Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 58 · Chapter 3

Book of Medicine

Hadith 6601–6639

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6601

Sahih Ibn Hibban #6601

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : وَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مُرُوا أَبَا بَكْرٍ ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ ، فَمُرْ عُمَرَ ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، فَقَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " ، فَقُلْتُ مِثْلَهَا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " ، فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ : قُولِي لَهُ : إِِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ ، فَمُرْ عُمَرَ ، فَفَعَلَتْ حَفْصَةُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، فَإِِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ " ، فَقَالَتْ حَفْصَةُ : مَا رَأَيْتُ خَيْرًا مِنْكَ قَطُّ ، قَالَتْ : فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ يَؤُمُّ النَّاسَ ، فَلَمَّا كَبَّرَ أَبُو بَكْرٍ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَأَخَّرُ ، فَأَشَارَ إِِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ ، فَمَكَثَ مَكَانَهُ ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِذَائِهِ ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاةِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى قَضَى الصَّلاةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جب آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو تلاوت نہیں سنا سکیں گے۔ آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیجیے کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔“ میں نے پھر ویسی ہی بات کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔“ میں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جب آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو تلاوت نہیں سنا سکیں گے۔ آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیجیے۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔ تم لوگ سیدنا یوسف علیہ السلام کے واقعہ والی خواتین کی طرح ہو۔“ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) کہا: تمہاری طرف سے مجھے کبھی کوئی بھلائی دیکھنے کو نہیں ملی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کی امامت کے لیے نکلے، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہہ لی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے گئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا: ”تم اپنی جگہ پر رہو۔“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی جگہ پر رہے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ آ کر بیٹھ گئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کر رہے تھے اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کر رہے تھے، یہاں تک کہ انہوں نے نماز مکمل کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6601]

6602

Sahih Ibn Hibban #6602

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ لَهَا : أَلا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فَقَالَتْ : بَلَى ، ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَصَلَّى النَّاسُ ؟ " ، فَقُلْتُ : لا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ ، فَقَالَ :" ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ " ، فَفَعَلْنَا ، فَاغْتَسَلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ ، فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ مَاءً فَأَفَاقَ ، فَقَالَ : " أَصَلَّى النَّاسُ ؟ " ، قُلْنَا : لا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ ، قَالَتْ : وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعِشَاءِ الآخِرَةِ ، قَالَتْ : فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًَا إِِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ، فَأَتَاهُ الرَّسُولُ ، فَقَالَ لَهُ : إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ، وَكَانَ رَجُلا رَقِيقًا أَوْ رَفِيقًا : يَا عُمَرُ ، صَلِّ بِالنَّاسِ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ ، فَفَعَلَ ، وَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الأَيَّامَ ، ثُمَّ إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ خِفَّةً ، فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ ، فَأَوْمَأَ إِِلَيْهِ أَنْ لا يَتَأَخَّرَ ، فَقَالَ لَهُمَا : " أَجْلِسَانِي إِِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ " ، فَأَجْلَسَاهُ إِِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاةِ أَبِي بَكْرٍ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ لَهُ : أَلا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِهَا عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : لَمْ تُسَمِّ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ ؟ فَقُلْتُ : لا ، فَقَالَ : هُوَ عَلِيٌّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبیداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ان سے کہا کہ کیا آپ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں نہیں بتائیں گی؟ انہوں نے فرمایا کہ جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا لوگوں نے نماز ادا کر لی ہے؟“ میں نے عرض کی کہ جی نہیں، یا رسول اللہ! وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے لیے کسی بڑے برتن میں پانی رکھو۔“ ہم نے ایسا ہی کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہو گئی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا لوگوں نے نماز ادا کر لی ہے؟“ ہم نے عرض کی کہ جی نہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ لوگ اس وقت مسجد میں بیٹھے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عشاء کی نماز کے لیے انتظار کر رہے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، وہ پیغام رساں ان کے پاس آیا اور اس نے ان سے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، جو ایک نرم دل اور مہربان شخص تھے، انہوں نے کہا کہ اے عمر! آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیجیے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا، ان ایام میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طبیعت میں کچھ بہتری محسوس ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے درمیان چلتے ہوئے تشریف لے گئے، ان میں سے ایک سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تھے، اس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ وہ پیچھے نہ ہٹیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں صاحبان سے فرمایا: ”مجھے ابوبکر کے پہلو میں بٹھا دو۔“ چنانچہ ان حضرات نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کرنے لگے، حالانکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تھے اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کرتے رہے، جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ عبیداللہ نامی راوی کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ان سے کہا کہ کیا میں آپ کے سامنے وہ حدیث بیان نہ کروں جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں بتائی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جی ہاں، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نقل کردہ حدیث انہیں سنائی، انہوں نے اس کی کسی بھی بات کا انکار نہیں کیا، تاہم انہوں نے یہ فرمایا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تمہارے سامنے اس دوسرے شخص کا نام نہیں لیا جو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے؟ میں نے جواب دیا کہ جی نہیں، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6602]

6603

Sahih Ibn Hibban #6603

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَوْصَى إِِلَى عَلِيٍّ ، وَلَقَدْ دَعَا بِطَسْتٍ ، فَبَالَ فِيهِ ، وَإِِنَّهُ لَعَلَى صَدْرِي ، فَانْخَنَثَ ، فَمَاتَ ، وَمَا أَشْعُرُ بِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں وصیت کی تھی (کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وہ خلیفہ ہوں گے)، حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طشت منگوایا، آپ نے اس میں پیشاب کیا، آپ میرے سینے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، پھر آپ ڈھلک گئے اور آپ کا وصال ہو گیا، مجھے اس بات کا پتہ بھی نہیں چلا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6603]

6604

Sahih Ibn Hibban #6604

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : سُئِلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : أَخَصَّكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ ؟ قَالَ : مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ يُعَمِّمْ بِهِ النَّاسَ كَافَّةً ، إِِلا مَا كَانَ فِي قِرَابِ سَيْفِي هَذَا ، فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً مَكْتُوبَةً : لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الأَرْضِ ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ ، لَعَنَ اللَّهِ مَنْ آوَى مُحْدِثًا "، مَنَارُ الأَرْضِ : عَلامَةٌ بَيْنَ أَرَضِينَ ، قَالَهُ أَبُو حَاتِمٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابو طفیل بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو بطور خاص کوئی چیز عطا کی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بطور خاص کوئی چیز نہیں عطا کی تھی جو دیگر لوگوں کو عمومی طور پر عطا نہ کی ہو، البتہ میری اس تلوار کے میان میں موجود کچھ چیزیں ہیں، پھر انہوں نے ایک صحیفہ لکھا ہوا نکالا (جس میں یہ تحریر تھا): ”اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو غیر اللہ کے نام پر (جانور کو) ذبح کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو زمین کی حدود کے نشانات چوری کرتا ہے (یعنی انہیں بگاڑ دیتا ہے)، اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو اپنے ماں باپ پر لعنت کرے، اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو کسی بدعتی کو پناہ دیتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) «مِنَ الْأَرْضِ» سے مراد دو آدمیوں کی زمین کے درمیان موجود علامت ہے، یہ بات امام ابو حاتم رحمہ اللہ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6604]

6605

Sahih Ibn Hibban #6605

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ آخِرُ وَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُغَرْغِرُ بِهَا فِي صَدْرِهِ ، وَمَا كَانَ يُفِيضُ بِهَا لِسَانُهُ : الصَّلاةَ الصَّلاةَ ، اتَّقُوا اللَّهَ فِيمَا مَلَكَتْ أَيْمَانَكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت جو آپ نے اس وقت کی جب آپ کے سینے میں سانس اٹک رہی تھی اور آپ کی زبان سے بات ادا نہیں ہو پا رہی تھی (اس وقت کی گئی آپ کی آخری وصیت) یہ تھی: «الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، وَاتَّقُوا اللهَ فِيمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ» ”نماز کا خیال رکھنا، نماز کا خیال رکھنا اور اپنے زیر ملکیت (غلاموں اور کنیزوں) کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6605]

6606

Sahih Ibn Hibban #6606

أَخْبَرَنَا الْحُسْيَنُ بْنُ إِِسْحَاقَ الأَصْفَهَانِيُّ بِالْكَرْج ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ يَزِيدَ بْنَ حُرَيْثٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ مِيرَاثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : تَسْأَلُونِي عَنْ مِيرَاثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا ، وَلا دِرْهَمًا ، وَلا شَاةً ، وَلا بَعِيرًا ، وَلا أَوْصَى بِشَيْءٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زر بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: تم مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت کے بارے میں دریافت کر رہے ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وراثت میں کوئی دینار یا درہم یا بکری یا اونٹ نہیں چھوڑا اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کے بارے میں وصیت کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6606]

6607

Sahih Ibn Hibban #6607

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ ، وَفَدَكَ ، وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِِنَّا لا نُورَثُ ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ، إِِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ " ، وَإِِنِّي وَاللَّهِ لا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا ، فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ ، وَهَجَرَتْهُ ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسِتَّةِ أَشْهُرٍ ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَيْلا ، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ ، وَصَلَّى عَلَيْهَا ، وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وِجْهَةٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ فَاطِمَةُ اسْتَنْكَرَ وُجُوهَ النَّاسِ ، فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ ، وَمُبَايَعَتَهُ ، وَلَمْ يَكُنْ بَايَعَ تِلْكَ الأَشْهُرَ ، فَأَرْسَلَ إِِلَى أَبِي بَكْرٍ ، أَنِ ائْتِنَا وَلا يَأْتِنَا مَعَكَ أَحَدٌ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَحْضُرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لأَبِي بَكْرٍ : وَاللَّهِ لا تَدْخُلُ عَلَيْهِمْ وَحْدَكَ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : مَا عَسَى أَنْ يَفْعَلُوا بِي ، وَاللَّهِ لآتِيَنَّهُمْ ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ عَلَيْهِمْ ، فَتَشَهَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَقَالَ : إِِنَّا قَدْ عَرَفْنَا يَا أَبَا بَكْرِ فَضِيلَتَكَ ، وَمَا أَعْطَاكَ اللَّهُ ، وَلَمْ أَنْفَسْ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِِلَيْكَ ، وَلَكِنَّكَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالأَمْرِ ، وَكُنَّا نَرَى أَنَّ لَنَا حَقًّا لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُ أَبَا بَكْرِ حَتَّى فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَكْرٍ ، فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِِلَيَّ مِنْ أَنْ أَصِلَ أَهْلِي وَقَرَابَتِي ، وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الأَمْوَالِ ، فَلَمْ آلُ فِيهَا عَنِ الْخَيْرِ ، وَلَمْ أَتْرُكْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهَا إِِلا صَنَعْتُهُ ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لأَبِي بَكْرٍ : مَوْعِدُكَ الْعَشِيَّةُ لِلْبَيْعَةِ ، فَلَمَّا صَلَّى أَبُو بَكْرٍ صَلاةَ الظُّهْرِ ، رَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَتَشَهَّدَ ، ثُمَّ ذَكَرَ شَأْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَتَخَلُّفَهُ عَنِ الْبَيْعَةِ ، وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِِلَيْهِ ، ثُمَّ اسْتَغْفَرَ ، وَتَشَهَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَكْرٍ وَحُرْمَتَهُ ، وَأَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَى الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةً عَلَى أَبِي بَكْرٍ ، وَلا إِِنْكَارًا لِلَّذِي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهِ ، وَلَكِنَّا كُنَّا نَرَى لَنَا فِي هَذَا الأَمْرِ نَصِيبًا ، فَاسْتَبَدَّ عَلَيْنَا بِهِ ، فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا ، فَسُرَّ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ ، وَقَالُوا : أَصَبْتَ ، وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِِلَى عَلِيٍّ قَرِيبًا حِينَ رَاجَعَ الأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں یہ بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وراثت کا مطالبہ کیا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ میں مال فے کے طور پر عطا کیا تھا اور فدک میں عطا کیا تھا اور خیبر کے خمس میں سے جو کچھ باقی بچتا تھا (اس میں سے وراثت کا مطالبہ کیا) تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”بے شک ہم (یعنی انبیاء کرام) کی وراثت تقسیم نہیں ہوتی، ہم لوگ جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے اس مال میں سے کھاتے رہیں گے۔“ (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا:) اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ کی اس صورت حال میں، میں کوئی تبدیلی نہیں کروں گا، جو صورت حال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں رہی اور میں اسے بھی اسی طرح استعمال کروں گا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے استعمال کرتے رہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں سے کوئی بھی چیز سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دینے سے انکار کر دیا۔ اس بات پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ناراض ہو گئیں اور انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے لاتعلقی اختیار کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے چھ ماہ بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ اس دوران انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بھی کوئی بات نہیں کی۔ جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے شوہر سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے انہیں رات کے وقت دفن کر دیا۔ انہوں نے اس بات کی اطلاع سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی نہیں دی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ ادا کی (یعنی پڑھائی)۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں لوگ پھر بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تعلق رکھتے تھے لیکن جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تو لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے لاتعلق ہو گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے صلح کرنے اور ان کی بیعت کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ حالانکہ ان مہینوں کے دوران انہوں نے بیعت نہیں کی تھی۔ انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ آپ ہمارے ہاں آئیں اور آپ کے ساتھ کوئی شخص نہ آئے۔ اصل میں وہ یہ بات پسند نہیں کر رہے تھے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی اس وقت موجود ہوں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ کی قسم! آپ اکیلے ان کے پاس نہیں جائیں گے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ لوگ میرے ساتھ کوئی برا سلوک نہیں کریں گے۔ اللہ کی قسم! میں ضرور ان کے پاس جاؤں گا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے پاس تشریف لے گئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا اور یہ بولے: اے ابوبکر! ہم آپ کی فضیلت سے واقف ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے (اس سے بھی واقف ہیں) ہم ایسی کسی بھلائی کا انکار نہیں کرتے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کی ہے لیکن آپ نے حکومت کے معاملے میں ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت کی وجہ سے ہم اس کے زیادہ حق دار تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسلسل سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات چیت کرتے رہے، یہاں تک کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو شروع کی تو انہوں نے یہ کہا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا میرے نزدیک اپنے ذاتی رشتہ داروں اور گھر والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ جہاں تک ان اموال کے بارے میں میرے اور آپ کے درمیان پیدا ہونے والے اختلاف کا تعلق ہے تو میں نے ان کے بارے میں بھلائی سے روگردانی نہیں کی اور میں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کچھ کرتے ہوئے دیکھا میں نے بھی وہی کیا۔ تو سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: بیعت کے لیے آپ سے شام کے وقت کا وعدہ ہے۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز ادا کی تو وہ منبر پر چڑھے۔ انہوں نے کلمہ شہادت پڑھا پھر انہوں نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے معاملے کا ذکر کیا اور ان کے بیعت سے پیچھے رہ جانے کا ذکر کیا اور اس عذر کا ذکر کیا جو انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سامنے بیان کیا تھا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دعائے مغفرت پڑھی (اور اپنی تقریر ختم کی) پھر سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا۔ انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حق کو اور ان کی حرمت کو عظیم قرار دیا اور یہ بات بتائی کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی ناراضگی کی وجہ سے یا جو فضل اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کیا ہے اس کے انکار کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ حکومت کے معاملے میں ہم یہ سمجھتے تھے کہ ہمیں بھی حصہ ملے گا تو اس حوالے سے ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ اس لیے ہمارے ذہن میں کچھ الجھن تھی۔ اس بات پر مسلمان خوش ہو گئے۔ انہوں نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا ہے۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے امر بالمعروف کی طرف رجوع کیا تو مسلمان بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قریب ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6607]

6608

Sahih Ibn Hibban #6608

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ اللَّخْمِيُّ بِعَسْقَلانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ : أَرْسَلَ إِِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : إِِنَّهُ قَدْ حَضَرَ الْمَدِينَةَ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ قَوْمِكَ ، وَإِِنَّا قَدْ أَمَرْنَا لَهُمْ بِرَضْخٍ ، فَاقْسِمْهُ بَيْنَهُمْ ، فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، مُرْ بِذَلِكَ غَيْرِي ، فَقَالَ : اقْبِضْ أَيُّهَا الْمَرْءُ ، قَالَ : فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِِذْ جَاءَهُ مَوْلاهُ يَرْفَأُ ، فَقَالَ : هَذَا عُثْمَانُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ، قَالَ : وَلا أَدْرِي أَذَكَرَ طَلْحَةً أَمْ لا ، يَسْتَأْذِنُونَ عَلَيْكَ ، قَالَ : ائْذَنْ لَهُمْ ، قَالَ : ثُمَّ مَكَثَ سَاعَةً ، ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ : الْعَبَّاسُ ، وَعَلِيٌّ يَسْتَأْذِنَانِ عَلَيْكَ ، فَقَالَ : ائْذَنْ لَهُمَا ، فَلَمَّا دَخَلَ الْعَبَّاسُ ، قَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا ، هُمَا حِينَئِذٍ يَخْتَصِمَانِ فِيمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَمْوَالِ بَنِي النَّضِيرِ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : اقْضِ بَيْنَهُمَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، وَأَرِحْ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ ، فَقَدْ طَالَتْ خُصُومَتُهُمَا ، فَقَالَ عُمَرُ : أَنْشُدُكُمَا اللَّهَ الَّذِي بِإِِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا نُورَثُ ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ " ؟ ، قَالُوا : قَدْ قَالَ ذَاكَ ، ثُمَّ قَالَ لَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقَالا : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِِنِّي أُخْبِرُكُمْ عَنْ هَذَا الْفَيْءِ ، إِِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا خَصَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ يُعْطِهِ غَيْرَهُ ، فَقَالَ : وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلا رِكَابٍ ، فَكَانَتْ هَذِهِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً ، وَاللَّهِ مَا حَازَهَا دُونَكُمْ وَلا اسْتَأْثَرَهَا عَلَيْكُمْ ، لَقَدْ قَسَمَهَا بَيْنَكُمْ ، وَبَثَّهَا فِيكُمْ حَتَّى بَقِيَ مَا بَقِيَ مِنَ الْمَالِ ، فَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ سَنَةً ، وَرُبَّمَا قَالَ مَعْمَرٌ : يَحْبِسُ مِنْهَا قُوتَ أَهْلِهِ سَنَةً ، ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ مَجْعَلَ مَالِ اللَّهِ ، فَلَمَّا قَبَضَ اللَّهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا أَوْلَى بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ ، أَعْمَلُ فِيهَا مَا كَانَ يَعْمَلُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى عَلِيٍّ ، وَالْعَبَّاسِ ، قَالَ : وَأَنْتُمَا تَزْعُمَانِ أَنَّهُ كَانَ فِيهَا ظَالِمًا فَاجِرًا ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ صَادِقٌ بَارٌّ تَابِعٌ لِلْحَقِّ ، ثُمَّ وُلِّيتُهَا بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ سَنَتَيْنِ مِنْ إِِمَارَتِي ، فَعَمِلْتُ فِيهَا بِمِثْلِ مَا عَمِلَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ ، وَأَنْتُمَا تَزْعُمَانِ أَنِّي فِيهَا ظَالِمٌ فَاجِرٌ ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي فِيهَا صَادِقٌ بَارٌّ تَابِعٌ لِلْحَقِّ ، ثُمَّ جِئْتُمَانِي ، جَاءَنِي هَذَا ، يَعْنِي : الْعَبَّاسَ ، يَبْتَغِي مِيرَاثَهُ مِنِ ابْنِ أَخِيهِ ، وَجَاءَنِي هَذَا ، يَعْنِي : عَلِيًّا ، يَسْأَلُنِي مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ ، فَقُلْتُ لَكُمَا : إِِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لا نُورَثُ ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ " ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أَدْفَعَهُ إِِلَيْكُمَا ، فَأَخَذْتُ عَلَيْكُمَا عَهْدَ اللَّهِ وَمِيثَاقَهُ لَتَعْمَلانِ فِيهَا بِمَا عَمِلَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَأَنَا مَا وُلِّيتُهَا ، فَقُلْتُمَا : ادْفَعْهَا إِِلَيْنَا عَلَى ذَلِكَ ، تُرِيدَانِ مِنِّي قَضَاءً غَيْرَ هَذَا ، وَالَّذِي بِإِِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ ، لا أَقْضِي بَيْنَكُمَا فِيهَا بِقَضَاءٍ غَيْرِ هَذَا ، إِِنْ كُنْتُمَا عَجَزْتُمَا عَنْهَا ، فَادْفَعَاهَا إِِلَيَّ ، قَالَ : فَغَلَبَ عَلِيٌّ عَلَيْهَا ، فَكَانَتْ فِي يَدِ عَلِيٍّ ، ثُمَّ بِيَدِ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، ثُمَّ بِيَدِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، ثُمَّ بِيَدِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، ثُمَّ بِيَدِ حَسَنِ بْنِ حَسَنٍ ، ثُمَّ بِيَدِ زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ، قَالَ مَعْمَرٌ : ثُمَّ كَانَتْ بِيَدِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مالک بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے پیغام بھیجا کہ تمہاری قوم کے کچھ گھرانوں کے لوگ مدینہ منورہ آئے ہوئے ہیں، ہم نے ان کے لیے کچھ عطیات دینے کا حکم دیا ہے، تم وہ ان کے درمیان تقسیم کر دو۔ میں نے عرض کی: اے امیر المؤمنین! آپ میری بجائے کسی اور کو یہ ہدایت کر دیجیے۔ انہوں نے فرمایا: اے آدمی! تم اسے اپنے قبضے میں لو۔ راوی کہتے ہیں: میں وہاں بیٹھا ہی ہوا تھا کہ اسی دوران سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا غلام یرفا آیا، اس نے کہا: سیدنا عثمان، سیدنا عبدالرحمن بن عوف، سیدنا سعد بن ابی وقاص اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم تشریف لائے ہیں، (راوی بیان کرتے ہیں) مجھے یاد نہیں ہے کہ اس نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا تھا یا نہیں کیا تھا، وہ لوگ اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: انہیں اندر آنے کی اجازت دے دو۔ راوی کہتے ہیں: تھوڑی دیر بعد وہ غلام پھر آیا اور کہا: سیدنا عباس اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان دونوں کو اندر آنے کی اجازت دے دو۔ جب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اندر آئے تو انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ میرے اور ان صاحب کے درمیان فیصلہ کر دیجیے۔ ان دونوں صاحبان کا اس وقت اس چیز کے بارے میں اختلاف ہو گیا تھا جو اللہ تعالیٰ نے بنو نضیر کے اموال میں سے اپنے رسول کو مال فے کے طور پر عطا کیا تھا۔ حاضرین نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ ان دونوں صاحبان کے درمیان فیصلہ کر دیجیے اور ان میں سے ہر ایک کو دوسرے کی طرف سے مطمئن کر دیجیے کیونکہ ان کا اختلاف طویل ہو چکا ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ دونوں کو اس اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں جس کے حکم کے تحت آسمان اور زمین قائم ہیں، کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”ہماری وراثت نہیں ہوتی، ہم جو چھوڑ کے جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔“؟ انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے یہی کلمہ کہا تو ان دونوں نے یہی جواب دیا: جی ہاں۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ لوگوں کو اس مال فے کے بارے میں بتاتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے بطور خاص اپنے نبی کو عطا کیا تھا، وہ اس نے اپنے نبی کے سوا کسی کو عطا نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ﴾ [سورة الحشر: 6] ”اور وہ چیز اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مال فے کے طور پر عطا کی ہے، اس کے بارے میں تم نے اپنے گھوڑے اور سواریاں نہیں دوڑائی ہیں۔“ تو یہ چیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص تھی۔ اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو چھوڑ کر اسے اپنے لیے نہیں رکھا اور نہ ہی اس کے بارے میں آپ لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کو آپ کے درمیان تقسیم کیا، اسے آپ کے درمیان پھیلایا یہاں تک کہ اس مال میں سے یہ تھوڑا سا حصہ باقی رہ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے اپنے گھر والوں کے لیے سال بھر کی خوراک کا انتظام کرتے تھے۔ بعض اوقات معمر نامی راوی نے یہاں یہ لفظ نقل کیے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے اپنے گھر والوں کی سال بھر کی خوراک کو روک کر رکھتے تھے اور جو مال باقی بچ جاتا تھا اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے کا سب سے زیادہ حق دار ہوں، میں اس بارے میں وہی کروں گا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کرتے رہے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا علی اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے: آپ دونوں صاحبان یہ گمان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس بارے میں ظلم کرنے والے اور گناہ کرنے والے تھے، حالانکہ اللہ جانتا ہے کہ وہ سچے تھے، نیکی کرنے والے تھے، حق کے پیروکار تھے۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد مجھے اس کا نگران بنایا گیا، یہ میری حکومت کے دو سال کے عرصے کی بات ہے، میں نے بھی اس کے بارے میں وہی کچھ کیا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کے بارے میں کرتے رہے۔ آپ دونوں صاحبان کا یہ گمان تھا کہ میں اس کے بارے میں ظلم کرنے والا اور گناہ کرنے والا ہوں، حالانکہ اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے کہ میں اس کے بارے میں سچا تھا، نیکوکار تھا، حق کی پیروی کرنے والا تھا، پھر آپ دونوں صاحبان میرے پاس آئے۔ یہ صاحب یعنی سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تشریف لائے، یہ اپنے بھتیجے کی وراثت کے طلب گار تھے اور یہ صاحب یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور یہ اپنی بیوی کی وراثت کا مجھ سے مطالبہ کر رہے تھے، تو میں نے آپ دونوں سے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ہم لوگوں کی وراثت نہیں ہوتی، ہم جو چھوڑ کر جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔“ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) اس کے بعد مجھے یہ مناسب لگا کہ میں اسے آپ دونوں کے سپرد کر دوں، میں نے آپ دونوں سے اللہ کے نام کا عہد اور پختہ وعدہ لیا کہ آپ اس کے بارے میں وہی عمل کرتے رہیں گے جو اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا اور خلیفہ بننے کے بعد میں نے کیا، تو آپ دونوں صاحبان نے یہ کہا کہ آپ اس شرط پر یہ ہمارے سپرد کر دیں۔ اب آپ اس کے بارے میں دوسرے فیصلے کے طلب گار ہیں؟ اس ذات کی قسم! جس کے حکم کے تحت آسمان اور زمین قائم ہیں، میں آپ دونوں کے درمیان اس کے بارے میں اس کے علاوہ اور کوئی فیصلہ نہیں دوں گا، اگر آپ دونوں اس کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے تو آپ یہ میرے سپرد کر دیں۔ راوی کہتے ہیں: اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس وہ زمینیں آ گئیں، پھر وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہیں، پھر سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہیں، پھر سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ہاتھ میں رہیں، پھر امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہیں، پھر سیدنا حسن بن حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہیں، پھر سیدنا زید بن حسن کے پاس رہیں۔ معمر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ پھر سیدنا عبداللہ بن حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6608]

6609

Sahih Ibn Hibban #6609

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا يَقْسِمُ وَرَثَتِي بَعْدِي دِينَارًا ، مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ عِيَالِي ، وَمَئُونَةِ عَامِلِي ، صَدَقَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میرے ورثاء میرے بعد دینار تقسیم نہیں کریں گے، اپنے گھر والوں کے خرچ اور اپنے اہل کاروں کے معاوضے کے بعد جو کچھ میں چھوڑ کر جاؤں وہ صدقہ شمار ہوگا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6609]

6610

Sahih Ibn Hibban #6610

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا يَقْسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا ، مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي ، وَمَئُونَةِ عَامِلِي ، فَهُوَ صَدَقَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میرے ورثاء دینار تقسیم نہیں کریں گے، اپنی بیویوں کے خرچ اور اپنے اہل کاروں کے معاوضے کے بعد جو کچھ میں چھوڑ کر جاؤں وہ صدقہ شمار ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6610]

6611

Sahih Ibn Hibban #6611

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : إِِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَدْنَ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ إِِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ لَهُنَّ عَائِشَةُ : أَلَيْسَ قَدْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا نُورَثُ ، مَا تَرَكْنَاهُ فَهُوَ صَدَقَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ کی ازواج نے یہ ارادہ کیا کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجیں تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ملنے والی اپنی وراثت کا مطالبہ کریں، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان لوگوں سے کہا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی: ”ہم (انبیاء کرام) کی وراثت نہیں ہوتی، ہم جو چھوڑ کر جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6611]

6612

Sahih Ibn Hibban #6612

أَخْبَرَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : وَاللَّهِلا يَقْسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا ، مَا تَرَكْتُ مِنْ شَيْءٍ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي ، وَمَئُونَةِ عَامِلِي ، فَهُوَ صَدَقَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ کی قسم! میرے ورثاء دینار تقسیم نہیں کریں گے۔ اپنی بیویوں کے خرچ اور اپنے اہل کاروں کے معاوضے کے بعد جو کچھ میں چھوڑوں گا وہ صدقہ شمار ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6612]

6613

Sahih Ibn Hibban #6613

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، عَنْ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَوْتُ ، قَالَتْ فَاطِمَةُ : وَاكَرْبَاهْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا كَرْبَ عَلَى أَبِيكِ بَعْدَ الْيَوْمِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا وقت قریب آیا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہائے کتنی تکلیف ہو رہی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کے بعد تمہارے باپ کو کبھی کوئی تکلیف نہیں ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6613]

6614

Sahih Ibn Hibban #6614

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَنْبَسِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ :اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ نِسَاؤُهُ : انْظُرْ حَيْثُ تُحِبُّ أَنْ تَكُونَ فِيهِ ، نَحْنُ نَأْتِيكَ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوَكُلُّكُنَّ عَلَى ذَلِكَ ؟ " ، قَالَتْ : نَعَمْ ، فَانْتَقَلَ إِِلَى بَيْتِ عَائِشَةَ ، فَمَاتَ فِيهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو آپ کی ازواج نے عرض کیا: آپ دیکھ لیں آپ جہاں رہنا چاہتے ہیں (وہاں منتقل ہو جائیں) ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہو جایا کریں گی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تو کیا تم سب لوگ اس بات پر متفق ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر منتقل ہو گئے اور وہیں آپ کا انتقال ہوا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6614]

6615

Sahih Ibn Hibban #6615

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ لِي أَبُو بَكْرٍ : أَيُّ يَوْمٍتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قُلْتُ : يَوْمَ الاثْنَيْنِ ، قَالَ : إِِنِّي لأَرْجُو أَنْ أَمُوتَ فِيهِ ، فَمَاتَ يَوْمَ الاثْنَيْنِ عَشِيَّةً ، وَدُفِنَ لَيْلا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال کس دن ہوا تھا؟ میں نے جواب دیا: پیر کے دن، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے یہ امید ہے کہ میرا انتقال بھی اسی دن ہو گا، چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال پیر کی شام کو ہو گیا اور انہیں رات کے وقت دفن کر دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6615]

6616

Sahih Ibn Hibban #6616

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي ، وَفِي يَوْمِي ، وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي ، وَجَمَعَ اللَّهُ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ ، دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَمَعَهُ سِوَاكٌ يَمْضَغُ ، فَأَخَذْتُهُ فَمَضَغْتُهُ ، ثُمَّ سَنَنْتُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال میرے گھر میں میری باری کے مخصوص دن میں میرے سینے اور گردن کے درمیان (ٹیک لگائے ہوئے) ہوا اللہ تعالیٰ نے میرے لعابِ دہن اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لعابِ دہن کو اکٹھا کر دیا تھا (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے) عبدالرحمن رضی اللہ عنہما گھر میں داخل ہوئے ان کے پاس مسواک تھی، جسے وہ چبا رہے تھے میں نے اس مسواک کو لیا، اسے چبایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دانتوں پر پھیرا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6616]

6617

Sahih Ibn Hibban #6617

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِي بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي ، فَدَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَلَيْهِ وَمَعَهُ سِوَاكٌ رَطْبٌ ، فَنَظَرَ إِِلَيْهِ ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ إِِلَيْهِ حَاجَةً ، فَأَخَذْتُهُ ، فَمَضَغْتُهُ ، وَقَضَمْتُهُ ، وَطَيَّبْتُهُ ، فَاسْتَنَّ كَأَحْسَنِ مَا رَأَيْتُهُ مُسْتَنًَّا ، ثُمَّ ذَهَبَ يَرْفَعُ فَسَقَطَ ، فَأَخَذْتُ أَدْعُو اللَّهَ بِدُعَاءٍ كَانَ يَدْعُو بِهِ جِبْرِيلُ أَوْ يَدْعُو بِهِ إِِذَا مَرِضَ ، فَجَعَلَ يَقُولُ : " بَلِ الرَّفِيقُ الأَعْلَى مِنَ الْجَنَّةِ " ثَلاثًا ، وَفَاضَتْ نَفْسُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتِ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَمَعَ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنَ الدُّنْيَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال میری باری کے مخصوص دن میں میرے سینے اور گردن کے درمیان ہوا۔ سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے پاس ایک تازہ مسواک تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسواک کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے، میں نے اسے لیا، اسے چبایا، اسے نرم کیا اور اسے اچھا کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے عمدہ طریقے سے مسواک کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھنے لگے لیکن گر گئے، میں نے اللہ تعالیٰ سے وہ دعا مانگنا شروع کی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے وقت سیدنا جبرائیل علیہ السلام مانگتے تھے یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود مانگتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہنا شروع کیا: «بَلِ الرَّفِيْقُ الْأَعْلٰی» ”بلکہ جنت میں رفیقِ اعلیٰ (کا میں طلب گار ہوں)۔“ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سانس رک گئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا کے آخری دن میں میرے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لعابِ دہن کو جمع کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6617]

6623

Sahih Ibn Hibban #6623

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَأَخْرَجَتْ إِِلَيْنَاإِِزَارًا غَلِيظًا مِمَّا يُصْنَعُ ظَاهِرًا بِالْيَمَنِ ، وَكِسَاءً مِمَّا يُسَمُّونَهَا الْمُلَبَّدَةَ ، فَأَقْسَمَتْ بِاللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ فِي هَذَيْنِ الثَّوْبَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبردہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے ایک موٹا تہبند نکالا جو یمن میں بنایا جاتا تھا اور ایک چادر نکالی جسے «الْمُلَبَّدَةُ» ”ملبدہ“ کہا جاتا تھا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ کی قسم اٹھا کر یہ کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ان دو کپڑوں میں ہوا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6623]

6624

Sahih Ibn Hibban #6624

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ : أَخْرَجَتْ إِِلَيْنَا عَائِشَةُإِِزَارًا مُلَبَّدًا ، وَكِسَاءً غَلِيظًا ، فَقَالَتْ : فِي هَذَا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبردہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمارے سامنے ایک ملبد تہبند اور ایک موٹی چادر نکالی اور یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ان کپڑوں میں ہوا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6624]

6625

Sahih Ibn Hibban #6625

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُجِّيَ فِي ثَوْبٍ حِبَرَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یمنی چادر میں ڈھانپ دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6625]

6626

Sahih Ibn Hibban #6626

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أُدْرِجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ حِبَرَةٍ ، ثُمَّ أُخِّرَ عَنْهُ "، قَالَ الْقَاسِمُ : إِِنَّ بَقَايَا ذَلِكَ الثَّوْبِ لَعِنْدَنَا بَعْدُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یمنی چادر میں لپیٹ دیا گیا، پھر اسے آپ سے الگ کر دیا گیا۔ قاسم بیان کرتے ہیں: اس کپڑے کا باقی حصہ بعد میں بھی ہمارے پاس موجود رہا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6626]

6627

Sahih Ibn Hibban #6627

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ أَبُو تُمَيْلَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِِسْحَاقَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَقَ بِهِ أَصْحَابُهُ ، وَشَكُّوا فِي غُسْلِهِ ، وَقَالُوا : نُجَرِّدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا نُجَرِّدُ مَوْتَانَا أَمْ كَيْفَ نَصْنَعُ ؟ ! فَأَرْسَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا عَلَيْهِمْ سِنَةً ، فَمَا مِنْهُمْ رَجُلٌ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَإِِذَا مُنَادٍ يُنَادِي مِنَ الْبَيْتِ لا يَدْرُونَ مَنْ هُوَ : أَنِاغْسِلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثِيَابَهُ ، قَالَتْ : فَغَسَّلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ قَمِيصُهُ، قَالَتْ عَائِشَةُ : لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَهُ غَيْرُ نِسَائِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ کے اصحاب کو غم نے گھیر لیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کے بارے میں ان کے درمیان سوچ پیدا ہوئی، انہوں نے کہا: کیا ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے بھی اسی طرح اتاریں گے جس طرح ہم اپنے مرحومین کے کپڑے اتارتے ہیں یا پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان پر نیند طاری کی، ان میں سے کوئی شخص ایسا باقی نہیں رہا جس نے اپنا سر اٹھایا ہوا ہو (یعنی ہر شخص اونگھ رہا تھا)، اسی دوران گھر میں سے کسی منادی نے یہ پکار کر کہا، لوگوں کو یہ پتا نہیں چل سکا کہ وہ کون تھا (اس نے یہ کہا): تم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے کپڑوں سمیت غسل دو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دیا جبکہ آپ کی قمیص آپ کے جسم پر موجود تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں مجھے بعد میں جس بات کا خیال آیا اگر وہ پہلے آ جاتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل صرف آپ کی ازواج دیتیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6627]

6628

Sahih Ibn Hibban #6628

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنِ ابْنِ إِِسْحَاقَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا اجْتَمَعُوا لِغُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفُوا بَيْنَهُمْ ، فَقَالُوا : وَاللَّهِ مَا نَدْرِي أَنُجَرِّدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا نُجَرِّدُ مَوْتَانَا ، أَوْ نُغَسِّلُهُ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ ؟ ! قَالَتْ : فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ النَّوْمَ ، حَتَّى إِِنَّ مِنْهُمْ مِنْ رَجُلٍ إِِلا ذَقْنُهُ فِي صَدْرِهِ ، ثُمَّ نَادَى مُنَادٍ مِنْ جَانِبِ الْبَيْتِ مَا يَدْرُونَ مَا هُوَ : أَنِاغْسِلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ قَمِيصُهُ ، قَالَ : فَوَثَبُوا إِِلَيْهِ وَثْبَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ ، فَغَسَّلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ قَمِيصُهُ يَصُبُّونَ عَلَيْهِ الْمَاءَ ، وَيُدْلُكُونَهُ مِنْ وَرَاءِ الْقَمِيصِ ، وَكَانَ الَّذِي أَجْلَسَهُ فِي حِجْرِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَسْنَدَهُ إِِلَى صَدْرِهِ ، قَالَتْ : فَمَا رُئِيَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ مِمَّا يُرَى مِنَ الْمَيِّتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کے لیے اکٹھے ہوئے تو ان کا اختلاف ہو گیا، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے بھی اسی طرح اتاریں جس طرح اپنے فوت شدگان کے کپڑے اتارتے ہیں یا پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر کپڑے رہنے دیں اور اسی حالت میں آپ کو غسل دے دیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر نیند طاری کر دی یہاں تک کہ ان میں سے موجود ہر شخص کی ٹھوڑی اس کے سینے سے جا لگی، پھر گھر کے کسی گوشے سے کسی منادی نے آواز دی، لوگوں کو پتا نہیں چل سکا کہ وہ کون ہے، اس نے کہا: تم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دو یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص آپ کے جسم پر موجود ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ تو ان سب لوگوں کا اس بات پر اتفاق ہو گیا، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی حالت میں غسل دیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص آپ کے جسم پر موجود تھی، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی انڈیلتے رہے اور قمیص کے نیچے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کو ملتے رہے۔ سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی گود میں بٹھایا ہوا تھا اور انہوں نے اپنے سینے کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹیک دی ہوئی تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی ایسی چیز دکھائی نہیں دی جو میت کی طرف سے دکھائی دیتی ہے (یعنی آپ کے جسم سے کوئی بول یا براز خارج نہیں ہوا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6628]

6629

Sahih Ibn Hibban #6629

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : غُطِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُلَّةٍ يَمَنِيَّةٍ كَانَتْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، ثُمَّ نُزِعَتْ مِنْهُ ، فَكُفِّنَ فِي ثَلاثَةِ أَثْوَابٍ سُحُولٍ يَمَانِيَةٍ ، لَيْسَ فِيهَا عِمَامَةٌ وَلا قَمِيصٌ، فَنَزَعَ عَبْدُ اللَّهِ الْحُلَّةَ ، وَقَالَ : أُكَفَّنُ فِيهَا ، ثُمَّ قَالَ : لَمْ يُكَفَّنْ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُكَفَّنُ فِيهَا ، فَتَصَدَّقَ بِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک یمنی حلے میں لپیٹ دیا گیا جو سیدنا عبداللہ بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کا تھا، پھر اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسمِ مبارک سے الگ کر دیا گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین یمانی سحولی کپڑوں میں کفن دیا گیا جس میں عمامہ اور قمیص شامل نہیں تھے، عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وہ حلہ اتار لیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا: مجھے اس حلے میں کفن دیا جائے، پھر بعد میں انہوں نے کہا: جس کپڑے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفن نہیں دیا گیا، اس میں مجھے کیسے کفن دیا جا سکتا ہے؟ تو انہوں نے اس کپڑے کو صدقہ کر دیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6629]

6630

Sahih Ibn Hibban #6630

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرَّقَّامُ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، وَعِمْرَانُ ، جميعا عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثَوْبٍ نَجْرَانِيٍّ ، وَرَيْطَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک نجرانی کپڑے اور دو چادروں میں کفن دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6630]

6631

Sahih Ibn Hibban #6631

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَغُنْدَرٌ ، كلاهما عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ وُضِعَ فِي قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک میں ایک سرخ چادر رکھی گئی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6631]

6632

Sahih Ibn Hibban #6632

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثَلاثَةِ أَثْوَابٍ سُحُولِيَةٍ ، وَلُحِدَ لَهُ ، وَنُصِبَ اللَّبِنُ عَلَيْهِ نَصْبًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سحولی کپڑوں میں کفن دیا گیا، آپ کے لیے لحد بنائی گئی اور اس پر کچی اینٹیں نصب کی گئیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6632]

6633

Sahih Ibn Hibban #6633

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِِسْمَاعِيلُ السُّدِّيُّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : دَخَلَ قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَبَّاسُ ، وَعَلِيٌّ ، وَالْفَضْلُ ، وَسَوَّى لَحْدَهُ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَهُوَ الَّذِي سَوَّى لُحُودَ الشُّهَدَاءِ يَوْمَ بَدْرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عباس، سیدنا علی اور سیدنا فضل رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں داخل ہوئے، انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے آپ کی لحد تیار کی، یہ وہی شخص تھا جس نے غزوہ بدر کے دن شہداء کی لحدیں تیار کی تھیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6633]

6634

Sahih Ibn Hibban #6634

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلالٍ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا كَانَالْيَوْمُ الَّذِي دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ الْمَدِينَةَ ، أَضَاءَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، أَظْلَمَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ ، وَمَا نَفَضْنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَيْدِي ، وَإِِنَّا لَفِي دَفْنِهِ ، حَتَّى أَنْكَرْنَا قُلُوبَنَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تھے تو اس دن ہر چیز روشن ہو گئی تھی، جب وہ دن آیا جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، اس دن ہر چیز تاریک ہو گئی تھی، ابھی ہم نے اپنے ہاتھوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا نہیں کیا تھا اور آپ کو دفن کر رہے تھے کہ اسی دوران ہمیں اپنے قلوب کی کیفیت تبدیل ہوتی ہوئی محسوس ہوئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6634]

6635

Sahih Ibn Hibban #6635

أَخْبَرَنَا السِّخْتِيَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُلْحِدَ وَنُصِبَ عَلَيْهِ اللَّبِنُ نَصَبًا ، وَرُفِعَ قَبْرُهُ مِنَ الأَرْضِ نَحْوًا مِنْ شِبْرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لحد بنائی گئی تھی اور اس پر کچی اینٹیں نصب کی گئی تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کو زمین سے تقریباً ایک بالشت اونچا رکھا گیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6635]

6636

Sahih Ibn Hibban #6636

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا تَرَكَ شَيْئًا يَكُونُ فِي مَقَامِهِ إِِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ إِِلا حَدَّثَ بِهِ ، حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ ، وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ ، قَدْ عَلِمَهُ أَصْحَابِي هَؤُلاءِ ، وَإِِنَّهُ لَيَكُونُ الرَّجُلُ مِنْهُ الشَّيْءُ قَدْ نَسِيَهُ ، فَأَرَاهُ فَأَذْكُرُهُ كَمَا يَذْكُرُ الرَّجُلُ وَجْهَ الرَّجُلِ إِِذَا غَابَ عَنْهُ ، فَإِِذَا رَآهُ عَرَفَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس قیام کے دوران قیامت تک ہونے والی کسی بھی چیز کو نہیں چھوڑا، ہر چیز کے بارے میں گفتگو کی؛ جس نے اسے یاد رکھنا تھا اس نے اسے یاد رکھا اور جس نے بھولنا تھا وہ بھول گیا، میرے ساتھی بھی یہ بات جانتے ہیں۔ ان میں سے کوئی شخص کوئی بات بھول چکا ہو گا لیکن جب میں اسے دیکھوں گا تو مجھے یاد آ جائے گا، جس طرح کوئی شخص کسی غیر موجود شخص کے چہرے کو یاد کرتا ہے، لیکن جب وہ اسے دیکھتا ہے تو اسے پہچان لیتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6636]

6637

Sahih Ibn Hibban #6637

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : لَقَدْقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا ، فَحَدَّثَنَا مَا هُوَ كَائِنٌ بَيْنَنَا وَبَيْنَ السَّاعَةِ ، مَا بِي أَقُولُ لَكُمْ : إِِنْ كُنْتُ وَحْدِي ، وَقَدْ كَانَ مَعِي غَيْرِي ، حَفِظَ ذَاكَ مَنْ حَفِظَهُ ، وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت سے لے کر قیامت تک جو کچھ ہونا تھا، اس کے بارے میں ہمیں بتا دیا، (سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) میں تم لوگوں سے یہ نہیں کہہ رہا کہ میں صرف تنہا تھا بلکہ میرے ساتھ دوسرے لوگ بھی تھے، ان میں سے جس نے اسے یاد رکھنا تھا اس نے یاد رکھا اور جس نے بھول جانا تھا اس نے بھلا دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6637]

6638

Sahih Ibn Hibban #6638

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، حَدَّثَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَر الْيَشْكُرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ أَخْطَبَ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ ، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَخَطَبَ حَتَّى حَضَرَتِ الظُّهْرُ ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى ، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى ، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ ، فَحَدَّثَنَا بِمَا كَانَ وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ ، فَأَعْلَمُنَا أَحْفَظُنَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوزید رضی اللہ عنہ جن کا نام عمرو بن اخطب ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا یہاں تک کہ ظہر کا وقت ہو گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ عصر کا وقت ہو گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ”جو کچھ ہو چکا ہے اور جو کچھ ہو گا،“ تو جس شخص نے اس بات کو سب سے زیادہ یاد رکھا وہ ہم میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6638]

6639

Sahih Ibn Hibban #6639

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّمَاأَجَلُكُمْ فِي أَجَلِ مَنْ خَلا مِنَ الأُمَمِ ، كَمَا بَيْنَ صَلاةِ الْعَصْرِ إِِلَى مَغَارِبِ الشَّمْسِ ، وَإِِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَرَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالا ، فَقَالَ : مَنْ يَعْمَلُ لِي إِِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ ؟ قَالَ : فَعَمِلَتِ الْيَهُودُ إِِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِِلَى صَلاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ ؟ قَالَ : فَعَمِلَتِ النَّصَارَى مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِِلَى صَلاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ ، قَالَ : ثُمَّ أَنْتُمُ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ مِنْ صَلاةِ الْعَصْرِ إِِلَى مَغَارِبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ ، قَالَ : فَغَضِبَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى ، وَقَالُوا : نَحْنُ كُنَّا أَكْثَرَ عَمَلا وَأَقَلَّ عَطَاءً ، قَالَ : هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ شَيْئًا ؟ قَالُوا : لا ، قَالَ : فَإِِنَّهُ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”دیگر امتوں کے مقابلے میں تمہارا عرصہ اس طرح ہے جیسے عصر کی نماز سے لے کر سورج غروب ہونے تک کا وقت ہوتا ہے۔ تمہاری، یہودیوں اور عیسائیوں کی مثال ایک ایسے شخص کی مانند ہے جو کچھ لوگوں کو مزدور رکھتا ہے اور یہ کہتا ہے: کون شخص ایک ایک قیراط کے عوض میں دوپہر تک میرے لیے کام کرے گا؟ تو یہودیوں نے ایک ایک قیراط کے عوض میں دوپہر تک کام کیا۔ پھر اس شخص نے کہا: کون شخص دوپہر سے لے کر عصر تک ایک ایک قیراط کے عوض میں کام کرے گا؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو عیسائیوں نے دوپہر سے لے کر عصر کی نماز تک ایک ایک قیراط کے عوض میں کام کر لیا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر تم لوگ آئے جنہوں نے عصر کی نماز سے لے کر سورج غروب ہونے تک دو دو قیراط کے عوض میں کام کیا۔ اس بات پر یہودی اور عیسائی غصے میں آ گئے، انہوں نے کہا: ہم نے تو زیادہ عمل کیا ہے اور ہمیں تھوڑا معاوضہ دیا گیا ہے! تو پروردگار نے فرمایا: کیا میں نے تمہارے حق کے حوالے سے تم پر کوئی زیادتی کی؟ وہ جواب دیتے ہیں: جی نہیں۔ تو پروردگار نے فرمایا: یہ میرا فضل ہے، جسے میں چاہوں گا اسے عطا کروں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6639]