Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 53 · Chapter 2

Book of Crimes

Hadith 5984–6023

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

5984

Sahih Ibn Hibban #5984

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لا تَقْتُلُوا أَوْلادَكُمْ سِرًّا ، فَإِنَّ قَتْلَ الْغَيْلِ يُدْرِكُ الْفَارِسَ ، فَيُدَعْثِرُهُ عَنْ فَرَسِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اپنی اولاد کو پوشیدہ طور پر قتل نہ کرو کیونکہ غیل کا اثر شہسوار تک پہنچتا ہے اور اسے اس کے گھوڑے سے گرا دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5984]

5985

Sahih Ibn Hibban #5985

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الصُّنَابِحِ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، وَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الأُمَمَ ، فَلا تَقْتَتِلُنَّ بَعْدِي ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الصُّنَابِحِ مِنَ الصَّحَابَةِ ، وَالصُّنَابِحِيُّ مِنَ التَّابِعِينَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا صنابح رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں حوض (کوثر) پر تمہارا پیش رو ہوں گا اور میں دوسری امتوں کے سامنے تمہاری کثرت پر فخر کروں گا، تو تم لوگ میرے بعد ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا (یا آپس میں جھگڑا نہ کرنا)۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا صنابح رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہیں اور صنابحی تابعین میں سے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5985]

5986

Sahih Ibn Hibban #5986

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ ، فَحَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَجَأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ ، يَهْوِي فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِسُمٍّ ، فَسُمُّهُ فِي يَدِهِ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا ، وَمَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ مُتَعَمِّدًا ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ يَتَرَدَّى فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص لوہے کے ذریعے (یعنی دھار دار چیز کے ذریعے) خودکشی کر لے گا، تو اس کی وہ دھار دار چیز اس کے ہاتھ میں ہو گی، جسے وہ اپنے پیٹ میں گھونپتا رہے گا اور وہ ہمیشہ جہنم میں گرتا رہے گا، جو شخص زہر کے ذریعے خودکشی کر لے گا اس کا زہر اس کے ہاتھ میں ہو گا، جسے وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ چاٹتا رہے گا، جو شخص پہاڑ سے جان بوجھ کر خود کو گرائے گا اور خودکشی کر لے گا، وہ جہنم میں ہمیشہ گرتا رہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5986]

5987

Sahih Ibn Hibban #5987

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ خَنَقَ نَفْسَهُ فِي الدُّنْيَا فَقَتَلَهَا خَنَقَ نَفْسَهُ فِي النَّارِ ، وَمَنْ طَعَنَ نَفْسَهُ طَعَنَهَا فِي النَّارِ ، وَمَنِ اقْتَحَمَ فَقَتَلَ نَفْسَهُ اقْتَحَمَ فِي النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص دنیا میں اپنا گلا گھونٹ کر خودکشی کرے گا وہ جہنم میں بھی اپنا گلا گھونٹتا رہے گا، جو شخص اپنے آپ کو نیزہ مارے گا وہ جہنم میں بھی اپنے آپ کو نیزہ مارتا رہے گا، جو شخص آگ میں کود کر خودکشی کرے گا وہ جہنم میں بھی آگ میں کودتا رہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5987]

5988

Sahih Ibn Hibban #5988

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الزَّمِنُ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا جُنْدُبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ فَمَا نَسِينَا مِنْهُ ، حَدَّثَنَا وَلا نَخْشَى أَنْ يَكُونَ كَذَبَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَرَجَ بِرَجُلٍ خُرَّاجٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، فَأَخَذَ سِكِّينًا فَوْجَأَ بِهَا ، فَمَا رَقَأَ الدَّمُ عَنْهُ حَتَّى مَاتَ ، فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : عَبْدِي بَادَرَنِي بِنَفْسِهِ ، حَرَّمْتُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بصری بیان کرتے ہیں: سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس مسجد میں حدیث بیان کی، ہمیں اس حدیث کا کوئی حصہ بھولا نہیں ہے، انہوں نے ہمیں حدیث بیان کی اور ہمیں یہ اندیشہ نہیں ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے غلط بات بیان کی ہو گی، انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم سے پہلے کے زمانے میں کسی شخص کو پھوڑا نکل آیا، اس نے (تکلیف کی شدت کی وجہ سے) چھری لی اور اسے کاٹ دیا، اس کا خون نہیں رکا، یہاں تک کہ وہ شخص مر گیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے اپنی ذات کے بارے میں مجھ سے آگے نکلنے کی کوشش کی، تو میں اس کے لیے جنت کو حرام قرار دیتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5988]

5989

Sahih Ibn Hibban #5989

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ : إِنَّ رَجُلا مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ خَرَجَتْ بِهِ قُرْحَةٌ ، فَلَمَّا آذَتْهُ انْتَزَعَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ ، فَنَكَأَهَا ، فَلَمْ يَرْقَأْ دَمُهُ حَتَّى مَاتَ ، فَقَالَ رَبُّكُمْ : قَدْ حَرَّمْتُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ "، ثُمَّ مَدَّ بِيَدِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : إِي وَاللَّهِ ، لَقَدْ حَدَّثَنِي بِهَذَا جُنْدُبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے زمانے میں ایک شخص کو پھوڑا نکل آیا، جب اس کی تکلیف بڑھ گئی تو اس شخص نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر لیا اور اسے چیر دیا، اس کا خون نہیں رکا، یہاں تک کہ وہ شخص مر گیا، تو تمہارے پروردگار نے فرمایا: میں اس کے لیے جنت کو حرام قرار دیتا ہوں۔“ اس کے بعد حسن بصری رحمہ اللہ نے اپنا ہاتھ مسجد کی طرف پھیلاتے ہوئے کہا: اللہ کی قسم! یہ حدیث سیدنا جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس مسجد میں بیان کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5989]

5990

Sahih Ibn Hibban #5990

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ : يَا لَلأَنْصَارِ ، وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ : يَا لَلْمُهَاجِرِينَ ، قَالَ : فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاكَ ، فَقَالَ : مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ ؟ ! " فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَسَعَ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ : " دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ " ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبَيِّ ابْنُ سَلُولٍ : قَدْ فَعَلُوهَا ، لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ ، فَقَالَ عُمَرُ : دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ ، فَقَالَ : " دَعْهُ ، لا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ " يُرِيدُ أَنَّهُ لا قِصَاصَ فِي هَذَا ، وَكَذَلِكَ قَوْلُهُمْ : فَإِنَّهَا ذَمِيمَةٌ ، وَمَا يُشْبِهُهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: مہاجرین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو مارا، تو انصاری نے کہا: اے انصار! (میری مدد کے لیے آ جاؤ) مہاجر نے کہا: اے مہاجرین! (میری مدد کے لیے آ جاؤ)۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آواز سنی تو فرمایا: ”یہ کیا زمانہ جاہلیت کے بلانے کا طریقہ ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مہاجرین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو مارا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، یہ بدبودار چیز ہے۔“ اس پر (منافقین کے سردار) عبداللہ بن ابی نے کہا: ان لوگوں نے ایسا کیا ہے، ﴿لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ﴾ [سورة المنافقون: 8] جب ہم مدینہ جائیں گے، تو وہاں سے عزت دار لوگ ذلیل لوگوں کو باہر نکال دیں گے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو! ورنہ لوگ یہ کہیں گے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو قتل کروا دیتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ”یہ بدبودار چیز ہے“ اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ اس طرح کی صورت حال میں قصاص نہیں ہوتا، اسی طرح ان لوگوں کا یہ کہنا ہے: یہ قابلِ مذمت چیز ہے، اس طرح کے دیگر الفاظ (کا یہی مفہوم ہوگا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5990]

5991

Sahih Ibn Hibban #5991

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَابُورَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّيَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ ، فَقَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی نے ایک ہار کی وجہ سے ایک لڑکی کو قتل کر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (یہودی کو) قتل کروا دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5991]

5992

Sahih Ibn Hibban #5992

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّاجِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا ، قَتَلَهَا بِحَجَرٍ ، قَالَ : فَجِيءَ بِهَا ، وَبِهَا رَمَقٌ ، قَالَ لَهَا : أَقَتَلَكِ فُلانٌ ؟ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لا ، ثُمَّ قَالَ لَهَا الثَّانِيَةَ ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لا ، ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّالِثَةَ ، فَقَالَتْ : نَعَمْ ، وَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا ،فَقَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ حَجَرَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو ہار کی وجہ سے قتل کر دیا، اس نے پتھر کے ذریعے اسے قتل کیا۔ اس لڑکی کو لایا گیا اور اس میں تھوڑی سی زندگی موجود تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی سے دریافت کیا: ”تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے؟“ اس نے اپنے سر کے ذریعے اشارہ کر کے جواب دیا: جی نہیں، پھر اس سے دوسری مرتبہ دریافت کیا، اس نے اپنے سر کے ذریعے اشارہ کیا: جی نہیں، پھر اس سے تیسرے شخص کے بارے میں دریافت کیا، تو اس نے اپنے سر کے ذریعے اشارہ کر کے جواب دیا: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (یہودی قاتل) کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھوا کر اسے قتل کروا دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5992]

5993

Sahih Ibn Hibban #5993

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَ رَأْسُهَا قَدْ رُضَّ بَيْنَ حَجَرَيْنِ ، فَقَالُوا لَهَا : مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكِ ؟ فُلانٌ وَفُلانٌ ؟ حَتَّى ذُكِرَ رَجُلٌ يَهُودِيٌّ ، فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا ، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَأَقَرَّ ،فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک لڑکی ایسی حالت میں پائی گئی کہ اس کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچلا گیا تھا، لوگوں نے اس لڑکی سے دریافت کیا: ”تمہارے ساتھ ایسا کس نے کیا؟ کیا فلاں نے؟ کیا فلاں نے؟“ یہاں تک کہ جب ایک یہودی شخص کا ذکر کیا گیا تو اس نے اپنے سر کے ذریعے اشارہ کر کے کہا (کہ اس نے کیا ہے)، اس یہودی کو پکڑ لیا گیا اور اس نے اقرار کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس کا سر پتھر کے ذریعے کچل دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5993]

5994

Sahih Ibn Hibban #5994

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هُنَيِّ بْنِ نُوَيْرَةَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّأَعَفَّ النَّاسِ قِتْلَةً أَهْلُ الإِيمَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قتل کرنے میں سب سے زیادہ بچنے والے اہل ایمان ہیں (یعنی وہ مقتول کو اذیت پہنچانے سے بچتے ہیں)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5994]

5995

Sahih Ibn Hibban #5995

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِيَادُ بْنُ لَقِيطٍ ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ قَالَ أَبِي : مَنْ هَذَا ؟ قُلْتُ : لا أَدْرِي ، قَالَ : هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاقْشَعْرَرْتُ حِينَ قَالَ ذَلِكَ ، وَكُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يُشْبِهُ النَّاسَ ، فَإِذَا لَهُ وَفْرَةٌ بِهَا رَدْعٌ مِنْ حِنَّاءٍ ، وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ أَبِي ، ثُمَّ أَخَذَ يُحَدِّثُنَا سَاعَةً ، قَالَ : ابْنُكَ هَذَا ؟ " قَالَ : إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، أَشْهَدُ بِهِ ، قَالَ : " أَمَا إِنَّ ابْنُكَ هَذَا لا يَجْنِي عَلَيْكَ ، وَلا تَجْنِي عَلَيْهِ " ، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى السِّلْعَةِ الَّتِي بَيْنَ كَتِفَيْهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كَأَطَبِّ الرِّجَالِ ، أَلا أُعَالِجُهَا ؟ قَالَ : " طَبِيبُهَا الَّذِي خَلَقَهَا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : اسْمُ أَبِي رِمْثَةَ : رِفَاعَةُ بْنُ يَثْرِبِيٍّ التَّيْمِيُّ تَيْمُ الرَّبَابِ ، وَمَنْ قَالَ : إِنَّ أَبَا رِمْثَةَ هُوَ الْخَشْخَاشُ الْعَنْبَرِيُّ فَقَدْ وَهِمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جب میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو میرے والد نے دریافت کیا: یہ کون ہے؟ میں نے جواب دیا: مجھے نہیں معلوم، میرے والد نے بتایا: یہ اللہ کے رسول ہیں، جب انہوں نے یہ بات کہی، تو مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی، میرا یہ خیال تھا کہ اللہ کے رسول لوگوں کی طرح شکل و صورت کے نہیں ہوں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لمبے بال تھے جن میں کچھ مہندی لگی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز رنگ کی دو چادریں اوڑھی ہوئی تھیں۔ میرے والد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ کچھ بات چیت کرتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”یہ تمہارا بیٹا ہے؟“ میرے والد نے جواب دیا: جی ہاں، رب کعبہ کی قسم! میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا یہ بیٹا تمہارے کیے ہوئے جرم کی سزا نہیں بھگتے گا اور تم اس کے کیے ہوئے جرم کی سزا نہیں بھگتو گے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [سورة الإسراء: 15] ”کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔“ پھر میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو کندھوں کے درمیان تھوڑی سی جگہ ابھری ہوئی دیکھی تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حکمت کا کام بھی کرتا ہوں کیا میں اس کا علاج نہ کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا علاج وہ ذات کرے گی، جس نے اسے پیدا کیا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ کا نام رفاعہ بن یثربی تیمی ہے، یہ تیم رباب سے تعلق رکھتے ہیں، جس شخص نے یہ کہا ہے کہ سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ کا نام خشخاش عنبری ہے، اسے غلط فہمی ہوئی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5995]

5996

Sahih Ibn Hibban #5996

وَلا تُصَلُّوا بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَلا تُصَلُّوا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ خزاعہ قبیلے کے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیف تھے جبکہ بنو کنانہ کا ایک گروہ بنو بکر، ابوسفیان (یعنی مشرکین مکہ) کے حلیف تھے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر ان کے درمیان معاہدہ ہو گیا، پھر بنو بکر نے اسی مدت کے درمیان خزاعہ قبیلے کے لوگوں پر حملہ کر دیا، تو ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدد کے لیے پیغام بھجوایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی مدد کرنے کے لیے رمضان کے مہینے میں روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قدید کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ ختم کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں کو سفر کے دوران روزہ رکھ بھی لینا چاہیے اور ترک بھی کر دینا چاہیے، جو شخص روزہ رکھ لے گا اس کا روزہ درست ہو گا اور جو شخص نہیں رکھے گا اس پر قضا کرنا لازم ہو گی۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے مکہ کو فتح کر دیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پشت خانہ کعبہ کے ساتھ لگائی اور ارشاد فرمایا: ”اپنے ہتھیاروں کو روک لو، البتہ خزاعہ قبیلے کے لوگ بنو بکر (سے بدلہ لے سکتے ہیں)۔“ یہاں تک کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مزدلفہ میں ایک شخص قتل ہو گیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ حرم ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت قابل احترام ہے، مجھ سے پہلے یہ کسی کے لیے حلال قرار نہیں دیا گیا اور میرے بعد بھی کسی کے لیے حلال نہیں ہو گا اور میرے لیے بھی تھوڑی سی دیر کے لیے اسے حلال قرار دیا گیا ہے، کسی بھی مسلمان کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اس میں ہتھیار نکال کر چلے، یہاں کے کانٹے کو کاٹا نہیں جائے گا، یہاں کے درخت کو کاٹا نہیں جائے گا، یہاں کے شکار کو بھگایا نہیں جائے گا۔“ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اذخر (کی اجازت دے دیجیے) کیونکہ وہ ہمارے گھروں اور قبرستان میں استعمال ہوتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اذخر کا حکم مختلف ہے، اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ نافرمان تین لوگ ہیں: وہ شخص جو اللہ کے حرم میں کسی کو قتل کرے یا جو شخص اپنے قاتل کے علاوہ (یعنی قصاص کے بدلے کے علاوہ) کسی کو قتل کرے یا جو شخص زمانہ جاہلیت کی دشمنی کی بنیاد پر کسی کو قتل کرے۔“ ایک صاحب کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے بنو فلاں کی کنیز کے ساتھ صحبت کی تھی، تو اس کے ہاں بچہ ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بچے کے بارے میں حکم دیجیے کہ وہ مجھے دیا جائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ تمہاری اولاد (شمار نہیں ہو گا) کیونکہ اسلام میں یہ بات جائز نہیں ہے، جس شخص کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہو وہ قسم اٹھانے کا زیادہ حق دار ہے ماسوائے اس صورت کے کہ ثبوت کے ذریعے ثابت ہو جائے، بچہ صاحبِ فراش کا ہوتا ہے اور زنا کرنے والے کے منہ میں پتھر ہوں گے۔“ ایک صاحب نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اثلب سے کیا مراد ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پتھر، جو شخص کسی ایسی عورت کے ساتھ زنا کا مرتکب ہوتا ہے جس کا وہ مالک نہ ہو یا کسی دوسری قوم کی عورت کے ساتھ زنا کا مرتکب ہوتا ہے اور وہ عورت بچے کو جنم دیتی ہے، تو وہ اس شخص کا بچہ شمار نہیں ہو گا، نہ وہ اس کا وارث بنے گا اور نہ ہی اسے اس کا وارث بنایا جائے گا۔ اہل ایمان اپنے علاوہ سب لوگوں کے لیے ایک ہاتھ کی مانند ہیں، ان کی جانیں برابر کی حیثیت رکھتی ہیں، ان کے آگے کا کوئی فرد اگر پناہ دے دیتا ہے تو سب سے پیچھے والا بھی اسے پورا کرے گا، کسی مومن کو کسی کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا اور کسی ذمی کو اس کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے دوران (قتل نہیں کیا جائے گا)، دو مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے، کسی عورت کے ساتھ اس کی پھوپھی پر یا اس کی خالہ پر نکاح نہیں کیا جائے گا اور کوئی عورت محرم کے بغیر تین دن سے زیادہ کا سفر نہیں کرے گی اور تم لوگ فجر کے بعد اس وقت تک (کوئی نفل نماز) ادا نہیں کرو گے جب تک سورج نکل نہیں آتا اور عصر کے بعد اس وقت تک ادا نہیں کرو گے جب تک سورج غروب نہیں ہو جاتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5996]

5997

Sahih Ibn Hibban #5997

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْعُسْرَةِ ، وَكَانَتْ أَوْثَقَ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي ، وَكَانَ لِي أَجِيرٌ ، فَقَاتَلَ إِنْسَانًا ، فَعَضَّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ ، فَانْتَزَعَ أُصْبُعَهُ ، فَسَقَطتْ ثَنِيَّتَاهُ ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ ، قَالَ : وَحَسِبْتُ أَنَّ صَفْوَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ فَتَقْضِمُهَا كَقَضْمِ الْفَحْلِ ؟ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ تبوک میں شرکت کی ہے، میرے نزدیک یہ میرا سب سے بہترین عمل ہے۔ میرا ایک ملازم تھا جس نے ایک شخص کے ساتھ لڑائی کی، ان دونوں میں سے کسی ایک نے دوسرے کے ہاتھ پر کاٹ لیا، اس نے اپنی انگلی کھینچی تو کاٹنے والے کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دانتوں کو رائیگاں قرار دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے صفوان نامی راوی نے یہ الفاظ بھی نقل کیے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں رہنے دیتا تاکہ تم اسے یوں چبا لیتے جس طرح اونٹ چباتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5997]

5998

Sahih Ibn Hibban #5998

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ رَجُلا قَاتَلَ رَجُلا فَعَضَّ يَدَهُ ، فَنَدَرَتْ ثَنِيَّتُهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَعَضُّ أَحَدُكُمْ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ ؟ ! وَأَبْطَلَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کے ساتھ جھگڑا کیا اور اس کے ہاتھ پر کاٹ لیا (دوسرے نے ہاتھ کو کھینچا) تو اس کے سامنے کے دانت گر گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے ایک شخص یوں کاٹتا ہے، جس طرح اونٹ کاٹتا ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کے دانتوں کے ضائع ہونے کو رائیگاں قرار دیا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5998]

5999

Sahih Ibn Hibban #5999

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ رَجُلا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ ، فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا ، فَنَزَعَهَا مِنْ فِيهِ ، فَوَقَعَتْ ثَنِيَّتَاهُ ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ ؟ ! لا دِيَةَ لَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کے ہاتھ پر کاٹ لیا، انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے بتایا: اس طرح، دوسرے شخص نے اس کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا، تو اس کے سامنے کے دانت گر گئے، تو وہ لوگ اپنا مقدمہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص اپنے بھائی کے ہاتھ پر یوں کاٹتا ہے، جس طرح اونٹ کاٹتا ہے؟ تمہیں دیت نہیں ملے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5999]

6000

Sahih Ibn Hibban #6000

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ صَفْوَانِ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ قَدْ عَضَّ يَدَ رَجُلٍ ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْهُ ، فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتَا الَّذِي عَضَّهُ ، قَالَ : فَأَبْطَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ : أَرَدْتَ أَنْ تَقْضِمَهُ كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ ؟ ! """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صفوان بن یعلیٰ اپنے والد (رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے کسی دوسرے شخص کے ہاتھ پر کاٹا، دوسرے شخص نے اپنا ہاتھ کھینچا، تو کاٹنے والے شخص کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رائیگاں قرار دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم یہ چاہتے تھے تم اسے یوں چبا لو جس طرح اونٹ چباتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 6000]

6001

Sahih Ibn Hibban #6001

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَجُلا اطَّلَعَ مِنْ جُحْرٍ فِي بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ مِدْرًى يَحُكُّ بِهَا رَأْسَهُ ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُنِي لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ ، إِنَّمَا جُعِلَ الإِذْنُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کی جھری سے جھانک کر دیکھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک میں اس وقت ایک کنگھی تھی جس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر مبارک کو کھجا رہے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو ارشاد فرمایا: ”اگر مجھے پتا ہوتا کہ تم مجھے دیکھ رہے ہو، تو میں اسے تمہاری آنکھ میں چبھو دیتا، اجازت لینے کا حکم اس لیے دیا گیا ہے تاکہ (گھر والوں پر) نگاہ نہ پڑے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 6001]

6002

Sahih Ibn Hibban #6002

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِمِصْرَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَوْ أَنَّ إِنْسَانًا اطَّلَعَ عَلَيْكَ فَحَذَفْتَ عَيْنَهُ فَفَقَأْتَهَا ، لَمَا كَانَ عَلَيْكَ جُنَاحٌ "، أَخْبَرَنَاهُ إِسْمَاعِيلُ فِي عَقِبِهِ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اگر کوئی شخص تمہارے گھر میں جھانکنے کی کوشش کرتا ہے اور تم اس کی آنکھ پھوڑ دیتے ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 6002]

6003

Sahih Ibn Hibban #6003

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوِ اطَّلَعَ أَحَدٌ فِي بَيْتِكَ ، وَلَمْ تَأْذَنْ لَهُ ، فَخَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ ، فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ ، مَا كَانَ عَلَيْكَ جُنَاحٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر کوئی شخص تمہارے گھر میں جھانکنے کی کوشش کرتا ہے، حالانکہ تم نے اسے اجازت نہیں دی اور تم اس کی آنکھ میں کنکری مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دیتے ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 6003]

6004

Sahih Ibn Hibban #6004

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنِ اطَّلَعَ إِلَى دَارِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَفَقَؤُوا عَيْنَهُ ، فَلا دِيَةَ وَلا قِصَاصَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کسی دوسرے کی اجازت کے بغیر اس کے گھر میں جھانکنے کی کوشش کرتا ہے اور وہ اس کی آنکھ پھوڑ دیتا ہے، تو کوئی دیت اور کوئی قصاص نہیں ہوگا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 6004]

6005

Sahih Ibn Hibban #6005

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْعَجْمَاءُ جُرْحُهَا جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جانور کا مارنا رائیگاں جائے گا، کنویں میں گرنا رائیگاں جائے گا، معدنیات میں گرنا رائیگاں جائے گا (یعنی ان صورتوں میں مرنے کی صورت میں قصاص یا دیت نہیں ہوں گے) اور خزانے میں خمس کی ادائیگی لازم ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 6005]

6006

Sahih Ibn Hibban #6006

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْعَجْمَاءُ جُرْحُهَا جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ» ”جانور کا مارنا رائیگاں جائے گا،“ «وَالْبِئْرُ جُبَارٌ» ”کنویں میں گرنا رائیگاں جائے گا،“ «وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ» ”معدنیات میں گرنا رائیگاں جائے گا“ «وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ» ”اور خزانے میں خمس کی ادائیگی لازم ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 6006]

6007

Sahih Ibn Hibban #6007

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْعَجْمَاءُ جُرْحُهَا جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جانور کا زخمی کرنا رائیگاں جائے گا، کنویں میں (گر کر مرنا) رائیگاں جائے گا اور خزانے میں خمس کی ادائیگی لازم ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 6007]

6008

Sahih Ibn Hibban #6008

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطًا ، فَأَفْسَدَتْ فِيهِ ،فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الأَرْضِ حَفِظَهَا بِالنَّهَارِ ، وَعَلَى أَهْلِ الْمَوَاشِي حِفْظَهَا بِاللَّيْلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک اونٹنی ایک باغ میں داخل ہوئی اور اس نے وہاں (موجود پیداوار کو) خراب کر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا: ”زمین کے مالکان پر یہ بات لازم ہے کہ وہ دن کے وقت اس کی حفاظت کریں اور مویشیوں کے مالکان پر یہ بات لازم ہے کہ وہ رات کے وقت ان کی حفاظت کریں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 6008]

6009

Sahih Ibn Hibban #6009

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، حَدَّثَاهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ ، وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ أتيا خيبر في حاجة لهما ، فتفرقا ، فقتل عبد الله بن سهل ، فأتى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ ، وَابْنُ عَمِّهِ حُوَيِّصَةُ ، قَالَ : فَتَكَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْكُبْرَ الْكُبْرَ " ، قَالَ : فَتَكَلَّمَا بِأَمْرِ صَاحِبِهِمَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسْتَحِقُّونَ صَاحِبَكُمْ أَوْ قَالَ : قَتِيلَكُمْ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ نَشْهَدْهُ ، كَيْفَ نَحْلِفُ عَلَيْهِ ؟ قَالَ : " فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَوْمٌ كُفَّارٌ ، قَالَ : فَوَدَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِهِ "، قَالَ سَهْلٌ : فَدَخَلْتُ مِرْبَدًا لَهُمْ يَوْمًا ، فَرَكَضَتْنِي نَاقَةٌ مِنْ تِلْكِ الإِبِلِ رَكْضَةً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن ابوحثمہ اور سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن سہل اور سیدنا محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کسی کام کے سلسلے میں خیبر آئے، وہ ایک دوسرے سے جدا ہو گئے، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ قتل ہو گئے، ان کے بھائی عبدالرحمن بن سہل اور ان کے چچازاد حویصہ رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، عبدالرحمن بات شروع کرنے لگے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے بڑے کو موقع دو، پہلے بڑے کو موقع دو،“ پھر ان دونوں نے اپنے ساتھی کے بارے میں گفتگو کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے 50 آدمیوں کی قسم کے ذریعے تم اپنے ساتھی (راوی کو شک ہے یا شاید یہ لفظ ہے) اپنے مقتول (کی دیت) کے مستحق ہو سکتے ہو،“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم وہاں موجود ہی نہیں تھے تو پھر ہم اس پر کیسے حلف اٹھا سکتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یہودیوں کے 50 آدمی قسم اٹھا کر تم سے بری الذمہ ہو جائیں گے،“ ان لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ کافر لوگ ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے انہیں دیت ادا کی۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن میں ان لوگوں کے باڑے میں داخل ہوا، تو ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے ٹانگ مار دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 6009]

6010

Sahih Ibn Hibban #6010

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ يَقْتُلُونَ الْقَاتِلَ بِالْقَتِيلِ ، لا تُقْبَلُ مِنْهُ الدِّيَةُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى إِلَى آخِرِ الآيَةِ : ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ ، يَقُولُ : فَخَفَّفَ عَنْكُمْ مَا كَانَ عَلَى مَنْ قَبْلَكُمْ ، أَيِ الدِّيَةَ لَمْ تَكُنْ تُقْبَلُ ، فَالَّذِي يَقْبَلُ الدِّيَةَ فَذَلِكَ عَفْوٌ ، فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ ، وَيُؤَدِّي إِلَيْهِ الَّذِي عُفِيَ مِنْ أَخِيهِ بِإِحْسَانٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: پہلے زمانے میں لوگ مقتول کے بدلے میں قاتل کو قتل کر دیتے تھے، اس سے دیت وصول نہیں کی جاتی تھی، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿اے ایمان والو! مقتولین کے بارے میں تم پر قصاص لازم قرار دیا گیا ہے﴾ [سورة البقرة: 178] ، یہ آیت کے آخر تک ہے: ﴿یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے﴾ [سورة البقرة: 178] ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: تو اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو اس حوالے سے تخفیف فراہم کی جو تم سے پہلے لوگوں پر لازم تھی، یعنی دیت کی شکل میں تخفیف فراہم کی جو پہلے قبول نہیں کی جاتی تھی، تو جو شخص دیت قبول کر لے گا، تو یہ معاف کرنا ہوگا، بھلائی کی پیروی کرنا ہوگا اور اسے وہ شخص ادا کرے گا جو اسے اس کے بھائی کی طرف سے آسانی کے ساتھ معاف کیا گیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الديات/حدیث: 6010]

6011

Sahih Ibn Hibban #6011

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا وهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا افْتَتَحَ مَكَّةَ قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، صَدَقَ وَعْدَهُ ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ ، وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ ، أَلا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ ، إِلا السِّدَانَةَ ، وَالسِّقَايَةَ ، أَلا إِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ قَتِيلَ السَّوْطِ وَالْعَصَا دِيَةٌ مُغَلَّظَةٌ ، مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلادُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ، صَدَقَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ» ”اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اس نے اپنے وعدے کو سچ کیا، اس نے اپنے بندے کی مدد کی، تنہا اس نے (دشمن کے لشکروں کو پسپا کیا)“ خبردار! سدانہ اور سقایہ کے علاوہ ہر ترجیحی چیز میرے ان دونوں پاؤں کے نیچے ہے، خبردار! وہ مقتول جسے عمد کے ساتھ مشابہت رکھنے والے قتلِ خطا کے طور پر قتل کیا گیا ہو، یہ وہ مقتول ہے جسے سوٹی یا لاٹھی کے ذریعے قتل کیا گیا ہو، اس کی دیت مغلظہ ہو گی، جس میں چالیس ایسی اونٹنیاں ہوں گی جو حاملہ ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الديات/حدیث: 6011]

6012

Sahih Ibn Hibban #6012

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دِيَةُ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ سَوَاءٌ : عَشَرَةٌ مِنَ الإِبِلِ لِكُلِّ إِصْبُعٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں کی دیت برابر ہے اور ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الديات/حدیث: 6012]

6013

Sahih Ibn Hibban #6013

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَسْرُوقَ بْنَ أَوْسٍ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الأَصَابِعُ سَوَاءٌ " ، قُلْتُ : عَشْرٌ عَشْرٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تمام انگلیوں کی دیت برابر ہے۔“ میں نے عرض کی: دس، دس (اونٹ)؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الديات/حدیث: 6013]

6014

Sahih Ibn Hibban #6014

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ نَاصِحٍ الْخَلالُ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الأَسْنَانُ سَوَاءٌ ، وَالأَصْبَاعُ سَوَاءٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمام دانت برابر کی حیثیت رکھتے ہیں، تمام انگلیاں برابر کی حیثیت رکھتی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الديات/حدیث: 6014]

6015

Sahih Ibn Hibban #6015

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الأَصَابِعُ سَوَاءٌ : هَذِهِ وَهَذِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تمام انگلیاں برابر کی حیثیت رکھتی ہیں، یہ اور یہ (برابر شمار ہوں گی)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الديات/حدیث: 6015]

6016

Sahih Ibn Hibban #6016

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : كَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ امْرَأَتَانِ ، فَغَارَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى ، فَرَمَتْهَا بِفِهْرٍ أَوْ عَمُودِ فُسْطَاطٍ ، فَأَسْقَطَتْ ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ ، فَقَالَ وَلِيُّهَا : أَنَدِي مَنْ لا صَاحَ وَلا اسْتَهَلَّ ، وَلا شَرِبَ ، وَلا أَكَلْ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْجَاهِلِيَّةِ " ؟ ! وَجَعَلَهَا عَلَى أَوْلِيَاءِ الْمَرْأَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی دو بیویاں تھیں، وہ آپس میں لڑ پڑیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر مارا یا خیمے کی لکڑی ماری تو دوسری کا حمل ضائع ہو گیا، یہ مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ”ایک غلام (یا کنیز) کی ادائیگی“ کا فیصلہ دیا، تو اس عورت کے نگران نے کہا: کیا میں اس کی دیت ادا کروں گا جو چیخا بھی نہیں، چیخ کر رویا بھی نہیں، اس نے کچھ پیا بھی نہیں اور کچھ کھایا بھی نہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ زمانہ جاہلیت کی طرح کے مسجع کے الفاظ استعمال کر رہا ہے؟“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کی ادائیگی عورت کے اولیاء پر لازم قرار دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الديات/حدیث: 6016]

6017

Sahih Ibn Hibban #6017

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى ، فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا ،فَقَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغُرَّةٍ : عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو مار کر اس کے پیٹ میں موجود بچے کو ضائع کر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (مقدمے) میں ”ایک غلام یا کنیز کی ادائیگی کا فیصلہ دیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الديات/حدیث: 6017]

6018

Sahih Ibn Hibban #6018

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي لِحْيَانَ ضَرَبَتْ أُخْرَى كَانَتْ حَامِلا ، فَأَمْلَصَتْ ،فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِمْلاصِ الْمَرْأَةِ بِغُرَّةٍ : عَبْدٍ أَوِ أَمَةٍ ، قَالَ : فَتُوُفِّيَتِ الْمَرْأَةُ الَّتِي عَلَيْهَا الْعَقْلُ : فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا ، وَأَنَّ مِيرَاثَهَا لِزَوْجِهَا وَابْنِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بنو لحیان سے تعلق رکھنے والی ایک عورت نے دوسری عورت کو مارا جو حاملہ تھی، تو اس کا بچہ ضائع ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کے ضائع ہونے پر تاوان کے طور پر ”ایک غلام یا کنیز“ ادا کرنے کا فیصلہ دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر وہ عورت فوت ہو گئی جس کے ذمے دیت کی ادائیگی لازم ہوئی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا کہ ”اس کی دیت کی ادائیگی اس کے عصبہ رشتے داروں پر لازم ہو گی جبکہ اس کی وراثت اس کے شوہر اور بیٹوں کو ملے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الديات/حدیث: 6018]

6019

Sahih Ibn Hibban #6019

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الأَعْيَنُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَتِ امْرَأَتَانِ ضَرَّتَانِ ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ ، فَمَاتَتِ الْمَرْأَةُ ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْعَاقِلَةِ الدِّيَةَ " ، فَقَالَتْ عَمَّتُهَا : إِنَّهَا قَدْ أَسْقَطَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ غُلامًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُهُ ، فَقَالَ أَبُو الْقَاتِلَةِ : إِنَّهَا كَاذِبَةٌ ، إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا اسْتَهَلَّ ، وَلا شَرِبَ وَلا أَكَلْ ، فَمِثْلُهُ يُطَلُّ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَجْعَ الْجَاهِلِيَّةِ ، غُرَّةٌ "قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : اسْمُ إِحْدَاهُمَا مُلَيْكَةُ ، وَالأُخْرَى أُمُّ غُطَيْفٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ دو عورتیں ایک دوسرے کی سوکن تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو مارا تو دوسری عورت مر گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خاندان پر دیت کی ادائیگی کو لازم قرار دیا، تو اس کی پھوپھی نے یہ کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کا ایسا بچہ ضائع ہوا ہے جس کے بال اگ چکے تھے، تو قتل کرنے والی عورت کے باپ نے کہا: یہ جھوٹ بول رہی ہے، اللہ کی قسم! وہ بچہ نہ تو چیخ کر رویا، نہ اس نے کچھ پیا، نہ کچھ کھایا، اس طرح کا خون تو رائیگاں جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا زمانہ جاہلیت کی طرح کی مسجع (گفتگو کر رہے ہو)؟ اس میں تاوان دینا ہو گا۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان دونوں میں سے ایک خاتون کا نام ملیکہ تھا اور دوسری کا نام ام عطیف تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الديات/حدیث: 6019]

6020

Sahih Ibn Hibban #6020

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ ، فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ : عَبْدٌ ، أَوْ وَلِيدَةٌ ، وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا ، وَيَرِثُهَا وَلَدُهَا وَمَنْ تَبِعَهُمْ " فَقَالَ حَمَلُ بْنُ النَّابِغَةِ : أَنَدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لا أَكَلَ ، وَلا شَرِبَ ، وَلا نَطَقَ ، وَلا اسْتَهَلَّ ، فَمِثْلُ هَذَا يُطَلُّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا هَذَا مِنْ أَحْدَاثِ الْكُهَّانِ ، مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والی دو خواتین آپس میں لڑ پڑیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو (پتھر) مار کر اسے اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کو قتل کر دیا۔ وہ لوگ اپنا مقدمہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس عورت کے پیٹ میں موجود بچے کی دیت ایک غلام یا کنیز ہو گی۔“ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولہ کی دیت کی ادائیگی اس (قاتلہ) کے خاندان (عاقلہ) پر لازم قرار دی، اور ارشاد فرمایا کہ اس مقتولہ کی اولاد اور اس کے دیگر ورثا اس کے وارث بنیں گے۔ اس پر حمل بن نابغہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں اس کی دیت دوں؟ میں ایسے شخص کی دیت کیسے دے سکتا ہوں جس نے نہ کچھ کھایا، نہ کچھ پیا، نہ وہ بولا اور نہ ہی وہ (پیدا ہوتے وقت) پکار کر رویا؟ اس طرح کا خون تو رائیگاں جاتا ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ تو کاہنوں کی طرح کی بات چیت کر رہا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مسجع الفاظ کی وجہ سے یہ بات ارشاد فرمائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الديات/حدیث: 6020]

6021

Sahih Ibn Hibban #6021

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عُمَرَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ نَاشَدَ النَّاسَ فِي الْجَنِينِ ، فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ ، فَقَالَ : كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ ، فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى ، فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا ،فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ بِغُرَّةٍ : عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ، وَأَنْ تُقْتَلَ بِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پیٹ میں موجود بچے کے بارے میں لوگوں سے دریافت کیا، تو سیدنا حمل بن مالک رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے بتایا: میری دو بیویاں تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو مار کر دوسری عورت اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کو قتل کر دیا، تو اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاوان کے طور پر ”غلام یا کنیز کی ادائیگی“ کا فیصلہ دیا اور یہ فیصلہ دیا کہ ”اس عورت کو مقتول عورت کے عوض میں قتل کر دیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الديات/حدیث: 6021]

6022

Sahih Ibn Hibban #6022

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ، أَوْ فَرَسٍ ، أَوْ بَغْلٍ ، فَقَالَ الَّذِي قَضَى عَلَيْهِ : أَنَعْقِلُ مَنْ لا أَكَلْ ، وَلا شَرِبَ وَلا صَاحَ وَلا اسْتَهَلَّ ، مِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" إِنَّ هَذَا لَيَقُولُ بِقَوْلِ شَاعِرٍ ، فِيهِ غُرَّةٌ : عَبْدٌ ، أَوْ أَمَةٌ ، أَوْ فَرَسٌ ، أَوْ بَغْلٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ میں موجود بچے کے بارے میں تاوان کے طور پر ایک غلام یا کنیز یا گھوڑا یا خچر دینے کا فیصلہ دیا تھا۔ جس شخص کے خلاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا تھا اس نے عرض کی: کیا ہم اس کی دیت ادا کریں جس نے کچھ کھایا نہیں، کچھ پیا نہیں، وہ چیخا نہیں، نہ ہی چیخ کر رویا؟ اس طرح کا خون تو رائیگاں جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ شاعروں کی طرح کی گفتگو کر رہا ہے، ایسی صورت حال میں تاوان کے طور پر غلام یا کنیز یا گھوڑا یا خچر ادا کرنا ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الديات/حدیث: 6022]

6023

Sahih Ibn Hibban #6023

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى هَلْ أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا يُوصِي فِيهِ ، قُلْتُ : فَكَيْفَ يَأْمُرُ النَّاسَ بِالْوَصِيَّةِ ؟ قَالَ : أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طلحہ بن مصرف بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی وصیت کی تھی؟ انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی کوئی چیز نہیں چھوڑی جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وصیت کرنی پڑتی۔ میں نے دریافت کیا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو وصیت کرنے کا حکم کیوں دیتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی کتاب (کے حکم کے مطابق) یہ ہدایت کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوصية/حدیث: 6023]