Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 59 · Chapter 2

Book of Incantations and Amulets

Hadith 6687–6728

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6687

Sahih Ibn Hibban #6687

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ حَدَّثَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَيَفْتَحَنَّ كَنْزَ آلِ كِسْرَى الأَبْيَضَ أَوْ قَالَ : فِي الأَبْيَضِ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”مسلمانوں کا ایک گروہ کسریٰ کے خاندان والوں کے خزانے کو ضرور فتح کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6687]

6688

Sahih Ibn Hibban #6688

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ رَبَاحٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ :إِِذَا فُتِحَتْ عَلَيْكُمْ خَزَائِنُ فَارِسَ وَالرُّومِ ، أَيُّ قَوْمٍ أَنْتُمْ ؟ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ : نَكُونُ كَمَا أَمَرَنَا اللَّهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَتَنَافَسُونَ ، ثُمَّ تَتَحَاسَدُونَ ، ثُمَّ تَتَدَابَرُونَ ، ثُمَّ تَتَبَاغَضُونَ ، ثُمَّ تَنْطَلِقُونَ إِِلَى مَسَاكِينِ الْمُهَاجِرِينَ ، فَتَحْمِلُونَ بَعْضَهُمْ عَلَى رِقَابِ بَعْضٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہارے لیے فارس اور روم کے خزانے فتح کر دیے جائیں تو تم لوگ کیسی حالت میں ہو گے؟“ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ہم ویسے ہی ہوں گے جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ ایک دوسرے کے مقابلے میں آ جاؤ گے، ایک دوسرے سے حسد رکھو گے، ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرو گے، ایک دوسرے سے بغض رکھو گے، پھر تم عنقریب غریب مہاجرین کی طرف جاؤ گے اور ان میں سے کچھ کو دوسروں کی گردنوں پر سوار کر دو گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6688]

6689

Sahih Ibn Hibban #6689

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلا كِسْرَى بَعْدَهُ ، وَإِِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلا قَيْصَرُ بَعْدَهُ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِذَا هَلَكَ كِسْرَى ، فَلا كِسْرَى بَعْدَهُ " ، أَرَادَ بِهِ بِأَرْضِهِ وَهِيَ الْعِرَاقُ ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَإِِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلا قَيْصَرُ بَعْدَهُ " ، يُرِيدُ بِهِ بِأَرْضِهِ وَهِيَ الشَّامُ ، لا أَنَّهُ لا يَكُونُ كِسْرَى بَعْدَهُ ، وَلا قَيْصَرُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کسریٰ مر جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہو گا، جب قیصر مر جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہو گا۔ اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، تم لوگ ان دونوں کے خزانے اللہ کی راہ میں ضرور خرچ کرو گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”جب کسریٰ مر جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہو گا۔“ اس کے ذریعے آپ کی مراد اس کی سرزمین ہے، وہ عراق کی سرزمین ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”جب قیصر مر جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہو گا۔“ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ اس کی سرزمین میں ایسا نہیں ہو گا اور وہ سرزمینِ شام ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ان کے بعد کوئی کسریٰ یا کوئی قیصر نہیں ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6689]

6690

Sahih Ibn Hibban #6690

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلا كِسْرَى بَعْدَهُ أَبَدًا ، وَإِِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلا قَيْصَرُ بَعْدَهُ أَبَدًا ، وَأَيْمُ اللَّهِ لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کسریٰ مر جائے گا تو اس کے بعد کبھی کسریٰ نہیں ہو گا، جب قیصر مر جائے گا تو اس کے بعد کبھی قیصر نہیں ہو گا۔ اللہ کی قسم! ان دونوں کے خزانے اللہ کی راہ میں ضرور خرچ کیے جائیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6690]

6691

Sahih Ibn Hibban #6691

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يَحْسُرُ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَيَقْتَتِلُ عَلَيْهِ النَّاسُ ، فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ " ، قَالَ : يَا بُنَيَّ ، " إِِنْ أَدْرَكْتَهُ فَلا تَكُونَنَّ مِمَّنْ يُقَاتِلُ عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب تم پر ایسا زمانہ آئے گا جب دریائے فرات سونے کے پہاڑ کو ظاہر کرے گا جس پر لوگوں کی جنگ ہوگی، اس میں ہر سو میں سے ننانوے لوگ مارے جائیں گے۔“ (راوی کہتے ہیں: اے میرے بیٹے! اگر تم اس زمانے کو پاؤ تو تم ان لوگوں میں شامل ہرگز نہ ہونا جو اس کے لیے لڑائی کریں گے۔) [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6691]

6692

Sahih Ibn Hibban #6692

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَن رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسُرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَيَقْتَتِلُ النَّاسُ عَلَيْهِ ، فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ عَشْرَةٍ تِسْعَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ نمودار نہیں ہو گا جس پر لوگ ایک دوسرے سے جنگ کریں گے، تو ہر دس میں سے نو آدمی مارے جائیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6692]

6693

Sahih Ibn Hibban #6693

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُوشِكُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسُرَ عَنْ كَنْزٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَمَنْ حَضَرَهُ فَلا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”عنقریب دریائے فرات سونے کے خزانے کو ظاہر کرے گا، تو جو شخص وہاں موجود ہو، وہ اس میں سے کچھ نہ لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6693]

6696

Sahih Ibn Hibban #6696

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو بِالْفُسْطَاطِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلاءِ الزُّبَيْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي إِِسْحَاقُ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ نَوْفَلٍ ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ نَوْفَلٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ تَلٍّ مِنْ ذَهَبٍ ، فَيَقْتَتِلُ عَلَيْهِ النَّاسُ ، فَيُقْتَلُ تِسْعَةُ أَعْشَارِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک دریائے فرات سونے کے ٹیلے کو ظاہر نہیں کرے گا جس پر لوگ ایک دوسرے سے جنگ کریں گے، اور ہر دس میں سے نو آدمی مارے جائیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6696]

6697

Sahih Ibn Hibban #6697

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَقِيءُ الأَرْضُ أَفْلاذَ كَبِدِهَا أَمْثَالَ الأُسْطُوَانِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ ، قَالَ : فَيَجِيءُ السَّارِقُ ، فَيَقُولُ : فِي هَذَا قُطِعْتُ ، وَيَجِيءُ الْقَاتِلُ ، فَيَقُولُ : فِي هَذَا قَتَلْتُ ، وَيَجِيءُ الْقَاطِعُ ، فَيَقُولُ : فِي هَذَا قَطَعْتُ رَحِمِي ، وَيَدَعُونَهُ لا يَأْخُذُونَ مِنْهُ شَيْئًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”زمین اپنے جگر کے ٹکڑوں کو اگل دے گی، جیسے وہ سونے اور چاندی کے ستون ہوں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر ایک چور آئے گا اور کہے گا: اس کی وجہ سے میرا ہاتھ کاٹا گیا، ایک قاتل آئے گا اور کہے گا: اس وجہ سے میں نے قتل کیا، رشتہ داری کے حقوق کو پامال کرنے والا آئے گا اور کہے گا: اسی وجہ سے میں نے رشتہ داری کے حقوق کو پامال کیا، لیکن وہ لوگ اسے چھوڑ دیں گے اور اس میں سے کچھ بھی نہیں لیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6697]

6698

Sahih Ibn Hibban #6698

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ : شَكَوْنَا إلى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً لَهُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ ، فَقُلْنَا : أَلا تَسْتَنْصِرُ لَنَا ، أَلا تَدْعُو لَنَا ؟ فَقَالَ : قَدْ كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ يُؤْخَذُ الرَّجُلُ فَيُحْفَرُ لَهُ فِي الأَرْضِ ، فَيُجْعَلُ فِيهَا فَيُؤْتَى بِالْمِنْشَارِ ، فَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ ، فَيُجْعَلُ بِنِصْفَيْنِ ، وَيُمَشَّطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ فِيمَا دُونَ عَظْمِهِ وَلَحْمِهِ ، فَمَا يَصْرِفُهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ ، وَاللَّهِ لَيَتِمَّنَّ هَذَا الأَمْرُ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِِلَى حَضْرَمَوْتَ ، لا يَخَافُ إِِلا اللَّهَ ، وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ ، وَلَكِنَّكُمْ تَسْتَعْجِلُونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا خباب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (قریش کی طرف سے پیش آنے والی مشکل صورت حال) کی شکایت کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خانہ کعبہ کے سائے میں اپنی چادر کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے عرض کی: آپ ہمارے لیے مدد کی دعا کیوں نہیں کرتے؟ آپ ہمارے لیے دعا کیوں نہیں کرتے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے کے لوگوں میں سے کسی شخص کو پکڑا جاتا تھا، اس کے لیے زمین کو کھودا جاتا تھا، اس کے بعد اس شخص کو اس میں ڈال دیا جاتا تھا، پھر ایک آرا لایا جاتا تھا، اسے اس کے سر پر رکھا جاتا تھا، اس شخص کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جاتا تھا اور لوہے کی بنی ہوئی کنگھی لا کر اس کی ہڈیوں اور گوشت کے اندر تک پھیری جاتی تھی لیکن یہ چیز بھی ان کو ان کے دین سے نہیں پھیر سکی۔ اللہ کی قسم! یہ معاملہ ضرور مکمل ہو گا یہاں تک کہ ایک سوار شخص صنعاء سے چلے گا اور حضرموت جائے گا، اسے صرف اللہ تعالیٰ کا خوف ہو گا یا اپنی بکریوں کے حوالے سے بھیڑیے کا خوف ہو گا لیکن تم لوگ جلد بازی چاہتے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6698]

6699

Sahih Ibn Hibban #6699

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ الأَنْصَارِيُّ بِدِمَشْقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الأَسْوَدِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لا يَبْقَى عَلَى الأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلا وَبَرٍ ، إِِلا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الإِِسْلامَ بِعِزِّ عَزِيزٍ أَوْ بِذُلِّ ذَلِيلٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”روئے زمین پر موجود ہر کچے اور پکے گھر کے اندر اللہ تعالیٰ اسلام کو داخل کر دے گا خواہ (اس گھر کے اندر رہنے والا شخص) کوئی طاقتور شخص ہو یا کوئی کم تر شخص ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6699]

6700

Sahih Ibn Hibban #6700

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ الْهَرْجُ ، وَحَتَّى تَعُودَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوجًا وَأَنْهَارًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک ہرج کی کثرت نہیں ہوگی اور جب تک عرب کی سرزمین پر چراگاہوں اور نہروں (کی کثرت نہیں ہوگی)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6700]

6701

Sahih Ibn Hibban #6701

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الأَسْوَدِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلا وَبَرٍ ، إِِلا أُدْخِلَ عَلَيْهِمْ كَلِمَةَ الإِِسْلامِ بِعِزِّ عَزِيزٍ ، أَوْ بِذُلِّ ذَلِيلٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”روئے زمین پر موجود کوئی کچا یا پکا گھر ایسا نہیں رہے گا جس میں اللہ تعالیٰ اسلام کے کلمے کو داخل نہ کر دے، خواہ وہ (گھر) کسی طاقت ور شخص کا ہو یا کسی کم تر شخص کا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6701]

6702

Sahih Ibn Hibban #6702

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سِنَانَ بْنَ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيَّ وَهُمْ حُلَفَاءُ بَنِي الدِّيلِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ ، يَقُولُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ مَكَّةَ ، خَرَجَ بِنَا مَعَهُ قِبَلَ هَوَازِنَ ، حَتَّى مَرَرْنَا عَلَى سِدْرَةِ الْكُفَّارِ ، سِدْرَةٌ يَعْكِفُونَ حَوْلَهَا وَيَدْعُونَهَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ كَمَا لَهُمْ ذَاتُ أَنْوَاطٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، إِِنَّهَا السُّنَنُ ، هَذَا كَمَا قَالَتْ بَنُو إِِسْرَائِيلَ لِمُوسَى : اجْعَلْ لَنَا إِِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ ، قَالَ : إِِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّكُمْ لَتَرْكَبُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کر لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ساتھ لے کر ہوازن کی طرف روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب ہم کفار کے بیری کے درخت کے پاس سے گزرے، یہ وہ بیری کا درخت تھا جس کے اردگرد وہ لوگ اعتکاف کیا کرتے تھے اور وہ لوگ اسے «ذَاتُ أَنْوَاطٍ» ”ذاتِ انواط“ کہتے تھے، تو ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہمارے لیے بھی کوئی «ذَاتُ أَنْوَاطٍ» ”ذاتِ انواط“ مقرر کر دیں جس طرح کفار کا «ذَاتُ أَنْوَاطٍ» ”ذاتِ انواط“ ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ اکبر! یہ تو وہی ہو گیا جس طرح بنی اسرائیل نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا: ﴿اجْعَل لَّنَا إِلَٰهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ ۚ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ﴾ [سورة الأعراف: 138] ”آپ ہمارے لیے بھی کوئی معبود بنا دیں جس طرح ان لوگوں کا معبود ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا: تم لوگ ایک ایسی قوم ہو جو جاہل ہو۔““ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقے پر ضرور عمل کرو گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6702]

6703

Sahih Ibn Hibban #6703

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ ، حَتَّى لَوْ سَلَكُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَسَلَكْتُمُوهُ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَمَنْ ؟ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم لوگ اپنے سے پہلے لوگوں کی بالشت کے ساتھ بالشت اور گز کے ساتھ گز کے مطابق ضرور پیروی کرو گے، یہاں تک کہ اگر وہ لوگ گوہ کے بل تک گئے تھے تو تم بھی وہاں ضرور جاؤ گے۔“ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہودیوں اور عیسائیوں (کی ہم پیروی کریں گے)؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور کس کی؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6703]

6704

Sahih Ibn Hibban #6704

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَادِرُوا بِالأَعْمَالِ فِتَنًَا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا ، وَيُصْبِحُ كَافِرًا وَيُمْسِي مُؤْمِنًا ، يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ایسے فتنوں کے آنے سے پہلے (نیک) اعمال میں جلدی کرو جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے، جن میں آدمی صبح کے وقت مومن ہو گا اور شام کے وقت کافر ہو گا، یا صبح کے وقت کافر ہو گا اور شام کے وقت مومن ہو گا۔ وہ دنیا کے ساز و سامان کے عوض میں اپنے دین کو فروخت کر دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6704]

6705

Sahih Ibn Hibban #6705

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ مِنْ فِتْنَةٍ عَمْيَاءَ صَمَّاءَ بَكْمَاءَ ، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي ، وَيْلٌ لِلسَّاعِي فِيهَا مِنَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”عربوں کے لیے اس شر کی وجہ سے بربادی ہے جو قریب آ چکا ہے، وہ اندھے، گونگے اور بہرے فتنے کی شکل میں ہے، جس میں بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہونے والے سے بہتر ہو گا، کھڑا ہونے والا شخص چلنے والے سے بہتر ہو گا، چلنے والا شخص دوڑنے والے سے بہتر ہو گا اور اس میں دوڑنے والے کے لیے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے بربادی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6705]

6706

Sahih Ibn Hibban #6706

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الزَّبَادِيَّ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَن رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ، يَظْهَرُ النِّفَاقُ ، وَتُرْفَعُ الأَمَانَةُ ، وَتُقْبَضُ الرَّحْمَةُ ، وَيُتَّهَمُ الأَمِينُ ، وَيُؤْتَمَنُ غَيْرُ الأَمِينِ ، أَنَاخَ بِكُمُ الشُّرْفُ الْجُونُ ، قَالُوا : وَمَا الشُّرْفُ الْجُونُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اگر تم وہ بات جان لو جو میں جانتا ہوں، تو تم لوگ تھوڑا ہنسا کرو اور زیادہ رویا کرو۔ نفاق ظاہر ہو جائے گا۔ امانت کو اٹھا لیا جائے گا۔ رحمت کو قبض کر لیا جائے گا۔ امین شخص پر تہمت لگائی جائے گی اور جو شخص امین نہیں ہو گا اسے امین بنایا جائے گا اور شرفِ جون تم لوگوں کو بٹھا دیں گے۔“ انہوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! شرفِ جون سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے فتنے جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6706]

6707

Sahih Ibn Hibban #6707

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ ، فَيَقُولُ : يَا لَيْتَنِي مَكَانَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کوئی شخص قبر کے پاس سے گزرتے ہوئے یہ نہیں کہے گا کہ کاش (اس مردے) کی جگہ میں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6707]

6708

Sahih Ibn Hibban #6708

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ ذِي مِخْبَرِ ابْنِ أَخِي النَّجَاشِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : تُصَالِحُونَ الرُّومَ صُلْحًا آمِنًَا حَتَّى تَغْزُوا أَنْتُمْ وَهُمْ عَدُوًّا مِنْ وَرَائِهِمْ ، فَتُنْصَرُونَ وَتَغْنَمُونَ وَتَنْصَرِفُونَ حَتَّى تَنْزِلُوا بِمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ ، فَيَقُولُ قَائِلٌ مِنَ الرُّومِ : غَلَبَ الصَّلِيبُ ، وَيَقُولُ قَائِلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ : بَلِ اللَّهُ غَلَبَ ، فَيَثُورُ الْمُسْلِمُ إِِلَى صَلِيبِهِمْ وَهُوَ مِنْهُ غَيْرُ بَعِيدٍ فَيَدُقُّهُ ، وَتَثُورُ الرُّومُ إِِلَى كَاسِرِ صَلِيبِهِمْ ، فَيَضْرِبُونَ عُنُقَهُ ، وَيَثُورُ الْمُسْلِمُونَ إِِلَى أَسْلِحَتِهِمْ فَيَقْتَتِلُونَ ، فَيُكْرِمُ اللَّهُ تِلْكَ الْعِصَابَةَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِالشَّهَادَةِ ، فَتَقُولُ الرُّومُ لِصَاحِبِ الرُّومِ : كَفَيْنَاكَ الْعَرَبَ ، فَيَجْتَمِعُونَ لِلْمَلْحَمَةِ ، فَيَأْتُونَكُمْ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَةً تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ذی مخبر رضی اللہ عنہ، جو نجاشی کے بھتیجے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”تم لوگ اہل روم کے ساتھ صلح کرو گے جو امن والی ہو گی، یہاں تک کہ تم اور وہ لوگ مل کر ایک ایسے دشمن کے ساتھ جنگ کرو گے جو ان کے علاوہ ہو گا، تو تم لوگوں کی مدد کی جائے گی، تم لوگ مال غنیمت حاصل کرو گے، پھر تم لوگ واپس آؤ گے یہاں تک کہ تم ٹیلوں والی چراگاہ میں پڑاؤ کرو گے، تو اہل روم میں سے ایک شخص کہے گا: صلیب غالب آئی ہے، اور مسلمانوں میں سے ایک شخص کہے گا: بلکہ اللہ تعالیٰ نے غلبہ عطا کیا ہے، تو وہ مسلمان ان کی صلیب کی طرف بڑھے گا جو اس سے زیادہ دور نہیں ہو گی اور وہ اسے توڑ دے گا، تو رومی اپنے صلیب کو توڑنے والے شخص کی طرف بڑھیں گے اور اس کی گردن اڑا دیں گے، مسلمان اپنے اسلحے کی طرف جائیں گے اور لڑائی شروع کر دیں گے، تو مسلمانوں کے گروہ کو اللہ تعالیٰ شہادت کے ذریعے عزت عطا کرے گا۔ اہل روم رومیوں کے بادشاہ سے کہیں گے ہم عربوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہیں، پھر وہ زبردست جنگ کے لیے اکٹھے ہوں گے اور 80 جھنڈوں کے نیچے اکٹھے ہو کر تمہاری طرف آئیں گے، جن میں سے ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار لوگ ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6708]

6709

Sahih Ibn Hibban #6709

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، قَالَ : مَالَ مَكْحُولٌ إِِلَى خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، وَمِلْنَا مَعَهُ ، فَحَدَّثَنَا عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، أَنَّ ذَا مِخْبَرِ ابْنَ أَخِي النَّجَاشِيِّ ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : سَتُصَالِحُونَ الرُّومَ صُلْحًا آمِنًَا ، حَتَّى تَغْزُوا أَنْتُمْ وَهُمْ عَدُوًّا مِنْ وَرَائِهِمْ ، فَتُنْصَرُونَ وَتَسْلَمُونَ وَتَغْنَمُونَ حَتَّى تَنْزِلُوا بِمَرْجٍ ، فَيَقُولُ قَائِلٌ مِنَ الرُّومِ : غَلَبَ الصَّلِيبُ ، وَيَقُولُ قَائِلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ : بَلِ اللَّهُ غَلَبَ ، وَيَتَدَاوَلُونَهَا وَصَلِيبُهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ غَيْرُ بَعِيدٍ ، فَيَثُورُ إِِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَدُقُّهُ ، وَيَثُورُونَ إِِلَى كَاسِرِ صَلِيبِهِمْ فَيَضْرِبُونَ عُنُقَهُ ، وَيَثُورُ الْمُسْلِمُونَ إِِلَى أَسْلِحَتِهِمْ فَيَقْتَتِلُونَ ، فَيُكْرِمُ اللَّهُ تِلْكَ الْعِصَابَةَ بِالشَّهَادَةِ ، فَيَأْتُونَ مَلِكَهُمْ ، فَيَقُولُونَ : كَفَيْنَاكَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ ، فَيَجْتَمِعُونَ لِلْمَلْحَمَةِ ، فَيَأْتُونَ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَةً تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ذی مخبر رضی اللہ عنہ جو نجاشی کے بھتیجے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”تم لوگ عنقریب اہل روم کے ساتھ امن والی صلح کرو گے، یہاں تک کہ تم اور وہ مل کر ایسے دشمن کے ساتھ جنگ کریں گے جو ان سے پرے ہوگا، تو تم لوگوں کی مدد کی جائے گی، تم لوگ سلامت رہو گے اور مالِ غنیمت حاصل کرو گے، یہاں تک کہ تم لوگ ایک چراگاہ میں پڑاؤ کرو گے، تو اہل روم میں سے ایک شخص یہ کہے گا: صلیب غالب آئی ہے۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص کہے گا: بلکہ اللہ تعالیٰ نے غلبہ عطا کیا ہے، تو وہ لوگ آپس میں لڑ پڑیں گے۔ ان لوگوں کی صلیب مسلمانوں سے زیادہ دور نہیں ہوگی۔ مسلمانوں کا ایک شخص اس کی طرف بڑھے گا اور اسے توڑ دے گا، تو وہ لوگ صلیب کو توڑنے والے شخص کی طرف بڑھیں گے اور اس کی گردن اڑا دیں گے، تو مسلمان اپنے اسلحے کی طرف آئیں گے اور پھر لڑائی شروع کردیں گے، تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو شہادت سے سرفراز کرے گا، وہ رومی اپنے بادشاہ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: جزیرۂ عرب پر (حملہ کرنے کے لیے) ہم آپ کا ساتھ دینے کے لیے کافی ہیں۔ پھر وہ جنگ کے لیے اکٹھے ہوں گے اور جھنڈوں تلے (اکٹھے ہو کر) آئیں گے، جن میں سے ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار لوگ ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6709]

6710

Sahih Ibn Hibban #6710

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يُونُسَ ، وَثَابِتٍ ، وَحُمَيْدٍ ، وَحَبِيبٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَكُونُ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ الْهَرْجُ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ " ، قَالُوا : أَكْثَرُ مِمَّا نَقْتُلُ ؟ قَالَ : " إِِنَّهُ لَيْسَ مِنْ قَتْلِكُمُ الْمُشْرِكِينَ ، وَلَكِنْ قَتْلُ بَعْضِكُمْ بَعْضًا " ، قَالَ : وَمَعَنَا عُقُولُنَا ؟ قَالَ : " إِِنَّهُ لَتُنْزَعُ عُقُولُ أَهْلِ ذَلِكَ الزَّمَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت سے پہلے ہرج ہوگا۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہرج سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قتل و غارت کرنا۔“ لوگوں نے عرض کی: اس سے زیادہ ہوگا، جو ہم نے قتل کیے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہارا مشرکین کو قتل کرنا نہیں ہے، بلکہ ایک دوسرے کو قتل کرنا ہوگا۔“ لوگوں نے دریافت کیا: (اس وقت) کیا ہماری عقلیں ہمارے پاس ہوں گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس زمانے کے لوگوں کی عقلیں الگ کر لی جائیں گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6710]

6711

Sahih Ibn Hibban #6711

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ ، وَيَنْقُصُ الْعِلْمُ ، وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ ، وَيُلْقَى الشُّحُّ ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ " ، قَالُوا : وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ ، الْقَتْلُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”زمانہ سمٹ جائے گا، علم کم ہو جائے گا، فتنے ظاہر ہوں گے، بخل عام ہو گا اور «الْهَرْجُ» ”ہرج“ کثرت سے ہو گا۔“ لوگوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! «الْهَرْجُ» ”ہرج“ سے کیا مراد ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قتل، قتل۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6711]

6712

Sahih Ibn Hibban #6712

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلاكُ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ غِلْمَانٍ سُفَهَاءَ مِنْ قُرَيْشٍ "، قَالَ : فَقَالَ مَرْوَانُ : وَالْغِلْمَانُ هَؤُلاءِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری امت کی ہلاکت قریش کے بے وقوف لڑکوں کے ذریعے ہو گی۔“ (راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث سن کر) مروان نے کہا: لڑکے تو پھر یہی لوگ ہیں (جو آج کل کے حکمران ہیں)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6712]

6713

Sahih Ibn Hibban #6713

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ ظَالِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ لِمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ حَدَّثَنِي حَبِيبِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ : إِِنَّفَسَادَ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ أُغَيْلِمَةٍ سُفَهَاءَ مِنْ قُرَيْشٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مالک بن ظالم بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مروان بن حکم سے یہ کہتے ہوئے سنا: میرے محبوب سیدنا ابوالقاسم صادق مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات بتائی ہے: ”میری امت میں فساد قریش کے بے وقوف لڑکوں کے ذریعے ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6713]

6714

Sahih Ibn Hibban #6714

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِِنَّ اللَّهَ زَوَى لِي الأَرْضَ حَتَّى رَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا ، وَأَعْطَانِي الْكَنْزَيْنِ الأَحْمَرَ وَالأَبْيَضَ ، وَإِِنَّ مُلْكَ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا ، وَإِِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي لأُمَّتِي أَنْ لا يُهْلِكَهُمْ بِسَنَةٍ عَامَّةٍ ، وَأَنْ لا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَيُهْلِكَهُمْ ، وَلا يُلْبِسَهُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ،إِِنِّي إِِذَا أَعْطَيْتُ عَطَاءً فَلا مَرَدَّ لَهُ ، إِِنِّي أَعْطَيْتُكَ لأُمَّتِكَ أَنْ لا يُهْلَكُوا بِسَنَةٍ عَامَّةٍ ، وَأَنْ لا أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَيَسْتَبِيحَهُمْ ، وَلَكِنْ أُلْبِسُهُمْ شِيَعًا ، وَلَوِ اجْتُمِعَ عَلَيْهِمْ مِنْ بَيْنَ أَقْطَارِهَا حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يَهْلِكُ بَعْضًا ، وَبَعْضُهُمْ يُفْنِي بَعْضًا ، وَبَعْضُهُمْ يَسْبِي بَعْضًا ، وَإِِنَّهُ سَيَرْجِعُ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي إِِلَى التُّرْكِ وَعِبَادَةِ الأَوْثَانِ ، وَإِِنَّ مِنْ أَخْوَفِ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ ، وَإِِنَّهُمْ إِِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِيهِمْ لَمْ يُرْفَعْ عَنْهُمْ إِِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَإِِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي كَذَّابُونَ دَجَّالُونَ قَرِيبًا مِنْ ثَلاثِينَ ، وَإِِنِّي خَاتَمُ الأَنْبِيَاءِ ، لا نَبِيَّ بَعْدِي ، وَلا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ مَنْصُورَةٌ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الصَّوَابُ : الشِّرْكُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو لپیٹ دیا، یہاں تک کہ میں نے زمین کے مشرقی اور مغربی حصوں کو دیکھ لیا، اس نے مجھے سرخ اور سفید دو خزانے عطا کیے (اور یہ چیز عطا کی) کہ میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی، جہاں تک میرے لیے زمین کو لپیٹا گیا ہے، میں نے اپنے پروردگار سے اپنی امت کے لیے دعا مانگی کہ وہ انہیں عمومی قحط کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہ کرے اور ان پر ایسا دشمن مسلط نہ کرے جو دوسری قوم سے تعلق رکھتا ہو کہ وہ دشمن انہیں ہلاکت کا شکار کر دے اور وہ انہیں گروہوں میں تقسیم نہ کرے کہ وہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگیں، تو پروردگار نے فرمایا: اے محمد! جب میں کسی کو کچھ عطا کر دوں، تو اسے روکنے والا کوئی نہیں ہے، میں نے تمہاری امت کو یہ چیز عطا کی کہ وہ عمومی قحط کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہیں ہوں گے اور میں ان پر ایسا دشمن مسلط نہیں کروں گا، جو دوسری قوم سے تعلق رکھتا ہوگا، جو انہیں ختم کر دے گا، البتہ میں انہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کر دوں گا، یہاں تک کہ زمین سے دور دراز کے لوگ اکٹھے ہوں گے، وہ ایک دوسرے کو ہلاکت کا شکار کریں گے، ایک دوسرے کو فنا کریں گے، ایک دوسرے کو قیدی بنائیں گے، (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) میری امت کے کچھ قبائل ترکیوں اور بتوں کی پرستش کرنے والوں کی طرف واپس جائیں گے اور مجھے اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا ہے، جب ان کے درمیان تلوار رکھ دی جائے گی تو پھر وہ قیامت تک ان سے اٹھائی نہیں جائے گی اور عنقریب میری امت میں تیس کے قریب جھوٹے کذاب ظاہر ہوں گے، میں خاتم الانبیاء ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر گامزن رہے گا اور اس کی مدد کی جاتی رہے گی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آ جائے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت میں صحیح لفظ ”شرک“ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6714]

6715

Sahih Ibn Hibban #6715

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَتُنْتَقَضَنَّ عُرَى الإِِسْلامِ عُرْوَةً عُرْوَةً ، فَكُلَّمَا انْتُقِضَتْ عُرْوَةٌ تَشَبَّثَ النَّاسُ بِالَّتِي تَلِيهَا ، فَأَوَّلُهُنَّ نَقْضًا : الْحُكْمُ ، وَآخِرُهُنَّ : الصَّلاةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب اسلام کی رسیوں کو ایک ایک کر کے توڑ دیا جائے گا، جب بھی ان میں سے کوئی ایک رسی ٹوٹے گی لوگ اس کے بعد والی کو مضبوطی سے تھامیں گے، ان میں ٹوٹنے کے اعتبار سے سب سے پہلی حکم (یعنی فیصلہ کرنا) ہو گی اور سب سے آخری نماز ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6715]

6716

Sahih Ibn Hibban #6716

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ يَحْيَى الْقُرْقُسَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ سَنُوطَا ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِِذَا مَشَتْ أُمَّتِي الْمُطَيْطَاءَ ، وَخَدَمَتْهُمْ فَارِسُ وَالرُّومُ ، سُلِّطَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جب میری امت اتراتے ہوئے چلے گی اور اہل فارس اور اہل روم ان کے خدمت گزار بن جائیں گے تو ان میں سے کسی ایک کو دوسروں پر مسلط کر دیا جائے گا (یعنی امت باہمی اختلافات کا شکار ہو جائے گی)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6716]

6717

Sahih Ibn Hibban #6717

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ السِّجِسْتَانِيُّ أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ ، وَيَنْقُصُ الْعِلْمُ ، وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيٌّ هُوَ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”زمانہ سمٹ جائے گا، علم کم ہو جائے گا، فتنے ظاہر ہوں گے اور ہرج کثرت سے ہو گا۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہرج سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قتل۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6717]

6718

Sahih Ibn Hibban #6718

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَن رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يُوشِكُ أَنْ لا تَقُومَ السَّاعَةُ حَتَّى يُقْبَضَ الْعِلْمُ ، وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ ، وَيَكْثُرَ الْكَذِبُ ، وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ ، وَتَتَقَارَبَ الأَسْوَاقُ ، وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ " ، قِيلَ : وَمَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک علم کو قبض نہ کر لیا جائے، فتنے ظاہر نہ ہوں، جھوٹ کی کثرت نہ ہو، زمانہ سمٹ نہ جائے، (بازار) قریب نہ ہو جائیں اور «الْهَرْجُ» ”ہرج“ کثرت سے نہ ہو۔“ عرض کی گئی: ہرج سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الْقَتْلُ» ”قتل“۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6718]

6719

Sahih Ibn Hibban #6719

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى مِنْ كِتَابِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّاللَّهَ لا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا مِنَ النَّاسِ ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعُلَمَاءَ بِعِلْمِهِمْ ، حَتَّى إِِذَا لَمْ يَبْقَ عَالِمٌ اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَاءَ جُهَّالا ، فَسُئِلُوا ، فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ علم کو یوں قبض نہیں فرمائے گا کہ اسے لوگوں سے اٹھا لے گا، بلکہ وہ علما کو ان کے علم سمیت قبض کر لے گا، یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنا لیں گے، ان سے مسائل دریافت کیے جائیں گے تو وہ علم نہ ہونے کے باوجود جواب دیں گے، وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6719]

6720

Sahih Ibn Hibban #6720

أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرَّكِينَ الْفَرْغَانِيُّ بِدِمَشْقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي إِِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِِلَى السَّمَاءِ يَوْمًا ، فَقَالَ : هَذَا أَوَانٌ يُرْفَعُ الْعِلْمُ " ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، يُقَالُ لَهُ : لَبِيدُ بْنُ زِيَادٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يُرْفَعُ الْعِلْمُ وَقَدْ أُثْبِتَ وَوَعَتْهُ الْقُلُوبُ ؟ فَقَالْ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنْ كُنْتُ لأَحْسَبُكَ مِنْ أَفْقَهِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، " ثُمَّ ذَكَرَ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى عَلَى مَا فِي أَيْدِيهِمْ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ "، قَالَ : فَلَقِيتُ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ ، فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، فَقَالَ : صَدَقَ عَوْفٌ ، أَلا أَدُلُّكَ بِأَوَّلِ ذَلِكَ ؟ يُرْفَعُ الْخُشُوعُ ، حَتَّى لا تَرَى خَاشِعًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”یہ وہ وقت ہے جس میں علم کو اٹھا لیا جائے گا۔“ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا نام لبید بن زیاد تھا، انہوں نے آپ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! کیا علم کو اٹھا لیا جائے گا، حالانکہ یہ ثابت ہو چکا ہے اور ذہنوں نے اسے محفوظ کر لیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو تمہارے بارے میں یہ سمجھتا تھا کہ تم اہل مدینہ کے سب سے سمجھدار شخص ہو“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا ذکر کیا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس اللہ کی کتاب موجود تھی (لیکن اس کے باوجود وہ گمراہ ہو گئے)۔ راوی کہتے ہیں: پھر میری ملاقات سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے انہیں سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث سنائی تو انہوں نے فرمایا: سیدنا عوف رضی اللہ عنہ نے سچ بیان کیا ہے، کیا میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف کروں کہ سب سے پہلے کون سا علم اٹھایا جائے گا؟ سب سے پہلے خشوع و خضوع کو اٹھایا جائے گا اور پھر تمہیں ایک بھی شخص ایسا نہیں ملے گا، جو خشوع و خضوع والا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6720]

6721

Sahih Ibn Hibban #6721

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمِّي الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَنْقَضِي الدُّنْيَا حَتَّى تَكُونَ عِنْدَ لُكَعِ بْنِ لُكَعٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک وہ کمینوں کی اولاد کمینوں کے پاس نہیں ہوگی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6721]

6722

Sahih Ibn Hibban #6722

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَزَالُونَ يُسْتَفْتُونَ حَتَّى يَقُولَ أَحَدُهُمْ : هَذَا اللَّهُ خَلَقَ الْخَلْقَ ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسلسل سوالات پوچھے جاتے رہیں گے، یہاں تک کہ ایک شخص یہ کہے گا: اللہ تعالیٰ نے تو مخلوق کو پیدا کیا ہے، تو اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6722]

6723

Sahih Ibn Hibban #6723

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ بِمَرْوَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِِنَّاللَّهَ لا يَنْزِعُ الْعِلْمَ مِنَ النَّاسِ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنْهُمْ بَعْدَ إِِذْ أَعْطَاهُمُوهُ ، وَلَكِنْ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ ، فَإِِذَا لَمْ يَبْقَ عَالِمٌ ، اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَاءَ جُهَّالا ، يَسْتَفْتُونَهُمْ فَيُفْتُونَ بِغَيْرِ عِلْمٍ ، فَيُضِلُّونَ وَيَضِلُّونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک اللہ تعالیٰ لوگوں سے علم کو یوں جدا نہیں کرے گا کہ ان سے علم کو اٹھا لے، جبکہ اس نے ان لوگوں کو علم عطا کیا ہو بلکہ وہ علماء (کی روحوں) کو قبض کرنے کے ذریعے (علم کو اٹھائے گا) یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنا لیں گے، وہ ان سے مسائل دریافت کریں گے تو وہ علم نہ ہونے کے باوجود جواب دیں گے، وہ لوگ دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے اور خود بھی گمراہ ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6723]

6724

Sahih Ibn Hibban #6724

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ الْيَشْكُرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْوَاسِطِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَهُوَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ : قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَزَالُ أَمْرُ هَذِهِ الأُمَّةِ مُوَائِمًا أَوْ مُقَارِبًا مَا لَمْ يَتَكَلَّمُوا فِي الْوِلْدَانِ وَالْقَدَرِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الْوِلْدَانُ أَرَادَ بِهِ أَطْفَالَ الْمُشْرِكِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے منبر پر یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اس امت کا معاملہ ہمیشہ میانہ روی کے ساتھ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) چلتا رہے گا، جب تک وہ بچوں اور تقدیر کے بارے میں بحث نہیں کریں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہاں بچوں سے مراد مشرکین کے بچے ہیں (یعنی یہ بحث کہ آخرت میں ان کا انجام کیا ہو گا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6724]

6725

Sahih Ibn Hibban #6725

حَدَّثَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ وَفَاءِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَحْنُ نَقْتَرِئُ ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ، كِتَابُ اللَّهِ وَاحِدٌ ، وَفِيكُمُ الأَحْمَرُ وَالأَبْيَضُ وَالأَسْوَدُ ، اقْرَؤُوهُ قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَهُ أَقْوَامٌ يُقَوِّمُونَهُ كَمَا يُقَوَّمُ السَّهْمُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم تلاوت کر رہے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر طرح کی حمد و ثناء اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے، اللہ تعالیٰ کی کتاب ایک ہی ہے، تمہارے اندر سرخ، سفید اور سیاہ لوگ موجود ہیں، تم لوگ اس کی تلاوت کرتے رہو اس سے پہلے کہ وہ لوگ اس کو پڑھنا شروع کر دیں جو اس کی یوں قیمت لگائیں گے جس طرح حصے کی قیمت لگائی جاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6725]

6726

Sahih Ibn Hibban #6726

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ الْيَرْبُوعِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيَأْتِيَنَّ زَمَانٌ لا يُبَالِي الْمَرْءُ بِمَا أَخَذَ الْمَالَ : بِحَلالٍ أَوْ حَرَامٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب ایسا زمانہ آئے گا جب آدمی اس بات کی پرواہ نہیں کرے گا کہ اس نے کس طرح سے مال حاصل کیا ہے، حلال طور پر یا حرام طور پر۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6726]

6727

Sahih Ibn Hibban #6727

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَأْتِي قَوْمٌ يَسْبِقُ أَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ ، وَشَهَادَتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سب سے بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں، پھر ان کے بعد والے ہیں، پھر ان کے بعد والے ہیں، پھر وہ لوگ آئیں گے جن کی قسم، گواہی سے پہلے ہو گی اور گواہی، قسم سے پہلے ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6727]

6728

Sahih Ibn Hibban #6728

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ الْغَنَوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالْجَابِيَةِ ، قَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامِي فِيكُمُ الْيَوْمَ ، فَقَالَ : أَحْسِنُوا إِِلَى أَصْحَابِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ ، حَتَّى يَشْهَدَ الرَّجُلُ عَلَى الْيَمِينِ لا يُسْأَلُهَا ، فَمَنْ أَرَادَ بُحْبُوحَةَ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ ، فَإِِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ ، وَهُوَ مِنَ الاثْنَيْنِ أَبْعَدُ ، وَلا يَخْلُوَنَّ أَحَدُكُمْ بِالْمَرْأَةِ ، فَإِِنَّ الشَّيْطَانَ ثَالِثُهُمَا ، وَمَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جابیہ کے مقام پر ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: آج جس جگہ میں تمہارے درمیان کھڑا ہوں اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے ساتھیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، پھر ان کے بعد والوں کے ساتھ، پھر ان کے بعد والوں کے ساتھ، پھر جھوٹ عام ہو جائے گا، یہاں تک کہ آدمی ایسی قسم پر گواہی دے گا جس کے بارے میں اس سے مطالبہ نہیں کیا گیا ہو گا، تو جو شخص جنت میں جانا چاہتا ہے وہ (مسلمانوں کی) جماعت کو لازم پکڑے، کیونکہ شیطان ایک شخص کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ دو آدمیوں سے زیادہ دور ہوتا ہے اور کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں ہرگز نہ رہے کیونکہ ان دونوں کے ساتھ تیسرا شیطان ہو گا اور جس شخص کو اچھائی اچھی لگتی ہو اور برائی بری لگتی ہو وہ مومن ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6728]