Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 60 · Chapter 1

Book of Contagion, Pessimism, and Optimism

Hadith 6763–6802

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6763

Sahih Ibn Hibban #6763

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ ، قَالَ : سَمِعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغَفَّلِ ابْنًا لَهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ ، قَالَ : يَا بُنَيَّ ، إِِذَا سَأَلْتَ ، فَاسْأَلِ اللَّهَ الْجَنَّةَ ، وَتَعَوَّذْ بِهِ مِنَ النَّارِ ، فَإِِنِّي سَمِعْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ وَالطُّهُورِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو یہ کہتے ہوئے سنا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلْتُهَا» ”اے اللہ! میں تجھ سے جنت کے دائیں طرف محل کا سوال کرتا ہوں،“ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے بیٹے! جب تم نے مانگنا ہو، تو اللہ تعالیٰ سے جنت مانگو اور جہنم سے اس کی پناہ مانگو، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو دعا مانگنے اور طہارت کے حصول میں حد سے تجاوز کریں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6763]

6764

Sahih Ibn Hibban #6764

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُغَفَّلِ ، سَمِعَ ابْنًا لَهُ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ : اللَّهُمَّ إِِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ إِِذَا دَخَلْتُهَا ، قَالَ : أَيْ بُنَيَّ ، سَلِ اللَّهَ الْجَنَّةَ ، وَتَعَوَّذْ بِهِ مِنَ النَّارِ ، فَإِِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : سَيَكُونُ فِي هَذِهِ الأُمَّةِ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ وَالطُّهُورِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ وَأَبِي نَعَامَةَ ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے اپنے ایک بیٹے کو دعا میں یہ کہتے ہوئے سنا: ”اے اللہ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ جب میں جنت میں داخل ہوں تو مجھے جنت کے دائیں طرف سفید محل ملے۔“ تو سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے بیٹے! تم اللہ تعالیٰ سے جنت مانگو اور جہنم سے اس کی پناہ مانگو، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”عنقریب اس امت میں ایسے لوگ آئیں گے جو دعا مانگنے اور طہارت حاصل کرنے میں حد سے تجاوز کریں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت جریری نے یزید بن عبداللہ کے حوالے سے اور ابونعامہ کے حوالے سے سنی ہے، تو یہ دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6764]

6765

Sahih Ibn Hibban #6765

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ،لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أَحَدِكُمْ يَوْمٌ لا يَرَانِي ، ثُمَّ لأَنْ يَرَانِي أَحَبُّ إِِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، تم میں سے کسی ایک شخص پر کوئی ایسا دن ضرور آئے گا جب وہ مجھے نہیں دیکھے گا، حالانکہ اس وقت اس کا میری زیارت کرنا، اس کے نزدیک اس کے اہل خانہ اور مال سے زیادہ محبوب ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6765]

6766

Sahih Ibn Hibban #6766

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَن رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : سَيَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يُحَدِّثُونَكُمْ مَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ وَلا آبَاؤُكُمْ ، فَإِِيَّاكُمْ وَإِِيَّاهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”آخری زمانے میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو میری امت سے تعلق رکھتے ہوں گے، وہ تمہیں ایسی باتیں بتائیں گے جو نہ تم نے سنی ہوں گی اور نہ تمہارے آباؤ اجداد نے سنی ہوں گی، تو تم اپنا خیال رکھنا اور ان سے بچ کر رہنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6766]

6767

Sahih Ibn Hibban #6767

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَسَافَدُوا فِي الطَّرِيقِ تَسَافُدَ الْحَمِيرِ "، قُلْتُ : إِِنَّ ذَاكَ لَكَائِنٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ لَيَكُونَنَّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم لوگ راستے میں اس طرح صحبت نہیں کرو گے، جس طرح گدھا کرتا ہے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) میں نے دریافت کیا: کیا ایسا ہو گا؟ تو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، ایسا ضرور ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6767]

6768

Sahih Ibn Hibban #6768

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ يَوْمًا : أَلا أُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ لا يُحَدِّثُكُمْ بِهِ أَحَدٌ بَعْدِي سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لا تَقُومُ السَّاعَةُ أَوْ مِنْ شَرَائِطِ السَّاعَةِ : أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ ، وَيَكْثُرَ الْجَهْلُ ، وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ ، وَيَظْهَرَ الزِّنَى ، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ ، وَتَكْثُرَ النِّسَاءُ ، حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً قَيِّمٌ وَاحِدٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے، انہوں نے ایک دن فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی حدیث بیان نہ کروں کہ وہ حدیث تمہیں میرے بعد کوئی بیان نہیں کرے گا؟ میں نے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) قیامت کی نشانیوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ علم کو اٹھا لیا جائے گا، جہالت کی کثرت ہو گی، شراب پی جائے گی، زنا عام ہو گا اور مرد کم ہو جائیں گے، عورتیں زیادہ ہو جائیں گی، یہاں تک کہ پچاس عورتوں کا نگران ایک مرد ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6768]

6769

Sahih Ibn Hibban #6769

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَيَأْتِيَنَّ زَمَانٌ يَطُوفُ الرَّجُلُ بِالصَّدَقَةِ مِنَ الذَّهَبِ ، ثُمَّ لا يَجِدُ أَحَدًا يَأْخُذُهَا مِنْهُ ، وَيُرَى الرَّجُلُ تَتْبَعُهُ أَرْبَعُونَ امْرَأَةً مِنْ قِلَّةِ الرِّجَالِ ، وَكَثْرَةِ النِّسَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عنقریب ایسا زمانہ آئے گا جس میں آدمی سونے کا صدقہ لے کر چکر لگائے گا لیکن اسے کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا جو اس سے وہ سونا لے، اور آدمی دیکھے گا کہ اس کے پیچھے چالیس عورتیں ہیں، ایسا مردوں کی کمی اور عورتوں کی کثرت کی وجہ سے ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6769]

6770

Sahih Ibn Hibban #6770

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَسَّامُ بْنُ يَزِيدَ النَّقَالُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُمْطِرَ السَّمَاءُ مَطَرًا لا يَكُنُّ مِنْهُ بُيُوتُ الْمَدَرِ ، وَلا يَكُنُّ مِنْهُ إِِلا بُيُوتُ الشَّعَرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک آسمان سے ایسی بارش نازل نہیں ہو گی، جس سے مٹی کے بنے ہوئے کسی بھی گھر کو بچایا نہیں جا سکے گا، صرف بالوں کے بنے ہوئے مکانات کو بچایا جا سکے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6770]

6771

Sahih Ibn Hibban #6771

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُوشِكُ الْمُسْلِمُونَ أَنْ يُحْصَرُوا بِالْمَدِينَةِ حَتَّى يَكُونَ أَبْعَدَ مَسَالِحِهِمْ سَلاحُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب مسلمانوں کو مدینہ منورہ میں محصور کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ ان کی دشمن سے بچنے کی سب سے زیادہ دور جگہ «سَلَاح» ہو گی (جو خیبر کے قریب ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6771]

6772

Sahih Ibn Hibban #6772

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمَدِينَةِ : لَيَتْرُكَنَّهَا أَهْلُهَا عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ ، مُذَلَّلَةً لِلْعَوَافِي : السِّبَاعِ وَالطَّيْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے بارے میں فرمایا: ”یہاں کے رہنے والے لوگ اس میں موجود تمام تر بھلائی کے باوجود اسے چھوڑ جائیں گے اور یہاں درندے آئیں گے۔“ (راوی کہتے ہیں:) لفظ «الْعَوَافِي» سے مراد درندے اور پرندے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6772]

6773

Sahih Ibn Hibban #6773

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ حِمَاسٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَتُتْرَكَنَّ الْمَدِينَةُ عَلَى أَحْسَنِ مَا كَانَتْ ، حَتَّى يَدْخُلَ الْكَلْبُ فَيُغَذِّي عَلَى بَعْضِ سَوَارِي الْمَسْجِدِ ، أَوْ عَلَى الْمِنْبَرِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَلِمَنْ تَكُونُ الثِّمَارُ ذَلِكَ الزَّمَانَ ؟ قَالَ : " لِلْعَوَافِي : الطَّيْرِ وَالسِّبَاعِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مدینہ منورہ کو اس کی تمام تر خوبی کے باوجود چھوڑ دیا جائے گا، یہاں تک کہ ایک کتا آئے گا اور مسجد کے کسی ستون کے پاس (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) منبر کے پاس کچھ کھائے گا۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس زمانے میں پھلوں کو کون استعمال کرے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درندے۔“ (راوی کہتے ہیں:) اس سے مراد پرندے اور درندے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6773]

6774

Sahih Ibn Hibban #6774

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَاصِمٍ النَّبِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ عَصًا ، وَأَقْنَاءٌ مُعَلَّقَةٌ فِي الْمَسْجِدِ ، قِنْوٌ مِنْهَا حَشَفٌ ، فَطَعَنَ بِذَلِكَ الْعَصَا فِي ذَلِكَ الْقِنْوِ ، ثُمَّ قَالَ : لَوْ شَاءَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ ، فَتَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ مِنْهَا ، إِِنَّ صَاحِبَ هَذِهِ الصَّدَقَةِ لِيَأْكُلُ الْحَشَفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : " أَمَا وَاللَّهِ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ لَتَذَرُنَّها لِلْعَوَافِي ، هَلْ تَدْرُونَ مَا الْعَوَافِي ؟ قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : الطَّيْرُ وَالسِّبَاعُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں ایک عصا تھا، اس وقت مسجد میں (کھجوروں کے) کچھ گچھے لٹکے ہوئے تھے جن میں سے ایک گچھا ہلکی قسم کی کھجوروں کا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عصا کے ذریعے اس گچھے کو مارا اور یہ ارشاد فرمایا: ”یہ صدقہ کرنے والا شخص اگر چاہتا تو اس سے زیادہ پاکیزہ کھجوریں بھی صدقہ کر سکتا تھا، یہ صدقہ کرنے والا شخص قیامت کے دن ہلکی قسم کی کھجوریں کھائے گا۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی قسم! اے اہل مدینہ! تم لوگ (اس مدینہ منورہ کو) درندوں کے لیے چھوڑ جاؤ گے۔ کیا تم لوگ جانتے ہو «الْعَوَافِي» (عوافی) سے مراد کیا ہے؟“ ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اس سے) پرندے اور درندے (مراد ہیں)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6774]

6775

Sahih Ibn Hibban #6775

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَنْفِيَ الْمَدِينَةُ شِرَارَهَا ، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ " ، قَالَ : " وَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَدْعُو الرَّجُلُ قَرِيبَهُ وَحَمِيمَهُ إِِلَى الرَّخَاءِ ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مدینہ منورہ اپنے بدترین لوگوں کو اس طرح باہر نہیں نکال دے گا، جس طرح بھٹی لوہے کی میل (یعنی زنگ) کو ختم کر دیتی ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا: ”لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آئے گا، جب کوئی شخص اپنے رشتہ دار یا اپنے دوست کو خوشحالی کی طرف بلائے گا، حالانکہ اگر ان لوگوں کو علم ہو، تو مدینہ ان کے لیے زیادہ بہتر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6775]

6776

Sahih Ibn Hibban #6776

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ بِعُكْبَرَا ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : آخِرُ قَرْيَةٍ فِي الإِِسْلامِ خَرَابًا الْمَدِينَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسلمانوں کی آخری برباد ہونے والی بستی مدینہ منورہ ہوگی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6776]

6777

Sahih Ibn Hibban #6777

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ بِدِمَشْقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَرْطَاةُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ضَمْرَةُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ نُفَيْلٍ السَّكُونِيَّ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوحَى إِِلَيْهِ ، فَقَالَ : إِِنِّي غَيْرُ لابِثٍ فِيكُمْ ، وَلَسْتُمْ لابِثِينَ بَعْدِي إِِلا قَلِيلا ، وَسَتَأْتُونِي أَفْنَادًا ، يُفْنِي بَعْضُكُمْ بَعْضًا ، وَبَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ مَوْتَانٌ شَدِيدٌ ، وَبَعْدَهُ سَنَوَاتُ الزَّلازِلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سلمہ بن نفیل سکونی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی نازل ہو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں زیادہ عرصہ تمہارے درمیان نہیں رہوں گا اور تم لوگ بھی میرے بعد زیادہ عرصہ نہیں رہو گے، تم لوگ عنقریب ایسی صورت حال کا شکار ہو گے، جس میں ایک دوسرے کو فنا کر دے گا اور قیامت سے پہلے دو شدید قسم کی عام اموات ہوں گی اور اس کے بعد کچھ سال زلزلے آتے رہیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6777]

6778

Sahih Ibn Hibban #6778

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِِنَّهُلَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِِلا وَقَدْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ الدَّجَّالَ ، وَإِِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ " ، قَالَ : فَوَصَفَهُ لَنَا ، وَقَالَ : " لَعَلَّهُ أَنْ يُدْرِكَهُ بَعْضُ مَنْ رَآنِي ، أَوْ سَمِعَ كَلامِي ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلُوبُنَا يَوْمَئِذٍ مِثْلُهَا الْيَوْمَ ؟ فَقَالَ : أَوْ خَيْرٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”مجھ سے پہلے ہر نبی نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا ہے اور میں بھی تمہیں اس سے ڈرا رہا ہوں۔“ راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اس کا حلیہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہو سکتا ہے اس تک کوئی ایسا شخص پہنچ جائے جس نے میری زیارت کی ہو، یا اس نے میرا کلام سنا ہو۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس دن ہمارے قلوب آج کے دن کی مانند ہوں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے بھی بہتر ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6778]

6779

Sahih Ibn Hibban #6779

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَمِّي ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكُونَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک ایک سجدہ دنیا اور اس میں موجود ساری چیزوں سے زیادہ بہتر نہیں ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6779]

6780

Sahih Ibn Hibban #6780

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَاضِرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْ نَبِيٍّ إِِلا وَقَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ ، وَإِِنِّي سَأُبَيِّنُ لَكُمْ شَيْئًا تَعْلَمُونَ أَنَّهُ كَذَلِكَ ، إِِنَّهُ أَعْوَرُ ، وَإِِنَّ رَبَّكَمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، وَإِِنَّهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ : كَافِرٌ ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتَبٍ وَغَيْرِ كَاتَبٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے اور میں تمہارے سامنے کچھ ایسی چیزیں بیان کروں گا، جس سے تمہیں پتا چل جائے گا کہ یہی (دجال) ہے، وہ کانا ہو گا حالانکہ تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا، جسے ہر مومن پڑھ لے گا خواہ وہ پڑھا لکھا ہو یا نہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6780]

6781

Sahih Ibn Hibban #6781

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْعَبَّاسِ الأَهْوَازِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّهُلَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِِلا حَذَّرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ ، وَإِِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ ، وَإِِنَّهُ كَائِنٌ فِيكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے، میں بھی تم لوگوں کو اس سے ڈرا رہا ہوں، وہ تمہارے درمیان ہی ظاہر ہوگا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6781]

6782

Sahih Ibn Hibban #6782

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ، قَالَ : مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مَا سَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : إِِنَّهُ لَنْ يَضُرَّكَ ، قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، يَزْعُمُونَ أَنَّ مَعَهُ الأَنْهَارَ وَالطَّعَامَ ، قَالَ : هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں کسی نے اتنے سوالات نہیں کیے جتنے سوالات میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ نہریں اور کھانا ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سب کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حقیر ترین ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6782]

6783

Sahih Ibn Hibban #6783

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنِّي قَدْ خَبَّأْتُ لَكَ خَبْأً ، فَقَالَ : هُوَ الدَّخُّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اخْسَأْ ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : دَعْنِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ ، قَالَ : لا ، إِِنْ يَكُنِ الَّذِي تَخَافُ ، فَلَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا ہوا جا رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ابن صیاد کے پاس سے ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہارے لیے ایک بات ذہن میں سوچی ہے“، اس نے جواب دیا: وہ «الدُّخُّ» ”دخ“ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دفع ہو جاؤ، تم اپنی اوقات سے آگے نہیں بڑھ سکو گے“۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے موقع دیجئے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں، اگر تو یہ وہی ہے جس کا تمہیں اندیشہ ہے تو پھر تم اسے قتل نہیں کر سکو گے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6783]

6784

Sahih Ibn Hibban #6784

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَقِيَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ صَائِدٍ ، وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، قَالَ : وَابْنُ صَائِدٍ مَعَ الْغِلْمَانِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلّمَ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ قَالَ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ : آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا تَرَى ؟ قَالَ : أَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَرَى عَرْشَ إِِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ ، قَالَ : انْظُرْ مَا تَرَى ، قَالَ : أَرَى صَادِقِينَ وَكَاذِبِينَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لُبِسَ عَلَى نَفْسِهِ " ، فَدَعَاهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ابن صائد سے ہوئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، راوی کہتے ہیں: ابن صائد اس وقت لڑکوں کے ساتھ (کھیل رہا تھا)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: ”کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے دریافت کیا: کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «آمَنْتُ بِاللّٰهِ وَرُسُلِهِ» ”میں اللہ تعالیٰ اور اس کے (حقیقی اور سچے) رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں۔“ راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم کیا دیکھتے ہو؟“ اس نے جواب دیا: میں پانی پر تخت دیکھتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہیں سمندر پر ابلیس کا تخت نظر آتا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم اس بات کا جائزہ لو کہ تم کیا دیکھتے ہو؟“ اس نے جواب دیا: میں کچھ سچے اور کچھ جھوٹے لوگوں کو دیکھتا ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس کا معاملہ مشتبہ ہو چکا ہے“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6784]

6785

Sahih Ibn Hibban #6785

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عُمَرَ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ قِبَلَ ابْنَ صَيَّادٍ ، حَتَّى وَجَدُوهُ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ ، وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ يَوْمَئِذٍ الْحُلُمَ ، فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ لابْنِ صَيَّادٍ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَرَفَصَهُ رَسُولُ اللَّهِ ، وَقَالَ : آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ : مَاذَا تَرَى ؟ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ : يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُلِطَ عَلَيْكَ الأَمْرُ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَبَّأْتُ لَكَ خَبْأً ، فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ : هُوَ الدُّخُّ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اخْسَأْ ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنْ أَدْرَكْتَهُ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ ، وَإِِنْ لَمْ تُدْرِكْهُ فَلا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کچھ لوگوں سمیت ابن صیاد کی طرف گئے، یہاں تک کہ ان حضرات نے اسے بنو مغالہ کی عمارت کے قریب دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے پایا، ان دنوں ابن صیاد بالغ ہونے کے قریب تھا، اسے یہ پتا نہیں چل سکا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پشت پر اپنا ہاتھ مارا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے کہا: ”کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو میں اللہ کا رسول ہوں؟“ ابن صیاد نے کہا: کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں میں اللہ کا رسول ہوں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پرے کرتے ہوئے کہا: ”میں اللہ اور (اس کے سچے) رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: ”تم کیا چیز دیکھتے ہو؟“ ابن صیاد نے کہا: میرے پاس ایک سچا اور ایک جھوٹا آتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم پر معاملہ خلط ملط ہو گیا ہے“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: ”میں نے تمہارے لیے ایک بات سوچی ہے“۔ ابن صیاد نے کہا: وہ دخ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم دفع ہو جاؤ، تم اپنی اوقات سے آگے نہیں بڑھ سکو گے“۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے موقع دیجیے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تم اس تک پہنچ بھی گئے تو اس پر غالب نہیں آ سکو گے اور اگر تم اس تک نہ پہنچے تو پھر اسے قتل کرنے میں تمہارے لیے کوئی بھلائی نہیں ہے“۔ ابن شہاب کہتے ہیں: سالم نے یہ بات بیان کی ہے کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ بات ارشاد کرتے ہوئے سنا: اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کھجوروں کے اس باغ کی طرف تشریف لے گئے جس میں ابن صیاد موجود تھا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کے باغ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کی شاخوں سے خود کو چھپانے کی کوشش کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ ابن صیاد کے آپ کو دیکھنے سے پہلے آپ اس کی طرف سے کوئی بات سن لیں۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو وہ بستر پر لیٹا ہوا تھا اور اس نے چادر اوڑھی ہوئی تھی، جس میں سے بھنبھناہٹ کی آواز آ رہی تھی، جب ابن صیاد کی ماں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کی شاخوں کے پیچھے چھپنا چاہ رہے ہیں، تو اس نے ابن صیاد سے کہا: (کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں موجود ہیں) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اسے ایسے ہی رہنے دیتی (تو یہ زیادہ بہتر تھا)“۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق اس کی حمد و ثنا بیان کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”میں تم لوگوں کو اس سے ڈرا رہا ہوں، ہر نبی نے اپنی قوم کو (اس سے) ڈرایا ہے۔ سیدنا نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو ڈرایا ہے لیکن میں تمہیں اس کے بارے میں ایک ایسی بات بتا رہا ہوں، جو کسی بھی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی، تم لوگ یہ بات جان لو کہ وہ کانا ہو گا اور بے شک اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6785]

6786

Sahih Ibn Hibban #6786

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : هَاجَتْ رِيحٌ وَنَحْنُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَغَضِبَ ابْنُ مَسْعُودٍ حَتَّى عَرَفْنَا الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ : وَيْحَكَ ، إِِنَّالسَّاعَةَ لا تَقُومُ حَتَّى لا يُقْسَمَ مِيرَاثٌ ، وَلا يُفْرَحَ بِغَنِيمَةٍ ، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ إِِلَى الشَّامِ ، وَقَالَ : عَدُوٌّ يَجْتَمِعُ لِلْمُسْلِمِينَ مِنْ هَا هُنَا فَيَلْتَقُونَ ، فَتُشْتَرَطُ شُرْطَةُ الْمَوْتِ : لا تَرْجِعُ إِِلا وَهِيَ غَالِبَةٌ ، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ ، فَيَفِيءُ هَؤُلاءِ وَهَؤُلاءِ ، وَكُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ ، وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ ، ثُمَّ تُشْتَرَطُ الْغَدَ شُرْطَةُ الْمَوْتِ : لا تَرْجِعُ إِِلا وَهِيَ غَالِبَةً ، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ ، فَيَفِيءُ هَؤُلاءِ وَهَؤُلاءِ ، وَكُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ ، وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ ، ثُمَّ تُشْتَرَطُ الْغَدَ شُرْطَةُ الْمَوْتِ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ : لا تَرْجِعُ إِِلا وَهِيَ غَالِبَةً ، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسَ ، فَيَفِيءُ هَؤُلاءِ وَهَؤُلاءِ ، وَكُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ ، وَتُفْنَى الشُّرْطَةُ ، ثُمَّ يَلْتَقُونَ فِي الْيَوْمِ الرَّابِعِ ، فَيُقَاتِلُونَهُمْ وَيَهْزِمُونَهُمْ حَتَّى تَبْلُغَ الدِّمَاءُ نَحْرَ الْخَيْلِ ، وَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى إِِنَّ بَنِي الأَبِ كَانُوا يَتَعَادُّونَ عَلَى مِائَةٍ ، فَيُقْتَلُونَ حَتَّى لا يَبْقَى مِنْهُمْ رَجُلٌ وَاحِدٌ ، فَأَيُّ مِيرَاثٍ يُقْسَمُ بَعْدَ هَذَا وَأَيُّ غَنِيمَةٍ يُفْرَحُ بِهَا ، ثُمَّ يَسْتَفْتِحُونَ ، فَبَيْنَمَا هُمْ يَقْسِمُونَ الدَّنَانِيرَ بِالتَّرَسَةِ ، إِِذْ أَتَاهُمْ فَزَعٌ أَكْبَرُ مِنْ ذَلِكَ : إِِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَرَجَ فِي ذَرَارِيِّكُمْ ، فَيَرْفُضُونَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ وَيُقْبِلُونَ ، وَيَبْعَثُونَ طَلِيعَةَ فَوَارِسَ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُمْ يَوْمَئِذٍ خَيْرُ فَوَارِسِ الأَرْضِ ، إِِنِّي لأَعْلَمُ أَسْمَاءَهُمْ وَأَسْمَاءَ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ وَأَلْوَانَ خُيُولِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسیر بن جابر بیان کرتے ہیں کہ تیز ہوا چل پڑی، ہم اس وقت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ غصہ میں آ گئے، یہاں تک کہ ہمیں ان کے چہرے پر غصہ کے آثار محسوس ہو گئے، انہوں نے فرمایا: تمہارا ستیاناس ہو! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک وراثت کی تقسیم ختم نہیں ہو جاتی اور غنیمت کے ذریعے خوش نہیں ہوا جاتا، پھر انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے شام کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: اس طرف دشمن مسلمانوں کے لیے اکٹھا ہو گا، پھر ان کا آمنا سامنا بھی ہو گا اور یہ شرط عائد کی جائے گی کہ مر جائیں گے (لیکن واپس نہیں جائیں گے)، تو واپس وہی جائے گا جو غالب ہو گا، یہ لوگ لڑائی کرتے رہیں گے یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے گا، تو یہ لوگ واپس چلے جائیں گے اور وہ لوگ بھی واپس چلے جائیں گے، کوئی بھی غالب نہیں آیا ہو گا اور شرط کا وقت بھی ختم ہو جائے گا، پھر اگلے دن موت کی شرط رکھی جائے گی کہ وہی واپس آئے گا جو غالب ہو گا، پھر وہ لڑائی کریں گے یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے گا، یہ بھی واپس آ جائیں گے اور وہ بھی واپس چلے جائیں گے، دونوں میں سے کوئی بھی غالب نہیں آیا ہو گا اور شرط ختم ہو جائے گی، پھر اس سے اگلے دن، تیسرے دن موت کی شرط عائد کی جائے گی کہ وہی واپس آئے گا جو غالب ہو گا، وہ لوگ لڑائی کرتے رہیں گے یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے گا، تو وہ گروہ بھی واپس چلا جائے گا اور یہ بھی واپس چلا جائے گا، کوئی غالب نہیں آیا ہو گا، پھر چوتھے دن ان کے درمیان لڑائی ہو گی تو یہ ان کے ساتھ لڑائی کرتے ہوئے انہیں پسپا کر دیں گے، یہاں تک کہ خون گھوڑوں کی گردن تک پہنچ جائے گا، اور لڑائی ہوتی رہے گی یہاں تک کہ ایک ہی باپ کے بیٹے ایک سو لوگوں کے ساتھ مقابلہ کریں گے، تو وہ مارے جائیں گے یہاں تک کہ ان میں سے صرف ایک شخص باقی رہ جائے گا، تو پھر اس کے بعد وراثت کیسے تقسیم ہو گی اور پھر کون سی غنیمت کے ہمراہ خوشی حاصل کی جائے گی؟ پھر لوگ قسطنطنیہ کو فتح کریں گے، ابھی وہ دینار اور ڈھالیں تقسیم کر رہے ہوں گے کہ اسی دوران بڑی پریشان کن چیز ان تک آ جائے گی کہ دجال تمہاری اولادوں کے درمیان ظہور پذیر ہو گا، تو ان لوگوں کے ہاتھوں میں جو کچھ ہو گا وہ اسے پھینکیں گے اور آ جائیں گے، وہ لوگ اپنے گھڑ سواروں کو بھیجیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ اس دن روئے زمین کے سب سے بہترین سوار ہوں گے، میں ان لوگوں کے نام، ان کے آباء کے نام، ان کے قبائل کے نام اور ان کے گھوڑوں کے رنگوں سے بھی واقف ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6786]

6787

Sahih Ibn Hibban #6787

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ بِبَلَدِ الْمَوْصِلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ كَهْمَسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ : حَدِّثِينِي بِشَيْءٍ سَمِعْتِيهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلا تُحَدِّثِينِي بِشَيْءٍ لَمْ تَسْمَعِيهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : نَعَمْ ، نُودِيَ بِالصَّلاةِ جَامِعَةً ، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ وَفَزِعُوا ، قَالَتْ : فَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَقَالَ : إِِنِّيلَمْ أَجْمَعْكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلا لِرَهْبَةٍ ، وَلَكِنْ حَدِيثٌ حَدَّثَنِيهِ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ ، زَعَمَ أَنَّهُ رَكِبَ الْبَحْرَ فِي ثَلاثِينَ رَجُلا مِنْ لَخْمٍ وَجُذَامٍ ، قَالَ : فَلَعِبَ بِنَا الْبَحْرُ وَرُبَّمَا قَالَ : لَعِبَ بِنَا الْمَوْجُ شَهْرًا ، ثُمَّ قَذَفَ بِنَا السَّفِينَةَ إِِلَى جَزِيرَةٍ فِي الْبَحْرِ ، قَالَ : فَخَرَجْنَا إِِلَيْهَا فَلَقِيَتْنَا جَارِيَةٌ تَجُرُّ شَعْرَهَا ، لا نَدْرِي مُقْبِلَةٌ هِيَ أَمْ مُدْبِرَةٌ ، قُلْنَا : مَا أَنْتِ ؟ قَالَتْ : أَنَا الْجَسَّاسَةُ ، قُلْنَا : أَخْبِرِينَا ، قَالَتْ : عَلَيْكُمْ بِصَاحِبِ الدَّيْرِ ، وَهُوَ يُخْبِرُكُمْ وَيَسْتَخْبِرُكُمْ ، قَالَ : فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ ، فَإِِذَا رَجُلٌ ذَكَرَ مِنْ عِظَمِهِ مَا شَاءَ اللَّهُ وَهُوَ مُوثَقٌ إِِلَى حَبَلٍ بِالْحَدِيدِ ، فَقُلْنَا : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَخْبِرُونِي عَمَّا أَسْأَلُكُمْ عَنْهُ ، قَالُوا : سَلْنَا ، قَالَ : مَا فَعَلَ نَخْلُ بَيْسَانَ ، يُطْعَمُ ؟ قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : يُوشِكُ أَنْ لا يُطْعَمَ ، ثُمَّ قَالَ : أَخْبِرُونِي عَنْ عَيْنِ زُغَرَ ، بِهَا مَاءٌ ؟ قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : يُوشِكُ أَنْ لا يَكُونَ بِهَا مَاءٌ ، ثُمَّ قَالَ : أَخْبِرُونِي عَنْ هَذَا الرَّجُلِ ، هَلْ خَرَجَ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : إِِنَّهُ صَادِقٌ فَاتَّبِعُوهُ ، فَقُلْنَا : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا الدَّجَّالُ "، قَالَ كَهْمَسٌ : فَذَكَرَ ابْنُ بُرَيْدَةَ شَيْئًا لَمْ أَحْفَظْهُ ، إِِلا أَنَّهُ قَالَ : " تُطْوَى لَهُ الأَرْضُ ، وَيَأْتِي عَلَى جَمِيعِهِنَّ فِي أَرْبَعِينَ صَبَاحًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحییٰ بن معمر بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے کہا: مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیں جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو اور آپ مجھے کوئی ایسی بات نہ بتائیں، جو آپ نے براہِ راست نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی نہ سنی ہو۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ یہ اعلان کیا گیا «الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ» ”اکٹھے ہو جاؤ!“ تو لوگ اکٹھے ہو گئے لوگ گھبرا گئے۔ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے تم لوگوں کو کسی رغبت یا خوف کی وجہ سے جمع نہیں کیا ہے بلکہ ایک واقعہ پیش آیا ہے جو مجھے تمیم داری نے بیان کیا ہے وہ یہ کہتا ہے کہ وہ تیس افراد جن کا تعلق لخم اور جذام قبیلے سے تھا وہ سمندر میں سفر کر رہے تھے اس نے یہ بیان کیا ہے کہ سمندر (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) موجیں ہمارے ساتھ کھیل کرنے لگیں ایک ماہ تک ایسا ہوتا رہا پھر ہماری کشتی سمندر میں موجود ایک جزیرے تک پہنچ گئی۔ تمیم داری بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نکل کر اس جزیرے کی طرف گئے تو وہاں ہماری ملاقات ایک لڑکی سے ہوئی جو اپنے بال کھینچ رہی تھی ہمیں نہیں پتہ چلا کہ وہ آ رہی ہے یا جا رہی ہے۔ ہم نے دریافت کیا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں «الْجَسَّاسَةُ» ”جساسہ“ ہوں۔ ہم نے کہا: تم ہمیں کچھ بتاؤ۔ اس نے کہا: تم لوگ گرجے میں موجود شخص کے پاس چلے جاؤ وہ تمہیں بتائے گا بھی اور تم سے اطلاعات حاصل بھی کرے گا۔ تمیم داری بیان کرتے ہیں: ہم لوگ اس کے پاس گئے، تو وہ ایک ایسا شخص تھا اس کے بعد انہوں نے اس کے بڑے ہونے کا ذکر کیا وہ لوہے کی رسی کے ساتھ بندھا ہوا تھا، ہم نے دریافت کیا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: پہلے تم مجھے اس چیز کے بارے میں بتاؤ جس کے بارے میں، میں تم سے سوال کروں گا۔ ان لوگوں نے کہا: تم ہم سے سوال کرو۔ اس نے دریافت کیا: بیسان کے کھجوروں کے باغ کا کیا حال ہے کیا اس کا اناج اب بھی کھایا جاتا ہے؟ ہم نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس نے کہا: عنقریب وہ نہیں کھایا جائے گا پھر اس نے دریافت کیا تم مجھے زغر کے چشمے کے بارے میں بتاؤ کہ کیا اس میں پانی ہے؟ ہم نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس نے کہا: عنقریب اس میں پانی نہیں رہے گا پھر اس نے کہا: تم لوگ مجھے ان صاحب کے بارے میں بتاؤ کیا ان کا ظہور ہو گیا ہے؟ ان لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں، تو اس نے کہا: بے شک وہ سچے ہیں تم لوگ ان کی پیروی کرو۔ ہم نے دریافت کیا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں دجال ہوں۔“ کہمس بیان کرتے ہیں: ابن بریدہ رضی اللہ عنہما نے یہاں کوئی چیز ذکر کی تھی جو مجھے یاد نہیں رہی تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لئے روئے زمین کو لپیٹ دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ تمام روئے زمین کا چکر چالیس دن میں لگا لے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6787]

6788

Sahih Ibn Hibban #6788

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقُرْقُسَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقُمِّيُّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ ، تَقُولُ : صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : أُنْذِرُكُمُ الدَّجَّالَ ، فَإِِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِِلا وَقَدْ أَنْذَرَهُ أُمَّتَهُ ، وَهُوَ كَائِنٌ فِيكُمْ أَيَّتُهَا الأُمَّةُ ، إِِنَّهُ لا نَبِيَّ بَعْدِي وَلا أُمَّةَ بَعْدَكُمْ ، أَلا إِِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ أَخْبَرَنِي أَنَّ ابْنَ عَمٍّ لَهُ وَأَصْحَابَهُ رَكِبُوا بَحْرَ الشَّامِ ، فَانْتَهَوْا إِِلَى جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِهِ ، فَإِِذَا هُمْ بِدَهْمَاءَ تَجُرُّ شَعْرَهَا ، قَالُوا : مَا أَنْتِ ؟ قَالَتْ : الْجَسَّاسَةُ أَوِ الَجَاسِسَةُ ، قَالُوا : أَخْبِرِينَا ، قَالَتْ : مَا أَنَا بِمُخْبِرَتِكُمْ عَنْ شَيْءٍ وَلا سَائِلَتِكُمْ عَنْهُ ، وَلَكِنِ ائْتُوا الدَّيْرَ ، فَإِِنَّ فِيهِ رَجُلا بِالأَشْوَاقِ إِِلَى لِقَائِكُمْ ، فَأَتَوَا الدَّيْرَ ، فَإِِذَا هُمْ بِرَجُلٍ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ مُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ إِِلَى سَارِيَةٍ ، فَقَالَ : مِنْ أَيْنَ أَنْتُمْ ؟ وَمَنْ أَنْتُمْ ؟ قَالُوا : مِنْ أَهْلِ الشَّامِ ، قَالَ : فَمَنْ أَنْتُمْ ؟ قَالُوا : نَحْنُ الْعَرَبُ ، قَالَ : فَمَا فَعَلْتِ الْعَرَبُ ؟ قَالُوا : خَرَجَ فِيهِمْ نَبِيٌّ بِأَرْضِ تَيْمَاءَ ، قَالَ : فَمَا فَعَلَ النَّاسُ ؟ قَالُوا : فِيهِمْ مَنْ صَدَّقَهُ ، وَفِيهِمْ مَنْ كَذَّبَهُ ، قَالَ : أَمَا إِِنَّهُمْ إِِنْ يُصَدِّقُوهُ وَيَتَّبِعُوهُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ، ثُمَّ قَالَ : مَا بُيُوتُكُمْ ؟ قَالُوا : مِنْ شَعَرٍ وَصُوفٍ تَغْزِلُهُ نِسَاؤُنَا ، قَالَ : فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ ، ثُمَّ قَالَ : هَيْهَاتَ ، ثُمَّ قَالَ : مَا فَعَلَتْ بُحَيْرَةُ طَبَرِيَّةَ ؟ قَالُوا : تَدَفَّقُ جَوَانِبُهَا يَصْدُرُ مَنْ أَتَاهَا ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ ، ثُمَّ قَالَ : هَيْهَاتَ ، ثُمَّ قَالَ : مَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرَ ؟ قَالُوا : تَدَفَّقُ جَوَانِبُهَا يَصْدُرُ مَنْ أَتَاهَا ، قَالَ : فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ ، ثُمَّ قَالَ : هَيْهَاتَ ، ثُمَّ قَالَ : مَا فَعَلَ نَخْلُ بَيْسَانَ ؟ قَالُوا : يُؤْتِي جَنَاهُ فِي كُلِّ عَامٍ ، قَالَ : فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ ، ثُمَّ قَالَ : هَيْهَاتَ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَا إِِنِّي لَوْ قَدْ حُلِلْتُ مِنْ وَثَاقِي هَذَا لَمْ يَبْقَ مَنْهَلٌ إِِلا وَطِئْتُهُ إِِلا مَكَّةَ وَطَيْبَةَ ، فَإِِنَّهُ لَيْسَ لِي عَلَيْهِمَا سَبِيلٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذِهِ طَيْبَةُ ، حَرَّمْتُهَا كَمَا حَرَّمَ إِِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا فِيهَا نَقْبٌ فِي سَهْلٍ وَلا جَبَلٍ إِِلا وَعَلَيْهِ مَلَكَانِ شَاهِرَا السَّيْفِ يَمْنَعَانِ الدَّجَّالَ إِِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تم لوگوں کو دجال سے ڈرا رہا ہوں، مجھ سے پہلے کے ہر نبی نے اپنی امت کو اس سے ڈرایا ہے اور وہ تمہارے درمیان ظہور پذیر ہو گا، اے امت! بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور تمہارے بعد کوئی اور امت نہیں ہے، البتہ تمیم داری رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا ہے کہ ان کے چچازاد اور ان کے ساتھی شام کے سمندر میں سفر کر رہے تھے، وہ کسی جزیرے تک پہنچ گئے، وہاں ایک عورت تھی جو اپنے بال کھینچ رہی تھی، ان لوگوں نے دریافت کیا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: جساسہ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جاسسہ۔ ان لوگوں نے کہا: تم ہمیں کسی چیز کے بارے میں بتاؤ، اس نے کہا: میں تمہیں کسی چیز کے بارے میں نہیں بتاؤں گی اور نہ ہی کسی چیز کے بارے میں تم سے دریافت کروں گی، لیکن تم لوگ عبادت خانے میں چلے جاؤ، وہاں ایک شخص ہے جو تم سے ملاقات کا مشتاق ہے، وہ لوگ عبادت خانے میں آئے تو وہاں ایک شخص تھا جس کی آنکھ کانی تھی، وہ لوہے کی زنجیروں میں ستون کے ساتھ بندھا ہوا تھا، اس نے دریافت کیا: تم لوگ کہاں سے آئے ہو، تم لوگ کون ہو؟ ان لوگوں نے جواب دیا: اہل شام سے۔ اس نے دریافت کیا: تم لوگ کون ہو؟ انہوں نے جواب دیا: ہم عربی ہیں۔ اس نے کہا: عربوں کا کیا حال ہے؟ ان لوگوں نے بتایا: ان میں ایک نبی کا ظہور ہوا ہے جو تیماء کی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس نے دریافت کیا: لوگوں کا کیا حال ہے؟ انہوں نے بتایا: ان میں کچھ لوگ وہ ہیں جنہوں نے ان کی تصدیق کی ہے اور کچھ لوگ وہ ہیں جنہوں نے انہیں غلط قرار دیا ہے، تو اس نے کہا: اگر وہ ان کی تصدیق کر دیں اور ان کی پیروی کریں، تو یہ ان کے حق میں زیادہ بہتر ہے اگر انہیں علم ہو، پھر اس نے دریافت کیا: تمہارے گھر کس چیز کے ہیں؟ ان لوگوں نے بتایا: بالوں کے اور اون کے بنے ہوئے جنہیں ہماری عورتیں تیار کرتی ہیں۔ (راوی کہتے ہیں) تو اس نے اپنا ہاتھ اپنے زانو پر مارا پھر بولا: یہی۔ پھر اس نے دریافت کیا: بحیرہ طبریہ کا کیا حال ہے؟ انہوں نے بتایا: اس کے کنارے چھلک رہے ہیں، اس نے اپنے زانو پر ہاتھ مارا پھر بولا: جلدی کرو، پھر اس نے دریافت کیا: زغر کے چشمے کا کیا حال ہے؟ ان لوگوں نے بتایا: اس کے کنارے چھلکتے ہیں، جو اس تک آتا ہے وہ سیر ہوتا ہے، تو اس نے اپنے زانو پر ہاتھ مارا اور پھر بولا: جلدی کرو، پھر اس نے دریافت کیا: بیسان کے نخلستان کا کیا حال ہے؟ ان لوگوں نے کہا: اس کی ٹہنیاں سارا سال پھل دیتی ہیں، اس نے پھر اپنے زانو پر ہاتھ مارا اور بولا: جلدی کرو، پھر اس نے کہا: اگر میں اپنی ان بیڑیوں سے آزاد ہو گیا تو کوئی چشمہ ایسا نہیں ہو گا جسے میں روند نہ دوں، البتہ مکہ اور طیبہ (یعنی مدینہ منورہ) کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ میرے لیے وہاں جانے کی گنجائش نہیں ہے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ طیبہ ہے، میں اسے اسی طرح حرم قرار دیتا ہوں جس طرح سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا تھا، اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، عام زمین اور پہاڑوں میں اس میں داخلے کا جو بھی راستہ ہے اس پر دو فرشتے تعینات ہیں جنہوں نے تلواریں سونتی ہوئی ہیں اور وہ قیامت کے دن تک دجال کو (اس میں داخل ہونے سے) روکنے کے لیے (تیار رہیں گے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6788]

6789

Sahih Ibn Hibban #6789

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حُمَيْدٍ الطَّوِيلُ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ مُسْرِعًا ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَنُودِيَ فِي النَّاسِ الصَّلاةُ جَامِعَةً ، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ ، فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِِنِّيلَمْ أَدْعُكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلا لِرَهْبَةٍ نَزَلَتْ ، وَلَكِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ أَخْبَرَنِي أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ رَكِبُوا الْبَحْرَ ، فَقَذَفَتْهُمُ الرِّيحُ إِِلَى جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ ، فَإِِذَا هُمْ بِدَابَّةٍ لا يُدْرَى أَذَكَرٌ هُوَ أَمْ أُنْثَى مِنْ كَثْرَةِ الشَّعْرِ ، فَقَالُوا : مَنْ أَنْتِ ؟ قَالَتْ : أَنَا الْجَسَّاسَةُ ، قَالُوا : أَخْبِرِينَا ؟ قَالَتْ : مَا أَنَا بِمُخْبِرَتِكُمْ وَلا مُسْتَخْبِرَتِكُمْ ، وَلَكِنَّ هَا هُنَا مَنْ هُوَ فَقِيرٌ إِِلَى أَنْ يُخْبِرَكُمْ وَإِِلَى أَنْ يَسْتَخْبِرَكُمْ ، فَأَتَوَا الدَّيْرَ ، فَإِِذَا بِرَجُلٍ مَرِيرٍ مُصَفَّدٍ بِالْحَدِيدِ ، فَقَالَ : مَنْ أَنْتُمْ ؟ قَالُوا : نَحْنُ الْعَرَبُ ، قَالَ : هَلْ بُعِثَ النَّبِيُّ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : فَهَلْ تَبِعَتْهُ الْعَرَبُ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : ذَلِكَ خَيْرٌ لَهُمْ ، قَالَ : مَا فَعَلَتْ فَارِسُ ؟ قَالُوا : لَمْ يَظْهَرْ عَلَيْهَا ، قَالَ : أَمَا إِِنَّهُ سَيَظْهَرُ عَلَيْهَا ، ثُمَّ قَالَ : مَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرَ ؟ قَالُوا : تَدَفَّقُ مَلأَى ، قَالَ : فَمَا فَعَلَ نَخْلُ بَيْسَانَ ؟ قَالُوا : قَدْ أَطْعَمَ أَوَائِلُهُ ، فَوَثَبَ عَلَيْهِ وَثْبَةً ، حَتَّى خَشِينَا أَنْ سَيَغْلِبَ ، فَقُلْنَا : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا الدَّجَّالُ ، أَمَا إِِنِّي سَأَطَأُ الأَرْضَ كُلَّهَا إِِلا مَكَّةَ وَطَيْبَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبْشِرُوا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ ، هَذِهِ طَيْبَةُ لا يَدْخُلُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور لوگوں میں یہ اعلان کیا کہ: ”اکٹھے ہو جاؤ“، تو لوگ اکٹھے ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! میں نے تمہیں کسی رغبت یا کسی پریشانی کے نازل ہونے کی وجہ سے نہیں بلایا ہے، البتہ تمیم داری رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ فلسطین سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ سمندری سفر پر روانہ ہوئے، تو ہوا نے انہیں سمندر میں موجود کسی جزیرے تک پہنچا دیا، وہاں ایک جانور موجود تھا جس کا یہ پتا نہیں چلتا تھا کہ وہ مذکر ہے یا مؤنث ہے کیونکہ اس کے جسم پر بال بہت زیادہ تھے، تو میں نے دریافت کیا: تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا: میں «الْجَسَّاسَةُ» ”جساسہ“ ہوں۔ ان لوگوں نے کہا: تم ہمیں کسی چیز کے بارے میں بتاؤ، تو اس نے کہا: میں تمہیں کسی چیز کے بارے میں نہیں بتاؤں گی اور نہ ہی تم سے کسی چیز کے بارے میں معلوم کروں گی، البتہ وہاں ایک شخص ہے جو اس بات کا محتاج ہے کہ وہ تمہیں کوئی اطلاع دے اور اس بات کا بھی ضرورت مند ہے کہ تم سے کسی چیز کے بارے میں معلوم کرے، تو وہ اس عبادت خانے تک آئے، وہاں ایک شخص تھا جو لوہے کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ اس نے دریافت کیا: تم کون ہو؟ ان لوگوں نے جواب دیا: ہم عرب ہیں۔ اس نے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہو گئے ہیں؟ ان لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس نے دریافت کیا: کیا عربوں نے ان کی پیروی کر لی ہے؟ ان لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں! اس نے کہا: یہ ان لوگوں کے حق میں بہتر ہے، پھر اس نے دریافت کیا: اہل فارس کا کیا حال ہے؟ ان لوگوں نے بتایا: وہ ابھی اس پر غالب نہیں آئے۔ اس نے کہا: وہ عنقریب اہل فارس پر غالب آ جائیں گے، پھر اس نے دریافت کیا: «زُغَرَ» ”زغر“ کے چشمے کا کیا حال ہے؟ ان لوگوں نے بتایا: اس کے کنارے بھرے ہوئے ہیں۔ اس نے دریافت کیا: «بَيْسَانَ» ”بیسان“ کے نخلستان کا کیا حال ہے؟ ان لوگوں نے بتایا: وہ پیداوار دے رہا ہے، پھر وہ شخص اچھلا، یہاں تک کہ ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ غالب آ جائے گا (یعنی اپنے آپ کو چھڑا لے گا)، ہم نے کہا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں دجال ہوں، میں ساری روئے زمین کو روند دوں گا البتہ مکہ اور «طَيْبَةُ» ”طیبہ“ (نہیں جا سکوں گا)۔“ (راوی کہتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسلمانوں کے گروہ! تمہیں خوشخبری ہے کہ یہ (مدینہ منورہ) «طَيْبَةُ» ”طیبہ“ ہے، وہ (دجال) اس میں داخل نہیں ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6789]

6790

Sahih Ibn Hibban #6790

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَادِرُوا بِالْعَمَلِ سِتًّا : الدَّجَّالَ ، وَالدُّخَانَ ، وَدَابَّةَ الأَرْضِ ، وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَأَمْرَ الْعَامَّةِ ، وَخُوَيْصَةَ أَحَدِكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”چھ (نشانیوں کے ظہور پذیر) ہونے سے پہلے عمل کر لو: دجال، دھواں، دابۃ الارض، سورج کا مغرب سے نکلنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6790]

6791

Sahih Ibn Hibban #6791

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفُرَاتُ الْقَزَّازُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أُسَيْدٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غُرْفَةٍ وَنَحْنُ تَحْتَهَا ، إِِذَا أَشْرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَاذَا تَتَذَاكَرُونَ ؟ قُلْنَا : نَذَكْرُ السَّاعَةَ ، قَالَ : فَإِِنَّهَالا تَكُونُ حَتَّى يَكُونَ بَيْنَ يَدَيْهَا عَشَرُ آيَاتٍ : طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَالدَّجَّالُ ، وَالدُّخَانُ ، وَعِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ، وَالدَّابَّةُ ، وَخُرُوجُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ ، وَخَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ ، وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ مَوْضِعِ كَذَا، قَالَ : أَحْسَبُهُ ، قَالَ : تَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا ، وَتَنْزِلُ مَعَهُمْ حَيْثُ يَنْزِلُونَ " ، قَالَ شُعْبَةُ : وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أُسَيْدٍ ، مِثْلَهُ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بالاخانہ میں موجود تھے، ہم اس کے نیچے موجود تھے، پھر اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھانک کر دریافت فرمایا: ”تم لوگ کس بارے میں بات چیت کر رہے ہو؟“ ہم نے عرض کی: ہم قیامت کا ذکر کر رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں نمودار نہیں ہوتیں: سورج کا مغرب سے نکلنا، دجال، دھواں، سیدنا عیسیٰ بن مریم (کا نزول)، دابۃ الارض، یاجوج و ماجوج کا نکلنا، مشرق میں زمین میں دھنسنا، مغرب میں زمین میں دھنسنا اور جزیرہ عرب میں دھنسنا اور ایک آگ ہو گی، جو فلاں مقام سے نکلے گی۔“ (راوی کہتے ہیں:) میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ”وہ ان لوگوں کے ساتھ آرام کرے گی جہاں وہ لوگ آرام کریں گے اور وہ ان کے ساتھ پڑاؤ کرے گی جہاں وہ لوگ پڑاؤ کریں گے۔“ شعبہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اسی کی مانند منقول ہے، تاہم اس سند کے ساتھ مرفوع حدیث کے طور پر منقول نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6791]

6792

Sahih Ibn Hibban #6792

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ بِلالِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ أبيه ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ هَاهُنَا ، وَأَشَارَ نَحْوَ الْمَشْرِقِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ : وَأَشَارَ نَحْوَ الْمَشْرِقِ ، أَرَادَ بِهِ الْبَحْرَيْنِ ، لأَنَّ الْبَحْرَيْنِ مَشْرِقُ الْمَدِينَةِ ، وَخُرُوجُ الدَّجَّالِ يَكُونُ مِنْ جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِهَا ، لا مِنْ خُرَاسَانَ ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ هَذَا أَنَّهُ مُوثَقٌ فِي جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ ، عَلَى مَا أَخْبَرَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ ، وَلَيْسَ بِخُرَاسَانَ بَحْرٌ وَلا جَزِيرَةٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”دجال اس طرف سے نکلے گا“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کر کے (یہ بات ارشاد فرمائی)۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کیا، اس کے ذریعے مراد بحرین ہے، کیونکہ بحرین مدینہ منورہ کے مشرق میں ہے اور دجال کا ظہور بھی انہی علاقوں میں سے ہو گا، خراسان سے نہیں ہو گا، اس بات کے صحیح ہونے کی دلیل یہ ہے: دجال سمندر کے کسی جزیرے میں بندھا ہوا ہے جیسا کہ تمیم داری رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں اطلاع دی ہے، جبکہ خراسان میں نہ تو کوئی سمندر ہے نہ ہی کوئی جزیرہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6792]

6793

Sahih Ibn Hibban #6793

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَأَى ابْنَ صَائِدٍ فِي سِكَّةٍ مِنْ سِكَكِ الْمَدِينَةِ ، فَسَبَّهُ ابْنُ عُمَرَ ، وَوَقَعَ فِيهِ ، فَانْتَفَخَ حَتَّى سَدَّ الطَّرِيقَ ، فَضَرَبَهُ ابْنُ عُمَرَ بِعَصًا ، فَسَكَنَ حَتَّى عَادَ ، فَانْتَفَخَ حَتَّى سَدَّ الطَّرِيقَ ، فَضَرَبَهُ ابْنُ عُمَرَ بِعَصًا مَعَهُ ، حَتَّى كَسَرَهَا عَلَيْهِ ، فَقَالَتْ لَهُ حَفْصَةُ : مَا شَأْنُكَ وَشَأْنُهُ ، مَا يُولِعُكَ بِهِ ، أَمَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِِنَّمَايَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : رُؤْيَةُ حَفْصَةَ ابْنَ عُمَرَ ، وَضَرْبَهُ حَيْثُ كَانَ يَضْرِبُ الْمَسِيحَ بِالْعَصَا ، كَانَ ذَلِكَ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مدینہ منورہ کی کسی گلی میں ابن صائد کو دیکھا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے برا کہا اور اسے ڈانٹنے لگے تو وہ اتنا پھول گیا کہ اس نے راستہ بند کر دیا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے عصا کے ذریعے مارا تو اسے سکون آیا، یہاں تک کہ وہ واپس اپنی اصل حالت میں آ گیا، پھر وہ پھول گیا، یہاں تک کہ اس نے راستہ بند کر دیا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے پاس موجود عصا سے پھر اسے مارا، یہاں تک کہ اسے اس پر توڑ دیا، تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: تمہارا اور اس کا کیا واسطہ ہے؟ یہ تمہیں کیوں غصہ دلا دیتا ہے؟ کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا: ”دجال اس غضب کی وجہ سے باہر آئے گا جو اسے لاحق ہو گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور ان کے مارنے کو دیکھنا اس صورت میں تھا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام بھی عصا کے ذریعے ماریں گے، یہ واقعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں پیش آیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6793]

6794

Sahih Ibn Hibban #6794

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِِنَّبَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ : كَ فَ رَ ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ مِنْ أُمِّيٍّ وَكَاتِبٍ يَعْنِي الدَّجَّالَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان «ك ف ر» لکھا ہوا ہو گا، جسے ہر مومن پڑھ لے گا خواہ وہ پڑھا لکھا ہو یا نہ ہو۔“ (راوی کہتے ہیں:) اس سے مراد دجال ہے (یعنی اس کی آنکھوں کے درمیان یہ لکھا ہو گا۔) [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6794]

6795

Sahih Ibn Hibban #6795

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : الدَّجَّالُ عَيْنُهُ خَضْرَاءُ كَزُجَاجَةٍ ، وَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”دجال کی آنکھیں شیشے کی طرح سبز ہوں گی، تم لوگ قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6795]

6796

Sahih Ibn Hibban #6796

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ ذَكَرَ الدَّجَّالَ ، فَقَالَ : أَعْوَرُ هِجَانٌ أَزْهَرُ ، كَأَنَّ رَأْسَهُ أَصَلَةٌ ، أَشْبَهُ النَّاسِ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ ، فَإِِنْ هَلَكَ الْهُلَّكُ ، فَإِِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”وہ کانا اور گورا چٹا ہو گا، اس کا سر سانپ کی طرح چھوٹا ہو گا، وہ لوگوں میں سے عبدالعزیٰ بن قطن کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے، خواہ کتنے ہی لوگ ہلاکت کا شکار ہو جائیں، لیکن بہرحال تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6796]

6797

Sahih Ibn Hibban #6797

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى الْمُخَرِّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : حَدَّثَتْنِي أُمُّ شَرِيكٍ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَيَفِرَّنَّ النَّاسُ مِنَ الدَّجَّالِ فِي الْجِبَالِ ، قَالَتْ أُمُّ شَرِيكٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : هُمْ قَلِيلٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام شریک رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کچھ لوگ دجال سے بھاگتے ہوئے پہاڑوں میں چلے جائیں گے۔“ سیدہ ام شریک رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس دن عرب کہاں ہوں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ (اس دن) تھوڑی تعداد میں ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6797]

6798

Sahih Ibn Hibban #6798

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْخَلِيلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَتْبَعُ الدَّجَّالَ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنْ يَهُودِ أَصْبَهَانَ ، عَلَيْهِمُ الطَّيَالِسَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اصبہان کے ستر ہزار یہودی دجال کے پیروکار ہوں گے جنہوں نے «الطَّيَالِسَةُ» (مخصوص قسم کی چادریں) لی ہوئی ہوں گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6798]

6799

Sahih Ibn Hibban #6799

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، قَالَ : اجْتَمَعَ حُذَيْفَةَ ، وَأَبُو مَسْعُودٍ ، فقال حذيفة أَنَا أَعْلَمُ بِمَا مَعَ الدَّجَّالِ مِنْهُ ، إِِنَّمَعَهُ نَهْرًا مِنْ نَارٍ ، وَنَهْرًا مِنْ مَاءٍ ، فَالَّذِي يَرَوْنَ أَنَّهُ نَارٌ : مَاءٌ ، وَالَّذِي يَرَوْنَ أَنَّهُ مَاءٌ : نَارٌ ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَأَرَادَ الْمَاءَ ، فَلْيَشْرَبْ مِنَ الَّذِي يَرَى أَنَّهُ نَارٌ ، فَإِِنَّهُ سَيَجِدُهُ مَاءً "، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ربعی بن حراش بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا حذیفہ اور سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہما ایک جگہ اکٹھے ہوئے تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں یہ بات جانتا ہوں کہ دجال کے ساتھ کیا چیز ہو گی، اس کے ساتھ آگ کی ایک نہر ہو گی اور پانی کی ایک نہر ہو گی، جسے لوگ یہ سمجھیں گے کہ وہ آگ ہے وہ درحقیقت پانی ہو گا اور جسے لوگ یہ سمجھیں گے کہ وہ پانی ہے وہ درحقیقت آگ ہو گی، تم میں سے جو شخص ایسی صورت حال کو پائے اور وہ پانی پینا چاہتا ہو، تو وہ اس میں سے پئے جو اسے آگ لگ رہا ہو وہ پانی کو پا لے گا۔“ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6799]

6800

Sahih Ibn Hibban #6800

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَلَغَنِي أَنَّ مَعَ الدَّجَّالِ جِبَالُ الْخُبْزِ ، وَأَنْهَارُ الْمَاءِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ " ، قَالَ الْمُغِيرَةُ : فَكُنْتُ مِنْ أَكْثَرِ النَّاسِ سُؤَالا عَنْهُ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ بِالَّذِي يَضُرُّكَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِِنْكَارُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُغِيرَةِ بِأَنَّ مَعَ الدَّجَّالِ أَنْهَارُ الْمَاءِ لَيْسَ يُضَادُّ خَبَرَ أَبِي مَسْعُودٍ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ ، لأَنَّهُ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ أَنْ يَكُونَ مَعَهُ نَهْرُ الْمَاءِ يَجْرِي ، وَالَّذِي مَعَهُ يُرَى أَنَّهُ مَاءٌ وَلا مَاءَ ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُمَا تَضَادٌّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ دجال کے ساتھ روٹیوں کے پہاڑ اور پانی کی نہریں ہوں گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انتہائی بے حیثیت ہو گا۔“ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں دجال کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زیادہ سوالات کیا کرتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ پر انکار کرنا کہ دجال کے ساتھ پانی کی نہریں ہوں گی، یہ روایت سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت کے متضاد نہیں ہے جسے ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں، کیونکہ وہ ایسا ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حقیر ہو گا کہ اس کے ساتھ بہتے ہوئے پانی کی نہر ہو گی اور جو شخص یہ دیکھے گا کہ وہ پانی ہے وہ پانی نہیں ہو گا، اس طرح ان دونوں روایات کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6800]

6801

Sahih Ibn Hibban #6801

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، حَدَّثَهُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ ، فَقَالَ فِيمَا حَدَّثَنَا : يَأْتِي الدَّجَّالُ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ أَنْقَابَ الْمَدِينَةِ ، فَيَخْرُجُ إِِلَيْهِ رَجُلٌ ، وَهُوَ خَيْرُ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ أَوْ مِنْ خَيْرِهِمْ ، فَيَقُولُ : أَشْهَدُ أَنَّكَ الدَّجَّالُ الَّذِي حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَهُ ، فَيَقُولُ الدَّجَّالُ : أَرَأَيْتُمْ إِِنْ قَتَلْتُ هَذَا ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ ، أَتَشُكُّونَ فِي الأَمْرِ ؟ فَيَقُولُونَ : لا ، فَيُسَلَّطُ عَلَيْهِ ، فَيَقْتُلُهُ ، ثُمَّ يُحْيِيهِ ، فَيَقُولُ حِينَ يَحْيَى : وَاللَّهِ مَا كُنْتُ بِأَشَدَّ بَصِيرَةً فِيكَ مِنِّي الآنَ ، فَيُرِيدُ قَتْلَهُ الثَّانِيَةَ ، فَلا يُسَلَّطُ عَلَيْهِ "، قَالَ مُعْمَرٌ : أَنَّ أَهْلَ الرَّجُلِ الَّذِي يَقْتُلُهُ الدَّجَّالُ ثُمَّ يُحْيِيهِ : الْخَضِرُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دجال کے بارے میں بتایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کے بارے میں جو بتایا اس میں یہ تھا: ”دجال آئے گا، اس کے لیے یہ بات ممنوع ہو گی کہ وہ مدینہ منورہ کے کسی راستے میں داخل ہو سکے، ایک شخص نکل کر اس کے پاس جائے گا، یہ اس دن سب سے بہتر شخص ہو گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ان لوگوں کے بہترین لوگوں میں سے ایک ہو گا، وہ یہ کہے گا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تم وہی دجال ہو جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا تھا، تو دجال کہے گا: تم لوگوں کا کیا خیال ہے اگر میں اسے قتل کر کے پھر زندہ کر دوں، تو کیا تمہیں اس معاملے کے بارے میں کوئی شک ہو گا؟ وہ لوگ جواب دیں گے: جی نہیں، تو دجال کو اس شخص پر تسلط عطا کیا جائے گا، وہ اسے قتل کر دے گا، پھر وہ اسے زندہ کرے گا، جب وہ زندہ ہو گا تو یہ کہے گا: اللہ کی قسم! تمہارے بارے میں جتنی بصیرت مجھے اب حاصل ہے پہلے حاصل نہیں تھی، پھر دجال دوبارہ اس شخص کو قتل کرنے کا ارادہ کرے گا لیکن اس پر قابو نہیں پا سکے گا۔“ معمر نامی راوی کہتے ہیں: لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ وہ شخص جسے دجال قتل کرے گا اور پھر دوبارہ زندہ کرے گا وہ سیدنا خضر علیہ السلام ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6801]

6802

Sahih Ibn Hibban #6802

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ أَبِي نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ أَنْتُمْ إِِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ ، وَإِِمَامُكُمْ مِنْكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام تمہارے درمیان نزول کریں گے اور امام تم میں سے ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6802]