Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 56 · Chapter 3

Book of Inheritances

Hadith 6371–6405

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6371

Sahih Ibn Hibban #6371

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَشْبَعْ شَبْعَتَيْنِ فِي يَوْمٍ حَتَّى مَاتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وصال تک کبھی بھی ایک دن میں دو مرتبہ سیر ہو کر کھانا نہیں کھایا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6371]

6372

Sahih Ibn Hibban #6372

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ بِمَكَّةَ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَقَدْ كَانَ يَأْتِي عَلَى أَهْلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرٌ مَا يُخْبَزُ فِيهِ " ، قُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، مَا كَانَ يَأْكُلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فَقَالَتْ : " كَانَ لَنَا جِيرَانٌ مِنَ الأَنْصَارِ جَزَاهُمُ اللَّهُ خَيْرًا ، كَانَ لَهُمْ لَبَنٌ يُهْدُونَ مِنْهُ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کا بعض اوقات کوئی ایسا مہینہ بھی گزرتا کہ اس میں انہیں روٹی نہیں ملتی تھی۔ راوی نے عرض کی: اے ام المؤمنین! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کھایا کرتے تھے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہمارے کچھ انصاری پڑوسی تھے، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے، ان کے پاس دودھ ہوتا تھا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفے کے طور پر بھیج دیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6372]

6373

Sahih Ibn Hibban #6373

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًَا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ ، فَأَتَى الرَّجُلُ قَوْمَهُ ، فَقَالَ : أَيْ قَوْمِ ، أَسْلِمُوا ، فَوَاللَّهِ إِِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي عَطَاءَ رَجُلٍ مَا يَخَافُ الْفَاقَةَ ، وَإِِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُرِيدُ إِِلا دُنْيَا يُصِيبُهَا ، فَمَا يُمْسِي حَتَّى يَكُونَ دِينُهُ أَحَبَّ إِِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے اسے دو پہاڑوں کے درمیان موجود بکریاں عطا کر دیں، وہ شخص اپنی قوم کے پاس آیا اور بولا: ”اے میری قوم! اسلام قبول کر لو، اللہ کی قسم! سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم آدمی کو اتنا کچھ عطا کر دیتے ہیں کہ پھر اسے فاقہ کا خوف نہیں رہتا۔“ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) بعض اوقات کوئی شخص (اسلام قبول کرنے کے لیے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا، اس کا مقصد صرف دنیاوی فائدے کا حصول ہوتا تھا، لیکن پھر یوں ہوتا کہ اس کا دین اس کے نزدیک دنیا و مافیہا سے زیادہ محبوب ہو جاتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6373]

6374

Sahih Ibn Hibban #6374

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمَيْدًا ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًَا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ لَهُ بِشَاءٍ بَيْنَ جَبَلَيْنِ ، فَرَجَعَ إِِلَى قَوْمِهِ ، فَقَالَ : أَسْلِمُوا ، فَإِِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي عَطَاءَ رَجُلٍ لا يَخْشَى الْفَاقَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو پہاڑوں کے درمیان موجود تمام بکریاں دینے کا حکم دیا، وہ اپنی قوم کے پاس واپس جا کر بولا: تم لوگ اسلام قبول کر لو، کیونکہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم آدمی کو اتنا عطا کر دیتے ہیں کہ اسے فاقہ کا خوف نہیں رہتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6374]

6375

Sahih Ibn Hibban #6375

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي إِِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا الْمَسْجِدَ وَعَلَيْهِ رِدَاءٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظٌ ، فَقَالَ لَهُ أَعْرَابِيٌّ مِنْ خَلْفِهِ ،وَأَخَذَ بِجَانِبِ رِدَائِهِ ، فَاجْتَبَذَهُ حَتَّى أَثَّرَتِ الصَّنِفَةُ فِي صَفْحِ عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَعْطِنَا مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ ، فَالْتَفَتَ إِِلَيْهِ وَتَبَسَّمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : مُرُوا لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے، آپ نے موٹی نجرانی چادر اوڑھی ہوئی تھی۔ ایک دیہاتی آپ کے پیچھے سے آیا، اس نے آپ کی چادر کا کنارہ پکڑا اور اسے کھینچا، تو اس چادر کا نشان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن پر بن گیا، اس نے کہا: اے سیدنا محمد! آپ کے پاس اللہ تعالیٰ کا جو مال ہے اس میں سے ہمیں بھی عطا کریں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف رخ کیا، آپ مسکرائے اور فرمایا: ”اسے کچھ دے دو!“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6375]

6376

Sahih Ibn Hibban #6376

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِمَكَّةَ وَعَبَّادَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : مَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَأَبَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی کوئی چیز مانگی گئی، تو آپ نے کبھی انکار نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6376]

6377

Sahih Ibn Hibban #6377

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : مَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ قَطُّ فَقَالَ : لا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی کوئی چیز مانگی گئی، تو آپ نے کبھی ”نہ“ نہیں فرمائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6377]

6378

Sahih Ibn Hibban #6378

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يَدَّخِرُ شَيْئًا لِغَدٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کل کے لیے کوئی چیز ذخیرہ کر کے نہیں رکھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6378]

6379

Sahih Ibn Hibban #6379

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ رَبَاحٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَخْطُبُ النَّاسَ ، يَقُولُ : أَيُّهَا النَّاسُ ، كَانَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْهَدَ النَّاسِ فِي الدُّنْيَا ، وَأَصْبَحْتُمْ أَرْغَبَ النَّاسِ فِيهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے بیان کیا: اے لوگو! تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے سب سے زیادہ بے رغبت تھے اور اب تم دنیا کی طرف سب سے زیادہ راغب ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6379]

6380

Sahih Ibn Hibban #6380

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : بَعَثَتْ مَعِي أُمُّ سُلَيْمٍ بِشَيْءٍ مِنْ رُطَبٍ فِي مِكْتَلٍ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ أَجِدْهُ فِي بَيْتِهِ ، قَالُوا : ذَهَبَ قَرِيبًا ، فَإِِذَا هُوَ عِنْدَ خَيَّاطٍ مَوْلَى لَهُ صَنَعَ لَهُ طَعَامًا فِيهِ لَحْمٌ وَدُبَّاءٌ ، قَالَ : فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الدُّبَّاءَ ، فَجَعَلْتُ أَضَعُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، قَالَ : فَرَجَعَ إِِلَى بَيْتِهِ ، فَوَضَعْتُ الْمِكْتَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَمَا زَالَ يَأْكُلُ وَيَقْسِمُ حَتَّى لَمْ يَبْقَ فِي الْمِكْتَلِ شَيْءٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے میرے ذریعے ایک برتن میں کچھ تازہ کھجوریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھجوائیں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر میں نہیں پایا۔ لوگوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قریب ہی تشریف لے گئے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درزی کے ہاں تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آزاد کردہ غلام تھا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا تھا، جس میں کدو اور گوشت تھا، راوی کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو اچھے لگے ہیں، تو میں نے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کرنا شروع کر دیے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر واپس تشریف لائے تو میں نے وہ برتن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے رکھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کھاتے بھی رہے اور تقسیم بھی کرتے رہے۔ یہاں تک کہ اس برتن میں کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6380]

6381

Sahih Ibn Hibban #6381

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ ، وَلا يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تحفہ قبول کر لیتے تھے، البتہ صدقہ قبول نہیں کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6381]

6382

Sahih Ibn Hibban #6382

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِ ، سَأَلَ عَنْهُ ، فَإِِنْ قِيلَ : هَدِيَّةٌ ، أَكَلَ ، وَإِِنْ قِيلَ : صَدَقَةٌ ، قَالَ : كُلُوا ، وَلَمْ يَأْكُلْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کوئی کھانا آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں دریافت کر لیتے تھے، اگر یہ بتایا جاتا کہ یہ تحفہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم اسے کھا لیتے تھے اور اگر یہ بتایا جاتا کہ یہ صدقہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے: ”تم لوگ اسے کھا لو“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود اسے نہیں کھاتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6382]

6383

Sahih Ibn Hibban #6383

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لا أَقْبَلَ هَدِيَّةً إِِلا مِنْ قُرَشِيٍّ ، أَوْ أَنْصَارِيٍّ ، أَوْ ثَقَفِيٍّ ، أَوْ دَوْسِيٍّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے یہ طے کیا ہے کہ اب میں کوئی تحفہ قبول نہیں کروں گا، صرف کسی قریشی یا انصاری یا ثقفی یا دوسی شخص (کا تحفہ قبول کروں گا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6383]

6384

Sahih Ibn Hibban #6384

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ بِبَيْرُوتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا وَهَبَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَثَابَهُ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : رَضِيتَ ؟ " ، قَالَ : لا ، فَزَادَهُ ، وَقَالَ : " رَضِيتَ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لا أَتَّهِبُ إِِلا مِنْ قُرَشِيٍّ ، أَوْ أَنْصَارِيٍّ ، أَوْ ثَقَفِيٍّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے کے طور پر کوئی چیز دی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بدلے کے طور پر کوئی چیز اسے دے دی اور دریافت کیا: ”کیا تم راضی ہو؟“ اس نے جواب دیا: جی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مزید عطا کیا اور دریافت کیا: ”کیا تم راضی ہو؟“ اس نے جواب دیا: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے طے کیا ہے اب میں صرف قریشی یا انصاری یا ثقفی شخص سے تحفہ قبول کروں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6384]

6385

Sahih Ibn Hibban #6385

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِعْظَامًا لِلْوِتْرِ ، تَنَامُ عَنِ الْوِتْرِ ؟ قَالَ : يَا عَائِشَةُ !إِِنَّ عَيْنِي تَنَامُ وَلا يَنَامُ قَلْبِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ وتر ادا کیے بغیر سونے لگے ہیں؟ میں نے وتر کی اہمیت کا اظہار کرتے ہوئے یہ سوال کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عائشہ! میری آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6385]

6386

Sahih Ibn Hibban #6386

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِيَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : تَنَامُ عَيْنِي وَلا يَنَامُ قَلْبِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میری آنکھیں سو جاتی ہیں، لیکن میرا دل نہیں سوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6386]

6387

Sahih Ibn Hibban #6387

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجَ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ بْنِ الْمُبَارَكِ الأَنْصَارِيُّ بِهَرَاةَ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ ، وَلا بِالْقَصِيرِ ، وَلَيْسَ بِالأَبْيَضِ الأَمْهَقِ ، وَلَيْسَ بِالآدَمِ ، وَلا بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ ، وَلا السَّبْطِ ، بَعَثَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً ، فَأَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ ، وَتَوَفَّاهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا عَلَى رَأْسِ سِتِّينَ سَنَةً ، وَلَيْسَ فِي رَأْسَهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَاءَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہ بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ ہی بہت زیادہ چھوٹے قد کے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو زیادہ گورے تھے اور نہ ہی گندمی رنگت کے تھے، آپ کے بال نہ تو بالکل گھنگھریالے تھے اور نہ بالکل سیدھے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیس برس کی عمر میں مبعوث فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سال مکہ میں گزارے اور دس سال مدینہ منورہ میں گزارے، ساٹھ سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی، اس وقت آپ کے سر مبارک اور داڑھی مبارک میں بیس سفید بال بھی نہ تھے (یعنی ان سے کم تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6387]

6388

Sahih Ibn Hibban #6388

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلاثٍ وَسِتِّينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ کی عمر 63 برس تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6388]

6389

Sahih Ibn Hibban #6389

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ زُنَيْجٌ ، حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ زَائِدَةَ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلاثٍ وَسِتِّينَ، وَقُبِضَ أَبُو بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ ثَلاثٍ وَسِتِّينَ ، وَقُبِضَ عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلاثٍ وَسِتِّينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ کی عمر 63 سال تھی، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا تو ان کی عمر بھی 63 سال تھی اور جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا تو ان کی عمر بھی 63 سال تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6389]

6390

Sahih Ibn Hibban #6390

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ سَنَةً ، وَدَعَا النَّاسَ إِِلَى الإِِسْلامِ ، وَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فِي الْقِتَالِ ثَلاثَ عَشْرَةَ سَنَةً ، فَكَانَتِ الْهِجْرَةُ عَشْرَ سِنِينَ ، فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو آپ کی عمر 40 برس تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دی، لیکن تیرہ سال تک آپ کو جنگ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، پھر ہجرت کے بعد 10 سال ہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر 63 سال تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6390]

6391

Sahih Ibn Hibban #6391

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمَيْدًا يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَخَاتَمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ فَصُّهُ مِنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی بنی ہوئی تھی، اس کا نگینہ بھی اسی کا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6391]

6392

Sahih Ibn Hibban #6392

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِِلَى الأَعَاجِمِ ، فَقَالُوا لَهُ : أَنَّهُمْ لا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِِلا بِخَاتَمٍ فِيهِ نَقْشٌ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَاتَمٍ فِضَّةٍ ، فَنَقَشَ فِيهِ : مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عجمی (حکمرانوں) کی طرف خط لکھنے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے آپ کو بتایا کہ وہ لوگ صرف اس خط کو پڑھتے ہیں جس پر کوئی ایسی مہر لگی ہو جو نقش ہو، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت چاندی کی انگوٹھی بنائی گئی، اس میں «مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ» ”محمد اللہ کے رسول ہیں“ نقش کیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6392]

6393

Sahih Ibn Hibban #6393

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَرْعَرَةُ بْنُ الْبِرِنْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ نَقْشُ خَاتَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثَةَ أَسْطُرٍ : مُحَمَّدٌ سَطْرٌ ، وَرَسُولٌ سَطْرٌ ، وَاللَّهُ سَطْرٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کا نقش تین سطروں میں تھا۔ لفظ «مُحَمَّدٌ» ایک سطر میں، لفظ «رَسُولُ» ایک سطر میں اور لفظ «اللهِ» ایک سطر میں تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6393]

6394

Sahih Ibn Hibban #6394

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الأَيْلِيِّ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِسَ خَاتَمَ فِضَّةٍ فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ فِي يَمِينِهِ ، كَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ بَاطِنَ كَفِّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی بنی ہوئی انگوٹھی پہنی تھی، اس میں حبشی نگینہ لگا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے نگینے کا رُخ ہتھیلی کی طرف رکھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6394]

6395

Sahih Ibn Hibban #6395

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِسَ بُرْدَةً سَوْدَاءَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : مَا أَحْسَنَهَا عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَشُوبُ بَيَاضُكَ سَوَادَهَا ، وَيَشُوبُ سَوَادُهَا بَيَاضَكَ ، فَبَانَ مِنْهَا رِيحٌ ، فَأَلْقَاهَا ، وَكَانَ يُعْجِبُهُ الرِّيحُ الطَّيِّبَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کالی چادر پہنی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آپ پر کتنی خوب صورت لگ رہی ہے، آپ کی سفید (رنگت) اس کی سیاہی کے ساتھ نمایاں ہو رہی ہے اور اس کی سیاہی آپ کی سفید (رنگت کے ساتھ) نمایاں ہو رہی ہے، پھر آپ کو اس چادر میں سے بو محسوس ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پاکیزہ خوشبو پسند تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6395]

6396

Sahih Ibn Hibban #6396

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، وَأَبُو يَعْلَى ، قَالا : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : قُلْنَا لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَيُّ اللِّبَاسِ كَانَ أَحَبَّ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : الْحِبَرَةُ "، قَالَ أَبُو يَعْلَى : أَيُّ اللِّبَاسِ كَانَ أَعْجَبَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا لباس زیادہ پسند تھا؟ انہوں نے جواب دیا: «الْحِبَرَةُ» ”حبرہ (یعنی مخصوص قسم کی یمنی چادر)“۔ ابویعلیٰ نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”کون سا لباس زیادہ اچھا لگتا تھا؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6396]

6397

Sahih Ibn Hibban #6397

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْدُلُ عِمَامَتَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ "، وَأَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : وَرَأَيْتُ الْقَاسِمَ ، وَسَالِمًا يَفْعَلانِ ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عمامے کا شملہ دونوں کندھوں کے درمیان لٹکاتے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ عبیداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ میں نے قاسم اور سالم کو بھی ایسا ہی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6397]

6398

Sahih Ibn Hibban #6398

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الْفَقِيرُ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي : نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ ، وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلاةُ فَلْيُصَلِّ ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ ، وَلَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِي ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ ، وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً ، وَبُعِثْتُ إِِلَى النَّاسِ عَامَّةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں۔ ایک مہینے کے فاصلے سے (طاری ہونے والے) رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی۔ میرے لیے تمام روئے زمین کو جائے نماز اور طہارت کے حصول کا ذریعہ بنایا گیا۔ میری امت کے جس بھی فرد کو نماز کا وقت ہو جائے وہ (وہیں) نماز ادا کر لے۔ میرے لیے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال قرار نہیں دیا گیا تھا اور مجھے شفاعت عطا کی گئی اور ہر نبی کو اپنی مخصوص قوم کی طرف مبعوث کیا گیا اور مجھے تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6398]

6399

Sahih Ibn Hibban #6399

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهِبٍ ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِينَاءَ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أُعْطِيتُ أَرْبَعًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ كَانَ قَبْلَنَا ، وَسَأَلْتُ رَبِّي الْخَامِسَةَ فَأَعْطَانِيهَا : كَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِِلَى قَرْيَتِهِ وَلا يَعْدُوهَا وَبُعِثْتُ كَافَّةً إِِلَى النَّاسِ ، وَأُرْهِبَ مِنَّا عَدُوُّنَا مَسِيرَةَ شَهْرٍ ، وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ طَهُورًا وَمَسَاجِدَ ، وَأُحِلَّ لَنَا الْخُمُسُ وَلَمْ يَحِلَّ لأَحَدٍ كَانَ قَبْلَنَا ، وَسَأَلْتُ رَبِّي الْخَامِسَةَ ، فَسَأَلْتُهُ أَنْ لا يَلْقَاهُ عَبْدٌ مِنْ أُمَّتِي يُوَحِّدُهُ إِِلا أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ ، فَأَعْطَانِيهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مجھے چار ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں جو ہم سے پہلے کسی کو بھی نہیں عطا کی گئیں۔ میں نے اپنے پروردگار سے پانچویں چیز کی درخواست کی، تو اس نے مجھے وہ بھی عطا کر دی، پہلے کسی نبی کو اس کی مخصوص بستی کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا۔ وہ اس بستی سے آگے نہیں جاتا تھا، لیکن مجھے تمام بنی نوع انسان کی طرف مبعوث کیا گیا اور ہمارا دشمن ایک ماہ کی مسافت کے فاصلے سے بھی ہم سے مرعوب ہو جاتا ہے اور میرے لیے تمام روئے زمین کو طہارت کے حصول کا ذریعہ اور جائے نماز قرار دیا گیا اور ہمارے لیے خمس کو حلال قرار دیا گیا ہے، جو ہم سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا تھا اور میں نے اپنے پروردگار سے پانچویں چیز یہ مانگی، میں نے اس سے یہ درخواست کی کہ میری امت کا جو فرد اس کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو کہ وہ اس کی وحدانیت کا اعتراف کرتا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کر دے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ چیز بھی مجھے عطا کر دی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6399]

6400

Sahih Ibn Hibban #6400

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الشَّهِيدِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فُضِّلْتُ عَلَى النَّاسِ بِثَلاثٍ : جُعِلَتْ لَنَا الأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدًا ، وَجُعِلَ تُرَابُهَا لَنَا طَهُورًا إِِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَاءَ ، وَجُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلائِكَةِ ، وَأُوتِيتُ هَؤُلاءِ الآيَاتِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَ مِثْلَهُ أَحَدٌ قَبْلِي وَلا أَحَدٌ بَعْدِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے لوگوں پر تین حوالے سے فضیلت دی گئی ہے: ہماری صفوں کو فرشتوں کی صفوں کی مانند قرار دیا گیا، ہمارے لیے تمام روئے زمین کو جائے نماز قرار دیا گیا اور اس کی مٹی کو ہمارے لیے طہارت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا گیا جب ہمیں پانی نہیں ملتا، اور مجھے سورہ بقرہ کی آخری آیات عرش کے نیچے موجود خزانے سے عطا کی گئی ہیں، اس جیسی آیات مجھ سے پہلے اور میرے بعد کسی کو عطا نہیں کی جائیں گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6400]

6401

Sahih Ibn Hibban #6401

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : فُضِّلْتُ عَلَى الأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ : أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ ، وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا ، وَأُرْسِلْتُ إِِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً ، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مجھے دیگر انبیاء پر چھ حوالوں سے فضیلت عطا کی گئی: مجھے جامع کلمات عطا کیے گئے، رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی، میرے لیے مالِ غنیمت کو حلال قرار دیا گیا، میرے لیے زمین کو طہارت کے حصول کا ذریعہ اور جائے نماز بنایا گیا، مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا اور میرے ذریعے انبیاء کے سلسلے کو ختم کر دیا گیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6401]

6403

Sahih Ibn Hibban #6403

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : فُضِّلْتُ عَلَى الأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ : أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ ، وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا ، وَأُرْسِلْتُ إِِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً ، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مجھے دیگر انبیاء پر چھ حوالوں سے فضیلت عطا کی گئی ہے: مجھے جامع کلمات عطا کیے گئے ہیں، رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے، میرے لیے مالِ غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ہے، میرے لیے تمام روئے زمین کو طہارت کے حصول کا ذریعہ اور جائے نماز قرار دیا گیا ہے، مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا ہے اور میرے ذریعے انبیاء کے سلسلے کو ختم کیا گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6403]

6404

Sahih Ibn Hibban #6404

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ بِالْفُسْطَاطِ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى بْنِ هِلالٍ السُّلَمِيِّ ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ الْفَزَارِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِِنِّي عِنْدَ اللَّهِ مَكْتُوبٌ بِخَاتَمِ النَّبِيِّينَ ، وَإِِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِي طِينَتِهِ ، وَسَأُخْبِرُكُمْ بِأَوَّلِ ذَلِكَ : دَعْوَةُ أَبِي إِِبْرَاهِيمَ ، وَبِشَارَةُ عِيسَى ، وَرُؤْيَا أُمِّيَ الَّتِي رَأَتْ حِينَ وَضَعَتْنِي أَنَّهُ خَرَجَ مِنْهَا نُورٌ أَضَاءَتْ لَهَا مِنْهُ قُصُورُ الشَّامِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عرباض بن ساریہ فزاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس وقت بھی «خَاتَمَ النَّبِيِّينَ» ”خاتم النبیین“ لکھ دیا گیا تھا جب سیدنا آدم علیہ السلام کا خمیر تیار ہو رہا تھا۔ اور میں عنقریب تمہیں اس کے آغاز کے بارے میں بتاؤں گا (میں) اپنے جد امجد سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت اور اپنی والدہ کے دیکھے ہوئے اس خواب (کا نتیجہ) ہوں جو انہوں نے اس وقت دیکھا تھا جب انہوں نے مجھے جنم دیا تھا کہ ان کے جسم سے ایک نور نکلا جس کے ذریعے شام کے محلات روشن ہو گئے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6404]

6405

Sahih Ibn Hibban #6405

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيِّ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَثَلِي وَمَثَلُ الأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بُنْيَانًا ، فَأَحْسَنَهُ وَكَمَّلَهُ إِِلا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهُ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ ، وَيَعْجَبُونَ ، وَيَقُولُونَ : هَلا وَضَعْتَ هَذِهِ اللَّبِنَةَ ؟ ، قَالَ : فَأَنَا تِلْكَ اللَّبِنَةُ ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میری اور مجھ سے پہلے والے انبیاء کی مثال ایک ایسے شخص کی مانند ہے جو ایک عمارت تعمیر کرتا ہے اور بہت عمدہ تعمیر کرتا ہے، وہ اسے مکمل کر دیتا ہے لیکن ایک گوشے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دیتا ہے، لوگ اس عمارت کا چکر لگاتے ہیں، اس کو پسند کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں: یہ اینٹ کیوں نہیں رکھی گئی؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں وہ اینٹ ہوں، میں انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والا ہوں۔“ اللہ تعالیٰ ان پر درود نازل فرمائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6405]