Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 57 · Chapter 1

Book of Dreams

Hadith 6406–6445

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6406

Sahih Ibn Hibban #6406

قَالَ : فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلِي وَمَثَلُ الأَنْبِيَاءِ كَمَثَلِ قَصْرٍ أُحْسِنَ بُنْيَانُهُ ، وَتُرِكَ مِنْهُ مَوْضِعُ لَبِنَةٍ فَطَافَ بِهِ نُظَّارٌ ، فَتَعَجَّبُوا مِنْ حُسْنِ بُنْيَانِهِ إِِلا مَوْضِعَ تِلْكَ اللَّبِنَةِ ، لا يَعِيبُونَ غَيْرَهَا ، فَكُنْتُ أَنَا مَوْضِعَ تِلْكَ اللَّبِنَةِ ، خُتِمَ بِيَ الرُّسُلُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ ابن مریم کے قریب ہوں۔ تمام انبیاء علاتی بھائی ہیں، لیکن میرے اور ان کے درمیان کوئی اور نبی نہیں ہے۔“ راوی کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے تھے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میری اور دیگر انبیاء کی مثال ایک ایسے محل کی مانند ہے جس کی تعمیر عمدہ کی گئی ہو لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی ہو، دیکھنے والے لوگ اس کا چکر لگائیں اور اس کی عمدہ تعمیر پر حیران ہوں، لیکن اس ایک اینٹ کی جگہ خالی رہنے پر (حیران ہوتے ہوں) وہ اس کے علاوہ اس عمارت میں کوئی اور عیب نہ نکال سکیں، تو میں اس ایک اینٹ کی جگہ ہوں، میرے ذریعے رسولوں (کی بعثت) کے سلسلے کو ختم کر دیا گیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6406]

6407

Sahih Ibn Hibban #6407

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّمَامَثَلِي وَمَثَلُ الأَنْبِيَاءِ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بُنْيَانًَا أَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ وَأَكْمَلَهُ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يُطِيفُونَ بِهِ ، فَيَقُولُونَ : مَا رَأَيْنَا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا إِِلا مَوْضِعَ ذِي اللَّبِنَةِ ، قَالَ : فَكُنْتُ أَنَا تِلْكَ اللَّبِنَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری اور مجھ سے پہلے کے دیگر انبیاء کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے جو کوئی عمارت تعمیر کرتے ہوئے اسے خوبصورت، بہترین اور مکمل تعمیر کرتا ہے، لوگ اس کا چکر لگاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں: ہم نے اس سے زیادہ خوبصورت عمارت اور کوئی نہیں دیکھی، لیکن یہ ایک اینٹ کی جگہ رہ گئی ہے،“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں وہ اینٹ ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6407]

6408

Sahih Ibn Hibban #6408

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَثَلِي وَمَثَلُ النَّاسِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا ، فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ، أَقْبَلَ خَشَاشُ الأَرْضِ وَفَرَاشُهَا ، وَهَذِهِ الدَّوَابُّ الَّتِي تَقْتَحِمُ النَّارَ ، فَتُقْتَحَمُ فِيهَا ، وَهُوَ يَذُبُّهَا عنها ، فَأَنَا الْيَوْمَ آخِذُ بِحُجَزِ النَّاسِ : هَلُمُّوا إِِلَى الْجَنَّةِ ، هَلُمُّوا عَنِ النَّارِ ، فَهُمْ يَقْتَحِمُونَ فِيهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میری اور لوگوں کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے جس نے آگ جلائی، جب اس کے اردگرد کی جگہ روشن ہو گئی تو اس میں کیڑے مکوڑے اور پتنگے گرنا شروع ہو گئے، وہ شخص انہیں اس میں داخل ہونے سے روکتا ہے، تو میں لوگوں کے پہلو پکڑ کر (یہ کہتا ہوں) جنت کی طرف آ جاؤ اور جہنم سے بچو، لیکن وہ اس میں گرنے کی کوشش کرتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6408]

6409

Sahih Ibn Hibban #6409

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، فَسَأَلَهُ عُمَرُ عَنْ شَيْءٍ ، فَلَمْ يُجِبْهُ بِشَيْءٍ ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ ، فَقَالَ عُمَرُ : ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ عُمَرُ ، نَزَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، كُلُّ ذَلِكَ لا يُجِيبُكَ ، قَالَ عُمَرُ : فَحَرَّكْتُ بَعِيرِي حَتَّى قَدَّمْتُهُ أَمَامَ النَّاسِ ، وَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ نَزَلَ فِي قُرْآنٍ ، فَمَا نَشِبْتُ أَنْ سَمِعْتُ صَارِخًا يَصْرُخُ بِي ، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : قَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ سُورَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ " ، ثُمَّ قَرَأَ : إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا سورة الفتح آية 1 لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر آپ سے دریافت کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کوئی جواب نہیں دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر دریافت کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر انہیں کوئی جواب نہیں دیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سوچا: اے عمر! تمہاری ماں تمہیں روئے، تم نے تین مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، ہر مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنے اونٹ کو حرکت دی اور لوگوں کے آگے آ کر چلنے لگا۔ مجھے اس بات کا اندیشہ تھا کہ کہیں میرے بارے میں قرآن کا کوئی حکم نازل نہ ہو جائے۔ ابھی میں اسی حالت میں تھا کہ میں نے کسی کو سنا جو بلند آواز میں مجھے بلا رہا تھا۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے آپ کو سلام کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گزشتہ رات مجھ پر ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے جو میرے نزدیک ہر اس چیز سے زیادہ پسندیدہ ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے (یعنی پوری دنیا سے زیادہ محبوب ہے)۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا * لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ﴾ [سورة الفتح: 1-2] ”بے شک ہم نے تمہیں واضح فتح عطا کی تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6409]

6410

Sahih Ibn Hibban #6410

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ، مَرْجِعَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَةٌ أَحَبُّ إِِلَيَّ مِمَّا عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ " ، فَقَرَأَهَا عَلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : هَنِيًّا مَرِيًّا يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قَدْ بَيَّنَ اللَّهُ لَكَ مَاذَا يَفْعَلُ بِكَ ، فَمَا يَفْعَلُ بِنَا ؟ فَنَزَلَ عَلَيْهِ : لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ ، حَتَّى فَوْزًا عَظِيمًا "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ﴾ ”تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دے“ [سورة الفتح: 2] ، یہ آیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیبیہ سے واپسی کے موقع پر نازل ہوئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو میرے نزدیک روئے زمین پر موجود تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت لوگوں کے سامنے تلاوت کی، تو لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! آپ کو بہت بہت مبارک ہو، اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے یہ بات بیان کر دی ہے کہ وہ آپ کے ساتھ کیا کرے گا، لیکن وہ ہمارے ساتھ کیا کرے گا (یہ نہیں پتا چلا) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ﴾ ”تاکہ اللہ تعالیٰ مومن مردوں اور مومن خواتین کو ان جنتوں میں داخل کر دے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں“ [سورة الفتح: 5] ، یہ آیت یہاں تک ہے: ﴿فَوْزًا عَظِيمًا﴾ ”بڑی کامیابی“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6410]

6411

Sahih Ibn Hibban #6411

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ قَبْلَ مَوْتِهِ أَنْ يَقُولَ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ ، وَأَتُوبُ إِِلَيْهِ " ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّكَ لِتُكْثِرَ مِنْ دُعَاءٍ ، لَمْ تَكُنْ تَدْعُو بِهِ قَبْلَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " إِِنَّرَبِّي جَلَّ وَعَلا أَخْبَرَنِي أَنَّهُ سَيُرِينِي عِلْمًا فِي أُمَّتِي ، فَأَمَرَنِي إِِذَا رَأَيْتُ ذَلِكَ الْعِلْمَ أَنْ أُسَبِّحَهُ ، وَأَحْمَدَهُ ، وَأَسْتَغْفِرَهُ ، وَإِِنِّي قَدْ رَأَيْتُهُ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ، فَتْحُ مَكَّةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وصال سے کچھ عرصہ پہلے بکثرت «سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» ”پاک ہے اللہ اپنی حمد کے ساتھ، میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں“ پڑھا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ یہ دعا بکثرت پڑھتے ہیں، حالانکہ اس سے پہلے آپ یہ دعا نہیں پڑھا کرتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے پروردگار نے مجھے یہ بتایا ہے کہ وہ عنقریب مجھے میری امت کے بارے میں نشانی دکھا دے گا۔ اس نے مجھے یہ حکم دیا کہ جب میں یہ نشانی دیکھ لوں تو اس کی تسبیح بیان کروں، اس کی حمد بیان کروں اور اس سے مغفرت طلب کروں، تو میں نے وہ چیز دیکھ لی ہے۔ (وہ یہ آیت ہے) ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾ [سورة النصر: 1] ”جب اللہ کی مدد اور فتح آ گئی“ اس سے مراد فتح مکہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6411]

6412

Sahih Ibn Hibban #6412

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأشجُّ ، وَعُثْمَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ :لَمَّا نَزَلَتْ : إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ إِِلَى آخِرِهَا ، مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلاةً إِِلا قَالَ : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب یہ آیت ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾ [سورة النصر: 1] ”جب اللہ کی مدد اور فتح آ گئی۔“ نازل ہوئی، یہ سورت کے آخر تک ہے، تو اس کے بعد میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ جب بھی نماز ادا کرتے تھے تو یہ ضرور پڑھتے تھے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي» ”تو پاک ہے اللہ، حمد تیرے لیے مخصوص ہے، اے اللہ! تو میری مغفرت کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6412]

6413

Sahih Ibn Hibban #6413

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَاصَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصِّيَامِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّاسَ ، فَوَاصَلُوا ، فَنَهَاهُمْ ، وَقَالَ : إِِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ ، إِِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صومِ وصال رکھنا شروع کیے، جب اس بات کی اطلاع لوگوں کو ملی تو انہوں نے بھی صومِ وصال رکھنا شروع کر دیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ایسا کرنے سے منع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہاری مانند نہیں ہوں، میں ایسی حالت میں رات بسر کرتا ہوں کہ میرا پروردگار مجھے کھلا دیتا ہے اور مجھے پلا دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6413]

6414

Sahih Ibn Hibban #6414

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاصَلَ فِي رَمَضَانَ ، فَوَاصَلَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : لَوْ مُدَّ لِيَ الشَّهْرُ لَوَاصَلْتُ وِصَالا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ ، إِِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں صوم وصال رکھنا شروع کیے۔ آپ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے بھی صوم وصال رکھنا شروع کر دیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر یہ مہینہ اور طویل ہوتا تو میں اتنا عرصہ صوم وصال رکھتا رہتا کہ شدت کرنے والے لوگ اپنی شدت کو ترک کر دیتے۔ میں ایسے وقت گزارتا ہوں کہ میرا پروردگار مجھے کھلا دیتا ہے اور مجھے پلا دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6414]

6415

Sahih Ibn Hibban #6415

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَ عِنْدَنَا شَيْئًا مِنْ شَعِيرٍ ، فَمَا زِلْنَا نَأْكُلُ مِنْهُ حَتَّى كَالَتْهُ الْجَارِيَةُ ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ فَنِيَ ، وَلَوْ لَمْ تَكِلْهُ ، لَرَجَوْتُ أَنْ يَبْقَى أَكْثَرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، تو آپ نے ہمارے ہاں تھوڑے سے جَو چھوڑے، ہم انہیں کھاتے رہے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ کنیز نے انہیں ماپ لیا، تو اس کے بعد وہ جلدی ختم ہو گئے۔ اگر وہ کنیز انہیں نہ ماپتی تو مجھے یہ امید ہے کہ وہ زیادہ عرصہ باقی رہتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6415]

6416

Sahih Ibn Hibban #6416

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ طَارِقٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِِلا وَلَهُ شَيْطَانٌ " ، قَالُوا : وَلَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلِي ، إِِلا أَنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَكَذَا قَالَهُ بِالنَّصْبِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا شریک بن طارق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک شخص کے ساتھ اس کا مخصوص شیطان ہوتا ہے“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کے ساتھ بھی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ساتھ بھی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے خلاف میری مدد کی اور وہ مسلمان ہو گیا“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) راوی نے یہ لفظ اسی طرح نصب کے ساتھ بیان کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6416]

6417

Sahih Ibn Hibban #6417

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِِلا وَقَدْ وُكِلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ " ، قَالُوا : وَإِِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَإِِيَّايَ ، إِِلا أَنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ ، فَلا يَأْمُرَنِي إِِلا بِخَيْرٍ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ شَيْطَانَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمَ حَتَّى لَمْ يَأْمُرْهُ إِِلا بِخَيْرٍ ، لا أَنَّهُ كَانَ يَسْلَمُ مِنْهُ وَإِِنْ كَانَ كَافِرًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص کے ساتھ اس کا ہم نشین جن مقرر کر دیا گیا ہے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کے ساتھ بھی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں میرے ساتھ بھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے خلاف میری مدد فرمائی اور وہ مسلمان ہو گیا، اب وہ مجھے صرف بھلائی کے لیے کہتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص شیطان مسلمان ہو گیا تھا، یہاں تک کہ وہ آپ کو صرف بھلائی کے لیے کہتا تھا۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس شیطان کی طرف سے محفوظ ہو گئے تھے خواہ وہ شیطان کافر ہی رہتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6417]

6418

Sahih Ibn Hibban #6418

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اعْتَرَضَ لِي شّيْطَانٌ فِي مُصَلايَ هَذَا ، فَأَخَذْتُهُ ، فَخَنَقَتْهُ حَتَّى إِِنِّي لأَجِدُ بُرْدَ لِسَانِهِ عَلَى ظَهْرِ كَفِّي ، فَلَوْلا دَعْوَةُ أَخِي سُلَيْمَانَ ، لأَصْبَحَ مَرْبُوطًا تَنْظُرُونَ إِِلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میری اس نماز کے دوران شیطان میرے سامنے آیا، میں نے اسے پکڑ کر اس کا گلا دبایا، یہاں تک کہ اس کی زبان کی ٹھنڈک مجھے اپنی ہتھیلی کی پشت پر محسوس ہوئی، اگر میرے بھائی سیدنا سلیمان علیہ السلام کی دعا کا خیال نہ ہوتا تو وہ شیطان صبح بندھا ہوا ہوتا اور تم لوگ اسے دیکھ لیتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6418]

6419

Sahih Ibn Hibban #6419

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّعِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ جَعَلَ يَأْتِي الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ صَلاتِي ، فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ ، فَأَرَدْتُ أَنْ آخُذَهُ فَأَرْبِطَهُ إِِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِيَ الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصْبِحُوا ، فَتَنْظُرُوا إِِلَيْهِ كُلُّكُمْ " ، قَالَ : " ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ : رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لا يَنْبَغِي لأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي " ، قَالَ : " فَرَدَّهُ اللَّهُ خَاشِعًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنات میں سے ایک عفریت گزشتہ رات میرے پاس آیا تاکہ میری نماز کو خراب کرے، اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قابو دے دیا۔ پہلے میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں اسے پکڑ کر مسجد کے ستون کے ساتھ باندھ دیتا ہوں، یہاں تک کہ تم سب لوگ اسے دیکھ لو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر مجھے اپنے بھائی سیدنا سلیمان علیہ السلام کا یہ قول یاد آیا: ﴿رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَّا يَنبَغِي لِأَحَدٍ مِّن بَعْدِي﴾ [سورة ص: 35] ”اے میرے پروردگار! تو میری مغفرت کر دے اور مجھے ایسا ملک عطا کر جو میرے بعد کسی اور کو نہ مل سکے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو اللہ تعالیٰ نے اس شیطان کو سرنگوں کر کے واپس کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6419]

6420

Sahih Ibn Hibban #6420

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّيْلَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِِنَّسُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ سَأَلَ اللَّهَ ثَلاثًا ، أَعْطَاهُ اثْنَتَيْنِ ، وَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ أَعْطَاهُ الثَّالِثَةَ : سَأَلَهُ مُلْكًا لا يَنْبَغِي لأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ فَأَعْطَاهُ إِِيَّاهُ ، وَسَأَلَهُ حُكْمًا يُواطِئُ حُكْمَهُ فَأَعْطَاهُ إِِيَّاهُ ، وَسَأَلَهُ مَنْ أَتَى هَذَا الْبَيْتَ ، يُرِيدُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ ، لا يُرِيدُ إِِلا الصَّلاةَ فِيهِ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ أَعْطَاهُ الثَّالِثَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سیدنا سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے تین چیزیں مانگیں۔ اللہ تعالیٰ نے دو چیزیں انہیں عطا کر دیں اور مجھے یہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تیسری چیز بھی انہیں عطا کر دی ہو گی۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ایسی بادشاہی مانگی جو ان کے بعد کسی اور کو نہ مل سکے تو اللہ تعالیٰ نے وہ انہیں عطا کر دی اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ایسا فیصلہ کرنے کی صلاحیت مانگی جو اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مطابق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ چیز بھی انہیں عطا کر دی۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگی کہ جو شخص اس گھر (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد بیت المقدس تھا) تک آئے اس کا ارادہ صرف وہاں نماز ادا کرنے کا ہو تو وہ شخص اپنے گناہوں سے یوں نکل آئے جیسے اس دن تھا جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ”مجھے یہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ تیسری چیز بھی انہیں عطا کر دی ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6420]

6421

Sahih Ibn Hibban #6421

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : نُصِرْتُ بِالصَّبَا ، وَأُهْلِكَتْ عَادُ بِالدَّبُورِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” «الصَّبَا» (صباء) کے ذریعے میری مدد کی گئی اور قوم عاد کو «الدَّبُورِ» (دبور) (یعنی تیز ہوا) کے ذریعے ہلاکت کا شکار کیا گیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6421]

6422

Sahih Ibn Hibban #6422

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ الْحُرِّ بنِ الصَّيَّاحِ ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ : أَرْبَعٌ لَمْ يَكُنْ يَدَعُهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صِيَامَ يَوْمِ عَاشُورَاءَ ، وَالْعَشْرَ ، وَثَلاثَةَ أيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَالرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: چار چیزیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ترک نہیں کرتے تھے: عاشورہ کے دن روزہ رکھنا اور (دس دن کے روزے)، ہر مہینے کے تین روزے اور صبح کی نماز سے پہلے کی دو رکعات (سنتیں)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6422]

6423

Sahih Ibn Hibban #6423

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ الذِّكْرَ ، وَيُقِلُّ اللَّغْوَ ، وَيُطِيلُ الصَّلاةَ ، وَيُقَصِّرُ الْخُطْبَةَ ، وَلا يَأْنَفُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَ الأَرْمَلَةِ أَوِ الْمِسْكِينِ فَيَقْضِيَ حَاجَتَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے ذکر کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فضول گفتگو نہیں کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم طویل نماز ادا کرتے تھے اور مختصر خطبہ دیتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس چیز میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بیوہ عورت یا غریب کے ساتھ چل کر جائیں اور اس کی حاجت کو پورا کر دیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6423]

6424

Sahih Ibn Hibban #6424

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حريث ، حدثنا الفضل بن موسى ، عن الحسين بن واقد عَنْ يَحْيَى بْنِ عَقِيلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ الذِّكْرَ ، وَيُقِلُّ اللَّغْوَ ، وَيُطِيلُ الصَّلاةَ ، وَيُقَصِّرُ الْخُطْبَةَ ، وَلا يَأْنَفُ وَلا يَسْتَكْثِرُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَ الأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ فَيَقْضِيَ لَهُ حَاجَتَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے ذکر فرماتے تھے، لغو بات نہیں کرتے تھے، طویل نماز ادا فرماتے تھے، مختصر خطبہ دیتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس چیز میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے تھے یا اس چیز کو بڑا نہیں سمجھتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بیوہ عورت یا مسکین کے ساتھ چل کر جائیں اور اس کی ضرورت کو پورا کر دیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6424]

6425

Sahih Ibn Hibban #6425

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ جَمِيلٍ النَّجْرَانِيِّ ، عَنْ جُنْدُبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُتَوَفَّى بِخَمْسِ لَيَالٍ خَطَبَ النَّاسَ ، فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِِنَّهُقَدْ كَانَ فِيكُمْ إِِخْوَةٌ وَأَصْدِقَاءُ ، وَإِِنِّي أَبْرَأُ إِِلَى اللَّهِ أَنْ أَتَّخِذَ مِنْكُمْ خَلِيلا ، وَلَوْ أَنِّي اتَّخَذْتُ مِنْ أُمَّتِي خَلِيلا لاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلا ، إِِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَنِي خَلِيلا كَمَا اتَّخَذَ إِِبْرَاهِيمَ خَلِيلا ، وَإِِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ ، فَلا تَتَّخِذُوا قُبُورَهُمْ مَسَاجِدَ ، فَإِِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے پانچ دن پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! پہلے تمہارے درمیان بھائی چارہ اور دوستی تھی اور میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس چیز سے بری الذمہ ہوتا ہوں کہ میں نے تم میں سے کسی کو خلیل بنایا ہو، اگر میں نے اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیل بناتا، بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے (اپنا) خلیل بنایا ہے جس طرح اس نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو (اپنا) خلیل بنایا ہے، تم سے پہلے کے لوگ اپنے انبیاء اور نیک لوگوں کی قبروں کو مسجد بنا لیتے تھے تو تم لوگ ان کی قبروں کو مسجد نہ بنانا، میں تم لوگوں کو اس سے منع کرتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6425]

6426

Sahih Ibn Hibban #6426

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ رِبْعِيٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِِنَّصَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ تَعَالَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تمہارے آقا اللہ تعالیٰ کے خلیل ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6426]

6427

Sahih Ibn Hibban #6427

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ : لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : رَأَى جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شیبانی بیان کرتے ہیں: میں نے زر بن حبیش سے اس آیت ﴿لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى﴾ [سورة النجم: 18] ”تحقیق اس نے اپنے پروردگار کی بڑی نشانیوں میں سے کچھ دیکھیں“ کے بارے میں دریافت کیا، راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل شکل و صورت میں دیکھا تھا، ان کے 600 پر تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6427]

6428

Sahih Ibn Hibban #6428

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَأَيْتُ جِبْرِيلَ عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَعَلَيْهِ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ ، يُنْثَرُ مِنْ رِيشِهِ تَهَاوِيلَ الدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا، ان کے 600 پر تھے، انہوں نے اپنے ایک پر کو پھیلایا ہوا تھا جس میں سے موتی اور یاقوت کے مختلف رنگ نکل رہے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6428]

6429

Sahih Ibn Hibban #6429

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِيَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ حَتَّى أَحْفَوْهُ بِالْمَسْأَلَةِ ، فَقَالَ : سَلُونِي ، فَوَاللَّهِ لا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِِلا بَيَّنْتُهُ لَكُمْ " ، قَالَ : فَأَرَمَّ الْقَوْمُ ، وَخَشُوا أَنْ يَكُونَ بَيْنَ يَدَيْ أَمْرٍ عَظِيمٍ ، قَالَ أَنَسٌ : فَجَعَلْنَا نَلْتَفِتُ يَمِينًَا وَشِمَالا ، فَلا أَرَى كُلَّ رَجُلٍ إِِلا قَدْ دَسَّ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي ، وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " سَلُونِي ، فَوَاللَّهِ لا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِِلا بَيَّنْتُهُ لَكُمْ " ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَنْ أَبِي ؟ ، قَالَ : " أَبُوكَ حُذَافَةُ " ، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالإِِسْلامِ دَيْنًَا ، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولا ، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْفِتَنِ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا رَأَيْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَالشَّرِّ كَالْيَوْمِ قَطُّ ، إِِنَّهَا صُوِّرَتْ لِيَ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ ، فَأَبْصَرْتُهُمَا دُونَ ذَلِكَ الْحَائِطِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کیے گئے یہاں تک کہ سوالات کر کے آپ کو پریشان کیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ مجھ سے سوال کرو، اللہ کی قسم! تم مجھ سے جس بھی چیز کے بارے میں سوال کرو گے میں اسے تمہارے سامنے بیان کر دوں گا۔“ راوی کہتے ہیں: تو لوگ رک گئے۔ انہیں یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں کوئی بڑا واقعہ رونما نہ ہو جائے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے دائیں بائیں دیکھنا شروع کیا، ہمیں جو بھی شخص نظر آیا اس نے اپنا سر اپنے کپڑے میں ڈالا ہوا تھا اور وہ رو رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے: ”تم لوگ مجھ سے سوال کرو، اللہ کی قسم! تم مجھ سے جس بھی چیز کے بارے میں سوال کرو گے میں تمہارے سامنے اسے بیان کر دوں گا۔“ مسجد کے کونے میں ایک شخص کھڑا ہوا اس نے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی! میرا باپ کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا باپ حذافہ ہے۔“ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! «رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُولًا» ”ہم اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے سے راضی ہیں“ (یعنی اس پر ایمان رکھتے ہیں) اور ہم فتنوں کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے آج کے دن کی طرح کبھی بھی بھلائی اور برائی ایک ساتھ نہیں دیکھی، ابھی میرے سامنے جنت اور جہنم کو پیش کیا گیا، میں نے اس دیوار کے پرے ان دونوں کو دیکھ لیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6429]

6430

Sahih Ibn Hibban #6430

قَالَ : فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : عُرِضَتْ عَلَيَّ الأُمَمُ ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ وَمَعَهُ رَهْطٌ ، وَالنَّبِيَّ وَمَعَهُ رَجُلٌ ، وَالنَّبِيَّ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ ، إِِذْ رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ ، فَقُلْتُ : هَذِهِ أُمَّتِي ؟ ، فَقِيلَ : هَذَا مُوسَى وَقَوْمُهُ ، وَلَكِنِ انْظُرْ إِِلَى الأُفُقِ ، فَنَظَرْتُ ، فَإِِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ ، ثُمَّ قِيلَ لِي : انْظُرْ إِِلَى هَذَا الْجَانِبِ الآخَرِ ، فَإِِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ ، فَقِيلَ لِي : أُمَّتُكَ وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلا عَذَابٍ " ، ثُمَّ نَهَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَخَلَ ، فَخَاضَ الْقَوْمُ فِي ذَلِكَ ، وَقَالُوا : مَنْ هَؤُلاءِ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَعَلَّهُمُ الَّذِينَ صَحِبُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَعَلَّهُمُ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الإِِسْلامِ وَلَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ قَطُّ ، وَذَكَرُوا أَشْيَاءَ ، فَخَرَجَ إِِلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا الَّذِي كُنْتُمْ تَخُوضُونَ فِيهِ ؟ " ، فَأَخْبَرُوهُ بِمَقَالَتِهِمْ ، فَقَالَ : " هُمُ الَّذِينَ لا يَكْتَوُونَ ، وَلا يَسْتَرْقُونَ ، وَلا يَتَطَيَّرُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ " ، فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الأَسَدِيُّ ، فَقَالَ : أَنَا مِنْهُمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَنْتَ مِنْهُمْ " ، ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ : أَنَا مِنْهُمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حصین بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: میں سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے پاس موجود تھا۔ انہوں نے ہم سے دریافت کیا: تم میں سے کس نے وہ ستارہ دیکھا ہے جو گزشتہ رات ٹوٹا تھا؟ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے جواب دیا: میں نے۔ میں اس وقت نماز کی حالت میں نہیں تھا بلکہ مجھے کسی زہریلے جانور نے کاٹ لیا تھا۔ انہوں نے دریافت کیا: پھر تم نے کیا کیا؟ میں نے جواب دیا: میں نے دم کیا۔ انہوں نے دریافت کیا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ میں نے جواب دیا: اس حدیث کی وجہ سے جو امام شعبی رحمہ اللہ نے ہمیں بیان کی ہے۔ انہوں نے دریافت کیا: شعبی نے تمہیں کیا حدیث بیان کی ہے؟ میں نے کہا: انہوں نے سیدنا بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی، انہوں نے یہ فرمایا: «لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ» ”دم صرف نظر لگنے یا بخار کی صورت میں ہوتا ہے۔“ تو سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بتایا ہے: ”میرے سامنے مختلف امتوں کو پیش کیا گیا، میں نے کسی نبی کو دیکھا کہ اس کے ساتھ کچھ افراد تھے۔ کسی نبی کو دیکھا اس کے ساتھ ایک فرد تھا۔ کسی نبی کو دیکھا اس کے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا۔ اسی دوران بہت سارے لوگ میرے سامنے آئے تو میں نے سوچا شاید یہ میری امت ہو گی، لیکن بتایا گیا کہ یہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کے لوگ ہیں۔ اب آپ افق کی طرف دیکھئے، جب میں نے اس طرف دیکھا تو وہاں ایک بہت بڑی تعداد تھی، پھر مجھ سے کہا گیا کہ آپ دوسری طرف دیکھئے، تو وہاں بھی بہت بڑی تعداد تھی، تو مجھے بتایا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے اور ان کے ہمراہ ستر ہزار ایسے لوگ ہیں جو کسی حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور گھر کے اندر تشریف لے گئے۔ لوگ اس بارے میں غور و فکر کرتے رہے کہ یہ کون لوگ ہوں گے جو بغیر کسی حساب کے جنت میں داخل ہوں گے؟ تو ان میں سے بعض حضرات نے یہ کہا کہ شاید یہ وہ لوگ ہیں، جن کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی۔ بعض نے کہا: شاید اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسلمان گھرانوں میں پیدا ہوئے، انہوں نے کبھی کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرایا۔ اس طرح لوگوں نے مختلف آراء کا ذکر کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم لوگ کس بارے میں غور و فکر کر رہے ہو؟“ لوگوں نے اپنی گفتگو کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہوں گے جو (علاج کے طور پر) داغ نہیں لگاتے ہوں گے، (غیر شرعی الفاظ کے ذریعے) دم نہیں کرتے ہوں گے، اور فال نہیں نکالتے ہوں گے اور اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہوں گے۔“ سیدنا عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! (آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیجئے) کہ میں ان لوگوں میں شامل ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان میں شامل ہو“، پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے: (یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیجئے) کہ میں ان میں شامل ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ تم سے سبقت لے گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6430]

6431

Sahih Ibn Hibban #6431

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السِّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَالْعَلاءِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : تَحَدَّثْنَا عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى أَكْرَيْنَا الْحَدِيثَ ، ثُمَّ تَرَاجَعْنَا إِِلَى الْبَيْتِ ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا غَدَوْنَا إِِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ : عُرِضَتْ عَلَيَّ الأَنْبِيَاءُ اللَّيْلَةَ بِأَتْبَاعِهَا مِنْ أُمَّتِهَا ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ يَجِيءُ وَمَعَهُ الثَّلاثَةُ مِنْ قَوْمِهِ ، وَالنَّبِيُّ يَجِيءُ وَمَعَهُ الْعِصَابَةُ مِنْ قَوْمِهِ ، وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ النَّفْرُ مِنْ قَوْمِهِ ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ مِنْ قَوْمِهِ أَحَدٌ ، حَتَّى أَتَى عَلَيَّ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ فِي كَبْكَبَةٍ مِنْ بَنِي إِِسْرَائِيلَ ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ ، أَعْجَبُونِي ، فَقُلْتُ : يَا رَبِّ ، مَنْ هَؤُلاءِ ؟ قَالَ : هَذَا أَخُوكَ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ ، قَالَ : وَإِِذَا ظِرَابٌ مِنْ ظِرَابِ مَكَّةَ قَدْ سَدَّ وُجُوهَ الرِّجَالِ ، قُلْتُ : رَبِّ ، مَنْ هَؤُلاءِ ؟ ، قَالَ : أُمَّتُكَ ، قَالَ : فَقِيلَ لِي : رَضِيتَ ؟ ، قَالَ : قُلْتُ : رَبِّ رَضِيتُ ، رَبِّ رَضِيتُ ، قَالَ : ثُمَّ قِيلَ لِي : إِِنَّ مَعَ هَؤُلاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ لا حِسَابَ عَلَيْهِمْ " ، قَالَ : فَأَنْشَأَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ أَخُو بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، ادْعُ رَبَّكَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ ، اجْعَلْهُ مِنْهُمْ " ، قَالَ : ثُمَّ أَنْشَأَ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، ادْعُ رَبَّكَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ : " سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ " ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِدَاكُمْ أَبِي وَأُمِّي ، إِِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ السَّبْعِينَ فَكُونُوا ، فَإِِنْ عَجَزْتُمْ وَقَصَّرْتُمْ ، فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الظِّرَابِ ، فَإِِنْ عَجَزْتُمْ وَقَصَّرْتُمْ ، فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الأُفُقِ ، فَإِِنِّي رَأَيْتُ ثَمَّ أُنَاسًا يَتَهَرَّشُونَ كَثِيرًا " ، قَالَ : فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنِّي لأَرْجُو أَنْ يَكُونَ مَنْ تَبِعَنِي مِنْ أُمَّتِي رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ " ، قَالَ : فَكَبَّرْنَا ، ثُمَّ قَالَ : " إِِنِّي لأَرْجُو أَنْ يَكُونُوا الثُّلُثَ " ، قَالَ : فَكَبَّرْنَا ، ثُمَّ قَالَ : " إِِنِّي لأَرْجُو أَنْ يَكُونَ الشَّطْرَ " ، قَالَ : فَكَبَّرْنَا ، فَتَلا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ثُلَّةٌ مِنَ الأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِنَ الآخِرِينَ ، قَالَ : فَتَرَاجَعَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى هَؤُلاءِ السَّبْعِينَ ، فَقَالُوا : نَرَاهُمْ أُنَاسًا وُلِدُوا فِي الإِِسْلامِ ، ثُمَّ لَمْ يَزَالُوا يَعْمَلُونَ بِهِ حَتَّى مَاتُوا عَلَيْهِ ، قَالَ : فَنَمَى حَدِيثُهُمْ إِِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ كَذَلِكَ ، وَلَكِنَّهُمُ الَّذِينَ لا يَسْتَرْقُونَ ، وَلا يَكْتَوُونَ ، وَلا يَتَطَيَّرُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ "، قَالَ الشَّيْخُ : أَكْرَيْنَا : أَخَّرَنَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: ایک رات ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے بات چیت کر رہے تھے، یہاں تک کہ ہماری بات چیت طویل ہو گئی، پھر ہم اپنے گھر واپس آ گئے۔ اگلے دن صبح جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے سامنے گزشتہ رات انبیاء اور ان کی امت سے تعلق رکھنے والے پیروکار لوگوں کو پیش کیا گیا، تو کوئی ایک نبی آیا اس کے ساتھ اس کی قوم کے تین افراد تھے۔ ایک نبی آئے ان کے ساتھ ان کی قوم کا ایک گروہ تھا۔ ایک نبی آئے ان کے ساتھ ان کی قوم کے کچھ لوگ تھے۔ ایک نبی آئے ان کے ساتھ ان کی قوم کا کوئی بھی فرد نہیں تھا، یہاں تک کہ سیدنا موسیٰ بن عمران علیہ السلام بنی اسرائیل کے ہجوم میں میرے سامنے آئے، جب میں نے ان لوگوں کو دیکھا تو (ان کی کثرت) مجھے اچھی لگی، میں نے دریافت کیا: اے میرے پروردگار! یہ کون لوگ ہیں؟ تو پروردگار نے فرمایا: یہ تمہارے بھائی موسیٰ بن عمران ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اسی دوران مکہ کا ایک چھوٹا پہاڑ لوگوں کے چہروں سے بھر گیا۔ میں نے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ اے میرے پروردگار! اس نے فرمایا: یہ تمہاری امت ہے۔ مجھ سے دریافت کیا گیا کہ کیا تم راضی ہو، تو میں نے جواب دیا: اے میرے پروردگار میں راضی ہوں، اے میرے پروردگار میں راضی ہوں، پھر مجھے بتایا: ان لوگوں کے ہمراہ ستر ہزار ایسے لوگ بھی جنت میں داخل ہوں گے جن سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا۔“ راوی کہتے ہیں تو اسی دوران بنو اسد بن خزیمہ سے تعلق رکھنے والے سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اپنے پروردگار سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ان میں شامل کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: ”اے اللہ! اسے ان میں شامل کر لے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا۔ اس نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ان میں شامل کر لے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ اس حوالے سے تم سے آگے نکل گیا ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں! اگر تم اس بات کی استطاعت رکھتے ہو کہ تم ان ستر ہزار لوگوں میں شامل ہو، تو تم ایسا کر لو اور اگر تم اس حوالے سے عاجز آ جاتے ہو اور کوتاہی کے مرتکب ہوتے ہو، تو کم از کم تم چھوٹے پہاڑ پر موجود افراد میں شامل ہو جانا (جو مجھے خواب میں دکھائے گئے تھے) کیونکہ میں نے وہاں ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے یہ امید ہے کہ میری امت سے تعلق رکھنے والے میرے پیروکار اہل جنت کا ایک چوتھائی حصہ ہوں گے۔“ راوی کہتے ہیں: ہم نے «اللهُ أَكْبَرُ» کہا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ امید ہے کہ وہ لوگ ایک تہائی حصہ ہوں گے۔“ راوی کہتے ہیں: ہم نے تکبیر کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے یہ امید ہے کہ وہ لوگ نصف ہوں گے“، تو ہم نے تکبیر کہی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ * وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ﴾ [سورة الواقعة: 39-40] ”پہلے والوں میں سے بھی بہت سے لوگ اور بعد والوں میں سے بھی بہت سے لوگ۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر مسلمانوں نے ان ستر ہزار لوگوں کے بارے میں گفتگو شروع کی۔ انہوں نے کہا: ہم یہ سمجھتے ہیں اس سے مراد وہ لوگ ہوں گے جو زمانہ اسلام میں پیدا ہوئے اور ساری زندگی اسلام کے احکام پر عمل کرتے رہے، یہاں تک کہ مسلمان ہونے کے عالم میں فوت ہوئے۔ راوی کہتے ہیں: ان لوگوں کی بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایسا نہیں ہے بلکہ یہ وہ لوگ ہیں (جو غیر شرعی الفاظ کے ذریعے) دم نہیں کرتے (علاج کے طور پر) داغ نہیں لگواتے، فال نہیں نکالتے اور اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لفظ اکرینا کا مطلب ہے ہم نے مؤخر کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6431]

6432

Sahih Ibn Hibban #6432

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ هُوَ ابْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَذَكَرَ ابْنُ سَلْمٍ آخَرَ مَعَهُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ ، وَكَانَ إِِذَا صَلَّى لَنَا خَفَّفَ ، ثُمَّ لا نَسْمَعُ مِنْهُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ يَقُولُ : رَبِّ وَأَنَا فِيهِمْ " ، ثُمَّ رَأَيْتُهُ أَهْوَى بِيَدِهِ لِيَتَنَاوَلَ شَيْئًا ، ثُمَّ رَكَعَ ، ثُمَّ أَسْرَعَ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ رَاعَكُمْ طُولُ صَلاتِي وَقِيَامِي " ، قُلْنَا : أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَسَمِعْنَاكَ تَقُولُ : " رَبِّ وَأَنَا فِيهِمْ " ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ،مَا مِنْ شَيْءٍ وُعِدْتُمُوهُ فِي الآخِرَةِ إِِلا قَدْ عُرِضَ عَلَيَّ فِي مَقَامِي هَذَا ، حَتَّى لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ ، فَأَقْبَلَ إِِلَيَّ مِنْهَا شَيْءٌ حَتَّى دَنَا بِمَكَانِي هَذَا ، فَخَشِيتُ أَنْ تَغْشَاكُمْ ، فَقُلْتُ : رَبِّ وَأَنَا فِيهِمْ ، فَصَرَفَهَا عَنْكُمْ ، فَأَدْبَرَتْ قِطَعًا كَأَنَّهَا الزَّرَابِيُّ ، فَنَظَرْتُ إِِلَيْهَا نَظْرَةً ، فَرَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ حُرْثَانَ أَخَا بَنِي غِفَارٍ مُتَّكِئًا فِي جَهَنَّمَ عَلَى قَوْسِهِ ، وَإِِذَا فِيهَا الْحِمْيَرِيَّةُ صَاحِبَةُ الْقِطَّةِ الَّتِي رَبَطَتْهَا ، فَلا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلا هِيَ أَرْسَلْتَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمیں نماز پڑھاتے تھے تو مختصر پڑھاتے تھے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف یہ کہتے ہوئے سنا: «أَيْ رَبِّ، وَأَنَا فِيهِمْ؟» ”اے میرے پروردگار! میں بھی ان میں ہوں؟“ پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی چیز پکڑنے کے لیے اپنا دستِ مبارک آگے بڑھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیزی سے نماز ادا کی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس بات کا اندازہ ہے کہ میری نماز اور قیام کی طوالت نے تمہیں گھبراہٹ کا شکار کیا ہے۔“ ہم نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ «أَيْ رَبِّ، وَأَنَا فِيهِمْ؟» ”اے میرے پروردگار! میں ان میں موجود ہوں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، آخرت کے حوالے سے تمہارے ساتھ جس بھی چیز کا وعدہ کیا گیا ہے وہ ابھی میرے اس جگہ قیام کے دوران میرے سامنے پیش کی گئی ہے، یہاں تک کہ جہنم میرے سامنے پیش کی گئی، اس کا کچھ حصہ میری طرف آیا، یہاں تک کہ میری اس جگہ کے قریب ہو گیا، تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہیں اپنی لپیٹ میں نہ لے، تو میں نے عرض کی: «أَيْ رَبِّ، وَأَنَا فِيهِمْ؟» ”اے میرے پروردگار! میں ان لوگوں میں موجود ہوں۔“ اللہ تعالیٰ نے اسے تم لوگوں سے پھیر دیا، پھر اس کے ٹکڑے مڑ گئے، جیسے وہ غالیچے ہوں، میں نے اس کی طرف دیکھا تو بنو غفار سے تعلق رکھنے والا عمرو بن حرثان جہنم میں اپنی کمان سے ٹیک لگائے ہوئے تھا۔ اور جہنم میں ایک حمیری عورت بھی تھی جو بلی کی مالکن تھی، اس نے بلی کو باندھ دیا تھا، اور وہ اسے کھانے کے لیے کچھ دیتی بھی نہیں تھی اور اسے چھوڑتی بھی نہیں تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6432]

6433

Sahih Ibn Hibban #6433

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كُنَّا إِِذَا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ أَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے تو کوئی شخص وہاں بیٹھتا تھا جہاں آخری فرد بیٹھا ہوتا تھا (یعنی کوئی لوگوں کو پھلانگ کر آگے نہیں جاتا تھا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6433]

6434

Sahih Ibn Hibban #6434

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ مُسَافِعٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ شَيْئًا ، أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ ، فَطَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُرْجُونٍ مَعَهُ ، فَجُرِحَ بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَالَ فَاسْتَقِدْ " ، فَقَالَ : قَدْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی چیز تقسیم کر رہے تھے، اس دوران ایک شخص آگے بڑھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں موجود چھڑی اسے ماری جو اس کے چہرے پر لگی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم آؤ اور بدلہ لے لو۔“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے معاف کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6434]

6435

Sahih Ibn Hibban #6435

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَذْرَمِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : مَا رَأَيْتُ رَجُلا قَطُّ أَخَذَ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَتْرُكُ يَدَهُ ، حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ الَّذِي يَتْرُكُ يَدَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے کبھی کسی شخص کو نہیں دیکھا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑا ہو، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا ہو، یہاں تک کہ وہ شخص ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک (پہلے چھوڑتا تھا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6435]

6436

Sahih Ibn Hibban #6436

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ ، إِِذَا اشْتَهَى أَكَلَ ، وَإِِلا تَرَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی کسی کھانے کی چیز میں عیب نہیں نکالا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خواہش ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو کھا لیتے تھے اور اگر نہیں ہوتی تھی تو نہیں کھاتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6436]

6437

Sahih Ibn Hibban #6437

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ ، إِِنِ اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ ، وَإِِنِ كَرِهَهُ تَرَكَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے کی چیز میں عیب نہیں نکالا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خواہش ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو کھا لیتے تھے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہیں آتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو چھوڑ دیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6437]

6438

Sahih Ibn Hibban #6438

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِِذَا عَرَّسَ بِاللَّيْلِ ، تَوَسَّدَ يَمِينَهُ ، وَإِِذَا عَرَّسَ بَعْدَ الصُّبْحِ ، نَصَبَ سَاعِدَهُ نَصْبًا ، وَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى كَفِّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب (سفر کے دوران) رات کے وقت پڑاؤ کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں ہاتھ کو تکیہ بنا لیتے تھے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے بعد پڑاؤ کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کلائی کو کھڑا کر لیتے تھے اور اپنا سر اپنی ہتھیلی پر رکھ لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6438]

6439

Sahih Ibn Hibban #6439

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِِذَا هَمَّهُ شَيْءٌ ، أَخَذَ بِلِحْيَتِهِ هَكَذَا ، وَقَبَضَ ابْنُ مُسْهِرٍ عَلَى لِحْيَتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی اہم معاملہ درپیش ہوتا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی داڑھی شریف کو اس طرح پکڑ لیتے تھے۔ ابن مسہر نامی راوی نے اپنی داڑھی کو مٹھی میں لے کر یہ روایت بیان کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6439]

6440

Sahih Ibn Hibban #6440

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَأَلَهَا رَجُلٌ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَخْصِفُ نَعْلَهُ ، وَيَخِيطُ ثَوْبَهُ ، وَيَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ كَمَا يَعْمَلُ أَحَدُكُمْ فِي بَيْتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک شخص نے ان سے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے کام کاج کیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جوتے خود گانٹھ لیا کرتے تھے، اپنے کپڑے خود سی لیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے وہ تمام کام کاج کرتے تھے جو کوئی بھی شخص اپنے گھر میں کرتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6440]

6441

Sahih Ibn Hibban #6441

حَدَّثَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ رَهْطٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : السَّامُ عَلَيْكُمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَيْكُمْ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَفَهِمْتُهَا ، فَقُلْتُ : عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْلا يَا عَائِشَةُ ، إِِنَّاللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الأَمْرِ كُلِّهِ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا ؟ قَالَ : " قَدْ قُلْتُ : عَلَيْكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ کچھ یہودی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے کہا: «السَّامُ عَلَيْكُمْ» (یعنی آپ کو موت آئے)، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «عَلَيْكُمْ» (یعنی تمہیں بھی آئے)“۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے ان لوگوں کی بات سمجھ لی، میں نے کہا: ”تمہیں موت آئے اور تم پر لعنت بھی ہو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! آرام سے، اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا نہیں انہوں نے کیا کہا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے بھی «عَلَيْكُمْ» (یعنی تمہیں بھی آئے) کہہ دیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6441]

6442

Sahih Ibn Hibban #6442

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا ، وَلا مُتَفَحِّشًا ، وَكَانَ يَقُولُ : " خِيَارُكُمْ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلاقًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدزبان اور بداخلاق نہیں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے: ”تم میں بہتر لوگ وہ ہیں جن کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6442]

6443

Sahih Ibn Hibban #6443

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : كَيْفَ كَانَ خُلُقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَهْلِهِ ؟ ، قَالَتْ : كَانَأَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا ، لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا ، وَلا مُتَفَحِّشًا ، وَلا سَخَّابًا فِي الأَسْوَاقِ ، وَلا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ ، وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبداللہ جدلی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ گھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کیسے تھے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے اچھے اخلاق کے مالک تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بدزبانی نہیں کرتے تھے، بداخلاقی نہیں کرتے تھے، بازار میں چیخ کر نہیں بولتے تھے اور برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے، بلکہ معاف کر دیتے تھے اور درگزر کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6443]

6444

Sahih Ibn Hibban #6444

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ شَيْئًا قَطُّ ، إِِلا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَمَا ضَرَبَ امْرَأَةً قَطُّ ، وَلا خَادِمًا لَهُ قَطُّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک سے کبھی کسی چیز کو نہیں مارا، البتہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی راہ میں جہاد کر رہے ہوتے تھے (تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمنوں پر حملہ کیا ہے) اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اہلیہ کو یا اپنے کسی خادم کو کبھی نہیں مارا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6444]

6445

Sahih Ibn Hibban #6445

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جندب بن سفیان بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں حوض (کوثر) پر تم لوگوں کا پیش رو ہوں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6445]