Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 59 · Chapter 3

Book of Incantations and Amulets

Hadith 6729–6762

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6729

Sahih Ibn Hibban #6729

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ اللَّهُ أَعْلَمُ أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لا ، ثُمَّ يَنْشَأُ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ وَلا يُسْتَشْهَدُونَ ، وَيَنْذِرُونَ وَلا يُوفُونَ ، وَيَخُونُونَ وَلا يُؤْتَمَنُونَ ، وَيَفْشُو فِيهِمُ السِّمَنُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری امت میں سب سے بہتر وہ زمانہ ہے جس میں مجھے مبعوث کیا گیا، پھر اس کے بعد والوں کا ہے (راوی کہتے ہیں: اللہ بہتر جانتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے کا ذکر کیا یا نہیں کیا) (اور پھر فرمایا) پھر وہ لوگ آئیں گے کہ وہ گواہی دیں گے، حالانکہ ان سے گواہی نہیں مانگی گئی ہوگی اور وہ نذر مانیں گے لیکن اسے پورا نہیں کریں گے، وہ خیانت کریں گے انہیں امین نہیں بنایا جائے گا اور ان کے درمیان موٹاپا عام ہوگا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6729]

6730

Sahih Ibn Hibban #6730

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :كَيْفَ أَنْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو لَوْ بَقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ ؟ قَالَ : وَذَاكَ مَا هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : ذَاكَ إِِذَا مَرَجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ ، وَصَارُوا هَكَذَا ، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ " ، قَالَ : فَكَيْفَ بِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تَعْمَلُ بِمَا تَعْرِفُ ، وَتَدَعُ مَا تُنْكِرُ ، وَتَعْمَلُ بِخَاصَّةِ نَفْسِكِ ، وَتَدَعُ عَوَامَّ النَّاسِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما! اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا جب تم بچے کھچے (یعنی کمینے) لوگوں میں باقی رہ جاؤ گے؟“ انہوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! وہ کون لوگ ہوں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب ان لوگوں کے عہد اور ان کی امانتیں اختلاط کا شکار ہو جائیں گے اور وہ لوگ اس طرح ہو جائیں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے سے پیوست کر کے یہ بات ارشاد فرمائی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! پھر مجھے کیا کرنا چاہیے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم وہ کام کرو جسے تم نیکی سمجھو اور اس چیز کو چھوڑ دو جسے تم منکر قرار دو اور تم صرف اپنی ذات کے لیے کام کرو اور عام لوگوں کو (ان کے حال پر) چھوڑ دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6730]

6731

Sahih Ibn Hibban #6731

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِِنَّالْيَهُودَ افْتَرَقَتْ عَلَى إِِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً أَوِ اثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، وَالنَّصَارَى عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ ، وَتَتَفَرَّقُ هَذِهِ الأُمَّةُ عَلَى ثَلاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک یہودی 71 فرقوں میں تقسیم ہوئے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) 72 فرقوں میں تقسیم ہوئے اور عیسائی بھی اسی طرح ہوئے اور یہ قوم 73 فرقوں میں تقسیم ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6731]

6732

Sahih Ibn Hibban #6732

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : لَمَّا أَقْبَلَتْ عَائِشَةُ ، مَرَّتْ بِبَعْضِ مِيَاهِ بَنِي عَامِرٍ طَرَقَتْهُمْ لَيْلا ، فَسَمِعَتْ نُبَاحَ الْكِلابِ ، فَقَالَتْ : أَيُّ مَاءٍ هَذَا ؟ قَالُوا : مَاءُ الْحَوْءَبِ ، قَالَتْ : مَا أَظُنُّنِي إِِلا رَاجِعَةً ، قَالُوا : مَهْلا يَرْحَمُكِ اللَّهُ ، تَقْدَمِينَ فَيَرَاكِ الْمُسْلِمُونَ ، فَيُصْلِحُ اللَّهُ بِكِ ، قَالَتْ : مَا أَظُنُّنِي إِِلا رَاجِعَةً ، إِِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : كَيْفَ بِإِِحْدَاكُنَّ تَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلابُ الْحَوْءَبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بیان کرتے ہیں کہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (عراق کی طرف) آئیں، تو ان کا گزر بنو عامر کے پانی کے چشموں کے پاس سے ہوا، انہوں نے رات کے وقت وہاں پڑاؤ کیا اور کتوں کے بھونکنے کی آواز سنی تو انہوں نے دریافت کیا: یہ پانی کون سا ہے؟ لوگوں نے بتایا: یہ آبِ حواب ہے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرا خیال ہے مجھے واپس چلے جانا چاہیے۔ لوگوں نے کہا: ٹھہر جائیں، اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے، آپ آگے بڑھیں تاکہ مسلمان آپ کو دیکھ لیں، اللہ تعالیٰ آپ کی وجہ سے کوئی بہتری کی صورت پیدا کر دے گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرا خیال ہے مجھے واپس چلے جانا چاہیے، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تم (یعنی ازواج مطہرات) میں سے کسی ایک کا کیا عالم ہو گا جب اس پر حواب کے کتے بھونکیں گے؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6732]

6733

Sahih Ibn Hibban #6733

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَعْيَنَ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ ، وَقَدْ وَضَعْتُ رِجْلَيَّ فِي الْغَرْزِ ، وَأَنَا أُرِيدُ الْعِرَاقَ : لا تَأْتِ أَهْلَ الْعِرَاقِ ، فَإِِنَّكَ إِِنْ أَتَيْتَهُمْ أَصَابَكَ ذُبَابُ السَّيْفِ بِهَا "، قَالَ عَلِيٌّ : وَأَيْمُ اللَّهِ ، لَقَدْ قَالَهَا لِي رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ أَبُو الأَسْوَدِ : فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ رَجُلا مُحَارِبًا يُحَدِّثُ النَّاسَ بِمِثْلِ هَذَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواسود دُؤَلی بیان کرتے ہیں: سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی جب میں نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا، میں عراق جانا چاہتا تھا تو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: آپ اہل عراق کے پاس نہ جائیں، کیونکہ اگر آپ ان کے پاس جائیں گے تو وہاں تلوار کی دھار آپ کو بھی لگ سکتی ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! یہی بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مجھ سے ارشاد فرمائی تھی۔“ ابواسود کہتے ہیں: میں نے دل میں سوچا میں نے آج کے دن کی طرح کا ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا جو جنگجو بھی ہو اور لوگوں کے ساتھ اس طرح بات چیت بھی کرتا ہو جس طرح یہ کرتے ہیں (ان کی مراد سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6733]

6734

Sahih Ibn Hibban #6734

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ ، بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ ، دَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک دو بڑے گروہ ایک دوسرے کے ساتھ جنگ نہ کریں، ان کے درمیان ایک بڑی لڑائی ہوگی اور ان دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہوگا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6734]

6735

Sahih Ibn Hibban #6735

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عَمْرٍو الْحِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ عَوْفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَكُونُ فِي أُمَّتِي فِرْقَتَانِ ، تَمْرُقُ بَيْنَهُمَا مَارِقَةٌ ، تَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری امت میں دو گروہ ہوں گے ان کے درمیان لڑائی ہو گی اور اس لڑائی میں وہ گروہ کامیاب ہو گا جو حق کے زیادہ قریب ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6735]

6736

Sahih Ibn Hibban #6736

أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَهْلٍ بِوَاسِطَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دَاوُدَ الطَّرَازِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6736]

6737

Sahih Ibn Hibban #6737

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يَخْرُجُ قَوْمٌ فِيكُمْ تَحْقِرُونَ صَلاتَكُمْ مَعَ صَلاتِهِمْ ، وَصِيَامَكُمْ مِنْ صِيَامِهِمْ ، وَعَمَلَكُمْ مَعَ عَمَلِهِمْ ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، تَنْظُرُ فِي النَّصْلِ فَلا تَرَى شَيْئًا ، وَتَنْظُرُ فِي الْقِدْحِ فَلا تَرَى شَيْئًا ، وَتَنْظُرُ فِي الرِّيشِ فَلا تَرَى شَيْئًا ، وَتَتَمَارَى فِي الْفُوقِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تمہارے درمیان ایسی قوم نمودار ہو گی کہ تم ان کی نمازوں کے سامنے اپنی نمازوں کو، ان کے روزوں کے سامنے اپنے روزوں کو اور ان کے عمل کے سامنے اپنے عمل کو کم تر سمجھو گے، وہ لوگ قرآن کی تلاوت کریں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے یوں خارج ہو جائیں گے جس طرح تیر نشانے سے پار ہو جاتا ہے، جب تم اس کے پھل کو دیکھو گے تو تمہیں وہاں کوئی (نشان) نظر نہیں آئے گا، جب تم اس کے پچھلے حصے کو دیکھو گے تو تمہیں کچھ نظر نہیں آئے گا، جب تم اس کے پروں کو دیکھو گے تو تمہیں کچھ نظر نہیں آئے گا، البتہ اس کے «الْفُوقِ» (نامی حصے) کے بارے میں تمہیں شک ہو گا (کہ یہاں کچھ لگا ہوا ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6737]

6738

Sahih Ibn Hibban #6738

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّبَعْدِي مِنْ أُمَّتِي أَوْ سَيَكُونُ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لا يُجَاوِزُ حَلاقِمَهُمْ ، يَخْرُجُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، ثُمَّ لا يَعُودُونَ فِيهِ ، هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک میرے بعد میری امت میں (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن کی تلاوت کریں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا، وہ لوگ دین سے یوں نکل جائیں گے جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے اور پھر وہ دین میں واپس نہیں آئیں گے، وہ مخلوق اور کائنات کے بدترین افراد ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6738]

6739

Sahih Ibn Hibban #6739

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : إِِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا ، فَلأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكْذِبَ عَلَيْهِ ، وَإِِذَا حَدَّثْتُكُمْ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ فَإِِنَّمَا الْحَرْبُ خُدْعَةٌ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يَأْتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ حَدِيثُوا الأَسْنَانِ ، سُفَهَاءُ الأَحْلامِ ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الإِِسْلامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، لا يُجَاوِزُ إِِيمَانُهُمْ تَرَاقِيَهُمْ ، فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ ، فَإِِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر میں تمہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کروں تو میرے لیے آسمان سے نیچے گر جانا، اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کروں اور جب میں اپنے اور تمہارے درمیان کسی بارے میں تمہارے ساتھ بات کروں، تو «الْحَرْبُ خُدْعَةٌ» ”جنگ دھوکہ دہی کا نام ہے۔“ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”آخری زمانے میں کچھ ایسے لوگ آئیں گے جن کی عمریں کم ہوں گی، عقل کم ہو گی، وہ لوگ مخلوق میں سب سے بہتر شخص کی احادیث بیان کریں گے، لیکن وہ دین سے یوں نکل جائیں گے جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے، ان کا ایمان ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا، تمہارا جہاں کہیں ان سے سامنا ہو تو انہیں قتل کرنا، کیونکہ انہیں قتل کرنے کا قیامت کے دن اس شخص کو اجر ملے گا، جو انہیں قتل کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6739]

6740

Sahih Ibn Hibban #6740

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُرَيْجٍ النَّقَالُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِيَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمَ ذَكَرَ نَاسًا يَكُونُونَ فِي أُمَّتِهِ ، يَخْرُجُونَ فِي فِرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ ، سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ ، هُمْ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ أَوْ هُمْ مِنْ شَرِّ الْخَلْقِ ، تَقْتُلُهُمْ أَدْنَى الطَّائِفَتَيْنِ إِِلَى الْحَقِّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کا ذکر کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ہوں گے، وہ کچھ لوگوں کے درمیان نکلیں گے، ان کی مخصوص نشانی سر منڈوانا ہو گی اور ”وہ بدترین لوگ ہوں گے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) وہ مخلوق میں بدترین ہوں گے اور انہیں وہ گروہ قتل کرے گا، جو حق کے زیادہ قریب ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6740]

6741

Sahih Ibn Hibban #6741

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَالضَّحَّاكُ الْمِشْرَقِيُّ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُقْسِمُ قَسْمًا ، إِِذَا جَاءَهُ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اعْدِلْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَيْلَكَ ،وَمَنْ يَعْدِلُ إِِذَا لَمْ أَعْدَلْ ؟ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ائْذَنْ لِي فِيهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَعْهُ ، فَإِِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلاتَهُ مَعَ صَلاتِهِمْ ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الإِِسْلامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، يُنْظَرُ إِِلَى نَصْلِهِ فَلا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِِلَى رِصَافِهِ فَلا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِِلَى نَضِيِّهِ فَلا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ وَهُوَ الْقِدْحُ ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِِلَى قُذَذِهِ فَلا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ ، سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ ، آيَتُهُمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ إِِحْدَى عَضُدَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ ، وَمَثَلُ الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ ، يَخْرُجُونَ عَلَى حِينَ فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ "، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَاتَلَهُمْ وَأَنَا مَعَهُ ، فَأَمَرَ بِذَلِكَ الرَّجُلِ فَالْتُمِسَ ، فَوُجِدَ ، فَأُتِيَ بِهِ حَتَّى نَظَرْتُ إِِلَيْهِ عَلَى نَعْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي نَعَتَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم کر رہے تھے، اسی دوران بنو تمیم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ذو الخویصرہ آیا اور اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ انصاف سے کام لیجیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا ستیاناس ہو! اگر میں عدل سے کام نہیں لوں گا تو پھر کون عدل کرے گا؟“ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے اس کے بارے میں اجازت دیجیے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، کیونکہ اس کے کچھ ایسے ساتھی بھی ہوں گے کہ تم ان کی نمازوں کے سامنے اپنی نمازوں کو اور ان کے روزوں کے سامنے اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گے، وہ لوگ قرآن کی تلاوت کریں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا، وہ لوگ دین سے یوں نکل جائیں گے جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے، جب اس کے پھل کا جائزہ لیا جاتا ہے تو وہاں کچھ نہیں ملتا، جب اس کے کونے کا جائزہ لیا جاتا ہے تو وہاں کچھ نہیں ملتا، جب اس کے رصاف (تیر کے پھل کو تانت باندھنے کی جگہ) کا جائزہ لیا جاتا ہے تو وہاں کچھ نہیں ملتا، جب اس کے نضی (تیر کے پیکان اور پر کے درمیان کا حصہ) کا جائزہ لیا جاتا ہے تو وہاں کچھ نہیں ملتا جو گوبر اور خون پر سبقت لے گیا ہو۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”ان لوگوں کی مخصوص نشانی ایک سیاہ فام شخص ہے جس کا ایک بازو عورت کی چھاتی کی مانند ہوگا یا وہ تھرتھراتے ہوئے گوشت کے ٹکڑے کی مانند ہوگا، وہ لوگ لوگوں کے درمیان اختلاف کے وقت ظاہر ہوں گے۔“ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ ہم نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کے ساتھ جنگ کی تھی اور میں اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے بارے میں حکم دیا تو اسے تلاش کیا گیا، وہ شخص مل گیا، جب اسے لایا گیا اور میں نے اس کا جائزہ لیا تو وہ بالکل ویسا ہی تھا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حلیہ بیان کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6741]

6742

Sahih Ibn Hibban #6742

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : اسْتَأْذَنَ مَلَكُ الْقَطْرِ رَبَّهُ أَنْ يَزُورَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَذِنَ لَهُ ، فَكَانَ فِي يَوْمِ أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :احْفَظِي عَلَيْنَا الْبَابَ ، لا يَدْخُلُ عَلَيْنَا أَحَدٌ ، فَبَيْنَمَا هِيَ عَلَى الْبَابِ ، إِِذْ جَاءَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، فَطَفِرَ ، فَاقْتَحَمَ ، فَفَتَحَ الْبَابَ ، فَدَخَلَ ، فَجَعَلَ يَتَوَثَّبُ عَلَى ظَهْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَجَعَلَ النَّبِيُّ يَتَلَثَّمُهُ وَيُقَبِّلُهُ ، فَقَالَ لَهُ الْمَلَكُ : أَتُحِبُّهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَمَا إِِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ ، إِِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ الَّذِي يُقْتَلُ فِيهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَبَضَ قَبْضَةً مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي يُقْتَلُ فِيهِ ، فَأَرَاهُ إِِيَّاهُ ، فَجَاءَهُ بِسَهْلَةٍ أَوْ تُرَابٍ أَحْمَرَ "، فَأَخَذَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ فَجَعَلْتُهُ فِي ثَوْبِهَا ، قَالَ ثَابِتٌ : كُنَّا نَقُولُ إِِنَّهَا كَرْبَلاءُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ بارش کے فرشتے نے اپنے پروردگار سے اجازت مانگی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو، تو پروردگار نے اسے اجازت دے دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے) فرمایا: ”دروازے کا خیال رکھنا، کوئی بھی شخص اندر نہ آئے۔“ تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ابھی دروازے پر موجود تھیں کہ اسی دوران سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ (جو بچے تھے) وہ آ گئے، انہوں نے دروازہ کھولا اور اندر آ گئے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر چڑھنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ساتھ لپٹانے لگے اور ان کا بوسہ لینے لگے۔ فرشتے نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: کیا آپ ان سے محبت کرتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ فرشتے نے کہا: لیکن آپ کی امت تو انہیں شہید کر دے گی، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو وہ جگہ دکھا سکتا ہوں جہاں انہیں شہید کیا جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے“، تو اس فرشتے نے اس جگہ کی مٹھی بھر مٹی لی جہاں سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا جانا تھا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی، وہ فرشتہ نرم (یعنی باریک) مٹی لے کر آیا تھا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) سرخ مٹی لایا تھا۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے وہ مٹی لے لی اور اسے اپنے کپڑے میں رکھ لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6742]

6743

Sahih Ibn Hibban #6743

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا خُوزَ وَكِرْمَانَ قَوْمًا مِنَ الأَعَاجِمِ ، حُمْرَ الْوجُوهِ ، فُطْسَ الأُنُوفِ ، صِغَارَ الأَعْيُنِ ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم عجمیوں سے تعلق رکھنے والی دو قوموں خوز اور کرمان کے ساتھ جنگ نہیں کرو گے، ان کے چہرے سرخ ہوں گے، ناک چپٹے ہوں گے، آنکھیں چھوٹی ہوں گی اور ان کے چہرے چمڑے کی ڈھالوں کی مانند ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6743]

6744

Sahih Ibn Hibban #6744

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتُلُوا قَوْمًا صِغَارَ الأَعْيُنِ ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم اس قوم کے ساتھ جنگ نہیں کرو گے جن کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی اور ان کے چہرے چمڑے کی بنی ہوئی ڈھالوں کی مانند ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6744]

6745

Sahih Ibn Hibban #6745

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمُ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ التُّرْكَ ، قَوْمًا وُجُوهَهُمْ كَالْمَجَانِّ الْمُطْرَقَةِ ، يَلْبَسُونَ الشَّعَرَ ، وَيَمْشُونَ فِي الشَّعَرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک مسلمان ترکوں کے ساتھ جنگ نہیں کریں گے، جو ایک ایسی قوم ہے جن کے چہرے چمڑے کی بنی ہوئی ڈھالوں کی مانند ہیں، وہ لوگ بالوں (سے بنا ہوا) لباس پہنتے ہیں اور بالوں سے بنے ہوئے جوتے پہنتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6745]

6746

Sahih Ibn Hibban #6746

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلَكُمْ أُمَّةٌ يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ ، وُجُوهُهُمْ مِثْلُ الْمَجَانِّ الْمُطْرَقَةِ "، وَهِيَ التِّرَسَةُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تمہارے ساتھ ایک ایسا گروہ جنگ نہیں کرے گا جو بالوں کے جوتے پہنتے ہیں اور ان کے چہرے ڈھالوں کی مانند ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6746]

6747

Sahih Ibn Hibban #6747

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مَعْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا صِغَارَ الأَعْيُنِ كَأَنَّ أَعْيُنَهُمْ حَدَقُ الْجَرَادِ ، عِرَاضَ الْوجُوهِ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ ، يَجِيئُونَ حَتَّى يَرْبُطُوا خُيُولَهُمْ بِالنَّخْلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم ایسی قوم کے ساتھ جنگ نہیں کرو گے جن کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی، ان کی آنکھیں ٹڈی کی پتلیوں کی طرح ہوں گی، ان کے چہرے چوڑے ہوں گے یوں جیسے وہ چمڑے سے بنی ہوئی ڈھالیں ہوں، جب وہ لوگ آئیں گے تو اپنے گھوڑوں کو کھجور کے درختوں کے ساتھ باندھ دیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6747]

6748

Sahih Ibn Hibban #6748

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أبيه ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِِنَّنَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَنْزِلُونَ بِحَائِطٍ يُسَمُّونَهُ الْبَصْرَةَ ، عِنْدَهَا نَهْرٌ يُقَالُ لَهُ دِجْلَةُ ، يَكُونُ لَهُمْ عَلَيْهَا جِسْرٌ ، وَيَكْثُرُ أَهْلُهَا ، وَيَكُونُ مِنْ أَمْصَارِ الْمُهَاجِرِينَ ، فَإِِذَا كَانَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ جَاءَ بَنُو قَنْطُورَاءَ ، أَقْوَامٌ عِرَاضُ الْوجُوهِ ، حَتَّى يَنْزِلُوا عَلَى شَاطِئِ النَّهْرِ ، فَيَفْتَرِقُ أَهْلُهَا عَلَى ثَلاثِ فِرَقٍ ، فَأَمَّا فِرْقَةٌ فَتَأْخُذُ أَذْنَابَ الإِِبِلِ وَالْبَرِّيَّةِ فَيَهْلِكُونَ ، وَأَمَّا فِرْقَةٌ فَيَأْخُذُونَ لأَنْفُسِهِمْ وَيَكْفُرُونَ ، وَأَمَّا فِرْقَةٌ فَيَجْعَلُونَ ذَرَارِيَّهُمْ خَلْفَ ظُهُورِهِمْ ، وَيُقَاتِلُونَهُمْ وَهُمُ الشُّهَدَاءُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میری امت کے کچھ لوگ ایک باغ میں پڑاؤ کریں گے جس کا نام بصرہ ہوگا، اس کے پاس ایک دریا ہوگا جس کا نام دجلہ ہوگا، اس پر ایک پل ہوگا، وہاں کے رہنے والے لوگ زیادہ ہوں گے اور وہ مہاجرین کے شہروں میں سے ہوگا، جب آخری زمانہ آئے گا تو بنو قنطوراء آئیں گے، یہ وہ قوم ہے جن کے چہرے چوڑے ہوں گے، یہاں تک کہ وہ دریا کے ایک کنارے پر پڑاؤ کریں گے، تو وہاں کے لوگ تین حصوں میں تقسیم ہو جائیں گے؛ ایک گروہ اونٹوں کی دم اور جانوروں کی دم پکڑے گا، وہ لوگ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے، ایک گروہ اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرے گا اور کفر کرے گا، اور ایک گروہ اپنے بال بچوں کو اپنی پشت کے پیچھے رکھے گا اور وہ ان کے ساتھ لڑائی کرے گا، یہ لوگ شہداء ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6748]

6749

Sahih Ibn Hibban #6749

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَضْطَرِبَ أَلْيَاتُ نِسَاءِ دَوْسٍ حَوْلَ ذِي الْخَلَصَةِ "، وَكَانَتْ صَنَمًا تَعْبُدُهَا دَوْسٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بِتَبَالَةَ ، قَالَ مَعْمَرٌ : إِِنَّ عَلَيْهِ الآنَ بَيْتًا مَبْنِيًّا مُغْلَقًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک دوس قبیلے کی عورتوں کی سرین ذوالخلصہ کے اردگرد گھومے گی نہیں۔“ (راوی کہتے ہیں:) یہ ایک بت تھا، زمانہ جاہلیت میں دوس قبیلے کے لوگ اس کی عبادت کرتے تھے، یہ بت تبالہ کے مقام پر تھا۔ معمر نامی راوی کہتے ہیں: اب اس جگہ پر ایک عمارت تعمیر ہوئی ہے جو بند ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6749]

6750

Sahih Ibn Hibban #6750

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لا يُحَجَّ الْبَيْتُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک حج ختم نہیں ہو جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6750]

6751

Sahih Ibn Hibban #6751

أَخْبَرَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ بِطَرَسُوسَ ، وَعُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ بِمَنْبِجَ ، قَالا : حَدَّثَنَا حامد بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُخَرِّبُ الْكَعْبَةَ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ "، السُّوَيْقَتَيْنِ : الْكِسَاءَيْنِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حبشہ سے تعلق رکھنے والا دو چادروں والا شخص خانہ کعبہ کو ڈھا دے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) «السُّوَيْقَتَيْنِ» سے مراد دو چادریں ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6751]

6752

Sahih Ibn Hibban #6752

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الأَخْنَسِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِِلَيْهِ أَسْوَدَ أَفْحَجَ ، يَقْلَعُهَا حَجَرًا حَجَرًا يَعْنِي الْكَعْبَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گویا کہ میں اس وقت بھی اس سیاہ فام شخص کی طرف دیکھ رہا ہوں جس کے دونوں زانوؤں کے درمیان فاصلہ ہو گا جو خانہ کعبہ کا ایک پتھر اکھاڑ رہا ہے“ (راوی کہتے ہیں:) اس سے مراد خانہ کعبہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6752]

6753

Sahih Ibn Hibban #6753

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اسْتَمْتِعُوا مِنْ هَذَا الْبَيْتِ ، فَإِِنَّهُ قَدْ هُدِمَ مَرَّتَيْنِ ، وَيُرْفَعُ فِي الثَّالِثَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس گھر سے نفع حاصل کر لو، کیونکہ اسے دو مرتبہ منہدم کیا جائے گا اور تیسری مرتبہ اٹھا لیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6753]

6754

Sahih Ibn Hibban #6754

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، وَأَبُو مَالِكٍ الأَشْعَرِيَّانَ ، سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَيَكُونَنَّ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ الْحَرِيرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوعامر اور سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت میں ایسے لوگ ضرور ہوں گے جو ریشم، شراب اور آلاتِ موسیقی کو حلال قرار دیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6754]

6755

Sahih Ibn Hibban #6755

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَغْزُو جَيْشٌ الْكَعْبَةَ ، حَتَّى إِِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الأَرْضِ ، خُسِفَ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَفِيهِمْ سِوَاهُمْ ، وَمَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ ؟ قَالَ : " يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ ، ثُمَّ يَبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک لشکر خانہ کعبہ پر حملہ کرنے کے لیے آئے گا، جب وہ کھلے میدان میں پہنچیں گے تو ان کے آگے والے اور پیچھے والے (لوگوں کو) زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ! ان کے درمیان کچھ ایسے لوگ بھی تو ہوں گے جو ان کے علاوہ ہوں گے جن کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہو گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان سب کو دھنسا دیا جائے گا، پھر ان کی نیت کے مطابق انہیں (قیامت کے دن) زندہ کیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6755]

6756

Sahih Ibn Hibban #6756

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ وَالْحَارِثُ بْنُ رَبِيعَةَ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالُوا : يَا أُمَّ سَلَمَةَ ، أَلا تُحَدِّثِينَا عَنِ الْخَسْفِ الَّذِي يُخْسَفُ بِالْقَوْمِ ؟ قَالَتْ : بَلَى ، قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَعُوذُ عَائِذٌ بِالْبَيْتِ ، فَيُبْعَثُ إِِلَيْهِ بَعْثٌ ، حَتَّى إِِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ " ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَنْ كَانَ كَارِهًا ؟ قَالَ : " يُخْسَفُ مَعَهُمْ ، وَلَكِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى مَا كَانَ فِي نَفْسِهِ "، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ : فَقُلْتُ لأَبِي جَعْفَرٍ : إِِنَّهَا قَالَتْ : بِبَيْدَاءَ مِنَ الأَرْضِ ، قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : وَاللَّهِ إِِنَّهَا لَبَيْدَاءُ الْمَدِينَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن قبطیہ بیان کرتے ہیں: میں، عبداللہ بن صفوان اور حارث بن ربیعہ رضی اللہ عنہما، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان لوگوں نے کہا: اے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا! آپ ہمیں لوگوں کو زمین میں دھنسائے جانے والی روایت بیان نہیں کریں گی؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ایک شخص بیت اللہ کی پناہ لے گا پھر اس کی طرف ایک لشکر روانہ کیا جائے گا، یہاں تک کہ جب وہ کھلے میدان میں پہنچیں گے تو انہیں دھنسا دیا جائے گا۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! جو شخص مجبوری کے عالم میں (ان کے ساتھ آیا ہوگا)؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں بھی اس کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا البتہ قیامت کے دن اسے اسی حالت میں زندہ کیا جائے گا، جو اس کے ذہن میں خیال تھا۔“ عبدالعزیز نامی راوی کہتے ہیں: میں نے ابوجعفر رحمہ اللہ (شاید اس سے مراد امام محمد الباقر رحمہ اللہ ہیں) سے دریافت کیا کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہے: زمین کے کھلے حصے میں، تو امام ابوجعفر رحمہ اللہ نے جواب دیا: اللہ کی قسم! اس سے مراد مدینہ منورہ کا چٹیل میدان ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6756]

6757

Sahih Ibn Hibban #6757

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رِفَاعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَكُونُ اخْتِلافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيفَةٍ ، فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ إِِلَى مَكَّةَ ، فَيَأْتِيهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ، فَيُخْرِجُونَهُ وَهُوَ كَارِهٌ ، فَيُبَايعُونَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ ، فَيَبْعَثُونَ إِِلَيْهِ جَيْشًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ ، فَإِِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ ، فَإِِذَا بَلَغَ النَّاسَ ذَلِكَ أَتَاهُ أَبْدَالُ أَهْلِ الشَّامِ وَعِصَابَةُ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَيُبَايعُونَهُ ، وَيَنْشَأُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَخْوَالُهُ مِنْ كَلْبٍ ، فَيَبْعَثُ إِِلَيْهِمْ جَيْشًا ، فَيَهْزِمُونَهُمْ وَيَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ ، فَيَقْسِمُ بَيْنَ النَّاسِ فَيْئَهُمْ ، وَيَعْمَلُ فِيهِمْ بِسُنَّةِ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَيُلْقِي الإِِسْلامُ بِجِرَانِهِ إِِلَى الأَرْضِ ، يَمْكُثُ سَبْعَ سِنِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خلیفہ کے انتقال کے وقت اختلاف رونما ہوگا، تو اہل مدینہ میں سے قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص مکہ کی طرف جائے گا، اہل مکہ سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ ان کے پاس آئیں گے اور وہ اسے نکلنے پر مجبور کریں گے، حالانکہ اسے یہ بات پسند نہیں ہوگی، پھر وہ رکن اور مقام کے درمیان اس سے بیعت لیں گے، پھر اہل شام سے ایک لشکر اس کی طرف بھیجا جائے گا، وہ لوگ بیداء کے مقام پر پہنچیں گے تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا، جب لوگوں تک اس بات کی اطلاع پہنچے گی، تو اہل شام کے ابدال اور اہل عراق کا ایک گروہ ان کے پاس آئیں گے اور اس کی بیعت کریں گے، پھر قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نکلے گا، جس کا ننھیال بنو کلب سے ہوگا، وہ ان کی طرف ایک لشکر بھیجے گا، وہ لوگ اسے پسپا کر دیں گے اور اس پر غالب آ جائیں گے، وہ ان کا مال لوگوں کے درمیان تقسیم کرے گا اور ان کے بارے میں اپنے نبی کی سنت کے مطابق عمل کرے گا۔ وہ شخص سات سال تک زمین میں رہے گا۔ وہ دنیا میں اسلام کو مستحکم کر دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6757]

6758

Sahih Ibn Hibban #6758

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حَاتِمُ بْنُ حُرَيْثٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : تَذَاكَرْنَا الطِّلاءَ ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ ، فَتَذَاكَرْنَا ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو مَالِكٍ الأَشْعَرِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يَشْرَبُ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ ، يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا ، يُضْرَبُ عَلَى رُءُوسِهِمْ بِالْمَعَازِفِ وَالْقَيْنَاتِ ، يَخْسِفُ اللَّهُ بِهِمُ الأَرْضَ ، وَيَجْعَلُ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : اسْمُ أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيُّ : الْحَارِثُ بْنُ مَالِكٍ ، وَقَدْ قِيلَ : إِِنَّ أَبَا مَالِكٍ الأَشْعَرِيَّ اسْمُهُ كَعْبُ بْنُ عَاصِمٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مالک بن ابومریم بیان کرتے ہیں کہ ہم «الطِّلَاء» کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے، اسی دوران عبدالرحمن بن غنم ہمارے پاس آئے، ہم نے یہ گفتگو شروع کی تو انہوں نے بتایا: سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے، لیکن وہ اس کا نام دوسرا رکھ دیں گے، ان کے سرہانے آلاتِ موسیقی بجائے جائیں گے اور گانے والیاں ہوں گی، اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو زمین میں دھنسا دے گا اور ان میں سے کچھ لوگوں کو بندروں اور خنزیروں کی شکل میں تبدیل کر دے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ کا نام حارث بن مالک ہے اور ایک قول کے مطابق سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ کا نام کعب بن عاصم ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6758]

6759

Sahih Ibn Hibban #6759

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ ، عَنْ سُفْيَاَنَ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ فِي أُمَّتِي خَسْفٌ وَمَسْخٌ وَقَذْفٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک میری امت میں زمین میں دھنسائے جانے، شکلیں تبدیل ہونے اور پتھر برسائے جانے (کا عذاب نازل نہیں ہو گا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6759]

6760

Sahih Ibn Hibban #6760

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک لوگ مساجد (کی تعمیر) میں ایک دوسرے کے مقابلے میں فخر کا اظہار نہیں کریں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6760]

6761

Sahih Ibn Hibban #6761

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ النَّصْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو التَّقِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَيَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ يَكُونُ حَدِيثُهُمْ فِي مَسَاجِدِهِمْ ، لَيْسَ لِلَّهِ فِيهِمْ حَاجَةٌ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو التَّقِيِّ هَذَا هُوَ : أَبُو التَّقِيِّ الْكَبِيرُ ، اسْمُهُ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ ، وَأَبُو التَّقِيِّ الصَّغِيرُ هُوَ : هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْيَزَنِيُّ ، وَهُمَا جَمِيعًا حِمْصِيَّانِ ثِقَتَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آخری زمانے میں کچھ لوگ ہوں گے جو مساجد میں دنیاوی گفتگو کریں گے، ان کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہو گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوتقی نامی راوی ابوتقی کبیر ہے، اس کا نام عبدالحمید بن ابراہیم ہے، یہ حمص سے تعلق رکھتا ہے، جب کہ ابوتقی صغیر کا نام ہشام بن عبدالملک یزنی ہے اور یہ دونوں راوی حمص سے تعلق رکھتے ہیں، یہ دونوں ثقہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6761]

6762

Sahih Ibn Hibban #6762

ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِهَا ، قَالَ : يَنَامُ الرَّجُلُ نَوْمَةً ، فَتُقْبَضُ الأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ ، فَيَبْقَى أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْوَكْتِ ، ثُمَّ يَنَامُ الرَّجُلُ نَوْمَةً ، فَتُقْبَضُ الأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ ، فَيَبْقَى أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْمَجْلِ كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ ، فَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ وَلا يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الأَمَانَةَ ، حَتَّى يُقَالَ : إِِنَّ فِي بَنِي فُلانٍ رَجُلا أَمِينًا ، وَحَتَّى يُقَالَ لِلرَّجُلِ : مَا أَجْلَدَهُ وَأَطْرَفَهُ وَأَعْقَلَهُ ، وَلَيْسَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ خَيْرٍ ، وَلَقَدْ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ وَمَا أُبَالِي أَيُّكُمْ بَايَعْتُهُ ، لَئِنْ كَانَ مُؤْمِنًَا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ دِينُهُ ، وَلَئِنْ كَانَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ سَاعِيهِ ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَمَا كُنْتُ أُبَايعُ إِِلا فُلانًا وَفُلانًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو باتیں بتائی تھیں، ان میں سے ایک میں نے دیکھ لی ہے اور دوسری کا انتظار کر رہا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بتایا کہ امانت لوگوں کے دلوں کے اندر نازل ہوئی اور قرآن نازل ہوا تو انہوں نے قرآن کا علم حاصل کیا اور سنت کا علم حاصل کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کے اٹھائے جانے کے بارے میں بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص سوئے گا تو اس کے دل سے امانت کو قبض کر لیا جائے گا، یہاں تک کہ اس کا تھوڑا سا نشان باقی رہ جائے گا، جو دھبے کے نشان کی مانند ہو گا، پھر وہ شخص سوئے گا تو اس کے دل سے امانت کو اٹھا لیا جائے گا، یہاں تک کہ اس کا اتنا نشان باقی رہ جائے گا جتنا اس آبلے کا ہوتا ہے جو کسی انگارے کے تمہارے پاؤں پر لگنے کی وجہ سے ہوتا ہے، تمہیں وہ پھولا ہوا محسوس ہوتا ہے لیکن اس کے اندر کچھ نہیں ہوتا، لوگ ایک دوسرے کے ساتھ خرید و فروخت کریں گے، لیکن کوئی بھی شخص امانت ادا نہیں کرے گا، یہاں تک کہ یہ بات کہی جائے گی کہ بنو فلاں میں ایک امین آدمی ہے، یہاں تک کہ ایک شخص کے بارے میں یہ کہا جائے گا کہ وہ کتنا تیز، کتنا سمجھ دار، کتنا عقل مند ہے، حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی بھلائی نہیں ہو گی۔“ (سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) مجھ پر ایک ایسا زمانہ آیا کہ میں اس کی پرواہ نہیں کرتا تھا کہ میں کس کے ساتھ خرید و فروخت کر رہا ہوں، کیونکہ اگر وہ مومن ہو گا تو اس کا دین میرے ساتھ دھوکہ دہی سے باز رکھے گا اور اگر وہ یہودی یا عیسائی ہو گا تو کوتوال اسے (ایسا کرنے سے) باز رکھے گا، لیکن اب تو میں صرف فلاں اور فلاں کے ساتھ لین دین کرتا ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6762]""