیں ملے ہیں۔“ نازل ہوئی۔ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ کون لوگ ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس شخص نے دوبارہ سوال دہرایا، اس دوران سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اگر ایمان ثریا (ستارے) پر لٹکا ہوا ہو تو اس کی قوم کے کچھ لوگ وہاں سے بھی اسے حاصل کر لیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7308]

7309

Sahih Ibn Hibban #7309

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ بِسْطَامٍ بِمَرْوٍ ، حَدَّثَنَا حِصْنُ بْنُ عَبْدِ الْحَلِيمِ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَوْ كَانَ الْعِلْمُ بِالثُّرَيَّا ، لَتَنَاوَلَهُ نَاسٌ مِنْ أَبْنَاءِ فَارِسٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اگر علم ثریا (ستارے) پر ہو، تو فارس کے کچھ لوگ وہاں تک بھی پہنچ جائیں گے۔“ (یا وہاں سے بھی اسے حاصل کر لیں گے) [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7309]

7310

Sahih Ibn Hibban #7310

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَازِعِ جَابِرُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا إِلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فِي شَيْءٍ ، لا أَدْرِي مَا قَالَ ، فَسَبُّوهُ وَضَرَبُوهُ ، فَرَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَا إِلَيْهِ ، فَقَالَ : لَكِنْ أَهْلُ عُمَانَ لَوْ أَتَاهُمْ رَسُولِي مَا سَبُّوهُ وَلا ضَرَبُوهُ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایک شخص کو عرب کے ایک قبیلے کی طرف بھیجا (مجھے نہیں پتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ارشاد فرمایا تھا)، ان لوگوں نے اس شخص کو برا بھلا کہا اور ان کی پٹائی کی، وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شکایت کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اہل عمان کے پاس میرا پیغام رساں آتا، تو وہ اسے برا نہ کہتے اور نہ ہی اس کی پٹائی کرتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7310]