Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 58 · Chapter 2

Book of Medicine

Hadith 6560–6600

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6560

Sahih Ibn Hibban #6560

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ ، وَلَقَدْ أُخِفْتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُخَافُ أَحَدٌ ، وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَيَّ ثَلاثٌ مِنْ بَيْنِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَمَا لِي طَعَامٌ إِِلا مَا وَارَاهُ إِِبِطُ بِلالٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ کی راہ میں مجھے جتنا ستایا گیا اتنا کسی اور کو نہیں ستایا گیا، اور اللہ کی راہ میں مجھے جتنا ڈرایا گیا اتنا کسی اور کو نہیں ڈرایا گیا ؛ اور مجھ پر لگاتار تین دن اور راتیں ایسی بھی گزریں کہ میرے پاس کھانے کے لیے کوئی ایسی چیز نہ تھی جسے بلال کی بغل چھپا سکتی ہو (یعنی بہت ہی قلیل مقدار میں کھانا تھا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6560]

6562

Sahih Ibn Hibban #6562

قَالَ : ثُمَّ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ مِنَ الْغَدِ ، فَإِِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ : يَدُ الْمُعْطِي يَدُ الْعُلْيَا ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ : أُمَّكَ وَأَبَاكَ ، أُخْتَكَ وَأَخَاكَ ، ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ " ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَؤُلاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ قَتَلُوا فُلانًَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَخُذْ لَنَا بِثَأْرِنَا مِنْهُ ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِِبْطَيْهِ ، وَقَالَ : " أَلا لا تَجْنِي أُمٌّ عَلَى وَلَدٍ ، أَلا لا تَجْنِي أُمٌّ عَلَى وَلَدٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرخ حلہ پہنا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے: ”اے لوگو! «لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہہ دو، تم کامیاب ہو جاؤ گے۔“ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے آ رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مارتا جا رہا تھا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیوں اور ٹخنوں کو لہولہان کر دیا تھا اور وہ یہ کہہ رہا تھا: ”اے لوگو! تم اس کی بات نہ مانو، یہ جھوٹ بولتا ہے۔“ (راوی کہتے ہیں:) میں نے دریافت کیا کہ یہ کون صاحب ہیں؟ تو بتایا گیا کہ یہ بنو عبدالمطلب سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان ہیں، میں نے دریافت کیا کہ جو شخص ان کے پیچھے آ کر انہیں پتھر مار رہا ہے وہ کون ہے؟ تو اس نے بتایا کہ یہ عبدالعزیٰ ابولہب ہے۔ (راوی کہتے ہیں:) جب اسلام غالب آ گیا تو ہم روانہ ہوئے، یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ کے قریب ایک جگہ پر ٹھہر گئے، ہمارے ساتھ ایک عورت بھی تھی، ابھی ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران ایک شخص ہمارے پاس آیا، اس نے دو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے، اس نے سلام کیا اور دریافت کیا: ”آپ لوگ کہاں سے آئے ہیں؟“ ہم نے جواب دیا: ”ربذہ سے۔“ (راوی کہتے ہیں:) ہمارے ساتھ اونٹ بھی تھے، اس شخص نے دریافت کیا: ”کیا تم لوگ اس اونٹ کو فروخت کرو گے؟“ ہم نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ اس نے دریافت کیا: ”کتنے کے عوض؟“ ہم نے جواب دیا: ”کھجوروں کے اتنے اور اتنے صاع کے عوض۔“ راوی کہتے ہیں کہ اس شخص سے سودا طے کر لیا اور اس نے ہمیں قیمت کم کرنے کے لیے نہیں کہا، وہ بولا: ”میں یہ لے لیتا ہوں“، پھر وہ (اس اونٹ کو لے کر) مدینہ کے اندر چلے گئے اور (ہم سے اوجھل ہو گئے)، ہم نے ایک دوسرے کو ملامت کرنا شروع کی اور کہا: ”تم نے اپنا اونٹ ایک ایسے شخص کو دے دیا ہے جس سے تم واقف ہی نہیں ہو۔“ راوی کہتے ہیں کہ اس عورت نے کہا: ”تم لوگ ایک دوسرے کو ملامت نہ کرو، کیونکہ میں نے ان صاحب کے چہرے پر ایک ایسی چیز دیکھی ہے کہ وہ تمہیں رسوائی کا شکار نہیں کریں گے، میں نے ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی جو ان کے چہرے سے زیادہ چودھویں رات کے چاند سے مشابہت رکھتی ہو۔“ راوی کہتے ہیں کہ جب شام کا وقت ہوا تو ایک شخص ہمارے پاس آیا، اس نے ہمیں سلام کیا اور بولا: ”میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام رساں ہوں، وہ یہ فرما رہے ہیں کہ تمہیں اس بات کا حق حاصل ہے کہ تم اس طرح کھاؤ کہ سیر ہو جاؤ اور اتنا ماپ لو کہ پوری ادائیگی کر لو۔“ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے کھایا یہاں تک کہ ہم سیر ہو گئے، پھر ہم نے ماپ لیا، یہاں تک کہ ہم نے پوری وصولی کر لی، پھر ہم اگلے دن مدینہ منورہ کے اندر آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرما رہے تھے: ”دینے والا ہاتھ اوپر والا ہے اور تم اپنے زیرِ کفالت افراد سے خرچ کا آغاز کرو؛ تمہاری ماں، تمہارا باپ، تمہاری بہن اور تمہارا بھائی ہے، پھر درجہ بہ درجہ قریبی لوگ ہیں۔“ پھر ایک شخص کھڑا ہوا اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بنو ثعلبہ بن یربوع نے زمانہ جاہلیت میں فلاں شخص کو قتل کر دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس سے بدلہ دلوائیں۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خبردار! ماں بچے کی غلطی کی سزا نہیں بھگتے گی، خبردار! ماں بچے کے جرم کا تاوان ادا نہیں کرے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6562]

6563

Sahih Ibn Hibban #6563

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ : وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا ، قَالَ : نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بمكة متوار ، فكان إذا صلى بأصحابه رفع صوته ، وإذا سَمِعَ ذَلِكَ الْمُشْرِكُونَ ، سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ ، فَقَالَ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ ، فَتُسْمِعَ الْمُشْرِكِينَ ، وَلا تُخَافِتْ بِهَا ، عَنْ أَصْحَابِكَ ، أَسْمِعْهُمُ الْقُرْآنَ ، وَلا تَجْهَرْ ذَلِكَ الْجَهْرَ ، وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا ، بَيْنَ الْجَهْرِ وَالْمُخَافَتَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اور تم اپنی نماز میں اپنی آواز کو زیادہ بلند بھی نہ کرو اور بالکل پست بھی نہ رکھو“ کے بارے میں نقل کرتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پوشیدہ طور پر رہ رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کو نماز پڑھاتے تھے تو بلند آواز میں تلاوت کرتے تھے، جب مشرکین اس آواز کو سنتے تھے تو وہ قرآن کو اور اسے نازل کرنے والے کو اور اسے لے کر آنے والے کو برا کہتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بات نازل فرمائی: ”تم بلند آواز میں نماز ادا نہ کرو (یعنی قرأت نہ کرو)“ یوں کہ تم مشرکین تک آواز پہنچا دو، ”اور تم اسے پست بھی نہ رکھو“ یعنی یہ کہ تمہارے ساتھیوں تک بھی آواز نہ جائے، تم انہیں آواز پہنچاؤ لیکن زیادہ بلند آواز نہ کرو ”اور تم ان کے درمیان کا راستہ تلاش کرو“ یعنی زیادہ بلند اور پست کے درمیان کا راستہ تلاش کرو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6563]

6564

Sahih Ibn Hibban #6564

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : خَرَجَ جَيْشٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَنَا أَمِيرُهُمْ ، حَتَّى نَزَلْنَا ، فَقَالَ عَظِيمٌ مِنْ عُظَمَائِهِمُ : اخْرِجُوا إِِلَيَّ رَجُلًَا يُكَلِّمُنِي وَأُكَلِّمُهُ ، فَقُلْتُ : لا يَخْرُجُ إِِلَيْهِ غَيْرِي ، فَخَرَجْتُ وَمَعِي تُرْجُمَانِي وَمَعَهُ تُرْجُمَانَهُ ، حَتَّى وُضِعَ لَنَا مِنْبَرٌ ، فَقَالَ : مَا أَنْتُمْ ؟ ، فَقُلْتُ : إِِنَّانَحْنُ الْعَرَبُ ، وَنَحْنُ أَهْلُ الشَّوْكِ وَالْقَرَظِ ، وَنَحْنُ أَهْلُ بَيْتِ اللَّهِ ، كُنَّا أَضْيَقَ النَّاسِ أَرْضًا ، وَأَشَدَّهُمْ عَيْشًا ، نَأْكُلُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ ، وَيَغِيرُ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ بِأَشَدِّ عَيْشٍ عَاشَ بِهِ النَّاسُ ، حَتَّى خَرَجَ فِينَا رَجُلٌ لَيْسَ بِأَعْظَمِنَا يَوْمَئِذٍ شَرَفًا ، وَلا أَكْثَرَنَا مَالا ، وَقَالَ : " أَنَا رَسُولُ اللَّهِ إِِلَيْكُمْ " ، يَأْمُرُنَا بِمَا لا نَعْرِفُ ، وَيَنْهَانَا عَمَّا كُنَّا عَلَيْهِ ، وَكَانَتْ عَلَيْهِ آبَاؤُنَا ، فَكَذَّبْنَاهُ ، وَرَدَدْنَا عَلَيْهِ مَقَالَتَهُ ، حَتَّى خَرَجَ إِِلَيْهِ قَوْمٌ مِنْ غَيْرِنَا ، فَقَالُوا : نَحْنُ نُصَدِّقُكَ ، وَنُؤْمِنُ بِكَ ، وَنَتَّبِعُكَ ، وَنُقَاتِلُ مَنْ قَاتَلَكَ ، فَخَرَجَ إِِلَيْهِمْ ، وَخَرَجْنَا إِِلَيْهِ ، فَقَاتَلْنَاهُ ، فَقَتَلْنَا ، وَظَهَرَ عَلَيْنَا وَغَلَبَنَا ، وَتَنَاوَلَ مَنْ يَلِيهِ مِنَ الْعَرَبِ ، فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى ظَهَرَ عَلَيْهِمْ ، فَلَوْ يَعْلَمُ مَنْ وَرَائِي مِنَ الْعَرَبِ مَا أَنْتُمْ فِيهِ مِنَ الْعَيْشِ ، لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ إِِلا جَاءَكُمْ حَتَّى يُشْرِكَكُمْ فِيمَا أَنْتُمْ فِيهِ مِنَ الْعَيْشِ ، فَضَحِكَ ، ثُمَّ قَالَ : إِِنَّ رَسُولَكُمْ قَدْ صَدَقَ ، قَدْ جَاءَتْنَا رُسُلُنَا بِمِثْلِ الَّذِي جَاءَ بِهِ رَسُولُكُمْ ، فَكُنَّا عَلَيْهِ حَتَّى ظَهَرَتْ فِينَا مُلُوكٌ ، فَجَعَلُوا يَعْمَلُونَ بِأَهْوَائِهِمْ ، وَيَتْرُكُونَ أَمْرَ الأَنْبِيَاءِ ، فَإِِنْ أَنْتُمْ أَخَذْتُمْ بِأَمْرِ نَبِيِّكُمْ ، لَمْ يُقَاتِلْكُمْ أَحَدٌ إِِلا غَلَبْتُمُوهُ ، وَلَمْ يُشَارِكْكُمْ أَحَدٌ إِِلا ظَهَرْتُمْ عَلَيْهِ ، فَإِِذَا فَعَلْتُمْ مِثْلَ الَّذِي فَعَلْنَا ، وَتَرَكْتُمْ أَمْرَ نَبِيِّكُمْ ، وَعَمِلْتُمْ مِثْلَ الَّذِي عَمِلُوا بِأَهْوَائِهِمْ ، فَخَلَّى بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ ، لَمْ تَكُونُوا أَكْثَرَ عَدَدًا مِنَّا ، وَلا أَشَدَّ مِنَّا قُوَّةً ، قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : فَمَا كَلَّمْتُ رَجُلا قَطُّ أَمْكَرَ مِنْهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مسلمانوں کا ایک لشکر روانہ ہوا، میں ان لوگوں کا امیر تھا، یہاں تک کہ ہم نے اسکندریہ میں پڑاؤ کیا تو ان کے رئیس نے یہ کہا: ایک شخص کو میرے پاس بھیجو جو میرے ساتھ بات چیت کرے اور میں اس کے ساتھ بات چیت کروں۔ تو میں نے کہا: اس کے پاس میرے علاوہ اور کوئی نہیں جائے گا۔ میں وہاں سے روانہ ہوا۔ میرے ساتھ میرا ترجمان تھا۔ اس کے ساتھ اس کا ترجمان تھا، یہاں تک کہ ہمارے لیے منبر رکھا گیا۔ اس نے دریافت کیا: تم کون لوگ ہو؟ میں نے جواب دیا: ہم عرب ہیں، ہم کانٹوں اور پتے والے لوگ ہیں (یعنی ہمارے علاقے میں سبزہ اور ہریالی نہیں ہوتی)، ہم اللہ کے گھر کے پاس رہنے والے لوگ ہیں۔ ہماری زمین سب سے زیادہ تنگ تھی اور ہماری زندگی سب سے زیادہ سخت تھی۔ ہم مردار اور خون بھی کھا لیا کرتے تھے۔ غرضیکہ ہم بدترین حالت میں تھے یہاں تک کہ ہمارے درمیان ایک صاحب کا ظہور ہوا جو اس وقت قدر و منزلت کے اعتبار سے ہم سب سے زیادہ عظیم نہیں تھے اور نہ ہی مال و دولت کے اعتبار سے زیادہ مال والے تھے۔ انہوں نے یہ کہا: ”میں اللہ کا رسول ہوں جو تمہاری طرف آیا ہوں۔“ انہوں نے ہمیں ان باتوں کا حکم دیا جن سے ہم آشنا نہیں تھے اور انہوں نے ہمیں ان چیزوں سے منع کیا جن پر ہم عمل پیرا ہوتے تھے اور جن پر ہمارے باپ دادا چلتے تھے۔ ہم نے ان کی تکذیب کی، ہم نے ان کی بات کو مسترد کر دیا، یہاں تک کہ ان کے پاس ایک قوم آئی جو ہم سے تعلق نہیں رکھتی تھی۔ انہوں نے کہا: ہم آپ کی تصدیق کرتے ہیں، ہم آپ پر ایمان لاتے ہیں، ہم آپ کی پیروی کرتے ہیں اور جو شخص آپ کے ساتھ لڑائی کرے گا، ہم اس کے ساتھ لڑیں گے۔ تو وہ رسول ان کی طرف تشریف لے گئے، پھر ہم ان کی طرف جانے کے لیے نکلے، ہم نے ان کے ساتھ جنگ کی۔ انہوں نے ہمیں قتل کیا اور ہم پر غالب آ گئے۔ اس کے بعد وہ آس پاس کے دیگر عرب قبائل کی طرف بڑھے، انہوں نے ان کے ساتھ جنگیں کیں، یہاں تک کہ ان پر بھی غالب آ گئے؛ اور میرے پیچھے موجود عربوں کو اس بات کا پتا چل جائے کہ تم لوگ کس طرح کی ناز و نعمت والی زندگی گزار رہے ہو تو وہاں موجود ہر شخص تمہارے پاس آ جائے گا اور تم لوگ جس ناز و نعمت میں ہو اس بارے میں تمہارا حصہ دار بن جائے گا۔ اس پر وہ (یعنی کفار کا امیر) ہنس پڑا، پھر وہ بولا: تمہارے رسول نے سچ کہا ہے؛ ہمارے پاس بھی اسی طرح رسول آئے تھے جس طرح تمہارے رسول تشریف لائے۔ ہم بھی ان کی ہدایت پر گامزن رہے، یہاں تک کہ ہمارے درمیان بادشاہوں نے غلبہ حاصل کر لیا، انہوں نے اپنی نفسانی خواہشات پر عمل کرنا شروع کر دیا اور انبیاء کے احکام کو ترک کر دیا؛ تو تم لوگ جب تک اپنے نبی کے حکم پر کاربند رہو گے تمہارے ساتھ جو بھی لڑے گا تم اس پر غالب آ جاؤ گے اور جو شخص تمہارا حصہ دار بننے کی کوشش کرے گا تم اس پر غالب آ جاؤ گے۔ اور جب تم لوگ وہ طرزِ عمل اختیار کرو گے جو ہم نے کیا اور تم لوگ نبی کے حکم کو ترک کر دو گے اور تم لوگ وہ عمل کرو گے جو ان لوگوں نے عمل کیا تھا جنہوں نے اپنی خواہشِ نفس کی پیروی کی تھی تو پھر تم ہمارا مقابلہ نہیں کر سکو گے، کیونکہ عددی اعتبار سے تم ہم سے زیادہ نہیں ہو اور قوت کے اعتبار سے تم ہم سے زیادہ زبردست نہیں ہو۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کبھی ایسے کسی شخص کے ساتھ گفتگو نہیں کی جو اس شخص سے زیادہ مکار ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6564]

6565

Sahih Ibn Hibban #6565

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْجَرْجَرائيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُنْدُبًا الْبَجَلِيَّ ، يَقُولُ : أَبْطَأَ جِبْرِيلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ : قَدْ وُدِّعَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جندب بجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام کچھ عرصے تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہیں ہوئے تو مشرکین نے کہنا شروع کر دیا کہ انہیں چھوڑ دیا گیا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى﴾ [سورة الضحى: 3] ”نہ تو تمہارے پروردگار نے تمہیں چھوڑا ہے اور نہ ہی ناپسند کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6565]

6566

Sahih Ibn Hibban #6566

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُنْدُبًا ، يَقُولُ : اشْتَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَةً أَوْ لَيْلَتَيْنِ ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ ، فَقَالَتْ : يَا مُحَمَّدُ ، مَا أَرَى شَيْطَانَكَ إِِلا قَدْ تَرَكَكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یا دو رات تک کھڑے نہیں ہو سکے (یعنی باہر تشریف نہیں لائے) تو ایک خاتون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا خیال ہے آپ کے شیطان نے آپ کو چھوڑ دیا ہے، تو اس بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿چاشت کے وقت کی قسم ہے اور رات کی قسم ہے جب وہ چھا جائے، تمہارے پروردگار نے نہ تو تمہیں چھوڑا ہے اور نہ ہی ناپسند کیا ہے﴾ [سورة الضحى: 1-3] ۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6566]

6567

Sahih Ibn Hibban #6567

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قُلْتُ : مَا أَكْثَرُ مَا رَأَيْتَ قُرَيْشًا أَصَابَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِيمَا كَانَتْ تُظْهِرُ مِنْ عَدَاوَتِهِ ؟ ، قَالَ : قَدْ حَضَرْتُهُمْ وَقَدِ اجْتَمَعَ أَشْرَافُهُمْ فِي الْحِجْرِ ، فَذَكَرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : مَا رَأَيْنَا مِثْلَ مَا صَبَرْنَا عَلَيْهِ مِنْ هَذَا الرَّجُلِ قَطُّ ، سَفَّهَ أَحْلامَنَا ، وَشَتَمَ آبَاءَنَا ، وَعَابَ دِينَنَا ، وَفَرَّقَ جَمَاعَتَنَا ، وَسَبَّ آلِهَتَنَا ، لَقَدْ صَبَرْنَا مِنْهُ عَلَى أَمْرٍ عَظِيمٍ ، أَوْ كَمَا قَالُوا ، فَبَيْنَا هُمْ فِي ذَلِكَ ، إِِذْ طَلَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَقْبَلَ يَمْشِي حَتَّى اسْتَلَمَ الرُّكْنَ ، فَمَرَّ بِهِمْ طَائِفًا بِالْبَيْتِ ، فَلَمَّا أَنْ مَرَّ بِهِمْ ، غَمَزُوهُ بِبَعْضِ الْقَوْلِ ، قَالَ : وَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ، ثُمَّ مَضَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا مَرَّ بِهِمُ الثَّانِيَةَ غَمَزُوهُ بِمِثْلِهَا ، فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ، ثُمَّ مَضَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَرَّ بِهِمُ الثَّالِثَةَ ، غَمَزُوهُ بِمِثْلِهَا ، ثُمَّ قَالَ : أَتَسْمَعُونَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ،لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِالذَّبْحِ " ، قَالَ : فَأَخَذَتِ الْقَوْمَ كَلِمَتُهُ حَتَّى مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِِلا لَكَأَنَّمَا عَلَى رَأْسِهِ طَائِرٌ وَاقِعٌ ، حَتَّى إِِنَّ أَشَدَّهُمْ فِيهِ وَطْأَةً قَبْلَ ذَلِكَ يَتَوَقَّاهُ بِأَحْسَنِ مَا يُجِيبُ مِنَ الْقَوْلِ ، حَتَّى إِِنَّهُ لَيَقُولُ : انْصَرِفْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، انْصَرِفْ رَاشِدًا ، فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ جَهُولا ، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى إِِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ وَأَنَا مَعَهُمْ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : ذَكَرْتُمْ مَا بَلَغَ مِنْكُمْ وَمَا بَلَغَكُمْ عَنْهُ ، حَتَّى إِِذَا بَادَأَكُمْ بِمَا تَكْرَهُونَ تَرَكْتُمُوهُ ، وَبَيْنَا هُمْ فِي ذَلِكَ ، إِِذْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَثَبُوا إِِلَيْهِ وَثْبَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ ، وَأَحَاطُوا بِهِ ، يَقُولُونَ لَهُ : أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ كَذَا وَكَذَا ، لِمَا كَانَ يَبْلُغُهُمْ عَنْهُ مِنْ عَيْبِ آلِهَتِهِمْ وَدِينِهِمْ ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ ، أَنَا الَّذِي أَقُولُ ذَلِكَ " ، قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلاً مِنْهُمْ أَخَذَ بِمَجْمَعِ رِدَائِهِ ، وَقَالَ : وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دُونَهُ يَقُولُ وَهُوَ يَبْكِي : أَتَقْتُلُونَ رَجُلا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ ؟ ! ثُمَّ انْصَرَفُوا عَنْهُ ، فَإِِنَّ ذَلِكَ لأَشُدُّ مَا رَأَيْتُ قُرَيْشًا بَلَغَتْ مِنْهُ قَطُّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحییٰ بن عروہ اپنے والد (عروہ) کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں، ان کے والد کہتے ہیں کہ میں نے دریافت کیا: قریش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی عداوت کے اظہار کے لیے جو کچھ کیا اس میں آپ نے سب سے زیادہ (شدت والی) کیا چیز دیکھی؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: ایک مرتبہ میں ان لوگوں کے ساتھ موجود تھا، ان کے معززین حطیم میں موجود تھے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا: ہم نے کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جس پر ہمیں اتنا صبر سے کام لینا پڑا ہو جتنا اس شخص کے حوالے سے لینا پڑ رہا ہے؛ انہوں نے ہمارے سمجھ دار لوگوں کو بے وقوف قرار دیا، ہمارے آباؤ اجداد کو برا کہا، ہمارے دین کو غلط قرار دیا، ہماری اجتماعیت کے ٹکڑے ٹکڑے کیے اور ہمارے معبودوں کو برا کہا؛ ہم نے ان کی طرف سے ایک بڑے معاملے پر صبر سے کام لیا ہے، یا جیسے بھی انہوں نے کہا۔ ابھی وہ لوگ وہاں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرِ اسود کا استلام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ان کے پاس سے گزرے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر آوازے کسے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر (ناپسندیدگی) کا اندازہ ہو گیا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری مرتبہ ان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آوازے کسے، جس کے (ملال) کا اندازہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ہو گیا لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیسری مرتبہ ان کے پاس سے گزرے تو ان لوگوں نے پھر اسی طرح کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے قریش کے گروہ! اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! میں تمہارے پاس ذبح «جِئْتُكُمْ بِالذَّبْحِ» ”ذبح (کی خبر)“ کے ہمراہ آیا ہوں۔“ (یعنی تم سب لوگ مارے جاؤ گے)۔ یہ سن کر انہیں سانپ سونگھ گیا، یہاں تک کہ ان میں سے ہر ایک شخص کی یہ حالت ہو گئی جیسے اس کے سر پر پرندہ بیٹھا ہوا ہے، حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی طرف سے اس سے پہلے بھی شدید صورت حال کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ نرمی سے جواب دیا کرتے تھے۔ (اتنا سخت جواب سن کر) انہوں نے یہ کہا: اے ابوالقاسم! آپ تشریف لے جائیے، آپ ایسی حالت میں تشریف لے جائیے کہ آپ رہنمائی کرنے والے ہوں۔ اللہ کی قسم! آپ تو جہالت کا مظاہرہ نہیں کرتے تھے۔ (یعنی کلام میں شدت کا مظاہرہ نہیں کرتے تھے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، یہاں تک کہ جب اگلا دن آیا تو وہ لوگ پھر حطیم میں اکٹھے ہوئے۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: تمہیں یاد ہے تم نے انہیں کیا بات کہی تھی اور انہوں نے تمہیں کیا بات کہی تھی؟ یہاں تک کہ جب انہوں نے تمہارے سامنے اس چیز کو ظاہر کیا جو تمہیں پسند نہیں آئی تو پھر تم نے انہیں چھوڑ دیا؟ ابھی یہ لوگ یہی باتیں کر رہے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو وہ سب مل کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: کیا آپ ہی نے یہ بات کہی تھی اور یہ بات کہی تھی؟ یعنی وہ باتیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے پہنچی تھیں کہ آپ ان کے معبودوں اور ان کے دین کو غلط قرار دیتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، میں نے یہ بات کہی تھی۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو پکڑا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑے ہوئے، وہ رو رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے: ﴿أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ﴾ [سورة غافر: 28] ”کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کر رہے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے؟“ پھر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر چلے گئے۔ (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) قریش کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ برے سلوک کی یہ سب سے سخت صورت حال تھی جو میں نے دیکھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6567]

6568

Sahih Ibn Hibban #6568

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ ضِمَادًا قَدِمَ مَكَّةَ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ ، وَكَانَ يَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ ، فَسَمِعَ سُفَهَاءَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يَقُولُونَ : إِِنَّ مُحَمَّدًا مَجْنُونٌ ، فَقَالَ : لَوْ أَنِّي رَأَيْتُ هَذَا الرَّجُلَ ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَشْفِيَهُ عَلَى يَدَيَّ ، قَالَ : فَلَقِيَهُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِِنِّي أَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ ، وَإِِنَّ اللَّهَ يَشْفِي عَلَى يَدَيَّ مَنْ شَاءَ فَهَلْ لَكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّالْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ ، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلا مُضِلٌّ لَهُ ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلا هَادِيَ لَهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، أَمَّا بَعْدُ " ، فَقَالَ : أَعِدْ عَلَيَّ كَلِمَاتِكَ هَذِهِ ، فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ : لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكَهَنَةِ ، وَقَوْلَ السَّحَرَةِ ، وَقَوْلَ الشُّعَرَاءِ ، فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ كَلِمَاتِكَ هَؤُلاءِ ، هَاتِ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى الإِِسْلامِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَعَلَى قَوْمِكَ ؟ " ، فَقَالَ : وَعَلَى قَوْمِي ، قَالَ : فَبَايَعَهُ ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً ، فَمَرُّوا بِقَوْمِهِ ، فَقَالَ صَاحِبُ السَّرِيَّةِ لِلْجَيْشِ : هَلْ أَصَبْتُمْ مِنْ هَؤُلاءِ شَيْئًا ؟ فَقَالُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَصَبْتُ مِنْهُمْ مِطْهَرَةً ، قَالَ : رُدُّوهَا ، فَإِِنَّ هَؤُلاءِ قَوْمُ ضِمَادٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ ضماد نامی ایک شخص جس کا تعلق ازد شنوءہ سے تھا مکہ آیا، وہ ہوا (یعنی ذہنی خرابی) کا دم کیا کرتا تھا۔ اہل مکہ کے بے وقوف لوگ یہ کہتے تھے: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جنون لاحق ہو گیا ہے، اس شخص نے کہا: اگر میں اس شخص کو دیکھ لوں تو ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ اسے میرے ذریعے شفا دے دے۔ راوی کہتے ہیں: اس کی ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی، اس نے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس ہوا (یعنی ذہنی توازن خراب ہونے) کا دم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے میرے ذریعے شفا دے دیتا ہے تو کیا آپ کو اس میں کوئی دلچسپی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَمَّا بَعْدُ» بے شک ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے۔ ہم اسی کی حمد بیان کرتے ہیں، اور اسی سے مدد طلب کرتے ہیں جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ رہنے دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اما بعد۔“ اس شخص نے کہا: آپ اپنے یہ کلمات میرے سامنے دوبارہ دہرائیے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ کلمات اس کے سامنے دہرا دیے۔ اس شخص نے کہا: میں نے کاہنوں کا کلام سنا ہے جادوگروں کا کلام سنا ہے شاعروں کا کلام سنا ہے لیکن میں نے آپ کے ان کلمات کی مانند کوئی کلام نہیں سنا۔ آپ اپنا ہاتھ آگے کیجیے تاکہ میں آپ کے دست اقدس پر اسلام کی بیعت کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہاری قوم بھی کرے گی؟“ اس نے کہا: میری قوم بھی کرے گی۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیعت لے لی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی مہم روانہ کی۔ ان لوگوں کا گزر ایک قوم کے پاس سے ہوا تو اس لشکر کے امیر نے اپنے لشکر سے کہا: کیا تم نے ان لوگوں سے کوئی چیز لی ہے؟ تو حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: میں نے ان سے ایک لوٹا لیا ہے تو امیر نے کہا: تم وہ انہیں واپس کر دو کیونکہ یہ ضماد کی قوم کے افراد ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6568]

6569

Sahih Ibn Hibban #6569

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : مَا رَأَيْتُ قُرَيْشًا أَرَادُوا قَتْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلا يَوْمًا رَأَيْتُهُمْ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عِنْدَ الْمَقَامِ ، فَقَامَ إِِلَيْهِ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ ، فَجَعَلَ رِدَاءَهُ فِي عُنُقِهِ ، ثُمَّ جَذَبَهُ حَتَّى وَجَبَ لِرُكْبَتَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَصَايَحَ النَّاسُ ، فَظُنُّوا أَنَّهُ مَقْتُولٌ ، قَالَ : وَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَشْتَدُّ حَتَّى أَخَذَ بِضَبْعَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَرَائِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : أَتَقْتُلُونَ رَجُلًَا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ ؟ ثُمَّ انْصَرَفُوا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ ، مَرَّ بِهِمْ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ،مَا أُرْسِلْتُ إِِلَيْكُمْ إِِلا بِالذَّبْحِ " ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِِلَى حَلْقِهِ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْلٍ : يَا مُحَمَّدُ ، مَا كُنْتَ جَهُولا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتَ مِنْهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے قریش کو نہیں دیکھا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کا ارادہ کیا ہو۔ صرف ایک دن ایسا ہوا، میں نے انہیں دیکھا کہ وہ خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس نماز ادا کر رہے تھے، تو عقبہ بن ابومعیط اٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گیا۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر آپ کی گردن میں ڈالی اور پھر اسے کھینچا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھٹنوں کے بل گر پڑے۔ لوگوں نے چیخنا شروع کر دیا۔ وہ یہ سمجھے کہ شاید آپ شہید ہو گئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: اسی دوران سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیچھے سے دونوں بازوؤں سے پکڑا، وہ یہ کہہ رہے تھے: ﴿أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ﴾ [سورة غافر: 28] ”کیا تم ایک ایسے شخص کو مارنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے؟“ پھر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر چلے گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کر لی تو آپ ان لوگوں کے پاس سے گزرے۔ وہ لوگ اس وقت خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے قریش کے گروہ! مجھے تمہاری طرف صرف ذبح کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے“ (یعنی تم سب لوگ میرے ساتھ جنگ کرتے ہوئے مارے جاؤ گے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اپنے حلق کی طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی، تو ابوجہل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو سختی سے جواب دینے والے نہیں ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم بھی ان میں شامل ہو گے“ (یعنی جو لوگ ان میں مارے جائیں گے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6569]

6570

Sahih Ibn Hibban #6570

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِِسْحَاقَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ وَحَوْلُهُ نَاسٌ ، إِِذْ جَاءَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ بِسَلَى جَزُورٍ ، فَقَذَفَهُ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ ، فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ ، فَأَخَذَتْهُ مِنْ ظَهْرِهِ ، وَدَعَتْ عَلَى مَنْ صَنَعَ ذَلِكَ ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلأَ مِنْ قُرَيْشٍ : أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ ، وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ ، وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ ، وَعُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ ، وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ ، أَوْ أُبَيَّ بْنَ خَلَفٍ "، شَكَّ شُعْبَةُ ، قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ يَوْمَ بَدْرٍ وَأُلْقُوا فِي بِئْرٍ ، غَيْرَ أَنَّ أُمَيَّةَ تَقَطَّعَتْ أَوْصَالُهُ ، فَلَمْ يُلْقَ فِي الْبِئْرِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کی حالت میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد کچھ لوگ موجود تھے۔ اسی دوران عقبہ بن ابومعیط ایک (اونٹ کی) اوجھ لے کر آیا اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر رکھ دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر نہیں اٹھایا، یہاں تک کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت سے اسے ہٹایا اور جس نے ایسا کیا تھا اس کے خلاف دعائے ضرر کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: ” «اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ، وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ - أَوْ أُبَيِّ بْنِ خَلَفٍ -» اے اللہ! قریش کے کچھ افراد کو اپنی گرفت میں لے؛ ابوجہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، عقبہ بن ابومعیط، امیہ بن خلف (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ابی بن خلف۔“ یہ شک شعبہ نامی راوی کو ہوا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ بدر کے موقع پر میں نے ان سب لوگوں کو دیکھا کہ ان کی (لاشوں کو) ایک کنویں میں ڈال دیا گیا، صرف امیہ کو نہیں ڈالا گیا کیونکہ اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے تھے، اس لیے اسے کنویں میں نہیں ڈالا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6570]

6571

Sahih Ibn Hibban #6571

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو جَهْلٍ : هَلْ يُعَفِّرُ مُحَمَّدٌ وَجْهَهُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ؟ فَبِالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ ، لَئِنْ رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ ، لأَطَأَنَّ عَلَى رَقَبَتِهِ ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي لِيَطَأَ عَلَى رَقَبَتِهِ ، قَالَ : فَمَا فَجَأَهُمْ إِِلا أَنَّهُ يَتَّقِي بِيَدِهِ ، وَيَنْكُصُ عَلَى عَقِبَيْهِ ، فَأَتَوْهُ ، فَقَالُوا : مَا لَكَ يَا أَبَا الْحَكَمِ ؟ ! قَالَ : إِِنَّا بَيْنِي وَبَيْنَهُ لَخَنْدَقًا مِنْ نَارٍ وَهَوْلا وَأَجْنِحَةً ، قَالَ أَبُو الْمُعْتَمِرِ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى ، إِِلَى آخِرِهِ ، فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ ، قَالَ قَوْمُهُ : سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ ، قَالَ الْمَلائِكَةُ : لا تُطِعْهُ ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِمَا أَمَرَهُ مِنَ السُّجُودِ فِي آخِرِ السُّورَةِ ، قَالَ : فَبَلَغَنِي عَنِ الْمُعْتَمِرِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ دَنَا مِنِّي لاخْتَطَفَتْهُ الْمَلائِكَةُ عُضْوًا عُضْوًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ابوجہل نے کہا: کیا تم لوگوں کے درمیان سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے کو خاک آلود کرتے ہیں؟ اس ذات کی قسم! جس کے نام کا حلف اٹھایا جاتا ہے، اگر میں نے انہیں ایسا کرتے ہوئے دیکھا تو میں ان کی گردن پر پاؤں رکھ دوں گا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آیا تاکہ آپ کی گردن پر پاؤں رکھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز ادا کر رہے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: تھوڑی ہی دیر کے بعد یوں لگا جیسے وہ اپنے ہاتھوں کے ذریعے کسی چیز سے بچنا چاہتا ہے اور وہ الٹے قدموں واپس مڑ گیا۔ دوسرے لوگ اس کے پاس آئے اور انہوں نے دریافت کیا: اے ابو الحکم! آپ کو کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا: میرے اور ان کے درمیان آگ کی ایک خندق تھی اور ہولناکی تھی اور پر تھے (یعنی غیر مرئی مخلوق تھی)۔ ابومعتمر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى﴾ [سورة العلق: 9-10] ”کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جو اس بندے کو روک رہا تھا جو نماز ادا کر رہا تھا؟“ یہ آیت آخر تک ہے۔ ﴿فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ﴾ [سورة العلق: 17] ”تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی «نَادِيَه» ”نادی“ کو بلا لے“ یعنی اپنی قوم کو بلا لے۔ ﴿سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ﴾ [سورة العلق: 18] ”ہم «الزَّبَانِيَة» ”زبانیہ“ کو بلا لیں گے“ یعنی فرشتوں کو۔ ﴿كَلَّا لَا تُطِعْهُ﴾ [سورة العلق: 19] ”تم اس کی بات نہ مانو۔“ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا کہ اس سورت کے آخر میں سجدہ تلاوت کرنا ہے۔ راوی کہتے ہیں: معتمر کے حوالے سے یہ روایت بھی ہم تک پہنچی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر وہ میرے قریب ہوتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو اچک لیتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6571]

6572

Sahih Ibn Hibban #6572

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّاقَدِمَ كَعْبُ بْنُ الأَشْرَفِ مَكَّةَ أَتَوْهُ ، فَقَالُوا : نَحْنُ أَهْلُ السِّقَايَةِ وَالسِّدَانَةِ ، وَأَنْتَ سَيِّدُ أَهْلِ يَثْرِبَ ، فَنَحْنُ خَيْرٌ أَمْ هَذَا الصُّنَيْبِيرُ الْمُنْبَتِرُ مِنْ قَوْمِهِ يَزْعُمُ أَنَّهُ خَيْرٌ مِنَّا ؟ ، فَقَالَ : أَنْتُمْ خَيْرٌ مِنْهُ ، فَنَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الأَبْتَرُ ، وَنَزَلَتْ : أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا هَؤُلاءِ أَهْدَى مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب (یہودیوں کا سردار) کعب بن اشرف مکہ آیا تو لوگ اس کے پاس آئے اور بولے: ہم سقایہ و سدانہ کی خدمات سرانجام دیتے ہیں اور آپ اہل یثرب کے سردار ہیں؛ ہم زیادہ بہتر ہیں یا یہ صاحب زیادہ بہتر ہیں جو اپنی قوم سے لاتعلق ہو چکے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہم سے بہتر ہیں؟ تو کعب بن اشرف نے کہا: تم لوگ ان سے بہتر ہو، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ﴾ ”بے شک تمہارے دشمن کا نام و نشان نہیں رہے گا“ [سورة الكوثر: 3] اور یہ آیت نازل ہوئی: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا هَؤُلَاءِ أَهْدَى مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلًا﴾ ”کیا تم نے ان لوگوں کی طرف دیکھا جنہیں کتاب میں سے حصہ دیا گیا لیکن وہ پھر بھی جبت اور طاغوت پر ایمان رکھتے ہیں اور کافروں سے کہتے ہیں کہ وہ لوگ ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہدایت یافتہ ہیں جو ایمان لائے“ [سورة النساء: 51] ۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6572]

6573

Sahih Ibn Hibban #6573

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْرَائِيلُ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَارِثِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قال : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ :اطْرُدْ هَؤُلاءِ عَنْكَ ، فَإِِنَّهُمْ وَإِِنَّهُمْ ، وَكُنْتُ أَنَا وَابْنُ مَسْعُودٍ وَرَجُلٌ مِنْ هُذَيْلٍ ، وَبِلالٌ ، وَرَجُلانِ نَسِيتُ أَحَدُهُمَا ، قَالَ : فَوَقَعَ فِي نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ ، وَحَدَّثَ بِهِ نَفْسَهُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَلا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ إِِلَى قَوْلِهِ : الظَّالِمِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم چھ آدمی تھے، تو مشرکین نے کہا: ”ان لوگوں کو اپنے سے دور کر دیں، یہ لوگ ایسے ہیں اور ویسے ہیں“، (راوی کہتے ہیں:) میں تھا، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے، ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے اور دو آدمی اور تھے جن میں سے میں ایک کو بھول چکا ہوں، راوی کہتے ہیں: تو اس بارے میں جو اللہ کو منظور تھا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذہن میں خیال آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ذہن میں سوچا (کہ ہم لوگوں کو اپنے پاس سے اٹھا دیتے ہیں) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ﴾ [سورة الأنعام: 52] ”اور تم ان لوگوں کو پرے نہ کرو جو صبح و شام اپنے پروردگار کی عبادت کرتے ہیں اور وہ صرف اس کی رضامندی چاہتے ہیں“، یہ آیت یہاں تک ہے: ﴿فَتَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ ”ظلم کرنے والے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6573]

6574

Sahih Ibn Hibban #6574

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالا : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ يَوْمَ أُحُدٍ ، وَشُجَّ وَجْهُهُ حَتَّى سَالَ الدَّمُ عَلَى وَجْهِهِ ، فَقَالَ : كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ فَعَلُوا هَذَا بِنَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِِلَى رَبِّهِمْ " ، فَنَزَلَتْ : لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ اُحد کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے دانت زخمی ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی ہو گیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے خون بہنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایسی قوم کیسے فلاح پا سکتی ہے جو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ سلوک کرتی ہے حالانکہ وہ ان کو ان کے پروردگار کی طرف دعوت دیتا ہے“ تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 128] ”تمہارا اس معاملے سے کوئی واسطہ نہیں ہے، خواہ اللہ تعالیٰ انہیں توبہ کی توفیق دے یا انہیں عذاب دے، بے شک یہ لوگ ظلم کرنے والے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6574]

6575

Sahih Ibn Hibban #6575

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ يَسْلُتُ الدَّمُ عَنْ وَجْهِ وَهُوَ يَقُولُ : كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا نَبِيَّهُمْ ، وَكَسَرُوا رَبَاعِيَتَهُ ، وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِِلَى اللَّهِ " ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوۂ اُحد کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے سے خون پونچھ رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے: ”ایسی قوم کیسے فلاح پا سکتی ہے جو اپنے نبی کو زخمی کر دیتی ہے اور ان کے دانتوں کو زخمی کر دیتی ہے حالانکہ وہ نبی ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہے؟“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ﴾ [سورة آل عمران: 128] ”تمہارا اس معاملے سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6575]

6576

Sahih Ibn Hibban #6576

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَكَىنَبِيًّا مِنَ الأَنْبِيَاءِ ضَرَبَهُ قَوْمُهُ حَتَّى أَدْمَوْا وَجْهَهُ ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ ، وَيَقُولُ : رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِِنَّهُمْ لا يَعْلَمُونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: گویا کہ میں اس وقت بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نبی کی حکایت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”ان کی قوم کے افراد نے انہیں اتنا مارا کہ ان کے چہرے کو زخمی کر دیا، تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے سے خون کو پونچھ رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ» ”اے میرے پروردگار! تو میری قوم کی مغفرت کر دے کیونکہ وہ لوگ علم نہیں رکھتے۔“” [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6576]

6577

Sahih Ibn Hibban #6577

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمِيَتْ أُصْبُعُهُ فِي بَعْضِ الْمَشَاهِدِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ أَنْتَ إِِلا أُصْبُعٌ دَمِيتَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کسی جنگ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی زخمی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ» ”تم صرف ایک انگلی ہو، جس سے خون بہہ رہا ہے اور تمہیں اللہ کی راہ میں اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6577]

6578

Sahih Ibn Hibban #6578

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَأَلُوا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ :بِأَيِّ شَيْءٍ دُووِيَ جُرْحُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ، كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَجِيءُ بِالْمَاءِ فِي شَنَّةٍ ، وَفَاطِمَةُ تَغْسِلُ الدَّمَ ، فَأُخِذَ حَصِيرٌ ، فَأُحْرِقَ ، فَدُووِيَ بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوحازم بیان کرتے ہیں: لوگوں نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم پر کس چیز کے ذریعے دوا لگائی گئی تھی؟ تو انہوں نے فرمایا: اب لوگوں میں کوئی شخص ایسا باقی نہیں رہا جو اس بارے میں مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ مشکیزے میں پانی لے کر آئے تھے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا خون کو دھو رہی تھیں، پھر چٹائی لی گئی، اسے جلایا گیا تو اسے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم پر) لگا دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6578]

6579

Sahih Ibn Hibban #6579

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو إِِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَجُلًَا سَأَلَهُ عَنْ جُرْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : جُرِحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ ، وَهُشِمَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغْسِلُ الدَّمَ ، وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْكُبُ الْمَاءَ عَلَيْهَا بِالْمِجَنِّ ، فَلَمَّا رَأَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ الْمَاءَ لا يَزِيدُ الدَّمَ إِِلا كَثْرَةً ، أَخَذَتْ قِطْعَةً مِنْ حَصِيرٍ ، فَأَحْرَقَتْهُ ، حَتَّى إِِذَا صَارَ رَمَادًا ، أَلْصَقَتْهُ بِالْجُرْحِ ، فَاسْتَمْسَكَ الدَّمُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوحازم کے صاحبزادے اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخمی ہونے کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی ہو گیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے دانت زخمی ہو گئے تھے اور خود (لوہے کی ٹوپی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر لگا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا خون کو دھو رہی تھیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ڈھال کے ذریعے اس پر پانی بہا رہے تھے، جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ پانی ڈالنے کے نتیجے میں خون زیادہ نکل رہا ہے تو انہوں نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لیا اور اسے جلایا، یہاں تک کہ جب وہ راکھ بن گئی تو انہوں نے وہ راکھ اس زخم پر لگا دی تو خون رک گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6579]

6580

Sahih Ibn Hibban #6580

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سَالِمٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلاءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الْفَلْتَانِ بْنِ عَاصِمٍ ، قَالَ : كُنَّا قُعُودًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَشَخَصَ بَصَرُهُ إِِلَى رَجُلٍ يَمْشِي فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : يَا فُلانُ ، أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " ، قَالَ : لا ، قَالَ : " أَتَقْرَأُ التَّوْرَاةَ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " وَالإِِنْجِيلَ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " وَالْقُرْآنَ " ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ أَشَاءُ لَقَرَأْتُهُ ، قَالَ : ثُمَّ أُنْشِدَهُ ، فَقَالَ :" تَجِدُنِي فِي التَّوْرَاةِ وَالإِِنْجِيلِ ؟ " ، قَالَ : نَجْدُ مِثْلَكَ ، وَمَثَلَ أُمَّتِكَ ، وَمَثَلَ مُخْرِجَكَ ، وَكُنَّا نَرْجُو أَنْ تَكُونَ فِينَا ، فَلَمَّا خَرَجْتَ ، تَخَوَّفْنَا أَنْ تَكُونَ أَنْتَ ، فَنَظَرْنَا ، فَإِِذَا لَيْسَ أَنْتَ هُوَ ، قَالَ : " وَلِمَ ذَاكَ ؟ " قَالَ : إِِنَّ مَعَهُ مِنْ أُمَّتِهِ سَبْعِينَ أَلْفًا ، لَيْسَ عَلَيْهِمْ حِسَابٌ وَلا عِقَابَ ، وَإِِنَّ مَا مَعَكَ نَفَرٌ يَسِيرٌ ، قَالَ : " فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لأَنَا هُوَ ، وَإِِنَّهَا لأُمَّتِي ، وَإِِنَّهُمْ لأَكْثَرُ مِنْ سَبْعِينَ أَلْفًا ، وَسَبْعِينَ أَلْفًا ، وَسَبْعِينَ أَلْفًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی طرف دیکھا جو مسجد میں چل رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے جواب دیا: جی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم تورات کی تلاوت کرتے ہو؟“ اس نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”انجیل کی؟“ اس نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”قرآن کی؟“ اس نے کہا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اگر میں چاہوں تو اس کا علم بھی حاصل کر لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں، کیا تم نے میرا ذکر تورات اور انجیل میں پایا ہے؟“ تو اس نے بتایا: ہمیں (تورات میں) آپ کا، آپ کی اُمت کا، آپ کے نکلنے کا (یا ہجرت کے مقام کا) ذکر ملتا ہے اور ہمیں یہ امید تھی کہ آپ ہمارے درمیان (یعنی یہودیوں کے درمیان) مبعوث ہوں گے، لیکن جب آپ کا ظہور ہوا تو ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ وہ آپ نہ ہوں، لیکن جب ہم نے اس بارے میں تحقیق کی تو وہ آپ نہیں ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”وہ کیوں؟“ اس نے کہا: اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نبی کے ہمراہ ان کی اُمت کے ستر ہزار ایسے لوگ ہوں گے جن پر کوئی حساب نہیں ہوگا اور انہیں کوئی عذاب نہیں ہوگا، جب کہ آپ کے ساتھ تو بہت تھوڑے سے لوگ ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، وہ (نبی جس کا ذکر تورات اور انجیل میں ہے) وہ میں ہی ہوں اور یہ میری اُمت ہے اور (اس کے جنت میں داخل ہونے والے) لوگوں کی تعداد (ستر ہزار اور مزید ستر ہزار اور مزید ستر ہزار سے بھی زیادہ ہوگی۔)“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6580]

6581

Sahih Ibn Hibban #6581

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ حِمَارًا وَعَلَيْهِ إِِكَافٌ وَتَحْتَهُ قَطِيفَةٌ ، فَرَكِبَ وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَهُوَ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فِي بَنِي الْحَارِثِ بنِ الْخَزْرَجِ ، وَذَلِكَ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ ، حَتَّى مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ أَخْلاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ وَعَبْدَةُ الأَوْثَانِ وَالْيَهُودُ ، وَمِنْهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَلُولٍ ، وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ ، فَلَمَّا غَشِيَتِ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ ، خَمَّرَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ ، ثُمَّ قَالَ : لا تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا ،فَسَلَّمَ عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَوَقَفَ عَلَيْهِمْ ، فَدَعَاهُمْ إِِلَى اللَّهِ ، وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيِّ ابْنِ سَلُولٍ : أَيُّهَا الْمَرْءُ ، لأَحْسَنُ مِنْ هَذَا إِِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا ، فَلا تُؤْذِنَا فِي مَجَالِسِنَا ، وَارْجِعْ إِِلَى رَحْلِكَ ، فَمَنْ جَاءَكَ مِنَّا فَاقْصُصْ عَلَيْهِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ : بَلِ اغْشَنَا فِي مَجَالِسِنَا ، فَإِِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ ، فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْيَهُودُ حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَثُورُوا ، فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَتُوا ، ثُمَّ رَكِبَ دَابَّتَهُ ، فَدَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، وَقَالَ : أَلَمْ تَسْمَعَ مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ ؟ يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبِيٍّ ، قَالَ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اعْفُ ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَاكَ اللَّهُ ، وَلَقَدِ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ الْبُحَيْرَةِ عَلَى أَنْ يُتَوِّجُوهُ بِالْعِصَابَةِ ، فَلَمَّا رَدَّ اللَّهُ ذَلِكَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَهُ ، شَرِقَ بِذَلِكَ ، فَذَلِكَ الَّذِي عَمِلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ ، فَعَفَا عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان موجود تھا اور اس کے نیچے چادر تھی۔ آپ نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ آپ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لیے بنو حارث کے محلے کی طرف تشریف لے گئے۔ یہ غزوہ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے۔ آپ کا گزر ان کی ایک محفل سے ہوا جس میں کچھ مسلمان اور مشرکین، بتوں کے پجاری اور یہودی بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں عبداللہ بن ابی بھی تھا۔ اس محفل میں سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ جب اس جانور کے پاؤں کی غبار اس محفل تک پہنچی تو عبداللہ نے اپنی چادر اپنی ناک پر رکھ لی، پھر اس نے کہا: ”ہم پر غبار نہ اڑائیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو سلام کیا، ان لوگوں کے پاس ٹھہر گئے، آپ نے ان لوگوں کو اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی اور ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی، تو عبداللہ بن اُبی نے کہا: ”اے صاحب! آپ جو باتیں کر رہے ہیں، اگر وہ سچی ہیں تو زیادہ مناسب یہ ہے کہ آپ ہمیں ہماری محفل میں تکلیف نہ پہنچائیں۔ آپ اپنی رہائشی جگہ پر تشریف لے جائیں، ہم میں سے جو شخص آپ کے پاس آیا کرے آپ اس کے سامنے یہ سب کچھ بیان کر دیا کریں۔“ اس پر سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”بلکہ آپ ہمارے ہاں ہماری محفل میں تشریف لایا کریں، ہمیں یہ بات پسند ہے۔“ اس بات پر مسلمانوں، مشرکین اور یہودیوں کے درمیان تکرار ہو گئی، یہاں تک کہ ان لوگوں نے لڑنے کا ارادہ کر لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں مسلسل خاموش کروانے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ لوگ خاموش ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لے آئے۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے سنا کہ ابوحباب نے کیا کہا ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عبداللہ بن ابی تھا، ”اس نے یہ یہ بات کہی ہے۔“ تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اس سے درگزر کیجیے۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو مرتبہ اور مقام عطا کیا ہے، اس سے پہلے یہاں کے رہنے والے لوگوں نے اس بات پر اتفاق کر لیا تھا کہ اسے یہاں کا بڑا سردار بنا دیں گے، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی تشریف آوری کے ذریعے اس کی یہ خواہش پوری نہیں کی تو وہ اس بات پر جل بھن گیا۔ اسی وجہ سے اس نے یہ طرزِ عمل اختیار کیا جو آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے۔ (راوی کہتے ہیں:) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے درگزر کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6581]

6582

Sahih Ibn Hibban #6582

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًَا مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ : يَا لِلأَنْصَارِ ، وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ : يَا لِلْمُهَاجِرِينَ ، قَالَ : فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ ، فَقَالَ : مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ ؟ " ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَسَعَ رَجُلًَا مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ : " دَعُوهَا ، فَإِِنَّهَا مُنْتِنَةٌ " ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيِّ بْنِ سَلُولٍ : قَدْ فَعَلُوهَا ، لَئِنْ رَجَعْنَا إِِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ ، فَقَالَ عُمَرُ : دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبُ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ ، فَقَالَ : " دَعْهُ ، لا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِِنَّهَا مُنْتِنَةٌ " ، يُرِيدُ : أَنَّهُ لا قِصَاصَ فِي هَذَا ، وَكَذَلِكَ قَوْلُهُمْ : فَإِِنَّهَا ذَمِيمَةٌ وَمَا أَشْبَهَهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مہاجر اور ایک انصاری نے ایک دوسرے کی پٹائی کی۔ انصاری نے کہا: ”اے انصار! (میری مدد کے لیے آؤ)“، مہاجر نے کہا: ”اے مہاجرین! (میری مدد کے لیے آؤ)“۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ زمانہ جاہلیت کی طرح پکارنے کا کیا معاملہ ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک مہاجر نے ایک انصاری کو مارا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس چیز کو چھوڑ دو کیونکہ یہ «مُنْتِنَةٌ» ”بودار“ ہے۔“ اس پر عبداللہ بن ابی نے کہا: ”انہوں نے ایسا کیا ہے، ﴿لَئِن رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ﴾ [سورة المنافقون: 8] ”جب ہم مدینہ واپس جائیں گے تو ہم میں سے عزت دار لوگ وہاں سے ذلیل لوگوں کو نکال دیں گے““، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے موقع دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو ورنہ لوگ یہ کہیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو قتل کروا دیتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”یہ چیز بودار ہے“ اس سے آپ کی مراد یہ تھی کہ اس میں قصاص نہیں ہوگا۔ اسی طرح لوگوں کا یہ کہنا: ”یہ چیز قابلِ مذمت ہے“ یا اس کی مانند جو دیگر الفاظ ہیں (ان سے یہی مراد ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6582]

6583

Sahih Ibn Hibban #6583

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَحَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودِيٌّ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ ، يُقَالُ لَهُ : لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ ، حَتَّى كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَيَّلُ إِِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّيْءَ وَمَا يَفْعَلُهُ ، حَتَّى إِِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ دَعَا ، ثُمَّ قَالَ : يَا عَائِشَةُ ،أَشَعُرْتِ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ ؟ قَدْ جَاءَنِي رَجُلانِ ، فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي ، وَجَلَسَ الآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ ، فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي : مَا وَجَعُ الرَّجُلِ ؟ قَالَ : مَطْبُوبٌ ، قَالَ : وَمَنْ طَبَّهُ ؟ قَالَ : لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ ، قَالَ : فِي أَيِّ شَيْءٍ ؟ قَالَ : فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ وَجُفِّ طَلْعَةِ ذَكَرٍ ، قَالَ : وَأَيْنَ هُوَ ؟ قَالَ : فِي بِئْرِ ذِي ذَرْوَانَ " ، قَالَ : فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، فَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ ، وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُؤوسُ الشَّيَاطِينِ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَهَلا أَحْرَقْتَهُ أَوْ أَخْرَجْتَهُ ؟ قَالَ : " أَمَّا أَنَا ، فَقَدْ عَافَانِيَ اللَّهُ ، وَكَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَيْئًا " ، فَأَمَرَ بِهَا فَدُفِنَتْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بنو زریق سے تعلق رکھنے والے ایک یہودی، جس کا نام لبید بن اعصم تھا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں محسوس ہوتا کہ آپ نے کوئی کام کیا ہے حالانکہ آپ نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا، ایک دن اور ایک رات تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی کیفیت رہی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگتے رہے پھر دعا مانگتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! کیا تمہیں پتا ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے اس چیز کا جواب دے دیا ہے جس کے بارے میں میں نے اس سے دریافت کیا تھا؟ میرے پاس دو آدمی (یعنی دو فرشتے) آئے، ان میں سے ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے قریب بیٹھ گیا، جو میرے پاؤں کے قریب بیٹھا تھا اس نے میرے سرہانے موجود شخص سے دریافت کیا: ان صاحب کو کیا تکلیف ہے؟ اس نے جواب دیا: ان پر جادو ہوا ہے، اس نے دریافت کیا: ان پر کس نے جادو کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا: لبید بن اعصم نے، پہلے نے دریافت کیا: کس چیز میں کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا: کنگھی میں اور کنگھی میں لگے ہوئے بالوں میں اور نر کھجور کے شگوفے میں، پہلے نے دریافت کیا: وہ کہاں ہے؟ دوسرے نے جواب دیا: ذی زروان کے کنویں میں ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب میں سے کچھ لوگوں کے ہمراہ اس کنویں کے پاس آئے، جب آپ وہاں سے واپس تشریف لائے تو آپ نے فرمایا: ”اے عائشہ! اس کا پانی یوں تھا جیسے اس میں مہندی گھول دی گئی ہو اور وہاں کے کھجوروں کے درختوں کے سر شیطان کے سروں کی طرح تھے“، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اسے جلوا کیوں نہیں دیا یا نکلوا کیوں نہیں دیا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے عافیت عطا کی تو مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ اس کے حوالے سے لوگوں میں کوئی خرابی پیدا کروں“، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ان چیزوں کو دفن کر دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6583]

6584

Sahih Ibn Hibban #6584

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : سُحِرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَحَرَهُ رَجُلٌ مِنْ يَهُودِ بَنِي زُرَيْقٍ ، يُقَالُ لَهُ : لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ ، حَتَّى كَانَ يُخَيَّلُ إِِلَيْهِ أَنَّهُ فَعَلَ الشَّيْءَ وَلَمْ يَفْعَلْهُ ، حَتَّى إِِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ لَيْلَةٍ ، قَالَ : يَا عَائِشَةُ ،أَشَعُرْتِ أَنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ ؟ أَتَانِي مَلَكَانِ ، فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي ، وَالآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : مَا وَجَعُ الرَّجُلِ ؟ فَقَالَ الآخَرُ : مَطْبُوبٌ ، فَقَالَ : وَمَنْ طَبَّهُ ؟ قَالَ : لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ ، قَالَ : فِي أَيِّ شَيْءٍ ؟ ، قَالَ : فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ وَجُفِّ طَلْعِ نَخْلَةٍ ذَكَرٍ ، قَالَ : وَأَيْنَ هُوَ ؟ قَالَ : فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ " ، قَالَتْ : وَأَتَاهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ مِنَ الصَّحَابَةِ ، فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، كَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ ، وَكَأَنَّ رَأْسَ نَخْلِهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلا اسْتَخْرَجْتَهَا ؟ قَالَ : " قَدْ عَافَانِيَ اللَّهُ ، وَكَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مِنْهُ شَرًّا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا گیا۔ بنو زریق سے تعلق رکھنے والے ایک یہودی شخص نے آپ پر جادو کیا۔ اس شخص کا نام لبید بن اعصم تھا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے آپ نے کوئی کام کیا ہے حالانکہ آپ نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا۔ ایک دن یہی حالت رہی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عائشہ! کیا تمہیں پتہ ہے میں نے اللہ تعالیٰ سے جس چیز کے بارے میں دریافت کیا تھا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے بارے میں بتا دیا ہے۔ میرے پاس دو فرشتے آئے۔ ان میں سے ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے قریب بیٹھ گیا۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے دریافت کیا: ان صاحب کو کیا تکلیف ہے؟ دوسرے نے جواب دیا: ان پر جادو ہوا ہے۔ پہلے نے دریافت کیا: ان پر کس نے جادو کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا: لبید بن اعصم نے۔ پہلے نے دریافت کیا: کس چیز میں کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا: کنگھی اور کنگھی میں لگے ہوئے بالوں میں اور نر کھجور کے شگوفے میں۔ پہلے نے دریافت کیا: وہ کہاں ہے؟ دوسرے نے جواب دیا: ذروان کے کنویں میں ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کرام کے ہمراہ وہاں تشریف لے گئے (واپس آ کر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! اس کنویں کا پانی یوں تھا جیسے اس میں مہندی گھولی ہوئی ہو اور وہاں کے کھجوروں کے درختوں کے سرے یوں تھے جیسے شیاطین کے سر ہوں۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اسے نکلوا کیوں نہیں دیا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے عافیت عطا کی تو مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں اس کے حوالے سے مسلمانوں کے درمیان کوئی خرابی پھیلاؤں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6584]

6585

Sahih Ibn Hibban #6585

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، وَمَنْصُورٌ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ يُحَدِّثُ فِي كِنْدَةَ ، قَالَ : يَجِيءُ دُخَانٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَأْخُذُ بِأَسْمَاعِ الْمُنَافِقِينَ وَأَبْصَارِهِمْ ، وَيَأْخُذُ الْمُؤْمِنَ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ ، قَالَ : فَفَزِعْنَا ، فَأَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : وَكَانَ مُتَّكِئًا ، فَغَضِبَ ، فَجَلَسَ ، وَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ عَلِمَ شَيْئًا ، فَلْيَقُلْ بِهِ ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ شَيْئًا ، فَلْيَقُلِ : اللَّهُ أَعْلَمُ ، فَإِِنَّ مِنَ الْعِلْمِ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لَمَّا لا يَعْلَمُ لا أَعْلَمُ ، فَإِِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ ، إِِنَّ قُرَيْشًا دَعَا عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسِنِي يُوسُفَ " ، فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَتَّى هَلَكُوا فِيهَا ، فَأَكَلُوا الْمَيْتَةَ وَالْعِظَامَ ، وَيَرَى الرَّجُلُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ ، فَجَاءَهُ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، جِئْتَ تَأْمُرُ بِصِلَةِ الرَّحِمِ ، وَقَوْمُكَ هَلَكُوا ، فَادْعُ اللَّهَ ، فَقَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ : فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ ، إِِلَى قَوْلِهِ : إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ ، فَيَكْشِفُ عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِِذَا جَاءَ ، ثُمَّ عَادُوا إِِلَى كُفْرِهِمْ ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ : يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى ، فَذَلِكَ يَوْمُ بَدْرٍ ، فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا ، يَوْمَ بَدْرٍ ، وَ الم غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ ، وَالرُّومُ قَدْ مَضَى ، وَقَدْ مَضَتِ الأَرْبَعُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسروق بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص کندہ میں حدیث بیان کر رہا تھا کہ قیامت کے دن دھواں آئے گا تو وہ منافقین کی سماعت اور بصارت کو اپنی گرفت میں لے لے گا جبکہ مومن کو اس سے زکام کی سی کیفیت محسوس ہو گی، راوی کہتے ہیں کہ ہم اس بات سے گھبرا گئے پھر میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا (انہیں یہ بات بتائی)، وہ پہلے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، وہ غصے میں آ گئے اور پھر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے، انہوں نے کہا: اے لوگو! جو شخص کسی چیز کے بارے میں علم رکھتا ہو وہ اس کے مطابق بیان کر دے اور جو شخص علم نہ رکھتا ہو وہ یہ کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے کیونکہ علم ہونے میں یہ بات شامل ہے کہ آدمی کو جس چیز کے بارے میں علم نہیں ہے وہ اس کے بارے میں یہ کہہ دے: ”میں نہیں جانتا“، بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمایا ہے: ﴿قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ﴾ [سورة ص: 86] ”تم یہ فرما دو کہ میں اس پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں چاہتا اور نہ ہی میں بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں“، (پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وضاحت کی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے خلاف دعائے ضرر کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ» ”اے اللہ! تو ان لوگوں کے خلاف میری مدد کر (قحط کے) ان سات سالوں کے ذریعے جو سیدنا یوسف علیہ السلام کے زمانے کے (قحط کے) سات سالوں کی طرح ہوں“، (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) تو ان لوگوں کو قحط سالی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا، یہاں تک کہ وہ لوگ اس قحط سالی کے دوران ہلاکت کا شکار ہونے لگے، وہ مردار اور ہڈیاں تک کھانے لگے، ان میں سے کوئی شخص جب آسمان کی طرف دیکھتا تھا تو اسے (بھوک کی شدت کی وجہ سے) دھواں سا محسوس ہوتا تھا، ابوسفیان بن حرب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلہ رحمی کا حکم دینے کے لیے تشریف لائے ہیں جبکہ آپ کی قوم کے لوگ ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس موقع پر) یہ آیات تلاوت فرمائیں: ﴿فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ * يَغْشَى النَّاسَ ۖ هَٰذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة الدخان: 10-11] ”تم اس دن کا انتظار کرو جب آسمان واضح دھواں لے کر آئے گا، جو لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے گا اور یہ دردناک عذاب ہو گا“، یہ کلام یہاں تک ہے: ﴿إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلًا ۚ إِنَّكُمْ عَائِدُونَ﴾ [سورة الدخان: 15] ”اگر ہم تھوڑا سا عذاب کم کر دیں تو تم لوگ دوبارہ (کفر کی طرف) لوٹ جاتے ہو“، جب وہ عذاب (قحط) آیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اسے ان لوگوں سے دور کر دیا تو وہ لوگ دوبارہ کفر کی طرف لوٹ گئے، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَىٰ﴾ [سورة الدخان: 16] ”جس دن ہم بڑی گرفت کریں گے“ سے مراد غزوہ بدر ہے، اور (ارشاد باری تعالیٰ:) ﴿فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا﴾ [سورة الفرقان: 77] ”تو عنقریب لزام ہو گا“ سے مراد بھی غزوہ بدر ہے، (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ﴿الٓمٓ * غُلِبَتِ الرُّومُ * فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُم مِّن بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ﴾ [سورة الروم: 1-3] ”الف لام میم، رومی مغلوب ہو گئے زمین کے قریب ترین حصے میں، اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آ جائیں گے“، (پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) رومیوں والا معجزہ رونما ہو چکا ہے اور دیگر چار (معجزات بھی) یعنی دھواں، بطشہ، لزام اور چاند کا پھٹنا گزر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6585]

6586

Sahih Ibn Hibban #6586

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِِسْحَاقَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنَ عُتْبَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : رَجَعَ إِِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ جِنَازَةٍ بِالْبَقِيعِ ، وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا فِي رَأْسِي ، وَأَنَا أَقُولُ : وَا رَأْسَاهْ ، قَالَ : بَلْ أَنَا يَا عَائِشَةُ ، وَا رَأْسَاهْ " ، ثُمَّ قَالَ :" وَمَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي ، فَغَسَّلْتُكِ ، وَكَفَّنْتُكِ ، وَصَلَّيْتُ عَلَيْكِ ، ثُمَّ دَفَنْتُكِ ؟ " ، قُلْتُ : لَكَأَنِّي بِكَ أَنْ لَوْ فَعَلْتَ ذَلِكَ قَدْ رَجَعْتَ إِِلَى بَيْتِي ، فَأَعْرَسْتَ فِيهِ بِبَعْضِ نِسَائِكَ ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ بُدِئَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں جنازے میں شریک ہونے کے بعد میرے ہاں واپس تشریف لائے۔ مجھے سر میں درد محسوس ہو رہا تھا۔ میں نے کہا: ہائے میرا سر! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بلکہ اے عائشہ! مجھے یہ کہنا چاہیے: ہائے میرا سر۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں تو کوئی نقصان نہیں ہے، اگر تم مجھ سے پہلے فوت ہو جاتی ہو تو میں تمہیں غسل دوں گا، میں تمہیں کفن دوں گا، میں تمہاری نمازِ جنازہ ادا کروں گا، پھر میں تمہیں دفن کروں گا۔“ میں نے عرض کی: جی ہاں، جب آپ ایسا کر لیں گے تو اس کے بعد آپ واپس میرے گھر تشریف لے جائیں گے اور وہاں اپنی نئی زوجہ محترمہ کے ساتھ رات گزاریں گے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بیماری کا آغاز ہوا جس میں آپ کا وصال ہوا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6586]

6587

Sahih Ibn Hibban #6587

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، قَالَتْ : أَوَّلُ مَا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ ، فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ حَتَّى أُغْمِيَ عَلَيْهِ ، قَالَ : وَتَشَاوَرُوا فِي لَدِّهِ ، فَلَدُّوهُ ، فَلَمَّا أَفَاقَ ، قَالَ : مَا هَذَا ؟ أَفِعْلُ نِسَاءٍ جِئْنَا مِنْ هَا هُنَا ؟ " ، وَأَشَارَ إِِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ ، وَكَانَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ فِيهِنَّ ، فَقَالُوا : كُنَّا نَتَّهِمُ بِكَ ذَاتَ الْجَنْبِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ :" إِِنْ كَانَ ذَلِكَ لَدَاءٌ مَا كَانَ اللَّهُ لِيَقْذِفَنِي بِهِ ، لا يَبْقِيَنَّ أَحَدٌ فِي الْبَيْتِ إِِلا لُدَّ إِِلا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، يَعْنِي عَبَّاسًا، قَالَ : فَلَقَدِ الْتَدَّتْ مَيْمُونَةُ يَوْمَئِذٍ ، وَإِِنَّهَا لَصَائِمَةٌ لِعَزِيمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا آغاز سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدید ہوگئی، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہوگئی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ گھر والوں نے اس بارے میں مشورہ دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں دوا ٹپکائی جائے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں دوا ٹپکا دی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو افاقہ محسوس ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کیا چیز ہے؟ کیا یہ ان خواتین کا فعل ہے جو اس طرف سے آئی ہیں؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشہ کی سرزمین کی طرف اشارہ کیا، سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بھی ان خواتین میں شامل تھیں۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں یہ گمان ہوا کہ شاید آپ کو ذات الجنب کی بیماری لاحق ہوئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ بیماری ہے جس میں اللہ تعالیٰ مجھے مبتلا نہیں کرے گا۔ اب گھر میں موجود ہر شخص کے منہ میں دوا ٹپکائی جائے گی۔ صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے ساتھ ایسا نہیں کیا جائے گا یعنی سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس دن سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے بھی دوا پی حالانکہ انہوں نے اس دن روزہ رکھا ہوا تھا لیکن انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید اصرار پر ایسا کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6587]

6588

Sahih Ibn Hibban #6588

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، قُلْتُ : أَخْبِرِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتِ : اشْتَكَى ، فَعَلِقَ يَنْفُثُ ، فَجَعَلْنَا نُشَبِّهُ نَفْثَهُ بِنَفْثِ آكِلِ الزَّبِيبِ ، قَالَتْ : وَكَانَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ ، فَلَمَّا ثَقُلَ ، اسْتَأْذَنَهُنَّ أَنْ يَكُونَ عِنْدِي وَيَدُرْنَ عَلَيْهِ ، قَالَتْ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطَّانِ رِجْلاهُ الأَرْضَ ، أَحَدُهُمَا : عَبَّاسٌ "، قَالَ : فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ لِي : مَا أَخْبَرْتَكَ بِالآخَرِ ؟ قُلْتُ : لا ، قَالَ : هُوَ عَلِيٌّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبیداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا، میں نے کہا: ”آپ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں بتائیے،“ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے۔ آپ کے بلغم میں خون آنے لگا، ہم آپ کے نکلنے والے بلغم کو خشک انگور کھانے والے کے تھوک سے تشبیہ دیتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باری باری اپنی تمام ازواج کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے، جب آپ کی بیماری زیادہ ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خواتین سے اجازت طلب کی کہ ”آپ میرے ہاں رہیں“ اور وہ خواتین آپ کی خدمت میں حاضر ہو جایا کریں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو آپ دو آدمیوں کے درمیان میں زمین پر پاؤں گھسیٹتے ہوئے تشریف لائے، ان میں سے ایک سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو سنائی تو انہوں نے مجھ سے دریافت کیا: ”کیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تمہیں دوسرے صاحب کے بارے میں نہیں بتایا؟“ میں نے جواب دیا: ”جی نہیں،“ تو انہوں نے بتایا: ”وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6588]

6589

Sahih Ibn Hibban #6589

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَدَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ ، فَجَعَلَ يُشِيرُ إِِلَيْنَا : لا تَلُدُّونِي " ، فَقُلْنَا : كَرَاهِيَةَ الْمَرِيضِ الدَّوَاءَ ، فَلَمَّا أَفَاقَ ، قَالَ : " أَلَمْ أَنْهَكُمْ أَنْ تَلُدُّونِيَ ؟ " ، فَقُلْنَا : كَرَاهِيَةَ الْمَرِيضِ الدَّوَاءَ ، فَقَالَ :" لا يَبْقَى فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ إِِلا لُدَّ " ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِِلَى الْعَبَّاسِ ، فَإِِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْهُمْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبید اللہ بن عبد اللہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول نقل کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران آپ کے منہ میں دوائی ٹپکا دی تو آپ نے اشارہ کیا: ”تم لوگ میرے منہ میں دوائی نہ ٹپکاؤ۔“ ہم نے سوچا جس طرح بیمار شخص دوا کو ناپسند کرتا ہے (یہ بھی اسی طرح ہے)؛ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بہتر ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”کیا میں نے تم لوگوں کو اس بات سے منع نہیں کیا تھا کہ تم میرے منہ میں دوائی نہ ٹپکاؤ؟“ ہم نے عرض کی: (ہم تو یہ سمجھے تھے) جس طرح بیمار شخص دوائی کو ناپسند کرتا ہے (یہ بھی اسی طرح کی صورت حال ہے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گھر میں موجود ہر شخص کے منہ میں دوائی ٹپکائی جائے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھ رہی تھی کیونکہ اس وقت وہ گھر میں موجود نہیں تھے (جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں ٹپکائی گئی تھی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6589]

6590

Sahih Ibn Hibban #6590

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِِذَا اشْتَكَى ، " نَفَثَ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ ، وَيَمْسَحُ عَنْهُ بِيَدِهِ " ، قَالَتْ : فَلَمَّااشْتَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ ، طَفِقْتُ أَنْفُثُ عَلَيْهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ الَّتِي كَانَ يَنْفُثُ بِهَا عَلَى نَفْسِهِ ، وَأَمْسَحُ بِيَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوتے تو آپ اپنے اوپر معوذات پڑھ کر دم کیا کرتے تھے اور اپنا دست مبارک پھیرا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کا وصال ہوا تو میں نے معوذات پڑھ کر آپ پر دم کرنا شروع کیا، جنہیں پڑھ کر آپ اپنے اوپر دم کرتے تھے اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک آپ کے جسم پر پھیرتی رہی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6590]

6591

Sahih Ibn Hibban #6591

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِي ، فَجَعَلْتُ أَمْسَحُهُ ، وَأَدْعُو لَهُ بِالشِّفَاءِ ، فَلَمَّا أَفَاقَ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا ، بَلْأَسْأَلُ اللَّهَ الرَّفِيقَ الأَعْلَى ، مَعَ جِبْرِيلَ ، وَمِيكَائِيلَ ، وإِِسْرَافِيلَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر میری گود میں تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے شفا کی دعا مانگنا شروع کی، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بہتر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی نہیں بلکہ میں اللہ تعالیٰ سے «الرَّفِيْقَ الْأَعْلٰى» ”رفیقِ اعلیٰ“ مانگتا ہوں۔“ یعنی جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کا ساتھ عطا کرے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6591]

6592

Sahih Ibn Hibban #6592

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كُنْتُ أَسْمَعُ أَنَّهُلا يَمُوتُ نَبِيٌّ حَتَّى يُخَيَّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ، قَالَتْ : فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَأَخَذَتْهُ بُحَّةٌ ، فَجَعَلَ يَقُولُ : مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ، وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا " ، قَالَتْ : فَظَنَنْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ حِينَئِذٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے یہ بات سن رکھی تھی کہ کسی بھی نبی کا انتقال اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک اسے دنیا میں رہنے یا آخرت میں (منتقل ہونے) کے درمیان اختیار نہیں دیا جاتا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اس بیماری کے دوران جس میں آپ کا وصال ہوا، یہ کہتے ہوئے سنا حالانکہ اس وقت آپ کی آواز بھاری ہو چکی تھی، آپ یہ کہہ رہے تھے: ﴿مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَٰئِكَ رَفِيقًا﴾ [سورة النساء: 69] ”ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا جو نبیوں، صدیقین، شہداء اور صالحین کے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ بہترین ساتھی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6592]

6593

Sahih Ibn Hibban #6593

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : أُنَيْسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى أَخْبَرَنَا ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَهُوَ مَعْصُوبُ الرَّأْسِ ، فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : إِِنِّي السَّاعَةَ قَائِمٌ عَلَى الْحَوْضِ " ، ثُمَّ قَالَ : " إِِنَّعَبْدًا عُرِضَتْ عَلَيْهِ الدُّنْيَا وَزِينَتُهَا ، فَاخْتَارَ الآخِرَةَ " ، فَلَمْ يَفْطِنْ لَهَا أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِِلا أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ : بِأَبِي وَأُمِّي ، بَلْ نَفْدِيكَ بِأَمْوَالِنَا وَأَنْفُسِنَا وَأَوْلادِنَا ، قَالَ : ثُمَّ هَبَطَ مِنَ الْمِنْبَرِ ، فَمَا رُئِيَ عَلَيْهِ حَتَّى السَّاعَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، یہ اس بیماری کی بات ہے جس میں آپ کا وصال ہوا۔ آپ نے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی۔ میں آپ کے پیچھے پیچھے آیا، یہاں تک کہ آپ منبر پر آ کر کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں گویا اس وقت بھی حوض کوثر پر کھڑا ہوں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک بندے کے سامنے دنیا اور اس کی زیب و زینت پیش کی گئی تو اس بندے نے آخرت کو اختیار کر لیا۔“ حاضرین میں سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کسی کو یہ بات سمجھ نہیں آئی۔ ہم نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، ہم اپنے اموال اور اپنی جانیں اپنی اولاد آپ کے فدیے کے طور پر دے دیں گے۔ راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اتر آئے۔ اس کے بعد آپ کو نہیں دیکھا گیا۔ (یعنی اس کے بعد آپ کا وصال ہو گیا) [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6593]

6594

Sahih Ibn Hibban #6594

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا سَالِمُ أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَعُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فَقَالَ : إِِنَّاللَّهَ خَيَّرَ عَبْدًا بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ وَبَيْنَ لِقَائِهِ ، فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ " ، فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ ، وَقَالَ : بَلْ نَفْدِيكَ بِآبَائِنَا وَبِأَبْنَائِنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْكُتْ يَا أَبَا بَكْرٍ " ، ثُمَّ قَالَ : " إِِنَّ أَمَنَّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبُو بَكْرٍ ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلا مِنَ النَّاسِ ، لاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ ، وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الإِِسْلامِ وَمَوَدَّتُهُ ، أَلا لا يَبْقِيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ خَوْخَةٌ إِِلا سُدَّتْ إِِلا خَوْخَةَ أَبِي بَكْرٍ "، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ ، فَقُلْتُ : الْعَجَبُ يُخْبِرُنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ، وَهَذَا يَبْكِي ، وَإِِذَا الْمُخَيَّرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِِذَا الْبَاكِي أَبُو بَكْرٍ ، وَإِِذَا أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمُنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو اس بات کا اختیار دیا کہ اسے اللہ تعالیٰ دنیا کی آرائش و زیبائش عطا کر دے یا اپنی بارگاہ میں حاضری عطا کر دے تو اس شخص نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضری کو اختیار کیا“، اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور انہوں نے عرض کی: ہم اپنے آباؤ اجداد اور اپنی اولاد آپ کے فدیے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر! تم خاموش رہو“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اپنے ساتھ اور مال کے اعتبار سے لوگوں میں میرے ساتھ سب سے اچھا سلوک ابوبکر نے کیا، اگر میں نے لوگوں میں سے کسی کو اپنا خلیل بنانا ہوتا تو میں ابوبکر کو بناتا، البتہ اسلام کا بھائی چارہ اور محبت تو ہے ہی، خبردار! مسجد میں موجود ہر دروازہ بند کر دیا جائے۔ صرف ابوبکر کا دروازہ کھلا رہے۔“ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سوچا اس بات پر حیرانگی ہوتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس بات کی اطلاع دے رہے ہیں کہ ایک بندے کو اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا ہے اور یہ صاحب (یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ) رو رہے ہیں۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وہ اختیار دیے گئے شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور رونے والے شخص سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ علم رکھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6594]

6595

Sahih Ibn Hibban #6595

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَاثْنَيْ عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ،إِِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ ، وَإِِنِّي عَلَيْكُمْ لَشَهِيدٌ ، وَإِِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عليكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي ، وَلَكِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ اللَّيْلَةَ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الأَرْضِ وَالسَّمَاءِ ، وَأَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا "، ثُمَّ دَخَلَ فَلَمْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا ، وَكَانَتْ آخِرُ خُطْبَةٍ خَطَبَهَا حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداءِ احد کی نمازِ جنازہ ادا کی، پھر آپ واپس تشریف لائے اور منبر پر تشریف فرما ہوئے، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! میں تمہارے آگے تمہارا پیشرو ہوں اور میں تم لوگوں کا گواہ ہوں گا۔ اللہ کی قسم! مجھے تمہارے بارے میں اس بات کا اندیشہ نہیں ہے کہ تم میرے بعد شرک کرو گے، لیکن گزشتہ رات مجھے زمین اور آسمان کے خزانوں کی چابیاں عطا کی گئیں۔ مجھے تمہارے بارے میں یہ اندیشہ ہے کہ تم ان میں دلچسپی لو گے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے اندر تشریف لے گئے، پھر آپ اپنے گھر سے باہر نہیں نکلے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح کو قبض کر لیا۔ یہ وہ آخری خطبہ تھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے (آپ کی روح مبارکہ کو) قبض کر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6595]

6596

Sahih Ibn Hibban #6596

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السِّخْتِيَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَصَّارُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ أَوْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صُبُّوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ لَعَلِّي أَسْتَرِيحُ ، فَأَعْهَدَ إِِلَى النَّاسِ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ مِنْ نُحَاسٍ ، وَسَكَبْنَا عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَاسْتَغْفَرَ لِلشُّهَدَاءِ الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَ أُحُدٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھ پر سات ایسے مشکیزوں کے ذریعے پانی بہاؤ جن کے منہ نہ کھولے گئے ہوں تاکہ مجھے تھوڑا سا سکون آئے، تاکہ میں لوگوں کو کوئی ہدایت کر سکوں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تانبے کے بنے ہوئے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے بڑے برتن میں بٹھا دیا، ہم نے آپ پر پانی انڈیلا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اشارہ کیا کہ تم لوگوں نے کام پورا کر دیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور ان شہداء کے بارے میں دعائے مغفرت کی جو غزوہ احد میں شہید ہوئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6596]

6597

Sahih Ibn Hibban #6597

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا حَضَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَكْتُبُ لَكُمْ كِتَابًا لا تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا " ، قَالَ عُمَرُ : إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غَلَبَ عَلَيْهِ الْوَجَعُ ، وَعِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ حَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ ، قَالَ : فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ وَاخْتَصَمُوا ، لَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغَطَ وَالأَحَادِيثَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُومُوا "، فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ : إِِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الْكِتَابَ مِنَ اخْتِلافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری وقت قریب آیا تو گھر میں کچھ لوگ موجود تھے جن میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہارے لیے ایک تحریر لکھ دیتا ہوں، تم اس کے بعد کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر تکلیف کا اثر غالب ہے اور تمہارے پاس قرآن ہے، ہمارے لیے اللہ کی کتاب ہی کافی ہے، تو گھر میں موجود لوگوں کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہو گیا اور وہ آپس میں بحث کرنے لگے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ان کی آوازیں اور گفتگو زیادہ ہو گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ یہاں سے اٹھ جاؤ۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ یہ بہت بڑی مصیبت تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تحریر لکھنے کے درمیان لوگوں کا اختلاف اور ان کا شور شرابا رکاوٹ بن گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6597]

6598

Sahih Ibn Hibban #6598

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ : ادْعِي لِي أَبَا بَكْرٍ حَتَّى أَكْتُبَ ، فَإِِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ ، وَيَقُولُ : أَنَا أَوْلَى ، وَيَأْبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنونَ إِِلا أَبَا بَكْرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اپنی بیماری کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اپنے والد ابوبکر رضی اللہ عنہ کو میرے پاس بلواؤ تاکہ میں تحریر لکھ دوں کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کوئی دوسرا شخص بھی (خلافت کا) خواہش مند ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ میں اس کا زیادہ حق دار ہوں حالانکہ اللہ تعالیٰ اور اہل ایمان صرف ابوبکر رضی اللہ عنہ (کو خلیفہ کے طور پر) قبول کریں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6598]

6599

Sahih Ibn Hibban #6599

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ : صُبُّوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ ، لَعَلِّي أَعْهَدُ إِِلَى النَّاسِ " ، قَالَتْ : فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ ، فَمَا زِلْنَا نَصُبُ عَلَيْهِ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جس بیماری کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اس کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھ پر سات ایسے مشکیزوں کے ذریعے پانی بہاؤ جن کے منہ نہ کھولے گئے ہوں تاکہ میں لوگوں کو کوئی تلقین کر سکوں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے بڑے ٹب میں بٹھایا، اس کے بعد ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی بہاتی رہیں، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اشارہ کیا کہ تم نے ایسا کر لیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6599]

6600

Sahih Ibn Hibban #6600

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، وَعُمْرَةُ ، أحدهما أو كلاهما ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ : صُبُّوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ لَعَلِّي أَسْتَرِيحُ ، فَأَعْهَدَ إِِلَى النَّاسِ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ مِنْ نُحَاسٍ ، فَسَكَبْنَا عَلَيْهِ الْمَاءَ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ ، ثُمَّ خَرَجَ إِِلَى الْمَسْجِدِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جس بیماری کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اس میں آپ نے ارشاد فرمایا: ”مجھ پر سات ایسے مشکیزوں کے ذریعے پانی بہاؤ جن کے منہ نہ کھولے گئے ہوں تاکہ مجھے کچھ سکون آئے اور میں لوگوں کو ہدایت کر سکوں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پیتل کے بنے ہوئے ٹب میں بٹھایا، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی انڈیلا یہاں تک کہ آپ نے ہمیں اشارہ کرنا شروع کیا کہ تم نے ایسا کر لیا ہے، پھر آپ مسجد کی طرف تشریف لے گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6600]