Sahih Ibn Hibban #6098
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَامْرَأَةٌ تُعَالِجُهَا أَوْ تَرْقِيهَا ، فَقَالَ : عَالِجِيهَا بِكِتَابِ اللَّهِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَالِجِيهَا بِكِتَابِ اللَّهِ " أَرَادَ عَالِجِيهَا بِمَا يُبِيحُهُ كِتَابُ اللَّهِ ، لأَنَّ الْقَوْمَ كَانُوا يَرْقُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بِأَشْيَاءَ فِيهَا شِرْكٌ ، فَزَجَرَهُمْ بِهَذِهِ اللَّفْظَةِ عَنِ الرُّقَى ، إِلا بِمَا يُبِيحُهُ كِتَابُ اللَّهِ دُونَ مَا يَكُونُ شِرْكًا"
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے تو ایک خاتون سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علاج کر رہی تھی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ان پر دم کر رہی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اللہ کی کتاب کے مطابق اس کا علاج کرنا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم اللہ کی کتاب کے مطابق اس کا علاج کرنا“ اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ تم ایسے طریقے سے اس کا علاج کرنا جسے اللہ کی کتاب نے مباح قرار دیا ہو؛ کیونکہ پہلے لوگ زمانہ جاہلیت میں ایسے الفاظ کے ذریعے دم کیا کرتے تھے جن میں شرک پایا جاتا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں دم کرنے سے ان لوگوں کو منع کر دیا، البتہ جس چیز کو اللہ کی کتاب نے مباح قرار دیا ہو اور جس میں شرک نہ ہو اس کا حکم مختلف ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6098]