Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 60 · Chapter 3

Book of Contagion, Pessimism, and Optimism

Hadith 6843–6876

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6843

Sahih Ibn Hibban #6843

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الطُّفَيْلِ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ حُذَيْفَةَ بْنِ أُسَيْدٍ ، قَالَ : أَشْرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ ، فَقَالَ : مَاذَا كُنْتُمْ تَتَذَاكَرُونَ ؟ قُلْنَا : كُنَّا نَتَذَاكَرُ السَّاعَةَ ، فَقَالَ : إِِنَّهَالا تَقُومُ حَتَّى تَرَوْا قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ : الدَّجَّالَ ، وَالدُّخَانَ ، وَعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ ، وَيَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ ، وَالدَّابَّةَ ، وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَثَلاثَ خُسُوفٍ : خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ ، وَآخَرُ ذَلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنَ أَوْ عَدَنٍ أَوِ الْيَمَنِ ، تَطْرُدُ النَّاسَ إِِلَى الْمَحْشَرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسریحہ حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف جھانک کر دیکھا، ہم اس وقت بات چیت کر رہے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کس چیز کے بارے میں بات چیت کر رہے ہو؟“ ہم نے عرض کی: ہم قیامت کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہیں دیکھو گے: دجال، دھواں، سیدنا عیسیٰ بن مریم (کا نزول)، یاجوج و ماجوج، دابۃ الارض، سورج کا مغرب سے نکلنا اور تین مرتبہ دھنسنا؛ ایک مرتبہ دھنسنا مشرق میں ہو گا، ایک مرتبہ دھنسنا مغرب میں ہو گا، ایک مرتبہ دھنسنا جزیرۃ العرب میں ہو گا اور اس کے آخر میں ایک آگ ہو گی جو عدن کے گڑھے سے نکلے گی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) عدن سے نکلے گی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یمن سے نکلے گی اور وہ لوگوں کو میدانِ محشر کی طرف لے جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6843]

6844

Sahih Ibn Hibban #6844

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي زُفَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَرْدَكَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ وَالِبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ،لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَظْهَرَ الْفُحْشُ وَالْبُخْلُ ، وَيُخَوَّنَ الأَمِينُ ، وَيُؤْتَمَنَ الْخَائِنُ ، وَيَهْلِكَ الْوُعُولُ ، وَتَظْهَرَ التَّحُوتُ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْوُعُولُ وَالتَّحُوتُ ؟ قَالَ : " الْوُعُولُ : وجُوهُ النَّاسِ وَأَشْرَافُهُمْ ، وَالتَّحُوتُ : الَّذِينَ كَانُوا تَحْتَ أَقْدَامِ النَّاسِ لا يُعْلَمُ بِهِمْ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَمِعَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ أَبَا هُرَيْرَةَ وَهُوَ ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ إِِذَا ذَاكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک فحاشی اور کنجوسی عام نہیں ہو جاتے۔ امین شخص کو خائن قرار دیا جائے گا اور خائن شخص کو امین بنایا جائے گا۔ «الْوُعُولُ» ہلاکت کا شکار ہو جائے گا اور «التُّحُوتُ» عام ہو جائے گا۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! «الْوُعُولُ» اور «التُّحُوتُ» سے کیا مراد ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «الْوُعُولُ» سے مراد لوگوں کے بڑے اور معززین ہیں اور «التُّحُوتُ» سے مراد وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے پاؤں کے نیچے رہتے ہیں اور ان کے بارے میں علم نہیں ہوتا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس وقت احادیث کا سماع کیا تھا جس وقت ان کی عمر دس سال تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6844]

6845

Sahih Ibn Hibban #6845

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُشْكَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْرَجُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَثَوْبُهُمَا بَيْنَهُمَا لا يَطْوِيَانِهِ وَلا يَتَبَايَعَانِهِ ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدِ انْصَرَفَ بِلَبَنِ لِقْحَتِهِ لا يَطْعَمُهُ ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَهُوَ يَلُوطُ حَوْضَهُ لا يَسْقِيهِ ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَرَفَعَ لُقْمَتَهُ إِِلَى فِيهِ لا يَطْعَمُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت ضرور ایسی حالت میں قائم ہو گی جب کہ (دو آدمیوں کا) کپڑا ان کے درمیان ہو گا، وہ نہ تو اسے لپیٹ سکیں گے اور نہ ہی اس کا سودا طے کر سکیں گے۔ قیامت ضرور ایسی حالت میں قائم ہو گی کہ آدمی اپنی اونٹنی کا دودھ لے کر واپس جائے گا لیکن وہ اسے پی نہیں سکے گا۔ قیامت ضرور ایسی حالت میں قائم ہو گی جب کوئی شخص اپنے حوض کو درست کر رہا ہو گا لیکن اس میں سے پی نہیں سکے گا۔ قیامت ضرور ایسی حالت میں قائم ہو گی جب آدمی اپنا لقمہ اپنے منہ کی طرف بڑھائے گا لیکن اسے کھا نہیں سکے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6845]

6846

Sahih Ibn Hibban #6846

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْغَضَائِرِيُّ بِحَلَبَ ، وَالْبُجَيْرِيُّ بِصُغْدَ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَيْسُورٌ ، عَنْ أَبِي الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : تَقُومُ السَّاعَةُ عَلَى رَجُلَيْنِ بَيْنَهُمَا ثَوْبٌ يَتَبَايَعَانِهِ ، فَلا هُمَا يَنْشُرَانِهِ وَلا هُمَا يَطْوِيَانِهِ ، وَتَقُومُ السَّاعَةُ عَلَى رَجُلٍ وَفِي فِيهِ لُقْمَةٌ ، فَلا هُوَ يُسِيغُهَا وَلا هُوَ يَلْفِظُهَا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو الْحَارِثِ هَذَا هُوَ : مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، وَمَيْسُورٌ هُوَ : ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت ایسے آدمیوں پر قائم ہو گی جن کے درمیان ایک کپڑا ہو گا، جس کے بارے میں وہ سودا طے کر رہے ہوں گے، لیکن وہ نہ تو اسے پھیلا سکیں گے اور نہ ہی اسے سمیٹ سکیں گے۔ قیامت ایک ایسے شخص پر قائم ہو گی کہ اس کے منہ میں ایک لقمہ ہو گا لیکن وہ نہ تو اسے نگل سکے گا اور نہ ہی اسے اگل سکے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوحارث نامی یہ راوی محمد بن زیاد ہے اور میسور نامی راوی عبدالرحمن کا بیٹا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6846]

6847

Sahih Ibn Hibban #6847

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مِنْ شِرَارِ النَّاسِ مَنْ تُدْرِكُهُمُ السَّاعَةُ وَهُمْ أَحْيَاءٌ ، وَمَنْ يَتَّخِذُ الْقُبُورَ مَسَاجِدَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”لوگوں میں سے بدترین وہ لوگ ہوں گے جنہیں قیامت ایسی حالت میں پائے گی کہ وہ زندہ ہوں گے (اور لوگوں میں بدترین وہ لوگ ہیں) جو قبروں کو سجدہ گاہ بنا دیتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6847]

6848

Sahih Ibn Hibban #6848

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَقُومُ السَّاعَةُ عَلَى أَحَدٍ يَقُولُ : لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت ایسے کسی شخص پر قائم نہیں ہو گی جو «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ پڑھتا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6848]

6849

Sahih Ibn Hibban #6849

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَن رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لا يُقَالَ فِي الأَرْضِ : اللَّهُ اللَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک زمین میں «اللهُ اللهُ» ”اللہ اللہ“ کہا جاتا رہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6849]

6850

Sahih Ibn Hibban #6850

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا تَقُومُ السَّاعَةُ إِِلا عَلَى شِرَارِ النَّاسِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت صرف بدترین لوگوں پر قائم ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6850]

6851

Sahih Ibn Hibban #6851

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ أَبُو الْوَلِيدِ بِصَيْدَا ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ سَيَارٍ ، حَدَّثَنَا جُنَادَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُرِّيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الْعِشْرِينَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَتُنْتَقَوْنَ كَمَا يُنَقَّى التَّمْرُ مِنْ حُثَالَتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عنقریب تم لوگوں کو یوں چن لیا جائے گا، جس طرح کھجور کو اس کے (چھلکوں وغیرہ میں سے) چن لیا جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6851]

6852

Sahih Ibn Hibban #6852

أَخْبَرَنَا الْخَلِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ بِنْتِ تَمِيمِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ السُّكَّرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ مِرْدَاسٍ الأَسْلَمِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يُقْبَضُ الصَّالِحُونَ أَسْلافًا ، وَيُفْنَى الصَّالِحُونَ الأَوَّلُ فَالأَوَّلُ ، حَتَّى لا يَبْقَى إِِلا مِثْلُ حُثَالَةِ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ لا يُبَالِي اللَّهُ بِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مرداس اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”نیک لوگوں کو اسلاف کے طور پر (دنیا سے) قبض کر لیا جائے گا اور نیک لوگ ایک ایک کر کے ختم ہو جائیں گے، یہاں تک کہ ایسے لوگ باقی رہ جائیں گے جو کھجوروں کے چھلکوں کی طرح (بے کار اور فضول ہوں گے) اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6852]

6853

Sahih Ibn Hibban #6853

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُبْعَثَ رِيحٌ حَمْرَاءُ مِنْ قِبَلِ الْيَمَنِ ، فَيَكْفِتُ اللَّهُ بِهَا كُلَّ نَفْسٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، وَمَا يُنْكِرُهَا النَّاسُ مِنْ قِلَّةِ مَنْ يَمُوتُ فِيهَا : مَاتَ شَيْخٌ فِي بَنِي فُلانٍ ، وَمَاتَتْ عَجُوزٌ فِي بَنِي فُلانٍ ، وَيُسَرَى عَلَى كِتَابِ اللَّهِ ، فَيُرْفَعُ إِِلَى السَّمَاءِ ، فَلا يَبْقَى فِي الأَرْضِ مِنْهُ آيَةٌ ، وَتَقِيءُ الأَرْضُ أَفْلاذَ كَبِدِهَا مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ ، وَلا يَنْتَفِعُ بِهَا بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ ، يَمُرُّ بِهَا الرَّجُلُ فَيَضْرِبُهَا بِرِجْلِهِ ، وَيَقُولُ : فِي هَذِهِ كَانَ يَقْتَتِلُ مَنْ كَانَ قَبْلَنَا ، وَأَصْبَحَتِ الْيَوْمَ لا يُنْتَفَعُ بِهَا "، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَإِِنَّ أَوَّلَ قَبَائِلِ الْعَرَبِ فَنَاءً قُرَيْشٌ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، أَوْشَكَ أَنْ يَمُرَّ الرَّجُلُ عَلَى النَّعْلِ وَهِيَ مُلْقَاةٌ فِي الْكُنَاسَةِ فَيَأْخُذُهَا بِيَدِهِ ، ثُمَّ يَقُولُ : كَانَتْ هَذِهِ مِنْ نِعَالِ قُرَيْشٍ فِي النَّاسِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جس وقت تک یمن کی طرف سے سرخ ہوا نہیں چلے گی، تو اس ہوا کے ذریعے اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کی جان کو قبض کر لے گا، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو۔ اس میں مرنے والے لوگوں کی کمی کی وجہ سے لوگ اسے منکر نہیں سمجھیں گے (اور یہ کہیں گے) بنو فلاں کا بوڑھا آدمی اس میں مر گیا ہے اور بنو فلاں کی بوڑھی عورت اس میں مر گئی ہے۔ اللہ کی کتاب کو الگ کیا جائے گا اور اسے آسمان کی طرف اٹھا لیا جائے گا، زمین پر اس میں سے کوئی بھی آیت باقی نہیں رہے گی، زمین اپنے جگر کے ٹکڑے یعنی سونے اور چاندی کو اگل دے گی، لیکن اس دن کے بعد کوئی اس سے نفع حاصل نہیں کر سکے گا، کوئی شخص ان کے پاس سے گزرے گا، انہیں پاؤں مارے گا اور یہ کہے گا: کیا ان کی وجہ سے ہم سے پہلے کے لوگ ایک دوسرے سے لڑا کرتے تھے؟ آج یہ عالم ہے کہ ان سے نفع حاصل نہیں کیا جا سکتا۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”عرب کے قبائل میں سے سب سے پہلے قریش ختم ہو جائیں گے۔ اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، عنقریب ایک ایسا وقت آئے گا جب کوئی شخص کسی جوتے کے پاس سے گزرے گا جو کسی کوڑے کے ڈھیر پر پڑا ہو گا، وہ اپنے ہاتھ سے اسے پکڑے گا اور پھر یہ کہے گا: اس طرح کے جوتے قریش کے ہوا کرتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6853]

6854

Sahih Ibn Hibban #6854

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أبيه ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَأَيْتُ كَأَنِّي أُعْطِيتُ عُسًّا مَمْلُوءًا لَبَنًَا ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّى تَمَلأْتُ ، فَرَأَيْتُهَا تَجْرِي فِي عُرُوقِي بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ ، فَفَضَلَتْ مِنْهَا فَضْلَةٌ ، فَأَعْطَيْتُهَا أَبَا بَكْرٍ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا عِلْمٌ أَعْطَاكَهُ اللَّهُ حَتَّى إِِذَا تَمَلأْتَ مِنْهُ ، فَضَلَتْ فَضْلَةٌ ، فَأَعْطَيْتَهَا أَبَا بَكْرٍ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ أَصَبْتُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں نے (خواب میں دیکھا) کہ مجھے ایک برتن دیا گیا ہے جو دودھ سے بھرا ہوا تھا، میں نے اس میں سے پی لیا، یہاں تک کہ میں سیر ہو گیا، تو میں نے محسوس کیا کہ وہ دودھ میری جلد اور گوشت کے درمیان رگوں کے اندر چل رہا ہے، اس میں سے کچھ بچ گیا تو وہ میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس سے مراد علم ہے، جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا تھا، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بھر گئے اور یہ باقی بچ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو عطا کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نے ٹھیک کہا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6854]

6855

Sahih Ibn Hibban #6855

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَبْرَأُ إِِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خِلِّهِ ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلا ، لاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلا ، وَلَكِنْ وُدُّ إِِخَاءٍ وَإِِيمَانٍ ، وَإِِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ "، قَالَ سُفْيَانُ : يَعْنِي نَفْسَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں ہر دوست کی دوستی سے بری الذمہ ہوں، اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیل بناتا، البتہ بھائی چارہ اور ایمان کی محبت (باقی ہیں)، ویسے تمہارے آقا اللہ تعالیٰ کے خلیل ہیں۔“ سفیان کہتے ہیں: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ذات تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6855]

6856

Sahih Ibn Hibban #6856

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلا ، لاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلا ، وَلَكِنَّهُ أَخِي وَصَاحِبِي ، وَقَدِ اتَّخَذَ اللَّهُ صَاحِبَكُمْ خَلِيلا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو میں ابوبکر کو خلیل بناتا، لیکن وہ میرا بھائی اور ساتھی ہے اور تمہارے آقا کو اللہ تعالیٰ نے خلیل بنا لیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6856]

6857

Sahih Ibn Hibban #6857

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ الْقَطِيعِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ الْمَعْمَرِيُّ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِسَدِّ الأَبْوَابِ الشَّوَارِعِ فِي الْمَسْجِدِ ، إِِلا بَابَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ (کے داخلے کے مخصوص) دروازے کے علاوہ مسجد کے، راستے کی طرف کھلنے والے، تمام دروازوں کو بند کرنے“ کا حکم دیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6857]

6858

Sahih Ibn Hibban #6858

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا نَفَعَنِي مَالٌ قَطُّ مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ "، فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَقَالَ : مَا أَنَا وَمَالِي إِِلا لَكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی بھی شخص کے مال نے مجھے اتنا نفع نہیں دیا جتنا ابوبکر کے مال نے مجھے نفع دیا“ (راوی کہتے ہیں:) اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے، انہوں نے عرض کی: میں اور میرا مال آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6858]

6859

Sahih Ibn Hibban #6859

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَنْفَقَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ أَلْفًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر چالیس ہزار (درہم یا دینار) خرچ کیے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6859]

6860

Sahih Ibn Hibban #6860

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ عَاصِبًا رَأْسَهُ ، فَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : إِِنَّهُلَيْسَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَمَنَّ عَلَيَّ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ مِنِ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلا لاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ ، وَلَكِنْ خُلَّةُ الإِِسْلامِ ، سُدُّوا عَنِّي كُلَّ خَوْخَةٍ فِي الْمَسْجِدِ غَيْرَ خَوْخَةِ أَبِي بَكْرٍ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سُدُّوا عَنِّي كُلَّ خَوْخَةٍ فِي الْمَسْجِدِ غَيْرَ خَوْخَةِ أَبِي بَكْرٍ " فِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْخَلِيفَةَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَبُو بَكْرٍ ، إِِذِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسَمَ عَنِ النَّاسِ كُلِّهِمْ أَطْمَاعَهُمْ فِي أَنْ يَكُونُوا خُلَفَاءَ بَعْدَهُ غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ بِقَوْلِهِ : سُدُّوا عَنِّي كُلَّ خَوْخَةٍ فِي الْمَسْجِدِ غَيْرَ خَوْخَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جس بیماری کے دوران انتقال ہوا، اس بیماری کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر پٹی لپیٹ کر (مسجد میں) تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: ”لوگوں میں سے کسی بھی شخص نے اپنی جان اور مال کے حوالے سے ابن ابی قحافہ سے زیادہ میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا، اگر میں نے لوگوں میں سے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو ابوبکر کو بنا لیتا، البتہ اسلام کی دوستی (باقی ہے)، تم لوگ مسجد میں موجود ہر دروازہ بند کر دو، صرف ابوبکر (کے داخلے کا مخصوص) دروازہ (کھلا رہنے دیا جائے)۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم لوگ مسجد کے ہر دروازے کو بند کر دو، صرف ابوبکر کا دروازہ کھلا رہنے دیا جائے“، اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد (مسلمانوں کے) خلیفہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہوں گے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام لوگوں کے حوالے سے یہ اندازہ تھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ ہونے کے خواہش مند ہو سکتے ہیں، صرف سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں (یہ اندازہ تھا کہ وہ اس بات کے خواہشمند نہیں ہوں گے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا: ”تم مسجد میں داخلے کا ہر دروازہ بند کر دو، صرف ابوبکر کے داخلے کا مخصوص دروازہ (بند نہ کرو)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6860]

6861

Sahih Ibn Hibban #6861

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا مَعَنُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : إِِنَّعَبْدًا خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَهُ " ، فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ ، وَقَالَ : فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الْمُخَيَّرُ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَنَا بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنَّ أَمَنَّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي مَالِهِ وَصَحِبْتِهِ أَبُو بَكْرٍ ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلا لاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلا ، وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الإِِسْلامِ ، لا يَبْقِيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ خَوْخَةٌ إِِلا خَوْخَةُ أَبِي بَكْرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک بندے کو اللہ تعالیٰ نے یہ اختیار دیا کہ وہ اسے جتنی چاہے دنیا کی آرائش و زیبائش عطا کر دے یا پھر اپنی بارگاہ (کا مرتبہ و مقام اور اجر و ثواب) عطا کر دے، تو اس بندے نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں موجود (اجر و ثواب) کو اختیار کیا۔“ (راوی کہتے ہیں:) اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے، انہوں نے عرض کی: ہم اپنے باپ، اپنی مائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کرتے ہیں۔ (راوی کہتے ہیں:) اصل میں وہ اختیار دیے گئے شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس بارے میں ہم سب سے زیادہ جانتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اپنے مال اور ساتھ کے اعتبار سے میرے ساتھ سب سے زیادہ اچھا سلوک ابوبکر نے کیا ہے، اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو میں ابوبکر کو خلیل بناتا، لیکن اسلام کا بھائی چارہ (باقی ہے)؛ مسجد میں موجود ہر دروازہ بند کر دیا جائے، صرف ابوبکر کے داخلے کا مخصوص دروازہ کھلا رہنے دیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6861]

6862

Sahih Ibn Hibban #6862

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : كَانَ أَبُو بَكْرٍ أَحَبَّنَا إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ خَيَرَنَا وَسَيِّدَنَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم میں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ محبوب تھے، وہ ہم میں سب سے بہتر تھے اور وہ ہمارے سردار تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6862]

6863

Sahih Ibn Hibban #6863

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِسْحَاقَ الأَصْبَهَانِيُّ بِالْكَرَخِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ : أَلَسْتُ أَحَقَّ النَّاسِ بِهَذَا الأَمْرِ ؟ أَلَسْتُ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ ؟ أَلَسْتُ صَاحِبَ كَذَا ؟ أَلَسْتُ صَاحِبَ كَذَا ؟ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا میں اس معاملے کا سب سے زیادہ حقدار نہیں ہوں؟ کیا میں نے سب سے پہلے اسلام قبول نہیں کیا تھا؟ کیا میں نے فلاں کام نہیں کیا تھا؟ کیا میں نے فلاں کام نہیں کیا تھا؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6863]

6864

Sahih Ibn Hibban #6864

أَخْبَرَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ الطَّرَسُوسِيُّ ، وَعُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أبيه ، قَالَ : كَانَ اسْمُ أَبِي بَكْرٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُثْمَانَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْتَ عَتِيقُ اللَّهِ مِنَ النَّارِ "، فَسُمِّيَ عَتِيقًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر بن عبداللہ بن زبیر اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نام عبداللہ بن عثمان تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے جہنم سے آزاد کردہ شخص ہو“، اسی وجہ سے ان کا نام عتیق رکھ دیا گیا (یعنی آزاد کیا ہوا شخص)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6864]

6865

Sahih Ibn Hibban #6865

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا ، فَتَبِعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، فَرَجَفَ بِهِمْ ، فَضَرَبَهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِجْلِهِ ، وَقَالَ : اثْبُتْ أُحُدُ ، فَمَا عَلَيْكَ إِِلا نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم بھی چڑھ گئے، تو وہ حرکت کرنے لگا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پاؤں اس پر مارا اور فرمایا: ”احد! ٹھہرے رہو، تمہارے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید موجود ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6865]

6866

Sahih Ibn Hibban #6866

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَن رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، هَذَا خَيْرٌ ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاةِ ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلاةِ ، وَمَنَ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ ، وَمَنَ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ " ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، " هَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الأَبْوَابِ كُلِّهَا ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اللہ کی راہ میں (کسی بھی چیز کا) جوڑا خرچ کرے گا تو جنت میں یہ پکار کر کہا جائے گا: اے اللہ کے بندے! یہ زیادہ بہتر ہے، جو لوگ نمازی ہوں گے انہیں نماز والے مخصوص دروازے سے بلایا جائے گا۔ جو لوگ جہاد کرنے والے ہوں گے انہیں جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا، جو لوگ صدقہ کرنے والے ہوں گے انہیں صدقے کے دروازے سے بلایا جائے گا، جو لوگ روزہ دار ہوں گے انہیں «بَابُ الرَّيَّانِ» ”بابِ ریان“ سے بلایا جائے گا۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، کیا کوئی ایسا شخص بھی ہو گا جسے ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں اور مجھے یہ امید ہے کہ تم ان لوگوں میں سے ایک ہو گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6866]

6867

Sahih Ibn Hibban #6867

أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ بَنَانٍ بِوَاسِطَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ السَّالِمِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ رَبَاحِ بْنِ أَبِي مَعْرُوفٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ ، فَلا يَبْقَى أَهْلُ دَارٍ وَلا أَهْلُ غُرْفَةٍ إِِلا قَالُوا : مَرْحَبًا مَرْحَبًا ، إِِلَيْنَا إِِلَيْنَا ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَرَى عَلَى هَذَا الرَّجُلِ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ ؟ قَالَ : أَجَلْ ، وَأَنْتَ هُوَ يَا أَبَا بَكْرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک شخص جنت میں داخل ہو گا تو ہر گھر اور ہر بالاخانے کے لوگ یہ کہیں گے: خوش آمدید، خوش آمدید، ہماری طرف آئیے، ہماری طرف آئیے۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس دن اس شخص کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں! اے ابوبکر! وہ تم ہو گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6867]

6868

Sahih Ibn Hibban #6868

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ :لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ قَطُّ إِِلا وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّينَ ، وَلَمْ يَمُرَّ عَلَيْنَا يَوْمٌ إِِلا يَأْتِينَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَفَيِ النَّهَارِ بُكْرَةً وَعَشِيًّا ، فَلَمَّا ابْتُلِيَ الْمُسْلِمُونَ ، خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ مُهَاجِرًا قِبَلَ أَرْضِ الْحَبَشَةِ ، حَتَّى إِِذَا بَلَغَ بَرْكَ الْغِمَادِ لَقِيَهُ ابْنُ الدَّغِنَّةِ ، وَهُوَ سَيِّدُ الْقَارَةِ ، فَقَالَ : أَيْنَ تُرِيدُ يَا أَبَا بَكْرٍ ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَخْرَجَنِي قَوْمِي ، فَأُرِيدُ أَنْ أَسِيحَ فِي الأَرْضِ ، فَأَعْبُدَ رَبِّي ، فَقَالَ ابْنُ الدُّغُنَّةِ : إِِنَّ مِثْلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ لا يَخْرُجُ وَلا يُخْرَجُ ، إِِنَّكَ تُكْسِبُ الْمَعْدُومَ ، وتَصِلُ الرَّحِمَ ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ ، وَأَنَا لَكَ جَارٌ ، فَارْجِعْ فَاعْبُدْ رَبَّكَ بِبَلَدِكَ ، فَارْتَحَلَ ابْنُ الدُّغُنَّةِ ، فَرَجَعَ مَعَ أَبِي بَكْرٍ ، فَطَافَ ابْنُ الدُّغُنَّةِ فِي كُفَّارِ قُرَيْشٍ ، وَقَالَ : إِِنَّ أَبَا بَكْرٍ لا يُخْرَجُ مِثْلُهُ ، وَتُخْرِجُونَ رَجُلا يُكْسِبُ الْمَعْدُومَ ، وَيَصِلُ الرَّحِمَ ، وَيَحْمِلُ الْكَلَّ ، وَيَقْرِي الضَّيْفَ ، وَيُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ ، فَأَنْفَذَتْ قُرَيْشٌ جِوَارَ ابْنِ الدَّغِنَةِ ، وَأَمَّنُوا أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَقَالَتْ لابْنِ الدَّغِنَةِ : مُرْ أَبَا بَكْرٍ ، فَلْيَعْبُدْ رَبَّهُ فِي دَارِهِ مَا شَاءَ ، وَلْيُصَلِّ فِيهَا مَا شَاءَ ، وَلْيَقْرَأْ مَا شَاءَ ، وَلا يُؤْذِينَا ، وَلا يَسْتَعْلِنَ بِالصَّلاةِ وَالْقِرَاءَةِ فِي غَيْرِ دَارِهِ ، فَفَعَلَ ، ثُمَّ بَدَا لأَبِي بَكْرٍ ، فَابْتَنَى مَسْجِدًا بِفِنَاءِ دَارِهِ فَكَانَ يُصَلِّي فِيهِ ، وَتَقِفُ عَلَيْهِ نِسَاءُ الْمُشْرِكِينَ وَأَبْنَاؤُهُمْ ، وَهُمْ يَعْجَبُونَ مِنْهُ وَيَنْظُرُونَ إِِلَيْهِ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلا بَكَّاءً لا يَمْلِكُ دَمْعَهُ حِينَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، فَأَفْزَعَ ذَلِكَ أَشْرَافَ قُرَيْشٍ ، فَأَرْسَلُوا إِِلَى ابْنِ الدَّغِنَةِ ، فَقَدِمَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : إِِنَّا قَدْ أَجَرْنَا لَكَ أَبَا بَكْرٍ عَلَى أَنْ يَعْبُدَ اللَّهَ فِي دَارِهِ ، وَإِِنَّهُ جَاوَزَ ذَلِكَ وَابْتَنَى مَسْجِدًا بِفِنَاءِ دَارِهِ ، وَأَعْلَنَ بِالصَّلاةِ وَالْقِرَاءَةِ ، وَإِِنَّا قَدْ خَشِينَا أَنْ يَفْتِنَ نِسَاءَنَا وَأَبْنَاءَنَا ، فَإِِنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْتَصِرَ عَلَى أَنْ يَعْبُدَ اللَّهَ فِي دَارِهِ فَعَلَ ، وَإِِنْ أَبَى إِِلا أَنْ يُعْلِنَ ذَلِكَ ، فَسَلْهُ أَنْ يَرُدَّ إِِلَيْكَ ذِمَّتَكَ ، فَإِِنَّا قَدْ كَرِهْنَا أَنْ نُخْفِرَكَ وَلَسْنَا مُقِرِّينَ لأَبِي بَكْرٍ بِالاسْتِعْلانِ ، فَأَتَى ابْنُ الدُّغُنَّةِ أَبَا بَكْرٍ ، فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، قَدْ عَلِمْتَ الَّذِي عَقَدْتُ لَكَ عَلَيْهِ ، فَإِِمَّا أَنْ تَقْتَصِرَ عَلَى ذَلِكَ وَإِِمَّا أَنْ تَرُدَّ ذِمَّتِي ، فَإِِنِّي لا أَحَبُّ أَنْ تَسْمَعَ الْعَرَبُ أَنِّي أُخْفِرْتُ فِي عَقْدِ رَجُلٍ عَقَدْتُ لَهُ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَإِِنِّي أَرُدُّ إِِلَيْكَ جِوَارَكَ وَأَرْضَى بِجِوَارِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ بِمَكَّةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسْلِمِينَ : قَدْ أُرِيتُ دَارَ هِجْرَتِكُمْ ، أُرِيتُ سَبِخَةً ذَاتَ نَخْلٍ ، بَيْنَ لابَتَيْنِ وَهُمَا الْحَرَّتَانِ ، فَهَاجَرَ مَنْ هَاجَرَ قِبَلَ الْمَدِينَةِ حِينَ ذَكَرَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَجَعَ إِِلَى الْمَدِينَةِ بَعْضُ مَنْ كَانَ هَاجَرَ إِِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، وَتَجَهَّزَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مُهَاجِرًا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَى رِسْلِكَ ، فَإِِنِّي أَرْجُو أَنْ يُؤْذَنَ لِي ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَتَرْجُو ذَلِكَ ، بِأَبِي أَنْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَحَبَسَ أَبُو بَكْرٍ نَفْسَهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصُحْبَتِهِ ، وَعَلَفَ رَاحِلَتَيْنِ كَانَتَا عِنْدَهُ وَرَقُ السَّمُرِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَبَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ يَوْمًا فِي بَيْتِنَا فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ ، إِِذْ قَالَ قَائِلٌ لأَبِي بَكْرٍ : هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلٌ مُقَنَّعٌ ، فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا فِيهَا ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : فِدَاهُ أَبِي وَأُمِّي ، إِِنْ جَاءَ بِهِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ لأَمْرٌ ، قَالَتْ : فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَأْذَنَ ، فَدَخَلَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ لأَبِي بَكْرٍ : أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِِنَّمَا هُمْ أَهْلُكَ ، بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَالصُّحْبَةُ ، بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَخُذْ إِِحْدَى رَاحِلَتِيَّ هَاتَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِالثَّمَنِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَجَهَّزْنَاهُمَا أَحَبَّ الْجِهَازِ ، وَوَضَعْنَا لَهُمَا سَفْرَةً فِي جِرَابٍ ، فَقَطَعَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ مِنْ نِطَاقِهَا وَأَوْكَتْ بِهِ الْجِرَابَ ، فَلِذَلِكَ كَانَتْ تُسَمَّى : ذَاتُ النِّطَاقِ ، وَلَحِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ فِي غَارٍ فِي جَبَلٍ ، يُقَالُ لَهُ : ثَوْرٌ ، فَمَكَثَا فِيهِ ثَلاثَ لَيَالٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب سے میں نے ہوش سنبھالا، میں نے اپنے والدین کو دین (اسلام) پر عمل پیرا دیکھا، روزانہ ہمارے ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح اور شام کے وقت تشریف لایا کرتے تھے۔ جب مسلمانوں کو آزمائش میں مبتلا کیا گیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہجرت کے ارادے سے حبشہ کی سرزمین کی طرف جانے کے لیے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب وہ ”برک غماد“ پہنچے تو ان کی ملاقات ابن دغنہ سے ہوئی جو قارہ قبیلے کا سردار تھا، اس نے دریافت کیا: اے ابوبکر! تم کہاں جا رہے ہو؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میری قوم نے مجھے نکلنے پر مجبور کر دیا ہے، اب میرا یہ ارادہ ہے کہ میں زمین میں سفر کروں گا اور اپنے پروردگار کی عبادت کروں گا۔ ابن دغنہ نے کہا: اے ابوبکر! تمہارے جیسا شخص (اپنے علاقے سے) نہ تو نکل سکتا ہے اور نہ ہی اسے نکالا جا سکتا ہے، تم ضرورت مند کو کما کر دیتے ہو، صلہ رحمی کرتے ہو، بوجھ برداشت کرتے ہو، مہمان نوازی کرتے ہو، حق کے کاموں میں مدد کرتے ہو، میں تمہیں امان دیتا ہوں، تم واپس جاؤ اور اپنے شہر میں اپنے پروردگار کی عبادت کرو۔ پھر ابن دغنہ وہاں سے روانہ ہوا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ واپس آ گیا۔ ابن دغنہ کفار قریش کے پاس گیا اور بولا: ابوبکر جیسے شخص کو نکالا نہیں جا سکتا، تم لوگ ایک ایسے شخص کو نکال رہے ہو جو اس شخص کو کما کر دیتا ہے جس کے پاس کچھ نہیں ہوتا، رشتے داری کے حقوق کا خیال رکھتا ہے، وہ (دوسروں کا) بوجھ اٹھاتا ہے، مہمان نوازی کرتا ہے اور حق کے کاموں میں مدد کرتا ہے؛ تو قریش نے ابن دغنہ کی دی گئی پناہ کو تسلیم کیا اور انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امان دے دی۔ انہوں نے ابن دغنہ سے کہا: تم ابوبکر سے یہ کہو کہ وہ اپنے گھر میں جتنی چاہے اپنے پروردگار کی عبادت کرے، جیسے چاہے نماز ادا کرے، جیسے چاہے قرأت کرے، لیکن اپنے گھر سے باہر اعلانیہ طور پر نماز پڑھ کر یا تلاوت کر کے ہمیں اذیت نہ پہنچائے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا، بعد میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مناسب محسوس ہوا تو انہوں نے اپنے گھر کے صحن میں مسجد بنا لی، وہ وہاں نماز ادا کیا کرتے تھے، مشرکین کی خواتین اور بچے ان کے پاس آ کر ٹھہر جاتے تھے اور ان پر حیران ہوتے تھے، وہ ان کی طرف دیکھتے رہتے تھے، کیونکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک ایسے شخص تھے جو روتے بہت زیادہ تھے، جب وہ قرآن کی تلاوت کرتے تھے تو ان کے آنسو تھمتے نہیں تھے، اس بات نے قریش کے معززین کو خوفزدہ کر دیا، انہوں نے ابن دغنہ کو پیغام بھیجا، وہ ان کے پاس آیا تو ان لوگوں نے کہا: ہم نے تمہاری وجہ سے ابوبکر کو اس شرط پر پناہ دی تھی کہ وہ اپنے گھر میں اللہ کی عبادت کرے گا، اس نے اس چیز کی خلاف ورزی کی اور اپنے گھر کے صحن میں مسجد بنائی ہے اور اعلانیہ طور پر نماز پڑھتا ہے اور تلاوت کرتا ہے، ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ وہ ہماری خواتین اور بچوں کو آزمائش کا شکار نہ کر دے، اگر وہ یہ بات پسند کرے کہ وہ اپنے گھر کے اندر اپنے پروردگار کی عبادت کرنے پر اکتفاء کرے تو ٹھیک ہے، اگر وہ نہیں مانتا اور اعلانیہ طور پر ایسا کرتا ہے تو پھر تم اس سے کہو گے کہ وہ تمہاری دی ہوئی پناہ کو واپس کر دے، کیونکہ ہمیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ ہم تمہاری دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کریں اور ہم ابوبکر کو اعلانیہ طور پر ایسا کرنے بھی نہیں دے سکتے۔ ابن دغنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ بولا: اے ابوبکر! تم یہ بات جانتے ہو کہ میں نے کس شرط پر تمہیں پناہ دی تھی، یا تو تم اس پر اکتفاء کرو یا پھر تم میری دی ہوئی پناہ کو واپس کر دو، کیونکہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ عرب یہ بات سنیں کہ میں نے کسی شخص کو پناہ دینے کے بعد اس پناہ کو ختم کر دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہاری دی ہوئی پناہ تمہیں لوٹاتا ہوں اور اللہ اور اس کے رسول کی پناہ پر راضی رہتا ہوں۔ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں مکہ میں قیام پذیر تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا: ”تمہاری ہجرت کی سرزمین مجھے (خواب میں) دکھا دی گئی ہے، میں نے دیکھا ہے کہ وہ شور زدہ زمین ہے جہاں کھجوروں کے درخت ہیں اور اس کے دونوں کناروں کی طرف پتھریلی سرزمین ہے۔“ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں) جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ذکر کی تو جن لوگوں نے ہجرت کرنی تھی وہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کر گئے اور جو مسلمان پہلے حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کر چکے تھے ان میں سے بھی کچھ لوگ مدینہ منورہ کی طرف آ گئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی ہجرت کے لیے ساز و سامان تیار کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم ابھی ٹھہرے رہو، کیونکہ مجھے یہ امید ہے کہ مجھے بھی (ہجرت کرنے کی) اجازت مل جائے گی۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی امید ہے؟ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خود کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے روک لیا، وہ اپنے پاس موجود اونٹوں کو چار ماہ تک ببول کے پتے چارے کے طور پر کھلاتے رہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ ہم دوپہر کے وقت اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے، اسی دوران کسی نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ ڈھانپا ہوا تھا اور یہ ایک ایسی گھڑی تھی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف نہیں لاتے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے ماں باپ ان پر قربان ہوں، آپ اس وقت کسی ضروری معاملے کی وجہ سے تشریف لائے ہوں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے آئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اپنے آس پاس موجود لوگوں کو گھر سے باہر نکال دو۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، یہ آپ کے اہل خانہ ہی ہیں (کوئی دوسرا شخص نہیں ہے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے روانگی کا حکم مل گیا ہے۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، میں آپ کا ساتھ دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے والد آپ پر قربان ہوں، آپ ان دو اونٹنیوں میں سے ایک لے لیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیمت کے عوض میں لوں گا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر ہم نے ان دونوں کے لیے زادِ سفر تیار کیا، ہم نے اسے چمڑے کے ایک تھیلے میں رکھا، سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما نے اپنے کمربند کو کاٹ کر اس تھیلے کا منہ بند کر دیا، اسی لیے انہیں «ذَاتُ النِّطَاقِ» ”دو پٹکوں والی“ کہا جاتا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پہاڑ میں موجود غار میں چلے گئے جس کا نام ثور ہے، وہ وہاں تین دن تک مقیم رہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6868]

6869

Sahih Ibn Hibban #6869

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ نَظَرَ تَحْتَ قَدَمِهِ لأَبْصَرَنَا مِنْ تَحْتِ قَدَمِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا ؟ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: اگر ان (مشرکین) میں سے کوئی شخص اپنے پاؤں کے نیچے دیکھے تو اپنے پاؤں کے نیچے ہمیں دیکھ لے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایسے دو لوگوں کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالیٰ ہو؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6869]

6870

Sahih Ibn Hibban #6870

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْغُدَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا إِِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ : اشْتَرَى أَبُو بَكْرٍ مِنْ عَازِبٍ رَحْلا بِثَلاثَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِعَازِبٍ : مُرِ الْبَرَاءَ فَلْيَحْمِلْهُ إِِلَى أَهْلِي ، فَقَالَ لَهُ عَازِبٌ لا ، حَتَّى تُحَدِّثْنِي كَيْفَ صَنَعْتَ أَنْتَ وَرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجْتُمَا مِنْ مَكَّةَ وَالْمُشْرِكُونَ يَطْلُبُونَكُمْ ، فَقَالَ : ارْتَحَلْنَا مِنْ مَكَّةَ ، فَأَحْيَيْنَا لَيْلَتَنَا حَتَّى أَظْهَرَنَا ، وَقَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ رَمَيْتُ بِبَصَرِي هَلْ نَرَى ظِلا نَأْوِي إِِلَيْهِ ، فَإِِذَا أَنَا بِصَخْرَةٍ فَانْتَهَيْتُ إِِلَيْهَا ، فَإِِذَا بَقِيَّةُ ظِلِّهَا ، فَسَوَّيْتُهُ ، ثُمَّ فَرَشْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قُلْتُ : اضْطَجِعْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَاضْطَجَعَ ، ثُمَّ ذَهَبْتُ أَنْظُرُ هَلْ أَرَى مِنَ الطَّلَبِ أَحَدًا ، فَإِِذَا أَنَا بِرَاعِي غَنَمٍ يَسُوقُ غَنَمَهُ إِِلَى الصَّخْرَةِ ، يُرِيدُ مِنْهَا مِثْلَ الَّذِي أُرِيدُ يَعْنِي الظِّلَّ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقُلْتُ : لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلامُ ؟ قَالَ الْغُلامُ : لِفُلانٍ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَعَرَفْتُهُ ، فَقُلْتُ : هَلْ فِي غَنَمِكَ مِنْ لَبَنٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقُلْتُ : هَلْ أَنْتَ حَالِبٌ لِي ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَأَمَرْتُهُ ، فَاعْتَقَلَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ ، وَأَمَرْتُهُ أَنْ يَنْفُضَ عَنْهَا مِنَ الْغُبَارِ ، ثُمَّ أَمَرْتُهُ أَنْ يَنْفُضَ كَفَّيْهِ ، فَقَالَ هَكَذَا ، فَضَرَبَ إِِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الأُخْرَى ، فَحَلَبَ فِي كُثْبَةٍ مِنْ لَبَنٍ ، وَقَدْ رَوَيْتُ مَعِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِدَاوَةً عَلَى فَمِهَا خِرْقَةٌ ، فَصَبَبْتُ عَلَى اللَّبَنِ حَتَّى بَرَدَ أَسْفَلُهُ ، فَانْتَهَيْتُ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَافَقْتُهُ قَدِ اسْتَيْقَظَ ، فَقُلْتُ : اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَشَرِبَ ، فَقُلْتُ : قَدْ آنَ الرَّحِيلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَارْتَحَلْنَا وَالْقَوْمُ يَطْلُبُونَنَا ، فَلَمْ يُدْرِكْنَا أَحَدٌ مِنْهُمْ غَيْرُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ عَلَى فَرَسٍ لَهُ ، فَقُلْتُ : هَذَا الطَّلَبُ قَدْ لَحِقَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَبَكَيْتُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :لا تَحْزَنْ إِِنَّ اللَّهَ مَعَنَا ، فَلَمَّا دَنَا مِنَّا ، وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ قَيْدُ رُمْحَيْنِ أَوْ ثَلاثَةٍ ، قُلْتُ : هَذَا الطَّلَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ لَحِقَنَا ، فَبَكَيْتُ لَهُ ، قَالَ : مَا يُبْكِيكَ ؟ قُلْتُ : أَمَا وَاللَّهِ مَا عَلَى نَفْسِي أَبْكِي ، وَلَكِنْ أَبْكِي عَلَيْكَ ، فَدَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ اكْفِنَاهُ بِمَا شِئْتَ ، قَالَ : فَسَاخَتْ بِهِ فَرَسُهُ فِي الأَرْضِ إِِلَى بَطْنِهَا ، فَوَثَبَ عَنْهَا ، ثُمَّ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ هَذَا عَمَلُكَ ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يُنَجِّيَنِي مِمَّا أَنَا فِيهِ ، فَوَاللَّهِ لأُعَمِّيَنَّ عَلَى مَنْ وَرَائِي مِنَ الطَّلَبِ ، وَهَذِهِ كِنَانَتِي فَخُذْ مِنْهَا سَهْمًا ، فَإِِنَّكَ سَتَمُرُّ عَلَى إِِبِلِي وَغَنَمِي فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، فَخُذْ مِنْهَا حَاجَتَكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا حَاجَةَ لَنَا فِي إِِبِلِكَ ، وَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقَ رَاجِعًا إِِلَى أَصْحَابِهِ ، وَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ لَيْلا ، فَتَنَازَعَهُ الْقَوْمُ أَيُّهُمْ يَنْزِلُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنِّي أَنْزَلُ اللَّيْلَةَ عَلَى بَنِي النَّجَّارِ أَخْوَالِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أُكْرِمُهُمْ بِذَلِكَ ، فَخَرَجَ النَّاسُ حِينَ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فِي الطُّرُقِ وَعَلَى الْبُيُوتِ مِنَ الْغِلْمَانِ وَالْخَدَمِ ، يَقُولُونَ : جَاءَ مُحَمَّدٌ ، جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ انْطَلَقَ ، فَنَزَلَ حَيْثُ أُمِرَ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَنْ يُوَجَّهَ نَحْوَ الْكَعْبَةِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، قَالَ : فَقَالَ : السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ وَهُمُ الْيَهُودُ : مَا وَلاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ، قَالَ : وَصَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَخَرَجَ بَعْدَمَا صَلَّى ، فَمَرَّ عَلَى قَوْمٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلاةِ الْعَصْرِ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، فَقَالَ : هُوَ يَشْهَدُ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَّهُ قَدْ وَجَّهَ نَحْوَ الْكَعْبَةِ ، فَانْحَرَفَ الْقَوْمُ حَتَّى تَوَجَّهُوا إِِلَى الْكَعْبَةِ ، قَالَ الْبَرَاءُ : وَكَانَ أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مُصْعَبَ بْنَ عُمَيْرٍ أَخُو بَنِي عَبْدِ الدَّارِ بْنِ قُصَيٍّ ، فَقُلْنَا لَهُ : مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : هُوَ مَكَانَهُ وَأَصْحَابُهُ عَلَى أَثَرِي ، ثُمَّ أَتَانَا بَعْدَهُ عَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الأَعْمَى أَخُو بَنِي فِهْرٍ ، فَقُلْنَا : مَا فَعَلَ مِنْ وَرَائِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ ؟ قَالَ : هُمُ الآنَ عَلَى أَثَرِي ، ثُمَّ أَتَانَا بَعْدُ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَبِلالٌ ، ثُمَّ أَتَانَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي عِشْرِينَ رَاكِبًا ، ثُمَّ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُمْ وَأَبُو بَكْرٍ مَعَهُ ، قَالَ الْبَرَاءُ : فَلَمْ يَقْدَمْ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَرَأْتُ سُورًا مِنَ الْمُفَصَّلِ ، ثُمَّ خَرَجْنَا نَلْقَى الْعِيرَ فَوَجَدْنَاهُمْ قَدْ حَذِرُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (میرے والد) سیدنا عازب رضی اللہ عنہما سے ایک پالان تیرہ درہم کے عوض میں خریدا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عازب رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ (اپنے بیٹے) براء سے کہیے کہ وہ اسے اٹھا کر میرے گھر تک پہنچا دے، تو سیدنا عازب رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: ایسا اس وقت تک نہیں ہو گا، جب تک آپ ہمیں یہ نہیں بتائیں گے کہ جب آپ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکلے اور مشرکین آپ کی تلاش میں تھے اس وقت آپ نے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا: ہم لوگ مکہ سے روانہ ہوئے، ہم لوگ رات بھر سفر کرتے رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی اور دن چڑھ گیا، میں نے اپنی نگاہ دوڑائی کہ کیا مجھے کوئی ایسی جگہ نظر آتی ہے جو سایہ دار ہو اور ہم وہاں جا سکیں، تو وہاں ایک چٹان موجود تھی، میں اس کی طرف آ گیا، وہاں تھوڑا سا سایہ باقی تھا، میں نے اس جگہ کو صاف کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بستر بچھا دیا۔ پھر میں نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ جائیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے، میں نے نظر دوڑائی کہ تلاش کرنے والوں میں سے کوئی نظر آتا ہے تو وہاں بکریوں کا ایک چرواہا نظر آیا جو اپنی بکریوں کو چٹان کی طرف لے کر آ رہا تھا، وہ بھی چٹان سے وہی کچھ حاصل کرنا چاہتا تھا جو میں حاصل کرنا چاہتا تھا یعنی سایہ، میں نے اس سے دریافت کیا اور کہا: اے لڑکے! تم کس کے غلام ہو؟ اس لڑکے نے کہا: فلاں شخص کا، اس نے قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا نام لیا جس سے میں واقف تھا، میں نے دریافت کیا: کیا تمہاری بکریوں میں دودھ ہے؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں، میں نے دریافت کیا: کیا تم ہمارے لیے اسے دوہ کر دے دو گے؟ اس نے کہا: جی ہاں، میں نے اسے ہدایت کی، اس نے اپنی بکریوں میں سے ایک بکری الگ کی، میں نے اسے ہدایت کی کہ وہ اس کے تھنوں سے غبار کو صاف کرے، پھر میں نے اسے ہدایت کی کہ وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو بھی جھاڑ لے، تو اس نے اس طرح کیا یعنی ایک ہاتھ دوسرے پر مارا پھر اس نے برتن میں دودھ دوہ دیا، میں نے اپنے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک برتن رکھا تھا جس کے منہ پر کپڑا تھا، میں نے اس دودھ پر پانی انڈیلا یہاں تک کہ اس کا نیچے والا حصہ ٹھنڈا ہو گیا (یعنی وہ پانی اچھی طرح اس دودھ میں حل ہو گیا) پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو چکے تھے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اسے پی لیجیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اب روانگی کا وقت ہے، تو ہم لوگ روانہ ہو گئے، لوگ ہمیں تلاش کر رہے تھے، ان میں سے کوئی بھی ہم تک نہیں پہنچ سکا صرف سراقہ بن مالک اپنے گھوڑے پر (ہم تک پہنچ گیا)، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! تلاش کرنے والا شخص ہم تک پہنچ گیا ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رو پڑا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نہ ڈرو، بے شک اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے“ جب وہ ہمارے قریب ہوا اور ہمارے اور اس کے درمیان دو یا تین نیزوں جتنا فاصلہ رہ گیا، تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ تلاش کرنے والا شخص ہم تک پہنچ گیا ہے، تو میں اس بات پر رو پڑا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم کیوں رو رہے ہو؟“ میں نے عرض کی: اللہ کی قسم! میں اپنی ذات کے حوالے سے نہیں رو رہا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے رو رہا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے لیے دعائے ضرر کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اكْفِنَاهُ بِمَا شِئْتَ» ”اے اللہ! تو اس کے مقابلے میں ہمارے لیے جیسے چاہے کافی ہو جا“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، تو اس شخص کا گھوڑا پیٹ تک زمین کے اندر دھنس گیا، وہ اس سے نیچے گر گیا، پھر اس نے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے پتا ہے کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی وجہ سے ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے میں جس صورت حال کا شکار ہوں وہ اس سے مجھے نجات عطا کر دے، اللہ کی قسم! میں اپنے پیچھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں آنے والوں کو گمراہ کر دوں گا، یہ میرا ترکش ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے ایک تیر لے لیجیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر میرے اونٹوں اور بکریوں کے پاس سے فلاں مقام پر ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے اپنی ضرورت کے مطابق چیزیں حاصل کر لیجیے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہمیں تمہارے اونٹوں کی ضرورت نہیں ہے“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا کی تو وہ شخص اپنے ساتھیوں کی طرف واپس چلا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کرتے رہے، یہاں تک کہ ہم رات کے وقت مدینہ منورہ پہنچے تو لوگوں کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہو گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس کے ہاں پڑاؤ کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آج رات میں بنو نجار کے ہاں پڑاؤ کروں گا جو جناب عبدالمطلب کے ننھیال ہیں، میں اس حوالے سے ان کی عزت افزائی کروں گا“ جب ہم لوگ مدینہ منورہ آئے تو لوگ راستوں میں نکل آئے، گھروں کے اوپر بچے موجود تھے، غلام موجود تھے وہ یہ کہہ رہے تھے: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں، اللہ کے رسول تشریف لے آئے ہیں، جب صبح ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی جگہ پڑاؤ کیا جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تقریباً سولہ یا سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ خواہش تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾ [سورة البقرة: 144] ”ہم آسمان کی طرف تمہارے چہرے کا بار بار اٹھنا دیکھ رہے ہیں، ہم عنقریب تمہیں اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس سے تم راضی ہو گے، تو تم اپنے چہرے کو مسجد حرام کی سمت میں پھیر لو“ راوی کہتے ہیں: تو کچھ بیوقوف لوگوں نے جو یہودی تھے، انہوں نے یہ کہا: ﴿مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا﴾ [سورة البقرة: 142] ”ان لوگوں کو ان کے اس قبلے سے کس چیز نے پھیر دیا جس پر یہ پہلے تھے“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾ [سورة البقرة: 142] ”تم یہ فرما دو! مشرق اور مغرب اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہیں، وہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دے دیتا ہے“ راوی بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز ادا کی، نماز ادا کرنے کے بعد وہ روانہ ہوا، اس کا گزر کچھ انصاریوں کے پاس سے ہوا جو عصر کی نماز میں رکوع کی حالت میں تھے اور بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کر رہے تھے، اس شخص نے یہ بتایا کہ وہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کی ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر دیا گیا ہے، تو وہ لوگ پلٹ گئے اور انہوں نے اپنا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر لیا۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: مہاجرین میں سے سب سے پہلے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں آئے تھے، جن کا تعلق بنو عبدالدار بن قیس سے تھا، ہم نے ان سے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر ہی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب میرے پیچھے آ رہے ہیں، پھر ان کے بعد سیدنا عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا ہمارے پاس تشریف لے آئے، جن کا تعلق بنو فہر سے ہے، ہم نے ان سے دریافت کیا: آپ کے پیچھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا کیا حال ہے؟ انہوں نے بتایا: وہ میرے پیچھے پیچھے آ رہے ہیں، پھر ان کے بعد سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما، سیدنا سعد بن ابی وقاص، سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہم ہمارے پاس آ گئے، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی سواروں سمیت ہمارے پاس آئے، پھر ان کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو میں اس سے پہلے مفصل سورتوں سے تعلق رکھنے والی بیس سورتوں کی تلاوت سیکھ چکا تھا۔ پھر ہم لوگ نکلے تاکہ (ابوسفیان کے) قافلے کو پکڑ لیں لیکن ہم نے انہیں پایا کہ وہ لوگ بچ کر جا چکے تھے (یعنی یہ غزوہ بدر کے موقع کی بات ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6870]

6871

Sahih Ibn Hibban #6871

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى بِالْمَوْصِلِ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أبيه ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ شَيْئًا ، فَقَالَ لَهَا : ارْجِعِي إِِلَيَّ ، فَقَالَتْ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِِنْ رَجَعْتُ فَلَمْ أَجِدْكَ تُعَرِّضُ بِالْمَوْتِ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّ لَمْ تَجِدِينِي ، فَالْقَيْ أَبَا بَكْرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن جبیر اپنے والد سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا (یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم واپس چلی جاؤ، بعد میں میرے پاس آنا۔“ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! اگر میں پھر آؤں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پاؤں؟ (اس عورت کی مراد یہ تھی کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو چکا ہو تو میں کیا کروں) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مل لینا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6871]

6872

Sahih Ibn Hibban #6872

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانَيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أبيه ، قَالَ : أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِِلَيْهِ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِِنْ رَجَعْتُ فَلَمْ أَجِدْكَ كَأَنَّهَا تَعْنِي الْمَوْتَ ؟ قَالَ : فَإِِنْ لَمْ تَجِدِينِي ، فَائْتِ أَبَا بَكْرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے کسی چیز کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ ہدایت کی کہ وہ دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو، اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خیال ہے کہ اگر میں پھر آئی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پایا تو؟ وہ عورت یہ مراد لے رہی تھی کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا (تو میں کیا کروں)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابوبکر کے پاس آ جانا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6872]

6873

Sahih Ibn Hibban #6873

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ : لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، جَاءَ بِلالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلاةِ ، فَقَالَ : مُرُوا أَبَا بَكْرٍ ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ ، مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لا يُسْمِعِ النَّاسَ ، لَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ ، قَالَ : مُرُوا أَبَا بَكْرٍ ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ : قُولِي لَهُ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ ، مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لا يُسْمِعِ النَّاسَ ، قَالَ :إِِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلاةِ وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِفَّةً مِنْ نَفْسِهِ ، فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ ، وَرِجْلاهُ تَخُطُّ فِي الأَرْضِ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَلَمَّا سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ ، فَأَوْمَأَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَمَا أَنْتَ ، حَتَّى جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَاعِدًا وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمٌ ، يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالنَّاسُ يَقْتَدُونَ بِصَلاةِ أَبِي بَكْرٍ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الصَّوَابُ : صَوَاحِبُ يُوسُفَ ، إِِلا أَنَّ السَّمَاعَ : صَوَاحِبَاتُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدید ہو گئی تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے لیے بلانے کے لیے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک نرم دل آدمی ہیں، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو وہ لوگوں کو (تلاوت کی آواز) نہیں سنا سکیں گے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں (تو یہ مناسب ہو گا)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔“ میں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ گزارش کرو۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک نرم دل آدمی ہیں، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو (لوگوں کو تلاوت کی آواز نہیں) سنا سکیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ سیدنا یوسف علیہ السلام کے واقعہ والی خواتین کی طرح ہو۔ ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔“ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طبیعت میں بہتری محسوس ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے درمیان سہارا لے کر کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آہٹ سنی تو وہ پیچھے ہٹنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا: ”تم جس طرح ہو ویسے ہی رہو۔“ یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بائیں طرف بیٹھ گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی اقتداء کر رہے تھے اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتداء کر رہے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) درست لفظ یہ ہے «صَوَاحِبُ يُوسُفَ» ”صواحب یوسف“ البتہ روایت نقل کرنے والے نے لفظ «صَوَاحِبَاتُ» ”صواحبات“ نقل کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6873]

6874

Sahih Ibn Hibban #6874

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، مِنْ كِتَابِهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أبيه ، قَالَ : لَمَّا اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعَهُ ، قَالَ : مُرُوا أَبَا بَكْرٍ ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " ، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ ، إِِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ ، قَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " ، فَعَاوَدَتْهُ مِثْلَ مقَالَتِهَا ، فَقَالَ :" إِِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ "، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " لَقَدْ عَاوَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ ، وَمَا حَمَلَنِي عَلَى مُعَاوَدَتِهِ إِِلا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ يَتَشَاءَمَ النَّاسُ بِأَبِي بَكْرٍ ، وَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَنْ يَقُومَ مَقَامَهُ أَحَدٌ إِِلا تَشَاءَمَ النَّاسُ بِهِ ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ يَعْدِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حمزہ بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف زیادہ ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک نرم دل آدمی ہیں جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو (تلاوت کی آواز) نہیں سنا سکیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی بات دہرائی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سیدنا یوسف علیہ السلام کے واقعہ والی خواتین کی طرح ہو، ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔“ ابن شہاب بیان کرتے ہیں: عبداللہ بن عبداللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کیا کہ جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات دہرائی تو میں نے یہ بات دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس لیے دہرائی تھی کیونکہ مجھے یہ اندیشہ تھا کہ لوگ اس حوالے سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے الجھن محسوس کریں گے کیونکہ مجھے اس بات کا پتہ تھا کہ جو بھی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ پر کھڑا ہو گا لوگ اس سے نحوست (الجھن) کا تاثر لیں گے اس لیے میری یہ خواہش ہوئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہٹا دیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6874]

6875

Sahih Ibn Hibban #6875

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ الاثْنَيْنِ ، كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُتْرَةَ الْحُجْرَةِ ، فَرَأَى أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، قَالَ : فَنَظَرْتُ إِِلَى وَجْهِهِ كَأَنَّهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ وَهُوَ يَتَبَسَّمُ ، فَكِدْنَا أَنْ نَفْتَتِنَ فِي صَلاتِنَا فَرَحًا بِرُؤْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرَادَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ يَنْكُصَ حِينَ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَشَارَ إِِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَمَا أَنْتَ ، ثُمَّ أَرْخَى السِّتْرَ ، وَتُوُفِّيَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ "، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمُتْ ، وَلَكِنَّهُ أُرْسِلَ إِِلَيْهِ كَمَا أُرْسِلَ إِِلَى مُوسَى ، فَمَكَثَ فِي قَوْمِهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، وَاللَّهِ إِِنِّي لأَرْجُو أَنْ يَعِيشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَقْطَعَ أَيْدِيَ رِجَالٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ وَأَلْسِنَتَهُمْ ، يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ خُطْبَةَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الآخِرَةَ حِينَ جَلَسَ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَلِكَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَتَشَهَّدَ عُمَرُ وَأَبُو بَكْرٍ صَامِتٌ لا يَتَكَلَّمُ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِِنِّي قُلْتُ أَمْسَ مَقَالَةً وَإِِنَّهَا لَمْ تَكُنْ كَمَا قُلْتُ ، وَإِِنِّي وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ الْمَقَالَةَ الَّتِي قُلْتُ فِي كِتَابٍ أَنْزَلَهُ اللَّهُ وَلا فِي عَهْدٍ عَهِدَهِ إِِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَكِنِّي كُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَعِيشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَدْبُرَنَا يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنْ يَكُونَ آخِرَهُمْ ، فَإِِنْ يَكُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ ، فَإِِنَّ اللَّهَ جَعَلَ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ نُورًا تَهْتَدُونَ بِهِ ، فَاعْتَصِمُوا بِهِ تَهْتَدُوا لِمَا هَدَى اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ " إِِنَّ أَبَا بَكْرٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَثَانِي اثْنَيْنِ ، وَإِِنَّهُ أَوْلَى النَّاسِ بِأُمُورِكُمْ ، فَقُومُوا فَبَايِعُوهُ " ، وَكَانَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ قَدْ بَايَعُوهُ قَبْلَ ذَلِكَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ ، وَكَانَتْ بَيْعَةُ الْعَامَّةِ عَلَى الْمِنْبَرِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب پیر کا دن آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے کا پردہ ہٹایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیکھا، جو لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی طرف دیکھا تو وہ قرآن کے صفحے کی طرح تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے، قریب تھا کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی خوشی میں اپنی نمازوں کے بارے میں آزمائش کا شکار ہو جائیں (یعنی نمازیں توڑ دیں)۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس بات کا ارادہ کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں تو وہ پیچھے ہٹ جائیں، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا: ”تم اسی طرح رہو جیسے ہو۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ گرا دیا، اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول کا انتقال نہیں ہوا، بلکہ انہیں اسی طرح بلوایا گیا ہے جس طرح سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو بلوایا گیا تھا، تو وہ چالیس دن تک اپنی قوم سے دور رہے تھے؛ اللہ کی قسم! مجھے یہ امید ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک زندہ رہیں گے جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم منافقین کے کچھ افراد کے ہاتھ نہیں کاٹ دیتے اور ان کی زبانیں نہیں کاٹ دیتے، وہ منافقین جو یہ سمجھتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ہے۔ زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بتایا کہ انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دوسرے خطبے میں انہیں سنا جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر بیٹھے، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے اگلے دن کی بات ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خاموش تھے، انہوں نے کوئی بات نہیں کی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اما بعد! میں نے کل ایک بات کہی تھی ویسا نہیں ہے، جس طرح میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے جو بات کہی تھی میں نے وہ بات اللہ کی کتاب میں نہیں پائی کہ جسے اللہ نے نازل کیا ہو اور نہ ہی اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی تلقین کی، لیکن مجھے یہ امید تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اتنے عرصے تک زندہ رہیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہم سب کے بعد ہو گا (راوی کہتے ہیں:) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مراد یہ تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ان میں سے سب سے آخر میں ہو گا۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) اگرچہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو چکا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان ایک نور رکھا ہے، جس کے ذریعے تم ہدایت حاصل کر سکتے ہو، تم اسے مضبوطی سے تھام کر رکھو تم ہدایت پا لو گے، یہ وہ چیز ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت عطا کی تھی، پھر بے شک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں، وہ دو افراد میں سے دوسرے شخص ہیں (جو ہجرت کے وقت غار میں موجود تھے) اور وہ تمہارے امور (یعنی خلیفہ ہونے) کے بارے میں سب لوگوں سے زیادہ حقدار ہیں، تو تم لوگ اٹھو اور ان کی بیعت کر لو۔ (راوی کہتے ہیں:) ان لوگوں میں سے کچھ لوگ اس سے پہلے بنو ساعدہ کے سقیفہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر چکے تھے، لیکن ان کی عام بیعت منبر پر ہوئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6875]

6876

Sahih Ibn Hibban #6876

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، وَسَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، إِِذْ قَدِمَتْ عِيرٌ إِِلَى الْمَدِينَةِ ، فَابْتَدَرَهَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ إِِلا اثْنَا عَشَرَ رَجُلا ، مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، وَنَزَلَتِ الآيَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، اسی دوران ایک قافلہ (یعنی ساز و سامان کا قافلہ) مدینہ منورہ آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تیزی سے اس کی طرف گئے یہاں تک کہ وہاں صرف بارہ افراد رہ گئے جن میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، اس وقت یہ آیت ﴿وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا ۚ قُلْ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ اللَّهْوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ ۚ وَاللَّهُ خَيْرُ الرَّازِقِينَ﴾ [سورة الجمعة: 11] نازل ہوئی (یعنی جو سورۃ جمعہ کی آخری آیات ہیں)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6876]