Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 58 · Chapter 1

Book of Medicine

Hadith 6520–6559

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6520

Sahih Ibn Hibban #6520

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا ، قَالَ : فَلَمَّا وَاجَهْنَا الْعَدُوَّ ، تَقَدَّمْتُ ، فَأَعْلُو ثَنِيَّةً ، فَاسْتَقْبَلَنِي رَجُلٌ مِنَ الْعَدُوِّ ، فَأَرْمِيهِ بِسَهْمٍ ، فَتَوَارَى عَنِّي ، فَمَا دَرَيْتُ مَا اصْنَعُ ، ثُمَّ نَظَرْتُ إِِلَى الْقَوْمِ ، فَإِِذَا هُمْ قَدْ طَلَعُوا مِنْ ثَنِيَّةٍ أُخْرَى ، فَالْتَقَوْا هُمْ وَصَحَابَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَلَّى صَحَابَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَرْجِعُ مُنْهَزِمًا ، وَعَلَيَّ بُرْدَتَانِ مُتَّزِرًا بِإِِحْدَاهُمَا ، مُرْتَدِيًا بِالأُخْرَى ، قَالَ : فَانْطَلَقَ رِدَائِي ، فَجَمَعَتُهُ ، وَمَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْهَزِمًا ، وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ الشَّهْبَاءِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ رَأَى ابْنُ الأَكْوَعِ فَزِعًا " ، فَلَمَّا غَشُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَزَلَ عَنِ الْبَغْلَةِ ، ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ مِنَ الأَرْضِ ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ بِهِ وُجُوهَهُمْ ، فَقَالَ : شَاهَتِ الْوُجُوهُ ، فَمَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْهُمْ إِِنْسَانًَا إِِلا مَلأَ عَيْنَهُ تُرَابًا بِتِلْكَ الْقَبْضَةِ ، فَوَلُّوا مُدْبِرِينَ ، فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ ، وَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ حنین میں شرکت کی۔ راوی کہتے ہیں: جب ہم دشمن کے مدمقابل آئے تو میں آگے بڑھا اور میں ایک ٹیلے پر چڑھ گیا، دشمن کا ایک شخص میرے مدمقابل آیا تو میں نے اسے تیر مارا، وہ میری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا، مجھے اندازہ نہیں ہوا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔ جب میں نے لوگوں کی صورت حال کا جائزہ لیا تو دشمن دوسری گھاٹی سے نمودار ہو رہا تھا، اس کا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا سامنا ہوا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگ منہ پھیر کر پیچھے ہٹ گئے، میں بھی پسپا ہو کر پیچھے ہٹا۔ میرے جسم پر دو چادریں تھیں جن میں سے ایک کو میں نے تہبند کے طور پر باندھا ہوا تھا اور دوسری کو جسم پر لپیٹا ہوا تھا۔ میری وہ والی چادر گر گئی تو میں نے اسے اٹھایا اور لپیٹا، میرا گزر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہوا جو پسپا ہونے کی صورت حال میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنے سفید خچر پر سوار تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ابنِ اکوع نے گھبراہٹ دیکھ لی ہے۔“ جب دشمن نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر سے نیچے اترے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین سے مٹھی بھر مٹی لی اور اسے ان لوگوں کی طرف پھینک دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «شَاهَتِ الْوُجُوهُ» ”ان کے چہرے بگڑ جائیں“، تو ان میں سے جو بھی شخص تھا اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ کو مٹی سے بھر دیا جو اس مٹھی (میں سے ان کی طرف آئی تھی) تو وہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں پسپا کر دیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا مالِ غنیمت مسلمانوں کے درمیان تقسیم کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6520]

6521

Sahih Ibn Hibban #6521

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : اشْتَدَّ الْقِتَالُ يَوْمَ خَيْبَرَ ، فَكُنْتُ رَدِيفَ أَبِي طَلْحَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ ، إِِنَّا إِِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ ، فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " ، قَالَ : فَمَا لَبِثْتُ أَنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ خیبر کے موقع پر لڑائی شدید ہو گئی، میں سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللّٰهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ ﴿فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ﴾ [سورة الصافات: 177] » ”اللہ اکبر! خیبر برباد ہو گیا، جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ان لوگوں کی حالت بری ہوتی ہے جنہیں ڈرایا گیا تھا۔“”راوی کہتے ہیں: اس کے کچھ ہی دیر بعد اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح عطا کر دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6521]

6522

Sahih Ibn Hibban #6522

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ وَجَدَ بِهَا ثَلاثَ مِائَةٍ وَسِتِّينَ صَنَمًا ، فَأَشَارَ بِعَصًا إِِلَى كُلِّ صَنَمٍ ، وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ، إِِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا " ، فَسَقَطَ الصَّنَمُ وَلَمْ يَمَسَّهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے وہاں تین سو ساٹھ بت پائے۔ آپ عصا کے ذریعے ان میں سے ہر ایک بت کی طرف اشارہ کرتے اور یہ کہتے تھے: «جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا» ﴿جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾ [سورة الإسراء: 81] ”حق آ گیا اور باطل رخصت ہو گیا۔ بے شک باطل نے رخصت ہی ہونا تھا“، تو وہ بت گر جاتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان بتوں کو چھوا نہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6522]

6523

Sahih Ibn Hibban #6523

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ يُدَاوِي وَيُعَالِجُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِِنَّكَ تَقُولُ أَشْيَاءً ، هَلْ لَكَ أَنْ أُدَاوِيَكَ ؟ ، قَالَ : فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى اللَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : هَلْ لَكَ أَنْ أُرِيَكَ آيَةً " ، وَعِنْدَهُ نَخْلٌ وَشَجَرٌ ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِذْقًا مِنْهَا ، فَأَقْبَلَ إِِلَيْهِ وَهُوَ يَسْجُدُ ، وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَسْجُدُ ، وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ حَتَّى انْتَهَى إِِلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ارْجِعْ إِِلَى مَكَانِكَ ، فَقَالَ الْعَامِرِيُّ : وَاللَّهِ لا أُكَذِّبُكَ بِشَيْءٍ تَقُولُهُ أَبَدًا ، ثُمَّ قَالَ : يَا آلَ عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، وَاللَّهِ لا أُكَذِّبُهُ بِشَيْءٍ "، قَالَ : وَالْعِذْقُ : النَّخْلَةُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بنو عامر سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ شخص دوا دیا کرتا تھا اور علاج کرتا تھا۔ اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے کچھ نظریات ہیں، کیا آپ کو اس بارے میں دلچسپی ہے کہ میں آپ کو کوئی دوائی دوں؟ (یعنی آپ کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تو میں آپ کو اس کی دوا دیتا ہوں)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں اس بات میں دلچسپی ہے کہ میں تمہیں کوئی نشانی دکھاؤں؟“ اس وقت اس شخص کے پاس ایک کھجور کا درخت تھا اور ایک دوسرا درخت تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے درخت کو اپنے پاس بلایا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کبھی سجدہ کرتا ہوا اور کبھی سر کو اٹھاتا ہوا، پھر کبھی سجدہ کرتا ہوا اور کبھی اپنے سر کو اٹھاتا ہوا آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا اور آکر آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم اپنی جگہ پر واپس چلے جاؤ۔“ تو بنو عامر قبیلے سے تعلق رکھنے والے اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم! اب میں کبھی بھی آپ کو کسی بھی ایسی بات کے حوالے سے جھوٹا قرار نہیں دوں گا جو بات آپ بیان کریں گے۔ پھر اس شخص نے کہا: اے عامر بن صعصعہ کی اولاد! اللہ کی قسم! میں ان کی کسی بھی بات کو جھٹلاؤں گا نہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لفظ «العِذْقُ» کا معنی ”کھجور کا درخت“ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6523]

6524

Sahih Ibn Hibban #6524

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ مِنْ كِتَابِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ الْكِلابِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَزَلْنَا وَادِيًا أَفْيَحَ ، فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي حَاجَتَهُ ، وَاتَّبَعْتُهُ بِإِِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَرَى شَيْئًا لِيَسْتَتِرَ بِهِ ، فَإِِذَا شَجَرَتَانِ بِشَاطِئِ الْوَادِي ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى إِِحْدَاهُمَا ، فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا ، فَقَالَ : انْقَادِي عَلَيَّ بِإِِذْنِ اللَّهِ " ، فَانْقَادَتْ مَعَهُ كَالْبَعِيرِ الْمَخْشُوشِ الَّذِي يُصَانِعُ قَائِدَهُ حَتَّى أَتَى الشَّجَرَةَ الأُخْرَى ، فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا ، فَقَالَ : " انْقَادِي عَلَيَّ بِإِِذْنِ اللَّهِ " ، فَانْقَادَتْ مَعَهُ كَذَلِكَ حَتَّى إِِذَا كَانَ النِّصْفُ جَمَعَهُمَا ، فَقَالَ : " الْتَئِمَا عَلَيَّ بِإِِذْنِ اللَّهِ " ، فَالْتَأَمَتَا ، قَالَ جَابِرٌ : فَخَرَجْتُ أُحْضِرُ مَخَافَةَ أَنْ يُحِسَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُرْبِي فَيَتَبَاعَدَ ، فَجَلَسْتُ ، فَحَانَتْ مِنِّي لَفْتَةٌ ، فَإِِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلٌ ، وَإِِذَا الشَّجَرَتَانِ قَدِ افْتَرَقَتَا ، فَقَامَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا عَلَى سَاقٍ ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ وَقْفَةً ، فَقَالَ بِرَأْسِهِ هَكَذَا يَمِينًا وَيَسَارًا ، ثُمَّ أَقْبَلَ ، فَلَمَّا انْتَهَى إِِلَيَّ ، قَالَ : " يَا جَابِرُ ، هَلْ رَأَيْتَ مَقَامِي ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَانْطَلِقْ إِِلَى الشَّجَرَتَيْنِ ، فَاقْطَعْ مِنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهَا غُصْنًَا ، فَأَقْبِلْ بِهِمَا ، حَتَّى إِِذَا قُمْتَ مَقَامِي أَرْسِلْ غُصْنًا عَنْ يَمِينِكِ وَغُصْنًا عَنْ يَسَارِكِ " ، قَالَ جَابِرٌ : فَأَخَذْتُ حَجَرًا ، فَكَسَرْتُهُ ، فَأَتَيْتُ الشَّجَرَتَيْنِ ، فَقَطَعْتُ مِنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا غُصْنًَا ، ثُمَّ أَقْبَلْتُ أَجُرُّهُمَا ، حَتَّى إِِذَا قُمْتُ مَقَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَرْسَلْتُ غُصْنًا عَنْ يَمِينِي وَغُصْنًا عَنْ يَسَارِي ، ثُمَّ لَحِقْتُهُ ، فَقُلْتُ : قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَعَمَّ ذَلِكَ ؟ ، فَقَالَ : " إِِنِّي مَرَرْتُ بِقَبْرَيْنِ يُعَذَّبَانِ ، فَأَحْبَبْتُ بِشَفَاعَتِي أَنْ يُرَفَّهَ عَنْهُمَا مَا دَامَ الْغُصْنَانِ رَطْبَيْنِ " ، فَأَتَيْنَا الْعَسْكَرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا جَابِرُ ، نَادِ بِوَضُوءٍ " ، فَقُلْتُ : أَلا وَضُوءَ أَلا وَضُوءَ ؟ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا وَجَدْتُ فِي الرَّكْبِ مِنْ قَطْرَةٍ ، وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُبْرِدُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَشْجَابٍ لَهُ ، فَقَالَ : " انْطَلِقْ إِِلَى فُلانٍ الأَنْصَارِيِّ ، فَانْظُرْ هَلْ فِي أَشْجَابِهِ مِنْ شَيْءٍ ؟ " ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ إِِلَيْهِ ، فَنَظَرْتُ فِيهَا ، فَلَمْ أَجِدْ فِيهَا إِِلا قَطْرَةً فِي عَزْلاءِ شَجْبٍ مِنْهَا ، لَوْ أَنِّي أُفْرِغُهُ مَا كَانَتْ شَرْبَةً ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أَجِدْ فِيهَا إِِلا قَطْرَةً فِي عَزْلاءِ شَجْبٍ مِنْهَا ، لَوْ أَنِّي أُفْرِغُهُ لَشَرِبَهُ يَابِسُهُ ، قَالَ : " اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهِ " ، فَأَخَذَهُ بِيَدِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِشَيْءٍ لا أَدْرِي مَا هُوَ ، وَيَغْمِزُهُ بِيَدِهِ ، ثُمَّ أَعْطَانِيهِ ، فَقَالَ : " يَا جَابِرُ ، نَادِ بِجَفْنَةٍ " ، فَقُلْتُ : يَا جَفْنَةَ الرَّكْبِ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ بِهَا تُحْمَلُ ، فَوَضَعْتُهَا بَيْنَ يَدَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَكَذَا ، وَبَسَطَ يَدَهُ فِي وَسَطِ الْجَفْنَةِ ، وَفَرَّقَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، وَقَالَ : " خُذْ يَا جَابِرُ ، وَصُبَّ عَلَيَّ ، وَقُلْ : بِسْمِ اللَّهِ " ، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ ، وَقُلْتُ : بِسْمِ اللَّهِ ، فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى امْتَلأَتْ ، قَالَ : " يَا جَابِرُ ، نَادِ مَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِمَاءٍ " ، قَالَ : فَأَتَى النَّاسُ ، فَاسْتَقَوْا حَتَّى رَوُوا ، قَالَ : فَقُلْتُ : هَلْ بَقِيَ أَحَدٌ لَهُ حَاجَةٌ ؟ قَالَ : فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ مِنَ الْجَفْنَةِ وَهِيَ مَلأَى"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم نے وادیِ افیح میں پڑاؤ کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ میں پانی کا برتن لے کر آپ کے پیچھے گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا جائزہ لیا تو آپ کو ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی جس کے ذریعے آپ رکاوٹ بنا لیں۔ وادی کے کنارے پر دو درخت موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک کے پاس تشریف لے گئے، آپ نے اس کی ایک ٹہنی کو پکڑا اور فرمایا: ”اللہ کے حکم کے تحت میرے ساتھ چلو۔“ تو وہ درخت ایک فرمانبردار اونٹ کی طرح آپ کے ساتھ چل پڑا جو اونٹ اپنے ساتھ لے کر چلنے والے کے حکم کے مطابق عمل کرتا ہے، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے درخت کے پاس تشریف لائے۔ آپ نے اس کی بھی ایک ٹہنی کو پکڑا اور فرمایا: ”اللہ کے حکم کے تحت میرے ساتھ چلو۔“ تو وہ بھی آپ کے ساتھ اسی طرح چل پڑا، یہاں تک کہ (ان دونوں کے) درمیان میں آ کر وہ دونوں ایک دوسرے سے مل گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ کے حکم کے تحت میرے لیے ایک دوسرے کے ساتھ رہنا۔“ تو وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہو گئے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں وہاں سے کچھ پیچھے ہٹ گیا، اس اندیشے کے تحت کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا قریب ہونا محسوس ہو گیا تو شاید آپ زیادہ دور تشریف لے جائیں۔ میں وہاں بیٹھ گیا۔ تھوڑی ہی دیر گزرنے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، وہ درخت ایک دوسرے سے الگ ہو چکے تھے اور ان میں سے ہر ایک اپنی پنڈلی پر کھڑا تھا۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ذرا سی دیر کے لیے رکے اور آپ نے اپنے سر کو بائیں اور دائیں طرف گھمایا، پھر آپ تشریف لے آئے، جب آپ میرے پاس پہنچے تو آپ نے دریافت کیا: ”اے جابر! کیا تم نے مجھے دیکھ لیا تھا؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان دونوں درختوں کے پاس جاؤ اور ان میں سے ہر ایک کی ٹہنی توڑ کر انہیں میری طرف لے آؤ، یہاں تک کہ جب تم اس مقام پر پہنچو جہاں تم نے مجھے کھڑے ہوئے دیکھا تھا تو ایک ٹہنی اپنے دائیں طرف چھوڑ دینا اور ایک بائیں طرف چھوڑ دینا۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے ایک پتھر لے کر اس کے دو ٹکڑے کیے، پھر میں ان دو درختوں کے پاس آیا، میں نے ان میں سے ہر ایک کی ٹہنی توڑ لی، پھر میں انہیں گھسیٹتا ہوا لایا، یہاں تک کہ اس جگہ پر آ کر کھڑا ہو گیا جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے تو میں نے ایک ٹہنی کو اپنے دائیں طرف اور ایک ٹہنی کو اپنے بائیں طرف چھوڑ دیا، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایسا کر لیا ہے، آپ نے ایسا کیوں کروایا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا گزر دو قبروں کے پاس سے ہوا جنہیں عذاب دیا جا رہا تھا، تو میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میری شفاعت کے ذریعے ان دونوں کے عذاب میں اس وقت تک تخفیف ہو جائے جب تک وہ دونوں ٹہنیاں تر رہتی ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: پھر ہم لشکر کے پاس آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے جابر! وضو کے پانی کے لیے اعلان کر دو۔“ تو میں نے اعلان کیا: خبردار! وضو کا پانی ہے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے تو لشکر میں پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں ملا۔ (راوی کہتے ہیں:) انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا جو اپنے ڈول میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ٹھنڈا پانی رکھتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم فلاں انصاری کے پاس جاؤ اور دیکھو کہ کیا اس کے ڈول میں کوئی پانی ہے۔“ راوی کہتے ہیں: میں اس شخص کے پاس گیا، میں نے اس ڈول کا جائزہ لیا تو مجھے اس ڈول کے سرے پر صرف ایک پانی کا قطرہ دکھائی دیا، اگر میں اسے انڈیل لیتا تو وہ پینے کے قابل نہ رہتا۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اس ڈول میں صرف ایک قطرہ ملا جو اس کے سرے پر موجود تھا، اگر میں اسے انڈیل لیتا تو اس کے خشک حصے نے اسے جذب کر لینا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جاؤ اور اسے میرے پاس لے کر آؤ۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قطرہ اپنے دست مبارک پر ڈالا اور کچھ پڑھنا شروع کیا۔ مجھے نہیں معلوم وہ کیا تھا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اسے ٹٹولنا شروع کیا پھر آپ نے مجھے وہ عطا کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جابر! پیالے کے لیے اعلان کرو۔“ تو میں نے کہا: کوئی پیالہ لے کر آئے۔ راوی کہتے ہیں: میں اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ میں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کیا یعنی پیالے کے درمیان میں اپنا ہاتھ بڑھایا، اپنی انگلیوں کو کشادہ کیا۔ آپ نے فرمایا: ”اے جابر! اسے حاصل کرو اور اسے میرے اوپر انڈیل دو اور «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ پڑھ لینا۔“ میں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر انڈیل دیا اور میں نے «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ پڑھ لی، تو میں نے پانی کو دیکھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان میں سے پھوٹ رہا تھا، یہاں تک کہ وہ برتن بھر گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جابر! یہ اعلان کرو کہ جس شخص کو بھی پانی کی ضرورت ہو (وہ آ جائے)۔“ راوی کہتے ہیں: تو لوگ آ گئے، انہوں نے پانی پی لیا، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے۔ راوی کہتے ہیں: تو میں نے اعلان کیا: کیا کوئی ایسا شخص ہے جسے (پانی کی) ضرورت ہو؟ راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیالے سے اپنا دست مبارک اٹھایا تو وہ پیالہ بھرا ہوا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6524]

6525

Sahih Ibn Hibban #6525

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعَ الْمُسْلِمُونَ نِدَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ وَهُوَ عَلَى بِئْرِ بَدْرٍ يُنَادِي : يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ ، وَيَا عُتْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ ، وَيَا شَيْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ ، وَيَا أُمَيَّةُ بْنَ خَلَفٍ ، أَلاهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ؟ " ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تُنَادِي قَوْمًا قَدْ جَيَّفُوا ؟ ، فَقَالَ : " مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ ، إِِلا أَنَّهُمْ لا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُونِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نصف رات کے وقت مسلمانوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پکار سنی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بدر کے کنویں کے پاس موجود تھے اور بلند آواز میں فرما رہے تھے: ”اے ابو جہل بن ہشام، اے عتبہ بن ربیعہ، اے شیبہ بن ربیعہ، اے امیہ بن خلف! تمہارے پروردگار نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا، کیا تم نے اسے سچ پا لیا ہے؟“ مسلمانوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ ایسی قوم کو مخاطب کر رہے ہیں جو مردار ہو چکے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں جو کہہ رہا ہوں تم لوگ ان سے زیادہ اسے نہیں سن رہے، البتہ وہ لوگ اس بات کی استطاعت نہیں رکھتے کہ مجھے جواب دیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6525]

6526

Sahih Ibn Hibban #6526

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْجِنِّ ، وَمَا رَآهُمْ ، انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِِلَى سُوقِ عُكَاظٍ ، وَقَدْحِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ ، فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِِلَى قَوْمِهِمْ ، فَقَالُوا : مَا لَكُمْ ؟ قَالُوا : حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ ، قَالُوا : مَا ذَاكَ إِِلا شَيْءٌ حَدَثَ ، فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا ، فَانْظُرُوا مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ ، فَانْطَلَقُوا يَضْرِبُونَ مَشَارِقَ الأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا ، فَمَرَّ النَّفْرُ الَّذِينَ أَخَذُوا نَحْوَ تِهَامَةَ وَهُوَ بِنَخْلَةَ ، وَهُمْ عَامِدُونَ إِِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْفَجْرِ ، فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ ، قَالُوا : هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ ، فَرَجَعُوا إِِلَى قَوْمِهِمْ ، فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِِلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنات کے سامنے کوئی تلاوت نہیں کی اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب عکاظ کے بازار کی طرف تشریف لے گئے۔ یہ وہ وقت تھا، جب شیاطین اور آسمان کی خبروں کے درمیان رکاوٹ آ چکی تھی اور ان پر شہابِ ثاقب بھیجے جاتے تھے، تو شیاطین اپنی قوم کی طرف واپس آئے اور ان لوگوں نے کہا: تم لوگوں کا کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہمارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان رکاوٹ پڑ چکی ہے اور اب ہمارے اوپر شہابِ ثاقب بھیجے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا: یہ کسی ایسی وجہ سے ہوا ہوگا، جو نئی رونما ہوئی ہے، تم لوگ زمین کے مشرقی حصوں اور مغربی حصوں کا جائزہ لو اور اس بات کا جائزہ لو کہ وہ کون سی ایسی چیز ہے جو ہمارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان رکاوٹ بن گئی ہے؟ تو وہ لوگ زمین کے مشرقی اور مغربی حصوں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ ان میں سے کچھ لوگوں کا گزر تہامہ کی طرف سے ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک کھجور کے باغ میں موجود تھے۔ یہ لوگ عکاظ کے بازار کی طرف جاتے ہوئے راستے میں (کھجور کے اس باغ میں تھے) اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں فجر کی نماز پڑھا رہے تھے، جب ان جنات نے قرآن کی تلاوت سنی تو انہوں نے کہا: یہ وہ چیز ہے جو ہمارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان رکاوٹ بن گئی ہے، تو وہ لوگ اپنی قوم کے پاس واپس گئے اور انہوں نے یہ کہا: ﴿إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا ﴿1﴾ يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ ۖ وَلَن نُّشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا ﴿2﴾ ﴾ ”ہم نے قرآن کو سنا ہے وہ بڑی حیران کن چیز ہے، وہ ہدایت کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں اور اب ہم کسی کو اپنے پروردگار کا شریک قرار نہیں دیں گے۔“ [سورة الجن: 1-2] تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی طرف یہ بات وحی کی: ﴿قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ ﴿1﴾ ﴾ ”تم یہ فرما دو کہ جب جنات کے ایک گروہ نے اسے غور سے سنا۔“ [سورة الجن: 1] [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6526]

6527

Sahih Ibn Hibban #6527

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ قَيْسٍ : هَلْ كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ ؟ ، قَالَ : فَقَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ : هَلْ شَهِدَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ ؟ ، قَالَ : لا ، وَلَكِنَّا كُنَّا مَعَهُ لَيْلَةً ، فَفَقَدْنَاهُ ، فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا ، إِِذَا هُوَ جَاءَ مِنْ قِبَلِ حِرَاءٍ ، فَقَالَ : إِِنَّهُ قَدْأَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ ، فَذَهَبْتُ مَعَهُ ، فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ " ، فَانْطَلَقَ حَتَّى أَرَانَا نِيرَانَهُمْ وَآثَارَهُمْ ، فَسَأَلُوهُ عَنِ الزَّادِ ، فَقَالَ : " لَكُمْ كُلُّ عَظْمِ طَعَامٍ يُذْكَرُ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا يَكُونُ لَحْمًا ، وَكُلُّ بَعْرٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ " ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا ، فَإِِنَّهُمَا طَعَامُ إِِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں: میں نے علقمہ بن قیس سے دریافت کیا: کیا جنات سے ملاقات کی رات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے؟ تو علقمہ نے جواب دیا: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا: کیا آپ (یعنی صحابہ کرام) میں سے کوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا جب جنات سے ملاقات ہوئی تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ ایک رات ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غیر موجود پایا تو ہم نے وہ رات بدترین حالت میں گزاری۔ صبح کے قریب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غارِ حرا کی طرف سے تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنات کا پیغام رساں میرے پاس آیا تو میں اس کے ساتھ چلا گیا، میں نے ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جنات کے آگ جلانے اور دیگر چیزوں کے نشانات دکھائے۔ ان جنات نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زادِ راہ کے بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ کھانا جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اس کی ہر ہڈی جب تمہارے ہاتھ میں آئے گی تو اس پر پہلے سے زیادہ گوشت لگا ہوا ہو گا اور ہر مینگنی تمہارے جانوروں کا چارہ ہو گی۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ان دو چیزوں سے استنجاء نہ کرو کیونکہ یہ تمہارے جنات بھائیوں کی خوراک ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6527]

6528

Sahih Ibn Hibban #6528

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي دُكَيْنُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُزَنِيُّ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْبٍ مِنْ مُزَيْنَةَ ، فَقَالَ لِعُمَرَ : انْطَلِقْ فَجَهِّزْهُمْ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنْ هِيَ إِِلا آصُعٌ مِنْ تَمْرٍ ، فَانْطَلَقَ ، فَأَخْرَجَ مِفْتَاحًا مِنْ حُزْتِهِ ، فَفَتَحَ الْبَابَ ، فَإِِذَا شِبْهُ الْفَصِيلِ الرَّابِضِ مِنَ التَّمْرِ ، فَأَخَذْنَا مِنْهُ حَاجَتَنَا ، قَالَ : فَلَقَدِ الْتَفَتُّ إِِلَيْهِ ، وَإِِنِّي لَمِنْ آخِرِ أَصْحَابِي كَأَنَّا لَمْ نَرْزَأَهْ تَمْرَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا دکین بن سعید مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں قبیلے کے کچھ سواروں کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم جاؤ اور ان کے لیے ساز و سامان کا بندوبست کرو۔“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! صرف کھجوروں کے چند صاع ہیں، پھر وہ چلے گئے۔ انہوں نے اپنے ڈب میں سے چابی نکال کر دروازہ کھولا تو وہ ڈھیر ساری کھجوریں تھیں۔ ہم نے اس میں سے اپنی ضرورت کے مطابق کھجوریں لے لیں۔ راوی کہتے ہیں: جب میں نے مڑ کر اس کمرے کی طرف دیکھا تو میں وہاں سے نکلنے والا آخری فرد تھا لیکن یوں لگتا تھا جیسے ہم نے وہاں سے ایک بھی کھجور نہیں لی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6528]

6529

Sahih Ibn Hibban #6529

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ ، فَوُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيِ الْقَوْمِ ، فَتَعَاقَبُوهَا إِِلَى الظُّهْرِ مِنْ غُدْوَةٍ ، يَقُومُ قَوْمٌ وَيَجْلِسُ آخَرُونَ، فَقَالَ رَجُلٌ لِسَمُرَةَ : أَكَانَ يُمَدُّ ؟ ! فَقَالَ سَمُرَةُ : مِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَتَعَجَّبَ ؟ مَا كَانَ يُمَدُّ إِِلا مِنْ هَا هُنَا ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِِلَى السَّمَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ثرید کا پیالہ پیش کیا گیا، وہ لوگوں کے سامنے رکھا گیا تو لوگ صبح سے لے کر دوپہر تک یکے بعد دیگرے اس کے پاس آتے رہے۔ کچھ لوگ اٹھتے تو دوسرے آ کر بیٹھ جاتے۔ ایک شخص نے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا وہ بڑھ رہا تھا؟ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہیں کس بات پر حیرانی ہو رہی ہے؟ وہ صرف اس طرف سے بڑھ رہا تھا۔ انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے آسمان کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6529]

6530

Sahih Ibn Hibban #6530

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، شَكَّ الأَعْمَشُ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ ، أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَوْ أَذِنْتَ لَنَا ، فَنَحَرْنَا نَوَاضِحَنَا فَأَكَلْنَا ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : افْعَلُوا " ، فَجَاءَ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّهُمْ إِِنْ فَعَلُوا ، قَلَّ الظُّهْرُ ، وَلَكِنِ ادْعُهُمْ بِفَضْلِ أَزْوِدَتِهِمْ ، ثُمَّ ادْعُ عَلَيْهَا بِالْبَرَكَةِ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ فِي ذَلِكَ ، قَالَ : فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَطْعٍ ، فَبَسَطْتُهُ ، ثُمَّ دَعَاهُمْ بِفَضْلِ أَزْوِدَتِهِمْ ، قَالَ : فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِكَفِّ الذُّرَةِ ، وَالآخَرُ بِكَفِّ التَّمْرِ ، وَالآخَرُ بِكَسْرَةٍ ، حَتَّى اجْتَمَعَ عَلَى النَّطْعِ مِنْ ذَلِكَ يَسِيرٌ ، قَالَ : فَدَعَا عَلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَرَكَةِ ، ثُمَّ قَالَ : " خُذُوا فِي أَوْعِيَتِكُمْ " ، فَأَخَذُوا فِي أَوْعِيَتِهِمْ حَتَّى مَا تَرَكُوا فِي الْعَسْكَرِ وِعَاءً إِِلا مَلَئُوهُ ، وَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَفَضَلَ مِنْهُ فَضْلَةً ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَشْهَدُ أَنْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، لا يَلْقَى اللَّهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍ ، فَيُحْجَبَ عَنِ الْجَنَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما (اعمش نامی راوی کو شک ہے شاید) بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر لوگوں کو بھوک لاحق ہو گئی تو انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم اپنے اونٹ قربان کر کے انہیں کھا لیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم لوگ ایسا کر لو۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر لوگوں نے ایسا کر لیا تو ان کے پاس سواری کے جانور کم ہو جائیں گے۔ آپ انہیں کہیں کہ وہ اضافی بچ جانے والا ساز و سامان لے کر آئیں اور پھر آپ اس سامان پر برکت کی دعا کریں، شاید اللہ تعالیٰ اس میں کوئی بہتری کی صورت پیدا کر دے۔“ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دسترخوان منگوایا اور وہ پھیلا دیا گیا۔ (راوی کہتے ہیں:) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بچ جانے والا (کھانے پینے کا) سامان لانے کے لیے کہا۔ راوی کہتے ہیں: تو کوئی شخص مٹھی بھر جو لے آیا، دوسرا شخص مٹھی بھر کھجوریں لے آیا، کوئی اور روٹی کا ٹکڑا لے آیا، یہاں تک کہ دسترخوان پر تھوڑا سا سامان اکٹھا ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر برکت کی دعا کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اپنے برتنوں میں ڈالنا شروع کرو۔“ لوگوں نے اپنے برتنوں میں ڈالنا شروع کیا، یہاں تک کہ انہوں نے لشکر میں موجود ہر برتن کو بھر لیا، انہوں نے کھایا اور سیر ہو کر کھایا پھر بھی باقی رہ گیا۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں، جو شخص ان دونوں باتوں کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو کہ وہ اس میں شک نہ کرتا ہو، وہ جنت میں جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6530]

6531

Sahih Ibn Hibban #6531

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ مَرَّ الظَّهْرَانَ حِينَ صَالَحَ قُرَيْشًا ، بَلَغَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ قُرَيْشًا تَقُولُ : إِِنَّمَا يُبَايِعُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعْفًا وَهَزْلا ، فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، لَوْ نَحَرْنَا مِنْ ظَهْرِنَا فَأَكَلْنَا مِنْ لُحُومِهَا وَشُحُومِهَا ، وَحَسَوْنَا مِنَ الْمَرَقِ ، أَصْبَحْنَا غَدًا إِِذَا غَدَوْنَا عَلَيْهِمْ وَبِنَا جَمَامٌ ، قَالَ : لا ، وَلَكِنْ إِِيتُونِي بِمَا فَضَلَ مِنْ أَزْوَادِكُمْ " ، فَبَسَطُوا أَنْطَاعًا ، ثُمَّ صَبُّوا عَلَيْهَا مَا فَضَلَ مِنْ أَزْوَادِهِمْ ، فَدَعَا لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَرَكَةِ ، فَأَكَلُوا حَتَّى تَضَلَّعُوا شِبَعًا ، ثُمَّ كَفَؤُوا مَا فَضَلَ مِنْ أَزْوَادِهِمْ فِي جُرُبِهِمْ ، ثُمَّ غَدَوْا عَلَى الْقَوْمِ ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَرَيْنَ القَوْمُ فِيكُمْ غَمِيزَةً " ، فَاضْطَبَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ ، فَرَمَلُوا ثَلاثَةَ أَطْوَافٍ ، وَمَشَوْا أَرْبَعًا ، وَالْمُشْرِكُونَ فِي الْحِجْرِ ، وَعِنْدَ دَارِ النَّدْوَةِ ، وَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِذَا تَغِيَّبُوا مِنْهُمْ بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيِّ وَالأَسْوَدِ ، مَشَوْا ، ثُمَّ يَطْلُعُونَ عَلَيْهِمْ ، فَتَقُولُ قُرَيْشٌ : وَاللَّهِ لَكَأَنَّهُمُ الْغِزْلانُ ، فَكَانَتْ سُنَّةً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے صلح کر لی (اور آپ عمرہ کرنے کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے) تو جب آپ مرا الظہران کے مقام پر پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو یہ اطلاع ملی کہ قریش یہ کہتے ہیں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر ان کے ایسے اصحاب نے بیعت کی ہے جو کمزور ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! اگر ہم اپنی سواریوں کو قربان کر کے ان کا گوشت اور چربی کھائیں اور ان کا شوربا پئیں تو کل جب ہم ان کے سامنے جائیں گے، تو ہماری حالت ایسی ہو گی کہ ہم طاقتور محسوس ہوں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی نہیں! تم لوگ میرے پاس اپنا بچ جانے والا (کھانے پینے کا) سامان لے کر آؤ۔“ ان لوگوں نے دسترخوان بچھا دیے اور اس پر اپنا بچ جانے والا (کھانے پینے کا) سامان ڈال دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے برکت کی دعا کی۔ ان لوگوں نے اسے کھایا، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے اور بچ جانے والا کھانے پینے کا سامان انہوں نے اپنے تھیلوں میں ڈال لیا، پھر وہ اگلے دن (کفار قریش) کے سامنے آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرما دیا: ”وہ لوگ (تمہارے اندر) کوئی کمزوری نہ دیکھیں۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے اضطباع (کے طور پر احرام کی چادر کو) لپیٹا، ان حضرات نے تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکروں میں عام رفتار سے چلے، مشرکین اس وقت حطیم میں اور دارالندوہ کے قریب موجود تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ان کے دوسری طرف رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان آتے تو عام رفتار سے چلتے، پھر جب ان کے سامنے آتے (تو دوڑنے لگتے) تو قریش نے کہا: اللہ کی قسم! یہ تو ہرنوں کی طرح ہیں۔ (سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:) تو یہ طریقہ سنت قرار پایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6531]

6532

Sahih Ibn Hibban #6532

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُهَاجِرِ أَبِي مَخْلَدٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمَرَاتٍ قَدْ صَفَفْتُهُنَّ فِي يَدَيَّ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ لِي فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ ، فَدَعَا لِي فِيهِمْ بِالْبَرَكَةِ ، وَقَالَ : إِِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَأْخُذَ شَيْئًا ، فَأَدْخِلْ يَدَكَ ، وَلا تَنْثُرْهُ نَثْرًا "، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَحَمَلْتُ مِنْ ذَلِكَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا وَسْقًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَكُنَّا نَطْعَمُ مِنْهُ وَنُطْعِمُ ، وَكَانَ فِي حِقْوِي حَتَّى انْقَطَعَ مِنِّي لَيَالِيَ عُثْمَانَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں چند کھجوریں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے انہیں اپنے دونوں ہاتھوں میں رکھا ہوا تھا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان میں میرے لیے برکت کی دعا کر دیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے ان میں برکت کی دعا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم نے کوئی چیز لینی ہو تو اپنا ہاتھ ان کے اندر داخل کرنا، انہیں مکمل طور پر نہ ختم کر دینا۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ان کھجوروں میں سے اتنے اتنے وسق اللہ کی راہ میں خیرات کیے، ہم خود بھی ان میں سے کھاتے تھے اور دوسروں کو بھی کھلایا کرتے تھے، وہ میرے ڈب میں موجود رہتی تھیں، یہاں تک کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ (کے خلاف بغاوت) کے دنوں میں وہ مجھ سے گر گئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6532]

6533

Sahih Ibn Hibban #6533

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمَّادٍ الطِّهْرَانِيُّ بِالرَّيِّ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْعَوَقِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِيَ ، يَقُولُ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَتَتْ عَلَيَّ ثَلاثَةُ أَيَّامٍ لَمْ أَطْعَمْ فِيهَا طَعَامًا ، فَجِئْتُ أُرِيدُ الصُّفَّةَ ، فَجَعَلْتُ أَسْقُطُ ، فَجَعَلَ الصِّبْيَانُ يُنَادُونَ : جُنَّ أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : فَجَعَلْتُ أُنَادِيهِمْ وأَقُولُ : بَلْ أَنْتُمُ الْمَجَانِينُ ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِِلَى الصُّفَّةِ ، فَوَافَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ ، فَدَعَا عَلَيْهَا أَهْلَ الصُّفَّةِ وَهُمْ يَأْكُلُونَ مِنْهَا ، فَجَعَلْتُ أَتَطَاوَلُ كَيْ يَدْعُوَنِي ، حَتَّى قَامَ الْقَوْمُ وَلَيْسَ فِي الْقَصْعَةِ إِِلا شَيْءٌ فِي نَوَاحِي الْقَصْعَةِ ، فَجَمَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَارَتْ لُقْمَةً ، فَوَضَعَهَا عَلَى أَصَابِعِهِ ، ثُمَّ قَالَ لِي : كُلْ بِاسْمِ اللَّهِ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا زِلْتُ آكُلُ مِنْهَا حَتَّى شَبِعْتُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھ پر تین ایسے دن آئے جن میں، میں نے کچھ نہیں کھایا، میں صفہ (کے چبوترے) پر آنا چاہ رہا تھا لیکن گر گیا، بچوں نے بلند آواز میں کہنا شروع کر دیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ دیوانہ ہو گیا ہے، تو میں نے انہیں بلند آواز میں جواب دینا شروع کیا، میں نے کہا: ”بلکہ تم لوگ پاگل ہو“، یہاں تک کہ ہم لوگ (اسی عالم میں) صفہ تک آ گئے۔ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ثرید کا پیالہ پیش کیا گیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کھانے کے لیے اہل صفہ کو بلوایا تھا اور وہ لوگ اسے کھا رہے تھے۔ میں نے خود کو سیدھا کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ لوگ مجھے بھی دعوت دیں (لیکن کچھ نہیں ہوا) یہاں تک کہ وہ لوگ (کھانا کھا کر) اٹھ گئے۔ اس پیالے میں صرف وہ چیز باقی رہ گئی جو پیالے کے کناروں پر موجود ہوتی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اکٹھا کیا تو وہ ایک لقمہ بنا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اپنی انگلیوں میں رکھا اور پھر مجھ سے فرمایا: ”اللہ کا نام لے کر اسے کھا لو“ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، میں اس ایک لقمے کو اتنی دیر کھاتا رہا کہ میں سیر ہو گیا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6533]

6534

Sahih Ibn Hibban #6534

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لأُمِّ سُلَيْمٍ : لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعِيفًا أَعْرِفُ مِنْهُ الْجُوعَ ، فَهَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ ، ثُمَّ أَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا ، فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ، ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ يَدَيَّ ، وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ ، ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَذَهَبْتُ بِهِ ، فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ ، فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " لِلطَّعَامِ ؟ " ، فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهُ : " قُومُوا " ، قَالَ : فَانْطَلَقُوا ، وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ، قَدْجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ ، وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ ، فَقَالَتِ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ حَتَّى دَخَلا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلُمِّي مَا عِنْدَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ " ، فَأَتَتْ بِذَلِكَ الْخُبْزِ ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفُتَّ ، وَعَصَرَتْ عَلَيْهِ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً فَآدَمَتْهُ ، ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ، ثُمَّ قَالَ : " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ " ، فَأَذِنَ لَهُمْ ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ، ثُمَّ خَرَجُوا ، ثُمَّ قَالَ : " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ " ، فَأَذِنَ لَهُمْ ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ، ثُمَّ خَرَجُوا ، ثُمَّ قَالَ : " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ " ، فَأَذِنَ لَهُمْ ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ، ثُمَّ خَرَجُوا ، ثُمَّ قَالَ : " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ " ، حَتَّى أَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا ، وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ رَجُلًَا أَوْ ثَمَانُونَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے (اپنی اہلیہ) سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز میں نقاہت محسوس کی ہے جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ آپ کو بھوک لگی ہے، تو کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے (جو کھانے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کریں)؟ اس خاتون نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس خاتون نے جو کی چند ٹکیاں نکالیں، پھر انہوں نے اپنا دوپٹہ لیا اور روٹیاں اس کے کچھ حصے میں لپیٹ دیں اور میری بغل میں دے دیں۔ اس کا کچھ حصہ انہوں نے مجھے اوڑھا دیا اور پھر مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں وہ لے کر چلا گیا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں تشریف فرما پایا، آپ کے ساتھ کچھ لوگ بھی تھے۔ میں ان لوگوں کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کھانے کے لیے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس موجود افراد سے فرمایا: ”اٹھو۔“ راوی کہتے ہیں: یہ سب حضرات روانہ ہو گئے۔ میں ان حضرات کے آگے چلتا ہوا سیدنا ابوطلحہ کے پاس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا تو سیدنا ابوطلحہ نے فرمایا: اے ام سلیم رضی اللہ عنہا! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں، ہمارے پاس تو اتنا کچھ نہیں ہے کہ ہم انہیں کھانا کھلا سکیں۔ تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر سیدنا ابوطلحہ تشریف لے گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ تشریف لائے، یہاں تک کہ یہ دونوں حضرات گھر میں داخل ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام سلیم! تمہارے پاس جو کچھ ہے اسے پیش کرو۔“ تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا وہ روٹیاں لے آئیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ان کے ٹکڑے کر دیے گئے۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اس پر وہ کپی نچوڑ دی جس میں گھی تھا، وہ اس کا سالن بن گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر جو اللہ کو منظور تھا وہ پڑھا، پھر آپ نے فرمایا: ”دس آدمیوں کو اندر آنے کی اجازت دو۔“ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی۔ ان لوگوں نے کھانا کھایا، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے پھر چلے گئے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس آدمیوں کو اندر آنے کی اجازت دو۔“ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دی۔ ان لوگوں نے بھی کھانا کھایا، یہاں تک کہ جب وہ سیر ہو گئے تو چلے گئے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس آدمیوں کو اندر آنے کے لیے کہو۔“ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بھی اجازت دی۔ ان لوگوں نے بھی کھانا کھایا، یہاں تک کہ جب وہ سیر ہو گئے تو چلے گئے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس آدمیوں کو اندر آنے کے لیے کہو۔“ یہاں تک کہ ان سب لوگوں نے کھانا کھا لیا اور سیر ہو کر کھایا، ان لوگوں کی تعداد ستر یا شاید اسی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6534]

6535

Sahih Ibn Hibban #6535

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : وَالَّذِي لا إِِلَهَ إِِلا هُوَ ، إِِنْ كُنْتُ لأَعْتَمِدُ بِكَبِدِي عَلَى الأَرْضِ مِنَ الْجُوعِ ، وَلَقَدْ قَعَدْتُ يَوْمًَا عَلَى طَرِيقِهِمُ الَّذِي يَخْرُجُونَ فِيهِ ، فَمَرَّ بِي أَبُو بَكْرٍ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، مَا سَأَلْتُهُ إِِلا لِيُشْبِعَنِي ، فَمَرَّ وَلَمْ يَفْعَلْ ، وَمَرَّ بِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ ، مَا سَأَلْتُهُ إِِلا لِيُشْبِعَنِي ، فَمَرَّ وَلَمْ يَفْعَلْ ، حَتَّى مَرَّ بِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَأَى مَا بِوَجْهِي ، وَمَا فِي نَفْسِي ، قَالَ : أَبَا هِرٍّ " ، فَقُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ : " الْحَقْ " ، فَلَحِقْتُهُ ، فَدَخَلَ إِِلَى أَهْلِهِ ، فَأَذِنَ ، فَدَخَلْتُ ، فَإِِذَا هُوَ بِلَبَنٍ فِي قَدَحٍ ، فَقَالَ لأَهْلِهِ : " مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا ؟ " ، قَالَ : هَدِيَّةُ فُلانٍ ، أَوْ قَالَ : فُلانٌ ، فَقَالَ : " أَبَا هِرٍّ ،الْحَقْ إِِلَى أَهْلِ الصُّفَّةِ ، فَادْعُهُمْ " ، وَأَهْلُ الصُّفَّةِ أَضْيَافٌ لأَهْلِ الإِِسْلامِ ، لا يَأْوُونَ إِِلَى أَهْلٍ أَوْ مَالٍ ، إِِذَا أَتَتْهُ صَدَقَةٌ بَعَثَ بِهَا إِِلَيْهِمْ ، وَلَمْ يُشْرِكْهُمْ فِيهَا ، وَإِِذَا أَتَتْهُ هَدِيَّةٌ بَعَثَ بِهَا إِِلَيْهِمْ وَشَرَكَهُمْ فِيهَا ، وَأَصَابَ مِنْهَا ، فَسَاءَنِي وَاللَّهِ ذَلِكَ ، قُلْتُ : أَيْنَ يَقَعُ هَذَا اللَّبَنُ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ ، وَأَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقْتُ فَدَعَوْتُهُمْ ، فَأَذِنَ لَهُمْ ، فَدَخَلُوا ، وَأَخَذَ الْقَوْمُ مَجَالِسَهُمْ ، قَالَ : " أَبَا هِرٍّ " ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " خُذْ ، فَنَاوِلْهُمْ " ، قَالَ : فَجَعَلْتُ أُنَاوَلُ رَجُلًَا رَجُلًَا ، فَيَشْرَبُ ، فَإِِذَا رَوِيَ ، أَخَذْتُهُ ، فَنَاوَلْتُ الآخَرَ ، حَتَّى رَوِيَ الْقَوْمُ جَمِيعًا ، ثُمَّ انْتَهَيْتُ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، فَتَبَسَّمَ ، وَقَالَ : " أَبَا هِرٍّ ، بقيتُ أَنَا وَأَنْتَ " ، قُلْتُ : صَدَقْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " خُذْ ، فَاشْرَبْ " ، فَمَا زَالَ يَقُولُ : " اشْرَبْ " ، حَتَّى قُلْتُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا أَجِدُ لَهُ مَسْلَكًا ، قَالَ : " فَأَرِنِي الإِِنَاءَ " ، فَأَعْطَيْتُهُ الإِِنَاءَ ، فَشَرِبَ الْبَقِيَّةَ ، وَحَمِدَ رَبَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: «وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ» ”اللہ کی قسم! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔“ (بعض اوقات) میرا یہ عالم ہوتا تھا کہ میں بھوک کی شدت کی وجہ سے اپنا کلیجہ زمین کے ساتھ لگا لیا کرتا تھا۔ ایک دن میں لوگوں کے راستے میں بیٹھ گیا جہاں سے وہ گزرا کرتے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے، میں نے ان سے اللہ کی کتاب کی ایک آیت کے بارے میں دریافت کیا۔ میں نے ان سے صرف اس لیے سوال کیا تھا تاکہ وہ مجھے کھانا کھلا دیں لیکن وہ تشریف لے گئے اور انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے۔ میں نے ان سے بھی اللہ کی کتاب کی ایک آیت کے بارے میں دریافت کیا۔ میں نے ان سے صرف اس لیے یہ سوال کیا تھا تاکہ وہ مجھے کھانا کھلا دیں لیکن وہ چلے گئے اور انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ پھر میرے پاس سے سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے کو دیکھا اور جو کچھ میرے دل میں تھا ملاحظہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حاضر ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ساتھ آؤ۔“ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل پڑا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھے اندر آنے کی) اجازت دی تو میں اندر آیا۔ وہاں ایک پیالے میں دودھ موجود تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ تمہارے پاس کہاں سے آیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: فلاں نے ہدیہ بھیجا ہے۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) فلاں نے بھیجا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ! اہل صفہ کے پاس جاؤ اور انہیں بلا لاؤ۔“ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) اہل صفہ اسلام کے مہمان تھے، ان کا کوئی گھر بار اور کوئی مال و منال نہیں تھا۔ جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی صدقہ آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ ان لوگوں کی طرف بھجوا دیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس صدقے میں حصہ دار نہیں بنتے تھے لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی تحفہ آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ ان کی طرف بھجوا دیا کرتے تھے اور اس تحفے میں ان کے ساتھ حصہ دار ہوتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے خود بھی کچھ استعمال کر لیتے تھے۔ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) اللہ کی قسم! مجھے یہ بات بہت بری لگی، میں نے سوچا بھلا اتنا سا دودھ اہل صفہ کے، میرے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے (کیا کام آئے گا)؟ لیکن میں چلا گیا اور ان لوگوں کو بلا لایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی تو وہ لوگ اندر آ گئے۔ تمام لوگ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حاضر ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم (دودھ کا پیالہ) لو اور اسے ان لوگوں کو پکڑاؤ۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے (وہ پیالہ) ایک ایک شخص کی طرف بڑھانا شروع کیا۔ وہ شخص اسے لیتا اور جب وہ سیر ہو جاتا تو میں اس سے واپس لے لیتا اور دوسرے شخص کی طرف بڑھا دیتا، یہاں تک کہ سب لوگ سیر ہو گئے۔ پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ! اب میں اور تم (باقی رہ گئے ہیں)۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے سچ فرمایا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے لو اور اسے پی لو۔“ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل یہی کہتے رہے: ”اور پیو۔“ یہاں تک کہ میں نے عرض کی: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، مجھے اب اس میں مزید کوئی گنجائش نہیں ملتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یہ برتن مجھے دکھاؤ۔“ میں نے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی رہ جانے والا (دودھ) پی لیا اور اپنے پروردگار کی حمد بیان کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6535]

6536

Sahih Ibn Hibban #6536

أَخْبَرَنَا الْخَلِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ بِنْتِ تَمِيمِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ بِوَاسِطٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : تُوُفِّيَ أَبِي وَعَلَيْهِ دَيْنٌ ، فَعَرَضْتُ عَلَى غُرَمَائِهِ أَنْ يَأْخُذُوا التَّمْرَ بِمَا عَلَيْهِ ، فَأَبَوْا ، وَلَمْ يَرَوْ أَنَّ فِيهِ وَفَاءً ، فأتيت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : إِِذَا جَدَدْتَهُ ، فَوَضَعْتُهُ فِي الْمِرْبَدِ ، فَآذِنِّي " ، فَلَمَّا جَدَدْتَهُ ، وَوَضَعْتُهُ فِي الْمِرْبَدِ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، فَجَلَسَ عَلَيْهِ ، فَدَعَا بِالْبَرَكَةِ ، ثُمَّ قَالَ : " ادْعُ غُرَمَاءَكَ ، فَأَوْفِهِمْ " ، قَالَ : فَمَا تَرَكْتُ أَحَدًا لَهُ عَلَى أَبِي دَيْنٌ إِِلا قَضَيْتُهُ ، وَفَضَلَ ثَلاثَةَ عَشَرَ وَسْقًا : سَبْعَةٌ عَجْوَةٌ ، وَسِتَّةٌ لَوْنٌ ، فَوَافَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَضَحِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ : " ائْتِ أَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، فَأَخْبِرْهُمَا ذَلِكَ " ، فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، فَأَخْبَرْتُهُمَا ، فَقَالا : إِِذْ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا صَنَعَ قَدْ عَلِمْنَا أَنَّهُ سَيَكُونُ ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے والد کا انتقال ہو گیا، ان کے ذمے قرض تھا، میں نے ان قرض خواہوں کے سامنے یہ پیشکش کی کہ میرے والد کے ذمے جو قرض تھا اس کے عوض میں وہ کھجوریں حاصل کر لیں لیکن انہوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا، ان کے خیال میں اس طرح پوری ادائیگی نہیں ہو پاتی تھی۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم کھجوریں اتار کر انہیں گودام میں رکھو تو مجھے اطلاع دینا“۔ (راوی کہتے ہیں:) جب میں نے ان کو اتار کر انہیں گودام میں (یا سکھانے کی جگہ پر) رکھا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا (اور آپ کو اس بارے میں بتایا) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (کھجوروں کے اس ڈھیر) کے پاس تشریف فرما ہوئے، آپ نے برکت کی دعا کی، پھر آپ نے فرمایا: ”اپنے قرض خواہوں کو بلا لو اور انہیں پوری ادائیگی کر دو“۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنے والد کے ذمے واجب الادا تمام قرض ادا کر دیا پھر بھی (کھجوروں کے) تیرہ وسق باقی رہ گئے، سات وسق عجوہ کھجوروں کے تھے اور چھ وسق لون کھجوروں کے تھے۔ میں نے مغرب کی نماز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کی اور آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، آپ نے فرمایا: ”ابوبکر اور عمر کے پاس جاؤ اور انہیں اس بارے میں بتاؤ“۔ میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان دونوں حضرات کو اس بارے میں بتایا تو ان دونوں نے فرمایا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ عمل کیا تھا، اسی وقت ہمیں اندازہ ہو گیا تھا کہ ایسا ہی ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6536]

6537

Sahih Ibn Hibban #6537

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ : أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ، قَالَ : فَأَخَّرَ الصَّلاةَ يَوْمًا ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ، ثُمَّ دَخَلَ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا ، ثُمَّ قَالَ : إِِنَّكُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا إِِنْ شَاءَ اللَّهُ عَيْنَ تَبُوكَ ، فَإِِنَّكُمْ لَنْ تَأْتُوهَا حَتَّى يَضْحَى النَّهَارُ ، فَمَنْ جَاءَهَا ، فَلا يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا حَتَّى آتِيَ " ، قَالَ : فَجِئْنَاهَا وَقَدْ سَبَقَ إِِلَيْهَا رَجُلانِ ، وَالْعَيْنُ مِثْلُ الشِّرَاكِ تَبِضُّ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ ، فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ مَسِسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا ؟ " ، فَقَالا : نَعَمْ ، فَسَبَّهُمَا ، وَقَالَ لَهُمَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ، ثُمَّ غَرَفُوا مِنَ الْعَيْنِ بِأَيْدِيهِمْ قَلِيلا حَتَّى اجْتَمَعَ فِي شَيْءٍ ، ثُمَّ غَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، ثُمَّ أَعَادَهَا فِيهَا ، فَجَرَتِ الْعَيْنُ بِمَاءٍ كَثِيرٍ ، فَاسْتَقَى النَّاسُ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوشِكُ يَا مُعَاذُ إِِنْ طَالَتْ بِكَ الْحَيَاةُ أَنْ تَرَى مَا هَاهُنَا قَدْ مُلِئَ جِنَانًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نماز جبکہ مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ ادا کرتے رہے۔ راوی کہتے ہیں: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو مؤخر کیا پھر آپ (اپنی قیام گاہ سے) باہر تشریف لائے۔ آپ نے ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ادا کی، پھر آپ (قیام گاہ کے اندر تشریف لے گئے پھر آپ باہر تشریف لے آئے) پھر آپ نے مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر اللہ نے چاہا تو کل تم لوگ تبوک کے چشمے تک پہنچ جاؤ گے، تم اس کے پاس اس وقت پہنچو گے جب دن چڑھ چکا ہو گا، جو شخص وہاں آئے وہ اس کے پانی میں سے اس وقت تک کچھ حاصل نہ کرے جب تک میں نہیں آ جاتا۔“ راوی کہتے ہیں: جب ہم وہاں پہنچے تو دو آدمی وہاں پہلے پہنچ چکے تھے۔ وہ چشمہ تسمے کی طرح (باریک) تھا جس میں سے تھوڑا سا پانی نکل رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے دریافت کیا: ”تم نے اس کے پانی کو استعمال کیا ہے؟“ ان دونوں نے جواب دیا: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں پر ناراضی کا اظہار کیا اور جو اللہ کو منظور تھا وہ ان دونوں سے کہا۔ پھر لوگوں نے اپنے ہاتھوں کے ذریعے اس چشمے میں سے تھوڑا سا پانی حاصل کیا، یہاں تک کہ وہ پانی کسی چیز میں اکٹھا ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے۔ پھر آپ نے وہ پانی دوبارہ اس چشمے میں ڈال دیا تو اس سے بہت سا پانی جاری ہو گیا اور لوگوں نے وہ پانی پیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے معاذ! عنقریب تمہاری زندگی لمبی ہو گی اور تم دیکھو گے (کہ اس پانی کی وجہ سے) یہاں بہت سے باغات ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6537]

6538

Sahih Ibn Hibban #6538

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ حَضَرَتْ صَلاةُ الْعَصْرِ ، وَلَيْسَ مَعَنَا مَاءٌ غَيْرُ فَضْلَةٍ ، فَجُعِلَ فِي إِِنَاءٍ ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَدْخَلَ يَدَهُ ، وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، وَقَالَ : حَيَّ عَلَى الْوَضُوءِ وَالْبَرَكَةِ مِنَ اللَّهِ " ، قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْفَجِرُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَتَوَضَّأَ نَاسٌ ، وَشَرِبُوا ، قَالَ : فَجَعَلْتُ لا آلُو مَا جَعَلْتُ فِي بَطْنِي مِنْهُ ، وَعَلِمْتُ أَنَّهُ بَرَكَةٌ، قَالَ : فَقُلْتُ لِجَابِرٍ : كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : أَلْفٌ وَأَرْبَعُ مِائَةٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، عصر کی نماز کا وقت ہو گیا۔ ہمارے پاس پانی نہیں تھا، صرف بچا ہوا (تھوڑا سا) پانی تھا، اسے ایک برتن میں ڈال دیا گیا، پھر وہ برتن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس کے اندر داخل کیا، آپ نے اپنی انگلیوں کو کشادہ کیا اور ارشاد فرمایا: ”وضو کے پانی کی طرف آ جاؤ، برکت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔“ راوی کہتے ہیں: تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پانی کو پھوٹتے ہوئے دیکھا۔ راوی کہتے ہیں: تو لوگوں نے وضو کیا اور انہوں نے پانی پیا بھی۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اس بات کی بھرپور کوشش کی کہ وہ پانی زیادہ سے زیادہ اپنے پیٹ میں ڈال سکوں کیونکہ مجھے اس بات کا علم تھا کہ یہ برکت والا ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: اس دن آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: ایک ہزار چار سو (افراد تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6538]

6539

Sahih Ibn Hibban #6539

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَانَتْ صَلاةُ الْعَصْرِ ، وَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ ، فَلَمْ يَجِدُوهُ ، فَأُتِيَ بِوَضُوءٍ ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي ذَلِكَ الإِِنَاءِ ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ ، فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ عصر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا اور لوگ وضو کے لیے پانی تلاش کر رہے تھے لیکن انہیں پانی نہیں ملا، پھر وضو کا کچھ پانی لایا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک اس برتن میں رکھا اور لوگوں کو حکم دیا کہ ”وہ اس سے وضو کرنا شروع کریں“ تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے نیچے سے پانی کو پھوٹتے ہوئے دیکھا، لوگوں نے وضو کیا یہاں تک کہ ان سب لوگوں نے وضو کر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6539]

6540

Sahih Ibn Hibban #6540

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَلَمْ يَجِدُوا مَاءً ، فَأُتِيَ بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ ، فَأَدْخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِيهِ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْفَجِرُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَيَقُولُ : حَيَّ عَلَى أَهْلِ الطَّهُورِ ، وَالْبَرَكَةِ مِنَ اللَّهِ "، قَالَ الأَعْمَشُ : فَحَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ : قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : كَمْ كُنْتُمْ ؟ قَالَ : أَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے، لوگوں کو پانی نہیں ملا، تو پانی کا ایک پیالہ لایا گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس کے اندر داخل کیا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پانی کو پھوٹتے ہوئے دیکھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”طہارت کے حصول کے ذریعے کی طرف آ جاؤ، برکت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔“ اعمش نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ سالم نے مجھے یہ بات بتائی ہے، میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: ایک ہزار پانچ سو (لوگ تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6540]

6541

Sahih Ibn Hibban #6541

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ إِِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَصَابَ النَّاسُ عَطَشٌ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ ، فَجَهِشَ النَّاسُ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَضَعَ يَدَهُ فِي مَاءٍ ، فَرَأَيْتُ الْمَاءَ مِثْلَ الْعُيُونِ "، قَالَ : قُلْتُ : كَمْ كُنْتُمْ ؟ قَالَ : لَوْ كُنَّا ثَلاثَ آلافٍ ، لَكَفَانَا ، وَكُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حدیبیہ کے دن لوگوں کو پیاس لاحق ہو گئی۔ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک پانی میں رکھا تو وہ پانی چشموں کی طرح ہو گیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے دریافت کیا کہ آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر ہم تین ہزار بھی ہوتے تو وہ ہمارے لیے کفایت کر جاتا، ویسے ہماری تعداد پندرہ سو تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6541]

6542

Sahih Ibn Hibban #6542

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُصَيْنُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ يَتَوَضَّأُ مِنْهَا ، إِِذَا جَهِشَ النَّاسُ نَحْوَهُ ، فَقَالَ : مَا لَكُمْ ؟ " ، فَقَالُوا : مَا لَنَا لا نَتَوَضَّأُ بِهِ ، وَلا نَشْرَبُ إِِلا مَا بَيْنَ يَدَيْكَ ، قَالَ :" فَوَضَعَ يَدَيْهِ فِي الرَّكْوَةِ ، وَدَعَا بِمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَ ، قَالَ : فَجَعَلَ الْمَاءُ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْثَالَ الْعُيُونِ ، قَالَ : فَشَرِبْنَا ، وَتَوَضَّأْنَا، قَالَ : قُلْتُ لِجَابِرٍ : كَمْ كُنْتُمْ ؟ قَالَ : كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً ، وَلَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ ، لَكَفَانَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ حدیبیہ کے موقع پر لوگ پیاس کا شکار ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک پیالہ رکھا تھا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے تھے۔ جب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا معاملہ ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: ہمارے پاس وضو کرنے کے لیے (پانی) نہیں ہے اور پینے کے لیے بھی نہیں ہے، صرف وہ پانی ہے جو آپ کے سامنے ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اس پیالے پر رکھے اور پھر جو اللہ کو منظور تھا وہ دعا کی، راوی کہتے ہیں: تو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے چشموں کی مانند پانی پھوٹنا شروع ہوا۔ راوی کہتے ہیں: تو ہم نے اسے پیا بھی اور اس سے وضو بھی کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے فرمایا: ہم پندرہ سو لوگ تھے لیکن اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ ہمارے لیے کافی ہوتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6542]

6543

Sahih Ibn Hibban #6543

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : قُلْتُ لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الأَعَاجِيبِ لا نُحَدِّثُهُ ، عَنْ غَيْرِكَ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ ، ثُمَّ أَتَى الْمَقَاعِدَ الَّتِي كَانَ يَأْتِيهِ عَلَيْهَا جِبْرِيلُ ، فَقَعَدَ عَلَيْهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ بِلالٌ ، فَنَادَى بِالْعَصْرِ ، فَقَامَ مَنْ لَهُ أَهْلٌ بِالْمَدِينَةِ ، فَتَوَضَّئُوا ، وَقَضَوْا حَوَائِجَهُمْ ، وَبَقِيَ رِجَالٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لا أَهْلَ لَهُمْ بِالْمَدِينَةِ ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ ، فَوَضَعَ أَصَابِعُهُ فِي الْقَدَحِ ، فَمَا وَسِعَ أَصَابِعَهُ كُلَّهَا ، فَوَضَعَ هَؤُلاءِ الأَرْبَعَةَ ، وَقَالَ : " هَلُمُّوا فَتَوَضَّئُوا أَجْمَعِينَ "، قُلْتُ لأَنَسٍ : كَمْ تُرَاهُمْ ؟ قَالَ : مَا بَيْنَ السَّبْعِينَ إِِلَى الثَّمَانِينَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الْجَمْعُ بَيْنَ هَذِهِ الأَخْبَارِ أَنَّ هَذَا الْفِعْلَ مِنَ الْمُصْطَفَى كَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي أَرْبَعِ مَوَاضِعَ مُخْتَلِفَةٍ : مَرَّةً كَانَ الْقَوْمُ مَا بَيْنَ أَلْفٍ وَأَرْبَعِ مِائَةٍ إِِلَى أَلْفٍ وَخَمْسِ مِائَةٍ ، وَكَانَ ذَلِكَ الْمَاءُ فِي تَوْرٍ ، وَالْمَرَّةُ الثَّانِيَةُ كَانَ الْقَوْمُ مَا بَيْنَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً إِِلَى خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً ، وَكَانَ ذَلِكَ الْمَاءُ فِي رَكْوَةٍ ، وَالْمَرَّةُ الثَّالِثَةُ كَانَ الْقَوْمُ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِِلَى الثَّمَانِينَ ، وَكَانَ ذَلِكَ الْمَاءُ فِي قَدَحٍ رَحْرَاحٍ ، وَالْمَرَّةُ الرَّابِعَةُ كَانَ الْقَوْمُ ثَلاثَ مِائَةٍ ، وَكَانَ ذَلِكَ الْمَاءُ فِي قَعْبٍ ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَهَا تَضَادٌّ أَوْ تَهَاتِرٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ثابت بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہمیں کسی ایسی حیران کن چیز کے بارے میں بتائیے جسے ہم آپ کے علاوہ کسی اور کے حوالے سے روایت نہ کر سکیں، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بتایا ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ظہر کی نماز ادا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ تشریف لے آئے جہاں سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف فرما ہوئے، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے عصر کے لیے اذان دی تو جس بھی شخص کا مدینہ منورہ میں گھر بار تھا وہ گھر گیا، اس نے قضائے حاجت کی مہاجرین سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ باقی رہ گئے جن کے اہل خانہ مدینہ میں نہیں تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک پیالہ لایا گیا جس میں پانی موجود تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں اس پیالے میں داخل کیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام انگلیاں اس پیالے میں نہیں آ سکیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ چار انگلیاں اس پیالے میں رکھیں، اور پھر فرمایا: ”آگے آؤ اور تم سب لوگ وضو کر لو۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آپ کے خیال میں ان لوگوں کی تعداد کتنی تھی، تو انہوں نے جواب دیا: ستر سے لے کر اسی تک تھی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان تمام روایات میں اس طرح مطابقت ہو سکتی ہے کہ یہ معجزہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی مرتبہ صادر ہوا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چار مرتبہ مختلف موقعوں پر صادر ہوا۔ ایک مرتبہ لوگوں کی تعداد چودہ سو سے لے کر پندرہ سو تک تھی اور اس وقت پانی (پتھر کے بنے ہوئے پیالے میں تھا) دوسری مرتبہ لوگوں کی تعداد چودہ سو سے لے کر پندرہ سو تک تھی اس وقت پانی رکابی میں تھا۔ تیسری مرتبہ لوگوں کی تعداد ساٹھ سے لے کر اسی تک تھی، اس وقت پانی گہرے پیالے میں تھا۔ چوتھی مرتبہ لوگوں کی تعداد تین سو تھی، اس وقت پانی بڑے پیالے میں تھا۔ اس طرح ان روایات کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف باقی نہیں رہے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6543]

6544

Sahih Ibn Hibban #6544

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَقَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : طَلَبَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ مَاءٌ ؟ " فَوَضَعَ يَدَهُ فِي الْمَاءِ ، ثُمَّ قَالَ :" تَوَضَّئُوا بِاسْمِ اللَّهِ " ، فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَجْرِي مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَوضَّئُوا حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ، قَالَ ثَابِتٌ لأَنَسٍ : كَمْ تُرَاهُمْ ؟ ، قَالَ : نَحْوًا مِنْ سَبْعِينَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب نے وضو کے لیے پانی تلاش کیا (وہ انہیں نہیں ملا) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی کے پاس پانی ہے؟“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک اس پانی میں رکھا اور فرمایا: «تَوَضَّؤُوا بِاسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کا نام لے کر وضو کرنا شروع کرو۔“ (راوی کہتے ہیں:) تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پانی کو جاری ہوتے ہوئے دیکھا، ان لوگوں نے وضو کر لیا، یہاں تک کہ وہاں موجود ہر فرد نے وضو کر لیا۔ ثابت رحمہ اللہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا: ان لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: تقریباً ستر لوگ تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6544]

6545

Sahih Ibn Hibban #6545

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ :حَضَرَتِ الصَّلاةُ ، فَقَامَ مَنْ كَانَ قَرِيبَ الدَّارِ إِِلَى أَهْلِهِ ، فَتَوَضَّأَ ، وَبَقِيَ قَوْمٌ ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِخْضَبٍ مِنْ حِجَارَةٍ فِيهِ مَاءٌ ، فَصَغُرَ الْمِخْضَبُ عَنْ أَنْ يُمْلأَ فِيهِ كَفَّهُ ، فَضَمَّ أَصَابِعَهُ فَوَضَعَهَا فِي الْمِخْضَبِ ، فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ جَمِيعًا "، فَقُلْنَا : كَمْ كَانُوا ؟ قَالَ : ثَمَانِينَ رَجُلًَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نماز کا وقت ہو گیا، جس شخص کا گھر وہاں قریب تھا اس نے (اپنے گھر جا کر) وضو کر لیا اور کچھ لوگ باقی رہ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پتھر کا بنا ہوا ایک برتن لایا گیا جس میں پانی موجود تھا۔ اس برتن میں اتنا پانی بھی نہیں تھا کہ وہ ہتھیلی بھر کر آ سکے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ملائیں اور اس پیالے میں رکھ دیں تو وہاں موجود تمام لوگوں نے وضو کر لیا۔ (راوی کہتے ہیں:) ہم نے دریافت کیا: ان کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: 80 افراد تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6545]

6546

Sahih Ibn Hibban #6546

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِمَاءٍ ، فَأُتِيَ بِقَدَحٍ رَحْرَاحٍ ، فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ ، فَحَزَرْتُ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِِلَى الثَّمَانِينَ ، قَالَ : فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا تو ایک گہرے پیالے میں پانی لایا گیا۔ لوگوں نے وضو کرنا شروع کیا، میں نے انہیں شمار کیا تو ان کی تعداد 60 سے لے کر 80 تک تھی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ پانی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6546]

6547

Sahih Ibn Hibban #6547

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَصْحَابِهِ بِالْمَدِينَةِ أَوْ بِالزَّوْرَاءِ ، فَأَرَادَ الْوَضُوءَ ،فَأُتِيَ بِقَعْبٍ فِيهِ مَاءٌ يَسِيرٌ ، فَوَضَعَ كَفَّهُ عَلَى الْقَعْبِ ، فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَضَّأَ الْقَوْمُ "، قَالَ : كَمْ كُنْتُمْ ؟ قَالَ : زُهَاءَ ثَلاثِ مِائَةٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا جب آپ اپنے اصحاب کے ہمراہ مدینہ منورہ میں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) زوراء میں موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرنے کا ارادہ کیا تو آپ کی خدمت میں ایک پیالہ پیش کیا گیا جس میں تھوڑا سا پانی تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی اس پیالے پر رکھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان میں سے پانی پھوٹنے لگا، یہاں تک کہ تمام لوگوں نے وضو کر لیا۔ راوی نے دریافت کیا: آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: 300 کے لگ بھگ تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6547]

6548

Sahih Ibn Hibban #6548

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : لَمَّا نَزَلَتْ : وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ ، يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ،لا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب یہ آیت ﴿وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ [سورة الشعراء: 214] (اور تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ) نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ! اے عبدالمطلب کی صاحبزادی صفیہ! اے عبدالمطلب کی اولاد! میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، البتہ تم میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے مانگ لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6548]

6549

Sahih Ibn Hibban #6549

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ : وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ ، قَالَ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ،اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ ، لا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، لا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، لا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ ، لا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ ، سَلِينِي مَا شِئْتِ ، لا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن مسیب اور ابوسلمہ نے یہ بات بیان کی ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ [سورة الشعراء: 214] ”اور تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے قریش! اللہ تعالیٰ سے اپنی جانیں خرید لو، میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اے بنو عبدالمطلب! میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ! میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی صفیہ رضی اللہ عنہا! میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں آپ کے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا! تم جو چاہو مجھ سے مانگ لو لیکن میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6549]

6550

Sahih Ibn Hibban #6550

أَخْبَرَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ إِِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ ، وَرَهْطَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ ، قَالَ : وَهُنَّ فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى الصَّفَا ، فَصَعِدَ عَلَيْهَا ، ثُمَّ نَادَى : يَا صَبَاحَاهُ " ، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ إِِلَيْهِ ، فَبَيْنَ رَجُلٍ يَجِيءُ ، وَبَيْنَ رَجُلٍ يَبْعَثُ رَسُولَهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، يَا بَنِي فِهْرٍ ، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ ، يَا بَنِي ، يَا بَنِي ،أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًَا بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ تُرِيدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ أَصَدَّقْتُمُونِي ؟ " ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " فَإِِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ " ، فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ : تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ ، أَمَا دَعَوْتُمُونَا إِِلا لِهَذَا ، ثُمَّ قَامَ ، فَنَزَلَتْ : تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ ، وَقَدْ تُبَّ، وَقَالُوا : مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ كَذِبًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ [سورة الشعراء: 214] ”اور تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ“ نازل ہوئی اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت میں یہ الفاظ بھی ہیں: «وَرَهْطَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ» ”اور ان میں سے اپنے مخلص گروہ کو (ڈراؤ)“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور صفا پہاڑ کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اوپر چڑھ گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا: «يَا صَبَاحَاهْ!» ”خطرہ ہے!“ تو لوگ آپ کے اردگرد اکٹھے ہو گئے، کوئی شخص خود آگیا اور کسی نے اپنے قاصد کو بھیج دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنو عبدالمطلب! اے بنو فہر! اے بنو عبدمناف! اے بنو (فلاں)! اے بنو (فلاں)! تمہارا کیا خیال ہے اگر میں تمہیں اس بات کی اطلاع دوں کہ اس پہاڑ کے دوسری طرف ایک لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری بات کی تصدیق کرو گے؟“ ان لوگوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ“ ”تو میں شدید عذاب سے پہلے تمہیں ڈرا رہا ہوں۔“ اس پر ابولہب نے کہا: ”تم ہمیشہ کے لیے برباد ہو جاؤ! کیا تم نے ہمیں صرف اس کام کے لیے بلایا تھا؟“ پھر وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا (اور چلا گیا) اور اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ﴾ [سورة المسد: 1] ”ابولہب کے دونوں ہاتھ برباد ہو جائیں“ تو وہ برباد ہو گیا۔ البتہ دوسرے لوگوں نے یہ کہا تھا: ”ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کبھی جھوٹ کا تجربہ نہیں ہوا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6550]

6551

Sahih Ibn Hibban #6551

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ابْنِ بِنْتِ أَزْهَرَ السَّمَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ : قَالَ الأَشْعَرِيُّ : لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ ، وَضَعَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ ، وَرَفَعَ صَوْتَهُ ، وَقَالَ : يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ " ، ثُمَّ سَاقَ الْخَبَرَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ [سورة الشعراء: 214] ”تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ“ نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں رکھیں اور بلند آواز میں کہا: ”اے بنو عبدمناف!“ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6551]

6552

Sahih Ibn Hibban #6552

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ صَفْوَانِ بْنِ عُمَرَوٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَلَسْنَا إِِلَى الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ يَوْمًا ، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : طُوبَى لِهَاتَيْنِ الْعَيْنَيْنِ اللَّتَيْنِ رَأَتَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاللَّهِ لَوَدِدْنَا أَنَّا رَأَيْنَا مَا رَأَيْتَ ، وَشَهِدْنَا مَا شَهِدْتَ ، فَاسْتُغْضِبَ ، فَجَعَلَتْ أَعْجَبُ ، مَا قَالَ إِِلا خَيْرًا ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِِلَيْهِ ، فَقَالَ :مَا يَحْمِلُ الرَّجُلَ عَلَى أَنْ يَتَمَنَّى مُحْضَرًا غَيَّبَهُ اللَّهُ عَنْهُ ، لا يَدْرِي لَوْ شَهِدَهُ كَيْفَ كَانَ يَكُونُ فِيهِ ، وَاللَّهِ لَقَدْ حَضَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْوَامٌ أَكَبَّهُمُ اللَّهُ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي جَهَنَّمَ لَمْ يُجِيبُوهُ ، وَلَمْ يُصَدِّقُوهُ ، أَوَلا تَحْمَدُونَ اللَّهَ إِِذْ أَخْرَجَكُمْ تَعْرِفُونَ رَبَّكُمْ ، مُصَدِّقِينَ لِمَا جَاءَ بِهِ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَدْ كُفِيتُمُ الْبَلاءَ بِغَيْرِكُمْ ؟ وَاللَّهِ لَقَدْ بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَشَدِّ حَالٍ بُعِثَ عَلَيْهَا نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ ، وَفَتْرَةٍ وَجَاهِلِيَّةٍ مَا يَرَوْنَ أَنَّ دَيْنًا أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ الأَوْثَانِ ، فَجَاءَ بِفُرْقَانٍ فَرَّقَ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ ، وَفَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدِ وَوَلَدِهِ ، حَتَّى إِِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَرَى وَلَدَهُ أَوْ وَالِدَهُ أَوْ أَخَاهُ كَافِرًا ، وَقَدْ فَتَحَ اللَّهُ قُفْلَ قَلْبِهِ لِلإِِيمَانِ يَعْلَمُ أَنَّهُ إِِنْ هَلَكَ دَخَلَ النَّارَ ، فَلا تَقَرُّ عَيْنُهُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ حَبِيبَهُ فِي النَّارِ ، وَأَنَّهَا الَّتِي قَالَ اللَّهُ : الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن جبیر رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک دن ہم سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص ان کے پاس سے گزرا اور کہنے لگا: ان دونوں آنکھوں کے لیے مبارک باد ہے جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے۔ اللہ کی قسم! ہماری تو یہ خواہش تھی کہ کاش ہم نے بھی وہی کچھ دیکھا ہوتا جو آپ نے دیکھا اور ہم بھی ان کے ساتھ حاضر ہوتے جن کے ساتھ آپ حاضر رہے، تو سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے، میں اس پر بہت حیران ہوا کیونکہ اس شخص نے تو اچھی بات ہی کہی تھی، پھر سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ اس شخص کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کسی شخص کو کون سی بات اس بات پر ابھارتی ہے کہ وہ اس منظر میں حاضر ہونے کی تمنا کرے جسے اللہ تعالیٰ نے اس سے غائب (محفوظ) رکھا ہے؟ وہ نہیں جانتا کہ اگر وہ اس وقت موجود ہوتا تو اس کی کیا صورت حال ہوتی؟ اللہ کی قسم! بیشک کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے نتھنوں کے بل جہنم میں اوندھا کر دیا، اس لیے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول نہیں کیا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی۔ کیا تم لوگ اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان نہیں کرتے کہ اس نے جب تمہیں پیدا کیا تو تم اپنے پروردگار کی معرفت رکھتے ہو اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ لے کر آئے تم اس کی تصدیق کرنے والے ہو، جبکہ تمہارے علاوہ دوسرے لوگوں کو آزمائش میں مبتلا کیا گیا؟ اللہ کی قسم! جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو کسی بھی نبی کو ایسی شدید صورت حال میں مبعوث نہیں کیا گیا جیسی صورت حال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا گیا، یعنی (انبیاء کی آمد کے درمیان) وقفہ آ چکا تھا اور جاہلیت کا زمانہ تھا۔ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ بتوں کی عبادت کرنے سے بہتر کوئی اور دین نہیں ہے، پھر فرق کرنے والی (کتاب یا اسلام) آئی جس نے حق اور باطل کے درمیان فرق کیا، اور اس نے باپ اور اس کی اولاد کے درمیان علیحدگی کروا دی، یہاں تک کہ ایک شخص اپنی اولاد یا اپنے والد یا اپنے بھائی کو کافر دیکھتا تھا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو ایمان کے لیے کھول دیا تھا۔ وہ یہ بات جانتا تھا کہ اگر اس کا کوئی قریبی رشتہ دار (کفر کی حالت میں) ہلاک ہوا تو جہنم میں جائے گا، تو اس کی آنکھ اس بات پر کیسے ٹھنڈی ہو سکتی تھی جبکہ وہ یہ جانتا تھا کہ اس کی محبوب ہستی جہنم میں جائے گی؟ یہی وہ چیز ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا: ﴿وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ﴾ [سورة الفرقان: 74] ”اور وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں: اے ہمارے پروردگار! ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6552]

6553

Sahih Ibn Hibban #6553

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الطَّاحِيُّ الْعَابِدُ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِِلَى كِسْرَى ، وَقَيْصَرَ ، وَأُكَيْدِرَ دُومَةَ يَدْعُوهُمْ إِِلَى اللَّهِ تَعَالَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ، قیصر اور دومہ (کے حکمران) اکیدر کو مکتوبات بھجوائے، آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف (آنے کی) دعوت دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6553]

6554

Sahih Ibn Hibban #6554

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ الْحَافِظُ بِتُسْتَرَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِِلَى كِسْرَى ، وَقَيْصَرَ ، وَأُكَيْدِرَ دُومَةَ يَدْعُوهُمْ إِِلَى اللَّهِ جَلَّ وَعَلا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ، قیصر اور دومہ (کے حکمران) اکیدر کو خط لکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف آنے کی دعوت دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6554]

6555

Sahih Ibn Hibban #6555

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ مِنْ فِيهِ إِِلَى فِي ، قَالَ : انْطَلَقْتُ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَيْنَا أَنَا بِالشَّامِ إِِذْ جِيءَ بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى هِرَقْلَ ، جَاءَ بِهِ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ ، فَدَفَعَهُ إِِلَى عَظِيمِ بُصْرَى ، فَدَفَعَهُ عَظِيمُ بُصْرَى إِِلَى هِرَقْلَ ، فَقَالَ هِرَقْلُ : هَلْ هَا هُنَا أَحَدٌ مِنْ قَوْمِ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، فَدُعِيتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَدَخَلْنَا عَلَى هِرَقْلَ ، فَأَجْلَسَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا مِنْ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ ؟ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : فَقُلْتُ : أَنَا ، فَأَجْلَسُونِي بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَأَجْلَسُوا أَصْحَابِي خَلْفِي ، ثُمَّ دَعَا تُرْجُمَانَهُ ، فَقَالَ : قُلْ لَهُمْ : إِِنِّي سَائِلُ هَذَا الرَّجُلِ عَنْ هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ ، فَإِِنْ كَذَّبَنِي فَكَذِّبُوهُ ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : وَاللَّهِ لَوْلا مَخَافَةُ أَنْ يُؤْثَرَ عَنِّي الْكَذِبَ ، لَكَذَبْتُهُ ، ثُمَّ قَالَ لِتُرْجُمَانِهِ : سَلْهُ كَيْفَ حَسَبُهُ فِيكُمْ ؟ قَالَ : قُلْتُ : هُوَ فِينَا ذُو حَسَبٍ ، قَالَ : فَهَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ ؟ قُلْتُ : لا ، قَالَ : فَهَلْ أَنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ ؟ قُلْتُ : لا ، قَالَ : مَنْ تَبِعَهُ : أَشْرَافُ النَّاسِ أَمْ ضُعَفَائُهُمْ ؟ قُلْتُ : بَلْ ضُعَفَائُهُمْ ، قَالَ : فَهَلْ يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : بَلْ يَزِيدُونَ ، قَالَ : فَهَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ سَخْطَةً لَهُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : لا ، قَالَ : فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : كَيْفَ كَانَ قِتَالُكُمْ إِِيَّاهُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : تَكُونُ الْحَرْبُ سِجَالا بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ ، يُصِيبُ مِنَّا ، وَنُصِيبُ مِنْهُ ، قَالَ : فَهَلْ يَغْدِرُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : لا ، وَنَحْنُ مِنْهُ فِي مُدَّةٍ ، أَوْ قَالَ : هُدْنَةٍ ، لا نَدْرِي مَا هُوَ صَانِعٌ فِيهَا ، مَا أَمْكَنَنِي مِنْ كَلِمَةٍ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا غَيْرَ هَذِهِ ، قَالَ : فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : لا ، ثُمَّ قَالَ لِتُرْجُمَانِهِ : قُلْ لَهُ : إِِنِّيسَأَلْتُكَ عَنْ حَسَبِهِ فِيكُمْ ، فَزَعَمْتَ أَنَّهُ فِيكُمْ ذُو حَسَبٍ ، فَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي أَحْسَابِ قَوْمِهَا ، وَسَأَلْتُكَ : هَلْ كَانَ فِي آبَائِهِ مَلِكٌ ، فَزَعَمْتَ أَنْ لا ، فَقُلْتُ : لَوْ كَانَ فِي آبَائِهِ مَلِكٌ ، قُلْتُ : رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ آبَائِهِ ، وَسَأَلْتُكَ عَنْ أَتْبَاعِهِ : أَضُعَفَاءُ النَّاسِ أَمْ أَشْرَافُهُمْ ؟ فَقُلْتَ : بَلْ ، ضُعَفَاؤُهُمْ ، وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ ، وَسَأَلْتُكَ : هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ ؟ فَزَعَمْتَ : أَنْ لا ، وَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَدَعَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ ، ثُمَّ يَذْهَبَ فَيَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ ، وَسَأَلْتُكَ : هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَهُ سَخْطَةً لَهُ ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لا ، وَكَذَلِكَ الإِِيمَانُ إِِذَا خَالَطَهُ بَشَاشَةُ الْقُلُوبِ ، وَسَأَلْتُكَ : هَلْ يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ ، وَكَذَلِكَ الإِِيمَانُ حَتَّى يَتِمَّ ، وَسَأَلْتُكَ : هَلْ قَاتَلْتُمُوهُ ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّ الْحَرْبَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سِجَالٌ ، تَنَالُونَ مِنْهُ ، وَيَنَالُ مِنكمْ ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلَى ، ثُمَّ تَكُونُ لَهُمُ الْعَاقِبَةُ ، وَسَأَلْتُكَ : هَلْ يَغْدِرُ ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لا ، وَكَذَلِكَ الأَنْبِيَاءُ لا تَغْدِرُ ، وَسَأَلْتُكَ : هَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لا ، فَقُلْتُ : لَوْ كَانَ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ ، قُلْتُ : رَجُلٌ يَأْتَمُّ بِقَوْلٍ قَبْلَ قَوْلِهِ ، قَالَ : ثُمَّ مَا يَأْمُرُكُمْ ؟ ، قَالَ : قُلْتُ : يَأْمُرُنَا بِالصَّلاةِ وَالزَّكَاةِ وَالصِّلَةِ وَالْعَفَافِ ، قَالَ : إِِنْ يَكُنْ مَا تَقُولُ فِيهِ حَقًَّا ، فَإِِنَّهُ نَبِيٌّ ، وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ ، وَلَمْ أَظُنَّ أَنَّهُ مِنْكُمْ ، وَلَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ إِِلَيْهِ ، لأَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ ، وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمَيْهِ ، وَلَيَبْلُغَنَّ مُلْكُهُ مَا تَحْتَ قَدَمَيَّ ، قَالَ : ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَرَأَ ، فَإِِذَا فِيهِ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ ، سَلامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى ، أَمَّا بَعْدُ ، فَإِِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الإِِسْلامِ ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ ، وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ ، فَإِِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِِنَّ عَلَيْكَ إِِثْمَ الأَرِيسِيِّينَ : يَأَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلا نَعْبُدَ إِلا اللَّهَ ، إِِلَى قَوْلِهِ : اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ " ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ الْكِتَابِ ، ارْتَفَعَتِ الأَصْوَاتُ عِنْدَهُ ، وَكَثُرَ اللَّغَطُ ، فَأُمِرَ بِنَا ، فَأُخْرِجْنَا ، فَقُلْتُ لأَصْحَابِي حِينَ خَرَجْنَا : لَقَدْ جَلَّ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ ، إِِنَّهُ لَيَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الأَصْفَرِ ، قَالَ : فَمَا زِلْتُ مُوقِنًا بِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَيَظْهَرُ حَتَّى أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيَّ الإِِسْلامَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے بذاتِ خود مجھے یہ بات بتائی، وہ کہتے ہیں: جس عرصے میں ہمارے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صلح کا معاہدہ چل رہا تھا، اس دوران میں شام گیا، ابھی میں شام میں موجود تھا کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب (وہاں کے حکمران) ہرقل کے نام آیا، سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ وہ مکتوب لے کر آئے تھے، انہوں نے وہ مکتوب بصریٰ کے گورنر کے سپرد کیا، بصریٰ کے گورنر نے وہ خط ہرقل کو بھجوا دیا، ہرقل نے دریافت کیا: کیا یہاں ان صاحب کی قوم سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص موجود ہے جو یہ کہتے ہیں کہ وہ نبی ہیں؟ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں، (سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) تو مجھے قریش کے کچھ افراد سمیت بلا لیا گیا، جب ہم لوگ ہرقل کے پاس آئے تو اس نے ہمیں اپنے سامنے بٹھایا، اس نے دریافت کیا: یہ صاحب جو یہ کہتے ہیں کہ وہ نبی ہیں، تم میں سے نسبی طور پر کون ان کے سب سے زیادہ قریب ہے؟ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے جواب دیا: میں، تو اس نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا اور میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھا دیا، پھر اس نے اپنے ترجمان کو بلوایا اور کہا: تم ان سے کہہ دو کہ میں اس شخص سے ان صاحب کے بارے میں دریافت کرنے لگا ہوں جو یہ کہتے ہیں کہ وہ نبی ہیں، اگر یہ شخص میرے ساتھ غلط بیانی کرے تو تم لوگ اسے جھوٹا قرار دے دینا۔ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میری کسی بات کو جھٹلایا جا سکتا ہے تو میں وہاں غلط بیانی کر دیتا، پھر قیصر نے اپنے ترجمان سے کہا: تم اس شخص سے دریافت کرو کہ تمہارے درمیان ان صاحب کا حسب کیسا ہے؟ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے جواب دیا: وہ ہمارے درمیان صاحبِ حسب شمار ہوتے ہیں۔ قیصر نے دریافت کیا: کیا ان کے آبا و اجداد میں سے کوئی بادشاہ گزرا ہے؟ میں نے جواب دیا: جی نہیں، اس نے دریافت کیا: ان صاحب کے یہ دعویٰ کرنے سے پہلے تم نے کبھی ان پر جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا؟ میں نے جواب دیا: جی نہیں، اس نے دریافت کیا: ان کے پیروکار کون لوگ ہیں، معزز افراد ہیں یا کمزور لوگ ہیں؟ میں نے جواب دیا: بلکہ کمزور لوگ ہیں، اس نے دریافت کیا: کیا ان میں اضافہ ہو رہا ہے یا کمی ہو رہی ہے؟ میں نے کہا: ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس نے دریافت کیا: کیا ان لوگوں میں سے کوئی شخص اپنے دین کو چھوڑ کر مرتد بھی ہوا یعنی اس میں داخل ہونے کے بعد اس سے ناراض ہو کر (اس نے اپنے دین کو چھوڑا ہو)؟ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے جواب دیا: جی نہیں، قیصر نے دریافت کیا: کیا تم نے ان کے ساتھ کوئی جنگ بھی کی ہوئی ہے؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں، اس نے دریافت کیا: تمہاری ان کے ساتھ جنگ کا نتیجہ کیا رہا؟ میں نے کہا: جنگ ہمارے اور ان کے درمیان برابر رہی، انہیں ہماری طرف سے نقصان کا سامنا کرنا پڑا اور ہمیں ان کی طرف سے نقصان کا سامنا کرنا پڑا، قیصر نے دریافت کیا: کیا انہوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی؟ میں نے جواب دیا: جی نہیں، ہمارا اور ان کا طے شدہ مدت تک معاہدہ ہے، ہمیں نہیں معلوم وہ آگے چل کر اس بارے میں کیا کریں گے، (سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) صرف میں یہ کلمہ غلط بیانی کے طور پر شامل کر سکا، قیصر نے دریافت کیا: کیا ان سے پہلے کسی اور شخص نے بھی اس بات کا دعویٰ کیا؟ میں نے جواب دیا: جی نہیں، پھر قیصر نے اپنے ترجمان سے کہا: تم اس سے کہو کہ میں نے تم سے ان صاحب کے حسب کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ تمہارے درمیان کیسا ہے، تو تم نے یہ بیان کیا کہ وہ تمہارے درمیان صاحبِ حسب شمار ہوتے ہیں، رسول اسی طرح ہوتے ہیں، انہیں اپنی قوم کے صاحبِ حسب لوگوں میں مبعوث کیا جاتا ہے، میں نے تم سے سوال کیا کہ کیا ان کے آبا و اجداد میں کوئی بادشاہ گزرا ہے، تو تم نے جواب دیا: جی نہیں، تو میں نے اندازہ لگایا کہ اگر ان کے آبا و اجداد میں کوئی بادشاہ گزرا ہوتا تو پھر میں یہ کہہ سکتا تھا کہ یہ صاحب اپنے آبا و اجداد کی بادشاہت حاصل کرنا چاہتے ہیں، پھر میں نے تم سے ان کے پیروکاروں کے بارے میں دریافت کیا کہ کیا وہ کمزور لوگ ہیں یا معزز افراد ہیں، تو تم نے کہا: وہ کمزور لوگ ہیں، رسولوں کے پیروکار ایسے ہی ہوتے ہیں، میں نے تم سے سوال کیا کہ ان کے یہ دعویٰ کرنے سے پہلے کیا تم نے ان پر (جھوٹا ہونے کا) الزام عائد کیا، تو تم نے جواب دیا: جی نہیں، اس سے مجھے یہ اندازہ ہو گیا کہ جو شخص لوگوں کے ساتھ جھوٹ نہیں بولتا وہ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں کیسے غلط بیانی کر سکتا ہے، پھر میں نے تم سے سوال کیا کہ کیا کوئی شخص ان کے دین میں داخل ہونے کے بعد اس سے ناراض ہو کر ان کے دین کو چھوڑ کر مرتد بھی ہوا، تم نے جواب دیا: جی نہیں، ایمان ایسا ہی ہوتا ہے جب اس کے اندر دل کی بشاشت مل جائے (یا اس کی بشاشت دل میں گھر کر جائے)، میں نے تم سے سوال کیا کہ کیا ان لوگوں میں اضافہ ہو رہا ہے یا کمی ہو رہی ہے، تو تم نے جواب دیا: اضافہ ہو رہا ہے، ایمان اسی طرح ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ مکمل ہو جاتا ہے، میں نے تم سے سوال کیا کہ کیا تم لوگوں نے ان کے ساتھ کوئی جنگ بھی کی، تو تم نے جواب دیا: تمہارے اور ان کے درمیان جنگ کا نتیجہ برابر برابر رہا، تمہیں ان کی طرف سے نقصان کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں تمہاری طرف سے نقصان کا سامنا کرنا پڑا، رسولوں کو اسی طرح آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے لیکن انجام کار انہی کے حق میں (صورت حال ہوتی ہے)، میں نے تم سے سوال کیا کہ کیا انہوں نے کبھی معاہدے کی خلاف ورزی کی، تو تم نے جواب دیا: جی نہیں، انبیاء اسی طرح ہوتے ہیں، وہ معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرتے، میں نے تم سے سوال کیا کہ کیا ان سے پہلے بھی کسی شخص نے یہ دعویٰ کیا، تو تم نے جواب دیا: جی نہیں، میں نے سوچا اگر ان سے پہلے کسی اور شخص نے یہ دعویٰ کیا ہوتا تو میں یہ کہہ سکتا تھا کہ یہ شخص کسی دوسرے کے قول کی پیروی کر رہا ہے، پھر قیصر نے دریافت کیا: وہ تمہیں کیا حکم دیتے ہیں؟ تو میں نے جواب دیا: وہ ہمیں نماز پڑھنے، زکوٰۃ ادا کرنے، رشتہ داری کے حقوق کا خیال رکھنے اور پاک دامنی کا حکم دیتے ہیں۔ قیصر نے کہا: تم نے ان کے بارے میں جو کچھ کہا ہے، اگر تو یہ واقعی سچ ہے تو پھر وہ واقعی نبی ہیں، مجھے اس بات کا علم تھا کہ ان کا ظہور ہونے والا ہے لیکن مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ ان کا ظہور تم میں ہوگا، اگر مجھے اس بات کا علم ہوتا کہ میں ان تک پہنچ سکتا ہوں، تو میں ان سے ملاقات کو پسند کرتا اور اگر میں ان کے پاس موجود ہوتا تو میں ان کے پاؤں دھوتا کیونکہ عنقریب ان کی بادشاہی میرے ان پاؤں کے نیچے تک پہنچ جائے گی۔ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب منگوایا اور اسے پڑھا تو اس میں یہ تحریر تھا: «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» ”اللہ تعالیٰ کے نام سے آغاز کرتے ہیں جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے،“ «مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ» ”یہ اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے روم کے حکمران ہرقل کے نام ہے،“ «سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى» ”وہ شخص سلامت رہے جو ہدایت کی پیروی کر لے،“ «أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ، وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ» ”امابعد! میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں، تم اسلام قبول کر لو تم سلامت رہو گے، تم اسلام قبول کر لو اللہ تعالیٰ تمہیں دگنا اجر عطا کرے گا اور اگر تم منہ موڑ لیتے ہو تو اریسیوں کا گناہ بھی تمہارے سر ہوگا،“ ﴿قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 64] ”اے اہل کتاب! آگے آؤ! اس بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں گے“ (یہ آیت یہاں تک ہے) ”تم لوگ گواہ ہو جاؤ کہ ہم مسلمان ہیں“ جب قیصر وہ مکتوب پڑھ کر فارغ ہوا تو اس کے آس پاس آوازیں بلند ہو گئیں اور شور شرابہ ہوا، اس کے حکم کے تحت ہمیں وہاں سے نکال دیا گیا، جب ہم وہاں سے باہر آئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ابن ابی کبشہ (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کا معاملہ اتنا زبردست ہو گیا ہے کہ بنو اصفر کا حکمران بھی ان سے خوف کھاتا ہے۔ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں مجھے اس بات کا یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ اسے غالب کر دے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کی دولت سے نوازا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6555]

6556

Sahih Ibn Hibban #6556

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سِوَارٍ ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِِلَى حَبْرِ تَيْمَاءَ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیماء کے یہودی عالم کی طرف خط لکھا (اور اس خط میں) اسے سلام بھیجا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6556]

6557

Sahih Ibn Hibban #6557

قَالَ : قُلْنَا : مَا سَمِعْتَ مِنْهُ شَيْئًا ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ يُذْهِبْنَ وَحَرَ الصُّدُورِ "، فَقُلْنَا لَهُ : أَسَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ! فَقَالَ : أَلا أَرَاكُمْ تَتَّهِمُونِي ، فَوَاللَّهِ لا أُحَدِّثُكُمْ بِشَيْءٍ ، ثُمَّ ذَهَبَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا النَّمِرُ بْنُ تَوْلَبٍ الشَّاعِرُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا یزید بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ کھجور سکھانے کی جگہ پر موجود تھے، وہاں ایک شخص آیا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، اس کے ہاتھ میں چمڑے کا ایک ٹکڑا تھا، ہم نے اس سے کہا: تم کوئی دیہاتی محسوس ہوتے ہو، اس نے جواب دیا: جی ہاں، ہم نے اس سے کہا: یہ چمڑے کا ٹکڑا ہمیں پکڑاؤ جو تمہارے ہاتھ میں ہے، ہم نے اسے حاصل کیا اور اس میں موجود عبارت کو پڑھا تو اس میں یہ تحریر تھا: ”(یہ مکتوب) اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بنو زہیر کی طرف ہے؛ تم لوگ مال غنیمت میں سے خمس ادا کرو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخصوص حصہ اور خاص حصہ ادا کرو، تم لوگ اللہ اور اس کے رسول کی امان کے مطابق امن میں رہو گے۔“ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے (اس دیہاتی سے) دریافت کیا: یہ خط تمہیں کس نے لکھ کر دیا تھا؟ اس نے جواب دیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے، ہم نے دریافت کیا: کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی بھی کوئی بات سنی ہے؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”صبر کے مہینے (یعنی رمضان کے مہینے) کے روزے رکھنا اور ہر مہینے میں تین دن روزے رکھنا، سینوں کے غضب (یا کینے) کو رخصت کر دیتا ہے۔“ ہم نے اس شخص سے دریافت کیا: کیا تم نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے؟ اس نے کہا: تم لوگوں کے بارے میں، میں یہ گمان نہیں کر رہا تھا کہ تم مجھ پر الزام عائد کرو گے، اللہ کی قسم! اب میں تمہیں کوئی حدیث نہیں سناؤں گا، پھر وہ شخص چلا گیا، (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) وہ شخص نمر بن تولب تھا جو شاعر تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6557]

6558

Sahih Ibn Hibban #6558

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الطَّاحِيُّ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ أَخِيهِ خَالِدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِِلَى بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ : مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِِلَى بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ أَنْ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا "، قَالَ : فَمَا قَرَأَهُ إِِلا رَجُلٌ مِنْهُمْ مِنْ بَنِي ضُبَيْعَةَ ، فَهُمْ يُسَمَّوْنَ بَنِي الْكَاتِبِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکر بن وائل کو خط لکھا: ”محمد جو اللہ کے رسول ہیں ان کی طرف سے بکر بن وائل کی طرف (یہ خط ہے) تم لوگ اسلام قبول کر لو تم لوگ سلامت رہو گے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ تو یہ خط ان میں سے ایک شخص نے پڑھا جس کا تعلق بنو ضبیعہ سے تھا، اسی لیے ان کا نام بنو کاتب ہے (یعنی وہ پڑھنا لکھنا جانتے تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6558]

6559

Sahih Ibn Hibban #6559

وَإِِنَّفِي النَّفْسِ الدِّيَةَ مِائَةٌ مِنَ الإِِبِلِ ، وَفِي الأَنْفِ إِِذَا أُوعِبَ جَدْعُهُ الدِّيَةُ ، وَفِي اللِّسَانِ الدِّيَةُ ، وَفِي الشَّفَتَيْنِ الدِّيَةُ ، وَفِي الْبَيْضَتَيْنِ الدِّيَةُ ، وَفِي الذَّكَرِ الدِّيَةُ ، وَفِي الصُّلْبِ الدِّيَةُ ، وَفِي الْعَيْنَيْنِ الدِّيَةُ ، وَفِي الرِّجْلِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ ، وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ ، وَفِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ مِنَ الإِِبِلِ ، وَفِي كُلِّ أُصْبُعٍ مِنَ الأَصَابِعِ مِنَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ عَشْرٌ مِنَ الإِِبِلِ ، وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ مِنَ الإِِبِلِ ، وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ مِنَ الإِِبِلِ ، وَإِِنَّ الرَّجُلَ يُقْتَلُ بِالْمَرْأَةِ ، وَعَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفُ دِينَارٍ "، لَفْظُ الْخَبَرِ لِحَامِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ هَذَا هُوَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْخَوْلانِيُّ مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ لا شَيْءَ ، وَجَمِيعًا يَرْوِيَانِ عَنِ الزُّهْرِيِّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کو ایک مکتوب بھجوایا جس میں فرائض، سنن اور دیت کے متعلق کچھ احکام تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے ذریعے وہ مکتوب بھجوایا تھا، وہ اہل یمن کے سامنے پڑھا گیا اس کا نسخہ یہ ہے (یعنی اس میں یہ تحریر تھا): ”یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبی کی طرف سے شرحبیل بن عبدکلال، حارث بن عبدکلال اور نعیم بن عبدکلال کی طرف ہے۔ «أَمَّا بَعْدُ!» ”اما بعد!“ تمہارا پیغام رساں واپس جا چکا ہے، تمہیں جو غنیمت عطا کی گئی اس میں سے پانچواں حصہ اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر زمین کے عشر کے حوالے سے لازم قرار دیا ہے (وہ تمہیں بھی ادا کرنا ہو گا)؛ جو زمین بارش کے ذریعے سیراب ہوتی ہے یا بہتے ہوئے پانی کے ذریعے سیراب ہوتی ہے یا اس کی جڑیں زمین سے پانی کھینچ لیتی ہیں، اس میں عشر کی ادائیگی لازم ہو گی جب (اس کی پیداوار) پانچ وسق تک پہنچ جائے اور جسے ڈول کے ذریعے یا مصنوعی طور پر سیراب کیا جائے، اس میں نصف عشر کی ادائیگی لازم ہو گی جب (اس کی پیداوار) پانچ وسق ہو جائے۔ ہر پانچ سائمہ اونٹوں میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ ان کی تعداد چوبیس ہو جائے؛ جب وہ چوبیس سے ایک بھی زیادہ ہو جائیں تو ان میں ایک بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہو گی، اگر بنت مخاض نہیں ملتی تو ابن لبون نر کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ ان کی تعداد 35 ہو جائے؛ جب وہ 35 سے زیادہ ہو جائیں تو ان میں ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ وہ 45 ہو جائیں؛ جب وہ 45 سے زیادہ ہو جائیں تو ان میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی جو جفتی کے قابل ہو، یہاں تک کہ ان کی تعداد 60 ہو جائے؛ جب ان اونٹوں کی تعداد ساٹھ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں ایک جذعہ کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ ان کی تعداد 75 ہو جائے؛ جب وہ 75 سے ایک بھی زیادہ ہو جائیں تو ان میں دو بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ وہ 90 تک پہنچ جائیں؛ جب وہ 90 سے ایک بھی زیادہ ہو جائیں تو ان میں دو حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی جو جفتی کے قابل ہوں، ان کی ادائیگی کی جائے گی۔ ہر 30 (گایوں) میں باقورہ ہو گا۔ ہر 40 سائمہ بکریوں میں سے ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ ان کی تعداد 120 ہو جائے۔ جب وہ 120 سے ایک بھی زیادہ ہو جائیں تو ان میں 2 بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ ان کی تعداد 200 ہو جائے اور اگر ایک بھی زیادہ ہو تو تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ وہ 300 تک پہنچ جائیں، پھر اگر وہ اس سے زائد ہوں تو ہر ایک سو میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی۔ زکات میں بوڑھا، کانا اور عیب دار جانور وصول نہیں کیا جائے گا اور زکات سے بچنے کے لیے متفرق مال کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا اور اکٹھے مال کو متفرق نہیں کیا جائے گا۔ دو شراکت داروں سے جو کچھ وصول کیا جائے گا تو اس کی (واپسی کی) ادائیگی ان دونوں میں برابری کی بنیاد پر کی جائے گی اور پانچ اوقیہ چاندی میں پانچ درہم کی ادائیگی لازم ہو گی، جو اس سے زیادہ ہو تو ہر 40 درہم میں ایک درہم کی ادائیگی لازم ہو گی، لیکن پانچ اوقیہ سے کم میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہو گی۔ ہر 40 دینار میں ایک دینار کی ادائیگی لازم ہو گی۔ بے شک صدقہ (یعنی زکات) محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے گھر والوں کے لیے حلال نہیں ہے، یہ وہ زکات ہے جس کے ذریعے تم اپنے آپ کو پاک کر لو گے۔ یہ اہل ایمان کے غریب لوگوں کو دی جائے گی اور اللہ کی راہ میں دی جائے گی۔ غلام میں، کھیت میں اور وہاں کام کرنے والوں میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہو گی جب کہ (کھیت) کا عشر ادا کر دیا گیا ہو اور مسلمان کے غلام میں اور اس کے گھوڑے میں کوئی چیز (زکات) لازم نہیں ہوتی۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے بڑے کبیرہ گناہ: کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرانا، کسی مومن شخص کو ناحق طور پر قتل کرنا، جنگ کے دن اللہ کی راہ میں (جہاد کرتے ہوئے) فرار اختیار کرنا، والدین کی نافرمانی، پاک دامن عورتوں پر الزام لگانا، جادو سیکھنا، سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا (شامل ہیں)۔ عمرہ چھوٹا حج ہے، قرآن کو صرف پاک شخص ہاتھ لگائے، اور مالک ہونے سے پہلے طلاق نہیں دی جا سکتی، اور (غلام کو) اس وقت تک آزاد نہیں کیا جا سکتا جب تک اسے خرید نہ لیا جائے، اور کوئی بھی شخص ایک کپڑا پہن کر ہرگز نماز ادا نہ کرے کہ اس کے کندھے پر کوئی چیز نہ ہو، اور کوئی بھی ایک کپڑے کو احتباء کے طور پر اس طرح نہ لپیٹے کہ اس کے اور آسمان کے درمیان کوئی چیز نہ ہو (یعنی اس کی شرمگاہ پر پردہ نہ ہو)، کوئی بھی شخص ایک کپڑے میں اس طرح نماز ہرگز ادا نہ کرے کہ اس کا ایک پہلو ظاہر ہو رہا ہو، اور کوئی بھی شخص ایسی حالت میں نماز ہرگز ادا نہ کرے کہ اس نے اپنے بالوں کا جوڑا بنایا ہوا ہو۔ اور جو شخص کسی مومن کو قتل کرنے کے جرم میں پکڑا جاتا ہے اور ثبوت سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے تو اس سے قصاص لیا جائے گا، البتہ اگر مقتول کے ورثاء راضی ہوں (تو حکم مختلف ہو گا)۔ بے شک جان کی دیت 100 اونٹ ہے؛ جب ناک کو مکمل طور پر کاٹ دیا جائے تو اس میں بھی (مکمل) دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ زبان (کاٹنے میں) دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ دونوں ہونٹوں میں دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ دونوں خصیوں میں دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ عضو تناسل میں دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ پشت میں دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ دونوں آنکھوں میں دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ ایک ٹانگ میں نصف دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ مامومہ (زخم میں) ایک تہائی دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ جائفہ (زخم میں) ایک تہائی دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ منقلہ (زخم میں) پندرہ اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی۔ ہاتھ اور پاؤں کی ہر انگلی میں دس اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی۔ دانت میں پانچ اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی۔ موضحہ زخم میں پانچ اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی۔ آدمی کو عورت کے بدلے میں قتل کر دیا جائے گا، اور سونے کا لین دین کرنے والوں میں (دیت کی شکل میں) ایک ہزار دینار کی ادائیگی لازم ہو گی۔”روایت کے الفاظ حامد بن محمد بن شعیب کے نقل کردہ ہیں۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سلیمان بن داؤد نامی راوی سلیمان بن داؤد خولانی ہیں، یہ اہل دمشق سے تعلق رکھتے ہیں، یہ ثقہ اور مامون ہیں جب کہ سلیمان بن داؤد یمامی نامی راوی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، ان دونوں راویوں نے زہری کے حوالے سے روایات نقل کی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6559]