Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 54 · Chapter 1

Book of Blood Money

Hadith 6058–6097

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6058

Sahih Ibn Hibban #6058

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : كُنْتُ أَرَى الرُّؤْيَا ، فَتُمْرِضُنِي حَتَّى سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ ، يَقُولُ : كُنْتُ أَرَى الرُّؤْيَا ، فَتُمْرِضُنِي حَتَّى سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يُحِبُّ فَلْيَقُصَّهُ عَلَى مَنْ يُحِبُّ ، وَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ ، فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا ، وَلْيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلاثًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: بعض اوقات میں ایسے خواب دیکھتا تھا جو مجھے بیمار کر دیتے تھے، یہاں تک کہ میں نے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ میں ایسے خواب دیکھا کرتا تھا جو مجھے بیمار کر دیتے تھے، یہاں تک کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے، جب کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جسے وہ پسند کرے، تو اسے وہ خواب اس شخص کے سامنے بیان کرنا چاہیے جو اس کا پسندیدہ ہو اور جب کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اسے پسند نہ آئے، تو اسے اس خواب کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے اور اپنی بائیں طرف تین مرتبہ تھوک دینا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6058]

6059

Sahih Ibn Hibban #6059

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الشَّيْءَ يَكْرَهُهُ ، فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ إِذَا اسْتَيْقَظَ ، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا ، فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ "، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : إِنْ كُنْتُ لأَرَى الرُّؤْيَا هِيَ أَثْقَلُ عَلَيَّ مِنَ الْجَبَلِ ، فَلَمَّا سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مَا كُنْتُ أُبَالِيهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں، تو جب کوئی شخص ایسی چیز دیکھے جو اسے پسند نہ آئے، تو جب وہ بیدار ہو، تو اسے اپنی بائیں طرف تین مرتبہ تھوک دینا چاہیے اور اس خواب کے شر سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے، اگر اللہ نے چاہا، تو وہ خواب اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ ابوسلمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں بعض اوقات ایسے خواب دیکھا کرتا تھا جو میرے لیے پہاڑ سے زیادہ وزنی ہوتے تھے، لیکن جب میں نے یہ حدیث سنی، تو میں ان کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6059]

6060

Sahih Ibn Hibban #6060

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الرُّؤْيَا يَكْرَهُهَا ، فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلاثًا ، وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ثَلاثًا ، وَيَتَحَوَّلْ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص کوئی ایسا خواب دیکھے جو اسے اچھا نہ لگے، تو اسے اپنی بائیں طرف تین مرتبہ تھوک دینا چاہیے اور تین مرتبہ شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے اور پھر اس پہلو کو تبدیل کر لینا چاہیے جس پہلو کے بل وہ پہلے سویا ہوا تھا (یعنی کروٹ بدل لینی چاہیے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6060]

6061

Sahih Ibn Hibban #6061

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلاقَةَ ، سَمِعَ أُسَامَةَ بْنَ شَرِيكٍ ، يَقُولُ : شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالأَعْرَابُ يَسْأَلُونَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ عَلَيْنَا جُنَاحٌ فِي كَذَا ؟ مَرَّتَيْنِ ، فَقَالَ : عِبَادَ اللَّهِ ، وَضَعَ اللَّهُ الْحَرَجَ ، إِلا امْرُؤٌ اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ أَخِيهِ شَيْئًا ، فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَهَلْ عَلَيْنَا جُنَاحٌ أَنْ نَتَدَاوَى ؟ فَقَالَ : " تَدَاوَوْا عِبَادَ اللَّهِ ، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلا وَضَعَ لَهُ دَوَاءً " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْعَبْدُ ؟ قَالَ : " خُلُقٌ حَسَنٌ "، قَالَ سُفْيَانُ : مَا عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ الْيَوْمَ إِسْنَادٌ أَجْوَدُ مِنْ هَذَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کر رہے تھے کہ کیا ہمیں اس کام کو کرنے میں کوئی گناہ ہو گا؟ ایسا انہوں نے دو مرتبہ پوچھا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ نے گناہ کو اٹھا لیا ہے ماسوائے اس شخص کے جو اپنے کسی بھائی کی عزت پر حملہ کرے، تو ایسا شخص گناہ کا مرتکب ہو گا۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اگر ہم دوا استعمال کریں، تو کیا ہمیں کوئی گناہ ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! تم لوگ دوا استعمال کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری پیدا کی ہے، اس کے لیے دوا بھی پیدا کی ہے۔“ ان لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! بندے کو جو کچھ دیا گیا اس میں سے بہتر چیز کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھے اخلاق۔“ سفیان کہتے ہیں: آج روئے زمین پر اس سے عمدہ سند اور کوئی نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6061]

6062

Sahih Ibn Hibban #6062

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّاللَّهَ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلا أَنَزَلَ مَعَهُ دَوَاءٌ ، جَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ ، وَعَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کے ہمراہ اس کی دوا بھی نازل کی ہے، جو شخص اس سے ناواقف رہے وہ ناواقف رہتا ہے اور جو اس کا علم حاصل کر لے اسے اس کا علم ہو جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6062]

6063

Sahih Ibn Hibban #6063

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّلِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءً ، فَإِذَا أُصِيبَ دَوَاءُ الدَّاءِ بَرَأَ بِإِذْنِ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک ہر بیماری کی دوا ہے، جب بیماری کی صحیح دوا مل جائے، تو (بیمار) اللہ کے حکم کے تحت تندرست ہو جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6063]

6064

Sahih Ibn Hibban #6064

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، وَسُفْيَانَ هُوَ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَدَاوَوْا ، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلا وَقَدْ أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً ، إِلا السَّامَ وَالْهَرَمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ دوا استعمال کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کی شفاء بھی نازل کی ہے، البتہ موت اور بڑھاپے کا معاملہ مختلف ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6064]

6065

Sahih Ibn Hibban #6065

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُمْ أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ خَثْعَمَ يُقَالُ لَهُ سُوَيْدُ بْنُ طَارِقٍ ، فَقَالَ : إِنَّا نَصْنَعُ الْخَمْرَ ، فَنَهَاهُ عَنْهَا ، فَقَالَ : إِنَّمَا نَتَدَاوَى بِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَتْ بِدَوَاءٍ ، إِنَّهَا دَاءٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علقمہ بن وائل اپنے والد (رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، خثعم قبیلے سے تعلق رکھنے والا سوید بن طارق (رضی اللہ عنہ) نامی ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا، اس نے عرض کی کہ ہم لوگ شراب بناتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایسا کرنے سے منع کر دیا، اس نے عرض کی کہ ہم دوا کے طور پر اسے استعمال کرتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دوا نہیں ہے بلکہ یہ بیماری ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6065]

6066

Sahih Ibn Hibban #6066

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّشِدَّةَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بخار کی شدت جہنم کی تپش کا حصہ ہے، تو تم پانی کے ذریعے اسے ٹھنڈا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6066]

6067

Sahih Ibn Hibban #6067

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْحُمَّى مِنْ فَوْرِ جَهَنَّمَ ، فَأَطْفِئُوهَا بِالْمَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بخار جہنم کی تپش کا حصہ ہے، تو تم پانی کے ذریعے اسے بجھا دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6067]

6068

Sahih Ibn Hibban #6068

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ ، قَالَ : كُنْتُ أَدْفَعُ النَّاسَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَاحْتَبَسْتُ أَيَّامًا ، فَقَالَ : مَا حَبَسَكَ ؟ قُلْتُ : الْحُمَّى ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، فَأَبْرِدُوهَا بِمَاءِ زَمْزَمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوجمرہ بیان کرتے ہیں: میں لوگوں کو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر (انہیں تنگ کرنے) سے روکتا تھا، ایک مرتبہ میں کچھ دن تک نہیں آیا، تو انہوں نے دریافت کیا: تم کیوں نہیں آئے؟ میں نے جواب دیا: بخار کی وجہ سے۔ انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک بخار جہنم کی تپش کا حصہ ہے، تو تم زم زم کے پانی کے ذریعے اسے ٹھنڈا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6068]

6069

Sahih Ibn Hibban #6069

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، فقال أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَكِّيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : اكْشِفِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ ، ثُمَّ أَخَذَ تُرَابًا مِنْ بُطْحَانَ فَجَعَلَهُ فِي قَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ ، فَصَبَّهُ عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یوسف بن محمد اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا (ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ) کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یعنی دعا کی) «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ» ”اے لوگوں کے پروردگار! تو ثابت بن قیس بن شماس سے تکلیف کو دور کر دے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحان کی مٹی لی، اسے ایسے پیالے میں ڈالا جس میں پانی موجود تھا اور وہ پانی ان پر چھڑک دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6069]

6070

Sahih Ibn Hibban #6070

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُتْبَةَ ، أَنَّ أُمَّ قَيْسِ بِنْتَ مِحْصَنٍ وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الأُوَلِ اللاتِي بَايَعْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ أُخْتُ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ أَخْبَرَتْنِي : أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ ، وَقَدْ أَعْلَقَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلامَ تَدْغَرْنَ أَوْلادَكُنَّ بِهَذَا الإِعْلاقِ ، عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ يَعْنِي بِهِ : الْكُسْتَ ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ ، مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ "، الْكُسْتُ : يَعْنِي الْقِسْطَ ، قَالَهُ : الشَّيْخُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا جو ہجرت کرنے والی ابتدائی خواتین میں شامل ہیں، جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر بیعت کرنے کا شرف حاصل ہے اور یہ سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں، وہ بیان کرتی ہیں کہ وہ اپنے ایسے بیٹے کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں جو کچھ کھاتا نہیں تھا، اس خاتون نے اس بچے کے گلے کی تکلیف کی وجہ سے اس کا گلا ملا ہوا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اس طرح گلا مل کر اپنے بچوں کو تکلیف کیوں پہنچاتی ہو؟ تم «الْعُودُ الْهِنْدِيُّ» ”عودِ ہندی“ استعمال کرو (راوی کہتے ہیں: اس سے مراد کست ہے) کیونکہ اس میں سات قسم کی شفا پائی جاتی ہے (یعنی سات بیماریوں سے شفا پائی جاتی ہے) جن میں سے ایک «ذَاتُ الْجَنْبِ» ”ذات الجنب (نمونیا)“ ہے“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) کست سے مراد قسط ہے، یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6070]

6071

Sahih Ibn Hibban #6071

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : عَلَيْكُمْ بِالْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ ، فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلا السَّامَ "، يُرِيدُ الْمَوْتَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم پر کلونجی استعمال کرنا لازم ہے، کیونکہ اس میں «السَّامِ» کے علاوہ ہر بیماری سے شفاء ہے۔“ (راوی کہتے ہیں:) سام سے مراد موت ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6071]

6072

Sahih Ibn Hibban #6072

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَسَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : خَيْرُ أَكْحَالِكُمُ الإِثْمِدُ عِنْدَ النَّوْمِ ، يُنْبِتُ الشَّعْرَ ، وَيَجْلُو الْبَصَرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تمہارا سب سے بہتر سرمہ اثمد ہے، اسے سوتے وقت لگایا جائے، یہ بالوں کو اگاتا ہے اور بینائی کو تیز کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6072]

6073

Sahih Ibn Hibban #6073

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وهَيْبٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّمِنْ خَيْرِ أَكْحَالِكُمُ الإِثْمِدُ ، فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ ، وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک تمہارے سرموں میں سب سے بہترین سرمہ «الْإِثْمِدُ» (اثمد) ہے، یہ بینائی کو تیز کرتا ہے اور بال اگاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6073]

6074

Sahih Ibn Hibban #6074

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ أَكْمُؤٌ ، فَقَالَ : هَؤُلاءِ مِنَ الْمَنِّ ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں کھمبی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ (بنی اسرائیل پر نازل ہونے والے) من کا حصہ ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفاء ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6074]

6075

Sahih Ibn Hibban #6075

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلا أَنْزَلَ لَهُ دَوَاءً ، فَعَلَيْكُمْ بِأَلْبَانِ الْبَقَرِ ، فَإِنَّهَا تَرُمُّ مِنْ كُلِّ الشَّجَرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کی دوا بھی نازل کی ہے، تم پر گائے کا دودھ استعمال کرنا لازم ہے کیونکہ وہ گائے ہر قسم کے درخت (کے پتے) کھاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6075]

6076

Sahih Ibn Hibban #6076

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَادَ الْمُقَنَّعَ ، فَقَالَ :لا أَبْرَحُ حَتَّى تَحْتَجِمَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّ فِيهِ شِفَاءً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عاصم بن عمر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما مقنع کی عیادت کرنے کے لیے گئے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اس وقت تک تمہیں نہیں چھوڑوں گا جب تک تم پچھنے نہیں لگواتے، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اس میں شفا ہے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6076]

6077

Sahih Ibn Hibban #6077

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : احْتَجَمَ عَلَى الأَخْدَعَيْنِ ، وَالْكَاهِلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اخدعین اور کاہل پر پچھنے لگوائے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6077]

6078

Sahih Ibn Hibban #6078

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ أَبَا هِنْدٍ حَجَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَافُوخِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، أَنْكِحُوا أَبَا هِنْدٍ ، وَانْكِحُوا إِلَيْهِ " فَقَالَ :" إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِمَّا تَدَاوَوْنَ بِهِ خَيْرٌ فَالْحِجَامَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوہند نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یافوخ پر پچھنے لگائے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انصار! ابوہند کی شادی کروا دو (اپنے خاندان کی کسی لڑکی کے ساتھ) اس کی شادی کر دو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ علاج کے طور پر جو چیز اختیار کرتے ہو اس میں سب سے بہتر چیز پچھنے لگانا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6078]

6079

Sahih Ibn Hibban #6079

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَرَ بِابْنِ زُرَارَةَ أَنْ يُكْوَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن زرارہ کے بارے میں یہ حکم دیا کہ ”انہیں داغ لگوائے جائیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6079]

6080

Sahih Ibn Hibban #6080

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَوَى أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ مِنَ الشَّوْكَةِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : تَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کو کانٹے کے ذریعے داغ لگوائے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت کو نقل کرنے میں یزید بن زریع نامی راوی منفرد ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6080]

6081

Sahih Ibn Hibban #6081

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ الْهُجَيْمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَيِّ فَاكْتَوَيْنَا ، فَمَا أَفْلَحْنَا وَلا أَنْجَحْنَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ہمیں (علاج کے طور پر) داغ لگوانے سے منع کیا تھا“ ہم نے داغ لگوائے، نہ تو ہم نے فلاح پائی اور نہ کامیابی حاصل کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6081]

6082

Sahih Ibn Hibban #6082

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الأَحْوَصِ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : جَاءَ نَاسٌ ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَاحِبٍ لَهُمْ أَنْ يَكْوُوهُ ، فَسَكَتَ ، ثُمَّ سَأَلُوهُ ثَلاثًا : فَسَكَتَ ، وَكَرِهَ ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ آئے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ساتھی کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ اسے داغ لگوانا چاہتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، انہوں نے تین مرتبہ اس بارے میں دریافت کیا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پسند نہیں فرمایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6082]

6083

Sahih Ibn Hibban #6083

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : رُمِيَ يَوْمَ الأَحْزَابِ سَعْدٌ فَقُطِعَ أَكْحَلُهُ ، فَنَزَفَهُ فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ ،فَحَسَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّارِ ، فَنَزَفَهُ فَحَسَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّارِ أُخْرَى ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الزَّجْرُ عَنِ الْكَيِّ فِي خَبَرِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : إِنَّمَا هُوَ الابْتِدَاءُ بِهِ مِنْ غَيْرِ عِلَّةٍ تُوجِبُهُ ، كَمَا كَانَتِ الْعَرَبُ تَفْعَلُهُ تُرِيدُ بِهِ الْوَسْمِ ، وَخَبَرُ جَابِرٍ فِيهِ إِبَاحَةُ اسْتِعْمَالِهِ لِعِلَّةٍ تَحْدُثُ مِنْ غَيْرِ الاتِّكَالِ عَلَيْهِ فِي بُرْئِهَا ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ أَخْبَارَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَتَضَادُّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احزاب کے موقع پر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو تیر لگا، ان کی ایک رگ کٹ گئی جس میں سے خون بہنے لگا اور ان کا بازو پھول گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آگ کے ذریعے داغ لگوائے، لیکن ان کا خون بہتا رہا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ انہیں آگ کے ذریعے داغ لگوائے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں داغ لگانے کی ممانعت ابتدائی زمانہ پر محمول ہو گی جو کسی ایسی علت کے بغیر ہے، جو اس کو واجب کرتی ہو، جس طرح عرب کیا کرتے تھے اور اس کے ذریعے مراد «الْوَسْمُ» (یعنی داغ لگوانا) ہے۔ جبکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں اس طریقے کو اختیار کرنے کے مباح ہونے کا ذکر ملتا ہے، جو کسی ایسی علت کی وجہ سے ہے، جو بعد میں سامنے آئی تھی اور وہ یہ کہ آدمی کے تندرست ہونے میں صرف اس پر تکیہ نہ کیا جائے، یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے، جو اس بات کا قائل ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے منقول روایات میں تضاد پایا جاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6083]

6084

Sahih Ibn Hibban #6084

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : عُرِضَتْ عَلَيَّ الأُمَمُ بِالْمَوْسِمِ ، فَرَأَيْتُ أُمَّتِي ، فَأَعْجَبَتْنِي كَثْرَتُهُمْ ، وَهَيْئَتُهُمْ ، قَدْ مَلَئُوا السَّهْلَ وَالْجَبَلَ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَرَضِيتَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ أَيْ رَبِّ ، قَالَ : وَمَعَ هَؤُلاءِ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، الَّذِينَ لا يَسْتَرْقُونَ ، وَلا يَكْتَوُونَ ، وَلا يَتَطَيَّرُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ "، فَقَالَ عُكَّاشَةُ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ " ، ثُمَّ قَالَ رَجُلٌ آخَرُ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : " سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میرے سامنے مختلف امتوں کو پیش کیا گیا، جب میں نے اپنی امت کو دیکھا، تو ان کی کثرت اور ان کی حالت مجھے بہت اچھی لگی، انہوں نے راستوں اور پہاڑوں کو بھر دیا تھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: محمد! کیا تم راضی ہو؟ میں نے عرض کی: جی ہاں، اے میرے پروردگار! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان کے ہمراہ ستر ہزار لوگ کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو (زمانہ جاہلیت کے طریقے کے مطابق) جھاڑ پھونک نہیں کرتے، (علاج کے طور پر) داغ نہیں لگواتے اور فال نہیں نکالتے اور وہ اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہیں۔“ سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر لے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: ”اے اللہ! تو اسے ان میں شامل کر لے۔“ پھر ایک اور صاحب نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر لے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عکاشہ تم پر سبقت لے گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6084]

6085

Sahih Ibn Hibban #6085

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي يَدِ رَجُلٍ حَلَقَةً ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ " قَالَ : مِنَ الْوَاهِنَةِ ، قَالَ : " مَا تَزِيدُكَ إِلا وَهْنًا ، انْبِذْهَا عَنْكَ ، فَإِنَّكَ إِنْ تَمُتْ وَهِيَ عَلَيْكَ وُكِلْتَ عَلَيْهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہاتھ میں چھلا دیکھا، تو دریافت فرمایا: ”یہ کس وجہ سے ہے؟“ اس نے بتایا کہ یہ «الْوَاهِنَةُ» ”کمزوری“ کی وجہ سے ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تیری کمزوری میں صرف اضافہ ہی کرے گا، اسے تم اتار دو، کیونکہ اگر تم ایسی حالت میں مر گئے کہ تم نے یہ پہنا ہوا تو پھر تمہیں اسی کے سپرد کر دیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6085]

6086

Sahih Ibn Hibban #6086

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ عُبَيْدٍ الْمَعَافِرِيَّ حَدَّثَهُ ، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَلا أَتَمَّ اللَّهُ لَهُ ، وَمَنْ عَلَّقَ وَدَعَةً فَلا وَدَعَ اللَّهُ لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص (زمانہ جاہلیت کے رواج کے مطابق) تعویذ لٹکائے تو اللہ تعالیٰ اس کے (مقصد کو) پورا نہ کرے اور جو شخص (زمانہ جاہلیت کے رواج کے مطابق) دھاگہ لٹکائے تو اللہ تعالیٰ اس کو پورا نہ کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6086]

6087

Sahih Ibn Hibban #6087

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنِ اكْتَوَى أَوِ اسْتَرْقَى فَقَدْ بَرِئَ مِنَ التَّوَكُّلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص (علاج کے طور پر) داغ لگواتا ہے یا (زمانہ جاہلیت کے دستور کے مطابق) جھاڑ پھونک کرتا ہے وہ توکل سے لاتعلق ہو جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6087]

6088

Sahih Ibn Hibban #6088

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي عَضُدِهِ حَلَقَةٌ مِنْ صُفْرٍ ، فَقَالَ : مَا هَذِهِ ؟ " قَالَ : مِنَ الْوَاهِنَةِ ؟ قَالَ : أَيَسُرُّكَ أَنْ تُوكَلَ إِلَيْهَا ؟ ! انْبِذْهَا عَنْكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے کلائی پر پیتل کا کڑا پہنا ہوا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”یہ کس وجہ سے ہے؟“ انہوں نے عرض کی: کمزوری کی وجہ سے ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ تمہیں اس کے سپرد کر دیا جائے؟ تم اسے اتار دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6088]

6089

Sahih Ibn Hibban #6089

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ أَبِي الصَّهْبَاءِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عُرِضَ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ الأَنْبِيَاءُ ، فَكَانَ الرَّجُلُ يَجِيءُ مَعَهُ الرَّجُلُ ، وَيَجِيءُ مَعَهُ الرَّجُلانِ ، وَيَجِيءُ مَعَهُ النَّفَرُ كَذَلِكَ حَتَّى رَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ أُمَّتِي ، فَقُلْتُ : مَنْ هَؤُلاءِ ؟ فَقِيلَ : هَؤُلاءِ قَوْمُ مُوسَى ، ثُمَّ رَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا قَدْ سَدَّ أُفُقَ السَّمَاءِ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَؤُلاءِ ؟ فَقِيلَ : هَؤُلاءِ مِنْ أُمَّتِكَ ، فَفَرِحْتُ بِذَلِكَ ، وَسُرِرْتُ بِهِ ، ثُمَّ قِيلَ : إِنَّهُ يَدْخُلُ بَعْدَ هَؤُلاءِ مِنْ أُمَّتِكَ الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا لا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلا عَذَابَ " ، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : مَنْ هَؤُلاءِ ؟ فَتَرَاجَعُوا ، ثُمَّ أَجْمَعَ رَأْيُهُمْ أَنَّهُمْ مَنْ وُلِدَ فِي الإِسْلامِ وَثَبَتَ فِيهِ ، وَلَمْ يُدْرِكْ شَيْئًا مِنَ الشِّرْكِ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ عَنْهُمْ ، فَقَالَ : " الَّذِينَ لا يَكْتَوُونَ ، وَلا يَسْتَرْقُونَ ، وَلا يَتَطَيَّرُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ". قَالَ الشَّيْخُ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الْعِلَّةُ فِي الزَّجْرِ عَنِ الاكْتِوَاءِ ، وَالاسْتِرْقَاءِ هِيَ أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا وَيَرَوْنَ الْبُرْءَ مِنْهُمَا مِنْ غَيْرِ صُنْعِ الْبَارِي جَلَّ وَعَلا فِيهِ ، فَإِذَا كَانَتْ هَذِهِ الْعِلَّةُ مَوْجُودَةً ، كَانَ الزَّجْرُ عَنْهُمَا قَائِمًا ، وَإِذَا اسْتَعْمَلَهُمَا الْمَرْءُ وَجَعَلَهُمَا سَبَبَيْنِ لِلْبُرْءِ الَّذِي يَكُونُ مِنْ قَضَاءِ اللَّهِ دُونَ أَنْ يَرَى ذَلِكَ مِنْهُمَا كَانَ ذَلِكَ جَائِزًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گزشتہ رات میرے سامنے انبیاء کو پیش کیا گیا، تو کسی نبی کے ساتھ ایک شخص تھا، کسی نبی کے ساتھ دو شخص تھے، کسی نبی کے ساتھ کچھ لوگ تھے، یہاں تک کہ میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا، میں نے یہ گمان کیا کہ شاید یہ میری امت ہے۔ میں نے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ تو بتایا گیا: یہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے افراد ہیں۔ پھر میں نے بہت زیادہ لوگوں کو دیکھا جنہوں نے آسمان کے افق کو بھر دیا تھا، میں نے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ تو بتایا گیا: یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے۔ میں اس بات پر بہت خوش ہوا، مسرور ہوا۔ پھر بتایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ان لوگوں کے بعد ستر ہزار لوگ جنت میں داخل ہوں گے جن سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا اور انہیں کوئی عذاب نہیں ہو گا۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر تشریف لے گئے۔ حاضرین نے سوچا: یہ کون لوگ ہوں گے؟ وہ آپس میں اس بارے میں بات چیت کرتے رہے، پھر ان سب نے اس بارے میں اتفاق کیا کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے اور ہمیشہ مسلمان رہے، جنہوں نے شرک کا زمانہ پایا ہی نہیں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان لوگوں کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہوں گے جو (علاج میں) داغ نہیں لگواتے ہوں گے، اور (زمانہ جاہلیت کے رواج کے مطابق) جھاڑ پھونک نہیں کرتے ہوں گے، اور فال نہیں نکالتے ہوں گے، اور اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہوں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) داغ لگوانے اور جھاڑ پھونک کرنے میں ممانعت کی علت یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ اس پر عمل کرتے تھے اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر وہ لوگ محض ان دو چیزوں سے ٹھیک ہو جاتے ہیں، تو جب یہ علت موجود ہو گی ان دونوں چیزوں سے ممانعت باقی رہی، لیکن جب کوئی شخص ان پر عمل کرے اور ان دونوں کو ایسا سبب قرار دے جو اللہ کے فیصلے کے مطابق آدمی کی تندرستی کے لیے سبب بنتا ہے اور وہ شخص یہ نہ سمجھے کہ محض ان دونوں کاموں کی وجہ سے (فائدہ ہوتا ہے) تو ایسا کرنا جائز ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6089]

6090

Sahih Ibn Hibban #6090

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، قَالَ : دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ عَلَى امْرَأَةٍ وَفِي عُنُقِهَا شَيْءٌ مَعَقُودٌ ، فَجَذَبَهُ فَقَطَعَهُ ، ثُمَّ قَالَ : لَقَدْ أَصْبَحَ آلُ عَبْدِ اللَّهِ أَغْنِيَاءَ أَنْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّالرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ "، قَالُوا : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، هَذِهِ الرُّقَى وَالتَّمَائِمُ قَدْ عَرَفْنَاهَا ، فَمَا التِّوَلَةُ ؟ قَالَ : شَيْءٌ يَصْنَعُهُ النِّسَاءُ يَتَحَبَّبْنَ إِلَى أَزْوَاجِهِنَّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید بن جزار بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ایک خاتون کے پاس تشریف لے گئے جس نے اپنی گردن میں تعویذ باندھا ہوا تھا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے کھینچ کر کاٹ دیا، پھر انہوں نے فرمایا: عبداللہ کے گھر والے اس بات سے بے نیاز ہیں کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک قرار دیں جب تک اس بارے میں کوئی دلیل نازل نہیں ہوتی، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک جھاڑ پھونک، تعویذ اور تولہ شرک ہے۔“ لوگوں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! جھاڑ پھونک اور تعویذ کا تو ہمیں علم ہے، لیکن یہ لفظ «تِّوَلَة» کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ وہ کام ہے جو خواتین کرتی ہیں تاکہ اپنے شوہروں کی محبت حاصل کر لیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6090]

6091

Sahih Ibn Hibban #6091

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى بِالْمَوْصِلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّقَى ، وَلِي خَالٌ يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ ، فَلْيَفْعَلْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھاڑ پھونک سے منع کیا ہے، میرے ماموں بچھو کے کاٹے کا دم کیا کرتے تھے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے جو شخص اپنے کسی بھائی کو کوئی بھی فائدہ پہنچا سکتا ہو اسے وہ کرنا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6091]

6092

Sahih Ibn Hibban #6092

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنِ الْجَرَّاحِ بْنِ الضَّحَّاكِ ، عَنْ كُرَيْبٍ الْكِنْدِيِّ ، قَالَ : أَخَذَ بِيَدِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ ، فَانْطَلَقْنَا إِلَى شَيْخٍ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ ابْنُ أَبِي حَثْمَةَ يُصَلِّي إِلَى أُسْطُوَانَةٍ ، فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ ، فَلَمَّا رَأَى عَلِيًّا انْصَرَفَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ حَدِّثْنَا حَدِيثَ أُمُّكَ فِي الرُّقْيَةِ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا كَانَتْ تَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَلَمَّا جَاءَ الإِسْلامُ قَالَتْ : لا أَرْقِي حَتَّى أَسْتَأْذِنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَتْهُ فَاسْتَأْذَنَتْهُ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ارْقِي ، مَا لَمْ يَكُنْ فِيهَا شِرْكٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کریب کندی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم لوگ قریش سے تعلق رکھنے والے ایک عمر رسیدہ صاحب کے پاس چلے گئے، ان کا نام ابن ابی حثمہ تھا، وہ ستون کی طرف منہ کر کے نماز ادا کر رہے تھے، ہم ان کے پاس بیٹھ گئے، جب انہوں نے امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو نماز ختم کر کے ان کے پاس آئے۔ امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ دم کرنے کے بارے میں اپنی والدہ کی نقل کردہ روایت ہمیں بیان کیجئے، تو انہوں نے بتایا کہ میری والدہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ وہ زمانہ جاہلیت میں دم کیا کرتی تھیں، جب اسلام آ گیا تو انہوں نے یہ کہا: میں اس وقت تک دم نہیں کروں گی جب تک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں اجازت نہیں لیتی، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم دم کرو جب کہ اس کے الفاظ میں شرک نہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6092]

6093

Sahih Ibn Hibban #6093

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بِفَمِ الصِّلْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَدَغَتْنِي عَقْرَبٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَقَانِي وَمَسَحَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن طلق اپنے والد (رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک بچھو نے مجھے ڈنک مار دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دم کیا اور (اس جگہ پر) دست مبارک پھیرا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6093]

6094

Sahih Ibn Hibban #6094

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَقُولُ فِي ذَلِكَ ؟ قَالَ : اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ ، وَلا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ شِرْكًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے، ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے دم کے الفاظ میرے سامنے پیش کرو، ایسے دم میں کوئی حرج نہیں ہے جس میں شرکیہ الفاظ نہ ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6094]

6095

Sahih Ibn Hibban #6095

أَخْبَرَنَا السَّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ أَزْهَرَ بْنِ سَعِيدٍ الْحَرَازِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ ابْنِ أَخِي مَيْمُونَةَ ، أَنَّ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ لِي : يَا ابْنَ أَخِي ، أَلا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ : بَلَى ، قَالَتْ : بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ ، وَاللَّهُ يَشْفِيكَ ، مِنْ كُلِّ دَاءٍ فِيكَ ، أَذْهِبِ الْبَأْسَ ، رَبَّ النَّاسِ ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي ، لا شَافِيَ إِلا أَنْتَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الصَّوَابُ أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ ، لا سَعِيدٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے روایت کرتے ہیں کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے کہا: اے میرے بھتیجے! کیا میں تمہیں وہ دم نہ کروں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے یہ پڑھا: «بِاسْمِ اللّٰهِ أَرْقِيكَ، وَاللّٰهُ يَشْفِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ فِيكَ، أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي، لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ» ”اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے میں تمہیں دم کرتی ہوں، اللہ تعالیٰ تمہیں شفاء عطا فرمائے ہر اس بیماری سے جو تمہیں لاحق ہے۔ اے لوگوں کے پروردگار! تکلیف کو دور کر دے، شفاء عطا فرما، تو ہی شفاء عطا کرنے والا ہے، تیرے علاوہ اور کوئی شفاء عطا کرنے والا نہیں ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) درست یہ ہے کہ راوی کا نام اظہر بن سعد ہے، اظہر بن سعید نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6095]

6096

Sahih Ibn Hibban #6096

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَرْقِي : امْسَحِ الْبَأْسَ ، رَبَّ النَّاسِ ، بِيَدِكَ الشِّفَاءُ ، لا كَاشِفَ إِلا أَنْتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دم کیا کرتے تھے: «أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، بِيَدِكَ الشِّفَاءُ، لَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا أَنْتَ» ”اے لوگوں کے پروردگار! تو تکلیف کو دور کر دے، شفا تیرے دستِ قدرت میں ہے، اس تکلیف کو صرف تو ہی دور کر سکتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6096]

6097

Sahih Ibn Hibban #6097

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّقَى ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دم کرنے سے منع کیا، عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دم کرنے سے منع کر دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے جو شخص اپنے بھائی کو کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہو اسے ایسا کر لینا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6097]