Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 63 · Chapter 1

The Book of History

Hadith 7109–7148

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

7109

Sahih Ibn Hibban #7109

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الطُّفَيْلِ ، عَنْ رُمَيْثَةَ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : كَلَّمْنَنِي صَوَاحِبِي أَنْ أُكَلِّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْمُرَ النَّاسَ فَيُهْدُوا لَهُ حَيْثُ كَانَ ، فَإِنَّ النَّاسَ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ ، وَإِنَّا نُحِبُّ الْخَيْرَ كَمَا تُحِبُّ عَائِشَةَ ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يُرَاجِعْنِي ، فَجَاءَنِي صَوَاحِبِي ، فَأَخْبَرْتُهُنَّ أَنَّهُ لَمْ يُكَلِّمْنِي ، فَقُلْنَ وَاللَّهِ لا نَدَعُهُ ، قَالَتْ : فَكَلَّمْتُهُ مِثْلَ الْمَقَالَةِ الأُولَى مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا ، كُلُّ ذَلِكَ يَسْكُتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا أُمَّ سَلَمَةَ ،لا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ ، فَإِنِّي وَاللَّهِ مَا نَزَلَ الْوَحْيُ عَلَيَّ وَأَنَا فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِي غَيْرَ عَائِشَةَ " ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَسُوءَكَ فِي عَائِشَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میری ساتھی خواتین (یعنی دیگر ازواجِ مطہرات) نے میرے ساتھ یہ بات چیت کی کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات کروں کہ آپ لوگوں کو یہ ہدایت کریں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جہاں کہیں بھی ہوں، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحائف پیش کر دیا کریں، کیونکہ لوگ تحائف پیش کرنے کے لیے صرف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مخصوص دن کا اہتمام سے انتظار کرتے ہیں، جبکہ ہم بھی بھلائی کو اسی طرح پسند کرتی ہیں جس طرح عائشہ اسے پسند کرتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا، میری ساتھی خواتین میرے پاس آئیں تو میں نے انہیں بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا، تو ان خواتین نے کہا: اللہ کی قسم! ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے نہیں رہنے دیں گی (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ضرور کریں گی)۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ پھر میں نے دو یا شاید تین مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند بات کی، ہر مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام سلمہ! عائشہ کے بارے میں مجھے تکلیف نہ پہنچاؤ، اللہ کی قسم! میری ازواج میں سے عائشہ کے علاوہ اور کسی خاتون کے گھر میں مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے کہا: میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں کہ میں عائشہ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف پہنچاؤں (یعنی آپ کو ناراض کروں)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7109]

7110

Sahih Ibn Hibban #7110

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَصَّارُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَلا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْنَا : بَلَى ، قَالَتْ : لَمَّا كَانَ لَيْلَتِي انْقَلَبَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَضَعَ نَعْلَيْهِ عَنْ رِجْلَيْهِ وَوَضَعَ رِدَاءَهُ ، وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِهِ عَلَى فِرَاشِهِ ، فَلَمْ يَلْبَثْ إِلا رَيْثَمَا ظَنَّ أَنِّي قَدْ رَقَدْتُ ، ثُمَّ انْتَعَلَ رُوَيْدًا وَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا ، ثُمَّ فَتْحَ الْبَابَ ، فَخَرَجَ وَأَجَافَهُ رُوَيْدًا ، فَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي ، ثُمَّ تَقَنَّعْتُ بِإِزَارِي ، فَانْطَلَقْتُ فِي إِثْرِهِ حَتَّى أَتَى الْبَقِيعَ ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ، ثُمَّ انْحَرَفَ فَانْحَرَفْتُ ، فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ ، فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ ، فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ ، فَسَبَقْتُهُ فَدَخَلْتُ ، فَلَيْسَ إِلا أَنِ اضْطَجَعْتَ ، دَخَلَ ، فَقَالَ : مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ ؟ " ، قُلْتُ : لا شَيْءَ ، قَالَ : " لَتُخْبِرِنِّي أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ ، قَالَ : " أَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُ أَمَامِي ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَتْ : فَلَهَزَ فِي صَدْرِي لَهْزَةً أَوْجَعَتْنِي ، ثُمَّ قَالَ : " أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ " ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : مَهْمَا يَكْتُمِ النَّاسُ فَقَدْ عَلِمَهُ اللَّهُ ، قَالَ : " فَإِنَّجِبْرِيلَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ وَلَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ عَلَيْكِ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ ، فَنَادَانِي فَأَخْفَى مِنْكِ ، فَأَجَبْتُهُ فَأَخْفَيْتُهُ مِنْكِ ، وَظَنَنْتُ أَنَّكِ قَدْ رَقَدْتِ ، وَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَكِ ، وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِيَ ، فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ ، فَأَسْتَغْفِرَ لَهُمْ " ، قُلْتُ : كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " قُولِي : السَّلامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ الْمُسْلِمِينَ ، وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاحِقُونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن قیس بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اپنے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک واقعے کے بارے میں بتاؤں؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: میری مخصوص رات تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں جوتے اپنے پاؤں کے پاس رکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر رکھی اور اپنے تہبند کے کنارے کو بستر پر بچھا دیا، تھوڑی دیر گزرنے کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندازہ ہوا کہ میں سو چکی ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آرام سے جوتے پہنے، آرام سے اپنی چادر لی اور دروازہ کھول دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے اور آرام سے ایک طرف چل پڑے، میں نے اپنی چادر اپنے سر پر لی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنت بقیع تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس مڑے، تو میں بھی واپس مڑ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے چلے تو میں نے بھی اپنی رفتار تیز کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور زیادہ تیز کی تو میں نے بھی اور زیادہ تیز کر لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے تو میں بھی واپس آ گئی، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آ گئی اور گھر کے اندر آئی، ابھی میں لیٹی ہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی گھر کے اندر تشریف لے آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”عائشہ! تمہیں کیا ہوا؟“ میں نے کہا: کچھ نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا تو تم مجھے بتا دو یا پھر لطف کرنے والی اور خبر رکھنے والی ذات مجھے بتا دے گی۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا واقعہ سنایا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ہی وہ ہیولیٰ تھی جو میں نے اپنے آگے دیکھا تھا؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا جس کی تکلیف مجھے محسوس ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم یہ گمان کر رہی تھی کہ اللہ اور اس کے رسول تمہارے ساتھ زیادتی کریں گے؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: بہت سی چیزیں ایسی ہیں جنہیں لوگ چھپا لیتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان سے واقف ہوتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل میرے پاس اس وقت آئے جب تم نے دیکھا، وہ اندر اس لیے نہیں آئے کیونکہ تم اپنی چادر اتار چکی تھی، انہوں نے مجھے پکارا، میں نے اس بات کو تم سے پوشیدہ رکھا اور میں نے انہیں جواب دیا، میں نے یہ گمان کیا کہ تم سو چکی ہو، میں نے تمہیں بیدار کرنا مناسب نہیں سمجھا، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں تم مجھ سے وحشت محسوس نہ کرو (یعنی ڈر نہ جاؤ)، جبرائیل نے مجھے کہا کہ میں اہل بقیع کے پاس جاؤں اور ان کے لیے دعائے مغفرت کروں۔“ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:) میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کیسے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ پڑھو: «السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَيَرْحَمُ اللهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَلَاحِقُونَ» ”اے مومنوں اور مسلمانوں کی بستی والو! تم پر سلام ہو، اللہ تعالیٰ ہم میں سے پہلے گزر جانے والے لوگوں اور بعد میں آنے والوں پر رحم کرے، اگر اللہ نے چاہا، تو ہم بھی تم سے آ ملیں گے۔“” [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7110]

7111

Sahih Ibn Hibban #7111

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : لَمَّا رَأَيْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طِيبَ نَفْسٍ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ لِي ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَائِشَةَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنَبِهَا وَمَا تَأَخَّرَ ، مَا أَسَرَّتْ وَمَا أَعْلَنَتْ " ، فَضَحِكَتْ عَائِشَةُ حَتَّى سَقَطَ رَأْسُهَا فِي حِجْرِهَا مِنَ الضَّحِكِ ، قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيَسُرُّكِ دُعَائِي ؟ " ، فَقَالَتْ : وَمَا لِي لا يَسُرُّنِي دُعَاؤُكَ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللَّهِ إِنَّهَا لَدُعَائِي لأُمَّتِي فِي كُلِّ صَلاةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، ایک دن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج خوشگوار دیکھا تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لیے دعا کیجیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَائِشَةَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهَا وَمَا تَأَخَّرَ، وَمَا أَسَرَّتْ وَمَا أَعْلَنَتْ» ”اے اللہ! تو عائشہ کی مغفرت کر دے، اس کے گزشتہ اور آئندہ گناہوں کی، جو کچھ اس نے پوشیدہ طور پر کیا اور جو کچھ اعلانیہ طور پر کیا ان سب کی مغفرت کر دے۔“ اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہنس پڑیں، حتی کہ ان کا سر ہنسنے کی وجہ سے گود میں آ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا میری دعا تمہیں پسند آئی ہے؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: آپ کی دعا مجھے کیوں نہ اچھی لگے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! یہ دعا میں ہر نماز میں اپنی امت کے لیے کرتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7111]

7112

Sahih Ibn Hibban #7112

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي لأَعْلَمُ إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى " ، قَالَتْ : وَبِمَ تَعْرِفُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ :" إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً ، فَحَلَفْتِ ، قُلْتِ : لا وَرَبُّ مُحَمَّدٍ ، وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى ، قُلْتِ : لا وَرَبُّ إِبْرَاهِيمَ " ، قُلْتُ : أَجَلْ ، مَا أَهْجُرُ إِلا اسْمَكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مجھے پتا چل جاتا ہے، جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور جب مجھ سے ناراض ہوتی ہو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو یہ کیسے پتا چلتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو، تو تم قسم اٹھاتے ہوئے یہ کہتی ہو: «وَرَبِّ مُحَمَّدٍ» ”سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار کی قسم!“ اور جب تم مجھ سے ناراض ہو، تو یہ کہتی ہو: «وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ» ”سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پروردگار کی قسم۔““ تو میں نے عرض کی: جی ہاں! لیکن میں صرف آپ کا نام لینا چھوڑتی ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7112]

7113

Sahih Ibn Hibban #7113

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى الطَّعَامِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عائشہ کو تمام عورتوں پر وہی فضیلت حاصل ہے، جو ثرید کو تمام کھانوں پر حاصل ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7113]

7114

Sahih Ibn Hibban #7114

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمَدَانِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ ، وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ ، وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ ، وَفَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى الطَّعَامِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مردوں میں بہت سے لوگ کامل ہوئے ہیں، عورتوں میں کامل صرف مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ ہیں اور عائشہ رضی اللہ عنہا کو تمام عورتوں پر وہی فضیلت حاصل ہے، جو ثرید کو تمام کھانوں پر حاصل ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7114]

7115

Sahih Ibn Hibban #7115

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عائشہ کو تمام عورتوں پر وہی فضیلت حاصل ہے، جو ثرید کو تمام کھانوں پر حاصل ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7115]

7116

Sahih Ibn Hibban #7116

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي وَفِي يَوْمِي وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي ،فَدَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَهُ سِوَاكٌ رَطْبٌ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ فِيهِ حَاجَةً ، فَأَخَذْتُهُ فَلَقَطْتُهُ وَمَضَغْتُهُ وَطَيَّبْتُهُ ، ثُمَّ دَفَعْتُهُ إِلَيْهِ ، فَاسْتَنَّ كَأَحْسَنِ مَا رَأَيْتُهُ مُسْتَنًّا قَطُّ ، ثُمَّ ذَهَبَ يَرْفَعُهُ إِلَيَّ ، فَسَقَطَ مِنْ يَدِهِ ، فَأَخَذْتُ أَدْعُو بِدُعَاءٍ كَانَ يَدْعُو بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرِضَ ، فَلَمْ يَدْعُ بِهِ فِي مَرَضِهِ ذَلِكَ ، فَرَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، فَقَالَ : الرَّفِيقَ الأَعْلَى ، الرَّفِيقَ الأَعْلَى ، فَفَاضَتْ نَفْسُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَمَعَ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنَ الدُّنْيَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال میرے گھر میں، میری باری کے مخصوص دن میں، میرے سینے کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے ہوا، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے کچھ دیر پہلے) عبدالرحمن بن ابو بکر رضی اللہ عنہما اندر آئے، ان کے پاس تر مسواک تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے استعمال کرنا چاہتے ہیں، میں نے اسے لیا، اسے کاٹا، اسے چبایا اور صاف کر لیا، پھر وہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت اچھے طریقے سے مسواک کی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی اس طرح مسواک کرتے ہوئے نہیں دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف (جھکنے لگے تو) وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے گر گئی، میں نے وہی دعا کرنا شروع کی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مانگا کرتے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوتے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری کے دوران وہ دعا نہیں مانگی تھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور فرمایا: «اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَىٰ» ”(میں) رفیقِ اعلیٰ کو اختیار کرتا ہوں۔“ یوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان رخصت ہو گئی، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا کے آخری دن میں میرے لعابِ دہن اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لعابِ دہن کو اکٹھا کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7116]

7117

Sahih Ibn Hibban #7117

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا وُلِدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَفَلَ فِي فِيهِ ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ دَخَلَ جَوْفَهُ ، وَقَالَ : هُوَ عَبْدُ اللَّهِ ، وَأَنْتِ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ "، فَمَا زِلْتُ أُكَنَّى بِهَا وَمَا وَلَدْتُ قَطُّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے، تو میں انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے منہ میں اپنا لعابِ دہن ڈالا، یہ وہ پہلی چیز تھی جو ان کے منہ میں داخل ہوئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عبداللہ ہے اور تم ام عبداللہ ہو“ اس کے بعد میری مسلسل یہی کنیت رہی حالانکہ میری کوئی اولاد نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7117]

7118

Sahih Ibn Hibban #7118

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَزَوَّجَهَا وَهِيَ بِنْتُ سِتٍّ ، وَأُدْخِلَتْ عَلَيْهِ وَهِيَ ابْنَةُ تِسْعٍ ، وَمَكَثَتْ عِنْدَهُ تِسْعًا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : إِلَى هَا هُنَا هُمُ الْمُهَاجِرُونَ مِنْ قُرَيْشٍ ، وَإِنَّا نَذْكُرُ بَعْدَ هَؤُلاءِ حُلَفَاءَ قُرَيْشٍ إِنِ اللَّهُ يَسَّرَ ذَلِكَ وَسَهَّلَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ شادی کی اس وقت ان کی عمر چھ سال تھی، جب ان کی رخصتی ہوئی اس وقت ان کی عمر نو سال تھی اور وہ نو سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہاں تک قریش سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کا تذکرہ تھا، اب ہم اس کے بعد قریش کے حلیف لوگوں کا تذکرہ کریں گے اگر اللہ تعالیٰ نے اسے آسان کیا اور اسے سہل کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7118]

7119

Sahih Ibn Hibban #7119

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا ، يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ : بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا مَرْثَدٍ السُّلَمِيَّ ، وَكِلانَا فَارِسٌ ، قَالَ : انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ ، فَإِنَّ بِهَا امْرَأَةً وَمَعَهَا صَحِيفَةٌ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ ، فَأْتُونِي بِهَا " ، فَأَدْرَكْنَاهَا وَهِيَ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا ، حَيْثُ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : أَيْنَ الْكِتَابُ الَّذِي مَعَكِ ؟ فَقَالَتْ : مَا مَعِي كِتَابٌ ، قَالَ : فَأَنَخْنَا بَعِيرَهَا ، وَفَتَّشْنَا رَحْلَهَا ، فَقَالَ صَاحِبِي : مَا نَرَى مَعَهَا شَيْئًا ، فَقُلْتُ لَهُ : لَقَدْ عَلِمْتَ مَا كَذِبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ لَتُخْرِجِنَّهُ أَوْ لأَجُزَّنَّكِ بِالسَّيْفِ ، فَلَمَّا رَأَتِ الْجِدَّ أَهْوَتْ إِلَى حُجْزَتِهَا ، وَعَلَيْهَا إِزَارٌ مِنْ صُوفٍ ، فَأَخْرَجَتِ الْكِتَابَ ، فَأَتَيْنَا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا حَاطِبُ مَا حَمَلَكَ عَلَى الَّذِي صَنَعْتَ ؟ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا بِي أَنْ لا أَكُونَ مُؤْمِنًا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَلَكِنِّي أَرَدْتُ أَنْ يَكُونَ لِي عِنْدَ الْقَوْمِ يَدٌ يَدْفَعُ اللَّهُ بِهَا عَنْ أَهْلِي وَمَالِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَ ، لا تَقُولُوا لَهُ إِلا خَيْرًا " ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ قَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ فَدَعْنِي حَتَّى أَضْرِبَ عُنُقَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَو َلَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ؟ مَا يُدْرِيكَ يَا عُمَرُ ، لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ ، فَقَالَ : اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ وَجَبَتْ لَكُمُ الْجَنَّةُ " ، فَدَمَعَتْ عَيْنُ عُمَرَ ، وَقَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابو عبد الرحمٰن سلمی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ بیان کرتے ہوئے سنا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور ابو مرثد سلمی رضی اللہ عنہما کو بھیجا، ہم دونوں گھوڑوں پر سوار تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ جاؤ اور تم خاخ کے باغ میں پہنچو گے، وہاں ایک عورت ہو گی، جس کے پاس ایک خط ہو گا، وہ حاطب بن ابو بلتعہ کی طرف سے مشرکین کے نام لکھا گیا ہو گا، تم اسے میرے پاس لے آنا۔“ (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) ہم اس عورت تک پہنچ گئے، وہ اپنے اونٹ پر سوار تھی اور اسی جگہ پر موجود تھی جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا تھا، میں نے کہا: وہ خط کہاں ہے، جو تمہارے پاس ہے؟ اس نے کہا: میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے اس کے اونٹ کو بٹھا لیا اور اس کے پالان کی تلاشی لی، میرے ساتھی نے کہا: میرا خیال ہے اس کے پاس کوئی چیز نہیں ہے، میں نے اس سے کہا: تم یہ بات جانتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ غلط بیانی نہیں کی، اس ذات کی قسم جس کے نام کی قسم اٹھائی جاتی ہے (اے عورت) یا تو تم اسے نکال دو گی یا پھر میں تلوار سے تمہارے ٹکڑے کر دوں گا۔ جب اس نے سختی دیکھی تو اس نے تہبند کے ڈب کی طرف ہاتھ بڑھایا، اس نے اونی تہبند باندھا ہوا تھا، اس نے وہ خط نکالا، میں اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حاطب! کس چیز نے تمہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا؟“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کس بنیاد پر اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے والا نہ رہوں (یعنی میں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان کو ترک کرتے ہوئے ایسا نہیں کیا) بلکہ میں چاہتا تھا میرا ان لوگوں پر کوئی احسان ہو جائے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ میرے اہل خانہ اور میرے اموال کو محفوظ رکھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا ہے، تم اس کے بارے میں صرف بھلائی کی بات کرو۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کے ساتھ خیانت کی ہے، آپ مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اہل بدر میں سے نہیں ہے؟ اے عمر! تمہیں کیا پتہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانک کر یہ ارشاد فرمایا: تم جو چاہو عمل کرو، جنت تمہارے لیے لازم ہو چکی ہے“، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، انہوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7119]

7120

Sahih Ibn Hibban #7120

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلانَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ عَبْدًا لِحَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّارَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَذَبْتَ ، إِنَّهُ لا يَدْخُلُهَا ، فَإِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا حاطب بن ابوبلتعہ رضی اللہ عنہ کا غلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حاطب ضرور جہنم میں داخل ہوں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم نے جھوٹ کہا ہے وہ جہنم میں داخل نہیں ہو گا کیونکہ وہ غزوہ بدر اور صلح حدیبیہ میں شریک ہوا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7120]

7121

Sahih Ibn Hibban #7121

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : خَطَبَ عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّالدُّنْيَا قَدْ آذَنَتْ بِصُرْمٍ ، وَوَلَّتْ حَذَّاءَ ، وَإِنَّمَا بَقِيَ مِنْهَا صُبَابَةٌ كَصُبَابَةِ الإِنَاءِ صَبَّهَا أَحَدُكُمْ ، وَإِنَّكُمْ مُنْتَقِلُونَ مِنْهَا إِلَى دَارٍ لا زَوَالَ لَهَا ، فَانْتَقِلُوا مَا بِحَضْرَتِكُمْ يُرِيدُ مِنَ الْخَيْرِ ، فَلَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّ الْحَجَرَ يُلْقَى مِنْ شَفِيرِ جَهَنَّمَ ، فَمَا يَبْلُغُ لَهَا قَعْرًا سَبْعِينَ عَامًا ، وَايْمُ اللَّهِ لَتُمْلأَنَّ ، أَفَعَجِبْتُمْ وَلَقَدْ ذُكِرَ لِي أَنَّ مَا بَيْنَ مِصْرَاعَيِ الْجَنَّةِ مَسِيرَةَ أَرْبَعِينَ عَامًا ، وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَيْهِ يَوْمٌ وَهُوَ كَظِيظٌ مِنَ الزِّحَامِ ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ إِلا وَرَقُ الشَّجَرِ حَتَّى قَرِحَتْ مِنْهُ أَشْدَاقُنَا ، وَلَقَدِ الْتَقَطْتُ بُرْدَةً ، فَشَقَقْتُهَا بَيْنِي وَبَيْنَ سَعْدٍ ، فَاتَّزَرْتُ بنصفها ، وَاتَّزَرَ سَعْدٌ بنصفها مَا مِنَّا أَحَدٌ الْيَوْمَ حَيٌّ إِلا أَصْبَحَ أَمِيرًا عَلَى مِصْرٍ مِنَ الأَمْصَارِ ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ عَظِيمًا فِي نَفْسِي صَغِيرًا عِنْدَ اللَّهِ ، وَإِنَّهَا لَمْ تَكُنْ نُبُوَّةٌ إِلا تَنَاسَخَتْ حَتَّى تَكُونَ عَاقِبَتُهَا مُلْكًا سَتُبْلُونَ الأُمَرَاءَ بَعْدَنَا "، قَالَ الشَّيْخُ : هَكَذَا حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى ، فَقَالَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ وَإِنَّما هُوَ خَالِدُ بْنُ سُمَيْرٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خالد بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر وہ بولے: «أَمَّا بَعْدُ» ”اما بعد! دنیا، اس میں سے اب وہ تلچھٹ باقی رہ گئی ہے جو کسی برتن میں رہ جاتی ہے اور تم میں سے کوئی ایک شخص اسے انڈیل دیتا ہے، تم لوگ اس دنیا سے ایک ایسے جہان کی طرف منتقل ہو گے جو زائل نہیں ہو گا، تو جو کچھ تمہارے پاس موجود ہے اسے منتقل کرو۔“ ان کی مراد بھلائی تھی کیونکہ مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ: ”ایک پتھر اگر جہنم کے کنارے سے پھینکا جائے، تو وہ اس کی گہرائی تک ستر سال تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔“ اللہ کی قسم! وہ جہنم ضرور بھری جائے گی۔ کیا تمہیں اس بات پر حیرانگی ہو رہی ہے؟ میرے سامنے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ: ”جنت کے دو کواڑوں کے درمیان چالیس سال کی مسافت کا فاصلہ ہے“ اور اس پر ایک ایسا دن آئے گا کہ جب وہاں لوگوں کا ہجوم ہو گا، مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم سات افراد تھے، ہماری خوراک صرف درخت کے پتے ہوتے تھے یہاں تک کہ ہماری باچھیں چر گئی تھیں، ایک مرتبہ مجھے ایک چادر پڑی ہوئی ملی تو میں نے اسے چیر کر اپنے اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہما کے درمیان تقسیم کر لیا، میں نے اس کے نصف حصے کو تہبند بنا لیا اور نصف حصے کو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے تہبند بنا لیا، آج ہم میں سے ہر شخص جو زندہ ہے وہ کسی نہ کسی شہر کا گورنر ہے، میں اللہ سے اس بات کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں خود کو بڑا سمجھتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں چھوٹا ہوں۔ نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے اور اس کے بعد بادشاہی آئے گی، تو ہمارے بعد تم لوگ حکمرانوں کے حوالے سے آزمائے جاؤ گے۔ شیخ بیان کرتے ہیں: ابویعلیٰ نے حمید بن ہلال سے خالد بن عمیر کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے حالانکہ راوی کا نام خالد بن سمیر ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7121]

7122

Sahih Ibn Hibban #7122

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، فَذَكَرْنَا حَدِيثًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : ذَاكَ رَجُلٌ مَا أَزَالُ أُحِبُّهُ مُنْذُ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ : مِنَ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ ، وَمِنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، وَمِنْ سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ ، وَمِنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھے، ہم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک حدیث کا ذکر کیا، تو انہوں نے فرمایا: وہ ایک ایسے شخص ہیں جن سے میں اس دن سے محبت رکھتا ہوں جس دن سے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تم قرآن کی تلاوت چار لوگوں سے سیکھو ابن ام عبد (یعنی عبداللہ بن مسعود)، ابی بن کعب، سالم جو ابوحذیفہ کا غلام ہے اور معاذ بن جبل۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7122]

7123

Sahih Ibn Hibban #7123

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلا هَذِهِ الآيَةَ : وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لا يَكُونُوا أَمْثَالُكُمْ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ هَؤُلاءِ الَّذِينَ إِنْ تَوَلَّيْنَا اسْتُبْدِلُوا بِنَا ، ثُمَّ لا يَكُونُوا أَمْثَالَنَا ؟ فَضَرَبَ عَلَى فَخِذِ سَلْمَانَ الْفَارِسَيِّ ، ثُمَّ قَالَ : هَذَا وَقَوْمُهُ لَوْ كَانَ الدِّينُ عِنْدَ الثُّرَيَّا ، لَتَنَاوَلَهُ رِجَالٌ مِنْ فَارِسٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ﴾ [سورة محمد: 38] ”اگر تم لوگ منہ پھیر لیتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہاری بجائے دوسری قوم لے آئے گا اور وہ تمہاری طرح نہیں ہوں گے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کون لوگ ہیں اگر ہم منہ پھیر لیں، تو وہ ہماری جگہ آ جائیں گے پھر وہ ہماری طرح نہیں ہوں گے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے زانوں پر ہاتھ مارا اور فرمایا: ”یہ اور اس کی قوم کے لوگ (مراد ہیں) اگر دین ثریا (ستارے جتنی بلندی) پر چلا جائے، تو فارس کے کچھ لوگ وہاں سے بھی اسے حاصل کر لیں گے (یعنی یہ وہاں تک بھی پہنچ جائیں گے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7123]

7124

Sahih Ibn Hibban #7124

أَخْبَرَنَا أَبُو يَزِيدَ خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي قُرَّةَ الْكِنْدِيِّ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : كَانَ أَبِي مِنْ أَبْنَاءِ الأَسَاوِرَةِ ، وَكُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَى الْكِتَابِ ، وَكَانَ مَعِي غُلامَانِ إِذَا رَجَعَا مِنَ الْكِتَابِ دَخَلا عَلَى قَسٍّ ، فَدَخَلْتُ مَعَهُمَا ، فَقَالَ لَهُمَا : أَلَمْ أَنْهَكُمَا أَنْ تَأْتِيَانِي بِأَحَدٍ ؟ قَالَ : فَكُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَيْهِ حَتَّى كُنْتُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْهُمَا ، فَقَالَ لِي : يَا سَلْمَانُ ، إِذَا سَأَلَكَ أَهْلُكَ مَنْ حَبَسَكَ ؟ فَقُلْ مُعَلِّمِي ، وَإِذَا سَأَلَكَ مُعَلِّمُكَ مَنْ حَبَسَكَ ؟ فَقُلْ : أَهْلِي ، وَقَالَ لِي : يَا سَلْمَانُ ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَتَحَوَّلَ ، قَالَ : قُلْتُ أَنَا مَعَكَ ، قَالَ : فَتَحَوَّلَ ، فَأَتَى قَرْيَةً فَنَزَلَهَا وَكَانَتِ امْرَأَةٌ تَخْتَلِفُ إِلَيْهِ ، فَلَمَّا حَضَرَ قَالَ : يَا سَلْمَانُ احْتَفِرْ ، قَالَ : فَاحْتَفَرْتُ فَاسْتَخْرَجْتُ جَرَّةً مِنْ دَرَاهِمَ ، قَالَ : صُبَّهَا عَلَى صَدْرِي ، فَصَبَبْتُهَا ، فَجَعَلَ يَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَى صَدْرِي ، وَيَقُولُ : وَيْلٌ لِلْقَسِّ ، فَمَاتَ ، فَنَفَخْتُ فِي بُوقِهِمْ ذَلِكَ ، فَاجْتَمَعَ الْقِسِّيسُونَ وَالرُّهْبَانُ ، فَحَضَرُوهُ ، وَقَالَ : وَهَمَمْتُ بِالْمَالِ أَنْ أَحْتَمِلَهُ ، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ صَرَفَنِي عَنْهُ ، فَلَمَّا اجْتَمَعَ الْقِسِّيسُونَ وَالرُّهْبَانُ ، قُلْتُ : إِنَّهُ قَدْ تَرَكَ مَالا فَوَثَبَ شَبَابٌ مِنْ أَهْلِ الْقَرْيَةِ ، وَقَالُوا : هَذَا مَالُ أَبَيْنَا كَانَتْ سُرِّيَّتُهُ تَأْتِيَهِ ، فَأَخَذُوهُ ، فَلَمَّا دُفِنَ ، قُلْتُ : يَا مَعْشَرَ الْقِسِّيسِينَ ، دُلُّونِي عَلَى عَالِمٍ أَكُونُ مَعَهُ ، قَالُوا : مَا نَعْلَمُ فِي الأَرْضِ أَعْلَمَ مِنْ رَجُلٍ كَانَ يَأْتِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ ، وَإِنِ انْطَلَقْتَ الآنَ وَجَدْتَ حِمَارَهُ عَلَى بَابِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَانْطَلَقْتُ ، فَإِذَا أَنَا بِحِمَارٍ ، فَجَلَسْتُ عِنْدَهُ حَتَّى خَرَجَ ، فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ ، فَقَالَ : اجْلِسْ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ ، قَالَ : فَلَمْ أَرَهُ إِلَى الْحَوْلِ وَكَانَ لا يَأْتِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ إِلا فِي كُلِّ سَنَةٍ فِي ذَلِكَ الشَّهْرِ ، فَلَمَّا جَاءَ ، قُلْتُ : مَا صَنَعْتَ فِيَّ ؟ قَالَ : وَإِنَّكَ لَهَا هُنَا بَعْدُ ؟ ! قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : لا أَعْلَمُ فِي الأَرْضِ أَحَدًا أَعْلَمُ مِنْ يَتِيمٍ خَرَجَ فِي أَرْضِ تِهَامَةَ ، وَإِنْ تَنْطَلِقِ الآنَ تُوَافِقْهُ ، وَفِيهِ ثَلاثٌ : يَأْكُلُ الْهَدِيَّةَ ، وَلا يَأْكُلُ الصَّدَقَةَ ، وَعِنْدَ غُضْرُوفِ كَتِفِهِ الْيُمْنَى خَاتَمُ نُبُوَّةٍ مِثْلُ بَيْضَةٍ لَوْنُهَا لَوْنُ جِلْدِهِ ، وَإِنِ انْطَلَقْتَ الآنَ وَافَقْتَهُ ، فَانْطَلَقْتُ تَرْفَعُنِي أَرْضٌ وَتَخْفِضُنِي أُخْرَى حَتَّى أَصَابَنِي قَوْمٌ مِنَ الأَعْرَابِ ، فَاسْتَبْعَدُونِي ، فَبَاعُونِي حَتَّى وَقَعْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ ،فَسَمِعْتُهُمْ يَذْكُرُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ الْعَيْشُ عَزِيزًا ، فَسَأَلْتُ أَهْلِي أَنْ يَهَبُوا لِي يَوْمًا ، فَفَعَلُوا ، فَانْطَلَقْتُ فَاحْتَطَبْتُ ، فَبِعْتُهُ بِشَيْءٍ يَسِيرٍ ، ثُمَّ جِئْتُ بِهِ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا هُوَ ؟ " ، فَقُلْتُ : صَدَقَةٌ ، فَقَالَ لأَصْحَابِهِ : " كُلُوا " ، وَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ ، قُلْتُ : هَذِهِ وَاحِدَةٌ ، ثُمَّ مَكَثْتُ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ اسْتَوْهَبْتُ أَهْلِي يَوْمًا ، فَوَهَبُوا لِي يَوْمًا ، فَانْطَلَقْتُ فَاحْتَطَبْتُ ، فَبِعْتُهُ بِأَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ، فَصَنَعْتُ طَعَامًا ، فَأَتَيْتُهُ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " ، قُلْتُ : هَدِيَّةٌ ، فَقَالَ بِيَدِهِ : " بِاسْمِ اللَّهِ خُذُوا " ، فَأَكَلَ وَأَكَلُوا مَعَهُ ، وَقُمْتُ إِلَى خَلْفِهِ فَوَضَعَ رِدَاءَهُ ، فَإِذَا خَاتَمُ النُّبُوَّةِ ، كَأَنَّهُ بَيْضَةٌ ، قُلْتُ : أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ : " وَمَا ذَاكَ ؟ " ، قَالَ : فَحَدَّثْتُهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْقَسُّ هَلْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ ؟ فَإِنَّهُ زَعَمَ أَنَّكَ نَبِيٌّ ؟ قَالَ : " لا يَدْخُلُ الْجَنَّة إِلا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي أَنَّكَ نَبِيٌّ ، قَالَ : " لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے والد سردار (یا سرکاری اہلکار) تھے، میں درس گاہ میں جایا کرتا تھا، میرے ساتھ دو لڑکے بھی تھے، وہ درس گاہ سے واپس جاتے ہوئے ایک گرجے میں داخل ہوئے، ان کے ساتھ میں بھی اندر چلا گیا تو راہب نے ان سے کہا: کیا میں نے تم دونوں کو منع نہیں کیا تھا تم میرے پاس کسی کو نہ لے کر آنا۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اس کے پاس آتا جاتا رہا، یہاں تک کہ میں اس کے نزدیک ان دونوں لڑکوں سے زیادہ محبوب ہو گیا۔ اس راہب نے مجھ سے کہا: اے سلمان! گھر والے تم سے پوچھیں گے تمہیں کس نے روک لیا تھا، تو تم کہنا میرے اس استاد نے، اور جب تمہارا استاد تم سے پوچھے تمہیں کس نے روک لیا تھا، تو تم کہنا میرے گھر والوں نے۔ اس نے مجھ سے کہا: اے سلمان! میں یہ چاہتا ہوں کہ یہاں سے کہیں اور منتقل ہو جاؤں۔ میں نے کہا: میں آپ کے ساتھ رہوں گا۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ وہاں سے منتقل ہوا اور ایک بستی میں آ گیا، اس نے وہاں پڑاؤ کیا، وہاں ایک عورت اس کے پاس آنے جانے لگی، جب اس کا آخری وقت قریب آیا، تو وہ بولا: اے سلمان! تم زمین کھودو۔ میں نے زمین کھودی اور اس میں سے درہموں کا ایک تھیلا نکالا۔ اس نے کہا: یہ میرے سینے کے اوپر ڈال دو۔ میں نے وہ اس کے سینے پر ڈال دیے تو اس نے اپنا ہاتھ میرے سینے کے اوپر مارنا شروع کیا اور بولا: راہب کے لیے بربادی ہے، پھر وہ مر گیا۔ میں نے ان کے باجے میں پھونک مار کر (اس کے مرنے کا) اعلان کیا، تو بہت سے عبادت گزار اور راہب لوگ وہاں آ گئے۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اس مال کے بارے میں ارادہ کیا کہ اسے میں اٹھا کر لے جاتا ہوں لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے میری توجہ اس کی طرف سے ہٹا دی، جب وہ عبادت گزار اور راہب لوگ اکٹھے ہو گئے میں نے کہا: اس نے کچھ مال چھوڑا ہے، تو اس بستی کے کچھ نوجوان آ گئے انہوں نے کہا: یہ ہمارے باپ کا مال ہے، اس کی کنیز اس کے پاس آتی تھی، ان لوگوں نے وہ مال حاصل کر لیا، جب اس راہب کو دفن کر دیا گیا، تو میں نے کہا: اے عبادت گزاروں کے گروہ! تم کسی ایسے عالم کی طرف میری رہنمائی کرو جس کے ساتھ میں رہوں، تو ان لوگوں نے کہا: ہمیں روئے زمین پر کسی ایسے عالم کے بارے میں پتا نہیں ہے، جو اس شخص سے زیادہ علم رکھتا ہو جو بیت المقدس آتا ہے، اگر تم وہاں چلے جاتے ہو تو تم اس گدھے کو بیت المقدس کے دروازے پر پا لو گے۔ میں وہاں سے روانہ ہوا، وہاں ایک گدھا موجود تھا، میں اس کے پاس بیٹھ گیا، یہاں تک کہ وہ عالم باہر آیا، میں نے اسے سارا واقعہ سنایا تو وہ بولا: تم بیٹھ جاؤ جب تک میں تمہارے پاس واپس نہیں آتا۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے پورے ایک سال تک اسے نہیں دیکھا، وہ شخص سال میں صرف اسی مہینے میں بیت المقدس آیا کرتا تھا، جب وہ اگلی مرتبہ آیا، تو میں نے کہا: آپ نے پھر میرے بارے میں کیا سوچا۔ اس نے دریافت کیا: تم اس وقت سے لے کر اب تک یہیں ہو؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس نے کہا: مجھے روئے زمین میں کسی ایسے شخص کے بارے میں علم نہیں ہے، جو اس یتیم سے زیادہ بڑا عالم ہو جس کا ظہور تہامہ کی سرزمین پر ہو گا، اگر تم اب وہاں چلے جاتے ہو، تو تم ان سے مل لو گے، ان میں تین خصوصیات ہوں گی: وہ تحفے کے طور پر دی جانے والی چیز کھا لیتے ہوں گے لیکن صدقہ کے طور پر دی جانے والی چیز نہیں کھاتے ہوں گے اور ان کے دائیں کندھے کے ابھار کے قریب مہر نبوت ہو گی، جو انڈے جتنی ہو گی اور اس کا رنگ ان کی جلد کی طرح کا ہو گا، اگر تم اب چلے جاتے ہو تو ان تک پہنچ جاؤ گے۔ میں منزلوں پر منزلیں مارتا ہوا روانہ ہو گیا، یہاں تک کہ کچھ دیہاتیوں نے مجھے پکڑا، انہوں نے مجھے اجنبی سمجھ کر فروخت کر دیا، یہاں تک کہ میں مدینہ منورہ پہنچ گیا، میں نے ان لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے سنا، زندگی مشکل تھی، میں نے اپنے مالکان سے کہا: مجھے کوئی چیز ہبہ کے طور پر دیں، انہوں نے مجھے کوئی چیز دے دی، میں روانہ ہوا، میں نے کوشش کی، میں نے انہیں تھوڑی قیمت کے عوض میں فروخت کیا، پھر میں وہ چیز لے کر آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”یہ کیا چیز ہے؟“ میں نے عرض کی: یہ صدقہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”تُم اسے کھا لو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اسے کھانے سے انکار کر دیا۔ میں نے سوچا یہ ایک نشانی مل گئی، پھر جتنا اللہ کو منظور تھا اتنا عرصہ گزر گیا، پھر میں نے اپنے مالک سے کوئی چیز ہبہ کرنے کے لیے کہا، تو ان لوگوں نے مجھے ایک چیز ہبہ کے طور پر دی، میں روانہ ہوا، میں نے کوشش کی پھر میں نے اسے پہلے سے زیادہ قیمت پر فروخت کیا۔ میں نے کھانا تیار کیا، میں وہ لے کر آیا اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کی: یہ تحفہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے کہا: ”اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے کھایا اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی اسے کھایا، پھر میں اٹھ کر آپ کے پیچھے آیا، میں نے آپ کی چادر کو ہٹایا، تو وہاں انڈے کی طرح کی مہر نبوت موجود تھی، میں نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”وہ کیسے؟“ تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ سنایا اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا وہ عبادت گزار شخص جنت میں داخل ہو گا، جس نے یہ بات بیان کی تھی کہ آپ نبی ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنت میں صرف مسلمان داخل ہو گا۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے مجھے یہ بتایا تھا کہ آپ نبی ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں صرف مسلمان شخص داخل ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7124]

7125

Sahih Ibn Hibban #7125

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ ، فَقَالَ رَجُلٌ لَوْ أَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُ مَعَهُ ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : أَنْتَ كُنْتَ تَفْعَلُ ذَلِكَ ، لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الأَحْزَابِ وَأَخَذَتْنَا رِيحٌ شَدِيدَةٌ وَقُرٌّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلا رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ " ، قَالَ : فَسَكَتْنَا ، فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ ، ثُمَّ قَالَ :" أَلا رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ، جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ : فَسَكَتْنَا ، فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ ، ثُمَّ قَالَ : فَسَكَتْنَا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُمْ يَا حُذَيْفَةُ فَأْتِنَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ وَلا تَذْعَرْهُمْ " ، فَلَمَّا وَلَّيْتُ مِنْ عِنْدِهِ جَعَلْتُ كَأَنَّمَا أَمْشِي فِي حَمَّامٍ ، حَتَّى أَتَيْتُهُمْ ، فَرَأَيْتُ أَبَا سُفْيَانَ يُصْلِي ظَهْرَهُ بِالنَّارِ ، فَوَضَعْتُ سَهْمًا فِي كَبِدِ الْقَوْسِ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْمِيَهُ ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَذْعَرْهُمْ " ، وَلَوْ رَمَيْتُهُ لأَصَبْتُهُ ، فَرَجَعْتُ وَأَنَا أَمْشِي فِي مِثْلِ الْحَمَّامِ ، فَلَمَّا أَتَيْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِ الْقَوْمِ ، فَأَلْبَسَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضْلَ عَبَاءَةٍ كَانَتْ عَلَيْهِ يُصَلِّي فِيهَا ، فَلَمْ أَزَلْ نَائِمًا حَتَّى أَصْبَحْتُ ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُمْ يَا نَوْمَانُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابراہیم تیمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، ایک شخص بولا: اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہوتا تو میں آپ کے ساتھ لڑائی میں حصہ لیتا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے ایسا کرنا تھا؟ مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے، ہم لوگ غزوہ احزاب کے موقع پر صبح کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تیز آندھی چل پڑی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کوئی شخص دشمن کی اطلاع ہمارے پاس لے کر آئے گا؟ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے میرے ساتھ رکھے گا۔“ راوی کہتے ہیں: تو ہم لوگ خاموش رہے، ہم میں سے کسی نے بھی آپ کو جواب نہیں دیا۔ وہ کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کوئی شخص ہمارے پاس دشمن کی اطلاع لے کر آئے گا؟ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے میرے ساتھ رکھے گا۔“ راوی کہتے ہیں: ہم لوگ خاموش رہے، ہم میں سے کسی نے بھی آپ کو جواب نہیں دیا، پھر ہم خاموش رہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے حذیفہ! تم اٹھو اور ہمارے پاس دشمن کی اطلاع لے کر آؤ اور تم انہیں بھڑکانا نہیں (یا ان سے مقابلہ نہ کرنا)۔“ جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر روانہ ہوا تو یوں لگ رہا تھا جیسے (تیز ہوا میں نہیں) بلکہ حمام میں چل رہا ہوں، یہاں تک کہ میں دشمن کے پاس آیا، میں نے ابوسفیان کو دیکھا کہ وہ اپنی پشت کو آگ کے ذریعے گرم کرنے کی کوشش کر رہا تھا، میں نے اپنا تیر کمان میں رکھا، پہلے میں نے ارادہ کیا کہ میں اسے تیر مارتا ہوں، پھر مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد آیا کہ ”تم نے ان کے ساتھ جھگڑنا نہیں ہے“، اگر میں اسے تیر مار دیتا تو وہ تیر اسے لگ جانا تھا، لیکن میں واپس آ گیا، یوں جیسے میں حمام میں چل رہا ہوں، جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کو ان لوگوں کے حالات کے بارے میں بتایا، تو آپ نے اپنے جسم پر موجود اضافی عبا مجھے پہنا دی جس میں آپ نماز ادا کیا کرتے تھے، اس کے بعد میں سویا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی، جب صبح ہو گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے سوئے ہوئے! تم بیدار ہو جاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7125]

7126

Sahih Ibn Hibban #7126

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ النَّهْدِيِّ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَتْ لِي أُمِّي :مَتَى عَهْدُكَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقُلْتُ : مَا لِي بِهِ عَهْدٌ مُذْ كَذَا أَوْ كَذَا ، فَنَالَتْ مِنِّي ، فَقُلْتُ : فَإِنِّي آتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأُصَلِّي مَعَهُ ، وَيَسْتَغْفِرُ لِي وَلَكَ ، فَأَتَيْتُهُ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِبَ ، فَصَلَّى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَهُمَا ، ثُمَّ مَضَى وَتَبِعْتُهُ ، فَقَالَ لِي : مَنْ هَذَا ؟ " ، فَقُلْتُ : حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ ، فَقَالَ : " مَا جَاءَ بِكَ ؟ " ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَتْ لِي أُمِّي ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَفَرَ اللَّهُ لَكَ وَلأُمِّكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری والدہ نے مجھ سے کہا: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہاری آخری ملاقات کب ہوئی تھی؟“ میں نے کہا: ”اتنے اتنے عرصے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات نہیں ہوئی“، تو میری والدہ نے مجھے برا کہنا شروع کر دیا۔ میں نے کہا: ”میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا، ان کے ساتھ نماز ادا کروں گا، وہ میرے لیے اور آپ کے لیے دعائے مغفرت کریں گے“، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور مغرب کی نماز ادا کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں نمازوں کے ہمراہ نوافل ادا کیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”کون ہے؟“ میں نے عرض کی: ”حذیفہ بن یمان (رضی اللہ عنہما)۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم کیوں آئے ہو؟“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا جو میری والدہ نے مجھ سے کہا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہاری اور تمہاری والدہ کی مغفرت کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7126]

7127

Sahih Ibn Hibban #7127

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَتَى عَلْقَمَةُ الشَّامَ ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَصَلَّى فِيهِ ، ثُمَّ مَالَ إِلَى حَلْقَةٍ ، فَجَلَسَ فِيهَا ، قَالَ : فَجَاءَ رَجُلٌ ، فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي ، فَقُلْتُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ، إِنِّي لأَرْجُو أَنْ يَكُونَ اللَّهُ قَدِ اسْتَجَابَ دَعْوَتِي ، قَالَ : وَذَلِكَ الرَّجُلُ أَبُو الدَّرْدَاءِ ، فَقَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ فَقَالَ عَلْقَمَةُ : دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يَرْزُقَنِيَ جَلِيسًا صَالِحًا ، فَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ أَنْتَ ، فَقَالَ : مَنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ ، أَوْ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ ، ثُمَّ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : أَلَمْ يَكُنْ فِيكُمْ صَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي لا يَعْلَمُهُ غَيْرُهُ أَحَدٌ يَعْنِي : حُذَيْفَةَ قَالَ : ثُمَّ قَالَ : أَتَحْفَظُ كَمَا كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى ، قَالَ عَلْقَمَةُ : فَقُلْتُ : وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : وَاللَّهِ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ ، هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِيهِ إِلَى فِيَّ ، فَمَا زَالَ هَؤُلاءِ حَتَّى كَادُوا يَرُدُّونَنِي عَنْهَا "، قَالَ الشَّيْخُ أَبُو حَاتِمٍ : إِلَى هَاهُنَا حُلَفَاءُ قُرَيْشٍ ، وَإِنَّا نَذْكُرُ بَعْدُ هَؤُلاءِ الأَنْصَارَ ، مَنْ هَاجَرَ مِنْهُمْ ، وَمَنْ لَمْ يُهَاجِرْ إِنْ قَضَى اللَّهُ ذَلِكَ وَشَاءَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ علقمہ شام گئے، انہوں نے وہاں نماز ادا کی، پھر وہ ایک حلقے کی طرف بڑھ گئے اور اس میں بیٹھ گئے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور میرے پہلو میں بیٹھ گیا، میں نے کہا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”اللہ ہی کے لیے تمام تعریفیں ہیں“، مجھے یہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری دعا کو مستجاب کر لیا ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ شخص سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے دریافت کیا: وہ کیسے؟ علقمہ نے جواب دیا: میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ وہ مجھے کوئی نیک ہم نشین عطا کرے، تو مجھے یہ امید ہے کہ وہ آپ ہی ہوں گے۔ انہوں نے دریافت کیا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں اہل کوفہ (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) اہل عراق سے تعلق رکھتا ہوں اور پھر اہل کوفہ سے، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تمہارے درمیان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ خاص راز دار نہیں ہیں کہ اس راز کو ان کے علاوہ کوئی اور نہیں جانتا تھا؟ (ان کی مراد سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے)۔ پھر انہوں نے دریافت کیا: کیا تمہیں یہ بات یاد ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کس طرح تلاوت کرتے تھے؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں، پھر انہوں نے ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى ۝ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى﴾ [سورة الليل: 1-2] پڑھی۔ علقمہ کہتے ہیں: تو میں نے پڑھا «الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى» ”نر اور مادہ کو“، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مجھے اپنی زبانی یہ سورت انہی الفاظ میں سکھائی تھی، لیکن یہ لوگ مسلسل میری اس بات کو مسترد کرتے ہیں“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہاں تک قریش کے حلیفوں کا ذکر تھا، اب ہم اس کے بعد انصار کا ذکر کریں گے، ان میں سے جن لوگوں نے ہجرت کی اور جنہوں نے ہجرت نہیں کی (سب کا ذکر ہو گا)، اگر اللہ تعالیٰ نے فیصلہ دیا اور یہ چاہا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7127]

7128

Sahih Ibn Hibban #7128

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : ذَكَرُوا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، فَقَالَ : ذَاكَ رَجُلٌ لا أَزَالُ أُحِبُّهُ بَعْدَمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : اسْتَقْرِئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ : مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسروق بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی موجودگی میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا، تو انہوں نے فرمایا: وہ ایک ایسے شخص ہیں کہ جن سے میں اس وقت سے مسلسل محبت کرتا ہوں کہ جب سے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قرآن چار لوگوں سے سیکھو: ابن مسعود سے، ابوحذیفہ کے غلام سالم سے، ابی بن کعب سے اور معاذ بن جبل سے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7128]

7129

Sahih Ibn Hibban #7129

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو بَكْرٍ ، نِعْمَ الرَّجُلُ عُمَرُ ، نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ ، نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَبِئْسَ الرَّجُلُ حَتَّى عَدَّ سَبْعَةً"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ابوبکر اچھا آدمی ہے، عمر اچھا آدمی ہے، معاذ بن عمرو اچھا آدمی ہے، معاذ بن جبل اچھا آدمی ہے اور ابوعبیدہ بن جراح اچھا آدمی ہے اور فلاں شخص برا آدمی ہے،“ یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات لوگوں کے نام گنوائے (کہ وہ برے ہیں)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7129]

7130

Sahih Ibn Hibban #7130

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةٌ ، كُلُّهُمْ مِنَ الأَنْصَارِ : مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَأَبُو زَيْدٍ رَحِمَهُمُ اللَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں چار لوگوں نے قرآن کو جمع کیا (یعنی تحریری صورت میں محفوظ کیا)، وہ سب انصار سے تعلق رکھتے تھے (وہ یہ حضرات ہیں): سیدنا معاذ بن جبل، سیدنا ابی بن کعب، سیدنا زید بن ثابت اور سیدنا ابوزید رضی اللہ عنہم، اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر رحم کرے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7130]

7131

Sahih Ibn Hibban #7131

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِي ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ ابْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ ، وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ عُمَرُ ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ وَأَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، أَلا وَإِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا ، وَأَمِينُ هَذِهِ الأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذِهِ أَلْفَاظٌ أُطْلِقَتْ بِحَذْفِ الْ " مِنْ " ، مِنْهَا ، يُرِيدُ بِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْحَمُ أَمَّتِي " ، أَيْ : مِنْ أَرْحَمِ أُمَّتِي ، وَكَذَلِكَ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ " ، يُرِيدُ : مِنْ أَشَدِّهِمْ ، وَمِنْ أَصْدَقِهِمْ حَيَاءً ، وَمِنْ أَقْرئِهِمْ لِكِتَابِ اللَّهِ ، وَمِنْ أَفْرَضِهِمْ ، وَمِنْ أَعْلَمِهِمْ بِالْحَلالِ وَالْحَرَامِ ، يُرِيدُ أَنَّ هَؤُلاءِ مِنْ جَمَاعَةٍ فِيهِمْ تِلْكَ الْفَضِيلَةُ ، وَهَذَا كَقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلأَنْصَارِ : أَنْتُمْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ ، يُرِيدُ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ ، مِنْ جَمَاعَةٍ أُحِبُّهُمْ وَهُمْ فِيهِمْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری امت کے بارے میں، میری امت میں سب سے زیادہ رحم دل ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کے معاملے میں سب سے زیادہ سخت عمر رضی اللہ عنہ ہیں اور حیا کے اعتبار سے سب سے زیادہ سچے عثمان رضی اللہ عنہ ہیں اور اللہ کی کتاب کے سب سے بڑے عالم ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں۔ علم وراثت کے سب سے بڑے عالم زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہیں۔ حلال اور حرام کے سب سے بڑے عالم معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں، خبردار! ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ان میں حرف ”من“ کو حذف کیا گیا ہے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے «أَرْحَمُ أُمَّتِي» ”میری امت پر سب سے زیادہ رحم دل“ اس سے مراد یہ ہے «مِنْ أَرْحَمِ أُمَّتِي» ”میری امت کے رحم دل ترین لوگوں میں سے ایک“ اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: «وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللهِ يُرِيدُ مِنْ أَشَدِّهِمْ، وَمِنْ أَصْدَقِهِمْ حَيَاءً، وَمِنْ أَقْرَئِهِمْ لِكِتَابِ اللهِ، وَمِنْ أَفْرَضِهِمْ، وَمِنْ أَعْلَمِهِمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ» ”اور ان میں اللہ کے معاملے میں سب سے زیادہ سخت، اور ان میں سے سب سے زیادہ سچی حیا والے، اور ان میں سے اللہ کی کتاب کے سب سے بڑے قاری، اور ان میں سے سب سے زیادہ علمِ فرائض (وراثت) کے جاننے والے، اور ان میں سے حلال و حرام کے سب سے بڑے عالم“۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ یہ جماعت ایسی ہے جس میں یہ فضیلت پائی جاتی ہے، اس کی مثال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق ہو گی، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا تھا: ”تم لوگ میرے نزدیک تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہو“ اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ لوگوں میں سے میرے نزدیک محبوب ترین لوگوں میں سے ہو اور اس جماعت سے تعلق رکھتے ہو، جن سے میں محبت کرتا ہوں اور وہ لوگ اس میں شامل تھے۔) [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7131]

7132

Sahih Ibn Hibban #7132

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالأُبُلَّةِ ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي زُمَيْلٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ ، وَلا أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ عَلَى ذِي لَهْجَةٍ أَصْدَقَ مِنْكَ يَا أَبَا ذَرٍّ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ هَذَا خِطَابًا خَرَجَ عَلَى حَسَبِ الْحَالِ فِي شَيْءٍ بِعَيْنِهِ إِذْ مُحَالٌ أَنْ يَكُونَ هَذَا الْخَطَّابُ عَلَى عُمُومِهِ ، وَتَحْتَ الْخَضْرَاءِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالصِّدِّيقُ ، وَالْفَارُوقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”آسمان نے ایسے کسی شخص پر سایہ نہیں کیا اور زمین نے ایسے کسی شخص کا وزن نہیں اٹھایا جو اے ابوذر! تم سے زیادہ سچا ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس میں اس بات کا احتمال موجود ہے کہ یہ فرمان کسی مخصوص متعین صورت حال کے مطابق ارشاد فرمایا گیا ہو کیونکہ یہ بات ناممکن ہے کہ یہ الفاظ عمومی طور پر استعمال کیے گئے ہوں کیونکہ آسمان کے نیچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی تھے اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7132]

7133

Sahih Ibn Hibban #7133

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، وَعِدَّةٌ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ : خَرَجْنَا فِي قَوْمِنَا غِفَارٍ ، وَكَانُوا يَحِلُّونَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ ، فَخَرَجْتُ أَنَا وَأَخِي أُنَيْسٌ وَأُمُّنَّا ، فنزلنا على خال لنا ، فأكرمنا خالنا ، وأحسن إلينا ، فحسدنا قومه ، فقالوا إنك إذا خرجت عَنْ أَهْلِكَ ، خَالَفَكَ إِلَيْهِمْ أُنَيْسٌ ، فَجَاءَ خَالُنَا فَذَكَرَ الَّذِي قِيلَ لَهُ ، فَقُلْتُ : أَمَّا مَا مَضَى مِنْ مَعْرُوفِكَ ، فَقَدْ كَدَّرْتَهُ ، وَلا حَاجَةَ لَنَا فِيمَا بَعْدُ ، قَالَ : فَقَدَّمْنَا صِرْمَتَنَا ، فَاحْتَمَلْنَا عَلَيْهَا ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى نَزَلْنَا بِحَضْرَةِ مَكَّةَ ، قَالَ : وَقَدْ صَلَّيْتُ يَا ابْنَ أَخِي قَبْلَ أَنْ أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُ : لِمَنْ ؟ قَالَ : لِلَّهِ ، قُلْتُ : فَأَيْنَ تَوَجَّهُ ؟ قَالَ : أَتَوَجَّهُ حَيْثُ يُوَجِّهُنِي رَبِّي ، أُصَلِّي عَشِيًّا ، حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ أُلْقِيتُ حَتَّى تَعْلُوَنِي الشَّمْسُ ، قَالَ أُنَيْسٌ : إِنَّ لِيَ حَاجَةً بِمَكَّةَ ، فَانْطَلَقَ أُنَيْسٌ حَتَّى أَتَى مَكَّةَ ، قَالَ : ثُمَّ جَاءَ ، فَقُلْتُ : مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ : لَقِيتُ رَجُلا بِمَكَّةَ عَلَى دِينِكَ ، يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَهُ ، قَالَ : قُلْتُ : فَمَا يَقُولُ النَّاسُ ؟ قَالَ : يَقُولُونَ : شَاعِرٌ ، كَاهِنٌ ، سَاحِرٌ ، قَالَ : فَكَانَ أُنَيْسٌ أَحَدَ الشُّعَرَاءِ ، قَالَ أُنَيْسُ : لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكَهَنَةِ ، وَمَا هُوَ بِقَوْلِهِمْ ، وَلَقَدْ وَضَعْتُ قَوْلَهُ عَلَى أَقْرَاءِ الشَّعْرِ ، فَمَا يَلْتَئِمُ عَلَى لِسَانِ أَحَدٍ بَعْدِي أَنَّهُ شِعْرٌ ، وَاللَّهِ إِنَّهُ لَصَادِقٌ ، وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ ، قَالَ : قُلْتُ : فَاكْفِنِي حَتَّى أَذْهَبَ فَأَنْظُرَ ، فَأَتَيْتُ مَكَّةَ ، فَتَضَيَّفْتُ رَجُلا مِنْهُمْ ، فَقُلْتُ : أَيْنَ هَذَا الَّذِي تَدْعُونَهُ الصَّابِئَ ؟ قَالَ : فَأَشَارَ إِلَيَّ ، وَقَالَ : الصَّابِئَ ، قَالَ : فَمَالَ عَلَيَّ أَهْلُ الْوَادِي بِكُلِّ مَدَرَةٍ ، وَعَظْمٍ حَتَّى خَرَرْتُ مَغْشِيًّا عَلَيَّ ، فَارْتَفَعْتُ حِينَ ارْتَفَعْتُ كَأَنِّي نَصْبٌ أَحْمَرٌ ، فَأَتَيْتُ زَمْزَمَ ، فَغَسَلْتُ عَنِّي الدِّمَاءَ ، وَشَرِبْتُ مِنْ مَائِهَا ، وَقَدْ لَبِثْتُ مَا بَيْنَ ثَلاثِينَ مِنْ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ مَالِي طَعَامٌ إِلا مَاءُ زَمْزَمَ ، فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَتْ عُكَنُ بَطْنِي ، وَمَا وَجَدْتُ عَلَى كَبِدِي سُخْفَةَ جُوعٍ ، قَالَ : فَبَيْنَا أَهْلُ مَكَّةَ فِي لَيْلَةٍ قَمْرَاءَ إِضْحِيَانَ إِذْ ضُرِبَ عَلَى أَسْمِخَتِهِمْ ، فَمَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ أَحَدٌ ، وَامْرَأَتَانِ مِنْهُمْ تَدْعُوَانِ إِسَافًا وَنَائِلَةَ ، قَالَ : فَأَتَتَا عَلَيَّ فِي طَوَافِهِمَا ، فَقُلْتُ : أَنْكِحَا أَحَدَهُمَا الآخَرَ ، قَالَ : فَمَا تَنَاهَتَا عَنْ قَوْلِهِمَا ، فَأَتَتَا عَلَيَّ ، فَقُلْتُ : هُنَّ مِثْلُ الْخَشَبَةِ ، فَرَجَعَتَا تَقُولانِ : لَوْ كَانَ هَاهُنَا أَحَدٌ ، فَاسْتَقْبَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو بَكْرٍ وَهُمَا هَابِطَانِ ، فَقَالَ : مَا لَكُمَا ؟ " ، قَالَتَا : الصَّابِئُ بَيْنَ الْكَعْبَةِ وَأَسْتَارِهَا ، قَالا : " مَا قَالَ لَكُمَا ؟ " ، قَالَتَا : إِنَّهُ قَالَ لَنَا كَلِمَةً تَمْلأُ الْفَمَ ، قَالَ :وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ هُوَ وَصَاحِبُهُ ، ثُمَّ صَلَّى ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ : فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ الإِسْلامِ ، قَالَ : " وَعَلَيْكَ رَحْمَةُ اللَّهِ " ، ثُمَّ قَالَ : " مِمَّنْ أَنْتَ ؟ " ، فَقُلْتُ : مِنْ غِفَارٍ ، قَالَ : فَأَهْوَى بِيَدِهِ ، وَوَضَعَ أَصَابِعَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : كَرِهَ أَنِّي انْتَمَيْتُ إِلَى غِفَارٍ ، قَالَ : ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، وَقَالَ : " مُذْ مَتَى كُنْتَ هَاهُنَا ؟ " ، قَالَ : كُنْتُ هَاهُنَا مِنْ ثَلاثِينَ بَيْنَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، قَالَ : " فَمَنْ كَانَ يُطْعِمُكَ ؟ " ، قُلْتُ : مَا كَانَ لِي طَعَامٌ إِلا مَاءُ زَمْزَمَ ، فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَتْ عُكَنُ بَطْنِي ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ ، إِنَّهَا طَعَامُ طُعْمٍ " ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ائْذَنْ لِي فِي طَعَامِهِ اللَّيْلَةَ ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا ، فَفَتَحَ أَبُو بَكْرٍ بَابًا ، فَجَعَلَ يَقْبِضُ لَنَا مِنْ زَبِيبِ الطَّائِفِ ، فَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلُ طَعَامٍ أَكَلْتُهُ بِهَا ، ثُمَّ غَبَرْتُ مَا غَبَرْتُ ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ قَدْ وُجِّهَتْ لِي أَرْضٌ ذَاتُ نَخْلٍ ، مَا أُرَاهَا إِلا يَثْرِبَ ، فَهَلْ أَنْتَ مُبَلَّغٍ عَنِّي قَوْمَكَ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُمُ بِكَ وَيَأْجُرَكَ فِيهِمْ " ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ فَلَقِيتُ أُنَيْسًا ، فَقَالَ : مَا صَنَعْتَ ؟ قُلْتُ : صَنَعْتُ أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ ، قَالَ : مَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِكِ ، فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ ، قَالَ : فَأَتَيْنَا أُمَّنَا ، فَقَالَتْ : مَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِكُمَا ، فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ ، فَاحْتَمَلْنَا حَتَّى أَتَيْنَا قَوْمَنَا غِفَارًا ، فَأَسْلَمَ نِصْفُهُمْ ، وَكَانَ يَؤُمُّهُمْ إِيمَاءُ بْنُ رَحَضَةَ ، وَكَانَ سَيِّدَهُمْ ، وَقَالَ نِصْفُهُمْ : إِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَسْلَمْنَا ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَسْلَمَ نِصْفُهُمُ الْبَاقِي ، وَجَاءَتْ أَسْلَمُ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِخْوَانُنَا نُسَلِّمُ عَلَى الَّذِي أَسْلَمُوا عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن صامت بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم لوگ اپنی قوم بنو غفار کے ساتھ تھے، وہ لوگ حرمت والے مہینوں کو حلال قرار دیتے تھے، ایک مرتبہ میں، میرا بھائی انیس اور ہماری والدہ روانہ ہوئے، ہم نے اپنے ماموں کے ہاں پڑاؤ کیا، ہمارے ماموں نے ہماری عزت افزائی کی اور انہوں نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کیا، تو ان کی قوم کے افراد کو ہم سے حسد ہوا، انہوں نے کہا: جب تم اپنی بیوی کو چھوڑ کر جاتے ہو، تو تمہارے پیچھے انیس ان کے پاس چلا جاتا ہے۔ ہمارے ماموں آئے، انہوں نے وہ بات ذکر کی جو ان سے کہی گئی تھی، تو میں نے کہا: آپ نے پہلے جو اچھائی کی تھی وہ آپ نے خود ہی گدلی کر دی ہے، اب اس کے بعد ہمیں اس کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ اپنی سواری کے پالان کے پاس آئے، ان پر سامان لادا اور روانہ ہو گئے، یہاں تک کہ ہم مکہ آ گئے۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بتایا: اے میرے بھتیجے! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات سے پہلے بھی نماز ادا کی ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: کس کے لیے؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ کے لیے۔ میں نے دریافت کیا: آپ کس طرف رخ کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: میں اسی طرف رخ کر لیتا تھا، جس طرف میرا پروردگار میرا رخ پھیر دیتا تھا، میں شام کے وقت نماز ادا کرتا تھا، پھر جب رات کا آخری حصہ ہوتا تھا، تو میں پھر نماز پڑھنے لگتا تھا، یہاں تک کہ سورج مجھ پر غالب آ جاتا تھا۔ انیس نے کہا: مجھے مکہ میں ایک کام ہے، انیس چلا گیا، وہ مکہ آیا پھر وہ واپس آیا، تو میں نے کہا: تم نے کیا کیا؟ اس نے کہا: مکہ میں میری ملاقات ایک شخص سے ہوئی جو تمہارے دین کی طرح کے نظریات رکھتا ہے، وہ اس بات کا دعوے دار ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مبعوث کیا ہے، میں نے دریافت کیا: تو لوگ کیا کہتے ہیں؟ اس نے جواب دیا: لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے، کاہن ہے اور جادوگر ہے۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انیس بھی شاعر تھا۔ انیس نے کہا: میں نے کاہنوں کا قول سنا ہے لیکن اس شخص کا کلام کاہنوں کے قول کی طرح نہیں ہے، میں نے اس کے کلام کو پڑھے لکھے شاعروں کے کلام پر پیش کیا، لیکن کوئی بھی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ شعر ہے، اللہ کی قسم! وہ شخص (اپنے دعوے میں) سچا ہے اور لوگ (اس کے بارے میں) جھوٹ بولتے ہیں۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: میری جگہ تم کفایت کرو، میں خود جا کر اس کا جائزہ لیتا ہوں، پھر میں مکہ آیا، میں وہاں کے ایک شخص کے ہاں مہمان ٹھہرا۔ میں نے دریافت کیا: وہ شخص کہاں ہوتا ہے جس کے بارے میں تم لوگ کہہ رہے ہو کہ وہ بے دین ہے؟ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس شخص نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ بھی بے دین ہے۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، تو وہاں کے سارے لوگ اینٹیں اور ہڈیاں لے کر مجھ پر حملہ آور ہوئے، یہاں تک کہ میں گر گیا اور مجھ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، پھر میں اٹھا، جب میں اٹھا، تو یوں لگتا تھا جیسے میں سرخ رنگ کا بت ہوں، پھر میں زم زم کے پاس آیا، میں نے اپنے خون کو دھویا اور زم زم کا پانی پیا، پھر میں نے تیس دن ایسی حالت میں گزار دیے، میری خوراک صرف آبِ زم زم تھا۔ میں اتنا موٹا ہو گیا کہ میرے پیٹ پر سلوٹیں بننے لگیں اور مجھے اپنے جگر پر بھوک کی پریشانی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک چاندنی رات میں جبکہ اہل مکہ سو چکے تھے اور کوئی شخص بیت اللہ کا طواف نہیں کر رہا تھا، مکہ کی دو عورتیں (طواف کرتے ہوئے) اساف اور نائلہ (نامی بتوں) کو پکار رہی تھیں، وہ اپنے طواف کے درمیان جب میرے پاس آئیں، تو میں نے کہا: ان دونوں (بتوں) کی شادی کروا دو، لیکن وہ پھر بھی اپنی پکار سے باز نہیں آئیں، پھر جب وہ (طواف کرتے ہوئے) میرے پاس پہنچیں، تو میں نے کہا: یہ تو لکڑیوں کی مانند ہیں، تو وہ دونوں یہ کہتی ہوئی واپس چلی گئیں کہ کاش یہاں کوئی ہوتا (تو پھر ہم تمہاری خبر لیتے)۔ ان دونوں کا سامنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہوا، یہ دونوں حضرات بالائی علاقے سے نیچے کی طرف آ رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم دونوں کا کیا معاملہ ہے؟“ ان دونوں نے کہا: ایک بے دین شخص خانہ کعبہ اور اس کے پردوں کے درمیان موجود ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اس نے تم دونوں کو کیا کہا ہے؟“ ان دونوں عورتوں نے جواب دیا: اس نے ہم سے ایسا کلمہ کہا ہے جو منہ کو بھر دیتا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ نے حجر اسود کا استلام کیا، پھر آپ نے اور آپ کے ساتھی نے بیت اللہ کا طواف کیا، پھر نماز ادا کی۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں وہ پہلا شخص تھا جس نے اسلامی طریقے کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ» ”تم پر بھی ہو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں بھی نازل ہوں“، پھر آپ نے دریافت کیا: ”تمہارا تعلق کون سے قبیلے سے ہے؟“ میں نے کہا: غفار قبیلے سے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک بڑھایا اور اپنی انگلیاں اپنی پیشانی پر رکھ لیں، میں نے دل میں سوچا شاید انہیں یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میری نسبت غفار قبیلے سے ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور دریافت کیا: ”تم کب سے یہاں ہو؟“ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں تیس دن اور راتوں سے یہاں ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہیں کھانا کون دیتا ہے؟“ میں نے کہا: میری خوراک صرف آبِ زم زم ہے، اس کی وجہ سے میں موٹا ہو گیا ہوں، یہاں تک کہ میرے پیٹ پر سلوٹیں پڑنے لگی ہیں۔ راوی کہتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ، إِنَّهَا طَعَامُ طُعْمٍ» ”یہ برکت والا ہے اور کھانے کا کھانا ہے“۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے اجازت دیجیے کہ آج رات کھانا انہیں میں کھلاتا ہوں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے، ان دونوں حضرات کے ساتھ میں بھی چل پڑا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دروازہ کھولا، انہوں نے طائف کی کشمش مٹھی بھر کر ہمیں دی، یہ وہ پہلا کھانا تھا، جو میں نے وہاں (یعنی مکہ میں) کھایا، پھر کچھ عرصہ گزر گیا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے کھجوروں والی سرزمین کی طرف (ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا ہے) میرا خیال ہے وہ یثرب ہی ہو گا، تو کیا تم میری طرف سے اپنی قوم کو تبلیغ کر دو گے، ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ تمہاری وجہ سے ان لوگوں کو ہدایت نصیب کر دے اور ان کے حوالے سے تمہیں اجر عطا کرے“۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں وہاں سے روانہ ہوا، میری ملاقات انیس سے ہوئی، اس نے دریافت کیا: تم نے کیا کیا؟ میں نے کہا: میں نے یہ کیا کہ اسلام قبول کر لیا اور تصدیق کر دی، تو اس نے کہا: مجھے بھی تمہارے دین سے بے رغبتی نہیں ہے، میں بھی اسلام قبول کرتا ہوں اور میں بھی تصدیق کرتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: پھر ہم اپنی والدہ کے پاس آئے (انہیں اسلام کی پیشکش کی)، تو انہوں نے کہا: مجھے بھی تمہارے دین سے بے رغبتی نہیں ہے، میں بھی اسلام قبول کرتی ہوں اور تصدیق کرتی ہوں، پھر ہم وہاں سے سوار ہو کر اپنی قوم بنو غفار میں آئے، تو ان کے نصف حصے نے اسلام قبول کر لیا۔ سیدنا ایماء بن رحضہ رضی اللہ عنہ ان کی امامت کیا کرتے تھے، وہ اس قبیلے کے سردار تھے، جبکہ نصف لوگوں نے یہ کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے آئیں گے، تو ہم اسلام قبول کر لیں گے، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے آئے، تو باقی رہ جانے والے نصف حصے نے بھی اسلام قبول کر لیا، پھر اسلم قبیلے کے لوگ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ منورہ) حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (بنو غفار قبیلے کے لوگ) ہمارے بھائی ہیں، جس طرح انہوں نے اسلام قبول کیا ہے، اسی طرح ہم بھی اسلام قبول کرتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس موقع پر) یہ فرمایا: «غِفَارُ غَفَرَ اللهُ لَهَا، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللهُ» ”غفار قبیلے کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے اور اسلم قبیلے کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7133]

7134

Sahih Ibn Hibban #7134

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : كُنْتُ رُبُعَ الإِسْلامِ ، أَسْلَمَ قَبْلِي ثَلاثَةٌ وَأَنَا الرَّابِعُ ، أَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ لَهُ : السَّلامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، فَرَأَيْتُ الاسْتِبْشَارَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ :مَنْ أَنْتَ ؟ فَقُلْتُ : إِنِّي جُنْدُبٌ ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ "، قَالَ الشَّيْخُ : قَوْلُ أَبِي ذَرٍّ : كُنْتُ رَابِعَ الإِسْلامِ ، أَرَادَ مِنْ قَوْمِهِ لأَنَّ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ أَسْلَمَ الْخَلْقُ مِنْ قُرَيْشٍ وَغَيْرِهِمْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اسلام قبول کرنے والا چوتھا شخص تھا، مجھ سے پہلے تین لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا، میں چوتھا تھا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ پر سلام ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، تو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر خوشی کے اثرات نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم کون ہو؟“ میں نے عرض کی: میرا نام جندب ہے اور میں بنو غفار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ہوں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا: ”میں اسلام قبول کرنے والا چوتھا فرد تھا“ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ وہ اپنی قوم سے تعلق رکھنے والے چوتھے فرد تھے کیونکہ اس وقت قریش اور دیگر قبیلوں سے تعلق رکھنے والے کئی لوگ مسلمان ہو چکے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7134]

7135

Sahih Ibn Hibban #7135

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ نَوْفَلٍ بِمَرْوَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ السِّنْجِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا تُقِلُّ الْغَبْرَاءُ ، وَلا تُظِلُّ الْخَضْرَاءُ عَلَى ذِي لَهْجَةٍ أَصْدَقَ ، وَأَوْفَى مِنْ أَبِي ذَرٍّ شَبِيهِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ " ، عَلَى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ السَّلامُ ، قَالَ : فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَفَنَعْرِفُ ذَلِكَ لَهُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، فَاعْرِفُوا لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”زمین نے ایسے کسی شخص کو اٹھایا نہیں ہے اور آسمان نے ایسے کسی شخص پر سایہ نہیں کیا جو ابوذر غفاری سے زیادہ سچا اور (عہد کو) پورا کرنے والا ہو، یہ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! کیا ہم اس طرح ان کا تعارف کرا دیا کریں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، تم اس کا تعارف کروا دیا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7135]

7136

Sahih Ibn Hibban #7136

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتُحْسِنُ السُّرْيَانِيَّةَ ؟ " قُلْتُ : لا ، قَالَ : " فَتَعَلَّمْهَا فَإِنَّهُ تَأْتِينَا كُتُبٌ " ، قَالَ : فَتَعَلَّمْتُهَا فِي سَبْعَةِ عَشَرَ يَوْمًا، قَالَ الأَعْمَشُ : كَانَتْ تَأْتِيهِ كُتُبٌ لا يَشْتَهِي أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهَا إِلا مَنْ يَثِقُ بِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا: ”کیا تم سریانی زبان جانتے ہو؟“ میں نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پھر تم اسے سیکھ لو، ہمارے پاس (غیر مسلم حکمرانوں کے) خطوط آتے ہیں۔“ سیدنا زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے یہ زبان سترہ دن میں سیکھ لی۔ اعمش نامی راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو مکتوبات آتے تھے، آپ کی یہ خواہش تھی کہ ان مکتوبات کے مضمون پر وہی شخص مطلع ہو جو قابل اعتماد ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7136]

7137

Sahih Ibn Hibban #7137

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو مُوسَى ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ ، وَأَشَدَّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ عُمَرُ ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ ، وَأَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ ، وَأَمِينُ هَذِهِ الأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری امت کے بارے میں، میری امت میں سب سے زیادہ رحم دل ابوبکر (رضی اللہ عنہ) ہیں، اللہ تعالیٰ کے معاملے کے بارے میں سب سے زیادہ سخت عمر (رضی اللہ عنہ) ہیں، حیا کے اعتبار سے سب سے زیادہ سچے عثمان (رضی اللہ عنہ) ہیں، اللہ کی کتاب کے سب سے بڑے عالم ابی بن کعب (رضی اللہ عنہ) ہیں، علم وراثت کے سب سے بڑے عالم زید بن ثابت (رضی اللہ عنہ) ہیں، حلال اور حرام کے سب سے بڑے عالم معاذ بن جبل (رضی اللہ عنہ) ہیں، ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ بن جراح (رضی اللہ عنہ) ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7137]

7138

Sahih Ibn Hibban #7138

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ أَبَاهُ هَلَكَ ، وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ ، أَوْ سَبْعَ بَنَاتٍ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي : تَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " بِكْرًا أَوْ ثَيِّبًا ؟ " ، قُلْتُ : بَلْ ثَيِّبًا ، قَالَ : " فَهَلا جَارِيَةً تُلاعِبُهَا وَتُلاعِبُكَ ، وَتُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ ؟ " ، فَقُلْتُ : إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ مَاتَ وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ أَوْ سَبْعَ بَنَاتٍ ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَجِيئَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ ، وَأَرَدْتُ امْرَأَةً تَقُومُ عَلَيْهِنَّ ، فَقَالَ لِي : " بَارِكَ اللَّهُ لَكَ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا، انہوں نے نو بیٹیاں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) سات بیٹیاں (پسماندگان) میں چھوڑیں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”جابر! کیا تم نے شادی کر لی ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کنواری کے ساتھ یا ثیبہ کے ساتھ؟“ میں نے عرض کی: ثیبہ کے ساتھ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کسی لڑکی کے ساتھ شادی کیوں نہیں کی تاکہ تم اس کے ساتھ خوش فعلیاں کرتے اور وہ تمہارے ساتھ خوش فعلیاں کرتی، تم اسے ہنساتے اور وہ تمہیں ہنساتی؟“ میں نے عرض کی: (میرے والد) سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا، انہوں نے نو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) سات بیٹیاں چھوڑی ہیں، مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں ان پر ان کے جیسی (کم عمر) بیوی لے آؤں، اس لیے میں نے ایسی عورت کے ساتھ شادی کی ہے جو ان کا خیال رکھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: «بَارَكَ اللّٰهُ لَكَ» ”اللہ تعالیٰ تمہیں برکت عطا کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7138]

7139

Sahih Ibn Hibban #7139

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : تُوُفِّيَ أَبِي وَعَلَيْهِ دَيْنٌ ، فَعَرَضْتُ عَلَى غُرَمَائِهِ ، أَنْ يَأْخُذُوا التَّمْرَ بِمَا عَلَيْهِ ، فَأَبَوْا ، وَلَمْ يُعْرَفُوا أَنَّ فِيهِ وَفَاءً ، فأتيت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : إِذَا جَدَدْتَهُ وَوَضَعْتَهُ ، فَآذِنْ لِي " ، فَلَمَّا جَدَدْتُ ، وَوَضَعْتُهُ فِي الْمَسْجِدِ ، آذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، فَجَلَسَ فَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ ، وَقَالَ : " ادْعُ غُرَمَاءَكَ وَأَوْفِهِمْ " ، فَمَا تَرَكْتُ أَحَدًا لَهُ عَلَى أَبِي دَيْنٌ إِلا قَضَيْتُهُ ، وَفَضَلَ لِي ثَلاثَةَ عَشَرَ وَسْقًا عَجْوَةً ، قَالَ : فَوَافَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْمَغْرِبِ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَضَحِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " ائْتِ أَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، فَأَخْبِرْهُمَا "، فَقَالا : قَدْ عَلِمْنَا إِذْ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا صَنَعَ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے والد کا انتقال ہو گیا، ان کے ذمے قرض تھا، میں نے قرض خواہوں کے سامنے یہ پیش کش رکھی کہ میرے والد کے ذمے جو ادائیگی تھی اس کے بدلے میں وہ کھجوریں حاصل کر لیں، تو انہوں نے اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، ان کا یہ خیال تھا کہ اس طرح پوری ادائیگی نہیں ہو سکے گی۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم کھجوریں توڑ لو اور انہیں رکھ لو، تو مجھے اطلاع کر دینا۔“ جب میں نے کھجوریں توڑ لیں اور انہیں مسجد میں رکھ لیا، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں اطلاع دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے، آپ نے ان کے لیے دعائے برکت کی پھر آپ نے فرمایا: ”اپنے قرض خواہوں کو بلاؤ، انہیں پوری ادائیگی کرو۔“ (سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) تو جس بھی شخص نے میرے والد سے قرض لینا تھا، میں نے اسے مکمل ادائیگی کر دی، پھر بھی میرے پاس عجوہ کھجوروں کے تیرہ وسق بچ گئے۔ راوی کہتے ہیں: میں مغرب کی نماز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے، آپ نے ارشاد فرمایا: ”ابوبکر اور عمر کے پاس جاؤ اور ان دونوں کو اس بارے میں بتاؤ۔“ تو ان دونوں نے کہا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ عمل کیا تھا، ہمیں اسی وقت پتا چل گیا تھا کہ ایسا ہی ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7139]

7140

Sahih Ibn Hibban #7140

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنْتُ فِي مَسِيرٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى نَاضِحٍ ، إِنَّمَا هُوَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ ، فَضَرَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ كَانَ مَعَهُ ، فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَقَدَّمُ النَّاسَ يُسَارِعُنِي حَتَّى إِنِّي لأَكُفُّهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَبِيعُنِي بِكَذَا وَكَذَا ؟ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ " ، قَالَ : قُلْتُ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ "، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ لَكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، میں ایسے اونٹ پر سوار تھا جو لوگوں میں سب سے پیچھے چل رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز سے اسے مارا جو آپ کے پاس موجود تھی، اس کے بعد وہ لوگوں سے آگے نکلنے لگا، یہاں تک کہ مجھے اسے روکنا پڑ رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم یہ (اونٹ) مجھے اتنی اتنی رقم کے عوض میں فروخت کر دو گے؟ «غَفَرَ اللّٰهُ لَكَ» ”اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے۔“”سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ویسے ہی آپ کا ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اتنی اتنی رقم کے عوض میں اسے فروخت کر دو گے؟ «غَفَرَ اللّٰهُ لَكَ» ”اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے۔“”میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آپ کا ہوا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7140]

7141

Sahih Ibn Hibban #7141

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْعَبْدِيُّ بِمَرْوَ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ جَلَبَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي نَضْرَةَ ، يَعْنِي عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَقَالَ : نَاضِحَكَ تَبِيعُنِيهِ ، إِذَا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِدِينَارٍ ؟ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ " ، قَالَ : قُلْتُ : هُوَ نَاضِحُكُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " تَبِيعُنِيهِ إِذَا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِدِينَارَيْنِ " ، قَالَ : قُلْتُ : نَاضِحُكُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا زَالَ يَقُولُ حَتَّى بَلَغَ عِشْرِينَ دِينَارًا ، كُلُّ ذَلِكَ ، يَقُولُ : " وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ " ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ جِئْتُ بِهِ أَقُودُهُ ، قُلْتُ : دُونَكُمْ نَاضِحَكُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " يَا بِلالُ أَعْطِهِ مِنَ الْغَنِيمَةِ عِشْرِينَ دِينَارًا ، وَارْجِعْ بِنَاضِحِكَ إِلَى أَهْلِكَ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم اپنا اونٹ ایک دینار کے عوض میں فروخت کر دو گے؟ جب ہم مدینہ آئیں گے تو میں ( «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» اس کی قیمت ادا کر دوں گا)، «غَفَرَ اللّٰهُ لَكَ» ”اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے۔““ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آپ کا ہی اونٹ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم مجھے یہ فروخت کرو گے (اس شرط پر) جب ہم مدینہ منورہ آئیں گے، «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» (اللہ نے چاہا تو) میں تمہیں دو دینار (ادا کر دوں گا)؟“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آپ کا اونٹ ہے، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل یہ ارشاد فرماتے رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے 20 دینار قیمت مقرر کر دی اور ہر مرتبہ یہی فرماتے رہے: «غَفَرَ اللّٰهُ لَكَ» ”اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے۔“ جب ہم مدینہ منورہ آئے اور میں اس اونٹ کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آپ کا اونٹ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال! اسے مالِ غنیمت میں سے 20 دینار دے دو“ اور (مجھ سے فرمایا): ”تم اپنا اونٹ اپنے گھر واپس لے جاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7141]

7142

Sahih Ibn Hibban #7142

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : اسْتَغْفَرَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْبَعِيرِ خَمْسًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اونٹ کے واقعے والی رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے 25 مرتبہ میرے لیے دعائے مغفرت کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7142]

7143

Sahih Ibn Hibban #7143

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَأَبْطَأَ عَلَيَّ جَمَلِي ، فَأَعْيَا عَلَيَّ ، فَأَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا جَابِرُ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " مَا شَأْنُكَ ؟ " ، قُلْتُ : أَبْطَأَ بِي جَمَلِي ، وَأَعْيَا ، فَتَخَلَّفْتُ ، فَنَزَلْتُ فَحَجَنَهُ بِمِحْجَنِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ارْكَبْ " ، فَرَكِبْتُهُ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَكُفُّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ :" تَزَوَّجْتَ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " بِكْرًا أَوْ ثَيِّبًا ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : ثَيِّبًا ، قَالَ : " فَهَلا جَارِيَةً تُلاعِبُهَا وَتُلاعِبُكَ " ، قُلْتُ : إِنَّ لِي أَخَوَاتٍ أَحْبَبْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ مَنْ تَجْمَعُهُنَّ وَتَمْشُطُهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ ، قَالَ : " أَمَا إِنَّكَ قَادِمٌ ، فَإِذَا قَدِمْتَ ، فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ " ، ثُمَّ قَالَ : " أَتَبِيعُ جَمَلَكَ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِأُوقِيَّةٍ ، ثُمَّ قَدِمَ الْمَسْجِدَ ، فَوَجَدْتُهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : " الآنَ قَدِمْتَ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَدَعْ جَمَلَكَ ، وَادْخُلِ الْمَسْجِدَ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ " ، فَدَخَلْتُ ، فَصَلَّيْتُ ، فَأَمَرَ بِلالا أَنْ يَزِنَ لِي أُوقِيَّةً فَوَزَنَ لِي ، قَالَ : فَأَرْجَحَ فِي الْمِيزَانِ ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ حَتَّى إِذَا وَلَّيْتُ ، قَالَ : " ادْعُ لِي جَابِرًا " ، قُلْتُ : الآنَ يَرُدُّ عَلَيَّ الْجَمَلَ ، وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَبْغَضُ إِلَيَّ مِنْهُ ، قَالَ : " خُذْ جَمَلَكَ وَلَكَ ثَمَنُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک ہوا، میرا اونٹ آہستہ چل رہا تھا اور وہ تھک چکا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جابر!“ میں نے عرض کی: جی! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا معاملہ ہے؟“ میں نے عرض کی: میرا اونٹ آہستہ چل رہا ہے اور یہ تھک چکا ہے، اس لیے میں پیچھے چل رہا ہوں، پھر میں اونٹ سے نیچے اتر گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چھڑی کے ذریعے اسے مارا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب تم سوار ہو جاؤ۔“ میں سوار ہوا، تو میں نے دیکھا میں اس اونٹ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نکلنے سے روک رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے شادی کر لی ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری کے ساتھ یا ثیبہ کے ساتھ؟“ میں نے عرض کی: ثیبہ کے ساتھ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری کے ساتھ کیوں نہیں کی؟ تم اس کے ساتھ خوش فعلیاں کرتے، وہ تمہارے ساتھ خوش فعلیاں کرتی۔“ میں نے عرض کی: میری کچھ بہنیں ہیں، اس لیے میں نے یہ چاہا کہ میں کسی ایسی خاتون کے ساتھ شادی کروں جو ان کا خیال رکھے، ان کی کنگھی کرے اور ان کی دیکھ بھال کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم (اپنے گھر) واپس جانے لگے ہو، اگر تم جاؤ تو سمجھ داری کا مظاہرہ کرنا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم اپنا اونٹ فروخت کرو گے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اوقیہ کے عوض میں اسے مجھ سے خرید لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد تشریف لائے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد کے دروازے پر پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم اب آئے ہو؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا اونٹ چھوڑ دو اور تم مسجد میں جاؤ اور دو رکعت ادا کرو۔“ میں مسجد کے اندر آیا، میں نے نماز ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ ایک اوقیہ وزن کر کے مجھے دے دے، انہوں نے مجھے وزن کر کے دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ترازو میں پلڑے کو بھاری رکھنا۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں وہاں سے روانہ ہوا، میں وہاں سے مڑ گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جابر کو میرے پاس بلا کر لاؤ۔“ میں نے سوچا اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اونٹ بھی واپس کر دیں گے اور میرے نزدیک یہ بات انتہائی ناپسندیدہ تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنا اونٹ حاصل کر لو اور اس کی قیمت بھی تمہاری ہوئی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7143]

7144

Sahih Ibn Hibban #7144

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : إِنَّاللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ " ، فَقَالَ أُبَيٌّ : آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ ؟ قَالَ : " اللَّهُ سَمَّاكَ لِي "، قَالَ : فَجَعَلَ أُبَيٌّ يَبْكِي"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن کی تلاوت کروں۔“ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے سامنے میرا نام لیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے تمہارا نام لیا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ رونے لگے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7144]

7145

Sahih Ibn Hibban #7145

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ : اسْتَأْذَنَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ ثَابِتٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ بِنَسَبِي ؟ " ، قَالَ حَسَّانُ : لأَسُلَنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعْرَةُ مِنَ الْعَجِينِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی کہ وہ مشرکین کی ہجو بیان کریں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو میرے نسب کا کیا بنے گا۔“ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میں آپ کو ان میں سے یوں نکال لوں گا، جس طرح گوندھے ہوئے آٹے سے بال نکالا جاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7145]

7146

Sahih Ibn Hibban #7146

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ : إِنَّرُوحَ الْقُدُسِ مَعَكَ مَا هَاجَيْتَهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”بے شک روح القدس تمہارے ساتھ ہے، جب تک تم ان کی ہجو بیان کرتے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7146]

7147

Sahih Ibn Hibban #7147

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ : إِنَّرُوحَ الْقُدُسِ لا يَزَالُ يُؤَيِّدُكَ مَا نَافَحْتَ عَنِ اللَّهِ ، وَعَنْ رَسُولِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے یہ کہتے ہوئے سنا: ”روح القدس مسلسل تمہاری تائید کرتا رہے گا جب تک تم اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جواب دیتے رہو گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7147]

7148

Sahih Ibn Hibban #7148

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ عُمَرَ مَرَّ ِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ َهُوَ يُنْشِدُ فِي الْمَسْجِدِ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَالْتَفَتَ حَسَّانُ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ لَهُ : أُنْشِدُكَ اللَّهَ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : أَجِبْ عَنِّي ، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جو مسجد میں شعر سنا رہے تھے، انہوں نے سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا تو سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور ان سے کہا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تم میری طرف سے جواب دو، «اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ» ”اے اللہ! روح القدس کے ذریعے اس کی تائید کر دے۔““؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7148]