Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 54 · Chapter 2

Book of Blood Money

Hadith 6098–6140

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6098

Sahih Ibn Hibban #6098

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَامْرَأَةٌ تُعَالِجُهَا أَوْ تَرْقِيهَا ، فَقَالَ : عَالِجِيهَا بِكِتَابِ اللَّهِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَالِجِيهَا بِكِتَابِ اللَّهِ " أَرَادَ عَالِجِيهَا بِمَا يُبِيحُهُ كِتَابُ اللَّهِ ، لأَنَّ الْقَوْمَ كَانُوا يَرْقُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بِأَشْيَاءَ فِيهَا شِرْكٌ ، فَزَجَرَهُمْ بِهَذِهِ اللَّفْظَةِ عَنِ الرُّقَى ، إِلا بِمَا يُبِيحُهُ كِتَابُ اللَّهِ دُونَ مَا يَكُونُ شِرْكًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے تو ایک خاتون سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علاج کر رہی تھی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ان پر دم کر رہی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اللہ کی کتاب کے مطابق اس کا علاج کرنا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم اللہ کی کتاب کے مطابق اس کا علاج کرنا“ اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ تم ایسے طریقے سے اس کا علاج کرنا جسے اللہ کی کتاب نے مباح قرار دیا ہو؛ کیونکہ پہلے لوگ زمانہ جاہلیت میں ایسے الفاظ کے ذریعے دم کیا کرتے تھے جن میں شرک پایا جاتا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں دم کرنے سے ان لوگوں کو منع کر دیا، البتہ جس چیز کو اللہ کی کتاب نے مباح قرار دیا ہو اور جس میں شرک نہ ہو اس کا حکم مختلف ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6098]

6099

Sahih Ibn Hibban #6099

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِالْمَرِيضِ يَدْعُو وَيَقُولُ : أَذْهِبِ الْبَأْسَ ، رَبَّ النَّاسِ ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي ، لا شِفَاءَ إِلا شِفَاؤُكَ ، شِفَاءً لا يُغَادِرُ سَقَمًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی بیمار لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» ”اے لوگوں کے پروردگار! تو تکلیف کو دور کر دے، تو شفا عطا کر دے، تو ہی شفا عطا کرنے والا ہے، شفا صرف وہی ہے جو تو نے عطا کی ہو، تو ایسی شفا عطا کر دے جو بیماری کو بالکل نہ رہنے دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6099]

6100

Sahih Ibn Hibban #6100

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو بِالْفُسْطَاطِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلاءِ الزُّبَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،أَرَأَيْتَ دَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ ، وَرُقًى نَسْتَرْقِي بِهَا ، وَأَشْيَاءَ نَفْعَلُهَا ، هَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ ؟ قَالَ : يَا كَعْبُ ، بَلْ هِيَ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ "، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ حِمْصِيٌّ ثِقَةٌ ، وَلَيْسَ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ الْمِصْرِيَّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن کعب اپنے والد (سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے کہ ہم جو دوا استعمال کرتے ہیں، یا جو دم کرتے ہیں یا اس طرح کے دیگر کام کرتے ہیں، تو کیا یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ تقدیر کو بدل دیتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے کعب! بلکہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیر کا حصہ ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عمرو بن حارث حمصی نامی راوی ثقہ ہے، یہ عمرو بن حارث مصری نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6100]

6101

Sahih Ibn Hibban #6101

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَيْلانَ بِأَذَنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سانپ اور بچھو کے کاٹنے پر دم کرنے کی اجازت دی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6101]

6102

Sahih Ibn Hibban #6102

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فِي رُقْيَةِ الْحَيَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عمرو بن عوف کو سانپ کے کاٹنے پر دم کرنے کی اجازت دی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6102]

6103

Sahih Ibn Hibban #6103

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَيَأْمُرَهَا أَنْ تَسْتَرْقِيَ مِنَ الْعَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت فرمائی تھی کہ: ”نظرِ بد لگنے پر دم کروا لیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6103]

6104

Sahih Ibn Hibban #6104

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ السِّنْدِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ ، وَالنَّمْلَةِ ، وَالْحُمَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”نظر لگنے پر، چیونٹی کے کاٹنے پر، بھڑ کے کاٹنے پر دم کرنے کی اجازت دی تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6104]

6105

Sahih Ibn Hibban #6105

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ أَبَا أُمَامَةَ ، يَقُولُ : اغْتَسَلَ أَبِي سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ بِالْخَرَّارِ فَنَزَعَ جُبَّةً كَانَتْ عَلَيْهِ ، وَعَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ يَنْظُرُ ، قَالَ : وَكَانَ سَهْلٌ رَجُلا أَبْيَضَ حَسَنَ الْجِلْدِ ، قَالَ : فَقَالَ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ : مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ ، وَلا جِلْدَ عَذْرَاءَ ، فَوعِكَ سَهْلٌ مَكَانَهُ ، فَاشْتَدَّ وَعَكُهُ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ سَهْلا وُعِكَ ، وَأَنَّهُ غَيْرُ رَائِحٍ مَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ سَهْلٌ الَّذِي كَانَ مِنْ شَأْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ ، أَلا بَرَّكْتَ ؟ إِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ ، تَوَضَّأْ لَهُ " ، فَتَوَضَّأَ لَهُ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے والد سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے خرار کے مقام پر غسل کیا، انہوں نے اپنے جسم پر موجود جبہ اتارا تو عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ لیا، راوی کہتے ہیں کہ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ گورے چٹے شخص تھے اور ان کی جلد بہت خوبصورت تھی، عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آج جو (خوبصورت جلد) دیکھی ہے اس طرح کی جلد تو کسی کنواری لڑکی کی بھی نہیں ہوتی، تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ اسی جگہ بیمار ہو گئے اور ان کو تیز بخار ہو گیا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کو بخار ہو گیا ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے قابل بھی نہیں ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے، سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے انہیں عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ والے واقعہ کے بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص کیوں اپنے بھائی کو قتل کرنا چاہتا ہے؟ کیا تمہیں پتہ نہیں ہے نظر لگنا حق ہے، تم اس کے لیے وضو کرو۔“ عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے وضو کیا تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ چلتے ہوئے آئے یوں جیسے انہیں کوئی تکلیف نہیں تھی (یعنی ان کی بیماری ختم ہو گئی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6105]

6106

Sahih Ibn Hibban #6106

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَعْقُوبَ بِحِمْصَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْبَهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى الْكَلْبِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ أَخَا بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ ، رَأَى سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ وَهُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَرَّارِ يَغْتَسِلُ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ ، وَلا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ ، قَالَ : فَلُبِطَ سَهْلٌ ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ لَكَ فِي سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، لا يَرْفَعُ رَأْسَهُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ تَتَّهِمُونَ مِنْ أَحَدٍ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ رَآهُ يَغْتَسِلُ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ ، وَلا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ ، وَقَالَ :" عَلامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ ، أَلا تُبَرِّكُ ؟ اغْتَسِلْ لَهُ " ، فَغَسَلَ لَهُ عَامِرٌ ، فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ الرَّكْبِ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ قَالَ : وَالْغُسْلُ أَنْ يُؤْتَى بِالْقَدَحِ ، فَيُدْخِلَ الْغَاسِلُ كَفَّيْهِ جَمِيعًا فِيهِ ، ثُمَّ يَغْسِلُ وَجْهَهُ فِي الْقَدَحِ ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى ، فَيَغْسِلُ صَدْرَهُ فِي الْقَدَحِ ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ فَيَغْسِلُ ظَهْرَهُ ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِيَدِهِ الْيُسْرَى يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ يَغْسِلُ رُكْبَتَيْهِ ، وَأَطْرَافَ أَصَابِعِهِ مِنْ ظَهْرِ الْقَدَمِ ، وَيَفْعَلُ ذَلِكَ بِالرِّجْلِ الْيُسْرَى ، ثُمَّ يُعْطِي ذَلِكَ الإِنَاءَ قَبْلَ أَنْ يَضَعَهُ بِالأَرْضِ الَّذِي أَصَابَهُ الْعَيْنُ ، ثُمَّ يَمُجُّ فِيهِ ، وَيَتَمَضْمَضُ ، وَيُهَرِيقُ عَلَى وَجْهِهِ ، وَيَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ، وَيُكْفِئُ الْقَدَحَ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عامر بن ربیعہ، جن کا تعلق بنو عدی بن کعب سے تھا، انہوں نے سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو دیکھا جو اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ خرار کے مقام پر موجود تھے، وہ غسل کرنے لگے تو عامر بن ربیعہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے کسی پردہ نشین عورت کی بھی اتنی خوبصورت جلد نہیں دیکھی، تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ اسی وقت بیمار ہو گئے، انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سہل بن حنیف کا کچھ کریں گے؟ یہ اپنا سر بھی نہیں اٹھا رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم کسی پر الزام عائد کرتے ہو؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، عامر بن ربیعہ نے انہیں غسل کرتے دیکھا تو یہ کہا: اللہ کی قسم! میں نے تو کسی پردہ نشین عورت کی بھی اتنی اچھی جلد نہیں دیکھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن ربیعہ کو بلایا اور ان پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایک کیوں اپنے بھائی کو قتل کرنا چاہتا ہے؟ کیا تم برکت کی دعا نہیں دے سکتے تھے؟ تم اس کے لیے غسل کرو“۔ عامر نے ان کے لیے غسل کیا تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ سواروں کے ساتھ روانہ ہو گئے، یوں جیسے انہیں کوئی تکلیف نہیں تھی (یعنی ان کی بیماری ختم ہو گئی)۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ غسل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پیالہ لایا جائے، غسل کرنے والا شخص اپنے دونوں ہاتھ اس میں داخل کرے، پھر وہ اپنے چہرے کو اس پیالے میں دھوئے (یعنی چہرے کو دھونے والا پانی دوبارہ پیالے میں گرے)، پھر وہ اپنا دایاں ہاتھ اس میں داخل کرے اور اپنے سینے کو پیالے میں دھوئے، وہ اپنا ہاتھ داخل کرے اور اپنی پشت کو دھوئے، اپنا بایاں ہاتھ لے اور اسی طرح کرے، اسی طرح دو گھٹنے دھوئے اور اپنی انگلیوں کے کنارے تک دھوئے، اسی طرح وہ اپنے بائیں پاؤں کے ساتھ کرے، پھر وہ برتن زمین پر رکھنے سے پہلے اس شخص کو دے جسے نظر لگی ہے، پھر وہ اس میں کلی کرے اور اپنے چہرے پر وہ پانی ڈالے اور اپنے سر پر وہ بہائے اور پھر اپنی پشت کے پیچھے کی طرف اس پیالے کو الٹا دے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6106]

6107

Sahih Ibn Hibban #6107

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ صَاعِقَةُ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا وهَيْبٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْعَيْنُ حَقٌّ ، وَلَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابِقَ الْقَدَرِ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ ، وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا "، حَدَّثَنَاهُ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا وهَيْبٌ ، مِثْلَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نظر کا لگنا برحق ہے، اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت لے جا سکتی ہوتی تو نظر اس پر سبقت لے جاتی اور جب تم سے غسل کرنے کے لیے کہا جائے تو تم غسل کر لیا کرو (یعنی نظر کے اثرات دور کرنے کے لیے ایسا کرو)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6107]

6109

Sahih Ibn Hibban #6109

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَيَأْمُرَهَا أَنْ تَسْتَرْقِيَ مِنَ الْعَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ ہدایت کرتے تھے: ”ہم نظر لگنے کا دم کر دیا کریں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6109]

6110

Sahih Ibn Hibban #6110

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ عِنْدَهُمْ مَجْنُونٌ مُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُهُمْ : عِنْدَكَ شَيْءٌ تُدَاوِي هَذَا بِهِ ؟ فَإِنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ جَاءَ بِخَيْرٍ ، قَالَ : فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ، كُلَّ يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ ، فَبَرَأَ ، فَأَعْطَاهُ مِائَةَ شَاةٍ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلْ ، فَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ ، فَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خارجہ بن صلت تیمی اپنے چچا رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ وہ کسی قوم کے پاس سے گزرے جن میں ایک پاگل شخص تھا جسے لوہے میں باندھا گیا تھا، ان میں سے کسی نے کہا: کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز ہے جس کے ذریعے آپ اس کا علاج کر سکیں؟ کیونکہ آپ کے ساتھی بھلائی لے کر آئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: تو میں نے تین دن تک اس پر سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا، روزانہ میں دو مرتبہ اس کو دم کرتا تھا تو وہ ٹھیک ہو گیا، پھر اس شخص نے انہیں ایک سو بکریاں دیں، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے کھا لو، کیونکہ جو شخص باطل دم کے ذریعے کھاتا ہے (وہ ممنوع ہے)، تم تو حق کے دم کے ذریعے کھانے لگے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6110]

6111

Sahih Ibn Hibban #6111

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ رَاجِعًا مِنْ عِنْدِهِ ، فَمَرَّ عَلَى قَوْمٍ عِنْدَهُمْ رَجُلٌ مُوثَقٌ بِالْحَدِيدِ ، فَقَالَ أَهْلُهُ : إِنَّهُ قَدْ حُدِّثْنَا أَنَّ مَلِكَكُمْ هَذَا قَدْ جَاءَ بِخَيْرٍ ، فَهَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ تَرْقِيهِ ؟ فَرَقَيْتُهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، فَبَرَأَ ، فَأَعْطَوْنِي مِائَةَ شَاةٍ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : خُذْهَا ، فَلَعَمْرِي لَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ ، فَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذْهَا " أَرَادَ بِهِ جَوَازَ ذَلِكَ الشَّيْءِ الْمَأْخُوذِ ، مَعَ جَوَازِ اسْتِعْمَالِهِ فِي الْمُسْتَقْبَلِ ، لأَنَّ الشَّاءَ أَخَذَهَا الرَّاقِي قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ سَأَلَ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذْهَا " أَرَادَ بِهِ جَوَازَ فِعْلِ الْمَاضِي وَالْمُسْتَقْبَلِ مَعًا ، وَعَمُّ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ عِلاقَةُ بْنُ صُحَارٍ السَّلِيطِيُّ ، وَسَلِيطٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خارجہ بن صلت تیمی اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے واپس جا رہے تھے تو ان کا گزر ایک قوم کے پاس سے ہوا جہاں ایک شخص لوہے میں بندھا ہوا تھا، اس کے رشتے داروں نے یہ کہا: ہمیں یہ بات پتہ چلی ہے کہ آپ کے آقا بھلائی لے کر آئے ہیں، تو کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز ہے جس کے ذریعے آپ اسے دم کر دیں؟ میں نے اس شخص کو سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تو وہ ٹھیک ہو گیا، ان لوگوں نے مجھے ایک سو بکریاں دیں، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے حاصل کر لو، میری زندگی کی قسم! جو شخص باطل دم کے ذریعے کھاتا ہے (وہ غلط ہے)، تم تو حق کے دم کے ذریعے کھا رہے ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم اسے حاصل کر لو“ اس سے مراد یہ ہے کہ جو چیز حاصل کی گئی ہے اسے جائز قرار دیا جائے اور مستقبل میں بھی ایسا عمل کرنے کو جائز قرار دیا جائے، کیونکہ دم کرنے والے صاحب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے سے پہلے وہ بکریاں حاصل کر لی تھیں، اس کے بعد اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”انہیں حاصل کر لو“ اس سے مراد یہ ہے کہ ماضی میں جو فعل کیا گیا وہ بھی جائز ہے اور اگر آئندہ کیا جائے تو وہ بھی جائز ہو گا۔ خارجہ بن صلت کے چچا کا نام سیدنا علاقہ بن صحار سلیطی رضی اللہ عنہ ہے اور یہ سلیط بن تمیم کی ایک شاخ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6111]

6112

Sahih Ibn Hibban #6112

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ ، فَمَرَرْنَا عَلَى أَهْلِ أَبْيَاتٍ ، فَاسْتَضَفْنَاهُمْ ، فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُونَا ، فَنَزَلُوا بِالْعَرَاءِ ، فَلُدِغَ سَيِّدُهُمْ ، فَأَتَوْنَا فَقَالُوا : هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ يَرْقِي ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، أَنَا أَرْقِي ، قَالُوا : ارْقِ صَاحِبَنَا ، قُلْتُ : لا ، قَدِ اسْتَضَفْنَاكُمْ فَأَبَيْتُمْ أَنْ تُضَيِّفُونَا ، قَالُوا : فَإِنَّا نَجْعَلُ لَكُمْ جُعْلا ، قَالَ : فَجَعَلُوا لِي ثَلاثِينَ شَاةً ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ ، فَجَعَلْتُ أَمْسَحُهُ ، وَأَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ حَتَّى بَرَأَ ، فَأَخَذْنَا الشَّاءَ ، فَقُلْنَا : نَأْخُذُهَا وَنَحْنُ لا نُحْسِنُ نَرْقِي ؟ فَمَا نَحْنُ بِالَّذِي نَأْكُلُهَا حَتَّى نَسْأَلَ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْنَاهُ ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ ، قَالَ : فَجَعَلَ يَقُولُ : وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا دَرَيْتُ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ، شَيْءٌ أَلْقَاهُ اللَّهُ فِي نَفْسِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" كُلُوا ، وَاضْرِبُوا لِيَّ مَعَكُمْ بِسَهْمٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مہم پر روانہ کیا، ہمارا گزر ایک بستی کے پاس سے ہوا، ہم نے انہیں مہمان نوازی کے لیے کہا تو انہوں نے ہماری مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا، ہم لوگوں نے آبادی سے باہر ایک جگہ پڑاؤ کیا، ان لوگوں کے سردار کو کسی زہریلی چیز نے کاٹ لیا، وہ لوگ ہمارے پاس آئے، انہوں نے کہا: کیا آپ کے درمیان کوئی ایسا شخص ہے جو دم کرتا ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، میں دم کرتا ہوں، ان لوگوں نے کہا: ہمارے ساتھی کو دم کر دیجیے، میں نے کہا: جی نہیں، ہم نے تمہیں مہمان نوازی کے لیے کہا تھا تم نے ہماری مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تھا، ان لوگوں نے کہا: ہم آپ کو اس کا معاوضہ دیں گے۔ راوی کہتے ہیں: تو انہوں نے ہمیں تیس (30) بکریاں دینے کا معاہدہ کیا، میں اس شخص کے پاس آیا، میں نے اس پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا اور سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کرنا شروع کیا، یہاں تک کہ وہ شخص ٹھیک ہو گیا، تو ہم نے بکریاں حاصل کر لیں، ہم نے سوچا کہ ہم نے بکریاں تو لے لی ہیں لیکن ہمیں باقاعدہ طور پر دم کرنا نہیں آتا، اس لیے ہم ان بکریوں کو اس وقت تک نہیں کھائیں گے جب تک ان کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت نہیں کرتے، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہیں کیسے پتا چلا کہ سورہ فاتحہ کا دم بھی ہوتا ہے؟“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے نہیں پتا تھا کہ اس کا دم بھی ہوتا ہے، یہ تو ایک چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے میرے ذہن میں ڈال دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے کھاؤ اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ رکھو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6112]

6115

Sahih Ibn Hibban #6115

وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ "، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ بِهِمَا كِلَيْهِمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ صَمَتَ أَبُو هُرَيْرَةَ بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ قَوْلِهِ : " لا عَدْوَى " ، وَأَقَامَ عَلَى أَنْ : " لا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ " ، فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ذِئَابٍ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ : كُنْتُ أَسْمَعُكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ تُحَدِّثُنَا مَعَ هَذَا الْحَدِيثِ حَدِيثًا آخَرَ قَدْ سَكَتَّ عَنْهُ ، كُنْتَ تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا عَدْوَى " ، فَأَبِي أَبُو هُرَيْرَةَ أَنْ يَعْرِفَ ذَلِكَ ، وَقَالَ : " لا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ " ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : وَلَعَمْرِي لَقَدْ كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُنَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لا عَدْوَى " ، وَلا أَدْرِي أَنَسِيَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَوْ نَسَخَ أَحَدُ الْقَوْلَيْنِ الآخَرَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لَيْسَ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ تَضَادٌّ ، وَلا أَحَدُهُمَا نَاسِخٌ لِلآخَرِ ، وَلَكِنَّ قَوْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا عَدْوَى " ، سُنَّةٌ تُسْتَعْمَلُ عَلَى الْعُمُومِ ، وَقَوْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ " ، أَرَادَ بِهِ أَنْ لا يُورِدَ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ ، وَيُرَادُ بِهِ الاعْتِقَادُ فِي اسْتِعْمَالِ الْعَدْوَى أَنْ تَضُرَّ بِأَخِيهِ فِي الْقَصْدِ ، وَإِنْ لَمْ تَضُرَّ الْعَدْوَى"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” «عَدْوَىٰ» (بیماری کے متعدی ہونے) کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔“ انہوں نے یہ بات بھی بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بیمار شخص تندرست کے پاس نہ آئے۔“ ابوسلمہ کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں یہ دونوں روایات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کرتے تھے، اس کے بعد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بیان کرنے سے رک گئے کہ بیماری کے متعدی ہونے کی کوئی حیثیت نہیں ہے، البتہ وہ یہ چیز بیان کرتے رہے کہ کسی بیمار کو کسی تندرست کے پاس نہ لایا جائے۔ حارث نامی شخص، جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے چچازاد تھے، انہوں نے کہا: اے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! پہلے تو میں آپ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنتا رہا ہوں کہ آپ اس کے ساتھ ایک اور حدیث بھی بیان کیا کرتے تھے، اب آپ نے اسے بیان نہیں کیا جسے آپ پہلے بیان کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”بیماری کے متعدی ہونے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔“ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس بات کو ماننے سے انکار کر دیا اور انہوں نے یہی کہا کہ کسی بیمار کو تندرست کے پاس نہ لایا جائے۔ ابوسلمہ نامی راوی کہتے ہیں: مجھے اپنی زندگی کی قسم! سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں یہ حدیث بیان کرتے رہے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بیماری کے متعدی ہونے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔“ اب مجھے نہیں معلوم کہ کیا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس بات کو بھول گئے تھے یا ان میں سے ایک قول نے دوسرے کو منسوخ کر دیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے اور نہ ہی ان میں سے ایک دوسرے کو منسوخ کرتی ہے، تاہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”بیماری کے متعدی ہونے کی کوئی حیثیت نہیں ہے“ یہ ایک ایسی سنت ہے جس پر عمومی طور پر عمل کیا جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”کسی بیمار کو تندرست کے پاس نہ لایا جائے“، اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ اس بات کا اعتقاد نہ رکھا جائے کہ بیماری کے متعدی ہونے پر عمل کرتے ہوئے تم جان بوجھ کر اپنے بھائی کو کوئی نقصان پہنچا دو، اگرچہ بیماری کا متعدی ہونا نقصان نہیں دیتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العدوى والطيرة والفأل/حدیث: 6115]

6116

Sahih Ibn Hibban #6116

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا عَدْوَى ، وَلا صَفَرَ ، وَلا هَامَةَ " ، فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا بَالُ الإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ ، فَيَجِيءُ الْبَعِيرُ الأَجْرَبُ ، فَيَدْخُلُ فِيهَا فَيُجْرِبُهَا ؟ قَالَ : " فَمَنْ أَعْدَى الأَوَّلَ ؟ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عدوی، صفر اور ہامہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔“ ایک دیہاتی نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اونٹوں کا کیا معاملہ ہے، وہ ریگستان میں یوں بھاگتے پھرتے ہیں جیسے وہ ہرن ہوتے ہیں، پھر ایک خارش زدہ اونٹ آتا ہے اور ان میں شامل ہوتا ہے، تو ان کو خارش زدہ کر دیتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”پہلے کو کس نے خارش کا شکار کیا تھا؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب العدوى والطيرة والفأل/حدیث: 6116]

6117

Sahih Ibn Hibban #6117

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا طِيَرَةَ ، وَلا هَامَةَ ، وَلا عَدْوَى ، وَلا صَفَرَ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لَنَأْخُذُ الشَّاةَ الْجَرْبَاءَ ، فَنَطْرَحُهَا فِي الْغَنَمِ ، فَتَجْرَبُ الْغَنَمُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَمَنْ أَعْدَى الأَوَّلَ ؟ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «لَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا عَدْوَىٰ وَلَا صَفَرَ» ”طیرہ، ہامہ، عدوی اور صفر کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔““ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم ایک خارش زدہ بکری لیتے ہیں، اسے بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیتے ہیں، تو دوسری بکریاں بھی خارش زدہ ہو جاتی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پہلی کو کس نے خارش کا شکار کیا تھا؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب العدوى والطيرة والفأل/حدیث: 6117]

6118

Sahih Ibn Hibban #6118

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا عَدْوَى ، وَلا طِيَرَةَ ، جَرَبِ بَعِيرٌ ، وَأَجْرَبَ مِئَةً ، فَمَنْ أَعْدَى الأَوَّلَ ؟ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” «لَا عَدْوَىٰ وَلَا طِيَرَةَ» ”عدوی اور طیرہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے،“ ایک اونٹ خارش زدہ ہوتا ہے تو وہ ایک سو اونٹوں کو خارش زدہ کر دیتا ہے، لیکن پہلے کو کس نے خارش کا شکار کیا؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب العدوى والطيرة والفأل/حدیث: 6118]

6119

Sahih Ibn Hibban #6119

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شُبْرُمَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، النُّقْبَةُ تَكُونُ بِمِشْفَرِ الْبَعِيرِ ، أَوْ بِعَجْبِهِ ، فَتَشْتَمِلُ الإِبِلَ كُلَّهَا جَرَبًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَمَنْ أَعْدَى الأَوَّلَ ؟ حَيَاتُهَا ، وَمُصِيبَاتُهَا ، وَرِزْقُهَا " ، يُرِيدُ : بِيَدِ اللَّهِ "، قَالَ الشَّيْخُ : الصَّوَابُ : " مَمَاتُهَا " وَلَكِنْ كَذَا : " مُصِيبَاتُهَا " ، قَالَهُ الشَّيْخُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اونٹ کی موٹی جلد پر (راوی کو شک ہے یا شاید) پشت کی زیریں ہڈی پر خارش سے پہلے والی جلد کی خرابی لاحق ہوتی ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تو تمام اونٹ خارش زدہ ہو جاتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پہلے کو کس نے بیماری میں مبتلا کیا؟ اس کی زندگی، اس کی مصیبت اور اس کا رزق (اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہے)۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے متن میں استعمال ہونے والا لفظ ”اس کی مصیبت“ درست نہیں ہے بلکہ اصل لفظ ”اس کی موت“ ہے، تاہم روایت میں اسی طرح منقول ہے ”اس کی مصیبت“، یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العدوى والطيرة والفأل/حدیث: 6119]

6120

Sahih Ibn Hibban #6120

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى الْمُخَرِّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِ مَجْذُومٍ ، فَأَدْخَلَهَا مَعَهُ فِي الْقَصْعَةِ ، وَقَالَ : كُلْ بِاسْمِ اللَّهِ ، ثِقَةً بِاللَّهِ ، وَتَوَكُّلا عَلَيْهِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ هَذَا هُوَ أَخُو مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ ، لَيْسَ بِالْمُفَضَّلِ بْنِ فَضَالَةَ الْقِتْبَانِيِّ ، وَهُمَا جَمِيعًا ثِقَتَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجذوم شخص کا ہاتھ پکڑا، اسے اپنے ساتھ پیالے میں داخل کیا اور فرمایا: «كُلْ بِاسْمِ اللّٰهِ، ثِقَةً بِاللّٰهِ وَتَوَكُّلًا عَلَيْهِ» ”تم اللہ کا نام لے کر اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے ہوئے اور اس پر توکل کر کے کھاؤ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) مفضل بن فضالہ نامی راوی یہ مبارک بن فضالہ کا بھائی ہے، یہ مفضل بن فضالہ قتبانی نہیں ہے، ویسے یہ دونوں راوی ثقہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العدوى والطيرة والفأل/حدیث: 6120]

6121

Sahih Ibn Hibban #6121

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُعْجِبُهُ الْفَأْلُ ، وَيَكْرَهُ الطِّيَرَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فال پسند تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بدشگونی کو ناپسند کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العدوى والطيرة والفأل/حدیث: 6121]

6122

Sahih Ibn Hibban #6122

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ الأَسَدِيِّ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الطِّيَرَةُ شِرْكٌ ، وَمَا مِنَّا إِلا ، وَلَكِنْ يُذْهِبُهُ اللَّهُ بِالتَّوَكُّلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «الطِّيَرَةُ شِرْكٌ» بدشگونی شرک ہے، ہم میں سے ہر شخص (کو شگون لاحق ہوتا ہے) تاہم اللہ تعالیٰ توکل کے ذریعے اسے ختم کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العدوى والطيرة والفأل/حدیث: 6122]

6123

Sahih Ibn Hibban #6123

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ حُمَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا طِيَرَةَ ، وَالطِّيَرَةُ عَلَى مَنْ تَطَيَّرَ ، وَإِنْ تَكُ فِي شَيْءٍ ، فَفِي الدَّارِ وَالْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «الطِّيَرَةُ» ”طیرہ“ کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اس کا وبال اس پر ہو گا جو بدشگونی کرے گا، اگر یہ (نحوست) کسی چیز میں ہوتی تو گھر میں ہوتی، یا گھوڑے میں ہوتی، یا عورت میں ہوتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العدوى والطيرة والفأل/حدیث: 6123]

6124

Sahih Ibn Hibban #6124

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لا طِيَرَةَ ، وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْفَأْلُ ؟ قَالَ : " الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور ان میں سب سے بہتر چیز فال ہے“ عرض کی گئی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! فال سے کیا مراد ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اچھی بات جسے کوئی شخص سنتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العدوى والطيرة والفأل/حدیث: 6124]

6125

Sahih Ibn Hibban #6125

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ وَكَانَ عَسِرًا نَكِدًا ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا طِيَرَةَ ، وَخَيْرُ الْفَأْلِ الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور سب سے بہترین فال وہ اچھا کلمہ ہے جسے کوئی شخص سنتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العدوى والطيرة والفأل/حدیث: 6125]

6126

Sahih Ibn Hibban #6126

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكُنَاتِهَا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكُنَاتِهَا " ، لَفْظَةُ أَمْرٍ مَقْرُونَةٌ بِتَرْكِ ضِدِّهِ ، وَهُوَ أَنْ لا يُنَفِّرُوا الطُّيُورَ عَنْ مَكُنَاتِهَا ، وَالْقَصْدُ مِنْ هَذَا الزَّجْرِ عَنْ شَيْءٍ ثَالِثٍ ، وَهُوَ أَنَّ الْعَرَبَ كَانَتْ إِذَا أَرَادَتْ أَمْرًا جَاءَتْ إِلَى وَكْرِ الطَّيْرِ فَنَفَّرَتْهُ ، فَإِنْ تَيَامَنَ مَضَتْ لِلأَمْرِ الَّذِي عَزَمَتْ عَلَيْهِ ، وَإِنْ تَيَاسرَ أَغْضَتْ عَنْهُ ، وَتَشَاءَمَتْ بِهِ ، فَزَجَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اسْتِعْمَالِ هَذَا الْفِعْلِ بِقَوْلِهِ : " أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكُنَاتِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اُمِ کرز رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: «أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا» ”پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں رہنے دو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں رہنے دو“ یہ الفاظ اس بات کے متقاضی ہیں کہ اس کے متضاد کو ترک کر دیا جائے، وہ یہ کہ پرندوں کو ان کے گھونسلوں سے نہ اڑایا جائے اور اس ممانعت کے ذریعے مراد کسی تیسری چیز سے منع کرنا ہے اور وہ یہ کہ عربوں کا یہ معمول تھا، جب وہ کوئی کام کرنے کا ارادہ کرتے تھے تو کسی پرندے کے گھونسلے کے پاس آ کر اسے اڑا دیتے تھے، اگر وہ دائیں طرف اڑ کر جاتا تھا تو آدمی وہ کام کر لیتا تھا جس کو کرنے کا اس نے ارادہ کیا تھا اور اگر وہ بائیں طرف اڑ کر جاتا تھا تو آدمی وہ کام نہیں کرتا تھا اور اسے بدشگونی سمجھتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو اس چیز کے اختیار کرنے سے منع کیا اور یہ الفاظ استعمال کیے: ”پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں رہنے دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العدوى والطيرة والفأل/حدیث: 6126]

6127

Sahih Ibn Hibban #6127

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الْجَمَّالُ الرَّازِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْحَضْرَمِيُّ بْنُ لاحِقٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ الطِّيَرَةِ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لا عَدْوَى وَلا طِيَرَةَ ، وَلا هَامَ ، فَإِنْ تَكُ الطِّيَرَةُ فِي شَيْءٍ فَفِي الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالدَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن المسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے طیرہ کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” «عَدْوَى»، «طِيَرَة» اور «هَام» کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اگر طیرہ کسی چیز میں ہونی ہوتی تو عورت میں یا گھوڑے میں یا گھر میں ہوتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العدوى والطيرة والفأل/حدیث: 6127]

6128

Sahih Ibn Hibban #6128

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لا عَدْوَى ، وَلا صَفَرَ ، وَلا غُولَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”عدوی، صفر اور غول کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العدوى والطيرة والفأل/حدیث: 6128]

6129

Sahih Ibn Hibban #6129

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الأَنْصَارِ ، أَنَّهُمْ بَيْنَمَا هُمْ جُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ رُمِيَ بِنَجْمٍ فَاسْتَنَارَ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا رُمِيَ بِمِثْلِ هَذَا ؟ " قَالُوا : كُنَّا نَقُولُ : وُلِدَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ عَظِيمٌ ، وَمَاتَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ عَظِيمٌ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنَّهَا لا تُرْمَى لِمَوْتِ أَحَدٍ ، وَلا لِحَيَاتِهِ ، وَلَكِنَّ رَبَّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِذَا قَضَى أَمْرًا سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ ، ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ أَهْلَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَيَقُولُ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ : مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ؟ فَيُخْبِرُونَهُمْ ، فَيُخْبِرُ أَهْلُ السَّمَاوَاتِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا ، حَتَّى يَبْلُغَ الْخَبَرُ أَهْلَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، وَيَخْطَفُ الْجِنُّ ، فَيُلْقُونَهُ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ ، وَيُرْمَوْنَ ، فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ ، وَلَكِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ أَوْ يَزِيدُونَ " ، الشَّكُّ مِنْ مُبَشِّرٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے انصاری صحابہ میں سے ایک صاحب نے مجھے یہ بات بتائی کہ ایک مرتبہ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اسی دوران کوئی ستارا ٹوٹا اور روشنی سی نظر آئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے دریافت کیا: ”جب اس طرح کا کوئی ستارا ٹوٹتا تھا، تو تم لوگ زمانہ جاہلیت میں کیا سمجھتے تھے؟“ لوگوں نے عرض کی: ”ہم یہ کہتے تھے کہ آج رات کوئی بڑا آدمی پیدا ہو گا یا کوئی بڑا آدمی فوت ہو جائے گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ کسی کے مرنے یا پیدا ہونے کی وجہ سے نہیں ٹوٹتے ہیں، بلکہ ہمارا پروردگار جب کوئی فیصلہ سناتا ہے تو عرش کو اٹھانے والے فرشتے تسبیح بیان کرتے ہیں، پھر ان کے بعد والے فرشتے تسبیح بیان کرتے ہیں، یہاں تک کہ یہ تسبیح آسمانِ دنیا تک پہنچ جاتی ہے۔ عرش کو اٹھانے والے فرشتوں کے قریب جو فرشتے ہوتے ہیں (یعنی ساتویں آسمان کے فرشتے) وہ دریافت کرتے ہیں: ہمارے پروردگار نے کیا فرمایا ہے؟ تو (عرش کو اٹھانے والے فرشتے) انہیں اس بارے میں بتاتے ہیں، اسی طرح تمام آسمانوں کے فرشتے دوسرے آسمان والوں کو اس بارے میں اطلاع دیتے ہیں، یہاں تک کہ آسمانِ دنیا تک یہ بات پہنچ جاتی ہے، تو کوئی جن اسے اچک لیتا ہے اور اپنے دوستوں کی طرف اسے القاء کر دیتا ہے اور وہ اس میں ملاوٹ بھی کر دیتا ہے؛ تو جب (کسی کاہن کی کہی ہوئی بات) درست ثابت ہوتی ہے تو وہ اس حق کی وجہ سے ہوتی ہے، تاہم وہ لوگ اس میں اور بہت سے جھوٹ شامل کر دیتے ہیں (اس لیے ان کی بہت سی باتیں غلط بھی ثابت ہوتی ہیں)۔“ یہاں مبشر نامی راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں: ”وہ اس بات میں اضافہ کر دیتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النجوم والأنواء/حدیث: 6129]

6130

Sahih Ibn Hibban #6130

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَتَّابُ بْنُ حُنَيْنٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ أَمْسَكَ اللَّهُ الْقَطْرَ عَنِ النَّاسِ سَبْعَ سِنِينَ ، ثُمَّ أَرْسَلَهُ لأَصْبَحَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ ، يَقُولُونَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ الْمِجْدَحِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الْمِجْدَحُ : هُوَ الدَّبَرَانِ ، وَهُوَ الْمَنْزِلُ الرَّابِعُ مِنْ مَنَازِلِ الْقَمَرِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ سات سال تک لوگوں سے بارش کو روک لے اور پھر اسے برسا دے تو ان لوگوں میں سے ایک گروہ انکار کرتے ہوئے پھر بھی یہی کہے گا کہ «المُجْدِحِ» ”مجدح“ ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) مجدح سے مراد ”دبران“ ہے اور یہ چاند کی منزلوں میں چوتھی منزل پر ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النجوم والأنواء/حدیث: 6130]

6131

Sahih Ibn Hibban #6131

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ مُخَارِقٍ أَبِي الْعَلاءِ ، عَنْ قَطَنِ بْنِ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : الْعِيَافَةُ ، وَالطِّيَرَةُ ، وَالطَّرْقُ مِنَ الْجِبْتِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الطَّرْقُ : التَّنْجِيمُ ، وَالطَّرْقُ : اللَّعِبُ بِالْحِجَارَةِ لِلأَصْنَامِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”عیافہ، طیرہ اور طرق شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) طرق سے مراد نجوم (پر اعتقاد رکھنا) ہے اور طرق سے مراد بتوں کے لیے پتھروں سے کھیلنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النجوم والأنواء/حدیث: 6131]

6132

Sahih Ibn Hibban #6132

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ : هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ؟ قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : قَالَ : أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ : مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ ، فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي ، كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ : مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا ، فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حدیبیہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، گزشتہ رات بارش ہو چکی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف توجہ کی اور فرمایا: ”کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو تمہارے پروردگار نے کیا ارشاد فرمایا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ میرے کچھ بندے مجھ پر ایمان رکھنے والے ہیں اور کچھ میرا کفر کرنے والے ہیں، جو شخص یہ کہتا ہے کہ ہم پر اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کی وجہ سے بارش نازل ہوئی ہے وہ مجھ پر ایمان رکھتا ہے اور ستاروں کا انکار کرتا ہے اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ فلاں اور فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے تو وہ میرا انکار کرتا ہے اور ستاروں پر ایمان رکھتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النجوم والأنواء/حدیث: 6132]

6133

Sahih Ibn Hibban #6133

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَلاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا عَدْوَى ، وَلا هَامَةَ ، وَلا صَفَرَ ، وَلا نَوْءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «لَا عَدْوَىٰ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ وَلَا نَوْءَ» ”عدوی، ہامہ، صفر اور نوء کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب النجوم والأنواء/حدیث: 6133]

6134

Sahih Ibn Hibban #6134

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَفَاتِحُ الْعِلْمِ خَمْسٌ لا يَعْلَمُهَا إِلا اللَّهُ : لا يَعْلَمُ مَا تَغِيضُ الأَرْحَامُ أَحَدٌ إِلا اللَّهُ ، وَلا يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلا اللَّهُ ، وَلا يَعْلَمُ مَتَى يَأْتِي الْمَطَرُ إِلا اللَّهُ ، وَلا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِلا اللَّهُ ، وَلا يَعْلَمُ مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ أَحَدٌ إِلا اللَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”علم کی کنجیاں پانچ ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا: کوئی شخص یہ بات نہیں جانتا کہ رحم میں کیا ہے، بس اللہ جانتا ہے، اور کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ کل کیا ہو گا، صرف اللہ جانتا ہے، کوئی یہ نہیں جانتا کہ بارش کب ہو گی، صرف اللہ جانتا ہے، کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کہاں مرے گا، صرف اللہ جانتا ہے، اور کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ قیامت کب آئے گی، صرف اللہ جانتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النجوم والأنواء/حدیث: 6134]

6135

Sahih Ibn Hibban #6135

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ :مُطِرْنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَسَرَ عَنْ ثَوْبِهِ لِلْمَطَرِ ، قُلْنَا : لِمَ صَنَعْتَ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : إِنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم پر بارش نازل ہوئی اور ہم اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کے لیے اپنا کپڑا ہٹا دیا، تو ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ایسا کیوں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیونکہ یہ پروردگار کی بارگاہ سے آ رہی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النجوم والأنواء/حدیث: 6135]

6136

Sahih Ibn Hibban #6136

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، وَعَبْدَانُ الْحَرَّانِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ ، يَقُولُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكُهَّانِ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسُوا بِشَيْءٍ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا بِالشَّيْءِ يَكُونُ حَقًّا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْجِنِّ يَحْفَظُهَا ، فَيَقْذِفُهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ ، فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كِذْبَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنات کے بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بعض اوقات وہ کوئی ایسی بات کہہ دیتے ہیں جو سچ ثابت ہوتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ کلمہ ہے جو جن کی طرف سے آتا ہے جسے اس نے یاد رکھا ہوتا ہے، اسے وہ اپنے ساتھی کے کان میں انڈیل دیتا ہے اور وہ اس میں اپنی طرف سے سو جھوٹ ملا دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الكهانة والسحر/حدیث: 6136]

6137

Sahih Ibn Hibban #6137

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي سَمِينَةَ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مُدْمِنُ خَمْرٍ ، وَلا مُؤْمِنٌ بِسِحْرٍ ، وَلا قَاطِعٌ "، هُوَ الْفُضَيْلُ بْنُ مَيْسَرَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”باقاعدگی سے شراب پینے والا شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا اور نہ ہی جادو پر ایمان رکھنے والا اور نہ ہی رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنے والا شخص (جنت میں داخل ہوں گے)۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) راوی کا نام فضیل بن میسرہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الكهانة والسحر/حدیث: 6137]

6138

Sahih Ibn Hibban #6138

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، وَذَكَرَ السَّاجِيُّ آخر معه ، قَالا : حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلانِيُّ ، أَنْهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : قَدَّرَ اللَّهُ الْمَقَادِيرَ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو تخلیق کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے تقدیر مقرر کر دی تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6138]

6139

Sahih Ibn Hibban #6139

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ إِِسْمَاعِيلَ السَّهْمِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَمُشْرِكُو قُرَيْشٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَالِفُونَهُ فِي الْقَدَرِ ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي ضَلالٍ وَسُعُرٍ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قریش کے مشرکین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تقدیر کے معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اختلاف کرتے تھے، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿بے شک مجرم لوگ گمراہی اور جہنم میں ہوں گے، جس دن انہیں منہ کے بل جہنم میں گھسیٹا جائے گا (اور یہ کہا جائے گا) جہنم کا مزہ چکھ لو، بے شک ہم نے ہر چیز کو تقدیر کے مطابق بنایا ہے﴾ [سورة القمر: 47-49] ۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6139]

6140

Sahih Ibn Hibban #6140

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِشْكَابٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مَعْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَاقَتِي مَعْقُولَةٌ بِالْبَابِ إِِذْ دَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! جِئْنَاكَ لِنَتَفَقَّهَ فِي الدِّينِ ، وَنَسْأَلَكَ عَنْ أَوَّلِ هَذَا الأَمْرِ ، مَا كَانَ ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَ اللَّهُ وَلَيْسَ شَيْءٌ غَيْرَهُ ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ ، ثُمَّ كَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ ، ثُمَّ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ ". قَالَ : فَجَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا عِمْرَانُ ، أَدْرِكْ نَاقَتَكَ ، فَقَدِ انْفَلَتَتْ ، فَإِِذَا السَّرَابُ يَنْقَطِعُ دُونَهَا ، وَايْمُ اللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنَّى كُنْتُ تَرَكْتُهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، میری اونٹنی (مسجد کے دروازے پر) بندھی ہوئی تھی، اسی دوران بنو تمیم سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوئے ہیں تاکہ دین کی تعلیم حاصل کریں، ہم اس معاملے کے آغاز کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ یہ کیسے ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پہلے صرف اللہ تعالیٰ تھا، اس کے علاوہ کوئی چیز نہیں تھی، عرش پانی پر تھا، پھر اس نے «الذِّكْرِ» ”ذکر“ (یعنی قرآن مجید یا لوح محفوظ میں) ہر چیز تحریر کر دی، پھر اس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اسی دوران ایک شخص آیا اور بولا: اے عمران! اپنی اونٹنی کو پکڑ لیں وہ رسی کھول کر چلی گئی ہے۔ سراب اس سے پہلے ہی منقطع ہو جاتا ہے۔ (سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) اللہ کی قسم! میری یہ خواہش ہے کہ میں نے اونٹنی کو چھوڑ دیا ہوتا (اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو سنتا رہتا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6140]