Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 63 · Chapter 2

The Book of History

Hadith 7153–7192

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

7153

Sahih Ibn Hibban #7153

قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ : إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ : يَقُولُونَ : إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ ، أَوْ قَالَ : أَكْثَرَ وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ ، وَيَقُولُونَ : مَا بَالُ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ لا يَتَحَدَّثُونَ بِمِثْلِ أَحَادِيثِهِ ، وَسَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ : إِنَّ إِخْوَانِي مِنَ الأَنْصَارِ كَانَ يَشْغَلُهُمْ عَمَلٌ أَرَضِيهِمْ ، وَأَمَّا إِخْوَانِي مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ، فَكَانَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالأَسْوَاقِ ، وَكُنْتُ أَخْدِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِلْءِ بَطْنِي ، فَأَشْهَدُ مَا غَابُوا ، وَأَحْفَظُ إِذَا نَسُوا ، وَلَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا : أَيُّكُمْ يَبْسُطُ ثَوْبَهُ ، فَيَأْخُذُ حَدِيثِي هَذَا ، ثُمَّ يَجْمَعُهُ إِلَى صَدْرِهِ ، فَإِنَّهُ لَنْ يَنْسَى شَيْئًا يَسْمَعُهُ "، فَبَسَطْتُ بُرْدَةً عَلَيَّ حَتَّى جَمَعْتُهَا إِلَى صَدْرِي ، فَمَا نَسِيتُ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ شَيْئًا حَدَّثَنِي بِهِ ، وَلَوْلا آيَتَانِ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، مَا حُدِّثْتُ شَيْئًا أَبَدًا : إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى إِلَى آخِرِ الآيَةِ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : : قَوْلُ عَائِشَةَ : وَلَوْ أَدْرَكْتُهُ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ ، أَرَادَتْ بِهِ سَرْدَ الْحَدِيثِ لا الْحَدِيثَ نَفْسَهُ ، وَالدَّلِيلُ عَلَى هَذَا تَعْقِيبُهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”کیا تم لوگوں کو ابوہریرہ پر حیرت نہیں ہوتی؟ وہ آتے ہیں میرے حجرے کے دروازے کے پاس آ کر بیٹھ جاتے ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے احادیث بیان کرنا شروع کرتے ہیں، ان کی آواز مجھ تک آ رہی ہوتی ہے، میں اس وقت تسبیح پڑھ رہی ہوتی ہوں اور میں نے ابھی اپنی تسبیح مکمل نہیں کی ہوتی کہ اس سے پہلے ہی وہ اٹھ جاتے ہیں، اگر میرا ان سے سامنا ہوتا تو میں انہیں اس بات پر ٹوکتی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کی طرح اتنی تیزی سے بات چیت نہیں کرتے تھے۔“ ابن شہاب کہتے ہیں: ابن مسیب نے یہ بات بیان کی ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لوگ یہ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ بکثرت احادیث نقل کرتا ہے، (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) انہوں نے یہ کہا: زیادہ روایات نقل کرتا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ (کی بارگاہ میں حاضر ہونے) کا وعدہ ہے، لوگ یہ کہتے ہیں کہ کیا وجہ ہے مہاجرین اور انصار ابوہریرہ کی طرح اتنی زیادہ حدیثیں نقل نہیں کرتے؟ میں تم لوگوں کو اس بارے میں بتاتا ہوں، میرے انصاری بھائی اپنی زمینوں کے کام کاج میں مصروف رہتے تھے اور مہاجر بھائی بازار میں لین دین میں مصروف رہتے تھے، اور میں پیٹ بھرنے کی خاطر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، اس لیے میں اس وقت موجود رہا جب وہ موجود نہیں ہوتے تھے اور میں نے اس چیز کو یاد رکھا جس چیز کو وہ بھول گئے تھے۔ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کون شخص اپنے کپڑے کو پھیلائے گا اور پھر مجھ سے وہ حدیث حاصل کرے گا اور پھر وہ اس کپڑے کو اپنے سینے کے ساتھ لگا لے گا، تو وہ کوئی بھی سنی ہوئی بات کبھی نہیں بھولے گا؟“ تو میں نے اپنے جسم پر موجود چادر کو بچھایا، پھر میں نے اسے سینے کے ساتھ لگایا، اس کے بعد آج کے دن تک میں ایسی کوئی بات نہیں بھولا جو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی تھی، اللہ کی قسم! اگر اللہ کی کتاب میں موجود دو آیات نہ ہوتیں، تو میں کبھی کوئی حدیث بیان نہ کرتا، (وہ آیت یہ ہے): ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ﴾ [سورة البقرة: 159] ”بے شک وہ لوگ جو ہماری نازل کردہ واضح دلیلوں اور ہدایت میں سے (احکام کو) چھپاتے ہیں“ یہ آیت کے آخر تک ہے۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ کہنا کہ ”اگر میرا ان سے سامنا ہوتا تو میں انہیں ٹوک دیتی“ اس کے ذریعے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد یہ تھی کہ وہ جو تیزی سے گفتگو کرتے ہیں اس بات پر ٹوک دیتیں، محض حدیث بیان کرنے پر ٹوکنا مراد نہیں ہے، اور اس بات کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد انہوں نے یہ کہا: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی تیزی سے نہیں بولتے تھے جتنا تیز تیز تم لوگ بولتے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7153]

7154

Sahih Ibn Hibban #7154

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَمَا وَاللَّهِ مَا خَلَقَ اللَّهُ مُؤْمِنًا يَسْمَعُ بِي ، وَيَرَانِي إِلا أَحَبَّنِي ، قُلْتُ : وَمَا عِلْمُكَ بِذَلِكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ قَالَ : إِنَّ أُمِّي كَانَتِ امْرَأَةً مُشْرِكَةً ، وَكُنْتُ أَدْعُوهَا إِلَى الإِسْلامِ ، فَتَأْبَى عَلَيَّ ، فَدَعَوْتُهَا يَوْمًا ، فَأَسْمَعَتْنِي فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَكْرَهُ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَى الإِسْلامِ ، فَتَأْبَى عَلَيَّ ، وَأَدْعُوهَا فَأَسْمَعَتْنِي فِيكَ مَا أَكْرَهُ ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَهْدِيَ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ اهْدِهَا " ، فَلَمَّا أَتَيْتُ الْبَابَ إِذَا هُوَ مُجَافٌ ، فَسَمِعْتُ خَضْخَضَةَ الْمَاءِ ، وَسَمِعْتُ خَشْفَ رَجُلٍ أَوْ رِجُلٍ ، فَقَالَتْ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، كَمَا أَنْتَ ، وَفَتَحَتِ الْبَابَ وَلَبِسَتْ دِرْعَهَا ، وَعَجِلَتْ عَلَى خِمَارِهَا ، فَقَالَتْ : إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْكِي مِنَ الْفَرَحِ ، كَمَا بَكَيْتُ مِنَ الْحُزْنِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْشِرْ ، فَقَدِ اسْتَجَابَ اللَّهُ دَعَوْتَكَ ، قَدْ هَدَى اللَّهُ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَقَالَ : قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ الله أَنْ يُحَبِّبَنِي أَنَا وَأُمِّي إِلَى عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ ، وَيُحَبِّبَهُمْ إِلَيَّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" اللَّهُمَّ حَبِّبْ عُبَيْدَكَ وَأُمِّهِ إِلَى عِبَادَكَ الْمُؤْمِنِينَ وَحَبِّبْهُمْ إِلَيْهِمَا "، أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے جس بھی مومن کو پیدا کیا ہے، اگر وہ میرے بارے میں سن لے یا مجھے دیکھ لے، تو وہ مجھ سے محبت کرنے لگے گا۔ میں نے کہا: اے ابوہریرہ! آپ کو اس بات کا پتا کیسے چلا؟ انہوں نے فرمایا: میری والدہ ایک مشرک خاتون تھیں، میں انہیں اسلام کی طرف دعوت دیتا تھا، لیکن وہ میری بات نہیں مانتی تھیں، ایک مرتبہ میں نے انہیں دعوت دی تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایسی باتیں کیں جو مجھے اچھی نہیں لگیں۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں اس وقت رو رہا تھا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنی والدہ کو اسلام کی طرف دعوت دیتا ہوں لیکن وہ میری بات قبول نہیں کرتی ہیں، میں انہیں دعوت دیتا رہتا ہوں، اب انہوں نے آپ کے بارے میں ایسی باتیں کہی ہیں جو مجھے اچھی نہیں لگی ہیں، تو آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیجیے کہ وہ ابوہریرہ کی والدہ کو ہدایت نصیب فرمائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللَّهُمَّ اهْدِ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ» ”اے اللہ! تو اس عورت (ابوہریرہ کی والدہ) کو ہدایت نصیب فرما۔“”(سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) جب میں اپنے گھر کے دروازے پر آیا تو وہ بند تھا، مجھے پانی گرنے کی آواز سنائی دی اور چلنے کی آواز بھی سنائی دی، میری والدہ نے کہا: اے ابوہریرہ! تم جہاں ہو وہیں رہو، پھر میری والدہ نے جلدی سے لباس پہنا، چادر اوڑھی اور دروازہ کھول دیا۔ انہوں نے فرمایا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ» ”میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔“ تو جس طرح میں پہلے روتا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا، اسی طرح خوشی کے عالم میں روتا ہوا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے لیے خوشخبری ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کو مستجاب کر لیا ہے، اللہ تعالیٰ نے ابوہریرہ کی والدہ کو ہدایت نصیب کر دی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ میری اور میری والدہ کی محبت اپنے مومن بندوں کے دلوں میں ڈال دے اور میرے دل میں ان کی محبت ڈال دے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: ” «اللَّهُمَّ حَبِّبْ عُبَيْدَكَ هَذَا وَأُمَّهُ إِلَى عِبَادِكَ الْمُؤْمِنِينَ، وَحَبِّبْ إِلَيْهِمُ الْمُؤْمِنِينَ» ”اے اللہ! اپنے اس بندے اور اس کی والدہ کو اپنے مومن بندوں کے نزدیک محبوب کر دے اور ان مومنین کو ان دونوں کے نزدیک محبوب کر دے۔“” (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوکثیر سحیمی کا نام یزید بن عبدالرحمن ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7154]""

7155

Sahih Ibn Hibban #7155

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : كَانَأَبُو هُرَيْرَةَ جَرِيئًا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ لا نَسْأَلَهُ عَنْهَا"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں جرأت کا مظاہرہ کرتے تھے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیزوں کے بارے میں دریافت کرتے تھے جن کے بارے میں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت نہیں کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7155]

7156

Sahih Ibn Hibban #7156

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ ، وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي غِفَارَ يَؤُمُّهُمْ فِي الصُّبْحِ ، فَقَرَأَ فِي الأَوَّلى كهيعص ، وَفِي الثَّانِيَةِ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ ، وَكَانَ عِنْدَنَا رَجُلٌ لَهُ مِكْيَالانِ : مِكْيَالٌ كَبِيرٌ ، وَمِكْيَالٌ صَغِيرٌ ، يُعْطِي بِهَذَا وَيَأْخُذُ بِهَذَا "، فَقُلْتُ : وَيْلٌ لِفُلانٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب میں مدینہ منورہ آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خیبر میں موجود تھے، بنو غفار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص صبح کی نماز میں لوگوں کی امامت کر رہا تھا، اس نے پہلی رکعت میں سورہ مریم کی تلاوت کی اور دوسری رکعت میں سورہ مطففین کی تلاوت کی، ہمارے ہاں ایک شخص ہوتا تھا جس کے پاس دو قسم کے پیمانے تھے، ایک بڑا پیمانہ تھا اور ایک چھوٹا تھا، وہ ایک کے ذریعے ماپ کر دیتا تھا اور دوسرے کے ذریعے وصول کیا کرتا تھا (میرے ذہن میں اس کا خیال آیا) تو میں نے کہا: فلاں شخص تو برباد ہو گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7156]

7157

Sahih Ibn Hibban #7157

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةِ أَبِي الدَّحْدَاحِ ، فَلَمَّا صَلَّى عَلَيْهَا أُتِيَ بِفَرَسٍ فَرَكِبَهُ وَنَحْنُ نَسْعَى خَلْفَهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَمْ مِنْ عِذْقٍ مُدَلًّى لأَبِي الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ابودحداح کے جنازے میں شریک ہوئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نمازِ جنازہ ادا کر لی، تو ایک گھوڑا لایا گیا، آپ اس پر سوار ہوئے اور ہم آپ کے پیچھے تیزی سے چلتے ہوئے آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «كَمْ مِنْ عِذْقٍ مُعَلَّقٍ لِأَبِي الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّةِ» ”ابودحداح کے لیے جنت میں کتنے ہی کھجوروں کے گچھے (پیش کیے گئے ہیں)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7157]

7158

Sahih Ibn Hibban #7158

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي الدَّحْدَاحِ وَنَحْنُ شُهُودٌ ، فَأُتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفَرَسٍ فَرَكِبَهُ ، فَجَعَلَ يَتَوَقَّصُ بِهِ وَنَحْنُ نَسْعَى حَوْلَهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَمْ مِنْ عِذْقٍ لأَبِي الدَّحْدَاحِ مُعَلَّقٍ فِي الْجَنَّةِ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابودحداح رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ ادا کی، ہم اس وقت وہاں موجود تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے گھوڑا لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے، آپ نے اسے تیز چلایا تو ہم آپ کے اردگرد دوڑنے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابودحداح کے لیے جنت میں کتنے ہی (پھلوں کے) خوشے لٹکائے گئے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7158]

7159

Sahih Ibn Hibban #7159

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِفُلانٍ نَخْلَةً ، وَأَنَا أُقِيمُ حَائِطِي بِهَا ، فَمُرْهُ يُعْطِينِي أُقِيمُ بِهَا حَائِطِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَعْطِهِ إِيَّاهَا بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ " ، فَأَبَى ، فَأَتَاهُ أَبُو الدَّحْدَاحِ ، فَقَالَ : بِعْنِي نَخْلَتَكَ بِحَائِطِي ، فَفَعَلَ ، فَأَتَى أَبُو الدَّحْدَاحِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي قَدِ ابْتَعْتُ النَّخْلَةَ بِحَائِطِي ، وَقَدْ أَعْطَيْتُكُهَا ، فَاجْعَلْهَا لَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" كَمْ مِنْ عِذْقٍ دَوَّاحٍ لأَبِي الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّةِ "، مِرَارًا ، فَأَتَى أَبُو الدَّحْدَاحِ امْرَأَتَهُ ، فَقَالَ : يَا أُمَّ الدَّحْدَاحِ اخْرُجِي مِنَ الْحَائِطِ ، فَقَدْ بِعْتُهُ بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ ، فَقَالَتْ : رَبِحَ السِّعْرُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فلاں شخص کا کھجور کا درخت ہے، اس کے ذریعے میں اپنی دیوار کو کھڑا کرنا چاہتا ہوں، آپ اسے ہدایت کیجیے کہ وہ مجھے دے دے تاکہ میں اس کے ذریعے اپنی دیوار کو کھڑا کر لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنت میں کھجور کے درخت کے عوض تم یہ اسے دے دو۔“ اس نے یہ بات تسلیم نہیں کی، تو ابودحداح رضی اللہ عنہ اس کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تم اپنا کھجور کا درخت میرے باغ کے عوض میں مجھے فروخت کر دو، اس نے ایسا کر لیا۔ پھر سیدنا ابودحداح رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے کھجور کا وہ درخت اپنے باغ کے عوض میں خرید لیا ہے، وہ میں آپ کی نذر کرتا ہوں، آپ وہ اسے دے دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ابودحداح کے لیے جنت میں کتنے ہی کھجوروں کے خوشے موجود ہیں۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مرتبہ ارشاد فرمائی۔ پھر ابودحداح رضی اللہ عنہ اپنی اہلیہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے ام دحداح! تم اپنے باغ سے نکل جاؤ کیونکہ میں نے اسے جنت میں ایک درخت کے عوض میں فروخت کر دیا ہے، تو اس خاتون نے کہا: یہ منافع کا سودا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7159]

7160

Sahih Ibn Hibban #7160

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : دَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّابْنَ سُفْيَانَ بْنَ نُبَيْحٍ الْهُذَلِيَّ جَمَعَ لِيَ النَّاسَ لِيَغزُوَنِي ، وَهُوَ بِنَخْلَةَ أَوْ بِعُرَنَةَ ، فَأْتِهِ " ، فَاقْتَلَهُ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، انْعَتْهُ لِي حَتَّى أَعْرِفَهُ ، قَالَ : " آيَةُ مَا بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ أَنَّكَ إِذَا رَأَيْتَهُ وَجَدْتَ لَهُ قُشَعْرِيَرَةً " ، قَالَ : فَخَرَجْتُ مُتَوَشِّحًا بِسَيْفِي حَتَّى دُفِعْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ فِي ظُعُنٍ يَرْتَادُ لَهُنَّ مَنْزِلا حِينَ كَانَ وَقْتُ الْعَصْرِ ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ وَجَدْتُ مَا وَصَفَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْقُشَعْرِيرَةِ ، فَأَخَذْتُ نَحْوَهُ ، وَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ مُجَاوَلَةٌ تَشْغَلُنِي عَنِ الصَّلاةِ ، فَصَلَّيْتُ وَأَنَا أَمْشِي نَحْوَهُ ، وَأُومِئُ بِرَأْسِي ، فَلَمَّا انْتَهَيْتُ إِلَيْهِ ، قَالَ : مِمَّنِ الرَّجُلُ ؟ قُلْتُ : رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ سَمِعَ بِكَ وَبِجَمْعِكَ لِهَذَا الرَّجُلِ ، فَجَاءَ لِذَلِكَ ، قَالَ : فَقَالَ : أَنَا فِي ذَلِكَ ، فَمَشَيْتُ مَعَهُ شَيْئًا حَتَّى إِذَا أَمْكَنَنِي ، حَمَلْتُ عَلَيْهِ بِالسَّيْفِ حَتَّى قَتَلْتُهُ ، ثُمَّ خَرَجْتُ ، وَتَرَكْتُ ظَعَائِنَهُ مُنْكَبَّاتٍ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَآنِي ، قَالَ : " قَدْ أَفْلَحَ الْوَجْهُ " ، قُلْتُ : قَتَلْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " صَدَقْتَ " ، قَالَ : ثُمَّ قَامَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَدْخَلَنِي بَيْتَهُ ، وَأَعْطَانِي عَصًا ، فَقَالَ : " أَمْسِكْ هَذِهِ الْعَصَا عِنْدَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُنَيْسٍ " ، قَالَ : فَخَرَجْتُ بِهَا عَلَى النَّاسِ : فَقَالُوا : مَا هَذِهِ الْعَصَا ؟ قُلْتُ : أَعْطَانِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُمْسِكَهَا ، قَالُوا : أَفَلا تَرْجِعُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَسْأَلَهُ لِمَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمَ أَعْطَيْتَنِي هَذِهِ الْعَصَا ؟ قَالَ : " آيَةٌ بَيْنِي وَبَيْنَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِنَّ أَقَلَّ النَّاسِ الْمُتَخَصِّرُونَ يَوْمَئِذٍ "، فَقَرَنَهَا عَبْدُ اللَّهِ بِسَيْفِهِ ، فَلَمْ تَزَلْ مَعَهُ حَتَّى إِذَا مَاتَ أَمَرَ بِهَا ، فَضُمَّتْ مَعَهُ فِي كَفَنِهِ ، ثُمَّ دُفِنَا جَمِيعًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا اور ارشاد فرمایا: ”مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ سفیان بن نبیح ہذلی کے بیٹے نے میرے لیے لوگوں کو اکٹھا کیا ہے تاکہ وہ میرے ساتھ لڑائی کریں، اس وقت وہ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) کھجور کے درخت کے پاس موجود ہے یا عرینہ کے پاس موجود ہے، تم اس کے پاس جاؤ۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اس کا حلیہ میرے سامنے بیان کر دیں تاکہ میں اسے پہچان لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے اور اس کے درمیان مخصوص نشانی یہ ہے کہ تم اسے دیکھو گے تو اسے دیکھ کر تم پر کپکپی طاری ہو جائے گی۔“ راوی کہتے ہیں: میں اپنی تلوار کھینچ کر روانہ ہو گیا، یہاں تک کہ جب میں اس کے پاس پہنچا تو وہ اس وقت پڑاؤ کی جگہ پر اپنی عورتوں کے ساتھ تھا، یہ عصر کے وقت کی بات ہے۔ جب میں نے اسے دیکھا تو مجھے وہی چیز محسوس ہوئی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سامنے بیان کی تھی اور مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی، میں اس کی طرف بڑھا لیکن پھر مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں میرے اور اس کے درمیان ہونے والی لڑائی مجھے نماز سے مشغول نہ کر دے، تو میں نے نماز ادا کر لی حالانکہ میں اس وقت اس کی طرف چل رہا تھا اور میں سر کے ذریعے اشارہ کرتا تھا۔ میں اس کے پاس پہنچا تو اس نے دریافت کیا: کون ہے؟ میں نے کہا: میں ایک عرب ہوں، میں نے تمہارے بارے میں سنا ہے کہ تم نے ان صاحب کے لیے لوگوں کو اکٹھا کیا ہے تو میں بھی اسی لیے یہاں آیا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: اس نے کہا: ”میرا تو یہی مقصد تھا۔“ پھر میں اس کے ساتھ کچھ دیر چلتا رہا یہاں تک کہ جب مجھے موقع ملا تو میں نے اس پر تلوار کا وار کر کے اسے قتل کر دیا، پھر میں وہاں سے نکلا تو اس کی عورتیں اس پر جھکی ہوئی تھیں۔ جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملاحظہ کیا تو ارشاد فرمایا: ” «أَفْلَحَ الْوَجْهُ» ”یہ چہرہ کامیاب ہو گیا۔““ میں نے عرض کی: میں نے اسے قتل کر دیا ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے سچ کہا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے ساتھ اپنے گھر میں لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک عصا عطا کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبداللہ بن انیس! اس عصا کو اپنے پاس رکھنا۔“ راوی کہتے ہیں: میں وہ لے کر لوگوں کے پاس آیا تو انہوں نے دریافت کیا: یہ عصا کیسا ہے؟ میں نے کہا: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ ہدایت کی ہے کہ میں اسے سنبھال کے رکھوں۔ لوگوں نے کہا: کیا تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف واپس جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دریافت نہیں کرتے کہ ایسا کیوں ہے؟ راوی کہتے ہیں: میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عصا مجھے کیوں عطا کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «آيَةٌ بَيْنِي وَبَيْنَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ”یہ قیامت کے دن میرے اور تمہارے درمیان مخصوص نشانی ہوگی“، اس دن بہت کم لوگ (ایسے اعزاز کے ساتھ) ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے۔“ (راوی کہتے ہیں:) تو سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے اسے اپنی تلوار کے ساتھ ملا دیا اور وہ مسلسل ان کے پاس رہا، یہاں تک کہ جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے حکم کے تحت وہ عصا ان کے ساتھ ان کے کفن میں رکھ دیا گیا اور ان دونوں کو دفن کیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7160]

7161

Sahih Ibn Hibban #7161

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلامٍ : أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْدَمَهُ الْمَدِينَةَ ، فَقَالَ : إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ ثَلاثِ خِصَالٍ لا يَعْلَمُهُنَّ إِلا نَبِيٌّ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَلْ " ، قَالَ : مَا أَوَّلُ أَمْرِ السَّاعَةِ ، أَوْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ ؟ وَمَا أَوَّلُ مَا يَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ ؟ وَمِمَّ يَنْزِعُ الْوَلَدُ إِلَى أَبِيهِ وَإِلَى أُمِّهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَخْبَرَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ بِهِنَّ آنِفًا " ، قَالَ : جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : ذَاكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ مِنَ الْمَلائِكَةِ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّاأَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ ، أَوْ أَمْرِ السَّاعَةِ ، نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْمَشْرِقِ تَحْشُرُ النَّاسَ إِلَى الْمَغْرِبِ ، وَأَمَّا أَوَّلُ مَا يَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَزِيَادَةُ كَبِدِ حُوتٍ ، وَأَمَّا مَا يَنْزِعُ الْوَلَدُ إِلَى أَبِيهِ وَإِلَى أُمِّهِ ، فَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ نَزَعَ الْوَلَدُ إِلَى أَبِيهِ ، وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ نَزَعَ الْوَلَدُ إِلَى أُمِّهِ " ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهْتَةٌ ، اسْتَنْزِلْهُمْ ، وَسَلْهُمْ أَيُّ رَجُلٍ أَنَا فِيهِمْ قَبْلَ أَنْ يَعْلَمُوا بِإِسْلامِي ، فَجَاءَ مِنْهُمْ رَهْطٌ ، فَسَأَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ ؟ " قَالُوا : خَيْرُنَا ، وَابْنُ خَيْرِنَا وَسَيِّدُنَا ، وَابْنُ سَيِّدِنَا ، وَأَعْلَمُنَا وَابْنُ أَعْلَمِنَا ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ ؟ " ، قَالُوا : أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ ، وَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، فَقَالُوا : شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا، قَالَ : يَقُولُ عَبْدُ اللَّهِ : هَذَا الَّذِي كُنْتُ أَتَخَوَّفُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے موقع پر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: میں آپ سے تین چیزوں کے بارے میں دریافت کروں گا، ان چیزوں کے بارے میں کسی نبی کو ہی علم ہو سکتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دریافت کرو۔“ انہوں نے عرض کی: قیامت کی پہلی نشانی کیا ہے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)؟ اہل جنت سب سے پہلے کیا چیز کھائیں گے؟ اور وہ کون سی چیز ہے جو بچے کو اس کے باپ یا اس کی ماں کی طرف کھینچ کر لے جاتی ہے (جس کی وجہ سے بچہ ماں یا باپ سے مشابہت رکھتا ہے)؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان چیزوں کے بارے میں ابھی جبرائیل نے مجھے بتایا ہے۔“ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: جبرائیل نے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: فرشتوں میں سے وہ تو یہودیوں کے نزدیک ناپسندیدہ شخصیت ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کی سب سے پہلی نشانی (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) وہ آگ ہو گی جو مشرق کی طرف سے نکلے گی اور لوگوں کو اکٹھا کر کے مغرب کی طرف لے جائے گی۔ اہل جنت سب سے پہلے جو چیز کھائیں گے وہ مچھلی کے جگر کا اضافی حصہ ہو گا، اور جو چیز بچے کو اس کے باپ یا ماں کی طرف کھینچ کر لے جاتی ہے، تو جب مرد کا مادہ عورت کے مادے پر سبقت لے جائے تو بچہ باپ کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے، اور جب عورت کا مادہ مرد کے مادے پر سبقت لے جائے تو بچہ ماں کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے۔“ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہودی ایک ایسی قوم ہے جو بہتان تراشی کرتے ہیں، آپ انہیں بلوائیں اور ان سے دریافت کیجئے میں ان کے درمیان کیسا شخص ہوں، اس سے پہلے کہ انہیں میرے اسلام قبول کرنے کا علم ہو جائے؛ پھر یہودیوں سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: ”عبداللہ بن سلام کیسا شخص ہے؟“ انہوں نے کہا: وہ ہمارے سب سے بہتر شخص اور ہمارے سب سے بہتر شخص کے صاحب زادے ہیں اور وہ ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے صاحب زادے ہیں، وہ ہمارے سب سے بڑے عالم اور سب سے بڑے عالم کے صاحب زادے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر وہ اسلام قبول کر لے تو پھر تمہاری کیا رائے ہو گی؟“ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ انہیں اس چیز سے بچائے۔ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نکل کر ان کے سامنے آئے اور بولے: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو ان یہودیوں نے کہا: آپ ہمارے سب سے برے شخص اور سب سے زیادہ برے شخص کے صاحب زادے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے اسی بات کا اندیشہ تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7161]

7162

Sahih Ibn Hibban #7162

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نَشِيطٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ النَّخَعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ ، قَالَ : انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا كَنِيسَةَ الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ يَوْمَ عِيدِهِمْ ، وَكَرِهُوا دُخُولَنَا عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ ،أَرُونِي اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلا يَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ يُحْبِطُ اللَّهُ عَنْ كُلِّ يَهُودِيٍّ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ الْغَضَبَ الَّذِي غَضِبَ عَلَيْهِ " ، قَالَ : فَأَمْسَكُوا وَمَا أَجَابَهُ مِنْهُمْ أَحَدٌ ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِمْ ، فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ ، ثُمَّ ثَلَّثَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ ، فَقَالَ : " أَبَيْتُمْ فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَنَا الْحَاشِرُ ، وَأَنَا الْعَاقِبُ ، وَأَنَا الْمُقَفِّي ، آمَنْتُمْ أَوْ كَذَّبْتُمْ " ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى دَنَا أَنْ يَخْرُجَ ، فَإِذَا رَجُلٌ مِنْ خَلْفِنَا يَقُولُ : كَمَا أَنْتَ يَا مُحَمَّدُ ، قَالَ : فَقَالَ ذَلِكَ الرَّجُلُ : أَيُّ رَجُلٍ تَعْلَمُونِي فِيكُمْ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ ؟ قَالُوا : مَا نَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَ فِينَا رَجُلٌ أَعْلَمُ بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَلا أَفْقَهُ مِنْكَ ، وَلا مِنْ أَبِيكَ مِنْ قَبْلِكَ ، وَلا مِنْ جَدِّكَ قَبْلَ أَبِيكَ ، قَالَ : فَإِنِّي أَشْهَدُ لَهُ بِاللَّهِ أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ الَّذِي تَجِدُونَهُ فِي التَّوْرَاةِ ، قَالُوا : كَذَبْتَ ، ثُمَّ رُدُّوا عَلَيْهِ ، وَقَالُوا لَهُ شَرًّا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَذَبْتُمْ ، لَنْ يُقْبَلَ قَوْلُكُمْ ، أَمَّا آنِفًا ، فَتُثْنُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا أَثْنَيْتُمْ ، وَأَمَّا إِذَا آمَنَ كَذَّبْتُمُوهُ ، وَقُلْتُمْ مَا قُلْتُمْ ، فَلَنْ يُقْبَلَ قَوْلُكُمْ " ، قَالَ : فَخَرَجْنَا ، وَنَحْنُ ثَلاثَةٌ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ : قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَكَفَرْتُمْ بِهِ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے اور میں آپ کے ساتھ تھا، یہاں تک کہ آپ مدینہ منورہ میں موجود یہودیوں کی عبادت گاہ میں داخل ہوئے، یہ ان کے عید کے دن کی بات ہے، انہیں ہمارا ان کے ہاں جانا اچھا نہیں لگا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے یہودیوں کے گروہ! مجھے ایسے بارہ آدمی دکھاؤ جو اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبودِ برحق نہیں اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں، تو اللہ تعالیٰ آسمان کے نیچے موجود ہر یہودی پر کیے گئے غضب کو اٹھا لے گا جو غضب اس نے ان پر کیا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: وہ لوگ خاموش رہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی جواب نہیں دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ ان کے سامنے یہ بات دہرائی تو پھر کسی نے آپ کو جواب نہیں دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ یہ بات دہرائی تو پھر بھی کسی نے آپ کو جواب نہیں دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ یہ بات نہیں مانتے! اللہ کی قسم! میں «الْحَاشِرُ» ”حاشر“ ہوں، میں «الْعَاقِبُ» ”عاقب“ ہوں اور میں «الْمُقَفِّي» ”مقفی“ ہوں، خواہ تم لوگ ایمان لاؤ یا جھٹلاؤ۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے اور میں آپ کے ساتھ تھا، یہاں تک کہ ابھی آپ ان کی عبادت گاہ سے باہر نکلنے لگے تھے کہ اسی دوران ہمارے پیچھے سے ایک شخص نے آواز دی: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! رک جائیں، راوی کہتے ہیں: پھر اس شخص نے کہا: ”اے یہودیوں کے گروہ! تم لوگ اپنے درمیان مجھے کیسا جانتے ہو؟“ ان لوگوں نے کہا: ہمیں ایسے کسی شخص کا علم نہیں ہے جو ہمارے درمیان موجود ہو اور وہ اللہ کی کتاب کا آپ سے بڑا عالم ہو یا اس کے بارے میں آپ سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہو، اور نہ ہی ہمیں کسی ایسے شخص کے بارے میں علم ہے جو اس سے پہلے آپ کے والد سے زیادہ بڑا عالم ہو اور نہ آپ کے والد سے پہلے آپ کے دادا سے زیادہ بڑا عالم ہو، تو اس شخص نے کہا: ”میں ان صاحب کے بارے میں اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے وہی نبی ہیں جن کا ذکر تم تورات میں پاتے ہو۔“ تو ان لوگوں نے کہا: ”تم جھوٹ کہہ رہے ہو۔“ پھر ان لوگوں نے ان صاحب کی بات کو مسترد کر دیا اور ان کے بارے میں بری باتیں کہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ جھوٹ کہہ رہے ہو، تمہاری بات کو قبول نہیں کیا جائے گا؛ ابھی تھوڑی دیر پہلے تم نے بھلائی کے حوالے سے اس شخص کی تعریفیں بیان کی ہیں اور اب جب یہ ایمان لے آیا ہے تو تم نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے اور اس طرح کی باتیں کی ہیں، تو تمہارے قول کو قبول نہیں کیا جائے گا۔“ راوی کہتے ہیں: جب ہم وہاں سے باہر نکلے تو ہم تین افراد تھے؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، میں اور سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ، تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَكَفَرْتُمْ بِهِ﴾ [سورة الأحقاف: 10] ”تم یہ فرما دو: تمہارا کیا خیال ہے اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کیا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7162]

7163

Sahih Ibn Hibban #7163

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ذَكْوَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالا : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقُولُ لأَحَدٍ يَمْشِي عَلَى الأَرْضِ : إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " ، إِلا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلامٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو روئے زمین پر چلنے والے کسی بھی شخص کے بارے میں یہ کہتے ہوئے نہیں سنا: ”یہ جنتی ہے“ صرف عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے بارے میں (میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7163]

7164

Sahih Ibn Hibban #7164

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ ، فَأَصَبْنَا مِنْهَا ، فَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَطْلُعُ رَجُلٌ مِنْ هَذَا الْفَجِّ يَأْكُلُ هَذِهِ الْقَصْعَةَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " ، فَقَالَ سَعْدٌ : وَكُنْتُ تَرَكْتُ أَخِي عُمَيْرًا يَتَطَهَّرُ ، فَقُلْتُ : هُوَ أَخِي ، فَجَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ فَأَكَلَهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن سعد اپنے والد (سیدنا سعد رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک پیالہ لایا گیا، ہم نے اس میں سے کھا لیا پھر کچھ بچ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس راستے سے تمہارے سامنے ایک شخص آئے گا، جو اس پیالے میں سے کھائے گا اور وہ جنتی ہو گا۔“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنے بھائی سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے چھوڑ کر آیا تھا، میں نے سوچا وہ میرا بھائی ہی ہو گا لیکن سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور انہوں نے وہ کھانا کھایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7164]

7165

Sahih Ibn Hibban #7165

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمِيرَةَ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ ، قَالُوا : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَوْصِنَا ، قَالَ : أَجْلِسُونِي ، ثُمّ قَالَ : وَالإِيمَانَ مَظَانَّهُمَا ، مَنِ الْتَمَسَهُمَا وَجَدَهُمَا ، أَوَ الْعِلْمُ وَالإِيمَانُ مَكَانَهُمَا ، مَنِ الْتَمَسَهُمَا وَجَدَهُمَا ،فَالْتَمِسُوا الْعِلْمَ عِنْدَ أَرْبَعَةٍ : عِنْدَ عُوَيْمِرٍ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، وَعِنْدَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ، وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلامٍ الَّذِي كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ ، فَإِنِّي سمعت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّهُ عَاشِرُ عَشْرَةٍ فِي الْجَنَّةِ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید بن عمیرہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا آخری وقت قریب آیا، تو لوگوں نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! آپ ہمیں تلقین کیجیے۔ انہوں نے فرمایا: تم لوگ مجھے بٹھا دو، پھر انہوں نے ارشاد فرمایا: عمل اور ایمان کا ماخذ ایک ہی ہے، جو شخص ان دونوں کو تلاش کرے گا وہ ان دونوں کو پا لے گا۔ علم اور ایمان کا مخصوص مقام ہے، جو شخص ان دونوں کو طلب کرے گا وہ ان دونوں کو پا لے گا، تم لوگ علم کو چار آدمیوں کے پاس تلاش کرو: ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس، سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے پاس، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس اور عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے پاس، جو پہلے یہودی تھے پھر مسلمان ہو گئے۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”یہ دس آدمیوں میں سے وہ دسواں شخص ہے جو جنتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7165]

7166

Sahih Ibn Hibban #7166

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا فِي حَلْقَةٍ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ فِيهَا شَيْخٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ ، وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُمْ حَدِيثًا حَسَنًا ، فَلَمَّا قَامَ ، قَالَ الْقَوْمُ : مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا ، قَالَ : قُلْتُ وَاللَّهِ لأَتْبَعَنَّهُ فَلأَعْلَمَنَّ بَيْتَهُ ، قَالَ : فَتَبِعْتُهُ فَانْطَلَقَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَخْرُجَ مِنَ الْمَدِينَةِ ، دَخَلَ مَنْزِلَهُ ، فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَأَذِنَ لِي ، فَقَالَ : مَا حَاجَتُكَ يَا ابْنَ أَخِي ؟ قُلْتُ : إِنِّي سَمِعْتُ الْقَوْمَ يَقُولُونَ لَمَّا قُمْتَ : مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا ، فَأَعْجَبَنِي أَنْ أَكُونَ مَعَكَ ، قَالَ : اللَّهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَسَأُخْبِرُكَ مِمَّا قَالُوا ذَلِكَ ، إِنِّيبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ ، أَتَانِي رَجُلٌ ، فَقَالَ : قُمْ ، فَأَخَذَ بِيَدِي ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ ، فَإِذَا أَنَا بِجَوَادٍ عَنْ شِمَالِي ، فَأَخَذْتُ لآخُذَ فِيهَا ، فَقَالَ لِي : لا تَأْخُذْ فِيهَا ، فَإِنَّهَا طُرُقُ أَصْحَابِ الشِّمَالِ ، قَالَ : وَإِذَا جَوَادٌ مَنْهَجٌ عَنْ يَمِينِي ، قَالَ لِي : خُذْ هَا هُنَا ، فَأَتَى بِي جَبَلا ، فَقَالَ لِي : اصْعَدْ فَوْقَ هَذَا ، فَجَعَلْتُ إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَصْعَدَ ، خَرَرْتُ عَلَى اسْتِي حَتَّى فَعَلْتُهُ مِرَارًا ، ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى أَتَى بِي عَمُودًا رَأْسُهُ فِي السَّمَاءِ ، وَأَسْفَلُهُ فِي الأَرْضِ ، وَأَعْلاهُ حَلْقَةٌ ، فَقَالَ لِي : اصْعَدْ فَوْقَ هَذَا ، فَقُلْتُ : كَيْفَ أَصْعَدُ فَوْقَ هَذَا وَرَأْسُهُ فِي السَّمَاءِ ؟ فَأَخَذَ بِيَدِي فَزَحَلَ بِي ، فَإِذَا أَنَا مُتَعَلِّقٌ بِالْحَلْقَةِ ، ثُمَّ ضَرَبَ الْعَمُودَ فَخَرَّ وَبَقِيتُ مُتَعَلِّقًا بِالْحَلْقَةِ حَتَّى أَصْبَحْتُ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : أَمَّا الطَّرِيقُ الَّذِي رَأَيْتَ عَلَى يَسَارِكَ ، فَهِيَ طَرِيقُ أَصْحَابِ الشِّمَالِ ، وَأَمَّا الطَّرِيقُ الَّذِي رَأَيْتَ عَنْ يَمِينِكَ ، فَهِيَ طَرِيقُ أَصْحَابِ الْيَمِينِ ، وَالْجَبَلُ هُوَ مَنَازِلُ الشُّهَدَاءِ وَلَنْ تَنَالَهُ ، وَأَمَّا الْعَمُودُ فَهُوَ عَمُودُ الإِسْلامِ ، وَأَمَّا الْعُرْوَةُ فَهِيَ عُرْوَةُ الإِسْلامِ ، وَلَنْ تَزَالَ مُسْتَمْسِكًا بِهَا حَتَّى تَمُوتَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الصَّوَابُ : " فَزَجَلَ " ، وَالسَّمَاعُ : " فَزَحَلَ " ، بِالْحَاءِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خرشہ بن حر بیان کرتے ہیں: میں مدینہ منورہ کی مسجد میں ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا، اس میں ایک عمر رسیدہ شخص موجود تھا جو بہت خوبصورت تھا، وہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنا شروع کی تو عمدہ گفتگو کی، جب وہ اٹھ گئے تو لوگوں نے کہا: ”جو شخص کسی جنتی کو دیکھنا چاہتا ہو وہ ان صاحب کو دیکھ لے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے سوچا، اللہ کی قسم! میں ضرور ان کے پیچھے جاؤں گا اور ان کے گھر کے بارے میں جان لوں گا۔ راوی کہتے ہیں: میں ان کے پیچھے چل پڑا، وہ روانہ ہوئے یہاں تک کہ وہ مدینہ منورہ کی آخری سرحد کے قریب اپنے گھر کے اندر تشریف لے گئے، میں نے ان کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، انہوں نے مجھے اجازت دی۔ انہوں نے دریافت کیا: ”اے میرے بھتیجے! تمہیں کیا کام ہے؟“ میں نے کہا: جب آپ اٹھے تھے تو میں نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ”جو شخص کسی جنتی کو دیکھنا چاہتا ہو وہ ان صاحب کو دیکھ لے“، تو مجھے یہ بات اچھی لگی کہ میں آپ کے ساتھ رہوں۔ انہوں نے فرمایا: ”اہل جنت کے بارے میں اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے، لیکن میں تمہیں اس چیز کے بارے میں بتاتا ہوں جو لوگوں نے کہی ہے، ایک مرتبہ میں سویا ہوا تھا، ایک شخص میرے پاس آیا اور بولا: ”اٹھو!“ اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور میں چل پڑا، مجھے اپنے بائیں طرف ایک راستہ نظر آیا، میں اس کی طرف جانے لگا تو اس شخص نے مجھ سے کہا: ”تم اس کی طرف نہ جاؤ کیونکہ یہ بائیں طرف والے لوگوں کا راستہ ہے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر مجھے اپنی دائیں طرف ایک راستہ نظر آیا، اس شخص نے مجھ سے کہا: ”تم اس راستے کو اختیار کر لو“، پھر وہ مجھے لے کر ایک پہاڑ کے پاس آیا اور اس نے مجھ سے کہا: ”تم اس پر چڑھ جاؤ“، میں نے جب اس پر چڑھنے کا ارادہ کیا تو میں اپنی سرین کے بل گر پڑا، میں نے کئی مرتبہ ایسا کیا، پھر وہ شخص گیا اور میرے لیے ایک سیڑھی لے کر آیا جس کا اوپر والا سرا آسمان میں تھا اور نیچے والا حصہ زمین میں تھا، اس کے بلندی والے حصے پر ایک حلقہ تھا، اس نے مجھ سے کہا: ”تم اس پر چڑھ جاؤ“، میں نے کہا: میں اس پر کیسے چڑھ سکتا ہوں جب کہ اس کا سرا آسمان میں ہے، اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اس پر چڑھا دیا تو مجھے لگا میں اس حلقے کے ساتھ معلق ہوں، پھر اس نے ستون پر مارا تو وہ گر گیا اور میں اس حلقے کے ساتھ لٹکا رہ گیا، جب صبح ہوئی تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ کے سامنے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”جہاں تک اس راستے کا تعلق ہے جو تم نے اپنے بائیں طرف دیکھا تھا، وہ بائیں طرف والے لوگوں کا راستہ تھا اور جہاں تک اس راستے کا تعلق ہے جس کو تم نے دائیں طرف دیکھا تھا، تو وہ دائیں طرف والے لوگوں کا راستہ تھا اور وہ پہاڑ شہدا کی جائے قیام تھی، تم اس تک نہیں پہنچ سکتے تھے، جہاں تک ستون کا تعلق ہے تو وہ اسلام کا ستون تھا اور جہاں تک رسی کا تعلق ہے تو وہ اسلام کی رسی تھی، تم مرتے دم تک اس کو مضبوطی سے تھامے رہو گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) درست لفظ «فَزَجَلَ» ہے، البتہ راوی نے اس کو نقل کرتے ہوئے «فَزَحَلَ» نقل کیا ہے یعنی ”ح“ کے ساتھ نقل کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7166]

7167

Sahih Ibn Hibban #7167

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ الأَنْصَارِيَّ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أَكُونَ قَدْ هَلَكْتُ ، قَالَ : لِمَ ؟ " ، قَالَ : قَدْ نَهَانَا اللَّهُ عَنْ أَنْ نُحِبَّ أَنْ نُحْمَدَ بِمَا لَمْ نَفْعَلْ ، وَأَجِدُنِي أُحِبُّ الْحَمْدَ ، وَنَهَى اللَّهُ عَنِ الْخُيَلاءِ ، وَأَجِدُنِي أُحِبُّ الْجَمَالَ ، وَنَهَى اللَّهُ أَنْ نَرْفَعَ أَصْوَاتَنَا فَوْقَ صَوْتِكَ ، وَأَنَا امْرُؤٌ جَهِيرُ الصَّوْتِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا ثَابِتُ ،أَلا تَرْضَى أَنْ تَعِيشَ حَمِيدًا ، وَتُقْتَلَ شَهِيدًا ، وَتَدْخُلَ الْجَنَّةَ ؟ " ، قَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ : فَعَاشَ حَمِيدًا ، وَقُتِلَ شَهِيدًا يَوْمَ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ثابت بن قیس انصاری رضی اللہ عنہ کے صاحب زادے اسمٰعیل نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ میں ہلاکت کا شکار ہو جاؤں گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”وہ کیوں؟“ انہوں نے عرض کی: اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم اس چیز کو پسند کریں، جو ہم نے نہیں کیا اور اس پر ہماری تعریف کی جائے ﴿وَيُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا﴾ [سورة آل عمران: 188] اور مجھے اپنے اندر یہ بات ملتی ہے کہ میں اپنی تعریف کو پسند کرتا ہوں، اسی طرح اللہ نے اپنے اوپر اترانے سے منع کیا ہے ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ﴾ [سورة لقمان: 18] اور مجھے اپنے اندر یہ چیز ملتی ہے کہ میں جمال کو پسند کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے اس بات سے بھی منع کیا ہے کہ ہم اپنی آوازیں آپ کی آواز سے بلند کریں ﴿لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ﴾ [سورة الحجرات: 2] اور میں ایک ایسا شخص ہوں جس کی آواز بلند ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ثابت! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم قابلِ تعریف زندگی بسر کرو اور شہید ہونے کے عالم میں مارے جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ؟“ میں نے عرض کی: ”جی ہاں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔“ راوی بیان کرتے ہیں: تو انہوں نے لائقِ تعریف زندگی گزاری اور مسیلمہ کذاب کے ساتھ لڑائی کے دن شہید ہوئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7167]

7168

Sahih Ibn Hibban #7168

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمُ فَوْقَ صَوْتِ صَوْتِ النَّبِيِّ ، وَلا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ ،قَعَدَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ فِي بَيْتِهِ ، وَقَالَ : أَنَا الَّذِي كُنْتُ أَرْفَعُ صَوْتِي ، وَأَجْهَرُ لَهُ بِالْقَوْلِ ، وَأَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ : بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ "، قَالَ أَنَسٌ : فَكُنَّا نَرَاهُ يَمْشِي بَيْنَ أَظْهُرِنَا ، وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْيَمَامَةِ وَكَانَ ذَلِكَ الانْكِشَافُ ، لَبِسَ ثِيَابَهُ ، وَتَحَنَّطَ وَتَقَدَّمَ ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت ﴿یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ﴾ [سورة الحجرات: 2] ”اے ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اونچا نہ کرو اور آپ کے سامنے بلند آواز میں بات نہ کرو۔“ نازل ہوئی تو سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں بیٹھ گئے، انہوں نے کہا: میں وہ شخص ہوں کہ میں اپنی آواز بلند کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اونچی آواز میں بات کرتا ہوں تو میں تو جہنمی ہو گیا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غیر موجود پایا (اور ان کے بارے میں دریافت کیا) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی صورت حال کے بارے میں بتایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”(جی نہیں) بلکہ وہ اہل جنت میں سے ہے۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب ہم انہیں اپنے درمیان چلتا پھرتا دیکھتے تھے تو ہمیں اس بات کا پتہ تھا یہ جنتی ہیں، لیکن جب جنگ یمامہ کا موقع آیا تو یہ صورت حال کو واضح کرنے والا تھا، انہوں نے اپنے کپڑے پہنے، خوشبو لگائی، آگے بڑھے، جنگ میں حصہ لیا اور شہید ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7168]

7169

Sahih Ibn Hibban #7169

أَخْبَرَنَا ابن خزيمة ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمُ فَوْقَ صَوْتِ صَوْتِ النَّبِيِّ ، قَالَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ : أَنَا وَاللَّهِ الَّذِي كُنْتُ أَرْفَعُ صَوْتِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا أَخْشَى أَنْ يَكُونَ اللَّهُ قَدْ غَضِبَ عَلَيَّ ، فَحَزِنَ وَاصْفَرَّ ، فَفَقَدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَ عَنْهُ ، فَقِيلَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّهُ يَقُولُ : إِنِّيأَخْشَى أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، إِنِّي كُنْتُ أَرْفَعُ صَوْتِي عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ "، فَكُنَّا نَرَاهُ يَمْشِي بَيْنَ أَظْهُرِنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت ﴿اے ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے بلند نہ کرو﴾ [سورة الحجرات: 2] نازل ہوئی تو سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں وہ شخص ہوں کہ میری آواز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اونچی ہوتی ہے، تو مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر غضب ناک ہو گا، اس بات پر وہ غمگین ہو گئے اور ان کا رنگ زرد ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی غیر موجودگی محسوس کر کے ان کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ کو بتایا گیا: اے اللہ کے نبی! وہ یہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں میں اہل جہنم میں سے نہ ہو جاؤں کیونکہ میری آواز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بلند ہو جاتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جی نہیں) بلکہ وہ اہل جنت میں سے ہے“۔ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) تو ہم انہیں ایک جنتی شخص کے طور پر اپنے درمیان چلتا پھرتا دیکھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7169]

7170

Sahih Ibn Hibban #7170

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بِتُسْتَرَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي زَيْدِ بْنِ أَخْطَبَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَدَعَا لَهُ بِالْجَمَالِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو زید بن اخطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے خوبصورتی کی دعا فرمائی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7170]

7171

Sahih Ibn Hibban #7171

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، حَدَّثَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَمَسَحَ وَجْهَهُ ، وَدَعَا لَهُ بِالْجَمَالِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہرے پر ہاتھ پھیرا تھا اور ان کے لیے خوبصورتی کی دعا کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7171]

7172

Sahih Ibn Hibban #7172

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الشَّرْقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو نَهِيكٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَخْطَبَ ، قَالَ :اسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْتُهُ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَفِيهِ شَعْرَةٌ فَرَفَعْتُهَا فَنَاوَلْتُهُ ، فَنَظَرَ إِلَيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ جَمِّلْهُ ". قَالَ : فَرَأَيْتُهُ وَهُوَ ابْنُ ثَلاثٍ وَتِسْعِينَ وَمَا فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ شَعْرَةٌ بَيْضَاءُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمرو بن اخطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب کیا، میں ایک برتن لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جس میں پانی موجود تھا اور اس میں بال بھی تھا، میں نے اسے اٹھایا اور اسے پکڑ لیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف دیکھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «اللَّهُمَّ جَمِّلْهُ» ”اے اللہ! اسے جمال عطا کر۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے انہیں ترانوے (93) سال کی عمر میں دیکھا، اس وقت بھی ان کے سر اور داڑھی میں کوئی بال سفید نہیں تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7172]

7173

Sahih Ibn Hibban #7173

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،فَخَرَجْتُ أَنَا وَرَبَاحٌ غُلامُهُ أُنَدِّيهِ مَعَ الإِبِلِ ، فَلَمَّا كَانَ بِغَلَسٍ أَغَارَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُيَيْنَةَ عَلَى إِبِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَتْلَ رَاعِيَهَا ، وَخَرَجَ يَطْرُدُ بِهَا وَهُوَ فِي أُنَاسٍ مَعَهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَبَاحُ ، اقْعُدْ عَلَى هَذَا الْفَرَسِ ، وَأَلْحِقْهُ بِطَلْحَةَ ، وَأَخْبِرْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قَدْ أُغِيرَ عَلَى سَرْحِهِ ، قَالَ : وَقُمْتُ عَلَى تَلٍّ ، فَجَعَلْتُ وَجْهِي قِبَلَ الْمَدِينَةِ ، ثُمَّ نَادَيْتُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ : يَا صَبَاحَاهُ ، ثُمَّ اتَّبَعْتُ الْقَوْمَ مَعِي سَيْفِي وَنَبْلِي ، فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ وَأَرْتَجِزُهُمْ ، وَذَلِكَ حِينَ كَثُرَ الشَّجَرُ ، فَإِذَا رَجَعَ إِلَيَّ فَارِسٌ جَلَسْتُ لَهُ فِي أَصْلِ شَجَرَةٍ ، ثُمَّ رَمَيْتُهُ ، وَلا يُقْبِلُ عَلَيَّ فَارِسٌ ، إِلا عَقَرْتُ بِهِ ، فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِ وَأَقُولُ : أَنَا ابْنُ الأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ فَأَلْحَقُ بِرَجُلٍ فَأَرْمِيهِ وَهُوَ عَلَى رَحْلِهِ ، فَيَقَعُ سَهْمِي فِي الرَّحْلِ حَتَّى انْتَظَمْتُ كَتِفَهُ ، قُلْتُ : خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ فَإِذَا كُنْتُ فِي الشَّجَرِ أَرْمِيهِمْ بِالنَّبْلِ ، وَإِذَا تَضَايَقَتِ الثَّنَايَا عَلَوْتُ الْجَبَلَ وَرَدَّيْتُهُمْ بِالْحِجَارَةِ ، فَمَا زَالَ ذَلِكَ شَأْنِي وَشَأْنَهُمُ أَتْبَعُهُمْ ، وَأَرْتَجِزُ حَتَّى مَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا مِنْ ظَهْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلا خَلَّفْتُهُ وَرَاءَ ظَهْرِي ، وَاسْتَنْقَذْتُهُ مِنْ أَيْدِيهِمْ ، ثُمَّ لَمْ أَزَلْ أَرْمِيهِمْ حَتَّى أَلْقَوْا أَكْثَرَ مِنْ ثَلاثِينَ رُمْحًا وَأَكْثَرَ مِنْ ثَلاثِينَ بُرْدَةً يَسْتَخِفُّونَ بِهَا ، لا يُلْقُونَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا إِلا جَمَعْتُ عَلَيْهِ الْحِجَارَةَ ، وَجَمَعْتُهُ عَلَى طَرِيقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا امْتَدَّ الضُّحَى أَتَاهُمْ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ مُمِدًّا لَهُمْ وَهُمْ فِي ثَنِيَّةٍ ضَيِّقَةٍ ، ثُمَّ عَلَوْتُ الْجَبَلَ ، قَالَ عُيَيْنَةَ وَأَنَا فَوْقَهُمْ : مَا هَذَا الَّذِي أَرَى ؟ قَالُوا : لَقِينَا مِنْ هَذَا الْبَرْحَ ، مَا فَارَقَنَا مُنْذُ سَحَرَ حَتَّى الآنَ وَأَخَذَ كُلَّ شَيْءٍ مِنْ أَيْدِينَا ، وَجَعَلَهُ وَرَاءَهُ ، فَقَالَ عُيَيْنَةُ : لَوْلا أَنَّ هَذَا يَرَى وَرَاءَهُ طَلَبًا لَقَدْ تَرَكَكُمْ ، فَلْيَقُمْ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْكُمْ ، فَقَامَ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ ، فَصَعِدُوا فِي الْجَبَلِ ، فَلَمَّا أَسْمَعْتُهُمُ الصَّوْتَ ، قُلْتُ لَهُمْ : أَتَعْرِفُونِي ؟ قَالُوا : مَنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : أَنَا ابْنُ الأَكْوَعِ ، وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يَطْلُبُنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ فَيُدْرِكُنِي ، وَلا أَطْلُبُهُ فَيَفُوتُنِي ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : أَظُنُّ ، قَالَ : فَمَا بَرِحْتُ مَقْعَدِي حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى فَوَارِسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُونَ الشَّجَرَ ، وَإِذَا أَوَّلُهُمُ الأَخْرَمُ الأَسَدِيُّ ، وَعَلَى إِثْرِهِ أَبُو قَتَادَةَ ، وَعَلَى إِثْرِهِ الْمِقْدَادُ الْكِنْدِيُّ ، قَالَ : فَوَلَّى الْمُشْرِكُونَ مُدْبِرِينَ ، فَأَنْزِلُ مِنَ الْجَبَلِ ، فَأَعْتَرِضُ الأَخْرَمَ ، فَقُلْتُ : يَا أَخْرَمُ ، احْذَرْهُمْ فَإِنِّي لا آمَنُ أَنْ يَقْتَطِعُوكَ ، فَاتَّئِدْ حَتَّى يَلْحَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ ، قَالَ : يَا سَلَمَةُ ، إِنْ كُنْتَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، وَتَعْلَمُ أَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ ، وَأَنَّ النَّارَ حَقٌّ ، فَلا تَحُلْ بَيْنِي وَبَيْنَ الشَّهَادَةِ ، قَالَ : فَخَلَّى عِنَانَ فَرَسِهِ ، فَلَحِقَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُيَيْنَةَ ، وَيَعْطِفُ عَلَيْهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، فَاخْتَلَفَا فِي طَعْنَتَيْنِ ، فَعَقَرَ الأَخْرَمُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَطَعَنَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَهُ ، وَتَحَوَّلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَلَى فَرَسِ الأَخْرَمِ ، فَلَحِقَ أَبُو قَتَادَةَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَاخْتَلَفَا فِي طَعْنَتَيْنِ ، فَعَقَرَ بِأَبِي قَتَادَةَ ، وَقَتْلَهُ أَبُو قَتَادَةَ ، وَتَحَوَّلَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَى فَرَسِ الأَخْرَمِ ، ثُمَّ إِنِّي خَرَجْتُ أَعْدُو فِي إِثْرِ الْقَوْمِ حَتَّى مَا أَرَى مِنْ غُبَارِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا وَيُعْرِضُونَ قَبْلَ غَيْبُوبَةِ الشَّمْسِ إِلَى شِعْبٍ فِيهِ مَاءٌ يُقَالُ لَهُ : ذُو قَرَدٍ ، فَأَرَادُوا أَنْ يَشْرَبُوا مِنْهُ ، فَأَبْصَرُونِي أَعْدُو وَرَاءَهُمْ ، فَعَطَفُوا عَنْهُ ، وَشُدُّوا فِي الثَّنِيَّةِ ثَنِيَّةِ ذِي ثَبِيرٍ وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ ، فَأَلْحَقُ رَجُلا فَأَرْمِيهِ ، قُلْتُ : خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ قَالَ : يَا ثَكِلَتْنِي أُمِّي أَأَكُوعُ بَكْرَةَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ أَيْ عَدُوَّ نَفْسِهِ ، وَكَانَ الَّذِي رَمَيْتُهُ بَكْرَةَ ، وَأَتْبَعْتُهُ بِسَهْمٍ آخَرَ ، فَعَلِقَ فِيهِ سَهْمَانِ وَخَلَّفُوا فَرَسَيْنِ ، فَجِئْتُ بِهِمَا أَسُوقُهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ عَلَى الْمَاءِ الَّذِي عِنْدَ ذِي قَرَدٍ ، فَإِذَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَمَاعَةٍ ، وَإِذَا بِلالٌ قَدْ نَحَرَ جَزُورًا مِمَّا خَلَّفْتُ وَهُوَ يَشْوِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَبِدِهَا وَسَنَامِهَا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خَلِّنِي فَأَنْتَخِبَ مِنْ أَصْحَابِكَ مِائَةَ رَجُلٍ ، وَآخُذَ عَلَى الْكُفَّارِ ، فَلا أُبْقِي مِنْهُمْ مُخْبِرًا ، إِلا قَتَلْتُهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَكُنْتَ فَاعِلا ذَلِكَ يَا سَلَمَةُ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، وَالَّذِي أَكْرَمَ وَجْهَكَ ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْتُ نَوَاجِذَهُ فِي ضَوْءِ النَّارِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُمْ يُقْرَوْنَ الآنَ إِلَى أَرْضِ غَطَفَانَ " ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ غَطَفَانَ ، فَقَالَ : نَزَلُوا عَلَى فُلانٍ الْغَطَفَانِيِّ ، فَنَحَرَ لَهُمْ جَزُورًا ، فَلَمَّا أَخَذُوا يَكْشِطُونَ جِلْدَهَا رَأَوْا غَبَرَةً ، فَتَرَكُوهَا وَخَرَجُوا هُرَّابًا ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ فُرْسَانِنَا الْيَوْمَ أَبُو قَتَادَةَ ، وَخَيْرُ رَجَّالَتِنَا سَلَمَةُ " ، فَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ الرَّاجِلِ وَالْفَارِسِ جَمِيعًا ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَنِي وَرَاءَهُ عَلَى الْعَضْبَاءِ رَاجِعِينَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَلَمَّا كَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ قَرِيبٌ مِنْ ضَحْوَةٍ ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ كَانَ لا يُسْبَقُ ، فَجَعَلَ يُنَادِي : هَلْ مِنْ مُسَابِقٍ ، أَلا رَجُلٌ يُسَابِقُ إِلَى الْمَدِينَةِ ؟ فَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا وَأَنَا وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، خَلِّنِي فَلأُسَابِقَ الرَّجُلَ ، قَالَ : " إِنْ شِئْتَ " ، قُلْتُ : اذْهَبْ إِلَيْكَ فَطَفَرَ عَنْ رَاحِلَتِهِ وَثَنَيْتُ رِجْلِي ، فَطَفَرْتُ عَنِ النَّاقَةِ ، ثُمَّ إِنِّي رَبَطْتُ عَلَيْهِ شَرَفًا ، أَوْ شَرَفَيْنِ يَعْنِي : اسْتَبْقَيْتُ نَفْسِي ، ثُمَّ عَدَوْتُ حَتَّى أَلْحَقَهُ ، فَأَصُكُّ بَيْنَ كَتِفَيْهِ بِيَدِي ، وَقُلْتُ : سُبِقْتَ وَاللَّهِ ، حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایاس بن سلمہ، اپنے والد سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: حدیبیہ کے موقع پر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ آیا، میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام رباح اونٹوں کو ساتھ لے کر نکلے، جب کچھ اندھیرا چھا گیا تو عبدالرحمن بن عیینہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں پر حملہ کر کے ان کے چرواہے کو قتل کر دیا اور وہ ان اونٹوں کو ساتھ لے کر روانہ ہو گیا، اس کے ساتھ کچھ دوسرے لوگ بھی تھے، میں نے کہا: اے رباح! تم اس گھوڑے پر سوار ہو جاؤ اور اسے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاؤ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتاؤ کہ آپ کے اونٹوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ایک ٹیلے پر چڑھا، میں نے اپنا چہرہ مدینہ منورہ کی طرف کیا اور پھر میں نے تین مرتبہ بلند آواز میں «يَا صَبَاحَاهُ» ”خطرہ ہے“ پکارا، پھر میں ان لوگوں کے پیچھے چل پڑا، میرے پاس تلوار بھی تھی اور نیزہ بھی تھا، میں انہیں نیزہ مارتا اور انہیں رجز پڑھ کے سناتا، یہاں تک کہ ہم ایک ایسی جگہ پہنچ گئے جہاں درخت زیادہ تھے، اسی دوران ایک گھڑ سوار پلٹ کر میری طرف آیا، میں اس کا (مقابلہ کرنے کے لیے) درخت کے تنے کے پاس بیٹھ گیا، پھر میں نے اسے تیر مارا، تو پھر کوئی گھڑ سوار میری طرف نہیں آیا مگر یہ کہ میں نے اس کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیے، میں تیر مارتا جاتا تھا اور یہ کہتا جاتا تھا: «أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ» ”میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے“۔ میں ایک شخص کے پاس آیا اور میں نے اسے تیر مارا، وہ اپنی سواری پر تھا، میرا تیر اس سواری پر لگا، یہاں تک کہ اس کے کندھے کے اندر جا کر لگ گیا، تو میں نے کہا: لو سنبھالو! میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے، جب میں درختوں میں ہوتا تو میں انہیں تیر مارتا اور جب گھاٹیاں تنگ ہو جاتیں تو میں پہاڑ پر چڑھ جاتا اور انہیں پتھر مارتا، میرا اور ان کا معاملہ یوں ہی چلتا رہا، میں ان کے پیچھے جاتا رہا، انہیں رجز پڑھ کے سناتا رہا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر اونٹنی کو میں نے ان کے ہاتھوں سے چھین لیا، میں پھر بھی مسلسل انہیں تیر مارتا رہا، یہاں تک کہ میں نے ان سے تیس سے زیادہ نیزے اور تیس سے زیادہ چادریں بھی چھین لیں، وہ اپنا وزن ہلکا کر رہے تھے، وہ جو بھی چیز ڈالتے تھے میں اس پر پتھر رکھ دیتا تھا اور میں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے کے لیے اکٹھا کر دیتا تھا، یہاں تک کہ جب دن چڑھ آیا تو ان لوگوں کے پاس ان کی مدد کرنے کے لیے عیینہ بن بدر فزاری آ گیا، وہ لوگ اس وقت ایک تنگ گھاٹی میں تھے، میں پہاڑ پر چڑھ گیا، عیینہ نے کہا: یہ کون ہے؟ میں اس وقت ان لوگوں کے اوپر تھا، ان لوگوں نے بتایا: ہم بڑی دیر سے اس کے حوالے سے پریشان ہیں، جب سے صبح ہوئی ہے اس نے ہماری جان نہیں چھوڑی اور یہ وقت ہو گیا ہے، اس نے ہمارے پاس موجود ہر چیز حاصل کر لی ہے اور ان چیزوں کو اپنے پیچھے رکھ لیا ہے۔ عیینہ نے کہا: اگر اسے اپنے پیچھے سے حملہ کرنے والے نظر آ گئے تو یہ تمہیں چھوڑ دے گا، تم میں سے کچھ لوگ اٹھ کر اس کے پاس جائیں، ان میں سے چار آدمی اٹھ کر ان کی طرف گئے، وہ لوگ پہاڑ پر چڑھ گئے، جب میری آواز ان تک پہنچ گئی تو میں نے ان سے کہا: کیا تم لوگ مجھے جانتے ہو؟ ان لوگوں نے دریافت کیا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں اکوع کا بیٹا ہوں، اس ذات کی قسم جس نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ان کے چہرے کو عزت بخشی ہے! تم میں سے جو شخص بھی میری تلاش میں آئے گا وہ مجھ تک پہنچ نہیں پائے گا اور جسے میں تلاش کروں گا وہ مجھ سے اوجھل نہیں رہ سکے گا، ان میں سے ایک شخص نے کہا: میرا خیال ہے (ایسا ہی ہے)۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں اس جگہ پر بیٹھارہا یہاں تک کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھڑ سواروں کو دیکھ لیا جو درختوں کے درمیان میں سے گزرتے ہوئے آ رہے تھے، ان میں سب سے آگے اخرم اسدی رضی اللہ عنہ تھے، ان کے پیچھے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ تھے، ان کے پیچھے سیدنا مقداد کندی رضی اللہ عنہ تھے۔ راوی کہتے ہیں: تو مشرکین پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے، میں پہاڑ سے نیچے اترا، میں اخرم رضی اللہ عنہ کے سامنے آیا، میں نے کہا: اے اخرم! ان سے بچنے کی کوشش کرو کیونکہ مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ یہ تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں، تم ذرا ٹھہر جاؤ جب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب تشریف نہیں لے آتے۔ تو اخرم رضی اللہ عنہ نے کہا: اے سلمہ! اگر تم اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو اور یہ بات جانتے ہو کہ جنت حق ہے اور جہنم حق ہے تو میرے اور شہادت کے درمیان رکاوٹ نہ بنو۔ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ نے ان کے گھوڑے کی لگام چھوڑ دی، وہ عبدالرحمن بن عیینہ کے پاس پہنچے، عبدالرحمن نے ان پر حملہ کیا، ان دونوں کے نیزے ٹکرائے، تو اخرم رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن کے جانور کے پاؤں کاٹ دیے اور عبدالرحمن نے انہیں زخمی کر دیا اور انہیں شہید کر دیا، پھر عبدالرحمن اخرم رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر سوار ہوا، پھر سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ عبدالرحمن کے پاس پہنچے، ان دونوں کے نیزے ایک دوسرے سے ٹکرائے، اس نے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے جانور کے پاؤں کاٹ دیے، تو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اسے مار دیا۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اخرم رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر سوار ہو کر واپس آئے، پھر میں ان لوگوں کے پیچھے چلتا ہوا روانہ ہوا یہاں تک کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے غبار میں سے کوئی چیز نظر نہیں آئی، جب کہ دشمن سورج غروب ہونے سے کچھ پہلے گھاٹی میں پہنچا جہاں پانی موجود تھا، اس جگہ کو ذوقرد کہتے تھے، انہوں نے وہاں سے پانی پینے کا ارادہ کیا، جب انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں پیچھے آ رہا ہوں، تو انہوں نے اس جگہ کو چھوڑا اور اس گھاٹی کی طرف آئے جو ذی سبیل کی گھاٹی تھی، اسی دوران سورج غروب ہو گیا، میں ایک شخص کے پاس پہنچا، میں نے اسے تیر مارا، میں نے کہا: لو اسے سنبھالو! میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے، تو اس نے کہا: میری ماں مجھے روئے، کیا اکوع صبح والا؟ میں نے کہا: ہاں اے اپنی جان کے دشمن! یہ وہی شخص تھا، جسے میں نے صبح کے وقت تیر مارا تھا، میں نے اسے دوسرا تیر مارا تو اسے دو تیر لگے، تو اس نے دو گھوڑے چھوڑے، میں ان دونوں کو لے کر ہانک کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ذی قرد پانی کے پاس موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ ساتھیوں سمیت تھے، وہاں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے جنہوں نے ان میں سے ایک اونٹ کو قربان کر دیا تھا جنہیں میں نے پیچھے چھوڑا تھا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس کا کلیجہ اور ران بھون رہے تھے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے اجازت دیجیے کہ میں آپ کے اصحاب میں سے ایک سو آدمیوں کو منتخب کروں اور پھر کفار پر حملہ کر دوں، میں ان میں سے کسی بھی اطلاع دینے والے کو نہیں چھوڑوں گا مگر یہ کہ اسے قتل کر دوں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے سلمہ! کیا تم نے ایسا کیا ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کے چہرے کو عزت بخشی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرادیے یہاں تک کہ مجھے آگ کی روشنی میں آپ کے اطراف کے دانت نظر آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ لوگ اب غطفان کی سرزمین پر پہنچ گئے ہوں گے۔“ پھر غطفان سے ایک شخص آیا، اس نے بتایا: ان لوگوں نے فلاں غطفانی کے ہاں پڑاؤ کیا ہے، اس نے ان لوگوں کے لیے اونٹ قربان کیا ہے، وہ لوگ اس کی کھال اتارنے لگے تو انہوں نے غبار دیکھا، انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور بھاگ کھڑے ہوئے۔ اگلے دن صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہمارے گھڑ سواروں میں آج سب سے بہتر ابوقتادہ (رضی اللہ عنہ) ہیں اور ہمارے پیدل لوگوں میں آج سب سے بہتر سلمہ (رضی اللہ عنہ) ہیں۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیادہ شخص اور گھڑ سوار دونوں کا حصہ عطا کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے اپنی اونٹنی عضباء پر سوار کیا اور ہم لوگ مدینہ منورہ کی طرف واپس آ گئے، ابھی ہم مدینہ منورہ سے کچھ فاصلے پر تھے کہ حاضرین میں سے ایک صاحب جن کا تعلق انصار سے تھا اور کوئی بھی دوڑ میں ان سے آگے نہیں نکل سکتا تھا، اس نے بلند آواز میں کہنا شروع کیا: کیا کوئی مقابلہ کرنے والا ہے؟ کیا کوئی مدینہ منورہ تک دوڑ کا مقابلہ کرے گا؟ انہوں نے کئی مرتبہ یہ اعلان کیا، میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے موجود تھا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس شخص کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو (تو کر لو)۔“ میں نے اس انصاری سے کہا: چلو (میں تمہارا مقابلہ کرتا ہوں)، وہ اپنی سواری سے اترا، میں نے اپنی ٹانگ موڑی اور اونٹنی سے اتر آیا، پھر میں نے اسے ایک یا دو ٹیلوں تک آگے نکلنے کا موقع دیا، پھر میں نے پوری قوت سے دوڑ لگائی اور اس تک پہنچ گیا، میں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اس کے دونوں کندھوں کے درمیان مارا اور کہا: اللہ کی قسم! تم ہار گئے ہو، یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ آ گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7173]

7174

Sahih Ibn Hibban #7174

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنَ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، أَنَّهُ قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ ، وَمَعَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ تِسْعَ غَزَوَاتٍ ، أَمَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سات غزوات میں شرکت کی ہے اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ نو غزوات میں شرکت کی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمارا امیر مقرر کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7174]

7175

Sahih Ibn Hibban #7175

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُدَيْبِيَةَ ، ثُمَّ خَرَجْنَا رَاجِعِينَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرُ فُرْسَانِنَا الْيَوْمَ أَبُو قَتَادَةَ ، وَخَيْرُ رَجَّالَتِنَا الْيَوْمَ سَلَمَةُ بْنُ الأَكْوَعِ " ، ثُمَّ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ الْفَارِسِ، وَسَهْمَ الرَّاجِلِ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : كَانَ سَلَمَةُ بْنُ الأَكْوَعِ فِي تِلْكِ الْغَزَاةِ رَاجِلا ، فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ الرَّاجِلِ لِمَا اسْتَحَقَّ مِنَ الْغَنِيمَةِ ، وَسَهْمَ الْفَارِسِ مِنْ خُمُسِ خُمُسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُونَ أَنْ يَكُونَ سَلَمَةُ أُعْطِيَ سَهْمَ الْفَارِسِ مِنْ سِهَامِ الْمُسْلِمِينَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حدیبیہ آئے، پھر ہم مدینہ منورہ کی طرف واپس جانے کے لیے روانہ ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آج ہمارا سب سے بہترین گھڑ سوار ابوقتادہ اور ہمارا سب سے بہترین پیادہ سلمہ بن اکوع ہے“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گھڑ سوار اور پیادہ (دونوں طرح کے لوگوں) کا حصہ عطا کیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہما اس جنگ میں پیادہ کے طور پر شریک ہوئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیادہ کا حصہ دیا تھا، جس کے وہ مالِ غنیمت میں سے مستحق تھے اور گھڑ سوار کا حصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خمس میں سے دیا تھا، ایسا نہیں ہے کہ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہما کو مسلمانوں کے حصے میں سے گھڑ سوار کا حصہ دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7175]

7176

Sahih Ibn Hibban #7176

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ : غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسَ عَشْرَةَ غَزْوَةً ، أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ پندرہ غزوات میں شرکت کی ہے، میں نے اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (ہم دونوں نے شرکت کی ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7176]

7177

Sahih Ibn Hibban #7177

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَزَّرَتْنِي بِخِمَارِهَا وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا أَنَسٌ أَتَيْتُكَ بِهِ لَيَخْدُمَكَ ، فَادْعُ اللَّهَ لَهُ ، قَالَ : اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ "، قَالَ أَنَسٌ : فَوَاللَّهِ إِنَّ مَالِي لَكَثِيرٌ ، وَإِنَّ وَلَدِي وَوَلَدَ وَلَدِي يَتَعَاقَبُونَ عَلَى نَحْوِ الْمِائَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، انہوں نے اپنی چادر کے ایک حصے کو مجھے تہبند کے طور پر پہنا دیا اور ایک حصہ میرے جسم پر لپیٹ دیا تھا، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ انس ہے، میں اسے لے کر آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوئی ہوں تاکہ یہ آپ کی خدمت کیا کرے، آپ اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے دعائے خیر کیجیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ» ”اے اللہ! اس کے مال اور اس کی اولاد میں کثرت کر دے۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میرا مال بہت زیادہ ہے اور میری اولاد اور اولاد کی اولاد کی تعداد ایک سو کے قریب ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7177]

7178

Sahih Ibn Hibban #7178

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَسٌ خَادِمُكَ ، ادْعُ اللَّهَ لَهُ ، قَالَ : اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: انس آپ کا خادم ہے، آپ اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ» ”اے اللہ! اس کے مال اور اس کی اولاد کو زیادہ کر دے اور جو کچھ تو نے اسے عطا کیا ہے اس میں اس کے لیے برکت رکھ دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7178]

7179

Sahih Ibn Hibban #7179

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى مِنْ كِتَابِهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَزْرَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ :خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ ، فَمَا بَعَثَنِي فِي حَاجَةٍ لَمْ تَتَهَيَّأْ إِلا قَالَ : لَوْ قُضِيَ لَكَانَ ، أَوْ لَوْ قُدِّرَ لَكَانَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے دس سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی مجھے کسی کام کے لیے بھیجا تو یہی ارشاد فرمایا: ”اگر نصیب میں ہوا تو یہ ہو جائے گا“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) ”اگر مقدر میں ہوا تو یہ ہو جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7179]

7180

Sahih Ibn Hibban #7180

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْمُنَادِي ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ ، قَالَ : غَشِيَنَا النُّعَاسُ وَنَحْنُ فِي مَصَافِّنَا يَوْمَ بَدْرٍ ، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ : فَكُنْتُ فِيمَنْ غَشِيَهُ النُّعَاسُ يَوْمَئِذٍ ، فَجَعَلَ سَيْفِي يَسْقُطُ مِنْ يَدِي وَآخُذُهُ ، وَيَسْقُطُ وَآخُذُهُ ، وَالطَّائِفَةُ الأُخْرَى الْمُنَافِقُونَ لَيْسَ لَهُمْ هَمٌّ إِلا أَنْفُسُهُمْ ، أَجْبَنُ قَوْمٍ ، وَأَذَلُّهُ لِلْحَقِّ ، يَظُنُّونَ بِاللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ ، أَهْلُ شَكٍّ وَرِيبَةٍ فِي أَمْرِ اللَّهِ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی کہ غزوہ بدر کے دن ہم لوگ صفوں میں موجود تھے کہ اسی دوران ہم پر اونگھ طاری ہو گئی، سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جن پر اس دن اونگھ طاری ہوئی تھی، میری تلوار میرے ہاتھ سے گر جاتی تھی تو میں اسے پکڑ لیتا تھا، وہ پھر گر جاتی تھی تو میں اسے پھر پکڑ لیتا تھا، جبکہ دوسرا گروہ منافقین کا تھا جنہیں صرف اپنی فکر تھی، یہ لوگ سب سے زیادہ بزدل اور سب سے زیادہ ذلیل تھے، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ناحق گمان کرتے تھے جو زمانہ جاہلیت کا گمان تھا ﴿يَظُنُّونَ بِاللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ﴾ [سورة آل عمران: 154] ، یہ اللہ کے حکم کے بارے میں شک و شبہ کرنے والے لوگ تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7180]

7181

Sahih Ibn Hibban #7181

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ ، كَانَ يَرْمِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنْ خَلْفِهِ لَيَنْظُرَ أَيْنَ يَقَعُ نَبْلُهُ ، فَيَتَطَاوَلُ أَبُو طَلْحَةَ بِصَدْرِهِ يَقِي بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَيَقُولُ : هَكَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑے ہو کر تیر اندازی کر رہے تھے، ان کے پیچھے سے جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک اوپر اٹھانے کی کوشش کرتے تاکہ اس بات کا جائزہ لیں کہ ان کا تیر کہاں گرا ہے تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنے سینے کو پھیلا لیتے تاکہ اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بچائیں اور یہ عرض کرتے: اے اللہ کے نبی! آپ اسی طرح (میرے پیچھے محفوظ رہیں) اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے اور میں آپ کے آگے رہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7181]

7182

Sahih Ibn Hibban #7182

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : كَانَ أَبُو طَلْحَةَ L أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالا ، وَكَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءُ ، وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا ، وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ ، قَالَ أَنَسٌ : فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ، قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّاللَّهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ : لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ، وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَاءُ ، وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ ، فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ شِئْتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَخٍ ذَاكَ مَالٌ رَابِحٌ ، بَخٍ ذَاكَ مَالٌ رَابِحٌ ، وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ فِيهَا ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الأَقْرَبِينَ "، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ : أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی جائیداد مدینہ منورہ میں انصار میں سب سے زیادہ تھی اور ان کے نزدیک ان کا سب سے پسندیدہ مال بیرحاء (نامی باغ) تھا جو مسجد کے بالکل سامنے تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اندر تشریف لاتے تھے اور اس کا میٹھا پانی پیا کرتے تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ [سورة آل عمران: 92] ”تم لوگ نیکی تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اس چیز کو خرچ نہیں کرتے جسے تم پسند کرتے ہو“ نازل ہوئی تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یہ ارشاد فرمایا ہے: ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ [سورة آل عمران: 92] ”تم لوگ نیکی تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اس چیز کو خرچ نہیں کرتے جسے تم پسند کرتے ہو“ اور میرے نزدیک میرا سب سے پسندیدہ مال بیرحاء ہے، یہ اللہ تعالیٰ کے لیے صدقہ ہے اور میں اس کے اجر و ثواب کی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں امید رکھتا ہوں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ جہاں چاہیں اسے استعمال کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بَخٍ، ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ، ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ» ”بہت عمدہ! یہ ایک نفع بخش مال ہے، بہت عمدہ! یہ ایک نفع بخش مال ہے، تم نے اس کے بارے میں جو کچھ کہا وہ میں نے سن لیا ہے، میرا یہ خیال ہے کہ اسے تم اپنے قریبی رشتے داروں کو دے دو۔“ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایسا ہی کروں گا۔ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے قریبی رشتے داروں اور اپنے چچا زادوں میں اسے تقسیم کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7182]

7183

Sahih Ibn Hibban #7183

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّاللَّهَ يَسْأَلُنَا مِنْ أَمْوَالِنَا ، فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ أَرْضِي وَقْفًا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اجْعَلْهَا فِي قَرَابَتِكَ "، فَقَسَمَهَا بَيْنَ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت ﴿تم لوگ نیکی تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اس چیز کو خرچ نہیں کرتے جسے تم پسند کرتے ہو﴾ [سورة آل عمران: 92] نازل ہوئی، تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے ہم سے ہمارے اموال کے بارے میں مطالبہ کیا ہے، میں آپ کو گواہ بنا کر یہ بات کہتا ہوں کہ میں نے اپنی زمین کو وقف کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تم اپنے قریبی رشتے داروں کو دے دو۔“ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے وہ زمین سیدنا حسان بن ثابت اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما میں تقسیم کر دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7183]

7184

Sahih Ibn Hibban #7184

أخبرنا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلامٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ L3142 ، قَرَأَ سُورَةَ بَرَاءَةً ، فَأَتَى عَلَى هَذِهِ الآيَةِ : انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالا ، فَقَالَ : أَلا أَرَى رَبِّي يَسْتَنفِرُنِي شَابًّا وَشَيْخًا ، جَهِّزُونِي " ، فَقَالَ لَهُ بَنُوهُ : قَدْ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قُبِضَ ، وَغَزَوْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى مَاتَ وَغَزَوْتُ مَعَ عُمَرَ ، فَنَحْنُ نَغْزُو عَنْكَ ، فَقَالَ : " جَهِّزُونِي " ، فَجَهَّزُوهُ وَرَكِبَ الْبَحْرَ ، فَمَاتَ ، فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ جَزِيرَةً يَدْفِنُونَهُ فِيهَا إِلا بَعْدَ سَبْعَةِ أَيَّامٍ فَلَمْ يَتَغَيَّرْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سورہ توبہ کی تلاوت کی، جب وہ اس آیت ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ [سورة التوبة: 41] ”تم لوگ (جہاد کے لیے) نکل کھڑے ہو خواہ ہلکے ہو یا بوجھل ہو“ پر پہنچے، تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں نہیں دیکھ رہا کہ میرے پروردگار نے مجھے نکلنے کے لیے کہا ہے، خواہ میں جوان ہوں یا بوڑھا ہوں، تم لوگ میرا سامان تیار کرو۔ ان کے بیٹوں نے ان سے کہا: آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوات میں شرکت کی ہے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا، پھر آپ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جنگوں میں حصہ لیا، یہاں تک کہ ان کا بھی انتقال ہو گیا، پھر آپ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جنگ میں حصہ لیا، اب ہم لوگ آپ کی جگہ جنگ میں شرکت کے لیے چلے جاتے ہیں، تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ میرا سامان تیار کرو۔ ان لوگوں نے ان کا سامان تیار کیا، وہ سمندری سفر پر روانہ ہوئے، اسی دوران ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کے ساتھیوں کو انہیں دفن کرنے کے لیے کوئی جزیرہ نہیں ملا، ان کے انتقال کے سات دن بعد انہیں جزیرہ ملا (جہاں وہ انہیں دفن کرتے) لیکن اس دوران ان کی (میت میں) کوئی تبدیلی نہیں آئی (یعنی میت خراب نہیں ہوئی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7184]

7185

Sahih Ibn Hibban #7185

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمِ ، خَرَجَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهَا خِنْجَرٌ ، فَقَالَ لَهَا أَبُو طَلْحَةَ : يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ، مَا هَذَا ؟ قَالَتِ : اتَّخَذْتُهُ وَاللَّهِ إِنْ دَنَا مِنِّي رَجُلٌ بَعَجْتُ بِهِ بَطْنَهُ ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : أَلا تَسْمَعُ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ ، تَقُولُ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنَ الطُّلَقَاءِ انْهَزَمُوا بِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَمُّ سُلَيْمٍ إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَى وَأَحْسَنَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ حنین کے موقع پر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئیں، ان کے پاس ایک خنجر تھا۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا: اے ام سلیم! یہ کس لیے ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے اسے اس لیے رکھا ہے، اللہ کی قسم! اگر کوئی شخص میرے قریب آیا تو میں اسے اس کے پیٹ میں گھونپ دوں گی۔ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: (یا رسول اللہ!) کیا آپ نے سنا کہ ام سلیم کیا کہہ رہی ہے؟ اس نے یہ یہ بات کہی ہے۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ ان لوگوں کو قتل کروا دیں، جو لوگ بعد میں مسلمان ہوئے اور وہ آپ کو چھوڑ کر پسپا ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام سلیم! اللہ تعالیٰ نے کفایت کی اور اچھا (نتیجہ ظاہر کیا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7185]

7186

Sahih Ibn Hibban #7186

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ ، فَأَتَتْهُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ ، فَقَالَ : أَعِيدُوا سَمْنَكُمْ فِي سِقَائِهِ ، وَتَمْرَكُمْ فِي وِعَائِهِ ، فَإِنِّي صَائِمٌ " ، ثُمَّ قَامَ إِلَى نَاحِيَةِ الْبَيْتِ ، فَصَلَّى صَلاةً غَيْرَ مَكْتُوبَةٍ ، وَدَعَا لأُمِّ سُلَيْمٍ وَأَهْلِ بَيْتِهَا ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي خُوَيْصَةً ، قَالَ : " مَا هِيَ ؟ " ، قَالَتْ : خُوَيْدِمُكَ أَنَسٌ فَمَا تَرَكَ خَيْرَ آخِرَةٍ وَلا دُنْيَا إِلا دَعَا لِي بِهِ ، ثُمَّ قَالَ :" اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ مَالا وَوَلَدًا وَبَارِكْ لَهُ "، قَالَ : فَإِنِّي لَمِنْ أَكْثَرِ الأَنْصَارِ مَالا ، قَالَ : وَحَدَّثَتْنِي ابْنَتِي أُمَيْنَةُ ، قَالَتْ : قَدْ دُفِنَ لِصُلْبِي إِلَى مَقْدَمِ الْحَجَّاجِ الْبَصْرَةَ بِضْعٌ وَعِشْرُونَ وَمِائَةً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں آئے تو انہوں نے کھجوریں اور گھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اپنا گھی اس کے مشکیزے میں ڈال دو اور اپنی کھجوریں ان کی پوٹلی میں ڈال دو کیونکہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے کونے کی طرف گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نفل نماز ادا کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا اور ان کے گھر میں موجود افراد کو بلایا۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ! میری ایک خصوصی درخواست ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”وہ کیا؟“ انہوں نے عرض کی: آپ کا ادنیٰ خادم انس (آپ اس کے لیے دعا کیجیے)۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا اور آخرت سے متعلق ہر بھلائی کے بارے میں میرے حق میں دعا کی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ مَالًا وَوَلَدًا، وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ» ”اے اللہ! اسے مال اور اولاد عطا کر اور اس کے لیے اس میں برکت رکھ دے۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مال (یعنی زمینوں) کے حساب سے میں انصار میں سب سے زیادہ مالدار تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بتایا کہ میری بیٹی امینہ نے یہ بات بتائی ہے کہ حجاج کے بصرہ آنے سے پہلے میری اولاد اور اولاد کی اولاد میں سے ایک سو بیس سے کچھ زیادہ لوگوں کا انتقال ہو چکا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7186]

7187

Sahih Ibn Hibban #7187

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : خَطَبَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ ، فَقَالَتْ لَهُ : مَا مِثْلُكَ يَا أَبَا طَلْحَةَ يُرَدُّ ، وَلَكِنِّي امْرَأَةٌ مَسْلِمَةٌ ، وَأَنْتَ رَجُلٌ كَافِرٌ ، وَلا يَحِلّ لِي أَنْ أَتَزَوَّجَكَ ، فَإِنْ تُسْلِمْ فَذَلِكَ مَهْرِي ، لا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ ، فَأَسْلَمَ ، فَكَانَتْ لَهُ ، فَدَخَلَ بِهَا فَحَمَلَتْ فَوَلَدَتْ غُلامًا صَبِيحًا ، وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ يُحِبُّهُ حُبًّا شَدِيدًا ، فَعَاشَ حَتَّى تَحَرَّكَ فَمَرِضَ ، فَحَزِنَ عَلَيْهِ أَبُو طَلْحَةَ حُزْنًا شَدِيدًا حَتَّى تَضَعْضَعَ ، قَالَ :وَأَبُو طَلْحَةَ يَغْدُو عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَرُوحُ ، فَرَاحَ رَوْحَةً وَمَاتَ الصَّبِيُّ ، فَعَمَدَتْ إِلَيْهِ أُمُّ سُلَيْمٍ ، فَطَيَّبَتْهُ وَنَظَّفْتُهُ وَجَعَلَتْهُ فِي مِخْدَعِنَا ، فَأَتَى أَبُو طَلْحَةَ ، فَقَالَ : كَيْفَ أَمْسَى بُنَيَّ ؟ قَالَتْ : بِخَيْرٍ ، مَا كَانَ مُنْذُ اشْتَكَى أَسْكَنَ مِنْهُ اللَّيْلَةَ ، قَالَ : فَحَمِدَ اللَّهَ وَسُرَّ بِذَلِكَ ، فَقَرَّبَتْ لَهُ عَشَاءَهُ ، فَتَعَشَّى ثُمَّ مَسَّتْ شَيْئًا مِنْ طِيبٍ ، فَتَعَرَّضَتْ لَهُ حَتَّى وَاقَعَ بِهَا ، فَلَمَّا تَعَشَّى ، وَأَصَابَ مِنْ أَهْلِهِ ، قَالَتْ : يَا أَبَا طَلْحَةَ ، أَرَأَيْتَ لَوَ أَنَّ جَارًا لَكَ أَعَارَكَ عَارِيَّةً ، فَاسْتَمْتَعْتَ بِهَا ، ثُمَّ أَرَادَ أَخْذَهَا مِنْكَ أَكُنْتَ رَادَّهَا عَلَيْهِ ؟ فَقَالَ : إِي وَاللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ لَرَادُّهَا عَلَيْهِ ، قَالَتْ : طَيْبَةً بِهَا نَفْسُكَ ؟ قَالَ : طَيْبَةً بِهَا نَفْسِي ، قَالَتْ : فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعَارَكَ بُنَيَّ وَمَتَّعَكَ بِهِ مَا شَاءَ ، ثُمَّ قُبِضَ إِلَيْهِ ، فَاصْبِرْ وَاحْتَسَبَ ، قَالَ : فَاسْتَرْجَعَ أَبُو طَلْحَةَ وَصَبَرَ ، ثُمَّ أَصْبَحَ غَادِيًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَدَّثَهُ حَدِيثَ أُمِّ سُلَيْمٍ كَيْفَ صَنَعَتْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي لَيْلَتِكُمَا " ، قَالَ : وَحَمَلَتْ مَنْ تِلْكَ الْوَاقِعَةَ فَأَثْقَلَتْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِي طَلْحَةَ : " إِذَا وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ فَجِئْنِي بِوَلَدِهَا " ، فَحَمَلَهُ أَبُو طَلْحَةَ فِي خِرْقَةٍ ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَمَضَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرَةً فَمَجَّهَا فِي فِيهِ ، فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِي طَلْحَةَ : " حِبُّ الأَنْصَارِ التَّمْرَ " ، فَحَنَّكَهُ وَسَمَّى عَلَيْهِ ، وَدَعَا لَهُ ، وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کو شادی کا پیغام بھیجا تو انہوں نے جواب دیا: ابوطلحہ! آپ جیسے شخص کے پیغام کو مسترد نہیں کیا جا سکتا، لیکن میں ایک مسلمان عورت ہوں اور آپ ایک کافر شخص ہیں، میرے لیے آپ کے ساتھ شادی کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر آپ اسلام قبول کر لیتے ہیں، تو یہی میرا مہر ہو گا، میں اس کے علاوہ کسی چیز کا آپ سے مطالبہ نہیں کروں گی۔ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا، پھر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہو گئی، وہ حاملہ ہو گئیں اور انہوں نے ایک خوبصورت بچے کو جنم دیا۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اس بچے سے بہت محبت کرتے تھے، کچھ عرصہ بعد وہ بچہ بیمار ہو گیا۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو اس کی وجہ سے انتہائی افسوس ہوا، یہاں تک کہ وہ کمزور ہو گئے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ صبح و شام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو پیچھے بچے کا انتقال ہو گیا۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اس بچے کو خوشبو لگائی، اسے صاف کیا اور اسے ہمارے چھوٹے کمرے میں لٹا دیا۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ گھر آئے اور دریافت کیا: میرے بیٹے کا کیا حال ہے؟ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: اچھی حالت میں ہے، جب سے وہ بیمار ہوا ہے آج رات سب سے زیادہ پرسکون ہے۔ پھر سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور بہت خوش ہوئے۔ پھر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان کے سامنے رات کا کھانا پیش کیا، انہوں نے رات کا کھانا کھایا، پھر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کچھ خوشبو لگائی اور ان کے سامنے آئیں، یہاں تک کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ صحبت کر لی۔ جب انہوں نے رات کا کھانا بھی کھا لیا اور اپنی بیوی سے صحبت بھی کر لی، تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اے ابوطلحہ! آپ کی کیا رائے ہے اگر آپ کے کسی پڑوسی نے آپ کو عاریت کے طور پر کوئی چیز دی ہو اور آپ اس سے فائدہ حاصل کرتے رہیں، پھر وہ اس چیز کو آپ سے واپس لینا چاہے، تو کیا آپ وہ چیز اسے واپس کر دیں گے؟ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں! اللہ کی قسم، میں وہ چیز اسے واپس کر دوں گا۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: اپنی خوشی کے ساتھ؟ انہوں نے جواب دیا: اپنی خوشی کے ساتھ۔ تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ نے میرا بیٹا آپ کو عاریت کے طور پر دیا تھا، جب تک اس نے چاہا آپ نے اس سے نفع حاصل کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی روح کو قبض کر لیا، تو اب آپ صبر سے کام لیں اور ثواب کی امید رکھیں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے «إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے“ پڑھا اور صبر سے کام لیا۔ اگلے دن وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں صبح کے وقت حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے واقعے کے بارے میں بتایا یعنی جو کچھ انہوں نے کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تم دونوں کی گزشتہ رات میں تم دونوں کے لئے برکت رکھے۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا اس واقعے سے حاملہ ہو گئیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”جب ام سلیم بچے کو جنم دے تو اس کے بچے کو میرے پاس لے کر آنا۔“ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اس بچے کو کپڑے میں لپیٹ کر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو چبایا اور اسے اس بچے کے منہ میں ڈال دیا، پس بچے نے اسے چوسنا شروع کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”انصار واقعی کھجور سے محبت کرتے ہیں۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو گھٹی دی، اس بچے کا نام رکھا اور اس کے لئے دعا کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام عبداللہ رکھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7187]

7188

Sahih Ibn Hibban #7188

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ L3142 ، كَانَ لَهُ ابْنٌ يُكَنَّى أَبَا عُمَيْرٍ ، قَالَ : فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ؟ " ، قَالَ : فَمَرِضَ وَأَبُو طَلْحَةَ غَائِبٌ فِي بَعْضِ حِيطَانِهِ ،فَهَلَكَ الصَّبِيُّ ، فَقَامَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ ، فَغَسَّلَتْهُ ، وَكَفَّنَتْهُ ، وَحَنَّطَتْهُ ، وَسَجَّتْ عَلَيْهِ ثَوْبًا ، وَقَالَتْ : لا يَكُونُ أَحَدٌ يُخْبِرُ أَبَا طَلْحَةَ حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أُخْبِرُهُ ، فَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ كَالا ، وَهُوَ صَائِمٌ ، فَتَطَيَّبَتْ لَهُ ، وَتَصَنَّعَتْ لَهُ ، وَجَاءَتْ بِعَشَائِهِ ، فَقَالَ : مَا فَعَلَ أَبُو عُمَيْرٍ ؟ فَقَالَتْ : تَعَشَّى وَقَدْ فَرَغَ ، قَالَ : فَتَعَشَّى ، وَأَصَابَ مِنْهَا مَا يُصِيبُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ ، ثُمَّ قَالَتْ : يَا أَبَا طَلْحَةَ أَرَأَيْتَ أَهْلَ بَيْتٍ أَعَارُوا أَهْلَ بَيْتٍ عَارِيَّةً ، فَطَلَبَهَا أَصْحَابُهَا أَيَرُدُّونَهَا أَوْ يَحْبِسُونَهَا ؟ فَقَالَ : بَلْ يَرُدُّونَهَا عَلَيْهِمْ ، قَالَتْ : احْتَسِبْ أَبَا عُمَيْرٍ ، قَالَ : فَغَضِبَ وَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِ أُمِّ سُلَيْمٍ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي غَابِرِ لَيْلَتِكُمَا " ، قَالَ : فَحَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، حَتَّى إِذَا وَضَعَتْ وَكَانَ يَوْمُ السَّابِعِ ، قَالَتْ لِي أُمُّ سُلَيْمٍ : يَا أَنَسُ ، اذْهَبْ بِهَذَا الصَّبِيِّ وَهَذَا الْمِكْتَلِ وَفِيهِ شَيْءٌ مِنْ عَجْوَةٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَكُونَ هُوَ الَّذِي يُحَنِّكُهُ وَيُسَمِّيهِ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَيْهِ وَأَضْجَعَهُ فِي حِجْرِهِ ، وَأَخَذَ تَمْرَةً فَلاكَهَا ، ثُمَّ مَجَّهَا فِي فِيِّ الصَّبِيِّ ، فَجَعَلَ يَتَلَمَّظُهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبَتِ الأَنْصَارُ إِلا حُبَّ التَّمْرِ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا تھا، جس کی کنیت ابوعمیر تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے دریافت کیا کرتے تھے: ”اے ابوعمیر! تمہاری چڑیا کا کیا حال ہے؟“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ بچہ بیمار ہو گیا، سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اس وقت اپنے کسی باغ میں گئے ہوئے تھے کہ اس بچے کا انتقال ہو گیا۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا اٹھیں، انہوں نے اس بچے کو غسل دیا، اسے کفن دیا، اسے خوشبو لگائی اور اسے کپڑے میں ڈھانپ دیا۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کوئی بھی شخص ابوطلحہ کو اس بارے میں اطلاع نہ دے، میں خود انہیں اس بات کی اطلاع دوں گی۔ پھر سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ تھکے ہوئے آئے، انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان کے لیے خوشبو لگائی اور ان کے لیے تیار ہو گئیں، پھر وہ کھانا لے آئیں۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ابوعمیر کا کیا حال ہے؟ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ شام کا کھانا کھا کر فارغ ہو چکا ہے۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کھانا کھایا، اس کے بعد انہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ صحبت کی، پھر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اے ابوطلحہ! آپ کا کیا خیال ہے اگر کسی گھرانے کے لوگ کسی دوسرے گھر والوں کو عاریت کے طور پر کوئی چیز دیں اور پھر اس چیز کے مالکان دوسرے لوگوں سے اس کا مطالبہ کریں، تو کیا وہ دوسرے لوگ اس چیز کو واپس کر دیں گے یا اپنے پاس رکھیں گے؟ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بلکہ انہیں وہ چیز واپس کرنی چاہیے، تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ ابوعمیر کے حوالے سے ثواب کی امید رکھیے، تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ کو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے قول کے بارے میں بتایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي لَيْلَتِكُمَا» ”اللہ تعالیٰ تم دونوں کی گزشتہ رات میں تم دونوں کو برکت نصیب کرے۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا، سیدنا عبداللہ بن ابوطلحہ رضی اللہ عنہما سے حاملہ ہو گئیں، جب انہوں نے اس بچے کو جنم دیا تو اس کی پیدائش کے ساتویں دن سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا: اے انس! اس بچے کو لے جاؤ اور یہ برتن بھی لے جاؤ، اس میں کچھ عجوہ کھجوریں ہیں، انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے گھٹی دیں اور اس کا نام تجویز کریں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت پاؤں پھیلا کر بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے اس بچے کو اپنی گود میں لٹایا، آپ نے ایک کھجور لی، اسے چبایا، پھر وہ کھجور اس بچے کے منہ میں ڈال دی، تو اس بچے نے اسے چوسنا شروع کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”انصار واقعی کھجوروں سے محبت کرتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7188]

7189

Sahih Ibn Hibban #7189

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أُمِّ حَرَامٍ ، قَالَتْ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عِنْدَنَا ، فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، مَا أَضْحَكَكَ ؟ قَالَ : رَأَيْتُ قَوْمًا مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ " ، ثُمَّ نَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ ، قَالَتْ : فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ لِي مِثْلَ ذَلِكَ ، قُلْتُ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : " أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِينَ "، فَتَزَوَّجَهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ ، فَرَكِبَ وَرَكِبَتْ مَعَهُ ، فَلَمَّا قُدِّمَتْ إِلَيْهَا بَغْلَةٌ لِتَرْكَبَهَا انْدَقَّتْ عُنُقُهَا فَمَاتَتْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے یہ بات بتائی ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، آپ نے ہمارے ہاں قیلولہ کیا، جب آپ بیدار ہوئے تو آپ ہنس رہے تھے۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنی امت کے کچھ لوگوں کو دیکھا جو سمندر پر یوں سوار تھے، جس طرح بادشاہ اپنے تخت پر ہوتے ہیں۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، جب آپ بیدار ہوئے تو آپ مسکرا رہے تھے۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر یہی سوال کیا، تو آپ نے مجھے اسی کی مانند جواب دیا۔ میں نے عرض کی: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پہلے والوں میں شامل ہو۔“ (راوی بیان کرتے ہیں:) پھر سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہما نے اس خاتون کے ساتھ شادی کر لی۔ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ اور وہ خاتون سوار ہو کر (سمندری سفر پر روانہ ہوئے)، پھر جب وہ سمندری سفر سے واپس آئے تو ایک خچر اس خاتون کے سامنے لایا گیا تاکہ وہ اس پر سوار ہوں، تو وہ (اس سے نیچے گر گئیں) ان کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی اور ان کا انتقال ہو گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7189]

7190

Sahih Ibn Hibban #7190

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، فَسَمِعْتُ خَشْفَةً ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : الرُّمَيْصَاءُ بِنْتُ مِلْحَانَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : إِلَى هُنَا هُمُ الأَنْصَارُ ، وَإِنَّا نَذْكُرُ بَعْدَ هَؤُلاءِ مِنْ سَائِرِ قَبَائِلِ الْعَرَبِ ، مَنْ لَمْ يَكُنْ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مِنْ قُرَيْشٍ ، وَلا الأَنْصَارِ إِنَّ اللَّهَ يَسَّرَ ذَلِكَ وَسَهَّلَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے کسی کی آہٹ سنی، میں نے دریافت کیا: یہ کون ہے؟ تو فرشتوں نے بتایا: یہ رمیصاء بنت ملحان ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہاں تک انصار کا تذکرہ تھا، اب ہم ان کے بعد عربوں کے قبائل سے تعلق رکھنے والے (ان صحابہ کرام) کا ذکر کریں گے جن کا شمار قریش سے تعلق رکھنے والے مہاجرین یا انصار میں نہیں ہوتا، اگر اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو آسان کیا اور اسے سہل کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7190]

7191

Sahih Ibn Hibban #7191

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ زُهَيْرٍ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُعَيْمٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَزْرَبِ الأَشْعَرِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَدَ يَوْمَ حُنَيْنٍ لأَبِي عَامِرٍ الأَشْعَرِيِّ عَلَى خَيْلِ الطَّلَبِ ، فَلَمَّا انْهَزَمَتْ هَوَازِنُ طَلَبَهَا حَتَّى أَدْرَكَ دُرَيْدَ بْنَ الصِّمَّةِ ، فَأَسْرَعَ بِهِ فَرَسُهُ ، فَقَتَلَ ابْنُ دُرَيْدٍ أَبَا عَامِرٍ ، قَالَ أَبُو مُوسَى : فَشَدَدْتُ عَلَى ابْنِ دُرَيْدٍ ، فَقَتَلْتُهُ ، وَأَخَذْتُ اللِّوَاءَ ، وَانْصَرَفْتُ بِالنَّاسِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَآنِي وَاللِّوَاءُ بِيَدِي ، قَالَ : أَبَا مُوسَى قُتِلَ أَبُو عَامِرٍ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَرَفَعَ يَدَيْهِ يَدْعُو لَهُ ، يَقُولُ :" اللَّهُمَّ أَبَا عَامِرٍ اجْعَلْهُ فِي الأَكْثَرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ حنین کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوعامر اشعری رضی اللہ عنہ کو دشمن کا پیچھا کرنے والے گھڑ سواروں کا امیر مقرر کیا، جب ہوازن قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگ پسپا ہوئے تو سیدنا ابوعامر اشعری رضی اللہ عنہ نے ان کا پیچھا کیا، یہاں تک کہ وہ درید بن صمہ تک پہنچ گئے، انہوں نے اپنے گھوڑے کو تیز دوڑایا اور پھر ابن درید نے ابوعامر کو شہید کر دیا۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن درید پر حملہ کر کے اسے مار دیا اور جھنڈا میں نے لے لیا، پھر میں لوگوں کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جب آپ نے مجھے دیکھا اور میرے ہاتھ میں جھنڈے کو دیکھا تو دریافت فرمایا: ”اے ابوموسیٰ! کیا ابوعامر شہید ہو گیا ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کر کے ان کے لیے دعا کی، آپ نے یہ دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ عَبْدَكَ أَبَا عَامِرٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَوْقَ كَثِيرٍ مِنْ خَلْقِكَ مِنَ النَّاسِ» ”اے اللہ! ابوعامر کو ان لوگوں میں شامل کر دے جو قیامت کے دن زیادہ (اجر و ثواب والے) ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7191]

7192

Sahih Ibn Hibban #7192

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَقْدَمُ قَوْمٌ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً "، فَقَدِمَ الأَشْعَرِيُّونَ فِيهِمْ أَبُو مُوسَى ، فَجَعَلُوا يَرْتَجِزُونَ وَيَقُولُونَ : غَدًا نَلْقَى الأَحِبَّةَ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کچھ لوگ آئیں گے جن کے دل انتہائی نرم ہوں گے۔“ (راوی کہتے ہیں) تو اشعر قبیلے کے لوگ آ گئے جن میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی تھے، وہ لوگ یہ رجز پڑھتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے آ رہے تھے: «غَدًا نَلْقَى الْأَحِبَّةَ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهْ» ”کل ہم اپنے محبوب لوگوں سے ملاقات کریں گے، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ان کے گروہ سے (ملاقات کریں گے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7192]