Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 55 · Chapter 2

Book of the Will

Hadith 6217–6256

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6217

Sahih Ibn Hibban #6217

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا السَّمْحِ حَدَّثَهُ ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : سَأَلَ مُوسَى رَبَّهُ عَنْ سِتِّ خِصَالٍ ، كَانَ يَظُنُّ أَنَّهَا لَهُ خَالِصَةً ، وَالسَّابِعَةُ لَمْ يَكُنْ مُوسَى يُحِبُّهَا ، قَالَ : يَا رَبِّ ، أَيُّ عِبَادِكَ أَتْقَى ؟ ، قَالَ : الَّذِي يَذْكُرُ وَلا يَنْسَى ، قَالَ : فَأَيُّ عِبَادِكَ أَهْدَى ؟ ، قَالَ : الَّذِي يَتْبَعُ الْهُدَى ، قَالَ : فَأَيُّ عِبَادِكَ أَحْكُمُ ؟ ، قَالَ : الَّذِي يَحْكُمُ لِلنَّاسِ كَمَا يَحْكُمُ لِنَفْسِهِ ، قَالَ : فَأَيُّ عِبَادِكَ أَعْلَمُ ؟ ، قَالَ : عَالِمٌ لا يَشْبَعُ مِنَ الْعِلْمِ ، يَجْمَعُ عِلْمَ النَّاسِ إِِلَى عِلْمِهِ ، قَالَ : فَأَيُّ عِبَادِكَ أَعَزُّ ؟ ، قَالَ : الَّذِي إِِذَا قَدَرَ غَفَرَ ، قَالَ : فَأَيُّ عِبَادِكَ أَغْنَى ؟ ، قَالَ : الَّذِي يَرْضَى بِمَا يُؤْتَى ، قَالَ : فَأَيُّ عِبَادِكَ أَفْقَرُ ؟ ، قَالَ : صَاحِبٌ مَنْقُوصٌ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ الْغِنَى عَنْ ظَهْرٍ ، إِِنَّمَا الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ ، وَإِِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا ، جَعَلَ غِنَاهُ فِي نَفْسِهِ ، وَتُقَاهُ فِي قَلْبِهِ ، وَإِِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ شَرًّا ، جَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ : " صَاحِبٌ مَنْقُوصٌ " ، يُرِيدُ بِهِ : مَنْقُوصٌ حَالَتُهُ ، يَسْتَقِلُّ مَا أُوتِيَ ، وَيَطْلُبُ الْفَضْلَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے چھ چیزوں کے بارے میں دریافت کیا، وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ صرف ان کے ساتھ مخصوص ہیں، جبکہ ساتویں چیز کو سیدنا موسیٰ علیہ السلام پسند نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے دریافت کیا: اے میرے پروردگار! تیرے بندوں میں کون شخص سب سے زیادہ پرہیزگار ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ جو ذکر کرتا ہے اور بھولتا نہیں ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا: تیرے بندوں میں کون شخص سب سے زیادہ ہدایت یافتہ ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو ہدایت کی پیروی کرتا ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا: تیرے بندوں میں کون سب سے بہترین فیصلہ کرنے والا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو لوگوں کے لیے وہی فیصلہ دے جو وہ اپنی ذات کے لیے دیتا ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا: تیرے بندوں میں کون سب سے زیادہ علم رکھتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ عالم جو علم سے سیر نہیں ہوتا اور لوگوں کے علم کو اپنے علم کے ساتھ جمع کر لیتا ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا: تیرے بندوں میں کون سب سے زیادہ طاقتور ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جب وہ قدرت رکھتا ہو تو معاف کر دے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا: تیرے بندوں میں کون سب سے زیادہ خوشحال ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو اس چیز پر راضی ہو جو اسے دی گئی ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا: تیرے بندوں میں کون سب سے زیادہ غریب ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ شخص جس کو کم چیزیں دی گئی ہوں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خوشحالی ساز و سامان سے نہیں ہوتی بلکہ خوشحالی دل کا غنی ہونا ہے، جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے تو اس کے من میں خوشحالی ڈال دیتا ہے اور اس کے دل میں پرہیزگاری ڈال دیتا ہے، جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں برائی کا ارادہ کر لے تو اس کی غربت اس کی آنکھوں کے سامنے کر دیتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ «صَاحِبُ مَنْقُوصٍ» سے مراد یہ ہے جس کی حالت میں نقص ہو اسے جو دیا گیا وہ اسے تھوڑا سمجھتا ہو اور مزید کا طلب گار ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6217]

6218

Sahih Ibn Hibban #6218

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ دَرَّاجًا حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ مُوسَى : يَا رَبِّ ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَذْكُرُكَ بِهِ ، وَأَدْعُوكَ بِهِ ، قَالَ : قُلْ يَا مُوسَى : لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ ، قَالَ : يَا رَبِّ ، كُلُّ عِبَادِكَ يَقُولُ هَذَا ، قَالَ : قُلْ : لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ ، قَالَ : إِِنَّمَا أُرِيدُ شَيْئًا تَخُصُّنِي بِهِ ، قَالَ : يَا مُوسَى ، لَوْ أَنَّ أَهْلَ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَالأَرَضِينَ السَّبْعِ فِي كِفَّةٍ ، وَلا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ فِي كِفَّةٍ ، مَالَتْ بِهِمْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے پروردگار! تو مجھے کسی ایسی چیز کے بارے میں تعلیم دے جس کے ذریعے میں تیرا ذکر کروں، جس کے ہمراہ میں تجھ سے دعا کروں، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسیٰ! تم «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے“ پڑھو۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے پروردگار! تیرے سارے بندے یہ کلمہ پڑھتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» پڑھو۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: میں یہ چاہتا ہوں کہ کوئی ایسی چیز ہو جو میرے ساتھ خاص ہو، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسیٰ! اگر سات آسمانوں کے رہنے والے اور سات زمینوں کے رہنے والے لوگ ایک پلڑے میں ہوں اور «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» دوسرے پلڑے میں ہو، تو «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» والا پلڑا جھک جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6218]

6219

Sahih Ibn Hibban #6219

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ رُفَيْعٍ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى وَادِي الأَزْرَقِ فَقَالَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِِلَى مُوسَى مُنْهَبِطًا وَلَهُ جُؤَارٌ إِِلَى رَبِّهِ بِالتَّلْبِيَةِ " ، وَمَرَّ عَلَى ثَنِيَّةٍ ، فَقَالَ : " مَا هَذِهِ ؟ " ، قِيلَ : ثَنِيَّةُ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِِلَى مُوسَى يَرْمِي الْجَمْرَةَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ ، خِطَامُهَا مِنْ لِيفٍ ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وادیِ ازرق پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں گویا اس وقت بھی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں جو بلندی سے نیچے کی طرف اتر رہے ہیں اور وہ تلبیہ کے ذریعے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کر رہے ہیں۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک گھاٹی سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”یہ کون سی گھاٹی ہے؟“ تو بتایا گیا: یہ فلاں فلاں گھاٹی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں گویا اس وقت بھی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف دیکھ رہا ہوں جو سرخ اونٹنی پر سوار ہو کر جمرہ کو کنکریاں مار رہے ہیں۔ اس اونٹنی کی لگام کھجور کی چھال سے بنی ہوئی ہے اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اونی جبہ پہنا ہوا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6219]

6220

Sahih Ibn Hibban #6220

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ مِنْ كِتَابِهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَفِظْتُهُ مِنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : قُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ : إِِنَّ نَوْفًا الْبَكَالِيَّ يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ لَيْسَ بِصَاحِبِ الْخَضِرِ ، إِِنَّمَا هُوَ مُوسَى آخَرُ ، قَالَ : كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قَامَ مُوسَى فِي بَنِي إِِسْرَائِيلَ خَطِيبًا ، فَقِيلَ لَهُ : أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ ؟ ، قَالَ : أَنَا ، قَالَ : فَعَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، إِِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِِلَيْهِ ، فَقَالَ : عَبْدٌ لِي بِمَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ ، قَالَ : أَيْ رَبِّ ، فَكَيْفَ لِي بِهِ ؟ ، قَالَ : تَأْخُذُ حُوتًا ، فَتَجْعَلُهُ فِي مِكْتَلٍ ، فَحَيْثُ مَا فَقَدْتَ الْحُوتَ فَهُوَ ، ثَمَّ قَالَ : فَأَخَذَ الْحُوتَ ، فَجَعَلَهُ فِي الْمِكْتَلِ ، فَدَفَعَهُ إِِلَى فَتَاهُ ، فَانْطَلَقَا حَتَّى أَتَيَا الصَّخْرَةَ ، فَرَقَدَ مُوسَى ، فَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فِي الْمِكْتَلِ ، فَخَرَجَ ، فَوَقَعَ فِي الْبَحْرِ ، فَأَمْسَكَ اللَّهُ عَلَيْهِ جَرْيَةَ الْمَاءِ ، فَصَارَ مِثْلَ الطَّاقِ ، فَكَانَ الْبَحْرُ لِلْحُوتِ سَرَبًا ، وَلِمُوسَى وَلِفَتَاهُ عَجَبًا ، فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ ، وَجَدَ مُوسَى النَّصَبَ ، فَقَالَ : آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا ، قَالَ : وَلَمْ يَجِدِ النَّصَبَ حَتَّى جَاوَزَ الْمَكَانَ الَّذِي أَمَرَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا ، فَقَالَ لَهُ فَتَاهُ : أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ ، قَالَ : ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا ، فَجَعَلا يَقُصَّانِ آثَارَهُمَا حَتَّى أَتَيَا الصَّخْرَةَ ، فَإِِذَا رَجُلٌ مُسَجًّى عَلَيْهِ بِثَوْبٍ ، فَسَلَّمَ ، فَقَالَ : وَأَنَّى بِأَرْضِكَ السَّلامُ ؟ ، قَالَ : أَنَا مُوسَى ، قَالَ : مُوسَى بَنِي إِِسْرَائِيلَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : يَا مُوسَى ، إِِنِّي عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَنِيهِ اللَّهُ لا تَعْلَمُهُ ، وَأَنْتَ عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَكَهُ لا أَعْلَمُهُ ، قَالَ : إِِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَتَّبِعَكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِي مِمَّا عَلِمْتَ رُشْدًا ، قَالَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا قَالَ فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا ، قَالَ : فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ عَلَى السَّاحِلِ ، فَمَرَّتْ بِهِ سَفِينَةٌ ، فَعَرَفُوا الْخَضِرَ ، فَحَمَلُوهُ بِغَيْرِ نَوْلٍ ، قَالَ : فَلَمْ يَفْجَأْ مُوسَى إِِلا وَهُوَ يُنْزِلُ لَوْحًا مِنْ أَلْوَاحِ السَّفِينَةِ ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى : مَا صَنَعْتَ ؟ قَوْمٌ حَمَلُوكَ بِغَيْرِ نَوْلٍ عَمَدْتَ إِِلَى سَفِينَتِهِمْ ، فَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا قَالَ لا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا ، قَالَ : فَكَانَتِ الأُولَى مِنْ مُوسَى نِسْيَانًا ، قَالَ : وَجَاءَ عُصْفُورٌ ، فَوَقَعَ عَلَى حَرْفِ السَّفِينَةِ ، فَنَقَرَ بِمِنْقَارِهِ فِي الْبَحْرِ ، فَقَالَ الْخَضِرُ لِمُوسَى : مَا نَقَصَ عِلْمِي وَعَلَّمُكَ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ إِِلا مِثْلَ مَا نَقَصَ هَذَا الْعُصْفُورُ بِمِنْقَارِهِ مِنَ الْبَحْرِ ، قَالَ : وَمَرُّوا عَلَى غِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ ، فَقَالَ الْخَضِرُ لِغُلامٍ مِنْهُمْ بِيَدِهِ هَكَذَا ، فَاقْتَلَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى : أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا ، قَالَ : " فَأَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ " ، فَقَالَ الْخَضِرُ بِيَدِهِ هَكَذَا ، فَأَقَامَهُ ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى : اسْتَطْعَمْنَاهُمْ ، فَأَبَوْا أَنْ يُطْعِمُونَا ، وَاسْتَضَفْنَاهُمْ ، فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُونَا ، عَمَدْتَ إِِلَى حَائِطِهِمْ ، فَأَقَمْتَهُ ! لَوْ شِئْتَ لاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَدِدْنَا أَنْ مُوسَى كَانَ صَبَرَ حَتَّى يَقُصَّ عَلَيْنَا مِنْ أَمْرِهِمْ "، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ : وَأَمَّا الْغُلامُ كَانَ كَافِرًا وَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ ، وَيَقْرَأُ : وَكَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: نوف بکالی یہ کہتا ہے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام وہ والے موسیٰ نہیں ہیں جن کی ملاقات سیدنا خضر علیہ السلام سے ہوئی تھی (سیدنا خضر علیہ السلام سے ملنے والے موسیٰ) دوسرے موسیٰ تھے، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کے دشمن نے غلط بیانی کی ہے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ہمیں یہ حدیث سنائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک مرتبہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل میں کھڑے خطبہ دے رہے تھے، ان سے دریافت کیا گیا کہ کون سا شخص سب سے زیادہ علم رکھتا ہے؟ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا: میں، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا کہ انہوں نے اس بات کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کیوں نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ پر میرا ایک بندہ ہے وہ تم سے زیادہ علم رکھتا ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے پروردگار! میں اس سے کیسے مل سکتا ہوں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم ایک مچھلی لے کر اسے ایک برتن میں رکھو، جس جگہ تم مچھلی کو گم کر دو گے وہ بندہ وہاں ہو گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے مچھلی لی اور اسے ایک برتن میں رکھ دیا۔ وہ برتن انہوں نے اپنے ساتھی کے سپرد کر دیا، یہ دونوں حضرات روانہ ہو گئے، یہاں تک کہ یہ دونوں چٹان کے پاس آئے، وہاں سیدنا موسیٰ علیہ السلام سو گئے، مچھلی نے برتن میں حرکت کی، اس سے باہر نکلی اور دریا میں چلی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے پانی کے بہاؤ کو روک دیا اور وہ طاق کی مانند ہو گیا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی نوجوان حیران ہوئے۔ یہ دونوں حضرات پھر آگے روانہ ہو گئے۔ اگلے دن سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو تھکاوٹ محسوس ہوئی تو انہوں نے کہا: ہمارا کھانا لے کر آؤ، ہمیں اس سفر میں تھکاوٹ محسوس ہو رہی ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”انہیں تھکاوٹ اس وقت تک محسوس نہیں ہوئی تھی، جب تک وہ اس مقام سے آگے نہیں گزر گئے تھے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا۔ ان کے ساتھی نے ان سے کہا: کیا آپ نے ملاحظہ فرمایا جب ہم چٹان کی پناہ میں گئے تھے تو میں مچھلی کو بھول گیا تھا اور مجھے شیطان نے یہ بات بھلا دی کہ میں اس کا ذکر کرتا؟ اس پر سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ہم وہی جگہ تو چاہتے تھے، پھر یہ دونوں حضرات الٹے قدموں واپس آئے، یہ اپنے قدموں کے نشانات دیکھتے ہوئے واپس آئے، یہاں تک کہ اس چٹان تک آ گئے۔ وہاں ایک شخص اپنے اوپر چادر اوڑھ کر لیٹا ہوا تھا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اسے سلام کیا تو اس شخص نے کہا: اس جگہ پر سلام کہاں سے آ گیا؟ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: میں موسیٰ ہوں۔ اس نے دریافت کیا: بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے موسیٰ؟ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس نے کہا: اے موسیٰ! مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا علم ملا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے، آپ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا علم ملا ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے، میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں کہ آپ مجھے اس چیز کی تعلیم دیں جو آپ کو ہدایت کا علم عطا کیا گیا ہے، تو اس شخص نے کہا: آپ میرے ساتھ رہ کر صبر سے کام نہیں لے سکیں گے، اور آپ اس چیز پر کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے بارے میں آپ کو معلوم ہی نہیں ہے؟ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے، میں کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: اگر آپ میری پیروی کرنا چاہتے ہیں تو پھر آپ نے مجھ سے کسی بھی چیز کے بارے میں اس وقت تک دریافت نہیں کرنا جب تک میں خود اس بارے میں آپ کے سامنے ذکر نہیں کر دیتا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر یہ دونوں حضرات دریا کے کنارے روانہ ہو گئے۔ وہاں سے ایک کشتی گزری، ان لوگوں نے سیدنا خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور کسی معاوضے کے بغیر انہیں کشتی میں سوار کر لیا۔ کچھ ہی دیر بعد سیدنا خضر علیہ السلام نے اس کشتی کی ایک تختی توڑ دی، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: یہ آپ نے کیا کیا ہے؟ انہوں نے کسی معاوضے کے بغیر آپ کو سوار کیا اور آپ نے ان کی کشتی کی تختی توڑ دی ہے تاکہ کشتی والے ڈوب جائیں، آپ نے غلط کام کیا ہے۔ سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: کیا میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر سے کام نہیں لیں گے؟ تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں جو بات بھول گیا تھا، آپ اس بارے میں میرا مواخذہ نہ کریں اور میرے معاملے میں تنگی پیدا نہ کریں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے پہلی (خلاف ورزی تھی) جو بھولنے کی وجہ سے تھی۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اسی دوران ایک چڑیا آئی اور اس کشتی کے کنارے پر بیٹھ گئی۔ اس نے اپنی چونچ پانی میں ڈالی تو سیدنا خضر علیہ السلام نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے کہا: میرا علم اور آپ کا علم اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلے میں وہ حیثیت بھی نہیں رکھتے جو اس چڑیا نے اپنی چونچ کے ذریعے سمندر کے پانی سے لی ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان حضرات کا گزر کچھ لڑکوں کے پاس سے ہوا جو کھیل رہے تھے، سیدنا خضر علیہ السلام نے ان میں سے ایک لڑکے کو اپنے ہاتھ سے قتل کر دیا، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: آپ نے ایک پاکیزہ جان کو کسی جان کے بدلے کے بغیر قتل کر دیا ہے، آپ نے سخت ناپسندیدہ حرکت کی ہے، تو سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: کیا میں نے آپ سے یہ نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہیں کر سکیں گے؟ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیے گا، آپ کو میری طرف سے عذر پہنچ گیا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہ دونوں حضرات ایک بستی میں آئے اور وہاں کے رہنے والوں سے کھانے کے لیے مانگا، تو انہوں نے ان دونوں کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا۔ ان دونوں حضرات نے اس بستی میں ایک دیوار پائی جو گرنے کے قریب تھی، سیدنا خضر علیہ السلام نے اپنے ہاتھ کے ذریعے سہارا دے کر اسے سیدھا کر دیا، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: ہم نے ان لوگوں سے کھانا مانگا، انہوں نے ہمیں کھلانے سے انکار کر دیا، ہم نے انہیں مہمان نوازی کے لیے کہا تو انہوں نے ہماری مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا، حالانکہ آپ نے ان لوگوں کی دیوار ٹھیک کر دی ہے، اگر آپ چاہتے تو ان سے اس کا معاوضہ لے سکتے تھے۔ سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: یہ میرے اور آپ کے درمیان جدائی کا وقت ہے۔ میں آپ کو ان چیزوں کی حقیقت کے بارے میں بتاتا ہوں جن پر آپ صبر سے کام نہیں لے سکے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہماری خواہش تھی کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام صبر سے کام لیتے تاکہ ان حضرات کے واقعے کے بارے میں مزید چیزیں ہمارے سامنے آ جاتیں۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یوں تلاوت کیا کرتے تھے: ”جہاں تک لڑکے کا تعلق ہے وہ کافر تھا اور اس کے ماں باپ مومن تھے۔“ اور وہ یوں تلاوت کیا کرتے تھے: ”اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر (صحیح و سالم) کشتی کو غصب کر لیتا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6220]

6221

Sahih Ibn Hibban #6221

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَقَبَةَ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبَيِّ ، قَالَ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِنَّالْغُلامَ الَّذِي قَتَلَهُ الْخَضِرُ طُبِعَ يَوْمَ طُبِعَ كَافِرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ لڑکا جسے سیدنا خضر علیہ السلام نے قتل کیا تھا وہ فطری طور پر کافر پیدا ہوا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6221]

6222

Sahih Ibn Hibban #6222

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّمَاسُمَيَّ الْخَضِرُ خَضِرًا ، لأَنَّهُ جَلَسَ عَلَى فَرْوَةٍ بَيْضَاءَ ، فَإِِذَا هِيَ تَهْتَزُّ تَحْتَهُ خَضْرَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سیدنا خضر علیہ السلام کا نام خضر اس لیے ہے اگر وہ کسی سفید بنجر زمین پر بیٹھ جائیں، تو ان کے نیچے سبزہ لہلہانے لگتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6222]

6223

Sahih Ibn Hibban #6223

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِِلَى مُوسَى لِيَقْبِضَ رُوحَهُ ، فَلَطَمَهُ مُوسَى ، فَفَقَأَ عَيْنَهُ ، قَالَ : فَرَجَعَ إِِلَى رَبِّهِ ، فَقَالَ : يَا رَبِّ ، أَرْسَلْتَنِي إِِلَى عَبْدٍ لا يُرِيدُ الْمَوْتَ ؟ قَالَ : ارْجِعْ إِِلَيْهِ ، فَقُلْ : إِِنْ شِئْتَ فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ ، فَلَكَ بِكُلِّ مَا غَطَّتْ يَدُكَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ : ثُمَّ مَاذَا ؟ ، قَالَ : ثُمَّ الْمَوْتُ ، قَالَ : فَالآنَ يَا رَبِّ ، قَالَ : فَسَأَلَ اللَّهُ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنَ الأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةَ حَجَرٍ " ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كُنْتُ ثَمَّتَ ، لأَرَيْتُكُمْ مَوْضِعَ قَبْرِهِ إِِلَى جَانِبِ الطُّورِ تَحْتَ الْكَثِيبِ الأَحْمَرِ "، قَالَ مَعْمَرٌ : وَأَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : إِِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا بَعَثَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلِّمًا لِخَلْقِهِ ، فَأَنْزَلَهُ مَوْضِعَ الإِِبَانَةِ عَنْ مُرَادِهِ ، فَبَلَّغَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِسَالَتَهُ ، وَبَيَّنَ عَنْ آيَاتِهِ بِأَلْفَاظٍ مُجْمَلَةٍ وَمُفَسَّرَةٍ ، عَقَلَهَا عَنْهُ أَصْحَابُهُ أَوْ بَعْضُهُمْ ، وَهَذَا الْخَبَرُ مِنَ الإِِخْبَارِ الَّتِي يُدْرِكُ مَعْنَاهُ مَنْ لَمْ يَحْرُمِ التَّوْفِيقَ لإِِصَابَةِ الْحَقِّ ، وَذَاكَ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا أَرْسَلَ مَلَكَ الْمَوْتِ إِِلَى مُوسَى رِسَالَةَ ابْتِلاءٍ وَاخْتِبَارٍ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقُولَ لَهُ : أَجِبْ رَبَّكَ ، أَمْرَ اخْتِبَارٍ وَابْتِلاءٍ ، لا أَمْرًا يُرِيدُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا إِِمْضَاءَهْ ، كَمَا أَمَرَ خَلِيلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ بِذِبْحِ ابْنِهِ أَمْرَ اخْتِبَارٍ وَابْتِلاءٍ ، دُونَ الأَمْرِ الَّذِي أَرَادَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا إِِمْضَاءَهُ ، فَلَمَّا عَزَمَ عَلَى ذَبْحِ ابْنِهِ ، وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ ، فَدَاهُ بِالذَّبْحِ الْعَظِيمِ ، وَقَدْ بَعَثَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا الْمَلائِكَةَ إِِلَى رُسُلِهِ فِي صُوَرٍ لا يَعْرِفُونَهَا ، كَدُخُولِ الْمَلائِكَةِ عَلَى رَسُولِهِ إِِبْرَاهِيمَ وَلَمْ يَعْرِفْهُمْ ، حَتَّى أَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً ، وَكَمَجِيءِ جِبْرِيلَ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُؤَالِهِ إِِيَّاهُ عَنِ الإِِيمَانِ وَالإِِسْلامِ ، فَلَمْ يَعْرِفْهُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى وَلَّى ، فَكَانَ مَجِيءُ مَلَكِ الْمَوْتِ إِِلَى مُوسَى عَلَى غَيْرِ الصُّورَةِ الَّتِي كَانَ يَعْرِفُهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ عَلَيْهَا ، وَكَانَ مُوسَى غَيُورًا ، فَرَأَى فِي دَارِهِ رَجُلا لَمْ يَعْرِفْهُ ، فَشَالَ يَدَهُ فَلَطَمَهُ ، فَأَتَتْ لَطْمَتُهُ عَلَى فَقْءِ عَيْنِهِ الَّتِي فِي الصُّورَةِ الَّتِي يَتَصَوَّرُ بِهَا ، لا الصُّورَةِ الَّتِي خَلْقَهُ اللَّهُ عَلَيْهَا ، وَلَمَّا كَانَ الْمُصَرَّحُ عَنْ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَبَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، حَيْثُ قَالَ : " أَمَّنِي جِبْرِيلُ عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ " ، فَذَكَرَ الْخَبَرَ ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ : " هَذَا وَقْتُكَ وَوَقْتُ الأَنْبِيَاءِ قَبْلَكَ " : كَانَ فِي هَذَا الْخَبَرِ الْبَيَانُ الْوَاضِحُ أَنَّ بَعْضَ شَرَائِعِنَا قَدْ تَتَّفِقُ بِبَعْضِ شَرَائِعِ مَنْ قَبْلَنَا مِنَ الأُمَمِ ، وَلَمَّا كَانَ مِنْ شَرِيعَتِنَا أَنَّ مَنْ فَقَأَ عَيْنَ الدَّاخِلِ دَارَهُ بِغَيْرِ إِِذْنِهِ ، أَوِ النَّاظِرِ إِِلَى بَيْتِهِ بِغَيْرِ أَمْرِهِ مِنْ غَيْرِ جُنَاحٌ عَلَى فَاعِلِهِ ، وَلا حَرَجٍ عَلَى مُرْتَكِبِهِ ، لِلأَخْبَارِ الْجَمَّةِ الْوَارِدَةِ فِيهِ الَّتِي أَمْلَيْنَاهَا فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا : كَانَ جَائِزًا اتِّفَاقُ هَذِهِ الشَّرِيعَةِ بِشَرِيعَةِ مُوسَى ، بِإِِسْقَاطِ الْحَرَجِ عَمَّنْ فَقَأَ عَيْنَ الدَّاخِلِ دَارَهُ بِغَيْرِ إِِذْنِهِ ، فَكَانَ اسْتِعْمَالُ مُوسَى هَذَا الْفِعْلِ مُبَاحًا لَهُ ، وَلا حَرَجَ عَلَيْهِ فِي فِعْلِهِ ، فَلَمَّا رَجَعَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِِلَى رَبِّهِ ، وَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ مِنْ مُوسَى فِيهِ ، أَمَرَهُ ثَانِيًا بِأَمْرِ آخَرَ ، أَمْرَ اخْتِبَارٍ وَابْتِلاءٍ كما ذَكَرْنَا قَبْلُ ، إِِذْ قَالَ اللَّهُ لَهُ : قُلْ لَهُ : إِِنْ شِئْتَ ، فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ ، فَلَكَ بِكُلِّ مَا غَطَّتْ يَدُكَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ ، فَلَمَّا عَلِمَ مُوسَى كَلِيمُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ أَنَّهُ مَلَكُ الْمَوْتِ ، وَأَنَّهُ جَاءَهُ بِالرِّسَالَةِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ، طَابَتْ نَفْسُهُ بِالْمَوْتِ ، وَلَمْ يَسْتَمْهِلْ ، وَقَالَ : فَالآنَ ، فَلَوْ كَانَتِ الْمَرَّةُ الأُولَى عَرَفَهُ مُوسَى أَنَّهُ مَلَكُ الْمَوْتِ ، لاسْتَعْمَلَ مَا اسْتَعْمَلَ فِي الْمَرَّةِ الأُخْرَى عِنْدَ تَيَقُّنِهِ وَعِلْمِهِ بِهِ ، ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ حَمَّالَةُ الْحَطَبِ ، وَرُعَاةُ اللَّيْلِ ، يَجْمَعُونَ مَا لا يَنْتَفِعُونَ بِهِ ، وَيَرْوُونَ مَا لا يُؤْجَرُونَ عَلَيْهِ ، وَيَقُولُونَ بِمَا يُبْطِلُهُ الإِِسْلامُ ، جَهْلا مِنْهُ لِمَعَانِي الأَخْبَارِ ، وَتَرْكَ التَّفَقُّهِ فِي الآثَارِ ، مُعْتَمِدًا مِنْهُ عَلَى رَأْيِهِ الْمَنْكُوسِ ، وَقِيَاسِهِ الْمَعْكُوسِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ملک الموت کو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف بھیجا گیا تاکہ وہ ان کی روح قبض کر لے، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اسے تھپڑ مارا اور اس کی آنکھ پھوڑ دی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں گیا اور عرض کی: تو نے مجھے ایک ایسے بندے کی طرف بھیجا ہے جو مرنا نہیں چاہتا، پروردگار نے فرمایا: تم اس کے پاس واپس جاؤ اس سے کہو اگر تم چاہو تو کسی بیل کی پشت پر اپنا ہاتھ رکھو تمہارے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے۔ ان میں سے ہر ایک بال کے عوض تمہیں ایک سال کی زندگی مل جائے گی، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرشتے سے دریافت کیا: پھر کیا ہوگا۔ اس نے کہا: پھر موت آ جائے گی، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے میرے پروردگار! پھر ابھی (میں فوت ہو جاتا ہوں)۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کی کہ وہ انہیں ارضِ مقدس کے اتنا قریب کر دے جتنی دور پتھر جا کر گرتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ”اگر میں وہاں ہوتا تو میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی قبر دکھاتا، جو کوہِ طور کے ایک طرف سرخ ٹیلے کے نیچے تھی۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) بے شک اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی مخلوق کا معلم بنا کے بھیجا ہے اور انہیں (اپنے احکام کی) مراد کو واضح کرنے کا مقام عطا کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی رسالت کی تبلیغ کی اور اس کی آیات کے مجمل الفاظ کو بیان کیا اور اس کی تفسیر کی، جسے آپ سے آپ کے اصحاب نے سیکھا، یا ان میں سے بعض افراد نے سیکھا، یہ روایت بھی ان روایات میں شامل ہے، جس کا مفہوم وہ شخص جان سکتا ہے جو حق تک پہنچنے کی توفیق سے محروم نہ ہو اور وہ یوں کہ اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف اس لیے بھیجا تاکہ آزمائش کو ظاہر کرے اور خبر کو ظاہر کرے اور اسے یہ حکم دیا کہ وہ ان سے یہ کہے کہ وہ اپنے پروردگار کے بلاوے پر لبیک کہیں، تو یہ ایک ایسا حکم تھا جو خبر جاننے کے لیے اور آزمائش کے لیے تھا۔ یہ کوئی ایسا حکم نہیں تھا جسے جاری کرنا اللہ تعالیٰ کی مراد ہوتی جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر دیں، تو یہ خبر معلوم کرنے کے لیے اور آزمائش کے طور پر تھا یہ کوئی ایسا حکم نہیں تھا جسے اللہ تعالیٰ برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتا تھا، تو جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کا فدیہ عظیم صورت میں دیا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے (مختلف موقعوں پر) فرشتوں کو اپنے رسولوں کی طرف ایسی شکل و صورت میں بھیجا کہ وہ رسول انہیں پہچان نہیں سکے، جس طرح کچھ فرشتے اللہ کے رسول سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام انہیں پہچان نہیں سکے، یہاں تک کہ انہیں ان کی طرف سے خوف محسوس ہوا۔ اسی طرح سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان اور اسلام کے بارے میں سوالات کیے، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اس وقت نہیں پہچانے جب وہ واپس چلے گئے تھے، تو جب ملک الموت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، تو وہ اس سے مختلف صورت میں تھا جس صورت میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام اس سے واقف تھے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام مزاج کے تیز تھے۔ انہیں اپنے گھر میں ایک ایسا شخص نظر آیا جس سے وہ واقف نہیں تھے، تو انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اسے طمانچہ رسید کر دیا۔ طمانچے کے نتیجے میں ملک الموت کی وہ آنکھ پھوٹ گئی جو اس کی اس شکل کے مطابق تھی جس شکل کو اختیار کر کے وہ آیا تھا۔ اس سے مراد اس کی وہ شکل نہیں ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول روایت میں ہمارے نبی کی طرف سے اس بات کی صراحت آئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جبرائیل نے بیت اللہ کے پاس دو مرتبہ میری امامت کی۔“ اس کے بعد پوری روایت ہے جس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: ”یہ آپ کا اور آپ سے پہلے کے انبیاء کا وقت ہے“ تو اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ بعض شرعی احکام میں ہماری شریعت کا وہی حکم ہے جو پہلی امتوں کی شریعت کا تھا۔ تو جب ہماری شریعت کا یہ حکم ہے کہ جو شخص اجازت لیے بغیر اپنے گھر میں داخل ہونے والے شخص کی آنکھ پھوڑ دیتا ہے، تو ایسا کرنے والے شخص پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ اس بارے میں بہت سی روایات منقول ہیں جنہیں ہم اپنی کتابوں میں دیگر مقامات پر املا کروا چکے ہیں، تو یہ بات بھی جائز ہوگی کہ اس بارے میں اس شریعت اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کا حکم متفق ہو کہ جو شخص اپنے گھر میں اجازت کے بغیر داخل ہونے والے شخص کی آنکھ پھوڑ دیتا ہے اسے گناہ نہیں ہوگا، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے یہ فعل کیا۔ یہ ان کے لیے مباح تھا اور ایسا کرنے پر ان پر کوئی حرج لاحق نہیں ہوا۔ جب ملک الموت اپنے پروردگار کی بارگاہ میں واپس گیا اور اسے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے پیش آنے والی صورت حال کے بارے میں بتایا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ یہ حکم دیا کہ وہ دوسری مرتبہ اطلاع حاصل کرنے کے لیے اور آزمائش کے لیے جائے جیسا کہ ہم اس سے پہلے یہ بات ذکر کر چکے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا تم اس سے کہو اگر تم چاہو، تو اپنا ہاتھ بیل کی پشت پر رکھو، تو تمہارے ہاتھ کے نیچے جتنے بھی بال آئیں گے ہر ایک بال کے عوض میں تمہیں ایک سال کی زندگی مل جائے گی جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو اس بات کا پتہ چلا کہ یہ ملک الموت ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام لے کر آیا ہے، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام ذہنی طور پر مرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ انہوں نے مزید مہلت نہیں مانگی۔ انہوں نے کہا: پھر ابھی ٹھیک ہے۔ اگر سیدنا موسیٰ علیہ السلام پہلی مرتبہ اسے پہچان لیتے کہ یہ موت کا فرشتہ ہے، تو وہ وہی طرز عمل اختیار کرتے جو دوسری مرتبہ اختیار کیا تھا، جب انہیں اس بارے میں یقین تھا۔ اس بارے میں علم بھی حاصل ہو چکا تھا۔ یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے جو یہ کہتا ہے محدثین صرف لکڑیوں کا گٹھا اٹھاتے ہیں۔ وہ رات کے وقت بکریاں چراتے ہیں وہ ایسی چیز جمع کرتے ہیں جس کے ذریعے انہیں فائدہ حاصل نہیں ہوتا اور ایسی چیز روایت کرتے ہیں، جس پر انہیں اجر نہیں دیا جائے گا اور وہ ایسے نظریات رکھتے ہیں، جو اسلام جنہیں باطل قرار دیتا ہے یہ وہ شخص ہے جو احادیث کے معانی سے ناواقفیت کی وجہ سے اور روایات میں غور و فکر ترک کرنے کی وجہ سے (یہ نظریات رکھتا ہے) اور یہ شخص اپنی کمزور رائے اور الٹے قیاس کی بنیاد پر یہ رائے رکھتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6223]

6224

Sahih Ibn Hibban #6224

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِِلَى مُوسَى لِيَقْبِضَ رُوحَهُ ، فَقَالَ لَهُ : أَجِبْ رَبَّكَ ، فَلَطَمَ مُوسَى عَيْنَ مَلَكِ الْمَوْتِ ، فَفَقَأَ عَيْنَهُ ، فَرَجَعَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِِلَى رَبِّهِ ، فَقَالَ : يَا رَبِّ ، أَرْسَلْتَنِي إِِلَى عَبْدٍ لا يُرِيدُ الْمَوْتَ ، وَقَدْ فَقَأَ عَيْنِي ، فَرَدَّ اللَّهُ عَلَيْهِ عَيْنَهُ ، فَقَالَ لَهُ : ارْجِعْ إِِلَيْهِ ، فَقُلْ لَهُ : الْحَيَاةَ تُرِيدُ ، فَإِِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْحَيَاةَ ، فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ ، فَإِِنَّكَ تَعِيشُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ وَارَتْ يَدُكَ سَنَةً ، قَالَ : ثُمَّ مَهْ ؟ ، قَالَ : الْمَوْتُ ، قَالَ : فَالآنَ مِنْ قَرِيبٍ ، ثُمَّ قَالَ : رَبِّ ، أَدْنِنِي مِنَ الأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَنِّي عِنْدَهُ لأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِِلَى جَنْبِ الطَّرِيقِ عِنْدَ الْكَثِيبِ الأَحْمَرِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذِهِ اللَّفْظَةُ " أَجِبْ رَبَّكَ " ، قَدْ تُوهِمُ مَنْ لَمْ يَتَبَحَّرْ فِي الْعِلْمِ أَنَّ التَّأْوِيلَ الَّذِي قُلْنَاهُ لِلْخَبَرِ مَدْخُولٌ ، وَذَلِكَ فِي قَوْلِ مَلَكِ الْمَوْتِ لِمُوسَى : " أَجِبْ رَبَّكَ " بَيَانٌ أَنَّهُ عَرَفَهُ ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ ، لأَنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ لَمَّا شَالَ يَدَهُ وَلَطَمَهُ ، قَالَ لَهُ : " أَجِبْ رَبَّكَ " ، تَوَهَّمَ مُوسَى أَنَّهُ يَتَعَوَّذُ بِهَذِهِ اللَّفْظَةِ دُونَ أَنْ يَكُونَ رَسُولَ اللَّهِ إِِلَيْهِ ، فَكَانَ قَوْلُهُ : " أَجِبْ رَبَّكَ " الْكَشْفَ عَنْ قَصْدِ الْبِدَايَةِ فِي نَفْسِ الابْتِلاءِ ، وَالاخْتِبَارِ الَّذِي أُرِيدَ مِنْهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ملک الموت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تاکہ ان کی روح قبض کر لے، اس نے ان سے کہا: «أَجِبْ دَاعِيَ رَبِّكَ» ”آپ اپنے پروردگار کی دعوت کو قبول کیجئے،“ تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے ملک الموت کی آنکھ پر طمانچہ مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دی، ملک الموت اپنے پروردگار کی بارگاہ میں واپس گیا اور بولا: اے میرے پروردگار! کیا تو نے مجھے ایک ایسے بندے کی طرف بھیجا ہے جو مرنا نہیں چاہتا؟ اس نے میری آنکھ پھوڑ دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ کو ٹھیک کر دیا اور فرمایا: تم اس کے پاس واپس جاؤ اور اس سے کہو: کیا تم زندگی چاہتے ہو؟ اگر تم زندگی چاہتے ہو تو اپنا ہاتھ کسی بیل کی پشت پر رکھو، تمہارے ہاتھ کے نیچے جتنے بھی بال آئیں گے، ہر ایک بال کے عوض میں ایک سال کی زندگی مل جائے گی۔ (جب یہ بات سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو بتائی گئی) تو انہوں نے دریافت کیا: پھر کیا ہوگا؟ فرشتے نے کہا: پھر موت آ جائے گی، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: (تو میں ابھی فوت ہو جاتا ہوں)۔ پھر سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی: اے میرے پروردگار! مجھے ارضِ مقدس کے اتنا قریب کر دے جتنی دور کوئی پتھر جا کر گرتا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اگر میں وہاں ہوتا تو میں تمہیں راستے کے ایک طرف سرخ ٹیلے کے پاس ان کی قبر دکھاتا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ ”آپ اپنے پروردگار کی دعوت کو قبول کیجئے“ یہ اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کرتے ہیں جو علمِ حدیث میں مہارت نہیں رکھتا (اور وہ یہ سمجھتا ہے) کہ وہ تاویل جو ہم نے اس روایت کی بیان کی ہے وہ درست نہیں ہے۔ وہ اس وجہ سے کہ ملک الموت نے یہ کہا تھا: ”آپ اپنے پروردگار کے بلاوے کو قبول کیجئے۔“ یہ اس بات کا واضح بیان ہے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام ملک الموت کو پہچان گئے تھے، حالانکہ ایسا نہیں ہے؛ کیونکہ جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنا ہاتھ پھیلا کر طمانچہ مار دیا تھا، اس وقت فرشتے نے ان سے یہ کہا تھا: ”اپنے پروردگار کے بلاوے کو قبول کیجئے۔“ سیدنا موسیٰ علیہ السلام یہ سمجھے کہ وہ ان الفاظ کے ذریعے پناہ مانگ رہا ہے، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو یہ اندازہ نہیں ہوا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام لے کر آیا ہے، تو اس میں اس کا یہ کہنا: ”اپنے پروردگار کے بلاوے کو قبول کیجئے،“ یہ آزمائش اور اطلاع حاصل کرنے کے آغاز کے مقصد کو ظاہر کرتا ہے جو اس کے ذریعے مراد لیا گیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6224]""

6225

Sahih Ibn Hibban #6225

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : خُفِّفَ عَلَى دَاوُدَ الْقِرَاءَةُ ، فَكَانَ يَأْمُرُ بِدَابَّتِهِ أَنْ تُسْرَجَ ، فَيَفْرَغُ مِنْ قِرَاءَةِ الزَّبُورِ قَبْلَ أَنْ تُسْرَجَ دَابَّتُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سیدنا داؤد علیہ السلام کے لیے تلاوت کو آسان کر دیا گیا۔ وہ اپنے جانور کے بارے میں حکم دیتے تھے کہ اس پر زین رکھی جائے، تو اس پر زین رکھے جانے سے پہلے وہ زبور کی تلاوت کر کے فارغ ہو جاتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6225]

6226

Sahih Ibn Hibban #6226

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ ؟ إِِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ ، هَجَمَتْ لَكَ الْعَيْنُ ، وَنَقَهَتْ لَكَ النَّفْسُ ، لا صَامَ مَنْ صَامَ الأَبَدَ ، صَوْمُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ ، إِِنَّ دَاوُدَ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ، وَلا يَفِرُّ إِِذَا لاقَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مجھے پتہ چلا ہے کہ تم روزانہ نفلی روزہ رکھتے ہو اور رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہو، تم اس طرح کرو گے تو تمہاری آنکھیں اندر دھنس جائیں گی اور تمہارا جسم کمزور ہو جائے گا؟ جو شخص روزانہ نفلی روزہ رکھتا ہے اس نے درحقیقت روزہ نہیں رکھا، ہر مہینے کے تین روزے رکھنا پورا مہینہ روزہ رکھنے کے مترادف ہے۔ سیدنا داؤد علیہ السلام ایک دن روزہ رکھا کرتے تھے اور ایک دن روزہ نہیں رکھا کرتے تھے اور وہ جب دشمن کا سامنا کرتے تھے تو فرار اختیار نہیں کرتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6226]

6227

Sahih Ibn Hibban #6227

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَ دَاوُدُ لا يَأْكُلُ إِِلا مِنْ عَمِلِ يَدِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سیدنا داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ سے کام کر کے (اس کی کمائی) کھایا کرتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6227]

6228

Sahih Ibn Hibban #6228

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الأَرْضِ أَوَّلُ ؟ ، فَقَالَ : الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ثُمَّ أَيُّ ؟ ، قَالَ : " الْمَسْجِدُ الأَقْصَى " ، قُلْتُ : فَكَمْ بَيْنَهُمَا ؟ ، قَالَ : " أَرْبَعُونَ سَنَةً ، ثُمَّ حَيْثُ مَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلاةُ ، فَصَلِّ ، فَهُوَ لَكَ مَسْجِدٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد حرام۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر کون سی بنائی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد اقصیٰ۔“ میں نے دریافت کیا: ان کے درمیان کتنی مدت ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چالیس سال (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) تمہیں جہاں بھی نماز کا وقت ہو جائے تم وہاں نماز ادا کر لو وہ تمہارے لئے مسجد ہی ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6228]

6229

Sahih Ibn Hibban #6229

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا ، أُمْطِرَ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ ، فَجَعَلَ أَيُّوبُ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ ، فَنَادَاهُ رَبُّهُ : يَا أَيُّوبُ ، أَلَمْ أُغْنِكَ عَمَّا تَرَى ؟ قَالَ : بَلَى ، وَلَكِنْ لا غِنَى لِي عَنْ رَحْمَتِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک مرتبہ سیدنا ایوب علیہ السلام برہنہ ہو کر غسل کر رہے تھے، اسی دوران ان پر سونے کی بنی ہوئی ٹڈیوں کی بارش ہوئی، سیدنا ایوب علیہ السلام نے انہیں اپنے کپڑے میں اکٹھا کرنا شروع کر دیا، ان کے پروردگار نے انہیں پکارا: اے ایوب! کیا میں نے تمہیں اس چیز سے بے نیاز نہیں کیا جو تم دیکھ رہے ہو؟ انہوں نے عرض کی: جی ہاں، لیکن میں تیری رحمت سے بے نیاز نہیں ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6229]

6230

Sahih Ibn Hibban #6230

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أُمْطِرَ عَلَى أَيُّوبَ فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ ، فَجَعَلَ يَأْخُذُهُ ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِِلَيْهِ : أَلَمْ أُوَسِّعْ عَلَيْكَ ؟ ، فَقَالَ : بَلَى يَا رَبِّ ، وَلَكِنْ لا غِنَى لِي عَنْ فَضْلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سیدنا ایوب علیہ السلام پر سونے کے بنے ہوئے پتنگوں کی بارش ہوئی، انہوں نے انہیں پکڑنا شروع کر دیا، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی: کیا میں نے تمہیں وسعت عطا نہیں کی؟ انہوں نے عرض کی: جی ہاں اے میرے پروردگار! لیکن میں تیرے فضل سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6230]

6231

Sahih Ibn Hibban #6231

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : رَأَيْتُنِي اللَّيْلَةَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ ، فَرَأَيْتُ رَجُلا آدَمَ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ ، لَهُ لِمَّةٌ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ اللِّمَمِ ، قَدْ رَجَّلَهَا ، فَهِيَ تَقْطُرُ مَاءً ، مُتَّكِئًا عَلَى رَجُلَيْنِ أَوْ عَلَى عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ ، يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، فَسَأَلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ ، فَقَالُوا : عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ، ثُمَّ إِِذَا أَنَا بِرَجُلٍ جَعْدٍ ، قَطَطٍ ، أَعْوَرَ الْعَيْنِ الْيَمِينِ ، كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ ، فَسَأَلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ ، فَقَالُوا : الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”گزشتہ رات میں نے خود کو خانہ کعبہ کے پاس دیکھا، میں نے گندمی رنگ کے ایک شخص کو دیکھا جو اتنے خوبصورت تھے جتنا تم نے گندمی رنگ کے سب سے زیادہ خوبصورت آدمی کو دیکھا ہو، ان کے لمبے بال تھے، تم نے سب سے خوبصورت بال جو بھی دیکھے ہوں (وہ ویسے ہی تھے)، انہوں نے ان بالوں میں کنگھی کی ہوئی تھی اور ان میں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، وہ دو آدمیوں کے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: دو آدمیوں کے) کندھوں پر ٹیک لگا کر بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ میں نے دریافت کیا: یہ کون صاحب ہیں؟ تو لوگوں نے بتایا: یہ سیدنا عیسیٰ بن مریم ہیں، پھر میں نے گھنگھریالے بالوں والے ایک شخص کو دیکھا جس کی دائیں آنکھ کانی تھی، اس کی آنکھ پھولے ہوئے انگور کی طرح تھی، میں نے دریافت کیا: یہ کون شخص ہے؟ تو لوگوں نے بتایا: یہ دجال ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6231]

6232

Sahih Ibn Hibban #6232

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : عُرِضَ عَلَيَّ الأَنْبِيَاءُ ، فَإِِذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ ، وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَإِِذَا أَقْرَبُ النَّاسِ وَأَشَدُّهُ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَرَأَيْتُ إِِبْرَاهِيمَ ، فَرَأَيْتُ أَقْرَبَ النَّاسِ شَبَهًا صَاحِبَكُمْ ، يَعْنِي نَفْسَهُ ، وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ ، فَإِِذَا أَقْرَبُ النَّاسِ وَأَشْبَهُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا دِحْيَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میرے سامنے انبیاء کو پیش کیا گیا، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام ایسے شخص تھے جیسے ان کا تعلق شنوءہ قبیلے سے ہو، پھر میں نے سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو دیکھا، تو وہ عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی شکل سے مشابہت رکھتے تھے، پھر میں نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، تو وہ تمہارے آقا کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے۔“ (راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد آپ کی اپنی ذات تھی) ”میں نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، تو ان کی شکل صورت دحیہ رضی اللہ عنہ جیسی تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6232]

6233

Sahih Ibn Hibban #6233

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ زَيْدًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا سَلامٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ الْحَارِثَ الأَشْعَرِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِِنَّاللَّهَ جَلَّ وَعَلا أَمَرَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ يَعْمَلُ بِهِنَّ ، وَيَأْمُرُ بَنِي إِِسْرَائِيلِ أَنْ يَعْمَلُوا بِهِنَّ ، وَإِِنَّ عِيسَى قَالَ لَهُ : إِِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمَرَكَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ تَعْمَلُ بِهِنَّ وَتَأْمُرُ بَنِي إِِسْرَائِيلَ أَنْ يَعْمَلُوا بِهِنَّ ، فَإِِمَّا أَنْ تَأْمُرَهُمْ ، وَإِِمَّا أَنْ آمُرَهُمْ ، قَالَ : فَجَمَعَ النَّاسَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ حَتَّى امْتَلأَتْ ، وَجَلَسُوا عَلَى الشَّرُفَاتِ ، فَوَعَظَهُمْ ، وَقَالَ : إِِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا أَمَرَنِي بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ أَعْمَلُ بِهِنَّ ، وَآمُرُكُمْ أَنْ تَعْمَلُوا بِهِنَّ : أَوَّلُهُنَّ : أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَمَثَلُ ذَلِكَ ، مَثَلُ رَجُلٍ اشْتَرَى عَبْدًا بِخَالِصِ مَالِهِ بِذَهَبٍ أَوْ وَرَقٍ ، وَقَالَ لَهُ : هَذِهِ دَارِي ، وَهَذَا عَمَلِي ، فَجَعَلَ الْعَبْدُ يَعْمَلُ وَيُؤَدِّي إِِلَى غَيْرِ سَيِّدِهِ ، فَأَيُّكُمْ يَسُرُّهُ أَنْ يَكُونَ عَبْدُهُ هَكَذَا ، وَإِِنَّ اللَّهَ خَلَقَكُمْ وَرَزَقَكُمْ ، فَاعْبُدُوهُ وَلا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَآمُرُكُمْ بِالصَّلاةِ ، فَإِِذَا صَلَّيْتُمْ ، فَلا تَلْتَفِتُوا ، فَإِِنَّ الْعَبْدَ إِِذَا لَمْ يَلْتَفِتِ ، اسْتَقْبَلَهُ جَلَّ وَعَلا بِوَجْهِهِ ، وَآمُرُكُمْ بِالصِّيَامِ ، وَإِِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ ، كَمَثَلِ رَجُلٍ مَعَهُ صُرَّةٌ فِيهَا مِسْكٌ ، وَعِنْدَهُ عِصَابَةٌ يَسُرُّهُ أَنْ يَجِدُوا رِيحَهَا ، فَإِِنَّ الصِّيَامَ عِنْدَ اللَّهِ أَطْيَبُ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ، وَآمُرُكُمْ بِالصَّدَقَةِ ، وَإِِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ ، كَمَثَلِ رَجُلٍ أَسَرَهُ الْعَدُو ، فَأَوْثَقُوا يَدَهُ إِِلَى عُنُقِهِ ، وَأَرَادُوا أَنْ يَضْرِبُوا عُنُقَهُ ، فَقَالَ : هَلْ لَكُمْ أَنْ أَفْدِيَ نَفْسِي ، فَجَعَلَ يُعْطِيهِمُ الْقَلِيلَ وَالْكَثِيرَ لِيَفُكَّ نَفْسَهُ مِنْهُمْ ، وَآمُرُكُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ ، فَإِِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ ، كَمَثَلِ رَجُلٍ طَلَبَهُ الْعَدُوُّ سِرَاعًا فِي أَثَرِهِ ، فَأَتَى عَلَى حِصْنُ حُصَيْنٍ ، فَأَحْرَزَ نَفْسَهُ فِيهِ ، فَكَذَلِكَ الْعَبْدُ لا يُحْرِزُ نَفْسَهُ مِنَ الشَّيْطَانِ إِِلا بِذِكْرِ اللَّهِ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأَنَا آمُرُكُمْ بِخَمْسٍ أَمَرَنِي اللَّهُ بِهَا : بِالْجَمَاعَةِ ، وَالسَّمْعِ ، وَالطَّاعَةِ ، وَالْهِجْرَةِ ، وَالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَمَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ قِيدَ شِبْرٍ ، فَقَدْ خَلَعَ رِبَقَ الإِِسْلامِ مِنْ عُنُقِهِ إِِلا أَنْ يُرَاجِعَ ، وَمَنْ دَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ مِنْ جُثَا جَهَنَّمَ " ، قَالَ رَجُلٌ : وَإِِنْ صَامَ وَصَلَّى ؟ ، قَالَ : " وَإِِنْ صَامَ وَصَلَّى ، فَادْعُوا بِدَعْوَى اللَّهِ الَّذِي سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ الْمُؤْمِنِينَ عِبَادَ اللَّهِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الأَمْرُ بِالْجَمَاعَةِ بِلَفْظِ الْعُمُومِ ، وَالْمُرَادُ مِنْهُ الْخَاصُّ ، لأَنَّ الْجَمَاعَةَ هِيَ إِِجْمَاعُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَنْ لَزِمَ مَا كَانُوا عَلَيْهِ ، وَشَذَّ عَنْ مَنْ بَعْدَهُمْ ، لَمْ يَكُنْ بِشَاقٍّ لِلْجَمَاعَةِ ، وَلا مُفَارِقٍ لَهَا ، وَمَنْ شَذَّ عَنْهُمْ ، وَتَبِعَ مَنْ بَعْدَهُمْ ، كَانَ شَاقًّا لِلْجَمَاعَةِ ، وَالْجَمَاعَةُ بَعْدَ الصَّحَابَةِ هُمْ أَقْوَامٌ اجْتَمَعَ فِيهِمُ الدِّينُ وَالْعَقْلُ وَالْعِلْمُ ، وَلَزِمُوا تَرْكَ الْهَوَى فِيمَا هُمْ فِيهِ . وَإِِنْ قَلَّتْ أَعْدَادُهُمْ ، لا أَوْبَاشُ النَّاسِ وَرِعَاعُهُمْ ، وَإِِنْ كَثُرُوا ، وَالْحَارِثُ الأَشْعَرِيُّ هَذَا : هُوَ أَبُو مَالِكٍ الأَشْعَرِيُّ ، اسْمُهُ الْحَارِثُ بْنُ مَالِكٍ ، مِنْ سَاكِنِي الشَّامِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حارث اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سیدنا یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کو پانچ باتوں کا حکم دیا کہ وہ ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی اس بات کی ہدایت کریں کہ وہ لوگ ان پر عمل کریں۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ کو پانچ باتوں کا حکم دیا ہے کہ آپ ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ہدایت کریں کہ وہ ان پر عمل کریں، یا تو آپ بنی اسرائیل کو ان کا حکم دے دیں یا پھر میں حکم دے دیتا ہوں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”انہوں نے لوگوں کو بیت المقدس میں جمع کیا یہاں تک کہ وہ بھر گیا اور لوگ اس کے بالاخانوں میں بھی بیٹھ گئے۔ انہوں نے ان لوگوں کو وعظ کرنا شروع کیا اور یہ کہا: بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے پانچ باتوں کا حکم دیا ہے کہ میں ان پر عمل کروں اور تم لوگوں کو بھی اس بات کی ہدایت کروں کہ تم ان پر عمل کرو۔ ان میں سے پہلی بات یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ۔ اس کی مثال ایسے شخص کی طرح ہے جو خاص اپنے مال میں سے سونے یا چاندی کے عوض کوئی غلام خریدتا ہے اور اسے یہ کہتا ہے کہ یہ میرا گھر ہے اور یہ میرا کام ہے، لیکن وہ غلام کام کر کے (نفع) اپنے آقا کی بجائے کسی اور کے حوالے کر دیتا ہے، تو تم میں سے کون شخص اس بات کو پسند کرے گا کہ اس کا غلام اس طرح کا ہو؟ بے شک اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو پیدا کیا ہے اور اس نے تمہیں رزق عطا کیا ہے، لہٰذا تم اسی کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ۔ میں تمہیں نماز پڑھنے کی بھی ہدایت کرتا ہوں، جب تم نماز پڑھو تو ادھر ادھر توجہ نہ کرو کیونکہ بندہ جب (نماز پڑھ رہا ہوتا ہے) اور وہ ادھر ادھر توجہ نہیں کرتا، تو اس کا پروردگار اس کے سامنے ہوتا ہے اور میں تمہیں روزہ رکھنے کا حکم دیتا ہوں۔ اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے جس کے پاس ایک ایسی تھیلی ہو جس میں مشک موجود ہو اور اس کے پاس کچھ لوگ موجود ہوں، جنہیں یہ بات پسند ہو کہ وہ اس خوشبو کو حاصل کریں، تو روزہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ میں تمہیں صدقہ کرنے کا حکم دیتا ہوں۔ اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے، جسے دشمن قید کر لیتے ہیں اور اس کے ہاتھ اس کی گردن پر باندھ دیتے ہیں اور وہ اس کی گردن اڑانے کا ارادہ کرتے ہیں، تو وہ شخص یہ کہتا ہے: کیا میں تمہیں اپنی ذات کا فدیہ دے دوں؟ تو وہ انہیں تھوڑا اور زیادہ (فدیہ دینے کی پیشکش) کرتا ہے، تاکہ ان لوگوں سے اپنے آپ کو چھڑا لے۔ میں تمہیں اللہ کا ذکر کرنے کا حکم دیتا ہوں کیونکہ اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے جس کے پیچھے دشمن تیز رفتاری سے لگا ہوا ہو اور پھر وہ شخص ایک قلعہ کے پاس آ جائے اور اپنے آپ کو اس میں داخل کر کے محفوظ کر لے۔ اسی طرح بندہ اپنے آپ کو شیطان سے صرف اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ذریعے ہی محفوظ کر سکتا ہے۔“ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہیں پانچ باتوں کا حکم دیتا ہوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے: مسلمانوں کی (جماعت کے ساتھ رہنا)، حاکم وقت کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا، ہجرت کرنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ جو شخص (مسلمانوں کی) جماعت سے ایک بالشت الگ ہوتا ہے وہ اپنی گردن سے اسلام کا پٹہ اتار دیتا ہے، اس وقت تک، جب تک وہ واپس نہیں آ جاتا اور جو شخص زمانہ جاہلیت کا سا دعویٰ کرتا ہے وہ جہنم میں جائے گا۔“ ایک شخص نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو، تم لوگ (ایک دوسرے) کو اللہ تعالیٰ کے متعین کردہ نام کے ذریعے بلاؤ، اس نے تمہیں مسلمان اور مومن کا نام دیا ہے، اے اللہ کے بندو!“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جماعت کے ساتھ رہنے کا حکم الفاظ کے عموم کے ذریعے ہے، لیکن اس کے ذریعے خاص مفہوم مراد ہے کیونکہ جماعت سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا متفق ہونا ہے، تو جو شخص اس چیز کو لازم پکڑے جس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اتفاق تھا اور ان کے بعد آنے والے لوگوں سے مختلف رائے اختیار کرے وہ جماعت سے علیحدہ ہونے والا یا اس کو ترک کرنے والا شمار نہیں ہوگا، لیکن جو شخص صحابہ کی جماعت سے علیحدہ ہو جائے اور ان کے بعد میں آنے والوں میں سے کسی کی پیروی کرے وہ جماعت سے الگ ہونے والا شمار ہوگا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد جماعت مختلف قسم کے لوگ ہیں جن میں دین، عقل اور علم کا اتفاق ہوا اور ان لوگوں نے خواہش نفس کی پیروی کو ترک کیا، اگرچہ ان کی تعداد بہت تھوڑی سی ہے، اس سے مراد عام اور فضول لوگ نہیں ہیں اگرچہ ان کی تعداد زیادہ ہے۔ حارث اشعری نامی راوی سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ ہیں، ان کا نام حارث بن مالک ہے اور یہ شام میں رہائش پذیر تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6233]

6234

Sahih Ibn Hibban #6234

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : كُلُّ بَنِي آدَمَ يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ، إِِلا مَرْيَمَ وَابْنَهَا عِيسَى ، عَلَيْهِمَا السَّلامُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اولادِ آدم میں سے جس (بچے کو) اس کی والدہ جنم دیتی ہے تو شیطان اسے مس کرتا ہے، صرف سیدہ مریم رضی اللہ عنہا اور ان کے صاحب زادے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا معاملہ مختلف ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6234]

6235

Sahih Ibn Hibban #6235

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِِلا يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ ، فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا ، إِِلا مَرْيَمَ ابْنَةَ عِمْرَانَ وَابْنَهَا ، إِِنْ شِئْتُمُ اقْرَؤُوا : وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے شیطان اسے مس کرتا ہے، جس کی وجہ سے وہ بلند آواز میں روتا ہے، صرف عمران کی صاحب زادی بی بی مریم اور ان کے صاحب زادے (سیدنا عیسیٰ علیہ السلام) کے ساتھ ایسا نہیں ہوا، اگر تم چاہو تو یہ آیت تلاوت کر لو: ﴿وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ﴾ [سورة آل عمران: 36] ”بے شک میں اسے اور اس کی اولاد کو مردود شیطان (کے شر) سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔“” [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6235]

6236

Sahih Ibn Hibban #6236

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ قَبَضَ اللَّهُ دَاوُدَ مِنْ بَيْنِ أَصْحَابِهِ ، فَمَا فُتِنُوا وَلا بَدَّلُوا ، وَلَقَدْ مَكَثَ أَصْحَابُ الْمَسِيحِ عَلَى سُنَّتِهِ وَهَدْيِهِ مِائَتَيْ سَنَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سیدنا داؤد علیہ السلام کے ساتھیوں کے درمیان ان کی روح کو قبض کر لیا، تو وہ آزمائش میں مبتلا نہیں ہوئے اور انہوں نے (دین کے احکام میں) تبدیلی نہیں کی، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھی دو سو سال تک ان کی سنت اور ہدایت پر کاربند رہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6236]

6237

Sahih Ibn Hibban #6237

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”انبیاء کے درمیان کسی ایک کو دوسرے سے بہتر قرار نہ دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6237]

6238

Sahih Ibn Hibban #6238

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ : أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کسی بھی بندے کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ میں سیدنا یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6238]

6239

Sahih Ibn Hibban #6239

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ ، فَإِِنَّمَا أَنَا عَبْدٌ ، فَقُولُوا : عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم مجھے یوں نہ بڑھا دینا جس طرح عیسائیوں نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو بڑھا دیا تھا، میں بندہ ہوں تو تم یہ کہو (سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6239]

6240

Sahih Ibn Hibban #6240

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًَا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا خَيْرَنَا وَابْنَ خَيْرِنَا ، وَيَا سَيِّدَنَا وَابْنَ سَيِّدِنَا . فَقَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ،قُولُوا بِقَوْلِكُمْ وَلا يَسْتَفِزَّنَّكُمُ الشَّيْطَانُ ، أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَضْمَرَ فِيهِ ، لأَنَّ الْقَائِلَ قَالَ : وَيَا ابْنَ سَيِّدِنَا ، فَتَفَاخَرَ بِالآبَاءِ الْكُفَّارِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے ہمارے سب سے بہتر فرد اور اے سب سے بہتر فرد کے صاحب زادے، اے ہمارے سردار اور اے ہمارے سردار کے صاحب زادے! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! اپنے محاورے کے مطابق بات چیت کیا کرو اور شیطان تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کر دے، میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس میں یہ بات پوشیدہ ہے کہ قائل نے یہ کہا تھا: اے ہمارے سردار، تو یہ کفار آباؤ اجداد پر فخر کرنے کا مفہوم لیے ہوئے تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6240]

6241

Sahih Ibn Hibban #6241

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السِّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ : أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى "، نَسَبَهُ إِِلَى أَبِيهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوالعالیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد رضی اللہ عنہما کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہوئے سنا ہے: ”کسی بندے کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ میں سیدنا یونس علیہ السلام سے بہتر ہوں۔“ (راوی کہتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نسبت ان کے والد کی طرف کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6241]

6242

Sahih Ibn Hibban #6242

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شَدَّادُ أَبُو عَمَّارٍ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّاللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِِسْمَاعِيلَ ، وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ ، وَاصْطَفَى بَنِي هَاشِمٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ ، فَأَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ وَلا فَخْرَ ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ ، وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب کیا، کنانہ کی اولاد میں سے قریش کو منتخب کیا، قریش میں سے بنو ہاشم کو منتخب کیا، بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب کیا، تو میں اولادِ آدم کا سردار ہوں اور یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا بلکہ (قیامت کے دن) سب سے پہلے میرے لیے زمین کو شق کیا جائے گا اور میں سب سے پہلے شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول کی جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6242]

6243

Sahih Ibn Hibban #6243

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا صُدِّقَ نَبِيٌّ مَا صُدِّقْتُ ، إِِنَّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ مَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُ مِنْ أُمَّتِهِ إِِلا رَجُلٌ وَاحِدٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی بھی نبی کی اتنی تصدیق نہیں کی گئی جتنی میری تصدیق کی گئی اور کچھ انبیاء تو ایسے تھے کہ ان کی امت میں سے صرف ایک ہی شخص نے ان کی تصدیق کی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6243]

6244

Sahih Ibn Hibban #6244

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدِّيلِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : عَدَلَ إِِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا نَازِلٌ تَحْتَ سَرْحَةٍ بِطَرِيقِ مَكَّةَ ، فَقَالَ : مَا أَنْزَلَكَ تَحْتَ هَذِهِ السَّرْحَةِ ؟ فَقُلْتُ : أَرَدْتُ ظِلَّهَا ، فَقَالَ : هَلْ غَيْرُ ذَلِكَ ؟ فَقُلْتُ : لا ، مَا أَنْزَلَنِي غَيْرُ ذَلِكَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِذَا كُنْتَ بَيْنَ الأَخْشَبَيْنِ مِنْ مِنًى ، وَنَفَخَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ ، فَإِِنَّ هُنَاكَ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ السُّرَرُ ، بِهِ شَجَرَةٌ سُرَّ تَحْتَهَا سَبْعُونَ نَبِيًّا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عمران انصاری اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مڑ کر میری طرف دیکھا، میں اس وقت مکہ کے راستے میں ایک بڑے درخت کے نیچے پڑاؤ کیے ہوئے تھا۔ انہوں نے دریافت کیا: ”تم اس بڑے کے نیچے کیوں پڑاؤ کیے ہوئے ہو؟“ میں نے کہا: میں اس کے سائے میں آنا چاہ رہا تھا۔ انہوں نے دریافت کیا: ”کیا اس کے علاوہ کوئی اور وجہ بھی ہے؟“ میں نے کہا: جی نہیں، اس کے علاوہ کسی اور چیز نے مجھے پڑاؤ پر مجبور نہیں کیا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ ”جب تم منی کے دو پہاڑوں کے درمیان ہو،“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے مشرق کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”وہاں ایک وادی ہے جس کا نام «سَرَر» ہے۔ وہاں ایک درخت ہے جس کے نیچے ستر [70] انبیاء نے پڑاؤ کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6244]

6245

Sahih Ibn Hibban #6245

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِِنَّمَاهَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ ، وَاخْتِلافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ، لا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِِلا أُحَدِّثُكُمْ بِهِ " ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسٍ السَّهْمِيُّ ، فَقَالَ : مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَبُوكَ حُذَافَةُ "، فَرَجَعَ إِِلَى أُمِّهِ ، فَقَالَتْ لَهُ أُمُّهُ : مَا حَمَلَكَ عَلَى الَّذِي صَنَعْتَ ؟ إِِنَّا كُنَّا أَهْلَ جَاهِلِيَّةٍ وَأَعْمَالٍ قَبِيحَةٍ ، فَقَالَ : مَا كُنْتُ لأَدَعَ حَتَّى أَعْرِفَ مَنْ كَانَ أَبِي مِنَ النَّاسِ ، قَالَ : وَكَانَ فِيهِ دُعَابَةٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم سے پہلے کے لوگ اپنے انبیاء سے بکثرت (غیر ضروری) سوالات کرنے اور اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے، تو تم مجھ سے جس بھی چیز کے بارے میں دریافت کرو گے میں تمہیں اس کے بارے میں بتا دوں گا۔“ سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا باپ حذافہ ہے۔“ وہ اپنی والدہ کے پاس واپس گئے۔ ان کی والدہ نے ان سے کہا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ ہم لوگ زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھتے تھے اور برے کام کیا کرتے تھے (لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ تم اس طرح کے سوالات کرو) تو انہوں نے کہا: میں نے اس بارے میں ضرور معلوم کرنا تھا تاکہ مجھے پتہ چل جائے میرا باپ کون ہے۔ راوی کہتے ہیں: ان کے مزاج میں مذاق کا عنصر پایا جاتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6245]

6246

Sahih Ibn Hibban #6246

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ سِمَاكَ بْنَ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ حُبَيْشٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْمَغْضُوبُ عَلَيْهِمُ : الْيَهُودُ ، وَالضَّالُّونَ : النَّصَارَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” «الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ» ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ﴾ [سورة الفاتحة: 7] ”جن لوگوں پر غضب کیا گیا“ ان سے مراد یہودی ہیں اور «الضَّالِّينَ» ﴿وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] ”گمراہ لوگوں“ سے مراد عیسائی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6246]

6247

Sahih Ibn Hibban #6247

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُرَيْجٍ النَّقَّالُ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : افْتَرَقَتِ الْيَهُودُ عَلَى إِِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، وَافْتَرَقَتِ النَّصَارَى عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہودی 71 فرقوں میں تقسیم ہوئے، عیسائی 72 فرقوں میں تقسیم ہوئے اور میری امت 73 فرقوں میں تقسیم ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6247]

6248

Sahih Ibn Hibban #6248

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ ، فَإِِنَّ الظُّلْمَ هُوَ الظُّلُمَاتُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَإِِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ ، فَإِِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْفَاحِشَ وَالْمُتَفَحِّشَ ، وَإِِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ ، فَإِِنَّ الشُّحَّ قَدْ دَعَا مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، فَسَفَكُوا دِمَاءَهُمْ ، وَقَطَعُوا أَرْحَامَهُمْ ، وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان پہنچا ہے: ”ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قیامت کے دن تاریکیوں کی شکل میں ہو گا اور بدزبانی سے بچو کیونکہ اللہ تعالیٰ بدزبانی اور فحش گفتگو کرنے والے کو پسند نہیں کرتا اور بخل سے بچو کیونکہ بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو اس بات پر مجبور کیا کہ انہوں نے ایک دوسرے کا خون بہایا اور رشتہ داری کے حقوق کو پامال کیا اور حرام قرار دی گئی چیزوں کو حلال قرار دیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6248]

6249

Sahih Ibn Hibban #6249

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ بِبَيْرُوتَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّبَنِي إِِسْرَائِيلَ كَانَتْ تَسُوسُهُمُ الأَنْبِيَاءُ ، كُلَّمَا مَاتَ نَبِيٌّ ، قَامَ نَبِيٌّ ، وَإِِنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ " ، قَالُوا : فَمَا يَكُونُ بَعْدَكَ ؟ قَالَ : " أُمَرَاءُ وَيَكْثُرُونَ " ، قَالُوا : مَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَوْفُوا بِبَيْعَةِ الأَوَّلِ فَالأَوَّلِ ، وَأَدُّوا إِِلَيْهِمُ الَّذِي لَهُمْ ، فَإِِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَنِ الَّذِي لَكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بنی اسرائیل کی رہنمائی انبیاء کیا کرتے تھے، ان میں سے جب بھی کسی نبی کا انتقال ہوتا دوسرا نبی آ جاتا، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔“ لوگوں نے دریافت کیا: آپ کے بعد کیا ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حکمران ہوں گے اور کثرت سے ہوں گے۔“ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی بیعت پوری کرنا جس سے پہلے بیعت لی گئی ہو اور تم ان کے حقوق کو ادا کر دینا، اللہ تعالیٰ ان سے تمہارے حقوق کے بارے میں سوال کرے گا (یعنی حساب لے گا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6249]

6250

Sahih Ibn Hibban #6250

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى نَجْرَانَ ، فَقَالَ لِي أَهْلُ نَجْرَانَ : أَلَسْتُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الآيَةَ : يَا أُخْتَ هَارُونَ مَا كَانَ أَبُوكِ امْرَأَ سَوْءٍ وَمَا كَانَتْ أُمُّكِ بَغِيًّا ، وَقَدْ عَرَفْتُمْ مَا بَيْنَ مُوسَى وَعِيسَى ؟ فَلَمْ أَدْرِ مَا أَرُدُّ عَلَيْهِمْ ، حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ لِي : أَفَلا أَخْبَرْتَهُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يُسَمُّونَ بِالأَنْبِيَاءِ وَالصَّالِحِينَ قَبْلَهُمْ ؟ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نجران بھیجا، اہل نجران نے مجھ سے دریافت کیا: کیا تم لوگ یہ آیت نہیں پڑھتے ہو ﴿يَا أُخْتَ هَارُونَ مَا كَانَ أَبُوكِ امْرَأَ سَوْءٍ وَمَا كَانَتْ أُمُّكِ بَغِيًّا﴾ [سورة مريم: 28] اے ہارون کی بہن! تمہارا والد برا آدمی نہیں تھا اور نہ ہی تمہاری ماں بری عورت تھی۔ (اہل نجران نے کہا:) آپ تو یہ بات جانتے ہیں کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کتنا طویل عرصہ ہوا ہے (تو بی بی مریم سیدنا ہارون علیہ السلام کی بہن کیسے ہو سکتی ہیں)؟ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے سمجھ نہیں آئی کہ میں کیا جواب دوں۔ میں مدینہ منورہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے اس بات کا تذکرہ آپ کے سامنے کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے انہیں یہ بات نہیں بتائی کہ وہ لوگ اپنے سے پہلے انبیاء اور نیک لوگوں کے ناموں پر (اپنے بچوں کا نام رکھتے تھے اس لیے سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کے بھائی کا نام بھی ہارون تھا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6250]

6251

Sahih Ibn Hibban #6251

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قِيلَ لِبَنِي إِِسْرَائِيلَ : ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ نَغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ ، فَبَدَّلُوا ، فَدَخَلُوا الْبَابَ يَزْحَفُونَ عَلَى أَسْتَاهِهِمْ ، وَقَالُوا : حَبَّةٌ فِي شَعْرَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بنی اسرائیل سے کہا گیا: ﴿ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ﴾ [سورة البقرة: 58] ”تم لوگ دروازے میں سجدے کی حالت میں داخل ہو اور لفظ «حِطَّةٌ» ہم تمہاری غلطیاں معاف کر دیں گے“، لیکن انہوں نے تبدیلی کی اور دروازے میں سرین کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور انہوں نے یہ کہا: «حَبَّةٌ فِي شَعْرَةٍ» ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6251]

6252

Sahih Ibn Hibban #6252

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، وَالسِّخْتِيَانِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْخَطَّابِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : قَاتَلَ اللَّهُ فُلانًا يَبِيعُ الْخَمْرَ ، أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعَ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ أَنْ يَأْكُلُوهَا ثُمَّ بَاعُوهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ فلاں شخص کو برباد کرے جو شراب فروخت کرتا ہے، اللہ کی قسم! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ان (یہودیوں) پر چربی کو حرام قرار دیا گیا، تو انہوں نے اسے فروخت کر دیا (اور اس کی قیمت کھانے لگے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6252]

6253

Sahih Ibn Hibban #6253

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، وَالْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بَاعَ سَمُرَةُ خَمْرًا ، فَقَالَ عُمَرُ : قَاتَلَ اللَّهُ سَمُرَةَ ، أَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ ، فَجَمَلُوهَا فَبَاعُوهَا " ؟"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے شراب فروخت کی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سمرہ کو برباد کرے، کیا وہ یہ بات نہیں جانتا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت کرے، ان پر چربی حرام قرار دی گئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر اسے فروخت کرنا شروع کر دیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6253]

6254

Sahih Ibn Hibban #6254

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : حَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِِسْرَائِيلَ وَلا حَرَجَ ، وَحَدِّثُوا عَنِّي ، وَلا تَكْذِبُوا عَلَيَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بنی اسرائیل کے حوالے سے روایات نقل کر دیا کرو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور میرے حوالے سے بھی روایات نقل کیا کرو، البتہ میری طرف جھوٹی بات منسوب نہ کیا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6254]

6255

Sahih Ibn Hibban #6255

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ قَتَادَةَ بْنِ دِعَامَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّهُ قَالَ : لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُحَدِّثُنَا الْيَوْمَ وَاللَّيْلَةَ عَنْ بَنِي إِِسْرَائِيلَ ، مَا يَقُومُ إِِلا لِحَاجَةٍ ". مَا رَوَاهُ بَصَرِيُّ عَنْ قَتَادَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: (ایک مرتبہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سارا دن اور رات بھر ہمیں بنی اسرائیل کے بارے میں بتاتے رہے۔ آپ اس دوران قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ یہ روایت قتادہ کے حوالے سے بصری نے نقل نہیں کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6255]

6256

Sahih Ibn Hibban #6256

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ السَّلُولِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً ، وَحَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِِسْرَائِيلَ وَلا حَرَجَ ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَوْلُهُ : " بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً " ، أَمْرٌ قَصَدَ بِهِ الصَّحَابَةَ ، وَيَدْخُلُ فِي جُمْلَةِ هَذَا الْخَطَّابِ مَنْ كَانَ بِوَصْفِهِمْ إِِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فِي تَبْلِيغِ مَنْ بَعْدَهُمْ عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ فَرْضٌ عَلَى الْكِفَايَةِ ، إِِذَا قَامَ الْبَعْضُ بِتَبْلِيغِهِ ، سَقَطَ عَنِ الآخَرِينَ فَرْضُهُ ، وَإِِنَّمَا يَلْزَمُ فَرْضِيَّتَهُ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُ مَا يَعْلَمُ أَنَّهُ لَيْسَ عِنْدَ غَيْرِهِ ، وَأَنَّهُ مَتَى امْتَنَعَ عَنْ بَثِّهِ ، خَانَ الْمُسْلِمِينَ ، فَحِينَئِذٍ يَلْزَمُهُ فَرْضُهُ ، وَفِيهِ دَلِيلٌ عَنْ أَنَّ السُّنَّةَ يَجُوزُ أَنْ يُقَالَ لَهَا : الآيُ ، إِِذْ لَوْ كَانَ الْخَطَّابُ عَلَى الْكِتَابِ نَفْسِهِ دُونَ السُّنَنِ ، لاسْتَحَالَ لاشْتِمَالِهِمَا مَعًا عَلَى الْمَعْنَى الْوَاحِدِ ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَحَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِِسْرَائِيلَ وَلا حَرَجَ " ، أَمْرُ إِِبَاحَةٍ لِهَذَا الْفِعْلِ مِنْ غَيْرِ ارْتِكَابِ إِِثْمٍ يَسْتَعْمِلُهُ ، يُرِيدُ بِهِ : حَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِِسْرَائِيلَ مَا فِي الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ مِنْ غَيْرِ حَرَجٍ يَلْزَمُكُمْ فِيهِ ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا " ، لَفْظَةٌ خُوطِبَ بِهَا الصَّحَابَةُ ، وَالْمُرَادُ مِنْهُ غَيْرُهُمْ إِِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، لا هُمْ ، إِِذِ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا نَزَّهَ أَقْدَارَ الصَّحَابَةِ عَنْ أَنْ يُتَوَهَّمَ عَلَيْهِمُ الْكَذِبُ ، وَإِِنَّمَا قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا ، لأَنْ يَعْتَبِرَ مَنْ بَعْدَهُمْ ، فَيَعُوا السُّنَنَ وَيَرْوُوهَا عَلَى سُنَنِهَا ، حَذَرَ إِِيجَابِ النَّارِ لِلْكَاذِبِ عَلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے حوالے سے تبلیغ کر دو خواہ ایک ہی بات ہو، بنی اسرائیل کے حوالے سے بھی روایات نقل کر دیا کرو اس میں کوئی گناہ نہیں ہے اور جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے وہ جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے پر پہنچنے کے لیے تیار رہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”میری طرف سے تبلیغ کر دو خواہ ایک آیت ہو“ یہ ایک ایسا حکم ہے جس سے مراد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں، تاہم اس کے عمومی حکم میں وہ تمام لوگ داخل ہوں گے جو قیامت تک آئیں گے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی تبلیغ کریں گے، اور یہ چیز فرضِ کفایہ کی حیثیت رکھتی ہے، جب بعض لوگ تبلیغ کر دیں گے تو باقی لوگوں سے فرض ساقط ہو جائے گا اور اس کی فرضیت اس شخص پر لازم ہوتی ہے جس کے پاس ایسا علم موجود ہو جو دوسرے کے پاس نہ ہو، ایسا شخص جب اپنے علم کو پھیلانے سے رک جاتا ہے تو وہ مسلمانوں کے ساتھ خیانت کا مرتکب ہوتا ہے اور اس صورت میں اس کا فرض اس پر لازم ہو جاتا ہے۔ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ سنت کے لیے لفظ آیت استعمال ہو سکتا ہے؛ کیونکہ اگر روایت کے الفاظ صرف کتاب کے حکم کے بارے میں ہوتے، سنت کے بارے میں نہ ہوتے تو ان دونوں کا ایک ہی معانی پر مشتمل ہونا ناممکن ہوتا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”بنی اسرائیل کے حوالے سے روایات نقل کر دیا کرو اس میں کوئی حرج نہیں ہے“ یہ امر کا صیغہ ہے لیکن اس فعل کو مباح قرار دینے کے لیے ہے، جب کہ اس کے ذریعے کسی گناہ کا ارتکاب نہ کیا جائے اور اس کے ذریعے مراد یہ ہے کہ تم بنی اسرائیل کے حوالے سے وہ روایات نقل کر دیا کرو جن کا مضمون کتاب و سنت میں موجود ہے، اس صورت میں تم پر کوئی حرج لازم نہیں آئے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”جو شخص میری طرف جان بوجھ کر جھوٹی بات منسوب کرے“ اس میں لفظی طور پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے خطاب کیا گیا ہے لیکن اس سے مراد قیامت تک آنے والے تمام لوگ ہیں، صرف صحابہ مراد نہیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس چیز سے محفوظ رکھا تھا کہ وہ غلط بیانی سے کام لیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اسی لیے ارشاد فرمائی ہے کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد کے لوگ سنت کا علم حاصل کرتے ہوئے، اسے محفوظ کرتے ہوئے، اسے روایت کرتے ہوئے اس کے مرتبہ و مقام کا خیال رکھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے کے نتیجے میں جہنم کے لازم ہونے سے بچنے کی کوشش کریں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6256]