Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 52 · Chapter 3

Book of Pledge

Hadith 5910–5943

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

5910

Sahih Ibn Hibban #5910

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلاةِ ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ صَلَّى صَلاتَنَا ، وَنَسَكَ نُسُكَنَا ، فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلاةِ فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ " ، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلاةِ ، وَعَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ ، فَتَعَجَّلْتُ فَأَكَلْتُ وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي وَجِيرَانِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ " ، قَالَ : فَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقًا جَذَعَةً خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ ، فَهَلْ تُجْزِئُ عَنِّي ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، تُجْزِئُ عَنْكَ وَلَنْ تُجْزِئَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن نماز کے بعد ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے ہمارے ساتھ نماز ادا کی اور ہمارے طریقے کے ذریعے قربانی کرنا چاہتا ہے وہ قربانی کر لے گا اور جس شخص نے نماز سے پہلے جانور ذبح کر لیا تھا تو وہ صرف گوشت ہے۔“ سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے تو نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ہی جانور قربان کر لیا تھا، میرا یہ خیال تھا کہ آج کھانے پینے کا دن ہے اس لیے میں نے جلدی کی اور اپنے اہل خانہ اور پڑوسیوں کے لیے کھانا تیار کروا لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ صرف گوشت ہے۔“ انہوں نے عرض کی: میرے پاس ایک چھ ماہ کا بکری کا بچہ ہے جو گوشت کے اعتبار سے ایک سال کے جانور سے بہتر ہے، تو کیا یہ میری طرف سے جائز ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں، یہ تمہاری طرف سے جائز ہو جائے گا، لیکن تمہارے بعد کسی کی طرف سے جائز نہیں ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5910]

5911

Sahih Ibn Hibban #5911

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ وَهْبًا السُّوَائِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّ خَالِيَ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : شَاتُكَ شَاةُ لَحْمٍ ، وَلَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَعِنْدِي عَنَاقٌ جَذَعَةٌ هِيَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُوفِي عَنْكَ ، وَلا تُوفِي عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے ماموں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز ادا کرنے سے پہلے ہی جانور ذبح کر لیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہاری بکری صرف گوشت والی بکری ہے اس کا قربانی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس ایک چھ ماہ کا بکری کا بچہ ہے جو ایک سال کے جانور سے بہتر ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ تمہاری طرف سے کافی ہو گا، لیکن تمہارے بعد کسی کی طرف سے کافی نہیں ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5911]

5912

Sahih Ibn Hibban #5912

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وهَبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عُوَيْمِرِ بْنِ أَشْقَرَ الأَنْصَارِيِّ ثُمَّ الْمَازِنِيّ أَنَّهُ ذَبَحَ أُضْحِيَّةً قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ يَوْمَ الأَضْحَى ، وَأَنَّهُ ذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْيُعِيدَ أُضْحِيَّةً أُخْرَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عویمر بن اشقر انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نمازِ عید کے لیے جانے سے پہلے جانور قربان کر لیا، پھر انہوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ”وہ دوسری مرتبہ قربانی کریں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5912]

5913

Sahih Ibn Hibban #5913

أَخْبَرَنَا الْجُنَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ : ضَحَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا نَاسٌ ذَبَحُوا ضَحَايَاهُمْ قَبْلَ الصَّلاةِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَآهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ذَبَحُوا قَبْلَ الصَّلاةِ ، فَقَالَ : مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاةِ فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى ، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ حَتَّى صَلَّيْنَا فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جندب بن سفیان بجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں قربانی کی، کچھ لوگوں نے نماز سے پہلے اپنے جانور قربان کر لیے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاحظہ فرمایا کہ وہ لوگ نماز سے پہلے ہی جانور ذبح کر چکے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے نماز سے پہلے جانور ذبح کر لیا تھا وہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس شخص نے ذبح نہیں کیا تھا، یہاں تک کہ ہم نے نماز ادا کر لی تو اب وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5913]

5914

Sahih Ibn Hibban #5914

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أبي أَيُّوبَ ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلالٍ الصَّدَفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ : أُمِرْتُ بِيَوْمِ الأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللَّهُ لِهَذِهِ الأُمَّةِ " ، فَقَالَ الرَّجُلُ : أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلا مَنِيحَةَ أُنْثَى ، أَفَأُضَحِّي بِهَا ؟ قَالَ : " لا ، وَلَكِنْ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِكَ ، وَتُقَلِّمُ أَظْفَارَكَ ، وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ ، وَتَقُصُّ شَارِبَكَ ، فَذَلِكَ تَمَامُ أُضْحِيَتِكَ عِنْدَ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ قربانی کے دن کو عید قرار دوں، اللہ تعالیٰ نے اسے اس امت کے لیے (عید قرار دیا ہے)۔“ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی کیا رائے ہے اگر مجھے قربانی کرنے کے لیے صرف مونث جانور ملتا ہے تو کیا میں اس کی قربانی کر لوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی نہیں، تم اپنے بال کاٹ لو، ناخن کاٹ لو، زیرِ ناف بال صاف کر لو، اپنی مونچھیں چھوٹی کر لو؛ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہاری قربانی شمار ہوں گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5914]

5915

Sahih Ibn Hibban #5915

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ يَطَأُ فِي سَوَادٍ ، وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ ، وَيَبْرُكُ فِي سَوَادٍ ، فَأَتَى بِهِ لِيُضَحِّيَ بِهِ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَائِشَةُ ،هَلُمِّي الْمُدْيَةَ " ، ثُمَّ قَالَ : " حُدِّيهَا بِحَجَرٍ " ، فَفَعَلْتُ ، فَأَخَذَهَا وَأَخَذَ الْكَبْشَ ، فَأَضْجَعَهُ ، ثُمَّ ذَبَحَهُ ، وَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ ، اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ ، مِنْ مُحَمَّدٍ ، وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ " ، ثُمَّ ضَحَّى بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک سینگوں والا مینڈھا لایا گیا جس کے پاؤں، آنکھوں اور پیٹھ کے قریب سیاہ نشان تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے تاکہ اسے قربان کریں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عائشہ! چھری پکڑاؤ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے پتھر پر تیز کر لو۔“ میں نے ایسا ہی کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چھری کو لیا، اس مینڈھے کو پکڑا، اسے لٹایا اور ذبح کرتے وقت فرمایا: «بِسْمِ اللهِ، اللهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ، وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ» ”اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے، اے اللہ! محمد، محمد کے گھر والوں اور محمد کی امت کی طرف سے (اسے قربان کر رہا ہوں)۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قربان کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5915]

5916

Sahih Ibn Hibban #5916

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ الأَرْغِيَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْبَحْرَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ هِلالَ ذِي الْحِجَّةِ وَأَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ ، فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : وَهِمَ فِيهِ مَالِكٌ ، حَيْثُ قَالَ : عَمْرُو بْنُ مُسْلِمٍ ، وَإِنَّمَا هُوَ عُمَرُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ أُكَيْمَةَ ، وَأَخُوهُ عَمْرُو بْنُ مُسْلِمٍ لَمْ يُدْرِكْهُ مَالِكٌ ، وَهُوَ تَابِعِيٌّ ، رَوَى عَنْهُ الزُّهْرِيُّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جب کوئی شخص ذوالحجہ کا چاند دیکھ لے اور اس کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو اسے اپنے بال اور ناخن نہیں کاٹنے چاہئیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں امام مالک رحمہ اللہ کو وہم ہوا، انہوں نے یہ کہا کہ یہ روایت عمرو بن مسلم سے منقول ہے حالانکہ راوی کا نام عمر بن مسلم بن عمار بن اکیمہ ہے، اس کے بھائی کا نام عمرو بن مسلم ہے لیکن امام مالک رحمہ اللہ نے اس کا زمانہ نہیں پایا، عمرو بن مسلم تابعی ہیں جن کے حوالے سے زہری نے روایات نقل کی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5916]

5917

Sahih Ibn Hibban #5917

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عَمَّارَ بْنِ أُكَيْمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ ، تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ كَانَ لَهُ ذِبْحٌ يَذْبَحُهُ ، فَإِذَا أَهَلَّ هِلالُ ذِي الْحِجَّةِ فَلا يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهِ ، وَلا مِنْ أَظْفَارِهِ حَتَّى يُضَحِّيَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے قربانی کرنی ہو، جب ذوالحجہ کا چاند نظر آ جائے تو وہ شخص اپنے بال نہ کاٹے اور اپنے ناخن نہ کاٹے جب تک قربانی نہیں کر لیتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5917]

5918

Sahih Ibn Hibban #5918

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عَمَّارٍ ، قَالَ : كُنَّا فِي الْحَمَّامِ قُبَيْلَ الأَضْحَى ، فَإِذَا أُنَاسٌ قَدِ اطَّلَوْا ، فَقَالَ بَعْضُ مَنْ فِي الْحَمَّامِ : إِنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَكْرَهُ هَذَا وَيَنْهَى عَنْهُ ، قَالَ : فَلَقِيتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ ابْنَ أَخِي : إِنَّ هَذَا حَدِيثٌ قَدْ نُسِيَ ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَعِنْدَ أَحَدِكُمْ ذِبْحٌ يُرِيدُ أَنْ يَذْبَحَهُ ، فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمر بن مسلم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ عید الاضحیٰ سے کچھ عرصہ پہلے حمام میں موجود تھے، وہاں کچھ لوگوں نے بال صاف کرنے کی تیاری کی تو حمام میں موجود ایک شخص نے کہا: سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے اور وہ اس سے منع کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: میری ملاقات سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے ہوئی، میں نے ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! اس حدیث کو بھلا دیا گیا ہے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب (ذوالحجہ کا پہلا) عشرہ شروع ہو جائے اور تم میں سے کسی کے پاس قربانی کا جانور ہو جسے قربان کرنے کا اس کا ارادہ ہو تو اسے (قربانی کرنے تک) اپنے بال اور ناخن نہیں کاٹنے چاہئیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5918]

5919

Sahih Ibn Hibban #5919

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّهُ ذَكَرَ الأَضَاحِيَّ فَقَالَ : أَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِهِ فَقَالَ : أَرْبَعٌ لا يُضَحَّى بِهِنَّ : الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا ، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا ، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلَعُهَا ، وَالْعَجْفَاءُ الَّتِي لا تُنْقِي "، فَقَالُوا لِلْبَرَاءِ : فَإِنَّمَا نَكْرَهُ النَّقْصَ فِي السِّنِّ ، وَالأُذُنِ ، وَالذَّنَبِ ، قَالَ : فَاكْرَهُوا مَا شِئْتُمْ ! وَلا تُحَرِّمُوا عَلَى النَّاسِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے، انہوں نے قربانی کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کیا، ویسے میرا ہاتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کے مقابلے میں چھوٹا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”چار طرح کے جانوروں کی قربانی نہیں کی جا سکتی: ایسا کانا جانور جس کا کانا پن واضح ہو، ایسا بیمار جانور جس کی بیماری نمایاں ہو، ایسا لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن واضح ہو اور اتنا کمزور جانور جس کے جسم میں گودا ہی نہ ہو۔“ لوگوں نے سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ہم تو ایسے جانور کو بھی ناپسندیدہ قرار دیتے ہیں، جس کے دانتوں یا کان یا دم میں کوئی نقص ہو، تو سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم لوگ جسے چاہو ناپسند سمجھو لیکن لوگوں کے لیے اسے حرام قرار نہ دو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5919]

5920

Sahih Ibn Hibban #5920

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالأُذُنَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا ہے: ”ہم (قربانی کے جانوروں کی) آنکھوں اور کانوں کا جائزہ لے لیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5920]

5921

Sahih Ibn Hibban #5921

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ ، عَنِ الْبَرَاءِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لا يَجُوزُ مِنَ الضَّحَايَا أَرْبَعٌ : الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا ، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ عَرَجُهَا ، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا ، وَالْعَجْفَاءُ الَّتِي لا تُنْقِي ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يُرْوَى هَذَا الْخَبَرُ عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، وَأَخْطَأَ فِيهِ ، لأَنَّهُ أَسْقَطَ سُلَيْمَانَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنَ الإِسْنَادِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”چار طرح کے جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے: ایسا کانا جس کا کانا پن واضح ہو، ایسا لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو، ایسا بیمار جس کی بیماری واضح ہو اور ایسا کمزور جانور جس کے جسم میں گودا ہی نہ ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت امام مالک کے حوالے سے عمرو بن حارث سے نقل کی گئی ہے اور اس میں انہوں نے غلطی کی ہے کیونکہ انہوں نے اس کی سند میں سلیمان بن عبدالرحمن کا ذکر نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5921]

5922

Sahih Ibn Hibban #5922

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ : مَا كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الأُضْحِيَّةِ ؟ فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرْبَعٌ لا تَجُوزُ فِي الأَضْحَى : الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا ، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ عَرَجُهَا ، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا ، وَالْكَسِيرُ الَّتِي لا تُنْقِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبید بن فیروز بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کون سے جانوروں کی قربانی کو ناپسند سمجھتے تھے؟ تو انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”چار طرح کے جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے: ایسا کانا جس کا کانا پن واضح ہو، ایسا لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو، ایسا بیمار جس کی بیماری واضح ہو اور ایسا جانور جس کی ٹانگ ٹوٹی ہوئی ہو اور اس کے جسم میں گودا ہی نہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5922]

5923

Sahih Ibn Hibban #5923

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : لا يَأْكُلَنَّ أَحَدُكُمْ مِنْ لَحْمِ أُضْحِيَتِهِ فَوْقَ ثَلاثِ أَيَّامٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا کرتے تھے: ”کوئی بھی شخص اپنی قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ ہرگز نہ کھائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5923]

5924

Sahih Ibn Hibban #5924

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا يَأْكُلْ أَحَدُكُمْ مِنْ أُضْحِيَتِهِ فَوْقَ ثَلاثٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی شخص اپنی قربانی (کا گوشت) تین دن سے زیادہ نہ کھائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5924]

5925

Sahih Ibn Hibban #5925

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلاثٍ ، ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ : كُلُوا وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم (قربانی کے گوشت کو) کھاؤ بھی، زادِ راہ کے طور پر بھی استعمال کرو اور ذخیرہ بھی کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5925]

5926

Sahih Ibn Hibban #5926

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ زَيْنَبَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَهَى عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلاثِ أَيَّامٍ ، ثُمَّ رَخَّصَ أَنْ نَأْكُلَ وَنَدَّخِرَ "، فَقَدِمَ قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ أَخُو أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَقَدَّمُوا إِلَيْهِ مِنْ قَدِيدِ الأَضْحَى ، فَقَالَ : أَلَيْسَ قَدْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ فِيهِ بَعْدَكَ أَمْرٌ ، كَانَ نَهَانَا عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحْبِسَهُ فَوْقَ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ، ثُمَّ رَخَّصَ أَنْ نَأْكُلَ وَنَدَّخِرَ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : زَيْنَبُ هِيَ بِنْتُ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت استعمال کرنے“ سے منع کیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصت دی کہ ”ہم اسے کھا بھی سکتے ہیں اور ذخیرہ بھی کر سکتے ہیں“۔ اسی دوران سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے بھائی سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، لوگوں نے ان کے سامنے قربانی کا گوشت پیش کیا تو انہوں نے فرمایا: ”کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں کیا تھا؟“ تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے بعد اس بارے میں نیا حکم جاری کر دیا ہے؛ پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا تھا کہ ”ہم تین دن سے زیادہ اسے رکھیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصت دی کہ ”ہم اسے کھا بھی سکتے ہیں اور ذخیرہ بھی کر سکتے ہیں“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) زینب نامی راوی خاتون سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5926]

5927

Sahih Ibn Hibban #5927

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلاثٍ " قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَقَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ : دَفَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الأَضْحَى فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ادَّخِرُوا الثُّلُثَ ، وَتَصَدَّقُوا بِمَا بَقِيَ " ، قَالَتْ عَمْرَةُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ كَانَ النَّاسُ يَنْتَفِعُونَ مِنْ ضَحَايَاهُمْ ، وَيَحْمِلُونَ مِنْهَا الْوَدَكَ ، وَيَتَّخِذُونَ مِنْهَا الأَسْقِيَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَمَا ذَاكَ ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،نَهَيْتَ عَنْ إِمْسَاكِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلاثٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ مِنْ أَجْلِ الدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ عَلَيْكُمْ ، فَكُلُوا ، وَتَصَدَّقُوا ، وَادَّخِرُوا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الدَّافَّةُ الْجَمَاعَةُ يَقْدَمُونَ مُجِدِّينَ فِي السُّؤَالِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا۔ عبداللہ بن ابوبکر نامی راوی کہتے ہیں کہ میں نے اس روایت کا تذکرہ عمرہ بنت عبدالرحمن سے کیا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر دیہات کے رہنے والے کچھ لوگ آ گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے (یعنی قربانی کے گوشت کو) صرف تین دن تک ذخیرہ کر سکتے ہو، باقی رہ جانے والے کو تم صدقہ کر دو۔“ عمرہ نامی راوی خاتون بیان کرتی ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پہلے لوگ اپنے قربانی کے جانوروں سے نفع حاصل کیا کرتے تھے، وہ ان کی چربی سنبھال کر رکھ لیا کرتے تھے اور ان کے (چمڑوں کے ذریعے) مشکیزے بنا لیتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اب کیا ہوا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت استعمال کرنے سے منع کر دیا تھا (اس لیے لوگ اب ایسا نہیں کرتے)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے تمہیں ان (غریب لوگوں) کی آمد کی وجہ سے منع کیا تھا جو تمہارے ہاں آ گئے تھے، اب تم اسے کھاؤ بھی، صدقہ بھی کرو اور ذخیرہ بھی کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لفظ «الدَّافَّةُ» کا مطلب وہ جماعت ہے جو مانگنے کے لیے آئی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5927]

5928

Sahih Ibn Hibban #5928

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ ،لا تَأْكُلُوا لُحُومَ الأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ " ، قَالَ : فَشَكَوْا إِلَيْهِ أَنَّ لَهُمُ عِيَالا وَخَدَمًا ، فَقَالَ : " كُلُوا وَأَطْعِمُوا ، وَاحْبِسُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے اہل مدینہ! تم تین دن سے زیادہ اپنی قربانی کا گوشت نہ کھاؤ۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ شکایت کی کہ ان کے بال بچے اور خدمت گزار ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے کھاؤ بھی، دوسروں کو بھی کھلاؤ اور سنبھال کر بھی رکھو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5928]

5929

Sahih Ibn Hibban #5929

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الأَضْحَى : مَنْ ضَحَّى مِنْكُمْ فَلا يُصْبِحْ بَعْدَ ثَالِثَةٍ فِي بَيْتِهِ شَيْءٌ مِنْ أُضْحِيَتِهِ " ، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ يَوْمَ الأَضْحَى قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَفْعَلُ فِي هَذَا كَمَا فَعَلْنَا فِي الْعَامِ الْمَاضِي ؟ قَالَ : " لا ، كَانَ النَّاسُ بِجَهْدٍ ، فَأَرَدْتُ أَنْ تُعِينُوا فِيهَا ، كُلُوا وَأَطْعِمُوا ، وَادَّخِرُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن ارشاد فرمایا: ”تم میں سے جس شخص نے قربانی کر لی ہے وہ تین دن کے بعد اپنی قربانی کا گوشت اپنے گھر میں نہ رکھے“ جب اگلا سال آیا تو عید الاضحیٰ کے موقع پر لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اس مرتبہ بھی ایسا ہی کریں، جس طرح ہم نے گزشتہ سال کیا تھا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی نہیں، پہلے لوگوں کو فاقہ لاحق تھا اس لیے میں نے چاہا کہ تم لوگ اس بارے میں ان کی مدد کرو اب تم اسے کھاؤ بھی اور دوسروں کو بھی کھلاؤ اور ذخیرہ بھی کرو“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5929]

5930

Sahih Ibn Hibban #5930

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ ، أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَكَلْنَا الْقَدِيدَ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ خشک کیا ہوا گوشت مدینہ منورہ تک کھایا تھا (یعنی ہم نے قربانی کا گوشت سنبھال کر زاد راہ کے طور پر رکھا تھا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5930]

5931

Sahih Ibn Hibban #5931

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَتَزَوَّدُ لَحْمَ الأَضْحَى إِلَى الْمَدِينَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی کے گوشت کو زادِ راہ کے طور پر رکھا تھا اور مدینہ منورہ تک اسے (استعمال کرتے رہے تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5931]

5932

Sahih Ibn Hibban #5932

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي ثَوْبَانُ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَصْلِحْ لَحْمَ هَذِهِ الأُضْحِيَّةِ " ، فَأَصْلَحْتُهُ ، فَلَمْ يَزَلْ يَأْكُلُ مِنْهُ حَتَّى بَلَغَ الْمَدِينَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”قربانی کے گوشت کو سنبھال کر رکھ لو۔“ میں نے اسے سنبھال کر رکھ لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ پہنچنے تک اس گوشت کو استعمال کرتے رہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5932]

5933

Sahih Ibn Hibban #5933

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَزِيدَ ، مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، أَنَّ امْرَأَتَهُ أُمَّ سُلَيْمٍ ، سَأَلَتْ عَائِشَةَ عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ فَقَالَتْ : قَدِمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنْ غَزْوَةٍ ، فَدَخَلَ عَلَى أَهْلِهِ ، فَقَرَّبْتُ لَهُ لَحْمًا مِنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ ، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ حَتَّى سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلْهُ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ ، إِلَى ذِي الْحِجَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید، جو سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: ان کی بیوی اُم سلیم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے قربانی کے گوشت کے بارے میں دریافت کیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ایک جنگ سے واپس تشریف لائے، وہ اپنی اہلیہ کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے ان کے سامنے قربانی کا گوشت پیش کیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے اس وقت تک کھانے سے انکار کر دیا جب تک وہ اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت نہیں کر لیتے (جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے ایک ذوالحجہ سے لے کر اگلے ذوالحجہ تک بھی کھا سکتے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5933]

5934

Sahih Ibn Hibban #5934

أَخْبَرَنَا آدَمُ بْنُ مُوسَى بِخُوَارِ الرِّيِّ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الطَّبَّاعِ ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ الزُهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَغْلَقُ الرَّهْنُ ، لَهُ غُنْمُهُ ، وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”رہن بند نہیں ہوتا، اس کا فائدہ آدمی کو ملے گا اور اس کا ضمان آدمی کے ذمے ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5934]

5935

Sahih Ibn Hibban #5935

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الرَّهْنُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ ، وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا ، وَعَلَى الَّذِي يَرْكَبُ وَيَشْرَبُ نَفَقَتُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”رہن (کے جانور) پر سواری کی جا سکتی ہے جو اس کے خرچ کے عوض میں ہو گی اور جانور کا دودھ پیا جا سکتا ہے جب کہ اسے رہن رکھا گیا ہو اور جو شخص سواری کرتا ہے اور دودھ پیتا ہے اس جانور کا خرچ اس کے ذمے ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5935]

5936

Sahih Ibn Hibban #5936

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِثَلاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس جو کے تیس صاع کے عوض میں رہن ہوئی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5936]

5937

Sahih Ibn Hibban #5937

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ صُبْحٍ ، حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : رَهَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِرْعًا لَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِدِينَارٍ ، فَمَا وَجَدَ مَا يَفْتَكُّهَا بِهِ حَتَّى مَاتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زرہ ایک یہودی کے پاس ایک دینار کے عوض میں رہن رکھوائی تھی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنی گنجائش نہیں ملی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس ادائیگی کو کر کے اسے چھڑوا لیتے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5937]

5938

Sahih Ibn Hibban #5938

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، قَالَ : ذُكِرَ عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ الرَّهْنُ فِي السِّلْمِ ، فَقَالَ أَخْبَرَنِي الأَسْوَدُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اشْتَرَى مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا إِلَى سَنَةٍ ، وَرَهَنَهُ دِرْعًا لَهُ مِنْ حَدِيدٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے اناج خریدا تھا کہ اسے ایک سال کے بعد ادائیگی کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لوہے کی بنی ہوئی زرہ اس کے پاس رہن رکھوا دی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5938]

5939

Sahih Ibn Hibban #5939

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، وَمَنْصُورٍ ، وَالأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسلمان کو برا کہنا فسق ہے اور اسے قتل کرنا کفر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5939]

5940

Sahih Ibn Hibban #5940

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ جَدِّهِ جَرِيرٍ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَنْصَتَ النَّاسَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، ثُمَّ قَالَ : لا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا " لَمْ يُرِدْ بِهِ الْكُفْرَ الَّذِي يُخْرِجُ عَنِ الْمِلَّةِ ، وَلَكِنَّ مَعْنَى هَذَا الْخَبَرِ أَنَّ الشَّيْءَ إِذَا كَانَ لَهُ أَجْزَاءٌ يُطْلَقُ اسْمُ الْكُلِّ عَلَى بَعْضِ تِلْكَ الأَجْزَاءِ ، فَكَمَا أَنَّ الإِسْلامَ لَهُ شُعَبٌ ، وَيُطْلَقُ اسْمُ الإِسْلامِ عَلَى مُرْتَكِبِ شُعْبَةٍ مِنْهَا لا بِالْكُلِّيَّةِ ، كَذَلِكَ يُطْلَقُ اسْمُ الْكُفْرِ عَلَى تَارِكِ شُعْبَةٍ مِنْ شُعَبِ الإِسْلامِ لا الْكُفْرِ كُلِّهِ ، وَللإِسْلامِ وَالْكُفْرِ مُقَدِّمَتَانِ ، لا تُقْبَلُ أَجْزَاءُ الإِسْلامِ إِلا مِمَّنْ أَتَى بِمُقَدِّمَتِهِ ، وَلا يَخْرُجُ مِنْ حُكْمِ الإِسْلامِ مَنْ أَتَى بِجُزْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ الْكُفْرِ ، إِلا مَنْ أَتَى بِمُقَدِّمَةِ الْكُفْرِ ، وَهُوَ الإِقْرَارُ وَالْمَعْرِفَةُ ، وَالإِنْكَارُ وَالْجَحْدُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خاموش کروایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے بعد دوبارہ کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”میرے بعد دوبارہ کافر نہ بن جانا“، اس کے ذریعے وہ کفر مراد نہیں ہے جس کی وجہ سے آدمی اسلام سے نکل جاتا ہے، بلکہ اس روایت کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی چیز کے مختلف حصے ہوں، تو ان میں سے بعض اجزاء پر اس پوری چیز کے نام کا اطلاق کیا جا سکتا ہے، جس طرح اسلام کے مختلف شعبے ہیں، تو ان میں سے کسی ایک شعبے کے مرتکب شخص پر بھی لفظِ اسلام کا اطلاق کیا جا سکتا ہے، یہ لازم نہیں ہے کہ پورے پر ہی اسلام کا اطلاق کیا جائے، اسی طرح کفر کا اطلاق اسلام کے کسی ایک شعبہ کو ترک کرنے والے پر بھی کیا جا سکتا ہے، یہ لازمی نہیں ہے کہ مکمل اسلام کو ترک کرنے والے پر ہی کفر کا اطلاق کیا جائے، تو اسلام اور کفر کے کچھ مقدمات ہیں، اسلام کے اجزاء صرف اسی شخص سے قبول کیے جائیں گے جو ان مقدمات کو بجا لائے گا اور اسلام کے حکم سے وہی شخص خارج ہو گا، جو کفر کے اجزاء میں سے کسی ایک جزء کا مرتکب ہو گا ماسوائے اس شخص کے جو کفر کے مقدمات کو بجا لاتا ہے اور وہ اقرار اور معرفت اور انکار اور نافرمانی ہیں۔) [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5940]

5941

Sahih Ibn Hibban #5941

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّإِبْلِيسَ قَدْ يَئِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ ، وَلَكِنَّهُ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ابلیس اس بات سے مایوس ہو گیا ہے کہ نمازی اب اس کی بندگی کریں گے، البتہ وہ تمہارے درمیان اختلافات پیدا کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5941]

5942

Sahih Ibn Hibban #5942

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمُؤَمَّلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَثَلُ الَّذِي يُعِينُ قَوْمَهُ عَلَى غَيْرِ الْحَقِّ كَمَثَلِ بَعِيرٍ تَرَدَّى فِي بِئْرٍ ، فَهُوَ يُنْزَعُ مِنْهَا بِذَنَبِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص ناحق چیز پر اپنی قوم کی مدد کرتا ہے، اس کی مثال ایسے اونٹ کی طرح ہے جو کسی کنویں میں گر جاتا ہے اور پھر اسے اس کی دم سے پکڑ کر باہر نکالا جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5942]

5943

Sahih Ibn Hibban #5943

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَمَرَّ بِقَوْمٍ يَتَعَاطَوْنَ سَيْفًا بَيْنَهُمْ مَسْلُولا ، فَقَالَ : أَلَمْ أَزْجُرْكُمْ عَنْ هَذَا لِيُغْمِدْهُ ، ثُمَّ يُنَاوِلْهُ أَخَاهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جنہوں نے ایک دوسرے کے مقابلے میں تلواریں نکالی ہوئی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں نے تم لوگوں کو اس چیز سے منع نہیں کیا؟ انہیں میان میں ڈال کر اپنے بھائی سے ملو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5943]