Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 59 · Chapter 1

Book of Incantations and Amulets

Hadith 6640–6686

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6640

Sahih Ibn Hibban #6640

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الأَصْبَهَانِيُّ بِالرِّيِّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، وَقَتَادَةَ ، وَحَمْزَةَ الضَّبِّيِّ ، قَالُوا : سَمِعْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا، وَأَشَارَ بِأُصْبَعَيْهِ ، قَالَ : وَكَانَ قَتَادَةُ ، يَقُولُ : كَفَضْلِ إِِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ مَعْنَى قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ " ، أَرَادَ بِهِ أَنِّي بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَنَا نَبِيٌّ آخَرُ ، لأَنِّي آخِرُ الأَنْبِيَاءِ وَعَلَى أُمَّتِي تَقُومُ السَّاعَةُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مجھے اور قیامت کو اس طرح مبعوث کیا گیا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں: قتادہ رحمہ اللہ نے یہ بات کہی ہے: یہ اس طرح ہے جیسے ایک کو دوسری پر فضیلت حاصل ہو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا احتمال موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”مجھے اور قیامت کو ان دو کی طرح مبعوث کیا گیا ہے“ اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہو کہ ”مجھے اور قیامت کو اس طرح مبعوث کیا گیا ہے“ جیسے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی ہوتی ہے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور قیامت کے درمیان کوئی اور نبی نہیں آئے گا کیونکہ میں آخری نبی ہوں اور میری امت پر ہی قیامت قائم ہو گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6640]

6641

Sahih Ibn Hibban #6641

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ " ، وَجَمَعَ بَيْنَ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے اور قیامت کو ان دو کی طرح مبعوث کیا گیا ہے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو ملا کر یہ بات ارشاد فرمائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6641]

6642

Sahih Ibn Hibban #6642

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الإِِسْكَنْدَرَانِيُّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ بِأُصْبُعِهِ الَّتِي تَلِي الإِِبْهَامَ وَالْوُسْطَى : بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی اور درمیانی انگلی کو ملا کر یہ ارشاد فرمایا: ”مجھے اور قیامت کو اس طرح مبعوث کیا گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6642]

6643

Sahih Ibn Hibban #6643

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِعَلِيٍّ : أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ، غَيْرَ أَنَّهُ لا نَبِيَّ بَعْدِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو جو سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی، البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6643]

6644

Sahih Ibn Hibban #6644

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانُ بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَبِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَوْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَلَمَّا بَلَغَ ضَجْنَانَ ، سَمِعَ بُغَامَ نَاقَةِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَعَرَفَهُ ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : مَا شَأْنِي ؟ قَالَ : خَيْرٌ ، إِِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي بِبَرَاءَةَ ، فَلَمَّا رَجَعْنَا انْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لِي ؟ قَالَ :خَيْرٌ ، أَنْتَ صَاحِبِي فِي الْغَارِ ، غَيْرَ أَنَّهُ لا يُبَلِّغُ غَيْرِي ، أَوْ رَجُلٌ مِنِّي ، يَعْنِي عَلِيًّا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ یا شاید سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو (امیرالحج بنا کر) بھیجا، جب وہ ضجنان کے مقام پر پہنچے تو انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اونٹنی کی آواز کو سنا اور وہ اسے پہچان گئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”میرا کیا معاملہ ہے؟“ انہوں نے کہا: ”بہتر ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (کفار کے ساتھ کیے گئے ہر معاہدے) سے لاتعلقی (کے اعلان کے ہمراہ) بھیجا ہے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) جب ہم لوگ واپس آئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے۔ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا کیا معاملہ ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بہتر ہے، تم غار میں میرے ساتھی رہے ہو لیکن صورت حال یہ تھی کہ میرے علاوہ یا مجھ سے تعلق رکھنے والے (میرے کسی خاندانی عزیز) کے علاوہ اور کوئی شخص یہ اعلان نہیں کر سکتا تھا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6644]

6645

Sahih Ibn Hibban #6645

أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ بِمَكَّةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُمْ حِينَ رَجَعُوا إِِلَى الْمَدِينَةِ مِنْ عُمْرَةِ الْجِعْرَانَةِ ، بَعَثَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْحَجِّ ، فَأَقْبَلْنَا مَعَهُ ، حَتَّى إِِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ ثَوَّبَ بِالصُّبْحِ ، فَلَمَّا اسْتَوَى لِلتَّكْبِيرِ ، سَمِعَ الرَّغْوَةَ خَلْفَ ظَهْرِهِ ، فَوَقَفَ عَنِ التَّكْبِيرِ ، فَقَالَ : هَذِهِ رَغْوَةُ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَدْعَاءِ ، فَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُصَلِّيَ مَعَهُ ، فَإِِذَا عَلِيٌّ عَلَيْهَا ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ : أَمِيرٌ أَنْتَ أَمْ رَسُولٌ ؟ قَالَ : لا ، بَلْ رَسُولٌ ، أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَرَاءَةَ أَقْرَؤُهَا عَلَى النَّاسِ فِي مَوَاقِفِ الْحَجِّ ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ ، فَلَمَّا كَانَ قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِيَوْمٍ ، قَامَ أَبُو بَكْرٍ ، فَخَطَبَ النَّاسَ حَتَّى إِِذَا فَرَغَ ، قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ بِبَرَاءَةَ حَتَّى خَتَمَهَا ، ثُمَّ خَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى إِِذَا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ قَامَ أَبُو بَكْرٍ ، فَخَطَبَ النَّاسَ يُعَلِّمُهُمْ مَنَاسِكَهُمْ حَتَّى إِِذَا فَرَغَ ، قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةً حَتَّى خَتَمَهَا ، ثُمَّ كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَأَفَضْنَا ، فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو بَكْرٍ خَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَهُمْ عَنْ إِِفَاضَتِهِمْ وَعَنْ نَحْرِهِمْ وَعَنْ مَنَاسِكِهِمْ ، فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةَ حَتَّى خَتَمَهَا ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّفْرِ الأَوَّلِ ، قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَهُمْ كَيْفَ يَنْفِرُونَ وَكَيْفَ يَرْمُونَ وَعَلَّمَهُمْ مَنَاسِكَهُمْ ، فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ ، فَقَرَأَ بَرَاءَةَ عَلَى النَّاسِ حَتَّى خَتَمَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ لوگ جعرانہ سے عمرہ کرنے کے بعد مدینہ منورہ کی طرف واپس گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیرِ حج بنا کر بھیجا، ہم لوگ ان کے ساتھ آ گئے، یہاں تک کہ جب ہم عرج کے مقام پر پہنچے تو صبح کی نماز کے لیے اقامت کہی گئی، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہنے کے لیے کھڑے ہوئے تو انہوں نے اپنی پشت کے پیچھے اونٹنی کی آواز سنی۔ وہ تکبیر کہنے سے رک گئے۔ انہوں نے کہا: یہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی «الْجَدْعَاءُ» کی مخصوص آواز ہے، شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہوں، تو ہم آپ کی اقتدا میں نماز ادا کریں گے، لیکن اس اونٹنی پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سوار تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا: کیا آپ امیر کے طور پر آئے ہیں یا قاصد کے طور پر آئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں بلکہ قاصد کے طور پر آیا ہوں، مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «بَرَاءَةٌ» (برأت) کے ہمراہ بھیجا ہے جسے میں حج کے موقع پر لوگوں کے سامنے پڑھ دوں گا۔ (راوی کہتے ہیں:) پھر ہم لوگ مکہ آ گئے، ترویہ سے ایک دن پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا (حج کے احکام بیان کیے)، جب وہ فارغ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے سورۃ التوبہ کی تلاوت کی اور اسے مکمل طور پر ختم کیا، پھر ہم لوگ ان کے ہمراہ روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب عرفہ کا دن آیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا اور انہیں مناسکِ حج کی تعلیم دی۔ جب وہ فارغ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے لوگوں کے سامنے سورۃ التوبہ کی تلاوت کی یہاں تک کہ اسے مکمل طور پر ختم کیا، پھر جب قربانی کا دن آیا اور ہم لوگ واپس آئے، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ واپس آئے تو انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا اور انہیں واپس جانے کے بارے میں بتایا اور قربانی کے بارے میں اور دیگر مناسک کے بارے میں بتایا، جب وہ فارغ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے لوگوں کے سامنے سورۃ «بَرَاءَةٌ» کی تلاوت کی، یہاں تک کہ اسے مکمل ختم کیا۔ جب پہلی روانگی کا دن آیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا، انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ وہ کیسے روانہ ہوں گے اور کیسے رمی کریں گے، انہوں نے لوگوں کو مناسکِ حج کی تعلیم دی، جب وہ فارغ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے لوگوں کے سامنے سورۃ التوبہ کی تلاوت کی، یہاں تک کہ اسے مکمل تلاوت کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6645]

6646

Sahih Ibn Hibban #6646

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، قَالا : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الأَسْقَعِ ، يَقُولُ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : تَزْعُمُونَ أَنِّي مِنْ آخِرِكُمْ وَفَاةً ، إِِنِّي مِنْ أَوَّلِكُمْ وَفَاةً ، وَتَتْبَعُونِي أَفْنَادًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”تم لوگ یہ گمان کرتے ہو کہ تم میں سے سب سے آخر میں میری وفات ہو گی حالانکہ تم میں سب سے پہلے میری وفات ہو گی اور تم میرے بعد مختلف گروہوں میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6646]

6647

Sahih Ibn Hibban #6647

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ بْنِ إِِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّاللَّهَ إِِذَا أَرَادَ رَحْمَةَ أُمَّةٍ مِنْ عِبَادِهِ ، قَبَضَ نَبِيَّهَا قَبْلَهَا ، فَجَعَلَهُ لَهَا فَرَطًا وَسَلَفًا ، وَإِِذَا أَرَادَ هَلَكَةَ أُمَّةٍ عَذَّبَهَا وَنَبِيُّهَا حَيٌّ ، فَأَقَرَّ عَيْنَهُ بِهَلَكَتِهَا حِينَ كَذَّبُوهُ وَعَصَوْا أَمْرَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی امت پر رحمت کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ ان لوگوں سے پہلے ان کے نبی کی روح کو قبض کر لیتا ہے اور اس نبی کو ان لوگوں کے لیے پیش رو اور پہلے جانے والا بنا دیتا ہے اور جب وہ کسی امت کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو انہیں عذاب کا شکار کرتا ہے جبکہ ان کا نبی زندہ ہوتا ہے تو وہ اس نبی کی آنکھوں کو ان لوگوں کی ہلاکت کے ذریعے ٹھنڈا کرتا ہے جب وہ لوگ اس نبی کو جھوٹا قرار دیتے ہیں اور اس کے حکم کی نافرمانی کرتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6647]

6648

Sahih Ibn Hibban #6648

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ نَحْوَ الْمَشْرِقِ ، وَيَقُولُ : هَا ، إِِنَّالْفِتْنَةَ هَاهُنَا ، إِِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا ، مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مَشْرِقُ الْمَدِينَةِ هُوَ الْبَحْرَيْنِ وَمُسَيْلِمَةُ مِنْهَا ، وَخُرُوجُهُ كَانَ أَوَّلَ حَادِثٍ حَدَثَ فِي الإِِسْلامِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا: ”اس طرف فتنہ ہو گا، فتنہ اس طرف ہو گا، وہاں سے شیطان کے سینگ طلوع ہوتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) مدینہ منورہ کا مشرق بحرین ہے اور مسیلمہ کذاب کا خروج بھی وہیں سے ہوا تھا اور اس کا خروج اسلام میں پیدا ہونے والی سب سے پہلی بدعت تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6648]

6649

Sahih Ibn Hibban #6649

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ إِِلَى الْمَشْرِقِ ، وَيَقُولُ : إِِنَّالْفِتْنَةَ هُنَا ، إِِنَّ الْفِتْنَةَ هُنَا ، مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا: ”بے شک فتنہ اس طرف ہوگا، بے شک فتنہ اس طرف ہوگا جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6649]

6650

Sahih Ibn Hibban #6650

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي إِِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِِنَّبَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ ، مِنْهُمْ صَاحِبُ الْيَمَامَةِ ، وَمِنْهُمْ صَاحِبُ صَنْعَاءَ الْعَنْسِيُّ ، وَمِنْهُمْ صَاحِبُ حِمْيَرَ ، وَمِنْهُمُ الدَّجَّالُ وَهُوَ أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً "، قَالَ : وَقَالَ أَصْحَابِي : قَالَ : هُمْ قَرِيبٌ مِنْ ثَلاثِينَ كَذَّابًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک قیامت سے پہلے کچھ کذاب ہوں گے، جن میں ایک یمامہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ہے اور ایک صنعاء سے تعلق رکھنے والا شخص عنسی ہے۔ ان میں سے ایک حمیر سے تعلق رکھتا ہو گا اور ان میں سے ایک دجال ہو گا جو فتنے کے اعتبار سے ان سب سے بڑا ہو گا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میرے ساتھیوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی: ”ان کذابوں کی تعداد 30 کے قریب ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6650]

6651

Sahih Ibn Hibban #6651

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلاثُونَ دَجَّالُونَ ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ ، حَتَّى يَفِيضَ الْمَالُ ، وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ ، وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ " ، قَالُوا : وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ الْقَتْلُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک 30 دجالوں کا خروج نہیں ہو گا جن میں سے ہر ایک یہ کہتا ہو گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے یہاں تک کہ مال عام ہو جائے گا، فتنے ظاہر ہوں گے اور «الْهَرْجُ» ”حرج“ بکثرت ہو گا۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! حرج سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قتل، قتل۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6651]

6656

Sahih Ibn Hibban #6656

أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْمُقْرِئُ الْخَطِيبُ بِوَاسِطَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أبيه ، قَالَ : أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَتْهُ ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِِنْ جِئْتُ فَلَمْ أَجِدْكَ يَعْنِي الْمَوْتَ ؟ قَالَ : إِِنْ لَمْ تَجِدِينِي ، فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن جبیر بن مطعم رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ حکم دیا کہ وہ واپس چلی جائے، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی کیا رائے ہے کہ میں دوبارہ آؤں اور آپ کو نہ پاؤں (یعنی اگر آپ کا وصال ہو چکا ہو تو مجھے کیا کرنا چاہیے)؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آ جانا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6656]

6657

Sahih Ibn Hibban #6657

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ ، عَنْ سَفِينَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْخِلافَةُ ثَلاثُونَ سَنَةً ، وَسَائِرُهُمْ مُلُوكٌ ، وَالْخُلَفَاءُ وَالْمُلُوكُ اثْنَا عَشَرَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَا خَبَرٌ أَوْهَمَ مَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةَ الْحَدِيثِ أَنَّ آخِرَهُ يَنْقُضُ أَوَّلَهُ ، إِِذِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ أَنَّ الْخِلافَةَ ثَلاثُونَ سَنَةً ثُمَّ ، قَالَ : وَسَائِرُهُمْ مُلُوكٌ ، فَجَعَلَ مَنْ تَقَلَّدَ أُمُورَ الْمُسْلِمِينَ بَعْدَ ثَلاثِينَ سَنَةٍ مُلُوكًا كُلَّهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : وَالْخُلَفَاءُ وَالْمُلُوكُ اثْنَا عَشَرَ ، فَجَعَلَ الْخُلَفَاءَ وَالْمُلُوكَ اثْنَيْ عَشَرَ فَقَطْ ، فَظَاهِرُ هَذِهِ اللَّفْظَةِ يَنْقُضُ أَوَّلَ الْخَبَرِ ، وَلَيْسَ بِحَمْدِ اللَّهِ وَمَنِّهِ كَذَلِكَ ، وَلا يَجِبُ أَنْ يُجْعَلَ حِرْمَانُ تَوْفِيقِ الإِِصَابَةِ دَلِيلا عَلَى بُطْلانِ الْوَارِدِ مِنَ الأَخْبَارِ ، بَلْ يَجِبُ أَنْ يُطْلَبَ الْعِلْمُ مِنْ مَظَانِّهِ ، فَيُتَفَقَّهُ فِي السُّنَنِ حَتَّى يُعْلَمَ أَنَّ أَخْبَارَ مَنْ عُصِمَ ، وَلَمْ يَكُنْ يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى ، إِِنْ هُوَ إِِلا وَحْيٌ يُوحَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لا تَتَضَادُّ وَلا تَتَهَاتَرُ ، وَلَكِنْ مَعْنَى الْخَبَرِ عِنْدَنَا أَنَّ مَنْ بَعْدَ الثَّلاثِينَ سَنَةً يَجُوزُ أَنْ يُقَالَ لَهُمْ : خُلَفَاءُ أَيْضًا عَلَى سَبِيلِ الاضْطِرَارِ ، وَإِِنْ كَانُوا مُلُوكًا عَلَى الْحَقِيقَةِ ، وَآخِرُ الاثْنَيْ عَشَرَ مِنَ الْخُلَفَاءِ كَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، فَلَمَّا ذَكَرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخِلافَةَ ثَلاثِينَ سَنَةً ، وَكَانَ آخِرُ الاثْنَيْ عَشَرَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَكَانَ مِنَ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ ، أُطْلِقَ عَلَى مَنْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الأَرْبَعِ الأُوَلِ اسْمُ الْخُلَفَاءِ ، وَذَاكَ أَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَضَهُ اللَّهُ إِِلَى جَنَّتِهِ يَوْمَ الاثْنَيْنِ لِثِنْتَيْ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الأَوَّلِ سَنَةَ عَشَرَةٍ مِنَ الْهِجْرَةِ ، وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ يَوْمَ الثُّلاثَاءِ ثَانِيَ وَفَاتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ لَيْلَةَ الاثْنَيْنِ لِسَبْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً مَضَيْنَ مِنْ جُمَادَى الآخِرَةِ ، وَكَانَتْ خِلافَتُهُ سَنَتَيْنِ وَثَلاثَةَ أَشْهُرٍ وَاثْنَيْنِ وَعِشْرِينَ يَوْمًَا ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَوْمَ الثَّانِي مِنْ مَوْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، ثُمَّ قُتِلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَكَانَتْ خِلافَتُهُ عَشْرَ سِنِينَ وَسِتَّةَ أَشْهُرٍ وَأَرْبَعَ لَيَالٍ ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، ثُمَّ قُتِلَ عُثْمَانُ ، وَكَانَتْ خِلافَتُهُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً إِِلا اثْنَيْ عَشَرَ يَوْمًا ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَقُتِلَ ، وَكَانَتْ خِلافَتُهُ خَمْسَ سِنِينَ وَثَلاثَةَ أَشْهُرٍ إِِلا أَرْبَعَةَ عَشَرَ يَوْمًا ، فَلَمَّا قُتِلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَذَلِكَ يَوْمُ السَّابِعَ عَشَرَ مِنْ رَمَضَانَ سَنَةَ أَرْبَعِينَ ، بَايَعَ أَهْلُ الْكُوفَةِ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ بِالْكُوفَةِ ، وَبَايَعَ أَهْلُ الشَّامِ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ بِإِِيلِيَاءَ ، ثُمَّ سَارَ مُعَاوِيَةُ يُرِيدُ الْكُوفَةَ ، وَسَارَ إِِلَيْهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، فَالْتَقَوْا بِنَاحِيَةِ الأَنْبَارِ ، فَاصْطَلَحُوا عَلَى كِتَابٍ بَيْنَهُمْ بِشُرُوطٍ فِيهِ ، وَسَلَّمَ الْحَسَنُ الأَمْرَ إِِلَى مُعَاوِيَةَ ، وَذَلِكَ يَوْمُ الاثْنَيْنِ لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الأَوَّلِ سَنَةَ إِِحْدَى وَأَرْبَعِينَ ، وَتُسَمَّى هَذِهِ السَّنَةُ سَنَةُ الْجَمَاعَةِ ، ثُمَّ تُوُفِّيَ مُعَاوِيَةُ بِدِمَشْقَ يَوْمَ الْخَمِيسِ لِثَمَانٍ بَقِينَ مِنْ رَجَبٍ سَنَةَ سِتِّينَ ، وَكَانَتْ وِلايَتُهُ تِسْعَ عَشْرَةَ سَنَةً وَأَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ إِِلا لَيَالٍ ، وَكَانَتْ لَهُ يَوْمَ مَاتَ ثَمَانٌ وَسَبْعُونَ سَنَةً ، ثُمَّ وَلِيَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ابْنُهُ يَوْمَ الْخَمِيسِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَبُوهُ ، وَتُوُفِّيَ بِحُوَارَيْنَ قَرْيَةٌ مِنْ قُرَى دِمَشْقَ لأَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ رَبِيعٍ الأَوَّلِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ ، وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَثَلاثِينَ سَنَةً ، وَكَانَتْ وِلايَتُهُ ثَلاثَ سِنِينَ وَثَمَانِيَةَ أَشْهُرٍ إِِلا أَيَّامًا ، ثُمَّ بُويِعَ ابْنُهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَزِيدَ يَوْمَ النِّصْفِ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الأَوَّلِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ ، وَمَاتَ يَوْمَ الْخَامِسِ وَالْعِشْرِينَ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الآخِرِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ ، وَكَانَتْ إِِمَارَتُهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ إِِحْدَى وَعِشْرِينَ سَنَةً ، ثُمَّ بَايَعَ أَهْلُ الشَّامِ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ ، وَبَايَعَ أَهْلُ الْحِجَازِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، فَاسْتَوَى الأَمْرُ لِمَرْوَانَ يَوْمَ الأَرْبِعَاءِ لِثَلاثِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ ، وَمَاتَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ بِدِمَشْقَ سَنَةَ خَمْسٍ وَسِتِّينَ ، وَلَهُ ثَلاثٌ وَسِتُّونَ سَنَةً ، وَكَانَتْ إِِمَارَتُهُ عَشَرَةَ أَشْهُرٍ إِِلا لَيَالٍ ، ثُمَّ بَايَعَ أَهْلُ الشَّامِ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَبُوهُ ، وَمَاتَ عَبْدُ الْمَلِكِ بِدِمَشْقَ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ سِتٍّ وَثَمَانِينَ وَلَهُ اثْنَانِ وَسِتُّونَ سَنَةً ، ثُمَّ بَايَعَ أَهْلُ الشَّامِ الْوَلِيدَ ابْنَهُ يَوْمَ تُوُفِّيَ عَبْدُ الْمَلِكِ ، ثُمَّ تُوُفِّيَ الْوَلِيدُ بِدِمَشْقَ فِي النِّصْفِ مِنْ جُمَادَى الآخِرَةِ سَنَةَ سِتٍّ وَتِسْعِينَ ، وَكَانَ لَهُ يَوْمَ مَاتَ ثَمَانٌ وَأَرْبَعُونَ سَنَةً ، وَكَانَتْ إِِمَارَتُهُ تِسْعَ سِنِينَ وَثَمَانِيَةَ أَشْهُرٍ ، ثُمَّ بُويِعَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَخُوهُ لأُمِّهِ وَأَبِيهِ ، وَتُوُفِّيَ سُلَيْمَانُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِعَشْرِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ صَفَرٍ بِدَابِقَ سَنَةَ تِسْعٍ وَتِسْعِينَ وَلَهُ خَمْسٌ وَأَرْبَعُونَ سَنَةً ، وَكَانَتْ إِِمَارَتُهُ سَنَتَيْنِ وَثَمَانِيَةَ أَشْهُرٍ وَخَمْسَ لَيَالٍ ، ثُمَّ بَايَعَ النَّاسُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ سُلَيْمَانُ ، وَتُوُفِّيَ رَحِمَهُ اللَّهُ بِدَيْرِ سَمْعَانَ مِنْ أَرْضِ حِمْصَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ رَجَبٍ سَنَةَ إِِحْدَى وَمِائَةٍ ، وَلَهُ يَوْمَ مَاتَ إِِحْدَى وَأَرْبَعُونَ سَنَةً ، وَكَانَتْ خِلافَتُهُ سَنَتَيْنِ وَخَمْسَةَ أَشْهُرٍ وَخَمْسَ لَيَالٍ ، وَهُوَ آخِرُ الْخُلَفَاءِ الاثْنَيْ عَشَرَ الَّذِينَ خَاطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ بِهِمْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”خلافت تیس سال تک ہو گی، اس کے بعد بادشاہ ہوں گے، خلفاء اور بادشاہ بارہ ہوں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ وہ روایت ہے جس نے اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کیا جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اور وہ یہ کہتا ہے کہ اس کا آخری حصہ اس کے پہلے حصے کا الٹ ہے؛ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ ”خلافت تیس سال تک ہو گی“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ اس کے بعد سارے بادشاہ ہوں گے، تو تیس سال گزرنے کے بعد جو بھی شخص مسلمانوں کے امور کا نگران بنے گا وہ سب لوگ بادشاہ شمار ہوں گے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خلفاء اور بادشاہوں کی تعداد بارہ ہو گی“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلفاء اور بادشاہوں کی تعداد تو صرف بارہ تک محدود کی ہے، اس لیے بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ الفاظ ابتدائی حصے کے برعکس ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے تحت ایسا نہیں ہے اور یہ بات لازم نہیں ہے کہ اگر آدمی کسی صحیح دلیل تک پہنچنے کی توفیق سے محروم رہا ہو تو وہ منقول روایات کو غلط قرار دینا شروع کر دے، بلکہ یہ بات لازم ہے کہ وہ علم کو اس کے اصل ماخذ سے حاصل کرے اور سنن کے بارے میں سمجھ بوجھ حاصل کرے تاکہ اسے یہ بات پتہ چل جائے کہ وہ ذات جو معصوم ہے اور جو خواہشِ نفس سے کلام نہیں کرتی بلکہ وہی کلام کرتی ہے جو ان کی طرف وحی کیا جاتا ہے، ان کے بیان کردہ فرامین میں کوئی تضاد اور کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔ ہمارے نزدیک اس روایت کا مفہوم یہ ہے کہ تیس سال گزرنے کے بعد جو حکمران آئیں گے انہیں اضطراری طور پر (یعنی مجبوری کے عالم میں) خلفاء کہا جا سکتا ہے، اگرچہ وہ درحقیقت بادشاہ ہوں گے، اور ان بارہ خلفاء میں سے آخری عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ہیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ذکر کر دی کہ حقیقی خلافت تیس سال تک ہو گی اور پھر اس کے بعد بارہ خلفاء میں سے آخری عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ہیں تو ان کا شمار خلفاء راشدین مہدیین میں ہو گا، تو ان کے درمیان اور پہلے چار خلفاء کے درمیان جو لوگ آئے ہیں ان کے لیے لفظ خلفاء استعمال کیا گیا ہے۔ اس کی صورت یوں ہے: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارکہ کو اللہ تعالیٰ نے قبض کیا اور جنت کی طرف منتقل کیا تو یہ پیر کے دن بارہ ربیع الاول کی رات 11 ہجری کی بات ہے، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے دوسرے دن یعنی منگل کے دن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کر لیا گیا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وصال 17 جمادی الثانی کی رات کو ہوا، ان کی خلافت دو سال تین ماہ اور بائیس دن بنتی ہے۔ اس کے بعد اگلے دن یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے انتقال کے اگلے دن سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کر لیا گیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا، ان کی مدت خلافت دس سال چھ ماہ چار دن بنتی ہے، پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو ان کی مدت خلافت بارہ سال سے بارہ دن کم بنتی ہے، پھر سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا، وہ شہید ہوئے، ان کی خلافت پانچ سال تین ماہ بنتی ہے جس میں سے چودہ دن کم ہوں گے، جب سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو یہ رمضان کی سترہ تاریخ تھی اور سنہ چالیس ہجری تھا۔ اس کے بعد اہل کوفہ نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور اہل شام نے سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر عالیہ میں بیعت کر لی، پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کوفہ کی طرف (جنگ کرنے کے لیے) روانہ ہوئے اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما ان کی طرف روانہ ہوئے، انبار کے قریب دونوں کا سامنا ہوا تو انہوں نے ایک معاہدے کے تحت صلح کر لی جس میں کچھ شرائط پائی جاتی تھیں، تو سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے حکومت کا معاملہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا، یہ 25 ربیع الاول پیر کے دن کی بات ہے اور اکتالیس ہجری کا سال ہے، اس سال کو اجتماعیت کا سال قرار دیا گیا۔ پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا دمشق میں انتقال ہوا، یہ پیر کے دن بائیس رجب المرجب ساٹھ ہجری کی بات ہے، ان کی حکومت 19 سال اور چار ماہ سے کچھ دن کم تھی، جس وقت ان کا انتقال ہوا اس وقت ان کی عمر 78 برس تھی، اس کے بعد ان کا بیٹا یزید بن معاویہ پیر کے دن ان کا جانشین بنا، یہ اسی دن کی بات ہے جس دن اس کے والد کا انتقال ہوا تھا، اس کا انتقال حوارین میں ہوا جو دمشق کی ایک بستی ہے، یہ چودہ ربیع الاول سن 64 ہجری کی بات ہے، اس وقت اس کی عمر 38 سال تھی اور اس کی حکومت تین سال آٹھ ماہ سے کچھ دن کم تھی۔ پھر اس کے بیٹے معاویہ بن یزید کے ہاتھ پر بیعت کی گئی، یہ پندرہ ربیع الاول سن 64 ہجری کی بات ہے، اس کا انتقال 25 ربیع الثانی 64 ہجری میں ہوا، اس کی حکومت چالیس دن تھی، جب اس کا انتقال ہوا تو اس کی عمر اکیس برس تھی، پھر اہل شام نے مروان بن حکم کی بیعت کر لی اور اہل حجاز نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی بیعت کر لی، پھر بدھ کے دن تین ذی قعدہ سن 64 ہجری میں مروان مکمل طور پر حکمران بن گیا، مروان بن حکم کا انتقال رمضان کے مہینے میں دمشق میں 65 ہجری میں ہوا، اس وقت اس کی عمر 63 برس تھی اور اس کی حکومت دس ماہ سے کچھ دن کم رہی۔ پھر اہل شام نے عبدالملک بن مروان کے ہاتھ پر بیعت کر لی، یہ اسی دن کی بات ہے جس دن اس کے باپ کا انتقال ہوا تھا، عبدالملک کا انتقال دمشق میں شوال میں ہوا، یہ سن 86 ہجری کی بات ہے، اس وقت اس کی عمر 62 سال تھی، پھر اہل شام نے اس کے بیٹے ولید کے ہاتھ پر بیعت کر لی، یہ اسی دن کی بات ہے جس دن عبدالملک کا انتقال ہوا تھا، پھر ولید کا انتقال دمشق میں پندرہ جمادی الثانی 96 ہجری میں ہوا، جس دن اس کا انتقال ہوا اس کی عمر 48 برس تھی اور اس کی حکومت نو سال آٹھ ماہ تک رہی، پھر سلیمان بن عبدالملک کے ہاتھ پر بیعت کی گئی جو اس کا سگا بھائی تھا۔ سلیمان کا انتقال دابق کے مقام پر جمعہ کے دن دس صفر 99 ہجری میں ہوا، اس وقت اس کی عمر 45 سال تھی اور اس کی حکومت دو سال آٹھ ماہ پانچ دن تک رہی تھی، پھر لوگوں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ہاتھ پر اسی دن بیعت کی جس دن سلیمان کا انتقال ہوا تھا، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا انتقال حمص کی سرزمین پر ”دیر سمعان“ کے مقام پر ہوا، یہ جمعہ کے دن کی بات ہے، یہ پانچ رجب المرجب 101 ہجری کی بات ہے، جس دن ان کا انتقال ہوا اس دن ان کی عمر اکتالیس برس تھی اور ان کی خلافت دو سال پانچ ماہ اور پانچ دن تک رہی، یہ ان بارہ خلفاء میں سے آخری خلیفہ تھے جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو آگاہ کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6657]

6658

Sahih Ibn Hibban #6658

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَيَكُونُ مِنْ بَعْدِي خُلَفَاءُ يَعْمَلُونَ بِمَا يَعْلَمُونَ ، وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ، وَسَيَكُونُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلَفَاءُ يَعْمَلُونَ مَا لا يَعْلَمُونَ ، وَيَفْعَلُونَ مَا لا يُؤْمَرُونَ ، فَمَنْ أَنْكَرَ بَرِئَ ، وَمَنْ أَمْسَكَ سَلِمَ ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ "، أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، فِي عَقِبِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَسَمِعَهُ عَنْ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب میرے بعد ایسے خلفاء ہوں گے جو وہی عمل کریں گے جس کے بارے میں وہ علم رکھتے ہیں اور وہی کچھ کریں گے جس کا انہیں حکم دیا گیا، اور ان کے بعد کچھ اور ایسے خلفاء ہوں گے جو وہ عمل کریں گے جس کے بارے میں وہ علم نہیں رکھتے اور وہ کام کریں گے جن کا انہیں حکم نہیں دیا گیا، چنانچہ جو شخص (ان کی برائی کا) انکار کرے گا وہ بری الذمہ ہو گا اور جو شخص (ان کے قریب جانے سے) خود کو روک کر رکھے گا وہ سلامت رہے گا، لیکن جو شخص راضی ہوا اور اس نے ان کی پیروی کی (اس کا معاملہ مختلف ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6658]

6662

Sahih Ibn Hibban #6662

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لا يَزَالُ الإِِسْلامُ عَزِيزًا إِِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً " ، قَالَ : فَقَالَ كَلِمَةً لَمْ أَفْهَمْهَا ، قُلْتُ لأَبِي : مَا قَالَ ؟ قَالَ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بارہ خلفاء تک اسلام غالب رہے گا۔“ راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات ارشاد فرمائی جو میں سمجھ نہیں سکا، میں نے اپنے والد سے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ تو انہوں نے بتایا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے): ”ان سب خلفاء کا تعلق قریش سے ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6662]

6663

Sahih Ibn Hibban #6663

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الطَّاحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ عَزِيزًا مَنِيعًا ، يُنْصَرُونَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ عَلَيْهِ إِِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً " ، قَالَ : ثُمَّ تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَصْمَتَنِيهَا النَّاسُ ، فَقُلْتُ لأَبِي : مَا ، قَالَ ؟ قَالَ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ دین اس وقت تک غالب اور مضبوط رہے گا اور اس کے دشمنوں کے خلاف اس کی مدد کی جاتی رہے گی، جب تک بارہ خلفاء رہیں گے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات ارشاد فرمائی جو لوگوں کی وجہ سے میں سن نہیں سکا تو میں نے اپنے والد سے دریافت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ انہوں نے بتایا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:) ”ان سب کا تعلق قریش سے ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6663]

6664

Sahih Ibn Hibban #6664

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : تَدُورُ رَحَى الإِِسْلامِ عَلَى خَمْسٍ وَثَلاثِينَ أَوْ سِتٍّ وَثَلاثِينَ ، فَإِِنْ هَلَكُوا ، فَسَبِيلُ مَنْ هَلَكَ ، وَإِِنْ بَقُوا بَقِيَ لَهُمْ دِينُهُمْ سَبْعِينَ سَنَةً "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَا خَبَرٌ شَنَّعَ بِهِ أَهْلُ الْبِدَعِ عَلَى أَئِمَّتِنَا ، وَزَعَمُوا أَنَّ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ حَشَوِيَّةٌ ، يَرَوْنَ مَا يَدْفَعُهُ الْعِيَانُ وَالْحِسُّ وَيُصَحِّحُونَهُ ، فَإِِنْ سُئِلُوا عَنْ وَصْفِ ذَلِكَ ، قَالُوا : نُؤْمِنُ بِهِ وَلا نُفَسِّرُهُ ، وَلَسْنَا بِحَمْدِ اللَّهِ وَمَنِّهِ مِمَّا رُمِينَا بِهِ فِي شَيْءٍ ، بَلْ نَقُولُ : إِِنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا خَاطَبَ أُمَّتَهُ قَطُّ بِشَيْءٍ لَمْ يُعْقَلْ عَنْهُ ، وَلا فِي سُنَنِهِ شَيْءٌ لا يُعْلَمُ مَعْنَاهُ ، وَمَنْ زَعَمَ أَنَّ السُّنَنَ إِِذَا صَحْتَ يَجِبُ أَنْ تُرْوَى وَيُؤْمَنَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ تُفَسَّرَ وَيُعْقَلَ مَعْنَاهَا ، فَقَدْ قَدَحَ فِي الرِّسَالَةِ ، اللَّهُمَّ إِِلا أَنْ تَكُونَ السُّنَنُ مِنَ الأَخْبَارِ الَّتِي فِيهَا صِفَاتُ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا الَّتِي لا يَقَعُ فِيهَا التَّكْيِيفُ ، بَلْ عَلَى النَّاسِ الإِِيمَانُ بِهَا ، وَمَعْنَى هَذَا الْخَبَرِ عِنْدَنَا مِمَّا نَقُولُ فِي كُتُبِنَا : إِِنَّ الْعَرَبَ تُطْلِقُ اسْمَ الشَّيْءِ بِالْكُلِّيَةِ عَلَى بَعْضِ أَجْزَائِهِ وَتُطْلِقُ الْعَرَبُ فِي لُغَتِهَا اسْمَ النِّهَايَةِ عَلَى بِدَايِتِهَا ، وَاسْمَ الْبِدَايَةِ عَلَى نِهَايَتِهَا ، أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِ : " تَدُورُ رَحَى الإِِسْلامِ عَلَى خَمْسٍ وَثَلاثِينَ أَوْ سِتٍّ وَثَلاثِينَ " : زَوَالَ الأَمْرِ عَنْ بَنِي هَاشِمٍ إِِلَى بَنِي أُمَيَّةَ ، لأَنَّ الْحُكْمَيْنِ كَانَ فِي آخِرِ سَنَةِ سِتٍّ وَثَلاثِينَ ، فَلَمَّا تَلَعْثَمَ الأَمْرُ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَشَارَكَهُمْ فِيهِ بَنُو أُمَيَّةَ ، أَطْلَقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ نِهَايَةِ أَمْرِهِمْ عَلَى بِدَايَتِهِ ، وَقَدْ ذَكَرْنَا اسْتِخْلافَهُمْ وَاحِدًا وَاحِدًا إِِلَى أَنْ مَاتَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ سَنَةَ إِِحْدَى وَمِائَةٍ ، وَبَايَعَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَتُوُفِّيَ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بِبَلْقَاءَ مِنْ أَرْضِ الشَّامِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ شَعْبَانَ سَنَةَ خَمْسٍ وَمِائَةٍ ، وَبَايَعَ النَّاسُ هِشَامَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ أَخَاهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ ، فَوَلَّى هِشَامٌ خَالِدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْقَسْرِيَّ الْعِرَاقَ ، وَعَزَلَ عُمَرَ بْنَ هُبَيْرَةَ فِي أَوَّلِ سَنَةِ سِتٍّ وَمِائَةٍ ، وَظَهَرَتِ الدُّعَاةُ بِخُرَاسَانَ لِبَنِي الْعَبَّاسِ ، وَبَايَعُوا سُلَيْمَانَ بْنَ كَثِيرٍ الْخُزَاعِيَّ الدَّاعِيَ إِِلَى بَنِي هَاشِمٍ ، فَخَرَجَ فِي سَنَةِ سِتٍّ وَمِائَةٍ إِِلَى مَكَّةَ وَبَايَعَهُ النَّاسُ لِبَنِي هَاشِمٍ ، فَكَانَ ذَلِكَ تَلَعْثُمَ أُمُورِ بَنِي أُمَيَّةَ حَيْثُ شَارَكَهُمْ فِيهِ بَنُو هَاشِمٍ ، فَأَطْلَقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ نِهَايَةِ أَمْرِهِمْ عَلَى بِدَايَتِهِ ، وَقَالَ : وَإِِنْ بَقُوا بَقِيَ لَهُمْ دِينُهُمْ سَبْعِينَ سَنَةً ، يُرِيدُ عَلَى مَا كَانُوا عَلَيْهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اسلام کی چکی پینتیس سال تک (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) چھتیس سال تک گھومتی رہے گی۔ اگر وہ لوگ ہلاکت کا شکار ہو گئے تو اس طریقے کے مطابق ہوں گے جس طریقے سے ہلاکت کا شکار ہوئے اور اگر وہ باقی رہ گئے تو ان کا دین ستر سال تک ان کے لیے باقی رہے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ وہ روایت ہے جس کی وجہ سے اہل بدعت ہمارے ائمہ پر تنقید کرتے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ محدثین حشویہ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ایسی چیز کو روایت کرتے ہیں جو غور و فکر اور محسوسات کے حوالے سے غلط ہوتی ہے اور محدثین اسے صحیح بھی قرار دے دیتے ہیں، پھر ان سے اگر اس چیز کی صفت کے بارے میں دریافت کیا جائے تو آگے سے کہہ دیتے ہیں: ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں لیکن ہم اس کی وضاحت نہیں کرتے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ کہتے ہیں:) اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم ایسے نہیں ہیں اور نہ ہی ویسے ہیں، جس طرح کا ہم پر الزام عائد کیا گیا ہے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو جن بھی امور کے بارے میں مخاطب کیا ہے ان میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی سمجھ نہ آ سکے اور آپ کی سنتوں میں کوئی ایسی سنت نہیں ہے جس کے مفہوم کا علم نہ ہو سکے؛ جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ جب سنت مستند طور پر منقول ہو تو یہ بات لازم ہے کہ اسے روایت کر دیا جائے اور اس پر ایمان رکھا جائے، باوجودیکہ اس کی وضاحت نہ کی جائے یا اس کے مفہوم کی سمجھ نہ آئے تو ایسا شخص رسالت پر نکتہ چینی کرتا ہے۔ اے اللہ! (تجھ ہی سے مدد حاصل کی جا سکتی ہے) ویسے احادیث میں کچھ روایات وہ ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا ذکر ہے جن کی کیفیت کو بیان نہیں کیا جا سکتا لیکن لوگوں پر ان صفات پر ایمان رکھنا لازم ہے۔ ہمارے نزدیک اس روایت کا مفہوم یہ ہے، جیسا کہ ہم اپنی کتابوں میں یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ بعض اوقات عرب کسی چیز کے کسی ایک جزء کے لیے اس مکمل چیز کا نام استعمال کر لیتے ہیں۔ اسی طرح عرب اپنے محاورے میں اختتام کا لفظ آغاز کے لیے استعمال کر لیتے ہیں اور آغاز کا لفظ اختتام کے لیے استعمال کر لیتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”اسلام کی چکی پینتیس برس تک (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) چھتیس برس تک گھومتی رہے گی“، اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے کہ حکومت بنو ہاشم سے بنو امیہ کی طرف منتقل ہو جائے گی کیونکہ چھتیس ہجری کے آخر میں حکومت ان دونوں کی طرف چلی گئی تھی، تو جب بنو ہاشم کے لیے یہ معاملہ خراب ہوا اور حکومت کے بارے میں بنو امیہ ان کے حصہ دار بن گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکومت کے اختتام کے لیے آغاز کا لفظ استعمال کیا۔ اسی طرح ہم اس سے پہلے یہ بات ذکر کر چکے ہیں کہ اس طرح ان میں سے ہر ایک خلیفہ بنا، یہاں تک کہ ایک سو ایک ہجری میں سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا انتقال ہو گیا تو لوگوں نے یزید بن عبدالملک کی بیعت کر لی۔ یزید بن عبدالملک کا انتقال شام کی سرزمین بلقاء کے مقام پر جمعہ کے دن ہوا جو پچیس شعبان ایک سو پانچ ہجری کی بات ہے، تو لوگوں نے ہشام بن عبدالملک کے ہاتھ پر بیعت کر لی جو اس کا بھائی تھا، یہ اسی دن ہوا، پھر ہشام نے خالد بن عبداللہ قسری کو عراق کا امیر مقرر کیا۔ اس نے عمر بن ہبیرہ کو ایک سو چھ ہجری کے آغاز میں معزول کر دیا تو خراسان میں بنو عباس کے داعی نمودار ہوئے۔ انہوں نے سلیمان بن کثیر خزاعی کے ہاتھ پر بیعت کر لی جو بنو ہاشم کی طرف دعوت دینے والا تھا۔ اس نے ایک سو چھ ہجری میں مکہ کی طرف خروج کیا تو لوگوں نے بنو ہاشم کے لیے ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ اس طرح بنو امیہ کی حکومت خرابی کا شکار ہو گئی اور بنو ہاشم پھر اس میں ان کے حصے دار بن گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی حکومت کے اختتام کے لیے لفظ آغاز استعمال کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”اگر وہ باقی رہے تو ان کا دین ستر سال تک ان کے لیے باقی رہے گا۔“ اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ تھی کہ جس صورت حال پر وہ اس سے پہلے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6664]

6665

Sahih Ibn Hibban #6665

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَسْرَعُكُنَّ لَحَاقًا بِي أَطْوَلُكُنَّ يَدًا "، قَالَتْ : فَكُنَّ يَتَطَاوَلْنَ أَيُّهُنَّ أَطْوَلُ ، قَالَتْ : فَكَانَ أَطْوَلَنَا يَدًا زَيْنَبُ ، لأَنَّهَا كَانَتْ تَعْمَلُ بِيَدِهَا وَتَتَصَدَّقُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: ”میرے بعد مجھ سے، سب سے پہلے تم میں سے وہ خاتون آ کر ملے گی، جس کے ہاتھ سب سے زیادہ لمبے ہیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ تمام ازواجِ مطہرات نے اپنے ہاتھوں کو ناپا کہ کس کا ہاتھ زیادہ لمبا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا ہاتھ سب سے زیادہ لمبا تھا، کیونکہ وہ اپنے ہاتھ کے ذریعے کام کرتی تھیں اور (اس کی آمدن کو) صدقہ کیا کرتی تھیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6665]

6666

Sahih Ibn Hibban #6666

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ ، فَيُقَالُ : هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيُقَالُ : نَعَمْ ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ ، ثُمَّ يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ ، فَيُقَالٌ : هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيُقَالُ : نَعَمْ ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ ، ثُمَّ يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ ، فَيُقَالُ : هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ مَنْ صَاحَبَهُمْ ؟ فَيُقَالُ : نَعَمْ ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں بہت سے لوگ جنگ میں شریک ہونے کے لیے آئیں گے، تو یہ دریافت کیا جائے گا: کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص موجود ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہو؟ تو جواب دیا جائے گا: جی ہاں۔ تو ان لوگوں کو فتح نصیب ہو گی، پھر لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں بہت سے لوگ جنگ کرنے کے لیے جائیں گے، تو دریافت کیا جائے گا: کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ساتھ رہا ہو؟ تو جواب دیا جائے گا: جی ہاں۔ تو ان لوگوں کو بھی فتح نصیب ہو گی، پھر ان لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ بہت سے لوگ جنگ میں حصہ لینے کے لیے جائیں گے، تو دریافت کیا جائے گا: کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص موجود ہے جو صحابہ کے شاگردوں کے ساتھ رہا ہو؟ تو ان لوگوں کو بھی فتح نصیب ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6666]

6667

Sahih Ibn Hibban #6667

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ ، وَكَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، فَأَطْعَمَتْهُ ، ثُمَّ جَلَسَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ ، غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ ، مُلُوكًا عَلَى الأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ يَشُكُّ أَيُّهُمَا ، قَالَتْ : فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَدَعَا لَهَا ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ ، غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، كَمَا قَالَ فِي الأَوَّلِ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِينَ، فَرَكِبَتْ أُمُّ حَرَامٍ الْبَحْرَ فِي زَمَانِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ ، فَهَلَكَتْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کرتی تھیں۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ان کے ہاں تشریف لے گئے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک سے جوئیں نکالنے لگیں، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کو میرے سامنے پیش کیا گیا جو اللہ کی راہ میں غزوے کے لیے جائیں گے، وہ اس سمندر کی پشت پر یوں سوار ہوں گے جس طرح بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں۔“ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر لے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا کر دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک رکھا اور سو گئے، پھر جب بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے تھے۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے جو اللہ کی راہ میں غزوے کے لیے نکلیں گے۔“ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی کلمات ارشاد فرمائے جو پہلے فرمائے تھے۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر لے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پہلے لوگوں میں سے ہو۔“ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کے عہد خلافت میں سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا سمندری سفر پر روانہ ہوئیں، جب وہ سمندر سے واپس باہر تشریف لائیں اور اپنی سواری پر سوار ہوئیں تو اس سے نیچے گر گئیں اور ان کا انتقال ہو گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6667]

6668

Sahih Ibn Hibban #6668

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : أَتَانِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا نَائِمٌ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ ، فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ ، وَقَالَ : أَلا أَرَاكَ نَائِمًا فِيهِ ؟ قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، غَلَبَتْنِي عَيْنِي ، قَالَ : فَكَيْفَ تَصْنَعُ إِِذَا أُخْرِجْتَ مِنْهُ ؟ قُلْتُ : مَا أَصْنَعُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَضْرِبُ بِسَيْفِي ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكَ مِنْ ذَلِكَ وَأَقْرَبُ رُشْدًا ، تَسْمَعُ وَتُطِيعُ ، وَتَنْسَاقُ لَهُمْ حَيْثُ سَاقُوكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں اس وقت مسجد نبوی میں سویا ہوا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پاؤں کے ذریعے مجھے مارا اور ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں یہاں سویا ہوا دیکھ رہا ہوں؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری آنکھ لگ گئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا جب تمہیں اس میں سے نکال دیا جائے گا؟“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس وقت مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیا میں اپنی تلوار کے ذریعے لڑائی کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں جو تمہارے لیے اس سے زیادہ بہتر ہو اور ہدایت کے زیادہ قریب ہو؟ تم اطاعت اور فرمانبرداری سے کام لو اور وہ تمہیں جہاں جانے کے لیے کہیں، تم وہاں چلے جاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6668]

6669

Sahih Ibn Hibban #6669

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَيْسِيُّ ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ ضُرَيْبِ بْنِ نُقَيْرٍ الْقَيْسِيِّ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ : جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْلُو هَذِهِ الآيَةَ : وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ ، قَالَ : فَجَعَلَ يُرَدِّدُهَا عَلَيَّ حَتَّى نَعَسْتُ ، فَقَالَ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، لَوْ أَنَّ النَّاسَ كُلَّهُمْ أَخَذُوا بِهَا لَكَفَتْهُمْ " ، ثُمَّ قَالَ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، " كَيْفَ تَصْنَعُ إِِذَا أُخْرِجْتَ مِنَ الْمَدِينَةِ ؟ قُلْتُ : إِِلَى السَّعَةِ وَالدَّعَةِ أَكُونُ حَمَامًا مِنْ حَمَامِ مَكَّةَ ، قَالَ : كَيْفَ تَصْنَعُ إِِذَا أُخْرِجْتَ مِنْ مَكَّةَ ؟ قُلْتُ : إِِلَى السَّعَةِ وَالدَّعَةِ ، إِِلَى أَرْضِ الشَّامِ وَالأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ ، قَالَ : فَكَيْفَ تَصْنَعُ إِِذَا أُخْرِجْتَ مِنْهَا ؟ قُلْتُ : إِِذًا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، آخُذُ سَيْفِي فَأَضَعُهُ عَلَى عَاتِقِي ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ ، تَسْمَعُ وَتُطِيعُ ، لِعَبْدٍ حَبَشِيٍّ مُجَدَّعٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت ﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا * وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ﴾ [سورة الطلاق: 2-3] تلاوت کرنا شروع کی: ”جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے راستہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے جہاں اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کو دہراتے رہے یہاں تک کہ مجھے اونگھ آگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! اگر تمام لوگ اسی کو اختیار کر لیں تو یہی ان کے لیے کافی ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہیں مدینہ منورہ سے نکال دیا جائے گا؟“ میں نے عرض کی: میں اپنی گنجائش کے مطابق یہ کوشش کروں گا کہ میں مکہ کا کبوتر بن جاؤں (یعنی مکہ منتقل ہو جاؤں)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہیں مکہ سے بھی نکال دیا جائے گا؟“ میں نے عرض کی: میں اپنی گنجائش اور حیثیت کے مطابق کوشش کروں گا کہ میں شام کی سرزمین کی طرف چلا جاؤں اور ارض مقدس کی طرف چلا جاؤں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہیں وہاں سے بھی نکال دیا جائے گا؟“ میں نے عرض کی: اس صورت میں اس ذات کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، میں اپنی تلوار پکڑوں گا اور اسے اپنی گردن میں لٹکا لوں گا (اور ان لوگوں سے لڑنا شروع کر دوں گا)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس سے زیادہ صحیح یہ نہیں ہے کہ تم ناک کان کٹے ہوئے اس حبشی غلام کی اطاعت و فرمانبرداری کرو (جو حاکم وقت ہوگا)؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6669]

6670

Sahih Ibn Hibban #6670

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ الأَشْتَرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ ذَرٍّ ، قَالَتْ : لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا ذَرٍّ الْوَفَاةُ بَكَيْتُ ، فَقَالَ : مَا يُبْكِيكِ ؟ فَقُلْتُ : مَالِي لا أَبْكِي وَأَنْتَ تَمُوتُ بِفَلاةٍ مِنَ الأَرْضِ ، وَلَيْسَ عِنْدِي ثَوْبٌ يَسَعُكَ كَفَنًا ، قَالَ : فَلا تَبْكِي وَأَبْشِرِي ، فإني سمعت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ لِنَفَرٍ أَنَا فِيهِمْ : لَيَمُوتَنَّ رَجُلٌ مِنْكُمْ بِفَلاةٍ مِنَ الأَرْضِ ، يَشْهَدُهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ "، وَلَيْسَ مِنْ أُولَئِكَ النَّفْرِ أَحَدٌ إِِلا وَقَدْ هَلَكَ فِي قَرْيَةِ جَمَاعَةٍ ، وَأَنَا الَّذِي أَمُوتُ بِفَلاةٍ ، وَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلا كُذِبْتُ ، فَأَبْصِرِي الطَّرِيقَ ، قَالَتْ : وَأَنَّى وَقَدْ ذَهَبَ الْحَاجُّ وَانْقَطَعَتِ الطُّرُقُ ، قَالَ : اذْهَبِي فَتَبَصَّرِي ، قَالَتْ : فَكُنْتُ أَجِيءُ إِِلَى كَثِيبٍ فَأَتَبَصَّرُ ، ثُمَّ أَرْجِعُ إِِلَيْهِ فَأُمَرِّضُهُ ، فَبَيْنَمَا أَنَا كَذَلِكَ ، إِِذَا أَنَا بِرِجَالٍ عَلَى رِحَالِهِمْ كَأَنَّهُمُ الرَّخَمُ ، فَأَقْبَلُوا حَتَّى وَقَفُوا عَلَيَّ ، وَقَالُوا : مَا لَكِ أَمَةَ اللَّهِ ؟ قُلْتُ لَهُمُ : امْرُؤٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَمُوتُ ، تُكَفِّنُونَهُ ؟ قَالُوا : مَنْ هُوَ ؟ فَقُلْتُ : أَبُو ذَرٍّ ، قَالُوا : صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَتْ : فَفَدَّوْهُ بِآبَائِهِمْ وَأُمَّهَاتِهِمْ ، وَأَسْرَعُوا إِِلَيْهِ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ ، فَرَحَّبَ بِهِمْ ، وَقَالَ : إِِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ لِنَفَرٍ أَنَا فِيهِمْ : " لَيَمُوتَنَّ مِنْكُمْ رَجُلٌ بِفَلاةٍ مِنَ الأَرْضِ ، يَشْهَدُهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ " ، وَلَيْسَ مِنْ أُولَئِكَ النَّفْرِ أَحَدٌ إِِلا هَلَكَ فِي قَرْيَةٍ وَجَمَاعَةٍ ، وَأَنَا الَّذِي أَمُوتُ بِفَلاةٍ ، أَنْتُمْ تَسْمَعُونَ إِِنَّهُ لَوْ كَانَ عِنْدِي ثَوْبٌ يَسَعُنِي كَفَنًَا لِي أَوْ لامْرَأَتِي ، لَمْ أُكَفَّنْ إِِلا فِي ثَوْبٍ لِي أَوْ لَهَا ، أَنْتُمْ تَسْمَعُونَ إِِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنْ يُكَفِّنَنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ كَانَ أَمِيرًا أَوْ عَرِيفًا أَوْ بَرِيدًا أَوْ نَقِيبًا ، فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِِلا قَارَفَ بَعْضَ ذَلِكَ إِِلا فَتًى مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ : يَا عَمِّ ، أَنَا أُكَفِّنُكَ ، لَمْ أُصِبْ مِمَّا ذَكَرْتَ شَيْئًا ، أُكَفِّنُكَ فِي رِدَائِي هَذَا ، وَفِي ثَوْبَيْنِ فِي عَيْبَتِي مِنْ غَزْلِ أُمِّي حَاكَتْهُمَا لِي ، فَكَفَّنَهُ الأَنْصَارِيُّ فِي النَّفَرِ الَّذِينَ شَهِدُوهُ مِنْهُمْ حُجْرُ بْنُ الأَدْبَرِ ، وَمَالِكُ بْنُ الأَشْتَرِ فِي نَفَرٍ كُلُّهُمْ يَمَانٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں رونے لگی، انہوں نے دریافت کیا: ”تم کیوں رو رہی ہو؟“ میں نے کہا: میں کیوں نہ روؤں؟ جبکہ آپ ایک ویرانے میں فوت ہونے لگے ہیں اور میرے پاس اتنا کپڑا نہیں ہے جو آپ کے کفن کے لیے کافی ہو، تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نہ روؤ، تمہارے لیے خوشخبری ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لوگوں سے یہ فرماتے ہوئے سنا، جن میں، میں بھی موجود تھا: ”تم لوگوں میں سے کسی ایک شخص کا انتقال ویرانے میں ہو گا لیکن اس کی نمازِ جنازہ میں اہل ایمان کا ایک گروہ شریک ہو گا۔““ (سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) ”ان لوگوں میں سے ہر ایک شخص کا انتقال آبادی میں ہوا، صرف میں ویرانے میں مرنے لگا ہوں۔ اللہ کی قسم! نہ تو میں نے غلط بیانی کی ہے اور نہ ہی میرے ساتھ غلط بیانی کی گئی ہے، تم راستے کا جائزہ لیتی رہو۔“ سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اب تو حاجی رخصت ہو چکے ہیں اور راستے منقطع ہو چکے ہیں، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم جاؤ اور جا کر جائزہ لو۔“ سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں ٹیلے کی طرف آئی، میں نے جائزہ لیا، پھر میں ان کے پاس واپس آئی اور ان کی تیمارداری کرنے لگی۔ ابھی میں ان کی تیمارداری کر رہی تھی کہ اسی دوران کچھ لوگ اپنی سواریوں پر سوار ہو کر وہاں آ گئے، یوں لگتا تھا جیسے وہ پرندے ہوں، وہ لوگ آئے اور میرے پاس آ کر ٹھہر گئے، انہوں نے دریافت کیا: اے اللہ کی کنیز! تمہارا کیا معاملہ ہے؟ میں نے ان سے کہا: ایک مسلمان شخص فوت ہونے لگا ہے، کیا تم لوگ اسے کفن دو گے؟ ان لوگوں نے دریافت کیا: وہ کون ہے؟ میں نے جواب دیا: سیدنا ابوذر، انہوں نے دریافت کیا: وہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ تو ان لوگوں نے یہ کہا: ہمارے ماں باپ ان پر قربان ہوں، پھر وہ تیزی سے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے انہیں خوش آمدید کہا اور یہ بات بتائی: ”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لوگوں سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا، ان لوگوں میں، میں بھی موجود تھا: ”تم میں سے کسی ایک شخص کا انتقال ویرانے میں ہو گا لیکن اس کے جنازے میں اہل ایمان کا ایک گروہ شریک ہو گا۔““ (سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بتایا:) ”ان تمام لوگوں میں سے ہر شخص کا انتقال کسی بستی میں یا لوگوں کے اجتماع میں ہوا، صرف میں ویرانے میں مرنے لگا ہوں۔ تم لوگ یہ بات سن لو کہ اگر میرے پاس اتنا کپڑا ہوا جو میرے کفن کے لیے کافی ہو یا میری بیوی کے پاس اتنا کپڑا ہوا تو مجھے صرف میرے یا میری بیوی کے کپڑے میں کفن دیا جائے۔ تم لوگ یہ بات سن لو کہ میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر یہ بات کہہ رہا ہوں کہ تم میں سے وہ شخص مجھے کفن نہ دے جو امیر ہو یا عریف ہو یا برید ہو یا نقیب ہو (یعنی کسی نہ کسی عہدے یا مرتبے پر فائز ہو)۔“ (راوی بیان کرتے ہیں:) وہاں موجود لوگوں میں سے کوئی بھی شخص ایسا نہیں تھا جو کسی نہ کسی عہدے پر نہ رہا ہو، صرف ایک انصاری نوجوان تھا، اس نے کہا: ”اے چچا جان! میں آپ کو وہ کفن دوں گا اور وہ چیز شامل نہیں کروں گا جس کا آپ نے ذکر کیا ہے، میں آپ کو اپنی اس چادر میں کفن دوں گا اور ان دو کپڑوں میں دوں گا جو میں نے نیچے پہنے ہوئے ہیں جنہیں میری امی نے میرے لیے اپنے ہاتھوں سے کات کر دیا تھا۔“ تو اس انصاری نے ان لوگوں کی موجودگی میں سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو کفنایا، جو لوگ وہاں موجود تھے ان میں سیدنا حجر بن ادبر اور مالک بن اشتر شامل تھے، یہ تمام لوگ یمن سے تعلق رکھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6670]

6671

Sahih Ibn Hibban #6671

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ الأَشْتَرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ ذَرٍّ ، قَالَتْ : ثُمَّ لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا ذَرٍّ الْوَفَاةُ بَكَيْتُ ، فَقَالَ : مَا يُبْكِيكِ ؟ فَقُلْتُ : وَمَا لِيَ لا أَبْكِي وَأَنْتَ تَمُوتُ بِفَلاةٍ مِنَ الأَرْضِ ، وَلَيْسَ عِنْدِي ثَوْبٌ يَسَعُكَ كَفَنًا ، وَلا يَدَانِ لِي فِي تَغْيِيبِكَ ، قَالَ : أَبْشِرِي وَلا تَبْكِي ، فَإِِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لا يَمُوتُ بَيْنَ امْرَأَيْنِ مُسْلِمَيْنِ وَلَدَانِ أَوْ ثَلاثٌ ، فَيَصْبِرَانِ وَيَحْتَسِبَانِ فَيَرَيَانِ النَّارَ أَبَدًا " ، وَإِِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ لِنَفَرٍ أَنَا فِيهِمْ : " لَيَمُوتَنَّ رَجُلٌ مِنْكُمْ بِفَلاةٍ مِنَ الأَرْضِ يَشْهَدُهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ "، وَلَيْسَ مِنْ أُولَئِكَ النَّفْرِ أَحَدٌ إِِلا وَقَدْ مَاتَ فِي قَرْيَةٍ وَجَمَاعَةٍ ، فَأَنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ ، وَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلا كُذِبْتُ ، فَأَبْصِرِي الطَّرِيقَ ، فَقُلْتُ : أَنَّى وَقَدْ ذَهَبَتِ الْحَاجُّ وَتَقَطَّعَتِ الطُّرُقُ ، فَقَالَ : اذْهَبِي فَتَبَصَّرِي ، قَالَتْ : فَكُنْتُ أَشْتَدُّ إِِلَى الْكَثِيبِ أَتَبَصَّرُ ، ثُمَّ أَرْجِعُ فَأُمَرِّضُهُ ، فَبَيْنَمَا هُوَ وَأَنَا كَذَلِكَ ، إِِذَا أَنَا بِرِجَالٍ عَلَى رَحْلِهِمْ كَأَنَّهُمُ الرَّخَمُ تَخُبُّ بِهِمْ رَوَاحِلُهُمْ ، قَالَتْ : فَأَسْرَعُوا إِِلَيَّ حِينَ وَقَفُوا عَلَيَّ ، فَقَالُوا : يَا أَمَةَ اللَّهِ ، مَا لَكِ ؟ قُلْتُ : امْرُؤٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَمُوتُ ، فَتُكَفِّنُونَهُ ؟ قَالُوا : وَمَنْ هُوَ ؟ قَالَتْ : أَبُو ذَرٍّ ، قَالُوا : صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، فَفَدَّوْهُ بِآبَائِهِمْ وَأُمَّهَاتِهِمْ ، وَأَسْرَعُوا إِِلَيْهِ حَتَّى دَخَلُوا عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُمْ : أَبْشِرُوا ، فَإِِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ لِنَفَرٍ أَنَا فِيهِمْ : " لَيَمُوتَنَّ رَجُلٌ مِنْكُمْ بِفَلاةٍ مِنَ الأَرْضِ ، يَشْهَدُهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ " ، وَلَيْسَ مِنْ أُولَئِكَ النَّفْرِ رَجُلٌ إِِلا وَقَدْ هَلَكَ فِي جَمَاعَةٍ ، فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلا كُذِبْتُ ، إِِنَّهُ لَوْ كَانَ عِنْدِي ثَوْبٌ يَسَعُنِي كَفَنًا لِي أَوْ لامْرَأَتِي ، لَمْ أُكَفَّنْ إِِلا فِي ثَوْبٍ هُوَ لِي أَوْ لَهَا ، إِِنِّي أُنْشِدُكُمُ اللَّهَ أَنْ لا يُكَفِّنَنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ كَانَ أَمِيرًا أَوْ عَرِيفًا أَوْ بَرِيدًا أَوْ نَقِيبًا ، فَلَيْسَ مِنْ أُولَئِكَ النَّفْرِ أَحَدٌ إِِلا وَقَدْ قَارَفَ بَعْضَ مَا قَالَ ، إِِلا فَتًى مِنَ الأَنْصَارِ ، قَالَ : أَنَا أُكَفِّنُكَ يَا عَمِّ ، أُكَفِّنُكَ فِي رِدَائِي هَذَا ، وَفِي ثَوْبَيْنِ فِي عَيْبَتِي مِنْ غَزْلِ أُمِّي ، قَالَ : أَنْتَ فَكَفِّنْنِي ، فَكَفَّنَهُ الأَنْصَارِيُّ فِي النَّفَرِ الَّذِينَ حَضَرُوا ، وَقَامُوا عَلَيْهِ وَدَفَنُوهُ فِي نَفَرٍ كُلُّهُمْ يَمَانٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں رونے لگی، انہوں نے دریافت کیا: تم کیوں رو رہی ہو؟ میں نے کہا: میں کیوں نہ روؤں جبکہ آپ ایک ویرانے میں وفات پانے لگے ہیں، میرے پاس اتنا کپڑا بھی نہیں ہے جو آپ کے کفن کے لیے کافی ہو اور آپ کی عدم موجودگی میں میرے لیے رہنا ممکن نہیں ہے، تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے لیے خوشخبری ہے، تم نہ روؤ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس بھی دو مسلمان (میاں بیوی) کے دو یا تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ دونوں صبر سے کام لیں اور ثواب کی امید رکھیں تو وہ کبھی بھی آگ کو نہیں دیکھیں گے (یعنی جہنم میں نہیں جائیں گے)۔“ (سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بتایا) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین آدمیوں سے یہ فرماتے ہوئے سنا، جن میں میں بھی موجود تھا: ”تم میں سے کسی ایک شخص کا انتقال ضرور ویرانے میں ہوگا لیکن اس کی نمازِ جنازہ میں اہل ایمان کا ایک گروہ شریک ہوگا۔“ (سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) ان لوگوں میں سے ہر شخص کا انتقال کسی بستی یا لوگوں کے درمیان ہوا، میں ان میں سے ایک شخص باقی رہ گیا ہوں۔ اللہ کی قسم! نہ تو میں نے غلط بیانی کی ہے اور نہ ہی میرے ساتھ غلط بیانی کی گئی ہے، تم اس کا جائزہ لیتی رہو۔ (سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں) میں نے کہا: اب تو حاجی رخصت ہو چکے ہیں، راستے منقطع ہو چکے ہیں، تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم جاؤ اور جا کے جائزہ لو۔ سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں تیزی سے چلتی ہوئی ٹیلے کی طرف گئی اور اس بات کا جائزہ لیا اور واپس آکر ان کی تیمارداری کرنے لگی۔ ابھی میں اور وہ اسی حالت میں تھے کہ اسی دوران کچھ لوگ اپنی سواریوں پر سوار ہو کر آئے، یوں جیسے وہ پرندے ہوں، ان کی سواریاں انہیں لے کر آئی تھیں۔ سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب وہ لوگ میرے پاس ٹھہرے تو تیزی سے میری طرف آئے، انہوں نے کہا: اے اللہ کی کنیز! تمہارا کیا معاملہ ہے؟ میں نے کہا: ایک مسلمان شخص کا انتقال ہونے لگا ہے، کیا آپ لوگ اسے کفن دیں گے؟ انہوں نے جواب دیا: وہ کون شخص ہے؟ اس خاتون نے جواب دیا: سیدنا ابوذر۔ ان لوگوں نے کہا: وہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ تو انہوں نے کہا: میرے ماں باپ ان پر قربان ہوں! پھر وہ تیزی سے چلتے ہوئے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے پاس آگئے اور ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: تم لوگوں کے لیے خوشخبری ہے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لوگوں سے یہ فرماتے ہوئے سنا جن میں میں بھی موجود تھا: ”تم میں سے ایک شخص ویرانے میں انتقال کرے گا اور اس کے جنازے میں اہل ایمان کا ایک گروہ شریک ہوگا۔“ پھر سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (میرے علاوہ) ان میں سے ہر ایک شخص کا انتقال لوگوں کے درمیان ہوا (اب صرف میں باقی رہ گیا ہوں)۔ اللہ کی قسم! میں نے نہ تو غلط بیانی کی ہے اور نہ ہی میرے ساتھ غلط بیانی کی گئی۔ اگر میرے پاس اتنا کپڑا ہوتا جو میرے کفن کے لیے کافی ہوتا یا میری بیوی کے پاس اتنا کپڑا ہوتا تو صرف میرے یا میری بیوی کے کپڑے میں مجھے کفن دیا جاتا، میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں کہ تم میں سے وہ شخص مجھے کفن نہ دے جو امیر ہو یا عریف ہو یا برید ہو یا نقیب ہو (یعنی سرکاری اہل کار ہو)۔ تو وہاں موجود لوگوں میں سے کوئی شخص ایسا نہیں تھا جو ان میں سے کسی عہدے پر فائز نہ ہو، البتہ ایک انصاری نوجوان تھا، اس نے کہا: اے چچا جان! میں آپ کو کفن دوں گا، میں آپ کو اپنی اس چادر میں کفن دوں گا اور اپنے ان دو کپڑوں میں دوں گا جو میری والدہ نے میرے لیے تیار کیے تھے، تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم مجھے کفن دینا۔ تو اس انصاری نے وہاں موجود حاضرین کی موجودگی میں سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو کفن دیا اور ان کے (غسل وغیرہ) کے معاملات کی دیکھ بھال کی اور انہی لوگوں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو دفن کیا۔ ان سب کا تعلق یمن سے تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6671]

6672

Sahih Ibn Hibban #6672

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ نَافِعَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قُلْتُ : حَدِّثْنِي هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الدَّجَّالَ ؟ قَالَ : فَقَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْمَغْرِبِ أَتَوْهُ لِيُسْلِمُوا عَلَيْهِ ، وَعَلَيْهِمُ الصُّوفُ ، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْهُ سَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : تَغْزُونَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ ، فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ عَلَيْكُمْ ، ثُمَّ تَغْزُونَ فَارِسَ ، فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ عَلَيْكُمْ ، ثُمَّ تَغْزُونَ الرُّومَ ، فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ عَلَيْكُمْ ، ثُمَّ تَغْزُونَ الدَّجَّالَ ، فَيَفْتَحُهُ اللَّهُ عَلَيْكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا نافع بن عتبہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، میں نے کہا: آپ مجھے یہ بات بتائیں کہ کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ تو انہوں نے بتایا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت اہل مغرب میں سے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر تھے، وہ اسلام قبول کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے تھے، انہوں نے اونی لباس پہنا ہوا تھا، جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا تو میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”تم لوگ جزیرہ عرب کے ساتھ لڑائی کرو گے، تو اللہ تعالیٰ اسے تمہارے لیے فتح کر دے گا، تم اہل فارس کے ساتھ لڑائی کرو گے، تو اللہ تعالیٰ اسے تمہارے لیے فتح کر دے گا، پھر تم اہل روم کے ساتھ لڑائی کرو گے، تو اللہ تعالیٰ اسے تمہارے لیے فتح کر دے گا، پھر تم لوگ دجال کے ساتھ لڑائی کرو گے، تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس پر فتح عطا کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6672]

6673

Sahih Ibn Hibban #6673

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : تُفْتَحُ الْيَمَنُ ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ، وَتُفْتَحُ الشَّامُ ، فَيَأْتِي قَوْمٌ فَيَبُسُّونَ ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ، وَتُفْتَحُ الْعِرَاقُ ، فَيَأْتِي قَوْمٌ فَيَبُسُّونَ ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ "، قَالَ الشَّيْخُ : يَبُسُّونَ : أَيْ يَنْسِلُونَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما، سیدنا سفیان بن ابوزہیر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”یمن فتح ہو جائے گا، کچھ لوگ تیزی سے چلتے ہوئے آئیں گے، وہ اپنے بال بچوں اور اپنے فرمانبرداروں (یعنی غلاموں) کو سوار کر کے ساتھ لے جائیں گے، حالانکہ اگر وہ علم رکھتے تو مدینہ ان کے لیے زیادہ بہتر تھا۔ شام فتح ہو گا تو کچھ لوگ تیزی سے چلتے ہوئے آئیں گے اور وہ اپنے بال بچوں اور اپنے پیروکاروں (یعنی غلاموں اور کنیزوں) کو سوار کر کے لے جائیں گے، حالانکہ اگر وہ علم رکھتے ہوں تو مدینہ ان کے لیے زیادہ بہتر ہے، پھر عراق فتح ہو گا تو کچھ لوگ تیزی سے چلتے ہوئے آئیں گے، وہ اپنے بال بچوں اور اپنے فرمانبرداروں (یعنی غلاموں اور کنیزوں) کو سوار کر کے ساتھ لے جائیں گے، حالانکہ اگر وہ علم رکھتے ہوں تو مدینہ منورہ ان کے لیے زیادہ بہتر ہے۔“ شیخ فرماتے ہیں: لفظ «يُبِسُّونَ» کا مطلب تیزی سے چلتے ہوئے آنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6673]

6674

Sahih Ibn Hibban #6674

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مُثِّلَتْ لِيَ الْحِيرَةُ كَأَنْيَابِ الْكِلابِ ، وَإِِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَهَا " ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : هَبْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنَةَ بُقَيْلَةَ ، فَقَالَ : هِيَ لَكَ ، فَأَعْطُوهُ إِِيَّاهَا، فَجَاءَ أَبُوهَا ، فَقَالَ : أَتَبِيعُهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : بِكُمْ ؟ احْتَكِمْ مَا شِئْتَ ، قَالَ : بِأَلْفِ دِرْهَمٍ ، قَالَ : قَدْ أَخَذْتَهَا ، فَقِيلَ لَهُ : لَوْ قُلْتَ : ثَلاثِينَ أَلْفًا ؟ قَالَ : وَهَلْ عَدَدٌ أَكْثَرُ مِنْ أَلْفٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”حیرہ میرے سامنے کتے کے دانتوں کی طرح کی شکل میں پیش کیا گیا، تم لوگ عنقریب اسے فتح کر لو گے۔“ ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بقیلہ کی بیٹی مجھے ہبہ کر دیجیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تمہاری ہوئی۔“ لوگوں نے وہ لڑکی اس شخص کو دے دی، پھر اس لڑکی کا باپ آیا اور بولا: کیا تم اسے فروخت کرو گے؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس لڑکی کے باپ نے دریافت کیا: کتنے کے عوض؟ میں نے اس سے کہا: تم جو چاہو فیصلہ کر دو۔ لڑکی کے باپ نے کہا: ایک ہزار درہم کے عوض میں۔ اس شخص نے کہا: ٹھیک ہے۔ (بعد میں) اس شخص سے کہا گیا: اگر تم تیس ہزار درہم کہہ دیتے (تو یہ مناسب تھا)، اس نے کہا: کیا ایک ہزار سے زیادہ بھی کوئی عدد ہوتا ہے؟ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6674]

6675

Sahih Ibn Hibban #6675

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ فَيَّاضٍ بِدِمَشْقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ زَبْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ بُسْرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي إِِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِي خِبَاءٍ مِنْ أَدَمٍ ، فَجَلَسْتُ فِي فَنَاءِ الْخِبَاءِ ، فَسَلَّمْتُ فَرَدَّ ، فَقَالَ : ادْخُلْ يَا عَوْفُ ، فَقُلْتُ : كُلِّي ؟ فَقَالَ : كُلُّكَ ، فَدَخَلْتُ فَوَافَقْتُهُ يَتَوَضَّأُ وُضُوءًا مَكِيثًا ، ثُمَّ قَالَ : يَا عَوْفُ ، احْفَظْ خِلالا سِتًّا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ : إِِحْدَاهُنَّ مَوْتِي ، قَالَ عَوْفٌ : فَوَجَمْتُ عِنْدَهَا وَجْمَةً شَدِيدَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُلْ : إِِحْدَى ، فَقُلْتُ : إِِحْدَى ، ثُمَّ قَالَ : فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، ثُمَّ يَظْهَرُ فِيكُمْ دَاءٌ ، ثُمَّ اسْتِفَاضَةُ الْمَالِ فِيكُمْ ، حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ مِنْكُمْ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَظَلُّ سَاخِطًا ، ثُمَّ فِتْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ حَتَّى لا يَبْقَى بَيْتٌ مُؤْمِنٌ إِِلا دَخَلَتْهُ ، ثُمَّ صُلْحٌ يَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الأَصْفَرِ ، فَيَغْدِرُونَ بِكُمْ ، فَيَسِيرُونَ إِِلَيْكُمْ فِي ثَمَانِينَ غَايَةٍ تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں غزوہ تبوک کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ چمڑے کے بنے ہوئے خیمے میں موجود تھے۔ میں اس کے کنارے پر بیٹھ گیا۔ میں نے سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب دیا۔ آپ نے فرمایا: ”اے عوف! اندر آ جاؤ۔“ میں نے عرض کی: سارے کا سارا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سارے کا سارا۔“ میں اندر داخل ہوا تو میں نے آپ کو ٹھہر ٹھہر کر وضو کرتے ہوئے پایا، پھر آپ نے فرمایا: ”اے عوف! چھ چیزوں کے بارے میں یاد رکھنا کہ جو قیامت سے پہلے ہوں گی۔ ان میں سے ایک میری موت ہے۔“ سیدنا عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: یہ سن کر مجھے جھٹکا سا لگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کہو: ایک۔“ میں نے کہا: ایک۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المقدس فتح ہو گا، پھر تمہارے درمیان ایک بیماری پھوٹ پڑے گی، پھر تمہارے درمیان مال زیادہ ہو جائے گا، یہاں تک کہ تم میں سے کسی ایک شخص کو ایک سو درہم دیے جائیں گے تو وہ پھر بھی ناراض رہے گا، پھر تمہارے درمیان ایسا فتنہ نمودار ہو گا کہ کسی بھی مومن کا گھر باقی نہیں رہے گا مگر یہ کہ وہ فتنہ اس میں داخل ہو جائے گا، پھر تمہارے اور بنو اصفر (یعنی اہل روم) کے درمیان صلح ہو گی تو وہ تمہارے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کریں گے، پھر وہ 80 جھنڈوں کے نیچے اکٹھے ہو کر تمہاری طرف (جنگ کرنے کے لیے) چل پڑیں گے، جن کے ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار لوگ ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6675]

6676

Sahih Ibn Hibban #6676

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّكُمْسَتَفْتَحُونَ أَرْضًا يُذْكَرُ فِيهَا الْقِيرَاطُ ، فَاسْتَوْصُوا بِأَهْلِهَا خَيْرًا ، فَإِِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا "، قَالَ حَرْمَلَةُ : يَعْنِي بِالْقِيرَاطِ : أَنَّ قِبْطَ مِصْرَ يُسَمُّونَ أَعْيَادَهُمْ وَكُلَّ مَجْمَعٍ لَهُمُ : الْقِيرَاطَ ، يَقُولُونَ : نَشْهَدُ الْقِيرَاطَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”عنقریب تم ایسی سرزمین کو فتح کرو گے جہاں «الْقِيرَاطِ» ”قیراط“ کا ذکر کیا جائے گا تو تم لوگ وہاں کے رہنے والوں کے ساتھ بھلائی کی تلقین قبول کرو کیونکہ وہ ذمی بھی ہوں گے اور ان کے ساتھ رشتہ داری کا تعلق بھی ہو گا۔“ حرملہ نامی راوی کہتے ہیں: قیراط سے مراد یہ ہے: مصر کے رہنے والے قبطی اپنی اینٹ کے لیے یہ لفظ استعمال کرتے تھے اور اپنے ہر اجتماع کے لیے لفظ قیراط استعمال کرتے تھے، وہ یہ کہتے تھے ہم لوگ قیراط میں شریک ہوئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6676]

6677

Sahih Ibn Hibban #6677

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، وَعَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ ، يَقُولانِ : إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِِنَّكُمْسَتَقْدِمُونَ عَلَى قَوْمٍ جَعْدٍ رُءُوسُهُمْ ، فَاسْتَوْصُوا بِهِمْ ، فَإِِنَّهُ قُوَّةٌ لَكُمْ وَبَلاغٌ إِِلَى عَدُوِّكُمْ بِإِِذْنِ اللَّهِ "، يَعْنِي قِبْطَ مِصْرَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوعبدالرحمن حبلی رحمہ اللہ اور سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب تم ایسی قوم کے پاس جاؤ گے جن کے بال گھنگھریالے ہوں گے، تو تم ان کے بارے میں تلقین کو قبول کرو کیونکہ وہ تمہارے لیے قوت ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے اذن کے تحت تمہیں دشمن تک پہنچائیں گے۔“ (راوی کہتے ہیں:) اس سے مراد مصر کے قبطی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6677]

6678

Sahih Ibn Hibban #6678

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : تَصَدَّقُوا ، فَسَيَأْتِي عَلَيْكُمْ يَوْمٌ يَمُرُّ أَحَدُكُمْ بِصَدَقَتِهِ ، فَلا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا ، يَقُولُ : فَهَلا قَبْلَ الْيَوْمِ ، فَأَمَّا الْيَوْمَ ، فَلا حَاجَةَ لِي فِيهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم لوگ صدقہ کرو، عنقریب تم پر ایسا دن آئے گا جب کوئی شخص اپنا صدقہ لے کر جائے گا تو اسے کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا جو اس سے صدقے کو قبول کر لے، وہ شخص کہے گا: تم آج سے پہلے کیوں نہیں آئے؟ آج تو مجھے اس صدقے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6678]

6679

Sahih Ibn Hibban #6679

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كُنْتُ أَسْأَلُ عَنْ حَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ وَهُوَ إِِلَى جَنْبِي لا آتِيهِ فَأَسْأَلَهُ ، فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ بُعِثَ ، فَكَرِهْتُهُ أَشَدَّ مَا كَرِهْتُ شَيْئًا قَطُّ ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى كُنْتُ فِي أَقْصَى الأَرْضِ مِمَّا يَلِيَ الرُّومَ ، فَقُلْتُ : لَوْ أَتَيْتُ هَذَا الرَّجُلَ ، فَإِِنْ كَانَ كَاذِبًا لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ ، وَإِِنْ كَانَ صَادِقًا اتَّبَعْتُهُ ، فَأَقْبَلْتُ ، فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ اسْتَشْرَفَ لِي النَّاسُ ، وَقَالُوا : جَاءَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ ، جَاءَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي : يَا عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ،أَسْلِمْ تَسْلَمْ ، قَالَ : قُلْتُ : إِِنَّ لِي دِينًا ، قَالَ : أَنَا أَعْلَمُ بِدِينِكَ مِنْكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا ، أَلَسْتَ تَرْأَسُ قَوْمَكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : أَلَسْتَ تَأْكُلُ الْمِرْبَاعَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : فَإِِنَّ ذَلِكَ لا يَحِلُّ لَكَ فِي دِينِكَ ، قَالَ : فَتَضَعْضَعْتُ لِذَلِكَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ ، فَإِِنِّي قَدْ أَظُنُّ ، أَوْ قَدْ أَرَى ، أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُسْلِمَ خَصَاصَةٌ تَرَاهَا مِنْ حَوْلِي ، وَتُوشِكُ الظَّعِينَةُ أَنْ تَرْحَلَ مِنَ الْحِيرَةِ بِغَيْرِ جِوَارٍ حَتَّى تَطُوفَ بِالْبَيْتِ ، وَلَتُفْتَحَنَّ عَلَيْنَا كُنُوزُ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ ، وَلَيَفِيضَنَّ الْمَالُ أَوْ لَيَفِيضُ ، حَتَّى يُهِمَّ الرَّجُلَ مَنْ يَقْبَلُ مِنْهُ مَالَهُ صَدَقَةً "، قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ : فَقَدْ رَأَيْتُ الظَّعِينَةَ تَرْحَلُ مِنَ الْحِيرَةِ بِغَيْرِ جِوَارٍ حَتَّى تَطُوفَ بِالْبَيْتِ ، وَكُنْتُ فِي أَوَّلِ خَيْلٍ أَغَارَتْ عَلَى الْمَدَائِنِ عَلَى كُنُوزِ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ ، وَأَحْلِفُ بِاللَّهِ لَتَجِيئَنَّ الثَّالِثَةُ ، إِِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابو عبیدہ بن حذیفہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کے بارے میں دریافت کر رہا تھا، وہ میرے پہلو میں موجود تھے، میں نے ان کے پاس جا کر ان سے دریافت نہیں کیا، پھر میں ان کے پاس گیا اور ان سے دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ ناپسند کرتا تھا، پھر میں روانہ ہوا یہاں تک کہ میں زمین کے دور دراز کے حصے میں چلا گیا جو اہل روم (کے علاقے) کے قریب تھا، میں نے سوچا: اگر میں ان صاحب کے پاس جاؤں، تو اگر یہ جھوٹے ہوئے تو یہ بات مجھ سے مخفی نہیں رہے گی اور اگر یہ سچے ہوئے تو میں ان کی پیروی کر لوں گا، تو میں آ گیا۔ جب میں مدینہ منورہ آیا تو لوگ میری طرف جھانک کر دیکھنے لگے، انہوں نے کہا: عدی بن حاتم آئے ہیں، عدی بن حاتم آئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے عدی بن حاتم! تم اسلام قبول کر لو، تم سلامت رہو گے۔“ میں نے عرض کی: میرا اپنا دین ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے دین کے بارے میں تم سے زیادہ جانتا ہوں۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اپنی قوم کے سردار نہیں ہو؟“ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم مالِ غنیمت میں سے چوتھائی حصہ نہیں کھاتے ہو؟“ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تمہارے دین میں تو یہ تمہارے لیے جائز نہیں ہے۔“ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس بات پر میں شرمندہ ہوا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عدی بن حاتم! تم اسلام قبول کر لو، تم سلامت رہو گے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا یہ گمان ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) میں یہ سمجھتا ہوں — یا جیسا بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا — تم اس لیے اسلام قبول نہیں کر رہے کہ تم میرے اردگرد ایسے لوگوں کو دیکھ رہے ہو جو ضرورت مند ہیں۔ عنقریب کوئی عورت حیرہ سے کسی کی پناہ لیے بغیر سوار ہو کر جائے گی یہاں تک کہ بیت اللہ کا طواف کرے گی اور ہمارے لیے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے کھول دیے جائیں گے اور مال عام ہو جائے گا، یہاں تک کہ ایک شخص یہ آرزو کرے گا کہ کوئی شخص اس سے اس کا مال صدقہ کے طور پر قبول کر لے۔“ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ وہ حیرہ سے کسی کی پناہ کے بغیر سوار ہوئی، یہاں تک کہ اس نے بیت اللہ کا طواف کیا اور میں اس پہلے لشکر میں شامل تھا جس نے مدائن میں کسریٰ بن ہرمز کے خزانوں پر حملہ کیا تھا اور میں اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ وہ تیسری بات بھی ضرور درست ثابت ہو گی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمائی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6679]

6680

Sahih Ibn Hibban #6680

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُشْكَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْرَجُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكْثُرَ فِيكُمُ الأَمْوَالُ وَتَفِيضَ ، حَتَّى يُهِمَّ رَبَّ الْمَالِ مَنْ يَقْبَلُ مِنْهُ صَدَقَتَهُ ، وَحَتَّى يَعْرِضَهُ ، وَيَقُولُ الَّذِي يُعْرَضُ عَلَيْهِ : لا أَرَبَ لِي فِيهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تمہارے درمیان مال کی کثرت نہیں ہو جائے گی۔ وہ مال عام ہو جائے گا یہاں تک کہ مال کا مالک اس بات کا خواہش مند ہو گا کہ کوئی شخص اس سے اس کا صدقہ قبول کر لے، یہاں تک کہ وہ کسی کے سامنے اسے پیش کرے گا تو جس کے سامنے پیش کیا گیا ہو گا وہ یہ کہے گا: اب مجھے اس میں دلچسپی نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6680]

6681

Sahih Ibn Hibban #6681

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ الْمَالُ وَيَفِيضَ ، حَتَّى يُخْرِجَ الرَّجُلُ زَكَاةَ مَالِهِ ، فَلا يَجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهَا مِنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک مال کی کثرت اور زیادتی نہیں ہو گی، یہاں تک کہ ایک شخص اپنے مال کی زکوٰۃ نکالے گا تو اسے کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا جو اس سے اسے قبول کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6681]

6682

Sahih Ibn Hibban #6682

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : يُوشِكُ أَهْلُ الْعِرَاقِ أَنْ لا يُجْبَى إِِلَيْهِمْ قَفِيزٌ وَلا دِرْهَمٌ ، قُلْنَا : مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ذَلِكَ ؟ قَالَ : مِنْ قِبَلِ الْعَجَمِ يَمْنَعُونَ ذَلِكَ ، ثُمَّ قَالَ : يُوشِكُ أَهْلُ الشَّامِ أَنْ لا يُجْبَى إِِلَيْهِمْ دِينَارٌ وَلا مُدْيٌ ، قُلْنَا : مِنْ أَيٍّ ذَلِكَ ؟ قَالَ : مِنْ قِبَلِ الرُّومِ ، ثُمَّ أُسْكِتَ هُنَيَّةً ، ثُمَّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي خَلِيفَةٌ يَحْثِي الْمَالَ حَثْيًا ، لا يَعُدُّهُ عَدًّا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابونضرہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھے، انہوں نے فرمایا: عنقریب عراق کی یہ صورت حال ہو گی کہ ان کی طرف (اناج کا) ایک قفیز یا ایک درہم بھی نہیں آئے گا۔ ہم نے دریافت کیا: ایسا کس وجہ سے ہو گا؟ انہوں نے فرمایا: یہ عجمیوں کی طرف سے ہو گا، وہ اسے نہیں آنے دیں گے۔ پھر انہوں نے فرمایا: عنقریب اہل شام کی یہ صورت حال ہو گی کہ ان کی طرف ایک دینار اور ایک مد بھی نہیں آئے گا۔ ہم نے دریافت کیا: یہ کس کی طرف سے ہو گا؟ انہوں نے جواب دیا: یہ اہل روم کی طرف سے ہو گا۔ پھر وہ تھوڑی دیر خاموش رہے، پھر انہوں نے ارشاد فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”میری امت کے آخر میں ایسا خلیفہ ہو گا، گنتی کے بغیر مٹھیاں بھر بھر کے مال دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6682]

6683

Sahih Ibn Hibban #6683

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ عَمْرٍو الْقَيْسَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا جَابِرُ ، أَنَكَحْتَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : أَتَّخَذْتُمْ أَنْمَاطًا ؟ قُلْتُ : أَنَّى لَنَا أَنْمَاطٌ ؟ قَالَ : أَمَا إِِنَّهَا سَتَكُونُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جابر! کیا تم نے شادی کر لی ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے قالین استعمال کیا؟“ میں نے عرض کی: ہمارے پاس قالین کہاں سے آئے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب آ جائیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6683]

6684

Sahih Ibn Hibban #6684

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : كَانَ الرَّجُلُ إِِذَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَكَانَ لَهُ بِهَا يَعْنِي عَرِيفٌ ، نَزَلَ عَلَى عَرِيفِهِ ، فَإِِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ بِهَا عَرِيفٌ نَزَلَ الصُّفَّةَ ، قَالَ : فَكُنْتُ فِيمَنْ نَزَلَ الصُّفَّةَ ، قَالَ : فَرَافَقْتُ رَجُلا ، فَكَانَ يُجْرَى عَلَيْنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ يَوْمٍ مُدٌّ مِنْ تَمْرٍ بَيْنَ رَجُلَيْنِ ، فَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنَ الصَّلاةِ ، فَنَادَاهُ رَجُلٌ مِنَّا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ أَحْرَقَ التَّمْرُ بُطُونَنَا ، قَالَ : فَمَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى مِنْبَرِهِ ، فَصَعِدَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ ذَكَرَ مَا لَقِيَ مِنْ قَوْمِهِ ، قَالَ : حَتَّى مَكَثْتُ أَنَا وَصَاحِبِي بِضْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا مَا لَنَا طَعَامٌ إِِلا الْبَرِيرُ وَالْبَرِيرُ ثَمَرُ الأَرَاكِ ، فَقَدِمْنَا عَلَى إِِخْوَانِنَا مِنَ الأَنْصَارِ وَعُظْمُ طَعَامِهِمُ التَّمْرُ ، فَوَاسَوْنَا فِيهِ ، وَاللَّهِ لَوْ أَجِدُ لَكُمُ الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ لأَطْعَمْتُكُمُوهُ ، وَلَكِنْ لَعَلَّكُمْ تُدْرِكُونَ زَمَانًا أَوْ مَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ يَلْبَسُونَ فِيهِ مِثْلَ أَسْتَارِ الْكَعْبَةِ ، وَيُغْدَى عَلَيْهِمْ ، وَيُرَاحُ بِالْجِفَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا طلحہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پہلے جب کوئی شخص مدینہ منورہ آتا، اگر اس کا وہاں کوئی دوست ہوتا تو وہ اپنے دوست کے ہاں پڑاؤ کرتا تھا اور اگر اس کا کوئی دوست نہ ہوتا تو وہ صفہ کے چبوترے پر پڑاؤ کرتا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے صفہ کے چبوترے پر پڑاؤ کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے روزانہ کھجوروں کا ایک مد ہماری طرف آیا کرتا تھا۔ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنے کے بعد سلام پھیرا تو ہم میں سے ایک شخص نے بلند آواز میں آپ کو مخاطب کیا اور اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کھجوروں نے ہمارے پیٹوں کو جلا دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر کی طرف تشریف لے گئے، آپ اس پر چڑھے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر آپ نے اپنی قوم کی طرف سے پیش آنے والی (مشکلات) کا ذکر کیا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے اور میرے ساتھی پر دس سے زیادہ دن ایسے بھی گزرے کہ ہمارے پاس کھانے کے لیے صرف «البَرِيرُ» ہوتا تھا“ (راوی کہتے ہیں کہ «البَرِيرُ» سے مراد پیلو کا پھل ہے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ہم اپنے انصاری بھائیوں کے پاس آئے تو ان کی زیادہ تر خوراک کھجور ہوتی تھی، انہوں نے اس بارے میں ہمارا ساتھ دیا۔ اللہ کی قسم! اگر مجھے تمہارے لیے روٹی اور گوشت ملے تو میں وہ بھی کھلاؤں گا اور عنقریب تمہیں ایک ایسا زمانہ ملے گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تم میں سے جو شخص اس زمانے تک پہنچے گا تو لوگ اس میں کعبہ کے پردوں جیسا (عمدہ لباس) پہنیں گے اور صبح شام ان کے پاس پیالوں میں (مختلف قسم کی کھانے کی چیزیں) آئیں گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6684]

6685

Sahih Ibn Hibban #6685

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ ، ثُمَّ قَالَ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، أَرَأَيْتَ إِِنْ أَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى لا تَسْتَطِيعَ أَنْ تَقُومَ مِنْ فِرَاشِكَ إِِلَى مَسْجِدِكَ ، كَيْفَ تَصْنَعُ ؟ قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : تَعَفَّفْ " ، قَالَ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، " أَرَأَيْتَ إِِنْ أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ شَدِيدٌ حَتَّى يَكُونَ الْبَيْتُ بِالْعَبْدِ ، كَيْفَ تَصْنَعُ ؟ قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : اصْبِرْ " ، يَا أَبَا ذَرٍّ ، " أَرَأَيْتَ إِِنْ قَتَلَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى تَغْرَقَ حِجَارَةُ الزَّيْتِ مَوْضِعٌ بِالْمَدِينَةِ مِنَ الدِّمَاءِ ، كَيْفَ تَصْنَعُ ؟ قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : اقْعُدْ فِي بَيْتِكَ ، وَأَغْلِقْ عَلَيْكَ بَابَكَ ، قَالَ : أَرَأَيْتَ إِِنْ لَمْ أُتْرَكْ ؟ قَالَ : فَائْتِ مَنْ أَنْتَ مِنْهُ ، فَكُنْ فِيهِمْ ، قَالَ : فَآخُذُ سِلاحِي ؟ قَالَ : إِِذًا تُشَارِكُهُمْ فِيهِ ، وَلَكِنْ إِِنْ خَشِيتَ أَنْ يَرُوعَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ ، فَأَلْقِ طَرَفَ رِدَائِكَ عَلَى وَجْهِكَ يَبُوءُ بِإِِثْمِكَ وَإِِثْمِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر سوار آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے مجھے بٹھا لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! تمہارا کیا خیال ہے؟ اگر لوگوں کو اتنی شدید بھوک لاحق ہو جائے کہ تم اس بات کی بھی استطاعت نہ رکھو کہ اپنے بستر سے اٹھ کر مسجد تک جا سکو، تو پھر تم کیا کرو گے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بچ کے رہنا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! تمہارا کیا خیال ہے؟ اگر لوگوں کو ایسی زبردست موت لاحق ہو، یہاں تک کہ گھر بندے کے ساتھ ہو، تو پھر تم کیا کرو گے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم صبر سے کام لینا۔“ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”اے ابوذر! تمہارا کیا خیال ہے؟ اگر لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیں، یہاں تک کہ احجارِ زیت کی جگہ (خون سے) بھر جائے؟“ (راوی کہتے ہیں: یہ مدینہ منورہ میں ایک جگہ ہے)، ”تو پھر تم کیا کرو گے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے گھر میں بیٹھے رہنا اور اپنا دروازہ بند کر لینا۔“ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے، اگر مجھے پھر بھی نہ چھوڑا جائے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کے پاس چلے جانا جن کے ساتھ تمہارا تعلق ہے (یعنی اپنے قبیلے چلے جانا) اور ان کے درمیان رہنا۔“ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی: کیا میں اپنا ہتھیار سنبھال لوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس صورت میں تم اس بارے میں ان لوگوں کے حصے دار بن جاؤ گے، اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تلوار کی چمک تمہیں خوف زدہ کر دے گی تو تم اپنی چادر کا کنارہ اپنے چہرے پر رکھ لینا، تو وہ شخص تمہارے اور اپنے گناہ کا وبال اٹھائے گا (جو تمہیں قتل کرے گا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6685]

6686

Sahih Ibn Hibban #6686

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الأَعْمَشُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ ، فَأَتَتْهُ قُرَيْشٌ وَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ وَعِنْدَ رَأْسِهِ مَقْعَدُ رَجُلٍ ، فَقَامَ أَبُو جَهْلٍ فَقَعَدَ فِيهِ ، فَشَكَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالُوا : إِِنَّ ابْنَ أَخِيكَ يَقَعُ فِي آلِهَتِنَا ، قَالَ :مَا شَأْنُ قَوْمِكَ يَشْكُونَكَ يَا ابْنَ أَخِي ؟ قَالَ : يَا عَمِّ ، إِِنَّمَا أَرَدْتُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ ، وَتُؤَدِّي إِِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ ، فَقَالَ : وَمَا هِيَ ؟ قَالَ : لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ " ، فَقَامُوا ، فَقَالُوا : أَجْعَلَ الآلِهَةَ إِِلَهًا وَاحِدًا ؟ قَالَ : وَنَزَلَتْ : ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ ، إِِلَى قَوْلِهِ إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جناب ابوطالب بیمار ہو گئے تو قریش ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کی عیادت کرنے کے لیے ان کے پاس تشریف لائے۔ ان کے سرہانے کے قریب ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ تھی، ابوجہل اٹھا اور وہاں بیٹھ گیا۔ ان لوگوں نے جناب ابوطالب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شکایت کی اور بولے کہ آپ کے بھتیجے ہمارے معبودوں پر تنقید کرتے ہیں۔ جناب ابوطالب نے کہا: اے میرے بھتیجے! کیا وجہ ہے کہ آپ کی قوم کے افراد آپ کی شکایتیں کر رہے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے چچا جان! میں انہیں ایک کلمے پر اکٹھا کرنا چاہتا ہوں جس کی وجہ سے عرب ان کے ماتحت ہوں گے اور عجمی انہیں جزیہ ادا کریں گے۔“ انہوں نے دریافت کیا کہ وہ کون سا کلمہ ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“۔ تو وہ لوگ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ کیا تم مختلف معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنانا چاہتے ہو؟ راوی کہتے ہیں: تو اس بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ﴾ [سورة ص: 1] ”ص، قرآن کی قسم ہے، جو نصیحت کرنے والا ہے“، یہ آیت یہاں تک ہے ﴿إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ﴾ [سورة ص: 5] ”بے شک یہ بہت حیران کن چیز ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6686]