Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 62 · Chapter 3

The Book of Divination and Magic

Hadith 7073–7108

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

7073

Sahih Ibn Hibban #7073

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، بِخَبَرٍ غَرِيبٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ،فَكُنْتُ عَلَى بَكْرٍ صَعْبٍ لِعُمَرَ ، فَكَانَ يَغْلِبُنِي ، فَيَتَقَدَّمُ أَمَامَ الْقَوْمِ ، فَيَزْجُرُهُ عُمَرُ وَيَرُدُّهُ ، ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فَيَزْجُرُهُ عُمَرُ وَيَرُدُّهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ : بِعْنِيهِ ، قَالَ : هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : بِعْنِيهِ ، فَبَاعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، فَاصْنَعْ بِهِ مَا شِئْتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر کر رہے تھے، میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ایک جوان اونٹ پر سوار تھا جسے چلانا مشکل تھا، وہ میرے قابو میں نہیں آ رہا تھا اور لوگوں سے آگے بڑھ جاتا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے ڈانٹتے اور پیچھے کرتے تو وہ پھر آگے بڑھ جاتا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے پھر ڈانٹ کر پیچھے کرتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”یہ مجھے فروخت کر دو۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آپ کا ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مجھے فروخت کر دو۔“ تو انہوں نے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فروخت کر دیا۔ تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنہما)! یہ تمہارا ہوا، تم اس کے ساتھ جو چاہو کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7073]

7074

Sahih Ibn Hibban #7074

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ بْنِ الصَّبَاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ بِمَكَّةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْمَاجِشُونِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَيَتَتَبَّعُ آثَارَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكُلُّ مَنْزِلٍ نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ فِيهِ ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ سَمُرَةٍ ، فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَجِيءُ بِالْمَاءِ ، فَيَصُبُّهُ فِي أَصْلِ السَّمُرَةِ كَيْ لا تَيْبَسَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اہتمام کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تبرکات تلاش کیا کرتے تھے، ہر وہ جگہ جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا تھا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما بھی وہاں پڑاؤ کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ببول کے ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیا تھا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پانی لے کر آتے تھے اور اس درخت کی جڑ کو پانی دیتے تھے تاکہ وہ خشک نہ ہو جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7074]

7075

Sahih Ibn Hibban #7075

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ عَمَّارٌ يَسْتَأْذِنُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ائْذَنُوا لَهُ مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اسی دوران عمار رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اندر آنے کی اجازت دے دو، «الطَّيِّبُ الْمُطَيَّبُ» ”طیب اور مطیب“ کو خوش آمدید۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7075]

7076

Sahih Ibn Hibban #7076

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ : اسْتَأْذَنَ عَمَّارٌ عَلَى عَلِيٍّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : عَمَّارٌ مُلِئَ إِِيمَانًا إِِلَى مُشَاشِهِ "، أَيْ مَثَانَتِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہانی بن ہانی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اندر آنے کی اجازت مانگی، تو انہوں نے فرمایا: طیب اور مطیب کو خوش آمدید! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”عمار اپنی ہڈیوں کے اندر تک ایمان سے بھرا ہوا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7076]

7077

Sahih Ibn Hibban #7077

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ بِحَلَبَ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7077]

7078

Sahih Ibn Hibban #7078

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَيْحَ ابْنِ سُمَيَّةَ ،تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ ، يَدْعُوهُمْ إِِلَى الْجَنَّةِ ، وَيَدْعُونَهُ إِِلَى النَّارِ "، قَالَ ابْنُ الْمِنْهَالِ : فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبَا دَاوُدَ ، فَدَلَّسَهُ عَنِّي"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سمیہ کے صاحبزادے (یعنی عمار بن یاسر) پر افسوس ہے جسے ایک باغی گروہ قتل کر دے گا، یہ ان لوگوں کو جنت کی طرف بلائے گا، اور وہ اسے جہنم کی طرف بلائیں گے۔“ ابن منہال نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے یہ روایت ابوداؤد کو سنائی، تو انہوں نے یہ روایت میرے حوالے سے (تدلیس) کے طور پر نقل کر دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7078]

7079

Sahih Ibn Hibban #7079

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ بِوَاسِطَ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ لِي وَلِعَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ : انْطَلِقَا إِِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَاسْمَعَا مِنْ حَدِيثِهِ ، فَأَتَيْنَاهُ ، فَإِِذَا هُوَ فِي حَائِطٍ لَهُ ، فَلَمَّا رَآنَا جَاءَ ، فَأَخَذَ رِدَاءَهُ ، ثُمَّ قَعَدَ ، فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا حَتَّى أَتَى عَلَى ذِكْرِ بِنَاءِ الْمَسْجِدِ ، قَالَ : كُنَّا نَحْمِلُ لَبِنَةً وَعَمَّارٌ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ يَنْفُضُ التُّرَابَ عَنْ رَأْسِهِ ، وَيَقُولُ : يَا عَمَّارُ ، أَلا تَحْمِلُ مَا يَحْمِلُ أَصْحَابُكَ ؟ " ، قَالَ : إِِنِّي أُرِيدُ الأَجْرَ مِنَ اللَّهِ ، فَجَعَلَ يَنْفُضُ التُّرَابَ عَنْهُ ، وَيَقُولُ : " وَيْحُ عَمَّارٍ ،تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ ، يَدْعُوهُمْ إِِلَى الْجَنَّةِ ، وَيَدْعُونَهُ إِِلَى النَّارِ "، فَقَالَ عَمَّارٌ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عکرمہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے اور اپنے صاحب زادے علی کو یہ کہا: تم دونوں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے حدیث سنو۔ ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ اپنے باغ میں موجود تھے، جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو تشریف لے آئے، انہوں نے اپنی چادر لی اور پھر بیٹھ گئے۔ انہوں نے ہمارے ساتھ بات چیت کرنی شروع کی، یہاں تک کہ وہ مسجد کی تعمیر کے تذکرے تک آئے، تو بولے: ہم لوگ ایک ایک اینٹ اٹھا کر لاتے تھے اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں اٹھا کر لاتے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر سے مٹی کو جھاڑنا شروع کیا اور فرمایا: ”اے عمار! تم اتنی ہی کیوں نہیں اٹھاتے جتنی تمہارے ساتھی اٹھا رہے ہیں۔“ انہوں نے عرض کی: میں اللہ تعالیٰ سے اجر کا طلب گار ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے مٹی کو جھاڑتے ہوئے فرمایا: ”عمار پر افسوس ہے کہ اسے ایک باغی گروہ قتل کر دے گا، یہ ان لوگوں کو جنت کی طرف بلائے گا اور وہ اسے جہنم کی طرف بلائیں گے۔“ تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7079]

7080

Sahih Ibn Hibban #7080

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَمَةَ ، يَقُولُ : رَأَيْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ يَوْمَ صِفِّينَ شَيْخٌ آدَمَ طُوَالٌ ، أَخَذَ الْحَرْبَةَ بِيَدِهِ ، وَيَدُهُ تَرْعُدُ ، فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ،لَقَدْ قَاتَلْتُ بِهَذِهِ الرَّايَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، وَهَذِهِ الرَّابِعَةُ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ ضَرَبُونَا حَتَّى يَبْلُغُوا بِنَا سَعْفَاتِ هَجَرَ ، عَرَفْنَا أَنَّ مُصْلِحِينَا عَلَى الْحَقِّ ، وَأَنَّهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ صفین کے دن میں نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ گندمی رنگ کے دراز قامت اور عمر رسیدہ شخص تھے، انہوں نے اپنے ہاتھ میں نیزہ پکڑا ہوا تھا اور ان کا ہاتھ کانپ رہا تھا۔ انہوں نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے! میں نے اس جھنڈے کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تین مرتبہ جہاد میں حصہ لیا ہے اور یہ چوتھی مرتبہ ہے، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے! اگر وہ لوگ ہمیں مارتے رہیں، یہاں تک کہ ہمیں لے کر ہجر کی کھجوروں تک پہنچ جائیں، تو ہم یہ مان لیں گے کہ ہمارے مصلحین حق پر ہیں اور یہ لوگ باطل پر ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7080]

7081

Sahih Ibn Hibban #7081

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، قَالَ : كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ كَلامٌ ، فَانْطَلَقَ عَمَّارٌ يَشْكُوا إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَجَعَلَ خَالِدٌ لا يَزِيدُهُ إِِلا غِلْظَةً وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاكِتٌ ، قَالَ : فَبَكَى عَمَّارٌ ، وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلا تَسْمَعُهُ ؟ قَالَ : فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَيَّ رَأْسَهُ ، وَقَالَ : مَنْ عَادَى عَمَّارًا عَادَاهُ اللَّهُ ، وَمَنْ أَبْغَضَهُ أَبْغَضَهُ اللَّهُ "، قَالَ : فَخَرَجْتُ ، فَمَا كَانَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِِلَيَّ مِنْ رِضَا عَمَّارٍ ، فَلَقِيتُهُ فَرَضِيَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ گئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے سختی کا اظہار کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ رونے لگے اور انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ اسے سن نہیں رہے؟“ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا: «مَنْ عَادَى عَمَّارًا عَادَاهُ اللَّهُ، وَمَنْ أَبْغَضَ عَمَّارًا أَبْغَضَهُ اللَّهُ» ”جو شخص عمار سے دشمنی رکھے اللہ تعالیٰ اس سے دشمنی رکھے اور جو شخص اس سے بغض رکھے اللہ تعالیٰ اس سے بغض رکھے۔“ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں وہاں سے نکلا تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی رضامندی سے زیادہ اور کوئی چیز میرے نزدیک محبوب نہیں تھی، پھر میں ان سے ملا (ان سے معذرت کی) تو وہ راضی ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7081]

7082

Sahih Ibn Hibban #7082

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، وَرَوْحٌ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، أَنَّ صُهَيْبًا حِينَ أَرَادَ الْهِجْرَةَ إِِلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ لَهُ كُفَّارُ قُرَيْشٍ : أَتَيْتَنَا صُعْلُوكًا ، فَكَثُرَ مَالُكَ عِنْدَنَا ، وَبَلَغْتَ مَا بَلَغْتَ ، ثُمَّ تُرِيدُ أَنْ تَخْرُجَ بِنَفْسِكَ وَمَالِكَ ، وَاللَّهِ لا يَكُونُ ذَلِكَ ، فَقَالَ لَهُمْ : أَرَأَيْتُمْ إِِنْ أَعْطَيْتُكُمْ مَالِي ، أَتُخَلُّونَ سَبِيلِي ؟ فَقَالُوا : نَعَمْ ، فَقَالَ : أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ لَهُمْ مَالِي ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ :رَبِحَ صُهَيْبٌ ، رَبِحَ صُهَيْبٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعثمان نہدی بیان کرتے ہیں: سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ کیا تو کفارِ قریش نے ان سے کہا: تم ہمارے پاس مفلوک ہونے کے عالم میں آئے تھے، ہمارے پاس تمہارا مال زیادہ ہو گیا اور تم اس مرتبے تک پہنچ گئے جو تمہارا ہے، اب تم اپنی جان اور مال کو لے کر نکلنا چاہتے ہو؟ اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہو گا۔ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تمہارا کیا خیال ہے، اگر میں تم لوگوں کو اپنا مال دے دوں، تو کیا تم میرا راستہ چھوڑ دو گے؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں میں نے اپنا مال تمہیں دیا۔ اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صہیب نے فائدہ حاصل کر لیا، صہیب نے فائدہ حاصل کر لیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7082]

7083

Sahih Ibn Hibban #7083

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَأَوَّلُ مَنْ أَظْهَرَ إِِسْلامَهُ سَبْعَةً : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعَمَّارٌ ، وَأُمُّهُ سُمَيَّةُ ، وَصُهَيْبٌ ، وَبِلالٌ ، وَالْمِقْدَادُ ، فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِعَمِّهِ أَبِي طَالِبٍ ، وَأَمَّا أَبُو بَكْرٍ ، فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِقَوْمِهِ ، وَأَمَّا سَائِرُهُمْ فَأَخَذَهُمُ الْمُشْرِكُونَ وَأُلْبِسُوا أَدْرَاعَ الْحَدِيدِ وَصَهَرُوهُمْ فِي الشَّمْسِ ، فَمَا مِنْهُمْ أَحَدٌ إِِلا وَآتَاهُمْ عَلَى مَا أَرَادُوا ، إِِلا بِلالٌ ، فَإِِنَّهُ هَانَتْ عَلَيْهِ نَفْسُهُ فِي اللَّهِ ، وَهَانَ عَلَى قَوْمِهِ ، فَأَخَذُوهُ ، فَأَعْطَوْهُ الْوِلْدَانَ ، فَجَعَلُوا يَطُوفُونَ بِهِ فِي شِعَابِ مَكَّةَ وَهُوَ يَقُولُ : أَحَدٌ أَحَدٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سب سے پہلے سات افراد نے اسلام کا اظہار کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ، ان کی والدہ سیدہ سمیہ رضی اللہ عنہا، سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ۔ جہاں تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق ہے، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے چچا جناب ابوطالب کی وجہ سے آپ کو (کفار مکہ کے) شر سے محفوظ رکھا، جہاں تک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی وجہ سے انہیں محفوظ رکھا، لیکن جہاں تک باقی لوگوں کا تعلق ہے، تو مشرکین نے انہیں پکڑ لیا، انہیں لوہے کی زرہیں پہنائی گئیں اور انہیں سورج کی گرمی میں چھوڑ دیا گیا۔ ان لوگوں میں سے ہر ایک نے وہ کیا جو وہ لوگ چاہتے تھے، صرف سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا معاملہ مختلف تھا کیونکہ اللہ کی راہ میں انہوں نے اپنی ذات کو بے حیثیت کر دیا تھا اور اپنی قوم کے لیے اپنی ذات کو بے حیثیت کر دیا تھا۔ ان لوگوں نے انہیں پکڑا اور بچوں کے سپرد کر دیا، تو مکہ کی گھاٹیوں میں وہ بچے ان کے اردگرد چکر لگاتے تھے اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ یہ کہتے تھے: «أَحَدٌ، أَحَدٌ» ”(اللہ) ایک ہے (اللہ) ایک ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7083]

7084

Sahih Ibn Hibban #7084

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ ، فَسَمِعْتُ خَشْفَةً أَمَامِي ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ : هَذَا بِلالٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے جنت میں داخل کیا گیا تو میں نے اپنے آگے کسی کے قدموں کی آہٹ سنی، میں نے دریافت کیا: یہ کون ہے؟ تو جبرئیل علیہ السلام نے بتایا: یہ بلال ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7084]

7085

Sahih Ibn Hibban #7085

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : قُلْتُ لأَبِي أُسَامَةَ : أَحَدَّثَكُمْ أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلالٍ عِنْدَ صَلاةِ الْفَجْرِ : يَا بِلالُ ،حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمِلٍ عَمِلْتَهُ عِنْدَكَ فِي الإِِسْلامِ ، فَإِِنِّي سَمِعْتُ اللَّيْلَةَ خَشْفَةَ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيِ الْجَنَّةِ ، فَقَالَ : مَا عَمَلٌ عَمِلْتُهُ أَرْجَى عِنْدِي أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طَهُورًا تَامًَّا فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ ، إِِلا صَلَّيْتُ لِرَبِّي مَا قُدِّرَ لِي أَنْ أُصَلِّيَ "، فَأَقَرَّ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ ، وَقَالَ : نَعَمْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز کے وقت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ”اے بلال! تم مجھے اپنے ایسے عمل کے بارے میں بتاؤ جو تم نے مسلمان ہونے کے بعد کیا ہو اور تم نے اس کے حوالے سے (زیادہ ثواب کی) امید کی ہو، کیونکہ میں نے گزشتہ رات جنت میں اپنے سے آگے تمہارے قدموں کی آہٹ سنی ہے۔“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”میں نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا جس کے بارے میں مجھے زیادہ امید ہو، البتہ یہ ہے کہ جب میں وضو کرتا ہوں، تو مکمل وضو کرتا ہوں خواہ رات یا دن کا کوئی بھی حصہ ہو اور پھر اس کے بعد جتنا میرے نصیب میں ہو اتنے نوافل ادا کرتا ہوں۔“ ابواسامہ نامی راوی نے اس روایت کا اقرار کرتے ہوئے کہا: جی ہاں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7085]

7086

Sahih Ibn Hibban #7086

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أبيه ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ إِِلا سَمِعْتُ خَشْخَشَةً ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : بِلالٌ ، ثُمَّ مَرَرْتُ بِقَصْرٍ مُشَيَّدٍ بَدِيعٍ ، فَقُلْتُ : لِمَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : لِرَجُلٍ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : أَنَا مُحَمَّدٌ ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ قَالُوا : لِرَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ ، فَقُلْتُ : أَنَا عَرَبِيٌّ ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ قَالُوا : لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لِبِلالٍ : بِمَ سَبَقْتَنِي إِِلَى الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : مَا أَحْدَثْتُ إِِلا تَوَضَّأْتُ ، وَمَا تَوَضَّأْتُ إِِلا صَلَّيْتُ ، وَقَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لَوْلا غَيْرَتُكَ لَدَخَلْتُ الْقَصْرَ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أَكُنْ لأَغَارَ عَلَيْكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن بریدہ اپنے والد (بریدہ رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں جنت میں داخل ہوا، تو میں نے قدموں کی آہٹ سنی، میں نے دریافت کیا: یہ کون ہے؟ فرشتوں نے بتایا: یہ بلال ہے، پھر میں ایک محل کے پاس سے گزرا جو بہت خوبصورت بنا ہوا تھا میں نے دریافت کیا: یہ کس کا ہے، تو فرشتوں نے بتایا: یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا ہے۔ میں نے کہا: میں محمد ہوں، یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے جواب دیا: یہ عربوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا ہے۔ میں نے کہا: میں بھی عرب ہوں، یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے بتایا: یہ عمر بن خطاب کا ہے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ”تم کس وجہ سے مجھ سے جنت میں آگے ہو؟“ انہوں نے عرض کی: میں جب بھی بے وضو ہوتا ہوں وضو کر لیتا ہوں اور جب بھی وضو کرتا ہوں دو نوافل ادا کرتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اگر مجھے تمہارے مزاج کی تیزی کا خیال نہ ہوتا تو میں محل کے اندر چلا جاتا۔“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کے خلاف مزاج کی تیزی نہیں دکھا سکتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7086]

7087

Sahih Ibn Hibban #7087

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أبيه ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ خَشْخَشَةً أَمَامَهُ ، فَقَالَ :مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : بِلالٌ ، فَأَخْبَرَهُ وَقَالَ : بِمَ سَبَقْتَنِي إِِلَى الْجَنَّةِ ؟ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَحْدَثْتُ إِِلا تَوَضَّأْتُ ، وَلا تَوَضَّأْتُ إِِلا رَأَيْتُ أَنَّ لِلَّهِ عَلَيَّ رَكْعَتَيْنِ أُصَلِّيهُمَا ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد (رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (خواب میں) اپنے آگے کسی کے قدموں کی آہٹ سنی تو دریافت کیا: ”یہ کون ہے؟“ فرشتوں نے بتایا: بلال ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بتایا اور فرمایا: ”تم کس وجہ سے جنت میں مجھ سے آگے ہو؟“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جب بھی بے وضو ہوتا ہوں تو وضو کر لیتا ہوں اور جب بھی وضو کرتا ہوں، تو مجھے یوں لگتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے لیے دو رکعات (تحیۃ الوضو) ادا کرنی چاہئیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی کی وجہ سے ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7087]

7088

Sahih Ibn Hibban #7088

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلَى بَدْرٍ ، فَسُحِبُوا إِِلَى الْقَلِيبِ فَطُرِحُوا فِيهِ ، ثُمَّ جَاءَ حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : يَا أَهْلَ الْقَلِيبِ ،هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ؟ فَإِِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تُكَلِّمُ قَوْمًا مَوْتَى ؟ قَالَ : لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ مَا وَعَدْتُهُمْ حَقًّا ، فَلَمَّا رَأَى أَبُو حُذَيْفَةَ بْنُ عُتْبَةَ أَبَاهُ يُسْحَبُ إِِلَى الْقَلِيبِ ، عَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ : كَأَنَّكَ كَارِهٌ لِمَا تَرَى ؟ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ أَبِي كَانَ رَجُلا سَيِّدًا حَلِيمًا ، فَرَجَوْتُ أَنْ يَهْدِيَهُ اللَّهُ إِِلَى الإِِسْلامِ ، فَلَمَّا وَقَعَ بِالْمَوْقِعِ الَّذِي وَقَعَ بِهِ ، أَحْزَنَنِي ذَلِكَ " فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِي حُذَيْفَةَ بِخَيْرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (بدر کے کفار سے تعلق رکھنے والے) مقتولین کے بارے میں حکم دیا، تو انہیں ایک گڑھے میں ڈال دیا گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ ان کے پاس ٹھہرے آپ نے فرمایا: ”اے گڑھے والو! تمہارے پروردگار نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا، کیا تم نے اسے حق پا لیا ہے؟ میرے پروردگار نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا تھا میں نے تو اسے حق پا لیا ہے۔“ ہم لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ایسی قوم کے ساتھ گفتگو کر رہے ہیں، جو مر چکے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ میں نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ حق ہے۔“ جب سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ان کے والد کو گڑھے کی طرف لے جایا جا رہا ہے (یہ قریش کے سردار عتبہ کے بیٹے تھے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے چہرے پر ناپسندیدگی کا اندازہ ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید تم جو دیکھ رہے ہو اسے ناپسند کر رہے ہو۔“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا والد ایک سردار تھا اور بردبار شخص تھا مجھے یہ امید تھی کہ اللہ تعالیٰ اسلام کی طرف اس کی رہنمائی کر دے گا لیکن جب اسے اس طرح ڈالا جا رہا ہے، اس چیز نے مجھے غمگین کر دیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے لیے دعائے خیر کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7088]

7089

Sahih Ibn Hibban #7089

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ الْجَرْجَرَائِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : قَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ : لَقَدِانْدَقَّ فِي يَدِي يَوْمَ مُؤْتَةَ تِسْعَةُ أَسْيَافٍ ، مَا بَقِيَتْ فِي يَدِي إِِلا صَفِيحَةٌ لِي يَمَانِيَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: غزوہ موتہ کے دن میرے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹی تھیں اور میرے ہاتھ میں صرف میری یمنی تلوار باقی رہ گئی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7089]

7090

Sahih Ibn Hibban #7090

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَزْهَرَ يُحَدِّثُ ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ ، فَكَانَ عَلَى خَيْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ ابْنُ الأَزْهَرِ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يَقُولُ :مَنْ يَدُلُّ عَلَى رَحْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ؟ قَالَ ابْنُ الأَزْهَرِ : فَمَشَيْتُ ، أَوْ قَالَ : سَعَيْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَنَا مُحْتَلِمٌ أَقُولُ : مَنْ يَدُلُّ عَلَى رَحْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ؟ حَتَّى دُلِلْنَا عَلَى رَحْلِهِ ، فَإِِذَا هُوَ قَاعِدٌ مُسْتَنِدٌ إِِلَى مُؤَخَّرِ رَحْلِهِ فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِِلَى جُرْحِهِ "، قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَحَسَبْتُ أَنَّهُ قَالَ : " وَنَفَثَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، یہ غزوہ حنین کے موقع کی بات ہے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھڑ سواروں کے امیر تھے۔ ابن اظہر بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ یہ فرما رہے تھے: ”خالد بن ولید کی رہائشی جگہ کے بارے کون بتائے گا؟“ ابن اظہر کہتے ہیں: تو میں چل پڑا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے چلتا ہوا آیا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) دوڑتا ہوا آیا، میں ان دنوں قریبِ بلوغ تھا، میں نے کہا: کون شخص خالد بن ولید کی رہائشی جگہ تک رہنمائی کرے گا؟ یہاں تک کہ ہماری رہنمائی ان کی رہائشی جگہ تک کی گئی، تو وہ وہاں بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے اپنی پالان کے پچھلے حصے کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، آپ نے ان کے زخم کا جائزہ لیا۔ زہری بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زخم پر اپنا لعابِ دہن لگایا (یا پھونک ماری یا دم کیا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7090]

7091

Sahih Ibn Hibban #7091

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْخَرَّارُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : شَكَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا خَالِدُ ،لِمَ تُؤْذِي رَجُلا مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ؟ لَوْ أَنْفَقْتَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا لَمْ تُدْرِكْ عَمَلَهُ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَقَعُونَ فِيَّ ، فَأَرُدُّ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تُؤْذُوا خَالِدًا ، فَإِِنَّهُ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ صَبَّهُ اللَّهُ عَلَى الْكُفَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی شکایت کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خالد! تم نے اہل بدر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو کیوں تکلیف پہنچائی ہے؟ اگر تم احد پہاڑ جتنا سونا (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو، تو تم پھر بھی اس کے عمل تک نہیں پہنچ سکتے۔“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میرے خلاف باتیں کر رہے تھے، تو میں نے انہیں جواب دیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ خالد کو تکلیف نہ پہنچاؤ کیونکہ وہ اللہ کی تلوار ہے جسے اللہ تعالیٰ نے کفار پر سونت رکھی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7091]

7092

Sahih Ibn Hibban #7092

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، يَقُولُ : فَزِعَ النَّاسُ بِالْمَدِينَةِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَفَرَّقُوا ، فَرَأَيْتُ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ احْتَبَى بِسَيْفِهِ ، وَجَلَسَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ فَعَلْتُ مِثْلَ الَّذِي فَعَلَ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآنِي وَسَالِمًا ، وَأَتَى النَّاسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ،أَلا كَانَ مَفْزَعُكُمْ إِِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ؟ أَلا فَعَلْتُمْ كَمَا فَعَلَ هَذَانِ الرَّجُلانِ الْمُؤْمِنَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گھبراہٹ کا شکار ہو گئے، تو وہ ادھر ادھر تقسیم ہو گئے، میں نے سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام سالم کو دیکھا کہ اس نے تلوار نکال لی ہے اور مسجد میں بیٹھا ہے، جب میں نے اسے دیکھا، تو میں نے بھی ویسا ہی کیا جیسا اس نے کیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ نے مجھے اور سالم کو دیکھا، پھر اور لوگ بھی آ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! کیا وجہ ہے کہ تم گھبرا کر اللہ اور اس کے رسول کی طرف نہیں آئے؟ اور کیا وجہ ہے کہ تم نے وہ کیوں نہیں کیا جو ان دو مومن آدمیوں نے کیا؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7092]

7093

Sahih Ibn Hibban #7093

أَخْبَرَنَا ابن خزيمة ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَأَيْتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ إِذَا رَجُلٌ يَحْمِلُكِ فِي سَرَقَةِ حَرِيرٍ ، فَيَقُولُ : هَذِهِ امْرَأَتُكَ ، فَأَكْشِفُهَا ، فَإِذَا هِيَ أَنْتِ ، فَأَقُولُ : إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”میں نے تمہیں خواب میں دو مرتبہ دیکھا، ایک شخص (یعنی فرشتہ) ریشمی کپڑے میں تمہیں اٹھا کر لایا اور بولا: یہ آپ کی اہلیہ ہیں، میں نے اس کپڑے کو ہٹایا تو اندر تم تھیں۔ میں نے کہا: اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے پورا کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7093]

7094

Sahih Ibn Hibban #7094

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ الْمَكِّيُّ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ :جَاءَ بِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خِرْقَةِ حَرِيرٍ ، فَقَالَ : هَذِهِ زَوْجَتُكَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام مجھے (یعنی میری تصویر کو) لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، (وہ تصویر) ایک ریشمی کپڑے میں تھی، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: ”یہ دنیا اور آخرت میں آپ کی زوجہ محترمہ ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7094]

7095

Sahih Ibn Hibban #7095

أَخْبَرَنَا ابن خزيمة ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي أَبُو الْعَنْبَسِ سَعِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حَدَّثَتْنَا عَائِشَةُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ فَاطِمَةَ ، قَالَتْ : فَتَكَلَّمْتُ أَنَا ، فَقَالَ : أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي زَوْجَتِي فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ؟ " ، قُلْتُ : بَلَى وَاللَّهِ ، قَالَ :" فَأَنْتِ زَوْجَتِي فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ". أبو الْعَنْبَسِ : كُوفِيٌّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے گفتگو کرنا شروع کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم دنیا اور آخرت میں میری زوجہ ہو؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں! اللہ کی قسم (میں اس بات سے راضی ہوں)، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم دنیا اور آخرت میں میری زوجہ ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوعنبس نامی راوی کوفی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7095]

7096

Sahih Ibn Hibban #7096

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ الْمَاجِشُونِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،مَنْ أَزْوَاجُكَ فِي الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : أَمَا إِنَّكِ مِنْهُنَّ " ، قَالَتْ : فَخُيِّلَ إِلَيَّ أَنَّ ذَاكَ أَنَّهُ لَمْ يَتَزَوَّجْ بِكْرًا غَيْرِي"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی کون سی ازواج جنت میں ہوں گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاں تک تمہارا تعلق ہے تو تم ان میں سے ہو (جو جنت میں ہوں گی)۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: مجھے اس بات کا علم تھا کہ اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے علاوہ کسی اور کنواری خاتون کے ساتھ شادی نہیں کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7096]

7097

Sahih Ibn Hibban #7097

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسِتِّ سِنِينَ ، وَبَنَى بِي ، وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ وَوُعِكْتُ ، فَوَفَى شَعْرِي جُمَيْمَةً ، فَأَتَتْنِي أُمُّ رُومَانَ ، وَأَنَا عَلَى أُرْجُوحَةٍ وَمَعِي صَوَاحِبُ لِي ، فَصَرَخَتْ بِي ، فَأَتَيْتُهَا مَا أَدْرِي مَاذَا تُرِيدُ ، فَأَخَذَتْ بِيَدِي ، وَأَوْقَفَتْنِي عَلَى الْبَابِ ، فَقُلْتُ : هَهْ هَهْ ، شِبْهَ الْمُنْبَهِرَةِ ، فَأَدْخَلَتْنِي بَيْتًا ، فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقُلْنَ : عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ ، وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ ، فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِنَّ ، فَغَسَلْنَ رَأْسِي وَأَصْلَحْنَنِي ، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى ، فَأَسْلَمْنَنِي إِلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میرے ساتھ شادی کی تو میری عمر چھ سال تھی، جب میری رخصتی ہوئی تو میری عمر نو سال تھی، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو مجھے بخار ہو گیا جس کے نتیجے میں میرے بال جھڑ گئے۔ سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا میرے پاس آئیں، میں اس وقت کھلونوں کے ساتھ کھیل رہی تھی اور میرے ساتھ میری سہیلیاں بھی تھیں، سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے بلند آواز میں مجھے بلایا، میں ان کے پاس آئی، مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ کیا چاہتی ہیں، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے دروازے پر لا کر کھڑا کیا، میں نے کہا: ٹھہر جائیں، ٹھہر جائیں، یوں جیسے سانس پھولا ہوا ہو، پھر انہوں نے مجھے گھر کے اندر داخل کیا، تو وہاں کچھ انصاری خواتین موجود تھیں، انہوں نے کہا: «عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ، وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ» ”بھلائی اور برکت کے ساتھ اور آنے والی بھلائی کے ساتھ (آپ کی شادی ہو)“ پھر سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے مجھے ان خواتین کے سپرد کر دیا، انہوں نے میرے سر کو دھویا اور مجھے تیار کیا، پھر چاشت کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، ان خواتین نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7097]

7098

Sahih Ibn Hibban #7098

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ ابْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلامَ " ، فَقُلْتُ : وَعَلَيْهِ السَّلامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، تَرَى مَا لا نَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔“ میں نے کہا: «وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ» ”ان پر بھی سلامتی، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں“، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ جو دیکھتے ہیں ہم وہ نہیں دیکھ سکتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7098]

7099

Sahih Ibn Hibban #7099

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، وَعِدَّةٌ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَعَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا ، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِنْهُ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَكُلُّهُمْ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنْ حَدِيثِهَا وَبَعْضُهُمْ أَوْعَى مِنْ بَعْضٍ ، وَأَثْبَتُ لَهُ اقْتِصَاصًا ، وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمُ الْحَدِيثَ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْ عَائِشَةَ ، وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا ، زَعَمُوا أَن عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ أَزْوَاجِهِ ، فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ ، فَأَقْرَعَ بَيْنَنَا فِي غَزَاةٍ غَزَاهَا ، فَخَرَجَ سَهْمِي ، فَخَرَجْتُ مَعَهُ بَعْدَمَا أُنْزِلَ الْحِجَابُ ، وَأَنَا أُحْمَلُ فِي هَوْدَجِي ، وَأَنْزِلَ فِيهِ ، فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَتِهِ تِلْكَ ، قَفَلَ ، وَدَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ ، فَآذَنَ لَيْلَةً بِالرَّحِيلِ ، فَقُمْتُ فَمَشَيْتُ حَتَّى جَاوَزْتُ الْجَيْشَ ، فَلَمَّا قَضَيْتُ شَأْنِي ، أَقْبَلْتُ إِلَى الرَّحْلِ ، فَلَمَسْتُ صَدْرِي ، فَإِذَا عِقْدٌ لِي مِنْ جِزْعِ أَظْفَارٍ قَدِ انْقَطَعَ فَرَجَعْتُ فَالْتَمَسْتُ عِقْدِي ، فَحَبَسَنِي ابْتِغَاؤُهُ ، فَأَقْبَلَ الَّذِينَ يَرْحَلُونَ بِي ، فَاحْتَمَلُوا هَوْدَجِي ، فَرَحَلُوهُ عَلَى بَعِيرِي الَّذِي كُنْتُ أَرْكَبُ ، وَهُمْ يَحْسِبُونَ أَنِّي فِيهِ ، وَكَانَ النِّسَاءُ إِذْ ذَاكَ خِفَافًا لَمْ يَثْقُلْنَ ، وَلَمْ يَغْشَهُنَّ اللَّحْمُ ، وَإِنَّمَا يَأْكُلْنَ الْعُلْقَةَ مِنَ الطَّعَامِ ، فَلَمْ يَسْتَنْكِرِ الْقَوْمُ حِينَ رَفَعُوهُ ثِقَلَ الْهَوْدَجِ ، فَاحْتَمَلُوهُ وَكُنْتُ جَارِيَةً حَدِيثَةَ السِّنِّ ، فَبَعَثُوا الْجَمَلَ وَسَارُوا ، فَوَجَدْتُ عِقْدِي بَعْدَمَا اسْتَمَرَّ الْجَيْشُ ، فَجِئْتُ مَنْزِلَهُمْ وَلَيْسَ فِيهِ أَحَدٌ ، فَأَقَمْتُ مَنْزِلِي الَّذِي كُنْتُ بِهِ ، وَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ سَيَفْقِدُونَنِي ، فَيَرْجِعُونَ إِلَيَّ ، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسَةٌ غَلَبَتْنِي عَيْنَايَ ، فَنِمْتُ ، وَكَانَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيُّ ، ثُمَّ الذَّكْوَانِيُّ مِنْ وَرَاءِ الْجَيْشِ ، فَأَصْبَحَ عِنْدَ مَنْزِلِي ، فَرَأَى سَوَادَ إِنْسَانٍ نَائِمٍ ، وَكَانَ يَرَانِي قَبْلَ الْحِجَابِ ، فَاسْتَيْقَظْتُ بِاسْتِرْجَاعِهِ حِينَ عَرَفَنِي ، فَخَمَّرْتُ وَجْهِي بِجِلْبَابِي وَاللَّهِ مَا تَكَلَّمْتُ بِكَلِمَةٍ ، وَلا سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَة غَيِر اسْتِرْجَاعِهِ حَتَّى أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ ، فَوَطِئَ يَدَهَا ، فَرَكِبْتُهَا ، فَانْطَلَقَ يَقُودُ بِيَ الرَّاحِلَةَ حَتَّى أَتَيْنَا الْجَيْشَ بَعْدَمَا نَزَلُوا مُعَرِّسِينَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ ، فَهَلَكَ مَنْ هَلَكَ ، وَكَانَ الَّذِي تَوَلَّى كِبْرَ الإِفْكِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيِّ بْنِ سَلُولٍ ، فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ، فَاشْتَكَيْتُ بِهَا شَهْرًا وَالنَّاسُ يُفِيضُونَ فِي قَوْلِ أَصْحَابِ الإِفْكِ ، وَيُرِيبُنِي فِي وَجَعِي إِنِّي لا أَرَى مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللُّطْفَ الَّذِي كُنْتُ أَرَى مِنْهُ حِينَ أَمْرَضُ ، إِنَّمَا يَدْخُلُ فَيُسَلِّمُ ، ثُمَّ يَقُولُ : كَيْفَ تِيكُمْ ؟ " ، وَلا أَشْعُرُ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ حَتَّى نَقَهْتُ ، فَخَرَجْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ بِنْتُ أَبِي رُهْمٍ قِبَلَ الْمَنَاصِعِ ، وَكَانَ مُتَبَرَّزَنَا لا نُخْرُجُ إِلا لَيْلا إِلَى لَيْلٍ ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ نَتَّخِذَ الْكُنُفَ قَرِيبًا مِنْ بُيُوتِنَا ، وَأَمَرُنَا أَمَرُ الْعَرَبِ الأُوَلِ فِي الْبَرِّيَّةِ ، أَوْ فِي التَّبَرُّزِ ، فَأَقْبَلْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ بِنْتُ أَبِي رُهْمٍ نَمْشِي ، فَعَثَرَتْ فِي مِرْطِهَا ، فَقَالَتْ : تَعِسَ مِسْطَحٌ ، فَقُلْتُ لَهَا : بِئْسَ مَا قُلْتِ ، أَتَسُبِّينَ رَجُلا شَهِدَ بَدْرًا ؟ فَقَالَتْ : يَا هَنَتَاهُ ، أَلَمْ تَسْمَعِي مَا قَالُوا ؟ فَأَخْبَرَتْنِي بِمَا يَقُولُ أَهْلُ الإِفْكِ ، فَازْدَدْتُ مَرَضًا عَلَى مَرَضٍ ، فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي ، دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " كَيْفَ تِيكُمْ ؟ " ، فَقُلْتُ : ائْذَنْ لِي آتَى أَبَوَيَّ ، قَالَتْ : وَأَنَا حِينَئِذٍ أُرِيدُ أَنْ أَسْتَيْقِنَ الْخَبَرَ مِنْ قِبَلِهِمَا ، فَأَذِنَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْتُ أَبَوَيَّ ، فَقُلْتُ لأُمِّي : مَا يَتَحَدَّثُ بِهِ النَّاسُ ، فَقَالَتْ : يَا بُنَيَّةُ ، هَوِّنِي عَلَى نَفْسِكِ الشَّأْنَ فَوَاللَّهِ لَقَلَّمَا كَانَتِ امْرَأَةٌ قَطُّ وَضِيئَةٌ عِنْدَ رَجُلٍ يُحِبُّهَا وَلَهَا ضَرَائِرُ إِلا أَكْثَرْنَ عَلَيْهَا ، فَقُلْتُ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، لَقَدْ تَحَدَّثَ النَّاسُ بِهَذَا ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، فَبِتُّ تِلْكَ اللَّيْلَةَ حَتَّى أَصْبَحْتُ لا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ ، وَلا أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ ، ثُمَّ أَصْبَحْتُ ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ حِينَ اسْتَلْبَثَ الْوَحْيُ يَسْتَشِيرُهُمَا فِي فِرَاقِ أَهْلِهِ ، فَأَمَّا أُسَامَةُ ، فَأَشَارَ عَلَيْهِ بِالَّذِي يَعْلَمُ فِي نَفْسِهِ مِنَ الْوُدِّ لَهُمْ ، فَقَالَ : أَهْلُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلا نَعْلَمُ وَاللَّهِ إِلا خَيْرًا ، وَأَمَّا عَلِيٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ يُضَيِّقِ اللَّهُ عَلَيْكَ وَالنِّسَاءُ سِوَاهَا كَثِيرٌ وَسَلِ الْجَارِيَةَ تَصْدُقْكَ ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِيرَةَ ، فَقَالَ : " يَا بَرِيرَةُ هَلْ رَأَيْتِ فِيهَا شَيْئًا مَا يَرِيبُكِ ؟ " ، فَقَالَتْ : لا ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنْ رَأَيْتُ مِنْهَا أَمْرًا أَغْمِصُهُ عَلَيْهَا أَكْثَرَ مِنْ أَنَّهَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ تَنَامُ عَنِ الْعَجِينِ ، فَتَأْتِي الدَّاجِنُ فَتَأْكُلُهُ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِهِ ، فَاسْتَعْذَرَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ سَلُولٍ ، فَقَالَ : " مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ رَجُلٍ بَلَغَ أَذَاهُ فِي أَهْلِي ، وَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي إِلا خَيْرًا ، ، وَقَدْ ذَكَرُوا رَجُلا مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ إِلا خَيْرًا ، وَمَا كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَهْلِي إِلا مَعِي " ، فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَأَنَا وَاللَّهِ أَعْذِرُكَ مِنْهُ ، إِنْ كَانَ مِنَ الأَوْسِ ، ضَرَبْنَا عُنُقَهُ ، وَإِنْ كَانَ مِنْ إِخْوَانِنَا مِنَ الْخَزْرَجِ ، أَمَرْتَنَا فَفَعَلْنَا فِيهِ أَمْرَكَ ، فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ، وَكَانَ قَبْلَ ذَلِكَ رَجُلا صَالِحًا ، وَلَكِنِ احْتَمَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ ، فَقَالَ : كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لا تَقْتُلُهُ ، وَلا تَقْدِرُ عَلَى ذَلِكَ ، فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ ، فَقَالَ : كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لَنَقْتُلَنَّهُ ، فَإِنَّكَ مُنَافِقٌ تُجَادِلُ عَنِ الْمُنَافِقِينَ ، فَثَارَ الْحَيَّانِ الأَوْسُ وَالْخَزْرَجُ حَتَّى هَمُّوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَجَعَلَ يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَتُوا ، وَمَكَثْتُ يَوْمِي لا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ ، وَلا أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ ، فَأَصْبَحَ عِنْدِي أَبَوَايَ ، وَقَدْ بَكَيْتُ لَيْلَتِي وَيَوْمِي ، حَتَّى أَظُنُّ أَنَّ الْبُكَاءَ فَالِقٌ كَبِدِي ، قَالَتْ : فَبَيْنَا هُمَا جَالِسَانِ عِنْدِي وَأَنَا أَبْكِي ، إِذِ اسْتَأْذَنَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَأَذِنْتُ لَهَا ، فَجَلَسَتْ تَبْكِي مَعِي ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَلَسَ وَلَمْ يَجْلِسْ عِنْدِي مِنْ يَوْمِ قِيلَ لِي مَا قِيلَ قَبْلَهَا ، وَقَدْ مَكَثَ شَهْرًا لا يُوحَى إِلَيْهِ فِي شَأْنِي شَيْءٌ ، قَالَتْ : فَتَشَهَّدَ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ أَمَّا بَعْدُ ،فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي عَنْكِ كَذَا وَكَذَا ، فَإِنْ كُنْتِ بَرِيئَةً فَسَيُبَرِّئُكِ اللَّهُ ، وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ ، فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ ، فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ بِذَنْبِهِ ثُمَّ تَابَ ، تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ " ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَتَهُ ، قَلَصَ دَمْعِي حَتَّى مَا أُحِسُّ مِنْهُ بِقَطْرَةٍ ، وَقُلْتُ لأَبِي : أَجِبْ عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ لأُمِّي : أَجِيبِي عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا قَالَ ، قَالَتْ : وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ لا أَقْرَأُ كَثِيرًا مِنَ الْقُرْآنِ ، فَقُلْتُ : إِي وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّكُمْ سَمِعْتُمْ مَا تَحَدَّثَ النَّاسُ ، وَوَقَرَ فِي أَنْفُسِكُمْ ، وَصَدَّقْتُمْ بِهِ ، وَلَئِنْ قُلْتُ لَكُمْ إِنِّي بَرِيئَةٌ ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنِّي بَرِيئَةٌ لا تُصَدِّقُونِي بِذَلِكَ ، وَإِنِ اعْتَرَفَتْ لَكُمْ بِأَمْرٍ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ لَتُصَدِّقُنِّي ، وَاللَّهِ مَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مَثَلا إِلا أَبَا يُوسُفَ إِذْ قَالَ : فَصَبَرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ ، ثُمَّ تَحَوَّلْتُ عَلَى فِرَاشِي ، وَأَنَا أَرْجُو أَنْ يُبَرِّئَنِيَ اللَّهُ ، وَلَكِنْ وَاللَّهِ مَا ظَنَنْتُ أَنْ يَنْزِلَ فِي شَأْنِي وَحْيٌ ، وَلأَنَا أَحْقَرُ فِي نَفْسِي مِنْ أَنْ يُتَكَلَّمَ بِالْقُرْآنِ فِي أَمْرِي ، وَلَكِنِّي كُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ رُؤْيَا تُبَرِّئُنِي ، فَوَاللَّهِ مَا رَامَ فِي مَجْلِسِهِ ، وَلا خَرَجَ أَحَدٌ مِنَ الْبَيْتِ حَتَّى أُنْزِلَ عَلَيْهِ ، فَأَخَذَهُ مَا كَانَ يَأْخُذُهُ مِنَ الْبُرَحَاءِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَنْحَدِرُ مِنْهُ مِثْلُ الْجُمَانِ مِنَ الْعَرَقِ فِي يَوْمٍ شَاتٍ ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يَضْحَكُ ، فَكَانَ أَوَّلُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا أَنْ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، احْمَدِي اللَّهَ فَقَدْ بَرَّأَكِ اللَّهُ " ، فَقَالَتْ لِي أُمِّي : قَوْمِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : لا وَاللَّهِ ، لا أَقُومُ إِلَيْهِ ، وَلا أَحْمَدُ إِلا اللَّهَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ ، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ هَذَا فِي بَرَاءَتِي ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ لِقَرَابَتِهِ مِنْهُ : وَاللَّهِ لا أُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ شَيْئًا أَبَدًا بَعْدَمَا قَالَ لِعَائِشَةَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَلا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ إِلَى قَوْلِهِ : وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي ، فَرَجَعَ إِلَى مِسْطَحٍ بِالَّذِي كَانَ يُجْرِي عَلَيْهِ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ عَنْ أَمْرِي ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحْمِي سَمْعِي وَبَصْرِي ، وَكَانَتْ تُسَامِينِي ، فَعَصَمَهَا اللَّهُ بِالْوَرَع، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ : وَحَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، مِثْلَهُ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ مِثْلَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے واقعہ افک کے بارے میں روایت نقل کی ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بری قرار دیا تھا۔ زہری بیان کرتے ہیں: اس گروہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے منقول روایت مجھے بیان کی ہے ان میں بعض نے اس واقعہ کو زیادہ بہتر طور پر یاد رکھا لیکن میں اسے ایک واقعہ کے طور پر نقل کروں گا میں نے ان میں سے ہر ایک کے الفاظ کو یاد رکھا جو اس نے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے بیان کیے ان میں سے بعض کی روایت، بعض کی تصدیق کرتی ہے ان تمام حضرات نے یہ بات بیان کی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بیان کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر پر روانہ ہونے لگتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کرتے تھے ان میں سے پہلے جس کے نام کا قرعہ نکل آتا تھا اسے اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگ پر جانے سے پہلے ہمارے درمیان قرعہ اندازی کی، تو میرے نام کا قرعہ نکل آیا، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہو گئی یہ حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد کی بات ہے مجھے میرے ہودج میں سوار کیا جاتا تھا میں اسی میں پڑاؤ کرتی تھی ہم لوگ سفر کر رہے تھے، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس غزوہ سے فارغ ہو کر واپسی کے لیے روانہ ہو گئے جب ہم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے (تو پڑاؤ کے دوران) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت روانگی کا اعلان کر دیا میں اٹھی اور چلتی ہوئی لشکر سے دور چلی گئی میں نے اپنی ضرورت کو پورا کیا پھر میں اپنے پالان کی طرف واپس آئی میں نے سینے پر ہاتھ پھیرا تو وہاں میرا پتھروں کا ہار موجود نہیں تھا میں واپس آئی اور اپنا ہار تلاش کرنے لگی اس کی تلاش نے مجھے روک لیا وہ لوگ آئے جو میرے ہودج کو اٹھا کر اونٹ پر رکھتے تھے انہوں نے میرے ہودج کو اٹھایا اور اونٹ کے اوپر رکھ دیا جس پر میں سوار ہوتی تھی وہ یہ سمجھے کہ میں ہودج کے اندر ہوں گی اس زمانے میں خواتین ہلکی پھلکی ہوتی تھیں وہ بھاری بھرکم نہیں ہوتی تھیں ان پر گوشت نہیں چڑھا ہوتا تھا وہ تھوڑا سا کھانا کھایا کرتی تھیں اس لیے جب ان لوگوں نے ہودج کو اٹھایا تو انہیں اس کے وزن میں کوئی تبدیلی محسوس نہیں ہوئی ان لوگوں نے اسے اٹھا لیا میں ایک لڑکی تھی جس کی عمر کم تھی ان لوگوں نے اونٹ کو اٹھایا اور روانہ ہو گئے۔ لشکر کے روانہ ہونے کے بعد مجھے اپنا ہار مل گیا میں پڑاؤ کی جگہ پر آئی تو وہاں کوئی موجود نہیں تھا میں اپنے پڑاؤ کی جگہ پر ہی ٹھہر گئی جہاں میں پہلے تھی میں نے یہ گمان کیا کہ عنقریب وہ مجھے غیر موجود پائیں گے تو میری طرف واپس آ جائیں گے۔ ابھی میں وہاں بیٹھی ہوئی تھی کہ میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گئی۔ صفوان بن معطل سلمی رضی اللہ عنہ لشکر کے پیچھے آ رہے تھے جب وہ صبح کے وقت میری رہائشی جگہ کے قریب پہنچے انہوں نے کسی سوئے ہوئے شخص کا ہیولیٰ دیکھا وہ حجاب سے پہلے مجھے دیکھ چکے تھے انہوں نے مجھے پہچان کر «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں“ پڑھا، تو میں بیدار ہو گئی میں نے اپنی چادر کے ذریعے اپنے چہرے کو ڈھانپ لیا اللہ کی قسم نہ تو انہوں نے کوئی بات کی اور نہ ہی میں نے ان کے «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» پڑھنے کے علاوہ کوئی اور کلمہ ان کی زبانی سنا۔ انہوں نے اپنی سواری کو بٹھایا اور میں اس پر سوار ہو گئی وہ میری سواری کو لے کر روانہ ہو گئے، یہاں تک کہ ہم لشکر کے پاس پہنچ گئے جنہوں نے دوپہر کے وقت پڑاؤ کیا ہوا تھا، تو (اس واقعہ کے حوالے سے) جس نے ہلاکت کا شکار ہونا تھا وہ ہلاکت کا شکار ہوا اور اس جھوٹے الزام میں جس نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا وہ عبداللہ بن ابی بن سلول تھا۔ ہم لوگ مدینہ منورہ آئے میں ایک ماہ تک بیمار رہی۔ لوگوں کے درمیان جھوٹا الزام لگانے والوں میں بات پھیل چکی تھی میری اس بیماری کے دوران ایک چیز مجھے شک میں مبتلا کرتی تھی وہ یہ کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے وہ مہربانی محسوس نہیں ہو رہی تھی جو پہلے میری بیماری کے دوران مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نظر آتی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لاتے سلام کرتے پھر دریافت کرتے: ”تمہارا کیا حال ہے؟“ لیکن مجھے اس جھوٹے الزام کے بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا میں کمزور ہو چکی تھی ایک دن میں اور ام مسطح «مَنَاصِع» ”قضائے حاجت کی جگہ“ کی طرف نکلیں وہ ہماری قضائے حاجت کرنے کی جگہ تھی ہم صرف رات کے وقت اس طرف جایا کرتی تھیں اس زمانے میں گھروں کے قریب بیت الخلا نہیں ہوتے تھے یہ اس سے پہلے کی بات ہے ہمارا معاملہ پہلے زمانے کے عربوں کی طرح تھا (یعنی ہم کھلی جگہ پر قضائے حاجت کرتے تھے) میں اور ام مسطح چلتے ہوئے آ رہے تھے اس کا پاؤں اپنی چادر میں الجھا تو اس نے کہا: مسطح برباد ہو جائے، میں نے اس سے کہا: تم نے بہت بری بات کہی ہے تم نے ایک ایسے شخص کو برا کہا ہے جو غزوہ بدر میں شریک ہو چکا ہے۔ اس نے کہا: اے بھولی عورت کیا تم نے وہ بات نہیں سنی جو لوگوں نے بیان کی ہے پھر اس عورت نے مجھے بتایا کہ جھوٹا الزام لگانے والوں نے کیا بات کی ہے، اس کے نتیجے میں میری بیماری میں اضافہ ہو گیا جب میں اپنے گھر واپس آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہارا کیا حال ہے؟“ میں نے عرض کی: آپ مجھے اجازت دیجیے کہ میں اپنے ماں باپ کے گھر چلی جاؤں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں اس وقت میں ان دونوں کی طرف سے یقینی خبر حاصل کرنا چاہتی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی میں اپنے ماں باپ کے گھر آئی اور اپنی والدہ سے کہا: لوگ کیا بات چیت کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: اے میری بیٹی تم پرسکون رہو! اللہ کی قسم جو عورت اپنے شوہر کے نزدیک محبوب ہو وہ شوہر اس سے محبت کرتا ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں، تو وہ اس سے زیادہ زیادتی کیا کرتی ہیں۔ میں نے کہا: سبحان اللہ کیا لوگ یہ بات کر رہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ وہ ساری رات میں نے یوں گزاری میرے آنسو تھمتے ہی نہیں تھے اور مجھے ذرا سی دیر کے لیے نیند نہیں آئی پھر صبح ہوئی۔ جب (چند دن تک اس بارے میں) وحی کا سلسلہ منقطع ہوا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو بلوایا تاکہ اپنی بیوی سے علیحدگی کے بارے میں ان دونوں سے مشورہ طلب کریں۔ اسامہ رضی اللہ عنہ نے تو اس بات کی طرف اشارہ کیا جو وہ جانتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اہلیہ سے کتنی محبت کرتے ہیں انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی اہلیہ کے بارے میں اللہ کی قسم ہمیں صرف بھلائی کا علم ہے البتہ علی رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ نے آپ کو کسی تنگی کا شکار نہیں کیا ان کے علاوہ بھی بہت سی خواتین ہیں تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنیز سے سوال کریں وہ آپ کے ساتھ سچ بیانی کرے گی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو بلوایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بریرہ! کیا تم نے اس میں کوئی ایسی چیز دیکھی جو تمہیں شک کا شکار کرے؟“ تو اس نے کہا: جی نہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں نے ان میں اگر کوئی چیز دیکھی ہے جس کے حوالے سے مجھے ان پر اعتراض ہو، تو وہ یہ ہے کہ وہ لڑکی ہیں ان کی عمر کم ہے آٹا گوندھ کر سو جاتی ہیں بکری آتی ہے اور اسے کھا لیتی ہے۔ اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (لوگوں کے درمیان خطبہ دینے کے لیے) کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی کی شکایت کرتے ہوئے کہا: ”اس حوالے سے کون مجھے معذور قرار دے گا جس کی پہنچائی ہوئی اذیت میری بیوی تک پہنچ گئی ہے اللہ کی قسم مجھے اپنی بیوی کے بارے میں صرف بھلائی کا علم ہے اور ان لوگوں نے جس شخص کا ذکر کیا ہے، اس کے بارے میں بھی مجھے صرف بھلائی کا علم ہے وہ میری بیوی کے گھر میں صرف میرے ساتھ ہی داخل ہوا“ اس پر سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم میں آپ کو اس کی طرف سے بدلہ دلاؤں گا اگر وہ شخص اوس قبیلے سے تعلق رکھتا ہے تو ہم اس کی گردن اڑا دیں گے اور اگر وہ ہمارے بھائی خزرج قبیلے سے تعلق رکھتا ہے تو آپ ہمیں حکم دیں ہم اس بارے میں آپ کے حکم کی فرمانبرداری کریں گے، تو سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے وہ ایک نیک آدمی تھے لیکن اس وقت قبائلی حمیت ان پر غالب آ گئی انہوں نے کہا: اللہ کی قسم تم غلط کہہ رہے ہو تم اسے قتل نہیں کرو گے اور نہ ہی تم ایسا کر سکتے ہو۔ اس پر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بولے: تم جھوٹ کہہ رہے ہو اللہ کی قسم ہم اس شخص کو ضرور قتل کریں گے تم ایک منافق ہو اور منافقوں کی طرف سے جھگڑا کر رہے ہو، تو اوس اور خزرج قبیلے کے درمیان جھگڑا ہو گیا، یہاں تک کہ انہوں نے (ہاتھا پائی) کا ارادہ کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت منبر پر موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خاموش کروانے کی کوشش کی، یہاں تک کہ وہ لوگ خاموش ہو گئے۔ میں نے وہ دن اس طرح گزارا کہ میرے آنسو تھمتے نہیں تھے مجھے ذرا سی دیر کے لیے نیند نہیں آئی صبح کے وقت میں اپنے ماں باپ کے ہاں موجود تھی میں رات بھر اور اس کے بعد اگلا پورا دن روتی رہی، یہاں تک کہ مجھے یوں لگتا تھا جیسے رونا میرے جگر کو چیر دے گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میرے والدین میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے میں رو رہی تھی کہ اسی دوران ایک انصاری خاتون نے اندر آنے کی اجازت مانگی میں نے اسے اجازت دی، تو وہ بھی بیٹھ کر میرے ساتھ رونے لگی، ابھی ہم اسی حالت میں تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے جب سے میرے بارے میں یہ بات کی گئی تھی اس کے بعد سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن سے پہلے کبھی میرے پاس اس طرح نہیں بیٹھے تھے ایک مہینہ گزر چکا تھا اس دوران میرے معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی وحی نازل نہیں ہوئی تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کلمہ شہادت پڑھا اور فرمایا: ”اے عائشہ! أَمَّا بَعْدُ، تمہارے بارے میں مجھ تک اس اس طرح کی بات پہنچی ہے، اگر تم بری الذمہ ہو تو اللہ تعالیٰ تمہاری برأت کا اظہار کر دے گا اور اگر تم نے برائی کا ارادہ کیا تھا تو تم اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو اس کی بارگاہ میں توبہ کرو کیونکہ جب بندہ اپنے گناہ کا اعتراف کر لے اور توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کرتا ہے“ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات مکمل کی، تو میرے آنسو تھم گئے، یہاں تک کہ مجھے آنسوؤں میں سے ایک قطرہ بھی محسوس نہیں ہوا میں نے اپنے والد سے کہا: میری طرف سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیجیے، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہوں۔ میں نے اپنی والدہ سے کہا: میری طرف سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیجیے انہوں نے کہا: اللہ کی قسم مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہوں، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں ایک لڑکی ہوں میری عمر زیادہ نہیں ہے مجھے قرآن بہت زیادہ نہیں آتا لیکن میں یہ کہتی ہوں کہ اللہ کی قسم مجھے اس بات کا پتہ ہے کہ آپ لوگوں نے وہ بات سنی جو لوگ بات کرتے ہیں اور وہ بات آپ کے ذہن میں پختہ ہو گئی ہے اور آپ نے اس کی تصدیق کر دی ہے میں آپ سے یہ کہوں کہ میں اس سے بری الذمہ ہوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں بری ہوں تو آپ میری اس بات کو سچ نہیں سمجھیں گے اور اگر میں آپ کے سامنے ایک ایسی چیز کے بارے میں اعتراف کر لوں، جو بات اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں، تو آپ اس بارے میں مجھے سچا سمجھیں گے، اللہ کی قسم اس بارے میں مجھے اپنے اور آپ کے بارے میں اس کے علاوہ اور کوئی مثال نہیں سوجھ رہی جو سیدنا یوسف علیہ السلام کے والد نے کہی تھی: ﴿فَصَبْرٌ جَمِيلٌ ۖ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ﴾ [سورة يوسف: 18] ”اب صبر ہی بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ سے ہی مدد مانگی جا سکتی ہے، اس چیز کے بارے میں جو تم بیان کر رہے ہو۔“ پھر میں اپنے بستر پر لیٹ گئی مجھے یہ امید تھی کہ اللہ تعالیٰ میری مدد کے بارے میں (حکم) نازل کر دے گا لیکن اللہ تعالیٰ کی قسم مجھے اس بات کا گمان نہیں تھا کہ میرے معاملے کے بارے میں وحی نازل ہو گی میرے خیال میں، میں اس بارے میں بہت حقیر ہوں کہ قرآن میں میرے معاملے میں کلام کیا جائے مجھے صرف یہ امید تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں کوئی ایسی چیز دیکھیں جو میری برأت کا اظہار کر دے گی، اللہ کی قسم ابھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اس جگہ سے اٹھے نہیں تھے اور گھر میں موجود لوگوں میں سے کوئی بھی شخص باہر نہیں گیا تھا اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونا شروع ہوئی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہی کیفیت طاری ہوئی جو وحی کے نزول کے وقت ہوتی ہے، یہاں تک کہ سخت سردی کے دن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی سے موتیوں کی طرح (پسینے کے قطرے) پھوٹ پڑتے تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔ سب سے پہلی بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہی: ”اے عائشہ! تم اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرو کیونکہ اس نے تمہیں بری قرار دے دیا ہے“ میری والدہ نے مجھ سے کہا: تم اٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، میں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم میں اٹھ کر ان کی طرف نہیں جاؤں گی اور میں صرف اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کروں گی، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ﴿إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنكُمْ﴾ [سورة النور: 11] ”بے شک تم میں سے ایک گروہ نے جو جھوٹا الزام لگایا۔“ جب اللہ تعالیٰ نے میری برأت کے بارے میں یہ حکم نازل کر دیا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جو مسطح کے ساتھ اپنی رشتے داری کی وجہ سے اسے خرچ دیا کرتے تھے انہوں نے یہ کہا: اللہ کی قسم! مسطح نے عائشہ کے بارے میں جو کچھ کہا ہے اس کے بعد اب میں کبھی اس پر کچھ خرچ نہیں کروں گا تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی۔ ﴿وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنكُمْ وَالسَّعَةِ أَن يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۖ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ [سورة النور: 22] ”تم میں سے فضیلت اور گنجائش رکھنے والے لوگ یہ قسم نہ اٹھائیں... اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری مغفرت کرے، تو پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دوبارہ مسطح کی اسی طرح مدد کرنا شروع کر دی، جس طرح پہلے کیا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے میرے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی سماعت اور بصارت کو محفوظ قرار دیتی ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: وہ میرے مقابلے کی دعوے دار تھیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی پرہیزگاری کی وجہ سے انہیں (جھوٹا الزام لگانے سے) محفوظ رکھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7099]

7102

Sahih Ibn Hibban #7102

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ الْقُطَيْعِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا أُنْزِلَ عُذْرِي مِنَ السَّمَاءِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبْشِرِي فَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عُذْرَكِ "، قُلْتُ : بِحَمْدِ اللَّهِ لا بِحَمْدِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میرے بری الذمہ ہونے کے بارے میں آسمان سے حکم نازل ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے خوشخبری ہے، اللہ تعالیٰ نے تمہارے بری الذمہ ہونے کے بارے میں حکم نازل کر دیا ہے“، تو میں نے کہا: میں اللہ کی حمد بیان کرتی ہوں، آپ کی حمد بیان نہیں کرتی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7102]

7103

Sahih Ibn Hibban #7103

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أُمَّ رُومَانَ ، وَهِيَ أُمُّ عَائِشَةَ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَوْ قِيلَ لَهَا : مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عُذْرَهَا ؟ يَعْنِي عَائِشَةَ ، قَالَتْ : بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ عَائِشَةَإِذْ دَخَلَتْ عَلَيْنَا امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، وَإِذَا هِيَ تَقُولُ : فَعَلَ اللَّهُ بِفُلانٍ كَذَا ، فَقَالَتْ : لِمَ ؟ قَالَتْ : لأَنَّهُ كَانَ فِيمَنْ حَدَّثَ الْحَدِيثَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : فَأَيُّ حَدِيثٍ ؟ فَأَخْبَرْتُهَا ، قَالَتْ : فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو بَكْرٍ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، فَخَرَّتْ مَغْشِيًّا عَلَيْهَا ، فَمَا أَفَاقَتْ إِلا وَعَلَيْهَا حُمَّى نَافِضٌ ، قَالَتْ : فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ " ، قَالَتْ : فَقُلْنَا : حُمَّى أَخَذَتْهَا ، قَالَ : " فَلَعَلَّهُ مِنْ أَجْلِ حَدِيثٍ تُحَدِّثَ بِهِ " ، قَالَتْ : فَقَعَدَتْ ، فَقَالَتْ : وَاللَّهِ لَئِنْ حَلَفْتُ لا تُصَدِّقُونِي ، وَلَئِنِ اعْتَذَرْتُ لا تَعْذِرُونِي ، فَمَثَلِي وَمَثَلُكُمْ مِثْلُ يَعْقُوبَ وَبَنِيهِ : وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ ، قَالَتْ : وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ مَا أَنْزَلَ فَأَخْبَرَهَا ، فَقَالَتْ : بِحَمْدِ اللَّهِ لا بِحَمْدِ أَحَدٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسروق بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا، جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ تھیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) اس خاتون سے دریافت کیا گیا: اللہ تعالیٰ نے ان کے یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بری الذمہ ہونے کے بارے میں کیا نازل کیا؟ تو سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے بتایا: میں عائشہ کے پاس بیٹھی ہوئی تھی اسی دوران ایک انصاری عورت ہمارے پاس آئی وہ یہ کہہ رہی تھی: اللہ تعالیٰ فلاں کے ساتھ اس طرح کرے (یعنی اس کو بددعا دے رہی تھی)، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: ”تم نے یہ کیوں کہا ہے؟“ اس نے جواب دیا: اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے وہ بات کہی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: ”کون سی بات؟“ تو میں نے عائشہ کو اس بارے میں بتایا، انہوں نے دریافت کیا: ”کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی ہے؟“ سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: جی ہاں، تو عائشہ گر پڑیں اور ان پر بے ہوشی طاری ہو گئی، جب انہیں ہوش آیا تو انہیں انتہائی تیز بخار تھا۔ سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ نے دریافت کیا: ”اسے کیا ہوا ہے؟“ ہم نے عرض کی: اسے بخار ہو گیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید یہ اس بات کی وجہ سے ہوا ہے جو اس کے بارے میں کی جا رہی ہے۔“ سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ عائشہ بیٹھ گئیں اور انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر میں قسم اٹھا لوں (کہ میں بری الذمہ ہوں) تو آپ مجھے سچا قرار نہیں دیں گے اور اگر میں بری الذمہ ہونے کا اظہار کروں تو آپ میرا عذر قبول نہیں کریں گے، میری اور آپ کی مثال اسی طرح ہے جیسے سیدنا یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں کی تھی: ﴿وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ﴾ [سورة يوسف: 18] ”اور اللہ ہی سے مدد لی جا سکتی ہے اس پر جو تم بیان کر رہے ہو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ پھر اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کچھ نازل کرنا تھا نازل کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس بارے میں بتایا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اللہ کی حمد بیان کروں گی، کسی دوسرے کی حمد بیان نہیں کروں گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7103]

7104

Sahih Ibn Hibban #7104

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُصْعَبُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : جَلَسَ إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً ، فَتَعَاهَدْنَ وَتَعَاقَدْنَ أَنْ لا يَكْتُمْنَ مِنْ أَخْبَارِ أَزْوَاجِهِنَّ شَيْئًا ، قَالَتِ الأُولَى : زَوْجِي لَحْمُ جَمَلٍ غَثٍّ ، عَلَى رَأْسِ جَبَلٍ ، لا سَهْلٌ فَيُرْتَقَى ، وَلا سَمِينٌ فَيُنْتَقَلُ ، وَقَالَتِ الثَّانِيَةُ : زَوْجِي لا أَبُثُّ خَبَرَهُ ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ لا أَذَرَهُ ، إِنْ أَذْكُرْهُ أَذْكُرْ عُجَرَهُ وَبُجَرَهُ ، وَقَالَتِ الثَّالِثَةُ : زَوْجِيَ الْعَشَنَّقُ إِنْ أَنْطِقْ أُطَلَّقْ ، وَإِنْ أَسْكُتْ أُعَلَّقْ ، وَقَالَتِ الرَّابِعَةُ : زَوْجِي كَلَيْلِ تِهَامَةَ لا حَرٌّ ، وَلا قُرٌّ ، وَلا مَخَافَةَ ، وَلا سَآمَةَ ، وَقَالَتِ الْخَامِسَةُ : زَوْجِي إِنْ دَخَلَ فَهِدَ ، وَإِنْ خَرَجَ أَسِدَ ، وَلا يَسْأَلُ عَمَّا عَهِدَ ، وَقَالَتِ السَّادِسَةُ : زَوْجِي إِنْ أَكَلَ لَفَّ ، وَإِنْ شَرِبَ اشْتَفَّ ، وَإِنِ اضْطَجَعَ الْتَفَّ ، وَلا يُولِجُ الْكَفَّ ، لِيَعْلَمَ الْبَثَّ ، وَقَالَتِ السَّابِعَةُ : زَوْجِي غَيَايَاءُ ، أَوْ عَيَايَاءُ طَبَاقَاءُ ، كُلُّ دَاءٍ لَهُ دَاءٌ شَجَّكِ ، أَوْ فَلَّكِ ، أَوْ جَمَعَ كَلا لَكِ ، وَقَالَتِ الثَّامِنَةُ : زَوْجِي الْمَسُّ مَسُّ أَرْنَبٍ ، وَالرِّيحُ رِيحُ زَرْنَبٍ ، قَالَتِ التَّاسِعَةُ : زَوْجِي رُفَيْعُ الْعِمَادِ طَوِيلُ النِّجَادِ ، عَظِيمُ الرَّمَادِ ، قَرِيبُ الْبَيْتِ مِنَ النَّادِ ، قَالَتِ الْعَاشِرَةُ : زَوْجِي مَالِكٌ ، فَمَا مَالِكٌ ؟ مَالِكٌ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ ، لَهُ إِبِلٌ كَثِيرَاتُ الْمَبَارِكِ ، قَلِيلاتُ الْمَسَارِحِ ، إِذَا سَمِعْنَ أَصْوَاتَ الْمَزَاهِرِ ، أَيْقَنَّ أَنَّهُنَّ هَوَالِكُ ، قَالَتِ الْحَادِيَةُ عَشْرَةَ : زَوْجِي أَبُو زَرْعٍ ، وَمَا أَبُو زَرْعٍ ؟ أَنَاسَ مِنْ حُلِيِّ أُذُنِي ، وَمَلأَ مِنْ شَحْمِ عَضُدَيَّ ، فَبَجَّحَنِي فَبَجِحَتُ إِلَى نَفْسِي ، وَجَدَنِي فِي أَهْلِ غُنَيْمَةٍ بِشَقٍّ ، فَجَعَلَنِي فِي أَهْلِ صَهِيلٍ ، وَأَطِيطٍ ، وَدَائِسٍ ، وَمُنَقٍّ ، فَعِنْدَهُ أَقُولُ فَلا أُقَبَّحُ ، وَأَرْقُدُ فَأَتَصَبَّحُ ، وَأَشْرَبُ فَأَتَقَمَّحُ ، أُمُّ أَبِي زَرْعٍ ، فَمَا أُمُّ أَبِي زَرْعٍ ؟ عُكُومُهَا رَدَاحٌ ، وَبَيْتُهَا فَسَاحٌ ، ابْنُ أَبِي زَرْعٍ ، فَمَا ابْنُ أَبِي زَرْعٍ ؟ مَضْجَعُهُ كَمَسَلِّ شَطْبَةٍ ، وَيُشْبِعُهُ ذِرَاعُ الْجَفْرَةِ ، وَابْنَةُ أَبَى زَرْعٍ ، فَمَا ابْنَةُ أَبِي زَرْعٍ ؟ طَوْعُ أَبِيهَا ، وَطَوْعُ أُمِّهَا وَمِلْءُ كِسَائِهَا ، وَغَيْظُ جَارَتِهَا ، جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ ، فَمَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ ؟ لا تَبُثُّ حَدِيثَنَا تَبْثِيثًا ، وَلا تُنَقِّثُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا ، وَلا تَمْلأُ بَيْتَنَا تَعْشِيشًا ، قَالَتْ : خَرَجَ أَبُو زَرْعٍ ، وَالأَوْطَابُ تُمْخَضُ ، فَلَقِيَ امْرَأَةً مَعَهَا وَلَدَانِ لَهَا كَالْفَهْدَيْنِ يَلْعَبَانِ مِنْ تَحْتِ خَصْرِهَا بِرُمَّانَتَيْنِ ، فَطَلَّقَنِي وَنَكَحَهَا ، فَنَكَحْتُ بَعْدَهُ رَجُلا سَرِيًّا ، رَكِبَ شَرِيًّا ، وَأَخَذَ خَطِّيًّا ، وَأَرَاحَ عَلَيَّ نَعَمًا ثَرِيًّا ، وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ رَائِحَةٍ زَوْجًا ، وَقَالَ : كُلِي أُمَّ زَرْعٍ وَمِيرِي أَهْلَكِ ، فَلَوْ جَمَعْتُ كُلَّ شَيْءٍ أَعْطَانِيهِ مَا بَلَغَ أَصْغَرَ آنِيَةِ أَبِي زَرْعٍ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" كُنْتُ لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لأُمِّ زَرْعٍ "، قَالَ هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، سَأَلْتُ عِيسَى بْنَ يُونُسَ ، عَنِ الدَّائِسِ ، فَقَالَ : هُوَ الأَنْدَرُ ، وَالْمُنَق ْالغِرْبَالُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ گیارہ عورتیں بیٹھیں، انہوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ وہ اپنے شوہروں کی باتوں کے بارے میں کچھ نہیں چھپائیں گی۔ پہلی عورت نے کہا: میرا شوہر دشوار گزار پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہوا اونٹ کا گوشت ہے، نہ تو وہ پہاڑ اتنا آسان ہے کہ اس پر چڑھا جا سکے اور نہ گوشت اتنا موٹا تازہ ہے کہ اسے منتقل کرنے کی کوشش کی جا سکے۔ دوسری عورت نے کہا: میرا شوہر ایسا ہے کہ میں اس کے بارے میں اطلاع کو پھیلا نہیں سکتی کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اگر میں اس کا ذکر کروں گی تو اس کی کوئی بھی بات نہیں چھوڑوں گی، اس کی ہر خوبی و خامی بیان کر دوں گی۔ تیسری عورت نے کہا: میرا شوہر بے وقوف ہے، اگر میں بات کروں تو مجھے طلاق دے دی جائے اور اگر خاموش رہوں تو میں لٹکی رہوں۔ چوتھی نے کہا: میرا شوہر تہامہ کی رات کی طرح ہے، نہ تو گرم ہے نہ ہی ٹھنڈا ہے، نہ ہی خوف زدہ کرنے والا ہے اور نہ ہی افسوس کرنے والا ہے۔ پانچویں نے کہا: میرا شوہر اگر اندر آئے تو چیتا ہے اور اگر باہر جائے تو شیر ہے، وہ اس چیز کے بارے میں سوال نہیں کرتا جو اس نے عہد لیا (یعنی جو ہدایت کی تھی یا کام کہا تھا)۔ چھٹی نے کہا: میرا شوہر ایسا ہے، اگر کھائے تو سب کھا جاتا ہے، اگر پیے تو سب پی جاتا ہے، اگر لیٹے تو سویا رہتا ہے اور وہ اپنا ہاتھ (لحاف کے اندر) داخل نہیں کرتا تاکہ اسے میری بے چینی کا احساس ہو۔ ساتویں نے کہا: میرا شوہر صحبت نہیں کر سکتا اور بے وقوف ہے، ہر طرح کی بیماری اسے لاحق ہے، وہ تمہیں زخمی بھی کر سکتا ہے اور تمہارا (کوئی عضو) توڑ بھی سکتا ہے اور تمہیں دونوں طرح سے تکلیف بھی پہنچا سکتا ہے۔ آٹھویں نے کہا: میرا شوہر چھونے میں (خرگوش کی طرح نرم ہے) اور اس کی خوشبو «زَرْنَب» ”زرنب“ کی طرح عمدہ ہے۔ نویں عورت نے کہا: میرا شوہر بلند ستونوں والا ہے، طویل محفل والا ہے، زیادہ راکھ والا ہے اور اس کا گھر چوپال کے قریب ہے۔ دسویں عورت نے کہا: میرا شوہر مالک ہے، مالک کی کیا بات کروں؟ مالک اس سے زیادہ بہتر ہے (یعنی میں اس کے بارے میں جو بھی کہوں اس سے زیادہ بہتر ہے)، اس کے پاس بہت سے اونٹ ہیں، جو باڑے میں بیٹھے رہتے ہیں، وہ چراگاہ کی طرف کم جاتے ہیں، جب وہ باجوں کی آواز سنتے ہیں تو انہیں یقین ہو جاتا ہے اب ان کی موت کا وقت آ گیا ہے۔ گیارہویں عورت نے کہا: میرا شوہر ابوزرع ہے، ابوزرع کی کیا بات کہوں! اس نے زیورات سے میرے کان لٹکا دیے ہیں اور میرے بازو چربی سے بھر دیے ہیں، اس نے مجھے اتنا خوش کیا اور اتنی خوشیاں دیں کہ میں یہ بھول گئی کہ اس نے مجھے چند بکریوں والوں کے پاس پایا تھا اور پھر مجھے ایک ایسے گھرانے میں لے آیا جہاں گھوڑے، اونٹ، بیل اور کسان موجود تھے، اس کے گھر میں اگر میں کچھ کہتی تو مجھے برا نہیں کہا جاتا اور اگر میں سوتی تو صبح کر دیتی اور اگر پیتی تو سیر ہو جاتی۔ ابوزرع کی ماں، ابوزرع کی ماں کے کیا کہنے! اس کے بڑے برتن ہمیشہ بھرے رہتے ہیں اور اس کا گھر کشادہ ہے۔ ابوزرع کا بیٹا، ابوزرع کے بیٹے کے کیا کہنے! اس کا بستر نرم اور نازک ہے اور وہ دبلا پتلا سا ہے، بکری کے بچے کی دستی اس کا پیٹ بھر دیتی ہے۔ ابوزرع کی بیٹی، ابوزرع کی بیٹی کے کیا کہنے! اپنے باپ کی فرمانبردار، اپنی ماں کی فرمانبردار، بھاری بھرکم جسم کی مالک اور اپنی پڑوسن کے لیے تاؤ دلانے والی شخصیت۔ ابوزرع کی کنیز، ابوزرع کی کنیز کے کیا کہنے! وہ ہماری باتیں باہر بیان نہیں کرتی اور ہماری اجازت کے بغیر کھانے کی کوئی چیز نہیں کھاتی اور ہمارے گھر میں گندگی اکٹھی نہیں ہونے دیتی۔ اس عورت نے بتایا: ایک دن ابوزرع باہر نکلا، اس وقت برتنوں میں دودھ دوہا جا رہا تھا، ابوزرع کی ملاقات ایک عورت سے ہوئی جس کے ساتھ اس کے دو بچے بھی تھے جو دو چیتوں کی مانند تھے، وہ اس کے پہلو کے نیچے دو اناروں کے ساتھ کھیل رہے تھے، تو ابوزرع نے مجھے طلاق دے دی اور اس عورت کے ساتھ شادی کر لی۔ ابوزرع کے بعد میں نے ایک ایسے شخص کے ساتھ شادی کی جو سردار تھا، شہسوار تھا، سپاہی تھا، اس نے مجھے بہت سی نعمتیں عطا کیں، اس نے مجھے ہر طرح کی نعمت کا جوڑا دیا اور کہا: ام زرع تم کھاؤ اور اپنے میکے والوں کو بھی بھیجو۔ اس نے مجھے جو کچھ دیا اگر میں اس سب کو جمع کروں تو پھر بھی یہ ابوزرع کے چھوٹے برتن تک نہیں پہنچتا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”میں تمہارے لیے اسی طرح ہوں، جس طرح ابوزرع ام زرع کے لیے تھا۔“ ہشام بن عمار کہتے ہیں: میں نے عیسیٰ بن یونس سے دریافت کیا: (اس روایت میں استعمال ہونے والے لفظ) «دَأْس» ”دأس“ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: «وَائِس» ”وائس“ سے مراد ”اندر“ ہے اور «مُنَقّ» ”منق“ سے مراد چھلنی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7104]

7105

Sahih Ibn Hibban #7105

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ : اجْتَمَعَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْسَلْنَ فَاطِمَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْنَ لَهَا : قُولِي لَهُ : إِنَّنِسَاءَكَ قَدِ اجْتَمَعْنَ إِلَيَّ ، وَهُنَّ يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي بِنْتِ أَبِي قُحَافَةَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَدَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَعِي فِي مِرْطٍ ، فَقَالَتْ لَهُ : إِنَّ نِسَاءَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ وَقَدِ اجْتَمَعْنَ وَهُنَّ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي بِنْتِ أَبِي قُحَافَةَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتُحِبِّينِي ؟ " ، قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَأَحِبِّيهَا " ، فَرَجَعَتْ إِلَيْهِنَّ فَأَخْبَرَتْهُنَّ بِمَا قَالَ لَهَا ، فَقُلْنَ : إِنَّكِ لَمْ تَصْنَعِي شَيْئًا ، فَارْجِعِي إِلَيْهِ ، فَقَالَتْ : لا واللَّهِ ، لا أَرْجِعُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبَدًا ، وَكَانَتْ بِنْتُ أَبِيهَا حَقًّا ، فَأَرْسَلْنَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ بَيْنَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ ، وَهُنَّ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي بِنْتِ أَبِي قُحَافَةَ ، ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيَّ ، فَشَتَمَتْنِي ، فَسَكَتُّ أُرَاقِبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنْظُرُ إِلَى طَرْفِهِ ، هَلْ يَأْذَنُ لِي أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهَا ؟ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ ، فَشَتَمَتْنِي حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لا يَكْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهَا ، فَاسْتَقْبَلْتُهَا ، فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ أَفْحَمْتُهَا ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : وَلَمْ أَرَ امْرَأَةً قَطُّ أَكْثَرَ خَيْرًا ، وَأَكْثَرَ صَدَقَةً ، وَأَوْصَلَ لِلرَّحِمِ ، وَأَبْذَلَ لِنَفْسِهَا فِي شَيْءٍ تَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ جَلَّ وَعَلا مِنْ زَيْنَبَ مَا عَدَا سُورَةً مِنْ غَرْبِ حِدَّةٍ كَانَ فِيهَا يُوشِكُ مِنْهَا الْفَيْئَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج اکٹھی ہوئیں اور انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، ان خواتین نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یہ کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہنا: آپ کی بیویاں میرے پاس اکٹھی ہو کر آئیں وہ آپ سے یہ مطالبہ کر رہی تھیں کہ آپ ابوقحافہ کی صاحب زادی (یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) کے بارے میں انصاف سے کام لیجئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ لحاف میں موجود تھے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ گزارش کی کہ آپ کی ازواج نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے وہ اکٹھی ہوئی تھیں اور انہوں نے آپ کو یہ واسطہ دیا ہے کہ آپ ابوقحافہ کی صاحب زادی کے بارے میں انصاف سے کام لیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم مجھ سے محبت کرتی ہو؟“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اس سے (یعنی عائشہ سے) محبت کرو۔“ تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ان خواتین کے پاس واپس گئیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جو فرمایا تھا اس کے بارے میں انہیں بتایا، تو ان خواتین نے کہا: آپ نے کچھ نہیں کیا آپ دوبارہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! اب میں اس بارے میں کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دوبارہ نہیں جاؤں گی۔ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں) وہ واقعی اپنے والد کی صاحب زادی تھیں، پھر ان ازواج نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو بھیجا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے یہ وہ خاتون تھیں جو میرے مقابلے کی دعوے دار تھیں، انہوں نے کہا: آپ کی ازواج نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے، انہوں نے ابوقحافہ کی صاحب زادی کے بارے میں انصاف کرنے کی گزارش کی ہے، پھر وہ خاتون میری طرف متوجہ ہوئیں انہوں نے مجھے برا کہنا شروع کیا، میں خاموش رہی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جائزہ لیتی رہی، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھتی رہی کہ کیا آپ مجھے اجازت دیں گے کہ میں انہیں جواب دوں؟ لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بات نہیں کی، وہ مسلسل مجھے برا کہتی رہیں، یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ اگر اب میں نے ان کا جواب دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ برا نہیں لگے گا، میں ان کے سامنے آئی اور تھوڑی ہی دیر میں، میں نے انہیں خاموش کروا دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”یہ ابوبکر کی بیٹی ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے کبھی ایسی کوئی عورت نہیں دیکھی جو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے زیادہ بھلائی کرنے والی ہو، زیادہ صدقہ و خیرات کرنے والی ہو، زیادہ صلہ رحمی کرنے والی ہو اور اپنے آپ کو ایسے اعمال میں زیادہ مصروف رکھنے والی ہو جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جا سکتا ہے، البتہ یہ ہے کہ ان کے مزاج میں کچھ تیزی تھی لیکن وہ اس بارے میں جلد رجوع بھی کر لیا کرتی تھیں (یعنی اپنی غلطی تسلیم کر لیتی تھیں)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7105]

7106

Sahih Ibn Hibban #7106

أَخْبَرَنَا ابن خزيمة ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : عَائِشَةُ " ، فَقُلْتُ : إِنِّي لَسْتُ أَعْنِي النِّسَاءَ إِنَّمَا أَعْنَى الرِّجَالَ ، فَقَالَ : " أَبُو بَكْرٍ "، أَوْ قَالَ : " أَبُوهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ“ میں نے عرض کی: میں آپ کی ازواج مراد نہیں لے رہا، میری مراد مرد ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے والد“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7106]

7107

Sahih Ibn Hibban #7107

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :مَنْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : عَائِشَةُ " ، قِيلَ لَهُ : لَيْسَ عَنْ أَهْلِكِ نَسْأَلُكَ ، قَالَ : " فَأَبُوهَا"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ۔“ عرض کی گئی: ہم نے آپ سے آپ کی ازواج کے بارے میں دریافت نہیں کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا والد۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7107]

7108

Sahih Ibn Hibban #7108

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِي ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : جَاءَ عَائِشَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا ، قَالَتْ : لا حَاجَةَ لِي بِهِ ، قَالَ عَبْدُ الرَّ14873حْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ : إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ صَالِحِي بَنِيكِ ، جَاءَكِ يَعُودُكِ ، قَالَتْ : فَأْذَنْ لَهُ ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : يَا أُمَّاهُ ، أَبْشِرِي فَوَاللَّهِ مَا بَيْنَكِ وَبَيْنَ أَنْ تَلْقَيْ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالأَحِبَّةَ إِلا أَنْ تُفَارِقَ رُوحُكِ جَسَدَكِ ، كُنْتِأَحَبَّ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ ، وَلَمْ يَكُنْ يُحِبُّ رَسُولُ اللَّهِ إِلا طَيْبَةً ، قَالَتْ : وَأَيْضًا ، قَالَ : هَلَكَتْ قِلادَتُكِ بِالأَبْوَاءِ ، فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَجِدُوا مَاءً ، فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا ، فَكَانَ ذَلِكَ بِسَبَبِكِ وَبَرَكَتِكِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ لِهَذِهِ الأُمَّةِ مِنَ الرُّخْصَةِ ، فَكَانَ مِنْ أَمْرِ مِسْطَحٍ مَا كَانَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ بَرَاءَتَكِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَاوَاتٍ ، فَلَيْسَ مَسْجِدٌ يُذْكَرُ فِيهِ اللَّهُ إِلا وَشَأْنُكِ يُتْلَى فِيهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ ، فَقَالَتْ : يَا ابْنَ عَبَّاسٍ دَعْنِي مِنْكَ وَمِنْ تَزْكِيَتِكَ ، فَوَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھے ان سے ملاقات کی ضرورت نہیں ہے۔ سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما نے عرض کی: ابن عباس رضی اللہ عنہما آپ کے نیک بیٹوں میں سے ایک ہیں، وہ آپ کی عیادت کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے ہیں، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں اجازت دے دی، وہ اندر آئے اور انہوں نے کہا: اے امی جان! آپ کے لیے خوشخبری ہے، اللہ تعالیٰ کی قسم! آپ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات اور دیگر محبوب لوگوں سے آپ کی ملاقات کے درمیان صرف اتنا فاصلہ رہ گیا ہے کہ آپ کی روح آپ کے جسم سے جدا ہو جائے، آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صرف کسی پاکیزہ چیز سے ہی محبت کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: (اور بھی میرے اندر کوئی خوبی ہے؟) تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کی: ابواء کے مقام پر آپ کا ہار گم ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی، تو لوگوں کو پانی نہیں ملا، تو انہوں نے پاکیزہ مٹی کے ذریعے تیمم کر لیا، یہ آپ کے سبب اور آپ کی برکت کی وجہ سے تھا، اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے یہ رخصت نازل کی، پھر مسطح کا جو معاملہ تھا وہ بھی تھا، اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے آپ کی برأت کا حکم نازل کیا، کوئی بھی مسجد ایسی نہیں ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہو، اس میں آپ کے معاملے سے متعلق آیات کی تلاوت بھی رات دن کی جائے گی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے ابن عباس! تم میری اتنی تعریفیں نہ کرو، اللہ کی قسم! میری تو یہ خواہش ہے کہ کاش میں ﴿نَسْيًا مَنْسِيًّا﴾ [سورة مريم: 23] ”کوئی بھولی بسری چیز“ ہوتی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7108]