Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 61 · Chapter 1

The Book of Stars and Weather Signs

Hadith 6877–6916

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6877

Sahih Ibn Hibban #6877

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ :بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ الْجُمُعَةَ ، وَقَدِمَتْ عِيرٌ الْمَدِينَةَ ، فَابْتَدَرَهَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى لَمْ يَبْقَ مَعَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلا اثْنَا عَشَرَ رَجُلا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ تَتَابَعْتُمْ حَتَّى لا يَبْقَى مِنْكُمْ أَحَدٌ ، لَسَالَ لَكُمُ الْوَادِي نَارًا " ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا ، وَقَالَ فِي الاثْنَيْ عَشَرَ الَّذِينَ ثَبَتُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے، اسی دوران (ساز و سامان کا) ایک قافلہ مدینہ منورہ آ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تیزی سے اس کی طرف چلے گئے، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف بارہ افراد رہ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اگر تم لوگ بھی ان کے پیچھے چلے جاتے یہاں تک کہ تم میں سے کوئی بھی باقی نہ رہتا تو تمہارے لیے یہ تمام وادی آگ سے بھر جاتی۔“ (راوی کہتے ہیں:) اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا﴾ [سورة الجمعة: 11] ”اور جب انہوں نے تجارت اور دلچسپی کی چیز دیکھی تو تیزی سے اس کی طرف چلے گئے اور تمہیں (خطبہ دیتے ہوئے) کھڑا چھوڑ گئے۔“ راوی نے بتایا کہ وہ بارہ افراد جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہاں رہے تھے، ان میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6877]

6878

Sahih Ibn Hibban #6878

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أبيه ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ ، إِِذْ رَأَيْتُ قَدَحًا أَتَيْتُ بِهِ فِيهِ لَبَنٌ فَشَرِبْتُ مِنْهُ ، حَتَّى إِِنِّي لأَرَى الرِّيَّ يَجْرِي فِي أَظْفَارِي ، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالُوا : فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : الْعِلْمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حمزہ بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک مرتبہ میں سویا ہوا تھا، میں نے خواب میں یہ دیکھا کہ ایک پیالہ میرے پاس لایا گیا جس میں دودھ موجود ہے، میں نے اس میں سے پی لیا، یہاں تک کہ میں نے اس کی سیرابی اپنے ناخنوں کے اندر چلتی ہوئی محسوس کی، پھر میں نے بچا ہوا دودھ عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) کو دے دیا۔“ لوگوں نے دریافت کیا: آپ نے اس کی کیا تعبیر کی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علم۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6878]

6879

Sahih Ibn Hibban #6879

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِِسْحَاقَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، لَمْ تَعْلَمْ قُرَيْشٌ بِإِِسْلامِهِ ، فَقَالَ : أَيْ أَهْلُ مَكَّةَ ، أَنْشَأُ لِلْحَدِيثِ ؟ فَقَالُوا : جَمِيلُ بْنُ مَعْمَرٍ الْجُمَحِيُّ ، فَخَرَجَ إِِلَيْهِ وَأَنَا مَعَهُ أَتْبَعُ أَثَرَهُ ، أَعْقِلُ مَا أَرَى ، وَأَسْمَعُ فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : يَا جَمِيلُ ،إِِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ ، قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا رَدَّ عَلَيْهِ كَلِمَةً حَتَّى قَامَ عَامِدًا إِِلَى الْمَسْجِدِ ، فَنَادَى أَنْدِيَةَ قُرَيْشٍ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، إِِنَّ ابْنَ الْخَطَّابِ قَدْ صَبَأَ ، فَقَالَ عُمَرُ : كَذَبَ ، وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ وَآمَنْتُ بِاللَّهِ وَصَدَّقْتُ رَسُولَهُ ، فَثَاوَرُوهُ ، فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى رَكَدَتِ الشَّمْسُ عَلَى رُءُوسِهِمْ ، حَتَّى فَتَرَ عُمَرُ وَجَلَسَ فَقَامُوا عَلَى رَأْسِهِ ، فَقَالَ عُمَرُ : افْعَلُوا مَا بَدَا لَكُمْ ، فَوَاللَّهِ لَوْ كُنَّا ثَلاثَمِائَةِ رَجُلٍ لَقَدْ تَرَكْتُمُوهَا لَنَا أَوْ تَرَكْنَاهَا لَكُمْ ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ قِيَامٌ عَلَيْهِ ، إِِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَيْهِ حُلَّةُ حَرِيرٍ وَقَمِيصٌ قَوْمَسِيٌّ ، فَقَالَ : مَا بَالَكُمْ ؟ فَقَالُوا : إِِنَّ ابْنَ الْخَطَّابِ قَدْ صَبَأَ ، قَالَ : فَمَهْ ، امْرُؤٌ اخْتَارَ دِينًا لِنَفْسِهِ ، أَفَتَظُنُّونَ أَنَّ بَنِي عَدِيٍّ تُسْلِمُ إِِلَيْكُمْ صَاحِبَهُمْ ؟ قَالَ : فَكَأَنَّمَا كَانُوا ثَوْبًا انْكَشَفَ عَنْهُ ، فَقُلْتُ لَهُ بَعْدُ بِالْمَدِينَةِ : يَا أَبَتِ ، مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي رَدَّ عَنْكَ الْقَوْمَ يَوْمَئِذٍ ؟ فَقَالَ : يَا بُنَيَّ ، ذَاكَ الْعَاصُ بْنُ وَائِلٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو قریش کو ان کے اسلام قبول کرنے کا پتا نہیں چلا، انہوں نے فرمایا: ”اے اہل مکہ! تم میں سے کون شخص سب سے اچھی گفتگو کر سکتا ہے (یعنی سب سے زیادہ سمجھ دار ہے)؟“ لوگوں نے بتایا: جمیل بن معمر جمحی۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کے پاس تشریف لے گئے، میں بھی ان کے ساتھ تھا، میں ان کے پیچھے چل رہا تھا، جو کچھ مجھے نظر آ رہا تھا وہ بات مجھے سمجھ آ رہی تھی اور میں اسے سن رہا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس شخص کے پاس آئے اور بولے: ”اے جمیل! میں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کوئی جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ وہ اس کے ساتھ مسجد حرام کی طرف آیا اور قریش کی بیٹھکوں کے درمیان اس نے یہ اعلان کیا: ”اے قریش کے گروہ! خطاب کا بیٹا بے دین ہو گیا ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اس نے جھوٹ کہا ہے بلکہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے، میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آیا ہوں اور میں نے اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کر دی ہے۔“ تو ان لوگوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر حملہ کر دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ لڑنے لگے، یہاں تک کہ ان کے سروں پر سورج غروب ہو گیا (یعنی کافی دیر تک لڑائی ہوتی رہی)، یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ الگ ہو کر بیٹھ گئے، وہ لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سرہانے کھڑے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تمہیں جو مناسب لگتا ہے تم کر لو، اللہ کی قسم! اگر ہم تین سو لوگ ہو گئے تو یا تو تم اسے ہمارے لیے چھوڑ دو گے یا پھر ہم اسے تمہارے لیے چھوڑ دیں گے۔“ ابھی وہ لوگ اسی حالت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا جس نے ریشمی حُلہ پہنا ہوا تھا اور قُمُصی قمیض پہنی ہوئی تھی، اس نے دریافت کیا: ”تم لوگوں کا کیا معاملہ ہے؟“ ان لوگوں نے بتایا: خطاب کا بیٹا بے دین ہو گیا ہے، اس نے کہا: ”اسے چھوڑ دو کیونکہ ایک شخص نے اپنی ذات کے لیے دین کو اختیار کیا ہے، کیا تم لوگ یہ گمان کرتے ہو کہ بنو عدی اپنے ساتھی (یعنی اپنے ایک فرد) کو تمہارے سپرد کر دیں گے؟“ راوی کہتے ہیں: تو یوں تھا جیسے ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا تھا جو ہٹ گیا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: بعد میں مدینہ منورہ میں، میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ”ابا جان! وہ شخص کون تھا جس نے اس دن دوسرے لوگوں کو آپ سے پرے کیا تھا؟“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے میرے بیٹے! وہ عاص بن وائل تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6879]

6880

Sahih Ibn Hibban #6880

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ كَرَامَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : مَا زِلْنَا أَعِزَّةً مُنْذُ أَسْلَمَ عُمَرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا ہے، ہم مسلسل غالب رہے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6880]

6881

Sahih Ibn Hibban #6881

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَرِّفٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ نَافِعًا ، يَذْكُرُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ أَعِزَّ الدِّينَ بِأَحَبِّ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ إِِلَيْكَ : بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ أَوْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ "، فَكَانَ أَحَبُّهُمَا إِِلَيْهِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَبِّ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ: بِأَبِي جَهْلٍ أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ» ”اے اللہ! ان دو آدمیوں میں سے اپنے نزدیک زیادہ محبوب شخص کے ذریعے دین اسلام کو عزت عطا کر: ابوجہل بن ہشام یا عمر بن خطاب۔“ (راوی کہتے ہیں:) تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان دونوں میں زیادہ محبوب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6881]

6882

Sahih Ibn Hibban #6882

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِنَصَيبِينَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْفَرْوِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْمَاجِشُونِ ، حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ أَعِزَّ الإِِسْلامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ خَاصَّةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (یعنی دعا کی): «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ خَاصَّةً» ”اے اللہ! بطور خاص عمر بن خطاب کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا کر۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6882]

6883

Sahih Ibn Hibban #6883

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، مِنْ كِتَابِهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ السَّدُوسِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ ، أَتَى جِبْرِيلُ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، لَقَدِ اسْتَبْشَرَ أَهْلُ السَّمَاءِ بِإِِسْلامِ عُمَرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے: ”اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آسمان والے (فرشتے) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے پر خوش ہوئے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6883]

6884

Sahih Ibn Hibban #6884

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اہل جنت میں سے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6884]

6885

Sahih Ibn Hibban #6885

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِِلَيْكَ ؟ قَالَ : عَائِشَةُ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مِنَ الرِّجَالِ ؟ قَالَ : أَبُوهَا أَبُو بَكْرٍ ، قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ " ، ثُمَّ عَدَّ رِجَالا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! لوگوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ (رضی اللہ عنہا)“۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مردوں میں سے کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا والد ابوبکر (رضی اللہ عنہ)“۔ میں نے دریافت کیا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ)“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید کچھ لوگوں کا ذکر کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6885]

6886

Sahih Ibn Hibban #6886

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ فِيهَا قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ أَوْ لُؤْلُؤٍ ، فَقُلْتُ : لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ قَالُوا : لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَمَا مَنَعَنِي أَنْ أَدْخُلَهُ إِِلا عِلْمِي بِغَيْرَتِكَ "، قَالَ : عَلَيْكَ أَغَارُ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، عَلَيْكَ أَغَارُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں جنت میں داخل ہوا، میں نے اس میں سونے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) موتیوں سے بنا ہوا ایک محل دیکھا، میں نے دریافت کیا کہ یہ کس کا محل ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ عمر بن خطاب کا ہے، تو میں اس میں صرف اس وجہ سے داخل نہیں ہوا کیونکہ مجھے تمہارے مزاج کی تیزی کا علم ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مزاج کی تیزی دکھاؤں گا؟ کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مزاج کی تیزی دکھاؤں گا؟ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6886]

6887

Sahih Ibn Hibban #6887

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، فَإِِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقُلْتُ : لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ فَقَالُوا : لِشَابٍّ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَظَنَنْتُ أَنِّي أَنَا هُوَ ، فَقُلْتُ : وَمَنْ هُوَ ؟ قَالُوا : عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں سونے سے بنا ہوا ایک محل تھا، میں نے دریافت کیا: یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے بتایا: یہ قریش سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کا ہے۔ میں نے یہ گمان کیا کہ وہ شخص میں ہوں گا، میں نے دریافت کیا: وہ کون شخص ہے؟ تو انہوں نے بتایا: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6887]

6888

Sahih Ibn Hibban #6888

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَن رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ ، رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ ، فَإِِذَا امْرَأَةٌ تَوَضَّأُ إِِلَى جَانِبِ قَصْرٍ ، فَقُلْتُ : لِمَنْ هَذَا ؟ فَقَالَتْ : لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَذَكَرْتُ غَيْرَةَ عُمَرَ ، فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا "، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَبَكَى عُمَرُ وَنَحْنُ جَمِيعًا فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ ، ثُمَّ قَالَ : بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعَلَيْكَ أَغَارُ ؟ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ فِي هَذَا الْخَبَرِ : بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ ، وَفِي خَبَرِ جَابِرٍ : أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ : أُدْخِلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَنَّةَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ ، فَرَأَى قَصْرَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَسَأَلَ عَنِ الْقَصْرِ ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُ لِعُمَرَ ، وَبَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ مَرَّةً أُخْرَى ، إِِذْ رَأَى كَأَنَّهُ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ وَإِِذَا امْرَأَةٌ إِِلَى جَانِبِ قَصْرٍ تَتَوَضَّأُ ، فَسَأَلَ عَنِ الْقَصْرِ ، فَقَالَتْ : لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، لَفْظُ خَبَرِ أَبِي هُرَيْرَةَ بِخِلافِ لَفْظِ خَبَرِ جَابِرٍ ، فَدَلَّكَ ذَلِكَ عَلَى أَنَّهُمَا خَبَرَانِ فِي وَقْتَيْنِ مُتَابَيِنَيْنِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ تَضَادٌّ وَلا تَهَاتُرٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں ایک مرتبہ سویا ہوا تھا، میں نے خود کو جنت میں دیکھا، وہاں ایک عورت ایک محل کے کنارے پر وضو کر رہی تھی۔ میں نے دریافت کیا: یہ محل کس کا ہے؟ اس عورت نے بتایا: عمر بن خطاب کا ہے، تو مجھے عمر کے مزاج کی تیزی کا خیال آ گیا، تو میں وہاں سے مڑ کر واپس آ گیا۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور ہم سب لوگ جو اس محفل میں موجود تھے رونے لگے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غصہ کروں گا؟ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں یہ بات مذکور ہے: ”اس دوران کہ میں سویا ہوا تھا“ جبکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”مجھے جنت میں داخل کیا گیا“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت میں اس وقت داخل کیا گیا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کروائی گئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا محل دیکھا تھا اور اس محل کے بارے میں دریافت کیا، تو فرشتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تھا کہ یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ہے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے، تو یہ دوسری مرتبہ کا واقعہ ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں یہ دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت میں داخل کیا گیا، تو وہاں ایک محل کے پہلو میں ایک عورت موجود تھی جو وضو کر رہی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس محل کے بارے میں دریافت کیا، تو اس عورت نے بتایا: یہ عمر بن خطاب کا ہے۔ روایت کے یہ الفاظ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے نقل کردہ ہیں اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت سے مختلف ہیں، تو یہ چیز آپ کی رہنمائی اس بات کی طرف کرے گی کہ یہ دو روایات ہیں جو دو مختلف اوقات کے بارے میں ہیں، اس طرح ان دونوں کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف باقی نہیں رہے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6888]

6889

Sahih Ibn Hibban #6889

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّاللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے حق کو عمر کی زبان اور دل پر رکھ دیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6889]

6890

Sahih Ibn Hibban #6890

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ ، رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ ، مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثَّدْيَيْنِ ، وَمِنْهَا مَا هُوَ أَسْفَلُ مِنْ ذَلِكَ ، وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ ، فَقَالَ مَنْ حَوْلَهُ : مَا أَوَّلْتَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ذَلِكَ ؟ قَالَ : الدِّينُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک مرتبہ میں سویا ہوا تھا، میں نے دیکھا کہ لوگوں کو میرے سامنے پیش کیا گیا، ان کے جسموں پر قمیصیں موجود تھیں، کسی کی قمیص سینے تک تھی اور کسی کی اس سے کچھ نیچے تھی، پھر میرے سامنے عمر رضی اللہ عنہ کو پیش کیا گیا تو ان کی قمیص نیچے گھسٹ رہی تھی۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آس پاس موجود لوگوں نے دریافت کیا: ”اے اللہ کے نبی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کیا تعبیر کی ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6890]

6891

Sahih Ibn Hibban #6891

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُمَرَ حِينَ طُعِنَ ، فَقَالَ : أَبْشِرْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَسْلَمْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ كَفَرَ النَّاسُ ، وَقَاتَلْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَذَلَهُ النَّاسُ ، وَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ ، وَلَمْ يَخْتَلِفْ فِي خِلافَتِكَ رَجُلانِ ، وَقُتِلْتَ شَهِيدًا " ، فَقَالَ : أَعِدْ ، فَأَعَادَ ، فَقَالَ : " الْمَغْرُورُ مَنْ غَرَرْتُمُوهُ ، لَوْ أَنَّ مَا عَلَى ظَهْرِهَا مِنْ بَيْضَاءَ وَصَفْرَاءَ ، لافْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ هَوْلِ الْمَطْلَعِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ کے لیے خوشخبری ہے کہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اس وقت اسلام قبول کیا جب لوگوں نے کفر اختیار کیا تھا، آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اس وقت جنگ میں حصہ لیا جب لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رسوا کرنے کی کوشش کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جب وصال ہوا اس وقت وہ آپ سے راضی تھے اور آپ کی خلافت کے بارے میں دو آدمیوں کے درمیان بھی کوئی اختلاف نہیں تھا اور اب آپ شہید ہو کر وفات پانے لگے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اپنی بات دہراؤ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنی بات دہرائی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ شخص غلط فہمی کا شکار ہوتا ہے جسے تم لوگ غلط فہمی کا شکار کرو، زمین پر سفید اور زرد (یعنی سونا اور چاندی) جو کچھ بھی موجود ہے قیامت (یا آخرت) کی ہولناکی سے بچنے کے لیے اگر وہ بھی فدیہ دینا پڑے تو میں وہ فدیے کے طور پر دے دوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6891]

6892

Sahih Ibn Hibban #6892

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أبيه ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِِنِّي لأَحْسَبُ الشَّيْطَانَ يَفِرُّ مِنْكَ يَا عُمَرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اے عمر! مجھے پتا ہے کہ شیطان تم سے بھاگتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6892]

6893

Sahih Ibn Hibban #6893

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أبيه ، أَنَّهُ قَالَ : دَخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ نِسْوَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَسَلْنَهُ وَيَسْتَكْثِرْنَهُ رَافِعَاتٍ أَصْوَاتَهُنَّ ، فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَ عُمَرَ انْقَمَعْنَ وَسَكَتْنَ ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا عُدَيَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ ، تَهَبْنَنِي وَلا تَهَبْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عُمَرُ ،مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ سَالِكًا فَجًّا ، إِِلا سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قریش کی کچھ خواتین موجود تھیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگ رہی تھیں اور زیادہ کا مطالبہ کر رہی تھیں، ان کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں، جب ان خواتین نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی آواز سنی تو وہ ڈھیلی پڑ گئیں اور خاموش ہو گئیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اپنی جان کی دشمنو! تم مجھ سے ڈرتی ہو اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتی ہو؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! اگر شیطان کسی راستے پر چلتے ہوئے تمہارے سامنے آ جائے تو وہ اس راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے پر چلا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6893]

6894

Sahih Ibn Hibban #6894

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ كَانَ يَكُونُ فِي الأُمَمِ مُحَدَّثُونَ ، فَإِِنْ يَكُنْ فِي أُمَّتِي أَحَدٌ فَهُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”امتوں میں محدث ہوتے ہیں، اگر میری امت میں کوئی ایسا شخص ہوا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6894]

6895

Sahih Ibn Hibban #6895

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِِنَّاللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ "، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : مَا نَزَلَ بِالنَّاسِ أَمْرٌ قَطُّ ، فَقَالُوا فِيهِ ، وَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، إِِلا نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى نَحْوٍ مِمَّا قَالَ عُمَرُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے حق کو عمر کی زبان اور دل پر رکھ دیا ہے (یا جاری کر دیا ہے)۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب بھی کوئی ایسی صورت حال پیش آئے، جس میں لوگوں نے ایک رائے دی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دوسری رائے دی تو قرآن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق نازل ہوا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6895]

6896

Sahih Ibn Hibban #6896

أَخْبَرَنَا بَدَلُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ بَحْرٍ الْخِضْرَانِيُّ الْحَافِظُ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلاثٍ أَوْ وَافَقَنِي رَبِّي فِي ثَلاثٍ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوِ اتَّخَذْتَ مِنْ مَقَامِ إِِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ، وَقُلْتُ : يَدْخُلُ عَلَيْكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ ، فَلَوْ حَجَبْتَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ ، فَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ ، وَبَلَغَنِي شَيْءٌ مِنْ مُعَامَلَةِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقُلْتُ : لَتَكُفُّنَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ لَيُبْدِلَنَّهُ اللَّهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ ، حَتَّى انْتَهَيْتُ إِِلَى إِِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقَالَتْ : يَا عُمَرُ ، أَمَا فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَعِظُ نِسَاءَهُ حَتَّى تَعِظَهُنَّ أَنْتَ ، فَكَفَفْتُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهَ عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تین چیزوں کے بارے میں میری رائے میرے پروردگار (کے حکم کے) موافق تھی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) میرے پروردگار (کا حکم) میری رائے کے موافق تھا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کو جائے نماز بنا لیں تو یہ مناسب ہو گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ﴿وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى﴾ [سورة البقرة: 125] نازل فرمائی: ”تم لوگ مقام ابراہیم کو جائے نماز بنا لو۔“ میں نے عرض کی: نیک اور گنہگار (ہر طرح کے لوگ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں، تو اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم امہات المؤمنین کو پردے کے لیے کہیں (تو یہ مناسب ہو گا)، تو حجاب کے حکم سے متعلق آیت نازل ہو گئی۔ پھر ایک مرتبہ امہات المؤمنین کے کسی معاملے کے بارے میں کوئی بات مجھ تک پہنچی تو میں نے عرض کی: یا تو آپ خواتین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (کو پریشانی کا شکار کرنے) سے رک جائیں گی یا پھر اللہ تعالیٰ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی ازواج عطا کر دے گا، جو آپ سے زیادہ بہتر ہوں گی، یہاں تک کہ میں امہات المؤمنین میں سے ایک ام المؤمنین کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا: اے عمر! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنی ازواج کو کبھی وعظ نہیں کیا اور تم انہیں وعظ کرتے پھر رہے ہو، تو میں اس چیز سے رک گیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ﴿عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ﴾ [سورة التحريم: 5] نازل فرمائی: ”اگر وہ (نبی) تمہیں طلاق دے دے تو اس کا پروردگار اسے بدلے میں ایسی بیویاں عطا کر دے گا جو تم سے زیادہ بہتر ہوں گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6896]

6897

Sahih Ibn Hibban #6897

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثَوْبًا أَبْيَضَ ، فَقَالَ : أَجَدِيدٌ قَمِيصُكَ أَمْ غَسِيلٌ ؟ فَقَالَ : بَلْ جَدِيدٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْبَسْ جَدِيدًا ، وَعِشْ حَمِيدًا ، وَمُتْ شَهِيدًا "، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : وَزَادَ فِيهِ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ : " وَيُعْطِيكَ اللَّهُ قُرَّةَ الْعَيْنِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے جسم پر سفید کپڑا دیکھا تو دریافت فرمایا: ”تمہاری قمیض نئی ہے یا دھلی ہوئی ہے؟“ انہوں نے عرض کی: نئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیا کپڑا پہنو، قابل تعریف زندگی بسر کرو اور شہید کے طور پر مر جانا۔“ امام عبدالرزاق کہتے ہیں کہ ثوری نامی راوی نے اسماعیل بن ابی خالد کے حوالے سے یہ الفاظ اضافی نقل کیے ہیں: ”اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا اور آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6897]

6898

Sahih Ibn Hibban #6898

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ ابْنَ الْمُسَيِّبِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ ، رَأَيْتُنِي عَلَى قَلِيبٍ عَلَيْهَا دَلْوٌ ، فَنَزَعْتُ مِنْهَا مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ أَخَذَهَا مِنِّي ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ ، فَنَزَعَ مِنْهَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ ، وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ضَعْفَهُ ، ثُمَّ اسْتَحَالَ الدَّلْوُ غَرْبًا ، ثُمَّ أَخَذَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَنْزِعُ نَزْعَ ابْنِ الْخَطَّابِ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْيٌ ، فَأَرَى اللَّهُ جَلَّ وَعَلا صَفِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَامِهِ كَأَنَّهُ عَلَى قَلِيبٍ ، وَالْقَلِيبُ فِي انْتِفَاعِ الْمُسْلِمِينَ بِهِ كَأَمْرِ الْمُسْلِمِينَ ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَنَزَعْتُ مِنْهَا مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ أَخَذَ مِنِّي ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ فَنَزَعَ مِنْهَا ذَنُوبًا ، أَوْ ذَنُوبَيْنِ " ، يُرِيدُ أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ ، فَالذَّنُوبَانِ كَانَا خِلافَةَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَنَتَيْنِ وَأَيَّامًا ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثُمَّ أَخَذَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ " ، فَصَحَّ بِمَا ذَكَرْتُ اسْتِخْلافُ عُمَرَ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، بِدَلِيلِ السُّنَّةِ الْمُصَرِّحَةِ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ایک مرتبہ میں سویا ہوا تھا میں نے خود کو ایک کنویں کے پاس دیکھا جس پر ڈول موجود تھا میں نے اس میں سے جتنا اللہ کو منظور تھا پانی نکال لیا پھر وہ ڈول مجھ سے ابن ابوقحافہ (یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ) نے لے لیا، انہوں نے اس میں سے ایک یا دو ڈول نکال لیے، ان کے نکالنے میں کچھ کمزوری تھی اللہ تعالیٰ ان کی کمزوری کی مغفرت کر دے، پھر وہ ڈول بڑے ڈول میں تبدیل ہو گیا، پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے لیا تو میں نے لوگوں میں ایسا محنتی کوئی شخص نہیں دیکھا، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس میں سے اتنا پانی نکالا کہ لوگ اچھی طرح سیراب ہو گئے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب وحی ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو خواب میں یہ بات دکھائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کنویں پر موجود ہیں اور مسلمانوں کے نفع کے حوالے سے کنواں حکومت کی طرح ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے اس میں سے جتنا اللہ کو منظور تھا اتنا پانی نکالا پھر وہ مجھ سے ابن ابوقحافہ نے لے لیا، انہوں نے اس میں سے کچھ ڈول (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) دو ڈول نکالے“ اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مسلمانوں کی حکومت ہے، تو دو ڈولوں کی صورت یوں ہو گی کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت بھی دو سال اور کچھ دن پر مشتمل تھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پھر اسے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لے لیا“ تو اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ میں نے جو بات ذکر کی ہے وہ درست ہے کیونکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہی خلیفہ بنے تھے، تو یہ اس سنت میں صریح دلیل ہے اس بات کی جو ہم نے ذکر کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6898]

6899

Sahih Ibn Hibban #6899

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ ، ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ عُمَرُ ، ثُمَّ آتِي أَهْلَ الْبَقِيعِ فَيُحْشَرُونَ مَعِي ، ثُمَّ أَنْتَظِرُ أَهْلَ مَكَّةَ حَتَّى يُحْشَرُوا بَيْنَ الْحَرَمَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں وہ پہلا شخص ہوں جس کے لیے (قیامت کے دن) زمین کو شق کیا جائے گا (یعنی جو سب سے پہلے اپنی قبر سے اٹھے گا)، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ ہوں گے، پھر عمر رضی اللہ عنہ ہوں گے، پھر میں اہل بقیع کی طرف آ جاؤں گا، ان لوگوں کا حشر میرے ساتھ ہوگا، پھر میں اہل مکہ کا انتظار کروں گا، یہاں تک کہ وہ لوگ دونوں حرموں کے درمیان اکٹھے کر دیے جائیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6899]

6900

Sahih Ibn Hibban #6900

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ بِوَاسِطَ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلاسِلِ ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِِلَيْكَ ؟ قَالَ : عَائِشَةُ ، قُلْتُ : مِنَ الرِّجَالِ ؟ قَالَ : أَبُوهَا ، قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنگ ”ذات سلاسل“ کے لیے بھیجا، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دریافت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ“۔ میں نے دریافت کیا: مردوں میں سے کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا والد“۔ میں نے دریافت کیا: پھر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر عمر بن خطاب“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6900]

6901

Sahih Ibn Hibban #6901

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنْ يُطِعِ النَّاسُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ ، فَقَدْ أَرْشَدُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر لوگ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی اطاعت کر لیں، تو وہ ہدایت پا لیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6901]

6902

Sahih Ibn Hibban #6902

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سَالِمٍ الْمُرَادِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِِنِّيلا أَرَى بَقَائِي فِيْكُمْ إِِلا قَلِيلا ، فَاقْتَدُوا بِالَّذِينَ مِنْ بَعْدِي وَأَشَارَ إِِلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ، وَاهْتَدُوا بِهَدْيِ عَمَّارٍ ، وَمَا حَدَّثَكُمُ ابْنُ مَسْعُودٍ ، فَاقْبَلُوهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرا خیال ہے اب تمہارے درمیان میری موجودگی تھوڑے ہی عرصے کے لیے رہ گئی ہے، تو تم میرے بعد ان لوگوں کی پیروی کرنا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”اور تم عمار کی ہدایت پر عمل پیرا ہونا اور جو چیز عبداللہ بن مسعود تمہیں بیان کرے اسے قبول کر لینا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6902]

6903

Sahih Ibn Hibban #6903

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَن رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً إِِذْ أَعْيَا ، فَرَكِبَهَا فَالْتَفَتَتْ إِِلَيْهِ ، فَقَالَتْ : إِِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهَذَا ، إِِنَّمَا خُلِقْنَا لِحِرَاثَةِ الأَرْضِ ، فَقَالَ النَّاسُ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، سُبْحَانَ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَإِِنِّي أُؤْمِنُ بِهَذَا أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ "، وَلَيْسَا فِي الْقَوْمِ ، قَالَ : فَقَالَ النَّاسُ : آمَنَّا بِمَا آمَنَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک مرتبہ ایک شخص گائے کو لے کر جا رہا تھا، جب وہ تھک گیا تو وہ اس گائے پر سوار ہو گیا، وہ گائے اس کی طرف مڑی اور بولی: ہم کو اس کام کے لیے پیدا نہیں کیا گیا، ہمیں تو کھیتی باڑی کرنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ لوگوں نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ، سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے، اللہ پاک ہے“۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی اس بات پر ایمان رکھتے ہیں (کہ گائے کلام کر سکتی ہے) حالانکہ یہ دونوں صاحبان حاضرین میں موجود نہیں تھے۔“ راوی کہتے ہیں: تو لوگوں نے کہا: ”ہم بھی اس چیز پر ایمان رکھتے ہیں، جس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایمان رکھتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6903]

6904

Sahih Ibn Hibban #6904

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُقَيْلِ بْنِ خُوَيْلِدٍ ، حَدَّثَنَا خُنَيْسُ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرَ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ ، إِِلا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عون بن ابوجحیفہ اپنے والد (رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) جنت کے تمام پہلے والے اور بعد والے عمر رسیدہ افراد کے سردار ہیں، البتہ انبیاء اور مرسلین کا معاملہ مختلف ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6904]

6905

Sahih Ibn Hibban #6905

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ الْغُبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ : كَانَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ عَبْدًا لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، وَكَانَ يَصْنَعُ الأَرْحَاءَ ، وَكَانَ الْمُغِيرَةِ يَسْتَغِلُّهُ كُلَّ يَوْمٍ بِأَرْبَعَةِ دَرَاهِمَ ، فَلَقِيَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِِنَّ الْمُغِيرَةَ قَدْ أَثْقَلَ عَلَيَّ غَلَّتِي ، فَكَلِّمْهُ يُخَفِّفْ عَنِّي ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : اتَّقِ اللَّهَ ، وَأَحْسِنْ إِِلَى مَوْلاكَ ، فَغَضِبَ الْعَبْدُ ، وَقَالَ : وَسِعَ النَّاسَ كُلَّهُمْ عَدْلُكَ غَيْرِي ، فَأَضْمَرَ عَلَى قَتْلِهِ ، فَاصْطَنَعَ خَنْجَرًا لَهُ رَأْسَانِ وَسَمَّهُ ، ثُمَّ أَتَى بِهِ الْهُرْمُزَانَ ، فَقَالَ : كَيْفَ تَرَى هَذَا ؟ فَقَالَ : إِِنَّكَ لا تَضْرِبُ بِهَذَا أَحَدًا إِِلا قَتَلْتَهُ ، قَالَ : وَتَحَيَّنَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ عُمَرَ ، فَجَاءَهُ فِي صَلاةِ الْغَدَاةِ ، حَتَّى قَامَ وَرَاءَ عُمَرَ ، وَكَانَ عُمَرُ إِِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ ، يَقُولُ : أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ، فَقَالَ كَمَا كَانَ يَقُولُ ،فَلَمَّا كَبَّرَ وَجَأَهُ أَبُو لُؤْلُؤَةَ فِي كَتِفِهِ ، وَوَجَأَهُ فِي خَاصِرَتِهِ ، فَسَقَطَ عُمَرُ وَطَعَنَ بِخَنْجَرِهِ ثَلاثَةَ عَشَرَ رَجُلا ، فَهَلَكَ مِنْهُمْ سَبْعَةٌ ، وَحُمِلَ عُمَرُ فَذُهِبَ بِهِ إِِلَى مَنْزِلِهِ ، وَصَاحَ النَّاسُ حَتَّى كَادَتْ تَطْلُعُ الشَّمْسُ ، فَنَادَى النَّاسَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، الصَّلاةَ الصَّلاةَ ، قَالَ : فَفَزِعُوا إِِلَى الصَّلاةِ ، فَتَقَدَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، فَصَلَّى بِهِمْ بِأَقْصَرِ سُورَتَيْنِ فِي الْقُرْآنِ ، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ تَوَجَّهُوا إِِلَى عُمَرَ ، فَدَعَا عُمَرُ بِشَرَابٍ لَيَنْظُرَ مَا قَدْرُ جُرْحِهِ ، فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ فَشَرِبَهُ ، فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِهِ فَلَمْ يَدْرِ أَنَبِيذٌ هُوَ أَمْ دَمٌ ، فَدَعَا بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِهِ ، فَقَالُوا لا بَأْسَ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : إِِنْ يَكُنِ الْقَتْلُ بَأْسًا ، فَقَدْ قُتِلْتُ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يُثْنُونَ عَلَيْهِ ، يَقُولُونَ : جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، كُنْتَ وَكُنْتَ ، ثُمَّ يَنْصَرِفُونَ وَيَجِيءُ قَوْمٌ آخَرُونَ ، فَيُثْنُونَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَمَا وَاللَّهِ عَلَى مَا تَقُولُونَ ، وَدِدْتُ أَنِّي خَرَجْتُ مِنْهَا كَفَافًا لا عَلَيَّ وَلا لِي ، وَإِِنَّ صُحْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلِمَتْ لِي ، فَتَكَلَّمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَكَانَ عِنْدَ رَأْسِهِ ، وَكَانَ خَلِيطَهُ كَأَنَّهُ مِنْ أَهْلِهِ ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ ، فَتَكَلَّمَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : لا وَاللَّهِ ، لا تَخْرُجُ مِنْهَا كَفَافًا ، لَقَدْ صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَحِبْتَهُ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ بِخَيْرِ مَا صَحِبَهُ صَاحِبٌ ، كُنْتَ لَهُ ، وَكُنْتَ لَهُ ، وَكُنْتَ لَهُ ، حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ " ، ثُمَّ صَحِبْتَ خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ ، فَكُنْتَ تُنَفِّذُ أَمْرَهُ ، وَكُنْتَ لَهُ ، وَكُنْتَ لَهُ ، ثُمَّ وَلِيتَهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْتَ ، فَوَلِيتَهَا بِخَيْرِ مَا وَلِيَهَا وَالٍ ، وَكُنْتَ تَفْعَلُ ، وَكُنْتَ تَفْعَلُ ، فَكَانَ عُمَرُ يَسْتَرِيحُ إِِلَى حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : كَرِّرْ عَلَيَّ حَدِيثَكَ ، فَكَرَّرَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَمَا وَاللَّهِ عَلَى مَا تَقُولُ " لَوْ أَنَّ لِي طِلاعَ الأَرْضِ ذَهَبًا ، لافْتَدَيْتُ بِهِ الْيَوْمَ مِنْ هَوْلِ الْمَطْلَعِ " ، قَدْ جَعَلْتُهَا شُورَى فِي سِتَّةٍ : عُثْمَانَ ، وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَجَعَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مَعَهُمْ مُشِيرًا ، وَلَيْسَ مِنْهُمْ ، وَأَجَّلَهُمْ ثَلاثًا ، وَأَمَرَ صُهَيْبًا أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَرِضْوَانُهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابورافع بیان کرتے ہیں: ابولؤلؤ نامی شخص سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا غلام تھا، وہ چکیاں تیار کرتا تھا، سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ اس سے روزانہ چار درہم خراج وصول کرتے تھے۔ ابولؤلؤ کی ملاقات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی، اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ پر بہت زیادہ تاوانِ خراج عائد کیا ہوا ہے، آپ ان سے بات کیجیے کہ وہ میرے لیے تخفیف کر دیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم اللہ سے ڈرو اور اپنے آقا کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اس پر وہ غلام غصے میں آ گیا اور بولا: آپ کا عدل میرے علاوہ باقی سب لوگوں کے لیے ہے! اس نے اپنے ذہن میں یہ طے کیا کہ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دے گا، اس نے ایک خنجر لیا جو دو دھاری تھا، اس نے اسے زہر آلود کیا، پھر وہ اسے لے کر ہرمزان کے پاس آیا اور بولا: اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا: یہ تم جسے بھی مارو گے اسے قتل کر دو گے۔ تو ابولؤلؤ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو (شہید کرنے کا) ارادہ کیا، وہ صبح کی نماز میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ معمول تھا کہ جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جاتی تو وہ یہ کہتے تھے: تم لوگ اپنی صفیں درست کر لو؛ انہوں نے اپنے معمول کے مطابق یہ کلمہ کہا، پھر جب انہوں نے تکبیر کہی تو ابولؤلؤ نے ان کے کندھے پر وار کیا اور ان کے پہلو پر وار کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گر پڑے، اس نے اس خنجر کے ذریعے تیرہ اور آدمیوں کو بھی زخمی کیا جن میں سے سات لوگ فوت بھی ہو گئے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر ان کے گھر کی طرف لایا گیا، لوگ چیخ و پکار کرنے لگے، یہاں تک کہ سورج کے طلوع ہونے کا وقت قریب آیا تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں اعلان کیا: اے لوگو! نماز، نماز۔ راوی کہتے ہیں: تو لوگ گھبرا کر نماز کی طرف آئے، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگے بڑھے، انہوں نے قرآن کی سب سے چھوٹی سورتوں کے ذریعے ان لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب انہوں نے نماز مکمل کر لی تو یہ لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف آئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مشروب منگوایا تاکہ اس بات کا جائزہ لیں کہ زخم کی مقدار کیا ہے، تو نبیذ لائی گئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ پی تو وہ ان کے زخم سے باہر آ گئی، لیکن یہ پتا نہیں چلتا تھا کہ کیا یہ نبیذ ہے یا خون ہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دودھ منگوا کر اسے پیا تو وہ ان کے زخم سے باہر آ گیا۔ لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ پر کوئی حرج نہیں ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو قتل ہونا حرج ہے، تو میں تو قتل ہو گیا۔ پھر لوگ ان کی تعریف کرنے لگے اور یہ کہنے لگے: اے امیر المؤمنین! اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا کرے، آپ ایسے تھے اور ویسے تھے، پھر وہ لوگ چلے گئے اور دوسرے لوگ آ گئے اور ان کی تعریف کرتے رہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم لوگ جو کہہ رہے ہو اس کے باوجود میری یہ آرزو ہے کہ میں اس (حکومت) کے معاملے سے برابری کی بنیاد پر چھوٹ جاؤں، نہ میرے ذمے کچھ ہو اور نہ ہی مجھے کچھ ملے، بے شک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہونا میری سلامتی کے لیے کافی ہے۔ پھر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے گفتگو شروع کی جو ان کے سرہانے موجود تھے، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اتنے قریبی تھے جیسے ان کے خاندان کے فرد ہوں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما انہیں قرآن کی تلاوت پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے گفتگو کرتے ہوئے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! آپ برابری کی بنیاد پر اس معاملے سے نہیں نکلیں گے، آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی، آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے اس طرح راضی تھے جیسے اس سب سے بہتر شخص سے راضی ہوں جو آپ کے ساتھ رہا، آپ کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں یہ مقام تھا، یہ مقام تھا، یہ مقام تھا، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے راضی تھے، اس کے بعد آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ کے ساتھ رہے، آپ ان کی حکومت کے معاملے کو نافذ کرتے رہے، آپ نے ان کے لیے یہ کیا، ان کے لیے یہ کیا۔ اے امیر المؤمنین! اس کے بعد آپ حکمران بن گئے، تو آپ اتنے اچھے حکمران بنے جتنا کوئی بھی شخص اچھا حکمران ہو سکتا ہے، آپ نے یہ کیا اور وہ کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی گفتگو سے آرام محسوس ہوا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم اپنی بات میرے سامنے دہراؤ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کے سامنے یہ بات دہرائی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم جو کچھ کہہ رہے ہو اس کے باوجود (میں یہ سمجھتا ہوں) کہ اگر میرے لیے تمام روئے زمین سونے کی ہو جائے، تو میں اسے آج کے دن موت کی ہولناکی کے مقابلے میں فدیے کے طور پر دے دوں، میں نے چھ آدمیوں کی مجلس شوریٰ قائم کر دی ہے: عثمان، علی بن ابوطالب، طلحہ بن عبیداللہ، زبیر بن عوام، عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ان حضرات کے ساتھ مشیر کے طور پر مقرر کیا لیکن ان کا حصہ نہیں بنایا، آپ نے ان حضرات کو تین دن کی مہلت دی (وہ تین دن کے اندر اپنے میں سے کسی کو خلیفہ منتخب کر لیں)۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کو یہ ہدایت کی کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہیں، اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی رضامندی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر نازل ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6905]

6906

Sahih Ibn Hibban #6906

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ : اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فِي مِرْطٍ وَاحِدٍ ، فَأَذِنَ لَهُ ، فَقَضَى إِِلَيْهِ حَاجَتَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فِي الْمِرْطِ ، ثُمَّ خَرَجَ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَأَذِنَ لَهُ فَقَضَى إِِلَيْهِ حَاجَتَهُ ، وَأَنَا عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فِي الْمِرْطِ ، ثُمَّ خَرَجَ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَأَصْلَحَ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ ، وَجَلَسَ ، فَقَضَى إِِلَيْهِ حَاجَتَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَأْذَنَ عَلَيْكَ أَبُو بَكْرٍ فَقَضَى إِِلَيْكَ حَاجَتَهُ وَأَنْتَ عَلَى حَالِكَ تِلْكَ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْكَ عُمَرُ فَقَضَى إِِلَيْكَ حَاجَتَهُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ الْحَالِ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْكَ عُثْمَانُ ، فَأَصْلَحْتَ ثِيَابَكَ وَاحْتَفَظْتَ ، فَقَالَ : يَا عَائِشَةُ ، إِِنَّعُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ ، وَلَوْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ ، خَشِيتُ أَنْ لا يَقْضِيَ إِِلَيَّ حَاجَتَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی چادر میں تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ضرورت کو پورا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں چادر کے اندر ہی رہے، پھر وہ تشریف لے گئے، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ضرورت کو پورا کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں چادر میں تشریف فرما رہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ چلے گئے، پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے ٹھیک کیے اور سیدھے ہو کر بیٹھ گئے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ضرورت پوری کی، پھر وہ تشریف لے گئے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ضرورت کو پورا کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں رہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ضرورت کو پورا کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں رہے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے ٹھیک کیے اور سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! عثمان ایک شرم والا شخص ہے، اگر میں اسے اسی حالت میں اجازت دے دیتا تو مجھے اندیشہ تھا کہ وہ اپنی حاجت میرے سامنے بیان نہ کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6906]

6907

Sahih Ibn Hibban #6907

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي بَيْتِهِ كَاشِفًا عَنْ فَخِذَيْهِ ، فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ ، فَتَحَدَّثَ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ ، وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ ، فَتَحَدَّثَ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَوَّى ثِيَابَهُ ، فَدَخَلَ فَتَحَدَّثَ ، فَلَمَّا خَرَجَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ ، فَلَمْ تَهَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِ بِهِ ، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ ، فَلَمْ تَهَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِ بِهِ ، ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ ، فَجَلَسْتَ فَسَوَّيْتَ ثِيَابَكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلا أَسْتَحِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلائِكَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں زانوں سے کپڑا ہٹا کر لیٹے ہوئے تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں رہے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کرتے رہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی اجازت عطا کر دی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں رہے اور وہ بات چیت کرتے رہے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے ٹھیک کر لیے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اندر آئے اور وہ بات چیت کرتے رہے، جب وہ چلے گئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے حرکت نہیں کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کوئی خاص پرواہ نہیں کی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے بھی حرکت نہیں کی اور ان کی بھی کوئی خاص پرواہ نہیں کی، پھر جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اندر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے بھی ٹھیک کیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایک ایسے شخص سے حیا کیوں نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6907]

6908

Sahih Ibn Hibban #6908

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، حَدَّثَهُمْ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا ، فَتَبِعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ ، فَرَجَفَ بِهِمْ ، فَقَالَ : اثْبُتْ ، نَبِيٌّ ، وَصِدِّيقٌ ، وَشَهِيدَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم بھی چڑھے، تو وہ احد حرکت کرنے لگا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ٹھہرے رہو (تمہارے اوپر) ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید موجود ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6908]

6909

Sahih Ibn Hibban #6909

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ عَنْ عُثْمَانَ ، أَشَهِدَ بَدْرًا ؟ فَقَالَ : لا ، فَقَالَ : أَشَهِدَ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ ؟ فَقَالَ : لا ، قَالَ : كَانَ فِيمَنْ تَوَلَّى يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ الرَّجُلُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَقِيلَ لابْنِ عُمَرَ : مَا صَنَعْتَ ؟ يَنْطَلِقُ هَذَا فَيُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّكَ تَنَقَّصْتَ عُثْمَانَ ، قَالَ : رُدُّوهُ عَلَيَّ ، فَلَمَّا جَاءَ ، قَالَ : تَحْفَظُ مَا سَأَلْتَنِي عَنْهُ ؟ فَقَالَ : سَأَلْتُكَ عَنْ عُثْمَانَ ، أَشَهِدَ بَدْرًا ؟ فَقُلْتَ : لا ، قَالَ : فَإِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ يَوْمَ بَدْرٍ فِي حَاجَةٍ لَهُ ، وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمٍ ، وَقَالَ : وَسَأَلْتُكَ : أَشَهِدَ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ ؟ فَقُلْتَ : لا ، قَالَ : إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ فِي حَاجَةٍ لَهُ ، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى يَدِهِ ، أَيَّتُهُمَا خَيْرٌ : يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ يَدُ عُثْمَانَ ؟ قَالَ : وَسَأَلْتُكَ : هَلْ كَانَ فِيمَنْ تَوَلَّى يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ ؟ فَقُلْتَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِِنَّ اللَّهَ يَقُولُ : إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ ، اذْهَبْ فَاجْهَدْ عَلَى جَهْدِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حبیب بن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا کہ کیا وہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: جی نہیں۔ اس نے دریافت کیا: کیا وہ بیعت رضوان میں شریک ہوئے تھے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: جی نہیں۔ انہوں نے دریافت کیا کہ کیا وہ ان لوگوں میں شامل تھے جو اس دن پیچھے ہٹ گئے تھے جب دو گروہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے آئے تھے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس شخص نے کہا: «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“، پھر وہ شخص چلا گیا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا: یہ آپ نے کیا کیا؟ اب یہ شخص جائے گا اور لوگوں کو بتائے گا کہ آپ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تنقیص کرتے ہیں، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اسے میرے پاس بلا کر لاؤ۔ جب وہ شخص آیا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم نے جس چیز کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا تھا، تمہیں وہ بات یاد ہے؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں، میں نے آپ سے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا تھا کہ کیا وہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے، تو آپ نے جواب دیا کہ جی نہیں، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے موقع پر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اپنے کسی کام سے بھیجا تھا اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے لیے (غزوہ بدر کے مال غنیمت میں) حصہ مقرر کیا تھا، اس شخص نے کہا: میں نے آپ سے یہ سوال کیا تھا کہ کیا وہ بیعت رضوان میں شریک ہوئے تھے، تو آپ نے جواب دیا کہ جی نہیں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ذاتی کام کے سلسلے میں بھیجا تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے بیعت کی تھی)، تو یہ بتاؤ کہ کون سا ہاتھ زیادہ بہتر تھا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ یا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ؟ اس شخص نے کہا: میں نے آپ سے دریافت کیا تھا کہ کیا وہ اس دن پیچھے ہٹنے والوں میں شامل تھے جب دو گروہ ایک دوسرے کے مدمقابل آئے تھے، تو آپ نے جواب دیا کہ جی ہاں، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے: ﴿إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا ۖ وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ﴾ ﴿انہوں نے جو کچھ کیا تھا اس میں سے کسی چیز کے عوض میں شیطان نے انہیں پھسلا دیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان سے درگزر کیا بے شک اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا اور بردبار ہے۔﴾ [سورة آل عمران: 155] (پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس شخص سے فرمایا): اب تم جاؤ اور اپنی طرف سے پوری کوشش کر لو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6909]

6910

Sahih Ibn Hibban #6910

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي حَائِطٍ وَأَنَا مَعَهُ ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ ، فَقَالَ : افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " ، فَإِِذَا هُوَ أَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَاسْتَفْتَحَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " ، فَإِِذَا هُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَاسْتَفْتَحَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " ، فَإِِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں موجود تھے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، اسی دوران ایک شخص آیا، اس نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو۔“ تو وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے، پھر ایک اور شخص آیا، اس نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو۔“ تو وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے، پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو۔“ تو وہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6910]

6911

Sahih Ibn Hibban #6911

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبَرْتِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِي : احْفَظِ الْبَابَ ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ ، فَقَالَ : ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " ، فَإِِذَا أَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ ، فَقَالَ : " ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " ، فَإِِذَا عُمَرُ ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ ، قَالَ : فَسَكَتَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوًى شَدِيدَةٍ تُصِيبُهُ " ، فَإِِذَا عُثْمَانُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”دروازے کا دھیان رکھنا۔“ پھر ایک شخص آیا، اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اجازت دے دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو۔“ تو وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر ایک اور شخص آیا، اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اجازت دے دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو۔“ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر ایک اور شخص آیا، اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اجازت دے دو، اسے جنت کی خوشخبری دے دو اور ساتھ اسے ایک شدید آزمائش کا شکار ہونا پڑے گا جو اسے لاحق ہوگی۔“ تو وہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6911]

6912

Sahih Ibn Hibban #6912

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ الرَّاسِبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، عَن رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ مُتَّكِئًا فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ ، وَهُوَ يَقُولُ بِعُودٍ فِي الْمَاءِ وَالطِّينِ يَنْكُتُ بِهِ ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " ، فَإِِذَا هُوَ أَبُو بَكْرٍ ، فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ آخَرُ ، فَقَالَ : " افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " ، فَإِِذَا هُوَ عُمَرُ ، فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ آخَرُ فَجَلَسَ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَ : " افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوًى " ، قَالَ : فَفَتَحْتُ لَهُ ، فَإِِذَا هُوَ عُثْمَانُ، فَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ وَقُلْتُ لَهُ الَّذِي قَالَ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ صَبْرًا ، أَوْ قَالَ : اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے ایک باغ میں ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چھڑی کے ذریعے پانی اور مٹی کرید رہے تھے، اسی دوران ایک شخص آیا، اس نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے کھول دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو۔“ تو وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، میں نے ان کے لیے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی خوشخبری دی، پھر ایک اور شخص نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو۔“ تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے، میں نے ان کے لیے دروازہ کھول دیا اور انہیں جنت کی خوشخبری دی، پھر ایک اور شخص نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر کے لیے بیٹھے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس کے لیے دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو، لیکن اسے ایک آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے ان کے لیے دروازہ کھول دیا تو وہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے، میں نے انہیں جنت کی خوشخبری دی اور انہیں وہ بات بیان کی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی تھی، تو انہوں نے کہا: اے اللہ! (میں تجھ سے) صبر کا سوال کرتا ہوں، (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) «اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ» ”اللہ تعالیٰ سے ہی مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6912]

6913

Sahih Ibn Hibban #6913

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِِنِّيأُرِيتُ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ صَالِحٌ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ نِيطَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنِيطَ عُمَرُ بِأَبِي بَكْرٍ ، وَنِيطَ عُثْمَانُ بِعُمَرَ "، قَالَ جَابِرٌ : فَلَمَّا قُمْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْنَا : أَمَّا الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَّا مَا ذَكَرَ مِنْ نَوْطِ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ ، فَهُمْ وُلاةُ هَذَا الأَمْرِ الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گزشتہ رات (خواب میں) مجھے ایک نیک شخص دکھایا گیا، یہ کہ ابوبکر اللہ کے رسول کے ساتھ ہے اور عمر ابوبکر کے ساتھ ہے اور عثمان عمر کے ساتھ ہے۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ گئے تو ہم نے کہا: نیک آدمی سے مراد تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے، لیکن جہاں تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ ان میں سے ایک دوسرے کے ساتھ تھا تو یہ حکومت کا معاملہ ہوگا جس کے ہمراہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مبعوث کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6913]

6914

Sahih Ibn Hibban #6914

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ كَهْمَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، حَدَّثَنِي هَرَمِيُّ بْنُ الْحَارِثِ ، وَأُسَامَةُ بْنُ خُرَيْمٍ ، قَالَ : كَانَا يُغَازِيَانِ ، فَحَدَّثَانِي وَلا يَشْعُرُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَّ صَاحِبَهُ حَدَّثَنِيهِ ، عَنْ مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : كَيْفَ تَصْنَعُونَ فِي فِتْنَةٍ تَثُورُ فِي أَقْطَارِ الأَرْضِ كَأَنَّهَا صَيَاصِي الْبَقَرِ ؟ قَالُوا : نَصْنَعُ مَاذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : عَلَيْكُمْ بِهَذَا وَأَصْحَابِهِ ، قَالَ : فَأَسْرَعْتُ حَتَّى عَطَفْتُ إِِلَى الرَّجُلِ ، قُلْتُ : هَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : هَذَا ، فَإِِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مرہ بہزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کے کسی راستے پر چل رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایسے فتنے کے دوران تم لوگ کیا کرو گے جو زمین پر یوں پھیل جائے گا جیسے وہ گائے کا سینگ ہوتا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر لازم ہے کہ تم اس شخص اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ رہو۔“ (راوی کہتے ہیں:) میں تیزی سے ان صاحب کی طرف لپکا (جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا تھا) میں نے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی! کیا یہ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ۔“ تو وہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6914]

6915

Sahih Ibn Hibban #6915

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، أَنَّهُ أَرْسَلَهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بِكِتَابٍ إِِلَى عَائِشَةَ ، فَدَفَعَهُ إِِلَيْهَا ، فَقَالَتْ : أَلا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ : بَلَى ، قَالَتْ : إِِنِّي عِنْدَهُ ذَاتَ يَوْمٍ أَنَا وَحَفْصَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ كَانَ عِنْدَنَا رَجُلٌ يُحَدِّثُنَا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَبْعَثُ إِِلَى أَبِي بَكْرٍ يَجِيءُ فَيُحَدِّثُنَا ؟ قَالَتْ : فَسَكَتَ ، فَقَالَتْ حَفْصَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَبْعَثُ إِِلَى عُمَرَ فَيَجِيءُ فَيُحَدِّثُنَا ؟ قَالَتْ : فَسَكَتَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَعَا رَجُلا ، فَأَسَرَّ إِِلَيْهِ بِشَيْءٍ دُونَنَا ، فَذَهَبَ ، فَجَاءَ عُثْمَانُ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ ، فَسَمِعْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يَا عُثْمَانُ ، إِِنَّاللَّهَ لَعَلَّهُ يُقَمِّصُكَ قَمِيصًا ، فَإِِنْ أَرَادُوكَ عَلَى خَلْعِهِ فَلا تَخْلَعْهُ ثَلاثًا "، قُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، فَأَيْنَ كُنْتِ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ؟ قَالَتْ : يَا بُنَيَّ ، أُنْسِيتُهُ ، كَأَنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ قَطُّ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ اللَّخْمِيُّ ، مَاتَ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ وَمِائَةٍ ، وَلَيْسَ هَذَا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ صَاحِبِ عَائِشَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما نے انہیں ایک خط کے ہمراہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا، تو انہوں نے وہ خط سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے پیش کر دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ حدیث نہ سناؤں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: ایک دن میں اور حفصہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کاش ہمارے پاس کوئی ایسا شخص ہوتا جو ہمارے ساتھ بات چیت کرتا۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھجواتی ہوں، وہ آئیں گے اور ہمارے ساتھ بات چیت کر لیں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھجواتی ہوں، وہ آئیں گے اور ہمارے ساتھ بات چیت کر لیں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بلوایا اور اس کے ساتھ سرگوشی میں کوئی بات چیت کی جو ہم تک نہیں پہنچی، پھر وہ شخص چلا گیا اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہو گئے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”اے عثمان! بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا اور لوگ یہ چاہیں گے کہ تم اسے اتار دو، تو تم اسے نہ اتارنا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے کہا: اے ام المؤمنین! آپ نے پہلے یہ حدیث کیوں بیان نہیں کی؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: اے میرے بیٹے! میں اسے بھول گئی تھی، یوں جیسے میں نے کبھی سنی ہی نہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عبداللہ بن قیس لخمی نامی راوی کا انتقال ایک سو چوبیس ہجری میں ہوا، یہ وہ عبداللہ بن ابوقیس نہیں ہیں جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا شاگرد تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6915]

6916

Sahih Ibn Hibban #6916

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : لَمَّا حُصِرَ عُثْمَانُ وَأُحِيطَ بِدَارِهِ أَشْرَفَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ انْتَفَضَ بِنَا حِرَاءُ ، قَالَ : اثْبُتْ حِرَاءُ ، فَمَا عَلَيْكَ إِِلا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ " ؟ قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، قَالَ : نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي غَزْوَةِ الْعُسْرَةِ : " مَنْ يُنْفِقْ نَفَقَةً مُتَقَبَّلَةً ؟ وَالنَّاسُ يَوْمَئِذٍ مُعْسِرُونَ مُجْهَدُونَ ، فَجَهَّزْتُ ثُلُثَ ذَلِكَ الْجَيْشِ مِنْ مَالِي " ، فَقَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، ثُمَّ قَالَ : نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ " رُومَةَ لَمْ يَكُنْ يُشْرَبُ مِنْهَا إِِلا بِثَمَنٍ ، فَابْتَعْتُهَا بِمَالِي ، فَجَعَلْتُهَا لِلْغَنِيِّ وَالْفَقِيرِ وَابْنِ السَّبِيلِ " ؟ فَقَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، فِي أَشْيَاءَ عَدَّدَهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابو عبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا گیا اور ان کے گھر کو گھیر لیا گیا، تو انہوں نے لوگوں کی طرف جھانک کر ارشاد فرمایا: میں تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں، کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمارے ساتھ حرا (پہاڑ) پر موجود تھے اور وہ ہلنے لگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حرا! ٹھہرے رہو تمہارے اوپر ایک نبی، ایک صدیق، ایک شہید موجود ہے“؟ تو لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! جی ہاں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں، کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر یہ بات ارشاد فرمائی: ”وہ کون شخص ایسا خرچ کرے گا جسے قبول کیا جائے؟“ ان دنوں لوگ تنگ دست تھے، تو میں نے اس لشکر کے لیے ایک تہائی ساز و سامان اپنے مال میں سے تیار کیا تھا۔ لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا ہی ہے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں، کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ رومہ نامی کنویں سے صرف قیمت دے کر پانی لیا جا سکتا تھا، میں نے اپنے مال میں سے اسے خریدا اور اسے ہر خوشحال اور غریب شخص کے لیے اور مسافر کے لیے (وقف کر دیا)؟ تو ان لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا ہی ہے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اور بھی کچھ چیزیں گنوائیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6916]