Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 52 · Chapter 2

Book of Pledge

Hadith 5867–5909

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

5867

Sahih Ibn Hibban #5867

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : بَيْنَمَا الْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ بِحِرَابِهِمْ إِذْ دَخَلَ عُمَرُ فَأَهْوَى إِلَى الْحَصَا فَحَصَبَهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَعْهُمْ يَا عُمَرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ حبشی اپنے جنگی ہتھیاروں کے ساتھ کرتب دکھا رہے تھے، اسی دوران سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آ گئے، انہوں نے ان کی طرف کنکریاں پھینکیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عمر! انہیں کرنے دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5867]

5868

Sahih Ibn Hibban #5868

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى تُغَنِّيَانِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَجًّى بِثَوْبِهِ ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ ، فَكَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ وَقَالَ : دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ ، فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ " ، قَالَتْ : وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ ، وَهُمْ يَلْعَبُونَ وَأَنَا جَارِيَةٌ، فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْعَرِبَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے ہاں آئے، اس وقت ان کے پاس دو لڑکیاں بیٹھی ہوئی تھیں جو گانا گا رہی تھیں، یہ عید کے موقع کی بات ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے کے ذریعے چہرہ ڈھانپا ہوا تھا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان لڑکیوں کو ڈانٹا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا: ”اے ابوبکر! ان دونوں کو گانے دو کیونکہ یہ عید کے دن ہیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کے ذریعے مجھے اوٹ میں لیا ہوا تھا اور میں ان حبشیوں کو دیکھ رہی تھی جو کرتب دکھا رہے تھے، میں اس وقت کم سن لڑکی تھی، تو تم خود اندازہ کر لو کہ ایک کم سن لڑکی جس کی عمر بھی زیادہ نہ ہو (اسے اس طرح کے کرتب دیکھنے میں کتنی دلچسپی ہو گی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5868]

5869

Sahih Ibn Hibban #5869

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ، دَخَلَ عَلَيْهَا فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ وَتَضْرِبَانِ بِالدُّفِّ ، فَسَبَّهُمَا وَخَرَقَ دُفَّيْهِمَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَعْهُمَا ، فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایامِ تشریق میں ان کے ہاں آئے، ان کے پاس دو لڑکیاں بیٹھی ہوئی گا رہی تھیں اور دف بجا رہی تھیں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو ڈانٹا اور ان دونوں کی دف کو پھاڑ دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”انہیں کرنے دو کیونکہ یہ عید کے دن ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5869]

5870

Sahih Ibn Hibban #5870

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ الْحَبَشَةَ كَانُوا يَزْفِنُونَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَيَتَكَلَّمُونَ بِكَلامٍ لا يَفْهَمْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا يَقُولُونَ " ؟ قَالُوا : مُحَمَّدٌ عَبْدٌ صَالِحٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حبشی لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرتب دکھایا کرتے تھے اور وہ ایسی باتیں کرتے تھے جو سمجھ نہیں آتی تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کیا کہہ رہے ہیں؟“ تو لوگوں نے بتایا کہ یہ کہہ رہے ہیں: «مُحَمَّدٌ عَبْدٌ صَالِحٌ» ”سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک نیک بندے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5870]

5871

Sahih Ibn Hibban #5871

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَقِيلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ، دَخَلَ عَلَيْهَا فِي أَيَّامِ عِيدٍ وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ ، وَتُدَفِّفَانِ ، وَتَضْرِبَانِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَغَشٍّ بِثَوْبِهِ ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ ، فَكَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَجْهِهِ ، وَقَالَ : دَعْهُنَّ يَا أَبَا بَكْرٍ ، فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ ، وَتِلْكَ أَيَّامُ مِنًى " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ ، وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا جَارِيَةٌ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : فَهَذَا آخِرُ جَوَامِعِ الإِبَاحَاتِ عَنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَمْلَيْنَاهَا بِفُصُولِهَا ، وَقَدْ بَقِيَ فِي هَذَا الْقِسْمِ أَحَادِيثُ بَدَّدْنَاهَا فِي سَائِرِ الأَقْسَامِ ، كَمَا بَدَّدْنَا مِنْهَا فِي هَذَا الْقِسْمِ عَلَى مَا أَصَّلْنَا الْكِتَابَ عَلَيْهِ ، وَإِنَّمَا نُمْلِي بَعْدَ هَذَا الْقِسْمِ الْقِسْمَ الْخَامِسَ مِنْ أَقْسَامِ السُّنَنِ الَّتِي هِيَ أَفْعَالُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفُصُولِهَا ، وَأَنْوَاعِهَا إِنِ اللَّهُ قَضَى ذَلِكَ وَشَاءَهُ ، جَعَلَنَا اللَّهُ مِمَّنْ هُدِيَ لِسَبِيلِ الرَّشَادِ ، وَوُفِّقَ لِسُلُوكِ السَّدَادِ ، وَشَمَّرَ فِي جَمْعِ السُّنَنِ وَالأَخْبَارِ ، وَتَفَقَّهَ فِي صَحِيحِ الآثَارِ ، وَآثَرَ مَا يُقَرِّبُ إِلَى الْبَارِي جَلَّ وَعَلا مِنَ الأَعْمَالِ عَلَى مَا يُبَاعِدُ مِنْهُ فِي الأُصُولِ ، إِنَّهُ خَيْرُ مَسْئُولٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ عید کے دنوں میں ان کے ہاں آئے، تو ان کے پاس دو لڑکیاں بیٹھی ہوئی گانا گا رہی تھیں اور دف بجا رہی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چہرے پر کپڑا لے کر لیٹے ہوئے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں لڑکیوں کو ڈانٹا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور ارشاد فرمایا: ”اے ابوبکر! انہیں کرنے دو کیونکہ یہ عید کے دن ہیں“ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں) یہ منیٰ کے مخصوص دن تھے (یعنی بڑی عید کا موقع تھا)۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کے ذریعے مجھے اوٹ میں لیا ہوا تھا اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی جو مسجد میں کرتب دکھا رہے تھے، میں اس وقت کم سن لڑکی تھی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول اباحات کے بارے میں روایات کا یہ آخری حصہ ہے جسے ہم نے مختلف فصلوں میں املا کروایا ہے، اس قسم سے تعلق رکھنے والی کچھ احادیث باقی رہ گئی ہیں، جنہیں ہم دیگر اقسام میں ذکر کر دیں گے جس طرح ہم نے انہیں اس قسم میں ذکر کیا ہے جو اس بنیادی طریقہ کار کے مطابق ہے جس کے مطابق ہم نے کتاب ترتیب دی ہے۔ اس قسم کے بعد ہم سنن کی پانچویں قسم املا کروائیں گے اور یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ افعال ہیں جو ان کی فصول اور انواع کے ہمراہ املا کروائے جائیں گے، اگر اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا اور اس نے یہ چاہا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جن کی رہنمائی سیدھے راستے کی طرف کی گئی اور درست راستے کی توفیق دی گئی اور جنہوں نے سنن اور اخبار کو جمع کرنے کا ارادہ کیا اور مستند روایات کا فہم حاصل کیا اور اس چیز کو ترجیح دی جو اعمال انہیں باری تعالیٰ کی بارگاہ میں مقرب کر سکتے ہیں اور اس چیز پر ترجیح دی جو اصول میں اس سے دور کرتے ہیں، بیشک وہ (یعنی اللہ تعالیٰ) سب سے بہتر مسؤول ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5871]

5872

Sahih Ibn Hibban #5872

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص پانسہ کھیلتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5872]

5876

Sahih Ibn Hibban #5876

قَالَ الزُّهْرِيُّ ، وَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : دَخَلَ عُمَرُ وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَعْهُمْ يَا عُمَرُ ، فَإِنَّهُمْ هُمْ بَنُو أَرْفِدَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ (ان کے) ہاں آئے، اس وقت ان کے پاس دو لڑکیاں بیٹھی ہوئی دف بجا کر گانا گا رہی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے پر کپڑا ڈال کر آرام فرما رہے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں لڑکیوں کو ڈانٹا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کپڑا ہٹایا اور فرمایا: ”اے ابوبکر! انہیں کرنے دو کیونکہ یہ عید کے دن ہیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب حبشیوں کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ لوگ مسجد میں کھڑے ہو کر کرتب دکھانے لگے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے مجھے اپنی چادر کی اوٹ میں کر لیا، میں ان لوگوں کو دیکھتی رہی، وہ لوگ مسجد میں کرتب دکھا رہے تھے یہاں تک کہ میں ہی اکتا گئی، تم لوگ خود اندازہ کر لو کہ ایک ایسی لڑکی جس کی عمر کم ہو اسے اس طرح کے کھیل کود دیکھنے کا کتنا شوق ہو گا۔ زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ (مسجد میں) داخل ہوئے، اس وقت حبشی لوگ مسجد میں کرتب دکھا رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! انہیں کرنے دو کیونکہ یہ بنو ارفدہ ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5876]

5877

Sahih Ibn Hibban #5877

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْهَبَّارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو بَكْرٍ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ مِنْ جَوَارِي الأَنْصَارِ ، تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتِ الأَنْصَارُ يَوْمَ بُعَاثٍ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَمِزْمَارُ الشَّيْطَانِ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ وَذَلِكَ فِي يَوْمِ عِيدٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَبَا بَكْرٍ ،إِنَّ لِكُلَّ قَوْمٍ عِيدًا ، وَهَذَا عِيدُنَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے ہاں تشریف لائے، اس وقت میرے پاس انصار کی دو لڑکیاں بیٹھی ہوئی گانا گا رہی تھیں جو جنگ بعاث کے موقع پر انصار کے طرز عمل کے بارے میں تھا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں شیطان کے آلات موجود ہیں؟ یہ عید کے دنوں کی بات ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوبکر! ہر قوم کی ایک مخصوص عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5877]

5878

Sahih Ibn Hibban #5878

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ، قَالَتْ : جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيَّ صَبِيحَةَ عُرْسِي ، فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي ، فَجَعَلَتْ جُوَيْرِيَاتٌ لَنَا يَضْرِبْنَ بِدُفٍّ لَهُنَّ ، وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ إِلَى أَنْ قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ : وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَعِي هَذَا وَقُولِي مَا كُنْتِ تَقُولِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری شادی کی صبح ہمارے ہاں آئے تو میرے بستر پر تشریف فرما ہوئے جس طرح تم میرے پاس بیٹھے ہوئے ہو، تو انصار کی کچھ لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور غزوہ بدر کے موقع پر شہید ہونے والے اپنے آباؤ اجداد کی تعریفیں کر رہی تھیں، ان میں سے ایک لڑکی نے یہ مصرع بھی پڑھ دیا: ”ہمارے درمیان ایک ایسا نبی موجود ہے جو کل جو کچھ ہونا ہے اس کے بارے میں بھی جانتا ہے۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے چھوڑ دو اور وہی گاؤ جو پہلے گا رہی تھیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5878]

5879

Sahih Ibn Hibban #5879

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيَّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ ، يَقُولُ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا بِأَرْضٍ مِنْ أَهْلِ كِتَابٍ نَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ ، وَإِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ صَيْدٍ ، أَصِيدُ بِقَوْسِي ، وَبِالْكَلْبِ الْمُكَلَّبِ ، وَبِالْكَلْبِ الَّذِي لَيْسَ بِمُكَلَّبٍ ، فَأَخْبِرْنِي مَاذَا يَحِلُّ لَنَا مِمَّا يَحْرُمُ عَلَيَّ مِنْ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ تَأْكُلُونَ فِي آنِيَتِهِمْ ، فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَلا تَأْكُلُوا فِيهَا ، وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَاغْسِلُوهَا وَكُلُوا فِيهَا ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الصَّيْدِ ، فَمَا صِدْتَ بِقَوْسِكَ فَكُلْ مِنْهُ ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ ، وَأَمَّا مَا أَصَابَ كَلْبُكَ الْمُكَلَّبُ ، فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكَ عَلَيْكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ ، وَأَمَّا مَا أَصَابَ كَلْبُكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُكَلَّبٍ ، فَإِنْ أَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ ، وَمَا لَمْ تُدْرِكْ ذَكَاتَهُ فَلا تَأْكُلْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اہل کتاب کی سرزمین پر رہتے ہیں، ہم ان کے برتنوں میں کھا لیتے ہیں، ہمارا علاقہ ایسا ہے جہاں شکار بہت ہوتا ہے، میں اپنی کمان کے ذریعے شکار کرتا ہوں اور تربیت یافتہ کتے کے ذریعے بھی کرتا ہوں اور غیر تربیت یافتہ کتے کے ذریعے بھی کرتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بتائیے کہ ان میں سے کون سی چیز میرے لیے حرام ہے؟“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جہاں تک تم نے اس بات کا ذکر کیا ہے تم اہل کتاب کی سرزمین پر رہتے ہو اور ان کے برتنوں میں کھاتے ہو، تو اگر تمہیں ان کے برتنوں کے علاوہ برتن مل جاتے ہیں تو تم ان کے برتنوں میں نہ کھاؤ، لیکن اگر تمہیں ان برتنوں کے علاوہ اور برتن نہیں ملتے تو تم ان کے برتنوں کو دھو کر ان میں کھا لو۔ جہاں تک تم نے شکار کا ذکر کیا ہے، تو جس چیز کو تم اپنی کمان کے ذریعے شکار کرتے ہو اسے تم کھا لو، اس پر اللہ کا نام لے لو، اور جو شکار تربیت یافتہ کتا تمہارے لیے محفوظ رکھتا ہے، تم اللہ کا نام لے کر اس میں سے کھا لو، اور جو شکار غیر تربیت یافتہ کتے کے ذریعے ہوتا ہے، اگر تمہیں اس شکار کو ذبح کرنے کا موقع مل جاتا ہے، تو اسے کھا لو اور جسے ذبح کرنے کا موقع نہیں ملتا، اسے تم نہ کھانا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصيد/حدیث: 5879]

5880

Sahih Ibn Hibban #5880

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَرْمِي بِسَهْمِي فَأُصِيبُ ، فَلا أَقْدِرُ عَلَيْهِ إِلا بَعْدَ يَوْمٍ أَوِ اثْنَيْنِ ، قَالَ : إِنْ قَدَرْتَ عَلَيْهِ وَلَيْسَ بِهِ أَثَرٌ ، وَلا خَدْشٌ إِلا رَمْيَتُكَ فَكُلْ ، وَإِنْ وَجَدْتَ بِهِ أَثَرًا غَيْرَ رَمْيَتِكَ فَلا تَأْكُلْ ، وَإِنْ أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ ، فَأَدْرَكْتَهُ قَبْلَ أَنْ يَقْتُلَهُ فَذَكِّهِ ، وَإِنْ أَدْرَكْتَهُ قَدْ قَتَلَهُ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا فَكُلْهُ ، وَإِنْ أَدْرَكْتَهُ وَقَدْ أَكَلَ مِنْهُ فَلا تَأْكُلْ ، فَإِنَّهُ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ " ، قَالَ عَدِيٌّ : فَإِنِّي أُرْسِلُ كِلابِي وَأَذْكُرُ اسْمَ اللَّهِ ، فَتَخْتَلِطُ بِكِلابِ غَيْرِي ، فَيَأْخُذْنَ الصَّيْدَ فَيَقْتُلْنَهُ ، قَالَ : " فَلا تَأْكُلْ ، فَإِنَّكَ لا تَدْرِي : كِلابُكَ قَتَلَتْهُ أَمْ كِلابُ غَيْرِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میں اپنے تیر کے ذریعے شکار کرتا ہوں، بعض اوقات وہ تیر شکار کو لگ جاتا ہے، لیکن ایک یا دو دن گزرنے کے بعد مجھے وہ شکار ملتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر وہ تمہیں ایسی حالت میں ملتا ہے کہ اس پر تمہارے تیر کے نشان کے سوا کوئی اور نشان یا زخم نہ ہو تو تم اسے کھا لو، اور اگر تمہیں اپنے تیر کے نشان کے علاوہ کوئی اور نشان اس پر مل جائے تو تم اسے نہ کھاؤ۔ اور اگر تم اپنے کتے کو چھوڑتے ہوئے اللہ کا نام ذکر کر دیتے ہو اور تمہیں وہ شکار مل جاتا ہے اور اس کتے نے اسے مارا نہیں تھا، تو تم اسے ذبح کر لو، اگر وہ تمہیں ایسی حالت میں ملتا ہے کہ کتے نے اسے مار دیا تھا اور خود اس میں سے کچھ نہیں کھایا تھا تو تم اسے کھا لو، اور اگر تمہیں ایسی حالت میں ملتا ہے کہ کتے نے اس میں سے کچھ کھا لیا تھا، تو تم اسے نہ کھاؤ کیونکہ یہ شکار اس نے اپنے لیے کیا تھا۔“ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اگر میں اپنے کتے کو چھوڑتا ہوں اور اس پر اللہ کا نام بھی لے لیتا ہوں پھر میرے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی ساتھ مل جاتا ہے اور وہ دونوں شکار کرتے ہیں اور شکار کو مار دیتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے نہ کھاؤ کیونکہ تم یہ بھی نہیں جانتے کہ کیا تمہارے کتے نے اسے قتل کیا ہے یا دوسرے کتے نے اسے مارا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصيد/حدیث: 5880]

5881

Sahih Ibn Hibban #5881

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرْسِلُ الْكِلابَ الْمُعَلَّمَةَ فَيُمْسِكْنَ عَلَيَّ ، وَأَذْكُرُ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ ، قَالَ : إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلِّمَ ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلْ " ، قُلْتُ : وَإِنْ قَتَلْنَ ؟ قَالَ : " وَإِنْ قَتَلْنَ ، مَا لَمْ يَشْرَكْهَا كَلْبٌ لَيْسَ مَعَهَا " ، قُلْتُ لَهُ : فَإِنِّي أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ الصَّيْدَ فَأُصِيبُ ، قَالَ : " إِذَا رَمَيْتَ بِالْمِعْرَاضِ ، فَخَزَقَ فَكُلْهُ ، وَإِنْ أَصَابَهُ بِعَرْضِهِ فَلا تَأْكُلْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے تربیت یافتہ کتے کو چھوڑتا ہوں، وہ میرے لیے شکار روک لیتا ہے اور میں اس پر اللہ کا نام بھی ذکر کر دیتا ہوں (تو اس کا کیا حکم ہو گا)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم اپنے تربیت یافتہ کتے کو چھوڑتے وقت اس پر اللہ کا نام لے لو، تو تم اسے کھا لو۔“ میں نے عرض کی: اگرچہ اس نے شکار کو مار دیا ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگرچہ اس نے شکار کو مار دیا ہو، بشرطیکہ اس کے ہمراہ کوئی ایسا کتا شریک نہ ہو جو ان میں شامل نہیں تھا۔“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: میں بعض اوقات تیر مارتا ہوں جو اسے لگ جاتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم تیر کو چوڑائی کی سمت میں مارتے ہو اور وہ اسے پھاڑ دیتا ہے تو تم اسے کھا لو، لیکن اگر وہ اس کو چوڑائی کی سمت میں لگتا ہے (اور جانور چوٹ لگنے سے مرتا ہے) تو تم اسے نہ کھاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصيد/حدیث: 5881]

5882

Sahih Ibn Hibban #5882

قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنِي ، قَالَ : أَقِمِ الصَّلاةَ ، وَآتِ الزَّكَاةَ ، وَصُمْ رَمَضَانَ ، وَحُجَّ الْبَيْتَ ، وَاعْتَمِرْ ، وَبِرَّ وَالِدَيْكَ ، وَصِلْ رَحِمَكَ ، وَاقْرِ الضَّيْفَ ، وَمُرْ بِالْمَعْرُوفِ ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَزُلْ مَعَ الْحَقِّ حَيْثُ زَالَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قاسم بن مخول بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا، انہیں زمانہ جاہلیت اور اسلام دونوں کو دیکھنے کا موقع ملا ہے، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے ابواء کے مقام پر کچھ رسیاں باندھ دیں، ان رسیوں میں ایک ہرن پھنس گیا، پھر وہ وہاں سے نکل گیا، میں اس کی تلاش میں نکلا تو مجھے ایک شخص ملا جس نے اسے پکڑ لیا تھا، ہم اس ہرن کے بارے میں اپنا مقدمہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابواء میں ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیے ہوئے پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چمڑے کے ٹکڑے کے ذریعے سایہ کیا ہوا تھا، ہم نے اپنا مقدمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا کہ ”وہ تم دونوں کے درمیان برابر تقسیم ہوگا۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بعض اوقات ہمیں کچھ اونٹ ملتے ہیں جن میں دودھ والی اونٹنیاں بھی ہوتی ہیں جن کے تھنوں میں دودھ رکا ہوا ہوتا ہے اور ہمیں اس کی شدید ضرورت بھی ہوتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم تین مرتبہ اونٹوں کے مالک کو پکارو، اگر وہ آ جائے تو ٹھیک ہے، ورنہ اس کا دودھ دوہ کر پی لو اور پھر دوہ لو اور پھر کچھ دودھ (اس کے تھنوں میں) باقی رہنے دو۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بعض اوقات کوئی دوسرا جانور ہمارے پاس آ جاتا ہے، تو اگر ہم اسے کچھ پلاتے ہیں تو کیا ہمیں اس کا اجر ملے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں، ہر جاندار کے ساتھ (اچھائی کرنے کا اجر ملتا ہے)۔“ پھر اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ بات چیت کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ جب سب سے بہترین مال بکریاں ہوں گی جو دو سجدوں کے درمیان ہوں گی، وہ درختوں سے (پتے) کھا لیں گی، پانی تک آ جائیں گی، ان کا مالک ان کے پیچھے پیچھے آئے گا اور ان کا دودھ پی لے گا، ان کی اون کے ذریعے کپڑے پہنے گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ان کے بالوں کے ذریعے کپڑے پہنے گا، جبکہ اللہ کی قسم! فتنے عربوں کے اندر سرایت کر چکے ہوں گے۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اس بارے میں تلقین کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نماز ادا کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، بیت اللہ کا حج کرو اور عمرہ کرو، اور اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو، رشتے داری کے حقوق کا خیال رکھو، مہمان کی عزت افزائی کرو، نیکی کا حکم دو، برائی سے منع کرو اور حق کے ساتھ رہو خواہ وہ جہاں بھی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصيد/حدیث: 5882]

5883

Sahih Ibn Hibban #5883

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: دو باتیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یاد رکھی ہیں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:) ”بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ اچھائی کرنے کو لازم قرار دیا ہے، تو جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو، تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، تمہیں اپنی چھری کو تیز کر لینا چاہیے اور اپنے ذبیحہ کو تکلیف نہیں پہنچانی چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الذبائح/حدیث: 5883]

5884

Sahih Ibn Hibban #5884

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ بِالْبَصْرَةَ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَحِمَهُ اللَّهُ : أَرَادَ بِقَوْلِهِ : " أَحْسَنُوا الْقِتْلَةَ " فِي الْقِصَاصِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: دو باتیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یاد رکھی ہیں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:) ”بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ اچھائی کرنے کو لازم قرار دیا ہے، تو جب تم کسی کو قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو، تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، تمہیں اپنی چھری کو تیز کر لینا چاہیے اور اپنے ذبیحے کو راحت پہنچانی چاہیے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”اچھے طریقے سے قتل کرو“ اس سے مراد یہ ہے: جب قصاص لیتے ہوئے قتل کرو (تو تکلیف نہ پہنچاؤ)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الذبائح/حدیث: 5884]

5885

Sahih Ibn Hibban #5885

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْعَبَّاسِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَاضِرَ بْنَ الْمُهَاجِرِ أَبَا عِيسَى الْبَاهِلِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّذِئْبًا نَيَّبَ فِي شَاةٍ ، فَذَبَحُوهَا بِمَرْوَةٍ ، فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهَا فَأَكَلُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک بھیڑیے نے ایک بکری میں پنجے گاڑ دیے (اسے زخمی کر دیا) تو لوگوں نے پتھر کے ذریعے اس بکری کو ذبح کر لیا۔ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس بکری کا گوشت کھانے کی اجازت دی“ تو لوگوں نے اسے کھا لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الذبائح/حدیث: 5885]

5886

Sahih Ibn Hibban #5886

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ، فَأَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ ، وَأَصَبْنَا إِبِلا وَغَنَمًا ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ ، فَعَجِلُوا فَذَبَحُوا وَنَصَبُوا الْقُدُورَ ، فَرَجَعَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِالْقُدُورِ فَأُكْفِئَتْ ، ثُمَّ قَسَمَ ، فَعَدَلَ عَشْرًا مِنَ الْغَنَمِ بِبَعِيرٍ ، فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ ، وَكَانَ فِي الْقَوْمِ خَيْلٌ يَسِيرَةٌ ، فَطَلَبُوهُ فَأَعْيَاهُمْ ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهَذِهِ الْبَهَائِمَ لَهَا أَوَابِدُ كَأَوَابِدِ الْوحُوشِ ، فَمَا نَدَّ عَلَيْكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا " ، وَقَالَ جَدِّي : إِنَّا نَرْجُو أَنْ نَلْقَى غَدًا عَدُوًّا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى ، فَنَذْبَحُ بِالْقُضُبِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَنْهَرَ الدَّمُ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلْ ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ ، أَمَا السِّنُّ فَعَظْمٌ ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ "، فِي هَذَا الْخَبَرِ كَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْبَدَنَةَ تَقُومُ عَنْ عَشْرَةٍ عِنْدَ النَّحْرِ قَالَهُ الشَّيْخُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ذوالحلیفہ میں موجود تھے، لوگوں کو بھوک لاحق تھی، ہمیں کچھ اونٹ اور بکریاں ملے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے کچھ پیچھے تشریف لا رہے تھے، لوگوں نے جلدی سے انہیں ذبح کیا اور ہنڈیاں چڑھا دیں۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ہنڈیاں الٹا دی گئیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تقسیم کرنا شروع کیا تو دس بکریاں ایک اونٹ کی جگہ ایک آدمی کے حصے میں آئیں، ان میں سے ایک اونٹ سرکش ہو گیا، لوگوں کے پاس گھوڑے کم تھے، وہ لوگ اس اونٹ کے پیچھے بھاگے لیکن تھک گئے (اور اسے پکڑ نہ سکے)، ایک شخص نے اپنا تیر اسے مار کر اسے رکنے پر مجبور کر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان جانوروں میں بھی بعض جانور وحشی جانوروں کی طرح سرکش ہوتے ہیں، ان میں سے جو سرکش ہو جائے تم اس کے ساتھ یہی طرز عمل اختیار کرو۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) میرے دادا نے یہ عرض کی: ہمیں یہ امید ہے کہ ہم کل دشمن سے سامنا کریں گے، ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، تو کیا ہم بانس کے ذریعے ذبح کر لیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو چیز خون کو بہا دے اور جس چیز کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا گیا ہو تو تم اسے کھا لو، ماسوائے اس کے جسے ہڈی کے ذریعے ذبح کیا جائے یا جسے حبشیوں کی مخصوص چھری کے ذریعے ذبح کیا جائے۔“ (راوی کہتے ہیں:) میں تمہیں اس بارے میں بتاتا ہوں، لفظ «السِّنُّ» (سن) سے مراد ہڈی ہے اور لفظ «الظُّفُرُ» (ظفر) سے مراد حبشیوں کی مخصوص چھری ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے ایک اونٹ قربانی میں دس آدمیوں کی طرف سے کافی ہوتا ہے، یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الذبائح/حدیث: 5886]

5887

Sahih Ibn Hibban #5887

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ الأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ صَادَ أَرْنَبَيْنِ ، فَذَبَحَهُمَا بِمَرْوَةٍ ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَأَمَرَهُ بِأَكْلِهِمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا محمد بن صفوان انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے دو خرگوشوں کا شکار کیا، انہوں نے پتھر کے ذریعے انہیں ذبح کر لیا، پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان دونوں کو کھانے کی اجازت دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الذبائح/حدیث: 5887]

5888

Sahih Ibn Hibban #5888

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرِيطَةِ الشَّيْطَانِ "، قَالَ عِكْرِمَةُ : كَانُوا يَقْطَعُونَ مِنْهَا الشَّيْءَ الْيَسِيرَ ، ثُمَّ يَدَعُونَهَا حَتَّى تَمُوتَ ، وَلا يَقْطَعُونَ الْوَدَجَ ، نَهَى عَنْ ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «شَرِيْطَةِ الشَّيْطَانِ» ”شیطان کے شریطہ“ سے منع فرمایا ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: پہلے لوگ تھوڑے سے حصے کو کاٹ دیتے تھے، پھر جانور کو یونہی چھوڑ دیتے تھے یہاں تک کہ وہ مر جاتا تھا، وہ اس کی رگیں نہیں کاٹتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز سے منع فرمایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الذبائح/حدیث: 5888]

5889

Sahih Ibn Hibban #5889

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَنَسٍ الْعَسْكَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ذَكَاةُ الْجَنِينِ ذَكَاةُ أُمِّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”(حاملہ جانور کے پیٹ میں موجود) بچے کی ماں کو ذبح کرنا اسے ذبح کرنا شمار ہوگا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الذبائح/حدیث: 5889]

5890

Sahih Ibn Hibban #5890

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا فَرَعَ ، وَلا عَتِيرَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: «لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ» ”فرع اور عتیرہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الذبائح/حدیث: 5890]

5891

Sahih Ibn Hibban #5891

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّا كُنَّا نَذْبَحُ ذَبَائِحَ فَنَأْكُلُ مِنْهَا ، وَنُطْعِمُ مَنْ جَاءَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا بَأْسَ بِذَلِكَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذِهِ الذَّبَائِحُ الَّتِي أَبَاحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ يَفْعَلُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ إِنَّمَا هِيَ غَيْرُ الْفَرَعِ ، وَالْعَتِيرَةِ الْمَنْهِيِّ عَنْهُمَا فِي الإِسْلامِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابورزین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، انہوں نے عرض کی: ہم اپنے جانور کو ذبح کرتے ہیں پھر اس میں سے کھا لیتے ہیں اور جو ہمارے پاس آتا ہے اسے کھلا دیتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ وہ ذبائح ہیں، جنہیں زمانہ جاہلیت کے لوگ کیا کرتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مباح قرار دیا ہے لیکن «الْفَرَعُ» (فرع) اور «الْعَتِيرَةُ» (عتیرہ) کے علاوہ ہے جن سے اسلام میں منع کیا گیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الذبائح/حدیث: 5891]

5892

Sahih Ibn Hibban #5892

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ خَادِمًا لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ كَانَتْ تَرْعَى غَنَمَهُ بِسَلْعٍ ،فَأَرَادَتْ شَاةٌ مِنْهَا أَنْ تَمُوتَ ، فَلَمْ تَجِدْ حَدِيدَةً تُذَكِّيهَا ، فَذَكَّتْهَا بِمَرْوَةٍ ، فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِأَكْلِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کا ایک ملازم ان کی بکریاں سلع پہاڑ کے پاس چرا رہا تھا، ان میں سے ایک بکری مرنے کے قریب ہوئی تو اس کنیز کو اسے ذبح کرنے کے لیے چھری نہیں ملی تو اس نے پتھر کے ذریعے اسے ذبح کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس کا گوشت کھانے کا حکم دیا“ (یعنی اجازت دی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الذبائح/حدیث: 5892]

5893

Sahih Ibn Hibban #5893

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، يُخْبِرُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ جَارِيَةً لَهُمْ كَانَتْ تَرْعَى بِسَلْعٍ ، فَرَأَتْ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا مَوْتًا ، فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ ، فَقَالَ لأَهْلِهِ : لا تَأْكُلُوا مِنْهُ حَتَّى آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ جَارِيَةً لَنَا كَانَتْتَرْعَى بِسَلْعٍ ، فَأَبْصَرَتْ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا مَوْتًا ، فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَكْلِهَا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الْخَبَرُ عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَعَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ بتاتے ہوئے سنا کہ ان کے والد (یعنی سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) نے انہیں بتایا کہ ان کی ایک کنیز تھی جو ”سلع“ پہاڑ کے پاس بکریاں چرا رہی تھی، اس نے اپنی بکریوں میں سے ایک بکری کو مرنے کے قریب دیکھا تو ایک پتھر توڑ کر اس کے ذریعے اسے ذبح کر لیا، پھر سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر والوں سے کہا: ”تم اس کا گوشت اس وقت تک نہ کھاؤ جب تک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت نہ کر لوں۔“ چنانچہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہماری ایک کنیز ”سلع“ پہاڑ کے پاس بکریاں چرا رہی تھی، اس نے ان بکریوں میں سے ایک بکری کو قریبِ مرگ دیکھا تو پتھر توڑ کر اس کے ذریعے اسے ذبح کر لیا۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس (بکری) کا گوشت کھانے کی اجازت دی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت نافع کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے اور نافع کے حوالے سے سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کے حوالے سے ان کے والد سے بھی منقول ہے، تو اس کے تمام طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الذبائح/حدیث: 5893]

5894

Sahih Ibn Hibban #5894

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، عَنْ خَلَفِ بْنِ مِهْرَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَامِرٌ الأَحْوَلُ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّرِيدَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا عَبَثًا عَجَّ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَقُولُ : يَا رَبِّ ، إِنَّ فُلانًا قَتَلَنِي عَبَثًا ، وَلَمْ يَقْتُلْنِي مَنْفَعَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمرو بن شرید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص بلاوجہ کسی چڑیا کو مار دیتا ہے، تو وہ چڑیا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں فریاد کرے گی: اے میرے پروردگار! فلاں شخص نے مجھے بلاوجہ مار دیا تھا، اس نے کسی فائدے کے لیے مجھے نہیں مارا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الذبائح/حدیث: 5894]

5895

Sahih Ibn Hibban #5895

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَإِذَا شَهِدُوا أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا ، وَأَكَلُوا ذَبِيحَتَنَا ، وَصَلُّوا صَلاتَنَا ، فَقَدْ حُرِّمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ ، لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ ، وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَيْهِمْ ". مَا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ إِلا ثَلاثَةُ نَفَرٍ مِنَ الْغُرَبَاءِ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ سُمَيْعٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرتا رہوں، جب تک وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اور جب وہ اس بات کی گواہی دے دیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، وہ ہمارے قبلہ کی طرف رخ کر لیں، ہمارے ذبیحہ کو کھائیں، ہماری نماز کے مطابق نماز ادا کریں، تو ان کی جانیں اور مال ہمارے لیے قابل احترام ہو جائیں گے، انہیں وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو مسلمانوں کو حاصل ہوتے ہیں اور ان پر وہ تمام پابندیاں عائد ہوں گی جو مسلمانوں پر عائد ہوتی ہیں۔“ یہ روایت حمید طویل کے حوالے سے صرف تین آدمیوں نے نقل کی ہے: عبداللہ بن مبارک، یحییٰ بن ایوب عجلی اور محمد بن عیسیٰ بن قاسم بن سمیع۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الذبائح/حدیث: 5895]

5896

Sahih Ibn Hibban #5896

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ الْبَلَدِيُّ بِوَاسِطَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ زَيْدٍ الْخَطَّابِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : عِنْدَكُمْ شَيْءٌ سِوَى كِتَابِ اللَّهِ ؟ قَالَ : لا ، إِلا مَا فِي قِرَابِ هَذَا السَّيْفِ صَحِيفَةً صَغِيرَةً ، قَالَ : فَوَجَدْنَا فِيهَا لَعَنَ اللَّهُ مَنْ أَهَلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ تَوَلَّى لِغَيْرِ مَوَالِيهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوطفیل بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا آپ کے پاس اللہ کی کتاب کے علاوہ کوئی اور چیز بھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں، ماسوائے اس چیز کے، جو تلوار کے میان کے اندر ایک چھوٹا سا صحیفہ موجود ہے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے اس میں یہ بات پائی: ”اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو غیر اللہ کے نام پر جانور قربان کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو اپنے اصل آقا کی بجائے کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الذبائح/حدیث: 5896]

5897

Sahih Ibn Hibban #5897

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ الْخَوْلانِيِّ ، أَنَّ ابْنَ الْمُسَيِّبِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ ، فَلا يُقَلِّمْ أَظْفَارَهُ ، وَلا يَحْلِقْ شَيْئًا مِنْ شَعْرِهِ فِي الْعَشْرِ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ کرے وہ ذی الحجہ میں اپنے ناخن نہ تراشے اور اپنے بال نہ کاٹے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5897]

5898

Sahih Ibn Hibban #5898

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَغَنَمًا أَقْسِمُهَا عَلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَسَمْتُهَا ، فَبَقِيَ مِنْهَا عَتُودٌ ، فَذَكَرْتُهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ضَحِّ بِهِ أَنْتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ بکریاں دیں تاکہ میں انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں تقسیم کر دوں، میں نے انہیں تقسیم کر دیا، ان میں سے ایک چھ ماہ کا بکری کا بچہ باقی بچا، میں نے اس کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تم قربان کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5898]

5899

Sahih Ibn Hibban #5899

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طُعْمَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ غَنَمًا لِلضَّحَايَا ،فَأَعْطَانِي عَتُودًا مِنَ الْمَعْزِ ، فَجِئْتُهُ بِهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ جَذَعٌ ، فَقَالَ : ضَحِّ بِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کے درمیان کچھ بکریاں قربانی کے لیے تقسیم کیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے چھ ماہ کا بکری کا بچہ مجھے عطا کر دیا، میں اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تو چھ ماہ کا بچہ ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی قربانی کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5899]

5900

Sahih Ibn Hibban #5900

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ ، يُسَمِّي وَيُكَبِّرُ ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُ بِيَدِهِ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سیاہ آنکھوں والے اور سینگوں والے دنبے قربان کیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا نام لے کر تکبیر کہی «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے“۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک کے ذریعے انہیں ذبح کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پاؤں ان کے پہلو پر رکھا ہوا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5900]

5901

Sahih Ibn Hibban #5901

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْجَرْجَرَائِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هُشَيْمُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ ، وَكَانَ يُسَمِّي وَيُكَبِّرُ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَاضِعًا عَلَى صِفَاحِهِمَا قَدَمَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاہ آنکھوں والے اور سینگوں والے دو دنبے قربان کیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا نام لے کر تکبیر کہی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک کے ذریعے انہیں ذبح کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پاؤں مبارک ان کے پہلو پر رکھا ہوا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5901]

5902

Sahih Ibn Hibban #5902

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ضَحَّى بِكَبْشٍ أَقْرَنَ فَحِيلٍ يَأْكُلُ فِي سَوَادٍ ، وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ ، وَيَشْرَبُ فِي سَوَادٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والے دنبے کو قربان کیا جس کے منہ اور آنکھوں کے پاس کی جگہ سیاہ تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5902]

5903

Sahih Ibn Hibban #5903

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ أَتَى عَلَى رَجُلٍ قَدْ أَنَاخَ بَدَنَتَهُ يَنْحَرُهَا ، قَالَ : ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً ، سُنَّةُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زیاد بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ ایک شخص کے پاس آئے جس نے اپنی قربانی کے اونٹ کو قربان کرنے کے لیے بٹھا دیا تھا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم اسے کھڑا کر کے اور باندھ کر ذبح کرو، جو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5903]

5904

Sahih Ibn Hibban #5904

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الأَشَجِّ ، حَدَّثَهُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيَّ حَدَّثَهُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : ضَحَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَذَعَ مِنَ الضَّأْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں قربانی کرتے ہوئے چھ ماہ کی بھیڑ کی بھی قربانی کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5904]

5905

Sahih Ibn Hibban #5905

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجَ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ نِيَارٍ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الأَضْحَى ، فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ أُضْحِيَّةً أَخِّرِي ، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ : لا أَجِدُ إِلا جَذَعًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَإِنْ لَمْ تَجِدْ إِلا جَذَعًا ، فَاذْبَحْهُ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَمْرُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِعَادَةِ الأُضْحِيَّةِ أَمْرُ نَدْبٍ قَصَدَ بِهِ التَّعْلِيمَ ، إِذِ النَّسِيكَةُ لا يَكُونُ فَضْلُهَا إِلا لِمَنْ ذَبْحَهَا بَعْدَ الصَّلاةِ ، فَمَا كَانَ مِنْهَا قَبْلَ الصَّلاةِ فَفِيهِ الْفَضْلُ لا فَضْلَ النَّسِيكَةِ ، لأَنَّ الشَّيْءَ إِذَا جُعِلَ لِفَضْلِ الْوَقْتِ ثُمَّ نُدِبَ إِلَيْهِ ، لَوْ قَدَّمَهُ الإِنْسَانُ عَنْ وَقْتِهِ لَمْ يَجِدْ ذَلِكَ الْفَضْلَ الَّذِي وُعِدَ عَلَى ذَلِكَ الْفَضْلِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ الْوَقْتِ ، وَإِنْ لَمْ يَعْدَمِ الْفَضْلَ فِي ذَلِكَ الْفِعْلِ الْمُقَدَّمِ عَنْ وَقْتِهِ ، وَنَظِيرُ هَذَا أَنَّ صَلاةَ الضُّحَى نُدِبَ إِلَيْهَا لِوَقْتِ الضُّحَى ، فَلَوْ صَلَّى إِنْسَانٌ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ يُرِيدُ بِهِ صَلاةَ الضُّحَى لَمْ يُؤْجَرْ عَلَيْهِ أَجْرَ صَلاةِ الضُّحَى ، وَإِنْ كَانَ الْفَضْلُ مَوْجُودًا فِي صَلاتِهِ تِلْكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عیدِ قربان کے دن ذبح کرنے سے پہلے اپنا جانور ذبح کر لیا۔ سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ دوسری قربانی کریں۔ سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: مجھے تو صرف چھ ماہ کا بچہ ملتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تمہیں صرف چھ ماہ کا بچہ ملتا ہے تو تم اسے ہی ذبح کر دو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دینا یہ استحباب کے طور پر تھا اور اس کے ذریعے مراد تعلیم دینا تھا کیونکہ قربانی کی فضیلت اس وقت حاصل ہوتی ہے جو شخص نمازِ عید ادا کرنے کے بعد اسے ذبح کرتا ہے، جو شخص نمازِ عید سے پہلے قربانی کر لیتا ہے تو اس میں فضیلت تو ہے لیکن قربانی کی فضیلت نہیں ہے کیونکہ جب کسی چیز کو کسی خاص وقت کے ساتھ مخصوص کیا گیا ہو اور پھر اسے اس بارے میں مستحب قرار دیا گیا ہو تو اگر آدمی اس مخصوص وقت سے پہلے وہ کام کرے تو اسے اس عمل کی وہ فضیلت حاصل نہیں ہوتی جو اس مخصوص وقت میں کرنے کی فضیلت کا وعدہ کیا گیا ہے اگرچہ وقت سے پہلے کیے جانے والے اس فعل کی فضیلت مطلق طور پر بھی معدوم نہیں ہوتی، اس کی مثال یہ ہے کہ چاشت کی نماز کے لیے مستحب یہ قرار دیا گیا ہے کہ اسے چاشت کے وقت ادا کیا جائے، اگر کوئی شخص رات کے وقت چاشت کی نماز کے طور پر کوئی نماز ادا کر لیتا ہے تو اسے چاشت کی نماز کا اجر نہیں ملے گا، لیکن اسے وہ نماز پڑھنے کا اجر ملے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5905]

5906

Sahih Ibn Hibban #5906

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي يَوْمِ عِيدٍ : أَوَّلُ مَا نَبْدَأُ يَوْمَنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَنْحَرَ ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ ، فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا ، وَمَنْ تَعَجَّلَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لأَهْلِهِ " ، قَالَ : وَكَانَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاةِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عِنْدِيَ جَذَعَةً خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ ، قَالَ : " اجْعَلْهَا مَكَانَهَا ، وَلَنْ تُجْزِئَ أَوْ تُوُفِّيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن ارشاد فرمایا: ”آج کے دن ہم سب سے پہلے نماز عید ادا کریں گے، پھر ہم قربانی کریں گے، جس شخص نے ایسا کیا اس نے سنت کے مطابق عمل کیا اور جس شخص نے جلدی کر لی تھی، تو یہ صرف ایک گوشت ہے جو اس نے اہل خانہ کے لیے تیار کیا ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نماز عید سے پہلے قربانی کر چکے تھے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس تو ایک چھ ماہ کا بچہ ہے جو ایک سال کے بچے سے بہتر ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تم اس کی جگہ قربان کر لو، لیکن تمہارے بعد یہ کسی کے لیے جائز (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں:) کافی نہیں ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5906]

5907

Sahih Ibn Hibban #5907

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْهَيْثَمِ بِبَلَدَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، وَزُبَيْدٌ ، وَدَاوُدُ ، وَابْنُ عَوْنٍ ، ومجالد ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، وَهَذَا حَدِيثُ زُبَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ سَارِيَةِ الْمَسْجِدِ ، فَلَوْ كُنْتُ ثَمَّ لأَخْبَرْتُكُمْ بِمَوْضِعِهَا ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : إِنَّأَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا ، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لأَهْلِهِ ، لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ " ، قَالَ : وَذَبَحَ خَالِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي ذَبَحْتُ ، وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ ، قَالَ : " اجْعَلْهَا مَكَانَهَا ، وَلا تُجْزِئُ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ مسجد کے ستون کے پاس موجود تھے، اگر میں اس وقت (مسجد نبوی میں) ہوتا تو میں تمہیں اس کی جگہ بتاتا۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”آج کے دن ہم سب سے پہلے نمازِ عید ادا کریں گے، پھر ہم واپس جا کر قربانی کریں گے، جو شخص ایسا کرے گا وہ ہمارے طریقے پر عمل پیرا ہو گا اور جو شخص اس سے پہلے قربانی کر چکا ہو تو یہ صرف ایک گوشت ہے جو اس نے اپنے اہل خانہ کے لیے تیار کیا ہے، اس کا مذہبی قربانی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔“ سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے ماموں سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ پہلے ہی جانور ذبح کر چکے تھے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں تو پہلے ہی ذبح کر چکا ہوں، اب میرے پاس چھ ماہ کا بچہ ہے جو ایک سال کے بچے سے بہتر ہوتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تم اس کی جگہ کر لو، لیکن تمہارے بعد یہ کسی کے لیے جائز نہیں ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5907]

5908

Sahih Ibn Hibban #5908

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنِي فِرَاسٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ وَجَّهَ قِبْلَتَنَا ، وَصَلَّى صَلاتَنَا ، وَنَسَكَ نُسُكَنَا ، فَلا يَذْبَحْ حَتَّى يُصَلِّيَ " ، فَقَالَ خَالِي أَبُو بُرْدَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي نَسَكْتُ عَنِ ابْنٍ لِي ، قَالَ : " ذَاكَ شَيْءٌ عَجَّلْتَهُ لأَهْلِكَ " ، قَالَ : فَإِنَّ عِنْدِيَ جَذَعَةً ، قَالَ : " ضَحِّ بِهَا عَنْهُ ، فَإِنَّهَا خَيْرُ نُسُكِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرے، ہماری طرح نماز ادا کرے اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کرے، تو وہ نماز ادا کرنے سے پہلے قربانی نہ کرے۔“ تو میرے ماموں سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے تو اپنے بیٹے کی طرف سے قربانی کر لی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک ایسی چیز ہے جسے تم نے اپنے اہل خانہ کے لیے جلدی تیار کر لیا ہے۔“ انہوں نے عرض کی: میرے پاس ایک چھ ماہ کا بچہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تم اس کی طرف سے قربان کر لو کیونکہ یہ بہترین قربانی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5908]

5909

Sahih Ibn Hibban #5909

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى بِالْمَوْصِلِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلا ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يُجْزِئُ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ أَنْ يَذْبَحَ حَتَّى يُصَلِّيَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نمازِ عید ادا کرنے سے پہلے جانور ذبح کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے بعد یہ کسی کے لیے جائز نہیں ہوگا کہ وہ نماز ادا کرنے سے پہلے جانور ذبح کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5909]