Sahih Ibn Hibban #6877
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ :بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ الْجُمُعَةَ ، وَقَدِمَتْ عِيرٌ الْمَدِينَةَ ، فَابْتَدَرَهَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى لَمْ يَبْقَ مَعَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلا اثْنَا عَشَرَ رَجُلا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ تَتَابَعْتُمْ حَتَّى لا يَبْقَى مِنْكُمْ أَحَدٌ ، لَسَالَ لَكُمُ الْوَادِي نَارًا " ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا ، وَقَالَ فِي الاثْنَيْ عَشَرَ الَّذِينَ ثَبَتُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ"
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے، اسی دوران (ساز و سامان کا) ایک قافلہ مدینہ منورہ آ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تیزی سے اس کی طرف چلے گئے، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف بارہ افراد رہ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اگر تم لوگ بھی ان کے پیچھے چلے جاتے یہاں تک کہ تم میں سے کوئی بھی باقی نہ رہتا تو تمہارے لیے یہ تمام وادی آگ سے بھر جاتی۔“ (راوی کہتے ہیں:) اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا﴾ [سورة الجمعة: 11] ”اور جب انہوں نے تجارت اور دلچسپی کی چیز دیکھی تو تیزی سے اس کی طرف چلے گئے اور تمہیں (خطبہ دیتے ہوئے) کھڑا چھوڑ گئے۔“ راوی نے بتایا کہ وہ بارہ افراد جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہاں رہے تھے، ان میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6877]