Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 53 · Chapter 1

Book of Crimes

Hadith 5944–5983

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

5944

Sahih Ibn Hibban #5944

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْمَلائِكَةُ تَلْعَنُ أَحَدَكُمْ إِذَا أَشَارَ إِلَى أَخِيهِ بِحَدِيدَةٍ ، وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ لأَبِيهِ وَأُمِّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”فرشتے اس آدمی پر لعنت کرتے ہیں جو کسی دھاردار چیز کے ذریعے اپنے بھائی کی طرف اشارہ کرتا ہے، اگرچہ وہ اس کا سگا بھائی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5944]

5945

Sahih Ibn Hibban #5945

أَخْبَرَنَا ابْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَيُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ ، فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فَهُمَا فِي النَّارِ "، وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ : وَوَجَدْتُهُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ ، وَالْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب دو مسلمان ایک دوسرے کے سامنے آئیں اور ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو قتل کر دے، تو وہ دونوں جہنم میں جائیں گے۔“ احمد بن عبدہ نامی راوی کہتے ہیں: میں نے دوسری جگہ یہ پایا ہے کہ راوی کا نام معلیٰ بن زیاد ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5945]

5946

Sahih Ibn Hibban #5946

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُنَهَى عَنْ أَنْ يُتَعَاطَى السَّيْفُ مَسْلُولا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس بات سے منع کیا ہے کہ تلوار سونت کر (ایک دوسرے کے سامنے آیا جائے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5946]

5947

Sahih Ibn Hibban #5947

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالْمَلائِكَةَ لَتَلْعَنُ أَحَدَكُمْ إِذَا أَشَارَ إِلَى أَخِيهِ بِحَدِيدَةٍ ، وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ لأَبِيهِ وَأُمِّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”فرشتے اس شخص پر لعنت کرتے ہیں جو کسی دھاردار چیز کے ذریعے اپنے بھائی کی طرف اشارہ کرتا ہے، اگرچہ وہ اس کا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5947]

5948

Sahih Ibn Hibban #5948

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يُشِيرُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ بِالسِّلاحِ ، فَإِنَّهُ لا يَدْرِي لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ مِنْ يَدِهِ ، فَيَقَعُ فِيمَنْ يُنَاوَلُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار کے ذریعے اشارہ نہ کرے، کیونکہ وہ یہ بات نہیں جانتا، شاید شیطان اس کے ہاتھ سے اسے گرا دے اور وہ ہتھیار دوسرے شخص کو لگ جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5948]

5949

Sahih Ibn Hibban #5949

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلا يَخْذِفُ ، قَالَ : لا تَخْذِفْ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَهَى عَنِ الْخَذْفِ ، أَوْ قَالَ : كَرِهَ الْخَذْفَ ، وَقَالَ : إِنَّهُ لا يُصَادُ بِهِ صَيْدٌ ، وَلا يُنْكَأُ بِهِ عَدُوٌّ ، وَلَكِنَّهَا قَدْ تَكْسِرُ السِّنَّ ، وَتَفْقَأُ الْعَيْنَ "، ثُمَّ رَآهُ يَخْذِفُ فَقَالَ : أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَنْتَ تَخْذِفُ ؟ ! لا أُكَلِّمُكَ كَذَا وَكَذَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا، تو فرمایا: ”تم کنکریاں نہ مارو کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں مارنے سے منع کیا ہے“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں مارنے کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے“۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اس کے ذریعے کوئی شکار نہیں کیا جا سکتا، اس کے ذریعے دشمن کو نہیں مارا جا سکتا، اس کے ذریعے صرف دانت توڑا جا سکتا ہے اور آنکھ کو پھوڑا جا سکتا ہے“۔ پھر سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا، تو فرمایا: ”میں نے تمہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کی ہے اور تم پھر کنکریاں مار رہے ہو، میں تم سے اتنے اتنے عرصے تک کبھی بات نہیں کروں گا“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5949]

5950

Sahih Ibn Hibban #5950

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ أَنْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ ، إِذَا بَقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ ؟ " قَالَ : وَذَاكَ مَا هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " ذَاكَ إِذَا مَرَجَتْ أَمَانَاتُهُمْ وَعُهُودُهُمْ ، وَصَارُوا هَكَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ " ، قَالَ : فَكَيْفَ بِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تَعْمَلُ مَا تَعْرِفُ ، وَدَعْ مَا تُنْكِرُ ، وَتَعْمَلُ بِخَاصَّةِ نَفْسِكَ ، وَتَدَعُ عَوَامَّ النَّاسِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عبداللہ! اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا جب تم لوگوں کے چھان میں رہ جاؤ گے؟“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کون لوگ ہوں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ صورت حال اس وقت پیش آئے گی جب ان کی امانتیں اور ان کے عہد اس طرح ہو جائیں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے فرمایا۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس وقت میں کیا کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم وہ کام کرو جسے تم نیکی سمجھتے ہو اور اس بات کو چھوڑ دو جسے تم برا سمجھو اور تم اپنی ذات کے لیے عمل کرو اور لوگوں کو (ان کے حال) پر چھوڑ دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5950]

5951

Sahih Ibn Hibban #5951

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ أَنْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو إِذَا بَقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ ؟ " قَالَ : وَذَاكَ مَا هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " ذَاكَ إِذَا مَرَجَتْ أَمَانَاتُهُمْ وَعُهُودُهُمْ ، وَصَارُوا هَكَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ " ، قَالَ : فَكَيْفَ تَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تَعْمَلُ مَا تَعْرِفُ وَتَدَعُ مَا تُنْكِرُ ، وَتَعْمَلُ بِخَاصَّةِ نَفْسِكَ ، وَتَدَعُ عَوَامَّ النَّاسِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمرو (رضی اللہ عنہما)! اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب تم لوگوں کے چھان میں باقی رہ جاؤ گے؟“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کون لوگ ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا اس وقت ہو گا جب ان کی امانات اور ان کے عہد ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہوں گے، اور وہ یوں ہو جائیں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے فرمایا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بارے میں کیا رائے ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے تم اچھائی سمجھو اسے تم کر لینا اور جسے تم برائی سمجھو اسے نہ کرنا اور تم صرف اپنی ذات کے لیے عمل کرنا اور لوگوں کو (ان کے حال پر) چھوڑ دینا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5951]

5952

Sahih Ibn Hibban #5952

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الأَصْبَهَانِيُّ بِالرَّيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ جَبَّرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، قَالَ : أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ الْحَجَّاجَ ، فَقَالَ : اصْبِرُوا ، فَإِنَّهُ لا يَأْتِي عَلَيْكُمْ يَوْمٌ أَوْ زَمَانٌ إِلا وَالَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ ، سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زبیر بن عدی بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، ہم نے حجاج کی شکایت ان سے کی، تو انہوں نے فرمایا: ”تم لوگ صبر سے کام لو کیونکہ تم پر اب جو بھی دن (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جو بھی زمانہ آئے گا، تو اس کے بعد والا زمانہ اس سے زیادہ برا ہو گا، یہاں تک کہ تم لوگ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو جاؤ گے،“ یہ بات میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5952]

5953

Sahih Ibn Hibban #5953

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو شِهَابٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلا لَيْلَةٌ ، لَمَلَكَ فِيهَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر دنیا ختم ہونے میں صرف ایک رات باقی رہ جائے، تو اس میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص بادشاہ ضرور بنے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5953]

5954

Sahih Ibn Hibban #5954

وَحَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ فِي عَقِبِهِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو شِهَابٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلا لَيْلَةٌ ، لَمَلَكَ فِيهَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي ، اسْمُهُ اسْمِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر دنیا ختم ہونے میں ایک رات باقی رہ جائے، تو اس میں میرے اہل بیت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص حکمران ضرور بنے گا، جس کا نام میرے نام کی طرح ہوگا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5954]

5955

Sahih Ibn Hibban #5955

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَوْشَكَ أَنْ يَكُونَ خَيْرُ مَالِ الْمُسْلِمِ غُنَيْمَةً ، يَتْبَعُ بِهَا سَعَفَ الْجِبَالِ ، وَمَوَاضِعَ الْقَطْرِ ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَكَذَا أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ " سَعَفَ " وَإِنَّما هِيَ بِالشِّينِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب ایسا وقت آئے گا جب مسلمان کا سب سے بہتر مال چند بکریاں ہوں گی، جنہیں وہ ساتھ لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور بارش نازل ہونے کے مقامات (یعنی جنگلات) میں چلا جائے گا، وہ اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کے لیے بھاگے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوخلیفہ نامی راوی نے یہ لفظ «سَعَفِ» نقل کیا ہے، حالانکہ اصل لفظ شین کے ساتھ یعنی «شَعَفِ» ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5955]

5956

Sahih Ibn Hibban #5956

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي كُرْزٌ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ : قَالَ أَعْرَابِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ لِهَذَا الإِسْلامِ مِنْ مُنْتَهًى ؟ قَالَ : نَعَمْ ، مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا مِنْ عَرَبٍ أَوْ عَجَمٍ أَدْخَلَهُ عَلَيْهِمْ " ، قَالَ : ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " ثُمَّ تَقَعُ فِتَنٌ كَالظُّلَمِ " ، قَالَ : كَلا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَتَعُودُنَّ فِيهَا أَسَاوِدَ صُبًّا ، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ، فَخَيْرُ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ مُؤْمِنٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ ، يَتَّقِي اللَّهَ ، وَيَذَرُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا کرز خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس اسلام کا کچھ اختتام ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں، اللہ تعالیٰ عربوں اور عجمیوں میں سے جس کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرے گا اسے اسلام میں داخل کرے گا۔“ اس دیہاتی نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر کیا ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پھر تاریکیوں کی طرح کے فتنے آئیں گے۔“ اس شخص نے عرض کی: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (ایسا نہیں ہو گا)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے (ایسا ہی ہو گا) اور تم لوگ دوبارہ اس میں ایسی صورت حال کا شکار ہو جاؤ گے کہ سانپوں کی طرح پھن پھیلا لو گے اور ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو گے، اس زمانے میں سب سے بہتر شخص وہ مومن ہو گا جو کسی گھاٹی میں الگ تھلگ رہتا ہو گا، وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو گا اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5956]

5957

Sahih Ibn Hibban #5957

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ بَسَّامٍ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْعِبَادَةُ فِي الْهَرْجِ كَالْهِجْرَةِ إِلَيَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”فتنے کے دنوں میں عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرنے کی مانند ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5957]

5958

Sahih Ibn Hibban #5958

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ ، يَتْبَعُ شَغَفَ الْجِبَالِ ، وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ جب مسلمان کا سب سے بہتر مال بکریاں ہوں گی، جنہیں وہ ساتھ لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں اور جنگلات میں چلا جائے گا، وہ اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کے لیے بھاگے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5958]

5959

Sahih Ibn Hibban #5959

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَتَكُونُ فِتَنٌ كَرِيَاحِ الصَّيْفِ ، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمٌ خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي ، مَنِ اسْتَشْرَفَ لَهَا ، اسْتَشْرَفَتْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب ایسے فتنے آئیں گے جو گرمی کی ہواؤں کی طرح ہوں گے، ان میں بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے بہتر ہو گا اور کھڑا ہوا چلنے والے سے بہتر ہو گا، جو شخص ان کی طرف جھانک کر دیکھے گا، یہ اسے اپنی طرف کھینچ لیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5959]

5960

Sahih Ibn Hibban #5960

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : يَا أَبَا ذَرٍّ ،كَيْفَ تَفْعَلُ إِذَا جَاعَ النَّاسُ حَتَّى لا تَسْتَطِيعَ أَنْ تَقُومَ مِنْ فِرَاشِكِ إِلَى مَسْجِدِكَ ؟ " فَقُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " تَعَفَّفْ " ، ثُمَّ قَالَ : " كَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا مَاتَ النَّاسُ حَتَّى يَكُونَ الْبَيْتُ بِالْوَصِيفِ ؟ " قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " تَصْبرُ " ، ثُمَّ قَالَ : " كَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا اقْتَتَلَ النَّاسُ حَتَّى يَغْرَقَ حَجَرُ الزَّيْتِ ؟ " قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " تَأْتِي مَنْ أَنْتَ فِيهِ " ، فَقُلْتُ : أَرَأَيْتَ إِنْ أَتَى عَلَيَّ ؟ قَالَ : " تَدْخُلُ بَيْتَكَ " ، قُلْتُ : أَرَأَيْتَ إِنْ أَتَى عَليَّ ؟ قَالَ : " إِنْ خَشِيتَ أَنْ يَبْهَرَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ ، فَأَلْقِ طَائِفَةَ رِدَائِكَ عَلَى وَجْهِكَ ، يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِهِ " ، فَقُلْتُ : أَفَلا أَحْمِلُ السِّلاحَ ؟ قَالَ : " إِذًا تَشْرَكُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے ابوذر! اس وقت تمہارا کیا عالم ہوگا جب لوگوں میں بھوک عام ہوگی، یہاں تک کہ تم اس بات کی استطاعت بھی نہیں رکھو گے کہ اپنے بچھونے سے اٹھ کر مسجد تک جا سکو۔“ میں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بچنے کی کوشش کرنا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت تم کیا کرو گے جب لوگ مر جائیں گے، یہاں تک کہ گھر (یعنی قبر کی جگہ) خادم کے عوض ملے گی؟“ میں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم صبر سے کام لینا۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اس وقت تم کیا کرو گے جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی کریں گے، یہاں تک کہ حجر زیت کا مقام (خون میں) ڈوب جائے گا؟“ میں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اس جگہ پر رہنا جہاں تم رہتے ہو (یعنی باہر نہ نکلنا)۔“ میں نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے اگر وہ پھر بھی مجھ تک پہنچ جائیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے گھر کے اندر چلے جانا۔“ میں نے عرض کی: اگر وہ پھر مجھ تک پہنچ گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تلوار کی چمک تمہیں پریشان کر دے گی، تو تم اپنی چادر کا کنارہ اپنے چہرے پر ڈال لینا، وہ شخص تمہارے اور اپنے گناہ کا بوجھ اٹھائے گا۔“ میں نے عرض کی: کیا میں اس پر ہتھیار نہ اٹھاؤں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس صورت میں تم بھی اس کے برابر ہو جاؤ گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5960]

5961

Sahih Ibn Hibban #5961

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ ، وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي مَجْشَرِهِ ، وَمِنَّا مَنْ يُصْلِحُ خِبَاءَهُ ، إِذْ نُودِيَ بِالصَّلاةِ جَامِعَةً ، فَاجْتَمَعْنَا ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَقُولُ : لَمْ يَكُنْ قَبْلِي نَبِيٌّ إِلا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَهُمْ ، وَيُنْذِرَهُمْ مَا يَعْلَمُ أَنَّهُ شَرٌّ لَهُمْ ، وَإِنَّ هَذِهِ الأُمَّةَ جُعِلَتْ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا ، وَسَيُصِيبُ آخِرَهَا بَلاءٌ ، فَتَجِيءُ فِتْنَةُ الْمُؤْمِنِ ، فَيَقُولُ : هَذِهِ مُهْلِكَتِي ، ثُمَّ تَجِيءُ فَيَقُولُ : هَذِهِ مُهْلِكَتِي ، ثُمَّ تَنْكَشِفُ ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ وَيَدْخُلَ الْجَنَّةَ ، فَلْتُدْرِكْهُ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ بِاللَّهِ ، وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، وَلْيَأْتِ إِلَى النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ ، وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ ، وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ ، فَلْيُطِعْهُ مَا اسْتَطَاعَ " ، قَالَ : قُلْتُ : هَذَا ابْنُ عَمِّكَ مُعَاوِيَةُ ، يَأْمُرُنَا أَنْ نَأْكُلَ أَمْوَالَنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ ، وَنُهْرِيقُ دِمَاءَنَا ، وَقَالَ اللَّهُ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ ، وَقَالَ : وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ قَالَ : ثُمَّ سَكَتَ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَ : " أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ ، وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے خانہ کعبہ کے سائے میں یہ بات بیان کی: ”ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے، ہم میں سے کچھ لوگ تیراندازی کر رہے تھے، کچھ لوگ جانوروں کو چرا رہے تھے اور کچھ لوگ خیمے ٹھیک کر رہے تھے، اسی دوران یہ اعلان کیا گیا: ”نماز ہونے لگی ہے“ ہم لوگ اکٹھے ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھ سے پہلے جو بھی نبی تھا، تو اللہ تعالیٰ کے ذمے یہ بات لازم تھی کہ وہ نبی اپنی امت کی رہنمائی اس چیز کی طرف کرے جو ان کے حق میں زیادہ بہتر ہو اور ان لوگوں کو ان چیزوں سے ڈرائے جن کے بارے میں وہ یہ جانتا ہے کہ یہ ان کے حق میں بری ہوں گی، جہاں تک اس امت کا تعلق ہے، تو اس کی عافیت اس کے ابتدائی حصے میں ہے اور اس کے آخری حصے میں آزمائشیں ہوں گی، مومن کے پاس ایک آزمائش آئے گی، تو وہ یہ کہے گا: میں اس میں ہلاکت کا شکار ہو جاؤں گا، پھر دوسری آئے گی، تو یہ کہے گا: اس میں ہلاکت کا شکار ہو جاؤں، پھر وہ بھی ختم ہو جائے گی، تو تم میں سے جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہو کہ اسے جہنم سے بچا کر جنت میں داخل کر دیا جائے اس کی موت ایسے عالم میں آنی چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور وہ لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرے، جس کے بارے میں وہ یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا جائے، جو شخص کسی حکمران کے ہاتھ پر بیعت کر لے اور اپنا ہاتھ اور اپنی ذہنی آمادگی اس کو دے دے، تو اسے جہاں تک ہو سکے، اس حکمران کی فرمانبرداری کرنی چاہیے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے کہا: یہ آپ کے چچازاد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما تو ہمیں یہ کہتے ہیں کہ ہم اپنے (یعنی ایک دوسرے کے) اموال ناحق طور پر کھائیں اور خون بہائیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ﴾ [سورة النساء: 29] ”اے ایمان والو! ایک دوسرے کے مال ناحق طور پر نہ کھاؤ۔“ اور اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ﴾ [سورة النساء: 29] ”تم ایک دوسرے کو قتل نہ کرو۔“ راوی کہتے ہیں: وہ (یعنی سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) تھوڑی دیر کے لیے خاموش رہے پھر انہوں نے فرمایا: ”تم اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے معاملے میں ان کی اطاعت کرو اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے معاملے میں ان کی بات نہ مانو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5961]

5962

Sahih Ibn Hibban #5962

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّبَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ لَفِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا ، وَيُمْسِي كَافِرًا ، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا ، وَيُصْبِحُ كَافِرًا ، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي ، كَسِّرُوا قِسِيَّكُمْ ، وَقَطِّعُوا أَوْتَارَكُمْ ، وَاضْرِبُوا بِسُيُوفِكُمُ الْحِجَارَةَ ، فَإِنْ دُخِلَ عَلَى أَحَدٍ بَيْتَهُ ، فَلْيَكُنْ كَخَيْرِ ابْنَيْ آدَمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت سے پہلے کچھ فتنے یوں ہوں گے جس طرح تاریک رات کے ٹکڑے ہوتے ہیں، ان میں آدمی صبح کے وقت مومن ہو گا، تو شام کے وقت کافر ہو جائے گا، شام کے وقت مومن ہو گا، تو صبح کے وقت کافر ہو گا، اس وقت میں بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے بہتر ہو گا اور کھڑا ہوا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا، تم اپنی کمانیں توڑ دینا، اپنے تانت (یعنی جسے کمان پر باندھا جاتا ہے) کاٹ دینا، اپنی تلواریں پتھروں پر مار دینا، اگر کسی شخص کے گھر میں اسے (قتل کرنے کے لیے) کوئی داخل ہو جائے، تو اسے آدم کے دو بیٹوں میں سے بہتر والے کی مانند ہو جانا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5962]

5963

Sahih Ibn Hibban #5963

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ اللَّيْثِيُّ ، قَالَ : أَتَيْنَا الْيَشْكُرِيَّ فِي رَهْطٍ مِنْ بَنِي لَيْثٍ ، فَقَالَ : مِمَّنِ الْقَوْمُ ؟ فَقُلْنَا : بَنُو لَيْثٍ ، فَسَأَلْنَاهُ وَسَأَلَنَا ، وَقَالُوا : إِنَّا أَتَيْنَاكَ نَسْأَلُكُ عَنْ حَدِيثِ حُذَيْفَةَ ، فَقَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ أَبِي مُوسَى قَافِلِينَ مِنْ بَعْضِ مَغَازِيهِ ، قَالَ : وَغَلَتِ الدَّوَابُّ بِالْكُوفَةِ ، قَالَ : فَاسْتَأْذَنْتُ أَنَا وَصَاحِبِي أَبَا مُوسَى ، فَأَذِنَ لَنَا ، فَقَدِمْنَا الْكُوفَةَ بَاكِرًا مِنَ النَّهَارِ ، فَقُلْتُ لِصَاحِبِي : إِنِّي دَاخِلٌ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا قَامَتِ السُّوقُ خَرَجْتُ إِلَيْكَ ، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا أَنَا بِحَلْقَةٍ كَأَنَّمَا قُطِعَتْ رُءُوسُهُمْ ، يَسْتَمِعُونَ إِلَى حَدِيثِ رَجُلٍ ، قَالَ : فَجِئْتُ فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَامَ إِلَى جَنْبِي ، فَقُلْتُ لِلرَّجُلِ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : أَبَصْرِيُّ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : قَدْ عَرَفْتُ أَنَّكَ لَوْ كُنْتَ كُوفِيًّا لَمْ تَسْأَلْ عَنْ هَذَا ، هَذَا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ ، وَعَرَفْتُ أَنَّ الْخَيْرَ لَمْ يَسْبِقْنِي فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ ؟ فَقَالَ : يَا حُذَيْفَةُ ،تَعَلَّمْ كِتَابَ اللَّهِ وَاتَّبِعْ مَا فِيهِ " يَقُولُهَا لِي ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ ؟ قَالَ : " فِتْنَةٌ وَشَرٌّ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ بَعْدَ هَذَا الشَّرِّ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ مَا هِيَ ؟ قَالَ : " لا تَرْجِعُ قُلُوبُ أَقْوَامٍ عَلَى الَّذِي كَانَتْ عَلَيْهِ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ ؟ قَالَ : يَا حُذَيْفَةُ ، " تَعَلَّمْ كِتَابَ اللَّهِ ، وَاتَّبِعْ مَا فِيهِ " ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ ؟ قَالَ : " فِتْنَةٌ عَمْيَاءُ صَمَّاءُ عَلَيْهَا دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ النَّارِ ، فَإِنْ مُتَّ يَا حُذَيْفَةُ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جَذْرِ خَشَبَةٍ يَابِسَةٍ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَتْبَعَ أَحَدًا مِنْهُمْ "، الْيَشْكُرِيُّ : اسْمُهُ سُلَيْمَانُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نصر بن عاصم لیثی بیان کرتے ہیں: ہم لوگ بنو لیث کے کچھ افراد یشکری کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے دریافت کیا: آپ کا تعلق کون سے قبیلے سے ہے؟ ہم نے جواب دیا: بنو لیث سے، ہم نے ان سے دریافت کیا اور انہوں نے ہم سے سوالات کیے۔ لوگوں نے بتایا: ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں تاکہ ہم آپ سے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول حدیث کے بارے میں دریافت کریں، تو انہوں نے بتایا: ہم لوگ کسی جنگ سے واپس آ رہے تھے، ہم سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، انہوں نے بتایا کہ کوفہ میں جانور مہنگے ہو گئے۔ پھر میں نے اور میرے ساتھی نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے اجازت مانگی، انہوں نے ہمیں اجازت دی، تو ہم دن کے ابتدائی حصے میں کوفہ آ گئے۔ میں نے اپنے ساتھی سے کہا: میں مسجد میں جاتا ہوں، جب بازار شروع ہونے کا وقت ہو گا، تو میں تمہارے پاس آ جاؤں گا۔ میں مسجد میں داخل ہوا، تو وہاں ایک حلقہ موجود تھا، ان لوگوں کے سر بالکل ساکت تھے، وہ لوگ ایک شخص کی بات سن رہے تھے۔ راوی کہتا ہے: میں آیا اور ان کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا، پھر ایک اور شخص آیا اور میرے پہلو میں کھڑا ہو گیا، میں نے اس شخص سے دریافت کیا: یہ کون صاحب ہیں؟ اس نے دریافت کیا: کیا تم بصرہ کے رہنے والے ہو؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! اس نے کہا: مجھے اندازہ ہو گیا تھا کیونکہ اگر تم کوفہ کے رہنے والے ہوتے، تو تم ان صاحب کے بارے میں سوال نہ کرتے، یہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما ہیں (جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں)۔ میں ان کے اور قریب ہو گیا، تو میں نے انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا: ”لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھلائی کے بارے میں دریافت کرتے تھے اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خرابیوں کے بارے میں دریافت کیا کرتا تھا، مجھے اس بات کا پتا تھا کہ بھلائی مجھ سے آگے نہیں نکلے گی۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس بھلائی کے بعد کوئی برائی بھی آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے حذیفہ! تم کتاب اللہ کا علم حاصل کرو اور اس میں موجود احکام کی پیروی کرو۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس بھلائی کے بعد کوئی برائی بھی آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آزمائش اور برائی ہو گی۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس برائی کے بعد کوئی بھلائی بھی آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ» (دھوئیں پر صلح)۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! «هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ» سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں کے دل دوبارہ اس کیفیت پر واپس نہیں جائیں گے جس پر وہ پہلے تھے۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس بھلائی کے بعد کوئی برائی بھی آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے حذیفہ! تم اللہ کی کتاب کا علم حاصل کرو، اس میں موجود احکام کی پیروی کرو۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس بھلائی کے بعد کوئی برائی بھی آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایسی آزمائش ہو گی جو اندھا اور گونگا کر دے گی، اس فتنے پر وہ لوگ موجود ہوں گے جو جہنم کی طرف بلائیں گے، اے حذیفہ! اگر تم ایسی حالت میں مرتے ہو کہ تم نے کسی خشک لکڑی کے تنے کو دانتوں میں پکڑا ہوا ہے، تو یہ تمہارے لیے اس سے زیادہ بہتر ہو گا کہ تم ان میں سے کسی ایک شخص کی پیروی کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یشکری نامی راوی کا نام سلیمان ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5963]

5964

Sahih Ibn Hibban #5964

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الصَّامِتِ ، يَقُولُ : قَدِمَ أَبُو ذَرٍّ عَلَى عُثْمَانَ مِنَ الشَّامِ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، افْتَحِ الْبَابَ حَتَّى يَدْخُلَ النَّاسُ ، أَتَحْسِبُنِي مِنْ قَوْمٍ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، ثُمَّ لا يَعُودُونَ فِيهِ حَتَّى يَعُودَ السَّهْمُ عَلَى فُوقِهِ ؟ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ أَمَرْتَنِي أَنْ أَقْعُدَ لَمَا قُمْتُ ، وَلَوْ أَمَرْتَنِي أَنْ أَكُونَ قَائِمًا لَقُمْتُ مَا أَمْكَنَتْنِي رِجْلايَ ، وَلَوْ رَبَطْتَنِي عَلَى بَعِيرٍ لَمْ أُطْلِقْ نَفْسِي حَتَّى تَكُونَ أَنْتَ الَّذِي تُطْلِقُنِي ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَهُ أَنْ يَأْتِيَ الرَّبَذَةَ ، فَأَذِنَ لَهُ فَأَتَاهَا ، فَإِذَا عَبْدٌ يَؤُمُّهُمْ ، فَقَالُوا : أَبُو ذَرٍّ ، فَنَكَصَ الْعَبْدُ ، فَقِيلَ لَهُ : تَقَدَّمْ ، فَقَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلاثٍ : أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ ، وَلَوْ لِعَبْدٍ حَبَشِيٍّ مُجَدَّعِ الأَطْرَافِ ، وَإِذَا صَنَعْتُ مَرَقَةً فَأَكْثِرْ مَاءَهَا ، ثُمَّ انْظُرْ جِيرَانَكَ فَأَنِلْهُمْ مِنْهَا بِمَعْرُوفٍ ، وَصَلِّ الصَّلاةَ لِوَقْتِهَا ، فَإِنْ أَتَيْتَ الإِمَامَ وَقَدْ صَلَّى كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلاتَكَ ، وَإِلا فَهِيَ لَكَ نَافِلَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن صامت بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ شام سے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لیے آئے، انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ دروازہ کھولیے تاکہ لوگ اندر آ جائیں، کیا آپ مجھے ایسے لوگوں سے روک رہے ہیں جو ”قرآن کی تلاوت کریں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا اور وہ دین سے یوں خارج ہو جائیں گے جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے، پھر وہ اس میں دوبارہ نہیں آئیں گے جب تک تیر کمان کی طرف واپس نہیں آتا، یہ ساری مخلوق کے سب سے برے فرد ہوں گے۔“ اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، اگر آپ مجھے بیٹھنے کا حکم دیں، تو میں کھڑا نہیں رہوں گا اور اگر آپ مجھے کھڑا رہنے کا حکم دیں، تو میں کھڑا ہو جاؤں گا، جب تک میرے پاؤں میرا ساتھ دیں گے اور اگر آپ مجھے کسی اونٹ کے ساتھ باندھ دیں، تو میں خود کو کھولنے کی کوشش نہیں کروں گا، جب تک آپ خود مجھے نہیں کھولتے۔ پھر سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے اجازت لی کہ وہ ربذہ چلے جائیں، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دے دی، وہ وہاں آ گئے، وہاں ایک غلام ان لوگوں کی امامت کیا کرتا تھا، لوگوں نے کہا: سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ، تو غلام نے سر جھکا لیا۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: آپ آگے بڑھیے (اور نماز پڑھائیے)، تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے خلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی تلقین کی ہے: ”یہ کہ میں اطاعت و فرمانبرداری کروں خواہ کوئی ایسا حبشی حکمران ہو، جس کے ناک اور کان کٹے ہوئے ہوں، دوسرا یہ کہ جب میں شوربہ بناؤں، تو اس میں پانی زیادہ ڈال دوں اور پھر اس بات کا جائزہ لوں کہ میرے پڑوسیوں میں سے کسے بھیجا جا سکتا ہے اور (تیسری بات یہ کہ) نماز کو اس کے مخصوص وقت پر ادا کرنا، پھر اگر تم امام کے پاس آؤ اور وہ تم سے پہلے نماز پڑھ چکے ہوں تو تم اپنی نماز کو محفوظ کر چکے تھے ورنہ یہ نماز تمہارے لیے نفل شمار ہوگی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5964]

5965

Sahih Ibn Hibban #5965

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهَاسَتَكُونُ فِتَنٌ يَكُونُ الْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرًا مِنَ الْجَالِسِ ، وَالْجَالِسُ خَيْرًا مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ خَيْرًا مِنَ الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي خَيْرًا مِنَ السَّاعِي " ، قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ ، وَمَنْ كَانَ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ ، فَلْيَعْمِدْ إِلَى سَيْفِهِ ، فَلْيَضْرِبْ بِحَدِّهِ عَلَى صَخْرَةٍ ، ثُمَّ لِيَنْجُ إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب ایسے فتنے ہوں گے جن میں لیٹا ہوا شخص بیٹھے ہوئے شخص سے بہتر ہو گا، بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے بہتر ہو گا، کھڑا ہوا چلنے والے سے بہتر ہو گا، چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا۔“ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (اس طرح کی صورت حال میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کے اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں کے پاس چلا جائے، جس شخص کی بکریاں ہوں وہ اپنی بکریوں کے پاس چلا جائے، جس شخص کی زمین ہو وہ اپنی زمین کے ساتھ مصروف ہو جائے، جس شخص کے پاس ان میں سے کچھ نہ ہو وہ اپنی تلوار کی طرف جائے اور پھر اس کی دھار کو پتھر پر مار کر (اپنی تلوار کو بے کار کر دے)، پھر جہاں تک اس سے ہو سکے وہ نجات حاصل کرنے کی کوشش کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5965]

5966

Sahih Ibn Hibban #5966

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الأَعْمَشِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُمَرَ ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ يَحْفَظُ حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : أَنَا ، قَالَ : إِنَّكَ لَجَدِيرٌ أَوْ لَجَرِئٌ ، فَكَيْفَ قَالَ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي نَفْسِهِ وَأَهْلِهِ ، وَمَالِهِ ، وَوَلَدِهِ ، وَجَارِهِ ، يُكَفِّرُهَا الصِّيَامُ ، وَالصَّدَقَةُ ، وَالصَّلاةُ ، وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ "، فَقَالَ عُمَرُ : لَيْسَ هَذَا أُرِيدُ ، إِنَّمَا أُرِيدُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ ، فَقُلْتُ : وَمَا لَكَ وَلَهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا ، قَالَ : فَيُكْسَرُ الْبَابُ أَمْ يُفْتَحُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : بَلْ يُكْسَرُ ، قَالَ : ذَلِكَ أَحْرَى أَنْ لا يُغْلَقَ أَبَدًا ، قَالَ : قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ : هَلْ كَانَ يَعْلَمُ مَنِ الْبَابُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ اللَّيْلَةَ ، إِنَّ حُذَيْفَةَ حَدَّثَنَا لَيْسَ بِالأَغَالِيطِ ، قَالَ : فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَ حُذَيْفَةَ مَنِ الْبَابُ ، فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ : سَلْهُ ، فَسَأَلَهُ فَقَالَ : عُمَرُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے دریافت کیا: ”آپ میں سے کس کو فتنے کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث یاد ہے؟“ میں نے جواب دیا: مجھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ اس لائق ہیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) آپ نے جرأت کا مظاہرہ کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ارشاد فرمایا ہے؟“ تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”آدمی کی آزمائش اس کی اپنی ذات کے بارے میں، اس کے اہل خانہ کے بارے میں، اس کے مال میں، اس کی اولاد میں اور اس کے پڑوسی کے بارے میں ہوتی ہے؛ روزہ رکھنا، صدقہ کرنا، نماز پڑھنا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا اس کا کفارہ بنتے ہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں یہ مراد نہیں لے رہا، میری مراد وہ فتنہ ہے جو سمندر کی لہروں کی طرح ہوگا“۔ میں نے کہا: ”اے امیر المؤمنین! آپ کا اس کے ساتھ کیا واسطہ؟ آپ کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے“۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”کیا اس دروازے کو توڑا جائے گا یا کھول دیا جائے گا؟“ تو میں نے کہا: ”جی نہیں، اسے توڑا جائے گا اور پھر وہ اس لائق ہوگا کہ وہ دوبارہ کبھی بند نہ ہو“۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ”کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ بات جانتے تھے کہ دروازے سے مراد کیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں، جس طرح وہ یہ بات جانتے تھے کہ کل سے پہلے رات آئے گی“۔ (راوی بیان کرتے ہیں) سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان نہیں کی جس میں غلط بیانی ہو۔ راوی کہتے ہیں: ہمیں ان سے یہ پوچھنے کی جرأت نہیں ہوئی کہ دروازے سے مراد کیا ہے، تو ہم نے مسروق سے کہا کہ تم ان سے دریافت کرو، مسروق نے ان سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا: ”(دروازے سے مراد) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5966]

5967

Sahih Ibn Hibban #5967

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں اپنے بعد کوئی ایسا فتنہ چھوڑ کر نہیں جا رہا جو مردوں کے لیے خواتین سے زیادہ نقصان دہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5967]

5968

Sahih Ibn Hibban #5968

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : وَيْلٌ لِلنِّسَاءِ مِنَ الأَحْمَرَيْنِ : الذَّهَبِ وَالْمُعَصْفَرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”دو سرخ چیزوں کی وجہ سے خواتین کی بربادی ہے: سونا اور «الْمُعَصْفَرُ» (زرد کپڑا یا کوئی اور چیز)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5968]

5969

Sahih Ibn Hibban #5969

أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو حُمَةَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الزُّبَيْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں اپنے بعد کوئی ایسی آزمائش نہیں چھوڑ رہا جو مردوں کے لیے خواتین سے زیادہ نقصان دہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5969]

5970

Sahih Ibn Hibban #5970

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَخْوَفَ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں اپنے بعد کوئی ایسی آزمائش نہیں چھوڑ رہا جو مردوں کے لیے خواتین سے زیادہ قابلِ تشویش ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5970]

5971

Sahih Ibn Hibban #5971

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ بِدِمَشْقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الطِّهْرَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيٍّ الأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُهُ أَنْ يُسَارَّهُ ، فَسَارَّهُ فِي قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ ، فَجَهَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَلامِهِ وَقَالَ : أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ؟ " قَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلا شَهَادَةَ لَهُ ، قَالَ : " أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " قَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلا شَهَادَةَ لَهُ ، قَالَ : " أَلَيْسَ يُصَلِّي ؟ " قَالَ : بَلَى ، وَلا صَلاةَ لَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُولَئِكَ الَّذِينَ نُهِيتُ عَنْهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے، اسی دوران ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی میں بات کرنا چاہتا ہے، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی میں یہ بات کی کہ وہ منافقین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو قتل کر دے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں دریافت کیا: ”کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے؟“ اس شخص نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! لیکن اس کی گواہی کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! لیکن اس کی گواہی کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا وہ نماز نہیں پڑھتا؟“ اس نے عرض کی: جی ہاں (پڑھتا ہے) لیکن اس کی نماز کا کوئی اعتبار نہیں ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہیں، جنہیں (قتل کرنے سے) مجھے منع کیا گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5971]

5972

Sahih Ibn Hibban #5972

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، قَالَ : أَتَانِي أَبُو الْعَالِيَةِ وَصَاحِبٌ لِي ، فَقَالَ : هَلُمَّا ، فَإِنَّكُمَا أَشَبُّ شَبَابًا ، وَأَوْعَى لِلْحَدِيثِ مِنِّي ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا بِشْرَ بْنَ عَاصِمٍ اللَّيْثِيَّ ، قَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ حَدِّثْ هَذَيْنِ ، قَالَ بِشْرٌ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مَالِكٍ وَكَانَ مِنْ رَهْطِهِ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً ، فَغَارَتْ عَلَى قَوْمٍ ، فَشَذَّ مِنَ الْقَوْمِ رَجُلٌ ، وَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنَ السَّرِيَّةِ وَمَعَهُ السَّيْفُ شَاهِرُهُ ، فَقَالَ : إِنِّي مُسْلِمٌ ، فَلَمْ يَنْظُرْ فِيمَا قَالَ ، فَضَرَبَهُ فَقَتَلَهُ ، قَالَ : فَنُمِيَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ فِيهِ قَوْلا شَدِيدًا ، فَبَلَغَ الْقَاتِلَ ، قَالَ : فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، إِذْ قَالَ الْقَاتِلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَمَّنْ قِبَلَهُ مِنَ النَّاسِ ، وَأَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ ، قَالَ : ثُمَّ عَادَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَمَّنْ قِبَلَهُ مِنَ النَّاسِ ، فَلَمْ يَصْبِرْ أَنْ قَالَ الثَّالِثَةَ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ تُعْرَفُ الْمَسَاءَةُ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ : إِنَّاللَّهَ حَرَّمَ عَليَّ أَنْ أَقْتُلَ مُؤْمِنًا " ثَلاثَ مَرَّاتٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں کہ ابوعالیہ اور میرے ایک ساتھی میرے پاس آئے، ان لوگوں نے کہا: تم آؤ، تم نوجوان ہو، تمہیں مجھ سے زیادہ حدیثیں یاد ہیں، ہم لوگ روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم بشر بن عاصم لیثی کے پاس آئے، تو ابوعالیہ نے کہا: ان دونوں کو حدیث بیان کرو، بشر نے یہ بات بیان کی کہ سیدنا عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی ہے، وہ ان کے قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، وہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانہ کی، انہوں نے ایک قوم پر حملہ کیا، ان میں سے ایک شخص ایک طرف ہٹ گیا، مہم میں شامل افراد میں سے ایک شخص اس کے پاس گیا، اس کے پاس سونتی ہوئی تلوار تھی، اس (پہلے الگ ہونے والے شخص نے) کہا: میں مسلمان ہوں، لیکن (پیچھے جانے والے فرد نے) اس کی بات پر توجہ نہیں دی اور اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا۔ جب اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں سخت ناراضگی کا اظہار کیا، اس بات کی اطلاع قتل کرنے والے شخص کو ملی۔ راوی بیان کرتے ہیں: ابھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو اس قاتل نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! اس نے یہ کلمہ صرف قتل سے بچنے کے لیے پڑھا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے اور اس کی طرف موجود لوگوں کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے کو جاری رکھا، اس شخص نے دوبارہ یہی بات بیان کی، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے صرف قتل سے بچنے کے لیے یہ بات کہی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے اور اس کی طرف موجود لوگوں سے منہ پھیر لیا، پھر اس شخص سے صبر نہیں ہوا یہاں تک کہ اس نے تیسری مرتبہ یہی بات کہی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے، ناراضگی کے آثار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر نمایاں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے یہ بات حرام قرار دی ہے کہ میں کسی مومن کو قتل کروں۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5972]

5973

Sahih Ibn Hibban #5973

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُفَضَّلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : وَقَفَ عَلَى بَعِيرِهِ ، وَأَمْسَكَ إِنْسَانٌ بِخِطَامِهِ أَوْ قَالَ : بِزِمَامِهِ ، فَقَالَ : أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ ، فَقَالَ : " أَلَيْسَ بِيَوْمِ النَّحْرِ ؟ " قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : " فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ " فَسَكَتْنَا ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ ، فَقَالَ : " أَلَيْسَ بِذِي الْحِجَّةِ ؟ " قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : " فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ " فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ ، فَقَالَ : " أَلَيْسَ الْبَلَدَ الْحَرَامَ ؟ " قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ ، وَأَمْوَالَكُمْ ، وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، أَلا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ ، فَإِنَّ الشَّاهِدَ عَسَى يُبَلِّغُ مَنْ هُوَ أَوْعَى لَهُ مِنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر ٹھہرے ہوئے تھے، ایک شخص نے اس اونٹ کی لگام (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) کو پکڑا ہوا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”یہ کون سا دن ہے؟“ ہم لوگ خاموش رہے اور ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”یہ کون سا مہینہ ہے؟“ ہم لوگ خاموش رہے اور ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”یہ کون سا شہر ہے؟“ ہم لوگ خاموش رہے، یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا یہ حرمت والا شہر نہیں ہے؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہاری جانیں، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابلِ احترام ہیں، جس طرح یہ دن اس مہینے میں اور اس شہر میں قابلِ احترام ہے، خبردار! ہر موجود شخص غیر موجود تک اس کی تبلیغ کر دے کیونکہ بعض اوقات موجود شخص ایسے شخص تک اس کی تبلیغ کرے گا، جو اس کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر اس حکم کو محفوظ رکھے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5973]

5974

Sahih Ibn Hibban #5974

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّالزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ ، السُّنَّةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا ، مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ : ثَلاثٌ مُتَوَالِيَاتٌ : ذُو الْقَعْدَةِ ، وَذُو الْحِجَّةِ ، وَالْمُحَرَّمُ ، وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ " ، ثُمَّ قَالَ : " أَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ ، قَالَ : " أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ ؟ " قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : " أَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ ، قَالَ : " أَلَيْسَ ذَا الْبَلْدَةَ ؟ " قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : " أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ ؟ " قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ ، وَأَمْوَالَكُمْ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : وَأَحْسِبُهُ قَالَ : وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ ، أَلا فَلا تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ، أَلا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ ، فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يَبْلُغُهُ يَكُونُ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ " ، قَالَ : فَكَانَ مُحَمَّدٌ إِذَا ذَكَرَهُ يَقُولُ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، قَدْ كَانَ ذَاكَ ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ أَلا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے زمانہ گردش میں ہے، سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے جن میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں، ان میں سے تین آگے پیچھے آتے ہیں: ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم، جبکہ رجب کا مہینہ جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان آتا ہے“۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ کون سا مہینہ ہے؟“ ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے نیا نام تجویز کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”یہ کون سا شہر ہے؟“ ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ «الْبَلْدَةُ» (شہر) نہیں ہے؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”یہ کون سا دن ہے؟“ ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ «يَوْمُ النَّحْرِ» (قربانی کا دن) نہیں ہے؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری جانیں، تمہارے مال (یہاں محمد نامی راوی کہتے ہیں: میرا یہ خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں) اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابل احترام ہیں، جس طرح یہ دن اس شہر میں قابل احترام ہے، عنقریب تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو جاؤ گے، تو وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں حساب لے گا۔ خبردار! میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو، تم میں سے ہر موجود شخص غیر موجود شخص تک تبلیغ کر دے کیونکہ بعض اوقات یہ بات اس شخص تک پہنچ جاتی ہے جو اس کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر اسے محفوظ رکھتا ہے، جس نے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی براہ راست) اسے سنا تھا“۔ راوی بیان کرتے ہیں: محمد نامی راوی جب اس حدیث کا ذکر کرتے تھے تو یہ کہتے تھے: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے، اسی طرح ہوتا ہے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خبردار! کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے؟ کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے؟“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5974]

5975

Sahih Ibn Hibban #5975

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّالزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ ، وَالسُّنَّةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا ، مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ، ثَلاثَةٌ مُتَوَالِيَاتٌ : ذُو الْقَعْدَةِ ، وَذُو الْحِجَّةِ ، وَالْمُحَرَّمُ ، وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ " ، ثُمَّ قَالَ : " أَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ ، قَالَ : " أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ ؟ " قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : " فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ ، قَالَ : " أَلَيْسَ الْبَلَدَ الْحَرَامَ ؟ " قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : " فَأَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ ، قَالَ : " أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ ؟ " قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَأَعْرَاضَكُمْ ، حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ ، فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ ، فَلا تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ، أَلا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ، فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يَبْلُغُهُ يَكُونُ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ ، أَلا هَلْ بَلَّغْتُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے زمانہ گردش میں ہے، سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے، جس میں چار مہینے حرمت والے ہیں، ان میں سے تین مہینے آگے پیچھے (مسلسل) ہوتے ہیں: ذی القعدہ، ذوالحجہ اور محرم، جبکہ رجب کا مہینہ جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان آتا ہے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کون سا مہینہ ہے؟“ ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، تو ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے نیا نام تجویز کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کون سا شہر ہے؟“ ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے دوسرا نام تجویز کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا یہ حرمت والا شہر نہیں ہے؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کون سا دن ہے؟“ ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہاری جانیں اور تمہارے مال (یہاں محمد نامی راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: تمہاری عزتیں) ایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابل احترام ہیں، جس طرح یہ دن اس مہینے میں اس شہر میں قابل احترام ہے۔ عنقریب تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو جاؤ گے، تو وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں حساب لے گا۔ تو تم میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو، خبردار! موجود شخص غیر موجود افراد تک تبلیغ کر دے، کیونکہ جس (دوسرے شخص کو بات) پہنچائی جائے گی وہ (بعض اوقات براہِ راست) سننے والے سے زیادہ بہتر طور پر اسے محفوظ رکھے گا۔ خبردار! کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5975]

5976

Sahih Ibn Hibban #5976

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَامَ مَقَامِي هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : وَالَّذِي لا إِلَهَ غَيْرُهُ ،لا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ يَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، إِلا فِي إِحْدَى ثَلاثٍ : التَّارِكُ الإِسْلامَ ، الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي ، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس مقام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، جو شخص اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں، ایسے کسی بھی شخص کا خون بہانا تین میں سے کسی ایک صورت میں جائز ہے: اسلام کو ترک کر کے (مسلمانوں کی) جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے والا شخص، شادی شدہ زانی اور جان کے بدلے میں جان۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5976]

5977

Sahih Ibn Hibban #5977

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : لا يَحِلُّ دَمُ مُسْلِمٍ إِلا بِإِحْدَى ثَلاثٍ : النَّفْسُ بِالنَّفْسِ ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي ، وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کسی بھی مسلمان کا خون تین میں سے کسی ایک صورت میں جائز ہے: جان کے بدلے میں جان، شادی شدہ زانی اور اپنے دین کو ترک کر کے (مسلمانوں کی) جماعت سے علیحدہ ہونے والا شخص۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5977]

5978

Sahih Ibn Hibban #5978

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا يَحِلُّ لامْرِئٍ أَنْ يَأْخُذَ عَصَا أَخِيهِ بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ "، قَالَ ذَلِكَ لِشِدَّةِ مَا حَرَّمَ اللَّهُ مِنْ مَالِ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کسی بھی مسلمان کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے کسی بھائی کی لاٹھی اس کی رضامندی کے بغیر حاصل کرے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے کی شدت کی وجہ سے یہ بات بیان کی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمان کا مال دوسرے مسلمان کے لیے حرام قرار دیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5978]

5979

Sahih Ibn Hibban #5979

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، وَلا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ إِلَيْهَا الْمُؤْمِنُونَ أَعْيُنَهُمْ وَهُوَ حِينَ يَنْتَهِبُهَا مُؤْمِنٌ ، وَلا يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ حِينَ يَقْتُلُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، فَإِيَّاكُمْ ، إِيَّاكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”چور چوری کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، زانی زنا کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، شراب پینے والا شراب پیتے ہوئے مومن نہیں رہتا۔ اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، جو بھی شخص لوگوں کے سامنے سرعام چیز لوٹتا ہے وہ اسے لوٹتے ہوئے مومن نہیں رہتا اور کوئی بھی شخص کسی کو قتل کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، تو تم لوگ (ان تمام کاموں سے) بچنے کی کوشش کرو، بچنے کی کوشش کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5979]

5980

Sahih Ibn Hibban #5980

أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ دِهْقَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زَكَرِيَّا ، قَالَ : سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ ، تَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : كُلُّ ذَنْبٍ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَغْفِرَهُ ، إِلا مَنْ مَاتَ مُشْرِكًا ، أَوْ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ہر گناہ کے بارے میں (یہ امید کی جا سکتی ہے) کہ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دے گا ماسوائے اس شخص کے جو مشرک ہونے کے عالم میں فوت ہو یا جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5980]

5981

Sahih Ibn Hibban #5981

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَيُونُسَ ، وَالْمُعَلَّى ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا ، فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ہر گناہ (کے بارے میں یہ امید کی جا سکتی ہے) کہ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دے گا، ماسوائے اس شخص کے، جو مشرک ہونے کے عالم میں مر جائے، یا جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5981]

5982

Sahih Ibn Hibban #5982

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ زَائِدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ السُّدِّيُّ ، عَنْ رِفَاعَةَ الْفِتْيَانِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : أَيُّمَا رَجُلٍ أَمِنَ رَجُلا عَلَى دَمِهِ ثُمَّ قَتَلَهُ ، فَأَنَا مِنَ الْقَاتِلِ بَرِيءٌ ، وَإِنْ كَانَ الْمَقْتُولُ كَافِرًا "، قَالَ الشَّيْخُ أَبُو حَاتِمٍ : فِتْيَانُ بَطْنٌ مِنْ بَجِيلَةَ ، وَقِتْبَانُ سَكَنُهُ بِمِصْرَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص کسی دوسرے شخص کو اس کی جان کے حوالے سے امان دے اور پھر اسے قتل کر دے، تو میں قتل کرنے والے شخص سے بری ہوں خواہ مقتول شخص کافر ہو۔“ شیخ ابوحاتم بیان کرتے ہیں: فقتیان، بجیلہ قبیلے کی ایک شاخ ہے اور قتبان (قبیلے کے لوگ) مصر میں رہتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5982]

5983

Sahih Ibn Hibban #5983

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْ نَفْسٍ تُقْتَلُ ظُلْمًا إِلا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا ، لأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس بھی شخص کو ظلم کے طور پر قتل کیا جائے، تو اس کے خون میں سیدنا آدم علیہ السلام کے بیٹے کا بھی حصہ ہوتا ہے کیونکہ اس نے قتل کے طریقے کا آغاز کیا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5983]