Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 56 · Chapter 2

Book of Inheritances

Hadith 6331–6370

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6331

Sahih Ibn Hibban #6331

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِِبْرَاهِيمَ ، يَقُولُ : ذَهَبَ عَلْقَمَةُ إِِلَى الشَّامِ ، فَأَتَى الْمَسْجِدَ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي جَلِيسًا صَالِحًا ، فَقَعَدَ إِِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ ، فَقَالَ : " مِمَّنْ أَنْتَ ؟ " ، قَالَ : مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ ، قَالَ : " أَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي كَانَ لا يَعْلَمُهُ غَيْرُهُ حُذَيْفَةُ ؟ أَلَيْسَ فِيكُمُ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشَّيْطَانِ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ؟ أَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ السَّوَادِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ؟ ، وَقَالَ :كَيْفَ تَقْرَأُ هَذِهِ الآيَةَ : وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى " ، فَقُلْتُ : وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى ، قَالَ : " فَمَا زَالَ هَؤُلاءِ كَادُوا يُشَكِّكُونِي وَقَدْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ علقمہ رحمہ اللہ شام گئے، وہ وہاں مسجد میں آئے، وہاں انہوں نے دو رکعات ادا کیں، پھر دعا کی: «اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا» ”اے اللہ! مجھے نیک ہم نشین عطا کر۔“ پھر وہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے دریافت کیا: ”تم کہاں سے تعلق رکھتے ہو؟“ انہوں نے جواب دیا: ”کوفہ سے۔“ انہوں نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے درمیان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص راز دان موجود نہیں ہیں کہ اس راز کا ان کے علاوہ کسی کو پتا نہیں ہوتا تھا اور وہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ہیں؟ کیا تمہارے درمیان وہ صاحب موجود نہیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی شیطان سے محفوظ قرار دیا اور وہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہیں؟ کیا تمہارے درمیان سیاہی والے شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نہیں ہیں؟“ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”تم یہ آیت ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى * وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى﴾ [سورة الليل: 1-2] کیسے پڑھتے ہو؟“ میں نے کہا: ﴿وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى﴾ [سورة الليل: 3] ۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ لوگ مسلسل مجھے اس بارے میں شبہ کا شکار کرتے رہے ہیں حالانکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی خود یہ آیت ” ﴿وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى﴾ “ [سورة الليل: 3] سنی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6331]

6332

Sahih Ibn Hibban #6332

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هِشَامٍ الذِّمَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ : يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ﴾ [سورة الهمزة: 3] ”وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ رکھے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6332]

6333

Sahih Ibn Hibban #6333

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ الأَنْطَاكِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ شَدَّادِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّاللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِِسْمَاعِيلَ ، وَاصْطَفَى مِنْ كِنَانَةَ قُرَيْشًا ، وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب کیا، کنانہ میں سے قریش کو منتخب کیا۔ قریش میں سے بنو ہاشم کو منتخب کیا اور بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6333]

6334

Sahih Ibn Hibban #6334

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ ،فَأَخَذَهُ فَصَرَعَهُ ، فَشَقَّ قَلْبَهُ ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً ، فَقَالَ : هَذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ ، ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بِمَاءِ زَمْزَمَ ، ثُمَّ لأَمَهُ ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِي مَكَانِهِ " ، وَجَاءَ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِِلَى أُمِّهِ ، يَعْنِي : ظِئْرَهُ ، فَقَالُوا : إِِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ ، فَاسْتَقْبَلُوهُ مُنْتَقِعَ اللَّوْنِ، قَالَ أَنَسٌ : قَدْ كُنْتُ أَرَى أَثَرَ ذَلِكَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : شُقَّ صَدْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَبِيٌّ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ ، وَأُخْرِجَ مِنْهُ الْعَلَقَةُ ، وَلَمَّا أَرَادَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا الإِِسْرَاءَ بِهِ ، أَمَرَ جِبْرِيلَ بِشَقِّ صَدْرِهِ ثَانِيًا ، وَأَخْرَجَ قَلْبَهُ فَغَسَلَهُ ، ثُمَّ أَعَادَهُ مَكَانَهُ مَرَّتَيْنِ فِي مَوْضِعَيْنِ ، وَهُمَا غَيْرُ مُتَضَادَّيْنِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا جبرائیل علیہ السلام آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ (یعنی یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کا واقعہ ہے) انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لٹایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو چیرا اور اس میں سے جما ہوا خون نکالا اور بولے: یہ آپ کے اندر شیطان کا حصہ تھا، پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قلب مبارک سونے سے بنے ہوئے طشت میں رکھ کر آبِ زم زم کے ذریعے دھویا پھر اسے واپس اس کی جگہ پر رکھ دیا۔ بچے دوڑتے ہوئے آپ کی والدہ یعنی آپ کی دائی اماں کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیا گیا، وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ کی رنگت تبدیل ہو چکی تھی، سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک میں سیے جانے کا نشان دیکھا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک کو شق کرنے کا واقعہ (پہلی مرتبہ) اس وقت ہوا جب آپ بچے تھے اور بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ تو آپ کے اندر سے جما ہوا خون نکالا گیا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج پر لے جانے کا ارادہ کیا تو اس نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا، انہوں نے دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شق صدر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو نکال کر دوبارہ اسے دھویا اور پھر اسے اس کی جگہ پر رکھ دیا، تو ایسا دو مرتبہ ہوا اور دو مختلف موقعوں پر ہوا۔ ان دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6334]

6335

Sahih Ibn Hibban #6335

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِِسْحَاقَ ، عَنْ جَهْمِ بْنِ أَبِي جَهْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ حَلِيمَةَ أُمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّعْدِيَّةِ الَّتِي أَرْضَعَتْهُ ، قَالَتْ : خَرَجْتُ فِي نِسْوَةٍ مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ نَلْتَمِسُ الرُّضَعَاءَ بِمَكَّةَ عَلَى أَتَانٍ لِي قَمْرَاءَ فِي سَنَةٍ شَهْبَاءَ لَمْ تُبْقِ شَيْئًا ، وَمَعِي زَوْجِي ، وَمَعَنَا شَارِفٌ لَنَا ، وَاللَّهِ مَا إِِنْ يَبِضُّ عَلَيْنَا بِقَطْرَةٍ مِنْ لَبَنٍ ، وَمَعِي صَبِيٌّ لِي إِِنْ نَنَامَ لَيْلَتَنَا مِنْ بُكَائِهِ ، مَا فِي ثَدْيَيَّ مَا يُغْنِيهِ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ ، لَمْ تَبْقَ مِنَّا امْرَأَةٌ إِِلا عُرِضَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَأْبَاهُ ، وَإِِنَّمَا كُنَّا نَرْجُو كَرَامَةَ الرَّضَاعَةِ مِنْ وَالِدِ الْمَوْلُودِ ، وَكَانَ يَتِيمًا ، وَكُنَّا نَقُولُ : يَتِيمًا مَا عَسَى أَنْ تَصْنَعَ أُمُّهُ بِهِ ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْ صَوَاحِبِي امْرَأَةٌ إِِلا أَخَذَتْ صَبِيًّا غَيْرِي ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَرْجِعَ وَلَمْ أَجِدْ شَيْئًا وَقَدْ أَخَذَ صَوَاحِبِي ، فَقُلْتُ لِزَوْجِي : وَاللَّهِ لأَرْجِعَنَّ إِِلَى ذَلِكَ الْيَتِيمِ فَلآخُذَنَّهُ ، فَأَتَيْتُهُ ، فَأَخَذْتُهُ وَرَجَعْتُ إِِلَى رَحْلِي ، فَقَالَ زَوْجِي : قَدْ أَخَذْتِيهِ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ وَاللَّهِ ، وَذَاكَ أَنِّي لَمْ أَجِدْ غَيْرَهُ ، فَقَالَ : قَدْ أَصَبْتِ ، فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَجْعَلَ فِيهِ خَيْرًا ، قَالَتْ : فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِِلا أَنْ جَعَلْتُهُ فِي حِجْرِي ، أَقْبَلَ عَلَيْهِ ثَدْيِي بِمَا شَاءَ اللَّهُ مِنَ اللَّبَنِ ، فَشَرِبَ حَتَّى رَوِيَ ، وَشَرِبَ أَخُوهُ ، يَعْنِي : ابْنَهَا ، حَتَّى رَوِيَ ، وَقَامَ زَوْجِي إِِلَى شَارِفِنَا مِنَ اللَّيْلِ ، فَإِِذَا بِهَا حَافِلٌ فَحَلَبَهَا مِنَ اللَّبَنِ مَا شِئْنَا ، وَشَرِبَ حَتَّى رَوِيَ ، وَشَرِبْتُ حَتَّى رَوِيتُ ، وَبِتْنَا لَيْلَتَنَا تِلْكَ شِبَاعًا رُوَاءً ، وَقَدْ نَامَ صِبْيَانُنَا ، يَقُولُ أَبُوهُ يَعْنِي زَوْجَهَا : وَاللَّهِ يَا حَلِيمَةُ ، مَا أُرَاكِ إِِلا قَدْ أَصَبْتِ نَسَمَةً مُبَارَكَةً ، قَدْ نَامَ صَبِيُّنَا ، وَرَوِيَ ، قَالَتْ : ثُمَّ خَرَجْنَا ، فَوَاللَّهِ لَخَرَجَتْ أَتَانِي أَمَامَ الرَّكْبِ ، حَتَّى إِِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ : وَيْحَكِ ، كُفَّي عنا ، أَلَيْسَتْ هَذِهِ بِأَتَانِكِ الَّتِي خَرَجْتِ عَلَيْهَا ؟ فَأَقُولُ : بَلَى وَاللَّهِ ، وَهِيَ قُدَّامُنَا ، حَتَّى قَدِمْنَا مَنَازِلَنَا مِنْ حَاضِرِ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ، فَقَدِمْنَا عَلَى أَجْدَبِ أَرْضِ اللَّهِ ، فَوَالَّذِي نَفْسُ حَلِيمَةَ بِيَدِهِ ، إِِنْ كَانُوا لَيُسَرِّحُونَ أَغْنَامَهُمْ إِِذَا أَصْبَحُوا ، وَيَسْرَحُ رَاعِي غَنَمِي فَتَرُوحُ بِطَانًا لَبَنًا حُفَّلا ، وَتَرُوحُ أَغْنَامُهُمْ جِيَاعًا هَالِكَةً ، مَا لَهَا مِنْ لَبَنٍ ، قَالَتْ : فَنَشْرَبُ مَا شِئْنَا مِنَ اللَّبَنِ ، وَمَا مِنَ الْحَاضِرِ أَحَدٌ يَحْلُبُ قَطْرَةً وَلا يَجِدُهَا ، فَيَقُولُونَ لِرِعَائِهِمْ : وَيْلَكُمْ ، أَلا تَسْرَحُونَ حَيْثُ يَسْرَحُ رَاعِي حَلِيمَةَ ، فَيَسْرَحُونَ فِي الشِّعْبِ الَّذِي تَسْرَحُ فِيهِ ، فَتَرُوحُ أَغْنَامُهُمْ جِيَاعًا مَا بِهَا مِنْ لَبَنٍ ، وَتَرُوحُ غَنَمِي لَبَنًا حُفَّلا ، وَكَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشِبُّ فِي الْيَوْمِ شَبَابَ الصَّبِيِّ فِي شَهْرٍ ، وَيَشِبُّ فِي الشَّهْرِ شَبَابَ الصَّبِيِّ فِي سَنَةٍ ، فَبَلَغَ سَنَةً وَهُوَ غُلامٌ جَفْرٌ ، قَالَتْ : فَقَدِمْنَا عَلَى أُمِّهِ ، فَقُلْتُ لَهَا ، وَقَالَ لَهَا أَبُوهُ : رُدِّي عَلَيْنَا ابْنِي ، فَلْنَرْجِعْ بِهِ ، فَإِِنَّا نَخْشَى عَلَيْهِ وَبَاءَ مَكَّةَ ، قَالَتْ : وَنَحْنُ أَضَنُّ شَيْءٍ بِهِ مِمَّا رَأَيْنَا مِنْ بَرَكَتِهِ ، قَالَتْ : فَلَمْ نَزَلْ حَتَّى قَالَتِ : ارْجِعَا بِهِ ، فَرَجَعْنَا بِهِ ، فَمَكَثَ عِنْدَنَا شَهْرَيْنِ ، قَالَتْ : فَبَيْنَا هُوَ يَلْعَبُ وَأَخُوهُ يَوْمًا خَلْفَ الْبُيُوتِ يَرْعَيَانِ بَهْمًا لَنَا ، إِِذْ جَاءَنَا أَخُوهُ يَشْتَدُّ ، فَقَالَ لِي وَلأَبِيهِ : أَدْرِكَا أَخِي الْقُرَشِيَّ ، قَدْ جَاءَهُ رَجُلانِ ، فَأَضْجَعَاهُ وَشَقَّا بَطْنَهُ ، فَخَرَجْنَا نَشْتَدُّ ، فَانْتَهَيْنَا إِِلَيْهِ وَهُوَ قَائِمٌ مُنْتَقِعٌ لَوْنُهُ ، فَاعْتَنَقَهُ أَبُوهُ وَاعْتَنَقْتُهُ ، ثُمَّ قُلْنَا : مَا لَكَ أَيْ بُنَيَّ ؟ قَالَ : " أَتَانِي رَجُلانِ ، عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ ، فَأَضْجَعَانِي ، ثُمَّ شَقَّا بَطْنِي ، فَوَاللَّهِ ، مَا أَدْرِي مَا صَنَعَا " ، قَالَتْ : فَاحْتَمَلْنَاهُ ، وَرَجَعْنَا بِهِ ، قَالَتْ : يَقُولُ أَبُوهُ : يَا حَلِيمَةُ ، مَا أَرَى هَذَا الْغُلامَ إِِلا قَدْ أُصِيبَ ، فَانْطَلِقِي ، فَلْنَرُدَّهُ إِِلَى أَهْلِهِ قَبْلَ أَنْ يَظْهَرَ بِهِ مَا نَتَخَوَّفُ ، قَالَتْ : فَرَجَعْنَا بِهِ ، فَقَالَتْ : مَا يَرُدُّكُمَا بِهِ ، فَقَدْ كُنْتُمَا حَرِيصَيْنِ عَلَيْهِ ؟ قَالَتْ : فَقُلْتُ : لا وَاللَّهِ ، إِِلا أَنَّا كَفَلْنَاهُ ، وَأَدَّيْنَا الْحَقَّ الَّذِي يَجِبُ عَلَيْنَا ، ثُمَّ تَخَوَّفْنَا الأَحْدَاثَ عَلَيْهِ ، فَقُلْنَا : يَكُونُ فِي أَهْلِهِ ، فَقَالَتْ أُمُّهُ : وَاللَّهِ ، مَا ذَاكَ بِكُمَا ، فَأَخْبِرَانِي خَبَرَكُمَا وَخَبَرَهُ ، فَوَاللَّهِ مَا زَالَتْ بِنَا حَتَّى أَخْبَرْنَاهَا خَبَرَهُ ، قَالَتْ : فَتَخَوَّفْتَمَا عَلَيْهِ ! كَلا وَاللَّهِ ، إِِنَّ لابْنِي هَذَا شَأْنًَا ، أَلا أُخْبِرُكُمَا عَنْهُ ؟ إِِنِّي حَمَلْتُ بِهِ ، فَلَمْ أَحْمِلْ حَمْلا قَطُّ كَانَ أَخَفَّ عَلَيَّ وَلا أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْهُ ، ثُمَّ رَأَيْتُ نُورًا كَأَنَّهُ شِهَابٌ خَرَجَ مِنِّي حِينَ وَضَعْتُهُ ، أَضَاءَتْ لَهُ أَعْنَاقُ الإِِبِلِ بِبُصْرَى ، ثُمَّ وَضَعْتُهُ ، فَمَا وَقَعَ كَمَا يَقَعُ الصِّبْيَانُ ، وَقَعَ وَاضِعًا يَدَهُ بِالأَرْضِ ، رَافِعًا رَأْسَهُ إِِلَى السَّمَاءِ ، دَعَاهُ وَالْحَقَا بِشَأْنِكُمَا، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَالَ وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ : عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا جَهْمُ بْنُ أَبِي جَهْمٍ نَحْوَهُ . حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی ماں تھیں۔ وہ بیان کرتی ہیں: میں بنو سعد بن بکر کی کچھ خواتین کے ہمراہ مکہ آئی تاکہ دودھ پلانے کے لیے کوئی بچہ حاصل کروں، میں اپنی گدھی پر سوار ہو کر آئی تھی جو کہ قحط سالی کی وجہ سے انتہائی کمزور ہو چکی تھی۔ میرے ساتھ میرا شوہر بھی تھا۔ ہمارے ساتھ ہماری ایک اونٹنی بھی تھی، اللہ کی قسم! اس کا دودھ بہت کم نکلتا تھا۔ میرے ساتھ میرا چھوٹا سا بچہ بھی تھا۔ اس کے رونے کی وجہ سے ہم رات کو سو نہیں پاتے تھے کیونکہ میرے سینے میں اتنا دودھ نہیں تھا جو اس کی کفایت کر سکے، جب ہم لوگ مکہ آئے تو ہم میں سے ہر عورت کو پیش کش کی گئی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلانے کے لیے لے جائے، لیکن کسی بھی عورت نے اسے قبول نہیں کیا کیونکہ خواتین کو یہ لالچ ہوتا تھا کہ دودھ پلانے کا معاوضہ بچے کے باپ سے وصول کریں گی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یتیم تھے، ہم لوگ یہ کہا کرتے تھے: کسی یتیم کے بارے میں اس کی ماں کیا کر سکتی ہے۔ میرے ساتھ آنے والی خواتین میں سے ہر ایک نے کوئی نہ کوئی بچہ گود میں لے لیا۔ مجھے یہ بات پسند نہیں تھی کہ میں ایسی حالت میں واپس جاؤں کہ مجھے کوئی بچہ نہ ملا ہو جبکہ میری ساتھی خواتین بچہ لے چکی ہوں۔ میں نے اپنے شوہر سے کہا: اللہ کی قسم! میں اس یتیم بچے کو لے کر چلی جاؤں گی، ہم اسے ضرور حاصل کریں گے۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آئی، میں نے آپ کو حاصل کر لیا۔ میں اپنی رہائشی جگہ پر واپس آئی تو میرے شوہر نے کہا: تم نے اسے حاصل کر لیا ہے؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! اللہ کی قسم! اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے ان کے علاوہ اور کوئی بچہ نہیں ملا۔ شوہر نے کہا: تم نے ٹھیک کیا ہے، ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ اس میں ہمارے لیے کوئی بھلائی رکھ دے۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں تھے کہ اسی دوران میری چھاتی میں اللہ تعالیٰ نے اتنا دودھ پیدا کر دیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا اور سیر ہو کر پیا۔ آپ کے رضاعی بھائی نے بھی اسے پی لیا یعنی سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے نے بھی اسے پی لیا، یہاں تک کہ وہ بھی سیر ہو گیا۔ رات کے وقت میرا شوہر ہماری اونٹنی کے پاس گیا تو اس کا بھی دودھ اترا ہوا تھا۔ میرے شوہر نے اس کا اتنا دودھ دوہ لیا جتنا ہم چاہتے تھے۔ اس نے پیا اور سیر ہو کر پیا، میں نے بھی پیا اور سیر ہو گئی۔ اس رات ہم نے پیٹ بھر کر اور سیر ہو کر رات گزاری۔ ہمارے بچے بھی سوتے رہے۔ بچے کے باپ یعنی سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کے شوہر نے کہا: اللہ کی قسم! اے حلیمہ میرا یہ خیال ہے کہ تمہیں ایک مبارک وجود ملا ہے۔ ہمارے بچے آرام سے سو رہے ہیں اور وہ سیر ہیں۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر ہم لوگ وہاں سے روانہ ہوئے، اللہ کی قسم! میری گدھی سب سے زیادہ آگے چل رہی تھی، یہاں تک کہ میرے ساتھی یہ کہتے تھے کہ تمہارا ستیاناس ہو تم اس کو آرام سے لے کر چلو، کیا یہ تمہاری وہی گدھی نہیں ہے جس پر سوار ہو کر تم آئی تھی؟ تو میں جواب دیتی: جی ہاں! اللہ کی قسم وہی ہے، لیکن وہ بدستور آگے چلتی رہی، یہاں تک کہ ہم بنو سعد بن بکر کے علاقے میں اپنے گھر آ گئے۔ ہم ایک ایسی جگہ پر آئے تھے جو سب سے زیادہ خشک تھی۔ اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں حلیمہ کی جان ہے! دوسرے لوگ صبح کے وقت اپنی بکریوں کو چرنے کے لیے بھیج دیتے تھے اور میری بکریوں کا چرواہا بھی میری بکریاں لے جاتا تھا، تو میری بکریاں جب شام کو واپس آتی تھیں تو دودھ سے بھری ہوئی ہوتی تھیں جبکہ ان کی بکریاں جب واپس آتی تھیں تو بھوکی ہوتی تھیں، ہلاکت کے قریب ہوتی تھیں اور ان میں دودھ بھی نہیں ہوتا تھا۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم جتنا چاہتے تھے دودھ پی لیتے تھے جبکہ باقی قبیلے میں کسی کو ایک قطرہ بھی دودھ دوہنے کے لیے اور پینے کے لیے نہیں ملتا تھا، تو وہ لوگ اپنے چرواہوں سے یہ کہتے تھے کہ تمہارا ستیاناس ہو، کیا تم اپنی بکریاں اس جگہ نہیں چراتے جہاں حلیمہ کا چرواہا چراتا ہے؟ پھر وہ لوگ بھی اپنی بکریاں اسی گھاٹی میں چراتے تھے جس میں میری بکریاں چرتی تھیں، لیکن اس کے باوجود ان کی بکریاں بھوکی آتی تھیں، ان میں دودھ نہیں ہوتا تھا جبکہ میری بکریاں دودھ سے بھری ہوئی آتی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نشوونما ایک دن میں اتنی ہو رہی تھی جتنی کسی عام بچے کی ایک مہینے میں ہوتی ہے اور آپ کی نشوونما ایک ماہ میں اتنی ہو گئی جتنی کسی بچے کی ایک سال میں ہوتی ہے، جب آپ کی عمر ایک سال ہوئی تو آپ بھرپور صحت مند لگتے تھے۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ کی خدمت میں آئے۔ میں نے ان سے یہ درخواست کی اور میرے شوہر نے بھی ان سے یہ درخواست کی کہ آپ اس بچے کو ہمیں دے دیں تاکہ ہم اسے واپس لے جائیں کیونکہ ہمیں اس کے بارے میں یہ اندیشہ ہے کہ یہ مکہ میں وبا کا شکار نہ ہو جائے۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو برکت دیکھی تھی، ہمیں اس کا لالچ تھا، تو ہم مسلسل ان کے ساتھ بات چیت کرتے رہے، یہاں تک کہ انہوں نے یہ فرمایا: تم اسے ساتھ لے جاؤ۔ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر واپس آ گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو ماہ ہمارے پاس ٹھہرے رہے۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بھائی کے ساتھ گھروں کے پیچھے کھیل رہے تھے، وہ دونوں ہماری بکری کے بچے کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رضاعی بھائی تیزی سے دوڑتا ہوا ہمارے پاس آیا اور مجھ سے اور اپنے والد سے بولا: میرے قریشی بھائی کے پاس جائیں، اس کے پاس دو آدمی آئے ہیں انہوں نے اسے لٹا دیا ہے اور اس کا پیٹ چیر دیا ہے۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم لوگ دوڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے، آپ کے چہرے کی رنگت تبدیل تھی۔ آپ کے والد نے آپ کو گلے سے لگا لیا، میں نے بھی آپ کو گلے سے لگا لیا، پھر ہم نے دریافت کیا: اے میرے بیٹے! تمہیں کیا ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا: ”میرے پاس دو آدمی آئے، انہوں نے سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے، انہوں نے مجھے لٹا لیا پھر انہوں نے میرے پیٹ کو چیر دیا، اللہ کی قسم! مجھے اندازہ نہیں ہوا کہ انہوں نے کیا کیا۔“ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم نے آپ کو گود میں اٹھا لیا اور آپ کو لے کر واپس آ گئے۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: آپ کے رضاعی والد نے کہا: اے حلیمہ! مجھے لگتا ہے اس لڑکے کے ساتھ کوئی نہ کوئی خاص معاملہ ہے، تم چلو ہم اسے اس کے گھر والوں کے سپرد کر آتے ہیں، اس سے پہلے کہ اس کی طرف سے کوئی ایسی صورت حال سامنے آئے جس کا ہمیں اندیشہ ہے۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم آپ کو لے کر واپس آئے تو سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: تم لوگ اسے واپس لے کر کیوں آ گئے ہو؟ تم تو اسے اپنے پاس رکھنا چاہ رہے تھے۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: جی نہیں، اللہ کی قسم! ہم نے اس کی کفالت کر لی ہے اور ہمارے ذمے جو حق لازم تھا وہ ہم نے ادا کر دیا ہے، پھر ہمیں اس کے بعد کسی مشکل پیش آنے کا اندیشہ ہوا (تو ہم نے یہ سوچا کہ یہ اپنے گھر میں ہی ٹھیک رہے گا)۔ سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا ہے؟ اللہ کی قسم! تم دونوں مجھے بتاؤ۔ سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا مسلسل ہمارے ساتھ اصرار کرتی رہیں، یہاں تک کہ ہم نے انہیں اصل واقعہ بتا دیا۔ سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: کیا تمہیں اس کے بارے میں خوف ہے؟ ہرگز نہیں! میرے اس بیٹے کی بڑی شان ہو گی، میں تمہیں اس بارے میں بتاتی ہوں؛ جب مجھے اس کا حمل ہوا تو مجھے حمل کی کوئی پریشانی محسوس نہیں ہوئی، یہ میرے لیے انتہائی آسان اور زیادہ برکت والی صورت حال تھی، پھر مجھے ایک نور دکھائی دیا جو انتہائی چمکدار تھا، جب میں نے اسے جنم دیا تو وہ نور میرے اندر سے نکلا اور اس نور کی وجہ سے بصریٰ میں موجود اونٹوں کی گردنیں میرے سامنے روشن ہو گئیں (یعنی مجھے نظر آنے لگیں) پھر میں نے اسے جنم دیا تو یہ اس طرح باہر نہیں آیا جس طرح عام طور پر بچے باہر آتے ہیں، بلکہ جب یہ باہر آیا تو اس نے اپنے ہاتھ زمین پر رکھے اور اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور دعا مانگی، تو تم (اس واقعہ کو) اپنے والے واقعے کے ساتھ ملا کر دیکھ لو۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہب بن جریر نے اپنی سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے اور عبداللہ بن محمد نے بھی یہ روایت اپنی سند کے ساتھ نقل کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6335]

6336

Sahih Ibn Hibban #6336

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الصَّبيانِ ،فَأَخَذَهُ فَصَرَعَهُ ، فَشَقَّ قَلْبَهُ ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً ، فَقَالَ : هَذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ ، ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بِمَاءِ زَمْزَمَ ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِي مَكَانِهِ ، فَجَاءَهُ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِِلَى أُمِّهِ ، يَعْنِي : ظِئْرَهُ ، فَقَالَ : إِِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ ، فَاسْتَقْبَلُوهُ مُنْتَقِعَ اللَّوْنِ، قَالَ أَنَسٌ : كُنْتُ أَرَى أَثَرَ ذَلِكَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے (یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کی بات ہے)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا، آپ کو لٹایا اور آپ کے قلب مبارک کو چیر دیا، اس میں سے خون کا ایک لوتھڑا نکالا اور بولے: «هَذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ» ”یہ آپ کے اندر شیطان کا حصہ تھا“، پھر انہوں نے سونے کے بنے ہوئے طشت میں آبِ زم زم کے ذریعے آپ کے قلب مبارک کو دھویا اور پھر اسے دوبارہ اس کی جگہ رکھ دیا۔ بچے دوڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ یعنی دائی ماں کے پاس آئے اور بولے: ”سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیا گیا ہے“۔ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ کے چہرے کی رنگت بدلی ہوئی تھی۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک میں اس سیون (ٹانکوں کے نشان) کو میں نے دیکھا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6336]

6337

Sahih Ibn Hibban #6337

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : هَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي هَا هُنَا ؟ فَوَاللَّهِ مَا يَخْفَى عَلَيَّ خُشُوعُكُمْ وَلا رُكُوعُكُمْ ، وَإِِنِّي لأَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کیا تم سمجھتے ہو کہ میری توجہ صرف قبلہ کی طرف ہوتی ہے؟ اللہ کی قسم! تمہارا خشوع اور تمہارا رکوع کرنا مجھ سے مخفی نہیں رہتا، میں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی تمہیں دیکھ لیتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6337]

6338

Sahih Ibn Hibban #6338

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِِنِّي لأَنْظُرُ إِِلَى مَا وَرَائِي كَمَا أَنْظُرُ إِِلَى مَا بَيْنَ يَدَيَّ ، فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ، وَحَسِّنُوا رُكُوعَكُمْ وَسُجُودَكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں اپنے پیچھے بھی اسی طرح دیکھ لیتا ہوں، جس طرح میں اپنے سامنے دیکھتا ہوں، تم لوگ اپنی صفیں درست رکھو اور رکوع و سجود اچھے طریقے سے کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6338]

6339

Sahih Ibn Hibban #6339

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : رُصُّوا صُفُوفَكُمْ ، وَقَارِبُوا بَيْنَهَا ، وَحَاذُوا بِالأَعْنَاقِ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِِنِّي لأَرَى الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصُّفُوفِ ، كَأَنَّهَا الْحَذْفُ "، قَالَ مُسْلِمٌ : الْحَذْفُ : النَّقْدُ الصِّغَارُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اپنی صفیں ملا کر رکھو، ایک دوسرے کے قریب رہو اور گردنیں سیدھی رکھو، اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! میں شیطان کو دیکھتا ہوں کہ وہ صفوں کے درمیان خالی جگہ میں یوں داخل ہوتا ہے جیسے وہ «الْحَذَفُ» (بھیڑ کا بچہ) ہو۔“ مسلم نامی راوی کہتے ہیں: «الْحَذَفُ» سے مراد بھیڑ کے بچے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6339]

6340

Sahih Ibn Hibban #6340

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : أَلَسْتُمْ فِي طَعَامٍ وَشَرَابٍ مَا شِئْتُمْ ؟ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَوَمَا يَجِدُ مِنَ الدَّقَلِ مَا يَمْلأُ بِهِ بَطْنَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کیا تم لوگ آج طرح طرح کے کھانے اور مشروبات نہیں پیتے؟ جیسے تم چاہتے ہو، حالانکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ کو ہلکی قسم کی کھجوریں اتنی بھی نہیں ملتی تھیں کہ آپ ان کے ذریعے اپنا پیٹ بھر لیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6340]

6341

Sahih Ibn Hibban #6341

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَجِدُ مِنَ الدَّقَلِ مَا يَمْلأُ بَطْنَهُ ، وَهُوَ جَائِعٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھوکے ہوتے تھے تو آپ کو ہلکی قسم کی کھجوریں اتنی بھی نہیں ملتی تھیں کہ آپ اپنا پیٹ بھر لیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6341]

6342

Sahih Ibn Hibban #6342

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ ، وَذَكَرَ مَا أَصَابَ النَّاسَ مِنَ الدُّنْيَا لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْتَوِي وَمَا يَجِدُ مِنَ الدَّقَلِ مَا يَمْلأُ بَطْنَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے یہ بات ذکر کی کہ لوگوں کو اب طرح طرح کی دنیاوی نعمتیں حاصل ہو گئی ہیں، حالانکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھوکے ہوتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہلکی قسم کی کھجوریں اتنی بھی نہیں ملتی تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ذریعے اپنا پیٹ بھر لیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6342]

6343

Sahih Ibn Hibban #6343

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الأَعْمَشَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ كَفَافًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا» ”اے اللہ! محمد کے گھر والوں کو گزارہ کرنے جتنا رزق عطا کر۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6343]

6344

Sahih Ibn Hibban #6344

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شُبْرُمَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا» ”اے اللہ! محمد کے گھر والوں کو (ضروری) خوراک جتنا رزق عطا کر۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6344]

6345

Sahih Ibn Hibban #6345

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ طَعَامٍ وَاحِدٍ ثَلاثًا حَتَّى قُبِضَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِِلا الأَسْوَدَيْنِ : التَّمْرَ وَالْمَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے کبھی بھی تین دن تک پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا، آپ کی خوراک صرف دو سیاہ چیزیں یعنی کھجور اور پانی تھیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6345]

6346

Sahih Ibn Hibban #6346

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : مَا أَشْبَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَهُ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ الْبُرِّ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی مسلسل تین دن تک اپنے گھر والوں کو گندم کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھلائی، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6346]

6347

Sahih Ibn Hibban #6347

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ ، فَقُلْتُ : هَلْ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ ؟ فَقَالَ سَهْلٌ : مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ مِنْ حِينِ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى قَبَضَهُ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : هَلْ كَانَ لَكُمْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنَاخِلُ ؟ ، قَالَ : " مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْخُلا مِنْ حِينِ ابْتَعَثَهُ حَتَّى قَبَضَهُ " ، فَقُلْتُ : كَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ غَيْرَ مَنْخُولٍ ؟ ، قَالَ : " كُنَّا نَطْحَنُهُ ، فَنَنْفُخُهُ فَيَطِيرُ مَا طَارَ ، وَمَا بَقِيَ ثَرَّيْنَاهُ ، فَأَكَلْنَاهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوحازم بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چھنے ہوئے آٹے کی روٹی کھاتے تھے؟ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے بتایا: جب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث کیا ہے، اس وقت سے لے کر آپ کے وصال تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہیں کھائی۔ میں نے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ اقدس میں آپ لوگوں کے پاس چھلنیاں نہیں ہوتی تھیں؟ انہوں نے فرمایا: جب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے، اس وقت سے لے کر اپنے وصال تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی چھلنی نہیں دیکھی۔ میں نے دریافت کیا: تو آپ چھانے بغیر جَو کیسے کھا لیتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہم لوگ اسے پیس کر اس میں پھونک مارتے تھے، جو چیز اڑنی ہوتی تھی وہ اڑ جاتی تھی اور جو باقی بچ جاتی تھی ہم اسے پکا کر کھا لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6347]

6348

Sahih Ibn Hibban #6348

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْجَرْجَرَائِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَزِيدَ بْنَ رُومَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : إِِنْ كُنَّا لَنَنْظُرُ إِِلَى الْهِلالِ ، ثُمَّ الْهِلالِ ، ثُمَّ الْهِلالِ ، ثَلاثَةَ أَهِلَّةٍ فِي شَهْرَيْنِ ، وَمَا أُوقِدَتْ فِي بُيُوتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَارٌ " ، قُلْتُ : يَا خَالَةُ ، فِيمَا كَانَ يُعَيِّشُكُمْ ؟ ، قَالَتْ : " الأَسْوَدَانِ : التَّمْرُ وَالْمَاءُ ، إِِلا أَنَّهُ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِيرَانَ مِنَ الأَنْصَارِ ، نِعْمَ الْجِيرَانُ ، كَانَتْ لَهُمْ مَنَائِحُ ، فَكَانُوا يَمْنَحُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَلْبَانِهَا ، فَكَانَ يَسْتَقِينَا مِنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم لوگ پہلی کا ایک چاند دیکھ لیتے تھے، پھر اگلی پہلی کا چاند دیکھ لیتے تھے، پھر اگلی پہلی کا چاند دیکھ لیتے تھے، یعنی دو مہینوں میں تین چاند دیکھ لیتے تھے، لیکن اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں آگ نہیں جلتی تھی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: خالہ جان! آپ لوگوں کا گزارا کیسے ہوتا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: دو سیاہ چیزوں پر؛ کھجوروں اور پانی پر، البتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ انصاری پڑوسی تھے جو بہت اچھے پڑوسی تھے۔ ان لوگوں کے پاس دودھ دینے والے جانور تھے، وہ ان کا دودھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفے کے طور پر بھجوا دیتے تھے تو ہم وہ پی لیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6348]

6349

Sahih Ibn Hibban #6349

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ : مَا أَصْبَحَ فِي آلِ مُحَمَّدٍ صَاعُ بُرٍّ وَلا صَاعُ تَمْرٍ " ، وَإِِنَّ لَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعَ نِسْوَةٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”(آج) محمد کے گھر میں نہ تو گندم کا ایک صاع ہے اور نہ ہی کھجوروں کا ایک صاع ہے۔“ راوی کہتے ہیں: اس زمانے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نو ازواج تھیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6349]

6350

Sahih Ibn Hibban #6350

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ،لَوْ كَانَ عِنْدِي أُحُدٌ ذَهَبًا ، لأَحْبَبْتُ أَنْ لا يَأْتِي عَلَيَّ ثَلاثٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ لا أَجِدُ مَنْ يَتَقَبَّلَهُ مِنِّي ، لَيْسَ شَيْءٌ أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ عَلَيَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں محمد کی جان ہے، اگر میرے پاس احد پہاڑ جتنا سونا ہو تو مجھے یہ بات پسند ہوگی کہ تین دن گزرنے سے پہلے میرے پاس ان میں سے ایک دینار بھی باقی نہ رہے، سوائے اس دینار کے، جسے میں نے قرض کی ادائیگی کے لیے سنبھال کر رکھا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6350]

6351

Sahih Ibn Hibban #6351

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ بِبَيْرُوتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الدَّارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ يَعْمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَخِي زَيْدُ بْنُ سَلامٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لُحَيٍّ الْهَوْزَنِيُّ ، قَالَ : لَقِيتُ بِلالا مُؤَذِّنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا بِلالُ ، أَخْبِرْنِي كَيْفَ كَانَتْ نَفَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : مَا كَانَ لَهُ مِنْ شَيْءٍ ، وَكُنْتُ أَنَا الَّذِي أَلِي ذَلِكَ مُنْذُ بَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى تُوُفِّيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَ إِِذَا أَتَاهُ الإِِنْسَانُ الْمُسْلِمُ ، فَرَآهُ عَارِيًا ، يَأْمُرُنِي ، فَأَنْطَلِقُ ، فَأَسْتَقْرِضُ ، فَأَشْتَرِي الْبُرْدَةَ أَوِ النَّمِرَةَ ، فَأَكْسُوهُ وَأَطْعِمُهُ ، حَتَّى اعْتَرَضَنِي رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ : يَا بِلالُ ، إِِنَّ عِنْدِي سَعَةً ، فَلا تَسْتَقْرِضْ مِنْ أَحَدٍ إِِلا مِنِّي ، فَفَعَلْتُ ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ ، تَوَضَّأْتُ ، ثُمَّ قُمْتُ أُؤَذِّنُ بِالصَّلاةِ ، فَإِِذَا الْمُشْرِكُ فِي عِصَابَةٍ مِنَ التُّجَّارِ ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ : يَا حَبَشِيُّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا لَبَّيَهُ ، فَتَجَهَّمَنِي ، وَقَالَ لِي قَوْلا غَلِيظًا ، وَقَالَ : أَتَدْرِي كَمْ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الشَّهْرِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : قَرِيبٌ ، قَالَ لِي : إِِنَّمَا بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ أَرْبَعٌ ، فَآخُذُكَ بِالَّذِي عَلَيْكَ ، فَإِِنِّي لَمْ أُعْطِكَ الَّذِي أَعْطَيْتُكَ مِنْ كَرَامَتِكَ عَلَيَّ ، وَلا كَرَامَةَ صَاحِبِكَ ، وَلَكِنِّي إِِنَّمَا أَعْطَيْتُكَ لِتَجِبَ لِي عَبْدًا ، فَأَرُدُّكَ تَرْعَى الْغَنَمَ كَمَا كُنْتَ قَبْلَ ذَلِكَ ، فَأَخَذَ فِي نَفْسِي مَا يَأْخُذُ النَّاسُ ، فَانْطَلَقْتُ ، ثُمَّ أَذَّنْتُ بِالصَّلاةِ ، حَتَّى إِِذَا صَلَّيْتُ الْعَتَمَةَ ، رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى أَهْلِهِ ، فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ ، فَأَذِنَ لِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ ، إِِنَّالْمُشْرِكَ الَّذِي ذَكَرْتُ لَكَ أَنِّي كُنْتُ أَتَدَيَّنُ مِنْهُ قَالَ لِي كَذَا وَكَذَا ، وَلَيْسَ عِنْدَكَ مَا تَقْضِي عَنِّي ، وَلا عِنْدِي ، وَهُوَ فَاضِحِي ، فَأْذَنْ لِي أَنُوءُ إِِلَى بَعْضِ هَؤُلاءِ الأَحْيَاءِ الَّذِينَ أَسْلَمُوا حَتَّى يَرْزُقَ اللَّهُ رَسُولَهُ مَا يَقْضِي عَنِّي ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِذَا شِئْتَ اعْتَمَدْتَ ، قَالَ : فَخَرَجْتُ حَتَّى آتِيَ مَنْزِلِي ، فَجَعَلْتُ سَيْفِي وَجُعْبَتِي وَمِجَنِّي وَنَعْلِي عِنْدَ رَأْسِي ، وَاسْتَقْبَلْتُ بِوَجْهِي الأُفُقَ ، فَكُلَّمَا نِمْتُ سَاعَةً اسْتَنْبَهْتُ ، فَإِِذَا رَأَيْتُ عَلَيَّ لَيْلا نِمْتُ ، حَتَّى أَسْفَرَ الصُّبْحُ الأَوَّلُ ، أَرَدْتُ أَنْ أَنْطَلِقَ ، فَإِِذَا إِِنْسَانٌ يَسْعَى يَدْعُو : يَا بِلالُ ، أَجِبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُ ، فَإِِذَا أَرْبَعُ رَكَائِبَ مُنَاخَاتٌ عَلَيْهِنَّ أَحْمَالُهُنَّ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَأْذَنَتْهُ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبْشِرْ ، فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِقَضَائِكَ ، فَحَمِدْتُ اللَّهَ ، وَقَالَ : أَلَمْ تَمَرَّ عَلَى الرَّكَائِبِ الْمُنَاخَاتِ الأَرْبَعِ ؟ فَقُلْتُ : بَلَى ، فَقَالَ : إِِنَّ لَكَ رِقَابَهُنَّ ، وَمَا عَلَيْهِنَّ كِسْوَةٌ وَطَعَامٌ أَهْدَاهُنَّ إِِلَيَّ عَظِيمُ فَدَكَ ، فَاقْبِضْهُنَّ ، ثُمَّ اقْضِ دَيْنَكَ ، قَالَ : فَفَعَلْتُ ، فَحَطَطْتُ عَنْهُنَّ أَحْمَالَهُنَّ ، ثُمَّ عَقَلْتُهُنَّ ، ثُمَّ عَمَدْتُ إِِلَى تَأْذِينِ صَلاةِ الصُّبْحِ ، حَتَّى إِِذَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، خَرَجْتُ لِلْبَقِيعِ ، فَجَعَلْتُ أُصْبُعَيَّ فِي أُذُنِي ، فَنَادَيْتُ : مَنْ كَانَ يَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنًا فَلْيَحْضُرْ ، فَمَا زِلْتُ أَبِيعُ وَأَقْضِي ، وَأَعْرِضُ فَأَقْضِي ، حَتَّى إِِذَا فَضَلَ فِي يَدَيَّ أُوقِيَّتَانِ أَوْ أُوقِيَّةٌ وَنِصْفٌ ، انْطَلَقْتُ إِِلَى الْمَسْجِدِ ، وَقَدْ ذَهَبَ عَامَّةُ النَّهَارِ ، فَإِِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَحْدَهُ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : مَا فَعَلَ مَا قِبَلَكَ ؟ فَقُلْتُ : قَدْ قَضَى اللَّهُ كُلُّ شَيْءٍ كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَبْقَ شَيْءٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفَضَلَ شَيْءٌ ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : انْظُرْ أَنْ تُرِيحَنِي مِنْهَا ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَتَمَةَ ، دَعَانِي ، فَقَالَ : مَا فَعَلَ مِمَّا قِبَلَكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : هُوَ مَعِي لَمْ يَأْتِنَا أَحَدٌ ، فَبَاتَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى أَصْبَحَ ، فَظَلَّ فِي الْمَسْجِدِ الْيَوْمَ الثَّانِي ، حَتَّى كَانَ فِي آخِرِ النَّهَارِ ، جَاءَ رَاكِبَانِ ، فَانْطَلَقْتُ بِهِمَا ، فَكَسَوْتُهُمَا وَأَطْعَمْتُهُمَا ، حَتَّى إِِذَا صَلَّى الْعَتَمَةَ ، دَعَانِي ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا فَعَلَ الَّذِي قِبَلَكَ ؟ فَقُلْتُ : قَدْ أَرَاحَكَ اللَّهُ مِنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَكَبَّرَ وَحَمِدَ اللَّهَ شَفَقًا أَنْ يُدْرِكَهُ الْمَوْتُ وَعِنْدَهُ ذَلِكَ ، ثُمَّ اتَّبَعْتُهُ حَتَّى جَاءَ أَزْوَاجَهُ فَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ امْرَأَةٍ ، حَتَّى أَتَى مَبِيتَهُ، فَهَذَا الَّذِي سَأَلْتَنِي عَنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ ہوزنی بیان کرتے ہیں: میری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ میں نے کہا: اے بلال! آپ مجھے بتائیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خرچ کیسے چلتا تھا؟ تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی تھی، جب سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث کیا اس دن سے آپ کے وصال تک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہوں؛ جب کوئی مسلمان آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا اور آپ دیکھتے کہ اس کے پاس مناسب کپڑے نہیں ہیں، تو آپ مجھے حکم دیتے، میں جاتا، آپ کے نام پر قرض لیتا، اس کے ذریعے کپڑا یا چادر خریدتا اور اس شخص کو پہننے کے لیے دے دیتا اور اس شخص کو کھانا کھلا دیتا، یہاں تک کہ ایک مشرک شخص میرے پاس آیا اور بولا: اے بلال! میرے پاس گنجائش ہے، تم صرف مجھ سے قرض لیا کرو۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ ایک دن میں نے وضو کیا، میں نماز کے لیے اذان دینے کے لیے اٹھنے لگا تو وہ مشرک شخص کچھ تاجروں کے ساتھ آیا، جب اس نے مجھے دیکھا تو بولا: اے حبشی! میں نے کہا: کیا ہے؟ تو اس نے مجھے برا بھلا کہا اور میرے بارے میں سختی سے کام لیا۔ اس نے دریافت کیا: کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ مہینہ ختم ہونے میں کتنے دن رہ گئے ہیں؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں، تھوڑا ہی وقت ہے۔ اس نے مجھ سے کہا: مہینہ ختم ہونے میں چار دن باقی رہ گئے ہیں، پھر میں نے تم سے وہ وصولی کر لینی ہے جو تمہارے ذمے لازم ہے، میں نے تمہیں قرض اس لیے نہیں دیا تھا کہ تم میرے نزدیک معزز ہو یا تمہارے آقا میرے نزدیک معزز ہیں، میں نے تمہیں قرض اس لیے دیا تھا تاکہ مجھے (قرض وصول نہ ہونے کی صورت میں) غلام حاصل ہو جائے، تو میں تم سے بکریاں چرواؤں گا، جس طرح تم پہلے چرایا کرتے تھے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں بھی پریشان ہو گیا جس طرح لوگ پریشان ہوتے ہیں۔ خیر میں گیا، میں نے نماز کے لیے اذان دی، یہاں تک کہ جب میں نے عشاء کی نماز ادا کر لی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر واپس تشریف لے گئے تو میں نے آپ کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی۔ آپ نے مجھے اجازت عطا کی۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے والد آپ پر قربان ہوں، وہ مشرک جس کا میں نے آپ کے سامنے ذکر کیا تھا کہ میں اس سے قرض لیتا ہوں، اس نے مجھے اس اس طرح کی باتیں کی ہیں اور آپ کے پاس کوئی ایسی چیز بھی نہیں ہے جو آپ میری طرف سے ادا کر دیں اور میرے پاس بھی نہیں ہے اور وہ شخص مجھے رسوا کر دے گا۔ آپ مجھے اجازت دیجیے تاکہ میں ان قبائل کی طرف جاؤں جنہوں نے اسلام قبول کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو اتنا رزق عطا کر دے کہ وہ میرا قرض ادا کر دیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم یہ چاہتے ہو تو ایسا کر لو۔“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں وہاں سے نکل کر اپنے گھر آیا، میں نے اپنی تلوار، اپنا ترکش، اپنی ڈھال، اپنے جوتے اپنے سرہانے رکھ لیے۔ میں نے اپنا رخ افق کی طرف کیا۔ میں جب بھی تھوڑی دیر کے لیے سوتا تھا، تو فوراً بیدار ہو جاتا تھا، لیکن اس رات میں ایسا سویا کہ صبح صادق ہو گئی۔ میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا، اسی دوران ایک شخص دوڑتا ہوا آیا، وہ کہہ رہا تھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ میں اٹھا اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہاں چار سواریاں موجود تھیں جن پر ان کے پالان وغیرہ بندھے ہوئے تھے۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ آپ نے مجھ سے فرمایا: ”تمہارے لیے خوشخبری ہے، اللہ تعالیٰ نے تمہارے قرض کی ادائیگی کا بندوبست کر دیا ہے۔“ تو میں نے اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارا گزر ان چار سواریوں کے پاس نہیں ہوا جو باندھی ہوئی تھیں؟“ میں نے جواب دیا: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سواریاں اور ان پر موجود کپڑے اور کھانا تمہارے ہوئے، یہ سب چیزیں مجھے فدک کے امیر نے تحفے کے طور پر بھیجی ہیں، تم انہیں حاصل کر لو اور اپنا قرض ادا کر دو۔“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ایسا ہی کیا۔ میں نے ان کے اوپر سے پالان اتار لیا اور پھر انہیں باندھ دیا، پھر میں صبح کی نماز کے لیے اذان دینے گیا، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی تو میں نکل کر بقیع کے میدان میں آیا۔ میں نے اپنی انگلیاں کانوں میں دیں اور بلند آواز میں اعلان کیا: جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرض واپس لینا تھا وہ آ جائے، اس کے بعد میں خرید و فروخت کرتا رہا اور قرض ادا کرتا رہا، یہاں تک کہ میرے ہاتھ میں دو اوقیہ یا ڈیڑھ اوقیہ باقی بچ گئے۔ میں مسجد کی طرف آیا، دن کا زیادہ حصہ رخصت ہو چکا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں اکیلے تشریف فرما تھے۔ میں نے آپ کو سلام کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہاری کیا صورت حال ہے؟“ میں نے عرض کی: اللہ تعالیٰ نے ہر وہ چیز ادا کروا دی ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے لازم تھی، کوئی بھی چیز (یعنی قرض) باقی نہیں رہا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کوئی چیز باقی بچی ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دیکھو کہ اس کے ذریعے مجھے آرام پہنچانا۔“ پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز ادا کر لی تو آپ نے مجھے بلایا، آپ نے دریافت کیا: ”تمہاری کیا صورت حال ہے؟“ میں نے عرض کی: وہ چیز میرے پاس ہے، ہمارے پاس کوئی بھی نہیں آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ رات مسجد میں گزاری، یہاں تک کہ صبح ہو گئی، آپ اگلا دن بھی مسجد میں رہے، یہاں تک کہ دن کا آخری حصہ آ گیا تو دو سوار آئے، میں ان دونوں کو ساتھ لے کر گیا، میں نے ان دونوں کو پہننے کے لیے کپڑے لے کر دیے، انہیں کھانا کھلایا، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز ادا کر لی، تو آپ نے مجھے بلایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا صورت حال ہے؟“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس چیز کی طرف سے راحت پہنچا دی ہے (یعنی وہ بقیہ مال بھی اللہ کی راہ میں خرچ ہو گیا ہے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کی اور اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی، اس اندیشے کے تحت کہ آپ کو کہیں ایسی حالت میں موت نہ آ جائے کہ وہ مال آپ کے پاس موجود ہو، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا ہوا آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج کے پاس تشریف لے گئے، آپ نے ہر ایک زوجہ محترمہ کو سلام کیا، یہاں تک کہ آپ اس گھر میں آئے جہاں آپ نے رات بسر کرنی تھی۔ (سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے فرمایا) یہ وہ صورت حال تھی جس کے بارے میں تم نے مجھ سے دریافت کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6351]

6352

Sahih Ibn Hibban #6352

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قَحْطَبَةَ بِفَمِ الصِّلْحِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ هِلالِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : دَخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَرَ فِي جَنْبِهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوِ اتَّخَذْتَ فِرَاشًا أَوْثَرَ مِنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : يَا عُمَرُ ،مَا لِي وَلِلدُّنْيَا ، وَمَا لِلدُّنْيَا وَلِي ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا مَثَلِي وَمَثَلُ الدُّنْيَا إِِلا كَرَاكِبٍ سَارَ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ ، فَاسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ، ثُمَّ رَاحَ وَتَرْكَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے جس کا نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو پر لگ چکا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ اس سے زیادہ نرم بچھونا استعمال کرتے (تو یہ مناسب ہوتا)؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا دنیا سے کیا واسطہ اور دنیا کا مجھ سے کیا واسطہ؟ اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، میری اور دنیا کی مثال یوں ہے جیسے کوئی سوار شخص تیز گرم دن میں سفر کرتے ہوئے گھڑی بھر کے لیے کسی درخت کے سائے میں آئے اور پھر وہ اسے وہیں چھوڑ کر آگے روانہ ہو جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6352]

6353

Sahih Ibn Hibban #6353

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَتَى فَاطِمَةَ ، فَرَأَى عَلَى بَابِهَا سِتْرًا ، فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا ، قَالَ : وَقَلَّمَا كَانَ يَدْخُلُ إِِلا بَدَأَ بِهَا ، فَجَاءَ عَلِيٌّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، فَرَآهَا مُهْتَمَّةً ، فَقَالَ : مَا لَكَ ؟ فَقَالَتْ : جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَدْخُلْ ، فَأَتَاهُ عَلِيٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ فَاطِمَةَ اشْتَدَّ عَلَيْهَا أَنَّكَ جِئْتَهَا وَلَمْ تَدْخُلْ عَلَيْهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا أَنَا وَالدُّنْيَا ، وَمَا أَنَا وَالرَّقْمُ " ، فَذَهَبَ إِِلَى فَاطِمَةَ ، فَأَخْبَرَهَا بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : فَقُلْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَمَا تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ : " قُلْ لَهَا : فَلْتُرْسِلْ بِهِ إِِلَى بَنِي فُلانٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دروازے پر پردہ لٹکا ہوا دیکھا تو گھر کے اندر تشریف نہیں لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی گھر میں تشریف لاتے تھے تو سب سے پہلے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لاتے تھے۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ گھر آئے اور انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پریشان دیکھا تو دریافت کیا: کیا ہوا؟ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے اندر نہیں آئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! فاطمہ اس بات پر پریشان ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں آئے لیکن گھر کے اندر تشریف نہیں لائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا اور دنیا کا کیا واسطہ؟ میرا اور نقش و نگار کا کیا واسطہ؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بارے میں بتایا، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیجیے کہ آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس سے کہو کہ اس (پردے کو) بنو فلاں کو بھجوا دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6353]

6354

Sahih Ibn Hibban #6354

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ ، عَنْ سَفِينَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ بَيْتًا مَرْقُومًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے تھے جہاں نقش و نگار بنے ہوئے ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6354]

6355

Sahih Ibn Hibban #6355

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : كُنَّا نَأْتِي أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَخَبَّازُهُ قَائِمٌ ، فَقَالَ : كُلُوا ،فَمَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَغِيفًا مُرَقَّقًا ، وَلا شَاةً سَمِيطَةً بِعَيْنِهِ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتادہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ ان کا نانبائی کھڑا ہوا (روٹیاں لگا رہا تھا) تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم لوگ کھانا کھاؤ کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی پتلی (یعنی چھنے ہوئے آٹے کی) روٹی کھاتے ہوئے اور بھنی ہوئی بکری کھاتے ہوئے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6355]

6356

Sahih Ibn Hibban #6356

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ فِي عِدَّةٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لا يَدَّخِرُ شَيْئًا لِغَدٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کل کے لیے کوئی چیز ذخیرہ کر کے نہیں رکھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6356]

6357

Sahih Ibn Hibban #6357

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، وَإِِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، وَمَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّأَمْوَالَ بَنِي النَّضِيرِ كَانَتْ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا لَمْ يُوجِفِ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلا رِكَابٍ ، فَكَانَتْ لَهُ خَالِصَةٌ ، فَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ مِنْهَا نَفَقَةَ سَنَتِهِ ، وَمَا بَقِيَ جَعَلَهُ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلاحِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بنو نضیر کی زمینیں وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مالِ فے کے طور پر عطا فرمائی تھیں۔ مسلمانوں نے ان کے حصول کے لیے گھوڑے اور سواریاں نہیں دوڑائے تھے، تو یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص تھیں؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے اپنے اہل خانہ کے سال بھر کا خرچ حاصل کرتے تھے اور جو باقی بچ جاتا تھا، وہ اللہ کی راہ میں ساز و سامان اور اسلحے کے لیے استعمال فرماتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6357]

6358

Sahih Ibn Hibban #6358

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَقَدْ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا شَبِعَ مِنْ خُبْزٍ وَزَيْتٍ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ نے کبھی بھی ایک ہی دن میں دو مرتبہ روٹی اور زیتون کا تیل سیر ہو کر نہیں کھایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6358]

6359

Sahih Ibn Hibban #6359

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُجْمَعْ لَهُ غِذَاءٌ ، وَلا عِشَاءٌ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ إِِلا عَلَى ضَفَفٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر کبھی بھی صبح اور شام کے کھانے میں روٹی اور گوشت اکٹھے نہیں ہوئے، البتہ ماسوائے اس صورت کے کہ آپ لوگوں کے ساتھ کھا رہے ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6359]

6360

Sahih Ibn Hibban #6360

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ : هَلْ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ ؟ ، فَقَالَ سَهْلٌ : مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ مِنْ حِينِ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى قَبَضَهُ " ، فَقُلْتُ : هَلْ كَانَتْ لَكُمْ مَنَاخِلُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : " مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْخُلا مِنْ حِينِ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى قَبَضَهُ " ، قَالَ : قُلْتُ : فَكَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ ، غَيْرَ مَنْخُولٍ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، كُنَّا نَنْفُخُهُ فَيَطِيرُ مَا طَارَ مِنْهُ ، وَمَا بَقِيَ ثَرَّيْنَاهُ ، فَأَكَلْنَاهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوحازم بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی چھنے ہوئے آٹے کی روٹی کھائی ہے؟ تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب سے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، اس وقت سے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہیں دیکھی (یعنی نہیں کھائی)۔ میں نے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں آپ لوگوں کے پاس چھاننیاں ہوتی تھیں؟ تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا، اس وقت سے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھاننی کبھی نہیں دیکھی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا، تو پھر آپ چھانے بغیر جَو کیسے کھا لیتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم اس میں پھونک مارتے تھے، جو چیز اڑنی ہوتی تھی وہ اڑ جاتی تھی اور جو باقی بچتی تھی، اسے ہم گوندھ لیتے تھے اور کھا لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6360]

6361

Sahih Ibn Hibban #6361

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْمِنْهَالِ ابْنِ أَخِي الْحَجَّاجِ بْنِ الْمِنْهَالِ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَضِجَاعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهُ لِيفٌ " ، قَالَتْ : " وَكَانَ يَأْتِي عَلَيْنَا الشَّهْرُ مَا نَسْتَوْقِدُ نَارًا ، إِِنَّمَا هُمَا الأَسْوَدَانِ : التَّمْرُ وَالْمَاءُ ، إِِلَى أَنْ يَبْعَثَ إِِلَيْنَا جِيرَانٌ لَنَا بِغَزِيرَةِ شَاتِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر چمڑے کا بنا ہوا تھا جس میں کھجور کے پتے بھرے ہوتے تھے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بعض اوقات ہم پر ایسا مہینہ بھی آ جاتا کہ ہم پورا مہینہ آگ نہیں جلا پاتے تھے، ہماری خوراک صرف دو سیاہ چیزیں یعنی کھجور اور پانی ہوتا تھا، البتہ بعض اوقات ہمارے پڑوسی اپنی بکریوں کا دودھ ہمیں بھیج دیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6361]

6362

Sahih Ibn Hibban #6362

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنِ الْمُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى سَرِيرٍ وَهُوَ مُرْمَلٌ بِشَرِيطٍ ، قَالَ : فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، وَدَخَلَ عُمَرُ ، فَانْحَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِِذَا الشَّرِيطُ قَدْ أَثَّرَ بِجَنْبِهِ ، فَبَكَى عُمَرُ ، وَقَالَ : وَاللَّهِ إِِنَّا لَنَعْلَمُ أَنَّكَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ كِسْرَى وَقَيْصَرَ ، وَهُمَا يَعِيثَانِ فِيمَا يَعِيثَانِ فِيهِ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَهُمَا الدُّنْيَا وَلَنَا الآخِرَةُ ؟ " ، قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَسَكَتَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چارپائی پر آرام فرما تھے، وہ کھجور کی بٹی ہوئی رسی سے بنائی گئی تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ اسی دوران آپ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی اندر آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب پہلو بدلا تو اس بان کا نشان آپ کے پہلو پر موجود تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے، انہوں نے عرض کی: اللہ کی قسم! ہم یہ بات جانتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کسریٰ اور قیصر سے زیادہ معزز ہیں، لیکن وہ دونوں عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ یہ چیزیں ان دونوں کے لیے دنیا میں ہوں اور ہمارے لیے آخرت میں ہوں؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: جی ہاں۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ خاموش ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6362]

6363

Sahih Ibn Hibban #6363

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الأَرْضِ ، فَوُضِعَتْ فِي يَدَيَّ "، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنْتُمْ تَنْتَثِلُونَهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے جامع کلمات کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ہے۔“ ایک اور سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے جامع کلمات کے ہمراہ مبعوث کیا گیا۔ میری مدد کی گئی، ایک مرتبہ میں سویا ہوا تھا تو میرے پاس زمین کے خزانوں کی چابیاں لائی گئیں اور میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو (دنیا سے) تشریف لے گئے اور تم لوگ وہ چیزیں حاصل کر رہے ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6363]

6364

Sahih Ibn Hibban #6364

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، أَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُتِيتُ بِمَقَالِيدِ الدُّنْيَا عَلَى فَرَسِ أَبْلَقَ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ مِنْ سُنْدُسٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دنیا کی چابیاں میرے پاس ایک ابلق گھوڑے پر لاد کر لائی گئیں، جس پر ریشم کی بنی ہوئی چادر موجود تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6364]

6365

Sahih Ibn Hibban #6365

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَلَسَ جِبْرِيلُ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَظَرَ إِِلَى السَّمَاءِ ، فَإِِذَا مَلَكٌ يَنْزِلُ ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ : هَذَا الْمَلَكُ مَا نَزَلَ مُنْذُ خُلِقَ قَبْلَ السَّاعَةِ ، فَلَمَّا نَزَلَ ، قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ،أَرْسَلَنِي إِِلَيْكَ رَبُّكَ : أَمَلَكًا جَعَلَكَ لَهُمْ أَمْ عَبْدًا رَسُولا ؟ فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ : تَوَاضَعْ لِرَبِّكَ يَا مُحَمَّدُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا ، بَلْ عَبْدًا رَسُولا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اسی دوران انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا جس سے ایک فرشتہ نازل ہوا، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یہ فرشتہ آج سے پہلے کبھی بھی نازل نہیں ہوا، تو وہ نیچے آ گیا، اس نے عرض کی: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے پروردگار نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ہے، کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بادشاہ بنا دے یا بندے اور رسول رہنا چاہتے ہیں؟ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں تواضع اختیار کریں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں بلکہ میں بندہ اور رسول رہنا چاہتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6365]

6366

Sahih Ibn Hibban #6366

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى حَلَّ لَهُ مِنَ النِّسَاءِ مَا شَاءَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُرِّمَ عَلَيْهِ النِّسَاءُ مُدَّةً ، ثُمَّ أُحِلَّ لَهُ مِنَ النِّسَاءِ قَبْلَ مَوْتِهِ تَفَضُّلا تُفُضِّلَ عَلَيْهِ حَتَّى لا يَكُونَ بَيْنَ الْخَبَرِ وَالْكِتَابِ تَضَادُّ وَلا تَهَاتِرُ ، وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَى هَذَا قَوْلُ عَائِشَةَ : مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى حَلَّ لَهُ مِنَ النِّسَاءِ ، أَرَادَتْ بِذَلِكَ : إِِبَاحَةً بَعْدَ حَظْرٍ مُتَقَدِّمٍ عَلَى مَا ذَكَرْنَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس وقت تک وصال نہیں ہوا جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ بات حلال قرار نہیں دی گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جتنی چاہیں شادیاں کر سکتے ہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا احتمال موجود ہے کہ پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص تعداد سے زیادہ خواتین کے ساتھ شادی کرنے کو ممنوع قرار دیا گیا ہو اور پھر آپ کے وصال سے پہلے (کسی بھی متعین تعداد کے بغیر) خواتین کے ساتھ شادی کرنا حلال قرار دے دیا گیا ہو۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا جانے والا خصوصی فضل تھا۔ اس صورت میں حدیث اور کتاب اللہ کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف باقی نہیں رہے گا اور اس بات پر دلالت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول کرتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال اس وقت تک نہیں ہوا، جب تک آپ کے لیے (کسی متعین تعداد کے بغیر) خواتین (کے ساتھ شادی کرنا) حلال قرار نہیں دے دیا گیا، تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اس کے ذریعے مراد یہ ہے: یہ ایک ایسی اباحت تھی جو اس سے پہلے موجود ممنوعیت کے بعد آئی جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6366]

6367

Sahih Ibn Hibban #6367

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كُنْتُ أَغَارُ عَلَى اللاتِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَقُولُ : تَهَبُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا ؟ فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ : تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : وَاللَّهِ مَا أَرَى رَبَّكَ إِِلا يُسَارِعُ فِي هَوَاكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: مجھے ان خواتین پر بڑا غصہ آتا تھا جو خود کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شادی کے لیے پیش کر دیتی تھیں، میں یہ سوچا کرتی تھی: کیا کوئی عورت بھی اپنے ساتھ شادی کی پیشکش کر سکتی ہے؟ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ ۖ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ﴾ [سورة الأحزاب: 51] تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے دیکھا ہے کہ آپ کا پروردگار آپ کی خواہش پوری کرنے میں جلدی کرتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6367]

6368

Sahih Ibn Hibban #6368

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَأَلَهَا رَجُلٌ عَنْ مِيرَاثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : أَعَنْ مِيرَاثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُنِي لا أَبَا لَكَ ؟ ! وَاللَّهِمَا وَرِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا ، وَلا دِرْهَمًا ، وَلا عَبْدًا ، وَلا أَمَةً ، وَلا شَاةً ، وَلا بَعِيرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حزر بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت کے بارے میں دریافت کیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت کے بارے میں مجھ سے سوال کر رہے ہو؟ تمہارا باپ نہ رہے، اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وراثت میں کوئی دینار یا درہم یا غلام یا کنیز یا بکری یا اونٹ نہیں چھوڑا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6368]

6369

Sahih Ibn Hibban #6369

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّهُ ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : كَانَ خَيْرَ النَّاسِ ، وَكَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ ، وَكَانَ أَشْجَعَ النَّاسِ ، وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ، فَانْطَلَقُوا قِبَلَ الصَّوْتِ ، فَتَلَقَّاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَبَقَهُمْ إِِلَى الصَّوْتِ ، وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ ، وَفِي عُنُقِهِ السَّيْفُ ، وَهُوَ يَقُولُ لِلنَّاسِ : " لَمْ تُرَاعُوا " ، يَرُدُّهُمْ ، ثُمَّ قَالَ لِلْفَرَسِ : " وَجَدْنَاهُ بَحْرًا وَإِِنَّهُ لَبَحْرٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات بتائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بہتر تھے، سب سے زیادہ سخی تھے اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک مرتبہ اہل مدینہ خوف کا شکار ہوئے، لوگ آواز کی سمت گئے تو ان کی ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں سے پہلے ہی آواز کی طرف چلے گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے، اس پر زین موجود نہ تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن میں تلوار تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”تم لوگ گھبراؤ نہیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو واپس کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گھوڑے کے بارے میں فرمایا: ”ہم نے اسے «بَحْرًا» ”سمندر“ پایا، بے شک یہ «بَحْرٌ» ”سمندر“ ہے“ (یعنی یہ انتہائی تیز رفتار ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6369]

6370

Sahih Ibn Hibban #6370

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ ، وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ وَحِينَ يَلْقَى جِبْرِيلَ ، وَكَانَ جِبْرِيلُ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ ، فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ ، فَلَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان کے مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور زیادہ سخی ہو جاتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات سیدنا جبرائیل علیہ السلام سے ہوتی تھی، سیدنا جبرائیل علیہ السلام روزانہ رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کا دور کیا کرتے تھے، جب سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (قرآن کا دور کرنے کے لیے) حاضر ہوتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6370]