Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 55 · Chapter 1

Book of the Will

Hadith 6175–6216

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6175

Sahih Ibn Hibban #6175

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ابْنُ مَوْهِبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : إِِنَّالرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ ، وَإِِنَّهُ لِمَنْ أَهْلِ النَّارِ ، وَإِِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ ، وَإِِنَّهُ لِمَنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک شخص اہل جنت کے سے عمل کرتا ہے جو اس کے اور لوگوں کے درمیان معاملے کے حوالے سے ہوتے ہیں، حالانکہ وہ شخص جہنمی ہوتا ہے اور ایک شخص اپنے اور لوگوں کے درمیان معاملے کے حوالے سے اہل جہنم کا سا عمل کرتا ہے، حالانکہ وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6175]

6176

Sahih Ibn Hibban #6176

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِِنَّالرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الزَّمَانَ الطَّوِيلَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، ثُمَّ يَخْتِمُ اللَّهُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ ، فَيَجْعَلُهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، وَإِِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الزَّمَانَ الطَّوِيلَ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ ، ثُمَّ يَخْتِمُ اللَّهُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَيَجْعَلُهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک شخص طویل عرصے تک اہل جنت کے سے عمل کرتا رہتا ہے، لیکن پھر اللہ تعالیٰ اس کا خاتمہ اہل جہنم کے سے عمل پر کرتا ہے اور اسے اہل جہنم میں شامل کر دیتا ہے، اور ایک شخص طویل عرصے تک اہل جہنم کے سے عمل کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کا خاتمہ اہل جنت کے سے عمل کے ذریعے کرتا ہے اور اسے اہل جنت میں شامل کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6176]

6177

Sahih Ibn Hibban #6177

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : الشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ ، وَالسَّعِيدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ ، فَأَتَى رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ : حُذَيْفَةُ بْنُ أُسَيْدٍ الْغِفَارِيُّ ، فَحَدَّثَ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِِذَا مَرَّ بِالنُّطْفَةِ ثِنْتَانِ وَأَرْبَعُونَ لَيْلَةً ، بَعَثَ اللَّهُ إِِلَيْهَا مَلَكًا فَصَوَّرَهَا ، وَخَلَقَ سَمْعَهَا وَبَصَرَهَا وَجِلْدَهَا وَلَحْمَهَا وَعِظَامَهَا ، ثُمَّ يَقُولُ : يَا رَبِّ ، ذَكَرٌ أَمْ أُثْنَى ؟ فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا يَشَاءُ وَيُكْتُبُ الْمَلَكُ ، ثُمَّ يَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَجَلُهُ ؟ فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا يَشَاءُ وَيَكْتُبُهُ الْمَلَكُ ، ثُمَّ يَقُولُ : يَا رَبِّ ، رِزْقُهُ ؟ فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا يَشَاءُ ، فَيَأْخُذُ الْمَلَكُ بِالصَّحِيفَةِ فِي يَدِهِ ، فَلا يُزَادُ فِي أَمْرٍ وَلا يُنْقَصُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَلَقَ سَمْعَهَا " ، مِنْ أَلْفَاظِ التَّعَارُفِ لا أَنَّ الْمَلَكَ يَخْلُقُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”بدبخت شخص وہ ہوتا ہے جو ماں کے پیٹ میں بدبخت ہو، نیک بخت وہ ہوتا ہے جسے دوسرے کے ذریعے نصیحت کی جا سکے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب تشریف لائے ان کا نام سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہما تھا، انہیں یہ بات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول کے طور پر بتائی گئی، تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب نطفے کو بیالیس (42) دن گزر جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف ایک فرشتے کو بھیجتا ہے جو اس کی شکل و صورت متعین کرتا ہے، اس کی سماعت و بصارت، اس کی کھال، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں بناتا ہے، پھر وہ دریافت کرتا ہے: اے پروردگار! کیا یہ لڑکا ہو گا یا لڑکی ہو گی؟ تو تمہارے پروردگار نے جو چاہا ہوتا ہے وہ فیصلہ سنا دیتا ہے، فرشتہ اسے نوٹ کر لیتا ہے، پھر وہ دریافت کرتا ہے: پروردگار! اس کی موت کا وقت کیا ہو گا؟ تمہارے پروردگار نے جو چاہا ہوتا ہے وہ فیصلہ سنا دیتا ہے، فرشتہ اسے نوٹ کر لیتا ہے، پھر وہ عرض کرتا ہے: پروردگار! اس کا رزق کتنا ہو گا؟ تو تمہارے پروردگار نے جو چاہا ہوتا ہے وہ فیصلہ بتا دیتا ہے، تو فرشتہ وہ صحیفہ اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے، اب اس معاملے میں کوئی اضافہ یا کمی نہیں ہو سکتی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”اس نے اس کی سماعت کو پیدا کیا“ یہ الفاظ لوگوں کے محاورے کے اعتبار سے ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ فرشتہ اس چیز کو پیدا کرتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6177]

6178

Sahih Ibn Hibban #6178

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُنَيْدَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَ نَسَمَةً ، قَالَ مَلَكُ الأَرْحَامِ مُعْرِضًا : يَا رَبِّ ، أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى ؟ فَيَقْضِي اللَّهُ أَمْرَهُ ، ثُمَّ يَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ ؟ فَيَقْضِي اللَّهُ أَمْرَهُ ، ثُمَّ يَكْتُبُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَا هُوَ لاقٍ حَتَّى النَّكْبَةَ يُنْكَبُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی جان کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو رحم سے متعلق فرشتہ عرض کرتا ہے: اے پروردگار! یہ لڑکا ہوگا یا لڑکی؟ تو اللہ تعالیٰ اپنے فیصلے کو سنا دیتا ہے، پھر وہ عرض کرتا ہے: پروردگار! یہ بدبخت ہوگا یا نیک بخت ہوگا؟ تو اللہ تعالیٰ اس بارے میں اپنا فیصلہ سنا دیتا ہے، پھر وہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان وہ سب چیزیں تحریر کر دیتا ہے جن کا وہ شخص (بڑا ہو کر) سامنا کرے گا، یہاں تک کہ اسے جو ٹھوکر لگے گی (وہ بھی تحریر کر دی جاتی ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6178]

6179

Sahih Ibn Hibban #6179

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى ، فَقَالَ مُوسَى : أَنْتَ آدَمُ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ ، وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ ، وَأَغْوَيْتَ النَّاسَ ، وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ ، فَقَالَ آدَمُ : أَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلامِهِ ، تَلُومُنِي عَلَى عَمَلٍ عَمِلْتُهُ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ ؟ ، قَالَ : فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ: ”سیدنا آدم علیہ السلام اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے درمیان بحث ہو گئی، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ وہ سیدنا آدم علیہ السلام ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے دستِ قدرت کے ذریعے پیدا کیا اور آپ میں اپنی روح پھونکی، لیکن آپ نے لوگوں کو گمراہ کر دیا اور انہیں جنت سے نکلنے پر مجبور کر دیا، سیدنا آدم علیہ السلام نے فرمایا: آپ وہ موسیٰ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے ذریعے منتخب کیا، آپ مجھے ایک ایسے عمل کے بارے میں ملامت کر رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی تخلیق سے پہلے ہی میرے حوالے سے لکھ دیا تھا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو سیدنا آدم علیہ السلام، سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6179]

6180

Sahih Ibn Hibban #6180

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيرفيُّ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى ، فَقَالَ مُوسَى : يَا آدَمُ ، أَنْتَ أَبُونَا خَيَّبْتَنَا ، وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّةِ ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ : يَا مُوسَى ، اصْطَفَاكَ اللَّهُ بكلامِهِ ، وَخَطَّ لَكَ بِيَدِهِ ، تَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بَأَرْبَعِينَ سَنَةً ؟ قَالَ : فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى ، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى ، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا پتا چلا ہے: ”ایک مرتبہ سیدنا آدم علیہ السلام اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے درمیان بحث ہو گئی، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے (سیدنا) آدم (علیہ السلام)! آپ ہمارے جدِ امجد ہیں، آپ نے ہمیں رسوائی کا شکار کیا اور ہمیں جنت سے نکلوا دیا۔ سیدنا آدم علیہ السلام نے ان سے فرمایا: اے موسیٰ! اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے لیے تمہیں منتخب کیا اور اپنے دستِ قدرت کے ذریعے تمہارے لیے (تورات کو) تحریر کیا، تم ایک ایسے مسئلے کے بارے میں مجھے ملامت کر رہے ہو جو میری تخلیق سے چالیس سال پہلے میرے نصیب میں لکھ دیا گیا تھا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو سیدنا آدم علیہ السلام، سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے، سیدنا آدم علیہ السلام، سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے، سیدنا آدم علیہ السلام، سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6180]

6181

Sahih Ibn Hibban #6181

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ مِنْ أَدِيمِ الأَرْضِ كُلِّهَا ، فَخَرَجَتْ ذُرِّيَّتُهُ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ ، فَمِنْهُمُ الأَسْوَدُ وَالأَبْيَضُ وَالأَحْمَرُ وَالأَصْفَرُ ، وَمِنْهُمْ بَيْنَ ذَلِكَ ، وَالسَّهْلُ وَالْحَزْنُ ، وَالْخَبِيثُ وَالطِّيبُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو تمام روئے زمین سے پیدا کیا ہے، تو ان کی ذریت اسی حساب سے ہو گی؛ ان میں سے کچھ لوگ سیاہ ہیں، کچھ سفید ہیں، کچھ سرخ ہیں، کچھ زرد ہیں اور کچھ ان کے درمیان ہیں، کوئی آسان ہے، کوئی غمگین ہے، کوئی خراب ہے اور کوئی عمدہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6181]

6182

Sahih Ibn Hibban #6182

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ بِالْفُسْطَاطِ ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، قَالَ : قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : يَا أَبَا الأَسْوَدِ ، أرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ ، أَشَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى ، أَوْ فِيمَا يَسْتَقْبِلُونَ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاتُّخِذَتْ بِهِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ ؟ ، فَقُلْتُ : بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى عَلَيْهِمْ ، قَالَ : فَيَكُونُ ذَلِكَ ظُلْمًا ؟ ، قَالَ : فَفَزِعْتُ مِنْ ذَلِكَ فَزَعًا شَدِيدًا ، فَقُلْتُ : إِِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ إِِلا خَلْقُ اللَّهِ وَمِلْكُ يَدِهِ ، مَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يَسْأَلُونَ ، فَقَالَ عِمْرَانُ : سَدَّدَكَ اللَّهُ ، أَوْ وَفَّقَكَ اللَّهُ ، أَمَا وَاللَّهِ مَا سَأَلْتُكَ إِِلا لأَحْزِرَ عَقْلَكَ ، إِِنَّ رَجُلا مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ ، أَشَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى عَلَيْهِمْ ، أَوْ فِيمَا يَسْتَقْبِلُونَ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ ، وَاتُّخِذَتْ عَلَيْهِمْ بِهِ الْحُجَّةُ ؟ فَقَالَ : بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى عَلَيْهِمْ " ، قَالَ : فَلِمَ نَعْمَلُ إِِذًا ؟ ، قَالَ : " مَنْ كَانَ اللَّهُ خَلَقَهُ لِوَاحِدَةٍ مِنَ الْمَنْزِلَتَيْنِ ، فَهُوَ يُسْتَعْمَلُ لَهَا ، وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ : وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواسود دؤلی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: اے ابواسود! تمہاری کیا رائے ہے آج لوگ جو عمل کر رہے ہیں اور اس بارے میں جو کوشش کر رہے ہیں، کیا یہ کوئی ایسی چیز ہے جس کے بارے میں ان کے لیے فیصلہ ہو چکا ہے اور سب کچھ طے ہو چکا ہے، یا پھر وہ نئے سرے سے اس کے مطابق عمل کرتے ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تعلیمات لے کے آئے تھے، کیا اس وجہ سے ان کے خلاف حجت پیش کی جا سکتی ہے؟ میں نے کہا: بلکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں فیصلہ ہو چکا ہے جو پہلے گزر چکا ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر تو یہ ظلم ہو گا۔ راوی کہتے ہیں: میں اس بات پر بہت گھبرا گیا میں نے کہا: ہر چیز اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور اس کی بادشاہی کے دستِ قدرت میں ہے، اس سے اس کے بارے میں سوال نہیں کیا جا سکتا جو وہ کرتا ہے البتہ لوگوں سے باز پرس ہو گی، تو سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں ٹھیک رکھا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اللہ تعالیٰ نے تمہیں توفیق دی ہے۔ اللہ کی قسم! میں نے تم سے یہ سوال صرف اس لیے کیا تھا تاکہ تمہاری عقل کے بارے میں اندازہ لگا سکوں (پھر انہوں نے بتایا) ایک مرتبہ مزینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے آج کل جو لوگ عمل کرتے ہیں اور جس بارے میں کوشش کرتے ہیں، کیا یہ کوئی ایسی چیز ہے جس کے لیے ان کے بارے میں فیصلہ پہلے ہو چکا ہے یا پھر یہ لوگ نئے سرے سے کام کرتے ہیں جو اس کے مطابق ہو جو ان کے پاس نبی تعلیمات لے کے آئے اور اس بارے میں ان کے خلاف حجت قائم کی جا سکے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بلکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں ان کے لیے فیصلہ ہو چکا ہے اور وہ پہلے گزر چکا ہے۔“ سائل نے دریافت کیا پھر ہم عمل کیوں کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو دو میں سے کسی ایک منزل کے لیے پیدا کیا ہے وہ اس سے وہی کام لے گا۔“ (راوی کہتے ہیں:) اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں (ان الفاظ میں) موجود ہے: ﴿وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا * فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا﴾ [سورة الشمس: 7-8] ”اور نفس کی قسم اور جس کا اس نے تسویہ کیا ہے اسے گناہ اور پرہیزگاری الہام کی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6182]

6183

Sahih Ibn Hibban #6183

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صِيَاحُ الْمَوْلُودِ حِينَ يَقَعُ نَزْغَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نومولود بچہ اس وقت چیخ کر روتا ہے، جب شیطان اسے ٹھونگا مارتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6183]

6184

Sahih Ibn Hibban #6184

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي الْمَنَامِ مَا يَرَى الرَّجُلُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا : يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ، إِِذَا رَأَتْ ذَلِكَ الْمَرْأَةُ فَلْتَغْتَسِلْ " ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ ، وَاسْتَحْيَيْتُ مِنْ ذَلِكَ : وَيَكُونُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ ،مَاءُ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ ، وَأَيُّهُمَا سَبَقَ أَوْ عَلا ، كَانَ مِنْهُ الشَّبَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی خاتون کے بارے میں دریافت کیا جو خواب میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے (یعنی اس خاتون کو احتلام ہو جاتا ہے)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے ام سلیم! جب عورت یہ چیز دیکھے تو اسے غسل کرنا چاہیے۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: مجھے اس بات سے شرم آ گئی (میں نے عرض کی) ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ایسا بھی ہوتا ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں! مرد کا مادہِ تولید گاڑھا اور سفید ہوتا ہے جب کہ عورت کا مادہ پتلا اور زرد ہوتا ہے، ان میں سے جو سبقت لے جائے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) غالب آ جائے، بچے کی مشابہت اسی سے ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6184]

6185

Sahih Ibn Hibban #6185

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَاءُ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ ، فَأَيُّهُمَا سَبَقَ كَانَ الشَّبَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مرد کا مادہ تولید گاڑھا اور سفید ہوتا ہے جبکہ عورت کا مادہ پتلا اور زرد ہوتا ہے، ان میں سے جو سبقت لے جائے (بچے کی) مشابہت (اسی کے ساتھ ہوتی ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6185]

6186

Sahih Ibn Hibban #6186

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِِنَّآدَمَ لَمَّا أُهْبِطَ إِِلَى الأَرْضِ ، قَالَتِ الْمَلائِكَةُ : أَيْ رَبِّ ، أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لا تَعْلَمُونَ ، قَالُوا : رَبَّنَا نَحْنُ أَطْوَعُ لَكَ مِنْ بَنِي آدَمَ ، قَالَ اللَّهُ لِمَلائِكَتِهِ : هَلُمُّوا مَلَكَيْنِ مِنَ الْمَلائِكَةِ ، فَنَنْظُرَ كَيْفَ يَعْمَلانِ ، قَالُوا : رَبَّنَا ، هَارُوتُ وَمَارُوتُ ، قَالَ : فَاهْبِطَا إِِلَى الأَرْضِ ، قَالَ : فَمُثِّلَتْ لَهُمُ الزَّهْرَةُ امْرَأَةً مِنْ أَحْسَنِ الْبَشَرِ ، فَجَاءَاهَا فَسَأَلاهَا نَفْسَهَا ، فَقَالَتْ : لا وَاللَّهِ حَتَّى تَكَلَّمَا بِهَذِهِ الْكَلِمَةِ مِنَ الإِِشْرَاكِ ، قَالا : وَاللَّهِ لا نُشْرِكُ بِاللَّهِ أَبَدًا ، فَذَهَبَتْ عَنْهُمَا ، ثُمَّ رَجَعَتْ بِصَبِيٍّ تَحْمِلُهُ ، فَسَأَلاهَا نَفْسَهَا ، فَقَالَتْ : لا وَاللَّهِ حَتَّى تَقْتُلا هَذَا الصَّبِيَّ ، فَقَالا : لا وَاللَّهِ لا نَقْتُلُهُ أَبَدًا ، فَذَهَبَتْ ، ثُمَّ رَجَعَتْ بِقَدَحٍ مِنْ خَمْرٍ تَحْمِلُهُ ، فَسَأَلاهَا نَفْسَهَا ، فَقَالَتْ : لا وَاللَّهِ حَتَّى تَشْرَبَا هَذَا الْخَمْرَ ، فَشَرِبَا فَسَكِرَا ، فَوَقَعَا عَلَيْهَا ، وَقَتَلا الصَّبِيَّ ، فَلَمَّا أَفَاقَا ، قَالَتِ الْمَرْأَةُ : وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُمَا مِنْ شَيْءٍ أَثِيمًا إِِلا فَعَلْتُمَاهُ حِينَ سَكِرْتُمَا ، فَخُيِّرَا عِنْدَ ذَلِكَ بَيْنَ عَذَابِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الآخِرَةِ ، فَاخْتَارَا عَذَابَ الدُّنْيَا "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الزَّهْرَةُ هَذِهِ : امْرَأَةٌ كَانَتْ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ ، لا أَنَّهَا الزَّهْرَةُ الَّتِي هِيَ فِي السَّمَاءِ الَّتِي هِيَ مِنَ الْخُنَّسِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب سیدنا آدم علیہ السلام کو زمین پر اتارا گیا تو فرشتوں نے کہا: اے پروردگار! ﴿أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ﴾ [سورة البقرة: 30] ”کیا تو اس میں اسے (اپنا خلیفہ) بنا رہا ہے جو اس میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا جب کہ ہم تیری حمد کے ہمراہ تسبیح بیان کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔“ تو پروردگار نے فرمایا: ﴿إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ [سورة البقرة: 30] ”میں وہ علم رکھتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔“ ان فرشتوں نے عرض کی: ہم اولاد آدم کے مقابلے میں تیرے زیادہ فرمانبردار ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا: ”تم فرشتوں میں سے کوئی سے دو فرشتے لے آؤ، تو ہم اس بات کو ظاہر کر دیں گے کہ وہ کیا عمل کرتے ہیں۔“ ان لوگوں نے عرض کی: اے میرے پروردگار! ہاروت اور ماروت (پیش خدمت ہیں)، تو پروردگار نے فرمایا: ”تم دونوں زمین پر اتر جاؤ۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان کے سامنے زہرہ نام کی ایک خوبصورت ترین عورت آئی، وہ دونوں اس کے پاس آئے، انہوں نے اس سے زنا کی خواہش کا اظہار کیا، تو اس نے کہا: جی نہیں! اللہ کی قسم! جب تک تم لوگ یہ شرکیہ کلمہ نہیں کہو گے (میں تمہارے ساتھ زنا نہیں کروں گی)۔ ان دونوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم کبھی بھی کسی کو اللہ کا شریک نہیں قرار دیں گے۔ وہ ان دونوں کو چھوڑ کر چلی گئی، پھر وہ ایک بچے کو گود میں اٹھا کر واپس آئی، ان دونوں نے پھر اس کے سامنے زنا کی خواہش کا اظہار کیا، تو اس نے کہا: جی نہیں! اللہ کی قسم! جب تک تم اس بچے کو قتل نہیں کرتے (میں تمہاری بات نہیں مانوں گی)۔ ان دونوں نے کہا: جی نہیں! اللہ کی قسم! ہم اسے کبھی قتل نہیں کریں گے۔ وہ پھر چلی گئی، پھر وہ شراب کا پیالہ اٹھا کر آئی، پھر ان دونوں نے اس سے خواہش کا اظہار کیا، اس نے کہا: جی نہیں! اللہ کی قسم! جب تک تم یہ شراب نہیں پیتے (میں تمہاری خواہش پوری نہیں کروں گی)۔ ان دونوں نے شراب پی لی، وہ دونوں مدہوش ہو گئے، انہوں نے اس عورت کے ساتھ زنا بھی کر لیا اور اس بچے کو قتل بھی کر دیا، جب انہیں ہوش آیا، تو اس عورت نے کہا: اللہ کی قسم! تم نے ہر گناہ اس وقت کیا جب تم دونوں مدہوش ہو گئے تھے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر ان دونوں کو اس وقت دنیاوی عذاب اور آخرت کے عذاب کے درمیان اختیار دیا گیا، تو انہوں نے دنیا کے عذاب کو اختیار کر لیا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ایک عورت تھی جو اس زمانے میں موجود تھی، اس سے مراد زہرہ نامی ستارہ نہیں ہے، جو آسمان میں ہوتا ہے، جو خنس (چھپنے والے ستاروں) میں سے ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6186]

6187

Sahih Ibn Hibban #6187

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ مَعْقِلٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي إِِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : عَرْشُ إِِبْلِيسَ عَلَى الْمَاءِ ، ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ ، فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ ، أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ابلیس کا تخت پانی پر ہوتا ہے، پھر وہ اپنی مہم روانہ کرتا ہے، ان میں سے اس کے نزدیک زیادہ عظیم وہ ہوتا ہے جو زیادہ فتنہ پیدا کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6187]

6188

Sahih Ibn Hibban #6188

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْرُورِ بْنِ سَيَّارٍ بِأَرْغِيَانَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنِّيلأَجِدُ فِي صَدْرِيَ الشَّيْءَ لأَنْ أَكُونَ حُمَمَةً أَحَبُّ إِِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ أَمْرَهُ إِِلَى الْوَسْوَسَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اپنے ذہن میں ایسا خیال محسوس ہوتا ہے کہ میں جل کر کوئلہ ہو جاؤں، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں اس خیال کے بارے میں کوئی بات کروں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي رَدَّ كَيْدَهُ إِلَى الْوَسْوَسَةِ» ”اللہ اکبر، اللہ اکبر، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے اس کے معاملے کو وسوسے کی طرف لوٹا دیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6188]

6189

Sahih Ibn Hibban #6189

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِِذَا أَصْبَحَ إِِبْلِيسُ ، بَثَّ جُنُودَهُ ، فَيَقُولُ : مَنْ أَضَلَّ الْيَوْمَ مُسْلِمًا أَلْبَسْتُهُ التَّاجَ ، قَالَ : فَيَخْرُجُ هَذَا ، فَيَقُولُ : لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ، فَيَقُولُ : أَوْشَكَ أَنْ يَتَزَوَّجَ ، وَيَجِيءُ هَذَا ، فَيَقُولُ : لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى عَقَّ وَالِدَيْهِ ، فَيَقُولُ : أَوْشَكَ أَنْ يَبَرَّ ، وَيَجِيءُ هَذَا ، فَيَقُولُ : لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى أَشْرَكَ ، فَيَقُولُ : أَنْتَ أَنْتَ ، وَيَجِيءُ ، فَيَقُولُ : لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى زَنَى ، فَيَقُولُ : أَنْتَ أَنْتَ ، وَيَجِيءُ هَذَا ، فَيَقُولُ : لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى قَتَلَ ، فَيَقُولُ : أَنْتَ أَنْتَ ، وَيُلْبِسُهُ التَّاجَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب صبح ہوتی ہے تو شیطان اپنا لشکر پھیلا دیتا ہے اور یہ کہتا ہے: آج جو شخص کسی مسلمان کو گمراہ کرے گا میں اسے تاج پہناؤں گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں سے ایک شخص آتا ہے اور یہ کہتا ہے: میں نے آج پوری کوشش کی، یہاں تک کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، شیطان کہتا ہے: ہو سکتا ہے وہ شخص دوسری شادی کر لے۔ پھر دوسرا شخص آتا ہے اور کہتا ہے: میں نے آج پوری کوشش کی، یہاں تک کہ ایک آدمی نے اپنے ماں باپ کی نافرمانی کی، شیطان کہتا ہے: ہو سکتا ہے کہ وہ بعد میں فرمانبردار بن جائے۔ ایک اور شیطان آتا ہے وہ یہ کہتا ہے: میں نے آج پوری کوشش کی کہ ایک آدمی نے شرک کر لیا، شیطان کہتا ہے: تم واقعی تم ہو! پھر ایک اور آتا ہے اور کہتا ہے: میں نے پوری کوشش کی، یہاں تک کہ ایک آدمی نے زنا کر لیا، شیطان کہتا ہے: تم نے واقعی کام کیا ہے! ایک اور آتا ہے وہ یہ کہتا ہے: میں نے آج پوری کوشش کی یہاں تک کہ ایک آدمی نے قتل کر دیا، تو شیطان کہتا ہے: تم نے واقعی ہی کام کیا ہے! پھر وہ اپنا تاج اسے پہنا دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6189]

6190

Sahih Ibn Hibban #6190

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، عَنْ أَخِيهِ زَيْدِ بْنِ سَلامٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلامٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ ، أَنَّ رَجُلًَا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،أَنَبِيٌّ كَانَ آدَمُ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، مُكَلَّمٌ " ، قَالَ : فَكَمْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ نُوحٍ ؟ ، قَالَ : " عَشَرَةُ قُرُونٍ "، أَبُو تَوْبَةَ اسْمُهُ : الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا سیدنا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”جی ہاں، ان کے ساتھ کلام بھی کیا گیا۔“ اس نے دریافت کیا کہ ان کے اور سیدنا نوح علیہ السلام کے درمیان کتنا وقت ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس صدیاں۔“ ابوتوبہ نامی راوی کا نام ربیع بن نافع ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6190]

6191

Sahih Ibn Hibban #6191

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْ نَبِيٍّ إِِلا وَلَهُ بِطَانَتَانِ : بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَاهُ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَبِطَانَةٌ لا تَأْلُوهُ خَبَالا ، فَمَنْ وُقِيَ شَرَّهَا ، فَقَدْ وُقِيَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نبی کے ساتھ دو فرشتے ہوتے ہیں، جس میں سے ایک اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے منع کرتا ہے اور ایک کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتا، تو جس شخص کو اس کے شر سے بچا لیا گیا اسے (خراب ہونے سے) بچا لیا گیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6191]

6192

Sahih Ibn Hibban #6192

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ نَبِيٍّ ، وَلا اسْتَخْلَفَ مِنْ خَلِيفَةٍ ، إِِلا كَانَتْ لَهُ بِطَانَتَانِ : بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ ، وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالشَّرِّ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ ، وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے جس نبی کو مبعوث کیا اور اس کے بعد جس کو بھی اس کا خلیفہ بنایا، تو اس کے ساتھ دو (فرشتے) ہوتے ہیں، ان میں سے ایک اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور اس کی ترغیب دیتا ہے اور ایک اسے برائی کا حکم دیتا ہے اور اس کی ترغیب دیتا ہے، جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے وہی محفوظ رہتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6192]

6193

Sahih Ibn Hibban #6193

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَتَّابٍ الأَعْيُنُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الْخَطْمِيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا كَانَ مِنْ نَبِيٍّ إِِلا كَانَ لَهُ حَوَارِيُّونَ يُهْدُونَ بِهَدْيِهِ ، وَيَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِهِ ، ثُمَّ يَكُونُ مِنْ بَعْدِهِمْ أَقْوَامٌ يَقُولُونَ مَا لا يَفْعَلُونَ ، وَيَفْعَلُونَ مَا يُنْكِرُونَ ، فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ ، فَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهِ ، فَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهِ ، فَهُوَ مُؤْمِنٌ ، لَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الإِِيمَانِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ہر نبی کے کچھ حواری ہوتے ہیں جو اس کی ہدایت کی پیروی کرتے ہیں اور اس کی سنت پر عمل پیرا ہوتے ہیں، پھر اس کے بعد کچھ لوگ آ جاتے ہیں جو ایسی باتیں کرتے ہیں جن پر وہ (خود) عمل نہیں کرتے اور ایسے کام کرتے ہیں، جنہیں وہ خود گناہ قرار دیتے ہیں، تو جو شخص اپنے ہاتھ کے ذریعے ان کے ساتھ جہاد کرے گا وہ مومن ہو گا، جو اپنی زبان کے ذریعے جہاد کرے گا وہ مومن ہو گا، جو شخص اپنے دل کے ذریعے جہاد کرے گا وہ مومن ہو گا اور پھر اس کے بعد رائی کے دانے کے وزن جتنا بھی ایمان نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6193]

6194

Sahih Ibn Hibban #6194

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فِي الأُولَى وَالآخِرَةِ " ، قَالُوا : وَكَيْفَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " الأَنْبِيَاءُ إِِخْوَةٌ مِنْ عَلاتٍ ، أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى ، وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ ، وَلَيْسَ بَيْنَنَا نَبِيٌّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دنیا اور آخرت میں، میں سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں۔“ لوگوں نے دریافت کیا: وہ کیسے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء علاتی بھائی ہیں جن کی مائیں مختلف ہیں لیکن ان کا دین ایک ہے، لیکن ہمارے (یعنی میرے اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان) کوئی اور نبی نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6194]

6195

Sahih Ibn Hibban #6195

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ، الأَنْبِيَاءُ أَبْنَاءُ عَلاتٍ ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَ عِيسَى نَبِيٌّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں، انبیاء علاتی بھائی ہیں، میرے اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی اور نبی نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6195]

6196

Sahih Ibn Hibban #6196

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّلِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً دَعَاهَا فِي أُمَّتِهِ ، وَإِِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لأُمَّتِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نبی کی ایک مخصوص دعا ہے، جو وہ اپنی امت کے لیے کرتا ہے اور میں نے اپنی دعا کو اپنی امت کی شفاعت کے لیے سنبھال کے رکھا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6196]

6197

Sahih Ibn Hibban #6197

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : لَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجْرَ قَالَ : لا تَسْأَلُوا نَبِيَّكُمُ الآيَاتِ ، هَؤُلاءِ قَوْمُ صَالِحٍ سَأَلُوا نَبِيَّهُمْ آيَةً ، فَكَانَتِ النَّاقَةُ تَرِدُ عَلَيْهِمْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ ، وَتَصْدُرُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ ، فَيَشْرَبُونَ مِنْ لَبَنِهَا يَوْمَ وُرُودِهَا مِثْلَ مَا غَبَّهُمْ مِنْ مَائِهِمْ ، فَعَقَرُوهَا ، فَوُعِدُوا ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ، وَكَانَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ ، فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ ، فَلَمْ يَبْقَ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ رَجُلٌ إِِلا أَهْلَكَتْ ، إِِلا رَجُلٌ فِي الْحَرَمِ مَنَعَهُ الْحَرَمُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ هُوَ ؟ ، قَالَ : " أَبُو رِغَالٍ أَبُو ثَقِيفٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قومِ ثمود کی بستی کے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے نبی سے معجزات کے بارے میں مطالبہ نہ کرنا کیونکہ سیدنا صالح علیہ السلام کی قوم نے اپنے نبی سے معجزے کا مطالبہ کیا، تو اس راستے سے ایک اونٹنی نکل کر ان کے پاس آئی، وہ اس راستے سے واپس چلی جایا کرتی تھی، وہ لوگ اس اونٹنی کا دودھ پیا کرتے تھے جس دن وہ اونٹنی پانی پینے کے لیے آتی تھی اتنا ہی جتنا وہ ان کے پانی پر وقفہ کے ساتھ آتی تھی ہوتا تھا، ان لوگوں نے اس اونٹنی کے پاؤں کاٹ دیے، تو ان لوگوں کے ساتھ تین دن کے اندر (عذاب آنے کا) وعدہ کیا گیا، یہ ایک ایسا وعدہ تھا جس کی خلاف ورزی نہیں ہونی تھی، تو ایک زبردست آواز نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا، اس وقت آسمان کے نیچے موجود ہر شخص ہلاکت کا شکار ہو گیا ماسوائے اس شخص کے جو حرم کی حدود کے اندر تھا، حرم نے انہیں اللہ کے عذاب سے محفوظ رکھا۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون شخص تھا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثقیف قبیلے کا جدِ امجد ابورغال۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6197]

6198

Sahih Ibn Hibban #6198

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ بُجَيْرِ بْنِ أَبِي بُجَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ،" فَمَرُّوا عَلَى قَبْرِ أَبِي رِغَالٍ ، وَهُوَ أَبُو ثَقِيفٍ ، وَهُوَ امْرُؤٌ مِنْ ثَمُودَ ، مَنْزِلُهُ بِحَرَّاءَ ، فَلَمَّا أَهْلَكَ اللَّهُ قَوْمَهُ بِمَا أَهْلَكَهُمْ بِهِ ، مَنَعَهُ لِمَكَانِهِ مِنَ الْحَرَمِ ، وَأَنَّهُ خَرَجَ ، حَتَّى إِِذَا بَلَغَ هَا هُنَا ، مَاتَ ، فَدُفِنَ مَعَهُ غُصْنٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَابْتَدَرْنَا ، فَاسْتَخْرَجْنَاهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے، ان لوگوں کا گزر ابورغال کی قبر سے ہوا جو ثقیف قبیلے کا جدِ امجد تھا، ”یہ ایک ایسا شخص تھا جو قومِ ثمود سے تعلق رکھتا تھا، اس کی رہائش گاہ حرم کے مقام پر تھی، جب اللہ تعالیٰ نے اس کی قوم کو ہلاکت کا شکار کر دیا تو وہ ہلاکت کا شکار نہیں ہوا کیونکہ وہ حرم میں رہائش پذیر تھا، پھر وہ وہاں سے نکلا، جب وہ یہاں پہنچا تو یہاں اس کا انتقال ہو گیا، اس کے ہمراہ سونے کی ایک ٹہنی کو دفن کیا گیا۔“ (راوی کہتے ہیں:) ہم تیزی سے وہاں گئے اور سونے کی ٹہنی کو نکال لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6198]

6199

Sahih Ibn Hibban #6199

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : مَرَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحِجْرِ ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ إِِلا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ ، حَذَرًا أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ " ، ثُمَّ رَحَلَ فَأَسْرَعَ حَتَّى خَلَّفْهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہمارا گزر ”حجر“ کے مقام سے ہوا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”تم ان لوگوں کی رہائشی جگہ میں روتے ہوئے داخل ہو، جن لوگوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں تمہیں بھی وہی عذاب لاحق نہ ہو جو انہیں لاحق ہوا تھا“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رفتار تیز کی اور اس وادی سے آگے گزر گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6199]

6200

Sahih Ibn Hibban #6200

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَصْحَابِ الْحِجْرِ : لا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلاءِ الْقَوْمِ الْمُعَذَّبِينَ إِِلا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ ، فَلا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر (کی بستی سے گزرنے والوں) سے فرمایا: ”تم اس عذاب یافتہ قوم کے علاقے میں روتے ہوئے داخل ہونا، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں بھی وہی عذاب لاحق ہو جو انہیں لاحق ہوا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6200]

6201

Sahih Ibn Hibban #6201

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَصْحَابِ الْحِجْرِ : لا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلاءِ الْقَوْمِ الْمُعَذَّبِينَ إِِلا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ ، فَلا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر کی بستی والوں کے بارے میں فرمایا: ”تم اس عذاب یافتہ قوم کے علاقے میں روتے ہوئے داخل ہونا، تم یہاں داخل نہ ہونا (یعنی یہاں ٹھہرنا نہیں) کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں بھی وہی عذاب لاحق ہو جائے جو انہیں لاحق ہوا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6201]

6202

Sahih Ibn Hibban #6202

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِِسْحَاقَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ النَّاسَنَزَلُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجْرَ أَرْضَ ثَمُودَ ، فَاسْتَقَوْا مِنْ آبَارِهَا ، وَعَجَنُوا بِهِ الْعَجِينَ ، فَأَمَرَهُمْ أَنَ يُهْرِيقُوا مَا اسْتَقَوْا ، وَأَنْ يَعْلِفُوا الإِِبِلَ الْعَجِينَ ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْتَقُوا مِنَ الْبِئْرِ الَّتِي كَانَتْ تَرِدُهَا النَّاقَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حجر کے علاقے میں پڑاؤ کیا جو قوم ثمود کا علاقہ تھا، انہوں نے وہاں کے کنویں سے پانی لے لیا اور اس کے ذریعہ آٹا بھی گوندھ لیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت لیا ہوا پانی بہا دیا گیا اور وہ آٹا اونٹوں کو کھلا دیا گیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو یہ حکم دیا کہ ”وہ اس کنویں سے پانی حاصل کریں جہاں (سیدنا صالح علیہ السلام کی) اونٹنی پانی پینے کے لیے آتی تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6202]

6205

Sahih Ibn Hibban #6205

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اخْتَتَنَ إِِبْرَاهِيمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَلَغَ عِشْرِينَ وَمِائَةَ سَنَةٍ ، وَعَاشَ بَعْدَ ذَلِكَ ثَمَانِينَ سَنَةً ، وَاخْتَتَنَ بِالْقَدُومِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی عمر جب 120 سال ہوئی، انہوں نے اس وقت اپنے ختنے کیے، اس کے بعد وہ 80 سال تک زندہ رہے، انہوں نے قدوم کے مقام پر ختنے کیے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6205]

6206

Sahih Ibn Hibban #6206

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَحِمَ اللَّهُ يُوسُفَ ، لَوْلا الْكَلِمَةُ الَّتِي قَالَهَا : اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ ، مَا لَبِثَ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ ، وَرَحِمَ اللَّهُ لُوطًا ، إِِنْ كَانَ لَيَأْوِي إِِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ ، إِِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ : لَوْ أَنَّ لِيَ بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ ، قَالَ : فَمَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا بَعْدَهُ ، إِِلا فِي ثَرْوَةٍ مِنْ قَوْمِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سیدنا یوسف علیہ السلام پر رحم کرے، اگر وہ کلمہ نہ ہوتا جو انہوں نے کہا تھا: «اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ» ”تم اپنے آقا کے سامنے میرا ذکر کر دینا“ تو سیدنا یوسف علیہ السلام اتنا عرصہ قید خانے میں نہ رہتے جتنا عرصہ وہ رہے تھے، اور اللہ تعالیٰ سیدنا لوط علیہ السلام پر رحم کرے، انہوں نے ایک مضبوط پناہ گاہ کی پناہ لینے کا ارادہ کیا تھا، جب انہوں نے اپنی اس قوم سے کہا: ﴿لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ﴾ [سورة هود: 80] ”یا تو میرے پاس تمہارے مقابلے میں قوت ہو گی، یا پھر میں ایک مضبوط پناہ گاہ کی پناہ لے لوں گا۔““ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اس کی مخصوص قوم میں بھیجا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6206]

6207

Sahih Ibn Hibban #6207

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ جَاءَنِي الدَّاعِي الَّذِي جَاءَ إِِلَى يُوسُفَ ، لأَجَبْتُهُ ، وَقَالَ لَهُ : ارْجِعْ إِِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ ، وَرَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى لُوطٍ ، إِِنْ كَانَ لَيَأْوِي إِِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ ، إِِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ : لَوْ أَنَّ لِيَ بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ ، فَمَا بَعَثَ اللَّهُ بَعْدَهُ مِنْ نَبِيٍّ إِِلا فِي ثَرْوَةٍ مِنْ قَوْمِهِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : " لأَجَبْتُ الدَّاعِيَ " ، لَفْظَةُ إِِخْبَارٍ عَنْ شَيْءٍ مُرَادُهَا مَدْحَ مَنْ وَقَعَ عَلَيْهِ خِطَابُ الْخَبَرِ فِي الْمَاضِي"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو بلانے والا سیدنا یوسف علیہ السلام کو بلانے آیا تھا وہ میرے پاس آتا تو میں اس کے ساتھ چلا جاتا، سیدنا یوسف علیہ السلام نے اس سے کہا تھا: ﴿ارْجِعْ إِلَىٰ رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ﴾ [سورة يوسف: 50] ”تم اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور اس سے دریافت کرو کہ ان خواتین کا کیا بنا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔“ اللہ تعالیٰ سیدنا لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے، انہوں نے ایک مضبوط پناہ گاہ کی پناہ لینے کا ارادہ کیا تھا، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَىٰ رُكْنٍ شَدِيدٍ﴾ [سورة هود: 80] ”اگر میرے پاس تمہارے مقابلے میں قوت ہوئی تو ٹھیک ہے ورنہ میں ایک مضبوط پناہ گاہ کی پناہ لے لوں گا۔“ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اس کی مخصوص قوم میں مبعوث فرمایا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ کہ ”میں بلانے والے کے ساتھ چلا جاتا“ اس میں لفظی طور پر اطلاع دی گئی ہے لیکن اس کے ذریعے مراد یہ ہے کہ جس شخصیت کے بارے میں روایت کے الفاظ واقع ہوئے ہیں ان کی تعریف کی جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6207]""

6208

Sahih Ibn Hibban #6208

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلانَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِِبْرَاهِيمَ ، إِِذْ قَالَ : رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي ، وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا ، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ ، لأَجَبْتُ الدَّاعِيَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِِبْرَاهِيمَ " ، لَمْ يُرِدْ بِهِ إِِحْيَاءَ الْمَوْتَى ، إِِنَّمَا أَرَادَ بِهِ فِي اسْتِجَابَةِ الدُّعَاءِ لَهُ ، وَذَلِكَ أَنَّ إِِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى ، وَلَمْ يَتَيَقَّنْ أَنَّهُ يُسْتَجَابُ لَهُ فِيهِ ، يُرِيدُ : فِي دُعَائِهِ وَسُؤَالِهِ رَبَّهُ عَمَّا سَأَلَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِِبْرَاهِيمَ " ، بِهِ فِي الدُّعَاءِ ، لأَنَّا إِِذَا دَعَوْنَا ، رُبَّمَا يُسْتَجَابُ لَنَا ، وَرُبَّمَا لا يُسْتَجَابُ ، وَمَحْصُولُ هَذَا الْكَلامِ أَنَّهُ لَفْظَةُ إِِخْبَارٍ مُرَادُهَا التَّعْلِيمُ لِلْمُخَاطَبِ لَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ہم سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے مقابلے میں شک کرنے کے زیادہ حق دار ہیں جب انہوں نے یہ کہا: ﴿رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ ۖ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن ۖ قَالَ بَلَىٰ وَلَٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي﴾ [سورة البقرة: 260] ”اے میرے پروردگار! تو مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا۔ پروردگار نے دریافت کیا: کیا تم ایمان نہیں رکھتے ہو؟ انہوں نے عرض کی: جی ہاں، لیکن (میں یہ چاہتا ہوں) تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) اللہ تعالیٰ سیدنا لوط علیہ السلام پر رحم کرے، وہ ایک مضبوط پناہ گاہ کی پناہ میں جانا چاہتے تھے اور جتنا عرصہ سیدنا یوسف علیہ السلام قید خانے میں رہے، اگر میں اتنا عرصہ رہا ہوتا تو بلانے والے کے ساتھ چلا جاتا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ یہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”ہم سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے مقابلے میں شک کرنے کے زیادہ حق دار ہیں“ اس کے ذریعے یہ مراد نہیں ہے کہ مردوں کو زندہ کرنے کے بارے میں شک تھا بلکہ مراد ان کی دعا کا مستجاب ہونا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے یہ کہا تھا: ﴿رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ﴾ [سورة البقرة: 260] ”اے میرے پروردگار! تو مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا۔“ انہیں اس بات کا یقین نہیں تھا کہ اس بارے میں ان کی دعا مستجاب ہو گی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ ان کا اپنے پروردگار سے دعا کرنا اور وہ مطالبہ کرنا جو انہوں نے کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہم اس دعا کے بارے میں شک کرنے کے سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ حق دار ہیں“ کیونکہ جب ہم دعا کرتے ہیں تو بعض اوقات ہماری دعا مستجاب ہو جاتی ہے اور بعض اوقات مستجاب نہیں ہوتی، بہرحال اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ یہاں لفظی طور پر اطلاع دی گئی ہے، لیکن اس کے ذریعے مراد یہ ہے کہ مخاطب کو اس بارے میں تعلیم دی جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6208]

6209

Sahih Ibn Hibban #6209

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلادٌ الصَّفَّارُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلائِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ :أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَلا عَلَيْهِمْ زَمَانًا ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ قَصَصْتَ عَلَيْنَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ إِِلَى قَوْلِهِ : نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ ، فَتَلاهَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَانًَا ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ حَدَّثْتَنَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِهًا ، كُلُّ ذَلِكَ يُؤْمَرُونَ بِالْقُرْآنِ " ، قَالَ خَلادٌ : " وَزَادَ فِيهِ حِينَ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَكِّرْنَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن سعد اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوتا رہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم طویل عرصے تک لوگوں کے سامنے اس کی تلاوت کرتے رہے، تو لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے کوئی واقعہ بیان کریں (تو مہربانی ہو گی)، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ﴾ [سورة يوسف: 1] ، یہ آیت یہاں تک ہے: ”ہم تمہارے سامنے بہترین قصہ بیان کر رہے ہیں۔“ [سورة يوسف: 3] نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات ایک طویل عرصے تک لوگوں کے سامنے تلاوت کیں، پھر لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کوئی بات بتائیں (تو مہربانی ہو گی)، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اللہ تعالیٰ نے سب سے بہترین بات کتاب کی شکل میں نازل کی ہے جس میں متشابہات ہیں۔“ [سورة الزمر: 23] تو ان سب کو قرآن کے مطابق حکم دیا جاتا تھا۔ خلاد نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: جب لوگوں نے یہ عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کوئی نصیحت کیجیے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”کیا اہل ایمان پر ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے قلوب اللہ کے ذکر کے لیے خوف زدہ ہو جائیں۔“ [سورة الحديد: 16] [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6209]

6210

Sahih Ibn Hibban #6210

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : تَحَاجَّ آدَمُ وَمُوسَى ، فَحَجَّ آدَمَ مُوسَى ، فَقَالَ مُوسَى : أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَغْوَيْتَ النَّاسَ ، وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ ؟ ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ : أَنْتَ مُوسَى الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ عَلِمَ كُلِّ شَيْءٍ ، وَاصْطَفَاهُ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالاتِهِ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ ؟ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سیدنا آدم علیہ السلام اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بحث ہو گئی، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ وہ سیدنا آدم علیہ السلام ہیں جنہوں نے لوگوں کو گمراہ کر دیا اور انہیں جنت سے نکلوا دیا، تو سیدنا آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: آپ وہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے یہ چیز عطا کی تھی کہ وہ ہر چیز کا علم رکھتے تھے اور تمام لوگوں میں اپنی رسالت کے لیے منتخب کیا، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا: جی ہاں، تو سیدنا آدم علیہ السلام نے کہا: آپ ایک ایسے معاملے کے بارے میں مجھے ملامت کر رہے ہیں جو میری تخلیق سے پہلے ہی میرے مقدر میں طے کر دیا گیا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6210]

6211

Sahih Ibn Hibban #6211

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَبَنُو إِِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً ، يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِِلَى سَوْأَةِ بَعْضٍ ، وَكَانَ مُوسَى يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ ، قَالُوا : وَاللَّهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِِلا أَنَّهُ آدَرُ ، قَالَ : فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ ، فَوَضَعَ ثوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ ، فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ ، فَاشْتَدَّ مُوسَى فِي أَثَرِهِ وَهُوَ يَقُولُ : ثَوْبِي حَجَرُ ، ثَوْبِي حَجَرُ ، حَتَّى نَظَرَتْ بَنُو إِِسْرَائِيلَ إِِلَى سَوْأَةِ مُوسَى ، فَقَالُوا : وَاللَّهِ مَا بِمُوسَى مِنْ بَأْسٍ ، فَقَامَ الْحَجَرُ بَعْدَ مَا نَظَرَ النَّاسُ إِِلَيْهِ ، فَأَخَذَ ثَوْبَهُ ، وَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا " ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَاللَّهِ إِِنَّ بِالْحَجَرِ نَدَبًا سِتَّةً أَوْ سَبْعَةً مِنْ ضَرْبِ مُوسَى الْحَجَرَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بنی اسرائیل برہنہ ہو کر غسل کیا کرتے تھے، وہ ایک دوسرے کی شرمگاہ کی طرف دیکھ لیا کرتے تھے، سیدنا موسیٰ علیہ السلام تنہا غسل کیا کرتے تھے، ان لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! سیدنا موسیٰ علیہ السلام ہمارے ساتھ صرف اس لیے غسل نہیں کرتے کیونکہ ان کے اندر کوئی عیب ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے لگے اور اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھے، تو وہ پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ کھڑا ہوا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے بھاگے، وہ یہ کہہ رہے تھے: «ثَوْبِي حَجَرُ، ثَوْبِي حَجَرُ» ”اے پتھر! میرے کپڑے، اے پتھر! میرے کپڑے“، یہاں تک کہ بنی اسرائیل نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی شرمگاہ کو دیکھ لیا، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! سیدنا موسیٰ علیہ السلام میں تو کوئی خرابی نہیں ہے، جب لوگوں نے انہیں دیکھ لیا تو پتھر بھی رک گیا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنے کپڑے لیے اور اس پتھر کو مارنا شروع کیا۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! اس پتھر پر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی ضرب کے چھ یا شاید سات نشان ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6211]

6212

Sahih Ibn Hibban #6212

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلًَا قَالَ لِشَيْءٍ قَسَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا عَدَلَ فِي هَذَا ، فَقَالَ : فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى ، قَدْ كَانَ يُصِيبُهُ أَشَدُّ مِنْ هَذَا ثُمَّ يَصْبِرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی چیز تقسیم کی تو ایک شخص نے اس کے بارے میں یہ کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں انصاف سے کام نہیں لیا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سوچا: اللہ کی قسم! میں ضرور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتاؤں گا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے، انہیں اس سے زیادہ اذیت پہنچائی گئی، لیکن پھر بھی انہوں نے صبر سے کام لیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6212]

6213

Sahih Ibn Hibban #6213

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ ، قَالَ اللَّهُ لِمُوسَى : إِِنَّ قَوْمَكَ صَنَعُوا كَذَا وَكَذَا ، فَلَمَّا يُبَالِ ، فَلَمَّا عَايَنَ ، أَلْقَى الأَلْوَاحَ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَبُو بِشْرٍ : جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سنی ہوئی بات براہِ راست دیکھنے کی طرح نہیں ہوتی، اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے کہا: تمہاری قوم نے اس، اس طرح کر لیا ہے، انہوں نے کوئی پرواہ نہیں کی لیکن جب انہوں نے بذاتِ خود دیکھ لیا تو انہوں نے الواح کو پھینک دیا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابو بشر نامی راوی کا نام جعفر بن ابو وحشیہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6213]

6214

Sahih Ibn Hibban #6214

أَخْبَرَنَا حُبَيْشُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النِّيلِيُّ بِوَاسِطٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ : لَيْسَ الْمُعَايِنُ كَالْمُخْبَرِ ، أَخْبَرَ اللَّهُ مُوسَى أَنَّ قَوْمَهُ فُتِنُوا ، فَلَمْ يُلْقِ الأَلْوَاحَ ، فَلَمَّا رَآهُمْ أَلْقَى الأَلْوَاحَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”براہِ راست دیکھنا سننے کی طرح نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو یہ اطلاع دی کہ تمہاری قوم کو آزمائش میں مبتلا کر دیا گیا ہے لیکن انہوں نے پھر بھی الواح کو نہیں پھینکا، لیکن جب انہوں نے لوگوں کی صورت حال خود دیکھی تو انہوں نے الواح کو پھینک دیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6214]

6215

Sahih Ibn Hibban #6215

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، وَعَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، رَفَعَهُ أَحَدُهُمَا إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِِنَّجِبْرِيلَ كَانَ يَدُسُّ فِي فَمِ فِرْعَوْنَ الطِّينَ مَخَافَةَ أَنْ يَقُولَ : لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”سیدنا جبرائیل علیہ السلام فرعون کے منہ میں مٹی ٹھونس رہے تھے اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» نہ پڑھ لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6215]

6216

Sahih Ibn Hibban #6216

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجَ ، حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ شَيْخَانِ صَالِحَانِ ، سَمِعَا الشَّعْبِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنَّمُوسَى سَأَلَ رَبَّهُ : أَيُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَدْنَى مَنْزِلَةً ؟ ، قَالَ : رَجُلٌ يَجِيءُ بَعْدَمَا يَدْخُلُ ، يَعْنِي : أَهْلَ الْجَنَّةِ ، الْجَنَّةَ ، فَيُقَالُ : ادْخُلِ الْجَنَّةَ ، فَيَقُولُ : كَيْفَ أَدْخَلُ الْجَنَّةَ وَقَدْ نَزَلَ النَّاسُ مَنَازِلَهُمْ ، وَأَخَذُوا أَخَذَاتِهِمْ ؟ ، فَيَقُولُ لَهُ : أَتَرْضَى أَنْ يَكُونَ لَكَ مِنَ الْجَنَّةِ مِثْلُ مَا كَانَ لِمَلِكٍ مِنْ مُلُوكِ الدُّنْيَا ؟ ، فَيَقُولُ : نَعَمْ أَيْ رَبِّ ، فَيُقَالُ : لَكَ هَذَا وَمِثْلُهُ ، وَمِثْلُهُ ، وَمِثْلُهُ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، رَضِيتُ ، فَيُقَالُ لَهُ : إِِنَّ لَكَ هَذَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهِ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، رَضِيتُ ، فَيُقَالُ لَهُ : لَكَ مَعَ هَذَا مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ ، وَلَذَّتْ عَيْنُكَ ، وَسَأَلَ رَبَّهُ : أَيُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَرْفَعُ مَنْزِلَةً ؟ ، قَالَ : سَأُحَدِّثُكَ عَنْهُمْ ، غَرَسْتُ كَرَامَتَهُمْ بِيَدِي ، وَخَتَمْتُ عَلَيْهَا ، فَلا عَيْنٌ رَأَتْ ، وَلا أُذُنٌ سَمِعَتْ ، وَلا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ، وَمِصْدَاقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى : فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے منبر پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا: ”سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے سوال کیا: اہل جنت کا کون سا فرد جنت میں سب سے کم تر درجے میں ہو گا؟ اللہ تعالیٰ نے بتایا: وہ ایک ایسا شخص ہو گا جو اہل جنت کے جنت میں داخل ہو جانے کے بعد آئے گا اور اس سے کہا جائے گا: تم جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ عرض کرے گا: میں کیسے جنت میں داخل ہوں گا جب کہ لوگ اپنی جگہوں پر پہنچ چکے ہیں اور انہوں نے اپنے حصے کی جگہ حاصل کر لی ہے؟ تو پروردگار اس سے دریافت کرے گا: کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہیں جنت میں اتنی جگہ دے دی جائے جتنی کسی دنیاوی بادشاہ کے پاس ہوتی تھی؟ وہ کہے گا: جی ہاں، اے میرے پروردگار (میں راضی ہوں)، تو یہ کہا جائے گا: تمہیں یہ بھی ملتی ہے اور اس کی مانند مزید، اور اس کی مانند مزید، اور اس کی مانند مزید (یعنی مزید تین گنا اور ملتی ہے)، تو وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار میں راضی ہوں، تو اس سے کہا جائے گا: تمہیں اس کی دس گنا مزید ملتی ہے، وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار میں راضی ہو گیا۔ تو اس سے کہا جائے گا: تمہیں اس کے ہمراہ وہ چیز بھی ملتی ہے جس کی تمہارے نفس کو خواہش تھی یا جو تمہاری آنکھوں کو لذت فراہم کرے گی۔ پھر سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے دریافت کیا: اہل جنت میں سب سے بلند مرتبہ کس شخص کا ہو گا؟ پروردگار نے فرمایا: میں تمہیں اس بارے میں بتاتا ہوں، میں نے اپنے دست قدرت کے ذریعے ان کی عزت افزائی کی ہے اور اس پر مہر لگا دی ہے (انہیں ایسی نعمتیں ملیں گی) جو کسی آنکھ نے دیکھی نہیں، کسی کان نے ان کے بارے میں سنا نہیں اور کسی انسان کے ذہن میں ان کا خیال تک نہیں آیا ہو گا۔ اس کا مصداق اللہ کی کتاب میں (ان الفاظ میں) موجود ہے: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ﴾ [سورة السجدة: 17] ”کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا چیز پوشیدہ رکھی گئی ہے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6216]