Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 57 · Chapter 2

Book of Dreams

Hadith 6446–6485

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6446

Sahih Ibn Hibban #6446

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِِسْمَاعِيلَ بْنَ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الصُّنَابِحِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلا إِِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، وَإِِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الأُمَمَ ، فَلا تَقْتَتِلُنَّ بَعْدِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا صنابح رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خبردار! میں حوض (کوثر) پر تمہارا پیش رو ہوں گا اور میں دیگر امتوں کے سامنے تمہاری کثرت پر فخر کروں گا، تو میرے بعد تم ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6446]

6447

Sahih Ibn Hibban #6447

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، وَعَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَجِيرٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنِ الصُّنَابِحِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلا إِِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، وَإِِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ ، فَلا تَقْتَتِلُنَّ بَعْدِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا صنابح رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خبردار! میں حوض (کوثر) پر تمہارا پیش رو ہوں گا اور میں تمہاری کثرت پر فخر کروں گا، تو تم لوگ میرے بعد ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6447]

6448

Sahih Ibn Hibban #6448

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، وَعَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَالْمَدِينَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے حوض کے دو کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا صنعاء اور مدینہ کے درمیان ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6448]

6449

Sahih Ibn Hibban #6449

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرَ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : أَنَا فَرَطُكُمْ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ ، فَإِِنْ لَمْ تَجِدُونِي ، فَأَنَا عَلَى الْحَوْضِ مَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِِلَى مَكَّةَ ، وَسَيَأْتِي رِجَالٌ وَنِسَاءٌ بِآنِيَةٍ وَقِرَبٍ ثُمَّ لا يَذُوقُونَ مِنْهُ شَيْئًا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَسَيَأْتِي رِجَالٌ وَنِسَاءٌ بِآنِيَةٍ وَقِرَبٍ ثُمَّ لا يَذُوقُونَ مِنْهُ شَيْئًا " ، أُرِيدَ بِهِ : مِنْ سَائِرِ الأُمَمِ الَّذِينَ قَدْ غُفِرَ لَهُمْ ، يَجِيئُونَ بِأَوَانِي لِيَسْتَقُوا بِهَا مِنَ الْحَوْضِ ، فَلا يُسْقَوْنَ مِنْهُ ، لأَنَّ الْحَوْضَ لِهَذِهِ الأُمَّةِ خَاصٌّ دُونَ سَائِرِ الأُمَمِ ، إِِذْ مُحَالٌ أَنْ يَقْدِرَ الْكَافِرُ وَالْمُنَافِقُ عَلَى حَمْلِ الأَوَانِي وَالْقِرَبِ فِي الْقِيَامَةِ ، لأَنَّهُمْ يُسَاقُونَ إِِلَى النَّارِ ، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میں تمہارے آگے تمہارا پیش رو ہوں گا، اگر تم مجھے نہ پاؤ، تو میں حوض (کوثر) کے پاس موجود ہوں گا، جو ایلہ سے لے کر مکہ تک کے فاصلے جتنا بڑا ہے۔ عنقریب کچھ مرد اور عورتیں برتن اور مشکیزے لے کر آئیں گے، لیکن وہ اس حوض میں سے کچھ بھی چکھ نہیں سکیں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”عنقریب کچھ مرد اور کچھ عورتیں برتن اور مشکیزے لے کر آئیں گے اور پھر وہ اس میں سے کچھ بھی چکھ نہیں سکیں گے۔“ اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ دیگر امتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ آئیں گے جن کی مغفرت ہو چکی ہو گی۔ وہ برتن لے کر آئیں گے تاکہ وہ اس حوض سے سیراب ہوں، لیکن وہ اس سے سیراب نہیں ہوں گے کیونکہ وہ حوض اس امت کے لیے مخصوص ہے، دیگر امتوں کے لیے نہیں ہے۔ یہ بات ناممکن ہے کہ کوئی کافر یا منافق شخص قیامت کے دن برتن اور مشکیزے حاصل کرنے پر قادر ہو جائے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو تو قیامت کے دن جہنم کی طرف ہانک کر لے جایا جائے گا، ہم جہنم سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6449]

6450

Sahih Ibn Hibban #6450

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ مَكْحُولٌ بِبَيْرُوتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الدَّارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ يَعْمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَخِي زَيْدُ بْنُ سَلامٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ زَيْدٍ الْبَكَالِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ ، يَقُولُ : قَامَ أَعْرَابِيٌّ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا حَوْضُكَ الَّذِي تُحَدِّثُ عَنْهُ ؟ ، فَقَالَ : هُوَكَمَا بَيْنَ صَنْعَاءَ إِِلَى بُصْرَى ، ثُمَّ يُمِدُّنِي اللَّهُ فِيهِ بِكُرَاعٍ لا يَدْرِي بَشَرٌ مِمَّنْ خُلِقَ أَيُّ طَرَفَيْهِ " ، قَالَ : فَكَبَّرَ عُمَرُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا الْحَوْضُ ، فَيَزْدَحِمُ عَلَيْهِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ يُقْتُلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَيَمُوتُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَأَرْجُو أَنْ يُورِدَنِيَ اللَّهُ الْكُرَاعَ فَأَشْرَبَ مِنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا، اس نے دریافت کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حوض کتنا بڑا ہے، جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیان کر رہے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اتنا بڑا ہے جتنا صنعاء اور بصریٰ کے درمیان فاصلہ ہے، پھر اللہ تعالیٰ میرے لیے اس کی گہرائی کو بڑھا دے گا اور کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کو کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے اور اس کا دوسرا کنارا کہاں ہے۔“ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جہاں تک حوض کا تعلق ہے، تو غریب مہاجرین کا اس پر ہجوم ہو گا، جنہیں اللہ کی راہ میں شہید کیا گیا اور جو اللہ کی راہ میں (کوشش کرتے ہوئے) انتقال کر گئے، مجھے یہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس کے پاس لے جائے گا اور میں اس میں سے پانی پیوں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6450]

6451

Sahih Ibn Hibban #6451

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ ، وَصَنْعَاءَ ، أَوْ كَمَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَعَمَّانَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذِهِ الأَخْبَارُ الأَرْبَعُ قَدْ تُوهِمُ مَنْ لَمْ يُحْكِمُ صِنَاعَةَ الْحَدِيثِ أَنَّهَا مُتَضَادَّةٌ ، أَوْ بَيْنَهَا تَهَاتِرُ ، لأَنَّ فِي خَبَرِ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ : " مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَالْمَدِينَةِ " ، وَفِي خَبَرِ جَابِرٍ : " مَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِِلَى مَكَّةَ " ، وَفِي خَبَرِ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : " مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ إِِلَى بُصْرَى " ، وَفِي خَبَرِ قَتَادَةَ : " مَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَعَمَّانَ " ، وَلَيْسَ بَيْنَ هَذِهِ الأَخْبَارِ تَضَادٌّ ، وَلا تَهَاتِرٌ ، لأَنَّهَا أَجْوِبَةٌ خَرَجَتْ عَلَى أَسْئِلَةٍ ذَكَرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي كُلِّ خَبَرٍ مِمَّا ذَكَرْنَا جَانِبًا مِنْ جَوَانِبِ حَوْضِهِ أَنَّ مَسِيرَةَ كُلَّ جَانِبٍ مِنْ حَوْضِهِ مَسِيرَةُ شَهْرٍ ، فَمِنْ صَنْعَاءَ إِِلَى الْمَدِينَةِ مَسِيرَةُ شَهْرٍ لِغَيْرِ الْمُسْرِعِ ، وَمِنْ أَيْلَةَ إِِلَى مَكَّةَ كَذَلِكَ ، وَمِنْ صَنْعَاءَ إِِلَى بُصْرَى كَذَلِكَ ، وَمِنَ الْمَدِينَةِ إِِلَى عَمَّانَ الشَّامِ كَذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میرے حوض کے دو کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا مدینہ اور صنعاء کے درمیان ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) مدینہ اور عمان کے درمیان ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ چار روایات اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کرتی ہیں جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا (اور وہ یہ سمجھتا ہے) کہ ان میں تضاد پایا جاتا ہے یا ان میں اختلاف پایا جاتا ہے، تو سلیمان تیمی کی نقل کردہ روایات میں یہ الفاظ ہیں: ”جتنا صنعاء اور مدینہ کے درمیان فاصلہ ہے۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”جتنا ایلہ سے لے کر مکہ کے درمیان تک فاصلہ ہے۔“ عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”جتنا صنعاء اور بصریٰ کے درمیان فاصلہ ہے۔“ قتادہ کی نقل کردہ روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”جتنا مدینہ اور عمان کے درمیان فاصلہ ہے۔“ حالانکہ ان روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں پایا جاتا، کیونکہ یہ سوالات کے جوابات ہیں جو سوالات کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیے ہیں۔ ہم نے جو روایات ذکر کی ہیں ان سب روایات میں حوضِ کوثر کے کناروں میں سے کسی ایک کنارے کا ذکر ہے کہ اس حوض کے ہر طرف کا کنارہ ایک ماہ کی مسافت جتنا ہے، تو صنعاء سے لے کر مدینہ منورہ تک ایک ماہ کی مسافت جتنا ہے، جبکہ آدمی تیز رفتاری سے نہ چل رہا ہو۔ ایلہ سے لے کر مکہ تک کا سفر بھی اتنا ہے، صنعاء سے لے کر بصریٰ تک کا سفر بھی اتنا ہی ہے اور مدینہ سے لے کر عمان یا شام تک کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6451]

6452

Sahih Ibn Hibban #6452

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ زُهَيْرٍ الضَّبِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَمْرٍو ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : حَوْضِي مَسِيرَةُ شَهْرٍ ، زَوَايَاهُ سَوَاءً ، مَاؤُهُ أَبْيَضُ مِنَ الثَّلْجِ ، وَأَطْيَبُ مِنَ الْمِسْكِ ، آنِيَتُهُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لا يَظْمَأُ بَعْدَهُ أَبَدًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرا حوض ایک ماہ کی مسافت جتنا ہے۔ اس کے کنارے برابر ہیں۔ اس کا پانی برف سے زیادہ سفید، مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی طرح (بے شمار ہیں) جو شخص اس میں سے پی لے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6452]

6453

Sahih Ibn Hibban #6453

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِِنَّأَمَامَكُمْ حَوْضًا كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الْمَسَافَةُ بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ ، كَمَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَعَمَّانَ ، وَمَكَّةَ وَأَيْلَةَ ، وَصَنْعَاءَ وَالْمَدِينَةِ ، وَصَنْعَاءَ وَبُصْرَى سَوَاءً ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ هَذِهِ الأَخْبَارِ تَضَادٌّ ، أَوْ تَهَاتِرٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تمہارے آگے (قیامت میں) ایک ایسا حوض ہو گا جو جرباء اور اذرح کے درمیان فاصلے جتنا بڑا ہو گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جرباء اور اذرح کے درمیان کتنا فاصلہ ہے جتنا مدینہ اور عمان کے درمیان یا مکہ اور ایلہ کے درمیان یا صنعاء اور مدینہ کے درمیان یا صنعاء اور بصریٰ کے درمیان ہے، تو اس حوالے سے ان روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں پایا جاتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6453]

6454

Sahih Ibn Hibban #6454

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : تُرَى فِيهِ أَبَارِيقُ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ أَوْ أَكْثَرَ "، يَعْنِي : الْحَوْضَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تمہیں اس میں سونے اور چاندی کے بنے ہوئے پیالے ملیں گے جو آسمان کے ستاروں کی تعداد جتنے ہوں گے یا اس سے بھی زیادہ ہوں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد حوضِ کوثر تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6454]

6455

Sahih Ibn Hibban #6455

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَنَا عِنْدَ عُقْرِ حَوْضِي أَذُودُ عَنْهُ النَّاسَ ، إِِنِّي لأَضْرِبُهُمْ بِعَصَايَ حَتَّى يَرْفَضَّ " ، قَالَ : وَسُئِلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَعَةِ الْحَوْضِ فَقَالَ : " مِثْلُ مَقَامِي هَذَا إِِلَى عَمَّانَ مَا بَيْنَهُمَا شَهْرٌ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ " ، وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابِهِ فَقَالَ : " أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، يَنْبَعِثُ فِيهِ مِيزَابَانِ مِدَادُهُمَا الْجَنَّةُ ، أَحَدُهُمَا دُرٌّ ، وَالآخَرُ ذَهَبٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں اپنے حوض کے پاس کھڑا ہو کر کچھ لوگوں کو اس سے دور کروں گا، میں ان لوگوں کو اپنے عصا کے ذریعے ماروں گا تاکہ وہ لوگ پیچھے ہٹ جائیں۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حوض کی وسعت کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ میری (اس) جگہ سے لے کر عمان جتنا ہے، ان دونوں کے درمیان ایک ماہ کا یا اس سے قریب کا فاصلہ ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حوض کے مشروب کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہو گا، اس میں دو پرنالے ہوں گے جن میں جنت سے پانی آئے گا، ان میں سے ایک موتی کا بنا ہوا ہو گا اور دوسرا سونے کا ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6455]

6456

Sahih Ibn Hibban #6456

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِِنِّي لَبِعُقْرِ حَوْضِي أَذُودُ عَنْهُ لأَهْلِ الْيَمَنِ ، أَضْرِبُ بِعَصَايَ حَتَّى يَرْفَضَّ " ، فَسُئِلَ عَنْ عَرَضِهِ فَقَالَ : " مِنْ مَقَامِي هَذَا إِِلَى عَمَّانَ " ، وَسُئِلَ عَنْ شَرَابِهِ فَقَالَ : " أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، فِيهِ مِيزَابَانِ يُمَدَّانِ مِنَ الْجَنَّةِ ، أَحَدُهُمَا مِنْ ذَهَبٍ ، وَالآخَرُ مِنْ وَرِقٍ "، قَالَ بُنْدَارٌ : فَقُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ حَمَّادٍ : هَذَا حَدِيثُ أَبِي عَوَانَةَ ؟ فَقَالَ : قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي عَوَانَةَ أَيْضًا ، فَقُلْتُ : انْظُرْ لِي فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ ، فَنَظَرَ فِيهِ ، فَحَدَّثَنِي بِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں اپنے حوض کے قریب کھڑے ہو کر اس سے (کچھ) اہل یمن کو پرے کروں گا۔ میں اپنے عصا کے ذریعے انہیں ماروں گا تاکہ وہ پیچھے ہٹ جائیں۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حوض کی چوڑائی کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے کھڑے ہونے کی جگہ سے لے کر عمان تک (جتنا فاصلہ ہے وہ اتنا چوڑا ہو گا)۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے مشروب کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مشروب دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہو گا۔ اس حوض میں دو پرنالے ہوں گے جو جنت سے آ رہے ہوں گے۔ ان میں سے ایک سونے کا بنا ہوا ہو گا اور ایک چاندی کا بنا ہو گا۔“ بندار نامی راوی کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن حماد سے کہا: کیا یہ ابوعوانہ کی نقل کردہ روایت ہے؟ تو انہوں نے بتایا: میں نے یہ روایت ابوعوانہ سے ہی سنی ہے۔ میں نے کہا: آپ میرے لیے شعبہ کی نقل کردہ روایت کا جائزہ لے لیجیے۔ انہوں نے اس میں اس روایت کو تلاش کیا اور پھر یہ حدیث بیان کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6456]

6457

Sahih Ibn Hibban #6457

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ، وأبي اليمان الهوزني ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ الأَخْنَسِ السُّلَمِيَّ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا سَعَةُ حَوْضِكَ ؟ ، قَالَ : كَمَا بَيْنَ عَدْنٍ إِِلَى عَمَّانَ ، وَأَنَّ فِيهِ مَثْعَبَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ " ، قَالَ : فَمَا حَوْضُكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مَذَاقَةً مِنَ الْعَسَلِ ، وَأَطْيَبُ رَائِحَةً مِنَ الْمِسْكِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا ، وَلَمْ يَسْوَدْ وَجْهُهُ أَبَدًا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي هَذَا الْخَبَرِ : " مَثْعَبَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ " ، وَفِي خَبَرِ ثَوْبَانَ الَّذِي ذَكَرْنَا : " مِيزَابَانِ أَحَدُهُمَا دُرٌّ وَالآخَرُ ذَهَبٌ " ، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا تَضَادٌّ ، لأَنَّ أَحَدَ الْمَثْعَبَيْنِ يَكُونُ مِنْ ذَهَبٍ ، وَالآخَرُ مِنْ فِضَّةٍ قَدْ رُكِّبَ عَلَيْهِ الدُّرُّ حَتَّى لا يَكُونَ بَيْنَهَا تَضَادٌّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا یزید بن اخنس رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے حوض کی وسعت کتنی ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جتنا عدن اور عمان کے درمیان فاصلہ ہے اور اس میں دو پرنالے ہیں، جو سونے اور چاندی کے بنے ہوئے ہیں۔“ انہوں نے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے حوض (کا مشروب) کیسا ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دودھ سے زیادہ سفید ہو گا اور چکھنے میں شہد سے زیادہ میٹھا ہو گا اور اس کی خوشبو مشک سے زیادہ پاکیزہ ہو گی، جو شخص اس میں سے پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہو گا اور اس کا چہرہ کبھی سیاہ نہیں ہو گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ اس کے دو پرنالے سونے اور چاندی کے بنے ہوئے ہیں جبکہ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ہماری ذکر کردہ روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ اس کے دو پرنالے ہیں، جن میں سے ایک موتی سے بنا ہوا ہے اور ایک سونے سے بنا ہوا ہے، تو ان دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے؛ کیونکہ ان دو پرنالوں میں سے ایک سونے کا بنا ہوا ہو گا اور دوسرے کے بارے میں ہو سکتا ہے کہ وہ چاندی سے بنا ہوا ہو اور اس پر موتی لگا دیے گئے ہوں، اس طرح ان دونوں روایات میں تضاد باقی نہیں رہے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6457]

6458

Sahih Ibn Hibban #6458

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجْ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْوَازِعِ جَابِرَ بْنَ عَمْرٍو ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَرْزَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِِلَى صَنْعَاءَ مَسِيرَةَ شَهْرٍ ، عَرْضُهُ كَطُولِهِ ، فِيهَا مِيزَابَانِ يَنْثَعِبَانِ مِنَ الْجَنَّةِ مِنْ وَرِقٍ وَذَهَبٍ ، أَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، وَأَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ ، فِيهِ أَبَارِيقُ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میرے حوض کے دو کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا ایلہ سے لے کر صنعاء تک کا فاصلہ ہے، جو ایک ماہ کی مسافت جتنا ہے۔ اس حوض کی چوڑائی اس حوض کی لمبائی جتنی ہے، اس میں دو پرنالے ہیں جو جنت سے آتے ہیں، چاندی اور سونے کے بنے ہوئے ہیں، (اس کا مشروب یا پانی) دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے۔ اس حوض کے پاس آسمان کے ستاروں جتنے کوزے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6458]

6459

Sahih Ibn Hibban #6459

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِِنَّحَوْضِي كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِِلَى صَنْعَاءَ اليمنِ ، وَإِِنَّ فِيهِ مِنَ الأَبَارِيقِ بِعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک میرا حوض ایلہ سے لے کر صنعاء کے فاصلے جتنا ہے اور اس کے پاس آسمان کے ستاروں کی تعداد میں کوزے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6459]

6460

Sahih Ibn Hibban #6460

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرَ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ قَدْ دَعَا بِهَا فِي أُمَّتِهِ ، وَإِِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نبی کی ایک مخصوص دعا ہوتی ہے جس کے ذریعے وہ اپنی امت کے بارے میں دعا مانگتا ہے، میں نے اپنی مخصوص دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے سنبھال کر رکھ لیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6460]

6461

Sahih Ibn Hibban #6461

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُو بِهَا ، وَإِِنِّي أَخَّرْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لأُمَّتِي فِي الآخِرَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ہر نبی کی ایک مخصوص دعا ہوتی ہے جو وہ مانگتا ہے، میں نے اپنی دعا کو آخرت میں اپنی امت کی شفاعت کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6461]

6462

Sahih Ibn Hibban #6462

أَخْبَرَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ بِبُسْتَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَمَّادٍ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي : بُعِثْتُ إِِلَى الأَحْمَرِ وَالأَسْوَدِ ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمَ وَلَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِي ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، فَيُرْعَبُ الْعَدُوُّ مِنْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ ، وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا ، وَقِيلَ لِي : سَلْ تُعْطَهْ ، وَاخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لأُمَّتِي فِي الْقِيَامَةِ ، وَهِيَ نَائِلَةٌ إِِنْ شَاءَ اللَّهُ لِمَنْ لَمْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں، جو مجھ سے پہلے کسی کو عطا نہیں کی گئیں۔ مجھے سرخ و سیاہ (یعنی تمام بنی نوع انسان) کی طرف مبعوث کیا گیا۔ میرے لیے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا تھا۔ میری رعب کے ذریعے مدد کی گئی، دشمن ایک ماہ کی مسافت سے مرعوب ہو جاتا ہے، میرے لیے تمام روئے زمین کو طہارت کے حصول کا ذریعہ اور جائے نماز قرار دیا گیا۔ اور مجھ سے یہ کہا گیا: تم مانگو تمہیں دیا جائے گا، تو میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے سنبھال کر رکھ لیا ہے۔ اگر اللہ نے چاہا تو یہ دعا ہر اس شخص کو نصیب ہوگی جو کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتا ہوگا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6462]

6463

Sahih Ibn Hibban #6463

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : عَرَّسَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَافْتَرَشَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا ذِرَاعَ رَاحِلَتِهِ ، قَالَ : فَانْتَبَهْتُ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ ، فَإِِذَا نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ قُدَّامَهَا أَحَدٌ ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِِذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ قَائِمَانِ ، فَقُلْتُ : أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالا : لا نَدْرِي ، غَيْرَ أَنَّا سَمِعْنَا صَوْتًا بِأَعْلَى الْوَادِي ، فَإِِذَا مِثْلُ هَدِيرِ الرَّحَى ، قَالَ : فَلَبِثْنَا يَسِيرًا ، ثُمَّ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِِنَّهُأَتَانِي مِنْ رَبِّي آتٍ ، فَخَيَّرَنِي بِأَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ ، وَإِِنِّي اخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ " ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَنْشُدُكَ بِاللَّهِ وَالصُّحْبَةِ لَمَا جَعَلْتَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ ، قَالَ : " فَأَنْتُمْ مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِي " ، قَالَ : فَلَمَّا رَكِبُوا ، قَالَ : " فَإِِنِّي أُشْهَدُ مَنْ حَضَرَ أَنَّ شَفَاعَتِيَ لِمَنْ مَاتَ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا مِنْ أُمَّتِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ پڑاؤ کیا، ہر شخص نے اپنی سواری کے بازو کو بچھا دیا۔ راوی کہتے ہیں: رات کے کسی حصے میں، میں بیدار ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے آگے کوئی موجود نہیں تھا (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غیر موجود تھے) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلا، تو سیدنا معاذ بن جبل اور سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہما بھی وہاں کھڑے تھے۔ میں نے دریافت کیا کہ اللہ کے رسول کہاں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ہمیں نہیں پتہ، البتہ ہم نے وادی کے بالائی حصہ سے آواز سنی ہے، جو چکی چلنے کی طرح کی آواز تھی۔ راوی کہتے ہیں: ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا: ”میرے پاس میرے پروردگار کی طرف سے ایک قاصد آیا اور اس نے مجھے اس بات کا اختیار دیا کہ یا تو میری امت کا نصف حصہ جنت میں داخل ہو جائے یا شفاعت (کو میں اختیار کر لوں) تو میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! ہم آپ کو اللہ کا واسطہ دیتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے تعلق کا واسطہ دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ان لوگوں میں شامل کیجیے، جن کو آپ کی شفاعت نصیب ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں کو میری شفاعت نصیب ہو گی۔“ راوی کہتے ہیں: جب وہ لوگ سوار ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمام حاضرین کو اس بات کا گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ میری امت کا جو بھی فرد ایسی حالت میں فوت ہو کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، اسے میری شفاعت نصیب ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6463]

6464

Sahih Ibn Hibban #6464

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، وَالْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْجَحْدَرِيُّ ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُجْمَعُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْهَمُونَ لِذَلِكَ ، فَيَقُولُونَ : لَوِ اسْتَشْفَعْنَا إِِلَى رَبِّنَا كَيْ يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا ، قَالَ : فَيَأْتُونَ آدَمَ ، فَيَقُولُونَ : أَنْتَ آدَمُ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ ، وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ ، وَأَمَرَ الْمَلائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ ، فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا ، قَالَ : فَيَقُولُ : لَسْتُ هُنَاكُمْ ، فَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَهَا ، فَيَسْتَحْيِي مِنْ رَبِّهِ مِنْهَا ، وَلَكِنِ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ ، فَيَأْتُونَهُ ، فَيَقُولُ : لَسْتُ هُنَاكُمْ ، وَيُذْكَرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا ، وَلَكِنِ ائْتُوا إِِبْرَاهِيمَ الَّذِي اتَّخَذَهُ اللَّهُ خَلِيلا ، قَالَ : فَيَأْتُونَ إِِبْرَاهِيمَ ، فَيَقُولُ : لَسْتُ هُنَاكُمْ ، وَيُذْكَرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا ، وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى الَّذِي خَلْقَهُ اللَّهُ ، وَأَعْطَاهُ التَّوْرَاةَ ، قَالَ : فَيَأْتُونَ مُوسَى ، فَيَقُولُ : لَسْتُ هُنَاكُمْ ، وَيُذْكَرُ خَطِيئَتَهُ ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا ، وَلَكِنِ ائْتُوا عِيسَى ، فَيَقُولُ : لَسْتُ هُنَاكُمْ ، وَلَكِنِ ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ ، قَالَ : فَيَأْتُونِي ، فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي ، فَيَأْذَنُ لِي ، فَإِِذَا أَنَا رَأَيْتُهُ وَقَعَتْ سَاجِدًا ، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ، ثُمَّ يُقَالُ : ارْفَعْ مُحَمَّدُ ، وَقُلْ تُسْمَعْ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، قَالَ : فَأَرْفَعُ رَأْسِي ، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِمَحَامِدَ يُعَلِّمُنِيهِ ، ثُمَّ أَشْفَعُ ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا ، فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ ، وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ، ثُمَّ أَعُودُ سَاجِدًا ، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ، ثُمَّ يُقَالُ : ارْفَعْ مُحَمَّدُ ، وَقُلْ تُسْمَعْ ، سَلْ تُعْطَهْ ، اشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي ، وَأَحْمَدُ رَبِّي بِمَحَامِدَ يُعَلِّمُنِيهِ ، ثُمَّ أَشْفَعُ ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا ، فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ ، وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ، ثُمَّ أَضَعُ رَأْسِي ، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِيَ ، ثُمَّ يُقَالُ لِيَ : ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ تُسْمَعْ ، سَلْ تُعْطَهْ ، اشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي ، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِمَحَامِدَ يُعَلِّمُنِيهِ ، ثُمَّ أَشْفَعُ ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا ، فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ ، وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ " ، قَالَ أَبُو عَوَانَةَ : فَلا أَدْرِي قَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ : " فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، مَا بَقِيَ فِي النَّارِ إِِلا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ ، أَوْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَكَذَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ : " وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى الَّذِي خَلْقَهُ اللَّهُ " ، وَإِِنَّمَا هُوَ : " الَّذِي كَلَّمَهُ اللَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن لوگوں کو (میدان محشر میں) اکٹھا کیا جائے گا۔ انہیں یہ بات الہام کی جائے گی، تو وہ کہیں گے اگر کوئی ہمارے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کرے تاکہ ہمیں اس صورتحال سے نجات ملے، تو یہ بہتر ہوگا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لوگ سیدنا آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: آپ وہ سیدنا آدم علیہ السلام ہیں، جنہیں اللہ نے اپنے دست قدرت کے ذریعے پیدا کیا، آپ میں اپنی روح کو پھونکا، اس نے فرشتوں کو حکم دیا تو فرشتوں نے آپ کو سجدہ کیا۔ آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے تاکہ ہمیں اس صورتحال سے نجات ملے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سیدنا آدم علیہ السلام کہیں گے: میں یہ نہیں کر سکتا، وہ اپنی اس خطا کا ذکر کریں گے جس کے وہ مرتکب ہوئے تھے، اور اس خطا کی وجہ سے انہیں اپنے پروردگار سے حیا آئے گی۔ وہ کہیں گے کہ تم سیدنا نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ پہلے رسول ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے مبعوث کیا۔ لوگ سیدنا نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے۔ وہ یہ کہیں گے: میں یہ نہیں کر سکتا، وہ اپنی اس خطا کا ذکر کریں گے جس کے وہ مرتکب ہوئے تھے۔ اس خطا کی وجہ سے انہیں اپنے پروردگار سے حیا آئے گی (وہ یہ کہیں گے) تم لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنا خلیل بنایا تھا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے وہ یہ کہیں گے: میں یہ نہیں کر سکتا۔ وہ اپنی اس خطا کو یاد کریں گے جس کے وہ مرتکب ہوئے تھے۔ انہیں اس وجہ سے اپنے پروردگار سے حیا آتی ہوگی (وہ یہ کہیں گے) تم لوگ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور انہیں توریت عطا کی۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لوگ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ وہ یہ کہیں گے: میں یہ نہیں کر سکتا۔ انہیں اپنی وہ خطا یاد آئے گی، جس کی وجہ سے وہ اپنے پروردگار سے حیا کریں گے (تو وہ یہ کہیں گے) تم لوگ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام یہ کہیں گے: میں یہ نہیں کر سکتا، تم لوگ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ وہ ایک ایسے بندے ہیں جن کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت اللہ تعالیٰ نے کر دی ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لوگ میرے پاس آئیں گے۔ میں اپنے پروردگار سے اجازت مانگوں گا۔ وہ مجھے اجازت عطا کرے گا تو میں سجدے میں چلا جاؤں گا۔ جتنی دیر اللہ کو منظور ہوگا، میں سجدے میں رہوں گا، پھر یہ کہا جائے گا: اے محمد! ( صلی اللہ علیہ وسلم سجدے سے) سر کو اٹھاؤ۔ بولو، سنا جائے گا۔ مانگو، دیا جائے گا۔ شفاعت کرو، شفاعت قبول ہوگی۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے پروردگار کی ایسے الفاظ کے ہمراہ حمد بیان کروں گا جن کی وہ مجھے تعلیم دے گا، پھر میں شفاعت کروں گا تو میرے لیے ایک حد مقرر کی جائے گی۔ میں ان لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کروادوں گا، پھر میں دوبارہ سجدے میں چلا جاؤں گا۔ جتنی دیر اللہ کو منظور ہوگا وہ مجھے (سجدے کی حالت میں) رہنے دے گا، پھر یہ کہا جائے گا: محمد! (سجدے سے) سر کو اٹھاؤ۔ بولو سنا جائے گا۔ مانگو دیا جائے گا۔ شفاعت کرو شفاعت قبول کی جائے گی، تو میں اپنے سر کو اٹھاؤں گا اور اپنے پروردگار کی ایسے الفاظ کے ہمراہ حمد بیان کروں گا، جن کی وہ مجھے تعلیم دے گا، پھر میں شفاعت کروں گا تو میرے لیے حد مقرر کی جائے گی۔ میں ان لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دوں گا، پھر میں دوبارہ سجدے میں چلا جاؤں گا۔ جتنی دیر اللہ کو منظور ہوگا وہ مجھے (سجدے کی حالت میں) رہنے دے گا، پھر یہ کہا جائے گا: محمد! سجدے سے سر کو اٹھاؤ۔ بولو سنا جائے گا، مانگو دیا جائے گا، شفاعت کرو شفاعت قبول کی جائے گی، تو میں اپنے سر کو اٹھاؤں گا اور اپنے پروردگار کی ایسے الفاظ کے ہمراہ حمد بیان کروں گا، جن کی وہ مجھے تعلیم دے گا، پھر میں شفاعت کروں گا تو میرے لیے حد مقرر کی جائے گی، میں ان لوگوں کو نکال کر جنت میں داخل کر دوں گا، پھر میں اپنا سر (سجدے میں) رکھوں گا۔ اللہ تعالیٰ کو جتنا منظور ہوگا۔ وہ اتنی دیر (مجھے سجدے میں رہنے دے گا) پھر مجھ سے کہا جائے گا: (سجدے سے) اپنے سر کو اٹھاؤ، بولو سنا جائے گا۔ مانگو دیا جائے گا۔ شفاعت کرو شفاعت قبول کی جائے گی، تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور ان الفاظ کے ذریعے اپنے پروردگار کی حمد بیان کروں گا، جن کی وہ مجھے تعلیم دے گا، پھر میں شفاعت کروں گا، تو میرے لیے حد مقرر کی جائے گی۔ میں ان لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دوں گا۔“ ابوعوانہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: مجھے نہیں معلوم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی مرتبہ یہ فرمایا: ”میں عرض کروں گا: اے میرے پروردگار! اب جہنم میں صرف وہ لوگ باقی رہ گئے ہیں جو قرآن (کے حکم) کی وجہ سے رکے ہیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جن کا جہنم میں ہمیشہ رہنا طے ہے۔“ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حسن بن سفیان نے اس روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں ”تم لوگ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے“ حالانکہ اصل الفاظ یہ ہیں ”جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کلام کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6464]

6465

Sahih Ibn Hibban #6465

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَضَعْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةً مِنْ ثَرِيدٍ وَلَحْمٍ ، فَتَنَاوَلَ الذِّرَاعَ ، وَكَانَ أَحَبَّ الشَّاةِ إِِلَيْهِ ، فَنَهَسَ نَهْسَةً ، فَقَالَ : أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، ثُمَّ نَهَسَ أُخْرَى ، فَقَالَ : " أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، ثُمَّ نَهَسَ أُخْرَى ، فَقَالَ : " أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، فَلَمَّا رَأَى أَصْحَابَهُ لا يَسْأَلُونَهُ ، قَالَ : " أَلا تَقُولُونَ : كَيْفَ ؟ " ، قَالُوا : كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ ، فَيُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي ، وَيَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ ، وَتَدْنُو الشَّمْسُ مِنْ رُؤوسِهِمْ ، فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِمْ حَرُّهَا ، وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ دُنُوُّهَا مِنْهُمْ ، فَيَنْطَلِقُونَ مِنَ الْجَزَعِ وَالضَّجَرِ مِمَّا هُمْ فِيهِ ، فَيَأْتُونَ آدَمَ ، فَيَقُولُونَ : يَا آدَمُ ، أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ ، خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ ، وَأَمَرَ الْمَلائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ ، فَاشْفَعْ لَنَا إِِلَى رَبِّكَ ، أَلا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ مِنَ الشَّرِّ ؟ فَيَقُولُ آدَمُ : إِِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، وَإِِنَّهُ كَانَ أَمَرَنِي بِأَمْرٍ فَعَصَيْتُهُ ، فَأَخَافُ أَنْ يَطْرَحَنِي فِي النَّارِ ، انْطَلِقُوا إِِلَى غَيْرِي ، نَفْسِي نَفْسِي ، فَيَنْطَلِقُونَ إِِلَى نُوحٍ ، فَيَقُولُونَ : يَا نُوحُ ، أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ ، وَأَوَّلُ مَنْ أَرْسَلَ ، فَاشْفَعْ لَنَا إِِلَى رَبِّكَ ، أَلا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ مِنَ الشَّرِّ ؟ فَيَقُولُ نُوحٌ : إِِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، وَإِِنَّهُ قَدْ كَانَتْ لِي دَعْوَةٌ ، فَدَعَوْتُ بِهَا عَلَى قَوْمِي ، فَأُهْلِكُوا ، وَإِِنِّي أَخَافُ أَنْ يَطْرَحَنِي فِي النَّارِ ، انْطَلِقُوا إِِلَى غَيْرِي ، نَفْسِي نَفْسِي ، فَيَنْطَلِقُونَ إِِلَى إِِبْرَاهِيمَ ، فَيَقُولُونَ : يَا إِِبْرَاهِيمُ ، أَنْتَ خَلِيلُ اللَّهِ ، قَدْ سَمِعَ بِخُلَّتِكُمَا أَهْلُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ ، فَاشْفَعْ لَنَا إِِلَى رَبِّكَ ، أَلا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ مِنَ الشَّرِّ ؟ فَيَقُولُ : إِِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، وَذَكَرَ قَوْلَهُ فِي الْكَوَاكِبِ : هَذَا رَبِّي ، وَقَوْلَهُ لآلِهَتِهِمْ : بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا ، وَقَوْلَهُ : إِنِّي سَقِيمٌ ، وَإِِنِّي أَخَافُ أَنْ يَطْرَحَنِي فِي النَّارِ ، انْطَلِقُوا إِِلَى غَيْرِي ، نَفْسِي نَفْسِي ، فَيَنْطَلِقُونَ إِِلَى مُوسَى ، فَيَقُولُونَ : يَا مُوسَى ، أَنْتَ نَبِيٌّ اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالاتِهِ ، وَكَلَّمَكَ تَكْلِيمًا ، فَاشْفَعْ لَنَا إِِلَى رَبِّكَ ، أَلا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ مِنَ الشَّرِّ ؟ فَيَقُولُ مُوسَى : إِِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، وَإِِنِّي قَدْ قَتَلْتُ نَفْسًا ، وَلَمْ أُؤَمَرْ بِهَا ، فَأَخَافُ أَنْ يَطْرَحَنِي فِي النَّارِ ، انْطَلِقُوا إِِلَى غَيْرِي ، نَفْسِي نَفْسِي ، فَيَنْطَلِقُونَ إِِلَى عِيسَى ، فَيَقُولُونَ : يَا عِيسَى ، أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ ، وَكَلِمَةُ اللَّهِ وَرُوحُهُ أَلْقَاهَا إِِلَى مَرْيَمَ ، وَرَوْحٌ مِنْهُ ، اشْفَعْ لَنَا إِِلَى رَبِّكَ ، أَلا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ مِنَ الشَّرِّ ؟ فَيَقُولُ : إِِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، وَأَخَافُ أَنْ يَطْرَحَنِي فِي النَّارِ ، انْطَلِقُوا إِِلَى غَيْرِي ، نَفْسِي نَفْسِي " ، قَالَ عُمَارَةُ : وَلا أَعْلَمُهُ ذَكَرَ ذَنْبًا ، " فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَقُولُونَ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ، وَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ ، غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ، اشْفَعْ لَنَا إِِلَى رَبِّكَ ، فَأَنْطَلِقُ فَآتِي الْعَرْشَ ، فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي ، فَيُقِيمُنِي رَبُّ الْعَالَمِينَ مِنْهُ مَقَامًا لَمْ يُقِمْهُ أَحَدًا قَبْلِي ، وَلَمْ يُقِمْهُ أَحَدًا بَعْدِي ، فَيَقُولُ : يَا مُحَمَّدُ ، أَدْخِلْ مَنْ لا حِسَابَ عَلَيْهِ مِنْ أُمَّتِكَ مِنَ الْبَابِ الأَيْمَنِ ، وَهُمْ شُرَكَاءُ النَّاسِ فِي الأَبْوَابِ الأُخَرِ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ إِِلَى مَا بَيْنَ عِضَادِيِّ الْبَابِ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرَ ، أَوْ هَجَرَ وَمَكَّةَ "، قَالَ : لا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ثرید اور گوشت کا پیالہ رکھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے دستی اٹھائی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بکرے کے گوشت میں وہ سب سے زیادہ پسند تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دانت کے ذریعے نوچ کر کھایا اور فرمایا: ”قیامت کے دن میں تمام انسانوں کا سردار ہوں گا،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوسری مرتبہ کھایا اور فرمایا: ”میں قیامت کے دن تمام انسانوں کا سردار ہوں گا،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تیسری مرتبہ کھایا اور فرمایا: ”میں قیامت کے دن تمام انسانوں کا سردار ہوں گا۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو دیکھا کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی سوال نہیں کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ ایسا کیسے ہو گا؟“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کیسے ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قیامت کے دن) تمام لوگ تمام جہانوں کے پروردگار کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے۔ بلانے والا اپنی آواز ان تک پہنچا سکے گا۔ نگاہ انہیں دیکھ سکے گی۔ اور سورج ان کے سر کے قریب ہو گا۔ اس کی تپش ان کے لیے شدید دشواری کا باعث ہو گی۔ اور سورج کا ان کے قریب ہونا ان کے لیے مشقت کا باعث ہو گا۔ وہ لوگ اپنی صورتحال کی وجہ سے گریہ و زاری اور آہ و بکا کرتے ہوئے جائیں گے اور سیدنا آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے سیدنا آدم علیہ السلام! آپ انسانوں کے جدامجد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے دست قدرت کے ذریعے پیدا کیا۔ اس نے فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا۔ آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے۔ کیا آپ ملاحظہ نہیں فرما رہے کہ ہم کیسی بری صورتحال کا شکار ہیں؟ تو سیدنا آدم علیہ السلام یہ کہیں گے: میرا پروردگار آج جتنا غضب میں ہے اس سے پہلے اتنا غضب میں نہیں آیا اور اس کے بعد اتنا غضب ناک نہیں ہو گا۔ اس نے مجھے ایک بات کا حکم دیا تھا۔ میں نے اس کی بات نہیں مانی۔ اب مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وہ مجھے بھی جہنم میں نہ ڈال دے۔ تم میرے بجائے کسی دوسرے کے پاس جاؤ (اب) مجھے اپنی فکر ہے، صرف اپنی فکر ہے۔ وہ لوگ سیدنا نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے: اے سیدنا نوح علیہ السلام! آپ اللہ کے نبی ہیں۔ آپ پہلے شخص ہیں، جسے رسول بنا کر بھیجا گیا۔ آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے، کیا آپ ملاحظہ نہیں کر رہے ہم کیسی بری صورتحال کا شکار ہیں؟ سیدنا نوح علیہ السلام فرمائیں گے: میرا پروردگار آج جتنا غضب ناک ہے اس سے پہلے کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہوا اور اس کے بعد بھی کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہو گا، میری ایک دعا تھی جو میں نے اپنی قوم کے خلاف کی تھی جس کے نتیجے میں وہ لوگ ہلاکت کا شکار ہو گئے۔ اب مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ مجھے جہنم میں نہ ڈال دے۔ اس لئے تم میری بجائے کسی اور کے پاس جاؤ، مجھے صرف اپنی فکر ہے، صرف اپنی فکر ہے۔ وہ لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے: اے سیدنا ابراہیم علیہ السلام! آپ اللہ کے خلیل ہیں، آپ دونوں کی خلت کے بارے میں تمام آسمانوں والوں اور زمین والوں نے سن رکھا ہے۔ آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے، کیا آپ ملاحظہ نہیں کر رہے کہ ہم کیسی مشکل کا شکار ہیں؟ تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام فرمائیں گے: میرا پروردگار آج جتنا غضب ناک ہے اس سے پہلے کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہوا اور اس کے بعد کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہو گا، پھر وہ ستاروں کے بارے میں اپنے قول کا ذکر کریں گے ﴿یہ میرا پروردگار ہے﴾ [سورة الأنعام: 76] اور ان لوگوں کے بتوں کے بارے میں اپنے اس قول کا ذکر کریں گے ﴿بلکہ ان میں سے بڑے نے ایسا کیا ہے﴾ [سورة الأنبياء: 63] اور اپنے اس قول کا ذکر کریں گے ﴿میں بیمار ہوں﴾ [سورة الصافات: 89] ۔ (پھر سیدنا ابراہیم علیہ السلام فرمائیں گے) کہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ مجھے جہنم میں نہ ڈال دے، تم میری بجائے کسی اور کے پاس جاؤ۔ ابھی مجھے صرف اپنی فکر ہے، صرف اپنی فکر ہے۔ وہ لوگ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے تو کہیں گے: اے سیدنا موسیٰ علیہ السلام! آپ ایسے نبی ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے منتخب کیا۔ اس نے آپ کے ساتھ کلام کیا۔ آپ پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے۔ کیا آپ ملاحظہ نہیں فرما رہے کہ ہم کیسی مشکل کا شکار ہیں؟ تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام یہ کہیں گے: میرا پروردگار آج جتنا غضب ناک ہے، اس سے پہلے اتنا غضب ناک نہیں ہوا اور اس کے بعد اتنا غضب ناک نہیں ہو گا۔ میں نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا حالانکہ مجھے اس کا حکم نہیں دیا گیا تھا، تو مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ مجھے جہنم میں داخل نہ کر دے۔ تم لوگ میری بجائے کسی اور کے پاس جاؤ۔ ابھی مجھے صرف اپنی فکر ہے، صرف اپنی فکر ہے۔ تو وہ لوگ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے کہ آپ اللہ کے نبی ہیں، آپ اس کا کلمہ ہیں، اس کی روح ہیں جو اس نے سیدنا مریم کی طرف القاء کی تھی۔ اس کی طرف سے آنے والی روح ہیں۔ آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے، کیا آپ ملاحظہ نہیں کر رہے کہ ہم کس مشکل کا شکار ہیں؟ تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے کہ میرا پروردگار آج جتنا غضب ناک ہے وہ اس سے پہلے کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہوا اور اس کے بعد کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہو گا۔ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ مجھے جہنم میں نہ ڈال دے۔ تم لوگ میری بجائے کسی اور کے پاس جاؤ۔ مجھے صرف اپنی فکر ہے، اپنی فکر ہے۔“ عمارہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: میرے علم کے مطابق (روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں) کہ انہوں نے کسی ذنب کا ذکر کیا ہو۔ پھر لوگ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور یہ کہیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، خاتم النبیین ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں وہاں سے چلوں گا اور عرش کے پاس آ جاؤں گا۔ میں اپنے پروردگار کی بارگاہ میں سجدہ میں چلا جاؤں گا، تو تمام جہانوں کا پروردگار اپنی بارگاہ میں مجھے ایسے مقام پر فائز کرے گا کہ اس نے مجھ سے پہلے کسی کو اس مقام پر فائز نہیں کیا اور میرے بعد بھی کسی کو اس مقام پر فائز نہیں کرے گا۔ وہ یہ فرمائے گا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! تم اپنی امت کو دائیں طرف والے دروازے سے (جنت میں) داخل کرو۔ ان لوگوں کو جن سے حساب نہیں لیا جائے گا، حالانکہ وہ لوگ دوسرے دروازوں سے دیگر لوگوں کے ساتھ بھی اندر داخل ہو سکتے ہیں۔ (پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا) اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے، جنت کا ایک دروازہ اتنا چوڑا ہے جتنا مکہ اور ہجر کے درمیان فاصلہ ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جتنا ہجر اور مکہ کے درمیان فاصلہ ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ روایت میں کون سے لفظ کا ذکر پہلے ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6465]

6466

Sahih Ibn Hibban #6466

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعَتِّبٍ الْهُذَلِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَاذَا رَدَّ إِِلَيْكَ رَبُّكَ فِي الشَّفَاعَةِ ؟ ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَقَدْ ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَوَّلُ مَنْ يَسْأَلُنِي عَنْ ذَلِكَ مِنْ أُمَّتِي ، لِمَا رَأَيْتُ مِنَ حِرْصِكَ عَلَى الْعِلْمِ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ،لَمَا يُهِمُّنِي مِنَ انْقِصَافِهِمْ عَلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ أَهَمُّ عِنْدِي مِنْ تَمَامِ شَفَاعَتِي لَهُمْ ، وَشَفَاعَتِي لِمَنْ شَهِدَ أَنْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ مُخْلِصًا ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ يُصَدِّقُ لِسَانُهُ قَلْبَهُ وَقَلْبُهُ لِسَانَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار نے شفاعت کے حوالے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا عطا کیا ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، مجھے یہ اندازہ تھا کہ میری امت میں سب سے پہلے تم مجھ سے اس بارے میں سوال کرو گے کیونکہ میں نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ تمہیں علم حاصل کرنے کا بہت شوق ہے۔ اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، ان لوگوں کا جنت کے دروازوں پر یکے بعد دیگرے آنا میرے نزدیک ان کے لیے اپنی شفاعت مکمل ہونے سے زیادہ ضروری ہے۔ میری شفاعت ہر اس شخص کو نصیب ہو گی جو پورے اخلاص کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اس کی زبان اس کے دل کی تصدیق کرے اور اس کا دل اس کی زبان کی تصدیق کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6466]

6467

Sahih Ibn Hibban #6467

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيِّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : شَفَاعَتِي لأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والے لوگوں کے لیے ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6467]

6468

Sahih Ibn Hibban #6468

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الشَّرْقِيِّ وَكَانَ مِنَ الْحُفَّاظِ الْمُتْقِنِينَ وَأَهْلِ الْفِقْهِ فِي الدِّينِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : شَفَاعَتِي لأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6468]

6469

Sahih Ibn Hibban #6469

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ قَدْ دَعَاهَا فِي أُمَّتِهِ ، وَإِِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نبی کی ایک مخصوص دعا ہوتی ہے جو وہ اپنی امت کے لیے کرتا ہے، میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے سنبھال کر رکھ لیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6469]

6470

Sahih Ibn Hibban #6470

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : عَرَّسَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَافْتَرَشَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا ذِرَاعَ رَاحِلَتِهِ ، فَانْتَبَهْتُ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ ، فَإِِذَا نَاقَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ قُدَّامَهَا أَحَدٌ ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِِذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ قَائِمَانِ ، قَالَ : قُلْتُ : أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ ؟ قَالا : مَا نَدْرِي ، غَيْرَ أَنَّا سَمِعْنَا صَوْتًا بِأَعْلَى الْوَادِي ، فَإِِذَا مِثْلُ هَدِيرِ الرَّحَى ، فَلَمْ نَلْبَثْ إِِلا يَسِيرًا حَتَّى أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : إِِنَّهُ أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ رَبِّي ، فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ ، وَإِِنِّي اخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ " ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَنْشُدُكَ اللَّهَ وَالصُّحْبَةَ لَمَا جَعَلْتَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ ، قَالَ : " فَإِِنَّكُمْ مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِي " ، قَالَ : فَأَقْبَلْنَا إِِلَى النَّاسِ ، فَإِِذَا هُمْ فَزِعُوا ، وَفَقَدُوا نَبِيَّهُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنَّهُأَتَانِيَ اللَّيْلَةَ آتٍ ، فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ ، وَإِِنِّي اخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ " ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَنْشُدُكَ اللَّهَ لَمَا جَعَلْتَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ : " إِِنِّي أُشْهِدُ مَنْ حَضَرَ أَنَّ شَفَاعَتِيَ لِمَنْ مَاتَ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا مِنْ أُمَّتِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ پڑاؤ کیا، ہر شخص نے اپنی سواری کو بٹھا دیا۔ رات کے کسی حصے میں، میں بیدار ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے آگے کوئی موجود نہیں تھا (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہیں تھے) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنے کے لیے چل پڑا، تو سیدنا معاذ بن جبل اور سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہما بھی کھڑے نظر آئے، میں نے دریافت کیا: اللہ کے رسول کہاں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ہمیں نہیں معلوم البتہ ہم نے وادی کے بالائی حصے کی طرف سے ایک آواز سنی ہے جو چکی کے چلنے جیسی آواز ہے۔ راوی کہتے ہیں، تھوڑی ہی دیر بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پروردگار کی طرف سے ایک قاصد میرے پاس آیا۔ اس نے مجھے اس بات کا اختیار دیا، یا تو میری امت کا نصف حصہ جنت میں داخل ہو جائے یا پھر میں شفاعت کروں (خواہ وہ کتنے ہی لوگوں کی کیوں نہ ہو) تو میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا۔“ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا اور اپنے ساتھ کا واسطہ دے کر یہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کریں، جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان لوگوں میں شامل ہو جن کو میری شفاعت نصیب ہو گی۔“ راوی کہتے ہیں: پھر ہم لوگ لوگوں کی طرف آئے تو وہ گھبرائے ہوئے تھے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غیر موجود پایا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے پاس اس رات (میرے پروردگار کا) قاصد آیا، تو اس نے مجھے اس بات کا اختیار دیا کہ یا تو میری امت کا نصف حصہ جنت میں داخل ہو جائے یا میں شفاعت کو اختیار کروں، تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا۔“ لوگوں نے عرض کی: ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کیجیے، جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمام حاضرین کو اس بات کا گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میری شفاعت میری امت کے ہر اس شخص کو نصیب ہو گی جو ایسی حالت میں فوت ہوتا ہے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6470]

6471

Sahih Ibn Hibban #6471

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : قَرَأَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْكَوْثَرُ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ يَجْرِي عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ ، حَافَّتَاهُ قِبَابُ الدُّرِّ " ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَضَرَبْتُ بِيَدِي ، فَإِِذَا طِينُهُ مِسْكٌ أَذْفَرُ ، وَإِِذَا حَصْبَاؤُهُ اللُّؤْلُؤُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ثابت بیان کرتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ آیت ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ [سورة الكوثر: 1] ”بے شک ہم نے تمہیں کوثر عطا کی۔“ تلاوت کی، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”کوثر جنت میں موجود ایک نہر ہے جو (جنت کی زمین پر) بہتی ہے، اس کے دونوں کناروں پر موتیوں سے بنے ہوئے خیمے ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے اپنا ہاتھ مارا، تو جنت کی مٹی کی خوشبو مشک کی طرح کی تھی اور اس کی کنکریاں موتیوں کی طرح کی تھیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6471]

6472

Sahih Ibn Hibban #6472

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، فَإِِذَا أَنَا بِنَهَرٍ حَافَّتَاهُ مِنَ اللُّؤْلُؤِ ، فَضَرَبْتُ بِيَدِي مَجْرَى الْمَاءِ ، فَإِِذَا مِسْكٌ أَذْفَرُ ، فَقُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، مَا هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا الْكَوْثَرُ أَعْطَاكَهُ اللَّهُ ، أَوْ أَعْطَاكَ رَبُّكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں ایک نہر موجود تھی، جس کے کناروں پر موتی تھے، میں نے اپنا ہاتھ پانی کے بہاؤ پر مارا تو اس کی خوشبو مشک کی طرح تھی، میں نے کہا: اے جبرائیل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا: یہ وہ کوثر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6472]

6473

Sahih Ibn Hibban #6473

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، فَإِِذَا أَنَا بِنَهَرٍ يَجْرِي ، بَيَاضُهُ بَيَاضُ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، وَحَافَّتَاهُ خِيَامُ اللُّؤْلُؤِ ، فَضَرَبْتُ بِيَدِي ، فَإِِذَا الثَّرَى مِسْكٌ أَذْفَرُ ، فَقُلْتُ لِجِبْرِيلَ : مَا هَذَا ؟ فَقَالَ : هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَهُ اللَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں ایک نہر بہہ رہی تھی جس کا پانی دودھ کی طرح سفید تھا اور وہ شہد سے زیادہ میٹھا تھا۔ اس کے دونوں کناروں پر موتیوں سے بنے ہوئے خیمے موجود تھے۔ میں نے اپنا ہاتھ لگایا تو وہاں کی مٹی مشک کی طرح تھی۔ میں نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا: یہ وہ کوثر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6473]

6474

Sahih Ibn Hibban #6474

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَ قَالَ : بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ إِِذْ عَرَضَ لِي نَهَرٌ ، حَافَّتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ الْمُجَوَّفِ ، فَقَالَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعَهُ : أَتَدْرِي مَا هَذَا ؟ هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ ، وَضَرَبَ بِيَدِهِ إِِلَى أَرْضِهِ ، فَأَخْرَجَ مِنْ طِينِهِ الْمِسْكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک مرتبہ میں جنت میں جا رہا تھا، اسی دوران میرے سامنے ایک نہر آئی جس کے دونوں کناروں پر اندر سے خالی موتیوں کے بنے ہوئے خیمے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود فرشتے نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات جانتے ہیں کہ یہ کیا ہے؟ یہ وہ کوثر ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک زمین سے لگایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مٹی کو اٹھایا تو وہ مشک کی طرح کی تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6474]

6475

Sahih Ibn Hibban #6475

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي شَدَّادُ أَبُو عَمَّارٍ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّاللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِِسْمَاعِيلَ ، وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ ، وَاصْطَفَى بَنِي هَاشِمٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ ، فَأَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ وَلا فَخْرَ ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ ، وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب کیا، کنانہ میں سے قریش کو منتخب کیا، قریش میں سے بنو ہاشم کو منتخب کیا اور بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب کیا، میں تمام اولادِ آدم کا سردار ہوں اور میں یہ بات فخر سے نہیں کہہ رہا، سب سے پہلے میرے لیے زمین کو شق کیا جائے گا، سب سے پہلے میں شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6475]

6476

Sahih Ibn Hibban #6476

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ الْعَدَوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُنَيْدَةَ الْبَرَاءُ بْنُ نَوْفَلٍ ، عَنْ وَالانَ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَصَلَّى الْغَدَاةَ ، ثُمَّ جَلَسَ ، حَتَّى إِِذَا كَانَ مِنَ الضُّحَى ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَجَلَسَ مَكَانَهُ ، حَتَّى صَلَّى الأُولَى وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ ، كُلُّ ذَلِكَ لا يَتَكَلَّمُ ، حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ الآخِرَةَ ، ثُمَّ قَامَ إِِلَى أَهْلِهِ ، فَقَالَ النَّاسُ لأَبِي بَكْرٍ : سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَأْنُهُ ؟ صَنَعَ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ يَصْنَعْهُ قَطُّ ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : نَعَمْ ،عُرِضَ عَلَيَّ مَا هُوَ كَائِنٌ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ، فَجُمِعَ الأَوَّلُونَ وَالآخَرُونَ بِصَعِيدٍ وَاحِدٍ حَتَّى انْطَلِقُوا إِِلَى آدَمَ عَلَيْهِ السَّلامُ ، وَالْعَرَقُ يَكَادُ يُلْجِمُهُمْ ، فَقَالُوا : يَا آدَمُ ، أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ ، اصْطَفَاكَ اللَّهُ ، اشْفَعْ لَنَا إِِلَى رَبِّكَ ، فَقَالَ : لَقَدْ لَقِيتُ مِثْلَ الَّذِي لَقِيتُمْ ، فَانْطَلِقُوا إِِلَى أَبِيكُمْ بَعْدَ أَبِيكُمْ ، إِِلَى نُوحٍ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ ، فَيَنْطَلِقُونَ إِِلَى نُوحٍ ، فَيَقُولُونَ : اشْفَعْ لَنَا إِِلَى رَبِّكَ ، فَإِِنَّهُ اصْطَفَاكَ اللَّهُ ، وَاسْتَجَابَ لَكَ فِي دُعَائِكَ ، فَلَمْ يَدَعْ عَلَى الأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا ، فَيَقُولُ : لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي ، فَانْطَلِقُوا إِِلَى إِِبْرَاهِيمَ ، فَإِِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَهُ خَلِيلا ، فَيَأْتُونَ إِِبْرَاهِيمَ ، فَيَقُولُ : لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي ، فَانْطَلِقُوا إِِلَى مُوسَى ، فَإِِنَّ اللَّهَ قَدْ كَلَّمَهُ تَكْلِيمًا ، فَيَقُولُ مُوسَى : لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي ، وَلَكِنِ انْطَلِقُوا إِِلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ، فَإِِنَّهُ يُبْرِئُ الأَكْمَهَ وَالأَبْرَصَ ، وَيُحْيِي الْمَوْتَى ، فَيَقُولُ عِيسَى : لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي ، وَلَكِنِ انْطَلِقُوا إِِلَى سَيِّدِ وَلَدِ آدَمَ ، فَإِِنَّهُ أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، انْطَلِقُوا إِِلَى مُحَمَّدٍ ، فَلْيَشْفَعْ لَكُمْ إِِلَى رَبِّكُمْ ، قَالَ : فَيَنْطَلِقُونَ ، وَآتِي جِبْرِيلَ ، فَيَأْتِي جِبْرِيلُ رَبَّهُ ، فَيَقُولُ اللَّهُ : ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ، قَالَ : فَيَنْطَلِقُ بِهِ جِبْرِيلُ ، فَيَخِرُّ سَاجِدًا قَدْرَ جُمُعَةٍ ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : يَا مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ يُسْمَعْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَيَرْفَعُ رَأْسَهُ ، فَإِِذَا نَظَرَ إِِلَى رَبِّهِ ، خَرَّ سَاجِدًا قَدْرَ جُمُعَةٍ أُخْرَى ، فَيَقُولُ اللَّهُ : يَا مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ يُسْمَعْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَيَذْهَبُ لِيَقَعَ سَاجِدًا ، فَيَأْخُذُ جِبْرِيلُ بِضَبْعَيْهِ ، وَيَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ مِنَ الدُّعَاءِ شَيْئًا لَمْ يَفْتَحْهُ عَلَى بَشَرٍ قَطُّ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، جَعَلْتَنِي سَيِّدَ وَلَدِ آدَمَ وَلا فَخْرَ ، وَأَوَّلَ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلا فَخْرَ ، حَتَّى إِِنَّهُ لَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَأَيْلَةَ ، ثُمَّ يُقَالُ : ادْعُ الصِّدِّيقِينَ فَيَشْفَعُونَ ، ثُمَّ يُقَالُ : ادْعُ الأَنْبِيَاءَ ، فَيَجِيءُ النَّبِيُّ مَعَهُ الْعِصَابَةُ ، وَالنَّبِيُّ مَعَهُ الْخَمْسَةُ وَالسِّتَّةُ ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ ، ثُمَّ يُقَالُ : ادْعُ الشُّهَدَاءَ فَيَشْفَعُونَ لِمَنْ أَرَادُوا ، فَإِِذَا فَعَلَتِ الشُّهَدَاءُ ذَلِكَ ، يَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : أَنَا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ ، أَدْخِلُوا جَنَّتِي مَنْ كَانَ لا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى : انْظُرُوا فِي النَّارِ ، هَلْ فِيهَا مِنْ أَحَدٍ عَمِلَ خَيْرًا قَطُّ ؟ فَيَجِدُونَ فِي النَّارِ رَجُلا ، فَيُقَالُ لَهُ : هَلْ عَمِلْتُ خَيْرًا قَطُّ ؟ فَيَقُولُ : لا ، غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ أُسَامِحُ النَّاسَ فِي الْبَيْعِ ، فَيَقُولُ اللَّهُ : اسْمَحُوا لِعَبْدِي كَإِِسْمَاحِهِ إِِلَى عَبِيدِي ، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ آخَرُ ، يُقَالُ لَهُ : هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ ؟ فَيَقُولُ : لا ، غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ أَمَرْتُ وَلَدِي ، إِِذَا مِتُّ فَاحْرِقُونِي بالنَّارِ ، ثُمَّ اطْحَنُونِي ، حَتَّى إِِذَا كُنْتُ مِثْلَ الْكُحْلِ ، فَاذْهَبُوا بِي إِِلَى الْبَحْرِ ، فَذُرُّونِي فِي الرِّيحِ ، فَقَالَ اللَّهُ : لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : مِنْ مَخَافَتِكَ ، فَيَقُولُ : انْظُرُوا إِِلَى مُلْكٍ أَعْظَمِ مُلْكٍ ، فَإِِنَّ لَكَ مِثْلَهُ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ ، فَيَقُولُ : لِمَ تَسْخَرُ بِي ، وَأَنْتَ الْمَلِكُ ؟ فَذَلِكَ الَّذِي ضَحِكْتُ مِنْهُ مِنَ الضُّحَى "، قَالَ إِِسْحَاقُ : هَذَا مِنْ أَشْرَفِ الْحَدِيثِ ، وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثُ عِدَّةٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا ، مِنْهُمْ : حُذَيْفَةُ ، وَابْنُ مَسْعُودٍ ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ ، وَغَيْرُهُمْ ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ ابْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُنَيْدَةَ بِإِِسْنَادِهِ نَحْوَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ بن یمان اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے وقت فجر کی نماز ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے۔ جب چاشت کا وقت ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر تشریف فرما رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کر لیں۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے ساتھ بات چیت نہیں کی، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز ادا کر لی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر تشریف لے گئے۔ لوگوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کریں کیا معاملہ ہے، آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا طرز عمل اختیار کیا ہے کہ ایسا پہلے کبھی نہیں کیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں! میرے سامنے وہ تمام چیزیں پیش کی گئیں جو دنیا اور آخرت کے اعتبار سے آگے ہوں گی، تمام پہلے اور بعد والے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ لوگ سیدنا آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے، وہ لوگ پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے، وہ یہ کہیں گے: اے سیدنا آدم علیہ السلام! آپ انسانوں کے جد امجد ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو منتخب کیا، اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجیے، تو سیدنا آدم علیہ السلام یہ کہیں گے: مجھے بھی اسی طرح کی صورت حال درپیش ہے جو تم کو درپیش ہے۔ تم لوگ اپنے ایک باپ کے بعد والے دوسرے باپ (یعنی سیدنا نوح علیہ السلام کی طرف جاؤ کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ﴿إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَىٰ آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ﴾ [سورة آل عمران: 33] ”بے شک اللہ تعالیٰ نے آدم اور نوح اور ابراہیم کی آل اور عمران کی آل کو تمام جہانوں میں منتخب کر لیا ہے۔“ تو لوگ سیدنا نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور یہ کہیں گے کہ آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو منتخب کیا تھا، اس نے آپ کی دعا کو مستجاب بھی کیا تھا، یہاں تک کہ زمین پر کوئی بھی کافر بستا ہوا نہیں رہا تھا، تو سیدنا نوح علیہ السلام کہیں گے: میں یہ نہیں کر سکتا، تم لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی طرف جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا خلیل بنایا تھا، تو لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے، تو وہ یہ کہیں گے کہ میں یہ نہیں کر سکتا، تم لوگ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کلام کا شرف عطا کیا ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کہیں گے: میں یہ نہیں کر سکتا، تم لوگ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ پیدائشی اندھے اور برص کے مریض کو ٹھیک کر دیا کرتے تھے، وہ مردوں کو زندہ کر دیا کرتے تھے۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام بھی یہی کہیں گے: میں یہ نہیں کر سکتا، تم لوگ ان کے پاس جاؤ جو تمام اولاد آدم کے سردار ہیں، قیامت کے دن سب سے پہلے انہی کے لیے زمین کو شق کیا گیا۔ تم لوگ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ تاکہ وہ تمہارے پروردگار کی بارگاہ میں تمہاری شفاعت کریں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”وہ لوگ (میری طرف) آئیں گے، میں جبرائیل علیہ السلام کے پاس جاؤں گا، جبرائیل علیہ السلام اپنے پروردگار کے پاس جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اسے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو) اجازت دو اور اسے جنت کی خوش خبری دو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر جائیں گے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے جائیں گے جو تقریباً ایک ہفتے جتنا ہو گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے محمد! اپنے سر کو اٹھاؤ، تم بولو سنا جائے گا، شفاعت کرو شفاعت قبول کی جائے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر اٹھائیں گے، جب وہ اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے تو دوبارہ سجدے میں چلے جائیں گے جو پورے ایک ہفتے جتنا طویل ہو گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنا سر اٹھاؤ، بولو سنا جائے گا، شفاعت کرو شفاعت قبول کی جائے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پھر سجدے میں جانے لگیں گے تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلو سے پکڑ لیں گے، اس وقت اللہ تعالیٰ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دعا کے جیسے کلمات القاء کرے گا جو اس نے اس سے پہلے کسی انسان کو وہ القا نہیں کیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرض کریں گے: اے میرے پروردگار! تو نے مجھے تمام اولاد آدم کا سردار بنایا ہے، میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا، قیامت کے دن سب سے پہلے میرے لیے زمین کو شق کیا گیا، میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن حوض کوثر کے پاس آئیں گے۔ وہ صنعاء اور ایلہ کے درمیان جگہ سے زیادہ بڑا ہے۔ پھر یہ کہا جائے گا: صدیق کو بلاؤ تاکہ وہ شفاعت کرے، پھر یہ کہا جائے گا: انبیاء کو بلاؤ، تو کوئی نبی آئے گا، ان کے ساتھ کچھ لوگ ہوں گے، کوئی نبی آئے گا ان کے ساتھ پانچ یا چھ افراد ہوں گے، کسی نبی کے ساتھ کوئی بھی نہیں ہو گا، پھر یہ کہا جائے گا: شہداء کو بلاؤ تاکہ وہ جس کی چاہیں شفاعت کریں۔ جب شہداء ایسا کر لیں گے تو اللہ تعالیٰ یہ فرمائے گا: میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہوں، تم میری جنت میں ہر اس شخص کو داخل کر دو جو کسی کو میرا شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو لوگ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جہنم میں جائزہ لو، کیا وہاں کوئی ایسا شخص ہے جس نے کبھی کوئی بھلائی کی ہو؟ تو فرشتوں کو جہنم میں ایک شخص ملے گا۔ اس سے دریافت کیا جائے گا: کیا تم نے بھی کوئی بھلائی کی ہے؟ وہ بولے گا: جی نہیں، البتہ میں خرید و فروخت کرتے ہوئے لوگوں سے نرمی سے کام لیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے اس بندے کے ساتھ نرمی کرو جس طرح اس نے میرے بندوں کے ساتھ نرمی کی تھی، پھر ایک اور شخص کو جہنم سے نکالا جائے گا۔ اس سے دریافت کیا جائے گا: تم نے کبھی کوئی بھلائی کی؟ وہ جواب دے گا: جی نہیں، البتہ میں نے اپنی اولاد کو یہ حکم دیا تھا کہ جب میں مر جاؤں تو تم لوگ مجھے آگ میں جلا دینا اور پھر مجھے پیس دینا، یہاں تک کہ جب میں سرمہ بن جاؤں تو مجھے دریا میں بہا دینا اور اسے ہوا میں اڑا دینا، تو اللہ تعالیٰ نے دریافت کیا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ وہ عرض کرے گا: تیرے خوف کی وجہ سے، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم دیکھو جو سب سے بڑا ملک ہے تمہیں اس جتنا اور اس جتنا مزید دس گنا علاقہ دیا جاتا ہے، بندہ عرض کرے گا: تو میرے ساتھ کیوں مذاق کر رہا ہے جبکہ تو بادشاہ ہے؟“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”اس بات پر میں چاشت کے وقت ہنس پڑا تھا۔“ اسحاق نامی راوی کہتے ہیں: یہ سب سے بہترین حدیث ہے، یہ روایت متعدد افراد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسی کی مانند نقل کی ہے جن میں سیدنا حذیفہ، سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم اور دیگر حضرات شامل ہیں۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6476]

6477

Sahih Ibn Hibban #6477

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُدْعَى نُوحٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَقُولُ : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَبِّ ، فَيَقُولُ : هَلْ بَلَّغْتَ ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ يَا رَبِّ ، فَيَقُولُ لأُمَّتِهِ : هَلْ بَلَّغَكُمْ ؟ فَيَقُولُونَ : مَا أَتَانَا مِنْ نَذِيرٍ ، فَيُقَالُ : مَنْ يَشْهَدُ لَكَ ؟ فَيَقُولُ : مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأُمَّتُهُ " ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَيَشْهَدُونَ أَنَّهُ قَدْ بَلَغَ ، وَيَكُونُ الرَّسُولُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ : وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا "، وَالْوَسَطُ : الْعَدْلُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن سیدنا نوح علیہ السلام کو بلایا جائے گا تو وہ عرض کریں گے: «لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَبِّ» ”اے میرے پروردگار! میں حاضر ہوں۔“ پروردگار دریافت کرے گا: ”کیا تم نے تبلیغ کر دی تھی؟“ وہ جواب دیں گے: ”جی ہاں اے میرے پروردگار۔“ تو پروردگار ان کی امت سے دریافت کرے گا: ”کیا اس نے تم لوگوں کو تبلیغ کر دی تھی؟“ تو لوگ کہیں گے کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، تو پروردگار (سیدنا نوح علیہ السلام سے) دریافت کرے گا: ”تمہارے حق میں گواہی کون دے گا؟“ سیدنا نوح علیہ السلام عرض کریں گے: ”سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت۔““ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو (میری امت کے افراد) یہ گواہی دیں گے کہ سیدنا نوح علیہ السلام نے تبلیغ کر دی تھی، اور رسول (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) ان لوگوں پر گواہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے: ﴿وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا﴾ [سورة البقرة: 143] ”اسی طرح ہم نے تمہیں عادل امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بن جاؤ اور رسول تم لوگوں پر گواہ ہو۔“ اور «الْوَسَطُ» سے مراد عادل ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6477]

6478

Sahih Ibn Hibban #6478

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْكِلابِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلا فَخْرَ ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَمُشَفَّعٍ ، بِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ ، تَحْتِي آدَمُ فَمَنْ دُونَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں قیامت کے دن تمام اولادِ آدم کا سردار ہوں گا اور یہ بات فخر سے نہیں کہہ رہا، اور سب سے پہلے میرے لیے زمین کو شق کیا جائے گا، اور سب سے پہلے میں شفاعت کروں گا اور میری شفاعت قبول کی جائے گی، اور میرے ہاتھ میں «لِوَاءُ الْحَمْدِ» ”لواء الحمد“ ہو گا، اور سیدنا آدم علیہ السلام اور ان کے علاوہ سب لوگ میرے نیچے (یعنی اس جھنڈے کے نیچے) ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6478]

6479

Sahih Ibn Hibban #6479

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يُبْعَثُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَأَكُونُ أَنَا وَأُمَّتِي عَلَى تَلٍّ ، فَيَكْسُونِي رَبِّي حُلَّةً خَضْرَاءَ ، فَأَقُولُ : مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَقُولَ ، فَذَلِكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت کے دن لوگوں کو زندہ کیا جائے گا، سب سے پہلے میں اور میری امت ایک ٹیلے پر آئیں گے، میرا پروردگار مجھے سبز حلہ پہنائے گا تو جو اللہ کو منظور ہوگا میں اس وقت (اللہ تعالیٰ کی حمد کے طور پر کلمات) کہوں گا، یہی «الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ» ”مقامِ محمود“ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6479]

6480

Sahih Ibn Hibban #6480

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ حَبِيبٍ اللَّيْثِيُّ أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّلِكُلِّ نَبِيٍّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْبَرًا مِنْ نُورٍ ، وَإِِنِّي لَعَلَى أَطْوَلِهَا وَأَنْوِرِهَا ، فَيَجِيءُ مُنَادٍ ، فَيُنَادِي : أَيْنَ النَّبِيُّ الأُمِّيُّ ؟ قَالَ : فَيَقُولُ الأَنْبِيَاءُ : كُلُّنَا نَبِيٌّ أُمِّيٌّ ، فَإِِلَى أَيِّنَا أُرْسِلَ ؟ فَيَرْجِعُ الثَّانِيَةَ ، فَيَقُولُ : أَيْنَ النَّبِيُّ الأُمِّيُّ الْعَرَبِيُّ ؟ قَالَ : فَيَنْزِلُ مُحَمَّدٌ حَتَّى يَأْتِيَ بَابَ الْجَنَّةِ ، فَيَقْرَعَهُ ، فَيَقُولُ : مَنْ ؟ فَيَقُولُ : مُحَمَّدٌ أَوْ أَحْمَدُ ، فَيُقَالُ : أَوَقَدْ أُرْسِلَ إِِلَيْهِ ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ ، فَيُفْتَحُ لَهُ ، فَيَدْخُلُ ، فَيَتَجَلَّى لَهُ الرَّبُّ ، وَلا يَتَجَلَّى لِنَبِيٍّ قَبْلَهُ ، فَيَخِرُّ لِلَّهِ سَاجِدًا ، وَيَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَهُ ، وَلَنْ يَحْمَدَهُ أَحَدٌ بِهَا مِمَّنْ كَانَ بَعْدَهُ ، فَيُقَالُ لَهُ : مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَكَ ، تَكَلَّمْ تُسْمَعْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، أُمَّتِي أُمَّتِي ، فَيُقَالُ : أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شَعِيرَةٍ ، ثُمَّ يَرْجِعُ الثَّانِيَةَ ، فَيَخِرُّ لِلَّهِ سَاجِدًا ، وَيَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ أَحَدٌ كَانَ قَبْلَهُ ، وَلَنْ يَحْمَدَهُ بِهَا أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ بَعْدَهُ ، فَيُقَالُ لَهُ : مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَكَ ، تَكَلَّمْ تُسْمَعْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، فَيُقَالُ لَهُ : أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ بُرَّةٍ ، ثُمَّ يَرْجِعُ الثَّالِثَةَ ، فَيَخِرُّ لِلَّهِ سَاجِدًا ، وَيَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ كَانَ قَبْلَهُ ، وَلَنْ يَحْمَدَهُ أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ بَعْدَهُ ، فَيُقَالُ لَهُ : أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ خَرْدَلَةٍ ، ثُمَّ يَرْجِعُ ، فَيَخِرُّ سَاجِدًا ، وَيَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَهُ ، وَلَنْ يَحْمَدَهُ بِهَا أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ بَعْدَهُ ، فَيُقَالُ لَهُ : مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَكَ ، تَكَلَّمْ تُسْمَعْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، مَنْ قَالَ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ ، فَيُقَالُ لَهُ : مُحَمَّدُ ، لَسْتَ هُنَاكَ ، تِلْكَ لِي ، وَأَنَا الْيَوْمَ أَجْزِي بِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن ہر نبی کے لیے نور کا منبر ہو گا اور میں سب سے زیادہ اونچے اور سب سے زیادہ نورانی منبر پر ہوں گا، پھر ایک منادی آ کر یہ اعلان کرے گا: امی نبی کہاں ہیں؟ تو انبیاء جواب دیں گے کہ ہم میں سے ہر ایک امی نبی ہے، ہم میں کسے بلایا گیا ہے؟ وہ دوسری مرتبہ واپس آئے گا اور دریافت کرے گا: امی عربی نبی کہاں ہیں؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اتریں گے اور جنت کے دروازے پر آ کر اس کو کھٹکھٹائیں گے۔ (اندر سے) داروغہ پوچھے گا: کون ہے؟ تو آپ جواب دیں گے: محمد (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) أحمد۔ دریافت کیا جائے گا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ تو وہ جواب دیں گے: جی ہاں، تو ان کے لیے دروازہ کھول دیا جائے گا۔ وہ اس کے اندر داخل ہوں گے، تو ان کا پروردگار ان کے سامنے تجلی فرمائے گا۔ ان سے پہلے کسی اور نبی کے لیے پروردگار نے تجلی نہیں کی ہو گی، تو وہ اللہ کی بارگاہ میں سجدے میں چلے جائیں گے اور ایسے کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کریں گے کہ ان سے پہلے اور ان کے بعد کسی نے بھی ان کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کی ہو گی۔ ان سے کہا جائے گا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اپنا سر اٹھاؤ، تم بات کرو اسے سنا جائے گا، تم شفاعت کرو اسے قبول کیا جائے گا، مانگو وہ دیا جائے گا۔ وہ عرض کریں گے: اے پروردگار! میری امت، میری امت۔ تو ان سے کہا جائے گا: تم ہر اس شخص کو (جہنم سے) نکال لو جس کے دل میں جو کے وزن جتنا (ایمان ہو)۔ پھر وہ دوبارہ آ کر اللہ کی بارگاہ میں سجدے میں چلے جائیں گے اور ایسے کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کریں گے کہ ان سے پہلے کسی نے بھی ان کلمات کے ذریعے حمد بیان نہیں کی ہو گی اور ان کے بعد بھی کوئی ان کلمات کے ذریعے اس حمد کو بیان نہیں کرے گا، تو ان سے کہا جائے گا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اپنا سر اٹھاؤ، بات کرو اسے سنا جائے گا، شفاعت کرو اسے قبول کیا جائے گا، مانگو وہ دیا جائے گا۔ پھر ان سے کہا جائے گا: تم ایسے ہر اس شخص کو جہنم سے نکال لو جس کے دل میں گندم کے دانے کے وزن جتنا ایمان ہو، پھر وہ تیسری مرتبہ آئیں گے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدے میں چلے جائیں گے اور ایسے کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کریں گے کہ ان سے پہلے کسی نے ان کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کی ہو گی اور ان کے بعد بھی کوئی ان کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کرے گا، تو ان سے کہا جائے گا: جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لو جس کے دل میں رائی جتنا ایمان ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لا کر سجدے میں چلے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی ایسے کلمات کے ذریعے حمد بیان کریں گے کہ ان کلمات کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کی ہو گی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کوئی ان کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کرے گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا جائے گا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اپنا سر اٹھاؤ، بات کرو اسے سنا جائے گا، شفاعت کرو اسے قبول کیا جائے گا، مانگو وہ دیا جائے گا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرض کریں گے: اے میرے پروردگار! جس شخص نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں“ کہا ہو (اسے بھی جہنم سے نکلنے کا حکم دیا جائے)، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا جائے گا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اس کے ساتھ تمہارا واسطہ نہیں ہے، یہ میرے ساتھ مخصوص ہے اور آج میں خود اس کا بدلہ دوں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6480]

6481

Sahih Ibn Hibban #6481

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَنَا أَوَّلُ مَنْ يَقْرَعُ بَابَ الْجَنَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سب سے پہلے میں جنت کے دروازے کو کھٹکھٹاؤں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6481]

6482

Sahih Ibn Hibban #6482

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنِّي لأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِِذْ بُعِثْتُ ، إِِنِّي لأَعْرِفُهُ الآنَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «إِنِّي لَأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ، إِنِّي لَأَعْرِفُهُ الْآنَ» ”میں مکہ میں موجود اس پتھر کو پہچانتا ہوں جو مجھے اس وقت سلام کیا کرتا تھا جب مجھے مبعوث کیا گیا تھا، میں آج بھی اس کو پہچانتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6482]

6483

Sahih Ibn Hibban #6483

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : رُبَّ أَشْعَثَ ذِي طِمْرَيْنِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بکھرے ہوئے بالوں اور پرانے کپڑوں والے کچھ لوگ ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کے نام کی قسم اٹھا لیں، تو اللہ تعالیٰ اسے پوری کروا دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6483]

6484

Sahih Ibn Hibban #6484

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : ذَبَحْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ " ، فَنَاوَلْتُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ " ، فَنَاوَلْتُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّمَا لِلشَّاةِ ذِرَاعَانِ ، قَالَ : " أَمَا إِِنَّكَ لَوِ ابْتَغَيْتَهُ لَوَجَدْتَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (بکری) ذبح کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دستی مجھے پکڑا دو۔“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دستی پکڑا دو۔“ میں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”مجھے دستی پکڑا دو۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بکری میں دو ہی دستیاں ہوتی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم حاصل کرنا چاہتے تو اسے بھی پا لیتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6484]

6485

Sahih Ibn Hibban #6485

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً ، فَأَرَادَ أَنْ يَرْكَبَهَا ، فَالْتَفَتَتْ إِِلَيْهِ ، فَقَالَتْ : إِِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهَذَا ، إِِنَّمَا خُلِقْنَا لِيُحْرَثَ عَلَيْنَا " ، فَقَالَ مَنْ حَوْلَهُ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آمَنْتُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ " ، وَمَا هُمَا ثَمَّ ، قَالَ : " وَبَيْنَمَا رَجُلٌ فِي غَنَمٍ لَهُ ، فَأَخَذَ الذِّئْبُ الشَّاةَ ، فَتَبِعَهُ الرَّاعِي ، فَلَفَظَهَا ، ثُمَّ قَالَ : كَيْفَ لَكَ بِيَوْمِ السِّبَاعِ حَيْثُ لا يَكُونُ لَهَا رَاعٍ غَيْرِي " ، فَقَالَ مَنْ حَوْلَهُ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آمَنْتُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ " ، وَمَا هُمَا ثَمَّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک مرتبہ ایک شخص گائے کو لے کر جا رہا تھا، اس نے اس پر سوار ہونے کا ارادہ کیا تو گائے نے اس کی طرف توجہ کر کے کہا: ہمیں اس کے لیے پیدا نہیں کیا گیا ہمیں اس لیے پیدا کیا گیا ہے تاکہ ہمارے ذریعہ کھیتی باڑی کی جائے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود افراد نے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں (کہ گائے کلام کر سکتی ہے) حالانکہ یہ دونوں صاحبان وہاں موجود نہیں تھے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ ایک مرتبہ ایک شخص اپنی بکریاں لے کر جا رہا تھا، بھیڑیے نے ایک بکری کو پکڑا، چرواہا بھیڑیے کے پیچھے گیا اور اس نے اس بکری کو اس سے چھڑوا لیا، تو بھیڑیے نے کہا: اس دن تم کیا کرو گے جو درندوں کی حکومت کا دن ہو گا؟ اس دن ان بکریوں کا نگران میرے علاوہ اور کوئی نہیں ہو گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود افراد نے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں (کہ بھیڑیا کلام کر سکتا ہے) حالانکہ یہ دونوں صاحبان وہاں موجود نہیں تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6485]