Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 57 · Chapter 3

Book of Dreams

Hadith 6486–6519

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6486

Sahih Ibn Hibban #6486

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ رَاكِبٌ عَلَى بَقَرَةٍ ، الْتَفَتَتْ إِِلَيْهِ ، فَقَالَتْ : إِِنِّي لَمْ أُخْلَقْ لِهَذَا ، إِِنَّمَا خُلِقْتُ لِلْحِرَاثَةِ " ، قَالَ : " آمَنْتُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ . وَأَخَذَ الذِّئْبُ شَاةً ، فَتَبِعَهَا الرَّاعِي ، فَقَالَ الذِّئْبُ : مَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبْعِ ، يَوْمَ لا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي " ، فَقَالَ : صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آمَنْتُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ "، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : وَمَا هُمَا يَوْمَئِذٍ فِي الْقَوْمِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک مرتبہ ایک شخص گائے پر سوار ہوا، تو گائے نے اس کی طرف رخ کر کے کہا: مجھے اس کام کے لیے پیدا نہیں کیا گیا، مجھے کھیتی باڑی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما اس بات پر یقین رکھتے ہیں۔ ایک مرتبہ ایک بھیڑیے نے ایک بکری کو پکڑ لیا، چرواہا اس کے پیچھے آیا، تو بھیڑیے نے کہا: درندوں کے مخصوص دن میں کون اس کا محافظ ہو گا، جب ان کا نگران میرے علاوہ اور کوئی نہیں ہو گا؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما اس پر ایمان رکھتے ہیں (یعنی یقین رکھتے ہیں)۔“ ابوسلمہ نامی راوی کہتے ہیں: اس دن یہ دونوں صاحبان حاضرین میں موجود نہیں تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6486]

6487

Sahih Ibn Hibban #6487

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْمَخْزُومِيُّ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : كَانَرَجُلٌ يُسْلِفُ النَّاسَ فِي بَنِي إِِسْرَائِيلَ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا فُلانُ ، أَسْلِفْنِي سِتَّ مِائَةِ دِينَارٍ ، قَالَ : نَعَمْ ، إِِنْ أَتَيْتَنِي بِوَكِيلٍ ، قَالَ : اللَّهُ وَكِيلِي ، فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، نَعَمْ ، قَدْ قَبِلْتُ اللَّهَ وَكِيلا ، فَأَعْطَاهُ سِتَّ مِائَةِ دِينَارٍ ، وَضَرَبَ لَهُ أَجَلًَا ، فَرَكِبَ الْبَحْرَ بِالْمَالِ لِيَتَّجِرَ فيهِ ، وَقَدَّرَ اللَّهُ أَنْ حَلَّ الأَجَلُ ، وَارْتَجَّ الْبَحْرُ بَيْنَهُمَا ، وَجَعَلَ رَبُّ الْمَالِ يَأْتِي السَّاحِلَ يَسْأَلُ عَنْهُ ، فَيَقُولُ الَّذِي يَسْأَلُهُمْ عَنْهُ : تَرَكْنَاهُ بِمَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا ، فَيَقُولُ رَبُّ الْمَالِ : اللَّهُمَّ اخْلُفْنِي فِي فُلانٍ بِمَا أَعْطَيْتُهُ بِكَ ، قَالَ : وَيَنْطَلِقُ الَّذِي عَلَيْهِ الْمَالُ ، فَيَنْحَتُ خَشَبَةً ، وَيَجْعَلُ الْمَالَ فِي جَوْفِهَا ، ثُمَّ كَتَبَ صَحِيفَةً : مِنْ فُلانٍ إِِلَى فُلانٍ ، إِِنِّي دَفَعْتُ مَالَكَ إِِلَى وَكِيلِي ، ثُمَّ سَدَّ عَلَى فَمِ الْخَشَبَةِ ، فَرَمَى بِهَا فِي عُرْضِ الْبَحْرِ ، فَجَعَلَ يَهْوِي بِهَا حَتَّى رَمَى بِهَا إِِلَى السَّاحِلِ ، وَيَذْهَبُ رَبُّ الْمَالِ إِِلَى السَّاحِلِ ، فَيَسْأَلُ ، فَيَجِدُ الْخَشَبَةَ ، فَحَمَلَهَا ، فَذَهَبَ بِهَا إِِلَى أَهْلِهِ ، وَقَالَ : أَوْقِدُوا بِهَذِهِ ، فَكَسَرُوهَا ، فَانْتَثَرَتِ الدَّنَانِيرُ وَالصَّحِيفَةُ ، فَأَخَذَهَا ، فَقَرَأَهَا ، فَعَرَفَ ، وَتَقَدَّمَ الآخَرُ ، فَقَالَ لَهُ رَبُّ الْمَالِ : مَالِي ، فَقَالَ : قَدْ دَفَعْتُ مَالِي إِِلَى وَكِيلِي ، إِِلَى مُوَكَّلٍ بِي ، فَقَالَ لَهُ : أَوْفَانِي وَكِيلُكَ "، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا يَكْثُرُ مِرَاؤُنَا وَلَغَظُنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَنَا أَيُّهُمَا آمَنُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بنی اسرائیل میں ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک شخص اس کے پاس آیا اور بولا: اے فلاں! تم مجھے 600 دینار قرض دے دو۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے، اگر تم میرے پاس کوئی ضمانتی لے آؤ (تو میں ایسا کر دیتا ہوں)۔ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ میرا ضامن ہے۔ اس شخص نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، ٹھیک ہے، میں اللہ تعالیٰ کو ضامن کے طور پر قبول کرتا ہوں۔ اس شخص نے اسے 600 دینار دے دیے، اس نے اس کے ساتھ ایک مدت طے کی، پھر وہ دوسرا شخص سمندر پر سوار ہو کر مال لے کر گیا تاکہ اس کے ذریعے تجارت کرے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ طے کر دیا ہوا تھا کہ وہ مخصوص مدت گزر جائے تو وہ گزر گئی، لیکن سمندر ان دونوں آدمیوں کے درمیان رکاوٹ تھا۔ مال کا مالک شخص ساحل پر آتا اور اس کے بارے میں دریافت کرتا، جن لوگوں سے اس نے اس دوسرے شخص کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے یہی بتایا: ہم نے اسے فلاں فلاں جگہ پر چھوڑا تھا، تو مال کا مالک شخص یہ کہتا: اے اللہ! فلاں شخص کے معاملے میں تو ہی میرا نگران ہے، میں نے تیری ضمانت پر وہ چیز اسے دی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ شخص جس کے ذمے رقم کی ادائیگی تھی وہ گیا، اس نے ایک لکڑی لی اور اس کے اندر وہ مال رکھ دیا، پھر اس نے ایک صحیفہ تحریر کیا کہ یہ مال فلاں کی طرف سے فلاں کے لیے ہے، میں تمہارا مال اپنے ضامن کے سپرد کر رہا ہوں، پھر اس نے لکڑی کے منہ کو بند کر دیا اور اس لکڑی کو سمندر میں ڈال دیا۔ وہ لکڑی سمندر میں تیرتی ہوئی ساحل تک آگئی۔ اس مال کا مالک شخص ساحل پر آیا تاکہ اس بارے میں دریافت کرے، وہاں اسے لکڑی ملی، اس نے اس لکڑی کو اٹھایا اور اسے لے کر اپنے گھر چلا گیا۔ اس نے اس لکڑی کو کاٹا تو اس میں سے دینار اور خط نکلا، اس شخص نے وہ خط لے کر اسے پڑھا تو وہ جان گیا (کہ یہ تو میرے ہی پیسے ہیں)، پھر دوسرا شخص بھی آگیا۔ مال کے مالک نے اس سے دریافت کیا: میرا مال؟ تو دوسرے شخص نے کہا: میں نے اپنا مال اپنے وکیل کے سپرد کر دیا تھا جسے میں نے ضامن بنایا تھا، تو پہلے شخص نے کہا: تمہارے وکیل نے مجھے پوری ادائیگی کر دی۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے اپنے بارے میں یاد ہے، ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، اسی دوران شور شرابہ زیادہ ہو گیا کہ ان دونوں میں سے کون شخص زیادہ ایماندار ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6487]

6488

Sahih Ibn Hibban #6488

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : بَيْنَمَا امْرَأَةٌ تُرْضِعُ ابْنَهَا ، مَرَّ بِهَا رَاكِبٌ وَهِيَ تُرْضِعُهُ ، فَقَالَتِ : اللَّهُمَّ لا تَمِتِ ابْنِي حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ هَذَا ، قَالَ : اللَّهُمَّ لا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ ، ثُمَّ رَجَعَ إِِلَى الثَّدْيِ ، فَمَرَّ بِامْرَأَةٍ تُلْعَنُ ، فَقَالَتِ : اللَّهُمَّ لا تَجْعَلِ ابْنِي مِثْلَهَا ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا ، أَمَّا الرَّاكِبُ ، فَكَانَ كَافِرًا ، وَأَمَّا الْمَرْأَةُ ، فَيَقُولُونَ لَهَا : إِِنَّهَا تَزْنِي ، فَتَقُولُ : حَسْبِيَ اللَّهُ ، وَيَقُولُونَ : تَسْرِقُ ، وَتَقُولُ : حَسْبِيَ اللَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک مرتبہ ایک عورت اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھی۔ اس کے دودھ پلانے کے دوران ایک سوار اس کے پاس سے گزرا۔ اس عورت نے دعا کی: «اللَّهُمَّ لَا تُمِتْهُ حَتَّى تَجْعَلَهُ مِثْلَهُ» ”اے اللہ! تو میرے بیٹے کو اس وقت تک موت نہ دینا جب تک وہ اس شخص کی مانند (امیر کبیر) نہیں ہو جاتا۔“ بچے نے کہا: «اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ» ”اے اللہ! مجھے اس کی مانند نہ کرنا۔“ پھر وہ دوبارہ چھاتی کی طرف گیا (اور دودھ پینے لگا) پھر وہاں سے ایک عورت گزری جس پر لعنت کی گئی تھی۔ اس عورت نے دعا کی: «اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْهُ مِثْلَهَا» ”اے اللہ! تو میرے بیٹے کو اس عورت کی مانند نہ کرنا۔“ تو اس بچے نے دعا کی: «اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا» ”اے اللہ! تو مجھے اس کی مانند کر دینا۔“ جہاں تک سوار کا معاملہ تھا تو وہ شخص کافر تھا۔ جہاں تک اس عورت کا معاملہ تھا، تو لوگوں نے اس کے بارے میں یہ کہا تھا کہ اس نے زنا کیا ہے، تو وہ عورت یہ کہہ رہی تھی: «حَسْبِيَ اللَّهُ» ”میرے لیے اللہ ہی کافی ہے۔“ لوگ یہ کہتے تھے کہ اس نے چوری کی ہے، تو وہ عورت یہ کہتی تھی: «حَسْبِيَ اللَّهُ» ”میرے لیے اللہ ہی کافی ہے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6488]

6489

Sahih Ibn Hibban #6489

قَالَ : وَبَيْنَمَا امْرَأَةٌ فِي حِجْرِهَا ابْنٌ تُرْضِعُهُ ، إِِذْ مَرَّ بِهَا رَاكِبٌ ، فَقَالَتِ : اللَّهُمَّ اجْعَلِ ابْنِي مِثْلَ هَذَا الرَّاكِبِ ، فَتَرَكَ الصَّبِيُّ ثَدْيَ أُمِّهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الرَّاكِبِ يَنْظُرُ إِِلَيْهِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ لا تَجْعَلْنِي مِثْلَ هَذَا الرَّاكِبِ ، ثُمَّ مَرَّ بِامْرَأَةٍ تُرْجَمُ ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ : اللَّهُمَّ لا تَجْعَلِ ابْنِي مِثْلَ هَذِهِ الأُمَّةِ فَتَرَكَ الصَّبِيُّ أُمَّهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الأُمَّةِ يَنْظُرُ إِِلَيْهَا ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَ هَذِهِ الأَمَةِ ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ : يَا بُنَيَّ ، مَرَّ رَاكِبٌ ، فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ اجْعَلِ ابْنِي مِثْلَ هَذَا الرَّاكِبِ ، فَقُلْتَ : اللَّهُمَّ لا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ ، وَمَرَرْتُ بِهَذِهِ الأَمَةِ تُرْجَمُ ، فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ لا تَجْعَلِ ابْنِي مِثْلَ هَذِهِ الأَمَةِ ، فَقُلْتَ : اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا ، قَالَ : يَا أُمَّاهْ ، إِِنَّ الرَّاكِبَ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَةِ ، وَإِِنَّ هَذِهِ الأَمَةَ يَقُولُونَ : سَرَقَتْ وَلَمْ تَسْرِقْ ، وَيَقُولُونَ : زَنَتْ وَلَمْ تَزْنِ ، وَهِيَ تَقُولُ : حَسْبِيَ اللَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جھولے میں صرف تین بچوں نے گفتگو کی ہے: ایک سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے، اور (دوسرے) جریج کے واقعے والے لڑکے نے۔ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس کا نام جریج تھا، اس نے ایک عبادت گاہ بنائی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے لگا۔ ایک دن اس کی ماں اس کے پاس آئی اور اسے بلند آواز میں پکارا، تو اس نے اپنی ماں کی بات کی طرف توجہ نہیں کی، پھر وہ دوسرے دن اس کے پاس آئی، اس نے اسے بلند آواز میں پکارا تو اس نے پھر اس کی طرف توجہ نہیں کی، پھر وہ تیسرے دن اس کی طرف آئی، تو اس نے سوچا کہ ایک طرف میری نماز ہے اور ایک طرف میری ماں ہے، تو اس کی ماں نے (بددعا دیتے ہوئے) کہا: «اللّٰهُمَّ لَا تُمِتْهُ حَتَّى يَنْظُرَ فِي وُجُوهِ الْمُومِسَاتِ» ”اے اللہ! تو اسے اس وقت تک موت نہ دینا جب تک یہ فاحشہ عورتوں کا منہ نہ دیکھ لے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ایک دن بنی اسرائیل جریج کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے، اسی دوران بنی اسرائیل کی ایک فاحشہ عورت نے کہا: اگر تم لوگ چاہو تو میں اسے آزمائش کا شکار کر سکتی ہوں۔ ان لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے، ہم تیار ہیں۔ وہ گئی اور اس نے جریج کو گناہ کی پیشکش کی، لیکن جریج نے اس کی طرف توجہ نہیں کی، پھر وہ عورت ایک چرواہے کے پاس آئی جو جریج کی عبادت گاہ کے پاس اپنی بکریاں لے کر آیا ہوا تھا، اس عورت نے اس چرواہے کے ساتھ گناہ کیا، پھر وہ حاملہ ہو گئی، جب اس نے ایک بچے کو جنم دیا تو یہ کہا کہ یہ جریج کی اولاد ہے۔ اس بات پر بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے جریج پر حملہ کر دیا، اس کی پٹائی کرنے لگے، اسے برا بھلا کہنے لگے اور انہوں نے اس کے عبادت خانے کو منہدم کر دیا۔ جریج نے ان سے دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ تو لوگوں نے کہا: تم نے ایک فاحشہ عورت کے ساتھ زنا کیا ہے اور اس عورت نے ایک بچے کو جنم دیا ہے۔ جریج نے دریافت کیا: وہ بچہ کہاں ہے؟ لوگوں نے کہا: وہ یہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جریج نے دو رکعت نماز ادا کی، پھر وہ بچے کے پاس آیا اور اپنی انگلی اسے لگا کر کہا: اے بچے! تمہارا باپ کون ہے؟ اس نے کہا: فلاں چرواہا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: (یہ سن کر) لوگ جریج کے سر کو بوسہ دینے لگے اور انہوں نے کہا: ہم تمہارا عبادت خانہ سونے سے بنائیں گے۔ جریج نے کہا: مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے، تم اسے مٹی سے ہی بنا دو جیسے یہ پہلے تھا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ایک مرتبہ ایک عورت کی گود میں ایک بچہ تھا جسے وہ دودھ پلا رہی تھی، اسی دوران ایک سوار اس کے پاس سے گزرا تو اس عورت نے دعا کی: «اللّٰهُمَّ اجْعَلِ ابْنِي مِثْلَ هَذَا» ”اے اللہ! تو میرے بیٹے کو اس سوار کی مانند (امیر کبیر) بنا دینا۔“ بچے نے اپنی ماں کی چھاتی کو چھوڑا اور سوار کی طرف رخ کر کے اسے دیکھنے لگا، پھر وہ کہنے لگا: «اللّٰهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ» ”اے اللہ! مجھے اس سوار کی مانند نہ بنانا۔“ پھر وہاں سے ایک عورت گزری جسے سنگسار کیا جانا تھا، اس عورت (یعنی بچے کی ماں) نے یہ کہا: «اللّٰهُمَّ لَا تَجْعَلِ ابْنِي مِثْلَهَا» ”اے اللہ! تو میرے بیٹے کو اس کنیز کی مانند نہ بنانا۔“ اس بچے نے اپنی ماں کا دودھ پینا چھوڑا، اس کنیز کی طرف دیکھا اور بولا: «اللّٰهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا» ”اے اللہ! تو مجھے اس کنیز کی مانند (مومن اور ایماندار) کر دینا۔“ اس عورت نے کہا: اے میرے بیٹے! پہلے ایک سوار گزرا تو میں نے کہا: اے اللہ! میرے بیٹے کو اس سوار کی مانند کر دینا، تو تم نے کہا: مجھے اس کی مانند نہ کرنا، پھر ایک کنیز گزری جسے سنگسار کیا جانا تھا تو میں نے کہا: اے اللہ! میرے بیٹے کو اس کنیز کی مانند نہ کرنا، اور تم یہ کہہ رہے ہو کہ اے اللہ! مجھے اس کی مانند کر دینا۔ اس لڑکے نے کہا: اے امی جان! یہ سوار شخص ایک ظالم شخص ہے اور یہ کنیز جس کے بارے میں لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اس نے چوری کی ہے، اس نے چوری نہیں کی، اور لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس نے زنا کیا ہے، حالانکہ اس نے زنا نہیں کیا، وہ عورت یہی کہتی ہے: «حَسْبِيَ اللّٰهُ» ”میرے لیے اللہ ہی کافی ہے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6489]

6490

Sahih Ibn Hibban #6490

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّمِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کے نام پر قسم اٹھا لیں تو اللہ تعالیٰ اسے پوری کروا دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6490]

6491

Sahih Ibn Hibban #6491

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أُخْتَ الرَّبِيعِ أُمَّ حَارِثَةَ جَرَحَتْ إِِنْسَانًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْقِصَاصَ الْقِصَاصَ " ، فَقَالَتْ أُمُّ الرَّبِيعِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَقْتَصُّ مِنْ فُلانَةَ ؟ ! لا وَاللَّهِ ، لا تَقْتَصُّ مِنْهَا ، فَلَمْ يَزَالُوا بِهِمْ حَتَّى رَضُوا بِالدِّيَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنَّمِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ربیعہ کی بہن ام حارثہ نے ایک شخص کو زخمی کر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قصاص دلوایا جائے گا، قصاص دلوایا جائے گا۔“ تو ام ربیعہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا فلاں عورت سے قصاص دلوایا جائے گا؟ جی نہیں، اللہ کی قسم! اس سے قصاص نہیں دلوایا جائے گا، پھر دوسرے طریقے سے بات چیت ہوتی رہی، یہاں تک کہ وہ لوگ دیت لینے پر رضامند ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کے نام کی قسم اٹھا لیں، تو اللہ تعالیٰ اسے پوری کروا دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6491]

6492

Sahih Ibn Hibban #6492

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ أُحُدًا ارْتَجَّ وَعَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اثْبُتْ أُحُدُ ، فَمَا عَلَيْكَ إِِلا نَبِيٌّ ، وَصِدِّيقٌ ، وَشَهِيدَانِ "، قَالَ مَعْمَرٌ : وَسَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ بِمِثْلِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ احد پہاڑ نے حرکت کی، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے احد! اپنی جگہ پر رہو۔ تمہارے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید موجود ہیں۔“ معمر کہتے ہیں: میں نے قتادہ کو اس کی مانند حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6492]

6493

Sahih Ibn Hibban #6493

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الأَعْيُنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِِسْرَائِيلَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَدَعَا بِالطَّعَامِ ، وَكَانَ الطَّعَامُ يُسَبِّحُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا منگوایا تو کھانا تسبیح پڑھ رہا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6493]

6494

Sahih Ibn Hibban #6494

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : بَيْنَا رَاعٍ يَرْعَى بِالْحَرَّةِ إِِذْ عَرَضَ ذِئْبٌ لِشَاةٍ مِنْ شَائِهِ ، فَجَاءَ الرَّاعِي يَسْعَى ، فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ ، فَقَالَ لِلرَّاعِي : أَلا تَتَّقِي اللَّهَ ، تَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ رِزْقٍ سَاقَهُ اللَّهُ إِِلَيَّ ؟ ، قَالَ الرَّاعِي : الْعَجَبُ لِلذِّئْبِ ، وَالذِّئْبُ مُقْعٍ عَلَى ذَنَبِهِ ، يُكَلِّمُنِي بِكَلامِ الإِِنْسِ ، قَالَ الذِّئْبُ لِلرَّاعِي : أَلا أُحَدِّثُكَ بِأَعْجَبَ مِنْ هَذَا ؟ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْحَرَّتَيْنِ ، يُحَدِّثُ النَّاسَ بِأَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ ، فَسَاقَ الرَّاعِي شَاءَهُ إِِلَى الْمَدِينَةِ ، فَزَوَاهَا فِي زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهَا ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ مَا قَالَ الذِّئْبُ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ، وَقَالَ لِلرَّاعِي : قُمْ فَأَخْبِرْ " ، فَأَخْبَرَ النَّاسَ بِمَا قَالَ الذِّئْبُ ، وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَ الرَّاعِي ، أَلامِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ كَلامُ السِّبَاعِ الإِِنْسَ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُكَلِّمَ السِّبَاعُ الإِِنْسَ ، وَيُكَلِّمَ الرَّجُلُ نَعْلَهُ وَعَذَبَةَ سَوْطِهِ ، وَيُخْبِرَهُ فَخِذُهُ بِحَدِيثِ أَهْلِهِ بَعْدَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک چرواہا پتھریلی زمین پر بکریاں چرا رہا تھا، اسی دوران ایک بھیڑیا اس کی بکری کے پاس آیا، وہ چرواہا دوڑتا ہوا آیا اور اس نے اس بکری کو بھیڑیے سے چھڑا لیا۔ اس بھیڑیے نے چرواہے سے کہا: تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو، تم میرے اور اس رزق کے درمیان رکاوٹ بن گئے ہو جو اللہ تعالیٰ نے میرے لیے بھیجا تھا۔ اس چرواہے نے کہا: بھیڑیے پر حیرانگی ہے، وہ بھیڑیا جس کی شکل و صورت بھیڑیے جیسی ہے، وہ انسانوں کی طرح میرے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ اس بھیڑیے نے اس چرواہے سے کہا: کیا میں تم کو اس سے زیادہ حیران کن بات نہ بتاؤں؟ یہ دو طرف کی پتھریلی زمین کے درمیان (مدینہ منورہ میں) اللہ کے رسول ہیں جو لوگوں کو ان باتوں کے بارے میں بتاتے ہیں جو پہلے گزر چکی ہیں، پھر وہ چرواہا اپنی بکریوں کو لے کر مدینہ منورہ آ گیا۔ اس نے وہاں کے ایک گوشے میں ان کو کھڑا کیا اور خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیڑیے کی گفتگو کے بارے میں بتایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (گھر سے) باہر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چرواہے سے کہا: ”تم کھڑے ہو اور لوگوں کو بتاؤ۔“ اس نے لوگوں کو بتایا جو بھیڑیے نے کہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس چرواہے نے سچ کہا ہے۔ خبردار! قیامت کی نشانیوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ درندے انسانوں کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک درندے انسانوں کے ساتھ بات چیت نہیں کریں گے، اور آدمی اپنے جوتے کے ساتھ اور اپنے کوڑے کے کنارے کے ساتھ کلام نہیں کرے گا، اور اس کا زانو اس کو اس بارے میں بتائے گا کہ اس کے بعد اس کی اہلیہ نے کیا کیا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6494]

6495

Sahih Ibn Hibban #6495

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : انْشَقَّ الْقَمَرُ ، وَكُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى ، حَتَّى ذَهَبَتْ فِلْقَةٌ خَلْفَ الْجَبَلِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اشْهَدُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ چاند دو ٹکڑے ہو گیا، اس وقت ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں موجود تھے، یہاں تک کہ چاند کا ایک ٹکڑا پہاڑ کے پیچھے چلا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ گواہ ہو جاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6495]

6496

Sahih Ibn Hibban #6496

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرْقَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں چاند دو ٹکڑے ہو گیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6496]

6497

Sahih Ibn Hibban #6497

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُهَيْرٍ أَبُو يَعْلَى بِالأُبُلَّةِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں مکہ میں چاند دو ٹکڑے ہو گیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6497]

6498

Sahih Ibn Hibban #6498

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا وَرَدَ بَدْرًا ، أَوْمَأَ فِيهَا إِِلَى الأَرْضِ ، فَقَالَ : هَذَا مَصْرَعُ فُلانٍ ، وَهَذَا مَصْرَعُ فُلانٍ " ، فَوَاللَّهِ مَا أَمَاطَ وَاحِدٌ مِنْهُمْ عَنْ مَصْرَعِهِ ، وَتَرَكَ قَتْلَى بَدْرٍ ثَلاثًا ، ثُمَّ أَتَاهُمْ ، فَقَامَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : " يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ ، يَا أُمَيَّةُ بْنَ خَلَفٍ ، يَا عُتْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ ، يَا شَيْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ ،أَلَيْسَ قَدْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًَّا ؟ فَإِِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَ رَبِّي حَقًّا " ، قَالَ : فَسَمِعَ عُمَرُ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ يَسْمَعُونَ قَوْلَكَ ، أَوْ يُجِيبُونَ وَقَدْ جَيَّفُوا ؟ فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ ، وَلَكِنَّهُمْ لا يَقْدِرُونَ أَنْ يُجِيبُوا " ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِمْ ، فَسُحِبُوا ، فَأُلْقُوا فِي قَلِيبِ بَدْرٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”یہ فلاں شخص کے مرنے کی جگہ ہے، یہ فلاں شخص کے مرنے کی جگہ ہے“، تو اللہ کی قسم! ان میں سے کوئی بھی شخص اپنی مخصوص جگہ سے ذرا بھی نہیں ہٹا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے (کفار) مقتولین کو تین دن تک ایسے ہی رہنے دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے ابوجہل بن ہشام! اے امیہ بن خلف! اے عتبہ بن ربیعہ! اے شیبہ بن ربیعہ! تمہارے پروردگار نے جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اسے سچ نہیں پایا؟ میرے پروردگار نے جو وعدہ کیا تھا میں نے تو اسے سچ پا لیا ہے“، راوی بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اپنی بات ان لوگوں کو سنا رہے ہیں جو مردار ہو چکے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! میں جو کہہ رہا ہوں تم اس بات کو ان لوگوں سے زیادہ اچھے طور پر نہیں سن رہے، لیکن وہ لوگ جواب دینے کی قدرت نہیں رکھتے“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ان لوگوں کو گھسیٹ کر بدر کے ایک گڑھے میں ڈال دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6498]

6499

Sahih Ibn Hibban #6499

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْنَاهُ مِنْ عَمْرٍو ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ وَهُوَ كَاتَبُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا ، يَقُولُ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالزُّبَيْرَ ، وَطَلْحَةَ ، وَالْمِقْدَادَ بْنَ الأَسْوَدِ ، فَقَالَ : انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ ، فَإِِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ ، فَخُذُوهُ مِنْهَا " ، فَانْطَلَقْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا ، حَتَّى أَتَيْنَا الرَّوْضَةَ ، فَإِِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ ، فَقُلْنَا لَهَا : أَخْرِجِي الْكِتَابَ ، فَقَالَتْ : مَا مَعِي مِنْ كِتَابٍ ، فَقُلْنَا : آللَّهِ لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَنُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ ، فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا ، فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِِذَا فِيهِ : مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ، يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا حَاطِبُ ، مَا هَذَا ؟ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لا تَعْجَلْ عَلَيَّ إِِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ ، وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ، وَكَانَ مَنْ مَعَكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينِ لَهُمْ قَرَابَاتٌ بِمَكَّةَ ، يَحْمُونَ قَرَابَتَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ ، وَلَمْ يَكُنْ لِي قَرَابَةٌ أَحْمِي بِهَا أَهْلِي ، فَأَحْبَبْتُ إِِنْ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَهُمْ يَدًا يَحْمُونَ قَرَابَتِي وَأَهْلِي ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا فَعَلْتُ ذَلِكَ ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي ، وَلا رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الإِِسْلامِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنَّ هَذَا قَدْ صَدَقَكُمْ " ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا ، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَكُونَ قَدِ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ ، فَقَالَ : اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ ، فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ " ، وَأَنْزَلَ فِيهِ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبید اللہ بن ابو رافع سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے معتمد خصوصی تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو اور سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ جاؤ اور خاخ نامی باغ میں پہنچو۔ وہاں ایک عورت ہو گی، اس کے پاس ایک خط ہو گا، وہ تم اس سے لے لینا۔“ ہم لوگ اپنے گھوڑوں کو دوڑاتے ہوئے اس باغ تک آئے، وہاں ایک عورت موجود تھی۔ ہم نے اسے کہا: تم خط نکالو۔ اس نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! یا تو تم خط نکالو گی یا ہم تمہاری جامہ تلاشی لیں گے، تو اس نے اپنے بالوں کے جوڑے میں سے خط نکال دیا۔ ہم وہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو وہ خط حاطب بن ابو بلتعہ کی طرف سے مکہ میں رہنے والے کچھ مشرکین کے نام تھا۔ اس خط میں سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادوں کے بارے میں بتایا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حاطب یہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بارے میں جلدی نہ کیجئے۔ میں ایک ایسا شخص ہوں جو قریش کے ساتھ ملا ہوا ہوں، لیکن میں قریش کا حصہ نہیں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو دیگر مہاجرین ہیں، ان کے مکہ میں رشتہ دار موجود ہیں، جس کی وجہ سے ان کے رشتہ دار اور اہل خانہ محفوظ ہیں، لیکن میری مکہ میں کسی کے ساتھ رشتہ داری نہیں ہے جس کی وجہ سے میں اپنے اہل خانہ کو محفوظ کر لوں۔ اس لیے میں یہ چاہتا تھا کہ اگر نسبی طور پر میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے تو پھر میں ان پر کوئی احسان کر دوں، جس کی وجہ سے وہ میرے قرابت داروں اور میرے گھر والوں کا خیال رکھیں۔ اللہ کی قسم! یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! میں نے اپنے دین سے مرتد ہوتے ہوئے یا اسلام قبول کرنے کے بعد کفر سے راضی ہوتے ہوئے ایسا نہیں کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس نے تمہارے ساتھ سچ بولا ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ بدر میں شریک ہوا ہے۔ تمہیں کیا پتہ شاید اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا ہو: ”تم جو چاہو عمل کرو میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے۔““ (راوی کہتے ہیں:) اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ﴾ [سورة الممتحنة: 1] ”اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6499]

6500

Sahih Ibn Hibban #6500

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، أَخْبَرَنِي إِِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةً بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ،فَهَاجَتْ عَلَيْهِمْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ ، حَتَّى وَقَعَتِ الرِّحَالُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا لِمَوْتِ مُنَافِقٍ " ، قَالَ : فَرَجَعْنَا إِِلَى الْمَدِينَةِ ، فَوَجَدْنَا مُنَافِقًا عَظِيمَ النِّفَاقِ مَاتَ يَوْمَئِذٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ انہوں نے مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک غزوہ میں شرکت کی تو ان لوگوں پر انتہائی تیز ہوا چلی، یہاں تک کہ پالان گرنے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ کسی منافق کی موت (کی نشانی ہے)۔“ راوی کہتے ہیں: جب ہم لوگ مدینہ منورہ واپس آئے تو وہاں آ کر ہمیں پتہ چلا کہ اس دن ایک بڑے منافق کا انتقال ہو گیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6500]

6501

Sahih Ibn Hibban #6501

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى تَبُوكَ حَتَّى أَتَى وَادِيَ الْقُرَى ، فَإِِذَا امْرَأَةٌ فِي حَدِيقَةٍ لَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اخْرُصُوا " ، فَخَرَصَ الْقَوْمُ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ ، وَقَالَ لِلْمَرْأَةِ :" أَحْصِي مَا يَخْرُجُ مِنْهَا حَتَّى أَرْجِعَ إِِلَيْكِ " ، فَسَارَ حَتَّى أَتَى تَبُوكَ ، فَقَالَ : " إِِنَّهُ سَيَأْتِيكُمُ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ ، فَلا يَقُومَنَّ فِيهَا أَحَدٌ ، وَمَنْ كَانَ لَهُ بَعِيرٌ فَلْيُوثِقْ عِقَالَهُ " ، فَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ ، فَلَمْ يَقُمْ فِيهَا إِِلا رَجُلٌ وَاحِدٌ ، فَأَلْقَتْهُ فِي جَبَلِ طَيِّئٍ ، قَالَ : فَأَتَاهُ مَلِكُ أَيْلَةَ ، وَأَهْدَى لَهُ بَغْلَةً بَيْضَاءَ ، وَكَسَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِدَاءَهُ ، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى وَادِيَ الْقُرَى ، فَقَالَ لِلْمَرْأَةِ : " كَمْ جَاءَتْ حَدِيقَتُكِ ؟ " ، قَالَتْ : عَشَرَةُ أَوْسُقٍ خَرْصَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنِّي مُسْتَعْجِلٌ ، مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَتَعَجَّلَ مَعِي فَلْيَفْعَلْ " ، فَسَارَ حَتَّى إِِذَا أَوْفَى عَلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ : " هَذِهِ طَيْبَةُ أَوْ طَابَةُ " ، فَلَمَّا رَأَى أُحُدًا قَالَ : " هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ " ، ثُمَّ قَالَ : " أَلا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الأَنْصَارِ ؟ " ، قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " خَيْرُ دُورِ الأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ ، أَلا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِينَ يَلُونَهُمْ ؟ " ، قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " بَنُو سَاعِدَةَ ، وَبَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تبوک کی طرف روانہ ہوئے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وادیِ قریٰ میں پہنچے تو وہاں ایک عورت اپنے باغ میں موجود تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(تم اس باغ کی پیداوار) کا اندازہ لگاؤ۔“ تو لوگوں نے اندازہ لگایا کہ اس کی پیداوار دس وسق ہوگی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: ”اس کی جو پیداوار ہوگی تم اسے شمار کر لینا، ہم واپس تمہارے پاس آئیں گے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آج رات تم پر تیز ہوا چلے گی، اس ہوا میں کوئی شخص کھڑا ہرگز نہ ہو، جس شخص کا اونٹ ہے وہ اس کی رسی کو باندھ دے۔“ تیز ہوا چلی تو کوئی شخص اس میں کھڑا نہیں ہوا، صرف ایک شخص کھڑا ہوا تھا، ہوا نے اسے جبلِ طے کے اوپر پھینک دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہاں ایلہ کا حکمران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے ایک سفید خچر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے کے طور پر پیش کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر اسے پہننے کے لیے دی، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادیِ قریٰ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے دریافت کیا: ”تمہارے باغ میں کتنی پیداوار ہوئی؟“ اس نے جواب دیا: دس وسق۔ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اندازے کے بالکل مطابق تھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں جلدی جانا چاہتا ہوں، تم میں سے جو شخص میرے ساتھ جلدی جانا چاہتا ہو وہ ایسا کر لے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ طیبہ ہے“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ”یہ طابہ ہے۔“ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں انصار کے بہترین گھرانوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”انصار کا سب سے بہتر گھرانہ بنو نجار ہیں۔ کیا میں تمہیں ان کے بعد والوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ان کے بعد) بنو ساعدہ اور بنو حارث بن خزرج ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6501]

6502

Sahih Ibn Hibban #6502

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ الْمَلأَ مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ ، فَتَعَاقَدُوا بِاللاتِ وَالْعُزَّى وَمَنَاةِ الثَّالِثَةِ الأُخْرَى وَنَائِلَةَ وَإِِسَافٍ : لَوْ قَدْ رَأَيْنَا مُحَمَّدًا ، لَقُمْنَا إِِلَيْهِ قِيَامَ رَجُلٍ وَاحِدٍ ، فَلَمْ نُفَارِقْهُ حَتَّى نَقْتُلَهُ ، فَأَقْبَلَتِ ابْنَتُهُ فَاطِمَةُ تَبْكِي حَتَّى دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ :هَؤُلاءِ الْمَلأُ مِنْ قَوْمِكَ قَدْ تَعَاقَدُوا عَلَيْكَ ، لَوْ قَدْ رَأَوْكَ ، قَامُوا إِِلَيْكَ فَقَتَلُوكَ ، فَلَيْسَ مِنْهُمْ رَجُلٌ إِِلا عَرَفَ نَصِيبَهُ مِنْ دَمِكَ ، قَالَ : يَا بُنَيَّةُ ، إِِيتِينِي بِوَضُوءٍ " ، فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَلَمَّا رَأَوْهُ ، قَالُوا : هَا هُوَ ذَا ، هَا هُوَ ذَا ، فَخَفَضُوا أَبْصَارَهُمْ ، وَسَقَطَتْ أَذْقَانُهُمْ فِي صُدُورِهِمْ ، فَلَمْ يَرْفَعُوا إِِلَيْهِ بَصَرًا ، وَلَمْ يَقُمْ إِِلَيْهِ مِنْهُمْ رَجُلٌ ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَامَ عَلَى رُءُوسِهِمْ ، فَأَخَذَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ ، وَقَالَ : شَاهَتِ الْوُجُوهُ ، ثُمَّ حَصَبَهُمْ ، فَمَا أَصَابَ رَجُلا مِنْهُمْ مِنْ ذَلِكَ الْحَصَى حَصَاةٌ إِِلا قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: قریش کے کچھ لوگ حطیم میں اکٹھے ہوئے اور انہوں نے لات، عزیٰ، مناۃ، نائلہ اور اساف (نامی بتوں) کے نام پر قسم اٹھا کر یہ معاہدہ کیا کہ اگر ہم نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو ہم ایک ساتھ ہو کر ان کے سامنے آئیں گے اور ان سے اس وقت تک الگ نہیں ہوں گے جب تک انہیں شہید نہیں کر دیتے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا روتی ہوئی آئیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، انہوں نے عرض کی: آپ کی قوم کے ان لوگوں نے آپ کے خلاف یہ طے کیا ہے کہ جب وہ آپ کو دیکھیں گے تو آپ کے مدمقابل کھڑے ہوں گے اور آپ کو شہید کر دیں گے، اس طرح ان میں سے ہر ایک فرد آپ کے خون میں سے اپنے حصے کو حاصل کر لے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے میری بیٹی! تم میرے پاس وضو کے لیے پانی لے کر آؤ۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور مسجد (حرام یعنی خانہ کعبہ کے قریب) تشریف لائے، جب ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ بولے: یہ وہی ہیں، یہ وہی ہیں، پھر انہوں نے اپنی نگاہیں جھکا دیں اور ان کی ٹھوڑیاں ان کے سینوں سے لگ گئیں، ان میں سے کسی نے بھی نگاہ اٹھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں دیکھا اور ان میں سے کوئی بھی شخص اٹھ کر آپ کے سامنے نہیں آیا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آ کر کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مٹھی میں مٹی لی اور فرمایا: «شَاهَتِ الْوُجُوهُ» ”(ان لوگوں کے) چہرے بگڑ جائیں۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مٹی ان پر پھینکی تو اس مٹی کی جو بھی کنکری ان میں سے جس بھی شخص تک پہنچی وہ غزوہ بدر کے دن مارا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6502]

6503

Sahih Ibn Hibban #6503

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عنِ ابْنُ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عِبَادَ اللَّهِ ،انْظُرُوا كَيْفَ يَصْرِفُ اللَّهُ عَنِّي شَتْمَهُمْ وَلَعَنَهُمْ " ، يَعْنِي : قُرَيْشًا ، قَالُوا : كَيْفَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " يَشْتِمُونَ مُذَمَّمًا ، وَيَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا ، وَأَنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اے اللہ کے بندو! تم لوگ اس بات کا جائزہ لو کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے برا کہنے اور لعنت کرنے کو مجھ سے کیسے پھیر دیا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد قریش تھے۔ صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایسا کیسے ہوا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ لوگ مذمم کو برا کہتے ہیں، مذمم پر لعنت کرتے ہیں (یعنی کفارِ قریش دشمنی کے طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو محمد کی بجائے مذمم کہتے تھے تو وہ لعنت اور برا بھلا مذمم پر واقع ہوتا تھا) میں تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6503]

6504

Sahih Ibn Hibban #6504

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كُنْتُ يَافِعًا فِي غَنَمٍ لِعُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ أَرْعَاهَا ، فَأَتَى عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ : يَا غُلامُ ، هَلْ مَعَكَ مِنْ لَبَنٍ ؟ " ، فَقُلْتُ : نَعَمْ ، وَلَكِنِّي مُؤْتَمَنٌ ، قَالَ :" ائْتِنِي بِشَاةٍ لَمْ يَنْزُ عَلَيْهَا الْفَحْلُ " ، فَأَتَيْتُهُ بِعَنَاقٍ ، فَاعْتَقَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ جَعَلَ يَمْسَحُ الضَّرْعَ وَيَدْعُو حَتَّى أَنْزَلَتْ ، فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ ، فَاحْتَلَبَ فِيهِ ، ثُمَّ قَالَ لأَبِي بَكْرٍ : اشْرَبْ ، فَشَرِبَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، ثُمَّ شَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ ، ثُمَّ قَالَ لِلضَّرْعِ : اقْلِصْ ، فَقَلَصَ ، فَعَادَ كَمَا كَانَ ، قَالَ : ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي مِنْ هَذَا الْكَلامِ أَوْ مِنْ هَذَا الْقُرْآنِ ، فَمَسَحَ رَأْسِي ، وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّكَ غُلامٌ مُعَلَّمٌ ، قَالَ : فَلَقَدْ أَخَذْتُ مِنْ فِيهِ سَبْعِينَ سُورَةً ، مَا نَازَعَنِي فِيهَا بَشَرٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میں جوانی میں عقبہ بن ابومعیط کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف لائے اور انہوں نے دریافت کیا: ”اے لڑکے! کیا تمہارے پاس دودھ ہے؟“ میں نے جواب دیا: جی ہاں، لیکن میں امین ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس کوئی ایسی بکری لے کر آؤ جس کے ساتھ کسی بکرے نے جفتی نہ کی ہو“، تو میں ایک سال کا بکری کا بچہ لے آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑا پھر آپ نے اس کے تھن پر ہاتھ پھیرا اور دعا کی، یہاں تک کہ اس کا دودھ اترنے لگا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی چیز لے کر آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں دودھ دوہ لیا پھر آپ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم پیو“، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے پی لیا پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے پی لیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تھن سے یہ کہا: ”تم خشک ہو جاؤ“، تو وہ خشک ہو گیا اور اس طرح ہو گیا جس طرح پہلے تھا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے بھی یہ کلام (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اس قرآن کی تعلیم دیجیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ایک ایسے لڑکے ہو جو سمجھ بوجھ رکھتا ہے (یا جسے تعلیم دی جائے گی)“ راوی کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ستر سورتیں سیکھی ہیں، اس بارے میں کوئی شخص میرا مقابلہ نہیں کر سکتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6504]

6505

Sahih Ibn Hibban #6505

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُعْفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَأَقْبَلَ أَعْرَابِيٌّ ، فَلَمَّا دَنَا مِنْهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيْنَ تُرِيدُ ؟ " ، قَالَ : إِِلَى أَهْلِي ، قَالَ : " هَلْ لَكَ إِِلَى خَيْرٍ ؟ " ، قَالَ : مَا هُوَ ؟ ، قَالَ :" تَشَهَّدُ أَنْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " ، قَالَ : هَلْ مِنْ شَاهِدٍ عَلَى مَا تَقُولُ ؟ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذِهِ السَّمُرَةُ " ، فَدَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ بِشَاطِئِ الْوَادِي ، فَأَقْبَلَتْ تَخُدُّ الأَرْضَ خَدًّا حَتَّى كَانَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَاسْتَشْهَدَهَا ثَلاثًا ، فَشَهِدَتْ أَنَّهُ كَمَا قَالَ ، ثُمَّ رَجَعَتْ إِِلَى مَنْبَتِهَا ، وَرَجَعَ الأَعْرَابِيُّ إِِلَى قَوْمِهِ ، وَقَالَ : إِِنْ يَتَّبِعُونِي أَتَيْتُكَ بِهِمْ ، وَإِِلا رَجَعْتُ إِِلَيْكَ ، فَكُنْتُ مَعَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ایک دیہاتی آیا جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم کہاں جا رہے ہو؟“ اس نے کہا: اپنے گھر والوں کی طرف، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہیں بھلائی میں کوئی دلچسپی ہے؟“ اس نے جواب دیا: وہ کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ اس نے دریافت کیا: آپ جو بات کہہ رہے ہیں کیا اس کا کوئی گواہ ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ ببول کا درخت ہے“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس درخت کو بلوایا، وہ اس وادی کے کنارے پر موجود تھا تو زمین کو چیرتا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا، اس نے تین مرتبہ کلمہ شہادت پڑھا اور اس بات کی گواہی دی کہ ایسا ہی ہے جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے پھر وہ اس جگہ واپس چلا گیا جہاں وہ اُگا تھا، جب وہ دیہاتی اپنی قوم کے پاس واپس جانے لگا تو وہ بولا: اگر ان لوگوں نے میری بات مان لی تو میں ان کو لے کر آپ کی خدمت میں آؤں گا ورنہ میں خود آپ کے پاس واپس آ جاؤں گا اور آپ کے ساتھ رہوں گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6505]

6506

Sahih Ibn Hibban #6506

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى التَّيْمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ الْمِصِّيصِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ إِِلَى جِذْعٍ ، فَيَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَأَنَّهُ لَمَّا صَنَعَ الْمِنْبَرَ تَحَوَّلَ إِِلَيْهِ ،فَحَنَّ الْجِذْعُ ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَسَحَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر جمعے کا خطبہ دیا کرتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر بنوایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس منبر کی طرف منتقل ہو گئے تو وہ تنا رونے لگا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک اس پر پھیرا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6506]

6507

Sahih Ibn Hibban #6507

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِِلَى جَنْبِ خَشَبَةٍ يُسْنِدُ ظَهْرَهُ إِِلَيْهَا ، فَلَمَّا كَثُرَ النَّاسُ ، قَالَ : ابْنُوا لِي مِنْبَرًا " ، فَبَنَوْا لَهُ مِنْبَرًا عَتَبَتَانِ ، فَلَمَّا قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ لِيَخْطُبَ ،حَنَّتِ الْخَشَبَةُ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَنَسٌ : " وَأَنَا فِي الْمَسْجِدِ ، فَسَمِعْتُ الْخَشَبَةَ حَنَّتْ حَنِينَ الْوَلَدِ ، فَمَا زَالَتْ تَحِنُّ حَتَّى نَزَلَ إِِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاحْتَضَنَهَا ، فَسَكَنَتْ "، قَالَ : وَكَانَ الْحَسَنُ إِِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ بَكَى ، ثُمَّ قَالَ : " يَا عِبَادَ اللَّهِ ، الْخَشَبَةُ تَحِنُّ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَوْقًا إِِلَيْهِ لِمَكَانِهِ مِنَ اللَّهِ ، فَأَنْتُمْ أَحَقُّ أَنْ تَشْتَاقُوا إِِلَى لِقَائِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن ایک لکڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پشت اس کے ساتھ لگا لیتے تھے، جب لوگوں کا ہجوم زیادہ ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے منبر بنا دو۔“ تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دو سیڑھیوں والا منبر بنا دیا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے منبر پر کھڑے ہوئے تو وہ لکڑی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فراق میں رونے لگی۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اس وقت مسجد میں موجود تھا، میں نے اس لکڑی کی آواز سنی، یوں جیسے کوئی بچہ روتا ہے اور وہ اس وقت تک روتی رہی جب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اتر کر اس کے پاس تشریف نہیں لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ساتھ نہیں لگا لیا (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا) تو وہ پرسکون ہو گئی۔ راوی کہتے ہیں: جب حسن بصری رحمہ اللہ یہ روایت بیان کرتے تھے تو وہ رونے لگتے تھے اور کہتے تھے: ”اے اللہ کے بندو! ایک لکڑی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں روتی ہے، اس مرتبے اور مقام کی وجہ سے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی بارگاہ میں حاصل ہے، تو تم لوگ اس بات کے زیادہ حق دار ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری کے مشتاق رہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6507]

6508

Sahih Ibn Hibban #6508

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ إِِلَى جَنْبِ شَجَرَةٍ أَوْ جِذْعٍ أَوْ خَشَبَةٍ أَوْ شَيْءٍ يَسْتَنِدُ إِِلَيْهِ يَخْطُبُ ، ثُمَّ اتَّخَذَ مِنْبَرًا ، فَكَانَ يَقُومُ عَلَيْهِ ،فَحَنَّتْ تِلْكَ الَّتِي كَانَ يَقُومُ عِنْدَهَا حَنِينًا سَمِعَهُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ ، فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِِمَّا قَالَ : مَسَحَهَا ، وَإِِمَّا قَالَ : فَأَمْسَكْهَا ، فَسَكَنَتْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے پہلو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ایک تنے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ایک لکڑی (یا شاید یہ الفاظ ہیں) کسی چیز کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر بنوا لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے تو وہ چیز رونے لگی جس کے قریب کھڑے ہو کر (آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیا کرتے تھے)، اس کے رونے کی آواز کو تمام اہل مسجد نے سنا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے (راوی کو شک ہے) شاید یہاں انہوں نے یہ الفاظ استعمال کیے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ہاتھ پھیرا (یا پھر شاید یہ الفاظ استعمال کیے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑ لیا تو اسے سکون آیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6508]

6509

Sahih Ibn Hibban #6509

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَفَلَ فِي رِجْلِ عَمْرِو بْنِ مُعَاذٍ حِينَ قُطِعَتْ رِجْلُهُ ، فَبَرَأَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ جب سیدنا عمرو بن معاذ رضی اللہ عنہ کی ٹانگ کٹ گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا لعابِ دہن ڈالا تو وہ ٹھیک ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6509]

6510

Sahih Ibn Hibban #6510

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنَ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا مُسْلِمٍ ، مَا هَذِهِ الضَّرْبَةُ ؟ ، فَقَالَ : هَذِهِ ضَرْبَةٌ أَصَابَتْنِي يَوْمَ حُنَيْنٍ ، قَالَ النَّاسُ : أُصِيبَ سَلَمَةُ ، أُصِيبَ سَلَمَةُ ، قَالَ : فَأُتِيَ بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،فَنَفَثَ فِيهَا ثَلاثَ نَفَثَاتٍ ، فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید بن ابوعبید بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی پنڈلی پر کسی ضرب کا نشان دیکھا تو میں نے دریافت کیا: اے ابومسلم! یہ ضرب کس چیز کی ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ ضرب مجھے غزوہ حنین کے دن لگی تھی۔ لوگوں نے یہ کہا کہ اب سلمہ شہید ہو جائے گا، اب سلمہ شہید ہو جائے گا۔ راوی کہتے ہیں: مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر تین مرتبہ اپنا لعابِ دہن ڈالا تو اس کے بعد آج تک مجھے اس میں کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6510]

6511

Sahih Ibn Hibban #6511

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ ، جَاءَتِ امْرَأَةُ أَبِي لَهَبٍ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ ، فَلَمَّا رَآهَا أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّهَا امْرَأَةٌ بَذِيئَةٌ ، وَأَخَافُ أَنْ تُؤْذِيَكَ ، فَلَوْ قُمْتَ ، قَالَ : إِِنَّهَا لَنْ تَرَانِي ، فَجَاءَتْ ، فَقَالَتْ : يَا أَبَا بَكْرِ ، إِِنَّ صَاحِبَكَ هَجَانِي ، قَالَ : لا ، وَمَا يَقُولُ الشِّعْرَ ، قَالَتْ : أَنْتَ عِنْدِي مُصَدَّقٌ ، وَانْصَرَفَتْ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ تَرَكَ ؟ ، قَالَ : لا ،لَمْ يَزَلْ مَلَكٌ يَسْتُرُنِي عَنْهَا بِجَنَاحِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿ابولہب کے دونوں ہاتھ برباد ہو جائیں﴾ [سورة المسد: 1] تو ابولہب کی بیوی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو دیکھا تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ عورت بڑی بدزبان ہے، مجھے یہ اندیشہ ہے کہ یہ آپ کو اذیت پہنچائے گی، اگر آپ تشریف لے جائیں (تو یہ مناسب ہو گا)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مجھے نہیں دیکھ سکے گی۔“ وہ عورت آئی، اس نے کہا: اے ابوبکر! تمہارے آقا نے میری ہجو بیان کی ہے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی نہیں، وہ شعر تو کہتے ہی نہیں ہیں۔ اس عورت نے کہا: تم میرے نزدیک سچے آدمی ہو، پھر وہ عورت چلی گئی۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے آپ کو دیکھا ہی نہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں، ایک فرشتے نے اپنے پروں کے ذریعے مجھے اس سے چھپایا ہوا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6511]

6512

Sahih Ibn Hibban #6512

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : أَبْصَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًَا يُقَالُ لَهُ : بُسْرُ بْنُ رَاعِي الْعِيرِ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ ، فَقَالَ : كُلْ بِيَمِينِكَ " ، قَالَ : لا أَسْتَطِيعُ ، قَالَ : " لا اسْتَطَعْتَ " ، قَالَ : فَمَا نَالَتْ يَدُهُ إِِلَى فِيهِ بَعْدُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایاس بن سلمہ بن اکوع بیان کرتے ہیں کہ میرے والد (سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس کا نام بسر بن راعی العیر تھا، وہ بائیں ہاتھ سے کھا رہا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔“ اس نے کہا: میں یہ نہیں کر سکتا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ کر بھی نہیں سکو گے۔“ راوی کہتے ہیں: تو پھر اس کے بعد اس کا (دایاں ہاتھ) کبھی اس کے منہ تک نہیں پہنچا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6512]

6513

Sahih Ibn Hibban #6513

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ الأَهْوَازِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ إِِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًَا كَانَ يَأْكُلُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِمَالِهِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلْ بِيَمِينِكَ " ، قَالَ : لا أَسْتَطِيعُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ : " لا اسْتَطَعْتَ " ، فَمَا رَفَعَهَا إِِلَى فِيهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایاس بن سلمہ بن اکوع رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ کر بائیں ہاتھ سے کھانے لگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔“ اس نے کہا: میں یہ نہیں کر سکتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ کر بھی نہیں سکو گے۔“ اس کے بعد وہ شخص اپنا (دایاں ہاتھ) کبھی اپنے منہ تک نہیں اٹھا سکا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6513]

6514

Sahih Ibn Hibban #6514

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَتْ عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ يَتِيمَةٌ ، فَرَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَنْتِ هِيَ ؟ لَقَدْ كَبِرْتِ ، لا كَبِرَ سِنُّكِ " ، فَرَجَعَتِ الْيَتِيمَةُ إِِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تَبْكِي ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : مَا لَكِ يَا بُنَيَّةُ ؟ ، قَالَتِ الْجَارِيَةُ : دَعَا عَلَيَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لا يَكْبَرَ سِنِّي ، فَالآنَ لا يَكْبَرُ سِنِّي أَبَدًا ، أَوْ قَالَتْ : قَرْنَيْ ، فَخَرَجَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مُسْتَعْجِلَةً تَلُوثُ خِمَارَهَا حَتَّى لَقِيَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهَا : " يَا أُمُّ سُلَيْمٍ ، مَالَكِ ؟ " ، قَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَدَعَوْتَ عَلَى يَتِيمَتِي ؟ ، قَالَ : " وَمَا ذَاكَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ؟ " ، قَالَتْ : زَعَمَتْ أَنَّكَ دَعَوْتَ عَلَيْهَا أَنْ لا يَكْبَرَ سِنُّهَا ، قَالَ : فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ، أَمَا تَعْلَمِينَ شَرْطِي عَلَى رَبِّي ؟ إِِنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي ، فَقُلْتُ : إِِنَّمَاأَنَا بَشَرٌ أَرْضَى كَمَا يَرْضَى الْبَشَرُ ، وَأَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ ، فَأَيُّمَا أَحَدٍ دَعَوْتُ عَلَيْهِ مِنْ أُمَّتِي بِدَعْوَةٍ لَيْسَ لَهَا بأهلٍ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ طَهُورًا وَزَكَاةً وَقُرْبَةً يُقَرِّبُهُ بِهَا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، وَكَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں ایک یتیم لڑکی تھی، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا: ”کیا یہ تم ہو؟ تمہاری عمر زیادہ ہو جائے گی لیکن تمہارے دانتوں کی عمر زیادہ نہیں ہو گی۔“ تو وہ یتیم لڑکی روتی ہوئی سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: اے لڑکی! تمہیں کیا ہوا ہے؟ اس لڑکی نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے خلاف دعا کی ہے کہ میرے دانت بڑے نہ ہوں، اب تو میرے دانت کبھی بڑے نہیں ہوں گے، (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں) میرے بال (بڑے نہیں ہوں گے)۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا تیزی سے اپنی چادر لپیٹ کر نکلیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا: ”اے ام سلیم! کیا معاملہ ہے؟“ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! کیا آپ نے میری یتیم لڑکی کے خلاف دعا کی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے ام سلیم! وہ کیسے؟“ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اس لڑکی نے یہ بات بیان کی ہے کہ آپ نے اس کے خلاف یہ دعا کی ہے کہ اس کے دانت بڑے نہ ہوں۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام سلیم! کیا تم یہ بات نہیں جانتی کہ میں نے پروردگار کے ساتھ کیا طے کیا ہے؟ میں نے اپنے پروردگار سے یہ عرض کی ہے: اے میرے پروردگار! میں ایک انسان ہوں، میں بھی اسی طرح راضی ہوتا ہوں جیسے دوسرے لوگ راضی ہوتے ہیں اور اسی طرح غصے میں آ جاتا ہوں جیسے دوسرے لوگ غصے میں آتے ہیں، تو اپنی امت کے جس بھی شخص کے خلاف میں کوئی ایسی دعا کروں جس کا وہ اہل نہ ہو تو اے پروردگار! اسے اس شخص کے حق میں طہارت کے حصول، پاکیزگی کے حصول اور اپنی قربت کے حصول کا ذریعہ بنا دے جس کے ذریعے وہ قیامت کے دن تیری بارگاہ میں قرب حاصل کرے۔“ (راوی کہتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بڑے رحم دل تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6514]

6515

Sahih Ibn Hibban #6515

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : إِِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ أَيُّمَا عَبْدٍ مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ ، فَاجْعَلْ ذَلِكَ قُرْبَةً إِِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: «اللَّهُمَّ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ، فَاجْعَلْ ذَلِكَ لَهُ قُرْبَةً إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ”اے اللہ! میں جس بھی مومن بندے کو برا کہوں، تو اس چیز کو تو قیامت کے دن اپنی بارگاہ میں قربت کے حصول کا ذریعہ بنا دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6515]

6516

Sahih Ibn Hibban #6516

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ إِِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَهُ ، وَإِِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ آذَيْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ ، فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلاةً وَزَكَاةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” «اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ، أَوْ سَبَبْتُهُ، أَوْ جَلَدْتُهُ، أَوْ لَعَنْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَزَكَاةً وَقُرْبَةً، تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ”اے اللہ! میں نے تجھ سے یہ عہد لیا ہے جس کی تو خلاف ورزی نہیں کرے گا کہ میں ایک انسان ہوں، جس مومن کو میں اذیت پہنچاؤں یا اسے برا کہوں یا اسے کوڑا ماروں یا اس پر لعنت کروں تو تُو اس چیز کو اس شخص کے حق میں رحمت، پاکیزگی اور قربت کے حصول کا ذریعہ بنا دے جس کے ذریعے وہ قیامت کے دن تیرا قرب حاصل کرے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6516]

6517

Sahih Ibn Hibban #6517

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مِنْ مَكَّةَ إِِلَى الْمَدِينَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَعْيَا جَمَلِي ، فَتَخَلَّفْتُ عَلَيْهِ أَسُوقُهُ ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ مُتَخَلِّفًا ، فَلَحِقَنِي ، فَقَالَ لِي : مَا لَكَ مُتَخَلِّفًا ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : لا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِلا أَنَّ جَمَلِيَ ظَالِعٌ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَلْحَقَهُ بِالْقَوْمِ ، قَالَ : فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَنَبِهِ ، فَضَرَبَهُ ، ثُمَّ زَجَرَهُ ، فَقَالَ : " ارْكَبْ " ، قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي بَعْدُ وَإِِنِّي لأَكُفُّهُ عَنِ الْقَوْمِ ، قَالَ : فَنَزَلْنَا مَنْزِلا دُونَ الْمَدِينَةِ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَعَجَّلَ إِِلَى أَهْلِي ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَأْتِ أَهْلكَ طَرُوقًا ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ ، قَالَ : فَمَا تَزَوَّجْتَ ؟ قُلْتُ : امْرَأَةً ثَيِّبًا ، قَالَ : فَهَلا بِكْرًا تُلاعِبُهَا وَتُلاعِبُكَ ؟ قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ عَبْدَ اللَّهِ تُوُفِّيَ أَوِ اسْتُشْهِدَ ، وَتَرَكَ جَوَارِيَ ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ عَلَيْهِنَّ مِثْلَهُنَّ ، قَالَ : فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ : أَحْسَنْتَ وَلا أَسَأْتَ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : بِعْنِي جَمَلَكَ هَذَا ، قَالَ : قُلْتُ : لا ، بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : لا ، بَلْ بِعْنِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : لا ، بَلْ بِعْنِيهِ ، قُلْتُ : أَجَلْ عَلَى أُوقِيَّةِ ذَهَبٍ ، فَهُوَ لَكَ بِهَا ، قَالَ : قَدْ أَخَذْتُهُ ، فَتَبَلَّغْ عَلَيْهِ إِِلَى الْمَدِينَةِ ، فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلالٍ : أَعْطِهِ أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ ، وَزِدْهُ ، قَالَ : فَأَعْطَانِي أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ ، وَزَادَنِي قِيرَاطًا، قَالَ : فَقُلْتُ : لا تُفَارِقُنِي زِيَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَكَانَ فِي كِيسٍ لِي ، فَأَخَذَهُ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی طرف آ رہے تھے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرا اونٹ تھک چکا تھا اور میں اسے پیچھے لیے ہوئے چل رہا تھا، راوی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام کے سلسلے میں پیچھے رہ گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے آ کر ملے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”کیا وجہ ہے، تم پیچھے کیوں چل رہے ہو؟“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: جی نہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا اونٹ تھک گیا ہے، ورنہ میرا تو ارادہ ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ چلوں، راوی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پیچھے والے حصے پر مارا اور اسے ڈانٹا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سوار ہو جاؤ۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے خود کو دیکھا کہ میں اسے روک روک کر لوگوں کے ساتھ چل رہا تھا (یعنی وہ لوگوں سے آگے نکلا جا رہا تھا)، راوی کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ پہنچنے سے پہلے ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا، میں نے اپنے گھر جلدی جانے کا ارادہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم رات کے وقت اپنی بیوی کے پاس نہ جاؤ۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری نئی نئی شادی ہوئی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم نے کس کے ساتھ شادی کی ہے؟“ میں نے عرض کی: ایک ثیبہ عورت کے ساتھ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کنواری کے ساتھ کیوں نہیں کی تاکہ تم اس کے ساتھ خوش فعلیاں کرتے اور وہ تمہارے ساتھ کرتی؟“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (میرے والد) سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں) یا وہ شہید ہو گئے، انہوں نے کچھ بیٹیاں (پسماندگان میں) چھوڑی تھیں تو مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں شادی کر کے ان کے پاس ایسی لڑکی لے آؤں جو انہی کی مانند ہو، راوی کہتے ہیں کہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ تم نے اچھا کیا یا تم نے برا کیا، راوی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنا یہ اونٹ مجھے فروخت کر دو۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ویسے ہی آپ کا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں، بلکہ تم اسے مجھے فروخت کرو۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آپ کا ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں، بلکہ تم اسے مجھے فروخت کرو۔“ میں نے عرض کی: ٹھیک ہے، سونے کے ایک اوقیہ کے عوض میں (میں آپ کو فروخت کرتا ہوں) یہ آپ کا ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ لے لیا، تم اس پر سوار ہو کر مدینہ جا سکتے ہو۔“ جب میں مدینہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اسے سونے کا ایک اوقیہ دے دو اور (ایک اوقیہ سے) زیادہ دینا۔“ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے سونے کا ایک اوقیہ اور ایک قیراط دیا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ طے کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دی گئی یہ اضافی ادائیگی مجھ سے کبھی جدا نہیں ہو گی، راوی کہتے ہیں کہ وہ میرے پاس ایک تھیلی میں موجود رہی، یہاں تک کہ واقعہ حرہ کے موقع پر اہل شام نے اسے چھین لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6517]

6518

Sahih Ibn Hibban #6518

أَخْبَرَنَا الْخَلِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَلِيلِ ابْنِ بِنْتِ تَمِيمِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ الْبَزَّارُ بِوَاسِطٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَأَبْطَأَ بِي جَمَلِي ، فَتَخَلَّفْتُ ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَجَنَهُ بِمِحْجَنِهِ ، ثُمَّ قَالَ لِي : ارْكَبْ " ، فَرَكِبْتُهُ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَكُفُّهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَتَزَوَّجْتَ ؟ " ، فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : " بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ؟ " ، فَقُلْتُ : بَلْ ، ثَيِّبًا ، قَالَ : قَالَ :" فَهَلا جَارِيَةً تُلاعِبُهَا وَتُلاعِبُكَ " ، فَقُلْتُ : إِِنَّ لِي أَخَوَاتٍ ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ امْرَأَةً تَجْمَعُهُنَّ وَتَمْشُطُهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ ، قَالَ : " أَمَا إِِنَّكَ قَادِمٌ ، فَإِِذَا قَدِمْتَ ، فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ " . ثُمَّ قَالَ : " أَتَبِيعُ جَمَلَكَ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِأُوقِيَّةٍ ، ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلِي ، وَقَدِمْتُ بِالْغَدَاةِ ، فَجِئْتُ الْمَسْجِدَ ، فَوَجَدْتُهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ ، قَالَ : " الآنَ حِينَ قَدِمْتَ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَدَعْ جَمَلَكَ ، وَادْخُلْ ، فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ " ، قَالَ : فَدَخَلْتُ ، فَصَلَّيْتُ ، ثُمَّ رَجَعْتُ ، وَأَمَرَ بِلالا أَنْ يَزِنَ لِي أُوقِيَّةً ، قَالَ : فَوَزَنَ لِي بِلالٌ ، فَأَرْجَحَ فِي الْمِيزَانِ ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ ، فَلَمَّا وَلَّيْتُ ، قَالَ : " ادْعُ لِي جَابِرًا " ، فَدُعِيتُ ، فَقُلْتُ : الآنَ يَرُدُّ عَلَيَّ الْجَمَلَ ، وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَبْغَضَ إِِلَيَّ مِنْهُ ، قَالَ : " جَمَلُكَ وَثَمَنُهُ لَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ میں شرکت کے لیے روانہ ہوا۔ میرا اونٹ سست ہو گیا تھا، اس لیے میں لوگوں سے پیچھے رہ گیا (راستے میں کسی جگہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے نیچے اترے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چھڑی کے ذریعے میرے اونٹ کو مارا اور پھر مجھ سے فرمایا: ”تم اس پر سوار ہو جاؤ۔“ جب میں اس پر سوار ہوا تو میں نے خود کو دیکھا، میں اس اونٹ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نکلنے سے روک رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے شادی کر لی ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری کے ساتھ یا ثیبہ کے ساتھ؟“ میں نے عرض کی: بلکہ ثیبہ کے ساتھ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کسی کنواری کے ساتھ شادی کیوں نہیں کی کہ تم اس سے خوش فعلیاں کرتے اور وہ تمہارے ساتھ کرتی؟“ میں نے عرض کی: میری بہنیں ہیں، مجھے یہ اچھا لگا کہ میں کسی ایسی عورت کے ساتھ شادی کروں جو ان کا خیال رکھے، ان کی کنگھی کرے، ان کی نگرانی کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب تم (اپنے گھر) جانے لگے ہو، جب تم جاؤ تو عقلمندی کا مظاہرہ کرنا، عقلمندی کا مظاہرہ کرنا۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اپنا اونٹ فروخت کرو گے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اوقیہ کے عوض میں وہ مجھ سے خرید لیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے پہلے (مدینہ منورہ) تشریف لے آئے، میں اگلے دن آیا، میں مسجد میں آیا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد کے دروازے پر پایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم اب آئے ہو؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے اونٹ کو چھوڑو اور (مسجد کے اندر) جا کر دو رکعات ادا کرو۔“ راوی کہتے ہیں: میں اندر آیا، میں نے نماز ادا کی، جب میں واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ مجھے وزن کر کے ایک اوقیہ دے دیں۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے مجھے وزن کر کے دیا اور میزان میں (میرے پلڑے کو) وزنی رکھا۔ راوی کہتے ہیں: جب میں وہاں سے روانہ ہوا اور مڑ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جابر کو میرے پاس بلا کر لاؤ۔“ مجھے بلایا گیا تو میں نے اندازہ لگا لیا کہ اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہ اونٹ مجھے واپس کر دیں گے، مجھے یہ بات سب سے زیادہ ناپسند تھی، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹ بھی تمہارا ہوا اور قیمت بھی تمہاری ہوئی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6518]

6519

Sahih Ibn Hibban #6519

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ كَانَ يَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ قَدْ أَعْيَى ، فَأَرَادَ أَنْ يُسَيِّبَهُ ، قَالَ : فَلَحِقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَعَا لَهُ وَضَرَبَهُ ، فَسَارَ سَيْرًا لَمْ يَسِرْ مِثْلَهُ ، وَقَالَ : بِعْنِيهِ بِأُوقِيَّةٍ " ، فَقُلْتُ : لا ، ثُمَّ قَالَ : " بِعْنِيهِ بِأُوقِيَّةٍ " ، فَقُلْتُ : لا ، ثُمَّ قَالَ : " بِعْنِيهِ بِأُوقِيَّةٍ " ، فَبِعْتُهُ بِأُوقِيَّةٍ ، وَاسْتَثْنَيْتُ حُمْلانَهُ إِِلَى أَهْلِي ، فَلَمَّا بَلَغْتُ أَتَيْتُهُ ، فَقَالَ لِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" أَتُرَانِي مَاكَسْتُكَ لآخُذَ جَمَلَكَ وَدَرَاهِمَكَ ؟ فَهُمَا لَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ اپنے اونٹ پر سفر کر رہے تھے جو تھک چکا تھا، انہوں نے اس اونٹ کو ویسے ہی چھوڑ دینے کا ارادہ کر لیا، راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اونٹ کے لیے دعا کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مارا تو وہ اتنی تیزی سے چلنے لگا کہ وہ پہلے کبھی اتنا تیز نہیں چلتا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک اوقیہ کے عوض میں اسے مجھے فروخت کر دو۔“ میں نے عرض کی: جی نہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک اوقیہ کے عوض میں اسے مجھے فروخت کر دو۔“ میں نے عرض کی: جی نہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک اوقیہ کے عوض میں اسے مجھے فروخت کر دو۔“ تو میں نے ایک اوقیہ کے عوض میں اسے فروخت کر دیا، میں نے اس سودے میں یہ استثناء کیا کہ میں اس پر سوار ہو کر اپنے گھر تک جاؤں گا، جب میں (مدینہ منورہ) پہنچا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تم یہ سمجھ رہے تھے کہ میں نے تمہارے اونٹ اور درہموں کی وجہ سے تمہارے ساتھ یہ سودا کیا؟ یہ دونوں تمہارے ہوئے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6519]