Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 55 · Chapter 3

Book of the Will

Hadith 6257–6290

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6257

Sahih Ibn Hibban #6257

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ نَمْلَةَ بْنَ أَبِي نَمْلَةَ الأَنْصَارِيّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا نَمْلَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ ، فَقَالَ : هَلْ تَكَلَّمَ هَذِهِ الْجِنَازَةُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُ أَعْلَمُ " ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ : أَنَا أَشْهَدُ أَنَّهَا تَتَكَلَّمُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" مَا حَدَّثَكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ ، فَلا تُصَدِّقُوهُمْ وَلا تُكَذِّبُوهُمْ ، وَقَالُوا : آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَلائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ ، فَإِِنْ كَانَ حَقًّا ، لَمْ تُكَذِّبُوهُمْ ، وَإِِنْ كَانَ بَاطِلا ، لَمْ تُصَدِّقُوهُمْ " ، وَقَالَ : " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ ، لَقَدْ أُوتُوا عِلْمًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابونملہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اسی دوران ایک یہودی آیا اور بولا: کیا یہ میت گفتگو کرے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ بہتر جانتا ہے۔“ اس یہودی نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ گفتگو کرتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہلِ کتاب تمہیں جو بات بتائیں، تم ان کی تصدیق بھی نہ کرو اور انہیں جھوٹا بھی قرار نہ دو۔“ لوگوں نے کہا: «آَمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ» ”ہم اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں“، اگر یہ بات سچ ہو گی، تو تم اسے جھٹلاؤ گے نہیں اور اگر جھوٹی ہو گی تو تم اس کی تصدیق نہیں کرو گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ یہودیوں کو برباد کرے، انہیں علم عطا کیا گیا، لیکن (وہ پھر بھی گمراہ رہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6257]

6258

Sahih Ibn Hibban #6258

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ بِوَاسِطٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّأُمَّةً مِنْ بَنِي إِِسْرَائِيلَ فُقِدَتْ لا يُدْرَى مَا فَعَلَتْ ، وَلا أُرَاهَا إِِلا الْفَأْرَ ، أَلا تَرَاهَا إِِذَا وَجَدْتَ أَلْبَانَ الإِِبِلِ ، لَمْ تَشْرَبْهُ ، وَإِِذَا وَجَدْتَ أَلْبَانَ الْغَنَمِ ، شَرِبَتْهُ ؟ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بنی اسرائیل کا ایک گروہ گم ہو گیا، یہ پتہ نہیں چلا کہ ان کا کیا بنا، میرا یہ خیال ہے کہ وہ چوہے بن گئے تھے، کیا تم نے اسے دیکھا نہیں کہ جب وہ اونٹنی کا دودھ پاتا ہے تو اسے نہیں پیتا اور جب بکری کا دودھ پاتا ہے تو اسے پی لیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6258]

6259

Sahih Ibn Hibban #6259

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِِذَا صَلَّى الْفَجْرَ ، جَلَسَ فِي مُصَلاهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَكَانُوا يَجْلِسُونَ ، فَيَتَحَدَّثُونَ ، وَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَيَضْحَكُونَ وَيَتَبَسَّمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز ادا کر لینے کے بعد جائے نماز پر تشریف فرما رہتے تھے، یہاں تک کہ سورج نکل آتا، اس دوران لوگ بھی بیٹھے رہتے تھے، وہ آپس میں بات چیت کرتے تھے اور زمانہ جاہلیت کے واقعات یاد کر کے ہنسا کرتے تھے جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6259]

6260

Sahih Ibn Hibban #6260

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُفْيَانَ النَّسَائِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَةً فِي النَّارِ ، وَكَانَ أَوَّلُ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ "، قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ : السَّائِبَةُ : الَّتِي كَانَتْ تُسَيَّبُ ، فَلا يُحْمَلُ عَلَيْهَا شَيْءٌ ، وَالْبَحِيرَةُ : الَّتِي يُمْنَعُ دَرُّهَا لِلطَّوَاغِيتِ ، فَلا يَحْتَلِبُهَا أَحَدٌ ، وَالْوَصِيلَةُ : النَّاقَةُ الْبِكْرُ ، تُبَكِّرُ فِي أَوَّلِ نِتَاجِ الإِِبِلِ بِأُنْثَى ، ثُمَّ تُثَنِّي بِأُنْثَى ، فَكَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لِلطَّوَاغِيتِ ، وَيَدْعُونَهَا الْوَصِيلَةَ أَنْ وَصَلَتْ إِِحْدَاهُمَا بِالأُخْرَى ، وَالْحَامُ : فَحْلُ الإِِبِلِ ، يَضْرِبُ الْعَشْرَ مِنَ الإِِبِلِ ، فَإِِذَا قَضَى ضِرَابَهُ جَدَعُوهُ لِلطَّوَاغِيتِ ، وَأَعْفَوْهُ مِنَ الْحَمْلِ ، فَلَمْ يَحْمِلُوا عَلَيْهِ شَيْئًا ، وَسَمَّوْهُ الْحَامَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی آنتیں گھسیٹ رہا تھا، یہ وہ پہلا شخص تھا جس نے بتوں کے نام پر جانور مخصوص کرنے کا آغاز کیا۔“ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں: «سَائِبَة» ”سائبہ“ اس جانور کو کہتے ہیں، جس کو بت کے نام پر مخصوص کر دیا جائے اور اس پر وزن نہ لادا جائے۔ «بَحِيرَة» ”بحیرہ“ اس جانور کو کہتے ہیں جس کا دودھ بتوں کے لیے مخصوص کر دیا جائے، کوئی آدمی اس کا دودھ نہیں دوہ سکتا۔ «وَصِيلَة» ”وصیلہ“ اس جوان اونٹنی کو کہتے ہیں، جس کے ہاں پہلی مرتبہ اونٹنی ہوتی ہے اور دوسری مرتبہ بھی اونٹنی ہوتی ہے، وہ اس اونٹنی کو بتوں کے لیے مخصوص کر دیتے تھے اور اسے وصیلہ کہتے تھے کیونکہ ان میں ایک دوسری کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی تھی (یعنی درمیان میں کوئی نر جانور نہیں ہوتا تھا)۔ «حَام» ”حام“ سے مراد وہ نر اونٹ ہے جسے دس مرتبہ جفتی کروائی گئی ہو، جب وہ جفتی کا کام مکمل کر لیتا، تو وہ لوگ اسے بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے اور اس پر سامان نہیں لادتے تھے، وہ اس پر کوئی چیز نہیں لادتے تھے اور اس کا نام حام رکھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6260]

6261

Sahih Ibn Hibban #6261

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمْ يُقَصَّ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلا أَبِي بَكْرٍ ، وَلا عُمَرَ ، وَلا عُثْمَانَ ، إِِنَّمَا كَانَ الْقَصَصُ زَمَنَ الْفِتْنَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں قصہ گوئی نہیں ہوتی تھی، قصہ گوئی فتنوں کے زمانے میں شروع ہوئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6261]

6262

Sahih Ibn Hibban #6262

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ طَاوُسًا ، قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ : قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى ، فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ : قُرْبَى مُحَمَّدٍ ؟ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : عَجِلْتَ ، إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِِلا كَانَ لَهُ فِيهِمْ قَرَابَةٌ ، فَقَالَ : إِِلا أَنْ تَصِلُوا مَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنَ الْقَرَابَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طاؤس بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت ﴿قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ﴾ [سورة الشورى: 23] ”تم یہ فرما دو کہ میں اس پر تم سے معاوضہ طلب نہیں کرتا صرف رشتہ داری کے حقوق کے حوالے سے محبت کا طلب گار ہوں۔“ کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا: اس سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتے دار ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم نے جلد بازی سے کام لیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قریش کی ہر شاخ کے ساتھ کوئی نہ کوئی رشتہ تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے اور تمہارے درمیان جو رشتہ داری ہے تم اس کے حقوق کا خیال رکھو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6262]

6263

Sahih Ibn Hibban #6263

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگ بھلائی اور برائی ہر معاملے میں قریش کے پیروکار ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6263]

6264

Sahih Ibn Hibban #6264

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ وَدِيعَةَ الأَنْصَارِيُّ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : الأَنْصَارُ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ ، وَإِِنَّ النَّاسَ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الأَمْرِ : مُؤْمِنُهُمْ تَبَعُ مُؤْمِنِهِمْ ، وَفَاجِرُهُمْ تَبَعُ فَاجِرِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”انصار (مانگنے سے) بچنے والے اور صبر کرنے والے لوگ ہیں۔ بے شک لوگ (اس حکومت) کے معاملے میں قریش کے پیروکار ہیں۔ مومن لوگ قریش کے پیروکار ہیں اور گناہ گار (یعنی کافر لوگ) کفار قریش کے پیروکار ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6264]

6265

Sahih Ibn Hibban #6265

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَزْهَرِ أَوْ زَاهِرٍ ، الشَّكُّ مِنْ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، وَالصَّوَابُ هُوَ الأَزْهَرُ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لِلْقُرَشِيِّ قُوَّةُ الرَّجُلَيْنِ مِنْ غَيْرِ قُرَيْشٍ "، فَسَأَلَ سَائِلٌ ابْنَ شِهَابٍ : مَا يَعْنِي بِذَلِكَ ؟ قَالَ : نُبْلُ الرَّأْيِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک قریشی میں غیر قریشیوں کے دو آدمیوں جتنی قوت ہوتی ہے۔“ ایک شخص نے ابن شہاب رحمہ اللہ سے سوال کیا اس سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: رائے میں سمجھ بوجھ ہونا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6265]

6266

Sahih Ibn Hibban #6266

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَزَالُ هَذَا الأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ فِي النَّاسِ اثْنَانِ "، قَالَ عَاصِمٌ : وَحَرَّكَ أُصْبُعَيْهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ معاملہ (یعنی حکومت) مسلسل قریش میں رہے گا، جب تک لوگوں میں سے دو آدمی باقی ہیں۔“ عاصم نامی راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی دو انگلیوں کو حرکت دے کر (یہ روایت بیان کی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6266]

6267

Sahih Ibn Hibban #6267

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : نِسَاءُ قُرَيْشٍ خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الإِِبِلَ ، أَحْنَاهُ عَلَى طِفْلٍ ، وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ "، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَى أَثَرِ ذَلِكَ : " وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِيرًا قَطُّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قریش کی خواتین اونٹنیوں پر سوار ہونے والی (یعنی عرب خواتین) میں سب سے بہتر ہیں، یہ اپنے بچوں پر بڑی مہربان ہوتی ہیں اور اپنے شوہر (کے گھر کا) بھرپور خیال رکھتی ہیں۔“ اس کے بعد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سیدہ مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا کبھی بھی اونٹ پر سوار نہیں ہوئی تھیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6267]

6268

Sahih Ibn Hibban #6268

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَتْ : إِِنِّي قَدْ كَبِرْتُ وَلِي عِيَالٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الإِِبِلَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدِهِ فِي صِغَرِهِ ، وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ ، وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِيرًا قَطُّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا کو شادی کا پیغام بھیجا، انہوں نے عرض کی: میری عمر بھی زیادہ ہو گئی ہے اور میں بال بچے دار بھی ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اونٹوں پر سوار ہونے والی خواتین (یعنی عرب خواتین) میں قریش کی خواتین سب سے بہتر ہیں جو اپنے بچوں کے لیے ان کی کم سنی میں بڑی مہربان ہوتی ہیں اور اپنے شوہر (کے گھر بار) کا خیال رکھتی ہیں۔“ (شاید سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ کہا:) سیدہ مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا بھی اونٹ پر سوار نہیں ہوئی تھیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6268]

6269

Sahih Ibn Hibban #6269

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَفْصٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي مُحَمَّدَ بْنَ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمِّيَ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ مُوسَى ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، قَالَ : قَالَ لِي أَبِي عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ : أَيْ بُنَيَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ أَهَانَ قُرَيْشًا ، أَهَانَهُ اللَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عمرو بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: اے میرے بیٹے! اگر تم مسلمانوں کے کسی معاملے (یعنی حکومت یا سرکاری عہدے) کے نگران بنو، تو قریش کی عزت افزائی کرنا کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص قریش کی توہین کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے ذلت کا شکار کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6269]

6270

Sahih Ibn Hibban #6270

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنَ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِي طَالِبٍ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ : قُلْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ أَشْفَعْ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، لَوْلا أَنْ تُعَيِّرَنِيَ قُرَيْشٌ لأَقْرَرْتُ عَيْنَيْكَ بِهَا ، فَنَزَلَتْ : إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب جناب ابوطالب کی موت کا وقت قریب آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”آپ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ پڑھ لیجیے، میں اس کی وجہ سے قیامت کے دن آپ کے حق میں شفاعت کروں گا۔“ تو جناب ابوطالب نے فرمایا: ”اے میرے بھتیجے! اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ قریش مجھے عار دلائیں گے تو میں اس کلمے کے ذریعے تمہاری آنکھوں کو ٹھنڈا کر دیتا۔“ (راوی کہتے ہیں:) اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ﴾ [سورة القصص: 56] ”بے شک تم اسے ہدایت نہیں دیتے جسے تم پسند کرتے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6270]

6271

Sahih Ibn Hibban #6271

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ، وَذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ ، فَقَالَ : لَعَلَّهُ أَنْ تُصِيبَهُ شَفَاعَتِي ، فَتَجْعَلَهُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنَ النَّارِ تَبْلُغُ كَعْبَيْهِ ، يَغْلِي مِنْهَا دِمَاغُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ کے سامنے آپ کے چچا جناب ابوطالب کا ذکر کیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں میری شفاعت نصیب ہو گی، جس کے نتیجے میں ان کے ٹخنوں تک آگ پہنچے گی، لیکن اس کی وجہ سے ان کا دماغ کھول رہا ہو گا (یعنی ان کے باقی جسم تک آگ نہیں پہنچے گی)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6271]

6272

Sahih Ibn Hibban #6272

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَا هَمَمْتُ بِقَبِيحٍ مِمَّا يَهُمُّ بِهِ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ إِِلا مَرَّتَيْنِ مِنَ الدَّهْرِ ، كِلْتَاهُمَا عَصَمَنِي اللَّهُ مِنْهُمَا ، قُلْتُ لَيْلَةً لِفَتًى كَانَ مَعِي مِنْ قُرَيْشٍ بِأَعْلَى مَكَّةَ فِي غَنَمٍ لأَهْلِنَا نَرْعَاهَا : أَبْصِرْ لِي غَنَمِي حَتَّى أَسْمُرَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ بِمَكَّةَ كَمَا يَسْمُرُ الْفِتْيَانُ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَخَرَجْتُ ، فَلَمَّا جِئْتُ أَدْنَى دَارٍ مِنْ دُورِ مَكَّةَ سَمِعْتُ غِنَاءً ، وَصَوْتَ دُفُوفٍ ، وَمَزَامِيرَ ، قُلْتُ : مَا هَذَا ؟ قَالُوا : فُلانٌ تَزَوَّجَ فُلانَةَ ، لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشِ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ ، فَلَهَوْتُ بِذَلِكَ الْغِنَاءِ ، وَبِذَلِكَ الصَّوْتِ حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي ، فَنِمْتُ ، فَمَا أَيْقَظَنِي إِِلا مَسُّ الشَّمْسِ ، فَرَجَعْتُ إِِلَى صَاحِبِي ، فَقَالَ : مَا فَعَلْتَ ؟ فَأَخْبَرْتُهُ ، ثُمَّ فَعَلْتُ لَيْلَةً أُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ، فَخَرَجْتُ ، فَسَمِعْتُ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقِيلَ لِي : مِثْلُ مَا قِيلَ لِي ، فَسَمِعْتُ كَمَا سَمِعْتُ ، حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي ، فَمَا أَيْقَظَنِي إِِلا مَسُّ الشَّمْسِ ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِِلَى صَاحِبِي ، فَقَالَ لِي : مَا فَعَلْتَ ؟ فَقُلْتُ : مَا فَعَلْتُ شَيْئًا " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَوَاللَّهِ ، مَا هَمَمْتُ بَعْدَهُمَا بِسُوءٍ مِمَّا يَعْمَلُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ ، حَتَّى أَكْرَمَنِي اللَّهُ بِنُبُوَّتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”میں نے کبھی بھی کسی ایسی برائی کرنے کا ارادہ نہیں کیا جو زمانہ جاہلیت کے لوگ کیا کرتے تھے، البتہ دو مرتبہ ارادہ کیا اور دونوں مرتبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بچا لیا۔ (پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا:) ایک مرتبہ میں ایک قریشی نوجوان کے ساتھ اپنے گھر والوں کی بکریاں مکہ کے بالائی حصے میں چرا رہا تھا، میں نے اپنے ساتھی نوجوان سے کہا: تم نے آج میری بکریوں کا دھیان رکھنا ہے، آج رات میں مکہ میں اسی طرح وقت بسر کروں گا جس طرح نوجوان گزارتے ہیں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ میں وہاں سے روانہ ہوا، جب میں مکہ کے آخری کونے میں موجود گھر کے پاس پہنچا تو وہاں مجھے گانے، دف بجانے اور موسیقی کے آلات کی آواز آئی، میں نے دریافت کیا: یہ کیا ہے؟ تو لوگوں نے بتایا: فلاں شخص نے فلاں عورت کے ساتھ شادی کی ہے (انہوں نے قریش کے ایک شخص کی قریش کی ایک خاتون کے ساتھ شادی کرنے کے بارے میں بتایا)۔ میں اس گانے اور آواز کو سننے لگا، اسی دوران میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گیا، یہاں تک کہ مجھے دھوپ کی تپش نے بیدار کیا، پھر میں اپنے ساتھی کے پاس واپس آیا، اس نے دریافت کیا: تم نے کیا کیا؟ میں نے اسے اس بارے میں بتایا۔ پھر دوسری رات بھی اسی طرح ہوا، میں وہاں سے روانہ ہوا اور میں نے اسی طرح کی آواز سنی، مجھ سے وہی بات کہی گئی جو پہلے کہی گئی تھی، میں نے اسی طرح کی آواز سنی جس طرح پہلے سنی تھی، یہاں تک کہ میری آنکھ لگ گئی اور پھر مجھے سورج کی تپش نے بیدار کیا، میں پھر اپنے ساتھی کے پاس آیا، اس نے دریافت کیا: تم نے کیا کیا؟ میں نے کہا: میں نے کچھ نہیں کیا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: «فَوَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم! اس کے بعد میں نے کبھی کسی ایسی برائی کا ارادہ نہیں کیا جو زمانہ جاہلیت کے لوگ کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نبوت کے ذریعے مجھے سرفراز فرمایا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6272]

6273

Sahih Ibn Hibban #6273

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَحْصُوا كُلَّ مَنْ كَانَ تَلَفَّظَ بِالإِِسْلامِ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَخَافُ وَنَحْنُ بَيْنَ السِّتِّ مِائَةٍ إِِلَى السَّبْعِ مِائَةٍ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنَّكُمْ لا تَدْرُونَ ، لَعَلَّكُمْ تُبْتَلَونَ "، قَالَ : فَابْتُلِيَنَا ، حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا لا يُصَلِّي إِِلا سِرًّا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ ان لوگوں کی گنتی کرو جو اسلام قبول کر چکے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کو اندیشہ ہے، جب کہ ہماری تعداد چھ سو سے لے کر سات سو تک ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نہیں جانتے ہو، ہو سکتا ہے تمہیں آزمائش میں مبتلا کر دیا جائے۔“ راوی کہتے ہیں: تو ہمیں آزمائش میں مبتلا کیا گیا، (یہاں تک کہ ایسی نوبت آ گئی کہ) ہم میں سے ہر شخص صرف پوشیدہ طور پر ہی نماز ادا کر سکتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6273]

6274

Sahih Ibn Hibban #6274

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ سَبْعَ سِنِينَ ، يَتَتَبَّعُ النَّاسَ فِي مَنَازِلِهِمْ بِعُكَاظَ وَمَجَنَّةَ وَالْمَوَاسِمِ بِمِنًى ، يَقُولُ : مَنْ يُؤْوِينِي وَيَنْصُرَنِي حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالاتِ رَبِّي ؟ " ، حَتَّى إِِنَّ الرَّجُلَ لِيَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ أَوْ مِنْ مِصْرَ فَيَأْتِيهُ قَوْمُهُ ، فَيَقُولُونَ : احْذَرْ غُلامَ قُرَيْشٍ ، لا يَفْتِنُكَ ، وَيَمْشِي بَيْنَ رِحَالِهِمْ وَهُمْ يُشِيرُونَ إِِلَيْهِ بِالأَصَابِعِ ، حَتَّى بَعَثَنَا اللَّهُ مِنْ يَثْرِبَ ، فَآوَيْنَاهُ وَصَدَّقْنَاهُ ، فَيَخْرُجُ الرَّجُلُ مِنَّا وَيُؤْمِنُ بِهِ وَيُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ ، وَيَنْقَلِبُ إِِلَى أَهْلِهِ فَيُسْلِمُونَ بِإِِسْلامِهِ ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ دَارٌ مِنْ دُورِ الأَنْصَارِ إِِلا فِيهَا رَهْطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُظْهِرُونَ الإِِسْلامَ ، ثُمَّ إِِنَّا اجْتَمَعْنَا ، فَقُلْنَا : حَتَّى مَتَى نَتْرُكُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ وَيَخَافُ ؟ فَرَحَلَ إِِلَيْهِ مِنَّا سَبْعُونَ رَجُلا ، حَتَّى قَدِمُوا عَلَيْهِ فِي الْمَوْسِمِ ، فَوَاعَدْنَاهُ بَيْعَةَ الْعَقَبَةِ ، فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَهَا مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَيْنِ ، حَتَّى تَوَافَيْنَا ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلامَ نُبَايِعُكَ ؟ قَالَ : " تُبَايعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ ، وَالنَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ ، وَعَلَى الأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَأَنْ يَقُولَهَا لا يُبَالِي فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لائِمٍ ، وَعَلَى أَنْ تَنْصُرُونِيَ ، وَتَمْنَعُونِي إِِذَا قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَأَزْوَاجَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ ، وَلَكُمُ الْجَنَّةُ " ، فَقُمْنَا إِِلَيْهِ فَبَايَعْنَاهُ ، وَأَخَذَ بِيَدِهِ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ وَهُوَ مِنْ أَصْغَرِهِمْ ، فَقَالَ : رُوَيْدًا يَا أَهْلَ يَثْرِبَ ، فَإِِنَّا لَمْ نَضْرِبْ أَكْبَادَ الإِِبِلِ إِِلا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَّ إِِخْرَاجَهُ الْيَوْمَ مُنَازَعَةُ الْعَرَبِ كَافَّةً ، وَقَتْلُ خِيَارِكُمْ ، وَأَنْ تَعَضَّكُمُ السُّيُوفُ ، فَإِِمَّا أَنْ تَصْبِرُوا عَلَى ذَلِكَ وَأَجْرُكُمْ عَلَى اللَّهِ ، وَإِِمَّا أَنْتُمْ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ جُبْنًا ، فَبَيِّنُوا ذَلِكَ فَهُوَ أَعْذَرُ لَكُمْ ، فَقَالُوا : أَمِطْ عَنَّا ، فَوَاللَّهِ لا نَدَعُ هَذِهِ الْبَيْعَةَ أَبَدًا ، فَقُمْنَا إِِلَيْهِ ، فَبَايَعْنَاهُ ، فَأَخَذَ عَلَيْنَا ، وَشَرَطَ أَنْ يُعْطِيَنَا عَلَى ذَلِكَ الْجَنَّةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سات سال تک مکہ میں مقیم رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عکاظ، مجنہ اور حج کے موقع پر منیٰ میں موجود لوگوں کی رہائش گاہوں پر جاتے تھے (اور فرماتے تھے): ”کون مجھے پناہ دے گا اور کون میری مدد کرے گا تاکہ میں اپنے پروردگار کے اس پیغام کی تبلیغ کر سکوں؟“ یہاں تک کہ ایک شخص جس کا تعلق یمن یا شاید مصر سے تھا وہ نکلا اور اپنی قوم کے پاس آ کر بولا: ”قریش کے اس نوجوان سے بچو، کہیں یہ تمہیں آزمائش میں مبتلا نہ کر دے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی رہائش گاہوں کے درمیان چلتے اور وہ لوگ اپنی انگلیوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یثرب سے بھیجا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پناہ دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی۔ ہم میں سے ایک شخص نکلا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قرآن کی تلاوت سکھائی۔ وہ شخص اپنے اہل خانہ کے پاس واپس گیا، تو اس کے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے اہل خانہ نے بھی اسلام قبول کر لیا، یہاں تک کہ انصار کے ہر محلے میں کچھ نہ کچھ مسلمان ہو گئے۔ انہوں نے اسلام کو ظاہر کیا پھر ہم اکٹھے ہو گئے۔ ہم نے کہا: ”ہم کب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی حالت میں رہنے دیں گے؟ کیا آپ مکہ کے پہاڑوں کے درمیان ادھر ادھر آتے جاتے رہیں اور پریشانی کا شکار رہیں؟“ تو ہم میں سے ستر افراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جانے کے لیے روانہ ہوئے۔ وہ حج کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طے کیا کہ ہم عقبہ (گھاٹی) کے پاس آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کریں گے۔ لوگ ایک ایک دو دو کر کے وہاں اکٹھے ہوئے، یہاں تک کہ جب ہماری تعداد پوری ہو گئی تو ہم نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کس بات پر آپ کی بیعت کریں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم چاک و چوبند ہونے، سست ہونے (ہر حالت میں) اطاعت و فرمانبرداری کرنے، تنگی اور خوشحالی میں خرچ کرنے، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے پر میری بیعت کرو اور یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرو گے، اور اس بات پر بیعت کرو کہ تم میری مدد کرو گے اور جب میں تمہارے پاس آؤں گا تو تم میری مدد کرو گے، اسی طرح جس طرح تم اپنا خیال رکھتے ہو، اپنی بیویوں اور بچوں کا خیال رکھتے ہو؛ اس کے عوض تمہیں جنت ملے گی۔“ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر لی۔ سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ، جو ان تمام افراد میں کم سن تھے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دستِ مبارک پکڑا اور بولے: ”اے اہل یثرب! آگے آؤ، ہم نے اونٹوں کے جگر پر نہیں مارا (یعنی سفر نہیں کیا) مگر یہ کہ ہم نے یہ بات جان لی ہے کہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا (مدینہ منورہ کی طرف) نکلنا تمام عربوں سے جھگڑا کرنے کا باعث بنے گا، اس کے نتیجے میں تمہارے بہترین لوگ قتل ہو سکتے ہیں، تلواریں تمہیں کاٹ سکتی ہیں؛ یا تو یہ ہے کہ تم نے اس صورتِ حال پر صبر سے کام لینا ہے تو تمہارا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو جائے گا، یا پھر یہ ہے کہ تم بزدلی دکھاتے ہوئے اپنی ذات کے حوالے سے اندیشے کا شکار ہو جاؤ گے، (اگر تم نے ایسا کرنا ہے) تو تم اس بات کو بیان کر دو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کا عذر قبول کر لیں گے۔“ ان لوگوں نے کہا: ”تم ایک طرف ہو جاؤ، اللہ کی قسم! ہم اس بیعت کو کبھی ترک نہیں کریں گے۔“ پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت لی اور ساتھ یہ شرط عائد کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرنے کی صورت میں ہمیں جنت عطا کریں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6274]

6275

Sahih Ibn Hibban #6275

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ، وَالْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : رَأَيْتُ فِيَ الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَكَّةَ إِِلَى أَرْضِ نَخْلٍ ، فَذَهَبَ وَهْلِي أَنَّهَا الْيَمَامَةُ ، أَوْ هَجَرُ ، فَإِِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبُ ، وَرَأَيْتُ فِيَ رُؤْيَايَ هَذِهِ أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ ، فَإِِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ ، ثُمَّ هَزَزْتُ أُخْرَى فَعَادَ أَحْسَنَ مَا كَانَ ، فَإِِذَا هُوَ مَا جَدَّدَ اللَّهُ مِنَ الْمَغْنَمِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں نے خواب میں دیکھا میں مکہ سے ہجرت کر کے کھجوروں کی سرزمین کی طرف جا رہا ہوں۔ میرا ذہن اس طرف گیا کہ وہ یمامہ یا ہجر ہو سکتے ہیں، لیکن وہ مدینہ تھا یعنی یثرب تھا اور میں نے خواب میں دیکھا میں نے تلوار لہرائی تو وہ ٹوٹ گئی۔ اس سے مراد غزوہ احد کے موقع پر مسلمانوں کو لاحق ہونے والا نقصان ہے، پھر میں نے دوسری مرتبہ تلوار لہرائی تو وہ پہلے سے زیادہ اچھی صورت میں آ گئی۔ اس سے مراد وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ مال غنیمت کی شکل میں عطا کرے گا اور اہل ایمان کا اجتماع (یعنی ان کی تعداد کا زیادہ ہونا) مراد ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6275]

6276

Sahih Ibn Hibban #6276

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : رَأَيْتُ فِيَ الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَكَّةَ إِِلَى أَرْضٍ بِهَا نَخْلٌ ، فَذَهَبَ وَهْلِي إِِلَى أَنَّهَا الْيَمَامَةُ ، وَهَجَرُ ، فَإِِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبُ ، وَرَأَيْتُ فِيَ رُؤْيَايَ هَذِهِ أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ ، فَإِِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ ، وَهَزَزْتُهُ مَرَّةً أُخْرَى فَعَادَ أَحْسَنَ مَا كَانَ ، فَإِِذَا هُوَ مَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ہجرت کر کے ایسی سرزمین کی طرف جا رہا ہوں جہاں کھجوروں کے باغات ہیں، میرا ذہن اس طرف گیا کہ یہ یمامہ یا ہجر ہو سکتے ہیں، لیکن یہ مدینہ یعنی یثرب تھا۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے تلوار لہرائی تو وہ ٹوٹ گئی، اس سے مراد غزوۂ احد کے موقع پر لاحق ہونے والا نقصان ہے، پھر میں نے اسے دوسری مرتبہ لہرایا تو وہ پہلے سے زیادہ اچھی حالت میں آ گئی، اس کے ذریعے وہ فتح اور اہل ایمان کا اجتماع (یعنی ان کی تعداد میں اضافہ) مراد ہے جو اللہ تعالیٰ نے عطا کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6276]

6277

Sahih Ibn Hibban #6277

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ قَطُّ إِِلا وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّينَ ، لَمْ يَمُرَّ عَلَيْنَا يَوْمٌ إِِلا يَأْتِينَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَفَيِ النَّهَارِ بُكْرَةً وَعَشِيًّا ، فَلَمَّا ابْتُلِيَ الْمُسْلِمُونَ ، خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ رِضْوَانُ اللَّهُ عَلَيْهِ مُهَاجِرًا قِبَلَ أَرْضِ الْحَبَشَةِ ، فَلَقِيَهُ ابْنُ الدَّغِنَةِ سَيِّدُ الْقَارَةِ ، فَقَالَ : أَيْنَ يَا أَبَا بَكْرٍ ؟ قَالَ : أَخْرَجَنِي قَوْمِي فَأَسِيحُ فِي الأَرْضِ ، وَأَعْبُدُ رَبِّي ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ الدَّغِنَةِ : إِِنَّ مِثْلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ لا يَخْرُجُ ، وَلا يُخْرَجُ ، إِِنَّكَ تُكْسِبُ الْمَعْدُومَ ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ ، وَأَنَا لَكَ جَارٌ ، فَارْتَحَلَ ابْنُ الدَّغِنَةِ ، وَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ مَعَهُ ، فَقَالَ لَهُمْ وَطَافَ فِي كُفَّارِ قُرَيْشٍ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ، لا يَخْرُجُ ، وَلا يُخْرَجُ مِثْلُهُ ، إِِنَّهُ يُكْسِبُ الْمَعْدُومَ ، وَيَصِلُ الرَّحِمَ ، وَيَحْمِلُ الْكَلَّ ، وَيَقْرِي الضَّيْفَ ، وَيُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ ، فَأَنْفَذَتْ قُرَيْشٌ جِوَارَ ابْنِ الدَّغِنَةِ ، فَأَمَّنُوا أَبَا بَكْرٍ ، وَقَالُوا لابْنِ الدَّغِنَةِ : مُرْ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يَعْبُدَ رَبَّهُ فِي دَارِهِ ، وَيُصَلِّيَ مَا شَاءَ ، وَيَقْرَأَ مَا شَاءَ ، وَلا يُؤْذِينَا ، وَلا يَسْتَعْلِنْ بِالصَّلاةِ وَالْقِرَاءَةِ فِي غَيْرِ دَارِهِ ، فَفَعَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَلِكَ ، ثُمَّ بَدَا لأَبِي بَكْرٍ ، فَابْتَنَى مَسْجِدًا بِفِنَاءِ دَارِهِ ، فَكَانَ يُصَلِّي فِيهِ ، وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، فَيَقِفُ عَلَيْهِ نِسَاءُ الْمُشْرِكِينَ وَأَبْنَاؤُهُمْ ، فَيَعْجَبُونَ مِنْهُ ، وَيَنْظُرُونَ إِِلَيْهِ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَجُلا بَكَّاءً لا يَمْلِكُ دَمْعَهُ إِِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ ، فَأَرْسَلُوا إِِلَى ابْنِ الدَّغِنَةِ ، فَقَدِمَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : إِِنَّمَا أَجَرْنَا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يَعْبُدَ رَبَّهُ فِي دَارِهِ ، وَإِِنَّهُ ابْتَنَى مَسْجِدًا ، وَإِِنَّهُ أَعْلَنَ الصَّلاةَ وَالْقِرَاءَةَ ، وَإِِنَّا خَشِينَا أَنْ يَفْتِنَ نِسَاءَنَا وَأَبْنَاءَنَا ، فَأْتِهِ ، فَقُلْ لَهُ : أَنْ يَقْتَصِرَ عَلَى أَنْ يَعْبُدَ رَبَّهُ فِي دَارِهِ ، وَإِِنْ أَبَى إِِلا أَنْ يُعْلِنَ ذَلِكَ ، فَلْيَرُدَّ عَلَيْنَا ذِمَّتَكَ ، فَإِِنَّا نَكْرَهُ أَنْ نُخْفِرَ ذِمَّتَكَ ، وَلَسْنَا بِمُقِرِّينَ لأَبِي بَكْرٍ الاسْتِعْلانَ ، فَأَتَى ابْنُ الدَّغِنَةِ أَبَا بَكْرٍ ، فَقَالَ : قَدْ عَلِمْتَ الَّذِي عَقَدْتُ لَكَ عَلَيْهِ ، فَإِِمَّا أَنْ تَقْتَصِرَ عَلَى ذَلِكَ ، وَإِِمَّا أَنْ تُرْجِعَ إِِلَيَّ ذِمَّتِي ، فَإِِنِّي لا أُحِبُّ أَنْ تَسْمَعَ الْعَرَبُ أَنِّي أُخْفِرْتُ فِي عَقْدِ رَجُلٍ عَقَدْتُ لَهُ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَإِِنِّي أَرْضَى بِجِوَارِ اللَّهِ وَجِوَارِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ بِمَكَّةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسْلِمِينَ : أُرِيتُ دَارَ هِجْرَتِكُمْ ، أُرِيتُ سَبَخَةً ذَاتَ نَخْلٍ بَيْنَ لابَتَيْنِ ، وَهُمَا حَرَّتَانِ ، فَهَاجَرَ مَنْ هَاجَرَ قِبَلَ الْمَدِينَةِ حِينَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ ، وَرَجَعَ إِِلَى الْمَدِينَةِ بَعْضُ مَنْ كَانَ هَاجَرَ إِِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، وَتَجَهَّزَ أَبُو بَكْرٍ مُهَاجِرًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَى رِسْلِكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ، فَإِِنِّي أَرْجُو أَنْ يُؤَذَنَ لِي ، فَقَالَ : فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ، أَوَ تَرْجُو ذَلِكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَحَبَسَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَفْسَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِصَحَابَتِهِ ، وَعَلَفَ رَاحِلَتَيْنِ كَانَتَا لَهُ وَرَقَ السَّمُرِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : قَالَ عُرْوَةُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : إِِذْ قَائِلٌ يَقُولُ لأَبِي بَكْرٍ : هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلا مُتَقَنِّعًا فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا فِيهَا ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : فِدًى لَهُ أَبِي وَأُمِّي ، إِِنْ جَاءَ بِهِ هَذِهِ السَّاعَةُ لأَمْرٌ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَأْذَنَ ، فَأُذِنَ لَهُ ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّمَا هُمْ أَهْلُكَ ، قَالَ : فَنَعَمْ ، قَالَ : قَدْ أُذِنَ لِي ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَالصُّحْبَةُ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَخُذْ إِِحْدَى رَاحِلَتِي هَاتَيْنِ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، بِالثَّمَنِ ، قَالَتْ : فَجَهَّزْنَاهُمَا أَحَثَّ الْجِهَازِ ، وَصَنَعْنَا لَهُمَا سُفْرَةً فِي جِرَابٍ ، فَقَطَعَتْ أَسْمَاءُ مِنْ نِطَاقِهَا ، وَأَوْكَتْ بِهِ الْجِرَابَ ، فَلِذَلِكَ كَانَتْ تُسَمَّى : ذَاتَ النِّطَاقِ ، فَلَحِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ فِي جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ : ثَوْرٌ ، فَمَكَثْنَا فِيهِ ثَلاثَ لَيَالٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب سے میں نے ہوش سنبھالا میں نے اپنے والدین کو مسلمان دیکھا، روزانہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں صبح و شام تشریف لایا کرتے تھے۔ جب مسلمانوں کو آزمائش کا شکار کیا جانے لگا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کرنے کے لیے روانہ ہوئے۔ ان کی ملاقات قارہ قبیلے کے سردار ابن دغنہ سے ہوئی۔ اس نے دریافت کیا: ”اے ابوبکر! کہاں جا رہے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”میری قوم نے مجھے نکلنے پر مجبور کر دیا ہے، اب میں زمین میں سفر کروں گا اور اپنے پروردگار کی عبادت کروں گا۔“ ابن دغنہ نے ان سے کہا: ”اے ابوبکر! آپ جیسا شخص (اپنے علاقے سے) نہ تو نکل سکتا ہے اور نہ ہی اسے نکالا جا سکتا ہے۔ آپ ضرورت مند کی مدد کرتے ہیں، رشتہ داری کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں، دوسروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، حق کے کاموں میں مدد کرتے ہیں، میں آپ کو پناہ دیتا ہوں۔“ پھر ابن دغنہ وہاں سے سوار ہو کر آیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ واپس آ گئے۔ وہ کفارِ قریش کے پاس گیا اور اس نے ان سے کہا: ”ابوبکر جیسا شخص (اپنے علاقے سے) نہ تو نکل سکتا ہے اور نہ اس جیسے شخص کو نکالا جا سکتا ہے۔ وہ ضرورت مند کی مدد کرتا ہے، ان کا خیال رکھتا ہے، دوسروں کا وزن اٹھاتا ہے، مہمان نوازی کرتا ہے، حق کے کاموں میں مدد کرتا ہے۔“ تو قریش نے ابن دغنہ کی دی ہوئی پناہ کو برقرار رکھا۔ انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امان دے دی۔ انہوں نے ابن دغنہ سے کہا کہ وہ ابوبکر سے کہے: ”وہ اپنے گھر میں اپنے پروردگار کی عبادت کرے اور وہاں جتنی چاہے نماز ادا کرے اور جتنی چاہے تلاوت کرے، لیکن ہمیں تکلیف نہ پہنچائے۔ وہ اعلانیہ طور پر اپنے گھر سے باہر نماز ادا نہ کرے اور تلاوت نہ کرے۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایسا ہی کرتے رہے، پھر ان کو مناسب لگا تو انہوں نے اپنے صحن میں مسجد بنا لی۔ وہاں وہ نماز ادا کیا کرتے تھے اور قرآن کی تلاوت کرتے تھے، تو مشرکین کی خواتین اور بچے وہاں آ جاتے اور حیران ہوتے تھے اور ان کی طرف دیکھتے رہتے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بہت زیادہ رویا کرتے تھے، جب قرآن کی تلاوت کرتے تھے تو ان کی آنکھوں پر قابو نہیں رہتا تھا۔ قریش نے ابن دغنہ کو پیغام بھیجا کہ وہ ان کے پاس آئے۔ قریش نے کہا: ”ہم نے ابوبکر کو اس شرط پر پناہ دی تھی کہ وہ اپنے گھر میں اپنے پروردگار کی عبادت کرے گا۔ اب اس نے مسجد بنا لی ہے اور وہ اعلانیہ طور پر نماز پڑھتا ہے اور تلاوت کرتا ہے۔ ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ وہ ہمارے نوجوان بچوں کو آزمائش کا شکار کر دے گا، تم اس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ اپنے گھر میں اپنے پروردگار کی عبادت کرنے پر اکتفا کرے۔ اگر وہ نہیں مانتا اور اعلانیہ طور پر ایسا کرنا چاہتا ہے تو پھر وہ تمہاری دی ہوئی پناہ واپس کر دے، کیونکہ ہمیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ ہم تمہاری دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کریں اور ہم ابوبکر کو اعلانیہ طور پر ایسا کرنے کی اجازت بھی نہیں دے سکتے۔“ ابن دغنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: ”آپ یہ بات جانتے ہیں کہ میں نے آپ کے بارے میں ایک بات کا ذمہ لیا تھا، یا تو آپ اس پر اکتفا کریں یا پھر میری دی ہوئی پناہ مجھے واپس کر دیں، کیونکہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ عرب یہ بات سنیں کہ میں نے ایک شخص کو پناہ دینے کے بعد اس سے واپس لے لی۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اللہ اور اس کے رسول کی پناہ سے راضی ہوں۔“ (راوی کہتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں مقیم تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا: ”تمہارا ہجرت کا مقام مجھے (خواب میں) دکھایا گیا ہے۔ مجھے دکھایا گیا ہے کہ وہ ایک شور والی زمین ہے جس میں کھجوروں کے باغات بہت ہیں اور اس کے دونوں کناروں پر پتھریلی زمین ہے۔“ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا تذکرہ کیا تو جن لوگوں نے ہجرت کرنی تھی وہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کر گئے اور حبشہ کی سرزمین کی طرف جن لوگوں نے ہجرت کی تھی ان میں سے کچھ لوگ مدینہ آ گئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی ہجرت کے لیے ساز و سامان تیار کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوبکر! ابھی انتظار کرو، مجھے یہ امید ہے کہ مجھے بھی اس کی اجازت مل جائے گی۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا آپ کو یہ امید ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے کے لیے خود کو روک لیا۔ وہ اپنی دو اونٹنیوں کو چارہ کھلاتے رہے، وہ انہیں ببول کے پتے کھلایا کرتے تھے۔ ایسا چار ماہ تک ہوتا رہا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک دن کسی نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منہ ڈھانپ کر تشریف لائے تھے اور یہ ایک ایسا وقت تھا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عام طور پر ہمارے ہاں نہیں آتے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اگر آپ اس وقت میں تشریف لائے ہیں تو ضرور کسی اہم کام کے سلسلے میں آئے ہوں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، آپ کی خدمت میں اجازت پیش کی گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے۔ آپ نے فرمایا: ”اے ابوبکر! اپنے پاس موجود لوگوں کو باہر نکال دو۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! صرف میرے اہل خانہ ہی ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے، پھر آپ نے بتایا مجھے اجازت دے دی گئی ہے۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”میرے والد آپ پر قربان ہوں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں ساتھ دوں؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے والد آپ پر قربان ہوں، آپ ان دونوں میں سے ایک اونٹنی لے لیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے، لیکن یہ قیمت کے عوض ہو گی۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم نے ان دونوں کے لیے بہترین زادِ راہ تیار کیا۔ ہم نے ان دونوں کے لیے چمڑے کے کھانے کا تھیلا تیار کیا۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے اپنے ازار بند کو کاٹ کر اس کے ذریعے اس تھیلے کا منہ باندھا، اسی وجہ سے ان کا نام «ذَاتُ النِّطَاقَيْنِ» ”دو پٹکوں والی“ پڑ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑ پر موجود غار تک پہنچ گئے جس کا نام ثور تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین دن تک وہاں قیام پذیر رہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6277]

6278

Sahih Ibn Hibban #6278

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ ، قَالَ : قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي الْغَارِ لَوْ أَرَادَ أَحَدُهُمْ أَنْ يَنْظُرَ إِِلَى قَدَمَيْهِ لأَبْصَرَنَا تَحْتَ قَدَمِهِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا ؟ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو بتایا: ہم جب غار میں موجود تھے، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: اگر ان میں سے کوئی ایک شخص اپنے پاؤں کی طرف دیکھ لے تو وہ اپنے پاؤں کے نیچے ہمیں دیکھ لے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے دو آدمیوں کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالیٰ ہو؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6278]

6279

Sahih Ibn Hibban #6279

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ :اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخُرُوجِ مِنْ مَكَّةَ حِينَ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الأَمْرُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اصْبِرْ " ، فَقَالُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَطْمَعُ أَنْ يُؤْذَنَ لَكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنِّي لأَرْجُو " ، فَانْتَظَرَهُ أَبُو بَكْرٍ ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ظُهْرًا ، فَنَادَاهُ ، فَقَالَ لَهُ : " أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ " ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِِنَّمَا هُمَا ابْنَتَايَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " أَشَعَرْتَ أَنَّهُ قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ ؟ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الصُّحْبَةَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصُّحْبَةُ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عِنْدِي نَاقَتَانِ قَدْ كُنْتُ أَعْدَدْتُهُمَا لِلْخُرُوجِ ، قَالَتْ : فَأَعْطَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِحْدَاهُمَا وَهِيَ الْجَدْعَاءُ ، فَرَكِبَا حَتَّى أَتَيَا الْغَارَ وَهُوَ بِثَوْرٍ ، فَتَوَارَيَا فِيهِ ، وَكَانَ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ غُلامًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الطُّفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ أَخُو عَائِشَةَ لأُمِّهَا ، وَكَانَ لأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْحَةٌ ، فَكَانَ يَرُوحُ بِهَا وَيَغْدُو عَلَيْهِمْ ، وَيُصْبِحُ ، فَيَدَّلِجُ إِِلَيْهِمَا ، ثُمَّ يَسْرَحُ ، فَلا يَفْطِنُ بِهِ أَحَدٌ مِنَ الرِّعَاءِ ، فَلَمَّا خَرَجَا ، خَرَجَ مَعْهُمَا يُعْقِبَانِهِ حَتَّى قَدِمُوا الْمَدِينَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مکہ سے چلے جانے کی اجازت مانگی، جب حالات خراب ہو گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم صبر سے کام لو۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کو یہ توقع ہے کہ آپ کو بھی اجازت مل جائے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے یہ امید ہے۔“ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہے، یہاں تک کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کے وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور ان سے فرمایا: ”اپنے پاس موجود لوگوں کو باہر نکال دو۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! صرف میری دو بیٹیاں یہاں ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں پتا چلا کہ مجھے روانگی (ہجرت) کرنے کی اجازت مل گئی ہے؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں آپ کے ساتھ رہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ساتھ رہو۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس دو اونٹنیاں ہیں، میں نے انہیں روانگی کے لیے تیار کیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں میں سے ایک اونٹنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی، وہ «الْجَدْعَاءُ» ”جدعاء“ تھی، یہ دونوں حضرات اس پر سوار ہو کر ایک غار میں آ گئے جو ثور نامی پہاڑ میں تھا، دونوں حضرات اس میں چھپ گئے۔ عبداللہ بن طفیل کا غلام عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ، جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ کی طرف سے بھائی تھا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا زیرِ احسان تھا، تو چرواہوں میں سے کسی کو اس بارے میں اندازہ نہیں ہو سکا، وہ صبح ان حضرات کے پاس جاتا، شام کو مکہ آ جاتا اور پھر رات کے آخری حصے میں ان حضرات کے پاس آ جاتا۔ جب یہ دونوں حضرات وہاں سے روانہ ہوئے تو وہ بھی ان دونوں کے ہمراہ تیزی سے چلتا ہوا آیا، یہاں تک کہ یہ لوگ مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6279]

6280

Sahih Ibn Hibban #6280

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَالِكٍ الْمُدْلِجِيُّ ، وَهُوَ ابْنُ أُخْتِ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ سُرَاقَةَ ، يَقُولُ : جَاءَتْنَا رُسُلُ كُفَّارِ قُرَيْشٍ يَجْعَلُونَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ دِيَةَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِمَنْ قَتَلَهُمَا أَوْ أَسَرَهُمَا ، قَالَ : فَبَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ قَوْمِي بَنِي مُدْلِجٍ ، أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْهَا حَتَّى قَامَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : يَا سُرَاقَةُ ، إِِنِّي رَأَيْتُ آنِفًا أَسْوِدَةً بِالسَّاحِلِ لا أُرَاهَا إِِلا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ ، قَالَ سُرَاقَةُ : فَعَرَفْتُ أَنَّهُمْ هُمْ ، فَقُلْتُ : إِِنَّهُمْ لَيْسُوا بِهِمْ ، وَلَكِنَّكَ رَأَيْتَ فُلانًا وَفُلانًا ، انْطَلِقُوا بِنَا ، ثُمَّ لَبِثْتُ فِي الْمَجْلِسِ سَاعَةً ، ثُمَّ قُمْتُ ، فَدَخَلْتُ بَيْتِي ،فَأَمَرْتُ جَارِيَتِي أَنْ تُخْرِجَ لِي فَرَسِي وَهِيَ مِنْ وَرَاءِ أَكَمَةٍ فَتَحْبِسَهَا عَلَيَّ ، وَأَخَذْتُ رُمْحِي ، فَخَرَجْتُ بِهِ مِنْ ظَهْرِ الْبَيْتِ ، فَخَطَطْتُ بِهِ الأَرْضَ ، فَأَخْفَضْتُ عَالِيَةَ الرُّمْحِ حَتَّى أَتَيْتُ فَرَسِي فَرَكِبْتُهَا ، وَرَفَعْتُهَا تُقَرِّبُ بِي حَتَّى إِِذَا رَأَيْتُ أَسْوِدَتَهُمْ ، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْ حَيْثُ يَسْمِعُهُمُ الصَّوْتُ ، عَثَرَ بِي فَرَسِي ، فَخَرَرْتُ عَنْهَا ، فَأَهْوَيْتُ بِيَدِي إِِلَى كِنَانَتِي ، فَاسْتَخْرَجْتُ الأَزْلامَ ، فَاسْتَقْسَمْتُ بِهَا ، فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ ، فَعَصَيْتُ الأَزْلامَ ، وَرَكِبْتُ فَرَسِي ، وَرَفَعْتُهَا تُقَرِّبُ بِي ، حَتَّى إِِذَا سَمِعْتُ " قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ لا يَلْتَفِتُ وَأَبُو بَكْرٍ يُكْثِرُ الالْتِفَاتَ ، سَاخَتْ يَدَا فَرَسِي فِي الأَرْضِ ، حَتَّى بَلَغَتَا الرُّكْبَتَيْنِ ، فَخَرَرْتُ عَنْهَا ، فَزَجَرْتُهَا ، فَنَهَضْتُ وَلَمْ تَكَدْ تُخْرِجُ يَدَيْهَا ، فَلَمَّا اسْتَوَتْ قَائِمَةً ، إِِذَا عُثَانٌ سَاطِعٌ فِي السَّمَاءِ ، قَالَ مَعْمَرٌ : قُلْتُ لأَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلاءِ : مَا الْعُثَانُ ؟ فَسَكَتَ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَ : هُوَ الدُّخَانُ مِنْ غَيْرِ نَارٍ ، قَالَ مَعْمَرٌ : قَالَ الزُّهْرِيُّ فِي حَدِيثِهِ : فَاسْتَقْسَمْتُ بِالأَزْلامِ ، فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ أَنْ لا أَضُرَّهُمْ ، فَنَادَيْتُهُمَا بِالأَمَانِ ، فَوَقَفَا ، فَرَكِبْتُ فَرَسِي حَتَّى جِئْتُهُمْ ، وَوَقَعَ فِي نَفْسِي ، حَتَّى لَقِيتُ مِنَ الْحَبْسِ عَنْهُمْ أَنَّهُ سَيَظْهَرُ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : إِِنَّ قَوْمَكَ قَدْ جَعَلُوا فِيكَ الدِّيَةَ ، وَأَخْبَرْتُهُمْ مِنْ أَخْبَارِ أَسْفَارِهِمْ وَمَا يُرِيدُ النَّاسُ بِهِمْ ، وَعَرَضْتُ عَلَيْهِمُ الزَّادَ وَالْمَتَاعَ ، فَلَمْ يَرْزَءُونِي شيئًَا ، وَلَمْ يَسْأَلُونِي ، إِِلا أَنْ قَالُوا : أَخْفِ عَنَّا ، فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَكْتُبَ لِي كِتَابَ مُوَادَعَةٍ ، فَأَمَرَ بِهِ عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَ ، فَكَتَبَ لِي فِي رُقْعَةٍ مِنْ أَدَمٍ بَيْضَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن مالک، جو سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کے بھانجے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے یہ بات بتائی ہے کہ انہوں نے سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ کفارِ قریش کے پیغام رساں ہمارے پاس آئے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں کو قتل کرنے یا قید کرنے والے شخص کے لیے انعام مقرر کیا تھا۔ سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اپنی قوم بنو مدلج کی محفل میں بیٹھا ہوا تھا کہ اسی دوران ایک شخص آیا اور ہمارے پاس آ کر کھڑا ہو گیا، اس نے کہا: ”اے سراقہ! میں نے کچھ دیر پہلے ساحل کی طرف آدمیوں کا ہیولیٰ دیکھا ہے، میرا خیال ہے وہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھی ہوں گے۔“ سراقہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے بھی اندازہ ہو گیا کہ وہ وہی ہوں گے، میں نے (اسے ٹالنے کے لیے) کہا: ”وہ لوگ وہ نہیں ہوں گے، تم نے فلاں اور فلاں کو دیکھا ہو گا جو ہمارے پاس سے گئے ہیں۔“ پھر میں اس محفل میں تھوڑی دیر ٹھہرا رہا، پھر میں اٹھا اور اپنے گھر آگیا، میں نے اپنی کنیز سے کہا کہ وہ میرا گھوڑا نکالے، وہ ایک ٹیلے کے پیچھے تھا، اس نے وہ میرے لیے تیار کر کے رکھا، میں نے اپنا نیزہ پکڑا اور گھر کے پیچھے کی طرف سے نکل گیا، میں نے اس کے ذریعے زمین پر لکیریں لگائیں اور میں نے نیزے کے اوپر والے حصے کو نیچے کر دیا یہاں تک کہ میں اپنے گھوڑے کے پاس آ کر اس پر سوار ہوا، میں اپنا گھوڑا دوڑاتا رہا یہاں تک کہ مجھے ان لوگوں کا ہیولیٰ نظر آیا۔ جب میں اتنا قریب ہوا کہ میری آواز ان تک جا سکتی تھی، تو میرے گھوڑے کو ٹھوکر لگی اور میں اس پر سے نیچے گر گیا، میں نے اپنا ہاتھ اپنے ترکش کی طرف بڑھایا اور اس میں سے پانسے نکالنے والے تیر نکالے، میں نے اس میں سے پانسے کا تیر نکالا تو وہ نتیجہ سامنے آیا جسے میں پسند نہیں کرتا تھا، میں نے پانسے کے فیصلے کو نہیں مانا اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو گیا، پھر میں نے ایڑھ لگائی یہاں تک کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کی آواز سنی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ادھر ادھر نہیں دیکھ رہے تھے لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بہت زیادہ ادھر ادھر دیکھ رہے تھے۔ میرے گھوڑے کے دونوں پاؤں زمین میں دھنس گئے، یہاں تک کہ وہ گھٹنوں تک زمین میں چلے گئے اور میں اس پر سے نیچے گر گیا، میں نے اسے ڈانٹا اور پھر میں اٹھ گیا لیکن اس کے دونوں پاؤں زمین سے نہیں نکل رہے تھے، پھر جب وہ سیدھا کھڑا ہوا تو اسی دوران آسمان میں ایک چمک دار دھواں نظر آیا۔ معمر نامی راوی کہتے ہیں: انہوں نے ابوعمرو نامی راوی سے دریافت کیا کہ یہاں لفظ «عُثَان» سے کیا مراد ہے؟ وہ کچھ دیر خاموش رہے پھر بولے: ”اس سے مراد وہ دھواں ہے جو آگ کی وجہ سے نہ ہو۔“ معمر بیان کرتے ہیں کہ زہری رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ میں نے پھر تیروں کے ذریعے پانسہ نکالا تو وہی نتیجہ سامنے آیا جو میں پسند نہیں کرتا تھا، وہ یہ کہ میں ان لوگوں کو نقصان نہ پہنچاؤں، میں نے امان کے ساتھ ان دونوں صاحبان کو پکارا تو وہ دونوں صاحبان ٹھہر گئے، میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ان کے پاس آیا، جب میں ان حضرات کے پاس پہنچنے سے رک گیا تھا (یعنی میرا گھوڑا آگے بڑھنے کے قابل نہیں رہا تھا) تو میرے ذہن میں یہ خیال آ گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ عنقریب غالب آ جائے گا۔ میں نے کہا: ”آپ کی قوم کے افراد نے آپ کے بارے میں انعام مقرر کیا ہے“، میں نے ان حضرات کو ان کے معاملے کے بارے میں بتایا اور لوگوں کا ان کے بارے میں جو ارادہ ہے وہ بھی بتایا اور انہیں زاد سفر اور ساز و سامان کی پیش کش کی لیکن انہوں نے اسے قبول نہیں کیا اور مجھ سے صرف یہ کہا: ”ہمارے معاملے کو پوشیدہ رکھنا۔“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ میرے لیے ایک امن کی تحریر لکھ دیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے سفید چمڑے کے ایک ٹکڑے پر مجھے تحریر لکھ کر دے دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6280]

6281

Sahih Ibn Hibban #6281

أَخْبَرَنِي الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْغُدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ : اشْتَرَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ عَازِبٍ رَحْلا بِثَلاثَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعَازِبٍ : مُرِ الْبَرَاءَ فَلْيَحْمِلْهُ إِِلَى أَهْلِي ، فَقَالَ لَهُ عَازِبٌ : لا ، حَتَّى تُحَدِّثُنِي كَيْفَ صَنَعْتَ أَنْتَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حِينَ خَرَجْتُمَا مِنْ مَكَّةَ ، وَالْمُشْرِكُونَ يَطْلُبُونَكُمْ ؟ ، فَقَالَ : ارْتَحَلْنَا مِنْ مَكَّةَ فَأَحْيَيْنَا لَيْلَتَنَا حَتَّى أَظْهَرْنَا ، وَقَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ ، فَرَمَيْتُ بِبَصَرِي : هَلْ نَرَى ظِلا نَأْوِي إِِلَيْهِ ؟ فَإِِذَا أَنَا بِصَخْرَةٍ ، فَانْتَهَيْتُ إِِلَيْهَا ، فَإِِذَا بَقِيَّةُ ظِلِّهَا ، فَسَوَّيْتُهُ ، ثُمَّ فَرَشْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قُلْتُ : اضْطَجِعْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَاضْطَجَعَ ، ثُمَّ ذَهَبْتُ أَنْظُرُ ، هَلْ أَرَى مِنَ الطَّلَبِ أَحَدًا ؟ فَإِِذَا أَنَا بِرَاعِي غَنَمٍ يَسُوقُ غَنَمَهُ إِِلَى الصَّخْرَةِ ، يُرِيدُ مِنْهَا مِثْلَ الَّذِي أُرِيدُ ، يَعْنِي : الظِّلَّ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقُلْتُ : لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلامُ ؟ ، قَالَ الْغُلامُ : لِفُلانِ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَعَرَفْتُهُ ، فَقُلْتُ : هَلْ فِي غَنَمِكَ مِنْ لَبَنٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : هَلْ أَنْتَ حَالِبٌ لِي ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَأَمَرْتُهُ ، فَاعْتَقَلَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ ، وَأَمَرْتُهُ أَنْ يَنْفُضَ ضَرْعَهَا مِنَ الْغُبَارِ ، ثُمَّ أَمَرْتُهُ أَنْ يَنْفُضَ كَفَّيْهِ ، فَقَالَ هَكَذَا ، وَضَرَبَ إِِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الأُخْرَى ، فَحَلَبَ لِي كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ ، وَقَدْ رَوَيْتُ مَعِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِدَاوَةً عَلَى فَمِهَا خِرْقَةٌ ، فَصَبَبْتُ عَلَى اللَّبَنِ حَتَّى بَرُدَ أَسْفَلُهُ ، فَانْتَهَيْتُ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَافَقْتُهُ قَدِ اسْتَيْقَظَ ، فَقُلْتُ : اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَشَرِبَ ، فَقُلْتُ : قَدْ آنَ الرَّحِيلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَارْتَحَلْنَا وَالْقَوْمُ يَطْلُبُونَنَا ، فَلَمْ يُدْرِكْنَا أَحَدٌ مِنْهُمْ غَيْرُ سُرَاقَةِ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ عَلَى فَرَسٍ لَهُ ، فَقُلْتُ : هَذَا الطَّلَبُ قَدْ لَحِقَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَبَكَيْتُ ، فَقَالَ : لا تَحْزَنْ إِِنَّ اللَّهَ مَعَنَا ، فَلَمَّا دَنَا مِنَّا ، وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ قِيدُ رُمْحَيْنِ أَوْ ثَلاثٍ ، قُلْتُ : هَذَا الطَّلَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ لَحِقَنَا ، فَبَكَيْتُ ، قَالَ : مَا يُبْكِيكَ ؟ ، قُلْتُ : أَمَا وَاللَّهِ مَا عَلَى نَفْسِي أَبْكِي ، وَلَكِنْ أَبْكِي عَلَيْكَ ، فَدَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ اكْفِنَاهُ بِمَا شِئْتَ ، قَالَ : فَسَاخَتْ بِهِ فَرَسُهُ فِي الأَرْضِ إِِلَى بَطْنِهَا ، فَوَثَبَ عَنْهَا ، ثُمَّ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ هَذَا عَمَلُكَ ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يُنَجِّينِي مِمَّا أَنَا فِيهِ ، فَوَاللَّهِ لأُعَمِّيَنَّ عَلَى مَنْ وَرَائِي مِنَ الطَّلَبِ ، وَهَذِهِ كِنَانَتِي ، فَخُذْ مِنْهَا سَهْمًا ، فَإِِنَّكَ سَتَمُرُّ عَلَى إِِبِلِي وَغَنَمِي فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، فَخُذْ مِنْهَا حَاجَتَكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا حَاجَةَ لَنَا فِي إِِبِلِكَ ، وَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقَ رَاجِعًا إِِلَى أَصْحَابِهِ ، وَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ لَيْلا ، فَتَنَازَعَهُ الْقَوْمُ أَيُّهُمْ يَنْزِلُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنِّي أَنْزِلُ اللَّيْلَةَ عَلَى بَنِي النَّجَّارِ أَخْوَالِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أُكْرِمُهُمْ بِذَلِكَ ، فَخَرَجَ النَّاسُ حِينَ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فِي الطُّرُقِ ، وَعَلَى الْبُيُوتِ مِنَ الْغِلْمَانِ وَالْخَدَمِ يَقُولُونَ : جَاءَ مُحَمَّدٌ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ، انْطَلَقَ ، فَنَزَلَ حَيْثُ أُمِرَ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَنْ يُوَجَّهَ نَحْوَ الْكَعْبَةِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، قَالَ : وَقَالَ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ وَهُمُ الْيَهُودُ : مَا وَلاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ، قَالَ : وَصَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَخَرَجَ بَعْدَمَا صَلَّى ، فَمَرَّ عَلَى قَوْمٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلاةِ الْعَصْرِ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، فَقَالَ : هُوَ يَشْهَدُ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَّهُ قَدْ وُجِّهَ نَحْوَ الْكَعْبَةِ ، فَانْحَرَفَ الْقَوْمُ حَتَّى تَوَجَّهُوا إِِلَى الْكَعْبَةِ ، قَالَ الْبَرَاءُ : وَكَانَ أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ أَخُو بَنِي عَبْدِ الدَّارِ بْنِ قُصَيٍّ ، فَقُلْنَا لَهُ : مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : هُوَ مَكَانَهُ وَأَصْحَابُهُ عَلَى أَثَرِي ، ثُمَّ أَتَى بَعْدَهُ عَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الأَعْمَى أَخُو بَنِي فِهْرٍ ، فَقُلْنَا : مَا فَعَلَ مَنْ وَرَاءَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ ؟ قَالَ : هُمُ الآنَ عَلَى أَثَرِي ، ثُمَّ أَتَانَا بَعْدَهُ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَبِلالٌ ، ثُمَّ أَتَانَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي عِشْرِينَ مِنْ أَصْحَابِهِ رَاكِبًا ، ثُمَّ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُمْ ، وَأَبُو بَكْرٍ مَعَهُ ، قَالَ الْبَرَاءُ : فَلَمْ يَقْدَمْ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَرَأْتُ سُوَرًا مِنَ الْمُفَصَّلِ ، ثُمَّ خَرَجْنَا نَلْقَى الْعِيرَ ، فَوَجَدْنَاهُمْ قَدْ حَذِرُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے (میرے والد سے) تیرہ درہم کے عوض میں ایک پالان خریدا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عازب رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ براء کو ہدایت کریں کہ وہ اسے اٹھا کر میرے گھر پہنچا دے“، تو سیدنا عازب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”ایسا اس وقت تک نہیں ہو گا، جب تک آپ ہمیں یہ نہیں بتاتے کہ جب آپ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکلے اور مشرکین آپ کی تلاش میں تھے تو آپ کے ساتھ کیا صورت حال پیش آئی۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا: ”ہم لوگ مکہ سے روانہ ہوئے۔ ہم رات بھر سفر کرتے رہے، یہاں تک کہ جب دن چڑھ گیا تو میں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ کیا ہمیں کوئی سایہ دار جگہ نظر آ رہی ہے، جس کی پناہ میں ہم چلے جائیں۔ وہاں ایک چٹان موجود تھی۔ میں اس کے پاس آیا جس کا تھوڑا سا سایہ تھا۔ میں نے وہاں زمین کو درست کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بچھونا بچھا دیا، پھر میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ لیٹ جائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے، پھر میں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ کیا مجھے کوئی ایسا شخص نظر آ رہا ہے جو ہماری تلاش میں ہو، وہاں مجھے بکریوں کا ایک چرواہا نظر آیا جو اپنی بکریاں لے کر چٹان کی طرف آ رہا تھا۔ وہ بھی چٹان سے وہی فائدہ حاصل کرنا چاہتا تھا جو میں چاہتا تھا یعنی سائے میں آنا چاہتا تھا۔ میں نے اس سے دریافت کیا۔ میں نے کہا: تم کس کے (ملازم یا غلام) ہو؟ نوجوان نے کہا: میں فلاں شخص کا (غلام ہوں)۔ اس نے قریش کے ایک شخص کا نام لیا جس سے میں واقف تھا۔ میں نے دریافت کیا: کیا تمہاری بکریوں میں دودھ ہے؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں! میں نے کہا: کیا تم میرے لیے اسے دوہ دو گے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ میں نے اسے ہدایت کی تو اس نے اپنی بکریوں میں سے ایک بکری لے لی۔ میں نے اسے ہدایت کی کہ وہ اس کے تھنوں سے غبار کو صاف کر دے، پھر میں نے اسے ہدایت کی کہ وہ اپنے دونوں ہاتھ جھاڑ لے، پھر راوی نے اس طرح کر کے دکھایا یعنی ایک ہاتھ دوسرے پر مار کر دکھایا، پھر اس نے دودھ کا ایک پیالہ مجھے دوہ کر دیا۔ میں اپنے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک برتن لے کر آیا تھا جس کے منہ پر کپڑا بندھا ہوا تھا۔ میں نے وہ (پانی) دودھ پر انڈیلا، یہاں تک کہ اس کے نیچے کا حصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپ کو پایا کہ آپ بیدار ہو چکے تھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اسے پی لیجیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! روانگی کا وقت ہو گیا، پھر ہم لوگ روانہ ہوئے۔ لوگ ہماری تلاش میں تھے، ان میں سے کوئی ہم تک نہیں پہنچ سکا۔ صرف سراقہ بن مالک اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ہم تک آ گیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک تلاش کرنے والا شخص ہم تک پہنچ چکا ہے، تو میں رو پڑا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا﴾ [سورة التوبة: 40] ”تم غمگین نہ ہو، بے شک اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔“ جب وہ ہمارے قریب ہوا اور ہمارے اور اس کے درمیان دو یا تین نیزوں جتنا فاصلہ رہ گیا تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تلاش میں آنے والا شخص ہمارے قریب پہنچ چکا ہے۔ میں پھر رو پڑا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم کیوں رو رہے ہو؟ میں نے عرض کی: اللہ کی قسم! میں اپنی ذات کے حوالے سے نہیں رو رہا بلکہ میں آپ کی وجہ سے رو رہا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعائے ضرر کی، آپ نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اكْفِنَاهُ بِمَا شِئْتَ» ”اے اللہ! تو اس کے حوالے سے ہمارے لیے جیسے تو چاہے کافی ہو جا۔“ راوی کہتے ہیں: تو اس شخص کا گھوڑا پیٹ تک زمین میں دھنس گیا۔ وہ شخص اس سے اترا اور بولا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں یہ بات جانتا ہوں کہ یہ آپ کا کام ہے، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ میں جس مصیبت کا شکار ہوا ہوں وہ مجھے اس سے نجات عطا کر دے۔ اللہ کی قسم! میں اپنے پیچھے موجود آپ کی تلاش میں آنے والے لوگوں کو بھٹکا دوں گا، یہ میرا ترکش ہے آپ اس میں سے ایک تیر لے لیجیے؛ آپ کا گزر فلاں مقام پر میرے اونٹوں اور بکریوں کے پاس سے ہو گا، وہاں آپ اپنی ضرورت کے مطابق چیزیں حاصل کر لیجیے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہمیں تمہارے اونٹوں کی ضرورت نہیں ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے حق میں دعا کی تو وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس چلا گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے روانہ ہو گئے، یہاں تک کہ ہم رات کے وقت مدینہ منورہ پہنچے، لوگوں کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہو گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کس کے ہاں پڑاؤ کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آج رات میں بنو نجار کے ہاں پڑاؤ کروں گا، وہ جناب عبدالمطلب کے ننھیال ہیں، میں اس حوالے سے ان کی عزت افزائی کروں گا۔“ (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) جب ہم لوگ مدینہ منورہ پہنچے تو لوگ راستوں میں نکل آئے۔ گھروں کے اوپر بچے اور خادم موجود تھے، وہ یہ کہہ رہے تھے: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے یہاں تک کہ آپ نے اس جگہ پڑاؤ کیا جہاں آپ کو حکم دیا گیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سولہ یا شاید سترہ ماہ تک بیت مقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے۔ آپ کی یہ خواہش تھی کہ آپ کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾ [سورة البقرة: 144] ”ہم آسمان کی طرف تمہارے چہرے کا اٹھنا دیکھ رہے ہیں، ہم عنقریب تمہیں اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے، جس سے تم راضی ہو، تو تم اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لو۔“ راوی کہتے ہیں: کچھ بے وقوف لوگوں نے (راوی کہتے ہیں: اس سے مراد یہودی ہیں) یہ کہا: ﴿مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا﴾ [سورة البقرة: 142] ”ان لوگوں کو اس قبلہ سے کس نے پھیر دیا جس پر یہ پہلے تھے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾ [سورة البقرة: 142] ”تم یہ فرما دو مشرق اور مغرب اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، وہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت نصیب کرتا ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک شخص نے نماز ادا کی۔ وہ نماز ادا کرنے کے بعد وہاں سے نکلا، اس کا گزر کچھ انصاریوں کے پاس سے ہوا جو عصر کی نماز میں رکوع کی حالت میں بیت مقدس کی طرف رخ کیے ہوئے تھے۔ اس نے گواہی دیتے ہوئے یہ بات کہی کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر دیا گیا ہے تو وہ لوگ اسی وقت پلٹ پڑے۔ انہوں نے اپنا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر لیا۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مہاجرین میں سے سب سے پہلے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے جن کا تعلق بنو عبددار سے تھا۔ ہم نے ان سے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنی جگہ پر ہیں، البتہ آپ کے ساتھی میرے پیچھے پیچھے آ رہے ہیں۔ ان کے بعد سیدنا عمرو بن ام مکتوم نابینا رضی اللہ عنہ آئے جن کا تعلق بنو فہر سے تھا۔ ہم نے ان سے دریافت کیا: آپ کے پیچھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کا کیا حال ہے؟ تو انہوں نے بتایا: وہ میرے پیچھے آ رہے ہیں۔ اس کے بعد سیدنا عمار اور سعد رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ اور بلال رضی اللہ عنہما ہمارے پاس آئے، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے بیس ساتھیوں کے ہمراہ سوار ہو کر ہمارے پاس آئے، پھر ان کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے۔ آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ کی تشریف آوری سے پہلے میں مفصل سورتوں کا علم حاصل کر چکا تھا، پھر ہم (دشمن کے) قافلے کا مقابلہ کرنے کے لیے نکلے تو ہم نے انہیں ایسی حالت میں پایا کہ وہ اپنا بچاؤ کر چکے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6281]

6282

Sahih Ibn Hibban #6282

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : لَمَّاقَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ مِنْ مَكَّةَ إِِلَى الْمَدِينَةِ ، قَدِمُوا وَلَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْءٌ ، وَكَانَ الأَنْصَارُ أَهْلَ الأَرْضِ وَالْعَقَارِ ، قَالَ : فَقَاسَمَهُمُ الأَنْصَارِ عَلَى أَنْ يُعْطُوهُمْ أَنْصَافَ ثِمَارِ أَمْوَالِهِمْ كُلَّ عَامٍ ، فَيَكْفُوهُمُ الْعَمَلَ ، قَالَ : وَكَانَتْ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَعْطَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْذَاقًا لَهَا ، فَأَعْطَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ مَوْلاتَهُ أُمَّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ خَيْبَرَ ، وَانْصَرَفَ إِِلَى الْمَدِينَةِ ، رَدَّ الْمُهَاجِرُونَ إِِلَى الأَنْصَارِ مَنَائِحَهُمُ الَّتِي كَانُوا مَنَحُوهُمْ مِنْ ثِمَارِهِمْ ، قَالَ : فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى أُمِّي أَعْذَاقَهَا ، وَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ مَكَانَهَا مِنْ حَائِطِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب مہاجرین مکہ سے مدینہ منورہ آئے وہ ایسی حالت میں آئے کہ ان کے پاس کوئی بھی چیز نہیں تھی، جب کہ انصار کے پاس زمینیں بھی تھیں اور جائیدادیں بھی تھیں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار نے ان کے ساتھ یہ طے کیا کہ وہ ہر سال اپنی زمینوں کی پیداوار کا نصف پھل مہاجرین کو دیں گے اور مہاجرین ان کی جگہ کام کاج کر لیا کریں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ نے اپنی کھجوروں کے کچھ خوشے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اپنی کنیز سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کو عطا کر دیے جو سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی والدہ تھیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اہل خیبر کی طرف سے فارغ ہوئے اور واپس مدینہ منورہ تشریف لائے تو مہاجرین نے انصار کے عطیات انہیں واپس کر دیے جو انہوں نے اپنے پھل وغیرہ انہیں عطیے کے طور پر دیے تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری والدہ کو ان کے کھجوروں کے خوشے بھی واپس کر دیے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کو اس کی جگہ اپنا باغ عطا کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6282]

6283

Sahih Ibn Hibban #6283

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَابْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِِسْحَاقَ ، قَالَ : خَرَجَ النَّاسُ يَسْتَسْقُونَ وَفِيهِمْ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ ، مَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِِلا رَجُلٌ ، قَالَ : قُلْتُ : كَمْ غَزَا ؟ وَقَالَ ابْنُ كَثِيرٍ : يَا أَبَا عَمْرٍو ، كَمْ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : تِسْعَ عَشْرَةَ " ، قُلْتُ : كَمْ غَزَوْتَ مَعَهُ ؟ قَالَ : سَبْعَ عَشْرَةَ . قُلْتُ : " مَا أَوَّلُ مَا غَزَا ؟ قَالَ : ذُو الْعُشَيْرَةِ أَوِ الْعُسَيْرَةِ " ، فَصَلَّى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواسحاق بیان کرتے ہیں کہ لوگ نمازِ استسقاء ادا کرنے کے لیے نکلے، ان میں سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ میرے اور ان کے درمیان صرف ایک شخص تھا، میں نے دریافت کیا: آپ نے کتنے غزوات میں شرکت کی ہے؟ یہاں ابن کثیر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: اے ابوعمرو! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے غزوات میں شرکت کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: 19 غزوات میں۔ میں نے دریافت کیا: آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کتنے غزوات میں شرکت کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سترہ (17) میں۔ میں نے دریافت کیا: سب سے پہلا غزوہ کون سا تھا؟ انہوں نے بتایا: «ذُو الْعُشَيْرَةِ» ”ذوعشیرہ“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یا «عُسَيْرَةُ» ”عسیرہ“۔ پھر سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو دو رکعات نماز پڑھائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6283]

6284

Sahih Ibn Hibban #6284

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَوْضِيُّ ، وَابْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا مَرْبُوعًا ، بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ ، لَهُ شَعَرٌ يَبْلُغُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ ، رَأَيْتُهُ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ ، لَمْ أَرَ قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم درمیانے قد کے مالک تھے، آپ کا سینہ چوڑا تھا، آپ کے بال کانوں کی لو تک آتے تھے، میں نے آپ کو سرخ حلے میں دیکھا ہے، میں نے آپ سے زیادہ خوبصورت کوئی نہیں دیکھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6284]

6285

Sahih Ibn Hibban #6285

أَخْبَرَنَا السِّخْتِيَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَجْهًا ، وَأَحْسَنَهُمْ خَلْقًا وَخُلُقًا ، لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الذَّاهِبِ وَلا بِالْقَصِيرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوبصورت تھے، آپ اپنی شکل و صورت اور اخلاق کے اعتبار سے سب سے اچھے تھے، آپ نہ بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ ہی چھوٹے قد کے مالک تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6285]

6286

Sahih Ibn Hibban #6286

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ لَوْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ گندمی تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6286]

6287

Sahih Ibn Hibban #6287

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَاءِ : كَانَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ السَّيْفِ ؟ ، قَالَ : لا ، وَلَكِنْ مِثْلَ الْقَمَرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواسحاق بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک تلوار کی مانند (چمکدار تھا؟) انہوں نے جواب دیا: جی نہیں! بلکہ چاند کی مانند (چمکدار تھا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6287]

6288

Sahih Ibn Hibban #6288

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْمِنْهَالِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ عَنْ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : كَانَ أَشْكَلَ الْعَيْنَيْنِ ، ضَلِيعَ الْفَمِ ، مَنْهُوسَ الْعَقِبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سماک بن حرب بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دہن مبارک کشادہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سفید تھیں جن میں سرخ ڈورے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایڑھیوں پر گوشت کم تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6288]

6289

Sahih Ibn Hibban #6289

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَلِيعَ الْفَمِ ، أَشْهَلَ الْعَيْنَيْنِ ، مَنْهُوسَ الْكَعْبَيْنِ أَوِ الْقَدَمَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا منہ کشادہ تھا، آپ کی آنکھیں سفید تھیں، جن میں کچھ سرخی ملی ہوئی تھی، آپ کے ٹخنوں پر (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں) آپ کے قدموں پر گوشت کم تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6289]

6290

Sahih Ibn Hibban #6290

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ الْوَلِيدِ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ ثَغْرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے ہوئے سب سے زیادہ خوبصورت لگتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6290]