Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 63 · Chapter 3

The Book of History

Hadith 7193–7226

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

7193

Sahih Ibn Hibban #7193

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ أَرَقُّ مِنْكُمْ قُلُوبًا "، فَقَدِمَ الأَشْعَرِيُّونَ ، وَفِيهِمْ أَبُو مُوسَى ، فَكَانُوا أَوَّلَ مَنْ أَظْهَرَ الْمُصَافَحَةَ فِي الإِسْلامِ ، فَجَعَلُوا حِينَ دَنَوَا الْمَدِينَةَ يَرْتَجِزُونَ وَيَقُولُونَ : غَدًا نَلْقَى الأَحِبَّةَ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے پاس کچھ لوگ آئیں گے جن کے دل انتہائی نرم ہوں گے۔“ تو اشعر قبیلے کے لوگ آ گئے، ان میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی تھے، یہ وہ پہلے لوگ ہیں جنہوں نے اسلام میں مصافحہ کرنے کا آغاز کیا۔ جب یہ لوگ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو یہ رجز پڑھ رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے: ”کل ہم اپنے محبوب لوگوں سے، یعنی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کریں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7193]

7194

Sahih Ibn Hibban #7194

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : خَرَجْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَحْرِ حَتَّى جِئْنَا مَكَّةَ ، وَإِخْوَتِي مَعِي فِي خَمْسِينَ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ وَسِتَّةٍ مِنْ عَكٍّ ، قَالَ أَبُو مُوسَى : فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّلِلنَّاسِ هِجْرَةً وَاحِدَةً وَلَكُمْ هِجْرَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ سمندری سفر پر روانہ ہوئے تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں، ہم لوگ مکہ آ گئے، میرے ساتھ اشعر قبیلے سے تعلق رکھنے والے پچاس ساتھی تھے اور عک قبیلے سے تعلق رکھنے والے چھ لوگ تھے۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمایا کرتے تھے: ”لوگوں نے ایک ہجرت کی ہے اور تم نے دو ہجرتیں کی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7194]

7195

Sahih Ibn Hibban #7195

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ قِرَاءَةَ أَبِي مُوسَى ، فَقَالَ : لَقَدْأُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا: ”اسے آل داؤد کی سی خوش الحانی عطا کی گئی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7195]

7196

Sahih Ibn Hibban #7196

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ قِرَاءَةَ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، فَقَالَ : قَدْأُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ "، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لأَبِي مُوسَى وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَجْلِسِ : يَا أَبَا مُوسَى ، ذَكِّرْنَا رَبَّنَا ، فَيَقْرَأُ عِنْدَهُ أَبُو مُوسَى وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَجْلِسِ وَيَتَلاحَنُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی تلاوت کو سنا تو فرمایا: ”اسے آلِ داؤد کی سی خوش الحانی عطا کی گئی ہے۔“ ابوسلمہ نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک محفل کے دوران سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے ابوموسیٰ! آپ ہمیں ہمارے پروردگار کی یاد دلائیں (یعنی قرآن کی تلاوت کیجئے)۔“ تو سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے تلاوت کرنا شروع کی، وہ اسی محفل میں بیٹھے ہوئے تھے اور وہ خوش الحانی کے ساتھ تلاوت کر رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7196]

7197

Sahih Ibn Hibban #7197

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالأُبُلَّةِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَرْمَكِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : اسْتَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَتِي مِنَ اللَّيْلِ ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ ، قَالَ يَا أَبَا مُوسَى ، اسْتَمَعْتُ قِرَاءَتَكَ اللَّيْلَةَ ، لَقَدْأُوتِيتَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ عَلِمْتُ مَكَانَكَ ، لَحَبَّرْتُ لَكَ تَحْبِيرًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت میری تلاوت سنی، صبح کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوموسیٰ! گزشتہ رات میں نے تمہاری تلاوت سنی تھی، تمہیں آلِ داؤد کی سی خوش الحانی عطا کی گئی ہے۔“ میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! اگر مجھے آپ کی موجودگی کا پتہ ہوتا تو میں اور زیادہ خوبصورتی کے ساتھ تلاوت کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7197]

7198

Sahih Ibn Hibban #7198

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : لَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ ، بَعَثَ أَبَا عَامِرٍ عَلَى جَيْشٍ إِلَى أَوْطَاسَ ، فَلَقِيَ دُرَيْدَ بْنَ الصِّمَّةِ ، فَقَتَلَ دُرَيْدًا وَهَزَمَ اللَّهُ أَصْحَابَهُ ، وَرُمِيَ أَبُو عَامِرٍ فِي رُكْبَتِهِ ، رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي جُشَمٍ بِسَهْمٍ ، فَأَثْبَتَهُ فِي رُكْبَتِهِ ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ : يَا عَمِّ مَنْ رَمَاكَ ؟ فَأَشَارَ إِلَى أَنْ ذَاكَ قَاتِلِي ، يُرِيدُ ذَلِكَ الَّذِي رَمَانِي ، قَالَ أَبُو مُوسَى : فَقَصَدْتُ لَهُ ، فَلَحِقْتُهُ ، فَلَمَّا رَآنِي ، وَلَّى عَنِّي ذَاهِبًا ، فَاتَّبَعْتُهُ ، وَجَعَلْتُ أَقُولُ : أَلا تَسْتَحِي ، أَلا تَثْبُتُ ؟ أَلا تَسْتَحِي ، أَلَسْتَ عَرَبِيًّا ؟ فَكَفَّ ، فَالْتَقَيْتُ أَنَا وَهُوَ ، فَاخْتَلَفْنَا ، فَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ ، فَقَتَلْتُهُ ، ثُمَّ رَجَعْتُ ، فَقُلْتُ : قَدْ قَتَلَ اللَّهُ صَاحِبِكَ ، قَالَ : فَانْزِعْ هَذَا السَّهْمَ ، فَنَزَعْتُهُ ، فَنَزَلَ مِنْهُ الْمَاءُ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، انْطَلِقْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَقْرِئْهُ مِنِّي السَّلامَ ، وَقُلْ لَهُ : يَقُولُ لَكَ : اسْتَغْفِرْ لِي ، قَالَ : وَاسْتَخْلَفَنِي أَبُو عَامِرٍ وَمَكَثَ يَسِيرًا ، ثُمَّ إِنَّهُ مَاتَ ، فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي بَيْتٍ عَلَى سَرِيرٍ ، وَقَدْ أَثَّرَ السَّرِيرُ بِظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَنْبَيْهِ ، فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرَنَا وَخَبَرَ أَبَى عَامِرٍ ، وَقُلْتُ لَهُ : إِنَّهُ قَالَ : قُلْ لَهُ : يَسْتَغْفِرْ لِي ، قَالَ : فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ ، فَتَوَضَّأَ مِنْهُ وَرَفَعَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعُبَيْدٍ أَبِي عَامِرٍ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَوْقَ كَثِيرٍ مِنْ خَلْقِكَ " ، فَقُلْتُ : وَلِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَاسْتَغْفِرْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ذَنْبَهُ ، وَأَدْخِلْهُ مُدْخَلا كَرِيمًا "، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ : أَحَدُهُمَا لأَبِي عَامِرٍ ، وَأَحَدُهُمَا لأَبِي مُوسَى"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین سے فارغ ہوئے، تو آپ نے ابوعامر کو ایک لشکر کا امیر بنا کر اوطاس قبیلے کی طرف بھیجا، ان کا سامنا درید بن صمہ سے ہوا، انہوں نے درید کو قتل کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھیوں کو قتل کر دیا۔ سیدنا ابوعامر رضی اللہ عنہ کے گھٹنے میں تیر لگا جو بنو جشم سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے انہیں مارا تھا، وہ گھٹنا پکڑ کر جھک گئے، میں ان کے پاس آیا، میں نے دریافت کیا: ”اے چچا جان! آپ کو کس نے تیر مارا ہے؟“ تو انہوں نے اشارہ کیا: ”وہ شخص میرا قاتل ہے“ ان کی مراد یہ تھی کہ اس شخص نے مجھے تیر مارا ہے۔ تو سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اس شخص کی طرف بڑھا، میں اس تک پہنچ گیا، جب اس نے مجھے دیکھا تو وہ منہ پھیر کر بھاگ کھڑا ہوا، میں اس کے پیچھے گیا اور ساتھ ساتھ میں یہ کہہ رہا تھا: ”کیا تمہیں شرم نہیں آتی؟ کیا تم رکتے نہیں ہو؟ کیا تم عرب نہیں ہو؟“ اس پر وہ شخص رک گیا، پھر میرا اور اس کا سامنا ہوا، ہم دونوں نے ایک دوسرے سے مقابلہ کیا، میں نے اس پر تلوار کا وار کر کے اسے قتل کر دیا، پھر میں واپس آیا، میں نے کہا (یعنی میں نے ابوعامر سے کہا): ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو قتل کروا دیا (جس نے آپ کو تیر مارا تھا)۔“ سیدنا ابوعامر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اس تیر کو باہر نکالو۔“ اس تیر کو باہر نکالا تو اس میں سے پانی نکلا۔ انہوں نے فرمایا: ”اے میرے بھتیجے! تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں میرا سلام عرض کرنا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کرنا کہ ابوعامر نے آپ سے درخواست کی ہے: آپ میرے لیے دعائے مغفرت کیجئے۔“ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوعامر رضی اللہ عنہ نے مجھے اپنا نائب مقرر کیا، تھوڑی دیر کے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ جب میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت گھر میں ایک پلنگ پر موجود تھے، اس پلنگ کے نشان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت اور پہلو پر نمایاں تھے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اور ابوعامر کے واقعے کے بارے میں بتایا، میں نے آپ کی خدمت میں گزارش کی کہ سیدنا ابوعامر رضی اللہ عنہ نے عرض کی ہے: ”تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہنا: میرے لیے دعائے مغفرت کر دیں۔“ راوی کہتے ہیں کہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، آپ نے اس کے ذریعے وضو کیا، پھر آپ نے دونوں ہاتھ بلند کیے پھر یہ دعا کی: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعُبَيْدٍ أَبِي عَامِرٍ» ”اے اللہ! اپنے ادنیٰ بندے ابوعامر کی مغفرت کر دے“ «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَوْقَ كَثِيرٍ مِنْ خَلْقِكَ مِنَ النَّاسِ» ”اے اللہ! قیامت کے دن اسے اپنی مخلوق کے بہت سے افراد میں بلند مرتبہ عطا کرنا۔“ (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرے لیے بھی دعائے مغفرت کیجئے“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ذَنْبَهُ، وَأَدْخِلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُدْخَلًا كَرِيماً» ”اے اللہ! عبداللہ بن قیس کے گناہوں کی مغفرت کر دے اور اسے عزت والے مقام میں داخل کر دے۔“ اس حدیث کے راوی ابوبردہ (جو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہیں) وہ یہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دعا ابوعامر کے لیے کی تھی اور ایک دعا سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے لیے کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7198]

7199

Sahih Ibn Hibban #7199

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُبَيْلٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَمَّا دَنَوْتُ مِنْ مَدِينَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَخْتُ رَاحِلَتِي ، وَحَلَلْتُ عَيْبَتِي ، فَلَبِسْتُ حُلَّتِي ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، فَسَلَّمَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَمَانِي النَّاسُ بِالْحَدَقِ ، فَقُلْتُ لِجَلِيسِي : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، هَلْ ذَكَرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَمْرِي شَيْئًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، ذَكَرَكَ بِأَحْسَنِ الذِّكْرِ ، بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ إِذْ عَرَضَ لَهُ فِي خُطْبَتِهِ ، فَقَالَ : إِنَّهُسَيَدْخُلُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا الْبَابِ ، أَوْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ مِنْ خَيْرِ ذِي يَمَنٍ ، وَإِنَّ عَلَى وَجْهِهِ مَسْحَةَ مَلَكٍ "، فَحَمِدْتُ اللَّهَ عَلَى مَا أَبْلانِي"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر کے قریب ہوا تو میں نے اپنی سواری کو بٹھا دیا، میں نے اپنا لباس تبدیل کیا اور حلہ پہن لیا، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خطبہ دے رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سلام کیا، لوگوں نے میری طرف غور سے دیکھنا شروع کیا، میں نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص سے دریافت کیا: اے اللہ کے بندے! کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے متعلق کچھ ذکر کیا ہے؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی عمدہ طور پر تمہارا ذکر کیا ہے، اس وقت جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے کے دوران یہ ارشاد فرمایا: ”اس دروازے سے تمہارے سامنے ایک شخص داخل ہو گا“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) ”اس راستے سے ایک شخص آئے گا، جو انتہائی برکت والا ہو گا، اس کے چہرے کو فرشتے نے چھوا ہو گا“ (راوی کہتے ہیں) تو میں نے اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی کہ اس نے مجھے یہ چیز عطا کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7199]

7200

Sahih Ibn Hibban #7200

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتٍ ، وَأَبُو عَرُوبَةَ ، وَعِدَّةٌ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَابِرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ هُشَيْمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ ، وَلا رَآنِي إِلا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ سے پردہ نہیں فرمایا، آپ جب بھی مجھے دیکھتے تو مجھے دیکھ کر مسکرا دیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7200]

7201

Sahih Ibn Hibban #7201

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ " ، بَيْتًا كَانَ لِخَثْعَمٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يُسَمَّى الْكَعْبَةَ الْيَمَانِيَّةَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي رَجُلٌ لا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ ، قَالَ : فَمَسَحَ صَدْرِي ، ثُمَّ قَالَ :" اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا "، حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تم ذی خلصہ کے حوالے سے مجھے راحت نہیں پہنچاؤ گے؟“ (راوی کہتے ہیں) یہ زمانہ جاہلیت میں خثعم قبیلے کا بت کدہ تھا جسے یمنی کعبہ کہا جاتا تھا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں ایک ایسا شخص ہوں جو گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ پھیرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ، وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا» ”اے اللہ! اسے ثابت قدم رکھ اور اسے ہدایت دینے والا اور ہدایت کا مرکز بنا دے۔“ راوی کہتے ہیں: یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک کی ٹھنڈک کو محسوس کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7201]

7202

Sahih Ibn Hibban #7202

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ ثَعْلَبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ جَرِيرٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَا جَرِيرُ ،إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ طَوَاغِيتِ الْجَاهِلِيَّةِ إِلا بَيْتُ ذِي الْخَلَصَةِ ، فَاكْفِينِهِ " ، قَالَ : فَخَرَجْتُ فِي سَبْعِينَ وَمِائَةٍ مِنْ قَوْمِي ، فَأَحْرَقْنَاهُ ، وَبَعَثْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا يُبَشِّرُهُ يُكَنَّى أَبَا أَرْطَاةَ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهُ مِثْلَ الْبَعِيرِ الأَجْرَبِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ فِي خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے جریر! زمانہ جاہلیت کے عبادت کدوں میں صرف ذوخلصہ باقی رہ گیا ہے، تم میری طرف سے اسے بھی ختم کر دو۔“ راوی کہتے ہیں: تو میں اپنی قوم کے ستر افراد کے ہمراہ روانہ ہوا، ہم نے اسے جلا دیا، میں نے ایک شخص کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تاکہ وہ آپ کو خوشخبری سنا دے، اس کی کنیت ابوارطاۃ رضی اللہ عنہ تھی، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! میں اس وقت آپ کے پاس آیا ہوں جب میں نے اس بت خانے کو خارش زدہ اونٹ کی طرح چھوڑا ہے۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأَحْمَسَ فِي خَيْلِهَا وَرِجَالِهَا» ”اے اللہ! احمس قبیلے کے گھڑ سواروں اور ان کے پیادہ افراد کو برکت نصیب کر۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7202]

7203

Sahih Ibn Hibban #7203

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ حَسَّانَ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى الْعَبْدِيُّ أَبُو مُنَازِلٍ أَحَدُ بَنِي غَنْمٍ ، عَنِ الأَشَجِّ الْعَصَرِيِّ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رُفْقَةٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ لِيَزُورَهُ فَأَقْبَلُوا ، فَلَمَّا قَدِمُوا ، رَفَعَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنَاخُوا رِكَابَهُمْ ، فَابْتَدَرَ الْقَوْمُ ، وَلَمْ يَلْبَسُوا إِلا ثِيَابَ سَفَرِهِمْ ، وَأَقَامَ الْعَصَرِيُّ فَعَقَلَ رَكَائِبَ أَصْحَابِهِ وَبَعِيرَهُ ، ثُمَّ أَخْرَجَ ثِيَابَهُ مِنْ عَيْبَتِهِ وَذَلِكَ بِعَيْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ " ، قَالَ : مَا هُمَا ؟ قَالَ : " الأَنَاةُ ، وَالْحِلْمُ " ، قَالَ : شَيْءٌ جُبِلْتُ عَلَيْهِ أَوْ شَيْءٌ أَتَخَلَّقُهُ ؟ قَالَ : " لا بَلْ جُبِلْتَ عَلَيْهِ " ، قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَعْشَرَ عَبْدِ الْقَيْسِ ، مَالِي أَرَى وجُوهَكُمْ قَدْ تَغَيَّرَتْ " ، قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، نَحْنُ بِأَرْضٍ وَخِمَةٍ ، كُنَّا نَتَّخِذُ مِنْ هَذِهِ الأَنْبِذَةِ مَا يَقْطَعُ اللُّحْمَانَ فِي بُطُونِنَا ، فَلَمَّا نُهِينَا عَنِ الظُّرُوفِ ، فَذَلِكَ الَّذِي تَرَى فِي وُجُوهِنَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّالظُّرُوفَ لا تَحِلُّ وَلا تُحَرِّمُ ، وَلَكِنْ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ، وَلَيْسَ أَنْ تَحْبِسُوا فَتَشْرَبُوا ، حَتَّى إِذَا امْتَلأَتِ الْعُرُوقُ تَنَاحَرْتُمْ ، فَوَثَبَ الرَّجُلُ عَلَى ابْنِ عَمِّهِ فَضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ ، فَتَرَكَهُ أَعْرَجَ "، قَالَ : وَهُوَ يَوْمَئِذٍ فِي الْقَوْمِ الأَعْرَجُ الَّذِي أَصَابَهُ ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اشج عصری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ عبد القیس قبیلے کے کچھ ساتھیوں سمیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کریں، جب وہ لوگ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلند آواز میں بلایا، ان لوگوں نے اپنی سواریوں کو بٹھایا اور تیزی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھے۔ لوگوں نے سفر کے کپڑے پہنے ہوئے تھے (یعنی جو صاف ستھرے نہیں تھے)؛ سیدنا اشج عصری رضی اللہ عنہ نے وہیں قیام کیا، انہوں نے اپنے ساتھیوں کے اونٹوں کو باندھا اور انہوں نے اپنے سامان میں سے کپڑے نکالے، یہ سب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں کے سامنے ہو رہا تھا، پھر وہ (کپڑے تبدیل کر کے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تمہارے اندر دو خصوصیات ہیں جنہیں اللہ اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں۔“ انہوں نے دریافت کیا: وہ کون سی ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وقار اور بردباری۔“ انہوں نے عرض کی: کیا یہ چیز میری فطرت میں شامل ہے یا میں نے اسے خود اختیار کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں بلکہ یہ فطرت میں شامل ہے،“ تو سیدنا اشج رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبد القیس قبیلے کے لوگو! کیا وجہ ہے کہ مجھے تمہارے چہرے تبدیل نظر آ رہے ہیں؟“ ان لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! ہم طبیعت کے لیے غیر موافق سرزمین پر رہتے ہیں، ہم یہ نبیذیں تیار کرتے ہیں جو ہمارے پیٹ میں گوشت کو ہضم کر دیتی ہیں، لیکن جب ہمیں (نبیذ تیار کرنے والے) برتنوں کے استعمال سے منع کیا گیا (اور ہم نے نبیذ استعمال کرنا چھوڑ دی) تو اب ہماری یہ حالت ہو گئی ہے جو اب ہمارے چہروں پر نظر آ رہی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برتن کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتے، البتہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے؛ یہ نہیں ہو سکتا کہ تم لوگ شراب پیو، یہاں تک کہ جب اچھی طرح شراب پی لو، تو ایک دوسرے کے مد مقابل آ جاؤ، پھر کوئی شخص اپنے چچا زاد پر حملہ کر کے اسے تلوار مار کر اسے لنگڑا کر دے۔“ راوی کہتے ہیں: اس وقت ان حاضرین میں ایک ایسا لنگڑا بھی موجود تھا جس کے ساتھ یہ صورت حال پیش آئی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7203]

7204

Sahih Ibn Hibban #7204

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لأَشَجِّ أَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ : إِنَّفِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ : الْحِلْمُ ، وَالأَنَاةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدقیس قبیلے کے اشج سے یہ فرمایا تھا: ”تمہارے اندر دو خصوصیات ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، بردباری اور وقار۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7204]

7205

Sahih Ibn Hibban #7205

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَقْطَعْهُ أَرْضًا ، وَأَرْسَلَ مَعَهُ مُعَاوِيَةَ أَنْ أَعْطِهَا إِيَّاهُ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : أَرْدِفْنِي خَلْفَكَ ، قَالَ : لا تَكُنْ مِنْ أَرْدَافِ الْمُلُوكِ ، فَقَالَ : أَعْطِنِي نَعْلَكَ ، فَقَالَ : انْتَعِلْ ظِلَّ النَّاقَةِ ، فَلَمَّا اسْتَخْلَفَ مُعَاوِيَةُ أَتَيْتُهُ ، فَأَقْعَدَنِي مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ ، وَذَكَرَ لِي الْحَدِيثَ ، قَالَ : وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ حَمَلْتُهُ بَيْنَ يَدَيَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علقمہ بن وائل اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ زمین انہیں عطا کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہمراہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ ”تم وہ زمین اسے دے دینا،“ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آپ مجھے اپنے پیچھے (اپنے جانور پر) بٹھا لیں،“ تو انہوں نے کہا: ”تم بادشاہوں کے پیچھے نہ بیٹھو۔“ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آپ اپنا جوتا مجھے دے دیں،“ تو انہوں نے کہا: ”تم اونٹنی کے سائے میں چلو۔“ (راوی بیان کرتے ہیں:) جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ بن گئے تو میں ان کے پاس آیا، انہوں نے مجھے اپنے ساتھ پلنگ پر بٹھایا اور میرے ساتھ بات چیت کرتے رہے۔ سیدنا وائل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس وقت میں نے یہ آرزو کی، ”کاش میں نے انہیں (اپنی سواری پر) اپنے آگے بٹھایا ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7205]

7206

Sahih Ibn Hibban #7206

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ حُبَيْشٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : جَاءَتْ خَيْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذُوا عَمَّتِي وَنَاسًا ، فَلَمَّا أَتَوْا بِهِمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَفُّوا لَهُ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَأَى الْوَافِدُ ، وَانْقَطَعَ الْوَلَدُ ، وَأَنَا عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ مَا بِي مِنْ خِدْمَةٍ ، فَمُنَّ عَلَيَّ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَنْ وَافِدُكِ ؟ " ، قَالَتْ : عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَ : " الَّذِي فَرَّ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ؟ " ، قَالَتْ : فَمُنَّ عَلَيَّ ، قَالَتْ : فَلَمَّا رَجَعَ وَرَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ تَرَى أَنَّهُ عَلِيٌّ ، قَالَ : سَلِيهِ حُمْلانًا ، قَالَتْ : فَسَأَلْتُهُ فَأَمَرَ لَهَا ، قَالَتْ : فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : لَقَدْ فَعَلْتَ فَعَلَةً مَا كَانَ أَبُوكِ يَفْعَلُهَا ، فَأْتِهِ رَاغِبًا أَوْ رَاهِبًا ، فَقَدْ أَتَاهُ فُلانٌ ، فَأَصَابَ مِنْهُ ، وَأَتَاهُ فُلانٌ ، فَأَصَابَ مِنْهُ ، فَأَتَيْتُهُ ، فَإِذَا عِنْدَهُ امْرَأَةٌ وَصِبْيَانٌ أَوْ صَبِيٌّ ذُكِرَ قُرْبُهُمْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَيْسَ بِمِلْكِ كِسْرَى ، وَلا قَيْصَرَ ، فَقَالَ لِي : يَا عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ : "مَا أَخَرَّكَ أَنْ تَقُولَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، فَهَلْ مِنْ إِلَهٍ إِلا اللَّهُ ، مَا أَفَرَّكَ مِنْ أَنْ تَقُولَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَهَلْ مِنْ شَيْءٍ أَكْبَرُ مِنَ اللَّهِ ؟ " ، قَالَ : فَأَسْلَمْتُ وَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ اسْتَبْشَرَ ، وَقَالَ : " إِنَّ الْمَغْضُوبَ عَلَيْهِمُ الْيَهُودُ ، وَالضَّالِّينَ النَّصَارَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھڑ سوار (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے کچھ لوگ آئے، انہوں نے میری پھوپھی اور چند لوگوں کو پکڑ لیا، جب وہ انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے انہیں کھڑا کیا گیا، تو اس خاتون نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! وافد کو آنے میں تاخیر ہو گئی ہے، میں ایک بوڑھی عمر رسیدہ عورت ہوں، میں کوئی کام کاج نہیں کر سکتی، آپ مجھ پر احسان کیجئے، اللہ تعالیٰ آپ پر احسان کرے گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہارا وفد کون ہے؟“ اس نے جواب دیا: عدی بن حاتم۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جو اللہ اور اس کے رسول سے بھاگ گیا ہے؟“ پھر اس خاتون نے کہا: ”آپ مجھ پر احسان کیجئے۔“ وہ خاتون بیان کرتی ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس مڑے تو اس وقت ایک شخص آپ کے پہلو میں موجود تھا، اس خاتون کا یہ خیال ہے کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے، ان صاحب نے کہا: ”اے خاتون! تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری مانگو۔“ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری مانگی، تو آپ نے اس کو دینے کا حکم دیا۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: پھر میں عدی بن حاتم کے پاس آئی، میں نے یہ کہا: ”تم نے ایک ایسا کام کیا ہے، جو تمہارے والد نے نہیں کرنا تھا، تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤ خواہ اپنی خواہش کے ساتھ جاؤ یا خوف زدہ ہو کر جاؤ، کیونکہ فلاں شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا، تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ چیز حاصل کی، فلاں شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو اس نے یہ چیز حاصل کی۔“ (سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خاتون اور کچھ بچے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) ایک بچہ موجود تھا، اس خاتون اور ان بچوں کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتے دار ہونے کا ذکر کیا گیا، تو مجھے پتہ چل گیا کہ یہ کسریٰ اور قیصر کی طرح کے بادشاہ نہیں ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے عدی بن حاتم! کیا تم یہ کہنے سے بھاگ رہے ہو «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے“؟ کیا اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود ہے؟ کیا تم یہ کہنے سے بھاگ رہے ہو کہ «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے“؟ تو کیا کوئی ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ سے زیادہ بڑی ہو؟“ راوی کہتے ہیں: تو میں نے اسلام قبول کر لیا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو دیکھا کہ آپ کو بہت خوشی ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک ﴿الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ﴾ [سورة الفاتحة: 7] (جن پر غضب کیا گیا) سے مراد یہودی ہیں اور ﴿الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] (وہ لوگ جو گمراہ ہیں) سے مراد عیسائی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7206]

7207

Sahih Ibn Hibban #7207

أَخْبَرَنَا شَبَّابُ بْنُ صَالِحٍ بِوَاسِطٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ ، فَانْتَبَهَتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَلَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَكَانِهِ ، وَإِذَا أَصْحَابُهُ كَأَنَّ عَلَى رُؤُوسِهِمُ الطَّيْرُ ، وَإِذَا الإِبِلُ قَدْ وَضَعَتْ جِرَانَهَا ، قَالَ : فَنَظَرْتُ ، فَإِذَا أَنَا بِخَيَالٍ ، فَإِذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ قَدْ تَصَدَّى لِي ، فَقُلْتُ : أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : وَرَائِي ، وَإِذَا أَنَا بِخَيَالٍ ، فَإِذَا هُوَ أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ ، فَقُلْتُ : أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : وَرَائِي ، فَحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بن أَبِي مُوسَى ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : فَسَمِعْتُ خَلْفَ أَبِي مُوسَى هَزِيزًا كَهَزِيزِ الرَّحَى ، فَإِذَا أَنَا بِرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ بِأَرْضِ الْعَدُوِّ كَانَ عَلَيْهِ حَرَسٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَانِي آتٍ ، فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ ، وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ " ، فَقَالَ مُعَاذٌ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ عَرَفْتَ مَنْزِلِي ، فَاجْعَلْنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : " أَنْتَ مِنْهُمْ " ، قَالَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ ، وَأَبُو مُوسَى : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ عَرَفْتَ أَنَّا تَرَكْنَا أَمْوَالَنَا وَأَهْلِينَا ، وَذَرَارِيَّنَا نُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ، فَاجْعَلْنَا مِنْهُمْ ، قَالَ : " أَنْتُمَا مِنْهُمْ " ، قَالَ : فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ ، وَقَدْ ثَارُوا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي ، فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أَمَّتِي الْجَنَّةَ ، وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ " ، فَقَالَ الْقَوْمُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اجْعَلْنَا مِنْهُمْ ، فَقَالَ : " أَنْصِتُوا " ، فَنَصَتُوا حَتَّى كَأَنَّ أَحَدًا لَمْ يَتَكَلَّمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ لِمَنْ مَاتَ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھے، ایک رات میں آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی رہائش کی جگہ پر مجھے نظر نہیں آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کا معاملہ یوں ہوتا تھا جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں جبکہ اونٹوں نے گردنیں جھکا دی تھیں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا ابھی میں اسی پریشانی میں تھا کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ میرے سامنے آئے، میں نے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: میرے پیچھے ہیں۔ میں ابھی اسی حالت میں تھا کہ وہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے، میں نے دریافت کیا: اللہ کے رسول کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا: میرے پیچھے ہیں۔ حمید بن ہلال نامی راوی نے اپنی سند کے ساتھ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ میں نے اپنے پیچھے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی آواز یوں سنی جس طرح چکی پیسنے کی آواز ہوتی ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دشمن کی سرزمین پر ہوں تو آپ کا کوئی محافظ ہونا چاہیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے پاس ایک شخص (یعنی فرشتہ) آیا، اس نے مجھے دو باتوں میں سے ایک بات کا اختیار دیا؛ یا یہ کہ میری امت کا نصف حصہ جنت میں داخل ہو جائے یا پھر شفاعت (کے نتیجے میں بے شمار لوگ جنت میں داخل ہوں)، تو میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا۔“ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ میری حیثیت سے واقف ہیں، مجھے بھی ان میں شامل کر لیجیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان میں سے ایک ہو۔“ سیدنا عوف بن مالک اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ یہ بات جانتے ہیں کہ ہم نے اپنی زمین اور بال بچے چھوڑ دیے، ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں، آپ ہمیں بھی ان میں شامل کر لیجیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں بھی ان میں شامل ہو۔“ راوی کہتے ہیں کہ ہم لوگوں کے پاس آئے جو بیدار ہو چکے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس میرے پروردگار کی طرف سے ایک شخص (یعنی فرشتہ) آیا، تو اس نے مجھے اس بات کا اختیار دیا کہ میری امت کا نصف حصہ جنت میں داخل ہو جائے یا پھر شفاعت ہو، تو میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا۔“ حاضرین نے عرض کی: ہمیں بھی ان میں شامل کیجیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ خاموش رہو۔“ وہ لوگ خاموش ہو گئے، یہاں تک کہ یوں لگتا تھا جیسے کسی نے کوئی بات نہیں کرنی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شفاعت ہر اس شخص کے لیے ہو گی جو ایسی حالت میں فوت ہو کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7207]

7208

Sahih Ibn Hibban #7208

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدَّتِهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : لَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي طُوًى ، قَالَ أَبُو قُحَافَةَ لابْنَةٍ لَهُ مِنْ أَصْغَرِ وَلَدِهِ : أَيْ بُنَيَّةُ أَظْهِرِينِي عَلَى أَبِي قُبَيْسٍ ، قَالَتْ : وَقَدْ كُفَّ بَصَرُهُ ، فَأَشْرَفْتُ بِهِ عَلَيْهِ ، قَالَ : يَا بُنَيَّةُ ، مَاذَا تَرَيْنَ ؟ قَالَتْ : أَرَى سَوَادًا مُجْتَمِعًا ، قَالَ : تِلْكَ الْخَيْلُ ، قَالَتْ : وَأَرَى رَجُلا يَسْعَى بَيْنَ يَدَيْ ذَلِكَ السَّوَادِ مُقْبِلا وَمُدْبِرًا ، قَالَ : ذَاكَ يَا بُنَيَّةُ الْوَازِعُ الَّذِي يَأْمُرُ الْخَيْلَ ، وَيَتَقَدَّمُ إِلَيْهَا ، ثُمَّ قَالَتْ : قَدْ وَاللَّهِ انْتَشَرَ السَّوَادُ ، فَقَالَ : قَدْ وَاللَّهِ دُفِعَتِ الْخَيْلُ ، فَأَسْرِعِي بِي إِلَى بَيْتِي ، فَانْحَطَّتْ بِهِ ، فَتَلَقَّاهُ الْخَيْلُ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَى بَيْتِهِ ، وَفِي عُنُقِ الْجَارِيَةِ طَوْقٌ لَهَا مِنْ وَرِقٍ ، فَتَلَقَّاهَا رَجُلٌ ، فَاقْتَلَعَهُ مِنْ عُنُقِهَا ، قَالَتْ : فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ أَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِأَبِيهِ يَقُودُهُ ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : هَلا تَرَكْتَ الشَّيْخَ فِي بَيْتِهِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا آتِيهِ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هُوَ أَحَقُّ أَنْ يَمْشِي إِلَيْكَ مِنْ أَنْ تَمْشِي إِلَيْهِ ، قَالَ : فَأَجْلَسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ مَسَحَ صَدْرَهُ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : " أَسْلِمْ " ، فَأَسْلَمَ ، قَالَتْ : وَدَخَلَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَأَنَّ رَأْسَهُ ثَغَامَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَيِّرُوا هَذَا مِنْ شَعْرِهِ "، ثُمَّ قَامَ أَبُو بَكْرٍ وَأَخَذَ بِيَدِ أُخْتِهِ ، فَقَالَ : أَنْشُدُ اللَّهَ وَالإِسْلامَ طَوْقَ أُخْتِي ، فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ ، فَقَالَ : يَا أُخَيَّةُ احْتَسِبِي طَوْقَكِ ، فَوَاللَّهِ إِنَّ الأَمَانَةَ الْيَوْمَ فِي النَّاسِ لَقَلِيلٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ذی طویٰ کے مقام پر ٹھہرے تو سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی سے کہا، جو ان کی اولاد میں سب سے چھوٹی تھی: ”اے میری بیٹی! مجھے جبل ابوقبیس پر چڑھا دو۔“ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس وقت ان کی بینائی ختم ہو چکی تھی، وہ خاتون بیان کرتی ہیں کہ میں نے اس پہاڑ پر سے جھانک کر دیکھا تو انہوں نے دریافت کیا: ”اے میری بیٹی! تم کیا دیکھ رہی ہو؟“ اس لڑکی نے جواب دیا: ”مجھے بہت سے لوگوں کا مجمع نظر آ رہا ہے۔“ سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ گھڑسوار ہوں گے۔“ اس خاتون نے کہا: ”مجھے ایک شخص نظر آ رہا ہے، جو ان کے آگے آ رہا ہے اور جا رہا ہے۔“ سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے میری بیٹی! یہ ان کا نگران ہے جو گھوڑوں کو حکم دے رہا ہے۔“ پھر اس لڑکی نے بتایا: ”اللہ کی قسم! اب وہ سیاہی منتشر ہونے لگی ہے۔“ تو سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! اب یہ گھوڑے روانہ ہو جائیں گے، تو مجھے جلدی میرے گھر لے جاؤ۔“ وہ خاتون انہیں ساتھ لے کر نیچے اتریں، ان کے گھر پہنچنے سے پہلے ہی گھڑسواروں سے ان کا سامنا ہو گیا، اس لڑکی کی گردن میں چاندی کا بنا ہوا ہار تھا، ایک شخص اس لڑکی کے سامنے آیا، اس نے اس لڑکی کی گردن سے ہار اتار لیا۔ وہ لڑکی بیان کرتی ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ کے اندر) داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے اندر آئے، تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے والد کو ساتھ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نے ان بزرگوار کو اپنے گھر میں ہی کیوں نہیں رہنے دیا تاکہ میں خود ان کے پاس آ جاتا؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ چل کر آپ کی طرف آئیں، بجائے اس کے کہ آپ چل کر ان کی طرف تشریف لے جائیں۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو سامنے بٹھا دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ پھیرا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”آپ اسلام قبول کر لیں۔“ تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ وہ لڑکی بیان کرتی ہے کہ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ انہیں ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کا سر ثغامہ (نامی سفید پھول کی طرح سفید) تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے بالوں کی رنگت تبدیل کر دو۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے اپنی بہن کا ہاتھ پکڑا اور بولے: ”میں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ میری بہن کا ہار کس کے پاس ہے؟“ کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے میری بہن! تم اپنے ہار کے حوالے سے ثواب کی امید رکھو، اللہ کی قسم! آج لوگوں میں امانت (واپس کرنے کا جذبہ) کم ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7208]

7209

Sahih Ibn Hibban #7209

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّرْقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ الْمُسْلِمُونَ لا يَنْظُرُونَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ ، وَلا يُجَالِسُونَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،ثَلاثَ خِصَالٍ أَسْأَلُكَ أَنْ تُعْطِيَنِيهِنَّ ؟ قَالَ : وَمَا هِيَ ؟ قَالَ : عِنْدِي أَجْمَلُ الْعَرَبِ وَأَحْسَنُهَا أُمُّ حَبِيبَةَ أُزَوِّجُكَهَا ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : وَمُعَاوِيَةُ تَجْعَلُهُ كَاتِبًا بَيْنَ يَدَيْكَ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : وَتُؤَمِّرُنِي حَتَّى أُقَاتِلَ الْمُشْرِكِينَ كَمَا كُنْتُ أُقَاتِلُ الْمُسْلِمِينَ ، قَالَ : نَعَمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ پہلے مسلمان ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھتے نہیں تھے اور نہ ہی ان کی ہم نشینی اختیار کرتے تھے، تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں تین چیزوں کے بارے میں آپ سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ آپ مجھے وہ عطا کر دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”وہ کیا؟“ انہوں نے عرض کی: میری بیٹی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا عرب کی خوبصورت اور حسین و جمیل لڑکی ہے، میں اس کی شادی آپ کے ساتھ کرنا چاہتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے عرض کی: معاویہ رضی اللہ عنہ کو آپ اپنا معتمد مقرر کر لیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے عرض کی: آپ مجھے یہ حکم دیں کہ میں مشرکین کے ساتھ جنگ کرتا رہوں، جس طرح پہلے میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرتا رہا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7209]

7210

Sahih Ibn Hibban #7210

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ السَّمَعِيِّ ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِيَةَ الْكِتَابَ وَالْحِسَابَ وَقِّهِ الْعَذَابَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عرباض بن ساریہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ” «اللَّهُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِيَةَ الْكِتَابَ وَالْحِسَابَ، وَقِهِ الْعَذَابَ» ”اے اللہ! معاویہ کو کتاب (یعنی قرآن مجید) اور حساب کا علم عطا کر اور اسے عذاب سے بچانا۔“” [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7210]

7211

Sahih Ibn Hibban #7211

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : بَلَغَ صَفِيَّةَ أَنَّ حَفْصَةَ ، قَالَتْ لَهَا : ابْنَةُ يَهُودِيٍّ ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهَا وَسَلَّمَ وَهِيَ تَبْكِي ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَا يُبْكِيكِ ؟ " ، قَالَتْ : قَالَتْ لِي حَفْصَةُ : إِنِّي بِنْتُ يَهُودِيٍّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكِ لابْنَةُ نَبِيٍّ ، وَإِنَّ عَمَّكِ لِنَبِيٌّ ، وَإِنَّكِ لَتَحْتَ نَبِيٍّ ، فَبِمَ تَفْخَرُ عَلَيْكِ ؟ " ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتَّقِي اللَّهَ يَا حَفْصَةُ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو اس بات کی اطلاع ملی کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان کے بارے میں یہ کہا ہے کہ وہ ایک یہودی کی بیٹی ہے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے تو وہ رو رہی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم کیوں رو رہی ہو؟“ انہوں نے عرض کی: حفصہ نے میرے بارے میں یہ کہا ہے کہ میں یہودی کی بیٹی ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایک نبی کی اولاد ہو اور تمہارے (آباؤ اجداد میں) ایک چچا نبی تھے اور تم ایک نبی کی بیوی ہو، تو پھر حفصہ کس بات پر تمہارے سامنے فخر کر سکتی ہے؟“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے) فرمایا: ”اے حفصہ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7211]

7212

Sahih Ibn Hibban #7212

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كُنْتُ رَدِيفَ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ ، وَإِنَّ قَدَمِي لَتَمَسُّ قَدَمَ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْنَا خَيْبَرَ ، وَقَدْ خَرَجُوا بِمَسَاحِيهِمْ وَفُؤُوسِهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ ، وَقَالُوا : مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ ، فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " ، فَقَاتَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَزَمَهُمْ ، فَلَمَّا قُسِمَتِ الْمَغَانِمُ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهُوَقَعَ فِي سَهْمِ دَحِيَّةَ الْكَلْبِيِّ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ ، فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ ، ثُمَّ دَفَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تُهَيِّئُهَا ، وَكَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ تَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَعَا بِالأَنْطَاعِ ، فَأُحْضِرَتْ ، فَوَضَعَ الأَنْطَاعَ وَجِيءَ بِالتَّمْرِ وَالسَّمْنِ ، فَأَوْسَعَهُمْ حَيْسًا ، فَأَكَلَ النَّاسُ حَتَّى شَبِعُوا ، فَقَالَ النَّاسُ : تَزَوَّجَهَا أَمِ اتَّخَذَهَا أُمَّ وَلَدٍ ؟ فَقَالُوا : إِنْ حَجَبَهَا ، فَهِيَ امْرَأَتُهُ ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ أُمُّ وَلَدٍ ، فَلَمَّا أَرَادَتْ أَنْ تَرْكَبَ ، حَجَبَهَا حَتَّى قَعَدَتْ عَلَى عَجُزِ الْبَعِيرِ خَلْفَهُ ، ثُمَّ رَكِبَتْ ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ ، وَأَوْضَعَ النَّاسُ ، وَأَشْرَفَتِ النِّسَاءُ يَنْظُرْنَ ، فَعَثَرَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاحِلَتُهُ ، فَوَقَعَ وَوَقَعَتْ صَفِيَّةُ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَجَبَهَا، فَقَالَتِ النِّسَاءُ : أَبْعَدَ اللَّهُ الْيَهُودِيَّةَ ، وَشَمِتْنَ بِهَا ، قَالَ ثَابِتٌ : فَقُلْتُ لأَنَسٍ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، أَوَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ رَاحِلَتِهِ ؟ فَقَالَ : إِي وَاللَّهِ وَقَعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ يَا أَبَا مُحَمَّدِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ خیبر کے موقع پر میں سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور میرے پاؤں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک کو چھو رہے تھے، ہم لوگ خیبر آ گئے، وہ لوگ اپنی کدالیں اور بیلچے اور ٹوکریاں لے کر (قلعے سے) باہر نکلے، انہوں نے کہا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور لشکر آ گئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“، خیبر برباد ہو گیا، جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ﴿فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنذَرِينَ﴾ [سورة الصافات: 177] ”ان لوگوں کی حالت بری ہوتی ہے جنہیں ڈرایا گیا تھا“۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ لڑائی کر کے انہیں پسپا کر دیا، جب مال غنیمت تقسیم ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی: سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں ایک حسین و جمیل کنیز آئی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات غلاموں (یا کنیزوں) کے عوض میں اس کو خرید لیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے سپرد کیا تاکہ وہ انہیں تیار کر دیں۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا غزوات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوتی تھیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دسترخوان منگوایا، اسے پیش کیا گیا، اس دسترخوان کو بچھایا گیا، پھر کھجوریں اور گھی لایا گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے لئے حیس تیار کروایا۔ لوگوں نے اسے کھایا، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے۔ لوگوں نے (آپس میں ایک دوسرے سے) دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے ساتھ شادی کی ہے یا اسے ام ولد بنایا ہے؟ تو دوسروں نے جواب دیا: اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو پردہ کروایا تو وہ آپ کی اہلیہ ہوں گی، اگر انہیں پردہ نہیں کرواتے تو پھر ام ولد شمار ہوں گی۔ جب سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سواری پر سوار ہونے لگیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا پردہ کروا لیا، یہاں تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر بیٹھ گئیں، پھر جب یہ لوگ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کو تیز کر لیا، لوگوں نے بھی سواری کو تیز کر لیا، خواتین جھانک کر دیکھنے لگیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کو ٹھوکر لگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا گر گئے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے اس خاتون کا پردہ کروایا، تو خواتین نے کہا: اللہ تعالیٰ اس یہودی عورت کو دور ہی رکھے، انہوں نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو برا بھلا کہا۔ ثابت رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: اے ابوحمزہ! کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے نیچے گر پڑے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: جی ہاں، اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے گر گئے تھے۔ اے ابومحمد! [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7212]

7213

Sahih Ibn Hibban #7213

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلاثًا يَبْنِي بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ ، فَدَعَوْتُ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ ، فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ ، وَلا لَحْمٍ ، أَمَرَنَا بِالأَنْطَاعِ ، فَأُلْقِيَ فِيهَا مِنَ التَّمْرِ وَالأَقِطِ وَالسَّمْنِ ، فَكَانَتْ وَلِيمَتَهُ ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ : إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ هِيَ أَوْ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ ، وَقَالُوا : إِنْ يَحْجُبْهَا ، فَهِيَ مِنَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا ، فَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ ، فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّى لَهَا مِنْ خَلْفِهِ ، وَمَدَّ الْحِجَابَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینہ منورہ کے درمیان کسی جگہ پر تین دن تک قیام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کی رخصتی کروائی تھی، میں اہل ایمان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمے کے لیے بلا کر لایا تھا، اس میں روٹی یا گوشت نہیں تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دسترخوان لانے کا حکم دیا تو اس دسترخوان پر کھجوریں، پنیر اور گھی رکھ دیا گیا، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ مسلمانوں نے کہا: یہ امہات المؤمنین میں سے ایک شمار ہوں گی یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیز شمار ہوں گی؟ تو دوسروں نے جواب دیا: اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا پردہ کروایا تو یہ امہات المؤمنین میں شمار ہوں گی اور اگر پردہ نہ کروایا تو یہ آپ کی کنیز شمار ہوں گی۔ (راوی بیان کرتے ہیں:) جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے لیے اپنے پیچھے جگہ بنائی اور اس خاتون کے اور لوگوں کے درمیان پردہ کھینچ دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7213]

7214

Sahih Ibn Hibban #7214

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فِيلٍ الْبَالِسِيُّ أَبُو الطَّاهِرِ بِأَنْطَاكِيَّةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ الطَّائِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَا حَظُّكُمْ مِنَ الأَنْبِيَاءِ ، وَأَنْتُمْ حَظِّي مِنَ الأُمَمِ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”انبیاء میں سے ”میں“ تمہارا حصہ ہوں اور امتوں میں سے ”تم“ میرا حصہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7214]

7215

Sahih Ibn Hibban #7215

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَجَرِيُّ بِالأُبُلَّةِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بِدِمَشْقَ ، وَعُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّاللَّهَ إِذَا أَرَادَ رَحْمَةَ أُمَّةٍ مِنْ عِبَادِهِ قَبَضَ نَبِيَّهَا قَبْلَهَا ، فَجَعَلَهُ لَهَا فَرَطًا وَسَلَفًا ، وَإِذَا أَرَادَ هَلَكَةَ أُمَّةٍ عَذَّبَهَا وَنَبِيُّهَا حَيٌّ ، فَأَقَرَّ عَيْنَهُ بِهَلْكِهَا حِينَ كَذَّبُوهُ ، وَعَصَوْا أَمَرَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جب کسی امت پر رحمت کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس امت سے پہلے اس کے نبی کی روح کو قبض کر لیتا ہے اور اس نبی کو ان لوگوں کے لیے پیش رو اور آگے جانے والا بنا دیتا ہے، اور جب وہ کسی امت کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے نبی کی زندگی میں ہی ان لوگوں کو عذاب دے دیتا ہے اور ان کو ہلاک کر کے اس نبی کی آنکھوں کو ٹھنڈک دے دیتا ہے، ایسا اس وقت ہوتا ہے جب وہ لوگ نبی کو تکلیف دیتے ہیں اور اس کے حکم کی نافرمانی کرتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7215]

7216

Sahih Ibn Hibban #7216

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ : وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا ، قَالَ : عَدْلا"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا﴾ [سورة البقرة: 143] (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ”اسی طرح ہم نے تمہیں وسط امت بنایا ہے۔“ کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”(وسط سے مراد) عادل ہونا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7216]

7217

Sahih Ibn Hibban #7217

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّمَاأَجَلُكُمْ فِي أَجَلِ مَنْ خَلا مِنَ الأُمَمِ كَمَا بَيْنَ صَلاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغَارِبِ الشَّمْسِ ، وَإِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَرَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالا ، فَقَالَ : مَنْ يَعْمَلُ لِي إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ ؟ قَالَ : فَعَمِلَتِ الْيَهُودُ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ ؟ قَالَ : فَعَمِلَتِ النَّصَارَى مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلاةِ الْعَصْرِ ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ يَعْمَلُ مِنْ صَلاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغَارِبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ ؟ ثُمَّ قَالَ : أَنْتُمُ الَّذِينَ تَعْمَلُونَ مِنْ صَلاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغَارِبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ ، قَالَ : فَغَضِبَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى ، وَقَالُوا : نَحْنُ كُنَّا أَكْثَرَ عَمَلا وَأَقَلَّ عَطَاءً ، قَالَ : هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ عَمَلِكُمْ شَيْئًا ؟ قَالُوا : لا ، قَالَ : فَإِنَّهُ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”دیگر امتوں کے مقابلے میں تمہاری مدت اس طرح ہے، جس طرح عصر سے لے کر سورج غروب ہونے تک کا درمیانی وقت ہوتا ہے، تمہاری، یہودیوں کی اور عیسائیوں کی مثال اس طرح ہے جیسے ایک شخص کچھ مزدوروں کو کام کے لیے رکھتا ہے، وہ شخص یہ کہتا ہے: کون میرے لیے ایک قیراط کے عوض میں دوپہر تک کام کرے گا؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو یہودیوں نے ایک ایک قیراط کے عوض میں دوپہر تک کام کیا۔ پھر وہ شخص کہتا ہے: کون میرے لیے دوپہر سے لے کر عصر تک ایک ایک قیراط کے عوض میں کام کرے گا؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو عیسائیوں نے دوپہر سے لے کر عصر کے وقت تک کام کیا۔ پھر وہ شخص کہتا ہے: کون میرے لیے عصر کی نماز سے لے کر سورج غروب ہونے تک دو دو قیراط کے عوض میں کام کرے گا؟“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم وہ لوگ ہو جو عصر سے لے کر سورج غروب ہونے تک دو دو قیراط کے عوض میں کام کرتے ہو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس بات پر یہودی اور عیسائی غصے میں آ گئے، انہوں نے کہا: ہم نے زیادہ کام کیا ہے اور ہمیں تھوڑا معاوضہ ملا ہے۔ پروردگار نے فرمایا: کیا میں نے تمہارے کام کے حوالے سے تمہارے ساتھ کوئی زیادتی کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں، تو پروردگار نے فرمایا: یہ میرا فضل ہے، میں جسے چاہوں عطا کروں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7217]

7218

Sahih Ibn Hibban #7218

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَثَلُ الْمُسْلِمِينَ وَالْيَهُودِ وَالنَّصَارَى ، كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ قَوْمًا يَعْمَلُونَ لَهُ عَمَلا يَوْمًا إِلَى اللَّيْلِ عَلَى أَجْرٍ إِلَى اللَّيْلِ ، فَعَمِلُوا لَهُ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ ، ثُمَّ قَالُوا : لا حَاجَةَ لَنَا فِي أَجْرِكَ الَّذِي اشْتَرَطْتَ لَنَا ، وَمَا عَمَلُنَا بَاطِلٌ ، قَالَ لَهُمْ : لا تَفْعَلُوا أَكْمِلُوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ ، وَخُذُوا أَجْرَكُمْ كَامِلا ، فَأَبَوْا وَتَرَكُوا ذَلِكَ عَلَيْهِ ، فَاسْتَأْجَرَ قَوْمًا آخَرِينَ بَعْدَهُمْ ، فَقَالَ : اعْمَلُوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ وَلَكُمُ الَّذِي شَرَطْتُ لَهُمْ مِنَ الأَجْرِ ، فَعَمِلُوا حَتَّى إِذَا كَانَ صَلاةُ الْعَصْرِ ، قَالُوا : الَّذِي عَمِلْنَا بَاطِلٌ ، وَلَكَ الأَجْرُ الَّذِي جَعَلْتَ لَنَا ، لا حَاجَةَ لَنَا فِيهِ ، قَالَ : اعْمَلُوا بَقِيَّةَ عَمَلِكُمْ ، فَإِنَّ مَا بَقِيَ مِنَ النَّهَارِ شَيْءٌ يَسِيرٌ " ، أَحْسَبُهُ قَالَ : " فَأَبَوْا " ، قَالَ : " ثُمَّ عَمِلْتُمْ مِنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ ، فَذَلِكَ مَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى وَالَّذِينَ تَرَكُوا مَا أَمَرَهُمُ اللَّهُ بِهِ ، وَمَثَلُ الْمُسْلِمِينَ الَّذِينَ قَبِلُوا هَدْيَ اللَّهِ ، وَمَا جَاءَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کی مثال ایک ایسے شخص کی مانند ہے جس نے کچھ لوگوں کو مزدوری پر رکھا کہ وہ سارا دن رات تک اس کے لیے کام کریں گے اور انہیں رات تک کام کرنے کا معاوضہ ملے گا، انہوں نے دوپہر تک اس کے لیے کام کیا، پھر ان مزدوروں نے کہا: ہمیں تمہارے اس معاوضے کی کوئی ضرورت نہیں ہے جو تم نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا اور ہم نے جو کام کیا ہے وہ رائیگاں گیا، تو اس شخص نے ان سے کہا: تم ایسا نہ کرو، تم اپنا بقیہ دن مکمل کر لو اور اپنا مکمل معاوضہ وصول کر لو، لیکن انہوں نے اس چیز کو نہیں مانا اور انہوں نے اس کام کو چھوڑ دیا، تو اس شخص نے ان کے بعد دوسرے لوگوں کو مزدوری پر رکھا اور کہا: تم بقیہ دن کام کرو، تاہم میں تمہیں وہی اجر دوں گا جو میں نے ان لوگوں کے لیے معاوضہ مقرر کیا تھا، تو ان لوگوں نے کام کیا، یہاں تک کہ جب عصر کا وقت ہوا تو انہوں نے کہا: ہم نے جو کام کیا تھا وہ رائیگاں جاتا ہے، تمہارا اجر تمہیں ملے جو تم نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا، ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، تو وہ شخص کہتا ہے: تم اپنا بقیہ کام پورا کر لو کیونکہ اب دن ختم ہونے میں تھوڑا سا وقت باقی رہ گیا ہے، (راوی کہتے ہیں) میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ان لوگوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے عصر سے لے کر رات تک کام کیا (یعنی سورج غروب ہونے تک کام کیا)، یہ یہودیوں، عیسائیوں اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے جس حکم کو چھوڑا اس کی مثال ہے اور مسلمانوں کی مثال ہے، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو قبول کیا اور اللہ کے رسول جو لے کر آئے تھے اسے قبول کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7218]

7219

Sahih Ibn Hibban #7219

أَخْبَرَنَا وَصِيفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ بِأَنْطَاكِيَّةَ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّاللَّهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ ، وَالنِّسْيَانَ ، وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے میری امت سے خطا، نسیان اور جس چیز پر انہیں مجبور کیا گیا ہو، ان تمام چیزوں سے درگزر کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7219]

7220

Sahih Ibn Hibban #7220

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعَ عَمْرٌو ، جَابِرًا ، قَالَ : لَمَّا أُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ ، قَالَ : أَعُوذُ بِوَجْهِكَ " ، أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ ، قَالَ : " أَعُوذُ بِوَجْهِكَ " ، أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ ، قَالَ : " هَاتَانِ أَهْوَنُ أَوْ أَيْسَرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سفیان نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ عمرو نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَىٰ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ﴾ [سورة الأنعام: 65] ”تم یہ فرما دو! وہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ تمہارے اوپر سے تم پر عذاب بھیج دے“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَعُوذُ بِوَجْهِكَ» ”میں تیری ذات کی پناہ مانگتا ہوں“ (ارشادِ باری تعالیٰ ہے) ﴿أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ﴾ [سورة الأنعام: 65] ”یا تمہارے نیچے سے بھیج دے“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَعُوذُ بِوَجْهِكَ» ”میں تیری ذات کی پناہ مانگتا ہوں“ (ارشادِ باری تعالیٰ ہے) ﴿أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ﴾ [سورة الأنعام: 65] ”یا تمہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کر دے یوں کہ تم ایک دوسرے کو قتل کرو“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دونوں چیزیں زیادہ ہلکی اور زیادہ آسان ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7220]

7221

Sahih Ibn Hibban #7221

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ : إِنَّمَابَقَاؤُكُمْ فِيمَنْ سَلَفَ قَبْلَكُمْ كَمَا بَيْنَ صَلاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ أُعْطِيَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ التَّوْرَاةَ ، فَعَمِلُوا بِهَا حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ عَجَزُوا عَنْهَا ، فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا ، وَأُعْطِيَ أَهْلُ الإِنْجِيلِ الإِنْجِيلَ ، فَعَمِلُوا بِهِ حَتَّى إِذَا بَلَغُوا صَلاةَ الْعَصْرِ ، عَجَزُوا ، فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا ، وَأُعْطِيتُمُ الْقُرْآنَ ، فَعَمِلْتُمْ بِهِ حَتَّى إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ أُعْطِيتُمْ قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ ، قَالَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ : رَبَّنَا هَؤُلاءِ أَقَلُّ عَمَلا مِنَّا وَأَكْثَرُ أَجْرًا ، فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : هَلْ ظُلِمْتُمْ مِنْ أَجْرِكُمْ شَيْئًا ؟ فَقَالُوا : لا ، فَقَالَ : فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت منبر پر کھڑے ہوئے تھے: ”تم سے پہلے جو لوگ گزر چکے ہیں ان کے مقابلے میں تمہاری بقا یوں ہے جیسے عصر کی نماز سے لے کر سورج غروب ہونے تک کا درمیانی وقت ہوتا ہے۔ اہل تورات کو تورات دی گئی، انہوں نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ جب نصف دن گزر گیا تو وہ اس کے حوالے سے عاجز آ گئے، تو انہیں ایک ایک قیراط دے دیا گیا۔ اہل انجیل کو انجیل دی گئی، انہوں نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ جب وہ عصر کے وقت تک پہنچے تو عاجز آ گئے اور انہیں ایک ایک قیراط دے دیا گیا۔ تمہیں قرآن دیا گیا، تم نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ جب سورج غروب ہو گیا تو تمہیں دو دو قیراط دیے گئے۔ اہل تورات اور اہل انجیل نے کہا: اے ہمارے پروردگار! ان لوگوں نے ہم سے کم کام کیا ہے اور انہیں زیادہ اجر ملا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا میں نے تمہارے اجر کے حوالے سے کوئی زیادتی کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ تو پروردگار نے فرمایا: یہ میرا فضل ہے میں جسے چاہوں یہ عطا کر دوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7221]

7222

Sahih Ibn Hibban #7222

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَجِيءُ أَقْوَامٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ ، وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، پھر اس کے بعد والا ہے، پھر اس کے بعد والا ہے، پھر وہ لوگ آئیں گے جن میں سے کسی ایک شخص کی گواہی اس کی قسم سے پہلے ہوگی اور اس کی قسم اس کی گواہی سے پہلے ہوگی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7222]

7223

Sahih Ibn Hibban #7223

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِينَ يَلُونِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری امت میں سب سے بہتر وہ زمانہ ہے جو میرے بعد والا ہے، پھر ان کے بعد والا ہے، پھر ان کے بعد والا ہے۔ پھر وہ لوگ آئیں گے جن میں سے کسی ایک کی گواہی اس کی قسم سے پہلے ہوگی اور اس کی قسم اس کی گواہی سے پہلے ہوگی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7223]

7224

Sahih Ibn Hibban #7224

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ أَوْ مَلَكٌ ، فَقَالَ :كَيْفَ أَهْلُ بَدْرٍ فِيكُمْ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُمْ عِنْدَنَا أَفَاضِلُ النَّاسِ " ، قَالَ : وَكَذَلِكَ مَنْ شَهِدَ عِنْدَنَا مِنَ الْمَلائِكَةِ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : رَوَى هَذَا الْخَبَرَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَ أَبُوهُ وَجَدُّهُ مِنْ أَهْلِ الْعَقَبَةِ ، قَالَ : أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، وَسُفْيَانُ أَحْفَظُ مِنْ جَرِيرٍ وَأَتْقَنُ وَأَفْقَهُ ، كَانَ إِذَا حَفِظَ الشَّيْءَ لَمْ يُبَالِ بِمَنْ خَالَفَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا جبرائیل علیہ السلام (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں:) ایک فرشتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: آپ کے درمیان اہل بدر کی کیا حیثیت ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ہمارے نزدیک سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والے لوگ ہیں“، تو اس نے عرض کی: جو فرشتے اس میں شریک ہوئے تھے، وہ ہمارے نزدیک یہی حیثیت رکھتے ہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت جریر بن عبدالحمید نے یحییٰ بن سعید کے حوالے سے معاذ بن رفاعہ کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے۔ ان کے والد اور ان کے دادا رضی اللہ عنہما دونوں کو بیعت عقبہ میں شریک ہونے کا شرف حاصل ہے، وہ بیان کرتے ہیں: سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ سفیان ثوری نے یہ روایت یحییٰ بن سعید کے حوالے سے عبایہ بن رفاعہ کے حوالے سے اور ان کے دادا سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ سفیان، جریر کے مقابلے میں زیادہ بڑے حافظ الحدیث، زیادہ متقن اور زیادہ بڑے فقیہ ہیں اور جب وہ کسی چیز کو یاد رکھتے ہوں تو وہ اس کی پرواہ نہیں کرتے کہ ان کے برخلاف الفاظ کس نے نقل کیے ہیں)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7224]""

7225

Sahih Ibn Hibban #7225

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، أَنَّ سُحَيْمًا حَدَّثَهُ ، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : قُرِّبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرٌ وَرُطَبٌ ، فَأَكَلُوا مِنْهُ حَتَّىلَمْ يَبْقَ مِنْهُ شَيْءٌ إِلا نَوَاةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَدْرُونَ مَا هَذَا ؟ " ، قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " تَذْهَبُونَ الْخَيِّرَ فَالْخَيِّرَ ، حَتَّى لا يَبْقَى مِنْكُمْ إِلا مِثْلُ هَذَا"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تازہ اور خشک کھجوریں پیش کی گئیں۔ لوگوں نے انہیں کھا لیا، یہاں تک کہ ان میں سے ایک گٹھلی باقی رہ گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھے لوگ ایک ایک کر کے رخصت ہو جائیں گے، یہاں تک کہ تم میں سے صرف اس کی مانند (بیکار لوگ) باقی رہ جائیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7225]

7226

Sahih Ibn Hibban #7226

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ الْعَيْشِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ سَلْمَانِ الأَغَرِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ لا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَوْ آخِرُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے، یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ اس کا پہلا حصہ زیادہ بہتر ہے یا اس کا آخری حصہ زیادہ بہتر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7226]