Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 53 · Chapter 3

Book of Crimes

Hadith 6024–6057

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6024

Sahih Ibn Hibban #6024

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس مسلمان کے پاس کوئی ایسی چیز موجود ہو، جس کے بارے میں وہ وصیت کر سکتا ہو، تو اسے اس بات کا حق حاصل نہیں ہے دو راتیں گزر جائیں (اور اس نے وصیت نہ کی ہو) اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہونی چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الوصية/حدیث: 6024]

6025

Sahih Ibn Hibban #6025

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَمُرُّ عَلَيْهِ ثَلاثُ لَيَالٍ إِلا وَوَصِيَّتُهُ عِنْدَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم اپنے والد رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کسی مسلمان شخص کو اس بات کا حق حاصل نہیں ہے کہ اس پر تین دن گزر جائیں (اور اس نے وصیت نہ لکھی ہو) اس کی وصیت اس کے پاس ہونی چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الوصية/حدیث: 6025]

6026

Sahih Ibn Hibban #6026

فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي ؟ قَالَ : إِنَّكَلَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلا صَالِحًا تَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ إِلا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً ، وَلَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ ، وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ ، اللَّهُمَّ امْضِ لأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ ، وَلا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ "، لَكِنَّ الْبَائِسَ سَعْدَ بْنَ خَوْلَةَ ، يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کرنے کے لیے تشریف لائے کیونکہ میری بیماری شدید ہو چکی تھی، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری بیماری کا جو عالم ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ملاحظہ فرما رہے ہیں، میں ایک مالدار شخص ہوں اور میری وارث صرف میری ایک بیٹی ہے، کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کر دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی نہیں۔“ میں نے عرض کی: نصف؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک تہائی کر دو، ویسے ایک تہائی بھی زیادہ ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) بڑا ہے، اگر تم اپنے ورثاء کو خوشحال چھوڑ کر جاتے ہو، تو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ تنگدست ہوں اور لوگوں سے مانگتے پھریں، تم اللہ کی رضا کے حصول کے لیے جو بھی خرچ کرو گے اس کا تمہیں اجر ملے گا، یہاں تک کہ تم اپنی بیوی کے منہ میں جو کچھ ڈالو گے (اس کا بھی اجر ملے گا)۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ جاؤں گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پیچھے نہیں رہو گے، تم اللہ کی رضا کے حصول کے لیے جو بھی نیک عمل کرو گے اس کے نتیجے میں تمہارے درجے اور قدر و منزلت میں اضافہ ہوگا، ہو سکتا ہے تمہیں طویل زندگی ملے، یہاں تک کہ بہت سے لوگ تم سے نفع حاصل کریں اور بہت سے لوگوں کو تمہاری وجہ سے نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔ «اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ» ”اے اللہ! تو میرے ساتھیوں کی ہجرت کو باقی رہنے دے اور انہیں ایڑیوں کے بل واپس نہ لوٹانا“، لیکن سعد بن خولہ پر افسوس ہے۔“ (راوی کہتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر افسوس کا اظہار اس لیے کیا کیونکہ ان کا انتقال مکہ میں ہو گیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوصية/حدیث: 6026]

6027

Sahih Ibn Hibban #6027

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ مُسَافِرٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : هَاجَرَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ بِأُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ وَهِيَ امْرَأَتُهُ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ ، فَلَمَّا قَدِمَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ مَرِضَ ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ : أَوْصَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،" فَتَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ حَبِيبَةَ وَبَعَثَ مَعَهَا النَّجَاشِيُّ شُرَحْبِيلَ ابْنَ حَسَنَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ عبیداللہ بن جحش نے اپنی بیوی ام حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہا کے ہمراہ حبشہ کی طرف ہجرت کی، جب وہ حبشہ پہنچے تو بیمار ہو گئے، جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وصیت کی، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کر لی اور نجاشی نے سیدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو (حبشہ سے مدینہ منورہ) بھیجا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوصية/حدیث: 6027]

6028

Sahih Ibn Hibban #6028

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَلْحِقُوا الْمَالَ بِالْفَرَائِضِ ، فَمَا تَرَكَتِ الْفَرَائِضُ فَلأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مال ذوی الفروض کو دو، ذوی الفروض میں سے جو بچ جائے وہ قریبی مرد رشتے دار کو ملے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الفرائض/حدیث: 6028]

6029

Sahih Ibn Hibban #6029

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلْحِقُوا الْمَالَ بِالْفَرَائِضِ ، فَمَا أَبْقَتِ الْفَرَائِضُ فَلأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مال ذوی الفروض کو دو، ذوی الفروض میں سے جو بچ جائے وہ قریبی مرد رشتہ دار کو ملے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الفرائض/حدیث: 6029]

6030

Sahih Ibn Hibban #6030

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ الْقَطِيعِيُّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حُمَيْدٍ الْمَعْمَرِيِّ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَلْحِقُوا الْمَالَ بِالْفَرَائِضِ ، فَمَا أَبْقَتِ الْفَرَائِضُ ، فَلأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مال ذوی الفروض کو دو، ذوی الفروض میں سے جو بچ جائے وہ قریبی مرد رشتہ دار کو ملے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الفرائض/حدیث: 6030]

6031

Sahih Ibn Hibban #6031

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خَرَشَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا ، فَقَالَ : مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ ، وَمَا أَعْلَمُ لَكِ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ، فَارْجِعِي حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ ، فَسَأَلَ النَّاسَ ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ : حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَعْطَاهَا السُّدُسَ "، فَقَالَ : " هَلْ مَعَكَ غَيْرُكَ ؟ " فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ الْمُغِيرَةُ ، فَأَنْفَذَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ السُّدُسَ ، ثُمَّ جَاءَتِ الْجَدَّةُ الأُخْرَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا ، فَقَالَ : مَالَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ ، وَمَا كَانَ الْقَضَاءُ الَّذِي قَضَى بِهِ إِلا لِغَيْرِكِ ، وَمَا أَنَا بِزَائِدٍ فِي الْفَرَائِضِ شَيْئًا ، وَلَكِنْ هُوَ ذَلِكَ السُّدُسُ ، فَإِنِ اجْتَمَعْتُمَا فِيهِ فَهُوَ بَيْنَكُمَا ، وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قبیصہ بن ذویب بیان کرتے ہیں: ایک دادی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے اپنی وراثت کا مطالبہ کیا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے بارے میں اللہ کی کتاب میں کوئی چیز نہیں ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی تمہارے بارے میں مجھے کسی چیز کا علم نہیں ہے، تم واپس چلی جاؤ میں لوگوں سے اس بارے میں دریافت کرتا ہوں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے اس بارے میں دریافت کیا، تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (یعنی دادی یا نانی کو) چھٹا حصہ دیا تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تمہارے ساتھ کوئی اور شخص بھی تھا؟ سیدنا محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی وہی بات بیان کی جو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس (دادی یا نانی) کے لیے چھٹے حصے کو لازم قرار دیا۔ پھر ایک اور دادی (یا نانی) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس (ان کے عہد خلافت میں) آئی اور اپنی وراثت کا مطالبہ کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے لیے اللہ کی کتاب میں کوئی حکم نہیں ہے، تمہارے بارے میں صرف ایک فیصلہ ہے، میں ذوی الفروض میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا، یہ چھٹا حصہ ہے، اگر تم دونوں (یعنی دادی اور نانی) اس میں اکٹھی ہو، تو یہ تم دونوں کے درمیان تقسیم ہو گا اور اگر تم دونوں میں سے کوئی ایک ہو، تو یہ اسے ملے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الفرائض/حدیث: 6031]

6032

Sahih Ibn Hibban #6032

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ الْقَطِيعِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ صُلِّيَ عَلَيْهِ ، وَوُرِّثَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب بچہ (پیدائش کے وقت) چیخ کر روئے، تو اس کی نماز جنازہ بھی ادا کی جائے گی اور اس کی وراثت کے احکام بھی جاری ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الفرائض/حدیث: 6032]

6033

Sahih Ibn Hibban #6033

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ ، وَلا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کا پتا چلا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کوئی مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں بنے گا اور کوئی کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں بنے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الفرائض/حدیث: 6033]

6034

Sahih Ibn Hibban #6034

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنَةٍ ، وَابْنَةِ ابْنٍ ، وَأُخْتٍ ، قَالَ : لِلابْنَةِ النِّصْفُ ، وَلابْنَةِ الابْنِ السُّدُسُ ، وَمَا بَقِيَ فَلِلأُخْتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ جب (میت کے ورثاء میں) ایک بیٹی، ایک پوتی اور ایک بہن ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے: ”بیٹی کو نصف ملے گا، پوتی کو چھٹا حصہ ملے گا، جو باقی بچے گا وہ بہن کو ملے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الفرائض/حدیث: 6034]

6035

Sahih Ibn Hibban #6035

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ ، عَنِ الْمِقْدَامِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ تَرَكَ كَلا فَإِلَيْنَا ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ ، وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لا وَارِثَ لَهُ ، أَعْقِلُ عَنْهُ ، وَأَرِثُهُ ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لا وَارِثَ لَهُ ، يَعْقِلُ عَنْهُ وَيَرِثُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص بوجھ چھوڑ کر جاتا ہے وہ ہماری طرف آئے گا اور جو شخص مال چھوڑ کر جاتا ہے وہ اس کے ورثاء کو ملے گا، میں اس کا وارث ہوں جس کا کوئی وارث نہیں ہے، میں اس کی طرف سے دیت کی ادائیگی کروں گا اور میں اس کا وارث بھی بنوں گا، اور جس شخص کا کوئی وارث نہ ہو ماموں اس کا وارث بنتا ہے، وہ اس کی طرف سے دیت کی ادائیگی بھی کرے گا اور اس کا وارث بھی بنے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الفرائض/حدیث: 6035]

6036

Sahih Ibn Hibban #6036

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو بِمِصْرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلاءِ الزُّبَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ ، أَنَّ ابْنَ عَائِذٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ الْمِقْدَامَ حَدَّثَهُمْ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَإِلَيَّ ، وَمَنْ تَرَكَ مَالا فَلِوَرَثَتِهِ ، وَأَنَا مَوْلَى مَنْ لا مَوْلَى لَهُ ، أَفُكُّ عَنْهُ ، وَأَرِثُ مَالَهُ ، وَالْخَالُ مَوْلَى مَنْ لا مَوْلَى لَهُ ، يَفُكُّ عَنْهُ ، وَيَرِثُ مَالَهُ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ ، عَنِ الْمِقْدَامِ وَسَمِعَهُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ الأَزْدِيِّ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبٍ ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ ، وَمَتْنَاهُمَا مُتَبَايِنَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص قرض یا بال بچے چھوڑ کر جاتا ہے، تو وہ ہماری طرف آئیں گے، اور جو مال چھوڑ کر جاتا ہے وہ اس کے ورثاء کو ملے گا، جس کا کوئی مولیٰ نہ ہو، میں اس کا مولیٰ ہوں، میں اس کی طرف سے فدیہ بھی ادا کروں گا، اس کے مال کا وارث بھی بنوں گا، اور جس کا کوئی مولیٰ نہ ہو، اس کا ماموں مولیٰ ہوتا ہے، وہ اس کی طرف سے فدیہ بھی ادا کرے گا، اس کے مال کا وارث بھی بنے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت راشد بن سعد نے ابوعامر کے حوالے سے سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت عبدالرحمن کے حوالے سے سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے اور اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں، البتہ ان دونوں روایات کا متن ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الفرائض/حدیث: 6036]

6037

Sahih Ibn Hibban #6037

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ : كَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ أَنْ عَلِّمُوا صِبْيَانَكُمُ الْعَوْمَ ، وَمُقَاتِلَتَكُمُ الرَّمْيَ ، قَالَ : فَكَانُوا يَخْتَلِفُونَ بَيْنَ الأَغْرَاضِ ، قَالَ : فَجَاءَ سَهْمٌ غَرْبٌ فَأَصَابَ غُلامًا ، فَقَتَلَهُ ، وَلَمْ يُعْلَمْ لِلْغُلامِ أَهْلٌ إِلا خَالُهُ ، فَكَتَبَ أَبُو عُبَيْدَةَ إِلَى عُمَرَ : فَذَكَرَ لَهُ شَأْنَ الْغُلامِ إِلَى مَنْ يَدْفَعُ عَقْلَهُ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَى مَنْ لا مَوْلَى لَهُ ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لا وَارِثَ لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ اپنے بچوں کو «العَوْمَ» (تیراکی) اور اپنے جنگجو افراد کو تیر اندازی سکھاؤ۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ لوگ مختلف مقامات پر اس کی مشق کر رہے تھے، اسی دوران ایک اندھا تیر آیا اور ایک لڑکے کو لگا، وہ لڑکا مر گیا۔ اس لڑکے کے رشتے داروں میں سے صرف اس کے ماموں کا پتا چلا۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا اور لڑکے کا معاملہ بیان کیا کہ اس کی دیت کس کے سپرد کی جائے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں خط لکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس کا کوئی مولیٰ نہ ہو، اللہ اور اس کے رسول اس کے مولیٰ ہوتے ہیں اور جس کا کوئی وارث نہ ہو، ماموں اس کا وارث ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الفرائض/حدیث: 6037]

6038

Sahih Ibn Hibban #6038

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّافِقَةِ ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِهَابٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، إِذْ أَقْبَلَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ وَعَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَقُومَانِ وَيَعْثُرَانِ ، فَنَزَلَ إِلَيْهِمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذَهُمَا ، وَقَالَ : إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن بریدہ اپنے والد (بریدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہما (جو بچے تھے) آئے، انہوں نے سرخ قمیصیں پہنی ہوئی تھیں، وہ کبھی گر پڑتے تھے اور کبھی کھڑے ہو جاتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے لیے منبر سے نیچے تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو پکڑ لیا اور ارشاد فرمایا: (ارشادِ باری تعالیٰ ہے) ” ﴿إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ﴾ [سورة التغابن: 15] ”بے شک تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں۔“” [صحیح ابن حبان/كتاب الفرائض/حدیث: 6038]

6039

Sahih Ibn Hibban #6039

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَخْطُبُنَا ، إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ ، وَالْحُسَيْنُ ، عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ ، وَيَعْثُرَانِ ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمِنْبَرِ ، فَحَمَلَهُمَا ، فَوَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : صَدَقَ اللَّهُ : إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ "، نَظَرْتُ إِلَى هَذَيْنِ الصَّبِيَّيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ ، فَلَمْ أَصْبِرْ ، حَتَّى قَطَعْتُ حَدِيثِي فَرَفَعَتْهُمَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے، اسی دوران سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہما (جو بچے تھے) وہ آ گئے، انہوں نے سرخ قمیصیں پہنی ہوئی تھیں، وہ چلتے تھے اور چلتے ہوئے گر پڑتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اتر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اٹھایا اور اپنے آگے بٹھا لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے: ﴿إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ﴾ [سورة التغابن: 15] ”بے شک تمہارے اموال اور تمہاری اولاد آزمائش ہے۔“ میں نے ان دو بچوں کو دیکھا کہ یہ چلتے ہوئے آ رہے ہیں اور گر پڑتے ہیں، تو مجھ سے صبر نہیں ہوا، یہاں تک کہ میں نے اپنی گفتگو منقطع کر کے انہیں اٹھا لیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الفرائض/حدیث: 6039]

6040

Sahih Ibn Hibban #6040

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ ، لَمْ تَكَدْ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ تَكْذِبُ ، وَأَصْدَقُهُمْ رُؤْيَا ، أَصْدَقُهُمْ حَدِيثًا ، وَالرُّؤْيَا جُزْءٌ مِنْ خَمْسَةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ "، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أُحِبُّ الْقَيْدَ فِي النَّوْمِ ، وَأَكْرَهُ الْغُلَّ ، الْقَيْدُ فِي النَّوْمِ : ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب زمانہ (قیامت کے) قریب آ جائے گا، تو مومن کے بہت کم خواب جھوٹے ہوں گے، اہل ایمان میں سب سے زیادہ سچے خواب اس کے ہوں گے جو بات چیت میں سب سے زیادہ سچا ہو گا، خواب نبوت کا پینتالیسواں حصہ ہیں۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں خواب میں بیڑی کو پسند کرتا ہوں اور طوق کو ناپسند کرتا ہوں، خواب میں (دیکھنے سے مراد) دین میں ثابت قدمی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6040]

6041

Sahih Ibn Hibban #6041

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ دَرَّاجًا حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَصْدَقُ الرُّؤْيَا بِالأَسْحَارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سب سے زیادہ سچے خواب وہ ہوتے ہیں جو سحری کے وقت دیکھے جائیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6041]

6042

Sahih Ibn Hibban #6042

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى السِّمْسَارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عُبَيْدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ مُسْلِمُ بْنُ مِشْكَمٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الرُّؤْيَا ثَلاثَةٌ : مِنْهَا تَهْوِيلٌ مِنَ الشَّيْطَانِ لِيُحْزِنَ ابْنَ آدَمَ ، وَمِنْهَا مَا يَهُمُّ بِهِ الرَّجُلُ فِي يَقَظَتِهِ فَرَآهُ فِي مَنَامِهِ ، وَمِنْهَا جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ "، فَقُلْتُ لَهُ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”خواب تین طرح کے ہوتے ہیں؛ ان میں سے کچھ شیطان کی طرف سے پریشان کرنے کے لیے ہوتے ہیں تاکہ وہ انسان کو غمگین کر دیں، ان میں سے کچھ وہ خواب ہوتے ہیں جو آدمی بیداری کے عالم میں سوچتا رہتا ہے تو وہی چیز نیند کے دوران دیکھ لیتا ہے، اور ان میں سے کچھ نبوت کا 46 واں حصہ ہوتے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: کیا آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6042]

6043

Sahih Ibn Hibban #6043

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ مِنَ الرَّجُلِ الصَّالِحِ ، جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”نیک آدمی کو نظر آنے والے سچے خواب نبوت کا 46 واں حصہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6043]

6044

Sahih Ibn Hibban #6044

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمْدَانَ بْنِ مُوسَى التُّسْتَرِيُّ بِعَبْدَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْمَسْرُوقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الرُّؤْيَا جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خواب نبوت کا 70 واں حصہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6044]

6045

Sahih Ibn Hibban #6045

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ مُقَاتِلٍ الشَّيْخُ الصَّالِحُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ مَوْلَى آلِ عَبَّاسٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَ : إِنَّهُلَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ ، يَرَاهَا الْمُؤْمِنُ أَوْ تُرَى لَهُ ، أَلا وَإِنِّي نَهَيْتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا ، أَوْ سَاجِدًا ، أَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جس بیماری کے دوران وصال ہوا اس کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ہٹایا، لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صفیں بنا کر (نماز پڑھ رہے تھے)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نبوت کے مبشرات میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں، جنہیں کوئی مومن دیکھتا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جو اسے دکھائے جاتے ہیں۔ خبردار! مجھے اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ میں رکوع یا سجدے کے عالم میں قرأت کروں، جہاں تک رکوع کا تعلق ہے، تو تم اس میں پروردگار کی عظمت کا اعتراف کرو، جہاں تک سجدے کا تعلق ہے، تم اس میں اہتمام کے ساتھ دعا مانگو، وہ اس لائق ہو گی کہ اسے تمہارے لیے مستجاب کیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6045]

6046

Sahih Ibn Hibban #6046

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتْرَ ، وَرَأْسُهُ مَعْصُوبٌ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ، ثَلاثًا إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلا الرُّؤْيَا يَرَاهَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ ، أَوْ تُرَى لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ہٹایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی، یہ اس بیماری کے دوران کی بات ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے؟“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی (پھر فرمایا) ”نبوت کے مبشرات میں سے اب صرف خواب باقی رہ گئے ہیں، جنہیں کوئی نیک شخص دیکھتا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جو اسے دکھائے جاتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6046]

6047

Sahih Ibn Hibban #6047

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ ، أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ذَهَبَتِ النُّبُوَّةُ ، وَبَقِيَتِ الْمُبَشِّرَاتُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام کرز کعبیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نبوت رخصت ہو گئی اور مبشرات (یعنی سچے خواب) باقی رہ گئے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6047]

6048

Sahih Ibn Hibban #6048

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ زُفَرَ بْنِ صَعْصَعَةَ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلاةِ الْغَدَاةِ يَقُولُ : هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا ؟ " وَيَقُولُ : " إِنَّهُلَيْسَ يَبْقَى بَعْدِي مِنَ النُّبُوَّةِ إِلا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھ کر فارغ ہوتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرماتے: ”کیا تم میں سے کسی نے گزشتہ رات (کوئی نمایاں، یا مختلف) خواب دیکھا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرماتے تھے: ”میرے بعد نبوت میں سے صرف سچے خواب باقی رہ جائیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6048]

6049

Sahih Ibn Hibban #6049

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ وَكِيعَ بْنَ عُدُسٍ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمَّهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : رُؤْيَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ أَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ، وَهِيَ عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ يُحَدِّثْ ، فَإِذَا حَدَّثَ بِهَا وَقَعَتْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا وکیع بن حُدُس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے چچا رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”مسلمان کا خواب نبوت کا چالیسواں جزء ہے اور یہ اپنی اسی حالت پر برقرار رہتا ہے جب تک آدمی اسے بیان نہیں کرتا، جب آدمی اسے بیان کر دے تو یہ واقع ہو جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6049]

6050

Sahih Ibn Hibban #6050

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ، وَالرُّؤْيَا عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ يُعَبَّرْ عَلَيْهِ ، فَإِذَا عُبِّرَتْ وَقَعَتْ " ، قَالَ : وَأَحْسِبُهُ قَالَ : " لا يَقُصُّهَا إِلا عَلَى وَادٍّ أَوْ ذِي رَأْيٍ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الصَّحِيحُ بِالْحَاءِ كَمَا قَالَهُ هُشَيْمٌ ، وَشُعْبَةُ وَاهِمٌ فِي قَوْلِهِ : عُدُسٍ فَتَبِعَهُ النَّاسُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابورزین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے اور خواب اپنی حالت پر برقرار رہتا ہے جب تک اس کی تعبیر بیان نہ کی جائے، جب تعبیر بیان کر دی جائے (تو وہ اس تعبیر کے مطابق) واقع ہو جاتا ہے۔“ (راوی کہتے ہیں:) میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ”آدمی کو وہ خواب صرف کسی ایسے شخص کو بیان کرنا چاہیے جو اس کا پسندیدہ ہو یا سمجھ دار (صاحب علم) ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) صحیح یہ ہے کہ یہ لفظ «ح» کے ساتھ ہے، جیسا کہ حسین نے یہ بات بیان کی ہے، شعبہ نے لفظ «عدس» نقل کرنے میں وہم کیا اور لوگوں نے اس بارے میں ان کی پیروی کر لی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6050]

6051

Sahih Ibn Hibban #6051

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ ، فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے حق دیکھا (یعنی مجھے ہی دیکھا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6051]

6052

Sahih Ibn Hibban #6052

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ ، فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ ، إِنَّ الشَّيْطَانَ لا يَتَشَبَّهُ بِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے حق دیکھا (یعنی مجھے ہی خواب میں دیکھا) کیونکہ شیطان میری شکل اختیار نہیں کر سکتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6052]

6053

Sahih Ibn Hibban #6053

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ ، فَكَأَنَّمَا رَآنِي فِي الْيَقَظَةِ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لا يَتَشَبَّهُ بِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عون بن ابوجحیفہ اپنے والد (سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے گویا مجھے بیداری کے عالم میں دیکھا کیونکہ شیطان میری شکل اختیار نہیں کر سکتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6053]

6054

Sahih Ibn Hibban #6054

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ : قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا ، فَرُبَّمَا رَأَى الرَّجُلُ الرُّؤْيَا ، فَسَأَلَ عَنْهُ إِذَا لَمْ يَكُنْ يَعْرِفُهُ ، فَإِذَا أُثْنِيَ عَلَيْهِ مَعْرُوفًا كَانَ أَعْجَبَ لِرُؤْيَاهُ إِلَيْهِ ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،رَأَيْتُ كَأَنِّيَ أَتَيْتُ ، فَأُخْرِجْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ ، فَأُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ ، فَسَمِعْتُ وَجْبَةً انْتَحَتْ لَهَا الْجَنَّةُ ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا فُلانٌ ، وَفُلانٌ ، وَفُلانٌ ، فَسَمَّتِ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً قَبْلَ ذَلِكَ ، فَجِيءَ بِهِمْ عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ طُلْسٌ ، تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُمْ ، فَقِيلَ : اذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى نَهَرِ الْبَيْذَخِ ، قَالَ : فَغُمِسُوا فِيهِ ، قَالَ : فَخَرَجُوا وَوُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، فَأُتُوا بِصَحْفَةٍ مِنْ ذَهَبٍ فِيهَا بُسْرَةٌ ، فَأَكَلُوا مِنْ بُسْرِهِ مَا شَاءُوا ، مَا يُقَلِّبُونَهَا مِنْ وَجْهٍ إِلا أَكَلُوا مِنَ الْفَاكِهَةِ مَا أَرَادُوا ، وَأَكَلْتُ مَعَهُمْ ، فَجَاءَ الْبَشِيرُ مِنْ تِلْكَ السَّرِيَّةِ ، فَقَالَ : كَانَ مِنْ أَمْرِنَا كَذَا وَكَذَا ، فَأُصِيبَ فُلانٌ ، وَفُلانٌ ، وَفُلانٌ ، حَتَّى عَدَّ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلا ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَرْأَةِ ، فَقَالَ : قُصِّي رُؤْيَاكِ " فَقَصَّتْهَا وَجَعَلَتْ تَقُولُ : جِيءَ بِفُلانٍ ، وَفُلانٍ كَمَا قَالَ الرَّجُلُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب پسند تھے، بعض اوقات کوئی شخص کبھی خواب دیکھتا، تو اگر اس کی سمجھ نہیں آتی، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کرتا تھا اور جب اس کی اس حوالے سے تعریف کی جاتی، تو اسے اپنا وہ خواب پسند آتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے خواب میں دیکھا کہ میں آئی پھر مجھے مدینے سے نکال کر جنت میں داخل کر دیا گیا، میں نے آہٹ سنی میں نے اس بات کا جائزہ لیا، تو وہاں فلاں فلاں اور فلاں صاحب موجود تھے، اس نے بارہ آدمیوں کے نام گنوائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے ایک مہم روانہ کر چکے تھے، (اس خاتون نے بتایا) پھر ان لوگوں کو لایا گیا ان لوگوں نے ریشمی کپڑے پہنے ہوئے تھے اور ان کی رگوں سے خون بہہ رہا تھا، تو یہ بات کہی گئی: «اذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى نَهْرِ بَيْذَخَ» ”ان لوگوں کو نہر بیذخ کی طرف لے جاؤ“ پھر انہیں اس میں ڈبکی دلائی گئی جب وہ لوگ نکلے، تو ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی مانند تھے، پھر سونے کا بنا ہوا ایک طشت لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں، انہوں نے اس میں سے جتنا چاہا کھایا، وہ اس کا رخ جس طرف بھی موڑتے وہاں سے اپنی پسند کے مطابق پھل کھا لیتے، ان کے ساتھ میں نے بھی اسے کھایا۔ (راوی بیان کرتے ہیں) اسی دوران اس مہم سے سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور انہوں نے بتایا: ہماری صورت حال یوں ہے کہ فلاں فلاں اور فلاں صاحب شہید ہو گئے ہیں۔ سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ نے ان بارہ آدمیوں کے نام گنوائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو بلوایا اور فرمایا: ”تم اپنا خواب بیان کرو۔“ اس خاتون نے اپنا خواب بیان کرنا شروع کیا، اس نے کہا: فلاں صاحب اور فلاں صاحب آئے، تو یہ وہی نام تھے جو ان صاحب نے بیان کیے تھے (جو شہید ہوئے تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6054]

6055

Sahih Ibn Hibban #6055

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ ، أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الرُّؤْيَا جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ، وَالرُّؤْيَا مُعَلَّقَةٌ بِرِجْلِ طَيْرٍ مَا لَمْ يُحَدِّثْ بِهَا صَاحِبُهَا ، فَإِذَا حَدَّثَ بِهَا وَقَعَتْ ، فَلا تُحَدِّثْ بِهَا إِلا عَالِمًا ، أَوْ نَاصِحًا ، أَوْ حَبِيبًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”خواب نبوت کا سترواں جزء ہے اور خواب اس وقت تک معلق رہتا ہے، جب تک اسے دیکھنے والا شخص بیان نہیں کرتا، جب وہ بیان کر دے پھر وہ واقع ہو جاتا ہے؛ تم اسے صرف کسی عالم کے سامنے یا کسی خیرخواہ کے سامنے یا محبوب (یعنی پسندیدہ شخص) کے سامنے بیان کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6055]

6056

Sahih Ibn Hibban #6056

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَهُ فَقَالَ : إِنِّي حَلُمْتُ أَنَّ رَأْسِيَ قُطِعَ فَأَنَا أَتْبَعُهُ ، فَزَجَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ : لا تُخْبِرْ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِكَ فِي الْمَنَامِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: میں نے خواب میں دیکھا کہ میرا سر کاٹ دیا گیا اور میں اس کے پیچھے جا رہا ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈانٹ دیا اور ارشاد فرمایا: ”شیطان نے خواب میں تمہارے ساتھ جو کھیل کھیلا ہے تم اسے بیان نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6056]

6057

Sahih Ibn Hibban #6057

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوْزَاءِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الَّذِي يُرِي عَيْنَيْهِ فِي الْمَنَامِ مَا لَمْ يَرَ ، يُكَلَّفُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ شَعِيرَتَيْنِ ، وَالَّذِي يَسْتَمِعُ حَدِيثَ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ يُصَبُّ فِي أُذُنِهِ الآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اپنی آنکھوں کو خواب میں وہ چیز دکھائے جو انہوں نے نہیں دیکھی (یعنی جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے) اسے قیامت کے دن اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ جو کے دو دانوں کے درمیان گرہ لگائے اور جو شخص کسی کی باتیں چھپ کر سنے جبکہ وہ لوگ اس بات کو ناپسند کرتے ہوں، تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ ڈالا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6057]