Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 62 · Chapter 2

The Book of Divination and Magic

Hadith 7032–7072

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

7032

Sahih Ibn Hibban #7032

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَلافُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ وَجِنَازَةُ سَعْدٍ مَوْضُوعَةٌ : اهْتَزَّ لَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ " ، فَطَفِقَ الْمُنَافِقُونَ فِي جِنَازَتِهِ ، وَقَالُوا : مَا أَخَفَّهَا ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِِنَّمَا كَانَتْ تَحْمِلُهُ الْمَلائِكَةُ مَعَهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، جبکہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا جنازہ رکھا ہوا تھا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): ”اس کے لیے رحمن کا عرش جھوم اٹھا ہے۔“ منافقین نے ان کے جنازے کے بارے میں یہ کہنا شروع کیا کہ یہ کتنا ہلکا ہے، اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کے ساتھ اسے فرشتوں نے اٹھایا ہوا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7032]

7033

Sahih Ibn Hibban #7033

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ بِدِمَشْقَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، وَيَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَعْدٍ : هَذَا الرَّجُلُ الصَّالِحُ الَّذِي فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ شُدِّدَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ فُرِّجَ عَنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ”یہ وہ نیک شخص ہے جس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے، اس پر (قبر میں) تنگی کی گئی، لیکن پھر اس کو کشادگی عطا کر دی گئی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7033]

7034

Sahih Ibn Hibban #7034

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَهُ يَعْنِي سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فَاحْتَبَسَ ، فَلَمَّا خَرَجَ ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا حَبَسَكَ ؟ قَالَ : ضُمَّ سَعْدٌ فِي الْقَبْرِ ضَمَّةً ، فَدَعَوْتُ اللَّهَ فَكَشَفَ عَنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی قبر میں یعنی سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی قبر میں داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر وہاں ٹھہرے رہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے تو عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کیوں ٹھہرے رہے تھے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سعد کو قبر میں بھینچا گیا، میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اس نے انہیں کشادگی عطا کی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7034]

7035

Sahih Ibn Hibban #7035

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : لَبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبًا مِنْ حَرِيرٍ " ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْمَسُونَهُ وَيَعْجَبُونَ مِنْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَتَعَجَّبُونَ مِنْهُ ،مَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم کا بنا ہوا کپڑا پہنا، لوگوں نے اسے چھو کر اسے پسند کرنا شروع کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے پسند کر رہے ہو؟ جنت میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے رومال اس سے زیادہ بہتر ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7035]

7036

Sahih Ibn Hibban #7036

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو إِِسْحَاقَ ، سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبِ حَرِيرٍ ، فَجَعَلُوا يَلْمَسُونَهُ وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْ لِينِهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَلْيَنُ مِنْ هَذَا، أَوْ خَيْرٌ مِنْ هَذَا " ، قَالَ شُعْبَةُ : وَحَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ هَذَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریشمی کپڑا لایا گیا، لوگ اسے چھونے لگے اور اس کی نرمی پر حیران ہونے لگے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ نرم (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) اس سے زیادہ بہتر ہیں۔“ شعبہ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، یہی روایت قتادہ نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند نقل کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7036]

7037

Sahih Ibn Hibban #7037

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ ابْنِ مَالِكٍ ، فَقَالَ لِي : مَنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : أَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ : إِِنَّكَ بِسَعْدٍ لَشَبِيهٌ ، ثُمَّ بَكَى فَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ ، قَالَ : رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى سَعْدٍ ، كَانَ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ وَأَطْوَلِهِمْ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا إِِلَى أُكَيْدِرِ دُومَةَ ، فَأَرْسَلَ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ مَنْسُوجٌ فِيهَا الذَّهَبُ ، فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، فَقَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ أَوْ جَلَسَ ، فَلَمْ يَتَكَلَّمْ ، ثُمَّ نَزَلَ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْمَسُونَ الْجُبَّةَ ، وَيَنْظُرُونَ إِِلَيْهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَعْجَبُونَ مِنْهَا ؟ قَالُوا : مَا رَأَيْنَا ثَوْبًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِمَّا تَرَوْنَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

واقد بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ ہوں، تو انہوں نے فرمایا: تمہاری سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ مشابہت ہے، پھر وہ رونے لگے اور بہت زیادہ روئے، انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ پر رحمت کرے، وہ بڑے بھاری بھرکم اور طویل قامت تھے، پھر سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دومہ (کے حکمران) اکیدر کی طرف لشکر روانہ کیا، تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ریشم سے بنا ہوا ایک جبہ بھیجا جس میں سونا بھرا ہوا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) منبر پر بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بات چیت نہیں کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترے، لوگ اس جبے کو چھونے لگے اور اس کی طرف دیکھنے لگے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ اچھا لگ رہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہم نے اس سے زیادہ عمدہ کپڑا کبھی نہیں دیکھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ خوبصورت ہیں، جو تم دیکھ رہے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7037]

7038

Sahih Ibn Hibban #7038

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ سَوَاءٍ ، حَدَّثَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُكَيْدِرَ دُومَةَ أَهْدَى إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةَ سُنْدُسٍ ، فَلَبِسَهَا وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُحَرَّمَ الْحَرِيرُ " ، فَتَعَجَّبَ النَّاسُ مِنْ حُسْنِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ أَحْسَنُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دومہ (کے حکمران) اکیدر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریشم سے بنا ہوا جبہ بھیجا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہنا، یہ ریشم کے حرام قرار دیے جانے سے پہلے کی بات ہے۔ لوگ اس کی خوبصورتی سے حیران ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ خوبصورت ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7038]

7039

Sahih Ibn Hibban #7039

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً عَيْنًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ ، فَانْطَلَقُوا ، حَتَّى إِِذَا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ بَيْنَ عُسْفَانَ وَمَكَّةَ نُزُولا ، فَذُكِرُوا لِحَيٍّ مِنْ هُذَيْلٍ ، يُقَالُ لَهُمْ : بَنُو لِحْيَانَ ، فَاتَّبَعُوهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ ، فَاقْتَصُّوا آثَارَهُمْ ، حَتَّى نَزَلُوا مَنْزِلا نَزَلُوهُ ، فَوَجَدُوا فِيهِ نَوَى تَمْرٍ مِنْ تَمْرِ الْمَدِينَةِ ، فَقِيلَ : هَذَا مِنْ تَمْرِ أَهْلِ يَثْرِبَ ، فَاتَّبَعُوا آثَارَهُمْ حَتَّى لَحِقُوهُمْ ، فَلَمَّا آنَسَهُمْ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَصْحَابُهُ لَجَئُوا إِِلَى فَدْفَدٍ ، وَجَاءَ الْقَوْمُ فَأَحَاطُوا بِهِمْ ، فَقَالُوا : لَكُمُ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ إِِنْ نَزَلْتُمْ إِِلَيْنَا أَنْ لا نَقْتُلَ مِنْكُمْ رَجُلا ، فَقَالَ عَاصِمٌ : أَمَّا أَنَا فَلا أَنْزِلُ فِي ذِمَّةِ قَوْمٍ كَافِرِينَ ، اللَّهُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا رَسُولَكَ ، فَقَاتَلُوهُمْ فِي بُيُوتِهِمْ حَتَّى قَتَلُوا عَاصِمًا فِي سَبْعَةِ نَفَرٍ ، وَبَقِيَ خُبَيْبُ بْنُ عَدِيٍّ وَزَيْدُ بْنُ الدَّثِنَةِ وَرَجُلٌ آخَرُ ، فَأَعْطَوْهُمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ أَنْ يَنْزِلُوا إِِلَيْهِمْ ، فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوا مِنْهُمْ حَلُّوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ ، فَرَبَطُوهُمْ بِهَا ، فَنَادَى الرَّجُلُ الثَّالِثُ الَّذِي مَعَهُمَا ، هَذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ ، فَأَبَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ ، فَجَرُّوهُ ، فَأَبَى أَنْ يَتَّبِعَهُمْ ، وَقَالَ : لِي فِي هَؤُلاءِ أُسْوَةٌ ، فَضَرَبُوا عُنُقَهُ ، وَانْطَلَقُوا بِخُبَيْبِ بْنِ عَدِيٍّ وَزَيْدِ بْنِ الدَّثِنَةِ حَتَّى بَاعُوهُمَا بِمَكَّةَ ، فَاشْتَرَى خُبَيْبًا بَنُو الْحَارِثِ بْنُ عَامِرٍ ، وَكَانَ الْحَارِثُ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ ، فَمَكَثَ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا ، حَتَّى إِِذَا اجْتَمَعُوا عَلَى قَتْلِهِ ، اسْتَعَارَ مُوسًى مِنْ إِِحْدَى بَنَاتِ الْحَارِثِ يَسْتَحِدُّ بِهِ ، فَأَعَارَتْهُ ، قَالَتْ : فَغَفَلْتُ عَنْ صَبِيٍّ لِي حَتَّى أَتَاهُ ، فَأَخَذَهُ فَأَضْجَعَهُ عَلَى فَخِذِهِ ، وَالْمُوسَى فِي يَدِهِ ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ ، فَزِعْتُ فَزَعًا شَدِيدًا ، فَقَالَ : خَشِيتِ أَنْ أَقْتُلَهُ ؟ مَا كُنْتُ لأَفْعَلَ إِِنْ شَاءَ اللَّهُ ، قَالَ : فَكَانَتْ تَقُولُ : مَا رَأَيْتُ أَسِيرًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ خُبَيْبٍ ، لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ مِنْ قِطْفِ عِنَبٍ وَمَا بِمَكَّةَ يَوْمَئِذٍ ثَمَرَةٌ ، وَإِِنَّهُ لَمُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ ، وَمَا كَانَ إِِلا رِزْقًا رَزَقَهُ اللَّهُ إِِيَّاهُ ، ثُمَّ خَرَجُوا بِهِ مِنَ الْحَرَمِ لِيَقْتُلُوهُ ، فقَالَ : دَعُونِي أُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : لَوْلا أَنْ تَرَوْا أَنَّ مَا بِي جَزْعٌ مِنَ الْمَوْتِ ، لَزِدْتُ ، فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الرَّكْعَتَيْنِ عِنْدَ الْقَتْلِ ، ثُمَّ قَالَ : وَلَسْتُ أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَى أَيِّ شَقٍّ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي ثُمَّ قَامَ إِِلَيْهِ عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَتَلَهُ ، وَبَعَثَتْ قُرَيْشٌ إِِلَى مَوْضِعِ عَاصِمٍ تُرِيدُ الشَّيْءَ مِنْ جَسَدِهِ لِيَعْرِفُوهُ ، وَكَانَ قَتَلَ عَظِيمًا مِنْ عُظَمَائِهِمْ يَوْمَ بَدْرٍ ، فَبَعَثَ اللَّهُ عَلَيْهِ مِثْلَ الظُّلَّةِ ، فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى شَيْءٍ مِنْهُ "، هَكَذَا حَدَّثَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ مِنْ كِتَابِهِ : فَقَاتَلُوهُمْ فِي بُيُوتِهِمْ ، وَإِِنَّمَا هُوَ : فَقَاتَلُوهُمْ مِنْ ثُبُوتِهِمْ ، أَخْبَرَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، بِإِِسْنَادِهِ نَحْوَهُ ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ : فَبَعَثَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِثْلَ الظُّلَّةِ مِنَ الدَّبْرِ ، فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى شَيْءٍ ، وَالدَّبْرُ الزَّنَابِيرُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم جاسوسی کے لیے روانہ فرمائی، آپ نے ان کا امیر عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا، وہ لوگ روانہ ہوئے یہاں تک کہ عسفان اور مکہ کے درمیان انہوں نے پڑاؤ کیا، ہذیل قبیلے کی ایک شاخ بنو لحیان کو ان کا پتہ چل گیا، وہ لوگ ایک سو تیر اندازوں کے ساتھ ان کے پیچھے آئے اور ان کے قدموں کے نشانات پر آتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے بھی اسی جگہ پڑاؤ کیا جہاں انہوں نے پڑاؤ کیا تھا، وہاں انہیں مدینہ منورہ کی کھجوروں کی گٹھلیاں ملیں تو انہوں نے کہا: یہ تو اہل یثرب کی کھجوریں ہیں، پھر وہ لوگ ان کے قدموں کے نشانات پر پیچھے آتے گئے یہاں تک کہ ان تک پہنچ گئے، جب سیدنا عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو ان کا احساس ہوا تو انہوں نے ایک پہاڑ کی آڑ لی، وہ لوگ آئے اور انہوں نے ان حضرات کو گھیر لیا اور کہا: تم لوگوں کے ساتھ یہ پختہ عہد اور وعدہ ہے کہ اگر تم اتر کر ہماری طرف آ جاتے ہو تو ہم تم میں سے کسی بھی شخص کو قتل نہیں کریں گے، تو سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: میں کافر قوم کی دی ہوئی پناہ کی وجہ سے نیچے نہیں اتروں گا، «اللَّهُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا نَبِيَّكَ» ”اے اللہ! تو ہمارے بارے میں اپنے نبی کو اطلاع دے دے“، ان لوگوں نے اپنی جگہ پر رہتے ہوئے ان کے ساتھ لڑائی کی یہاں تک کہ ان لوگوں نے سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ سمیت سات افراد کو شہید کر دیا، صرف سیدنا خبیب بن عدی اور سیدنا زید بن دثنہ رضی اللہ عنہما اور ایک اور شخص باقی رہ گیا، ان لوگوں نے ان حضرات کو یہ عہد دیا کہ وہ اگر اتر کر ان کی طرف آ گئے تو (انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا)، لیکن جب ان لوگوں نے ان حضرات پر قابو پا لیا تو انہوں نے ان کی کمانوں کے تار کھول دیے اور اس کے ذریعے ان حضرات کو باندھ دیا، تو ان دو کے ساتھ موجود تیسرے شخص نے کہا: یہ سب سے پہلی وعدہ خلافی ہے، اس نے ان کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا، ان لوگوں نے اسے کھینچا تو اس شخص نے ان کے پیچھے جانے سے انکار کر دیا اور بولا: میرے لیے ان (مقتولین) کے طریقہ کار میں بہترین نمونہ ہے، تو ان لوگوں نے اس شخص کی بھی گردن اڑا دی، وہ لوگ سیدنا خبیب بن عدی اور سیدنا زید بن دثنہ رضی اللہ عنہما کو لے کر آئے اور مکہ میں ان دونوں کو فروخت کر دیا، سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کو حارث بن عامر کے بیٹوں نے خرید لیا کیونکہ حارث غزوہ بدر کے دن مارا گیا تھا، وہ ان لوگوں کے ہاں قیدی کے طور پر رہے یہاں تک کہ جب ان لوگوں نے انہیں شہید کرنے کا فیصلہ کر لیا تو سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ نے حارث کی ایک بیٹی سے ایک استرا عارضی استعمال کے لیے مانگا تاکہ اس کے ذریعے اضافی بال صاف کر لیں، اس عورت نے انہیں وہ استرا دے دیا، وہ عورت بیان کرتی ہے کہ میں اپنے بچے سے غافل ہوئی یہاں تک کہ وہ بچہ ان کے پاس چلا گیا، انہوں نے اس بچے کو پکڑا اور اپنی ران پر بٹھا لیا جبکہ استرا ان کے ہاتھ میں تھا، جب میں نے اس بچے کو دیکھا تو میں بہت گھبرا گئی، انہوں نے دریافت کیا: کیا تمہیں اندیشہ ہے کہ میں اسے قتل کر دوں گا؟ اگر اللہ نے چاہا تو میں ایسا نہیں کروں گا، وہ عورت بیان کرتی ہے کہ میں نے ایسا کوئی قیدی کبھی نہیں دیکھا جو سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ سے بہتر ہو، میں نے انہیں انگور کھاتے ہوئے دیکھا ہے حالانکہ ان دنوں مکہ میں یہ پھل نہیں تھا اور وہ اس وقت لوہے میں جکڑے ہوئے تھے، یہ وہ رزق تھا جو اللہ تعالیٰ انہیں عطا فرماتا تھا، پھر وہ لوگ (یعنی بنو حارث) انہیں حرم کی حدود سے باہر لے گئے تاکہ انہیں شہید کر دیں تو سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے موقع دو تاکہ میں دو رکعات ادا کر لوں، پھر انہوں نے دو رکعات ادا کیں اور بولے: اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم یہ سمجھو گے کہ میں موت کے خوف کی وجہ سے (ایسا کر رہا ہوں) تو میں مزید رکعات ادا کرتا، پس وہ پہلے فرد تھے جنہوں نے شہید ہونے کے وقت دو رکعات ادا کرنے کا طریقہ ایجاد کیا، پھر انہوں نے فرمایا: ”اگر میں مسلمان ہونے کے عالم میں قتل کیا جاتا ہوں، تو پھر میں اس بات کی پرواہ نہیں کروں گا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مجھے کون سے پہلو کے بل گرایا جاتا ہے“، پھر عقبہ بن حارث اٹھ کر ان کی طرف گیا اور اس نے انہیں شہید کر دیا، قریش نے عاصم رضی اللہ عنہ کے جسم کی طرف کسی کو بھیجا تاکہ ان کے جسم کا کوئی حصہ حاصل کر لیں اور اس کے ذریعے انہیں پہچان لیں کیونکہ عاصم رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر کے موقع پر ان کے بڑے فرد کو قتل کیا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بھڑوں کا ایک جھنڈ (سایہ) بھیج دیا جس نے ان کی حفاظت کی اور وہ لوگ ان کے جسم سے کچھ حاصل نہ کر سکے، وہ یہ روایت ابن قتیبہ نے اپنی تحریر میں سے ہمیں بیان کی تھی جس میں یہ الفاظ ہیں: ”تو انہوں نے اپنے گھروں میں رہتے ہوئے ان کے ساتھ لڑائی کی“ حالانکہ الفاظ یہ ہیں: ”انہوں نے اپنی جگہ پر رہتے ہوئے ان کے ساتھ لڑائی کی“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7039]

7041

Sahih Ibn Hibban #7041

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ ، وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ فَأَغْمَضَهُ ، وَقَالَ : إِِنَّالرُّوحَ إِِذَا قُبِضَ ، تَبِعَهُ الْبَصَرُ " ، فَصَاحَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ ، فَقَالَ : " لا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِِلا بِخَيْرٍ ، فَإِِنَّ الْمَلائِكَةَ تُؤَمِّنُ عَلَى مَا تَقُولُونَ " ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأَبِي سَلَمَةَ ، وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمُقَرَّبِينَ ، وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ ، وَاغْفِرْ لَهُ وَلَنَا يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ ، اللَّهُمَّ افْسَحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ ، وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے، اس وقت ان کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں (یعنی انتقال ہو چکا تھا)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں کو بند کیا اور فرمایا: ”جب روح قبض ہوتی ہے تو نگاہ اس کے پیچھے جاتی ہے۔“ ان کے اہل خانہ میں سے کچھ لوگ چیخ کر رونے لگے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اپنے بارے میں صرف بھلائی کی دعا کرو کیونکہ تم لوگ جو کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ، وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ، وَافْسَحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ، وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ» ”اے اللہ ابوسلمہ کی مغفرت کر دے اور مقرب لوگوں میں اس کے درجے بلند کر دے اور پیچھے رہنے والوں میں اس کا اچھا جانشین بنا دے، اس کی اور ہماری مغفرت کر دے اے تمام جہانوں کے پروردگار! اے اللہ! اس کی قبر کو اس کے لیے کشادہ کر دے اور اس کی قبر کو اس کے لیے روشن کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7041]

7042

Sahih Ibn Hibban #7042

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : مَا كُنَّا نَدْعُوهُ إِِلا زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ : ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ انہیں سیدنا زید بن محمد کہا کرتے تھے، یہاں تک کہ قرآن کا یہ حکم نازل ہوا: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ﴾ [سورة الأحزاب: 5] ”ان لوگوں کو ان کے (حقیقی) باپوں کی نسبت سے بلاؤ، یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انصاف کے زیادہ قریب ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7042]

7043

Sahih Ibn Hibban #7043

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ :فَرَضَ عُمَرُ لأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَكْثَرَ مِمَّا فَرَضَ لِي ، فَقُلْتُ : إِِنَّمَا هِجْرَتِي وَهِجْرَةُ أُسَامَةَ وَاحِدَةٌ ، قَالَ : إِِنَّ أَبَاهُ كَانَ أَحَبَّ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَبِيكَ ، وَإِِنَّهُ كَانَ أَحَبَّ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكَ " ، وَإِِنَّمَا هَاجَرَ بِكَ أَبَوَاكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے لیے مجھ سے زیادہ ادائیگی مقرر کی، تو میں نے کہا: میری ہجرت اور اسامہ کی ہجرت ایک ساتھ ہوئی ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کا والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک تمہارے باپ سے زیادہ محبوب تھا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک تم سے زیادہ محبوب تھا، تمہیں تمہارے ماں باپ نے ہجرت کروائی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7043]

7044

Sahih Ibn Hibban #7044

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، فَطَعَنَ بَعْضُ النَّاسِ فِي إِِمْرَتِهِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِِنْ تَطْعَنُوا فِي إِِمْرَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِِمْرَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ ، وَأَيْمُ اللَّهِ إِِنْ كَانَ خَلِيقًا لِلإِِمَارَةِ ، وَإِِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِِلَيَّ ، وَإِِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِِلَيَّ بَعْدَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانہ کی اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو ان کا امیر مقرر کیا، بعض لوگوں نے ان کی امارت کے بارے میں الجھن کا اظہار کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم اس کے امیر ہونے کے بارے میں الجھن کا اظہار کر رہے ہو تو اس سے پہلے تم نے اس کے باپ کے حوالے سے بھی الجھن کا اظہار کیا تھا، اللہ کی قسم! وہ امیر ہونے کے قابل تھا اور میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھا اور اس کے بعد یہ میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7044]

7045

Sahih Ibn Hibban #7045

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : جَاءَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ يَشْكُو زَيْنَبَ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمْسِكْ عَلَيْكَ أَهْلَكَ ، فَنَزَلَتْ : وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے (اپنی اہلیہ) سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ» ”اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو (یعنی اسے طلاق نہ دو)“ تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ﴾ [سورة الأحزاب: 37] ”تم اپنے من میں وہ بات چھپا رہے تھے جسے اللہ تعالیٰ ظاہر کرنے والا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7045]

7046

Sahih Ibn Hibban #7046

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا إِِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ ، وَهَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَعْفَرٍ : أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم شکل و صورت اور اخلاق میں میرے ساتھ مشابہت رکھتے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7046]

7047

Sahih Ibn Hibban #7047

أَخْبَرَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ إِِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيُّ زَاجٌ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ نَصْرِ بْنِ حَاجِبٍ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُرِيتُ جَعْفَرًا مَلَكًا يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ فِي الْجَنَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے جعفر فرشتے کی شکل میں دکھایا گیا، وہ جنت میں اپنے دو پروں کے ذریعے اڑ رہا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7047]

7048

Sahih Ibn Hibban #7048

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ الأَنْصَارِيُّ وَكَانَتِ الأَنْصَارُ تُفَقِّهُهُ ، فَأَتَيْتُهُ وَقَدِ اجْتَمَعَ إِِلَيْهِ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ ، فَقَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ فَارِسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الأُمَرَاءِ ، قَالَ : عَلَيْكُمْ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ ، فَإِِنْ أُصِيبَ زَيْدٌ فَجَعْفَرٌ ، فَإِِنْ أُصِيبَ جَعْفَرٌ فَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ ، فَوَثَبَ جَعْفَرٌ ، فَقَالَ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا كُنْتُ أَرْغَبُ أَنْ تَسْتَعْمِلَ عَلَيَّ زَيْدًا ، فَقَالَ : امْضِ ، فَإِِنَّكَ لا تَدْرِي فِي أَيِّ ذَلِكَ خَيْرٌ ، فَانْطَلَقُوا ، فَلَبِثُوا مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ الْمِنْبَرَ ، وَأَمَرَ أَنْ يُنَادَى : الصَّلاةُ جَامِعَةٌ ، فَقَالَ : أَلا أُخْبِرُكُمْ عَنْ جَيْشِكُمْ هَذَا الْغَازِي ؟ انْطَلَقُوا فَلَقَوَا الْعَدُوَّ ، فَأُصِيبَ زَيْدٌ شَهِيدًا ، اسْتَغْفِرُوا لَهُ ، فَاسْتَغْفَرَ لَهُ النَّاسُ ، ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فَشَدَّ عَلَى الْقَوْمِ حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا ، اسْتَغْفِرُوا لَهُ ، ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَثَبَتَتْ قَدَمَاهُ حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا ، اسْتَغْفِرُوا لَهُ ، ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَلَمْ يَكُنْ مِنَ الأُمَرَاءِ هُوَ أَمَّرَ نَفْسَهُ ، ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَبْعَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ هُوَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِكَ انْتَصِرْ بِهِ ، فَمِنْ يَوْمَئِذٍ سُمِّيَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ سَيْفَ اللَّهِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مِنْ ذِكْرِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ إِِلَى هَاهُنَا هُمُ الَّذِينَ مَاتُوا أَوْ قُتِلُوا فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى جَنَّتِهِ ، ثُمَّ إِِنَّا ذَاكِرُونَ بَعْدَهُ هَؤُلاءِ الْمُهَاجِرِينَ مِنْ قُرَيْشٍ مَنْ صَحَّتْ لَهُ الْفَضِيلَةُ مَرْوِيَّةً ، ثُمَّ نُعْقِبُهُمُ الأَنْصَارَ إِِنْ يَسَّرَ اللَّهُ ذَلِكَ وَسَهَّلَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خالد بن سمیر بیان کرتے ہیں: عبداللہ بن رواحہ انصاری رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے، انصار انہیں فقیہ قرار دیتے تھے، میں ان کے پاس آیا، لوگ ان کے اردگرد اکٹھے ہو چکے تھے، انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہسوار سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہے، انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امراء کا لشکر روانہ کیا اور فرمایا: ”زید بن حارثہ تمہارا امیر ہوگا، اگر زید شہید ہو جائے، تو جعفر ہوگا، اگر جعفر شہید ہو جائے تو عبداللہ بن رواحہ ہوگا۔“ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے گزارش کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ آپ مجھ پر زید کو امیر بنائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے رہنے دو، کیونکہ تم یہ بات نہیں جانتے کہ کس چیز میں زیادہ بہتری ہے۔“ پھر وہ لوگ روانہ ہوئے، جتنا اللہ کو منظور تھا اتنا وقت گزر گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن منبر پر چڑھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ لوگ اکٹھے ہو جائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں جنگ میں حصہ لینے والے تمہارے لشکر کے بارے میں بتاؤں؟ یہ لوگ گئے، ان کا دشمن سے سامنا ہوا تو زید شہید ہو گیا، تم لوگ اس کے لیے دعائے مغفرت کرو۔“ لوگوں نے ان کے لیے دعائے مغفرت کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر جھنڈا جعفر بن ابی طالب نے پکڑ لیا اور دشمن پر شدید حملہ کیا، یہاں تک کہ وہ بھی شہید ہو گیا، تم لوگ اس کے لیے دعائے مغفرت کرو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر جھنڈا عبداللہ بن رواحہ نے پکڑ لیا، اس کے دونوں پاؤں ثابت قدم رہے، یہاں تک کہ وہ بھی شہید ہو گیا، تم لوگ اس کے لیے دعائے مغفرت کرو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر جھنڈا خالد بن ولید نے پکڑ لیا، اسے امیر مقرر نہیں کیا گیا تھا وہ خود امیر بن گیا۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور دعا کی: «اللَّهُمَّ إِنَّهُ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِكَ، فَانْصُرْهُ» ”اے اللہ! وہ تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہے، تو اس کی مدد کر۔“ (راوی کہتے ہیں) اسی دن سے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کا لقب سیف اللہ ہوا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے تذکرے سے لے کر یہاں تک یہ وہ لوگ ہیں، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں شہید ہوئے یا فوت ہوئے اس سے پہلے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح کو اللہ تعالیٰ نے اپنی جنت کی طرف منتقل کیا، اب ہم اس کے بعد قریش سے تعلق رکھنے والے ان مہاجرین کا ذکر کریں گے جن کی فضیلت کے بارے میں مستند روایات منقول ہیں اور اس کے بعد انصار کا ذکر کریں گے، اگر اللہ تعالیٰ نے یہ آسان کیا اور اس میں سہولت فرمائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7048]""

7049

Sahih Ibn Hibban #7049

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ أبيه ، قَالَ : شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا مَعَهُ إِِلا أَنَا وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَلَزِمْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ نُفَارِقْهُ وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ وَرُبَّمَا ، قَالَ : بَيْضَاءَ أَهْدَاهَا لَهُ فَرْوَةُ بْنُ نُفَاثَةَ الْجُذَامِيُّ ، فَلَمَّا الْتَقَى الْمُسْلِمُونَ وَالْكُفَّارُ ، وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ ، وَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكُضُ عَلَى بَغْلَتِهِ قِبَلَ الْكُفَّارِ ، قَالَ الْعَبَّاسُ : وَأَنَا آخِذٌ بِلِجَامِ بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكُفُّهَا وَهُوَ لا يَأْلُو يُسْرِعُ نَحْوَ الْمُشْرِكِينَ ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِغَرْزِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَبَّاسُ ،نَادِ يَا أَصْحَابَ السَّمُرَةِ ، وَكُنْتُ رَجُلا صَيِّتًا ، وَقُلْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي : يَا أَصْحَابَ السَّمُرَةِ ، فَوَاللَّهِ لَكَأَنَّ عَطْفَتَهُمْ حِينَ سَمِعُوا صَوْتِي عَطْفَةُ الْبَقَرِ عَلَى أَوْلادِهَا ، يَقُولُونَ : يَا لَبَّيْكَ يَا لَبَّيْكَ ، فَأَقْبَلَ الْمُسْلِمُونَ فَاقْتَتَلُوا هُمْ وَالْكُفَّارُ ، فَنَادَتِ الأَنْصَارُ : يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، ثُمَّ قُصِرَتِ الدَّعْوَةُ عَلَى بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، فَنَادُوا يَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، قَالَ : فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ كَالْمُتَطَاوِلِ عَلَيْهَا إِِلَى قِتَالِهِمْ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا حِينَ حَمِيَ الْوَطِيسُ ، ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصَيَاتٍ فَرَمَى بِهِنَّ وجُوهَ الْكُفَّارِ ، ثُمَّ قَالَ : انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، قَالَ : فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ ، فَإِِذَا الْقِتَالُ عَلَى هَيْئَتِهِ فِيمَا أَرَى ، فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِِلا أَنْ رَمَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَصَيَاتِهِ ، فَمَا أَرَى حَدَّهُمْ إِِلا كَلِيلا ، وَأَمْرَهُمْ إِِلا مُدْبِرًا حَتَّى هَزَمَهُمُ اللَّهُ ، قَالَ : وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكُضُ خَلْفَهُمْ عَلَى بَغْلَتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں غزوہ حنین میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا، مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ یاد ہے کہ آپ کے ساتھ میں تھا اور ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تھے، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے، ہم آپ سے جدا نہیں ہوئے، آپ اپنے سفید خچر پر سوار تھے (یہاں راوی نے بعض اوقات ایک لفظ مختلف نقل کیا ہے)، وہ خچر فروہ بن نفاثہ جذامی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے کے طور پر پیش کیا تھا، جب مسلمانوں اور کفار کا آمنا سامنا ہوا، تو مسلمان پیٹھ پھیر کر پھر گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خچر کو کفار کی طرف ایڑ لگانی شروع کی، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر کی لگام پکڑی ہوئی تھی، میں اسے روکنے کی کوشش کر رہا تھا جو مشرکین کی طرف بڑھنا چاہ رہا تھا، جب کہ ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رکاب پکڑی ہوئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عباس! بیعتِ رضوان کرنے والے لوگوں کو پکارو۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری آواز بلند تھی، میں نے اپنی بلند ترین آواز میں کہا: اے بیعتِ رضوان کرنے والو! اللہ کی قسم! جب انہوں نے میری آواز سنی، تو وہ یوں آئے جس طرح گائے اپنے بچوں کی طرف آتی ہے اور وہ یہ کہہ رہے تھے: «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ» ”ہم حاضر ہیں، ہم حاضر ہیں“، پھر مسلمان آئے اور انہوں نے اور کفار نے میرے ساتھ جنگ کی، پھر انصار نے پکار کر کہا: «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ» ”اے انصار کے گروہ!“ پھر یہ پکار بنو حارث بن خزرج تک مختصر ہو گئی، تو انہوں نے کہا: «يَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ» ”اے بنو حارث بن خزرج!“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار رہتے ہوئے لڑائی کا بھرپور جائزہ لے رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الْآنَ حَمِيَ الْوَطِيسُ» ”اب جنگ کی بھٹی بھڑک اٹھی ہے“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند کنکریاں لیں اور انہیں کفار کی طرف پھینکا اور فرمایا: ”ربِ کعبہ کی قسم! یہ پسپا ہو جائیں گے، ربِ کعبہ کی قسم! یہ پسپا ہو جائیں گے۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں جائزہ لینے لگا، تو جنگ اسی طرح چل رہی تھی جس طرح میں دیکھ رہا تھا، اللہ کی قسم! ابھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف چند کنکریاں پھینکی ہی تھیں کہ میں نے دیکھا کہ وہ لوگ بھاگے اور پیٹھ پھیر کر چلے گئے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں شکست سے دوچار کیا۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: گویا کہ میں اس وقت بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ آپ اپنے خچر پر سوار ان کے پیچھے جا رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7049]

7050

Sahih Ibn Hibban #7050

أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرَّكِينَ الْفَرْغَانِيُّ بِدِمَشْقَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّعَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آدمی کا چچا اس کے باپ کی جگہ ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7050]

7051

Sahih Ibn Hibban #7051

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : لَمَّا بُنِيَتِ الْكَعْبَةُ ، ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْعَبَّاسُ يَنْقُلانِ الْحِجَارَةَ ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اجْعَلْ إِِزَارَكَ عَلَى رَقَبَتِكَ ، فَفَعَلَ ، فَخَرَّ إِِلَى الأَرْضِ ، وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِِلَى السَّمَاءِ ، ثُمَّ قَامَ ، فَقَالَ : إِِزَارِي إِِزَارِي ، فَشَدَّ عَلَيْهِ إِِزَارَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب خانہ کعبہ کی تعمیر شروع ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ پتھر منتقل کرنے لگے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”آپ اپنا تہبند اپنی گردن پر رکھ لیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تو آپ زمین پر گر گئے اور آپ کی آنکھیں آسمان کی طرف بلند ہو گئیں، پھر آپ کھڑے ہوئے اور فرمایا: «إِزَارِي، إِزَارِي» ”میرا تہبند، میرا تہبند!“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہبند باندھ لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7051]

7052

Sahih Ibn Hibban #7052

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَهِّزُ بَعْثًا فِي مَوْضِعِ سُوقِ النَّخَّاسِينَ الْيَوْمَ ، إِِذْ طَلَعَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْعَبَّاسُ عَمُّ نَبِيِّكُمْ ، أَجْوَدُ قُرَيْشٍ كَفًّا وَأَوْصَلُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ کی طرف، جہاں آج کل نخاسین کا بازار ہے، ایک مہم بھیجنے کے لیے تیاری کر رہے تھے، تو اس دوران سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عباس! جو تمہارے نبی کے چچا ہیں، قریش میں سب سے زیادہ سخی ہیں اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7052]

7053

Sahih Ibn Hibban #7053

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي يَزِيدَ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَلاءَ ، فَوَضَعْتُ لَهُ وُضُوءًا ، فَلَمَّا خَرَجَ ، قَالَ :مَنْ وَضَعَ هَذَا ؟ قَالُوا : ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، میں نے آپ کے لیے وضو کا پانی رکھا، جب آپ تشریف لائے تو آپ نے دریافت کیا: ”یہ کس نے رکھا ہے؟“ لوگوں نے بتایا: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ» ”اے اللہ! اسے (دین کی) سمجھ بوجھ عطا کر۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7053]

7054

Sahih Ibn Hibban #7054

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : ضَمَّنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَيْهِ ، فَقَالَ :اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْحِكْمَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے ساتھ لگایا اور دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْحِكْمَةَ» ”اے اللہ! اسے دانائی عطا کر۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7054]

7055

Sahih Ibn Hibban #7055

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كُنْتُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، فَوَضَعْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَهُورًا ، فَقَالَ :مَنْ وَضَعَ هَذَا ؟ قَالَتْ مَيْمُونَةُ : عَبْدُ اللَّهِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ ، وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے گھر موجود تھا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”یہ کس نے رکھا ہے؟“ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: عبداللہ نے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ» ”اے اللہ! اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کر اور قرآن کی تفسیر کا علم عطا کر۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7055]

7056

Sahih Ibn Hibban #7056

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولابِيُّ ، مُنْذُ ثَمَانِينَ سَنَةً ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ ، عَنِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : عَثَرَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ بِعَتَبَةِ الْبَابِ فَشُجَّ وَجْهُهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ : أَمِيطِي عَنْهُ الأَذَى ، فَقَذَّرَتْهُ ، قَالَتْ : فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُجُّهَا ، وَيَقُولُ : لَوْ كَانَ أُسَامَةُ جَارِيَةً لَحَلَّيْتُهُ وَكَسَوْتُهُ حَتَّى أُنَفِّقَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی دروازے کی چوکھٹ سے ٹکر ہو گئی جس کی وجہ سے ان کا چہرہ زخمی ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”اس سے خون کو صاف کر دو“، تو مجھے اس سے الجھن ہوئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لپٹایا اور فرمایا: ”اگر اسامہ لڑکی ہوتی تو میں اسے زیور پہناتا، اسے کپڑے پہناتا، اس پر پیسے خرچ کرتا“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7056]

7057

Sahih Ibn Hibban #7057

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْرُورًا ، فَقَالَ : يَا عَائِشَةُ ،أَلَمْ تَرَِيْ إِِلَى مُجَزِّزٍ الْمُدْلِجِيِّ دَخَلَ عَلَيَّ فَرَأَى أُسَامَةَ وَزَيْدًا عَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا ، وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا ، فَقَالَ : إِِنَّ هَذِهِ الأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں خوشی کے عالم میں داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! کیا تمہیں پتہ چلا ہے کہ مجزز مد لجی میرے پاس آیا، اس نے اسامہ اور زید رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ ان کے جسم پر چادر موجود تھی جس نے سر ڈھانپا ہوا تھا اور ان کے پاؤں نمایاں ہو رہے تھے، تو اس نے کہا: یہ پاؤں باپ بیٹے کے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7057]

7058

Sahih Ibn Hibban #7058

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْسَحَ مُخَاطَ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : دَعْنِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أَفْعَلُهُ ، قَالَ : يَا عَائِشَةُ ،أَحِبِّيهِ ، فَإِِنِّي أُحِبُّهُ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی ناک صاف کرنے کا ارادہ کیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ مجھے موقع دیجیے تاکہ میں ایسا کر لوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! اس سے محبت رکھنا کیونکہ میں اس سے محبت کرتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7058]

7059

Sahih Ibn Hibban #7059

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ عَلَى قَوْمٍ ، فَطَعَنُوا فِي إِِمَارَتِهِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنْ تَطْعَنُوا فِي إِِمَارَتِهِ ، فَقَدْ طَعَنْتُمْ فِي إِِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلِهِ ، وَايْمُ اللَّهِ ، لَقَدْ كَانَ خَلِيقًا لِلإِِمَارَةِ ، وَإِِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِِلَيَّ ، وَإِِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِِلَيَّ مِنْ بَعْدِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو کچھ لوگوں کا امیر مقرر کیا، ان لوگوں نے ان کے امیر ہونے کے بارے میں الجھن کا اظہار کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اس کے امیر ہونے کے بارے میں الجھن کا اظہار کر رہے ہو، تو اس سے پہلے تم نے اس کے باپ کے امیر ہونے کے بارے میں بھی الجھن کا اظہار کیا تھا، اللہ کی قسم! وہ امیر ہونے کے لائق تھا اور میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھا اور اس کے بعد یہ میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7059]

7060

Sahih Ibn Hibban #7060

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ ، يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، أَنَّ عَلِيًّا خَطَبَ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ فَوَعَدَ النِّكَاحَ ، فَأَتَتْ فَاطِمَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِِنَّ قَوْمَكَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّكَ لا تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ ، وَإِِنَّ عَلِيًّا خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّمَافَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي وَإِِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَسُوءَهَا ، وَذَكَرَ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ فَأَحْسَنَ عَلَيْهِ الثَّنَاءَ ، وَقَالَ : لا يُجْمَعُ بَيْنَ بِنْتِ نَبِيِّ اللَّهِ وَبَيْنَ بِنْتِ عَدُوِّ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام زین العابدین رحمہ اللہ، سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کے لیے شادی کا پیغام بھیجا اور نکاح کا وعدہ کر لیا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں اور انہوں نے عرض کی: آپ کی قوم کے لوگ یہ بات کر رہے ہیں کہ آپ اپنی صاحب زادیوں کی وجہ سے غصہ نہیں کرتے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کے لیے شادی کا پیغام بھیجا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے، مجھے وہ بات ناپسند ہو گی جو اسے بری لگے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا اور ان کی اچھے لفظوں میں تعریف کی اور فرمایا: ”اللہ کے نبی کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی (کسی شخص کے نکاح میں) جمع نہیں ہو سکتی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7060]

7061

Sahih Ibn Hibban #7061

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنْتُ أَرْعَى غَنَمًا لِعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ ، فَمَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا غُلامٌ ، فَقَالَ لِي : يَا غُلامُ ، هَلْ مِنْ لَبَنٍ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، وَلَكِنِّي مُؤْتَمَنٌ ، قَالَ :فَهَلْ مِنْ شَاةٍ لَمْ يَنْزُ عَلَيْهَا الْفَحْلُ ؟ قَالَ : فَأَتَيْتُهُ ، فَمَسَحَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرْعَهَا ، فَنَزَلَ اللَّبَنُ فَحَلَبَهُ فِي إِِنَاءٍ ، فَشَرِبَ وَسَقَى أَبَا بَكْرٍ ، ثُمَّ قَالَ لِلضَّرْعِ : انْقَلِصِي ، فَانْقَلَصَتْ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي مِنْ هَذَا الْقَوْلِ ، فَمَسَحَ رَأْسِي ، وَقَالَ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، إِِنَّكَ غُلامٌ مُعَلَّمٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں عقبہ بن ابومعیط کی بکریاں چرایا کرتا تھا، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے جبکہ میں ایک لڑکا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا: ”اے لڑکے! کیا دودھ ہے؟“ میں نے جواب دیا: ”جی ہاں، لیکن مجھے امین بنایا گیا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا کوئی ایسی بکری ہے جس کے ساتھ کسی بکرے نے صحبت نہ کی ہو (یعنی جس کا ابھی دودھ نہ اترا ہو)؟“ راوی کہتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایسی بکری لایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے تھن پر ہاتھ پھیرا، تو اس میں دودھ اتر آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ایک برتن میں دوہ لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی پلایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھن سے فرمایا: «انْقَبِضْ» ”تم دوبارہ سمٹ جاؤ“، تو وہ سمٹ گیا۔ میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ یہ عمل مجھے بھی سکھا دیجیے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: «يَرْحَمُكَ اللَّهُ، إِنَّكَ غُلَامٌ مُعَلَّمٌ» ”اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے، تم ایک تعلیم یافتہ لڑکے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7061]

7062

Sahih Ibn Hibban #7062

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مَعْنٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَادِسَ سِتَّةٍ مَا عَلَى الأَرْضِ مُسْلِمٌ غَيْرُنَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ میں چھٹا مسلمان تھا، روئے زمین پر ہمارے علاوہ اور کوئی مسلمان نہیں تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7062]

7063

Sahih Ibn Hibban #7063

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ، قَالَ : قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ : أَنْبِئْنَا بِرَجُلٍ قَرِيبِ الْهَدْيِ وَالسَّمْتِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَأْخُذُ عَنْهُ ؟ فَقَالَ : مَا أَعْرِفُ أَقْرَبَ سَمْتًا وَهَدْيًا وَدَلا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ حَتَّى يُوَارِيهِ جِدَارُ بَيْتِهِ ، وَلَقَدْ عَلِمَ الْمَحْفُوظُونَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ مِنْ أَقْرَبِهِمْ إِِلَى اللَّهِ وَسِيلَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں کہ ہم نے سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہمیں کسی ایسے شخص کے بارے میں بتائیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت اور آپ کے طور طریقے سے سب سے زیادہ قریب ہو تاکہ ہم اس سے وہ چیز حاصل کر لیں، تو انہوں نے فرمایا: میں ایسے کسی شخص سے واقف نہیں ہوں جو ابن ام عبد رضی اللہ عنہ سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طور طریقوں، آپ کی رہنمائی اور آپ کی دلالت سے زیادہ قریب ہو، یہاں تک کہ ان کے گھر کی دیوار انہیں چھپا لے (یعنی گھر کے باہر کے معاملات میں سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے محفوظ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ ابن ام عبد رضی اللہ عنہ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وسیلہ ہونے کے اعتبار سے سب سے زیادہ قریب ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7063]

7064

Sahih Ibn Hibban #7064

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعَةً وَسَبْعِينَ سُورَةً ، وَإِِنَّ زَيْدًا لَهُ ذُؤَابَتَانِ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس وقت ستر سورتوں سے زیادہ تلاوت کر لی تھی (یعنی سیکھ لی تھیں) جبکہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے لمبے بال تھے اور وہ بچوں کے ساتھ کھیلتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7064]

7065

Sahih Ibn Hibban #7065

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :اقْرَأْ عَلَيَّ سُورَةَ النِّسَاءِ ، فَقَرَأْتُ حَتَّى بَلَغْتُ : فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا ، قَالَ : إِِمَّا غَمَزَنِي وَإِِمَّا الْتَفَتُّ ، فَإِِذَا عَيْنَاهُ تَسِيلانِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم میرے سامنے سورہ نساء کی تلاوت کرو۔“ میں نے تلاوت شروع کی، یہاں تک کہ جب میں اس مقام پر پہنچا: ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَٰؤُلَاءِ شَهِيدًا﴾ [سورة النساء: 41] ”تو اس وقت کیا عالم ہو گا، جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے اور تمہیں ان سب پر گواہ بنا کر لے آئیں گے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ٹہوکا دیا، میں نے توجہ کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7065]

7066

Sahih Ibn Hibban #7066

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا بَشَّرَاهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ ، فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں خوش خبری دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ قرآن کو بالکل اسی طرح پڑھے، جس طرح وہ نازل ہوا ہے تو وہ ابن ام عبد کی قرأت کے مطابق اس کی تلاوت کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7066]

7067

Sahih Ibn Hibban #7067

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَعَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّي ، فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ النِّسَاءِ فَسَحَلَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا ، كَمَا أُنْزِلَ ، فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ " ، ثُمَّ قَعَدَ ، ثُمَّ سَأَلَ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : سَلْ تُعْطَهْ ، سَلْ تُعْطَهْ ، فَقَالَ فِيمَا يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِِنِّي أَسْأَلُكَ إِِيمَانًا لا يَرْتَدُّ ، وَنَعِيمًا لا يَنْفَدُ ، وَمُرَافَقَةَ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ فِي أَعْلَى جَنَّةِ الْخُلْدِ ، فَأَتَى عُمَرُ عَبْدَ اللَّهِ لِيُبَشِّرَهُ ، فَوَجَدَ أَبَا بَكْرٍ قَدْ سَبَقَهُ ، قَالَ : إِِنَّكَ إِِنْ فَعَلْتَ ، إِِنَّكَ لَسَابِقٌ بِالْخَيْرِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ گزرے، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس وقت نماز ادا کر رہے تھے، انہوں نے سورہ نساء کی تلاوت شروع کی اور اسے مکمل تلاوت کیا، (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”جو شخص قرآن کو اسی طرح پڑھنا چاہتا ہو، جس طرح وہ نازل ہوا ہے تو وہ ابن ام عبد کی قرأت کے مطابق اس کی تلاوت کرے۔“ پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیٹھے، انہوں نے دعا مانگنا شروع کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہنا شروع کیا: «سَلْ تُعْطَهْ، سَلْ تُعْطَهْ» ”تم مانگو تمہیں دیا جائے گا، تم مانگو تمہیں دیا جائے گا۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جو دعا مانگی اس میں یہ الفاظ بھی تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا لَا يَرْتَدُّ، وَنَعِيمًا لَا يَنْفَدُ، وَمُرَافَقَةَ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم فِي أَعْلَى جَنَّةِ الْخُلْدِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے ایسے ایمان کا سوال کرتا ہوں، جو پلٹ نہ جائے اور ایسی نعمت کا، جو ختم نہ ہو اور جنت خلد کے عالی حصے میں ہمارے نبی کے ساتھ رہنے کا (سوال کرتا ہوں)۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تاکہ انہیں خوشخبری سنائیں، انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پایا کہ وہ ان سے سبقت لے جا چکے تھے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ نے ایسا کیا ہے (تو کوئی بات نہیں) آپ ویسے ہی بھلائی کی طرف سبقت لے جانے والے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7067]

7068

Sahih Ibn Hibban #7068

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِِدْرِيسَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ يُرْفَعَ الْحِجَابُ ، وَأَنْ تَسْمَعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تمہارا مجھ سے (اندر آنے کی) اجازت مانگنے کے لیے یہی کافی ہے کہ جب پردہ اٹھا ہوا ہو (تو تم اندر آ سکتے ہو) اور میری گفتگو سن سکتے ہو، جب تک میں تمہیں منع نہیں کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7068]

7069

Sahih Ibn Hibban #7069

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَحْتَزُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِوَاكًا مِنْ أَرَاكٍ ، وَكَانَ فِي سَاقَيْهِ دِقَّةٌ ، فَضَحِكَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا يُضْحِكُكُمْ مِنْ دِقَّةِ سَاقَيْهِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِِنَّهُمَا أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ أُحُدٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیلو کے درخت کی مسواک توڑ رہے تھے، ان کی پنڈلیاں پتلی تھیں، تو لوگ ہنس پڑے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی پتلی پنڈلیوں پر ہنس رہے ہو؟ اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! یہ دونوں (قیامت کے دن) میزان میں احد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہوں گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7069]

7070

Sahih Ibn Hibban #7070

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أبيه ، قَالَ : كَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكُنْتُ غُلامًا شَابًّا عَزَبًا ، وَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ ،فَرَأَيْتُ فِيَ الْمَنَامِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي ، فَذَهَبَا بِي إِِلَى النَّارِ ، فَإِِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ ، وَإِِذَا لَهَا قَرْنَانِ ، وَإِِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ مَرَّتَيْنِ ، فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ آخَرُ ، فقَالَ لِي : لَنْ تُرَاعَ ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ ، فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، غَيْرَ أَنَّهُ لا يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ إِِلا قَلِيلا "، قَالَ سَالِمٌ : فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ بَعْدَ ذَلِكَ لا يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِِلا قَلِيلا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم (اپنے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں جب کوئی شخص کوئی خواب دیکھتا تھا، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسے بیان کرتا تھا۔ میں ان دنوں نوجوان کنوارہ شخص تھا اور مسجد میں سو جایا کرتا تھا۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ دو فرشتوں نے مجھے پکڑا اور وہ مجھے ساتھ لے کر جہنم کی طرف گئے، تو وہ کنویں کی طرح گول تھی اور اس کے دو کنارے تھے، میں نے اس میں کچھ لوگوں کو دیکھا جن سے میں شناسا تھا، تو میں نے یہ کہنا شروع کیا: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ» ”میں جہنم سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں“، یہ بات میں نے دو مرتبہ کہی، پھر ان دونوں فرشتوں سے ایک اور فرشتہ کی ملاقات ہوئی، تو اس نے مجھ سے کہا: ”تم گھبراؤ نہیں۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو یہ خواب سنایا، تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خواب سنایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ اچھا آدمی ہے مگر یہ کہ وہ رات کے وقت بہت تھوڑے نوافل ادا کرتا ہے۔“ سالم بیان کرتے ہیں: اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا معمول بنایا کہ وہ رات کے وقت بہت تھوڑی دیر کے لیے سوتے تھے (زیادہ تر نوافل ادا کرتے رہتے تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7070]

7071

Sahih Ibn Hibban #7071

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ أُخْتِهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهَا : إِِنَّعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَجُلٌ صَالِحٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی بہن سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”عبداللہ بن عمر نیک آدمی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7071]

7072

Sahih Ibn Hibban #7072

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ :رَأَيْتُ فِيَ الْمَنَامِ سَرَقَةً مِنْ حَرِيرٍ لا أَهْوِي بِهَا إِِلَى مَكَانٍ فِي الْجَنَّةِ إِِلا طَافَتْ بِي إِِلَيْهِ ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ ، فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّ أَخَاكَ رَجُلٌ صَالِحٌ ، أَوْ قَالَ : إِِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے خواب میں ریشم کا کپڑا دیکھا، میں جنت میں جس بھی جگہ جاتا وہ میرے ساتھ وہاں چلا جاتا، میں نے یہ واقعہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو سنایا، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے یہ واقعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا بھائی نیک آدمی ہے“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک عبداللہ نیک آدمی ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7072]